MUSNAD AHMED

Search Results(1)

160)

160) مجالس اور ان کے آداب کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9484

۔ (۹۴۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ فِی الطُّرُقَاتِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَالَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِیْھَا، قَالَ: ((فَاَمَّا اِذَا اَبَیْتُمْ فَاَعْطُوْا الطَّرِیْقَ حَقَّہُ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا حَقُّ الطَّرِیْقِ؟ قَالَ: ((غَضُّ الْبَصَرِ، وَکَفُّ الْاَذٰی، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ، وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۲۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری مجلسوں کے لیے اس سے کوئی چارۂ کار نہیں ہے، ہم نے راستوں پر باتیں کرنا ہوتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے انکار ہی کرنا ہے تو پھر راستے کو اس کا حق دیا کرو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نگاہ جھکا کر رکھنا، تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9485

۔ (۹۴۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۸۰)
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9486

۔ (۹۴۸۶)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی مَجْلِسٍ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقَالَ: ((اِنْ اَبَیْتُمْ اِلَّا اَنْ تَجْلِسُوْا فَاھْدُوْا السَّبِیْلَ وَرُدُّوْا السَّلَامَ وَاَعِیْنُوْا الْمَظْلُوْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۹۱)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصاریوں کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اگر تم نے راستوں میں بیٹھنا ہی ہے تو مسافر کی رہنمائی کیا کرو، سلام کا جواب دیا کرو اور مظلوم کی مدد کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9487

۔ (۹۴۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍِ بْنِ عَمْرٍو الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ عَلَی الصُّعُدَاتِ، فَمَنْ جَلَسَ مِنْکُمْ عَلَی الصَّعِیْدِ فَلْیُعْطِہِ حَقَّہُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا حَقُّہُ؟ قَالَ:((غُضُوْضُ الْبَصَرِ، وَرَدُّ التَّحِیَّۃِ، وَاَمْرٌ بِمَعْرُوْفٍ، وَنَھْیٌ عَنْ مُنْکَرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۰۵)
۔ سیدنا ابو شریح بن عمرو خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: راستوں پر بیٹھنے سے بچو، اگر کوئی راستے میں بیٹھنا چاہے تو وہ اس کا حق ادا کرے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نظر کو جھکا کر رکھنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9488

۔ (۹۴۸۸)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ عَمْرَۃَ الْاَنْصَارِیِّ، قَالَ: اُخْبِرَ اَبُوْ سَعِیْدٍ بِجَنَازَۃٍ فَعَادَ وَقَدْ تَخَلَّفَ، حَتّٰی اِذَا اَخَذَ النَّاسُ مَجَالِسَھُمْ ثُمَّ جَائَ، فَلَمَّا رَآہُ الْقَوْمُ تَشَذَّبُوْا عَنْہُ فَقَامَ بَعْضُھُمْ لِیَجْلِسَ فِیْ مَجْلِسٍ فَقَالَ: لَا، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ خَیْرَ الْمَجَالِسِ اَوْسَعُھَا۔)) ثُمَّ تَنَحّٰی وَجَلَسَ فِیْ مَجْلِسٍ وَاسِعٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۵۴)
۔ عبد الرحمن بن ابی عمرہ انصاری کہتے ہیں: سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایک جنازے کا بتایا گیا، اس سے وہ لوٹے اور پھر مجلس سے اتنے پیچھے رہ گئے کہ لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، جب لوگوں نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو وہ منتشر ہو گئے اور بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو چاہیے کہ اس مجلس میں بیٹھ جائیں، لیکن انھوں نے کہا: جی نہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک بہترین مجلس وہ ہوتی ہے، جو وسیع ہو۔ پھر وہ علیحدہ ہوئے اور ایک وسیع مجلس میں بیٹھ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9489

