MUSNAD AHMED

Search Results(1)

158)

158) مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9344

۔ (۹۳۴۴)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا َرسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ النَّاسِ اَشَدُّ بَـلَائً؟ قَالَ: ((اَلاَنْبِیَائُ، ثُمَّ الصَّالِحُوْنَ، ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ، یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی حَسْبِ دِیْنِہِ، فَاِنْ کَانِ فِیْ دِیْنِہِ صَلَابَۃٌ زِیْدَ فِیْ بَلائِہِ، وَاِنْ فِیْ دِیْنِہِ رِقَّۃٌ خُفِّفَ عَنْہُ، وَمَا یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْعَبْدِ حَتّٰییَمْشِیْ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ لَیْسَ عَلَیْہِ خَطِیْئَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۱)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگوں کی آزمائش سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام اور پھر دوسرے نیکوکار، اور پھر وہ جو دوسروں سے افضل اور بہتر ہو، دراصل آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس اگر اس کے دین میں سختی اور پابندی ہو گی تو اس کی آزمائش بھی سخت ہو جائے گی اور اگر اس کے دین میں نرمی اور سستی ہو گی تو اس کی آزمائش میں بھی ہلکا پن آجائے گا اور ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک بندہ آزمائشوں میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ روئے زمینپر چل رہا ہوتا ہے اور اس کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9345

۔ (۹۳۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَزَالُ الْبَلَائُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَۃِ، فِیْ جَسَدِہِِ، وَفِیْ مَالِہِ، وَفِیْ وَالِدِہِ، حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ وَمَاعَلَیْہِ خَطِیْئَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۷۸۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن مرد و زن کے جسم، مال اور والدین میں آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے تو اس کا کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9346

۔ (۹۳۴۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ، لَا تَزَالُ الرِّیْحُ تَمِیْلُہُ، وَلایَزَالُ الْمُؤْمِنُ یُصِیْبُہُ الْبَلائُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ کَشَجَرَۃِ الْاَرْزِ، لاتَھْتَزُّ حَتّٰی تُحْصَدَ۔)) (مسند احمد: ۷۱۹۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس کھیتی کی طرح ہے، جس کو ہوا کبھی اِدھر جھکاتی ہے اور کبھی اُدھر، یہ حدیث سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9347

۔ (۹۳۴۷)۔ ( وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤُمِنِ مَثَلُ خَامَۃِ الزَّرْعِ مِنْ حَیْثُ انْتَھَی الرِّیْحُ کَفَتْھَا، فَاِذَا سَکَنَتِ اعْتَدَلَتْ وَکَذٰلِکَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ یَتَکَفَّاُ بِالْبَلائِ، وَمَثَلُ الْکِافِرِ کَمَثَلِ الْاَرْزَۃِ، صَمَّائُ مُعْتَدِلَۃٌیَقْصِمُھَا اللّٰہُ اِذَا شَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۸۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ابتدائی نرم کھیتی کی مانند ہے، جب اس تک ہوا پہنچتی ہے تو وہ جھک جاتی ہے اور جب ہوا تھم جاتی ہے تو وہ سیدھی ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح مؤمن کی مثال ہے، جو آزمائشوں کی وجہ سے ہچکولے کھاتا رہتا ہے، اور منافق کی مثال صنوبر کے اس درخت کی طرح ہے، جو ٹھوس اور سخت ہونے کی وجہ سے ایک حالت پر برقرار رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9348

۔ (۹۳۴۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖخَیْرًایُصِیْبُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۳۴)
۔ سیدنا ابو ہریر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو آمائشوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9349

۔ (۹۳۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: وَضَعَ رَجُلٌ یَدَہُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اُطِیْقُ اَنْ اَضَعَ یَدِیْ عَلَیْکَ مِنْ شِدَّۃِ حُمَّاکَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّا مَعْشَرُ الْاَنْبِیَائِیُضَاعَفُ لَنَا الْبَلائُ کُمَایُضَاعَفُ لَنَا الْاَجْرُ، اِنْ کَانَ النَّبِیُ مِنَ الاَنْبِیَائِیُبْتَلٰی بِالْقُمَّلِ حَتّٰییَقْتُلَہُ، وَاِنْ کَانَ النَّبِیُّ مِنَ الْاَنْبِیَائِ لَیُبْتَلٰی بِالْفَقْرِ حَتّٰییَاْخُذَ الْعَبَائَ ۃَ فَیَجَوْبَھَا، وَاِنْ کَانُوْا لَیَفْرَحُوْنَ بِالْبَلاَئِ کَمَا تَفْرَحُوْنَ بِالرَّخَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۱۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنا ہاتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر رکھا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ کا بخار اس قدر تیز ہے کہ میں آپ پر ہاتھ رکھنے کی طاقت نہیں پاتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء کی جماعت ہیں، جیسے ہمارے لیے اجر و ثواب کو بڑھا دیا جاتا ہے، اس طرح ہمارے لیے آزمائشوں کو سخت کر دیتا ہے، انبیاء میں ایک ایسا نبی بھی تھا کہ اس کو جوؤں سے اس طرح آزمایا گیا کہ قریب تھا کہ وہ اس کو قتل کر دیں، ایسے نبی بھی تھے کہ جن کو فقر و فاقہ کے ذریعے اس طرح آزمایا گیا کہ وہ چوغہ لے کر اس کو کاٹتے تھے، اور وہ انبیاء آزمائشوں کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتے تھے، جیسے تم خوشحالی کی وجہ سے خوش ہوتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9350

۔ (۹۳۵۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ اُوْذِیْتُ فِی اللّٰہِ تَعَالٰی وَمَایُؤْذٰی اَحَدٌ، وَاُخِفْتُ فِی اللّٰہِ وَمَا یُخَافُ اَحَدٌ، وَلَقَدْ اَتَتْ عَلَیَّ ثَلَاثَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثَلَاثُوْنَ) مِنْ بَیْنِیَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ وَمَالِیْ وَلِعَیَالِیْ طَعَامٌ یَّاْکُلُہُ ذُوْ کَبِدٍ اِلاَّ مَایُوَارِیْ اِبِطُ بِلَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۳۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ کی وجہ سے تکلیف دی گئی اور اتنی تکلیف کسی کو نہیں دی گئی اور مجھے اللہ تعالیٰ کے بہ سبب ڈرایا گیا اور اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسے تین دن بھی آئے کہ پورا دن اور رات گزر جاتے تھے، جبکہ میرے اور میرے اہل و عیال کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی تھی، جس کو جاندار کھا سکے، ما سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپا کر لاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9351

۔ (۹۳۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ حُذَیْفَۃَ، عَنْ عَمَّتِہِ فَاطِمَۃَ، اَنَّھَا قَالَتْ: اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ نَعُوْدُہُ فِیْ نِسَائٍ، فَاِذَا سِقَائٌ مَعَلَّقٌ نَحْوَہُ یَقْطُرُ ماَؤُہُ عَلَیْہِ مِنْ شِدَّۃِ مَا یَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمّٰی، قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، لَوْ دَعَوْتَ اللّٰہَ فَشَفَاکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَشَدِّ النَّاسِ بَلائً الْاَنْبِیَائُ، ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۱۹)
۔ ابو عبیدہ اپنی پھوپھی سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں میں تشریف رکھتے تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا اور اس کا پانی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ٹپک رہا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بخار کی گرمی کی شدت محسوس ہو رہی تھی، بہرحال ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور وہ آپ کو شفا دے دیتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش والے انبیاء ہوتے ہیں، پھر وہ لوگ جو (نیکی اور تقویمیں) ان سے کم ہوتے ہیں، اور پھر وہ لوگ جو اُن سے کم ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9352

۔ (۹۳۵۲)۔ عَنْ صُھَیْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَجِبْتُ مِنْ اَمْرِ الْمُؤُمِنِ، اِنَّ اَمْرَ الْمُؤْمِنِ کُلَّہُ لَہُ خَیْرٌ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّائُ فَشَکَرَ کَانَ ذٰلِکَ لَہُ خَیْرًا، وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّائُ فَصَبَرَ کَانَ ذٰلِکَ لَہُ خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۴۲)
۔ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے مؤمن کے معاملے پر تعجب ہے، بیشک اس کا سارے کا سارا معاملہ خیر پر مشتمل ہے اور یہ چیز صرف اور صرف مؤمن کو حاصل ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب اس کو خوشی ملتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو اس میں بھی اس کی بہتری ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9353

۔ (۹۳۵۳)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ بْنِ اَبِیْ وَقَاصٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَجِبْتُ مِنْ قَضَائِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِ، اِنْ اَصَابَہُ خَیْرٌ حَمِدَ رَبَّہُ وَشَکَرَ، وَاِنْ اَصَابَتْہٗمُصِیْبَۃٌ حَمِدَ رَبَّہٗ،وَصَبَرَ، الْمُؤْمِنُ یُؤْجَرُ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ حَتّٰی الْلُقْمَۃِیَرْفَعُھَا اِلٰی فِیْ اِمْرَاَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مؤمن کے لیے ایک فیصلہ کیا ہے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہے، اگر اس کو کوئی خیر پہنچتی ہے تو وہ اپنے ربّ کی تعریف کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ اپنے ربّ کی تعریف کرتا ہے اور صبر کرتا ہے، مؤمن کو ہر چیز میں اجر ملتا ہے، یہاں تک کہ اس لقمے میں بھی، جو وہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9354

۔ (۹۳۵۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شَیْبَۃَ، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَرَقَہُ وَجَعٌ، فَجَعَلَ یَشْتَکِیْیَتَقَلَّبُ عَلٰی فِرَاشِہِ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَوْصَنَعَ ھٰذَا بَعْضُنَا لَوَجَدَتَّ عَلَیْہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الصَّالِحِیْنَیُشَدَّدُ عَلَیْھِمْ، وَاِنَّہُ لا یُصِیْبُ مُؤْمِنًا نَکْبَۃٌ مِنْ شَوْکَۃٍ فَمَا فَوْقَ ذٰلِکَ اِلاَّ حُطَّتْ عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ وَرُفِعَ بِھَا دَرَجَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۷۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تکلیف ہونے لگی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شکایت کرنے لگے اور اپنے بستر پر الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، میں (عائشہ) نے کہا: اگر ہم میں سے کوئی فرد اس طرح کرتا تو آپ نے اس کی بات تو محسوس کرنی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک نیکوکاروں پر تکلیف سخت ہوتی ہے، اور صورتحال یہ ہے کہ مؤمن کو جو تکلیف بھی لاحق ہوتی ہے، وہ کانٹا ہو یا اس سے کوئی بڑی چیز، اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9355

۔ (۹۳۵۵)۔ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِذَا اَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَلَاھُمْ، فَمَنْ صَبَرَ فَلَہُ الصَّبْرُ، وَمَنْ جَزِعَ فَلَہُ الْجَزْعُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۴۱)
۔ سیدنا محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو آزماتا ہے، پس جو صبر کرنا چاہے گا تو اس کے لیے صبر ہو گا اور جو بے صبرا بنے گا، اس کے لیے بے صبری ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9356

