Musnad Ahmad

Search Results(1)

162)

162) ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9548

۔ (۹۵۴۸)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ النَّضْرِ، ثَنَا الْمُبَارَکُ، ثَنَا الْحَسَنُ، اَنَّ شَیْخًا مِنْ بَنِیْ سَلِیْطٍ، اَخْبَرَہُ، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُکَلِّمُہُ فِیْ سَبْیٍ اُصِیْبَ لَنَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَاِذَا ھُوَ قَاعِدٌ وَعَلَیْہِ حَلْقَۃٌ قَدْ اَطَافَتْ بِہٖ،وَھُوَیُحَدِّثُ الْقَوْمَ، عَلَیْہِ اِزَارُ قُطْنٍ لَہُ غَلِیْظٌ، فَاَوَّلُ شَیْئٍ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ وَھُوَ یُشِیْرُ بِاِصْبَعَیْہِ: ((اَلْمُسْلِمُ اَخُوْ الْمُسْلِمِ، لَا یَظْلِمُہُ، وَلَا یَخْذُلُہُ، التَّقْوٰی ھَاھُنَا، التَّقْوٰی ھٰھُنَا۔)) یَقُوْلُ: اَیْ فِی الْقَلْبِ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۰۰)
۔ حسن بصری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو سلیط کاایک بزرگ صحابی کہتا ہے: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اپنے ایک قیدی کی بات کرنے کے لیے گیا، جو دورِ جاہلیت میں پکڑا گیا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ حلقے کی صورت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھیر کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کاٹن کی موٹی چادر پہنی ہوئی تھی، پہلی بات جو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی، وہ یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ وہ اس کو بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے، تقوییہاں ہے، تقوییہاں ہے۔ یعنی دل میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9549

۔ (۹۵۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا، فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فَالْقَ اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۵۲) (۹۵۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَاَتْ، وَ لَا اُذُنٌ سَمِعَتْ، وَ لَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۱۲۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو ہر گز حقیر نہ سمجھنا، پس اگر تیرے پاس کچھ نہ ہو تو مسکراتے چہرے کے ساتھ مل لیا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9550

۔ (۹۵۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَاَتْ، وَ لَا اُذُنٌ سَمِعَتْ، وَ لَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۱۲۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ایسا خیال آیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9551

۔ (۹۵۵۱)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنّمَا النَّاسُ کَاِبِلٍ مِائَۃٍ لَا یُوْجَدُ فِیْھَا رَاحِلَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۴۵۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ بھی ان سو اونٹوں کی طرح ہیں، جن میں (بوجھ اٹھانے اورسواری کرنے کے) لائق کوئی اونٹ نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9552

۔ (۹۵۵۲)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حُرِّمَ عَلَی النَّارِ کُلُّ ھَیِّنٍ لَیِّنٍ سَھْلٍ قَرِیْبٍ مِنَ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۳۹۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آگ پر ہر اس شخص کو حرام قرار دیا گیا ہے، جو نرمی کرنے والا، آسانی کرنے والا اور لوگوں کے ہاں ہر دلعزیز ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9553

۔ (۹۵۵۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۶۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9554

۔ (۹۵۵۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلنَّاسُ مَعَادِنُ، خِیَارُھُمْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ، اِذَا فَقُھُوْا فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۹۰۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ کانیں ہیں، ان میں سے زمانہ ٔ جاہلیت کے بہتر لوگ، اسلام میں بھی بہتر ہیں، بشرطیکہ انھیں دین کی سمجھ حاصل ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9555

۔ (۹۵۵۵)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ یَقُوْلُ: ھَلَکَ النَّاسُ فَھُوَ اَھْلَکُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو کسی آدمی کو اس طرح کہتے سنے کہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں، تو وہ خود سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9556

۔ (۹۵۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا شَکٰی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسْوَۃَ قَلْبِہٖفَقَالَلَہُ: ((اِنْاَرَدْتَتَلْیِِیْنَ قَلْبِکَ، فَاَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ، وَامْسَحْ رَاْسَ الْیَتِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۶۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے دل کی سختی کا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلایا کر اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9557