۔ (۹۴۸۹)۔ عَنْ اَبِیْ عَیَّاضٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی اَنْ یَّجْلِسَ بَیْنَ الضَّحِّ وَالظِّلِّ وَقَالَ: ((مَجْلِسُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۹۹)
۔ صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آدمی کو اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو اور کچھ سائے میں اور فرمایا: یہ تو شیطان کی بیٹھک ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9490

۔ (۹۴۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا کاَنَ اَحَدُکُمْ جَالِسًا فِی الشَّمْسِ فَقَلَصَتْ عَنْہُ، فَلْیَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دھوپ میں بیٹھا ہو اور پھر دھوپ اس سے ہٹ جائے تو اس کو چاہیے کہ اس مجلس سے پھر جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9491

۔ (۹۴۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَجَالِسَ ثَلَاثَۃٌ سَالِمٌ، وَغَانِمٌ، وَشَاجِبٌ)) (مسند احمد: ۱۱۷۴۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجلسیں تین قسم کی ہوتی ہیں، سلامتی والی، غنیمت والی اور بے تکی باتوں اور بک بک والی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9492

۔ (۹۴۹۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَجَالِسُ بِالْاَمَانَۃِ اِلَّا ثَلَاثَۃَ مَجَالِسَ، مَجْلِسٌ یُسْفَکُ فِیْہِ دَمٌ حَرَامٌ، وَمَجْلِسٌ یُسْتَحَلُّ فِیْہِ فَرْجٌ حَرَامٌ، وَمَجْلِسٌ یُسْتَحَلُّ فِیْہِ مَالٌ مِنْ غَیِْرِ حَقٍّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۴۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجالسیں امانت کے ساتھ ہوتی ہیں، ما سوائے تین مجلسوں کے، (۱) وہ مجلس جس میں حرام خون بہایا جائے، (۲) وہ مجلس جس میں حرام شرمگاہ کو حلال سمجھ لیا جائے اور (۳) وہ مجلس جس میں بغیر کسی حق کے مال کو حلال سمجھا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9493

۔ (۹۴۹۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا مِنْ قَوْمٍ جَلَسُوْا مَجْلِسًا لَمْ یَذْکُرُوْا اللّٰہَ فِیْہِ، اِلَّا رَاَوْہُ حَسْرَۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۹۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مجلس میں لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے، وہ قیامت والے دن اس مجلس کو اپنے لیے باعث ِ حسرت خیال کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9494

۔ (۹۴۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، وَیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا کَانَ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَاِنْ دَخَلُوْا الْجَنَّۃَ لِلثَّوَابِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۶۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں نہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور نہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر دورود بھیجتے ہیں تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لیے باعث ِ حسرت ہو گی، اگرچہ وہ دوسرے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9495

۔ (۹۴۹۵)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ ثُمَّ تَفَرَّقُوْا لَمْ یَذْکُرُوْا اللّٰہَ، کَاَنّمَا تَفَرَّقُوْا عَنْ جِیْفَۃِ حِمَارٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۱۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ کہیں جمع ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیے بغیر منتشر ہو جائیں، تو وہ ایسے ہی ہوں گے جیسے مرے ہوئے گدھے کے پاس سے اٹھے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9496

۔ (۹۴۹۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا اِذَا جِئْناَ اِلَیْہِیَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَلَسَ اَحَدُنَا حَیْثُیَنْتَھِیْ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۴۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آتے تھے تو جہاں مجلس ختم ہو رہی ہوتی تھی، وہیں بیٹھ جاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9497

۔ (۹۴۹۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِہِ، فَیَجْلِسَ فِیْہِ، وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی مجلس سے کھڑا نہ کرے، اور پھر وہ خود وہاں بیٹھ جائے، البتہ کھلے اور وسیع ہو جایا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9498

۔ (۹۴۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِہِ، وَلٰکِنِ افْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰہُ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۴۴۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی شخص کو اس کی مجلس سے کھڑا نہ کیا کرے، البتہ کھلے ہو جایا کرو، اللہ تعالیٰ بھی وسعت پیدا کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9499