۔ (۹۳۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ، اَنَّ رَجُلا لَقِیَ امْرَاَۃً کَانَتْ بَغِیًّا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَجَعَلَ یُلاعِبُھَا، حَتّٰی بَسَطَ یَدَہُ اِلَیْھَا، فَقَالَتِ الْمَرْاَۃُ: مَہْ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ ذَھَبَ بِالشِّرْکِ، (وَقَالَ: عَفَّانُ مَرَّۃً) ذَھَبَ بِالْجَاھِلِیَّۃِ وَجَائَ نَا بِالْاِسْلَامِ، فَوَلَّی الرَّجُلُ، فَاَصَابَ وَجْھَہُ الْحَائِطُ فَشَجَّہُ، ثُمَّ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَہُ، فَقَالَ: ((اَنْتَ عَبْدٌ اَرَادَ اللّٰہُ لَکَ خَیْرًا، اِذَا اَرَادََ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِعَبْدٍ خَیْرًا عَجِلَ لَہُ عُقُوْبَۃَ ذَنْبِہٖ،وَاِذَااَرَادَبِعَبِدٍشَرًّااَمْسَکَعَلَیْہِ بِذَنْبِہٖحَتّٰییُوَفَّی بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّہُ عَیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، ایک ایسی خاتون کو ملا، جو جاہلیت میں زانیہ رہ چکی تھی، وہ اس سے اٹھ کھیلیاں کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ اس کو لگا دیا، اس پر اس عورت نے کہا: رک جا، بیشک اللہ تعالیٰ شرک اور جاہلیت کو لے گیا ہے اور ہمارے پاس اسلام کو لے آیا ہے، پس وہ آدمی چلا گیا اور واپسی پر اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور زخمی ہو گیا، پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا واقعہ بتلا دیا، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کے گناہ کی سزا دینے میںجلدی کرتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ شرّ کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے اس کے گناہ کی سزا روک لیتا ہے، یہاں تک کہ روزِ قیامت اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، گویا کہ وہ عِیر پہاڑ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9357

۔ (۹۳۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَثَرَتْ ذُنُوْبُ الْعَبْدِ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ مَا یُکَفِّرُھَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِیُکَفِّرَھَا عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۵۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ اس کے پاس اس قدر اعمال نہیں ہوتے کہ جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو غموں کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ ان کے ذریعے اس کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9358

۔ (۹۳۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، وَاَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلا نَصَبٍ، وَلا ھَمٍّ وَلا حُزْنٍ، وَلا اَذَیً ولا غَمٍّ، حَتّٰی الشَوْکَۃِیُشَاکُھَا، اِلاَّ کَفَّرَ اللّٰہُ مِنْ خَطَایَاہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن کو جس درد و تکلیف، تعب و تکان، رنج و غم اور ملال و نقصان میں مبتلا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا ، جو اس کو چبھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ اس کی خطائیں معاف کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9359

۔ (۹۳۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یُشَاکُ بِشَوْکَۃٍ فِیْ الدُّنْیَایَحْتَسِبُھَا اِلاَّ قُصِّرَ بِھَا مِنْ خَطَایَاہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مؤمن کو دنیا میں کوئی کانٹا چبھتا ہے اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس وجہ سے قیامت کے دن اس کی خطائیں کم کی جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9360

۔ (۹۳۶۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعَیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ لا یُصِیْبُہُ وَصَبٌ، وَلا نَصَبٌ، وَلا حُزْنٌ، وَلا سَقَمٌ، ولا اَذًی، حَتَّی الْھَمُّ یُھِمُّہُ، اِلاَّ یُکَفِّرُ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ سَیِّاٰتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۲۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن کو تکان، تھکاوٹ، غم، بیماری، تکلیفیا پریشان کر دینے والا کوئی غم لاحق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان آزمائشوں کو اس کی برائیوں کا کفارہ بناتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9361

۔ (۹۳۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا اَحَدَ اَصْبَرُ عَلٰی اَذًییَسْمَعُہُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، اِنَّہُ یُشْرِکُ بِہٖوَیَجْعَلُ لَہُ الْوَلَدَ، وَھُوَ یُعَافِیْھِمْ وَیَدْفَعُ عَنْھُمْ وَیَرْزُقُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۶۶)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی نہیں ہے، جو سنی ہوئی تکلیف پر اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت زیادہ صبر کرنے والا ہو، بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اور اس کے لیے اولاد کر دعویٰ کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی ان کو عافیت دیتا ہے، ان کا دفاع کرتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9362

۔ (۹۳۶۲)۔ عَنْ خَبَّابٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَۃً لَّہُ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، اُدْعُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَنَا وَاسْتَنْصِرْہُ، قَالَ: فَاحْمَّرَ لَوْنُہُ، اَوْ تَغَیَّرَ فَقَالَ: ((لَقَدْ کَانَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ حُفْرَۃٌ وَیُجَائَ بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَاْسِہِ فَیُشَقُّ مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَیُمْشَطُ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ عَظْمٍ مِنْ لَّحْمٍ، اَوْ عَصْبٍ، مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَلَیُتِمَّنَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ اللّٰہُ وَتَعَالٰی ھٰذَا الْاَمْرَ حَتّٰییَسِیْرَ الرَّاکِبُ مَا بَیْنَ صَنْعَائَ اِلٰی حَضْرَمَوْتَ لا یَخْشٰی اِلاَّ اللّٰہَ تَعَالٰی وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ، وَلٰکِنَّکُمْ تَعْجَلُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۷۱)
۔ سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ سرخ ہو گیایا تبدیل ہو گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کے لیے گڑھا کھودا گیا، پھر آری لائی گئی اور ان کے سروں پر رکھ کر ان کو چیر دیا گیا، لیکنیہ تکلیف بھی ان کو دین سے باز نہ رکھ سکی اور لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں اور پٹھوں سے گوشت نوچ لیا گیا، لیکنیہ چیز بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، اور ضرور ضرور اللہ تعالیٰ اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے یمن تک سفر کرے گا، لیکن اس کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو گا، یا اپنی بکریوں پر بھیڑئیے کا ڈر ہو گا، لیکن تم جلد بازی کر رہے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9363

۔ (۹۳۶۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، کَانَتْ تَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُصِیْبَۃٍیُّصَابُ بِھَا الْمُسْلِمُ اِلَّا کُفِّرَ بِھَا عَنْہُ، حَتَّی الشَّوْکَۃِیُشَاکُھَا۔))(مسند احمد: ۲۵۳۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کو جو مصیبت بھی لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بناتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا جو اس کو چبھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9364

۔ (۹۳۶۴)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُشَاکُ بِشَوْکَۃٍ فَمَا فَوْقَھُا، اِلَّا حَطَّتْ مِنْ خَطِیْئَتِہِ۔))(مسند احمد: ۲۴۶۱۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی مسلمان جس کو کانٹا چبھے یا اس سے بڑی تکلیف پہنچے، مگر اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9365

۔ (۹۳۶۵)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ مِثْلُہُ وَفِیْہِ ((اِلَّا کُتِبَ لَہُ بِھَا دَرَجَۃٌ، وَکُفِّرَ عَنْہُ بِھَا خَطِیْئَۃٌ۔))(مسند احمد: ۲۴۶۵۸)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: مگر اس کے لیے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9366

۔ (۹۳۶۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلَتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُوْعَکُ، فَسَمِعْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، اِنَّکَ لَتُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا؟ قَالَ: ((اَجَلْ اِنِّیْ اُوَعَکُ کَمَا یُوْعَکُ رَجْلَانِ مِنْکُمْ،۔)) قُلْتُ: اِنَّ لَکَ اَجْرَیْنِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِھِ، مَا عَلَی الْاَرْضِ مُسْلِمٌ یُصِیْبُہُ اَذًی، مِنْ مَرْضٍ فَمَا سِوَاہُ، اِلَّا حَطَّ اللّٰہُ عَنْہُ بِہٖخَطَایَاہُ، کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرُ وَرَقَھَا۔)) (مسند احمد: ۳۶۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بخار تھا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ کو بہت سخت بخار ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: جی، بیشک مجھے اتنا بخار ہوتا ہے، جتنا تم میں سے دو افراد کو ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کے لیے اجر بھی دو گنا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! روئے زمین پر رہنے والے جس مسلمان کو جو تکلیف لاحق ہوتی ہے، وہ بیماری ہو یا کوئی اور تکلیف، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو یوں مٹاتا ہے، جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9367

۔ (۹۳۶۷)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ جَدِّہِ اَسَدِ بْنِ کُرْزٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْمَرِیْضُ تَحَاتُّ خَطَایَاہُ کَمَا یَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۷۱)
۔ سیدنا اسد بن کرز ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مریض کی خطائیں اس طرح گرتی ہیں، جیسے درخت کے پتے گرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9368

۔ (۹۳۶۸)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ شَیْئٍیُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ فِیْ جَسَدِہِ یُؤْذِیْہِ اِلاَّ کَفَّرَ اللّٰہُ بِہٖمِنْسَیِّاٰتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۲۳)
۔ سیدہ معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چیز مؤمن کے جسم کو تکلیف پہنچاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9369

۔ (۹۳۶۹)۔ عَنْ اَبِی الْاَشْعَثِ الصَّنْعَانِیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّہُ رَاحَ اِلٰی مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَھَجَّرَ بِالرَّوَاحِ، فَلَقِیَ شَدَّادَ بْنَ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَالصُّنَابِحِیُّ مَعَہُ، فَقُلْتُ: اَیْنَ تُرِیْدَانِیَرْحَمُکُمَااللّٰہُ؟ قَالا: نُرِیْدُ ھَاھُنَا اِلٰی اَخٍ لَّنَا مَرِیْضٍ نَعُوْدُہُ، فَانْطَلَقْتُ مَعَھُمَا حَتّٰی دَخَلا عَلٰی ذٰلِکَ الرَّجُلِ فَقَالا لَہُ: کَیْفَ اَصْبَحْتَ؟ قَالَ: اَصْبَحْتُ بِنِعْمَۃٍ، فَقَالَ لَہُ شَدَّادُ: اَبْشِرْ بِکَفَّارَاتِ السَّیِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَایَا، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: اِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِیْ مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِیْ عَلٰی مَا ابْتَلَیْتُہُ فَاِنَّہُ یَقُوْمُ مِنْ مَّضْجَعِہِ ذٰلِکَ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ مِنَ الْخَطَایَا وَیَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا قَیَّدْتُّ عَبْدِیْ وَابْتَلَیْتُہُ وَاَجْرُوْا لَہُ کَمَا کُنْتُمْ تُجْرُوْنَ لَہُ وَھُوَ صَحِیْحٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۴۸)
۔ ابو اشعث صنعانی کہتے ہیں: میں پہلے وقت میںیا دوپہر کے وقت مسجد ِ دمشق کی طرف جا رہا تھا، سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، جبکہ سیدنا صنابحی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے ساتھ تھے، میں نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہم اِدھر ایک بیماربھائی کی تیمار داری کرنے کے لیے جا رہے ہیں، پس میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ وہ اس بھائی کے پاس پہنچ گئے اور کہا: آپ نے کیسے صبح کی ہے؟ اس نے کہا: جی نعمت کے ساتھ صبح کی ہے، پھر سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: برائیوں کے معاف ہونے اور گناہوں کے مٹ جانے کے ساتھ خوش ہو جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں اپنے کسی مؤمن بندے کو آزماتا ہوں اور وہ میری اس آزمائش پر تعریف کرتا ہے تو وہ اس دن کی طرح خطاؤں سے پاک ہو کر اپنے بستر سے کھڑا ہوتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا، پھر اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہیں: میں نے اپنے بندے کو مقید کر دیا ہے اور اس کو آزمایا ہے، لہٰذا فرشتو! تم اس کے وہ سارے اعمال لکھتے رہو، جو تم اس وقت لکھتے تھے، جب وہ صحت مند تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9370

