MUSNAD AHMED

Search Results(1)

157)

157) فقر اور غِنٰی کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9300

۔ (۹۳۰۰)۔ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَغْبَطَ اَوْلِیَائِي (وَفِی رَوَایَۃٍ: اِنَّ اَغْبَطَ النَّاسِ) عِنْدِی مُؤِمِنٌ خَفِیْفُ الْحَاذِ، ذُوْحَظٍّ مِنْ صَلَاۃٍ، اَحْسَنَ عِبَادَۃَ رَبِّہِ، وَکَانَ فِی النَّاسِ غَامِضًا، لایُشَارُ اِلَیْہِ بِالْاَصَابِعِ، فَعَجِلَتْ مَنِیَّتُہُ وَقَلَّ تُرَاثُہُ، وَقَلَّتْ بَوَاکِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۵۰)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں میں سے میرا سب سے زیادہ قابل رشک دوست وہ مؤمن ہے، جو کم مال اور کم افرادی کنبے والا ہو، لیکن نماز کی زیادہ مقدار والا ہو، اچھے انداز میں اپنے ربّ کی عبادت کرنے والا، لوگوں میں گمنام ہو، اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ نہ کیا جاتا ہو اور اس کی موت جلدی آ جائے اور اس کی میراث کم ہو اور اس کے رونے والے بھی کم ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9301

۔ (۹۳۰۱)۔ عَنِ الْبَرَائِ السَّلِیْطِیِّ، عَنْ نُقَادَۃَ الْاَسَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَانَ بَعَثَ نُقَادَۃَ الْاَسَدِیِّ اِلَی رَجُلٍ یَسْتَمْنِحُہُ نَاقَۃً لَہُ، وَاِنَّ الرَّجُلَ رَدَّہُ، فَاَرَسَلَ بِہٖاِلَی رَجُلٍ آخَرَ سِوَاہُ، فَبَعَثَ اِلَیْہِ بِنَاقَۃٍ، فَلَمَّا اَبْصَرَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ جَائَ بِھَا نُقَادَۃُیَقُوْدُھَا، قَالَ: ((اللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْھَا وَفِیْمَنْ اَرَسَلَ بِھَا))، قَالَ نُقَادَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!، وَفِیْمَنْ جَائَ بِھَا، قَالَ: ((وَفِیْمَنْ جَائَ بِھَا۔)) فَاَمَرَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اَکْثِرْ مَالَ فُلَانٍ وَوَلَدِہِ)) یَعْنِی الْمَانِعَ الْاَوَّلَ۔ ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ فُلَانٍ یَوْمًا بِیَوْمٍ۔)) یَعْنِی صَاحِبَ النَّاقَۃِ الَّذِیْ اَرَسَلَ بِھَا۔ (مسند احمد: ۲۱۰۱۵)
۔ سیدنا نقادہ اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا نقادہ کو ایک آدمی کی طرف ایک اونٹنی لینے کے لیے بھیجا، لیکن اس آدمی نے اس کو کچھ دیے بغیر واپس کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دوسرے آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اونٹنی دے دے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ نقادہ اونٹنی لے کر آ رہا ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس اونٹنی میں اور اس کو بھیجنے والے میں برکت فرما۔ سیدنا نقادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور اس میں بھی برکت ہو، جو اس کو لایا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اس میں بھی برکت ہوجو اس کو لایا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دوہنے کا حکم دیا، پس اس کو دوہا گیا، اس نے خوب دودھ دیا پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں اور اس کی اولاد کے مال کو زیادہ کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد اونٹنی نہ دینے والا پہلا آدمی تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں کی روزی کو یومیہ بنا دے۔ اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد اونٹنی بھیجنے والا شخص تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9302

۔ (۹۳۰۲)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ بَیْتِی قُوْتًا۔))(مسند احمد: ۹۷۵۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میرے گھر والوں کی روزی گزارے کے بقدر بنا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9303

۔ (۹۳۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ بِلَفْظٍ ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا۔)) (مسند احمد: ۷۱۷۳)
۔ (دوسری سند) اس کے الفاظ یہ ہیں: اے اللہ! محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی آل کی روزی گزارے کے بقدر بنا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9304

۔ (۹۳۰۴)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ اَحَدٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، غَنِیٌّ وَلَا فَقِیْرٌ، اِلاَّ وَدَّ اَنَّمَا کَانَ اُوْتِیَ مِنْ الدُّنْیَا قُوْتًا۔)) قال: یعنی فی الدنیا۔ (مسند احمد: ۱۲۱۸۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بروز قیامت ہر کوئی، وہ غنی ہو یا فقیر،یہ چاہے گا کہ کاش اس کو دنیا میں بقدر سد رمق روزی دی گئی ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9305

۔ (۹۳۰۵)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اِذَا صَلَّی بِالنَّاسِ خَرَّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِھِمْ فِی الصَّلَاۃِ لِمَا بِھِمْ مِنَ الْخَصَاصَۃِ، وَھُمْ مِنْ اَصْحَابِ الصُّفَّۃِ، حَتّٰییَقُوْلَ الْاَعْرَابُ: اِنَّ ھٰؤُلائِ مَجَانِیْنُ، فَاِذَا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃَ انْصَرَفَ اِلَیْھِمْ فَقَالَ لَھُمْ: ((لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَالَکَمُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَاَحْبَبْتُمْ لَوْ اَنَّکُمْ تَزْدَادُوْنَ حَاجَۃً وَفَاقَۃً۔)) قاَلَ فَضَالَۃُ: واَنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳۵)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو بھوک کی وجہ لوگ نماز کے قیام کے دوران گر جاتے تھے، ایسے لوگوں کا تعلق اصحاب ِ صفہ سے ہوتا تھا، بدّو لوگ کہتے تھے: یہ تو پاگل ہو گئے ہیں، پس جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کو پورا کرتے تو ان کی طرف پھر کر فرماتے: اگر تم کو پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجرو ثواب ہے تو تم یہ پسند کرو گے کہ کاش حاجت اور فاقے میں اور اضافہ ہو جائے۔ سیدنا فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9306

۔ (۹۳۰۶)۔ عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ لَبِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِثْنَتَانِ یَکْرَہُھُمَا ابْنُ آدَمَ، اَلْمَوْتُ، وَالْمَوْتُ خَیْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَۃِ، وَیَکْرَہُ قِلَّۃَ الْمَالِ، وَقِلَّۃُ الْمَالِ اَقَلُّ لِلْحِسَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۲۴)
۔ سیدنا محمو د بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، ابن آدم تو ان کو ناپسند کرتا ہے (لیکن حقیقت میں وہ دونوںاس کے لیے بہتر ہیں)، ایک موت ہے، اور موت مؤمن کے لیے فتنے سے بہتر ہے اور دوسری قلت مال ہے، حالانکہ قلت ِ مال کی وجہ سے حساب قلیل ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9307