۔ (۹۴۹۹)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی الْحَسَنِ الْبَصَرِیِّ،یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، اَنَّہُ دُعِیَ اِلٰی شَھَادَۃٍ مَرَّۃً، فَجَائَ اِلٰی الْبَیْتِ، فَقَامَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِہِ، فَقَالَ: نَھَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا قَامَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِہِ اَنْ یَجْلِسَ فِیْہِ، وَعَنْ اَنْ یَمْسَحَ الرَّجُلُ یَدَہُ بِثَوْبِ مَنْ لَا یَمْلِکُ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۴)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ان کو گواہی کے لیے بلایا گیا، پس وہ گھر آئے اور ایک آدمی ان کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا، لیکن انھوں نے کہا: جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو اس کی جگہ میں بیٹھ جانے سے منع کیا اور اس سے بھی منع فرمایا کہ آدمی ایسے شخص کے کپڑے سے ہاتھ صاف کرے، جس کا وہ مالک نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9500

۔ (۹۵۰۰)۔ عَنْ اَبِی الْخَصِیْبِ، قَالَ: کُنْتُ قَاعِدًا، فَجَائَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِہِ لَہُ، فَلَمْ یَجْلِسْ فِیْہِ، وَقَعَدَ فِیْ مَکَانٍ آخَرَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَاکَانَ عَلَیْکَ لَوْ قَعَدْتَ؟ فَقَالَ: لَمْ اَکُنْ اَقْعُدُ فِیْمَقْعَدِکَ وَلَا مَقْعَدِ غَیْرِکَ بَعْدَ شَیْئٍ شَھِدْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِہِ، فَذَھَبَ لِیَجْلِسَ فِیْہِ، فَنَھَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۵۵۶۷)
۔ ابو خصیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما تشریف لائے، ایک آدمی ان کو جگہ دینے کے لیے اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا، لیکن وہ اس جگہ میں نہیں، بلکہ کسی اور جگہ میں بیٹھ گئے، اس آدمی نے کہا: اگر تم میری جگہ میں بیٹھ جاتے تو تم پر کوئی حرج تو نہیں تھا؟ انھوں نے کہا: نہ میں نے تیری بیٹھک میں بیٹھنا اور نہ کسی اور کی بیٹھکمیں، اس چیز کے بعد میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں دیکھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، تو ایک آدمی اس کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا اور وہ اس کی جگہ میں بیٹھنے لگا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وہاں بیٹھنے سے منع فرما دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9501

۔ (۹۵۰۱)۔ عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ، اَنَّہُ قَالَ لِِاَبِیْ قِلَابۃَ: دَخَلَتُ اَنَا وَاَبُوْکَ عَلَی ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَحَدَّثَنَا اَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَلْقَی لَہُ وِسَادَۃً مِنْ اَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ، فَلَمْ اَقْعُدْ عَلَیْھَا، بَقِیَتْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ۔ (مسند احمد: ۵۷۱۰)
۔ ابو ملیح سے مروی ہے، انھوں نے ابو قلابہ سے کہا: میں اور تمہارے ابو، ہم دو سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس گئے، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لے چمڑے کا تکیہ رکھا، اس کا بھراؤ کھجور کے پتے تھے، لیکن وہ اس پر نہ بیٹھے اور وہ تکیہ ان کے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان پڑا رہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9502

۔ (۹۵۰۲)۔ عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ، قَالَ: جَلَسْتُ اِلَی ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَمَعَہُ رَجُلٌ یُحَدِّثُہُ، فَدَخَلْتُ مَعَھُمَا، فَضَرَبَ بِیَدِہِ صَدْرِیْ، وَقَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا تَنَاجَی اثْناَنِ فَـلَا تَجْلِسْ اِلَیْھِمَا حَتّٰی تَسْتَاْذِنَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۵۹۴۹)
۔ سعید مقبری کہتے ہیں: میں آیا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ بیٹھ گیا، جبکہ ان کے ساتھ ایک اور آدمی گفتگو کر رہا تھا، جب میں ان کے ساتھ داخل ہوا تو سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے میری چھاتی پر ہاتھ مارا اور کہا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی سرگوشی کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھ،یہاں تک کہ تو ان سے اجازت لے لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9503