۔ (۹۳۷۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: مَارَاَیْتُ الْوَجْعَ عَلٰی اَحَدٍ اَشَّدَ مِنْہُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۱۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ہی سب سے سخت تکلیف کو دیکھا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9371

۔ (۹۳۷۱)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ خَاِلدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، وَکَانَ لِجَدِّہِ صُحْبَۃٌ، اِنَّہُ خَرَجَ زَائِرًا لِرَجُلٍ مِّنْ اِخْوَانِہِ، فَبَلَغَہُ بِشَکَائِہِ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْہِ فَقَالَ: اَتَیْتُکَ زَائِرًا، عَائِدًا، وَمُبَشِّرًا، قَالَ: کَیْفَ جَمَعْتَ ھٰذَا کُلَّہُ؟ قَالَ: خَرَجْتُ وَاَنَا اُرِیْدُ زِیَارَتَکَ، فَبَلَغَنِیْ شَکَاتُکَ، فَکَانَتْ عِیَاَدَۃً، وَاُبَشِّرُکَ بِشَیْئٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا سَبَقَتْ لِلْعَبْدِ مِنَ اللّٰہِ مَنْزِلَۃٌ لَمْ یَبْلُغْھَابِعَمَلِہِ اِبْتَلاہُ اللّٰہُ فِیْ جَسَدِہِ، اَوْ فِیْ مَالِہِ، اَوْ فِیْ وَلَدِہِ ثُمَّ صَبَّرَہُ،حَتّٰییُبْلِغَہُ الْمَنْزِلَۃَ الَّتِیْ سَبَقَتْ لَہْ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۴)
۔ محمد بن خالد اپنے دادا، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: وہ اپنے ایک بھائی کی زیارت کے لیے نکلے، پھر ان کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ وہ بیمار بھی ہے، پس وہ اس کے پاس گے اور کہا: میں تمہاری زیارت کرنے، تیمار داری کرنے اور تمہیں خوشخبری سنانے کے لیے آیا ہوں، انھوں نے کہا: یہ ساری چیزیں کیسے جمع کر دیں؟ میں نے کہا: میں تمہاری زیارت کے لیے نکلا تھا، پھر مجھے تمہاری بیماری کی خبر بھی مل گئی، اس طرح یہ آنا تیمار داری کا سبب بھی بن گیا اور میں تمہیں اس حدیث کے ذریعے خوشخبری سناتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی منزلت اور درجے کا فیصلہ ہو جاتا ہے، جس تک بندہ اپنے عمل کی بنا پر نہیں پہنچ سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے جسم یا مال یا اولاد کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کو صبر کی توفیق بھی دیتا ہے، یہاں تک اس کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے، جس کا اس کے ہاں فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9372

۔ (۹۳۷۲)۔ حَدَّثَنَا یَحْيٰ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اِسْحٰقَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ زَیْنَبُ ابْنَۃُ کَعْبِ بْنِ عُجَرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَرَاَیْتَ ھٰذِہِ الْاَمْرَاضَ الَّتِیْ تُصِیْبُنَا مَالَنَا بِھَا؟ قَالَ: ((کَفَّارَاتٌ۔)) قَالَ اَبِیْ: وَاِنْ قَلَّتْ؟ قَالَ: ((وَاِنْ شَوْکَۃً فَمَا فَوْقَھَا۔)) قَالَ: فَدَعَا اَبِیْ عَلٰی نَفْسِہِ اَنْ لَّا یُفَارِقَہُ الْوَعْکُ حَتّٰییَمُوْتَ فِیْ اَنْ لَّا یَشْغَلَہُ عَنْ حَجٍّ، وَلَا عُمْرَۃٍ، وَلا جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّّٰہِ، وَلَا صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَمَا مَسَّہُ اِنْسَانٌ اِلَّا وَجَدَ حَرَّہُ حَتّٰی مَاتَ۔(مسند احمد: ۱۱۲۰۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9373

۔ (۹۳۷۳)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَتٰی عَھْدُکَ بِاُمِّ مِلْدَمٍ وَھُوَ حَرٌّ بَیْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ؟ قَالَ: اِنَّ ذٰلِکَ لَوَجَعٌ مَااَصَابَنِیْ قَطُّ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَۃِ تَحْمَرُّ مَرَّۃً، وَتَصْفَرُّ اُخْرٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۶)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے بخار ہوئے کتنا عرصہ ہو چکا ہے؟ یہ جلد اور گوشت کے درمیان حرارت کی زیادتی ہوتی ہے، اس نے کہا: یہ ایسی تکلیف ہے کہ میں کبھی بھی اس میں مبتلا نہیں ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس نرم و نازک، تروتازہ کھیتی کی مانند ہے جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9374

۔ (۹۳۷۴)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ، اَنَّہُ اَتَاہُ عَائِدًا، فَقَالَ اَبُوْالدَّرْدَائِ لِاَبِیْ بَعْدَ اَنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ بِالصِّحَۃِ لا بِالْوَجْعِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ یَقُوْلُ ذٰلِکَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَایَزَالُ الْمَرْئُ الْمُسْلِمُ بِہٖالْمَلِیْلَۃُ وَالصُّدَاعُ، وَاِنَّ عَلَیْہِ مِنَ الْخَطَایَا لَاَعْظَمَ مِنْ اُحُدٍ حَتّٰییَتْرُکَہُ وَمَا عَلَیْہِ مِنَ الْخَطَایَا مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۹)
۔ معاذ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے آئے اور جب انھوں نے ان کو سلام کہا تو انھوں نے کہا: صحت کے ساتھ رہو، نہ کہ بیماری کے ساتھ، تین بار یہ دعا کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: مسلمان بخار اور سردردی جیسے بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے، جبکہ اس پر احد پہاڑ سے بڑے بڑے گناہ ہوتے ہیں، لیکن ان بیماریوں کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں کہ اس پر رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9375

۔ (۹۳۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحُمّٰی مِنْ کَیْرِ جَھَنَّمَ، فَمَا اَصَابَ الْمُؤُمِنَ مِنْھَا کَانَ حَظَّہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۱۸)
۔ سیدنا ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی دھونکنی ہے،جو مؤمن بھی بیمار ہو گا، یہ اس کے حق میں جہنم والے حصے کے عوض میں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9376

۔ (۹۳۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ الْاَشْعَرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ عَادَ مَرِیْضًا وَمَعَہُ اَبُوْھُرَیْرَۃَ، مِنْ وَعْکٍ (اَیْ حُمّٰی) کَانَ بِہٖ،فَقَالَلَہُرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَبْشِرْ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: نَارِیْ اُسَلِّطُھَا عَلٰی عَبْدِیْ الْمُؤْمِنِ فِیْ الدُّنْیَا، لِتَکُوْنَ حَظَّہُ مِنَ النَّارِ فِی الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۷۴)
۔ سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مریض، جسے بخار تھا، کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (یہ بخار)میری آگ ہے، جسے میں اپنے بندۂ مؤمن پر دنیا میں مسلط کر دیتا ہوں تاکہ اس کی آخرت والی آگ کے عذاب کا بدل بن جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9377

۔ (۹۳۷۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اسْتَاْذَنَتِ الْحُمّٰی عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذِہِ؟)) فَقَالَتْ: اُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ: فَاَمَرَ بِھَا اِلٰی اَھْلِ قُبَائَ فَلَقُوْا مِنْھَا مَایَعْلَمُ اللّٰہُ، فَاَتَوْہُ فَشَکَوْا ذٰلِکَ اِلِیْہِ، فَقَالَ: ((مَاشِئْتُمْ؟ اِنْ شِئْتُمْ اَنْ اَدْعُوَ اللّٰہَ لَکُمْ فَیَکْشِفَھَا عَنْکُمْ، وَاِنْ شِئْتُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَکُمْ طَھُوْرًا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَ تَفْعَلُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالُوْا: فَدَعْھَا۔(مسند احمد: ۱۴۴۴۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بخارنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: ام ملدم ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اہل قبا کی طرف منتقل ہو جائے، پس وہ اتنی کثرت سے اس میں مبتلا ہو ئے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس مقدار کو بہتر جانتا ہے، وہ لوگ تو اس کی شکایت لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تاکہ وہ اس کو تم سے ہٹا دے تو ٹھیک ہے اور اگر تم چاہتے ہو کہیہ تمہارے حق میں پاک کرنے والا ٹھہرے (تو پھر اس کو اپنے پاس برقرار رہنے دو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ گناہوں سے پاک کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر اس کو رہنے دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9378

۔ (۹۳۷۸)۔ عَنْْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌،قَالَ: جَائَ تِ امْرَاَۃُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِھَا لَمَمٌ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّشْفِیَنِیْ، قَالَ: ((اِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللّٰہَ اَنْ یَّشْفِیَکِ، وَاِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِیْ وَ لَاحِسَابَ عَلَیْکِ۔)) قَالَتْ: بَلْ اَصْبِرُ وَ لاحِسَابَ عَلَیَّ۔ (مسند احمد: ۹۶۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، جو جنونی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے شفا عطا کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتی ہے کہ میرے تیری شفا کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تو ٹھیک ہے اور اگر تو چاہتی ہے کہ اس پر صبر کرے اور پھر اس کے عوض تجھ پر کوئی حساب ہی نہ ہو۔ اس نے کہا: جی ٹھیک ہے، میں صبر کروں گی اور اس کے عوض مجھ پر حساب نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9379

۔ (۹۳۷۹)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ اَبِیْ رَبَاحٍ، قَالَ: قَالَ لِیَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اَلَا اُرِیْکَ امْرَاَۃً مِّنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: ھٰذِہِ السَّودَائُ، اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: اِنِّیْ اُصْرَعُ، وَاَتَکَشَّفُ، فَادْعُ اللّٰہَ لِیْ قَالَ: ((اِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّۃُ، وَاِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللّٰہَ لَکِ اَنْ یُّعَافِیَکِ۔)) قَالَتْ: بَلٰی اَصْبِرُ فَادْعُ اللّٰہَ اَنْ لاَّ اَتَکَشَّفَ، اَوْلَا یَنْکَشِفَ عَنِّیْ، قَالَ: فَدَعَا لَھَا۔(مسند احمد: ۳۲۴۰)
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھے کہا: کیا میں تجھے جنتی خاتون دکھاؤں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: یہ سیاہ فام عورت ہے، یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: مجھے مرگی کا دورہ پڑ جاتا ہے اور اس وجہ سے میں ننگی بھی ہو جاتی ہوں، اس لیے آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتی ہے تو صبر کر لے اور تجھے جنت مل جائے گی اور اگر تو چاہتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے تیری عافیت کے لیے دعا کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: جی میں صبر کروں گی، لیکن آپ اللہ تعالیٰسےیہ دعا تو کر دیں کہ میں ننگا نہ ہو جایا کروں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے حق میں یہ دعا کر دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9380