۔ (۹۳۰۷)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ مُوْسٰی عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلامُ قَالَ: اَیْ رَبِّ! عَبْدُکَ الْمُؤُمِنُ تُقَتِّرُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا، قَالَ: فَیُفْتَحُ لَہُ بَابُ الْجَنَّۃِ فَیَنْظُرُ اِلَیْھَا، قَالَ: یَا مَوْسٰی! ھٰذَا مَااَعْدَدْتُ لَہُ، فَقَالَ مُوْسٰی: اَیْ رَبِّ! وَعِزَّتِکَ وَجَلالِکَ لَوْ کَانَ اَقْطَعَ الْیَدَیْنِ وَالرِّجْلَیْنِیُسْحَبُ عَلیٰ وَجْھِہِ مُنْذُ یَوْمَ خَلَقْتَہُ اِلیٰیَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَکَانَ ھٰذَا مَصِیْرَہٗ لَمْ یَرَ بُؤْسًا قَطُّ، قَالَ: ثّمَ قَالَ مُوْسٰی: اَیْ رَبِّ! عَبْدُکَ الْکَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا، قَالَ: فَیُفْتَحُ لَہُ بَابٌ مِّنَ النَّارِ فَیُقَالُ: یَا مُوْسٰی! ھٰذَا مَا اَعْدَدْتُ لَہٗ،فَقَالَمُوْسٰی: اَیْ رَبِّ! وَعِزَّتِکَ وَجَلَالِکَ لَوْ کَانَتْ لَہُ الدُّنْیَا مُنْذُ یَوْمَ خَلَقْتَہُ اِلیٰیَوْمِ الْقِیَامَۃِ وکَانَ ھٰذَا، مَصِیْرَہُ کَاَنْ لَمْ یَرَ خَیْرًا قَطٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جناب موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تو اپنے مؤمن بندے کو دنیا میں غربت زدہ اور تنگ حال بنا دیتا ہے؟ اتنے میں جناب موسی علیہ السلام کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا گیا اور وہ اس کی طرف دیکھنے لگے، پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے موسی! یہ جنت میں نے اسی مؤمن کے لیے تیار کی ہے۔ پھر جناب موسی نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت کی قسم! تیرے جلال کی قسم! اگر اس مؤمن کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں اور پھر اس کو اس کے یوم ولادت سے لے کر روزِ قیامت تک چہرے کے بل گھسیٹا جاتا رہے اور لیکن اگر اس کا انجام یہ جنت ہوا تو وہ تو یوں سمجھے گا کہ اس نے کبھی کوئی تنگی دیکھی ہی نہیں۔ پھر موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تو نے اپنے کافر بندے کے لیے دنیا میں بڑی وسعت پیدا کی ہے؟ اتنے میں موسی علیہ السلام کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا جا ئے گا اور ان سے کہا جائے گا: اے موسی! یہ جہنم میں نے اسی کافر کے لیے تیار کی ہے۔ موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت اور جلال کی قسم! اگر اس کو اس کے یوم تخلیق سے روزِ قیامت تک پوری دنیا دے دی جائے، لیکن اس کا انجام یہ ہو تو وہ تو یوں سمجھے گا کہ اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9308

۔ (۹۳۰۸)۔ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِیْرٍ،یَقُوْلُ عَلیٰ مِنْبَرِ الْکُوْفَۃِ: وَاللّٰہِ مَاکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْ قَالَ: نَبِیُّکُمْ عَلَیْہِ السَّلَامُ یَشْبَعُ مِنَ الدَّقَلِ، وَمَاتَرْضَوْنَ دَوْنَ اَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ۔(مسند احمد: ۱۸۵۴۶)
۔ سماک بن حرب کہتے ہیں: سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کوفہ کے منبر پر ہمیں بیان کیا اور کہا: اللہ کی قسم! تمہارا نبی تو ردّی کھجوروں سے سیر ہو جاتا تھا، لیکن تم قسما قسم کی کھجوروں اور مکھن کے بغیر راضی ہی نہیں ہوتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9309

۔ (۹۳۰۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ اَنَّہُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍیَخْطُبُ وَھُوَ یَقُوْلُ: اَحْمَدُ اللّٰہَ تَعَالیٰ فَرُبَّمَا اَتیٰ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الشَّہْرُ یَظِلُّیَتَلَوّٰی مَایَشْبَعُ مِنَ الدَّقَلِ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۴۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایسے مہینے بھی آتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بل پڑ جاتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ردّی کھجوروں سے بھی سیر نہیں ہو پاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9310

۔ (۹۳۱۰)۔ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاکَانَ یَفْضُلُ عَلیٰ اَھْلِ بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُبْزُ الشَّعِیْرِ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۳۷)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جو کی روٹی بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر والوں کی ضرورت سے زائد نہیں ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9311

۔ (۹۳۱۱)۔ عَنْ اَبِی الْعَلَائِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، حَدَّثَنِی اَحَدُ بَنِیْ سُلَیْمٍ وَلا اَحْسَبُہُ اِلَّا قَدْ رَاٰی رَسُوْلَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ یَبْتَلِیْ عَبْدَہُ بِمَا اَعْطَاہُ فَمَنْ رَضِیَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بَارَکَ اللّٰہُ لَہُ فِیْہِ وَوَسِعَہُ، وَمَنْ لَّمْ یَرْضَ لَمْ یُبَارِکْ لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۴۵)
۔ ابو العلاء کہتے ہیں: بنو سُلَیم کے ایک آدمی نے مجھے بیان کیا، میرایہی خیال ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا، بہرحال اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس چیز کے ساتھ آزماتا ہے، جو اس کو عطا کرتا ہے، پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے رزق میں برکت کرتا ہے اور مزید وسعت عطا کرتا ہے اور جو اس تقسیم پر راضی نہیںہوتا، اس کے رزق میں برکت نہیں کی جاتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9312

۔ (۹۳۱۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَنحْنُ عِنْدَہُ: ((طُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ۔)) فَقِیْلَ: مَنِ الْغُرَبَائُ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اُنَاسٌ صَالِحُوْنَ فِی اُنَاسٍ سُوئٍ کَثِیْرٍ، مَنْیَعْصِیْھِمْ اَکْثَرُ مِمَّنْ یُطِیْعُھُمْ۔)) قَالَ: وَکُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا آخَرَ حِیْنَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَیَاْتِی اُنَاسٌ مِنْ اُمَّتِییَوْمَ الْقَیَامَۃِ نُوْرُھُمْ کَضَوْئِ الشَّمْسِ۔)) قُلْنَا: مَنْ اُولٰئِکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! (وَفِی رَوَایَۃٍ) فَقَالَ: اَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْنُ ھُمْ یاَرَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَاَ، وَلَکُمْ خَیْرٌ کَثِیْرٌ۔)) فَقَالَ: ((فُقَرَائُ الْمُھَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ تُتَّقَی بِھِمُ الْمَکَارِہُ، یَمُوْتُ اَحَدُھُمْ وَحَاجَتُہُ فِی صَدْرِہِ، یُحْشَرُوْنَ مِنْ اَقْطَارِ الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، جبکہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے: غُرَباء کے لیے خوشخبری ہے۔ کسی نے کہا: غرباء کون لوگ ہیں؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بہت زیادہ برے لوگوں کے اندر پائے جانے والے نیک لوگ ہوتے ہیں، ان کی بات نہ ماننے والوں کی تعداد بات ماننے والوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ایک اور دن کی بات ہے، سورج طلوع ہو رہا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میرے امت میں سے ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہوں گے؟ ایک روایت میں ہے: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان سے مراد ہم لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اور تم لوگوں میں بھی بڑی خیر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ فقراء مہاجرین ہیں، جن کے ذریعے ناپسندیدہ چیزوں سے بچا جاتا ہے اور ان میں جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اس کی ضرورت اس کے سینے میں ہوتی ہے، ان لوگوں کو زمین کے مختلف خطوں سے جمع کیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9313

