Musnad Ahmad

Search Results(1)

154)

154) اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8985

۔ (۸۹۸۵)۔ عَنْ وَابِصَۃَیَعْنِی ابْنَ مَعْبَدٍ الْاَسَدِیَّ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا اُرِیْدُ اَنْ لا اَدَعَ شَیْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ اِلَّا سَاَلْتُہُ عَنْہُ وَحَوْلَہُ عِصَابَۃٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَیَسْتَفْتُوْنَہُ، فَجَعَلْتُ اَتَخَطَّاھُمْ، فَقَالُوْا: اِلَیْکَیَا وَابِصَۃُ! عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ، فَقُلْتُ: دَعْوْنِیْ فَاَدْنُوَ مِنْہُ فَاِنَّہُ اَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ اَنْ اَدْنُوَ مِنْہُ، فَقَالَ: ((دَعُوْا وَابِصَۃَ، اُدْنُ یَا وَابِصَۃُ!)) مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلاثًا۔ قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتّٰی قَعَدْتُّ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ: ((یَا وَابِصَۃُ! اُخْبِرُکَ اَوْ تَسْاَلُنِیْ؟ )) قُلْتُ: لا بَلْ اَخْبِرْنِیْ، فَقَالَ: ((جِئْتَ تَسْاَلُنِیْ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ، فَجَمَعَ اَنَامِلَہُ فَجَعَلَ یَنْکُتُ بِھِنِّ فِیْ صَدْرِیْ وَیَقُوْلُ: ((یَا وَابِصَۃُ! اسْتَفْتِ قَلْبَکَ وَاسْتَفْتِ نَفْسَکَ۔ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ۔ اَلْبِرُّ مَا اطْمَاَنَّتْ اِلَیْہِ النَّفْسُ، وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِی الصَّدْرِ، وَاِنْ اَفْتَاکَ النَّاسُ وَاَفْتَوْکَ۔))(مسند احمد: ۱۸۱۶۹)
۔ سیدنا وابصہ بن معبد الاسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پا س آیا، میرا ارادہ یہ تھا کہ نیکی اور گناہ کی ہر صورت کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کروں، مسلمانوں کی ایک جماعت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، وہ لوگ مختلف سوال کر رہے تھے، میں ان کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگا، انھوں نے مجھے کہا: وابصہ! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دور ہٹ جا، لیکن میں نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہونا چاہتا ہوں، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے تمام لوگوں میں محبوب ترین ہیں، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وابصہ کو چھوڑ دو، وابصہ! آؤ میرے قریب ہو جاؤ۔ دو تین دفعہ یہ ارشاد فرمایا، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوا اور آپ کے سامنے جا کر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وابصہ! میں از خود تمہیں کچھ بتلا دو یا تم سوال کرو گے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ خود کچھ فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہو، میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور وہ میرے سینے پر لگانے لگے اور فرمایا: وابصہ! اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، تین بار فرمایا، نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور اس کے بارے میں سینے میں تردّد پیدا ہو، اگرچہ لوگ تجھے فتووں پر فتوے دیتے رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8986

۔ (۸۹۸۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جِئْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْاَلُہُ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ، فَقَالَ: ((جِئْتَ تَسْاَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ ؟)) فَقُلْتُ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! مَاجِئْتُ اَسْاَلُکَ عَنْ غَیْرِہِ، فَقَالَ: ((الْبِرُّ مَا انْشَرَحَ لَہُ صَدْرُکَ، وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ، وَاِنِْ اَفَتَاکَ عَنْہُ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۶۲)
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس کے علاوہ کوئی سوال کرنے کے لیے نہیں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر تجھے انشراح صدر ہو جائے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکنے لگ جائے، اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیتے رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8987

۔ (۸۹۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِمَا یَحِلُّ لِیْ وَیُحَرَّمُ عَلَیَّ؟ قَالَ: فَصَعَّدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَوَّبَ فِی النَّظْرِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبِرُّ مَاسَکَنَتْ اِلَیْہِ النَّفْسُ وَاطْمَاَنَّ اِلَیْہِ الْقَلْبُ، وَالْاِثْمُ مَالَمْ تَسْکُنْ اِلَیْہِ النَّفْسُ وَلَمْ یَطْمَئِنَّ اِلَیْہِ الْقَلْبُ، وَاِنْ اَفْتَاکَ الْمُفْتُوْنَ۔)) وَقَالَ: ((لاتَقْرَبْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْاَھْلِیِّ وَلا ذَا نَابٍ مِّنَ السِّبَاعِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۹۴)
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ان چیزوں کے بارے میں بتلائیں جو میرے لیے حلال اور مجھ پر حرام ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف نگاہ بلند کی اور پھر پست کی اور فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر نفس کو تسکین ملے اور دل کو اطمینان ہو اور برائی وہ ہے کہ جس پر نہ نفس کو سکون ملے اور نہ دل مطمئن ہو، اگرچہ فتوی دینے والے فتوی دیتے رہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: گھریلوں گدھے کے گوشت اور کچلی والے درندے کے قریب نہ جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8988

۔ (۸۹۸۸)۔ عَنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّہُ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ ؟ فَقَالَ: ((اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَکَرِھْتَ اَنْ یَّطَّلِعَ النَّاسُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۸۳)
۔ سیدنا نواس بن سمعان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یہ جواب دیا: نیکی تو حسنِ اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکے اور یہ بات تجھے ناپسند لگے کہ لوگ اس پر مطلع ہو جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8989

۔ (۸۹۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُمَدَّ لَہُ فِیْ عُمْرِہِ، وَاَنْ یُزَادَ لَہُ فِیْ رِزْقِہِ، فَلْیَبَرَّ وَالِدَیْہِ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۳۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمییہ پسند کرتا ہے کہ اس کی عمر بڑھا دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ اپنے والدین سے نیکی کرے اور صلہ رحمی کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8990

۔ (۸۹۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا یَجْزِیْ وَلَدٌ وَالِدَہُ، اِلَّا اَنْ یَجِدَہُ مَمْلُوْکًا، فَیَشْتَرِیَہُ فَیُعْتِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۵۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8991

۔ (۸۹۹۱)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْصَاہُ بِعَشْرِ کَلِمَاتٍ (مِنْھَا) ((وَلا تَعُقَّنَّ وَالِدَیْکَ وَاِنْ اَمَرَاکَ اَنْ تَخْرُجَ مِنْ اَھْلِکَ وَمَالِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۲۵)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دس کلمات کی وصیت کی، ان میں سے ایک وصیتیہ تھی: اور تو نے ہر گزاپنے والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو اپنے اہل اور مال سے دور ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8992

۔ (۸۹۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: جِئْتُ لِاُبَایِعُکَ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ اُخْرٰی عَلَی الْھِجْرَۃِ) وَتَرَکْتُ اَبَوَیَّیَبْکِیَانِ، قَالَ: ((فَارْجِعْ اِلَیْھِمَا، فَاَضْحِکْہُمَا کَمَا اَبْکَیْتَھُمَا۔)) وَاَبٰی اَنْ یُبَایِعَہُ۔ (مسند احمد: ۶۸۳۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، لیکن میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ رو رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف لوٹ جا اور جیسے تو نے ان کو رلایا ہے، اسی طرح ان کو ہنسا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8993

۔ (۸۹۹۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَحْتَ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِذْ اَقْبَلَ رَجُلٌ مِّنْ ھٰذَا الشِّعْبِ، فَسَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! اِنِّیْ قَدْ اَرَدْتُّ الْجِھَادَ مَعَکَ اَبْتَغِیْ بِذٰلِکَ وَجْہَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ، قَالَ: ((ھَلْ مِنْ اَبْوَیْکَ اَحَدٌ حَيٌّ ؟)) قَالَ: نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کِلَاھُمَا، قَالَ: ((فَارْجِعْ اِبْرَرْ اَبَوَیْکَ۔)) قَالَ: فَوَلّٰی رَاجِعًا مِّنْ حَیْثُ جَائَ۔ (مسند احمد: ۶۵۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس درخت کے نیچے دیکھا، اچانک ایک آدمی اس گھاٹی سے آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا اور کہا: میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، میرا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو حاصل کرنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین میں کوئی ایک زندہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اُدھر ہی لوٹ گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8994

۔ (۸۹۹۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَریْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلاً جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَأْذِنُہُ فِی الْجِھَادِ؟ فَقَالَ: ((أَحَیٌّ وَالِدَاکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَفِیْھِمَا فَجَاھِدْ۔)) (مسند احمد: ۶۵۴۴)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت کر کے جہاد کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8995

۔ (۸۹۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ھَاجَرَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْیَمَنِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَجَرْتَ الشِّرْکَ، وَلٰکِنَّہُ الْجِھَادُ، ھَلْ بِالْیَمَنِ اَبَوَاکَ ؟۔)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((اَذِنَا لَکَ؟۔)) قَالَ: لا، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجِعْ اِلٰی اَبَوَیْکَ فَاسْتَاْذِنْھُمَا فَاِنْ فَعَلا وَ اِلَّا فَبَرَّھُمَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۴۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یمن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ہجرت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک کو تو چھوڑ دیا ہے، لیکن ابھی تک جہاد باقی ہے، اچھا یہ بتاؤ کہ کیایمن میں تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انھوں نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور ان سے اجازت طلب کر، اگر وہ اجازت دے دیں تو ٹھیک، وگرنہ ان کے ساتھ ہی نیکی کرتے رہنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8996