۔ (۹۵۰۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَۃً فَـلَا یَتَنَاجَ اثْنَانِ دَوْنَ صَاحِبِھِمَا، فَاِنَّ ذٰلِکَ یُحْزِنُہُ (وَفِیْ لَفْظٍ) لَا یَتَسَارَّ اثْنَانِ دُوْنَ الثَّالِثِ اِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَھُمْ غَیْرُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہیہ چیز اس کو پریشان کرے گی۔ ایک روایت میں ہے: دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر راز دارانہ بات نہ کریں، جب ان کے ساتھ کوئی اور نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9504

۔ (۹۵۰۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَتَنَاجَی اثْنَانِ دُوْنَ الثَّالِثِ اِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَھُمْ غَیْرُھُمْ۔ قَالَ: وَنَھٰی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُخَالِفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِیْ مَجْلِسِہِ۔ وَقَالَ: ((اِذَا رَجَعَ فھُوَ اَحَقُّ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۴۸۷۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی کرنے لگ جائیں، جب ان کے ساتھ اور کوئی نہ ہو، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ اس آدمی کی جگہ میں بیٹھا جائے جو (عارضی طور پر) مجلس سے اٹھ کر جائے، اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ایسا آدمی لوٹے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9505

۔ (۹۵۰۵)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَۃً فَـلَا یَنْتَجِیْ اثْنَانِ دُوْنَ صَاحِبِھِمَا۔)) قَالَ: قُلْنَا: فَاِنْ کَانُوْا اَرْبَعًا؟ قَالَ: فَـلَا یَضُرُّ۔ (مسند احمد: ۴۶۸۵)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کیا کریں۔ ابو صالح راوی نے کہا: اگر چار افراد ہوں تو؟ انھوں نے کہا: تو پھر یہ چیز نقصان نہیں دے گی (یعنی پھر کوئی حرج نہیں ہو گا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9506

۔ (۹۵۰۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَدَّثَ فِیْ مَجْلِسٍ بِحَدِیْثٍ ثُمَّ الْتَفَتَ فَھِیَ اَمَانَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس بندے نے مجلس میں کوئی بات کی اور پھر وہ اِدھر اُدھر متوجہ ہوا تو وہ بات امانت ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9507

۔ (۹۵۰۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ مِنْ مَجْلِسِہِ ثُمَّ رَجَعَ اِلَیْہِ فَھُوَ اَحَقُّ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۳۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنی مجلس سے چلا جائے اور پھر واپس آ جائے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9508

۔ (۹۵۰۸)۔ عَنْ وَھْبِ بْنِ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ مِنْ مَجْلِسِہِ فَرَجَعَ اِلَیْہِ فَھُوَ اَحَقُّ بِہٖ،وَاِنْکَانَتْلَہُحَاجَۃٌ فَقَامَ اِلَیْھَا ثُمَّ رَجَعَ فَھُوَ اَحَقُّ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۵۵۶۵)
۔ سیدنا وہب بن حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنی مجلس سے چلا جائے اور پھر واپس لوٹ آئے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، اگر ایسا آدمی کسی ضرورت کی وجہ سے مجلس سے چلا جاتا ہے اور پھر واپس آجاتا ہے تو وہی اس مقام پر بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9509

۔ (۹۵۰۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ خَرَجَ عَلٰی اَصْحَابِہٖ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَھُمْ حِلَقٌ) فَقَالَ: ((مَالِیْ اَرَاکُمْ عِزِیْنَ؟)) وَھُمْ قُعُوْدٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۶۶)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کے پاس گئے، ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور وہ حلقوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم مجھے مختلف گروہوں کی صورت میں نظر آ رہے ہو۔ جبکہ وہ بیٹھے ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9510

