Musnad Ahmad

Search Results(1)

159)

159) محبت اور صحبت کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9424

۔ (۹۴۲۴)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰییَکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَاھُمَا، وَحَتّٰی ُیقَذَفَ فِی النَّارِ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَعُوْدَ فِی الْکُفْرِ بَعْدَ اَنْ نَجَّاہُ اللّٰہُ مِنْہُ، وَلَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّلَدِہِ وَوَالِدِہِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۸۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ اللہ اور اس کا رسول اس کو باقی سب چیزوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہو جائیں اور وہ کفر سے نجات پانے کے بعد اس کی طرف لوٹنے کی بہ نسبت آگ میں پھینکے جانے کو زیادہ پسند سمجھے اور کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، والد اور تمام لوگوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9425

۔ (۹۴۲۵)۔ عَنْ زُھْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ آخِذٌ بِیَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ اِلَّا نَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ عَنْدَہُ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہِ۔)) فَقَالَ عُمَرَ: فَلَاَنْتَ الْآنَ وَاللّٰہِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الآنَ یَا عُمَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۱۱)
۔ زہرہ کے دادے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہیں، ما سوائے اپنی جان کے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی ایک اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک مجھے اپنے نفس سے زیادہ محبوب نہیں سمجھے گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اب آپ ہی مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! اب ٹھیک ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9426

۔ (۹۴۲۵)۔ عَنْ زُھْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ آخِذٌ بِیَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ اِلَّا نَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ عَنْدَہُ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہِ۔)) فَقَالَ عُمَرَ: فَلَاَنْتَ الْآنَ وَاللّٰہِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الآنَ یَا عُمَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۱۱)
۔ سیدنا فیروز ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگ اسلام لائے اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے، پس انھوں نے اپنی بیعت اور اسلام کے ساتھ اپنے وفد کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قبول فرمایا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، ہم نے اسلام تو قبول کر لیا، اب ہمارا ولی کون ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول۔ انھوں نے کہا: ہمیں یہ کافی ہیں اور ہم اس پر راضی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9427

۔ (۹۴۲۷)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَشَدُّ اُمَّتِیْ لِیْ حُبًّا قَوْمٌ یَکُوْنُونَ اَوْ یَخْرُجُوْنَ بَعْدِیْ،یَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنَّہُ اَعْطٰی اَھْلَہُ وَمَالَہُ وَاَنَّہُ رَآنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۲۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے میری امت کے وہ لوگ ہیں، جو میرے بعد آئیں گے اور یہ پسند کریں گے کہ اپنے اہل اور مال کو خرچ کر کے میرا دیدار کر لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9428

۔ (۹۴۲۸)۔ عَنْ ثَوْبَانٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْعَبْدَ لَیَلْتَمِسُ مَرْضَاۃَ اللّٰہِ، وَلَا یَزَالُ بِذٰلِکَ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِجِبْرِیْلَ: اِنَّ فُلَانًا عِبْدِیْیَلْتَمِسُ اَنْ یُّرْضِیَنِیْ، اَلَا وَاِنَّ رَحْمَتِیْ عَلَیْہِ، فَیَقُوْلُ جِبْرِیْلُ: رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی فُلَانٍ، وَیَقُوْلُھَا حَمْلَۃُ الْعَرْشِ، وَیَقُوْلُھَا مَنْ حَوْلَھُمْ، حَتّٰییَقُوْلَھَا اَھْلُ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ، ثُمَّ تَھْبِطُ لَہُ اِلَی الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۶۴)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو تلاش کرتا ہے اور اس کے لیے لگا رہتا ہے، یہاں تک اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنے کے درپے تھا، خبردار! اب اس پر میری رحمت ہو چکی ہے، جبریل علیہ السلام کہتے ہیں: فلاں آدمی پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو چکی ہے، پھر حاملین عرش اس جملے کو دوہراتے ہیں، پھر ان کے ارد گرد والے فرشتے کہتے ہیں،یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں والے یہی کلمہ کہتے ہیں، پھر اسی بیان کو زمین پر اتار دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9429

۔ (۹۴۲۹)۔ عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کاَنَ یُعْجِبُنَا اَنْ یَّجِيْئَ الرَّجُلُ مِنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ فَیَسْاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ اَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، مَتّٰی قِیَامُ السَّاعَۃِ؟ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃِ؟)) قَالَ: اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَمَا اَعْدَدْتَ لَھَا؟)) قَالَ: مَا اَعْدَدْتُ لَھَا مِنْ کَثِیْرِ عَمَلٍ، لَا صَلَاۃٍ وَ لَا صِیَامٍ اِلَّا اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبَتَ وَلَکَ مَا اَحْبَبْتَ) قَالَ اَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَمَا رَاَیْتُ الْمِسْلِمِیْنَ فَرِحُوْا بَعْدَ الْاِسْلَامِ بِشَیْئٍ مَافَرِحُوْا بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۲۰۳۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ کوئی دیہاتی آدمی آئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرے، پس ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز شروع کر دی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: اور تو نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا: میں نے اس کے لیے زیادہ عمل تو نہیں کیے، نہ زیادہ نماز ہے اور نہ زیادہ روزے ہیں، البتہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اس کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت کرے گا۔ ایک روایت میں: پس بیشک تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت کرتا ہے اور تیرے لیے وہی کچھ ہے، جو تو پسند کرتا ہے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے نہیں دیکھا کہ مسلمان قبولیت ِ اسلام کے بعد اتنے زیادہ خوش ہوئے ہوں، جتنے اس دن ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9430

۔ (۹۴۳۰)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ بِنَحْوِہِ، وَفِیْہِ قَالَ اَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَمَا فَرِحْنَا بِشَیْئٍ بَعْدَ الْاِسْلَامِ، فَرِحْنَا بِقَوْلِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ۔)) قَالَ: فَاَنَا اُحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَاَنَا اَرْجُوْ اَنْ اَکُوْنَ مَعَھُمْ لِحُبِّیْ اِیَّاھُمْ وَاِنْ کُنْتُ لَا اَعْمَلُ بِعَمَلِھِمْ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۰۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمیں جو خوشی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس ارشاد سے ہوئی کہ بیشک تو اس کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ تجھے محبت ہے قبولیت ِ اسلام کے بعد اتنی خوشی کسی چیز سے نہیں ہوئی تھی، پس میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں اس محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوں گا، اگرچہ میرے عمل ان کے اعمال جیسے نہیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9431

۔ (۹۴۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا قَالَ: یَا جِبْرِیْلُ! اِنِّیْ اُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْہُ، فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ فِی السَّمٰوَاتِ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْہُ، فَیُلْقٰی حُبُّہُ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ فَیُحِبُّ، وَاِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا قَالَ: یَاجِبْرِیْلُ! اِنِّیْ اُبْغِضُ فُلانًا فَاَبْغِضُوْہُ، فَیُلْقِیْ جِبْرِیْلُ فِیْ السَّمٰوَاتِ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُبْغِضُ فُلانًا فَاَبْغِضُوْہُ، فَیُوْضَعُ لَہُ الْبُغْضُ لِاَھْلِ الْاَرْضِ فَیُبْغَضُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۲۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے جبریل! میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس جبریل آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پاس تم بھی اس سے محبت کرو، پھر اس کی محبت اہل زمین میں ڈال دی جاتی ہے اور وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے جبریل! میں فلاں بندے سے بغض رکھتا ہوں، پس تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر جبریل آسمانوں میں یہ اعلان کر تے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر اہل زمین میں بھی اس کا بغض رکھ دیا جاتا ہے اور وہ بھی اس سے بغض کرنے لگ جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9432

۔ (۹۴۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ اِذَا اَحَبَّ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِیْلَ: اَنِّیْ اُحِبُّ فُلانًا فَاَحِبَّہُ، فَیَقُوْلُ جِبْرِیْلُ لِاَھْلِ السَّمَائِ: اَنَّ رَبَّکُمْ یُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْہُ، قَالَ: فَیُحِبُّہُ اَھْلُ السَّمَائِ قَالَ: وَیُوْضَعُ لَہُ الْقَبُوْلُ فِی الْاَرْضِ، قَالَ: وَاِذَا اَبْغَضَ فَمِثْلُ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۷۶۱۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبریل علیہ السلام اہل آسمان سے کہتے ہیں: بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہو، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین میں بھی وہ آدمی مقبول ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس آدمی سے بغض رکھتا ہو، اس کے ساتھ اسی قسم کا معاملہ پیش آتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9433