۔ (۸۹۹۶)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ جَاھِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَدْتُّ الْغَزْوَ وَجِئْتُکَ اَسْتَشِیْرُکَ ؟ فَقَالَ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ اُمٍّ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((الْزَمْھَا فَاِنَّ الْجَنَّۃَعِنْدَ رِجْلِھَا۔)) ثُمَّ الثَّانِیَۃَ، ثُمَّ الثَّالِثَۃَ فِیْ مَقَاعِدَ شَتّٰی کَمِثْلِ ھٰذَا الْقُوْلِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۲۳)
۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں اور اب آپ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اسی کے ساتھ رہ، کیونکہ جنت اس کے پاؤںکے پاس ہے۔ پھر راوی نے دوسری اور تیسری دفعہ مختلف مجلسوں میں یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8997

۔ (۸۹۹۷)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ ؟ قَالَ: ((اَلصَّـلَاۃُ عَلٰی وَقْتِھَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ ؟ قَالَ: ((ثُمَّ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ بِھِنِّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُّہُ لَزَادَنِیْ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8998

۔ (۸۹۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَغِمَ اَنْفُ رَغِمَ اَنْفُ رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلاھُمَا عِنْدَہُ الْکِبْرُ لَمْ یُدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِیْ لَفْظٍ) فَلَمْ یُدْخِلَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۳۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو جائے، ناک خاک آلود ہو جائے، اس کا ناک خاک آلود ہو جائے جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت پایا، لیکن انھوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8999

۔ (۸۹۹۹)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَوْ اَحَدَھُمَا، ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ مِنْ َبعْدِ ذٰلِکَ فاَبْعَدَہُ اللّٰہُ وَاَسْحَقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۳۶)
۔ سیدناابی بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا، لیکن پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے اور ہلاک کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9000

۔ (۹۰۰۰)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُوْصِیْکُمْ بِاُمَّھَاتِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِآبائِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِالْاَقْرَبِ فَالْاَقْرَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۹)
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں وصیت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں نصیحت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بعد دیگر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9001

۔ (۹۰۰۱)۔ عَنْ خِدَاشِ بْنِ سَلَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاَبِیْہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاَبِیْہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِمَوْلاہُ الَّذِیْ یَلِیْہِ، وَاِنْ کَانَتْ عَلَیْہِ فِیْہِ اَذَاۃٌ تُؤْذِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۹۷)
۔ سیدنا خداش بن سلامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے غلام کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، جو اس کی خدمت کر رہا ہے، اگرچہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی ایسی تکلیف آ پڑے، جو واقعی اسے تکلیف دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9002

۔ (۹۰۰۲)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حِیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ اَبَرُّ ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔))، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ قَالَ: ((ثُمَّ اُمَّکَ۔))، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔))، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُّمَّ اَبَاکَ، ثُمَّ الْاَقْرَبَ فَالْاَقْرَبَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۸۱)
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے نیکی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنیماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ سے اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9003

۔ (۹۰۰۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ اِلَّا قَوْلَہ: ((ثُمَّ الْاَقْرَبَ فَالْاَقْربَ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں درج ذیل الفاظ نہیں ہیں: پھر زیادہ قریبی رشتہ دار اور ان کے بعد مزید قریبی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9004

۔ (۹۰۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ اُسَیْدٍ السَّاعَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ بَدْرِیًا وَکَانَ مَوْلَاھُمْ، قَالَ اَبُوْ اُسَیْدٍ: بَیْنَمَا اَنَا جَالِسٌ عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ جَائَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللہ! ھَلْ بَقِیَ عَلَیَّ مِنْ بِرِّ اَبَوَیَّ شَیْئٌ بَعْدَ مَوْتِھِمَا اَبَرُّھُمَا بِہٖ؟قَالَ: ((نَعَمْخِصَالٌاَرْبَعَۃٌ، اَلصَّلاۃُ عَلَیْھُمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ لَھُمَا، وَاِنْفَاذُ عَھْدِھِمَا، وَاِکْرَامُ صَدِیْقِھِمَا، وَصِلَۃُ الرَّحِمِ الَّتِیْ لا رَحِمَ لَکَ اِلاَّ مِنْ قِبَلِھِمَا، فَھُوَ الَّذِیْ بَقِیَ عَلَیْکَ مِنْ بِرِّھِمَا بَعْدَ مَوْتِھِمَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۵۶)
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابو اسید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ بدری تھے اور ان کے مولی تھے، سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی چیز بچی ہے کہ اس کے ذریعے میں ان کے ساتھ نیکی کر سکوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، چار چیزیں ہیں، ان کے لیے دعائے رحمت کرنا، ان کے لیے بخشش طلب کرنا، ان کے وعدوں کو نبھانا ، ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان لوگوں سے صلہ رحمی کرنا، جو صرف اُن کی طرف سے رشتہ دار بنتے ہوں، یہ امور ہیں کہ جو ان کی وفات کے بھی تجھ پر باقی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9005

۔ (۹۰۰۵)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیَّیُحَدِّثُ اَنَّ رَجُلاً اَمَرَتْہُ اُمُّہُ، اَوْ اَبُوْہُ، اَوْ کِلاھُمَا، قَالَ: شُعَبَۃُ،یَقُوْلُ: ذٰلِکَ اَنْیُّطَلِّقَ اِمْرَاَتَہُ، فَجَعَلَ عَلَیْہِ مِائْۃَ مُحَرَّرٍ، فَاَتٰی اَبَا الدَّرْدَائِ، فَاِذَا ھُوَ یُصَلِّی الضُّحّٰییُطِیْلُھَا، فَصَلّٰی مَابَیْنَ الظَّہْرِ وَالْعَصْرِ، فَسَاَلَہُ، فَقَالَ لَہُ اَبُوْ الدَّرْدَائِ: اَوْفِ بِنَذْرِکَ، وَبَرَّ وَالِدَیْکَ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((الْوَالِدُ اَوْسَطُ بَابِ الْجَنَّۃِ، فَحَافِظْ علَی الْوَالِدِ، اَوِ اتْرُکْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۰)
۔ ابو عبد الرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو اس کی ماں نے یا باپ نے یا دونوں نے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، لیکن اس نے طلاق دینے پر سو غلاموں کو آزاد کرنے کی نذر مان لی، پھر وہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ طوالت کے ساتھ نماز چاشت ادا رہے تھے، انھوں نے ظہر اور عصر کے درمیان بھی نماز پڑھی، اس آدمی نے ان سے سوال کیا، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: اپنی نذر پوری کر اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تیری مرضی ہے کہ تو اپنے والد کی حفاظت کر یا ضائع کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9006

۔ (۹۰۰۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ، اَیْضًا قَالَ: اَتٰی رَجُلٌ اَبَاالدَّرْدَائٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اِنَّ امْرَاَتِیْ بِنْتُ عَمِّیْ وَاَنَا اُحِبُّھَا، وَاِنَّ وَالِدَتِیْ تَاْمُرُنِیْ اَنْ اُطَلِّقَھَا، فَقَالَ: لا آمُرُکَ اَنْ تُطَلِّقَھَا وَلا آمُرُکَ اَنْ تَعْصِیَ وَالِدَتَکَ، وَلٰکِنْ اُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْوَالِدۃَ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃٍ فَاْنْ شِئْتَ فَاَمْسِکْ وَاِنْ شِئْتَ فَدَعْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۹)
۔ (دوسری سند)ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی میری چچازاد ہے اور میں اس سے محبت بھی کرتا ہوں، لیکن میری والدہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دو، انھوں نے کہا: نہ میں تجھے یہ حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو طلاق دے دے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ تو اپنے والدین کی نافرمانی کر، البتہ میں تجھے وہ حدیث بیان کر دیتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک والدہ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو روک لے اور اگر چاہتا ہے تو چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9007

۔ (۹۰۰۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: کَانَ فِیْنَا رَجُلٌ لَمْ تَزَلْ بِہٖاُمُّہُاَنْیَتَزَوَّجَ حَتّٰی تَزَوَّجَ، ثُمَّ اَمَرَتْہُ اَنْ یُّفَارِقَھَا فَرَحَلَ اِلٰی اَبِی الدَّرْدَائِ بِالشَّامِ فَقَالَ: اِنَّ اُمِّیْ لَمْ تَزَلْ بِیْ حَتّٰی تَزَوَّجَتُ ثُمَّ اَمَرَتْنِیْ اَنْ اُفَارِقَ، قَالَ: مَا اَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ اَنْ تُفَارِقَ وَمَا اَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ اَنْ تُمْسِکَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابَ الْجَنَّۃِ فَاَضِعْ ذٰلِکَ الْبَابَ اَوِ احْفَظْ۔)) قَالَ: فَرَجَعَ وَقَدْ فَارَقَھَا۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۱)
۔ (تیسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی ماں اس بات پر اصرار کرتی رہی کہ وہ شادی کرے، بالآخر اس نے شادی کر لی، پھر اسی ماں نے اس کو یہ حکم دینا شروع کر دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، وہ آدمی شام میں سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: پہلے میری ماں میری شادی کرانے پر مصر رہی،یہاں تک کہ میں نے شادی کر لی، لیکن اب وہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دوں۔ انھوں نے کہا: میں نہ تو تجھے طلاق دینے کا حکم دوں گا اور نہ یہ حکم دوں گا کہ اس کو روکے رکھے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو ضائع کر دے یا اس کی حفاظت کیے رکھ۔ یہ حدیث سن کر وہ لوٹا اور اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9008