۔ (۹۵۵۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَکْثَرَ مَایُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ اَلْاَجْوَفَانِ۔))، قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا الْاَجْوَفَانِ؟ قَالَ: ((الْفَرْج وَ الْفَمُ۔)) قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ اَکْثَرَ مَا یُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّۃَ تَقْوٰی اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۹۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرنے والی چیز اَجْوَفَانِ ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اَجْوَفَانِ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شرمگاہ اور منہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرنے والی چیز کون سی ہو گی؟ اللہ تعالیٰ کا ڈر اور حسن اخلاق۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9558

۔ (۹۵۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعَیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسُئِلَ اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ فَقَالَ: ((مُؤُمِنٌ مُجَاھِدٌ بِمَالِہِ وَنَفْسِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((مُؤُمِنٌ فِیْ شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ یَتَّقِی اللّٰہَ وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مؤمن جو اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: پھر کون سا آدمی افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی ہے، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر اپنے ربّ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9559

۔ (۹۵۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الصِّحَۃَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللّٰہِ مَغْبُوْنٌ فِیْھِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک صحت اور فراغت اللہ تعالیٰ کی ایسی دو نعمتیں ہیں کہ بہت سے لوگ ان کی وجہ سے گھاٹے میں مبتلا ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9560

۔ (۹۵۶۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِ جَسَدِیْ، فَقَالَ: ((اعْبُدِ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ، وَکُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۶۱۵۶)
۔ حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے جسم کا ایک حصہ پکڑا اور فرمایا: اللہ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور دنیا میں اس طرح ہو جاؤ کہ گویا کہ تم اجنبییامسافر ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9561

۔ (۹۵۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ عَلٰی نَاسٍ جُلُوْسٍ فَقَالَ: ((اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِکُمْ مِنْ شَرِّکُمْ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ، فَاَعَادَھَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خَیْرُکُمْ مَنْ یُرْجٰی خَیْرُہُ، وَشَرُّکُمْ مَنْ لَا یُرْجٰی خَیْرُہُ، وَلَا یُؤْمَنُ شَرُّہُ۔)) (مسند احمد: ۸۷۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے کچھ لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور کہا: کیا میں تمہیںیہ نہ بتلاؤں کہ تمہارے بد ترین لوگوں میں سے بہترین لوگ کون سے ہیں؟ لوگ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہی جملہ دوہرایا، بالآخر ایک بندے نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید رکھی جاتی ہو اور تم میں بدترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید نہ رکھی جاتی ہو اور جس کے شرّ سے امن بھی نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9562

۔ (۹۵۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا حَلِیْمَ اِلَّا ذُوْ عَثْرَۃٍ، وَلَا حَکِیْمَ اِلَّا ذُوْتَجْرِبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۸۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بردبار کوئی نہیں ہوتا، مگر لغزشوں والا اور دانا کوئی نہیں ہوتا، مگر تجربے والا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9563

۔ (۹۵۶۳)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( اَلْحَسْبُ: اَلْمَالُ، وَالْکَرَمُ: التَّقْوٰی۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۶۲)
۔ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقوی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9564

۔ (۹۵۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ لَا بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ لَمْ یُخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْ لَا حَوَائُ لَمْ تَخُنْ اُنْثٰی زَوْجَھَا۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت کو خزانہ نہ کیا جاتا اور اگر سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نہ ہوتیں تو کوئی بیوی اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9565

۔ (۹۵۶۵)۔ عَنْ عَقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَیْرَتَانِ اِحْدَاھُمَا یُحِبُّھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَالْاُخْرٰییُبْغِضُھَا اللّٰہُ، وَمَخِیْلَتَانِ اِحْدَاھُمَا یُحِبُّھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَالْاُخْرٰییُبْغِضُھَا اللّٰہُ، الْغَیْرَۃُ فِیْ الرِّیْبَۃِیُحِبُّھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَالْغَیْرَۃُ فِیْ غَیْرِہِیُبْغِضُھَا اللّٰہُ، وَالْمَخِیْلَۃُ اِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ یُحِبُّھَا اللّٰہُ، وَالْمَخِیْلَۃُ فِی الْکِبْرِ یُبْغِضُھَا اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۳۳)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو غیرتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ایک کو پسند کرتا ہے اور دوسری کو ناپسند، اسی طرح دو بڑائیاں ہیں، اللہ تعالیٰ ایک بڑائی کو پسند کرتا ہے اور دوسری کو ناپسند، شک اور تہمت کی بنا پر کی جانے والی غیرت کو اللہ تعالیٰ پسند کرتاہے، اس کے علاوہ غیرت کی دوسری صورتیں اس کو ناپسند ہیں، صدقہ کرتے وقت کی بڑائی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور تکبر والی بڑائی اللہ تعالیٰ کو ناپسندیدہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9566