۔ (۹۳۸۰)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ، قَالَ: اَصَابَنِیْ رَمَدٌ فَعَادَنِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَلَمَّا بَرَأْتُ خَرَجْتُ، قَالَ: فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرَاَیْتَ لَوْ کَانَتْ عَیْنَاکَ لِمَا بِھِمَا مَاکُنْتَ صَانِعًا؟)) قَالَ: قُلْتُ: لَوْ کَانَتَا عَیْنَایَ لِمَا بِھِمَا صَبَرْتُ وَاحْتَسَبْتُ، قَالَ: ((لَوْکَانَتْ عَیْنَاکَ لِمَا بِھِمَا ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَلَقِیْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَلَا ذَنْبَ لَکَ،۔)) قَالَ اِسْمَاعَیْلُ: ((ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ اِلَّا اَوْجَبَ اللّٰہُ تَعَالٰی لَکَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۶۳)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری آنکھ خراب ہو گئی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری تیمار داری کے لیے تشریف لائے، جب میں شفایاب ہوا اور باہر گیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر تیری آنکھوں کی بیماری برقرار رہتی تو تو کیا کرتا؟ میں نے کہا: اگر میری آنکھوں کی بیماری برقرار رہتی تو میں صبر کرتا اور ثواب کی نیت رکھتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بیماری کے برقرار رہنے کی صورت میں اگر تو صبر کرتا اور ثواب کی نیت رکھتا تو تو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملتا کہ تجھ پر کوئی گناہ نہ ہوتا۔ اسماعیل راوی کے الفاظ یہ ہیں: پھر تو صبر کرتا اور ثواب کا ارادہ رکھتا تو اللہ تعالیٰ تیرے لیے جنت کو واجب کر دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9381

۔ (۹۳۸۱)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَعُوْدُ زَیْدَ بْنَ اَرْقَمَ، وَھُوَ یَشْتَکِیْ عَیْنَیْہِ فَقَالَ لَہُ: ((یَا زَیْدُ! لَوْکَانَ بَصَرُکَ لِمَا بِہٖ؟)) فَذَکَرَمِثْلَہُ۔ (مسنداحمد: ۱۲۶۱۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا زید بن ارقم کی تیمار داری کے لیے گئے، ان کی آنکھ خراب تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زید! اگر تیری آنکھوں کی بیماری برقرار رہتی؟ … پھر مذکورہ بالا روایت کی طرح کے الفاظ نقل کیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9382

۔ (۹۳۸۲)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: مَنْ اَذْھَبْتُ کَرِیْمَتَیْہِ ثُمَّ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ کَانَ ثَوَابُہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۶۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں کسی کی دو آنکھوں کی بینائی سلب کر لیتا ہوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس کا اجرو ثواب جنت ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9383

۔ (۹۳۸۳)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا ابْنَ آدَمَ! ِاذَا اَخَذْتُ کَرَیْمَتَیْکَ فَصَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْاُوْلٰی لَمْ اَرْضَ لَکَ بِثَوَابٍ دُوْنَ الْجَنَّۃِّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۸۱)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! جب میں تجھ سے تیری دونوں آنکھیں سلب کر لیتا ہوں اور تو صدمے کی ابتداء میں ہی ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے، تو میں تیرے لیے اس کے ثواب کے طور پر جنت سے کم پر راضی نہیں ہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9384

۔ (۹۳۸۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ قُدَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَزِیْزٌ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَنْ یَاْخُذَ کَرِیْمَتَیْ مُسْلِمٍ ثُمَّ یُدْخِلُہُ النَّارَ۔)) قَالَ یُوْنُسُ: یَعْنِیْ عَیْنَیْہِ۔(مسند احمد: ۲۷۶۰۳)
۔ سیدہ عائشہ بنت قدامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان بندے کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے زیادہ ہے کہ وہ اس کی دو آنکھیں بھی سلب کر لے اور پھر آگ میں بھی داخل کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9385

۔ (۹۳۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، رَفَعَہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَنْ اَذْھَبْتُ عَیْنَیْہِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ، لَمْ اَرْضَ لَہُ بِثَوَابٍ دَوْنَ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں جس آدمی سے اس کی آنکھیں سلب کر لوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کے ثواب میں جنت سے کم پر راضی نہیں ہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9386

۔ (۹۳۸۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یُصَابُ بِبَلائٍ فِیْ جَسَدِہِ، اِلاَّ اَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْمَلائِکَۃَ الَّذِیْنَیَحْفَظُوْنَہُ، فَقَالَ: اکْتُبُوْا لِعَبْدِیْ کُلَّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ مَا کَانَ یَعْمَلُ مِنْ خَیْرٍ، مَا کَانَ فِیْ وِثَاقِیْ۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نگرانی کرنے والے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ دن رات میں جو نیک عمل کرتا تھا، تم اس وقت تک وہی عمل لکھتے رہو، جب تک یہ میری قید میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9387

۔ (۹۳۸۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا کَانَ عَلٰی طَرِیْقَۃٍ حَسَنَۃٍ مِنَ الْعِبَادَۃِ ثُمَّ مَرِضَ، قِیْلَ لِلْمَلَکِ الْمُوَکَّلِ بِہٖ: اکْتُبْلَہُمِثْلعَمَلِہِاِذَاکَانَطَلِیْقًا، حَتّٰی اُطْلِقَہُ، اَوْ اَکْفِتَہُ اِلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۶۸۹۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جب بندہ عبادت کے معاملے میں اچھے طریقے پر رواں ہوتا ہے اور پھر بیمار ہو جاتا ہے تو اس پر مقررہ فرشتے کو کہا جاتا ہے: تو اس کے وہی عمل لکھتا رہے جو یہ صحتمندی کی حالت میں کرتا تھا، یہاں تک کہ میں اس کو دوبارہ صحت عطا کر دوں یا پھر موت دے دوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9388

۔ (۹۳۸۸)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَیْسَ مِنْ عَمَلِ یَوْمٍ اِلاَّ وَھُوَ یُخْتَمُ عَلَیْہِ، فَاِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ: یَا رَبَّنَا! عَبْدُکَ فُـلَانٌ قَدْ حَبَسْتَہُ؟، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ: اخْتِمُوْا لَہُ عَلٰی مِثْلِ عَمَلِہِ حَتّٰییَبْرَاَ اَوْ یَمُوْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۴۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر دن کے عمل کو اسی دن پر ہی ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن جب مؤمن بیمار ہو جاتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے ربّ! تو نے اپنے فلاں بندے کو پابند کر دیا ہے، (اب اس کے عمل کا کیا جائے)؟ اللہ تعالیٰکہتا ہے: تم اس کے دن کو اس کے اسی عمل پر ختم کرتے رہو، جو یہ کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ شفایاب ہو یا جائے یا فوت ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9389

۔ (۹۳۸۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا ابْتَلَی اللّٰہُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَـلَائٍ فِیْ جَسَدِہِ قَالَ اللّٰہُ: اکْتُبْ لَہُ صَالِحَ عَمَلِہِ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُہُ، فَاِنْ شَفَاہُ غَسَلَہُ وَطَھَّرَہُ، وَاِنْ قَبَضَہُ غَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی مسلمان بندے کو اس کی جسمانی تکلیف کے ساتھ آزماتا ہے تو وہ فرشتے سے کہتا ہے: یہ آدمی جو نیک عمل کرتا تھا، تو اس کو لکھتا جا، اگر اس کو شفا دے دی تو وہ اس کو دھودے گا اور پاک کردے گا اور اگر اس کو وفات دے دی تو بخش دے گا اور رحم کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9390

۔ (۹۳۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْرَابِیٌّ اَعْجَبَہُ صِحَّتُہُ وَجَلَدُہُ، قَالَ: فَدَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَتیٰ اَحْسَسْتَ اُمَّ مِلْدَمٍ؟)) قَالَ: وَاُیُّ شَیْئٍ اُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ: ((اَلْحُمَّی۔)) قَالَ: وَاَیُّ شَیْئٍ الْحُمّٰی؟ قَالَ: ((سَخَنَۃٌ تَکُوْنُ بَیْنَ الْجِلْدِ وَالْعِظَامِ۔)) قَالَ: مَا بِذٰلِکَ لِیْ عَھْدٌ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: مَا وَجَدَتُّ ھٰذَا قَطُّ) قَالَ: ((فَمَتٰی اَحْسَسْتَ بِالصُّدَاعٍ؟)) قَالَ: وَاَیُّ شَیْئٍ الصُّدَاعُ؟ قَالَ: ((ضَرَبَانٌ یَکُوْنُ فِی الصُّدْغَیْنِ وَالرَّاْسِ۔)) قَالَ: مَالِیْ بِذٰلِکَ عَھْدٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: مَا وَجَدَتُّ ھٰذَا قَطُّ) قَالَ: فَلَمَّا قَفَّا اَوْ وَلّٰی الْاَعْرَاِبیُّ، قَالَ: ((مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلَیْہِ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: ((مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۸۷۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، اس کی صحت اور قوت نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تعجب میں ڈال دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تو نے اُمِّ مِلْدَم کو کب محسوس کیا ہے؟ اس نے کہا: اُم مِلْدَم کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار۔ اس نے کہا: جی بخار کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چمڑے اور ہڈیوں کے درمیان پیدا ہونے والی حرارت کو بخار کہتے ہیں۔ اس نے کہا: مجھے تو کبھی بھییہ محسوس نہیں ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پھر پوچھا: اچھا تو نے کبھی صُدَاع محسوس کیا ہے؟ اس نے کہا: صُدَاع کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کن پٹیوں اور سر کے درمیان درد ہوتی ہے۔ اس نے کہا: مجھے تو یہ بھی کبھی محسوس نہیں ہوا، جب وہ بدّو چلا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو یہ بات خوش کرے کہ وہ کسیجہنمی شخص کو دیکھے تو وہ اس کو دیکھ لے۔ ایک روایت میں ہے: جو آدمی آگ والوں میں سے کسی شخص کو دیکھنا پسند کرتا ہو، وہ اس کو دیکھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9391

۔ (۹۳۹۱)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اِمْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِِ! ابْنَۃٌ لِیْ کَذَا َوکَذَا، وَذَکَرَتْ مِنْ حُسْنِھَا وَجَمَالِھا، فَآثَرْتُکَ بِھَا، فَقَالَ: ((قَدْ قَبِلْتُھَا۔)) فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُھَا حَتّٰی ذَکَرَتْ اَنَّھَا لَمْ تَصْدَعْ، وَلَمْ تَشْتَکِ شَیْئًا قَطُّ، قَالَ: ((لا حَاجَۃَ لِیْ فِی ابْنَتِکِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۰۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری اس طرح کی بیٹی ہے، اس نے اپنی بیٹی کے حسن و جمال کا ذکر کیا، میں آپ کو اس کے لیے ترجیح دیتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو بطورِ بیوی قبول کر لیا ہے۔ پھر وہ اس کی مدح سرائی کرتی رہی،یہاں تک کہ یہ بھی کہہ دیا کہ اس کو کبھی سر درد نہیں ہوا، بلکہ وہ کبھی کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئی،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے تیری بیٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9392

۔ (۹۳۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَالِعَبْدِیْ الْمُؤْمِنِ عِنْدِیْ جَزَائٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِیَّہُ مِنْ اَھْلِ الدُّنْیَا، ثُمَّ احْتَسَبَہُ اِلاَّ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند احمد: ۹۳۸۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میں اپنے بندے کی پسندیدہ چیز لے لیتا ہوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس کو بطورِ عوض دینے کے لیے میرے پاس صرف جنت ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9393