۔ (۹۰۰۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَتْ تَحْتِیْ اِمْرَاَۃٌ اُحِبُّھَا، وَکَانَ عُمَرُ یَکْرَھُہَا، فَاَمَرَنِیْ اَنْ اُطَلِّقَھَا، فَاَبَیْتُ، فَاَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اِمْرَاۃً کَرِھْتُھَا لَہُ فَاَمَرْتُہُ اَنْ یُّطَلِّقَھَا فَاَبٰی فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ! طَلِّقْ اِمْرَاَتَکَ۔)) فَطَلَّقَھَا۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْہُ اَیْضًا) فَقَالَ: ((اَطِعْ اَبَاکَ۔)) (مسند احمد: ۵۰۱۱)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک بیوی تھی، میں اس کو پسند کرتا تھا، جبکہ میرے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، اس لیے انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہ مانی، پس وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بیٹے عبد اللہ کی ایک بیوی ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ پس انھوں نے اس کو طلاق دے دی، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کی بات مان لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9009

۔ (۹۰۰۹)۔ عَنْ عِیَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ، اَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِیَاضٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْھُمْ اَنَّہُ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُّدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ((ھَلْ مِنْ وَالِدَیْکَ مِنْ اَحَدٍ حَيٌّ؟)) قَالَ لَہُ: مَرَّاتٍ۔ قَالَ: لا، قَالَ: ((فَاسْقِ الْمَائَ۔)) قَالَ: کَیْفَ اَسْقِیْہِ ؟ قَالَ: ((اِکفِھِمْ آلَتَہُ اِِذَا حَضَرُوْہُ وَاحْمِلْہُ اِلَیْھِمْ اِذَا غَابُوْا عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۱۲)
۔ سیدنا عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے خاندان کے ایک بندے سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر پانی پلا۔ اس نے کہا: میں کیسے پانی پلاؤں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ حاضر ہوں تو پانی کے آلات کے سلسلے میں ان کو کفایت کر اور اگر وہ غائب ہوں تو اٹھا کر ان کی طرف لے جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9010

۔ (۹۰۱۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ: قَدِمَتْ اُمِّیْ، (وَفِیْ لَفْظٍ: اَتَتْنِیْ اُمِّیْ) وَھِیَ مُشْرِکَۃٌ، فِیْ عَہْدِ قُرَیْشٍ اِذْ عَاھَدُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَفْتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اُمِّیْ قَدِمَتْ وَھِیَ رَاغِبَۃٌ، اَفَاَصِلُھَا ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ صِلِیْ اُمَّکِ۔))(مسند احمد: ۲۷۴۵۴)
۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میری ماں میرے پاس آئی، جبکہ وہ مشرک تھی،یہ اس وقت کی بات ہے، جب قریشیوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے معاہدہ کیا ہوا تھا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: میری ماں میرے پاس آئی ہے، اسے مجھ سے کچھ تعاون کی رغبت تھی، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9011

۔ (۹۰۱۱)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَیَّ اُمِیِّ فِیْ مُدَّۃِ قُرَیْشٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْ عَہْدِ قُرَیْشٍ وَمُدَّتِھِمُ الَّتِیْ کَانَتْ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) مُشْرِکَۃً وَھِیَ رَاغِبَۃٌیَعْنِیْ مُحْتَاجَۃً، فَسَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اُمِّیْ قَدِمَتْ عَلَیَّ وَھِیَ مُشْرِکَۃٌ رَاغِبَۃٌ اَفَاَصِلُھَا؟ قَالَ: ((صِلِیْ اُمَّکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۷۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میری ماں میرے پاس آئی،یہ اس مدت کی بات ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور قریشیوں کے درمیان معاہدہ تھا، میری ماں مشرکہ تھی اور محتاج تھی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہے، وہ مشرکہ ہے اور تعاون کی رغبت رکھتی ہے، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9012

۔ (۹۰۱۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اَعْرَابِیًّا مَرَّ عَلَیْہِ وَھُمْ فِیْ طَرِیْقِ الْحَجِّ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ: اَلَسْتَ فُلانَ بْنَ فُلانٍ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَانْطَلَقَ اِلٰی حِمَارٍ کَانَ یَسْتَرِیْحُ عَلَیْہِ اِذَا مَلَّ رَاحِلَتَہُ، وَعِمَامَۃٍ کَانَ یَشُدُّ بِھَا رَاْسَہُ، فَدَفَعَھَا اِلٰی الْاَعْرَابِیِّ، فَلَمَّا انْطَلَقَ قَالَ لَہُ بَعْضُنَا: انْطَلَقْتَ اِلٰی حِمَارِکَ الَّذِیْ کُنْتَ تَسْتَرِیْحُ عَلَیْہِ، وَعِمَامَتِکَ الَّتِیْ کُنْتَ تَشُدُّ بِھَا رَاْسَکَ، فَاعْطَیْتَھُمَا ھٰذَا الْاَعْرَابِیَّ، وَاِنَّمَا کَانَ یَرْضٰی بِدِرْھَمٍ، قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَبَرَّ الْبِرِّ صِلَۃُ الْمَرْئِ اَھْلَ وُدِّ اَبِیْہِ بَعْدَ اَنْ یُوَلِّیَ۔)) (مسند احمد: ۵۶۵۳)
۔ عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے کہ ایک بدّو سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرا اور ہم لوگ حج کے راستے میں تھے، انھوں نے اس بدّو سے کہا: کیا تم فلاں بن فلاں ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس گدھے کی طرف گئے، جس پر اونٹ کی سوار سے تھک جانے کے بعد کچھ راحت حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے تھے، اور وہ پگڑی لی، جس سے اپنا سر باندھتے تھے، پھر یہ دونوں چیزیں بدّو کو دے دیں، جب وہ آدمی چلا گیا تو ہم میں سے بعض افراد نے سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ اپنے گدھے پر آرام کرتے تھے اور پگڑی سے سر کو باندھ لیتے تھے، لیکن اب آپ نے یہ دونوں چیز اس بدو کو دے دیہیں، اس نے تو ایک درہم پر راضی ہو جاتا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بے شک سب سے بڑی نیکییہ ہے کہ باپ کی وفات کے بعد اس کی محبت والے لوگوں سے صلہ رحمی کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9013

۔ (۹۰۱۳)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی اَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ اَبِیْیُرِیْدُ اَنْ یَجْتَاحَ مَالِیْ، قَالَ: ((اَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدَیْکَ، اِنَّ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، وَاِنَّ اَمْوَالَ اَوْلادِکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا۔)) (مسند احمد: ۶۶۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا باپ میرے مال کو اجاڑنا چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والدین کا ہے، سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو، وہ تمہاری اپنی کمائی ہوتی ہے اور تمہاری اولاد کے مال بھی تمہاری اپنی کمائی میں سے ہیں، لہٰذا اس کو خوشگوار انداز میں کھا لیا کرو۔ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9014

۔ (۹۰۱۴)۔ (عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَوْلادَکُمْ مِنْ اَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسْبِ اَوْلادِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۳۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہاری اولاد تمہاری بہت پاکیزہ کمائی میں سے ہے، اس لیے اپنی اولاد کی کمائی کھا لیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9015

۔ (۹۰۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ اَحَدُکُمْ فَقِیْرًا فَلْیَبْدَاْ بِنَفْسِہِ، وَاِنْ کَانَ فَضْلاً فَعَلٰی عَیَالِہِ، وَاِنْ کَانَ فَضْلاً فَعَلٰی ذَوِیْ قَرَابَتِہِ اَوْ قَالَ: عَلٰی ذَوِیْ رَحِمِہِ، وَاِنْ کَانَ فَضْلًا فَھَاھُنٰا وَھَاھُنَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۲۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ سے ابتداء کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے بچوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال زائد ہو تو اپنے دوسرے رشتہ داروں پر صرف کرے اور اگر پھر بھی مال بچ جائے تو اِدھر اُدھر یعنی دوسرے لوگوں پر خرچ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9016

۔ (۹۰۱۶)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَطْعَمْتَ نَفْسَکَ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ وَلَدَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ زَوْجَکَ فَھُوَلَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ خَادِمَکَ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۱)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تو اپنے آپ کو کھلائے گا، وہ تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی اولاد کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی بیوی کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا اور جو تو اپنے خادم کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9017