۔ (۹۴۳۳)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ اِذَا رَضِیَ عَنِ الْعَبْدِ اَثْنٰی عَلَیْہِ سَبْعَۃَ اَصْنَافٍ مِنَ الْخَیْرِ لَمْ یَعْمَلْہُ، وَاِذَا سَخِطَ عَلَی الْعَبْدِ اَثْنٰی عَلَیْہِ سَبْعَۃَ اَصْنَافٍ مِنَ الشَّرِّ لَمْ یَعْمَلْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۵۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو خیر کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی تعریف کرتا ہے، جن پر ابھی تک اس نے عمل نہیں کیا ہوتا، اسی طرح جب وہ کسی بندے سے ناراض ہو جاتا ہے تو شرّ کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی مذمت کرتا ہے، جن کا ابھی تک اس نے ارتکاب نہیں کیا ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9434

۔ (۹۴۳۴)۔ حَدَّثَنَا اَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ نِ الْوَاسِطِیِّ، عَنْ اَبِیْ طَیْبَۃَ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمِقَۃَ مِنَ اللّٰہِ، قَالَ شَرِیْکٌ: ھِیَ الْمَحَبَّۃُ وَالصَّیْتُ مِنَ السَّمَائِ، فَاِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا، قَالَ لِجِبْرِیْلَ: اِنِّیْ اُحِبُّ فُلانًا، فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَمِقُیَعْنِیْیُحِبُّ فُلانًا فَاَحِّبُوْہُ، اَرٰی شَرِیْکًا قَدْ قَالَ: فَیَنْزِلُ لَہُ الْمَحَبَّۃُ فِیالْاَرْضِ، وَ اِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا، قَالَ لِجِبْرِیْلَ: اِنِّیْ اُبْغِضُ فُلانًا فَاَبْغِضْہُ، قَالَ: فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ: اِنَّ رَبَّکُمْ یُبْغِضُ فُلَانًا فَاَبْغِضُوْہُ، قَالَ: اَرٰی شَرِیْکًا قَدْ قَالَ: فَیَجْرِیْ لَہُ الْبُغْضُ فِی الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۲۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک محبت اور شہرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے آتی ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی سے محبت کرتا ہے تو وہ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پس جبریل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم سب اس سے محبت کرو، پھر زمین میں بھی اس کی محبت اتر آتی ہے، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی سے بغض رکھتا ہے تو وہ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہوں، پس تو بھی اس سے بغض رکھ، پھر جبریل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہو، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر زمین میں بھی اس کے لیے بغض اتار دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9435

۔ (۹۴۳۵)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ صَبِیٌّ عَلٰی ظَھْرِ الطَّرِیْقِ، فَمَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ نَاسٌ مِّنْ اَصْحَابِہٖ،فَلَمَّارَاَتْاَمُّالصَّبِیِّ الْقَوْمَ خَشِیَتْ اَنْ یُوْطَاَ اِبْنُھَا، فَسَعَتْ وَحَمَلَتْہُ، وَقَالَتْ: اِبْنِیْ اِبْنِیْ، قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا کَانَتْ ھٰذِہِ لِتُلْقِیَ اِبْنَھَا فِی النَّارِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا ولَا یُلْقِی اللّٰہُ حَبِیْبَہُ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۰۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بچہ راستے پر پڑا تھا، وہاں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ہوا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صحابہ بھی تھے، جب اس بچے کی ماں نے لوگوں کو دیکھا تو اسے یہ ڈر محسوس ہونے لگا کہ بچہ روند دیا جائے گا، پس وہ یہ کہتے ہوئے دوڑی کہ میرا بیٹا، میرابیٹا اور پھر اس کو اٹھا لیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ماں اپنے بچے کو آگ میں تو نہیں ڈالے گی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں نہیں ڈالے گی اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9436

۔ (۹۴۳۶)۔ عَنْ ثَابِتِ نِ الْبَنَانِیِّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ یُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَعْمَلَ کَعَمَلِہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔))، فَقَالَ اَنَسٌ: فَمَا رَاَیْتُ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرِحُوْا بِشَیْئٍ قَطُّ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ الْاِسْلَامَ مَافَرِحُوْا بِھٰذَا مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ اَنَسٌ: فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَعْمَلَ کَعَمَلِہِ، فَاِذَا کُنَّا مَعَہُ فَحَسْبُنَا۔(مسند احمد: ۱۳۳۴۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک شخص کسی آدمی سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس کے عمل جیسے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ محبت کرتا ہو گا۔ پس میں نے صحابہ کرام کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا کہ وہ کسی چیز کی وجہ سے اتنے خوش ہوئے ہوں، جتنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے خوش ہوئے، ما سوائے اسلام کے۔ پھر سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محبت کرتے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل جتنے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، پس جب ہمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتھ مل جائے گا تو وہی کافی ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9437

۔ (۹۴۳۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہِ، فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِطُ۔)) وقَالَ مُؤْمِلٌ: مَنْ یُخَالِلُ۔ (مسند احمد: ۸۰۱۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، پس ہر ایک کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی اختیار کیے ہوئے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9438

۔ (۹۴۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سمَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا تَصْحَبْ اِلَّا مُؤْمِنًا وَلَایَاْ کُلْ طَعَامَکَ اِلَّا تَقِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۵۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو صرف مؤمن کا ساتھی بن اور تیرا کھانا نہ کھائے، مگر متقی آدمی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9439

۔ (۹۴۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! الرَّجُل یُحِبُّ الْقَوْمَ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَعْمَلَ بِاَعْمَالِھِمْ، قَالَ: ((اَنْتَ یَااَبَاذَرٍّ! مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَاِنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ یُعِیْدُھَا مَرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۰۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس جیسے عمل کر نے کی طاقت نہیں رکھتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت رکھے گا۔ میں نے کہا: تو بیشک میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، انھوں نے ایکیا دو دفعہ یہ بات دوہرائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9440

۔ (۹۴۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ رَجُلًا اَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا یَلْحَقْ بِھِمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۹)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن ان کو مل نہیں پاتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9441

۔ (۹۴۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، رِوَایَۃً، قَالَ: ((اَلْمُؤُمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِیَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ اِنْ لَمْ یُحْذِکَ مِنْ عِطْرِہِ عَلِقَکَ مِنْ رِیْحِہِ، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ السَّوْئِ مَثَلُ الْکِیْرِ اِنْ لَمْ یُحْرِقْکَ نَالَکَ مِنْ شَرَرِہِ، وَالْخَازِنُ الْاَمِیْنُ الَّذِیْیُؤَدِّیْ مَا اُمِرَ بِہٖمُؤْتَجِرًااَحْدُالْمُتَصَدِّقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۴)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا بعض بعض کو مضبوط کرتا ہے، اور نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی طرح ہے کہ اگر اس نے تجھے کوئی عطر نہ دیا تو تیرے ساتھ اس کی خوشبو لگ جائے گی، اور برے ہم مجلس کی مثال لوہار کی دھونکنی کی سی ہے کہ اگر اس نے تجھے جلا نہ دیا تو اس کی چنگاریاں تجھ پر ضرور پڑیں گے، اور وہ امانت دار خزانچی بھی صدقہ کرنے والوں میں ایک ہے، جو بنیّت ِ ثواب وہ کچھ دے دیتا ہے، جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9442

۔ (۹۴۴۲)۔ (وَمِنْ طریقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَامُوْسٰی الْاَشْعَرِیَّیَقُوْلُ : عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ کَمَثَلِ الْعَطَّارِ۔))، فَذَکَرَ نَحْوَہُ مُخْتَصَرًا۔ (مسند احمد: ۱۹۸۹۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا تھا کہ نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی ہے۔ پھر اختصار کے ساتھ اوپر والی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9443