۔ (۹۵۶۶)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، ثَنَا زُھَیْرٌ، قَالَ: ثَنَا قَابُوْسُ بْنُ اَبِیْ ظَبْیَانِ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ زُھَیْرٌ: لَاشَکَّ فِیْہِ قَالَ: ((اِنَّ الْھَدْیَ الصَّالِحَ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ، وَالْاِقْتَصَادَجُزْئٌ مِنْ خَمْسَۃٍ وََعِشْرِیْنَ جُزْئً ا مِنَ النُّبُوَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک نیک سیرت اور مناسب وقار و تمکنت اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9567

۔ (۹۵۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَجْتَمِعَانِ فِی النَّارِ اِجْتِمَاعًا یَضُرُّ اَحَدَھُمَا، مُسْلِمٌ قَتَلَ کَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ اَوْ قَارَبَ، وَلَا یَجْتَمِعَانِ فِیْ جَوْفِ عَبْدٍ، غُبَارٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَدُخَانُ جَھَنَّمَ، وَلَا یَجْتَمِعَانِ فِیْ قَلْبِ عَبْدٍ، الْاِیْمَانُ وَالشُّحُّ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو آدمی آگ میں اس طرح جمع نہیںہو سکتے کہ ان میں سے کسی ایک کو نقصان ہو، وہ مسلمان جو کافر کو قتل کرے اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے اور میانہ روی اختیار کرے، دو چیزیں بندے کے پیٹ میں جمع نہیں ہو سکتیں، اللہ تعالیٰ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں، کسی آدمی کے دل میں دو چزیں جمع نہیں ہو سکتیں، ایمان اور لالچ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9568

۔ (۹۵۶۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَجِیْبُوْا الدَّاعِیَ، وَلَا تَرُدُّوْا الْھَدِیَّۃَ، وَلَا تَضْرِبُوْا الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دعوت دینے والی کی دعوت قبول کیا کرو، تحفہ واپس نہ کیا کرو اور مسلمانوں کو نہ مارا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9569

۔ (۹۵۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا وَاَدّٰی زَکَاۃَ مَالِہِ طَیِّبًا بِھَا نَفْسُہُ مُحْتَسِبًا، وَسَمِعَ وَاَطَاعَ فَلَہُ الْجَنَّۃُ اَوْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۲۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس نے کسی چیز کو اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا، ثواب کی نیت سے اور دل کی خوشی کے ساتھ زکوۃ ادا کی ہو گی اور حکمران کی بات سن کر اس کی اطاعت کی ہو گی، پس اس کے لیے جنت ہو گییا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9570

۔ (۹۵۷۰)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَّالٍ، وَمَا زَادَ اللّٰہُ رَجُلًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۹۹۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی، لوگوں کو معاف کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں ہی اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے تواضع اختیار کرتاہے، اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9571

۔ (۹۵۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، رَفَعَہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَیُّمَا مُؤُمِنٍ سَقٰی مُؤْمِنًا شَرْبَۃً عَلٰی ظَمَاٍ، سَقَاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ الرَّحِیْقِ الْمَخْتُوْمِ، وَاَیُّمَا مُؤْمِنٍ اَطْعَمَ مُؤْمِنًا عَلٰی جُوْعٍ، اَطْعَمَہُ اللّٰہُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ، وَاَیُّمَا مُؤْمِنٍ کَسَا مُؤْمِنًا ثَوْبًا عَلٰی عُرْیٍ، کَسَاہُ اللّٰہُ مِنْ خُضْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مؤمن کسی پیاسے مؤمن کو مشروب پلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو (جنت کی) مہرزدہ صاف و خالص شراب پلائے گا، جو مؤمن کسی بھوکے مؤمن کو کھانا کھلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مؤمن کسی ننگے مؤمن کو کپڑے پہنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو سبز رنگ کا لباس پہنائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9572