۔ (۹۰۱۷)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَفْضَلُ دِیْنَارٍ دِیْنَارٌیُّنْفِقُہُ الرَّجُلُ عَلٰی عَیَالِہِ، وَدِیْنَارٌیُّنْفِقُہُ عَلٰی دَابَّتِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ اَبُوْ قِلَابَۃَ مِنْ قِبَلِہِ بِرًّا بِالْعَیَالِ، قَالَ: وَاَیُّ رَجُلٍ اَعْظَمُ اَجْرًا مِنْ رَجُلٍ یُّنْفِقُ عَلٰی عَیَالِہِ صِغَارًا یُعِفِّھُمُ اللّٰہُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۲۲۸۲۰)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا دینار وہ ہے، جو بندہ اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جو آدمی اللہ کے راستے میں اپنے چوپائے پر خرچ کرے۔ پھر ابو قلابہ نے اپنی طرف سے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا: اور کون سا آدمی اجر و ثواب میں اس شخص سے بڑا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعے پاکدامن بنائے رکھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9018

۔ (۹۰۱۸)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُوْصِیْکُمْ بِالْاَقْرَبِ فاَلْاَقْرَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۶)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو زیادہ قریبی رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کی ہے اور پھر ان سے جو ان کے بعد ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9019

۔ (۹۰۱۹)۔ عَنِْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَذْنَبْتُ ذَنْبًا کَبِیْرًا، فَھْلْ لِیْ تَوْبَۃٌ ؟ فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَکَ وَالِدَانِ ؟)) قَالَ: لا، قَالَ: ((فَلَکَ خَالَۃٌ ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَبَرَّھَا اِذًا۔)) (مسند احمد: ۴۶۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، کیا میرے لیے توبہ کا امکان ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری کوئی خالہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اسی سے نیکی کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9020

۔ (۱۹۲۰)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: اَعْتَقْتُ جَارِیَۃً لِیْ، فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرْتُہُ بِعِتْقِھَا، فَقَالَ: ((آجَرَکِ اللّٰہُ، اَمَا اِنَّکِ لَوْ کُنْتِ اَعْطَیْتِھَا اَخْوَالَکِ کَانَ اَعْظَمَ لِاَجْرِکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۵۴)
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں آپ کو اس کی آزادی کی بارے میں بتلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو اس میں تیرے لیے زیادہ اجر ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9021

۔ (۱۹۲۱)۔ عَنْ شُعْبَۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ: اَسَمِعْتَ اَنَسًا، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، ((اِبْنُ اُخْتِ الْقَوْمِ مِنْھُمْ۔))؟ قال: نعم (مسند احمد: ۱۲۲۱۱)
۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن قرہ سے کہا: کیا تم نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا کہ انھوں نے یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا نعمان بن مقرن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فرمایا: لوگوں کا بھانجا ان میں سے ہی ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9022

۔ (۱۹۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، قَالَ سَمِعْتُ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ: اِجْتَمَعْتُ اَنَا وَفَاطِمَۃُ، وَالْعَبَّاسُ، وَزَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ، عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَبِرَ سِنِّیْ، وَ رَقَّ عَظْمِیْ، وَکثُرَتْ مُؤْنَتِیْ، فَاِنْ رَاَیْتَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنْ تَاْمُرَ لِیْ بِکَذَا وَکَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذٰلِکَ۔)) ثُمَّ قَالَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتَ اَعْطَیْتَنِیْ اَرْضًا کَانَتْ مَعِیْشَتِیْ مِنْھَا، ثُمَّ قَبَضْتَھَا، فَاِنْ رَاَیْتَ اَنْ تَرُدَّھَا عَلَیَّ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذٰلِکَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ اَنَا:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ رَاَیْتَاَنْ تُوَلِّیَنِیْ ھٰذَا الْحَقَّ الَّذِیْ جَعَلَہُ اللّٰہُ لَنَا فِیْ کِتَابِہٖمِنْھٰذَاالْخُمُسِ،فَاَقْسِمُہُفِیْ حَیَاتِکَ، کَیْ لا یُنَازِعَنِیْہِ اَحَدٌ بَعْدَکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذَاکَ۔)) فَوَلَّانِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَسَمْتُہُ فِیْ حَیَاتِہِ، ثُمَّ وَلَّانِیْہِ اَبُوْ بَکْرٍ، فَقَسَمْتُہُ فِیْ حَیَاتِہِ، ثُمَّ وَلَّانِیْہِ عُمَرُ، فَقَسَمْتُہُ فِیْ حَیَاتِہِ، حَتّٰی کَانَتْ آخِرُ سَنَۃٍ مِنْ سِنِیْ عُمَرَ فَاِنَّہُ اَتَاہُ مَالٌ کَثِیْرٌ۔ (مسند احمد: ۶۴۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدہ فاطمہ، سیدنا عباس اور سیدنا زید بن حارثہ ، رسول اللہ کے پاس جمع ہوئے، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میری عمر بڑی ہو چکی ہے، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور مشقت بھی کافی کر لی ہے، اس لیے اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے اتنے وسق اناج کا حکم دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کر دیں گے۔ پھر سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی، وہ میری گزران کا ذریعہ تھی، لیکن پھر آپ نے واپس لے لی ہے، اگر آپ مناسبت سمجھتے ہیں تو دوبارہ مجھے دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کریں گے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں کہ آپ مجھے اس حق کا والی بنا دیں، جس کا اللہ تعالیٰ نے خُمُس کی صورت میں اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے، میں اس کو آپ کی زندگی میں تقسیم کروں گا، تاکہ آپ کے بعد کوئی آدمی مجھ سے جھگڑا نہ کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کا والی بنا دیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کوتقسیم کیا، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا، میں نے ان کی زندگی میں بھی اس کو تقسیم کیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا اور میں نے ان کی زندگی میں اس کو تقسیم کیا،یہاں تک کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آخری سال تھا اور ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9023

۔ (۱۹۲۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَدِمَتْ عِیْرٌ الْمَدِیْنَۃَ، فَاشْتَرَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَبِحَ اَوَاقِیَ، فَقَسَمَھَا فِیْ اَرَامِلِ بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ: ((لا اَشْتَرِیْ شَیْئًا لَیْسَ عِنْدِیْ ثَمَنُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے کوئی چیز خریدی اور اس پر کچھ اوقیے نفع کمایا اور پھر ان کو بنو عبد المطلب کی بیواؤں میں تقسیم کر دیا اور فرمایا: آئندہ میں ایسی چیز نہیں خریدوں گا، جس کی میرے پاس قیمت نہیں ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9024

۔ (۱۹۲۴)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ اَبُوْطَلْحَۃَ اَکْثَرَ اَنْصَارِیِّ بِالْمَدِیْنَۃِ مَالًا، وَکَانَ اَحَبَّ اَمْوَالِہِ اِلَیْہِ بَیرُحَائُ، وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، فَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُھَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیْھَا طَیِّبٍ، قَالَ اَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} قَالَ اَبُوْطَلْحَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} وَاِنَّ اَحَبَّ اَمْوَالِیْ اِلَیَّ بَیْرُحَائُ وَاِنَّھَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَرْجُوْ بِرَّھَا وذُخْرَھَا عِنْدَاللّٰہِ، فَضَعْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَیْثُ اَرَاکَ اللّٰہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَخٍ ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ۔ وَقَدْ سَمِعْتُ، وَاَنَا اَرٰی اَنْ تَجْعَلَھَا فِی الْاَقْرَبِیْنَ۔)) فَقَالَ اَبُوْطَلْحَۃَ: اَفْعَلُ یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَسَمَھَا اَبُوْطَلْحَۃَ فِیْ اَقَارِبِہٖوَبَنِیْ عَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۶۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء باغ تھا، یہ مسجد کے سامنے تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں داخل ہوتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} … تم جب تک پسندیدہ چیزیں خرچ نہیں کرو گے، اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچو گے۔ تو سیدنا ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، لہٰذا میں اس کو اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ کرتا ہوں اور اس کے ہاں اس کی نیکی اور ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول! جیسے اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے، اس کے مطابق اس کو تقسیم کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ واہ! یہ تو نفع بخش مال ہے، یہ تو نفع بخش مال ہے، تحقیق میں نے تیری بات سن لی ہے، میرا خیال ہے کہ تو اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسی طرح ہی کروں گا، پھر انھوں نے وہ مال اپنے رشتے داروں اور چچا زادوں میں تقسیم کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9025

۔ (۱۹۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلٌ اِلَّا مِنْ ثَـلَاثَۃٍ، اِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ، اَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖ،اَوْوَلَدٍصَالِحٍیَدْعُوْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۸۳۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم مرتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے، ما سوائے تین اعمال کے، صدقہ جاریہ سے، یا علم سے جس سے نفع اٹھایا جاتا ہو یا نیک اولاد سے جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9026