۔ (۹۴۴۳)۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ، قَالَ: وَفَدْتُ فِیْ خَلَافَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَاِنّمَا حَمَلَنِیْ عَلَی الْوِفَادَۃِ لُقِیُّ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَاَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَقِیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)فَقُلْتُ لَہُ: ھَلْ رَاَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَغَزَوْتُ مَعَہُ اِثْنَتَیْ عَشَرَۃَ غَزَوَۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۲۵۹)
۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں کہیں روانہ ہوا، اس روانگی پر آمادہ کرنے والی چیز سیدنا ابی بن کعب اور دوسرے صحابہ کی ملاقات تھی، پس میں سیدنا صفوان بن عسال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بلکہ میں نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بارہ غزوے بھی کیے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9444

۔ (۹۴۴۴)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَانَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعْنَا لَہُ غِسْلًا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ اَتَیْنَاہُ بِمِلْحَفَۃٍ وَرْسِیَّۃٍ، فَاشْتَمَلَ بِھَا، فَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی اَثَرِ الْوَرْسِ عَلٰی عُکَنِہِ، ثُمَّ اَتَیْنَاہُ بِحِمَارٍ لِیَرْکَبَ فَقَالَ: ((صَاحِبُ الْحِمَارِ اَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِہِ)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالْحِمْارُ لَکَ ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۴۵)
۔ سیدنا قیس بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غسل کا پانی رکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل کیا، پھر ہم زرد سرخی مائل چادر لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اپنے جسم پر لپیٹ لیا، گویا کہ اب بھی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس بوٹی کے نشان دیکھ رہا ہوں، پھر ہم سواری کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک گدھا لائے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گدھے کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پس یہ گدھا ہے ہی آپ کے لیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9445

۔ (۹۴۴۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَنْ اَذَلَّ لِیْ وَلِیًّا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَنْ آذٰی لِیْ وَلِیًّا) فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِیْ، وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِمِثْلِ اَدَائِ الْفَرَائِضِ، وَمَا یَزَالُ الْعَبْدُ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہُ اِنْ سَاَلَنِیْ اَعْطَیْتُہُ، وَاِنْ دَعَانِیْ اَجَبْتُہُ، مَاتَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْئٍ اَنَا فَاعِلُہُ تَرَدُّدِیْ عَنْ وَفَاتِہِ، لِاَنَّہُ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَاَکْرَہُ مَسَائَ تَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۲۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛ جس نے میرے دوست کی توہین کی، ایک روایت میں ہے: جس نے میرے دوست کو تکلیف دی، اس نے میرے ساتھ لڑنے کو حلال سمجھ لیا ہے، اور فرائض کی ادائیگی سے ہی میرا بندہ میرا قرب حاصل کر سکتا ہے، لیکن بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں، پھر جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں اور مجھے جتنا تردّد مؤمن کی وفات پر ہوتا ہے، اتنا کسی اور کام پر نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے غم کو پسند نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9446

۔ (۹۴۴۶)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَیُّ عُرَی الْاِسْلَامِ اَوْسَطُ؟)) قَالُوْا: الصَّلاۃُ، قَالَ: ((حَسَنَۃٌ وَمَا ھِیَ بِھَا۔))، قَالُوْا: الزَّکَاۃُ، قَالَ: ((حَسَنَۃٌ وَمَا ھِیَ بِھَا۔))، قَالُوْا: صِیَامُ رَمَضَانَ، قَالَ: ((حَسَنٌ وَمَا ھُوَ بِہٖ۔))،قَالُوْا: الْحَجُّ،قَالَ: ((حَسَنٌوَمَاھُوَبِہٖ۔))،قَالُوْا: الْجِھَادُ،قَالَ: ((حَسَنٌ وَمَاھُوَ بِہٖ۔)) قَالَ: ((اِنَّ اَوْسَطَ عُرَی الْاِیْمَانِ اَنْ تُحِبَّ فِی اللّٰہِ وَتُبْغِضُ فِی اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۲۳)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام کا کون سا کڑا (یعنی نیک عمل) زیادہ ممتاز اور عالی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نماز ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز بھی اچھا عمل ہے اور اس کے بعد والا کون سا عمل ہے؟ لوگوں نے کہا: جی زکوۃ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زکوۃ بھی اچھا ہے اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: جی رمضان کے روزے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ عمل بھی اچھا ہے، اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: جی حج ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج بھی اچھا عمل ہے اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی جہاد ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاد بھی اچھا عمل ہے، اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود فرمایا: ایمان کا سب سے ممتاز اور اعلی کڑا (یعنی نیک عمل) یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9447

۔ (۹۴۴۷)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ اِلَیْنَا رَسُوْلْ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ اَیُّ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ؟)) قَالَ قَائِلٌ: الصَّلَاۃُ وَالزَّکَاۃُ وَقَالَ قَائِلٌ: الْجِھَادُ، قَالَ: ((اِنَّ اَحَبَّ الْاَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۲۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ ایک آدمی نے کہا: نماز اور زکوۃ، اور کسی نے کہا کہ جہاد ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی جائے اور اُسی کے لیے بغض رکھا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9448

۔ (۹۴۴۸)۔ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ، عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ، اَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلٰی قَوْمٍ، فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ، فَرَدُّوْا عَلَیْہِ السَّلامَ، فَلَمَّا جَاوَزَھُمْ قَال رَجُلٌ مِنْھُمْ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُبْغِضُ ھٰذَا فِی اللّٰہِ، فَقَالَ اَھْلُ الْمَجْلِسِ: فَبِئْسَ وَاللّٰہِ مَا قُلْتَ، اَمَا وَاللّٰہِ لَنُنَبِّئَنَّہُ، قُمْ یَا فُلَانُ! رَجُلٌ مِنْھُمْ، فَاَخْبِرُہُ، قَالَ: فَاَدْرَکَہُ رَسُوْلُھُمْ فَاَخْبَرَہُ بِمَا قَالَ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتّٰی اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْھِمْ فُلانٌ فَسَلَّمْتُ عَلَیْھِمْ فَرَدُّوْا السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزْتُھُمْ اَدْرَکَنِیْ رَجُلٌ مِنْھُمْ فَاَخْبَرَنِیْ اَنَّ فُلَانًا قَالَ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُبْغِضُ ھٰذَا الرَّجُلَ فِی اللّٰہِ، فَادْعُہُ، فَسَلْہُ عَلٰی مَایُبْغِضُنِیْ؟ فَدَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَساَلَہُ عَمَّا اَخْبَرَہُ الرَّجُلُ، فَاعْتَرَفَ بِذٰلِکَ، وَقَالَ: قَدْ قُلْتُ لَہُ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِمَ تُبْغِضُہُ؟)) قَالَ: اَنَا جَارُہُ وَاَنَا بِہٖخَابِرٌ،وَاللّٰہِمَارَاَیْتُہُیُصَلِّیْ صَلَاۃً قَطُّ اِلَّا ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ الَّتِیْیُصَلِّیْھَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ الرَّجُلُ: سَلْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ رَآنِیْ قَطُّ اَخَّرْتُھَا عَنْ وَقْتِھَا، اَوْ اَسَأْتُ الْوُضُوْئَ لَھَا؟ اَوْ اَسَأْتُ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ فِیْھَا؟ فَساَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: واللّٰہِ! مَارَاَیْتُہُیَصُوْمُ قَطُّ اِلَّا ھٰذَا الشَّھْرَ الَّذِیْیَصُوْمُہُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ: فَسَلْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ رَآنِیْ قَطُّ اَفْطَرْتُ فِیْہِ، اَوِ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّہِ شَیْئًا؟ فَسَالَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ مَارَاَیْتُہُیُعْطِیْ سَائِلًا قَطُّ، وَلَارَاَیْتُہُیُنْفِقُ مِنْ مالِہِ شَیْئًا فِیْ شَیْئٍ مِنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِخَیْرٍاِلَّا بِخَیْرٍ اِلَّا ھٰذِہِ الصَّدَقَۃَ الَّتِیْیُؤَدِّیْھَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ: فَسَلْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ کَتَمْتُ مِنَ الزَّکَاۃِ شَیْئًا قَطُّ اَوْ مَاکَسْتُ فِیْھَا طَالِبَھَا؟ قَالَ: فَسَاَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: لا، فقَالَ َلہ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُمْ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہُ خَیْرٌ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۱۳)
۔ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، اس نے سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جوا ب دیا، جب وہ آگے گزر گیا تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس آدمی سے بغض رکھتا ہوں، اہلِ مجلس نے کہا: اللہ کی قسم! تو نے بری بات کی ہے، اللہ کی قسم! ہم ضرور ضرور اس کو بتلائیں گے، او فلاں! کھڑا ہو اور اس کو بتلا کے آ، پس ان کے قاصد نے اس کو شخص کو پا لیا اور ساری بات اس کو بتلا دی، وہ آدمی وہاں سے پھرا اور سیدھا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا پہنچا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں مسلمانوں کی ایک مجلس سے گزرا، ان میں فلاں آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا، جب میں ان سے تجاوز کر گیا تو ان میں سے ایک آدمی مجھے پیچھے سے آ کر ملا اور کہا کہ فلاں آدمی کہہ رہا ہے کہ اللہ کی قسم ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے تجھ سے بغض رکھتا ہے، اے اللہ کے رسول! اب آپ اس کو بلائیں اور پوچھیں کہ کس وجہ سے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بلایا اور اس آدمی کی بتائی ہوئی بات کے بارے میں پوچھا، اس نے اعتراف کر لیا اور کہا: جی اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتا کہ تو اس سے بغض کیوں رکھتا ہے؟ اس نے کہا: جی میں اس کا ہمسایہ ہوں اور اس کے بارے میں باخبر ہوں، اللہ کی قسم! میں نے اس کو دیکھا ہے، یہ صرف فرضی نماز ادا کرتا ہے، جو ہر نیک و بد پڑھ رہا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے ان نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کیا ہے؟ یا میں نے کبھی وضو میں کمی کی ہے؟ یا میں نے رکوع و سجود کو ناقص ادا کیا ہے؟ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب اس سے یہ سوالات کیے تو اس نے منفی میں جواب دیا (یعنی واقعییہ بات تو ہے کہ یہ وقت پر اور مکمل نماز وضو کا اہتمام کرتا ہے)۔ پھر اس اعتراض کرنے والے نے کہا: اللہ کی قسم ہے، میں نے اس کو دیکھا کہ یہ صر ف ماہِ رمضان کے روزے رکھتا ہے، جس کے روزے ہر نیک و بد رکھتا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے رمضان میں کبھی کوئی روزہ چھوڑا ہے، یا روزے کے حق میں کوئی کمی کی ہے؟ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے منفی میں جواب دیا (یعنییہ بات تو ٹھیک کہ یہ آدمی اچھے انداز میں روزے رکھتا ہے)۔ اعتراض کرنے والے نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کو نہیں دیکھا کہ اس نے کسی سائل کو کبھی کوئی چیز دی ہو، یا اللہ کے راستے میں کوئی مال خرچ کیا ہو، ما سوائے اس زکوۃ کے، جو ہر نیک و بد ادا کرتا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے زکوۃ میں سے کبھی کوئی چیز چھپائی ہے، یا زکوۃ لینے والے سے کمی کروائی ہے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اس کے بارے میں پوچھاتو اس نے منفی میں جواب دیا۔ اب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو جا تو، میں نہیں جانتا ہو سکتا ہے کہ وہ تجھ سے بہتر ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9449