۔ (۹۳۱۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ فُقَرَائَ الْمُھَاجِرِیْنَیَسْبِقُوْنَ الْاَغْنِیَائَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَاِنْ شِئْتُمْ اَعْطَیْنَاکُمْ مِمَّا عَنْدَنَا وَاِنْ شِئْتُمْ ذَکَرْنَا اَمْرَکُمْ لِلسُّلْطَانِ، قَالُوْا: فَاِنَّا نَصْبِرُ فَلا نَسْاَلُ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۶۵۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک فقراء مہاجرین بروز قیامت مالدار لوگوں سے چالیس سال پہلے سبقت لے جائیں گے۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم لوگ چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنے مال میں سے دے دیتے ہیں اور اگر چاہتے ہو تو ہم تمہارا معاملہ سلطان کے سامنے ذکر کر دیتے ہیں، انھوں نے کہا: ہم صبر کریں گے اور کسی سے کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9314

۔ (۹۳۱۴)۔ حَدَّثَنَا الْھُذَیْلُ بْنُ مَیْمُوْنٍ الْکُوْفِیُّ الْجُعْفِیُّ، کَانَ یَجْلِسُ فِی مَسْجِدِ الْمَدِیْنَۃِیَعْنِی مَدِیْنَۃَ اَبِی جَعْفَرٍ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: ھٰذَا شَیْخٌ قَدِیْمٌ کُوْفِیٌّ، عَنْ مُطَرِّحِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَزِیْدَ، عَنِ الْقَاسِمِ (یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ)، عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَوَجَدْتُّ فِیْھَا خَشْفَۃً بَیْنَیَدَیَّ، فَقُلْتُ: مَاھٰذَا؟ قَالَ: بِلَالٌ، قَالَ: فَمَضَیْْتُ فَاِذَا اَکْثَرُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فُقَرَائُ الْمُھَاجِرِیْنَ وَذرَارِیُّ الْمُسْلِمِیْنَ، وَلَمْ اَرَ اَحَدًا اَقَلَّ مِنَ الْاِغْنِیَائِ وَالنِّسَائِ، فَقَیْلِ لِی: اَمَّا الْاَغْنِیَائُ فَھُمْ ھَاھُنَا بِالْبَابِ یُحَاسَبُوْنَ وَیُمَحَّصُوْنَ، وَاَمَّا النِّسَائُ فَاَلْھَاھُنَّ الْاَحْمَرَانِ الذَّھَبُ وَالْحَرِیْرُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ اَحَدِ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ، فَلَمَّا کُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ اَتَیْتُ بِکِفَّۃٍ فَوُضِعْتُ فِیْھَا وَوُضِعَتْ اُمَّتِی فِی کِفَّۃٍفَرَجَحَتُ بِھَا، ثُّمَّ اُتِیَ بِاَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَوُضِعَ فِی کِفَّۃٍ وَجِیْیئَ بِجَمِیْعِ اُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ فَوُضِعُوْا فَرَجَحَ اَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَجِیْئَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِی کِفَّۃٍ وَجِیْیئَ بِجَمِیْعِ اُمَّتِی فَوُضِعُوْا فَرَجَحَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَعُرِضَتْ اُمَّتِی رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوْا یَمرُّوْنَ فَاسْتَبْطَاْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ ثُمَّ جَائَ بَعْدَ الْاِیَاسِ، فَقُلْتُ: عَبْدَ الرَّحْمٰنِ۔ فَقاَلَ: بِاَبِیْ وَاُمِّیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَاخَلَصْتُ اِلَیْکَ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنِّیْ لَا اَنْظُرُ اِلَیْکَ اَبَدًا اِلاَّ بَعْدَ الْمَشِیْبَاتِ، قَالَ: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: مِنْ کَثْرَۃِ مَالِیْ، اُحَاسَبُ وَاُمَحَّصُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۸۷)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا اور اپنے سامنے سے آہٹ سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کون سی آواز ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، پھر میں آگے کو بڑھا اور دیکھا کہ جنت میں زیادہ تر لوگ فقراء مہاجرین اور مسلمانوں کے بچے ہیں اور سب سے کم مالدار لوگ اور عورتیں ہیں، پھر مجھے بتلایا گیا کہ مالدار لوگوں کا جنت کے دروازے پر ابھی محاسبہ کیا جا رہا ہے اور ان کی مزید جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، رہا مسئلہ خواتین کا، تو دو سرخ چیزوںیعنی سونے اور ریشم نے ان کو غافل کر دیا تھا، پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے باہر آئے، جب میں دروازے پر ہی تھا تو میرے پاس ایک پلڑا لایا گیا اور مجھے اس میں اور میرے امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا، پس میں بھاری ثابت ہوا، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور باقی امت کو دوسرے میں، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والا پلڑا جھک گیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لایا گیا اور ایک پلڑے میں رکھا اور باقی ساری امت کو دوسری پلڑے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھاری ثابت ہوئے، پھر میری امت کے ایک ایک آدمی کو پیش کیا گیا، پس وہ آگے کو گزرتے گئے، میں نے اس معاملے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سست اور متأخر پایا، پھر وہ ناامید ہو جانے کے بعدا ٓیا، میں نے کہا: عبد الرحمن! انھوں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، آپ تک پہنچنے سے پہلے مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میں کبھی بھی آپ کو نہیں دیکھ سکوں گا، مگر بڑھاپوں کے بعد، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: میرے مال کی کثرت کی وجہ سے میرا محاسبہ ہوتا رہا اور مزید جانچ پڑتال کی جاتی رہی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9315

۔ (۹۳۱۵)۔ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ اللَّخْمِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُبْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ اِلیٰ اَبِی سَلاَّمٍ الْحَبَشِیِّ، فَحُمِلَ اِلَیْہِ عَلَی الْبَرِیْدِیَسْاَلُہُ عَنِ الْحَوْضِ، فَقُدِّمَ بِہٖعَلَیْہِ، فَسَاَلَہُ فَقَالَ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ حَوْضِیْ مِنْ عَدَنٍٍ اِلیٰ عَمَّانَ الْبَلْقَائِ، مَاؤُہُ اَشَدُّ بَیاَضًا مِنَ اللَّبَنِ وَاَحْلیٰ مِنِ الْعَسَلِ، وَاَکَاوِیْبُہُ عَدَدُ النُّجُوْمِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ شَرْبَۃً لَمْ یَظْمَاْ بَعْدَھَا اَبَدًا، اَوَّلُ النَّاسِ وُرُوْدًا عَلَیْہِ فُقَرَائُ الْمُھَاجِرِیْنَ۔))، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ: مَنْ ھُمْ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ھُمُ الْشُّعْثُ رُؤُوْسًا، اَلدُّنْسُ ثِیَابًا، الذین لا یَنْکِحُوْنَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَلا تُفْتَحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السُّدَدِ۔)) فَقَالَ عُمَرُبْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ: لَقَدْ نَکَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَفُتِحَتْ لِیَ السُّدَدُ اِلاَّ اَنْ یَّرْحَمَنِی اللّٰہُ، وَاللّٰہِ لاجَرَمَ اَنْ لا اَدْھُنَ رَاْسِیْ حَتّٰییَشْعَثَ، وَلا اَغْسِلُ ثَوْبِی الَّذِیْیَلِیْ جَسَدِیْ حَتّٰییَتَّسِخَ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۲۵)
۔ عباس بن سالم لخمی سے مروی ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے ابو سلام حبشی کو بلا بھیجا، اس کو پیغام رساں کے ذریعے لایا گیا، وہ ان سے حوض کے بارے میں حدیث سننا چاہتے تھے، پس ان کو ان کے پاس لایا گیا، عمر بن عبد العزیز نے ان سے سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: میں نے سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے حوض (کی وسعت) عدن سے عمان بلقاء تک ہے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالے ستاروں کی تعدادجتنے ہیں،جس نے اس سے پانی پی لے، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اس پر سب سے پہلے آنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے۔ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ وہ ہیں جن کے بال پراگندہ ہوتے ہیں، کپڑے میلے ہوتے ہیں، جو آسودہ حال عورتوں سے شادی نہیں کر سکتے اور جن کے لیے بند دروازے نہیں کھولے جاتے۔ یہ سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: میں نے تو آسودہ حال عورتوں سے شادی بھی ہے اور میرے لیے بند دراوازے بھی کھولے گئے ہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم کر دے، اللہ کی قسم! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میں اپنے سر پر اس وقت تک تیل نہیں لگاتا ، جب تک وہ پراگندہ نہیں ہو جاتا اور زیب ِ تن کیے ہوئے کپڑے نہیں دھوتا، جب تک وہ میلے نہیں ہو جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9316