۔ (۱۹۲۶)۔ عَنِ الْاَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَدِمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ وَفْد کِنْدَۃَ فَقَالَ لِیْ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ وَلَدٍ؟)) قُلْتُ: غُلامٌ وُلِدَ لِیْ فِیْ مَخْرَجِیْ اِلَیْکَ مِنَ ابْنَۃِ جَمْدٍ، وَلَوَدِدْتُّ اَنْ مَکَانَہُ شَبِِعَ الْقَوْمُ، قَالَ: ((لا تَقُوْلَنَّ ذٰلِکَ، فَاِنَّ فِیْھِمْ قُرَّۃَ عَیْنٍ، وَاَجْرًا اِذَا قُبِضُوْا، ثُمَّ وَلَئِنْ قُلْتَ ذٰاکَ اِنَّھُمْ لَمَجْبَنَۃٌ مَحْزَنَۃٌ، اِنَّھُمْ لَمَجْبَنَۃٌ مَحْزَنَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۸۳)
۔ سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں کندہ کے وفد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیری اولاد ہے؟ میں نے کہا: ابھی جب میں آپ کی طرف نکل رہا تھا، اس وقت میرا ایک بچہ بنت جمد کے بطن سے پیدا ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کی بجائے لوگ ہی سیر ہو کر کھانا کھا لیتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گز اس طرح نہ کہو، کیونکہ بعض بچے آنکھ کی ٹھنڈک بنتے ہیں اور جب فوت ہو جاتے ہیں تو اجر ملتا ہے، پھر بھی اگر تو یہ بات کہتا ہے تو یہ بچے بزدلی اور غم کا سبب بنتے ہیں، بیشکیہ بزدلی اور غم کاسبب بنتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9027

۔ (۱۹۲۷)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ، قَالَ: زَعَمَتِ الْمَرْاَۃُ الصَّالِحَۃُ خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مُحْتَضِنًا اَحَدَ ابْنَیِ ابْنَتِہِ، وَھُوَ یَقُوْلُ: ((وَاللّٰہِ! اِنَّکُمْ لَتُجَبِّنُوْنَ وَتُبَخِّلُوْنَ، وَاِنَّکُمْ لَمِنْ رَّیْحَانِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِنَّ آخِرَ وَطْاَۃٍ وَطِئَھَا اللّٰہ بِوَجٍّ۔)) وَقَالَ سفیان مَرَّۃً: اِنَّکُمْ لَتُبَخِّلُوْنَ وَاِنَّکُمْ لَتُجَبِّنُوْنَ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۵۷)
۔ عمر بن عبد العزیز کہتے ہے: ایک عورت سیدہ خولہ بنت حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے بیٹی کے دو بیٹوں میں سے ایک کو گود میں لے کر نکلے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے: اللہ کی قسم! تم بزدل اور بخیل بناتے ہو، جبکہ تم اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوشبودار چیز بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے آخری قتال وَجّ یعنی طائف میں ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9028

۔ (۱۹۲۸)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزْرِیُّ، عَنْ نَاصِحٍ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ سِمَاکٍ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاَنْ یُّؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَہُ، اَوْ اَحَدُکُمْ وَلَدَہُ، خَیْرٌ لَّہُ مِنْ اَنْیَّتَصَدَّقَ کَلَّ یَوْمٍ بِنِصْفِ صَاعٍ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَھٰذَا الْحَدِیْثُ لَمْ یُخْرِجْہُ اَبِیْ فِیْ مُسْنَدِہِ مِنْ اَجْلِ نَاصِحٍ ؛ لِاَنَّہُ ضَعِیْفٌ فِیْ الْحَدِیْثِ وَاَمْـلَاہُ عَلَیَّ فِی النَّوَادِرِ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۰۶)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا اپنے بچے کو ادب و اخلاق کی تعلیم دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ روزانہ نصف صاع صدقہ کرے۔ امام احمد کے بیٹے عبد اللہ نے کہا: میرے باپ نے ناصح راوی کی وجہ سے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت نہیں کیا، کیونکہیہ راوی حدیث میں ضعیف ہے، اورانھوں نے مجھے نوادر میںاملاء کروائی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9029

۔ (۱۹۲۹)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: اَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْمُزَنِیُّ، ثَنَا اَیُوْبُ بْنُ مَوْسٰی بْنِ عَمْرٍو بْنِ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: اَوِ ابْنُ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَانَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَہُ اَفْضَلَ مِنْ اَدَبٍ حسَنٍ۔)) قَالَ اَبُوْ عَبْدِ الَّرْحْمٰنِ حَدَّثَنَا بِہٖخَلْفُ بْنُ ھِشَامٍ الْبَزَّارُ وَالْقَوَارِیْرِیُّ قالا: ثَنَا عَامِرُ بْنُ اَبِیْ عَامِرٍ بِاِسْنَادِہِ فَذَکَرَ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۷۸)
۔ سیدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین نے اپنے بچے کو حسن ادب سے بہترین کوئی تحفہ نہیں دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9030

۔ (۹۰۳۰)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْصَاہُ بِعَشْرِ کَلِمَاتٍ (مِنْھَا) ((وَاَنْفِقْ عَلٰی عَیَالِکَ مِنْ طَوْلِکَ، وَلا تَرْفَعْ عَنْھُمْ عَصَاکَ اَدَبًا، وَاَخِفْھِمْ فِی اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۲۵)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دس باتوں کی وصیت کی تھی، ان میں سے تینیہ تھیں: اور اپنی مالی وسعت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، ان کو ادب کی تعلیم دینے کے لیے ان سے لاٹھی کو دور نہ کر اور ان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں خوف دلا کے رکھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9031

۔ (۹۰۳۱)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ اِنَّ اَبِیْ بَشِیْرًا وَھَبَ لِیْ ھِبَۃً، فَقَالَتْ اُمِّیْ: اَشْھِدْ عَلَیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَانْطَلَقَ بِیْ حَتّٰی اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اُمَّ ھٰذَا الْغُلَامِ سَاَلَتْنِیْ اَنْ اَھَبَ لَہُ ھِبَۃً فَوَھَبْتُھَا لَہُ، فَقَالَتْ: اَشْھِدْ عَلَیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَاَتَیْتُکَ لِاُشْھِدُکَ، فَقَالَ: ((رُوَیْدَکَ، اَلَکَ وَلَدٌ غَیْرُہُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((کُلُّھُمْ اَعْطَیْتَہُ کَمَا اَعْطَیْتَہُ؟)) قَالَ: لا، قَالَ: ((فَـلَا تُشْھِدْنِیْ اِذًا، اِنِّیْ لا اَشْھَدُ عَلٰی جَوْرٍ، اِنَّ لِبَنِیْکَ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ اَنْ تَعْدِلَ بَیْنَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۹)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے ایک چیز ہبہ کی، میرے ماں نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس ہبہ پر گواہ بنائیں، چنانچہ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر چل پڑے، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کی ماں نے پہلے مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ میں اِس کو کوئی ہبہ دوں، اور اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کو اس پر گواہ بناؤں، اس لیے آپ کو گواہ بنانے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھیرو، کیا تمہاری اور بھی اولاد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر کیا تم نے ان میں سے ہر ایک کو یہ ہبہ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے گواہ بنانے کی ضرورت نہیں، میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا، تم پر تمہارے بیٹوں کا یہ حق ہے کہ تم ان کے ما بین انصاف کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9032

۔ (۹۰۳۲)۔ (وَفِیْ لَفْظٍ) فَقَالَ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاَشْھِدْ غَیْرِیْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلَیْسَیَسُرُّکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا فِی الْبِرِّ سَوَائً ؟)) قَالَ: بَلٰی، وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِنَّ لَھُمْ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ اَنْ تَعْدِلَ بَیْنَھُمْ کَمَا اَنَّ لَکَ عَلَیْھِمْ مِنَ الْحَقِّ اَنْ یَّبَرُّوْکَ۔))(مسند احمد: ۱۸۵۵۶)
۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیںیہ بات خوش نہیں کرتی کہ تمہاری اولاد تم سے برابر برابر نیکی کرے؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ ایک روایت میں ہے: تم پر تمہاری اولاد کایہ حق ہے کہ تم ان کے مابین انصاف کرو، جیسا کہ اُن پر تمہارا حق ہے کہ وہ سب تم سے نیکی کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9033

۔ (۹۰۳۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَارِبُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ یَعْنِیْ سَوُّوْا بَیْنَھُمْ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ، اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ، اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۴۲)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹوں کے ما بین برابری کرو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے بیٹوں کے مابین انصاف کرو، اپنی اولاد کے درمیان عدل سے کام لو، اپنی بچوں اور بچیوں کے ما بین برابری کا رویہ اختیار کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9034

۔ (۹۰۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَبْصَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْاَقْرَعُ یُقَبِّلُ حَسَنًا، فَقَالَ: لِیْ عَشَرَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ، مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ قَطُّ! قَالَ: ((اِنَّہُ مَنْ لَایَرْحَمُ لَایُرْحَمُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا اقرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا اور کہا: میرے دس بچے ہیں، میں نے تو ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9035

۔ (۹۰۳۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: دَخَلَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَآہُ یُقَبِّلُ حَسَنًا اَوْ حُسَیْنًا، فَقَالَ لَہُ: لا تُقَبِّلْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَقَدْ وُلِدَ لِیْ عَشَرَۃٌ مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَنْ لایَرْحَمُ لایُرْحَمُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عیینہ بن حصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا حسن یا سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بوسہ لے رہے تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان کا بوسہ نہ لیں، میرے تو دس بچے ہیں اور میں نے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9036

۔ (۹۰۳۶)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا تُکْرِھُوْا الْبَنَاتِ فَاِنَّھُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِیَاتُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۰۸)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی بچیوں کو مجبور نہ کیا کرو، کیونکہ وہ دل بہلانے والی اور خاوندوں سے محبت کرنے والی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9037