۔ (۹۳۹۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَاتَ لَہُ ثَلاثَۃٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: مِنَ الْوَلَدِ) لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ لَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ، اِلَّا تَحِلَّۃَ الْقَسَمِ۔)) یَعْنِی الْوُرُوْدَ۔ (مسند احمد: ۷۷۰۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اس کو آگ نہیں چھوئے گی، سوائے قسم کے پورا کرنے کے۔ قسم کے پورا کرنے سے مراد وہاں سے گزرنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9394

۔ (۹۳۹۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: جَائَ نِسْوَۃٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْنَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا نَقْدِرُ عَلَیْکَ فِیْ مَجْلِسِکَ مِنَ الرِّجَالِ، فَوَاعِدْنَا مِنْکَ یَوْمًا نَاْتِیْکَ فِیْہِ، قَالَ: ((مَوْعِدُکُنَّ بَیْتُ فُـلَانٍ۔)) وَاَتَاھُنَّ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ، وَلِذٰلِکَ الْمَوْعِدِ، قَالَ: فَکاَنَ مِمَّا قَالَ لَھُنَّ، یَعْنِیْ: ((مَا مِنْ اِمْرَاَۃٍ تُقَدِّمُ ثَلاثًا مِنَ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُھُنَّ اِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّۃَ۔)) فَقَالَتِ امْرَاَۃٌ: اَوِ اثْنَانِ؟ قَالَ: ((اَوِ اثْنَانِ۔)) (مسند احمد: ۷۳۵۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ کچھ خواتین، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ مردوں کی مجلس میں تشریف رکھتے ہیں تو ہم آپ کے پاس نہیں آ سکتے، اس لیے آپ ہمارے لیے ایک دن کا تعین کر دیں، ہم اس میں آپ کے پاس آ جائیں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا وعدہ فلاں کا گھر ہے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وعدے کے مطابق اس گھر میں تشریف لے آئے اور خواتین کو جو باتیں ارشاد فرمائیں، ان میں یہ فرمان بھی تھا: جو عورت تین بچوں کو آگے بھیج دیتی ہے اور پھر ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔ ایک خاتون نے کہا: اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ د وہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9395

۔ (۹۳۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَفِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھُنَّ: ((مَا مِنْکُنَّ امْرَاَۃٌیَمُوْتُ لَھَا ثَلاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ اِلَّا کَانُوْا لَھَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ۔)) فَقَالَتِ امْرَاَۃٌ: الخ (مسند احمد: ۱۱۳۱۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم میں سے جس خاتون کے تین بچے فوت ہو جاتے ہیں تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔ پس ایک عورت نے کہا: …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9396

۔ (۹۳۹۶)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَاتَ لَہْ ثَلاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَھُمْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَا َرسُوْلَ اللّٰہِ! وَاثْنَانِ؟ قَالَ: ((اثْنَانِ۔)) قَالَ مَحْمُوْدٌ: فَقُلْتُ لِجَابِرٍ: اَرَاکُمْ لَوْ قُلْتُمْ: وَوَاحِدًا لَقَالَ: وَوَاحِدًا قَالَ: وَاَنَا وَاللّٰہِ! اَظُنُّ ذٰلِکَ ۔(مسند احمد: ۱۴۳۳۶)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ محمود راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میرا خیال ہے کہ اگر تم ایک بچے کے بارے میں سوال کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرما دینا تھا کہ اگرچہ ایک بھی ہو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان بھییہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9397

۔ (۹۳۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌،قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ لَھُمَا ثَـلَاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ، لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ، اِلاَّ کَانُوْا لَہُ حِصْنًا حَصِیْنًا مِنَ النَّارِ۔)) فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ؟ قَالَ: ((وَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ۔))، فَقَالَ اَبُوْذَرٍّ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ اُقَدِّمْ اِلاَّ اثْنَیْنِ؟ قَالَ: ((وَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ۔)) قَالَ: فَقَالَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ اَبُوْ الْمُنْذِرِ سَیِّدُ الْقُرَّائِ: لَمْ اُقَدِّمْ اِلاَّ وَاحِدًا؟ قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ: وَاِنْ کَانَ وَاحِدًا، فَقَالَ: ((اِنَّمَا ذَاکَ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْاُوْلٰی۔)) (مسند احمد: ۳۵۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو وہ ان کے لیے جہنم سے مضبوط قلعہ ہوں گے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو صرف دو ہی بھیجے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سید القراء ابو المنذر سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا تو صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ ان کوجواباً کہا گیا: اگرچہ ایک بچہ ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اجر صرف اس وقت ملتا ہے، جب صدمہ کے شروع میں صبر کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9398

۔ (۹۳۹۸)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غَیَاثِ بْنِ طَلْقٍ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّخْعِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَازُرْعَۃَ،یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ امْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِصَبِیٍّ لَھَا فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ لَہُ، فَقَدْ دَفَنْتُ ثَـلَاثَۃً، فَقَالَ: ((لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِیْدٍ مِّنَ النَّارِ۔)) قَالَ حَفْصٌ: سَمِعْتُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ مِنْ سِتِّیْنَ سَنَۃً وَلَمْ اَبْلُغْ عَشَرَ سِنِیْنَ، وَسَمِعْتُ حَفْصًا یَذْکُرُ ھٰذَا الْکَلامَ سَنَۃَ سَبْعٍ وَثَمَانِیْنَ وَمِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۹۴۲۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنا بچہ لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دو، پہلے تین بچوں کو دفن کر چکی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو تو پھر آگ سے بڑی زبردست رکاوٹ بنا چکی ہے۔ حفص راوی کہتے ہیں: ساٹھ سال ہو گئے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ِ مبارکہ سنی تھی، جبکہ اس وقت میری عمر دس برس بھی نہیں تھی۔ علی بن عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میں نے ۲۸۷؁ھـمیں حفص کو یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9399

۔ (۹۳۹۹)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا امْرَاَۃٌ کَانَتْ تَاْتِیْنَایُقَالُ لَھَا: مَاوِیَّۃُ کَانَتْ تُرْزَأُ فِیْ وَلَدِھَا، فَاَتَتْ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنِ مَعْمَرٍ الْقُرَشِیَّ وَمَعَہُ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ، اِنَّ امْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنٍ لَھَا فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، ادْعُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنْ یُبْقِیَہُُ لِیْ، فَقَدْ مَاتَ لِیْ قَبْلَہُ ثَـلَاثَۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمُنْذُ اَسْلَمْتِ؟)) فَقَالَتْ: نَعَمْْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جُنَّۃٌ حَصِیْنَۃٌ۔))، قَالَتْ مَاوِیَّۃُ: قَالَ لِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مَعْمَرٍ: اِسْمَعِیْیَامَاوِیَّۃُ! قَالَ مُحَمَّدٌ (یَعْنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ سِیْرِیْنَ): فَخَرَجْتْ(مَاوِیَّۃُ) مِنْ عِنْدَ ابْنِ مَعْمَرٍ فَاَتَتْنَا، فَحَدَّثَتْنَا ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۴)
۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: ہمارے پاس ماویہ نامی ایک خاتون آتی تھی، اس کے بچے فوت ہو جاتے تھے، وہ عبید اللہ بن معمر قریشی کے پاس گئی، جبکہ ان کے پاس ایک صحابی ٔ رسول بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس صحابی نے بیان کیا کہ ایک خاتون اپنا ایک بیٹا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور اس نے کہا:
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9400

۔ (۹۴۰۰)۔ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ، عَنِ امْرَاَۃٍیُقَالُ لَھَا: رَجَائُ، قَالَتْ: کُنْتُ عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ جَائَ تْہُ امْرَاَۃٌ بِاِبْنٍ لَھَا فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ لِیْ فِیْہِ بِالْبَرَکَۃِ، فَاِنَّہُ قَدْ تُوُفِّیَ لِیْ ثَلاثَۃٌ فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمُنْذُ اَسْلَمْتًِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جُنَّۃٌ حَصِیْنَۃٌ۔)) فَقَالَ لِیْ رَجُلٌ: اِسْمَعِیْیَارَجَائُ! مَایَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۳)
۔ اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں کہ وہ اس کو زندہ رکھے، اس سے پہلے میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب سے اسلام قبول کیا، اس وقت سے تین بچے فوت ہوئے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو (آگ سے بچنے کا) بڑا مستحکم ذریعۂ حفاظت ہے۔ ماویہ کہتی ہیں: مجھے عبیداللہ بن معمر نے کہا: اے ماویۃ بات اچھی طرح سن (اور اس پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام لے اور اللہ سے ڈرتی رہ) محمد بن سیرین کہتے ہیں: یہ عورت (ماویہ) ابن معمر کے پاس سے نکلی اور ہمارے پاس آئی اور ہمیں یہ حدیث بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9401

۔ (۹۴۰۱)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ السَّلَمِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَتَوَفّٰی لَہُ ثَلَاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ اِلَّا تَلَقَّوْہُ مِنْ اَبْوَابِ
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان آدمی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے ملیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9402

۔ (۹۴۰۲)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ عَبْسَۃَ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ قَدَّمَ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ صُلْبِہٖثَـلَاثَۃً لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ، اَوِ امْرَاۃٍ، فَھُمْ لَہُ سُتْرَۃٌ مِنَ النَّارِ۔))(مسند احمد: ۱۹۶۶۶)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان مرد یا عورت نے اپنی نسل سے تین نابالغ بچے اللہ تعالیٰ کے لیے آگے بھیج دیئے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9403

۔ (۹۴۰۳)۔ وَعَنْ اُمِّ سُلَیْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَھِیَ اُمُّ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۵۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں سیدہ ام سلیم بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث سنی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9404

۔ (۹۴۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ سِنَانٍ، قَالَ: دَفَنْتُ اِبْنًا لِیْ وَاِنِّیْ لَفِیْ الْقَبْرِ اِذَ اَخَذَ بِیَدِیْ اَبُوْ طَلْحَۃَ فَاَخْرَجَنِیْ، فَقَالَ: اَلا اُبَشِّرُکَ؟ قَالَ قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: حَدَّثَنِیْ الضِّحَاکُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَال اللّٰہُ تَعَالٰی: یَامَلَکَ الْمَوْتِ قَبَضْتَ وَلَدَ عَبْدِیْ؟، قَبَضْتَ قُرَّۃَ عَیْنِہِ، وَثَمَرَۃَ فُؤَادِہِ؟، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَمَا قَالَ؟ قَالَ: حَمِدَکَ وَاسْتَرْجَعَ، قَالَ: ابْنُوْا لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَسَمُّوْہُ بَیْتَ الْحَمْدِ ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۶۳)
۔ ابو سنان کہتے ہیں: میں نے اپنا بیٹا دفن کیا اور ابھی تک میں قبر میں تھا کہ ابو طلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے قبر سے نکالا اور کہا: کیا میں تجھے خوشخبری دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: ضحاک بن عبد الرحمن نے سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ملک الموت! کیا تو نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی ہے؟ کیا تو نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کے دل کی محبت قبض کر لی ہے؟ وہ کہتا ہے: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ اس نے کہا: تیری تعریف بیان کی اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا، اللہ تعالیٰ نے کہا: تو پھر اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْد رکھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9405