۔ (۹۳۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِبْغُوْنِیْ ضُعَفَائَکُمْ فَاِنَّکُمْ اِنَّمَا تُرْزَقُوْنَ وَتُنْصَرُوْنَ بِضُعَفَائِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۴)
۔ سیدنا ابودردا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول االلہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا: ضعفاء کو میرے لیے تلاش کر کے لاؤ،بیشک تم لوگ انہی کمزوروں کی وجہ سے رزق دیے اور مدد کئے جاتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9317

۔ (۹۳۱۷)۔ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، اَنَّ سَلْمَانَ وَصُہَیْبًا وَبِلَالًا کَانُوْا قُعُوْدًا فِیْ اُنَاسٍ فَمَرَّ بِھِمْ اَبُوْ سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ فَقَالُوْا: مَا اَخَذَتْ سُیُوْفُ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللّٰہِ مَأْخَذَھَا بَعْدُ، فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: اَتَقُوْلُوْنَ ھٰذَا لِشَیْخِ قُرَیْشٍ وَسَیِّدِھَا؟ قَالَ: فَاُخْبِرَ بِذٰلِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا اَبَابَکْرٍ، لَعَلَّکَ اَغْضِبْتَھُمْ، فَلَئِنْ کُنْتَ اَغْضَبْتَھُمْ لَقَدْ اَغْضَبْتَ رَبَّکَ تَبارَکَ وَتَعَالیٰ۔)) فَرَجَعَ اِلَیْھِمْ فَقَالَ: اَیْ اِخْوَتَنَا! لَعَلَّکُمْ غَضَبْتُمْ؟ فَقَالُوْا: لا یَااَبَابَکْرٍ،یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکَ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۱۶)
۔ سیدنا عائذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال کچھ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سید نا ابو سفیان بن حرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گزر ہوا، اِن لوگوں نے کہا: اللہ کے دشمن کی گردن اتارنے میں اللہ کی تلواروں نے اپنا حق ادا نہیں کیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم یہ بات قریش کے بزرگ اور سردار کے بارے میں کہتے ہو؟ (کچھ خیال کرو)۔ پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ساری بات بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! شاید تو نے ان کو ناراض کر دیا ہو اور اگر تو نے ان کو ناراض کر دیا تو تیرا ربّ بھی تجھ پر ناراض ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کی طرف لوٹے اور کہا: اے ہمارے بھائیو! شاید تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تجھ کو بخش دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9318

۔ (۹۳۱۸)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ زَیْدٍ اَبِی الْحَوَارِیِّ، عَنْ اَبِی الصِّدِّیْقِ، عَنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((یَدْخُلُ فُقَرَائُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ اَغْنِیَائِھُمْ بِاَرْبَعِمِائَۃِ عَامٍ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: اِنَّ الْحَسَنَ یَذْکُرُ اَرْبَعِیْنَ عَامًا، فَقَالَ: عَنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَرْبَعُمِائَۃِ عَامٍ۔)) قَالَ: حَتّٰییَقُوْلَ الْغَنِّیُ: یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ عَیِّلًا۔)) قَالَ: قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! سَمِّھِمْ لَنَا بِاَسْمَائِھِمْ؟ قَالَ: ((ھُمُ اللَّذِیْنَ اِذَا کَانَ مَکْرُوْہٌ، بُعِثُوْا لَہُ، وَاِذَا کَانَ مَغْنَمٌ بُعِثَ اِلِیْہِ سِوَاھُمْ، وَھُمُ الَّذِیْنَیُحْجَبُوْنَ عَنِ الْاَبْوَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۹۱)
۔ بعض صحابۂ کرام بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فقیر مؤمن جنت میں غنی مسلمانوں سے چار سو سال پہلے داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: حسن تو چالیس برسوں کا ذکر کرتا ہے ؟ لیکن انھوں نے اصحاب ِ رسول کے حوالے سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو چار سو سال کی بات کی ہے، یہاں تک کہ غنی آدمی کہے گا: کاش میں بھی بہت زیادہ محتاج ہوتا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان فقیروں کی صفات بیان کر دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جب جنگ کا موقع آتا ہے تو ان کو بھیجا جاتا ہے، لیکن جب غنیمت کی باری آتی ہے تو اوروں کوروانہ کیا جاتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیںجن کو (وڈیروں کے) دروازوں سے دور کر دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9319

۔ (۹۳۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَدْخُلُ فُقَرَائُ الْمُسْلِمِیْنَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ اَغْنِیَِائِھِمْ بِنِصْفِ یَوْمٍ وَھُوَ خَمْسُمِائَۃِ عَامٍ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فقراء مسلمان، مالدار مسلمانوں سے نصف یومیعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9320

۔ (۹۳۲۰)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ وَاَھْلِ الْجَنَّۃِ؟ اَمَّا اَھْلُ الْجَنَّۃِ، فَکُلُّ ضَعِیْفٍ مُتَضَعَّفٍ اَشَعَثَ ذِیْ طِمْرَیْنِ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَبَرَّہُ، وَاَمَّا اَھْلُ النَّارِ فَکُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِیْ تَبَعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۰۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہلِ جہنم اور اہلِ جنت کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ جنتی لوگ یہ ہیں: ہر کمزور، جس کو کمزور سمجھا جاتا ہے، پراگندہ بالوں والا اور دو بوسیدہ پرانے کپڑوں والا، (لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنی وقعت والا ہے کہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دے تو وہ بھی اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ اور جہنمی لوگ یہ ہیں: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا اور دوسرے لوگ جس کی پیروی کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9321

