Musnad Ahmad

Search Results(1)

16)

16) موزوں پر مسح کرنے کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 757

۔ (۷۵۷)۔عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: أَتَیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ المُرَادِیَّ ؓ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّینِ فَقَالَ: کُنَّا نَکُوْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَأْمُرُنَا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ اِلَّا مِن جَنَابَۃٍ وَلَکِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ، وَجَائَ أَعْرَابِیٌّ جَہْوَرِیُّ الصَّوْتِ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! الرَّجُلُ یُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا یَلْحَقْ بِہِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((الْمَرْئُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۶۰)
زر بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال ؓ کے پاس گیا اور موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ہوتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم سفر میں پائخانہ، پیشاب اور نیند کی وجہ سے تین دنوں تک موزوں نہ اتارا کریں، البتہ جنابت سے اتارنا پڑیں گے۔ اتنے میں ایک بلند آواز والا بدّو آیا اور اس نے کہا: اے محمد! ایک آدمی ، ایک قوم سے محبت تو رکھتا ہے، لیکن وہ ابھی تک اس کو ملا نہیں ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: آدمی ان کے ساتھ ہو گا، جن سے وہ محبت رکھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 758

۔ (۷۵۸)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَکُونُ بِالْبَادِیَۃِ فَتَخْرُجُ مِنْ أَحَدِنَا الرُّوَیْحَۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، اِذَا فَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَتَوَضَّأْ وَلَا تَأْتُوا النِّسَائَ فِی أَعْجَازِہِنَّ، وَقَالَ مَرَّۃً: فِی أَدْبَارِہِنَّ)) (مسند أحمد:۶۵۵)
سیدنا علی بن طلق ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جنگل میں ہوتے ہیں اور کسی کی ہوا نکل جاتی ہے، (ایسے میں کیا کریں)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق کو بیان کرنے سے نہیں شرماتا، جب تم میں کوئی اس طرح کرتا ہے تو وہ وضو کیا کرے اور عورتوں کو پشت سے استعمال نہ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 759

۔ (۷۵۹)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَالَ: رَأَیْتُ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ ؓ یَشُمُّ ثَوْبَہُ، فَقُلْتُ لَہُ: مِمَّ ذَالِکَ؟ فَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا وُضُوئَ اِلَّا مِنْ رِیْحٍ أَوْ سِمَاعٍ)) (مسند أحمد: ۱۵۵۹۱)
محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سیدنا سائب بن خباب ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے کو سونگ رہے تھے، میں نے کہا: ایسے کیوں کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: صرف بدبوسے یا ہوا کی آواز سن لینے سے وضو ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 760

۔ (۷۶۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا وُضُوْئَ اِلَّا مِنْ حَدَثٍ أَوْ رِیْحٍ۔)) (مسند أحمد: ۹۳۰۲)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کرنا نہیں ہے، مگر ہوا کی آواز سے یا بو پا لینے سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 761

۔ (۷۶۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تُقْبَلُ صَلَاۃُ مَنْ أَحْدَثَ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ۔)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ حَضَرَمَوْتَ: مَا الْحَدَثُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ؟ قَالَ: فُسَائٌ أَوْ ضُرَاطٌ۔ (مسند أحمد: ۸۰۶۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بے وضو ہو جانے والا جب تک وضو نہیں کرے گا، اس وقت تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ یہ سن کر حضرموت کے ایک باشندے نے ان سے سوال کیا: اے ابوہریرہ! حَدَث سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 762

۔ (۷۶۲)۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: أَتَتْ سَلْمٰی مَوْلَاۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ امْرَأۃُ أَبِیْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَسْتَأْذِنُہُ عَلٰی أَبِیْ رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَہَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَبِیْ رَافِعٍ: ((مَالَک وَلَہَا یَا أَبَا رَافِعٍ؟)) قَالَ: تُؤْذِیْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِمَ آذَیْتِیْہِ یَا سَلْمٰی؟)) قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا آذَیْتُہُ بِشَیْئٍ وَلَکِنَّہُ أَحْدَثَ وَہُوَ یُصَلِّیْ، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا رَافِعٍ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِیْنَ اِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِہِمُ الرِّیَحُ أَن یَتَوَضَّأَ، فَقَامَ فَضَرَبَنِیْ، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضْحَکُ وَیَقُوْلُ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! اِنَّہَا لَمْ تَأْمُرْکَ اِلَّا بِخَیْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۸۷۰)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ کی لونڈی یا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غلام سیدنا ابو رافعؓکی بیوی سیدہ سلمی اپنے خاوند کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں، اس نے اس کو مارا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا ابو رافعؓ سے فرمایا: ابو رافع! تیرا اور اس کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سلمی! تو نے اس کو کون سی تکلیف دی ہے ؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو کوئی تکلیف نہیں دی، یہ بات ضرور ہوئی کہ نماز کے اندر اس کا وضو ٹوٹ گیا، اس لیے میں نے اس سے کہا: اے ابو رافع! بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ وضو کیا کرے، لیکن یہ کہنا تھا کہ انھوں نے اٹھ کر مجھے مارنا شروع کر دیا، رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یہ سن کر مسکرانے لگ گئے اور یہ فرمانے لگے: ابو رافع! اس نے تو تجھے خیر کا ہی حکم دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 763