۔ (۹۴۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَۃٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْھَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاکَرَ مِنْھَا اخْتَلَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۳۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روحیں اکٹھے کیے ہوئے لشکر ہیں، جن کی وہاں واقفیت ہو گئی، وہ ایک دوسرے سے مانوس ہو جاتی ہیں اور جن میں وہاں اجنبیت اور نا واقفیت ہو گئی، وہ مانوس نہیں ہوتیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9450

۔ (۹۴۵۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ اَحَبَّ (وَقَالَ ھَاشِمٌ: مَنْ سَرَّہُ) اَنْ یَجِدَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ، فَلْیُحِبَّ الْمَرْئَ وَ لَا یُحِبُّہُ اِلَّا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایمان کا ذائقہ پسند کرتا ہو یایہ چیز اس کو خوش کرتی ہو، وہ کسی شخص سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9451

۔ (۹۴۵۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: اَیْنَ الْمُتَحَابُّوْنَ بِجَلَالِیْ؟ اَلْیَوْمَ اُظِلُّھُمْ فِیْ ظِلِّیْیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلِّیْ۔)) (مسند احمد: ۸۴۳۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے جلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں، آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا، جبکہ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9452

۔ (۹۴۵۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا،یَرْفَعُہُ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتَّی تُؤْمِنُوْا، وَلَا تُؤْمِنُوْا حَتّٰی تَحَابُّوْا، اَلاَ اَدُلُّکُمْ عَلٰی رَاْسِ ذٰلِکَ اَوْ مَلَاکِ ذٰلِکَ؟ اَفْشُوْ السَّلَامَ بَیْنَکُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ:) اَلا اَدُلُّکُمْ عَلٰی شَیْئٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْہُ تَحَابَبْتُمْ؟ اَفْشُوْا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۹۰۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے، جب تک ایمان نہیں لاؤ گے اور اس وقت تک ایمان نہیں لا سکو گے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے، کیا میں ایسی چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کر دوں، جو اس محبت کی جڑ اور جوہر ہے؟ آپس میں سلام کو عام کر دو۔ ایک روایت میں ہے: کیا میں ایسی چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جب تم اس کو کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9453

۔ (۹۴۵۳)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ الْجَمُوْعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا یَحِقُّ الْعَبْدُ حَقَّ صَرِیْحِ الْاِیْمَانِ حَتّٰییُحِبَّ لِلّٰہِ وَیُبْغِضَ لِلّٰہِ، فَاِذَا اَحَبَّ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوَلَائَ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَ اِنَّ اَوْلِیَائِیْ مِنْ عِبَادِیْ وَاَحِبَّائِیْ مِنْ خَلْقِی الَّذِیْنَیُذْکَرُوْنَ بِذِکْرِیْ، وَاُذْکَرُ بِذِکْرِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۳۴)
۔ سیدنا عمرو بن جموع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک صریح ایمان کا حق ادا نہیں کر سکتا، جب تک اللہ تعالیٰ کے لیے محبت نہیں کرتا اور اُسی کے لیے بغض نہیں رکھتا، پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے اور اُسی کے لیے بغض رکھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت اور دوستی کا مستحق قرار پاتا ہے اور بیشک میرے اولیاء میرے بندوں میں سے ہوتے ہیں اور میری مخلوق میں سے وہ لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، جن کو میرے ذکر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے اور مجھے ان کے ذکر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9454

۔ (۹۴۵۴)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُتَحَابِّیْنَ لَتُرٰی غُرَفُھُمْ فِی الْجَنَّۃِ کَالْکَوْکَبِ الطَّالِعِ الشَّرَقِیِّ اَوِالْغَرَبِیِّ فَیُقَالُ: مَنْ ھٰؤُلائِ فَیُقَال: ھٰؤُلَائُ الْمُتَحَابُّوْنَ فِی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۵۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے جنت میں بالا خانے اس طرح نظر آئیں گے، جیسے مشرق یا مغرب میں طلوع ہونے والا ستارہ نظر آتا ہے، پس جب کہا جائے گا کہ یہ لوگ کون ہیں، تو جواب دیا جائے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے والے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9455

۔ (۹۴۵۵)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَلْمُتَحَابُّوْنَ بِجَلَالِیْ فِیْ ظِلِّ عَرْشِیْیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۹۰)
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرنے والے اس دن میرے عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9456

۔ (۹۴۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا اَکْرَمَ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۸۲)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بندے سے محبت کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کا اکرام کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9457

۔ (۹۴۵۷)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُؤُمِنُ مَاْلَفَۃٌ وَلَا خَیْرَ فِیْمَنْ لَا یَاْلَفُ وَلَا یُؤْلَفُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۲۸)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن وہ ہے جو مانوس ہوتا ہے اور جس سے مانوس ہوا جاتا ہے اوراس آدمی میں کوئی خیر و بھلائی نہیں جو نہ کسی سے مانوس ہوتا ہے اور نہ کوئی اس سے مانوس ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9458