۔ (۹۳۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ فِیْ حَلْقَۃٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ، وَاِنَّ بَعْضَنَالَیَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِّنَ الْعُرْیِ، وَقَارِیئٌ لَّنَا یَقْرَؤُ عَلَیْنَا فَنَحْنُ نَسْمَعُ اِلیٰ کِتَابِ اللّٰہِ، اِذْ وَقَفَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَعَدَ فِیْنَا لِیَعُدَّ نَفْسَہُ مَعَھُمْ، فَکَفَّ الْقَارِیُ، فَقَالَ: ((مَاکُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ؟)) فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَانَ قَارِیئٌ لَّنَا یَقْرَاُ عَلَیْنَا کِتَابَ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ وَحَلَّقَ بِھَایُوْمِیئُ اِلَیْھِمْ: ((اَنْ تَحَلَّقُوْا۔)) فَاسْتَدَارَتِ الْحَلْقَۃُ فَمَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَرَفَ مِنْھُمْ اَحَدًا غَیْرِیْ، قَالَ: فَقَالَ: ((اَبْشِرُوْا یَامَعْشَرَ الصَّعَالِیْکِ تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الْاَغْنِیَائِ بِنِصْفِ یَوْمٍ وَذٰلِکَ خَمْسُمِائِۃِ عَامٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۲۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں انصاریوں کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، صورتحال یہ تھی کہ پردہ کرنے کے لیے بعض لوگ بعض کی اوٹ میں چھپ رہے تھے اور ایک قاری ہم پر تلاوت کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کا کلام سن رہے تھے، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، تاکہ اپنے نفس کو ان میں شمار کروائیں، پس قاری نے تلاوت بند کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا ایک قاری ہم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے حلقہ بنایا اور اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس طرح حلقہ بنا لو۔ پس لوگ گھوم کر حلقے میں بیٹھ گئے، میرا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانا، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فقیروں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، تم مالدار لوگوں سے نصف دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9322

۔ (۹۳۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا اَبَا ذَرٍّ! اُنْظُرْ اَرْفَعَ رَجُلٍ فِیْ الْمَسْجِدِ۔)) فنَظَرْتُ فَاِذَا رَجُلٌ عَلَیْہِ حُلَّۃٌ، قَالَ: قُلْتُ: ھٰذَا؟ قَالَ: قَالَ لِیْ: ((اُنْظُرْ اَوْضَعَ رَجُلٍ فِیْ الْمَسْجِدِ۔)) قَالَ: فنَظَرْتُ فَاِذَا رَجُلٌ عَلَیْہِ اَخْلَاقٌ، قاَلَ: قُلْتُ ھٰذَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَھٰذَا اَفْضَلُ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ مِلْئِ الْاَرْضِ مِثْلَ ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۲۵)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! دیکھ، مسجد میں کون آدمی سب سے زیادہ رفعت والا ہے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا، اچانک ایک آدمی نظر آیا، اس نے عمدہ پوشاک زیب ِ تن کی ہوئی تھی، میں نے کہا: یہ ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اب دیکھ، مسجد میں کون سا آدمی سب سے کم درجہ ہے؟ میں نے دیکھا، ایک آدمی نے چیتھڑے پہنے ہوئے تھے، میں نے کہا: جییہ ہے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ (کم درجہ) آدمی روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس (رفعت والے) زمین بھر افراد سے بہتر ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9323

۔ (۹۳۲۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قاَلَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِطَّلَعْتُ فِی الْجَنَّۃِ، فَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا الْفُقَرَائُ، وَاطَّلَعْتُ فِی النَّارِ فَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا الْاَغْنِیَائَ وَالنِّسَائَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا، پس وہاں کے اکثر لوگوں کو فقیر دیکھا ، پھر جب میں نے جہنم میں جھانکا تو وہاں کے اکثر لوگوں کو مالدار اور عورتیں پایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9324

۔ (۹۳۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ الْاَغْنِیَائُیُصَلُّوْنَ، وَیَصُوْمُوْنَ، وَیَحُجُّوْنَ، قَالَ: ((وَاَنْتُمْ تَصُوْمُوْنَ وَتُصَلُّوْنَ وَتَحُجُّونَ۔)) قُلْتُ: یَتَصَدَّقُوْنَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، قَالَ: ((وَاَنْتَ فِیْکَ صَدَقَۃٌ، رَفْعُکَ الْعَظْمَ عَنِ الطَّرِیْقِ صَدَقَۃٌ، وَھِدَایَتُکَ الطَّرِیْقَ صَدَقَۃٌ، وَعَوْنُکَ الضَّعِیْفَ بِفَضْلِ قُوَّتِکَ صَدَقَۃٌ، وَبَیَانُکَ عَنِ الْاَرْتَمِ صَدَقَۃٌ، وَمُبَاضَعَتُکَ امْرَاَتَکَ صَدَقَۃٌ۔))، قَالَ: قُلْتُ: یَا َرسُوْلَ اللّٰہِ! نَاْتِیْ شَہْوَتَنَا وَنُؤْجَرُ؟ قال: ((اَرَئَ ْیتَ لَوْجَعَلْتَہُ فِیْ حَرَامٍ اَکَانَ تَاْثَمُ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَتَحْتَسِبُوْنَ بِالشَّرِّ، وَلَا تَحْسِبُوْنَ بِالْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۹۰)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غنی لوگ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور حج کرتے ہیں، اس طرح وہ اجر میں آگے بڑھتے جا رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بھی روزہ رکھتے ہو، نماز پڑھتے ہو اور حج کرتے ہو۔ میںنے کہا: جی وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر سکتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری اندر بھی صدقہ کی صورتیں موجود ہیں، مثلا راستے سے ہڈی ہٹا دینا صدقہ ہے، راستے کی رہنمائی کر دینا صدقہ ہے، زائد طاقت کے ساتھ کمزور کی مدد کر دینا صدقہ ہے، واضح الفاظ ادا نہ کر سکنے والے کی طرف سے وضاحت کر دینا صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے جماع کر لینے میں صدقہ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی شہوت کو پورا کریں اوراس میں ہمارے لیے اجر بھی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتلا کہ اگر تو اس عضو خاص کو حرام کام پر لگا دے تو کیا تو گنہگار ہو گا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو تم شرّ سے بچ کر ثواب کی نیت کرتے ہو، اور کہ خیر والا کام کر کے ثواب کی نیت نہیں کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9325

۔ (۹۳۲۵)۔ عَنْ سَعَیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ شَکَا اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجَتَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اصْبِرْ اَبَاسَعِیْدٍ! فَاِنَّ الْفَقْرَ اِلیٰ مَنْ یُّحِبُّنِیْ مِنْکُمْ اَسْرَعُ مِنَ السَّیْلِ عَلیٰ اَعْلَی الْوَادِیْ، وَمِنْ اَعْلَی الْجَبَلِ اِلیٰ اَسْفَلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۹۹)
۔ سیدنا ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی محتاجی کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو سعید! صبر کرو، کیوں جو بندہ مجھ سے محبت کرتاہے، اس کی طرف فقر و فاقہ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے، جیسے سیلاب (کا ریلہ) وادی کی بلندی سے اور پہاڑ کی چوٹی سے پستی کی طرف بڑھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9326

۔ (۹۳۲۶)۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیِدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُمْتُ عَلیٰ بَابِ الْجَنَّۃِ فَاِذَا عَامَّۃُ مَنْ دَخَلَھَا الْمَسَاکِیْنُ، وَاِذَا اَصْحَابُ الْجَدِّ۔)) وَقَاَلَ یَحْيٰ بْنُ سَعِیْدٍ وَغَیْرُہُ: ((اَنَّ اَصْحَابَ الْجَدِّ مَحْبُوْسُوْنَ، اِلاَّ اَصْحَابَ النَّارِ فَقَدْ اُمِرَ بِھِمْ اِلیٰ النَّارِ، وَقُمْتُ عَلیٰ بَابِ النَّارِ، فَاِذَا عَامَّۃُ مَنْ یَدْخُلُھَا النِّسَائْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۲۵)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا، پس دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں میں عام لوگ مساکین تھے اور مرتبے والوں کو (جنت سے باہر) روک لیا گیا تھا، البتہ جہنمیوں کے بارے میں یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ان کو جہنم میں لے جایا جائے، پھر میں آگ کے دروازے پر کھڑا ہوا اور دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں میں سے عام خواتین تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9327