۔ (۹۰۳۷)۔ عَنْ عِکْرَمَۃَ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ بِالْمَدِیْنَۃِ، فَمَرَّ شَیْخٌیُقَالَ لَہُ شُرَحْبِیْلُ اَبُوْسَعْدٍ، فَقَالَ: یَااَبَا سَعْدٍ، مِنْ اَیْنَ جِئْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عِنْدِ اَمِیْرِالْمُؤْمِنِیْنَ، حَدَّثْتُہُ بِحَدِیْثٍ، فَقَالَ: لِاَنْ یَّکُوْنَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ حَقًّا، اَحَبُّ اِلَّیٰ مِنْ اَنْ یَّکُوْنَ لِیْ حُمْرُ النَّعَمِ، قَالَ: حَدَّثَ بِہٖالْقَوْمَ،قَالَ: سَمِعْتُابْنَعَبَّاسٍیَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِکُ لَہُ ابْنَتَانِ، فَیُحْسِنُ اِلَیْھِمَا مَا صَحِبَتَاہُ، اَوْ صَحِبَھُمَا، اِلَّا اَدْخَلَتَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۳۴۲۴)
۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں زید بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ابو سعد شرحبیل نامی ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا، انھوں نے کہا: اے ابو سعد! کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین کے پاس سے، میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی اور انھوں نے کہا: اگر یہ حدیث واقعی ثابت ہے تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہو گی، پھر انھوں نے لوگوں کو وہ حدیث بیان کی اور کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی دو بیٹیاں بالغ ہو جائیں اور پھر وہ جب تک اس کے ساتھ رہیں،یا وہ ان کے ساتھ رہے تو وہ ان کے ساتھ احسان کرتا رہے تووہ اس کو جنت میں داخل کر دیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9038

۔ (۹۰۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا یَکُوْنُ لِاَحَدٍ ثَلاثُ بَنَاتٍ، اَوْ ثَلاثُ اَخَوَاتٍ، اَوْ بِنْتَانِ، اَوْ اُخْتَانِ ، فَیَتَّقِی اللّٰہَ فِیھِنَّ، وَیُحْسِنُ اِلَیْھِنَّ، اِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۰۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی تین بیٹیاںیا تین بہنیںیا دو بیٹیاںیا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے حقوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور ان کے ساتھ احسان کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9039

۔ (۹۰۳۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ، وَزَاد:َ ((وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ اَلْبَتَّۃَ۔)) قَالَ: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنْ کَانَتِ اثْنَتَیْنِ؟ قَالَ: ((وَاِنْ کَانَتِ اثْنَتَیْنِ۔)) قَالَ: فَرَاٰی بَعْضُ الْقَوْمِ اَنْ لَوْ قَالُوْا لَہُ: وَاحِدَۃً، لَقَالَ وَاحِدَۃً۔ (مسند احمد: ۱۴۲۹۷)
۔ سیدنا جابر بن عبدا للہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درج بالا حدیث کی طرح ہے، البتہ یہ الفاظ اس میں زیادہ ہیں: تو اس آدمی کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ پھر لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور سوچنے لگے کہ اگر ایک کے بارے میں سوال کیا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہہ دینا تھا کہ اگرچہ ایک ہو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9040

۔ (۹۰۴۰)۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ اَوْ غَیْرِہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَالَ ابْنَتَیْنِ اَوْ ثَلاثَ بَنَاتٍ اَوْ اُخْتَیْنِ اَوْ ثَـلَاثَ اَخَوَاتٍ، حَتّٰییَمُتْنَ اَوْ یَمُوْتَ عَنْھُنَّ، کُنْتُ اَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ۔)) وَاَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۱۲۵۲۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دو بیٹیوں،یا تین بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا تین بہنوں کی پرورش کی اور ان کے ضروری اخراجات کا ذمہ دار بنا، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئیںیا وہ خود فوت ہو گیا تو میں اور وہ شخص ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے۔ ساتھ ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9041

۔ (۹۰۴۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یُحَدِّثُ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کانَ لَہُ ثَلاَثُ بَنَاتٍ، وَثَلَاثُ اَخَوَاتٍ اِتَّقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَاَقَامَ عَلَیْھِنَّ، کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ ھٰکَذا۔)) وَاَشَارَ بِاَصَابِعِہِ الْاَرْبَعِ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۲۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیوں اور تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ان کی نگہبانی کرے تو وہ جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہو گا۔ ساتھ ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ بھی کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9042

۔ (۹۰۴۲)۔ عَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَاسُرَاقَۃُ! اَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی اَعْظَمِ الصَّدَقَۃِ، اَوْ مِنْ اَعْظَمِ الصَّدَقَۃِ ؟)) قَالَ: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِبْنَتُکَ مَرْدُوْدَۃٌ اِلَیْکَ لَیْسَ لَھَا کَاسِبٌ غَیْرُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۲۹)
۔ سیدنا سراقہ بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے سراقہ! کیا میں سب سے بڑے صدقے کی طرف تیری رہنمائی نہ کر دوں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری بیٹی جو تیری طرف لوٹا دی جائے اور تیرے علاوہ اس کے لیےکمانے والا کوئی نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9043

۔ (۹۰۴۳)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کُنَّ لَہُ ثَـلَاثُ بَنَاتٍ اَوْ ثَـلَاثُ اَخَوَاتٍ، اَوْ بِنْتَانِ، اَوْ اُخْتَانِِ اِتَّقَی اللّٰہَ فِیْھِنَّ، وَاَحْسَنَ اِلَیْھِنَّ حَتّٰییُبِنَّ اَوْ یَمُتْنَ کُنَّ لَہُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۹۱)
۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں،یا تین بہنیں،یا دو بیٹیاں،یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ان کے ساتھ احسان کرے، یہاں تک کہ وہ اس سے جدا ہو جائیںیا فوت ہو جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9044

۔ (۹۰۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ وُلِدَتْ لَہ اِبْنَۃٌ فَلَمْ یَئِدْھَا، وَلَمْ یُھِنْھَا، وَلَمْ یُؤْثِرْ وَلَدَہُ عَلَیْھَا،یَعْنِی الذَّکَرَ، اَدْخَلَہُ اللّٰہُ بِھَا الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی بچی پیدا ہو اور وہ نہ اسے زندہ درگور کرے، نہ اس کی توہین کرے اور نہ بیٹوں کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9045

۔ (۹۰۴۵)۔ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَخْزُوْمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَابُنَیَّ! اَلا اُحَدِّثُکَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰییَااُمَّہْ! قَالَتْ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ اَنْفَقَ عَلَی ابْنَتَیْنِ، اَوْ اُخْتَیْنِ، اَوْ ذَوَاتَیْ قَرَابَۃٍ، یَحْتَسِبُ النَّفْقَۃَ عَلَیْھِمَا حَتّٰییُغْنِیَھُمَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ عَزَّوَجَلَّ، اَوْ یَکْفِیَھُمْا، کَانَتَا لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۵۱)
۔ سیدنا عبد المطلب مخزومی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انھوں نے کہا: اے پیارے بیٹا! کیا میں تجھے وہ حدیث بیان نہ کروں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنی ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اماں جان! انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دو بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا دو رشتہ دار لڑکیوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان دو بچیوں کو اپنے فضل سے غِنٰی کر دیتا ہے یا ان کو کفایت کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9046

۔ (۹۰۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ کَانَ لَہُ ثَـلَاثُ بَنَاتٍ، فَصَبَرَ عَلٰی لَاْوَائِھِنَّ وَضَرَّائِھِنَّ، وَسَرَّائِھِنَّ، اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُنَّ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَوْ ثِنْتَانِیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَوْ ثِنْتَانِ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَوْ وَاحِدَۃٌ ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قال: ((اَوْ وَاحِدَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۸۴۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی تنگدستی اور خوشحالی پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ ان بچیوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو جنت میں داخل کر دے گا۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ اس نے پھر کہا: اور اگر ایک ہو اے اللہ کے رسول!؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ ایک بھی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9047

۔ (۹۰۴۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اِنَّ امْرَاَۃً دَخَلَتْ عَلَیْھَا، َومَعَھَا اِبْنَتَانِ لَہَا، قَالَتْ: فَاَعْطَیْتُھَا تَمْرَۃً فَشَقَّتْھَا بَیْنَھُمَا، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنِ ابْتُلِیَ بِشَیْئٍ مِّنْ ھٰذِہِ الْبَنَاتِ فَاَحَسَنَ اِلَیْھِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۵۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، میں نے اس کو ایک کھجور دی اور اس نے اس کھجور کو اپنی دو بیٹیوں میں تقسیم کر دیا، پھر جب میں نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص ان بیٹیوں کے ذریعے آزمایا گیا، لیکن اس نے ان کے ساتھ احسان کیا تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9048