۔ (۹۴۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِیِّ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ فَاِذَا فِیْہِ نَحْوٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ کَھْلًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا فِیْھِمْ شَابٌّ اَکْحَلُ الْعَیْنَیْنِ، بَرَّاقُ الثَّنَایَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَسَنُ الْوَجْہِ اَدْعَجُ الْعَیْنَیْنِ اَغَرُّ الثَّنَایَا) سَاکِتٌ، فَاِذَا اِمْتَرَی الْقَوْمُ فِیْ شَیْئٍ اَقْبَلُوْا عَلَیْہِ فَسَاَلُوْہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِذَا اخْتَلَفُوْا فِیْ شَیْئٍ فَقَالَ: قَوْلًا اِنْتَھُوْا اِلٰی قَوْلِہِ) فَقُلْتُ لِجَلِیْسٍ لِیْ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَوَقَعَ لَہُ فِیْ نَفْسِیْ حُبٌّ، فکُنْتُ مَعَھُمْ حَتّٰی تَفَرَّقُوْا، ثُمَّ ھَجَّرْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ فَاِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَائِمٌ یُصَلِّیْ اِلٰی سَارِیَۃٍ، فَسَکَتَ لَا یُکَلِّمُنِیْ فَصَلَّیْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَاحْتَبَیْتُ بِرَدَائٍ لِیْ، ثُمَّ جَلَسَ فَسَکَتَ لَا یُکَلِّمُنِیْ، وَسَکَتُّ لَا اُکَلِّمُہُ، ثُمَّ قُلْتُ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُحِبُّکَ، قَالَ: فِیْمَ تُحِبُّنِیْ؟ قَالَ: قُلْتُ: فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فاَخَذَ بِحَبْوَتِیْ فَجَرَّنِیْ اِلَیْہِ ھُنَیَّۃً، ثُمَّ قَالَ: اَبْشِرْ اِنْ کُنْتَ صَادِقًا، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلْمُتَحَابُّوْنَ فِی جَلَالِیْ لَھُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُوْرٍ، یَغْبِطُھُمُ النَّبِیُّوْنَ وَالشُّھَدَائُ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) اَحْسِبُ اَنَّہُ قَالَ: ((فِیْ ظِلِّ اللّٰہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلَّہُ۔)) (وَفِیْ اُخْرٰی) ((یُوْضَعُ لَھُمْ کَرَاسِیُّ مِنْ نُوْرٍ، یَغْبِطُھُمْ بِمَجْلِسِھِمْ مِنَ الرَّبِّ النَّبِیُّوْنَ وَالصِّدِّیْقُوْنَ وَالشُّھَدَائُ۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَلَقِیْتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ فَقُلْتُ:یَا اَبَا الْوَلِیْدِ اَلا اُحَدِّثُکَ بِمَا حَدَّثَنِیْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِی الْمُتَحَابِّیْنَ؟ قَالَ: فَاَنَا اُحَدِّثُکَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْفَعُہُ اِلَی الرَّبِّ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: ((حَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَحَابِّیْنَ فِیَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِی لِلْمُتَزَاوِرِیْنَ فِیَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَبَاذِلِیْنَ فِیَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَوَاصِلِیْنَ فِیَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۳۰)
۔ ابو مسلم خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حمص کی مسجد میں گیا، اس میں تیس بزرگ صحابہ کرام تشریف فرما تھے، ان میں ایسا نوجوان بھی تھا، جس کی آنکھیں سرمگیں اور دانت چمکنے والے تھے، ایک روایت میں ہے: اس کا چہرہ خوبصورت تھا، اس کی آنکھیں سیاہ اور فراخ تھیں اور اس کے دانت چمکنے والے تھے، وہ خاموش بیٹھا ہوا تھا، جب لوگوں میں کوئی اختلاف پڑتا تو وہ اسی نوجوان سے سوال کرتے، میں نے اپنے ساتھ بیٹھنے والے سے کہا: یہ نوجوان کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، میرے دل میں اس کے لیے بڑی محبت پیدا ہوئی، پھر میں ان لوگوں کے ساتھ ہی رہا، یہاں تک کہ وہ متفرق ہو گئے، پھر میں جلدی جلدی مسجد کی طرف آیا اور دیکھا کہ سیدنا معاذ بن جبل ایک ستون کے ساتھ کھڑے نماز ادا کر رہے تھے، پھر وہ خاموش رہے اور مجھ سے کوئی بات نہیں کی، میں نے بھی نماز پڑھی اور اپنی چادر سے گوٹھ مار کر بیٹھ گیا، پھر وہ بھی فارغ ہو کر بیٹھ گئے اور مجھ سے کوئی بات نہیں ہے، میں بھی خاموش رہا اور ان سے کوئی بات نہیں کی، پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں، انھوں نے کہا: تو مجھ سے کیوں محبت کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ کے لیے، پس اس نے میرے گوٹھ کا کپڑا پکڑا اور تھوڑا سا اپنی طرف کھینچ لیا اور پھر کہا: اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو خوش ہو جا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میرے جلال کی وجہ سے محبت کرنے والوں کے نور کے ایسے منبر ہوں گے کہ انبیاء و شہداء کو ان پر رشک آئے گا۔ ایک روایت میںہے: وہ اس دن اللہ کے سائے میںہوں گے، جس دن کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔ ایک اور روایت میں ہے: ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے قریب جو بیٹھک بیٹھیں گے، اس پر انبیائ، صدیقین اور شہداء کو رشک آئے گا۔ پھر میں وہاں سے نکلا اور سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور کہا: اے ابو الولید! آپس میں محبت کرنے والوں کے بارے میں جو حدیث سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کی، کیا میں وہ آپ کو بیان کروں؟ انھوں نے کہا: میں تجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ سے روایت کی، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے وجہ سے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو گئی، میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو گئی ہے، میرے نام پر خرچ کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہوگئی اور میری وجہ سے صلہ رحمی کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہوگئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9459

۔ (۹۴۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ اسْمَعُوْا وَاعْقِلُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عِباَدًا لَیْسُوْا بِاَنْبِیَائَ وَلَا شُھَدَائَ، یُغْبِطُھُمُ الْاَنْبِیَائُ وَالشُّھَدَائُ عَلٰی مَجَالِسِھِمْ وَقُرْبِھِمْ مِنَ اللّٰہِ۔)) فَجَائَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَعْرَابِ مِنْ قَاصِیَۃِ النَّاسِ وَاَلْوٰی بِیَدِہِ اِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ:یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! نَاسٌ لَیْسُوْا بِاَنْبِیَائَ وَلَا شُھَدَائَ،یَغْبِطُھُمُ الْاِنْبِیَائُ وَالشُّھَدَائُ عَلٰی مَجَالِسِھِمْ وَقُرْبِھِمْ مِنَ اللّٰہِ! انْعَتْھُمْ لَنَا، یَعْنِیْ صِفْھُمُ لَنَا، فَسُرَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسُؤَالِ الْاَعْرَابِیِّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُمْ نَاسٌ مِنْ اَفْنَائِ النَّاسِ، وَنوَازِعِ الْقَبَائِلِ، لَمْ تَصِلْ بَیْنَھُمْ اَرْحَامٌ مُتَقَارِبَۃٌ، تَحَابُّوْا فِی اللّٰہِ وَتَصَافَوْا، یَصْنَعُ اللّٰہُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ، فَیُجْلِسُھُمْ عَلَیْھَا، فَیَجْعَلُ وُجُوْھَمُ نُوْرًا، وَثِیَابَھُمْ نُوْرًا، یَفْزَعُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَفْزَعُوْنَ، وَھُمْ اَوْلَیَائُ اللّٰہِ تَعَالَی الَّذِیْنَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۴)
۔ سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو!سنو، سمجھو اور جان لو کہ اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں، جو انبیا ہیں نہ شہدائ، لیکن شہداء و انبیاء اُن پر رشک کریں گے،اس کی وجہ ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب اور اس کے ساتھ مجلس ہو گی۔ دور والے لوگوں سے ایک بدّو آیا اور اپنا ہاتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ڈالا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لوگ ہیں، جو انبیاء ہیں نہ شہدائ، لیکن انبیاء و شہداء ان کی بیٹھکوں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے قرب پر رشک کریں گے، ہمارے لیے ان کی صفات بیان کرو اور ان کو واضح کرو۔ بدّو کے سوال سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ غیر معروف قبائل کے نامعلوم النسب لوگ ہیں، ان کی آپس میں رشتہ داریاں نہیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور آپس میں خالص تعلق رکھتے ہیں، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اُن کے لیے نور کے منبر بنائے گا، ان پر ان کو بٹھائے گا، ان کے چہروں اور کپڑوں کو نور بنائے گا، لوگ قیامت کے دن گھبرائیں گے، لیکن وہ نہیں گھبرائیں گے، یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے اولیاء ہیں کہ (فرمانِ الٰہی کے مطابق) جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9460