۔ (۹۴۰۵)۔ عَنِ ابْنِ حَصْبَۃَ اَوْ اَبِْی حَصْبَۃَ، عَنْ رَجُلٍ شَھِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ، فَقَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَا الرَّقُوْبُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لا وَلَدَ لَہُ، فَقَالَ: ((الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الَّذِیْ لَہُ وَلَدٌ فَمَاتَ وَلَمْ یُقَدِّمْ مِنْھُمْ شَیْئًا۔)) قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَاالصُّعْلُوْکُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لَیْسَ لَہُ مَالٌ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الَّذِیْ لَہُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ یُقَدِّمْ مِنْہُ شَیْئًا۔))، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَاالصُّرَعَۃُ؟)) قَالَ: قَالُوْا: الصَّرِیْعُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلصُّرَعَۃُ کُلُّ الصُّرَعَۃِ، الصُّرَعَۃُ کُلُّ الصُّرْعَۃِ، الرَّجُلُ یَغْضِبُ، فَیَشْتَدُّ غَضَبُہُ، یَحْمَرُّ وَجَھُہُ، وَیَقْشَعِرُّ شَعْرُہُ، فَیَصْرَعُ غَضَبَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۳)
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9406

۔ (۹۴۰۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا تَعُدُّوْنَ فِیْکُمُ الرَّقُوْبَ؟)) قَالَ: قُلْنَا الَّذِیْ لا وَلَدَ لَہُ، قَالَ: ((لا وَلٰکِنَّ الرَّقُوْبَ الَّذِیْ لَمْ یُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِہِ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۳۶۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے اندر کس کو رَقُوْب (بے اولاد) شمار کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، رَقُوْب تو وہ ہوتا ہے، جس نے کوئی نابالغ بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9407

۔ (۹۴۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ لَہُ فَرَطَانِ مِنْ اُمَّتِیْ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: بِاَبِیْ، فَمَنْ کَانَ لَہُ فَرَطٌ؟ فَقَالَ: ((وَمَنْ کَانَ لَہُ فَرَطٌ یَا مُوَفَّقَۃُ!)) قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ فَرَطٌ مِنْ اُمَّتِکَ؟ قَالَ: ((فَاَنَا فَرَطُ اُمَّتِیْ، لَمْ یُصَابُوْا بِمِثْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۰۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس شخص کے دو پیش رو ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میرے باپ کی قسم! جس کا ایک پیش رو ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ جس کا ایک پیش رو ہو گا، اے توفیق دی ہوئی خاتون! پھر سیدہ نے کہا: آپ کی امت میں سے جس کا کوئی پیش رو نہیں ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس میں اپنی امت کے لیے پیش رو ہوں گا، میری امت کو میری جیسی تکلیف نہیں پہنچی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9408

۔ (۹۴۰۸)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیُتَوَفّٰی لَھُمَا ثَلاثَۃٌ اِلَّا اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُمَا۔))، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوِاثْنَانِ؟ قَالَ: ((اَوِ اثْنَانِ۔))، قَالُوْا: اَوْ وَاحِدٌ؟ قَالَ: ((اَوْ وَاحِدٌ۔)) ثُمَّ قاَلَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَِدِہِ، اِنَّ السِّقْطَ لَیَجُرُّ اُمَّہُ بِسَرَرِہِ اِلَی الْجَنَّۃِ اِذَا احْتَسَبَتْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۴۰)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت کرنے کی وجہ سے ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ لوگوں نے پھر کہا: اگر ایک ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ ایک ہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک ناتمام بچہ ناف کے کٹے ہوئے حصے سے اپنے ماں کو کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا، بشرطیکہ وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9409

۔ (۹۴۰۹)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ اُقَیْشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَمُوْتُ لَھُمَا اَرْبَعَۃُ اَوْلادٍ، اِلاَّ اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالُوْا: یَارَسْوُلَ اللّٰہِ! وَثَـلَاثَۃٌ؟ قَالَ: ((وَثَـلَاثَۃٌ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاثْنَانِ قَالَ: ((وَاثْنَانِ، وَاِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ لَمَنْ یَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتّٰییَکُوْنَ اَحَدَ زَوَایَاھَا، وَاِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ لَمَنْ یَدْخُلُ بِشَفَاعَتِہِ الْجَنَّۃَ اَکْثَرُ مِنْ مُضَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۴۱)
۔ سیدنا حارث بن اُقیش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے چار بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر تین ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ تین ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر د وہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں، اور بیشک میرے امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ ان کو آگ کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونہ بن جائیں گے اور میری امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ جن کی سفارش سے مضر قبیلے کے افراد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9410

۔ (۹۴۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْاَشْجَعِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: مَاتَ لِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَدَانِ فِی الْاِسْلامِ، فَقَالَ: ((مَنْ مَاتَ لَہُ وَلَدَانِ فِی الْاِسْلامِ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُمَا۔)) فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ لَقِیَنِیْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقَالَ: اَنْتَ الَّذِیْ قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِی الْوَلَدَیْنِ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: لَاَنْ یَکُوْنَ قَالَہُ لَہُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَیْہِ حِمْصُ وَفِلَسْطِیْنُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۶۲)
۔ سیدنا ابو ثعلبہ اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دو بچے اسلام میں فوت ہو چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دو بچے اسلام میں فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو بھی جنت میں داخل کر دے گا۔ بعد میں جب سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے ملے تو انھوں نے مجھ سے کہا: تم وہ آدمی ہو، جن کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے والدین کے بارے میں خوشخبری سنائی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بات میرے لیے فرماتے تو یہ بات مجھے ان چیزوں سے زیادہ پسند ہوتی، جن پر حمص اور فلسطین کو بند کیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9411

۔ (۹۴۱۱)۔ عَنْ صَعْصَعَۃَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: اَتَیْتُ اَبَاذَرٍّ قُلْتُ: مَابَالُکَ؟ قَالَ: لِیْ عَمَلِیْ، قُلْتُ: حَدِّثْنِیْ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ بَیْنَھُمَا ثَلاثَۃٌ مِّنْ اَوْلادِھِمَا، لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ اِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۶۷)
۔ صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: تمہارا کیا حال ہے؟ انھوں نے کہا: میرے لیے میرا کام ہے، میں نے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کرو، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9412

۔ (۹۴۱۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَدَّمَ ثَـلَاثَۃً مِّنْ وَلَدِہِ حَجَبُوْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۲۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تین بچے آگے بھیج دیئے، وہ اس کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9413

۔ (۹۴۱۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ لَھُمَا ثَلاثَۃُ اَوْلَادٍ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ، اِلاَّ اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ وَاِیَّاھُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ الْجَنَّۃَ، وَقَالَ: یُقَالُ لَھُمْ: اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ حَتّٰییَجِیْئَ اَبَوَانَا، قَالَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، فَیَقُوْلُوْنَ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَیُقَالُ لَھُمْ: اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَاَبَوَاکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۳۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی بڑی رحمت سے ان کو ان کے بچوں سمیت جنت میں داخل کر دے گا، جب ان بچوں سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ کہیں گے: ہمارے والدین آ لیں، (پھر داخل ہوں گے)، تین مرتبہ ان سے یہ بات کہی جائے گی، وہ یہی جواب دیں گے، بالآخر ان سے کہا جائے گا: تم بھی اور تمہارے والدین بھی، سب جنت میں داخل ہو جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9414

۔ (۹۴۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ حَسَّانَ، قَالَ: تُوُفِّیَ ابْنَانِ لِیْ فَقُلْتُ لِاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا تُحَدِّثُنَاہُ یُطَیِّبُ بِاَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ، ((صِغَارُھُمْ دَعَامِیْصُ الْجَنَّۃِیَلْقٰی اَحَدُھُمْ اَبَاہُ اَوْ قَالَ: اَبَوَیْہِ، فَیَاْخُذُ بِنَاحِیَۃِ ثَوْبِہٖاَوْیَدِہِ کَمَا آخُذُ بِصَنَفَۃِ ثَوْبِکَ ھٰذَا، فَلا یُفَارِقُہُ حَتَّییُدْخِلَہُ اللّٰہُ وَاَبَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۳۶)
۔ ابو حسان کہتے ہیں: میرے دو بیٹے فوت ہو گئے، پس میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو ہمارے نفسوں کو ہمارے مردوں کے بارے میں خوش کر دے، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے، اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9415

۔ (۹۴۱۵)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رجلًا کَانَ یَاْتِیْ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ومَعَہُ اِبْنٌ لَہُ فَقَالَ لَہُ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتُحِبُّہُ؟)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحَبَّکَ اللّٰہُ کَمَا اُحِبُّہُ، فَفَقَدَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مافَعَلَ ابْنُ فَـلَانٍ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَبِیْہِ: ((اَمَا تُحِبُّ اَنْ لَّا تَاْتِیَ بَابًا مِنْ اَبْوَابِ الْجَنِّۃِ اِلَّا وَجَدْتَہُ یَنْتَظِرُکَ؟)) فَقَالَ الرَّجُل: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَہُ خَاصَّۃًاَوْ لِکُلِّنَا؟ قَالَ: ((بَلْ لِکُلِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۳۶)
۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتا تھا، جبکہ اس کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا تھا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ سے اس طرح محبت کرے، جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو گم پایا اور پوچھا: فلاں کے بیٹے کا کیا بنا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو فوت ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے باپ سے کہا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پر آئے، اسی پر اپنے بچے کو انتظار کرتے ہوئے پائے؟ ایکآدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس شخص کے لیے خاص ہے، یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں،یہ تو تم سب کے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9416

۔ (۹۴۱۶)۔ عَنْ حَسَّانَ بْنِ کُرَیْبٍ، اَنَّ غُلَامًا مِنْھُمْ تُوُفِّیَ فَوَجَدَہُ عَلَیْہِ اَبَوَاہُ اَشَدَّ الْوَجْدِ، فَقَالَ حَوْشَبُ صَاحِبُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: فِیْ مِثْلِ اِبْنِکَ اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِہٖکَانَلَہُابْنٌقَدْاَدَّبَاَوْدَبَّوَکَانَیَاْتِیْ مَعَ اَبِیْہِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اِنَّ اِبْنَہُ تُوُفِّیَ فَوَجَدَہُ عَلَیْہِ اَبُوْہُ قَرِیْبًا مِنْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ لَایَاْتِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اَرٰی فُلَانًا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ابْنَہُ تُوُفِّیَ فَوَجَدَ عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا فُلَانُ! اَتُحِبُّ لَوْ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ الْآنَ کَانْشَطِ الصِّبْیَانِ نَشَاطًا؟ اَتُحِبُّ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ اَجْرَاُ الْغِلْمَانِ جَرَائَ ۃً؟ اَتُحِبُّ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ کَھْلًا کَاَفْضَلِ الْکُھُوْلِ اَوْ یُقَالَ لَکَ: اُدْخُلِ الْجَنَّۃَ ثَوَابَ مَا اُخِذَ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۷)
۔ حسان بن کریب کہتے ہیں: ہم میں سے ایک بچہ فوت ہو گیا، اس کے والدین کو بہت زیادہ صدمہ ہوا، صحابی ٔ رسول سیدنا حوشب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تیرے اس بیٹے کی طرح کے بیٹے کے حق میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک صحابی کا بیٹا تھا، اس نے اس کو ادب سکھایا تھا، یا ابھی تک وہ زمین پر ہاتھ پیر مار کر گھسٹتا تھا، وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھی آتا تھا، پھر ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا اور اس کے باپ نے اس کی وجہ سے اتنا غم محسوس کیا کہ وہ چھ دن تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھی نہیں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن پوچھا: کیا وجہ ہے کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے اور وہ اس کی وجہ سے پریشان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں آدمی! اچھا بتا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اب تیرا بچہ تیرے پاس ہوتا اور بچوں میں سب سے زیادہ پھرتیلا ہوتا؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ تیر ا بچہ سب بچوں سے زیادہ جرأت والا ہوتا؟ یا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیرا بچہ تیس سے پچاس برس کا بھرپور نوجوان ہو؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ کل قیامت والے دن تجھے کہا جائے: جو بچہ تجھ سے لے لیا گیا تھا، اس کے ثواب میں جنت میں داخل ہو جا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9417