۔ (۹۰۴۸)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، اَنَّھَا قَالَتْ: جَائَ تْنِیْ مِسْکِیْنَۃٌ تَحْمِلُ ابْنَتَیْنِ لَھَا، فَاَطْعَمْتُھَا ثَـلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَاَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْھُمَا تَمْرَۃً، وَرَفَعَتْ اِلٰی فِیْھَا تَمْرَۃً لِتَاْکُلَھَا، فَاسْتَطْعَمَتْھَا ابْنَتَاھَا فَشَقَّتِ التَّمْرَۃَ الَّتِیْ کَانَتْ تُرِیْدُ اَنْ تَاْکُلَھَا بَیْنَہُمَا، قَالَتْ: فَاَعْجَبَنِیْ شَاْنُھَا، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ الَّذِیْ صَنَعَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَوْجَبَ لَھَا بِھَا الْجَنَّۃَ وَاَعْتَقَھَا بِھَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۱۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میرے پاس ایک مسکین عورت آئی، اس نے دو بچیاں اٹھائی ہوئی تھیں، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ہر ایک بیٹی کو ایک ایک کھجور دی اور ایک خود کھانے کے لیے منہ کی طرف اٹھائی، لیکن اس کی دونوں نے بیٹیوں نے وہ کھجور بھیاس سے لینا چاہی، پس اس نے اس کھجور کے ٹکڑے کیے اور ان دونوں کو دے دیے، مجھے اس کی اس کاروائی نے تعجب میں ڈال دیا اور جب میں نے اس کا عمل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کر دیا ہے اور جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9049

۔ (۹۰۴۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَرَّہُ اَنْ یُمَدَّ لَہُ فِیْ عُمُرِہِ وَیُوْسَعَ لَہُ فِیْ رِزْقِہِ، وَیُدَفَعَ عَنْہُ مِیْتَۃُ السُّوْئِ، فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۳)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کی عمر لمبی کر دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے اور بری موت کو اس سے دفع کر دیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9050

۔ (۹۰۵۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۳۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9051

۔ (۹۰۵۱)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9052

۔ (۹۰۵۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((تَعَلَّمُوْا مِنْ اَنْسَابِکُمْ مَا تَصِلُوْنَ بِہٖاَرْحَامَکُمْ،فَاِنَّصِلَۃَ الرَّحِمِ مَحَبَّۃٌ فِی الْاَھْلِ، مَثْرَاۃٌ فِی الْمَالِ، مَنْشَأَۃٌ فِی اَثَرِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۸۵۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے نسبوں کے بارے میں اتنا علم تو حاصل کر لو کہ جس کے ذریعے آپس میں صلہ رحمی اختیار کر سکو، کیونکہ صلہ رحمی سے قرابتداروں میں محبت پیدا ہوتی ہے، مال میں برکت ہوتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9053

۔ (۹۰۵۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُھُمُ الرَّحْمٰنُ، ارْحَمُوْا اَھْلَ الْاَرْضِ، یَرْحَمْکُمْ اَھْلُ السَّمَائِ، وَالرَّحِمُ شَجْنَۃٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ، مَنْ وَصَلَھا وَصَلْتُہُ، وَمَنْ قَطَعَھَا بَتَتُّہُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۹۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والے تم پر رحم کریں گے، رحم (رشتہ داری) رحمن کی شاخ ہے، جو اس کو ملاتا ہے، میں اس کو ملاتا ہوں اور جو اس کو کاٹتا ہے، میں اس کو کاٹ دیتا ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9054

۔ (۹۰۵۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَۃٌ بِالْعَرْشِ، وَلَیْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُکَافِیئِ، وَلٰکِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِیْ اِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُہُ وَصَلَھَا۔)) (مسند احمد: ۶۵۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے اور وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، جو بدلے میں یہ عمل کر رہا ہو (اصل اور کامل درجے میں)، صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس کا رشتہ کٹ رہا ہو تو وہ اس کو جوڑ رہا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9055

۔ (۹۰۵۵)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اِنِّ لِیْ ذَوِیْ اَرْحَامٍ، اَصِلُ وَیَقْطَعُوْنِیَّ، وَاَعْفُو وَ یَظْلِمُوْنِیَّ، وَاُحْسِنُ وَ یُسِیْئُوْنِیَّ، اَفَاُکَافِئُھُمْ ؟ قَالَ: ((لا، اِذًا تُتْرَکُوْنَ جَمِیْعًا، وَلَکِنْ خُذْ ِبالْفَضْلِ وَصِلْھُمْ، فَاِنَّہُ لَنْ یَزَالَ مَعَکَ ظَھِیْرٌ مِّنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَاکُنْتَ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کو معاف کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برے طریقے سے ہی پیش آتے ہیں، اب میں ان کو ان امور کا بدلہ دے سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، پھر تو تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا، تم فضیلت والے عمل کا اہتمام کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو، پس بیشک تو جب تک اس روٹین پر برقرار رہے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک مددگار ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9056

۔ (۹۰۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ قَرَابَۃً اَصِلُھُمْ وَیَقْطَعُوْنَ ، وَاُحْسِنُ اِلَیْھِمْ وَیُسِیْؤُوْنَ اِلَیَّ، وَاَحْلُمُ عَنْھُمْ، وَیجْہَلُوْنَ عَلَیَّ، قَالَ: ((لَئِنْ کُنْتَ کَمَا تَقُوْلُ کَاَنَّمَا تُسِفُّھُمُ الُمَلَّ، وَلایَزَالُ مَعَکَ مِنَ اللّٰہِ ظَھِیْرٌ عَلَیْھِمْ، مَادُمْتَ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ قرابت دار ہیں، میں تو ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں، لیکن وہ قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری سے پیش آتا ہوں، لیکن وہ جہالت برتتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بات ایسے ہی ہے، جیسے تو کہہ رہا ہے تو گویا تو ان کو گرم راکھ کھلا رہا ہے اور جب تک تو اس عمل پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت میں تیرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف ایک مدد گار ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9057

۔ (۹۰۵۷)۔ عَنْ دُرَّۃَ بِنْتِ اَبِیْ لَھَبٍ، قَالَتْ: قَامَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ النَّاسِ اَقْرَؤُھُمْ، وَاَتْقَاھُمْ، وَآمَرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَاَنْھَاھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَاَوْصَلُھُمْ لِلرَّحِمِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۸۰)
۔ سیدہ دُرّہ بنت ابی لہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا، جب کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پرتھے اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہترہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے، سب سے زیادہ تقوی والے، سب سے زیادہنیکی کا حکم دینے والے، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9058

۔ (۹۰۵۸)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّدَقَاتِ اَیُّھَا اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((عَلٰی ذِیْ الرَّحِمِ الْکَاشِحِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۹۴)
۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صدقات کے بارے میں سوال کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس رشتہ دار پر جو دل میں عداوت چھپانے والا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9059

۔ (۹۰۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۲۷)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9060

۔ (۹۰۶۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ اَعْرَابِیًّا عَرَضَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ مَسِیْرِہِ فَاَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِہِ، اَوْ بِزِمَامِ ناَقَتِہِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْ یَامُحَمَّدُ، اَخْبِرْنِیْ بِمَا یُقَرِّبُنِیْ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَیُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ۔ قَالَ: ((تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلا تُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا، وَتُقِیْمُ الصَّلاۃَ، وَتُؤْتِیْ الزَّکَاۃَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ)) (مسند احمد: ۲۳۹۳۵)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی سفر میں تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یا اس نے کہا: اے محمد! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور آگ سے دور کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کر، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر اور صلہ رحمی کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9061

۔ (۹۰۶۱)۔ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الْضَّبِّیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَدَقَتُکَ عَلَی الْمِسْکِیْنِ صَدَقَۃٌ وَعَلٰی ذِیْ الْقُرْبَی الرَّحِمِ ثِنْتَانِ، صَدَقَۃٌ وَصِلَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۲۹)
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضَبّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے میں صرف صدقے کا ثواب ہوتا ہے اور رشتہ دار پر کرنے سے دو ثواب ہوتے ہیں، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9062

۔ (۹۰۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((اِنَّہُ مَنْ اُعْطِیَ مِنَ الرِّفْقِ، فَقَدْ اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَصِلَۃُ الرَّحِمِ، وَحُسْنُ الْخُلْقِ، وَحُسْنُ الْجَوَارِ یَعْمُرَانِ الدِّیَارِ، وَیَزِیْدَ انِ فِی الْاَعْمَارِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۷۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اُن کو فرمایا : جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9063

۔ (۹۰۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہُ اَوْ لِغَیْرِہِ اَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ اِذَا اتَّقَی اللّٰہَ۔)) وَاَشَارَ مَالِکٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) بِالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۸۸۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے یا کسی اور کے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ساتھ مالک راوی نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9064

۔ (۹۰۶۴)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ ضَمَّ یَتِیْمًا بَیْنَ اَبَوَیْنِ مُسْلِمَیْنِ اِلٰی طَعَامِہِ وَشَرَابِہٖحَتّٰییَسْتَغْنِیَ عَنْہُ، وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ اَلْبَتَّۃَ، وَمَنْ اَعْتَقَ اِمْرَاً مُسْلِمًا کَانَ فِکَاکَہُ مِنَ النَّارِ، یُجْزٰی بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْہُ عُضْوًا مِنْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۹۷)
۔ سیدنا مالک بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ماں باپ دونوں کی طرف سے ہو جانے والے یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں اپنے ساتھ ملا لیا،یہاں تک کہ وہ یتیم اس سے غنی ہو گیا تو ایسے آدمی کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی اور جس نے مسلمان غلام آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے آزادی کا باعث ہو گا، اس غلام کا ہر عضو آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے کفایت کرنے والا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9065