۔ (۹۴۶۰)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُحِبُّ ھٰذَا الرَّجُلَ، قَالَ: ((ھَلْ اَعْلَمْتَہُ بِذٰلِکَ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((قُمْ فَاَعْلِمْہُ۔)) قَالَ: فَقَامَ اِلَیْہِ، فَقَالَ:یَا ھٰذَا! وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُحِبُّکَ فِی اللّٰہِ، قَالَ: اَحَبَّکَ الَّذِیْ اَحْبَبْتَنِیْ لَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ) ((قُمْ فَاَخْبِرْہُ تَثْبُتِ الْمَوَدَّۃُ بَیْنَکُمَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۶۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، قوم میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس آدمی سے محبت کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے اس کو اس کے بارے میں بتلایا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو اور اس کو بتلا۔ پس وہ اس کی طرف کھڑا ہوا اور کہا: اے فلاں! اللہ کی قسم! بیشک میں اللہ تعالیٰ کے لیے تجھ سے محبت کرتا ہوں، اس نے کہا: وہ ذات تجھ سے محبت کرے، جس کے لیے تو نے مجھ سے محبت کی ہے۔ ایک روایت میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو اور اس کو خبر دے، تاکہ تم دونوں میں محبت ثابت ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9461

۔ (۹۴۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِذَا اَحَبَّ اَحَدُکُمْ صَاحِبَہُ فَلْیَاْتِہِ فِیْ مَنْزِلِہُ فَلْیُخْبِرْہُ اَنَّہُ یُحِبُّہُ لِلّٰہِ۔)) وَقَدْ جِئْتُکَ فِیْ مَنْزِلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۱۹)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کو اپنے کسی ساتھی سے محبت ہو تو وہ اس کے گھر جائے اور اس کو یہ خبر دے کہ وہ اس سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے۔)) ابو سالم نے ابو امیہ سے کہا: تحقیق میں تیری پاس تیرے گھر آیا ہوں (تاکہ تجھے اپنی محبت کا بتا سکوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9462

۔ (۹۴۶۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ : ((اَلْمُسْلِمُ اَخُوْ الْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہُ وَلَا یَخْذُلُہُ،یَقُوْلُ : وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیِدِہِ مَاتَوَادَّ اثْنَان فَفُرِّقَ بَیْنَھُمَا اِلَّا بِذَنْبٍ یُحْدِثُہُ اَحَدُھُمَا۔)) وَکَانَ یَقُوْلُ : ((لِلْمَرْئِ الْمُسْلِمِ عَلٰی اَخِیْہِ سِتٌّ، یُشَمِّتُہُ اِذَا عَطَسَ، وَیَعُوْدُہُ اِذَا مَرِضَ، وَیَنْصَحُہُ اِذَا غَابَ أَوْ یَشْھَدُہُ وَیُسَلِّمُ عَلَیْہِ اِذَا لَقِیَہُ، وَیُجِیْبُہُ اِذَا دَعَاہُ، وَیَتْبَعُہُ اِذَا مَاتَ۔)) وَنَھٰی عَنْ ھِجْرَۃِ الْمُسْلِمِ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثٍ۔ (مسند احمد: ۵۳۵۷)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا ہے نہ اس کو رسوا کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے، جب آپس میں محبت کرنے والے دو آدمیوں میں جدائی پیدا ہوتی ہے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے گناہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے اس کے بھائی پر چھ حقوق ہیں، جب وہ چھینکے تو اسے یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمارداری کرے، جب وہ غائب ہو یا موجود ہو، ہر صورت میں اس کی خیر خواہی کرے، جب اس کو ملے تو سلام کہے، جب وہ اس کو دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی نمازِ جنازہ کے لیے اس کے پیچھے چلے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ مسلمان اپنے بھائی کو تین دنوں سے زیادہ تک چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9463

۔ (۹۴۶۳)۔ عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ سَلِیْطٍ، قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ اَزْفَلَۃٍ مِنَ النَّاسِ، فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : ((اَلْمُسْلِمُ اَخُوالْمُسْلِمِ، لَا یَظْلِمُہُ وَلَا یَخْذُلُہُ، اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا، (قَالَ حَمَّادٌ: وَقَالَ بِیَدِہِ اِلٰی صَدْرِہِ)، وَمَا تَوَادَّ رَجُلَانِ فِی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَتَفَرَّقَ بَیْنَھُمَا اِلَّا بِحَدْثٍ یُحْدِثُہُ اَحَدُھُمَا، وَالْمُحْدَثُ شَرٌّ، وَالْمُحْدَثُ شَرٌّ، وَالْمُحْدَثُ شَرٌّ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۶۵)
۔ بنوسلیط کے ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ وہ اس کو بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے، تقوییہاں ہے، حماد راوی نے کہا: اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کیا، جب دو آدمی اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں اور پھر ان میں تفریق پیدا ہو جاتی ہے تواس کا سبب گناہ ہوتا ہے، جس کا ان دو میں ایک ارتکاب کرتا ہے اور گناہ شرّ ہے، گناہ شرّ ہے، گناہ شرّ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9464

۔ (۹۴۶۴)۔ عَنْ اَبِی ظَبْیَۃَ، قَالَ: اِنَّ شُرَحْبِیْلَ بْنَ السِّمْطِ دَعَا عَمْرَوبْنَ عَبَسَۃَ السُّلَمِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ:یَا ابْنَ عَبَسَۃَ، ھَلْ اَنْتَ مُحَدِّثِیَّ حَدِیْثًا سَمِعْتَہُ اَنْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْسَ فِیْہِ تَزَیُّدٌ وَلَا کَذِبٌ، وَلَا تُحَدِّثُنِیْہِ عَنْ آخَرَ سَمِعَہُ مِنْہُ غَیْرُکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ : قَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلَّذِیْنِیَتَحَابُّوْنَ مِنْ اَجْلِیْ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلَّذِیْنَیَتَصَافَوْنَ مِنْ اَجْلِیْ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلَّذِیْنَیَتَزَاوَرُوْنَ مِنْ اَجْلِیْ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلَّذِیْنَیَتَبَاذَلُوْنَ مِنْ اَجْلِیْ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلَّذِیْنَیَتَنَاصَرُوْنَ مِنْ اَجْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۶۲)
۔ ابو ظبیہ کہتے ہیں: شرحبیل بن سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا اور کہا: اے ابن عبسہ! کیا تم ایسی حدیث بیان کرسکتے ہو، جو تم نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے اور اس میں کسی زیادتی اور جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو، نیز تم نے وہ حدیث کسی اور آدمی سے بیان نہیں کرنی، جو اُس نے سنی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تحقیق میری محبت ان لوگوںکے لیے ثابت ہو گئی جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی، جو میری وجہ سے آپس میں خالص تعلق رکھتے ہیں، میری محبت کی وجہ سے ایک دوسروں کی زیارت کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی، میری محبت میری وجہ سے خرچ کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری وجہ سے ایک دوسروں کی مدد کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9465