۔ (۹۵۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ مِجْلَزٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، فِی الَّذِیْیَقْعُدُ فِیْ وَسْطِ الْحَلْقَۃِ قَالَ: مَلْعُوْنٌ عَلٰی لِسَانِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْلِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۲)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حلقے کے وسط میں بیٹھنے والے آدمی کے بارے میں کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان کے مطابق ایسے شخص پر لعنت کی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9511

۔ (۹۵۱۱)۔ عَنْ حَرْمَلَۃَ الْعَنْبَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْصِنِیْ؟ قَالَ: ((اِتَّقِ اللّٰہَ، وَاِذَا کُنْتَ فِیْ مَجْلِسٍ فَقُمْتَ مِنْہُ فَسَمِعْتَھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا یُعْجِبُکَ فَاْتِہِ، وَاِذَا سَمِعْتَھُمْیَقُوْلُوْنَ مَاتَکْرَہُ فَاتْرُکْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۲۷)
۔ سیدنا حرملہ عنبری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وصیت فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈر اور جب تو کسی مجلس میں بیٹھا ہوا ہو اور پھر ا س سے اٹھنے لگے، لیکن جب تو سنے کہ وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں جو تجھے پسند ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھا رہ، اور جب تو ان کو ایسی باتیں کرتے ہوئے سنے، جو تجھے ناپسند ہوں تو اس مجلس کو چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9512

۔ (۹۵۱۲)۔ عَنِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ، قَالَ: مَرَّ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا جَاِلسٌ ھٰکَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ یَدِیْ الْیُسْرٰی خَلْفَ ظَھْرِیْ وَاتَّکَاْتُ عَلٰی اَلْیَۃِیَدِیْ، فَقَالَ: ((اَتَقْعُدُ قِعْدَۃَ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۸۳)
۔ سیدنا شرید بن سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے، جبکہ میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے پیٹھ کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور میں نے اپنے ہاتھ کے نرم حصے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو ان لوگوں کی طرح بیٹھک بیٹھتا ہے، جن پر غضب کیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9513

۔ (۹۵۱۳)۔ عَنْ جَابِرٍ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلَتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہِ، فَرَاَیْتُہُ مُتَّکِئًا عَلٰی وِسَادَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۸۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9514

۔ (۹۵۱۴)۔ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا جَلَسَ (أَوْ اِذَا اسْتَلَقٰی) اَحَدُکُمْ فَـلَا یَضَعْ رِجْلَیْہِ اِحْدَاھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۴۷)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی چت لیٹے تو وہ ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر نہ رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9515

۔ (۹۵۱۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نَعْتَدِلَ فِی الْجُلُوْسِ، وَاَنْ لَّانَسْتَوْفِزَ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۷۲)
۔ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اعتدال سے بیٹھیں اور جلدی نہ کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9516

۔ (۹۵۱۶)۔ (عَنْ اَبِی النَّضْرِ) اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ کَانَیَشْتَکِیْ رِجْلَیْہِ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ اَخُوْہُ وَقَدْ جَعَلَ اِحْدٰی رِجْلَیْہِ عَلَی الْاُخْرَی وَھُوَ مُضْطَجِعٌ، فَضَرَبَہُ بِیَدِہِ عَلٰی رِجْلِہِ الْوَجِیْعَۃِ فَاَوْجَعَہُ، فَقَالَ: اَوْجَعْتَنِیْ، اَوَ لَمْ تَعْلَمْ اَنَّ رِجْلِیْ وَجِعَۃٌ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَمَا حَمَلَکَ عَلٰی ذٰلِکَ؟ قَالَ: اَوَلَمْ تَسْمَعْ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَھٰی عَنْ ھٰذِہِ (مسند احمد: ۱۱۳۹۵)
۔ ابو نضر کہتے ہیں: سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک ٹانگ میں کوئی تکلیف تھی، انھوں نے لیٹ کر ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ان کا بھائی ان کے پاس آیا اور ان کی تکلیف زدہ ٹانگ پر ان کو مارا، جس سے ان کو تکلیف ہوئی، پس انھوں نے کہا: تو نے مجھے تکلیف دی ہے، کیا تو نہیں جانتا کہ میری ٹانگ میں تکلیف ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: اچھا تو ایسے کیا کیوں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو نے سنا نہیں ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھنے سے منع کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9517