۔ (۷۶۳)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَمَّا الْمَنِیُّ فَفِیْہِ الْغُسْلُ وَأَمَّا الْمَذِیُّ فَفِیْہِ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۲)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی، اس کے بارے میں میرے سوال پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مَنِی میں غسل ہوتا ہے اور مذی میں وضوہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 764

۔ (۷۶۴)۔عَنْ عَائِشَۃَؓقَالَتْ: أَتَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِیْ حُبَیْشٍ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: اِنِّیْ اُسْتُحِضْتُ، فَقَالَ: ((دَعِی الصَّلٰوۃَ أَیَّامَ حَیْضَتِکِ ثُمَّ اغْتَسِلِیْ وَتَوَضَّئِیْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَاِنْ قَطَرَ عَلٰی الْحَصِیرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۶۴۶)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں اور کہا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دیا کر، پھر غسل کر کے نماز پڑھا کر اور ہر نماز کے لیے وضو کیا کر، اگرچہ اس خون کے قطرے چٹائی پرگرتے رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 765

۔ (۷۶۵)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ فِی صَلَاتِہِ حَرْکَۃً فِیْ دُبُرِہِ فَأَشْکَلَ عَلَیْہِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ یُحْدِثْ فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوتًا أَوْ یَجِدَ رِیْحًا۔)) (مسند أحمد: ۹۳۴۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی دُبُر میں کوئی حرکت پائے، جس کی وجہ سے وہ اِس اشکال میں پڑ جائے کہ وہ بے وضو ہو گیا ہے یا نہیں، تو ایسی صورت میں وہ (وضو کے لیے) اس وقت تک نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پالے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 766

۔ (۷۶۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ أَحَدَکُمْ اِذَا کَانَ فِی الصَّلٰوۃِ جَائَ ہُ الشَّیْطَانُ فَأَبَسَّ بِہٖ کَمَا یَبُسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِہِ فَاِذَا سَکَنَ لَہُ أَضْرَطَ بَیْنَ اِلْیَتَیْہِ لِیَفْتِنَہُ عَنْ صَلَاتِہِ، فَاِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ مِنْ ذَالِکَ فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ یَجِدَ رِیْحًا لَا یَشُکُّ فِیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۵۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کو وسوسے میں ڈالنے لیے کے اس کے پاس آ کر وہ اس طرح مختلف حیلے استعمال کرتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور کو روکنے کے لیے بِس بِس کرتا ہے، جب وہ بندہ اس (شیطان سے) مانوس ہو جاتا ہے تو وہ اس کے سرینوں میں گوزمارتا ہے، تاکہ وہ اس کو نماز کے سلسلے میں فتنے میں ڈال دے۔ (تو یاد رکھو کہ) جب تم میں کوئی آدمی اس چیز کو محسوس کرے تو وہ اس وقت تک (وضو کے لیے) نہ جائے، جب تک واضح طور پر آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 767

۔ (۷۶۷)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّیطَانَ یَأْتِیْ أَحَدَکُمْ وَہُوَ فِی الصَّلَاۃِ فَیَاخُذُ شَعْرَہُ مِنْ دُبُرِہِ فَیَمُدُّہَا فَیَرَی أَنَّہُ قَدْ أَحْدَثَ، فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ یَجِدَ رِیْحًا۔)) (مسند أحمد: ۱۱۹۳۴)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس کی دُبُر کے بَالَ پکڑ کر کھینچتا ہے، اس سے بندے کو یہ وہم ہو نے لگتا ہے کہ وہ ہوا خارج ہونے کی وجہ سے بے وضو ہو گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کوئی آدمی وضو کے لیے اس وقت تک نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 768

۔ (۷۶۸)۔عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَمِّہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ) ؓ، أَنَّہُ شَکَا اِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجِدُ الشَّیئَ فِی الصَّلَاۃِ یُخَیَّلُ اِلَیہِ أَنَّہُ قَدْ کَانَ مِنْہُ، فَقَالَ: ((لَا یَنْفَتِلُ حَتَّی یَجِدَ رِیحًا أَو یَسْمَعَ صَوتًا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ شکایت کی ہے کہ وہ نماز کے اندر (وضو توڑ دینے والی) ایسی چیز پاتا ہے کہ اس کو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ واقعی کچھ ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسی صورتحال میں وہ جب تک بو نہ پا لے یا آواز نہ سن لے، اس وقت تک نماز سے نہ پھرے۔

آیت نمبر