۔ (۹۴۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَرَجَ رَجُلٌ یَزُوْرُ اَخًا لَہُ فِی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فِیْ قَرْیَۃٍ اُخْرٰی، فَاَرْصَدَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِمَدْرَجَتِہِ مَلَکًا، فَلَمَّا مَرَّ بِہٖقَالَ: اَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ: اُرِیْدُ فُلَانًا، قَالَ: لِقَرَابَۃٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلِنِعْمَۃٍ لَہُ عِنْدَکَ تَرُبُّھَا؟ قَالَ:لَا،قَالَ: فَلِمَ تَاْتِیْہِ؟ قَالَ: اِنِّیْ اُحِبُّہُ فِی اللّٰہِ، قَالَ: فَاِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکَ اَنَّہُ یُحِبُّکُ بِحُبِّکَ اِیَّاہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے کسی بھائی کی زیارت کے لیے نکلا، وہ کسی دوسرے گاؤں میں رہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو مقرر کر دیا، پس جب وہ اس کے پاس سے گزرا تو اس فرشتے نے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: جی فلاں کو ملنے کا ارادہ ہے، فرشتے نے کہا: کسی رشتہ داری کی وجہ سے؟ اس نے کہا: جی نہیں، فرشتے نے کہا: تو پھر اس کا تجھ پر کوئی احسان ہے کہ اس کی خاطر تو جا رہا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اس نے پوچھا: تو پھر اس کے پاس کیوں جا رہا ہے؟ اس نے کہا: بیشک میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں، فرشتے نے کہا: دراصل میں تیری طرف اللہ تعالیٰ کا قاصد ہوں اور یہ پیغام لے کر آیا ہوں اس آدمی سے تیری اس محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے محبت کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9466

۔ (۹۴۶۶)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا زَارَ الْمُسْلِمُ اَخَاہُ فِی اللّٰہِ اَوْعَادَہُ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: طِبْتَ وَتَبَوَّاْتَ مِنَ الْجَنَّۃِ مَنْزِلًا۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) بَعْدَ قَوْلِہِ: طِبْتَ(وَطَابَ مَمْشَاکَ)۔ (مسند احمد: ۸۳۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے بھائی کی زیارتیا عیادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پاکیزہ ہوا اور تو نے جنت سے ٹھکانہ تیار کر لیا۔ ایک روایت میں ہے: تو بھی پاکیزہ ہے اور تیرا چلنا بھی پاکیزہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9467

۔ (۹۴۶۷)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ اَخاہُ الْمُسْلِمَ فَھُوَ فِیْ مَخْرَفَۃِ الْجَنَّۃِ وَفِیْ لَفْظٍ فَھُوَ فِیْ اَخْرَافِ الْجَنَّۃِ حَتّٰییَرْجِعَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۰۹)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرنے کے لیے جاتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغوں میں رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9468

۔ (۹۴۶۸)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ عَادَ مَرِیْضًا لَمْ یَزَلْ فِیْ خُرْفَۃِ الْجَنَّۃِ۔))، قِیْلَ: وَمَا خُرْفَۃُ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((جَنَاھَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۴۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی تیمارداری کی، وہ اتنی دیر جنت کے چنے ہوئے میوے میں رہا۔ کسی نے کہا: جنت کے خُرْفَۃ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا چنا ہوا میوہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9469

۔ (۹۴۶۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، قَالَ: جَائَ اَبُوْ مُوْسٰی اِلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّیَعُوْدُہُ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ: اَعَائِدًا جِئْتَ اَمْ شَامِتًا؟ قَالَ: لَا، بَلْ عَائِدًا، قَالَ: فقَالَ لَہُ عَلِیٌّ: اِنْ کُنْتَ جِئْتَ عَائِدًا فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا عَادَ الرَّجُلُ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ، مَشٰی فِیْ خِرَافَۃِ الْجَنَّۃِ حَتّٰییَجْلِسَ، فَاِذَا جَلَسَ غَمَرَتْہُ الرَّحْمَۃُ، فَاِنْ کَانَ غُدْوَۃً صَلّٰی عَلَیْہِ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ حَتّٰییُمْسِیَ، وَاِنْ کَانَ مَسَائً صَلّٰی عَلَیْہِ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ حَتّٰییُصْبِحَ۔)) (مسند احمد: ۶۱۲)
۔ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ابو موسی، سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیمارپرسی کرنے کے لیے آئے، علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے پوچھا: تیمارداری کرنے کے لیے آئے ہو یا مصیبت پر خوش ہونے کے لیے؟ انھوں نے کہا: تیمار داری کرنے کے لیے۔ یہ سن کر علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر آپ واقعی تیمار داری کرنے کے لیے آئے ہیں تو سنیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی بندہ اپنے مسلمان بھائی کی تیمار داری کرنے کے لیے جاتا ہے تو وہ جنت کے چنے ہوئے میووںمیں چل رہا ہوتا ہے اور جب وہ (مریض کے پاس) بیٹھتا ہے تو رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔ اگر یہ صبح کا وقت ہو تو شام تک اور شام کا وقت ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9470

۔ (۹۴۷۰)۔ (ومِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: عَادَ اَبُوْمُوْسَی الْاَشْعَرِیُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ فقَالَ لَہُ عَلِیٌّ: اَعَائِدًا جِئْتَ اَمْ زَائِرًا؟ فَقَالَ اَبُوْ مُوْسٰی: بَلْ جِئْتُ عَائِدًا، فَقَالَ عَلِیٌّ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ عَادَ مَرِیْضًا بُکَرًا شَیَّعُہُ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ، کُلُّھُمْ یَسْتَغِفِرُ لَہُ حَتّٰییُمْسِیَ، وَکَانَ لَہُ خَرِیْفٌ فِی الْجَنَّۃِ، وَاِنْ عَادَہُ مَسَائَ شَیَّعَہُ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ کُلُّھُمْ یَسْتَغْفِرُ لَہُ حَتّٰییُصْبِحَ وَکَانَ لَہُ خَرِیْفٌ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۷۵)
۔ (دوسری سند) عبداللہ بن نافع کہتے ہیں: سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تیمارداری کرنے کے لیے آئے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: عیادت کرنے کے لیے آئے ہو یا محض زیارت کرنے کے لیے؟ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں عیادت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی صبح کے وقت کسی مریض کی تیمارداری کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کو رخصت کرنے کے لیے اس کے ساتھ اس کے مکان تک جاتے ہیں اور یہ سارے فرشتے شام تک اس کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ بن جاتا ہے، اور اگر وہ شام کو عیادت کرتا ہے تو اسی طرح ستر ہزار فرشتے اس کو رخصت کرنے کے لیے جاتے ہیں اور صبح تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ بن جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9471

۔ (۹۴۷۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ اَخَاہُ اِلَّا اِبْتَعَثَ اللّٰہُ لَہُ سَبْعِیْنَ اَلْفَ مَلَکٍ یُصَلُّوْنَ عَلَیْہِ مِنْ اَیِّ سَاعَاتِ النَّھَارِ کَانَ حَتّٰییُمْسِیَ، وَمِنْ اَیِّ سَاعَاتِ اللَّیْلِ کَانَ حَتّٰییُصْبِحَ۔)) (مسند احمد: ۹۵۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مسلمان اپنے بھائی کی تیمار داری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتوں کو بھیجے گا، یہ اس کے لیے دعائے رحمت کریں گے، اگر وہ دن کی کسی گھڑی میں یہ عمل کرے تو دعا کا یہ سلسلہ شام تک اور اگر رات کو عیادت کرے تو یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9472

۔ (۹۴۷۲)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ عَادَ مَرِیْضًا مَشٰی فِیْ خِرَافِ الجَنَّۃِ، فَاِذَا جَلَسَ عِنْدَہُ اسْتَنْقَعَ فِی الرَّحْمَۃِ، فَاِذَا خَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ وُکِّلَ بِہٖسَبْعُوْنَاَلْفَمَلَکٍیَسْتَغْفِرُوْنَ لَہُ ذٰلِکَ الْیَوْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مریض کی عیادت کرتا ہے، وہ جنت کے چنے ہوئے میووں میں چلتا ہے اور جب وہ اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو وہ رحمت میں ٹھہر جاتا ہے، اور جب اس کے پاس سے نکلتا ہے تو ستر ہزار فرشتوں کو اس کے ساتھ مقرر کر دیا جاتا ہے، وہ اس دن اس کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9473