۔ (۹۵۱۷)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: بَلَغَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ اِنْسَانٍ یَکُوْنُ فِیْ مَجْلِسٍ فَیَقُوْلُ حِیْنَیُرِیْدُ اَنْ یَّقُوْمَ: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ، اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا کَانَ فِیْ ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ۔)) فَحَدَّثْتُ ھٰذَا الْحَدِیْثَیَزِیْدَ بْنَ خُصَیْفَۃَ قَالَ: ھٰکَذَا حَدَّثَنِی السَّائِبُ بْنُ یَزِیْدَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۲۰)
۔ اسماعیل بن عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو انسان کسی مجلس میں ہو اور پھر مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھے: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے، اے اللہ! اور تیری تعریف کے ساتھ، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر تو ہی، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں )تو اس کے اس مجلس میں ہونے والے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ جب میں نے یہ حدیثیزید بن خصیفہ کو بیان کی تو انھوں نے کہا: سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مجھے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9518

۔ (۹۵۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِآخِرَۃٍ اِذَا طَالَ الْمَجْلِسُ فَقَامَ قَالَ: ((سُبْحَانَّکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔)) فَقَالَ لَہُ بَعْضُنَا: اَنَّ ھٰذَا قَوْلٌ مَا کُنَّا نَسْمَعُہُ مِنْکَ فِیْمَا خَلَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا کَفَّارَۃُ مَا یَکُوْنُ فِی الْمَجْلِسِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۰۷)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آخری زندگی کی بات ہے کہ جب مجلس لمبی ہو جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھتے: سُبْحَانَّکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے، اے اللہ! اور تیری تعریف کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی معبودِ برحق ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں)۔ ہم میں سے کسی نے کہا: پہلے تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کے دعائیہ کلمات نہیں سنتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات مجلس میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9519

۔ (۹۵۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ جَلَسَ فِیْ مَجْلِسٍ کَثُرَ فِیْہِ لَغَطُہُ فَقَالَ قَبْلَ اَنْ یَّقُوْمَ: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحْمِدَکَ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ ثُمَّ اَتُوْبُ اِلَیْکَ، اِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا کَانَ فِیْ مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۲۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی ایسی مجلس میں بیٹھا، جس میں اس کی لغویات بہت زیادہ ہوں اور پھر وہ اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کلمات ادا کر لے سُبْحَانَّکَ رَبَّنَا وَبِحْمِدَکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ ثُمَّ اَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے، اے ہمارے ربّ! تو ہی معبودِ برحق ہے، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور پھر تیری طرف رجوع کرتا ہوں) تو اس سے اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہو گا، اس کو بخش دیا جائے گا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9520

۔ (۹۵۲۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا اَوْ صَلّٰی تَکَلَّمَ بِکَلِمَاتٍ، فَسَاَلَتْہُ عَائِشَۃُ عَنِ الْکَلِمَاتِ، فَقَالَ: ((اِنْ تَکَلَّمَ بِخَیْرٍ کَانَ طَابِعًا عَلَیْھِنِّ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَاِنْ تَکَلَّمَ بِغَیْرِ ذٰلِکَ کَانَ کَفَّارَۃً ، سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۹۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتےیا نماز ادا کرتے تو کچھ دعائیہ کلمات کہتے تھے، سیدہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان کلمات کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر آدمی خیر والی باتیں کرے گا تو یہ کلمات روزِ قیامت تک ان پر مہر ہوں گے اور اگر خیر کے علاوہ کوئی اور بات کرے گا تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ بن جائیں گے، کلمات یہ ہیں: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگرتو ہی، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9521