۔ (۹۴۱۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْطَلَقَ حَارِثَۃُ بْنُ عَمَّتِیْیَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غُلَامًا نَظَّارًا مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ، قَالَ: فَاَصَابَہُ سَھْمٌ فَقَتَلَہُ، قَالَ: فَجَائَ تْ اُمُّہُ عَمَّتِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِبْنِیْ حَارِثَۃُ، اِنْ یَکُ فِی الْجَنَّۃِ اَصْبِرُ وَاَحْتَسِبُ، وَاِلَّا فَسَیَرَی اللّٰہُ مَا اَصْنَعُ قَالَ: ((یَا اُمَّ حَارِثَۃَ! اِنَّھَا جِنَانٌ کَثِیْرَۃٌ وَاِنَّ حَارِثَۃَ فِی الْفِرْدَوْسِ الْاَعْلٰی۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۸۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میری پھوپھی کا بیٹا سیدنا حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بدر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلا، یہ لڑکا لڑائی دیکھنے کے لیے گیا تھا، لڑنے کے لیے نہیں گیا تھا، لیکن اچانک اس کو تیر لگا اور اس کو قتل کر دیا، پس میری پھوپھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا حارثہ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہوں، وگرنہ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں تو بہت زیادہ ہیں اور بیشک حارثہ تو فردوسِ اعلی میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9418

۔ (۹۴۱۸)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لاَبِی طَلْحَۃَ مِنْ اُمِّ سُلَیْمٍ فَقَالَتْ: لِاَھْلِھَا لَا تُحِدِّثُوْا اَبَاطَلْحَۃَ بِاِبْنِہِ حَتّٰی اَکُوْنَ اَنَا اُحَدِّثُہُ، قَالَ: فَجَائَ فَقَرَّبَتْ اِلَیْہِ عَشَائً فَاَکَلَ وَشَرِبَ، قَالَ: ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَہُ اَحْسَنَ مَاکَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذٰلِکَ، فَوَقَعَ بِھَا، فَلَمَّا رَاَتْ اَنَّہُ قَدْ شَبِعَ وَاَصَابَ مِنْھَا، قَالَتْ: یَا اَبَاطَلْحَۃَ اَرَاَیْتَ اَنَّ قَوْمًا اَعَارُوْا عَارِیَتَھُمْ اَھْلَ بَیْتٍ وَطَلَبُوْا عَارِیَتَھُمْ اَلَھُمْ اَنْ یَمْنَعُوْھُمْ؟ قَالَ:لَا، قَالَتْ: فَاحْتَسِبِ ابْنَکَ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَہُ بِمَا کَانَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَمَا فِیْ غَابِرِ لَیْلَتِکُمَا۔)) قَالَ: فَحَمَلَتْ قَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ وَھِیَ مَعَہُ ،وکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اَتَی الْمِدِیْنَۃَ مِنْ سَفَرٍ لَا یَطْرُقُھَا طُرُوْقًا، فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ فَضَرَبَھَا الْمَخَاضُ، وَاحْتَبَسَ عَلَیْھَا اَبُوْطَلْحَۃَ وَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: یَارَبِّ! اِنَّکَ لَتَعْلَمُ اَنَّہُ یُعْجِبُنِیْ اَنْ اَخْرُجَ مَعَ رَسُوْلِکَ اِذَا خَرَجَ، وَاَدْخُلَ مَعَہُ اِذَا دَخَلَ، وَقَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرٰی، قَالَ: تَقُوْلُ اُمُّ سُلَیْمٍ: یَا اَبَاطَلْحَۃَ مَا اَجِدُ الَّذِیْ کُنْتُ اَجِدُ فَانْطَلَقْنَا، قَالَ: وَضَرَبَھَا الْمَخَاضُ حِیْنَ قَدِمُوْا فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ لِیْ اُمِّیْ: یَا اَنَسُ! لَا یُرْضِعَنَّہُ اَحَدٌ حَتّٰی تَغْدُوَ بِہٖعَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَصَادَفْتُہُ وَمَعَہُ مِیْسَمٌ فَلَمَّا رَآنِی قَالَ: ((لَعَلَّ اُمَّ سُلَیْمٍ وَلَدَتْ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَضَعَ الْمِیْسَمَ قَالَ: فَجِئْتُ بِہٖفَوَضَعْتُہُفِیْحِجْرِہِ قَالَ: وَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَجْوَۃٍ مِنْ عَجْوَۃِ الْمَدِیْنَۃِ فَـلَا کَھَا فِیْ فِیْہِ حَتّٰی ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَھَافِیْ فِی الصَّبِیِّ فَجَعَلَ الصَّبِیُّیَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْظُرُوْا اِلٰی حُبِّ الْاَنْصَارِ التَّمْرَ۔))، قَالَ: فَمَسَحَ وَجْھَہَ وَسَمَّاہُ عُبْدَ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۵۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ اور سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیٹا فوت ہو گیا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے اہل والوں سے کہا: تم نے ابو طلحہ کو اس کے بیٹے کے بارے میں نہیں بتلانا، میں خود اس کو بتاؤں گی، پس جب وہ آئے تو اس نے ان کو شام کا کھانا پیش کیا، انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا، پھر سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے خاوند کے لیے اچھی طرح تیاری کی، جیسا کہ وہ پہلے کرتی تھیں، پس انھوں نے ان سے جماع کیا، جب ام سلیم نے دیکھا کہ اس کاخاوند خوب سیر ہو گیا گیا اور حق زوجیت بھی ادا کر لیا تو اس نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ لوگ ایک گھر والوں کو کوئی چیز عاریۃً دیتے ہیں، پھر جب وہ ان سے واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا وہ روک سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، نہیں روک سکتے، ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو پھر اپنے بیٹے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کر، سیدنا ابوطلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چل پڑے، یہاں تک کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارے ماجرے کی خبر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری گزشتہ رات میں برکت فرمائے۔ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو حمل ہو گیا، ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں تھے اور ام سلیم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپسی پر مدینہ آتے تھے تو رات کو شہر میں داخل نہیں ہو تے تھے، پس جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو دردِ زہ شروع ہو گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو آگے چل دیئے، لیکن سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی بیوی کے پاس رک گئے اور انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند لگتی ہے کہ تیرے رسول کے ساتھ سفر میں نکلوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہی مدینہ میں داخل ہوں، لیکن اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں رک گیا ہوں، اتنے میں ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جو چیز میں پہلے پاتی تھی، ابھی وہ نہیں پا رہی، پس ہم چل پڑے اور جب مدینہ پہنچے تو دوبارہ دردِ زہ شروع ہوا اور انھوں بچہ جنم دیا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے کہا: اے انس! کوئی بھی اس کو دودھ نہ پلائے،یہاں تک کہ تو صبح کو اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جائے، وہ کہتے ہیں: میں بچہ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جانوروں کو داغنے والا ایک آلہ تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: شاید ام سلیم نے بچہ جنم دیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ آلہ رکھ دیا، میں بچے کو لے کر آگے بڑھا اور اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گودی میں رکھ دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کی عجوہ کھجورمنگوائی، اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا،یہاں تک کہ وہ نرم ہو گئی، پھر اس کو بچے کے منہ میں ڈالا اور بچہ زبان پھیر کر اس کو نگلنے لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیکھو کہ انصاریوں کو کھجور سے کتنی محبت ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9419