۔ (۹۰۶۵)۔ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ اَوْفٰی، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ، یُقَالُ لَہُ مَالِکٌ، اَوِ ابْنُ مَالِکٍ، یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَیُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ یَتِیْمًا بَیْنَ اَبَوَیْنِ مُسْلِمَیْنِ اِلٰی طَعَامِہِ وَشَرَابِہٖحَتّٰییَسْتَغْنِیَ، وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ اَلْبَتَّۃَ، وَاَیُّمَا مُسْلِمٍ اَعَتَقَ رَقَبَۃً، اَوْ رَجُلاً مُسْلِمًا، کَانَتْ فِکَاکَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ، اَوْ اَحَدَھُمَا، فَدَخَلَ النَّارَ، فَاَبْعَدَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۹۶)
۔ زرارہ بن اوفی اپنی قوم کے مالک یا ابن مالک نامی صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے مسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے یتیم ہو جانے والے بچے کو اپنے کھانے پینے میں اپنے ساتھ رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس یتیم کو غنی کر دیا تو اس کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی، جس مسلمان نے مسلمان غلام کو آزاد کیا تو یہ آگ سے اس کی آزادی کاباعث بنے گا اور جس آدمی نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9066

۔ (۹۰۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِیْفَیْنِ الْیَتِیْمِ وَالْمَرْاَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں یتیم اور عورت کے حقوق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9067

۔ (۹۰۶۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا،اَنَّ رَجُلًا شَکٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ،فَقَالَ: ((امْسَحْرَاْسَالْیَتِیْمِ وَاَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۹۰۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی دل کی سختی کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اور مسکین کو کھانا کھلایا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9068

۔ (۹۰۶۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَسَحَ رَاْسَ یَتِیْمٍ لَمْ یَمْسَحْہُ اِلاَّ لِلّٰہِ کَانَ لَہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مَرَّتْ عَلَیْھَایَدُہُ حَسَنَاتٌ، وَمَنْ اَحْسَنَ اِلٰییَتِیْمَۃٍ، اَوْ یَتِیْمٍ عِنْدَہُ، کُنْتُ اَنَا وَھُوَ فِی الْجَنَّۃِ کَھَاتَیْنِ۔)) وَفَرَّقَ بَیْنَ اِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۲۲۵۰۵)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کسییتیم کے سر پھر ہاتھ پھیرا تو اس کا ہاتھ جتنے بالوں پر سے گزرے گا، اس کو اتنے بالوں کے بقدر نیکیاں ملیں گی اور جس نے یتیم بچے یا بچی کے ساتھ احسان کیا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت ِ شہادت اوردرمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9069

۔ (۹۰۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((السَّاعِیْ عَلَی الْاَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اَوْ کَالَّذِیْیَقُوْمُ اللَّیْلَ وَیَصُوْمُ النَّھَارَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کے لیے محنت کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9070

۔ (۹۰۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلا یُؤْذِ جَارَہُ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَسْکُتْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9071

۔ (۹۰۷۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ اِلاَّ اِنَّ فِیْہِ: ((فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ بَدْلَ یَسْکُتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں لِیَسْکُتْ کی بجائے لِیَصْمُتْ کے الفاظ ہیں۔ (دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9072

۔ (۹۰۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحِ نِ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، َومَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُحْسِنْ اِلٰی جَارِہِ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْلِیَصْمُتْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۳)
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کو صحبت کا شرف حاصل ہوا تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کے ساتھ احسان کرے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9073

۔ (۹۰۷۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَاللّٰہِ لایُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لایُؤْمِنُ۔)) قَالَھَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوْا: وَمَاذَاکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْجَارُ لایَأْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) قَالُوْا: وَمَا بَوَائِقُہُ؟ قَالَ: ((شَرُّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۸۶۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ بندہ مؤمن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ بندہ مؤمن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ بندہ صاحب ایمان نہیں ہے۔ تین مرتبہ فرمایا، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور وہ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص کہ جس کا ہمسایہ اس کے شر سے امن میں نہ ہو۔ انھوں نے کہا: بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا شرّ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9074

۔ (۹۰۷۴)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِیِّ، عَنْ رِجَالٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَلْیُکْرِمْ جَارَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ وَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ وَلْیَقُلْ حَقًّا، اَوْ لِیَسْکُتْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۵۱)
۔ کچھ صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو اللہ تعالیٰاور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9075

۔ (۹۰۷۵)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا ھِشَامٌ وَیَزِیْدُ، قَالَ: اَنَا ھِشَامٌ عَنْ حَفْصَۃَ، عَنْ اَبِی الْعَالِیَۃِ عَنِ الْاَنْصَارِیِّ، (قَالَ: یَزِیْدُ: رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ) قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ اَھْلِیْ اُرِیْدُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا اَنَا بِہٖقَائِمٌوَرَجُلٌمَعَہُمُقْبِلٌعَلَیْہِ، فَظَنَنْتُ اَنَّ لَھُمَا حَاجَۃً، قَالَ: فَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی جَعَلْتُ اَرْثِیْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، لَقَدْ قَامَ بِکَ الرَّجُلُ حَتَّی جَعَلْتُ اَرْثِیْ لَکَ مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ، قَالَ: ((وَلَقَدْ رَاَیْتَہُ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((اَتَدْرِیْ مَنْ ھُوَ؟)) قُلْتُ: لا، قَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ علیہ السلام ، مَازَالَ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہُ سَیُوَرِّثُہُ۔)) ثُمَّ قاَلَ: ((اَمَا اِنَّکَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَیْہِ رَدَّ عَلَیْکَ السَّلامَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۸)
۔ ایک انصاری آدمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملنے کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا، پس جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ایک آدمی آپ پر متوجہ تھا، میں نے سمجھا کہ ان دونوں کی کوئی ضرورت ہو گی، اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ترس آنے لگا، بہرحال جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے آپ کو اتنی دیر کھڑے رکھا کہ مجھے تو آپ پر ترس آنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتا ہے کہ وہ کون تھا؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، انھوں نے مجھے ہمسائے کے بارے اتنی وصیتیں کیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو عنقریب وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9076

۔ (۹۰۷۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((مَازَالَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلامُ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ اَنَّہُ سَیُوَرِّثُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۶۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9077

۔ (۹۰۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((مَازَالَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلامُ یُوْصِیْنِیْ باِلْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ اَنَّہُ سَیُوَرِّثُہُ۔)) اَوْ قَالَ: ((خَشِیْتُ اَنْ یُوَرِّثَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۵۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: میں تو ڈرنے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی قرار دینے لگے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9078

۔ (۹۰۷۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہِ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۶۴۹۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9079

۔ (۹۰۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۷۵۱۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9080

۔ (۹۰۸۰)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یُوْصِیْ بِالْجَارِ، حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہُ سَیُوَرِّثَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۵۴)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مجھے ہمسائے کے بارے میں اتنی نصیحتیں کرتا ہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا ہے کہ اس کو میرا وارث بنانے لگا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9081

۔ (۹۰۸۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ الْاَصْحَابِ عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرُھُمْ لِصَاحِبِہٖ،وَخَیْرُ الْجِیْرَانِ عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرُھُمْ لِجَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ساتھی وہ ہے، جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین پڑوسی وہ ہے، جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9082

۔ (۹۰۸۲)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! اِذَا طَبَخْتَ فَاَکْثِرِ الْمَرَقَۃَ، وَتَعَاھَدْ جِیْرَانَکَ، اَوِ اقْسِمْ بَیْنَ جِیْرَانِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۵۲)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس کا شوربا زیادہ کر کے اپنے ہمسائیوں کا خیال رکھا کرو یا (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا) اپنے ہمسائیوں کے مابین تقسیم کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9083

۔ (۹۰۸۳)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لا یَشْبَعُ الرَّجُلُ دُوْنَ جَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۳۹۰)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمسائے کے علاوہ بندہ سیر نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9084

۔ (۹۰۸۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ الْاَعْمَالِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((اَنْ تُطْعِمَ الطَّعَامَ، وَتَقْرَاَ السَّلامَ عَلٰی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا کھانا کھلانا اور سلام کہنا ہر شخص کو، تیری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9085

۔ (۹۰۸۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیِوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَحْفَظْ جَارَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ۔)) (مسند احمد: ۶۶۲۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی ضیافت کرے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے ہمسائے کی حفاظت کرے، اسی طرح جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9086

۔ (۹۰۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ۔)) قَالَھَا ثَلاثًا، قَالُوْا: وَمَا کَرَامَۃُ الضَّیْفِیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((ثَلاثَۃُ اَیَّامٍ، فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَہُوَ عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۴۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مہمان کا اکرام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دن، اور اس کے بعد بھی اگر وہ بیٹھا رہے تو ضیافت اس پر صدقہ ہو گی۔