۔ (۹۳۲۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِطَّلَعْتُ فِیْ الْجَنَّۃِ، فَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا الْفُقَرَائَ، وَاطَّلَعْتُ فِیْ النَّارِ فَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا النِّسَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا اور اس میں فقراء کی اکثر تعداد دیکھی، پھر میں نے آگ میں اوپر سے دیکھا اور اس میں اکثر تعداد عورتوں کی دیکھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9328

۔ (۹۳۲۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْتَقیٰ مُؤْمِنَانِ عَلیٰ باَبِ الْجَنَّۃِ، مُؤُمِنٌ غَنِیٌّ، وَمُؤُمِنٌ فَقِیْرٌ،کَانَا فِی الدُّنْیَا، فَاُدْخِلَ الْفَقِیْرُ الْجَنَّۃَ، وَحُبِسَ الْغَنِیُّ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یُّحْبَسَ، ثُمَّ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ، فَلَقِیْہِ الْفَقِیْرُ، فَیَقُوْلُ: اَیْ اَخِیْ مَاذَا حَبَسَکَ؟ وَاللّٰہِ لَقَدِ احْتُبِسْتَ حَتّٰی خِفْتُ عَلَیْکَ ، فَیَقُوْلُ: اَیْ اَخِیْ، اِنِّیْ حُبِسْتُ بَعْدَکَ مَحْبسًا فَظِیْعًا کَرِیْھًا، وَمَا وَصَلْتُ اِلَیْکَ، حَتّٰی سَالَ مِنِّی الْْعَرَقُ، مَا لَوْ وَرَدَہُ اَلْفُ بَعِیْرٍ،کُلُّھَا آکِلَۃُ حَمْضٍ، لَصَدَرَتْ عَنْہُ رِوَائً۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو مؤمن جنت کے دروازے پر ملیں گے، ایک مالدار ہو گا اور دوسرا فقیر، وہ دنیا میں دوست ہوں گے، پس فقیر کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور مالدار کو اتنی دیر کے لیے روک لیا جائے گا، جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا، پھر جب اس کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور وہ فقیر اس کو ملے گا تو وہ کہے گا: اے میرے بھائی! کس چیز نے تجھے روک لیا تھا؟ اللہ کی قسم! تجھے اتنی دیر کے لیے روکا گیا کہ مجھے تو تیرے بارے میں ڈر محسوس ہونے لگا، وہ کہے گا: اے میرے بھائی! مجھے تیرے بعد ایسی جگہ پر روک لیا گیا، جو بڑی ہولناک اور مکروہ تھی اور تیرے پاس پہنچنے تک مجھ سے اس قدر پسینہ نکلا کہ اگر حَمْض پودا کھانے والے ایک ہزار اونٹ اس کو پینے کے لیے آتے تو وہ سیراب ہو کر واپس جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9329

۔ (۹۳۲۹)۔ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: قَالَ اَبَوْھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: بَیْنَمَا رَجُلٌ وَامْرَاَۃٌ لَہُ فِی السَّلَفِ الْخَالِیْ لَایَقْدُرَانِ عَلیٰ شَیْئٍ، فَجَائَ الرَّجُلُ مِنْ سَفْرِہِ فَدَخَلَ عَلیَ امْرَاَۃٍ جَائِعًا قَدْ اَصَابَتْہُ مَسْغَبَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، َفقَالَ لِاِمْرَاَتِہِ: اَعِنْدَکِ شَیْئٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، اَبْشِرْ اَتَاکَ رِزْقُ اللّٰہِ، فَاسْتَحَثَّھَا فَقَالَ: وَیْحَکِ، اِبْتَغِیْ اِنْ کَانَ عِنْدَکِ شَیْئٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، ھُنْیَۃً نَرْجُوْ رَحْمَۃَ اللّٰہِ حَتّٰی اِذَا طَالَ عَلَیْہِ الطَّوَی قَالَ: وَیْحَکِ قُوْمِیْ فَابْتَغِیْ اِنْ کَانَ عِنْدَکِ خُبْزٌ فَاْتِیْنِيْ بِہٖفَاِنِّی قَدْ بَلَغْتُ وَجَھِدْتُ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، الآنَ یَنْضَجُ التَّنُّوْرُ فَـلَا تَعْجَلْ، فَلَمَّا اَنْ سَکَتَ عَنْھَا سَاعَۃً وَتَحَیَّنَتْ اَیْضًا اَنْ یَّقُوْلَ لَھَا، قَالَتْ ھِیَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِھَا لَوْ قُمْتُ فَنَظَرْتُ اِلیٰ تَنُّوْرِیْ، فَقَامَتْ فَوَجَدَتْ تَنُّوْرَھَا مَلآیَ جُنُوبَ الْغَنَمِ،وَرَحْیَیْھَا تَطْحَنَانِ، فَقَامَتْ اِلیٰ الرَّحیٰ فَنَفَضَتْھَا وَاَخْرَجَتْ مَافِیْ تَنُّوْرِھَا مِنْ جُنُوبِ الْغَنَمِ، قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَوَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِی الْقَاسِمْ بِیَدِہِ، عَنْ قَوْلِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَخَذَتْ مَا فِیْ رَحْیَیْھَا وَلَمْ تَنْفُضْھَا، لَطَحَنَتْھَا اِلیٰیَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۴۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گزرے ہوئے زمانے کی بات ہے کہ ایک آدمی اور اس کی بیوی کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے تھے، (یعنی ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی)، ایک دن وہ آدمی سفر سے واپس آیا اور اپنی بیوی پر داخل ہوا، جبکہ وہ سخت بھوک میں مبتلا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا: کیا تیرے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، خوش ہو جاؤ، بس ابھی تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا رزق آیا، پھر اس شخص نے اس خاتون کو ترغیب دلائی اور کہا: تو ہلاک ہو جائے، اگر تیرے پاس کوئی چیز ہے تو وہ پیش کر؟ اس نے کہا: جی بالکل، لیکن تھوڑی دیر، ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کرتے ہیں، لیکن پھر جب بھوک کا وقفہ زیادہ ہوا تو اس نے کہا: او تو مر جائے، کھڑی ہو ، کوئی روٹی تلاش کر کے میرے سامنے پیش کر، میں تھک چکا ہوں اور مجھ پر مشکل بن رہی ہے، اس نے کہا: جی ابھی تنور کھانے پکانے کے قابل ہوتا ہے، جلدی نہ کرو، پھر جب خاوند تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہا اور اس عورت نے سمجھا کہ وہ پھر بات کرے گا تو اب کی بار وہ خود سے ہی کہنے لگی کہ اگر میں کھڑی ہو کر اپنے تنور کو دیکھ ہی لوں (کیا پتہ کہ واقعی اس میں کوئی چیز پک رہی ہو)، پس وہ اٹھی اور اپنے تنور کو اس حال میں پایا کہ وہ بکری کی دستیوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کی دونوں چکیاں غلہ پیس رہی تھیں، پس وہ چکی کی طرف گئی اور اس کا جائزہ لیا اور تنور سے بکری کی دستیاں نکالیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے، اللہ کے رسول محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر وہ دونوں چکیوں سے آٹا نکال لیتی اور ان کا جائزہ نہ لیتی تو وہ قیامت کے دن تک غلہ پیستی رہتیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9330