۔ (۹۵۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَرِیَّۃٍ مِنْ سَرَایَاہُ، قَالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِیْہِ شَیْئٌ مِنْ مَائٍ، قَالَ: فَحَدَّثَ نَفْسَہُ بِاَنْ یُقِیْمَ فِیْ ذٰلِکَ الْغَارِ فَیَقُوْتُہُ مَا کَانَ فِیْہِ مِنْ مَائٍ، وَیُصِیْبُ مَا حَوْلَہُ مِنَ الْبَقَلِ وَیَتَخَلّٰی مِنَ الدُّنْیَا، ثُمَّ قَالَ: لَوْ اَنَّیْ اَتَیْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ، فَاِنْ اَذِنَ لِیْ فَعَلْتُ وَاِلَّا لَمْ اَفْعَلْ، فَاَتَاہُ، فَقَالَ:یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، اِنِّیْ مَرَرْتُ بِغَارٍ فِیْہِ مَا یَقُوْتُنِیْ مِنَ الْمَائِ وَالْبَقَلِ، فَحَدَّثَتْنِیْ نَفْسِیْ بِاَنْ اُقِیْمَ فِیْہِ وَاَتَخَلّٰی عَنِ الدُّنْیَا، قَالَ: فقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَمْ اُبْعَثْ بِالْیَھُوْدِیِّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَلٰکِنْ بُعِثْتُ بِالْحَنِیِْفِیَّۃِ الْسَّمْحَۃِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَغَدْوَۃٌ، اَوْ رَوْحَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا، وَلَمَقَامُ اَحَدِکُمْ فِی الصَّفِّ خَیْرٌ مِّنْ صَلَاتِہِ سِتِّیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۷)
۔ سیدناابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم ایک لشکر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکلے، ایک آدمی کا ایک نشیبی جگہ کے پاس سے گزر ہوا، وہاں پانی کا چشمہ بھی تھا، اسے خیال آیا کہ وہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر یہیں فروکش ہو جائے، یہ پانی اور اس کے ارد گرد کی سبزہ زاریاں اسے کفایت کریں گی۔ پھر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤں گا اور یہ معاملہ آپ کے سامنے رکھوں گا، اگر آپ نے اجازت دے دی تو ٹھیک، وگرنہ نہیں۔ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں فلاں نشیبی جگہ سے گزرا، وہاں کے پانی اور سبزے سے میری گزر بسر ہو سکتی ہے، مجھے خیال آیا کہ میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر یہیں بسیرا کر لوں، (اب آپ کا کیا خیال ہے)؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں یہودیت اور نصرانیت لے کر نہیں آیا، مجھے نرمی و سہولت آمیز شریعت دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ کے راستے میں صبح کا یا شام کا چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے اور دشمن کے سامنے صف میں کھڑے ہونا ساٹھ سال کی نماز سے افضل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9522

۔ (۹۵۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُ الَّذِیْیُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی اَذَاھُمْ اَعْظَمُ اَجْرًا مِنَ الَّذِیْ لَا یُخَالِطُھُمْ، وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی اَذَاھُمْ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) خَیْرٌ مِنَ الَّذِیْ لَا یُخَالِطُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۵۰۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکالیف پر صبر کرتا ہے، وہ اس سے بہتر ہے جو نہ تو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور نہ ہی ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9523

۔ (۹۵۲۳)۔ عَنْ اَبِی سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ النَّاسِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مُؤْمِنٌ مُجَاھِدٌ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔))،قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِیْ شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ،یَعْبُدُ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۴۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ افضل ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مؤمن جو اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: پھر کون سا آدمی افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی ہے، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر اپنے ربّ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے۔

آیت نمبر