۔ (۹۴۱۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: تَزَوَّجَ اَبُوْطَلْحَۃَ اُمَّ سُلَیْمٍ وَھِیَ اُمُّ اَنَسٍ (بْنِ مالک) وَالْبَرَائِ، قَالَ: فَوَلَدَتْ لَہُ بُنَیًّا، قَالَ: فَکَانَ یُحِبُّہُ حُبًّا شَدِیْدًا، قَالَ: فَمَرِضَ الْغُلَامُ مَرْضًا شَدِیْدًا، فَکَانَ اَبُوْ طَلْحَۃَیَقُوْمُ صَلَاۃَ الْغَدَاۃِیَتَوَضَّاُ وَیَاْتِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیُصَلِّیْ مَعَہُ، وَیَکُوْنُ مَعَہُ اِلٰی قَرِیْبٍ مِّنْ نِصْفِ النَّھَارِ، وَیَجِيْئُیَقِیْلُ وَیَاْکُلُ، فَاِذَا صَلَّی الظُّھْرَ تَھَیَّاَ وَذَھَبَ فَلَمْ یَجِیئْ اِلٰی صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ قَالَ: فَرَاحَ عَشِیَّۃً وَمَاتَ الصَّبِیُّ، قَالَ: وَجَائَ اَبُوْ طَلْحَۃَ قَالَ: نَسَجَتْ عَلَیْہِ ثَوْبًا وَتَرَکَتْہُ، قَالَ: فقَالَ لَھْا اَبُوْ طلحۃ: یَا اُمَّ سُلَیْمٍ! کَیْفَ بَاتَ بُنَیَّ اللَّیْلَۃَ؟ قَالَتْ: یَا اَبَا طَلْحَۃَ! مَا کَانَ ابْنُکَ مُنْذُ اشْتَکٰی اَسْکَنَ مِنْہُ اللَّیْلَۃَ، قَالَ: ثُمَّ جَائَ تْہُ بِالطَّعَامِ فَاَکَلَ وَطَابَتْ نَفْسُہُ، قَالَ: فَقَامَ اِلٰی فِرَاشِہِ فَوَضَعَ رَاْسَہُ قَالَتْ: وَقُمْتُ اَنَا فَمَسِسْتُ شَیْئًا مِنْ طِیْبٍ ثُمَّ جِئْتُ حَتّٰی دَخَلْتُ مَعَہُ الْفِرَاشَ، فَمَا ھُوَ اِلَّا اَنْ وَجَدَ رِیْحَ الْطِیْبِ کَانَ مِنْہُ مَایَکُوْنُ مِنَ الرَّجُلِ اِلَیٰ اَھْلِہِ، قَالَ: ثُمَّ اَصْبَحَ اَبُوْطَلْحَۃَیَتَھَیَّاُ کَمَا کاَنَ یَتَھَیَّاُ کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: فَقَالَتْ لَہُ: یَا اَبَا طَلْحَۃَ! اَرَاَیْتَ لَوْ اَنَّ رَجُلًا اِسْتَوْدَعَکَ وَدِیْعَۃً فَاسْتَمْتَعْتَ بِھَا ثُمَّ طَلَبَھَا فَاَخَذَھَا مِنْکَ تَجْزَعُ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: لَا ، قَالَتْ: فَاِنَّ ابْنَکَ قَدْ مَاتَ، قَالَ اَنَسٌ فَجَزِعَ عَلَیْہِ جَزْعًا شَدِیْدًا، وَحَدَّثَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا کَانَ مِنْ اَمْرِھَا فِی الطَّعَامِ وَالطِّیْبِ، وَمَا کَانَ مِنْہُ اِلَیْھَا، قَالَ: فَقَالَ َرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَبِتُّمَا عَرُوْسَیْنِ وَھُوَ اِلٰی جَنْبِکُمَا؟)) قَالَ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَمَا فِیْ لَیْلَتِکُمَا۔)) قَالَ: فَحَمَلَتْ اُمُّ سلیم تِلْکَ اللَّیْلَۃِ، قَالَ: فَتَلِدُ غُلَامًا، قَالَ: فَحِیْنَ اَصْبَحْنَا قَالَ لِیْ اَبُوْ طَلْحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ احْمِلْہُ فِیْ خِرْقَۃٍ حَتّٰی تَاْتِیَ بِہٖرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاحْمَلْ مَعَکَ تَمْرَ عَجْوَۃٍ، قَالَ: فَحَمَلْتُہُ فِیْ خِرْقَۃٍ قَالَ: وَلَمْ یُحَنِّکْ وَلَمْ یَذُقْ طَعَامًا وَلَا شَیْئًا، قَالَ: فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَدَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ، قَالَ: ((اَللّٰہُ اَکْبَرُ، مَا وَلَدَتْ؟)) قُلْتُ: غُلَامًا، قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔))، فَقَالَ: ((ھَاتِہِ اِلَیَّ۔)) فَدَفَعْتُہُ اِلَیْہِ فَحَنَّکَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ ثُمَّ قَالَ لِیْ: ((مَعَکَ تَمْرُ عَجْوَۃٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَاَخْرَجْتُ تَمَرَاتٍ فَاَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَمْرَۃً وَاَلْقَاھَا فِیْ فِیْہِ، فَمَا زَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَلُوْکُھَا حَتَّی اخْتَلَطَتْ بِرِیْقِہِ ثُمَّ دَفَعَ الصَّبِیَّ فَمَا ھُوَ اِلَّا اَنْ وَجَدَ الصَّبِیُّ حَلَاوَۃَ التَّمْرِ، جَعَلَ یَمُصُّ بَعْضَ حَلَاوَۃِ التَّمْرِ وَرَیِقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ اَنَسٌ: فَکَانَ اَوَّلُ مَنْ فَتَحَ اَمْعَائَ ذٰلِکَ الصَّبِیِّ عَلٰی رِیْقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حِبُّ الْاَنْصَارِ التَّمْرُ۔)) فَسَمَّی عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِی طَلْحَۃَ، قَالَ: فَخَرَجَ مِنْہُ رَجُلٌ کَثِیْرٌ قَالَ: وَاسْتُشْھِدَ عَبْدُ اللّٰہِ بِفَارِسَ۔(مسند احمد: ۱۲۸۹۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کی،یہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی ماں تھیں، سیدہ ام سلیم نے ان کے لیے ایک پیارا سا بیٹا جنم دیا، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس سے بہت محبت کرتے تھے، لیکن ہوا یوں کہ بچہ بہت سخت بیمار ہو گیا، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روٹینیہ تھی کہ وہ نماز فجر کے لیے اٹھتے، وضو کرتے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اور نصف النہار کے قریب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہی ٹھہرتے، پھر واپس آ کر قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے، پھر نمازِ ظہر کی تیاری کر کے چلے جاتے اور نمازِ عشا تک واپس نہیں آتے تھے، ایک دن جب وہ رات کو واپس آئے تو بچہ فوت ہو چکا تھا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے (شروع میں اس کی موت کو چھپانے کے لیے) اس کپڑے سے ڈھانپ دیا اور اس کو چھوڑ دیا، جب سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو کہا: اے ام سلیم! میرے پیارے بیٹے نے رات کیسے گزاری ہے؟ انھوں نے کہا: اے ابو طلحہ! تیرا بیٹا جس دن سے بیمار ہوا، آج رات کو سب سے زیادہ سکون میں تھا، پھر وہ کھانا لے کر آئیں، انھوں نے کھانا کھایا اور ان کا نفس خوشگوار ہو گیا، پھر وہ اپنے بستر کی طرف گئے اور سونے کے لیے اپنا سر رکھا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے خوشبو لگائی اور ان کے پاس آ کر بستر میں ان کے ساتھ داخل ہو گئی، جب انھوں نے خوشبو محسوس کی تو وہی معاملہ چلا جو میاں بیوی کا ہوتا ہے ، پھر جب صبح ہوئی تو انھوں نے روٹین کے مطابق تیاری کرنا شروع کر دی، جیسا کہ ہر روز کرتے تھے، اب سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی نے آپ کو امانت دی، آپ نے اس سے استفادہ کیا، پھر اس نے تجھ سے طلب کی اور پھر لے لی، کیا تو اس معاملے میں بے صبری کرے گا؟ انھوں نے کہا: نہیں، سیدہ نے کہا: تو پھر آپ کا بیٹا فوت ہو چکا ہے، وہ بہت زیادہ گھبرائے اور پریشان ہوئے اور جا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارے معاملے کی خبردی کہ اس کی بیوی نے اس طرح کھانا کھلایا، خوشبو لگائی اور پھر جو کچھ ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے حق زوجیت ادا کیا ہے اور وہ بچہ تمہارے پہلوؤں میں تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اس رات میں برکت فرمائے۔ پس سیدہ ام سلیم کو اسی رات حمل ہو گیا، بعد میں جب انھوں نے بچہ جنم دیا تو صبح کو سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میں (انس) سے کہا: اس کو کسی کپڑے میں اٹھا لے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جا اور عجوہ کھجور بھی لیتا جا، پس میں نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر اٹھایا، نہ اس کو گڑتی دی گئی تھی، نہ اس نے کھانا کھایا، بلکہ کوئی چیز نہیں چکھی، جب میں پہنچا تو کہا: اے اللہ کے رسول! سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بچہ پیدا ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (خوشی سے) فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، کیا جنم دیا ہے اس نے؟ میں نے کہا: جی لڑکا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لے آ اس کو میرے پاس۔ پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑا دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو گڑتی دینا چاہی، اس لیے مجھ سے پوچھا: کیا تیرے پاس عجوہ کھجور ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ہے، پھر میں نے کھجوریں نکالیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کھجور لے کر اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈالا اور اتنی دیر تک چبایا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لعاب کے ساتھ مکس ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے کو دی اور فوراً یوں لگا کہ بچہ کھجور کی مٹھاس محسوس کر رہا ہے، وہ کھجور کی حلاوت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تھوک کو چوسنے لگا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پہلی چیز جس نے اس بچے کی انتڑیاں کھولیں، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تھوک تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصاریوں کی محبوب چیز کھجور ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا، اس عبد اللہ کی کافی ساری اولاد پیدا ہوئی تھی،یہ عبد اللہ فارس میں شہید ہو گئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9420

۔ (۹۴۲۰)۔ عَنْ ثَابِتٍ الْبَنَانِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسًا یَقُوْلُ لِاِمْرَاۃٍ مِّنْ اَھْلِہِ: اَتَعْرِفِیْنَ فُلَانَۃً؟ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِھَا وَھِیَ تَبْکِیْ عَلٰی قَبْرٍ فَقَالَ َلھا: ((اِتَّقِیْ اللّٰہَ وَاصْبِرِیْ۔))، فَقَالَتْ لَہُ: اِیَّاکَ عَنِّیْ فَاِنَّکَ لَا تُبَالِیْ بِمُصِیْبَتِیْ۔ قَالَ: وَلَمْ تَکُنْ عَرَفَتْہُ، فَقِیْلَ لَھَا: اِنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فاَخَذَ بِھَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَجَائَ تْ اِلٰی بَابِہٖفَلَمْتَجِدْعَلَیْہِ بَوَّابًا، فَقَالَت: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَمْ اَعْرِفْکَ، فَقَالَ: ((اِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ اَوَّلِ صَدَمَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۸۵)
۔ ثابت بنانی سے مروی ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے اہل وعیال کی ایک خاتون سے کہتے کہ کیا تو فلاں عورت کو جانتی ہے؟ اس کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ سے ڈر اور صبر کر۔ اس نے آگے سے کہا: پرے ہٹ جائیں آپ مجھ سے، آپ کو میرے مصیبت کی کیا پرواہ ہے۔ دراصل وہ خاتون آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہچانتی نہیں تھی، جب اس کو بتلایا گیا کہ یہ تو اللہ کے رسول تھے، تو یوں لگا کہ اس پر موت کی سی کیفیت طاری ہو گئی ہے، پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے تک پہنچی اور اس پر کوئی پہرہ دار نہیں پایا، اس نے آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میںنے آپ کو پہچانا نہیں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک صبر وہ ہوتا ہے، جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9421

۔ (۹۴۲۱)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، اَنَّ اَبَا سَلَمَۃَ حَدَّثَھَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اَصَابَتْ اَحَدَکُمْ مُصِیْبَۃٌ فَلْیَقُلْ {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ عِنْدَکَ اَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِیْ فَأْجُرْنِیْ فِیْھَا، وَاَبْدِلْنِیْ بِھَا خَیْرًا مِنْھَا۔)) فَلَمَّا قُبِضَ اَبُوْ سَلَمَۃَ خَلَفَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ اَھْلِیْ خَیْرًا مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۵۴)
۔ سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو وہ کہے: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ عِنْدَکَ اَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِیْ فَأْجُرْنِیْ فِیْھَا، وَاَبْدِلْنِیْ بِھَا خَیْرًا مِنْھَا۔ (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! میں اپنی مصیبت پر تجھ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں، پس مجھے اس میں اجر عطا فرما اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما) سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: پس جب سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے عوض میں مجھے بہترین خاوند عطا کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9422

۔ (۹۴۲۲)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِیْبُہُ مُصِیْبَۃٌ فیَقُوْلُ: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا، اِلَّا اَجَرَہُ اللّٰہُ فِیْ مُصِیْبَۃٍ وَاَخْلَفَ لَہُ خَیْرًا مِنْھَا۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّیَ اَبُوْسَلَمَۃَ قُلْتُ: مَنْ خَیْرٌ مِّنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: ثُمَّ عَزَمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِیْ فَقُلْتُھَا: اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔(مسند احمد: ۲۷۱۷۰)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا۔ (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر اور بہترین متبادل عطا فرما)تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور اس کو بہترین متبادل عطا کرتا ہے۔ پس جب میرے خاوند سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے اور میں نے کہا: صحابی ٔ رسول ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے طاقت اور برداشت عطا کی اور میں نے یہ دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس کا بہترین متبادل عطا فرما، پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کر لی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9423

۔ (۹۴۲۳)۔ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَۃٍیُصَابُ بِمُصِیْبَۃٍ فَیَذْکُرُھَا، وَاِنْ طَالَ عَھْدُھَا (وَفِیْ لَفْظٍ) وَاِنْ قَدُمَ عَھْدُھَا فَیُحَدِّثُ لِذٰلِکَ اِسْتِرْجَاعًا اِلَّا جَدَّدَ اللّٰہُ لَہُ عِنْدَ ذَالِکَ فَاَعْطَاہُ مِثْلَ اَجْرِھَا یَوْمَ اُصِیْبَ بِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۴)
۔ سیدنا حسین بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان مرد اور عورت کو کوئی تکلیف پہنچی ہو، اگرچہ اس کو کافی زمانہ گزر چکا ہو، پھر وہ نئے سرے سے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پر پہلی حالت کو واپس کرتا ہے اور اس کو اُتنا اجر عطا کر دیتا ہے، جتنا مصیبت والے دن عطا کیا تھا۔

آیت نمبر