۔ (۹۳۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلیٰ اَھْلِہِ فَلَمَّا رَایٰ مَابِھِمْ مِنَ الْحَاجَۃِ خَرَجَ اِلَی الْبَرِیَّۃِ، فَلَمَّا رَاَتِ امْرَاَتُہُ قَامَتْ اِلَی الرَّحیٰ فَوَضَعَتْھَا، وَاِلَی التَّنُّوْرِ فَسَجَرَتْہُ ثُمَّ قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا، فَنَظَرَتْ فَاِذَا الْجَفْنَۃُ قَدِ امْتَلَاَتْ قَالَ: وَذَھَبَتْ اِلَی التَّنُّوْرِ فَوَجَدَتْہُ مُمْتَلِئًا قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ قَالَ: اَصَبْتُمْ بَعْدِیْ شَیْئًا؟ قَالَتِ امْرَاَتُہُ: نَعَمْ مِنْ رَّبِّنَا، قَامَ اِلَی الرَّحیٰ فذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّہُ لَوْ لَمْ یَرْفَعُھَا لَمْ تَزَلْ تَدُوْرُ اِلیٰیَوْمِ الْقِیَامَۃِ، شَھِدْتُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ: ((وَاللّٰہِ! لَاَنْ یَّاْتِیَ اَحَدُکُمْ صِیْرًا ثُمَّ یَحْمِلُہُیَبِیْعُہُ فَیَسْتَعِفُّ مِنْہُ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَّاْتِیَ رَجُلاً یَسْاَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۶۷)
۔ (دوسری سند) راوی کہتا ہے: ایک آدمی اپنے اہل کے پاس آیا، جب اس نے ان کی حاجت کو دیکھا تو وہ دوسری مخلوق کی طرف نکل گیا، جب اس کی بیوی نے یہ صورتحال دیکھی تو وہ چکی کی طرف گئی اور اس کو سیدھا کیا اور تنور کی طرف جا کر اس کو آگ لگائی اور پھر کہا: اے اللہ! ہمیں رزق دے، پس اس نے دیکھا کہ ٹب بھرا ہوا ہے، پھر اس نے تنور کی طرف دیکھا تو وہ بھی بھرا ہوا ہے، اُدھر سے جب خاوند لوٹا تو اس نے کہا: کیا میرے جانے کے بعد کوئی چیز ملی ہے؟ اس کی بیوی نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے (بہت کچھ مل گیا ہے)۔ پھر وہ چکی کی طرف گیا اور …۔ جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ذکر کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو نہ اٹھاتا تو وہ قیامت کے دن تک چلتی رہتی۔ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی درختوں کی شاخیں اٹھا کر لائے اور ان کو بیچ کر سوال سے بچ جائے تو یہ عمل اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جائے اور اس سے سوال کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9331

۔ (۹۳۳۱)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ خُبَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَمِّہِ، قَالَ: کُنَّا فِیْ مَجْلِسٍ، فَطَلَعَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلیٰ رَاْسِہِ اَثَرُ مَائٍ، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، نَرَاکَ طَیِّبَ النَّفْسِ، قَالَ: ((اَجَلْ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِیْ ذِکْرِ الْغِنیٰ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا بَاْسَ بِالْغِنیٰ لِمَنِ اتَّقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، وَالصِّحَۃُ لِمَنِ اتَّقَی اللّٰہَ خَیْرٌ مِنَ الْغِنٰی، وَطَیِّبُ النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۴۵)
۔ عبد اللہ بن خبیب کے چچے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر پانی کا اثر تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ طیب النفس اور خوش گوار نظر آ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: جی ہاں۔ پھر لوگ غِنٰی کی باتوںمیں مصروف ہو گئے، جن کو سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، البتہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کے لیے غِنٰی کی بہ نسبت صحت بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی نعمتوں میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9332

۔ (۹۳۳۲)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: بَعَثَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذْ عَلَیْکَ ثِیَابَکَ وَسِلاحَکَ ثُمَّ ائْتِنِیْ۔)) فَاَتَیْتُہُ وَھُوَ یَتَوَضَّاُ، فَصَعَّدَ فِیَّ النَّظْرَ ثُمَّ طَأْطَأَ فَقَالَ: ((اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اَبْعَثَکَ عَلٰی جَیْشٍ فَیُسَلِّمَکَ اللّٰہُ وَیُغْنِمَکَ وَاَرْغَبُ لَکَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَۃً صَالِحَۃً۔)) قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَااَسْلَمْتُ مِنْ اَجْلِ الْمَالِ، وَلٰکِنِّیْ اَسْلَمْتُ رَغْبَۃً فِیْ الْاِسْلاَمِ وَاَنْ اَکُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((یَاعَمْرُو! نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْئِ الْصَالِحِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۱۵)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے پہن کر اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف اپنی نگاہ کو بلند کیا اور پھر جھکایا اور فرمایا: میں تجھے فلاں لشکر پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ تجھے سالم رکھے گااور غنیمت بھی عطا کرے گا اور میں تیرے لیے اچھے خاصے مال کی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مال کی وجہ سے تو مسلمان نہیں ہوا، میں نے اسلام کی رغبت اور آپ کی صحبت میں رہنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمرو! نیک آدمی کے لیے مناسب مال بہترین چیز ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9333

۔ (۹۳۳۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لاَحَسَدَ اِلاَّ فِیْ اثْنَیْنِ: رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالاً فَسَلَّطَہُ عَلٰی ھَلَکَتِہِ فِی الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ حِکْمَۃً، فَھُوَ یَقْضِیْ بِھَا، وَیُعَلِّمُھَا النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۴۱۰۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی رشک نہیں ہے، مگر دو آدمیوں پر، ایک وہ آدمی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور پھر اس کو حق میں خرچ کرنے کی بھرپور توفیق دی ہو، اور دوسرا وہ آدمی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت اور دانائی سے نوازا ہو تو وہ اور اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9334

۔ (۹۳۳۴)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُوْا، وَاشْرَبُوْا، وَتَصَدَّقُوْا، وَالْبَسُوْا غَیْرَ مَخِیْلَۃٍ وَلاسَرَفٍ۔)) وَقَالَ یَزِیْدُ مَرَّۃً: ((فِیْ غَیْرِ اِسْرَافٍ وَلامَخِیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۹۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھاؤ، پیو، صدقہ کرو اور پہنو، بس تکبر اور اسراف نہیں ہونا چاہیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9335

۔ (۹۳۳۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِہِ وَلاسَرَفٍ ((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ اَنْ تُرٰی نِعْمَتُہُ عَلٰی عَبْدِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۸)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی نعمت کا اثر نظرآئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9336