۔ (۹۴۷۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَنَّہُ قَالَ: ((مَرِضْتُ فَلَمْ یَعُدْنِی ابْنُ آدَمَ، وَظَمِئْتُ فَلَمْ یَسْقِنِی ابْنُ آدَمَ فَقُلْتُ: اَتَمْرَضُ یَا رَبِّ؟ قَالَ: یَمْرَضُ الْعَبْدُ مِنْ عِبَادِیْ مِمَّنْ فِی الْاَرْضِ فَـلَا یُعَادُ، فَلَوْ عَادَہُ کَانَ مَایَعُوْدُہُ لِیْ، وَیَظْمَاُ فِی الْاَرْضِ فَـلَا یُسْقٰی، فَلَوْ سُقِیَ کَانَ مَا سَقَاہُ لِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں بیمار ہو گیا، لیکن ابن آدم نے میری عیادت نہیں کی اور میں پیاسا ہو گیا، لیکن ابن آدم نے مجھے پانی نہیں پلایا، میں نے کہا: اے میرے ربّ! کیا تو بھی بیمار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے کہا: زمین میں میرے بندوں میں سے ایک بندہ بیمار ہوا، لیکن اس کی تیمار داری نہیں کی گئی، اگر آدم کا بیٹا اس کی عیادت کرتا تو میرے لیے ہوتی، اسی طرح ایک آدمی کو پیاس لگی، لیکن اس کو پانی نہیں پلایا گیا، اگر اس کو پانی پلایا جاتا تو وہ پلائی ہوئی چیز میرے لیے ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9474

۔ (۹۴۷۴)۔ عَنْ ھَارُوْنَ بْنِ اَبِیْ دَاوٗدَ،حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ: اَتَیْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، فَقُلْتُ: یَا اَبَاحَمْزَۃَ، اِنَّ الْمَکَانَ بَعِیْدٌ وَنَحْنُ یُعْجِبُنَا اَنْ نَعُوْدَکَ، فَرَفَعَ رَاْسَہَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَیُّمَا رَجُلٍ یَعُوْدُ مَرِیْضًا فاِنّمَا یَخُوْضُ فِی الرَّحْمَۃِ، فَاِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِیْضِ غَمَرَتْہُ الرَّحْمَۃُ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا لِلصَّحِیْحِ الَّذِیْیَعُوْدُ الْمَرِیْضَ، فَالْمَرِیْضُ مَا لَہُ؟ قَالَ: ((تُحَطُّ عَنْہُ ذُنُوْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۸۱۳)
۔ ابو داود کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور کہا: اے ابو حمزہ! گھر تو دور ہے، لیکن ہمیں یہ بات بڑی اچھی لگتی ہے کہ ہم تمہاری عیادت کریں، انھوں نے اپنا سر اٹھایا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی کسی مریض کی تیمار داری کرنے کے لیے جاتاہے، وہ رحمت میں داخل ہوتاہے، اور جب اس مریض کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ثواب تو عیادت کرنے والے صحت مند کے لیے ہے، مریض کے لیے کیا اجر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9475

۔ (۹۴۷۵)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَادَ مَرِیْضًا خَاضَ فِی الرَّحْمَۃِ، فَاِذَا جَلَسَ عِنْدَہُ اسْتَنَقَعَ فِیْھَا وقَدِ اسْتَنْقَعْتُمْ اِنْ شَائَ اللّٰہُ فِی الرَّحْمَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۹۰)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی تیمار داری کی، وہ رحمت میں داخل ہوا اور جو اس کے پاس بیٹھ گیا، وہ رحمت میں گھس گیا اور تحقیق تم ان شاء اللہ رحمت میں ٹھہر گئے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9476

۔ (۹۴۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُوْدُوْا الْمَرِیْضَ وَامْشُوْا فِی الْجَنَائِزِ تُذَکِّرْکُمْ الْآخِرَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۹۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مریض کی تیماری داری کیا کرو اور جنازوں کے ساتھ چلا کرو، یہ آخرت کو یاد دلاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9477

۔ (۹۴۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَائِدُ الْمَرِیْضِیَخُوْضُ فِی الرَّحْمَۃِ، وَوَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ عَلٰی وَرِکِہِ ثُمَّ قَالَ: ھٰکَذَا مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، وَاِذَا جَلَسَ عِنْدَہُ غَمَرَتْہُ الرَّحْمَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۶۵)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مریض کی عیادت کرنے والا رحمت میں گھس جاتا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سرین پر رکھا اور فرمایا: آتے ہوئے بھی اور جاتے ہوئے بھی، پھر جب وہ اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9478

۔ (۹۴۷۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یَعُوْدُ مَرِیْضًا لَمْ یَحْضُرْ اَجَلُہُ، فَیَقُوْلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: اَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَشْفِیْکَ اِلَّا عُوْفِیَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بندہ ایسے مریض کی تیمارداری کرتا ہے، جس کی موت کا وقت نہیں آ چکا ہوتا، اور سات دفعہ یہ دعا پڑھتا ہے: اَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَشْفِیْکَ، تو اس کو شفا مل جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9479

۔ (۹۴۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا جَائَ الرَّجُلُ یَعُوْدُ مَرِیْضًا قَالَ: اَللّٰھُمَّ اشْفِ عَبْدَکَ، یَنْکَاُ لَکَ عَدُوًّا، وَیَمْشِیْ لَکَ اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے تو وہ یہ کلمات کہے: اَللّٰھُمَّ اشْفِ عَبْدَکَ، یَنْکَاُ لَکَ عَدُوًّا، وَیَمْشِیْ لَکَ اِلَی الصَّلَاۃِ (اے اللہ! اپنے بندے کو شفا عطا فرما، یہتیرے لیے دشمن کو زخمی کر کے مارے گا اور تیرے لیے نماز کی طرف چلے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9480

۔ (۹۴۸۰)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْ تَمَامِ عِیَادَۃِ الْمَرِیْضِ اَنْ یَضَعَ اَحَدُکُمْ یَدَہُ عَلٰی جَبْھَتِہِ اَوْ یَدِہِ فَیَسْاَلُ کَیْفَ ھُوَ، وَتَمَامُ تَحَیَّاتِکُمْ بَیْنَکُمُ الْمُصَافَحَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۹۱)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مریض کی عیادت کا مکمل طریقہیہ ہے کہ بندہ اپنا ہاتھ اُس کی پیشانییا ہاتھ پر رکھے اور پھر پوچھے کہ اس کا کیاحال ہے اور مکمل سلام یہ ہے کہ مصافحہ بھی کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9481

۔ (۹۴۸۱)۔ عَنْ عََائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کاَنَ اِذَا عَادَ مَرِیْضًا قَالَ: ((اَذْھَبِ الْبَاْسَ، رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ اِنَّکَ اَنْتَ الشَّافِیْ، وَلَا شِفَائَ اِلَّا شِفَاؤُکَ، شِفَائً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۸۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی مریض کی عیادت کرتے تو یہ دعا کرتے تھے: اَذْھَبِ الْبَاْسَ، رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ اِنَّکَ اَنْتَ الشَّافِیْ، وَلَا شِفَائَ اِلَّا شِفَاؤُکَ، شِفَائً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا (اے لوگوں کے ربّ! بیماری کو دور کر دے اور شفا دے دے، بیشک تو ہی شفا دینے والا ہے، اور نہیں ہے کوئی شفا، ما سوائے تیری شفا کے، ایسی شفا عطا فرما، جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9482

۔ (۹۴۸۲)۔ عَنْ اُمِّ سَلْمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِذَا حَضَرْتُمُ الْمَیِّتَ، اَوِالْمَرِیْضَ، فَقُوْلُوْا: خَیْرًا، فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَیُؤَمِّنُوْنَ عَلٰی مَاتَقُوْلُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۷۵)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میتیا مریض کے پاس حاضر ہو تو خیر والی باتیں کیا کرو، کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو، اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9483

۔ (۹۴۸۳)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی اَعْرَابِیٍّیَعُوْدُہُ وَھُوَ مَحْمُوْمٌ، فَقَالَ: ((کَفَّارَۃٌ وَطَھُوْرٌ۔))، فَقَالَ الْاَعْرَابِیُّ: بَلْ حُمّٰی تَفُوْرُ، عَلٰی شَیْخٍ کَبِیْرٍ، تُزِیْرُہُ الْقُبُوْرَ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَتَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۵۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو کو بخارتھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس گئے اور فرمایا: کفارہ بننے والا ہے اور پاک کرنے والا ہے۔ لیکن اس بدّو نے کہا: نہیں، بلکہ یہ بخار ہے، جو بوڑھے آدمی پر ابل رہا ہے اور اس کو قبریں دکھا رہا ہے، اس کییہ بات سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے اور اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔

آیت نمبر