۔ (۹۳۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ الْاَحْوَصِ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ، اَوْ شَمْلَتَانِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَرَآنِیْ رَثَّ الْھَیْئَۃِ) فَقَالَ لِیْ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ مَالٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ قَدْ آتَانِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ کُلِّ مَالِہِ مِنْ خَیْلِہِ وَاِبِلِہِ وَغَنَمِہِ وَرَقِیْقِہِ، فَقاَلَ: ((فَاِذَا اٰتَاکَ اللّٰہُ مَالاً فَلْیَرَ عَلَیْکَ نِعْمَتَہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلْیَرَ اَثْرَ نَعْمَتِہِ اللّٰہُ عَلَیْکَ) فَرُحْتُ اِلَیْہِ فِیْ حُلَّۃٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَغَدَوْتُ اِلَیْہِ فِیْ حُلَّۃٍ حَمْرَائَ)۔ (مسند احمد: ۱۵۹۸۲)
۔ ابو الاحوص کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور میں نے ایکیا دو چادریں زیب ِ تن کی ہوئی تھیں، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پراگندہ حالت دیکھا اور پھر پوچھا: کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ نے مجھے گھوڑے، اونٹ، بھیڑ بکریاں اور غلام، ہر قسم کا مال دے رکھا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے مال عطا کیا ہوا ہے تو پھر اس کو تجھ پر اس کی نعمت کا کوئی اثر بھی نظر آنا چاہیے۔ پھر جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9337

۔ (۹۳۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔اَنَّ اَبَاہُ اَتَی النَّبِیَّ وَھُوَ اَشَعَثُ سَیِّیئُ الْھَیِئَۃِ، فَقَالَ لَہُ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا لَکَ مَالٌ؟)) قَالَ: مِنْ کُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: ((فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِذَا اَنَعَمَ عَلٰی عَبْدِ نَعْمَۃً اَحَبَّ اَنْ تُرٰی عَلََیْہَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۷)
۔ (دوسری سند) جب ابو الاحوص کا باپ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو وہ پراگندہ اور ردّی حالت میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس مال نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطا کیا ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت کرتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس پر اس نعمت کا اثر نظر آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9338

۔ (۹۳۳۸)۔ وَعَنْہُ اَیْْضًا عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلُاَیْدِیْ ثَلاثَۃٌ: فَیَدُ اللّٰہِ الْعُلْیَا، وَیَدُ الْمُعْطِی الَّتِیْ تَلِیْھَا، وَیَدُ السَّائِلِ السُّفْلٰی، فَاَعْطِیَنَّ الْفَضْلَ وَلاتَعْجِزْ عَنْ نَفْسِکَ ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۶۴)
۔ ابو الاحوص کے باپ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کا ہاتھ، جو سب سے بلند ہے، دوسرا خرچ کرنے والے کا ہاتھ، اس کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے نیچے ہے اور تیسرا سوالی کا ہاتھ، جو سب سے نیچے ہے، پس تو ضرور ضرور زائد مال خرچ کر دے اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9339

۔ (۹۳۳۹)۔ عَنْ مَعْبَدٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ((کَانَ مُعَاوِیَۃُ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَلَّمَا یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا وَیَقُوْلُ: ھٰؤُلائِ الْکَلِمَاتُ قَلَّمَا یَدَعَھُنَّ اَوْ یُحَدِّثُ بِھِنَّ فِی الْجُمْعِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖخَیْرًایُفَقِّھْہُ فِیْ الدِّیْنِ، وَاِنَّ ھٰذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ فَمَنْ یَّاْخُذْہُ بِحَقِّہِ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ، وَاِیَّاکُمْ وَالتَّمَادُحَ فَاِنَّہُ الذَّبْحُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۱)
۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے تو زیادہ تر یہ بھی بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں فقہ عطا کر دیتا ہے اور یہ مال د دولت شیریں اور سر سبز و شادات یعنی پر کشش ہے، پس جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور ایک دوسرے کی تعریف سے بچو، کیونکہیہ ذبح کرنے کے مترادف ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9340

۔ (۹۳۴۰)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، اَنَّ اَخَاہْ عُمَرَ انْطَلَقَ اِلٰی سَعْدٍ فِیْ غَنَمٍ لَّہُ خَارِجًا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ، فَلَمَّا رَآہُ سَعْدٌ قَالَ: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ ھٰذَا الرَّاکِبِ، فَلَمَّا اَتَاہُ قَالَ: یَااَبَتِ، اَرَضِیْتَ اَنْ تَکُوْنَ اَعْرَابِیًّا فِیْ غَنَمِکَ، وَالنَّاسُ یَتَنَازَعُوْنَ فِی الْمُلْکِ بِالْمَدِیْنَۃِ! فَضَرَبَ سَعْدٌ صَدْرَ عُمَرَ، وَقَالَ: اسْکُتْ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِیَّ الْغَنِیَّ الْخَفِیَّ۔))(مسند احمد: ۱۴۴۱)
۔ عامر بن سعد سے مروی ہے کہ ان کا بھائی عمر اپنے باپ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مدینہ منورہ سے باہر اپنی بکریوں میں تھے، جب انھوں نے اس کو دیکھا تو کہا: میں اس سوار سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں، جب وہ آیا تو کہا: ابو جان! کیا آپ اپنے بکریوں میں بدّو بن جانے پر راضی ہو گئے، لوگ تو مدینہ منورہ میں بادشاہت کے مسئلے پر لڑ رہے ہیں، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عمر کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: خاموش ہو جا، بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرتا ہے، جو متقی، غنی اور گمنام ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9341

۔ (۹۳۴۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ قاَلَ: جَائَ ہُ ابْنُہُ عَامِرٌ فَقَالَ: اَیْ بُنَیَّ اَفِی الْفِتْنَۃِ تَاْمُرُنِیْ اَنْ اَکُوْنَ رَاْسًا! لاَ وَاللّٰہِ! حَتّٰی اُعْطٰی سَیْفًا اِنْ ضَرَبْتُ بِہٖمُؤْمِنًانَبَاعَنْہُ،وَاِنْضَرَبْتُبِہٖکَافِرًاقَتَلَہُ،سَمِعْتُرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنِّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْغَنِیَّ الْخَفِیَّ التَّقِیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کا بیٹا ان کے پاس آیا اور انھوںنے اس سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! کیا تو مجھے حکم دیتا ہے کہ میں فتنے کا سردار بن جاؤں، نہیں، اللہ کی قسم! نہیں،یہاں تک کہ مجھے ایسی تلوار دی جائے کہ اگر میں اس کو مومن پر چلاؤں تو وہ اس سے ہٹ جائے اور اگر کافر پر چلاؤں تو اس کو قتل کر دے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ غنی، گمنام اور متقی بندے کو پسند کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9342

۔ (۹۳۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْغِنٰی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ، وَلٰکِنَّ الْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غِنٰی کا تعلق زیادہ مال و دولت اور سازو سامان سے نہیں ہے، غنی تو نفس کا غنی ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9343

۔ (۹۳۴۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) مِثْلُہُ وَزَادَ: ((وَاللّٰہِ! مَا اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْفَقْرَ، وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ التَّکَاثُرَ، وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمْدَ (وَفِیْ لَفْظٍ) وَمَا اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْخَطَأَ وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمْدَ۔ (مسند احمد: ۱۰۹۷۱)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو کثرتِ مال کا ڈر ہے۔ ایک روایت میں ہے: مجھے تمہارے بارے میں بلا ارادہ غلطی کرنے کا ڈر نہیں ہے، جان بوجھ کر گناہ کرنے کا ڈر ہے۔

آیت نمبر