۔ (۹۵۷۲)۔ عَنْ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ سَعَادَۃِ الْمَرْئِ الْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْکَبُ الْھَنِیْئُ، وَالْسَکْنُ الْوَاسِعُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۴۶)
۔ سیدنا نافع بن عبد الحارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیک ہمسایہ، پرسکون اور نرم سواری اور کھلا گھر آدمی کی سعادت میں سے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9573

۔ (۹۵۷۳)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَفْضَلُ الْفَضَائِلِ اَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَکَ، وَتُعْطِیَ مَنْ مَنَعَکَ، وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۰۳)
۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فضیلت والے اعمال میں سب سے افضل عمل یہ ہے کہ تو اس سے تعلق جوڑے، جو تجھ سے توڑتا ہے، تو اس کو دے جو تجھے محروم کرے اور تو اس سے درگزر کرے، جو تجھے برا بھلا کہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9574

۔ (۹۵۷۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ کَانَ صَائِمًا وَعَادَ مَرِیْضًا وَشَھِدَ جَنَازَۃً غُفِرَلَہُ مِنْ بَاْسٍ اِلَّا اَنْ یُحْدِثَ مِنْ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۲۷)
۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوروزے دار ہو اور پھر مریض کی عیادت بھی کرے اور کسی جنازے میں شرکت بھی کرے تو اس کے حرج والے امور (یعنی گناہ) بخش دیئے جاتے ہیں ، الا یہ کہ وہ بعد میں از سرِ نو کوئی گناہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9575

۔ (۹۵۷۵)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَعَانَ مُجَاھِدًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اَوْ غَارِمًا فِیْ عُسْرَتِہِ اَوْ مُکَاتَبًا فِیْ رَقَبَۃٍ ، اَظَلَّہُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۸۲)
۔ سیدنا سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے، تنگی میں مبتلا قرض کے ضامن اور مکاتَب کی گردن چھڑانے کے حوالہ سے مدد کی، اللہ تعالیٰ اس کو اس دن اپنے سائے میںجگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9576

۔ (۹۵۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَطْعِمُوْا الْجَائِعَ، وَفُکُّوْا الْعَانِیَ، وَعُوْدُوْا الْمَرِیْضَ۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: الْمَرْضٰی۔ (مسند احمد: ۱۹۷۴۶)
۔ سیدناابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، غلام کو آزاد کراؤ اور مریض کی عیادت کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9577

۔ (۹۵۷۷)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنْ اُمَّتِیْ مَنْ لَمْ یُجِلَّ کَبِیْرَنَا، وَیَرْحَمْ صَغِیْرَنَا، وَیَعْرِفْ لِعَالِمِنَا، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِیْ ابْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ): وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنْ ھٰرُوْنَ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۳۵)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ میری امت میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور صاحب ِ علم کو نہیں پہچانتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9578

۔ (۹۵۷۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اعْبُدُوْا الرَّحْمٰنَ، وَاَفْشُوْا السَّلَامَ، وَاَطْعِمُوْا الطَّعَامَ تَدْخُلُوْنَ الْجِنَانَ۔)) قَالَ عَبْدُا لصَّمَدِ: ((تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤ، جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9579

۔ (۹۵۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((کَرْمُ الرَّجُلِ دِیْنُہُ، وَمَرُوْئَ تُہُ عَقْلُہُ، وَحَسَبُہُ خُلُقُہُ۔)) (مسند احمد: ۸۷۵۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی سخاوت اس کا دین ہے، اس کے نفسیاتی آداب اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کے اخلاق ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9580

۔ (۹۵۸۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُؤُمِِنُ الْقَوَیُّ خَیْرٌ وَاَفْضَلُ وَاَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْمُؤُمِنِ الضَّعِیْفِ، وَفِیْ کُلٍّ خَیْرٌ، احْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ وَلَا تَعْجِزْ، فَاِنْ غَلَبَکَ اَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللّٰہُ وَمَاشَائَ صَنَعَ، وَاِیَّاکَ وَاللَّوَّفَاِنَّ اللَّوَّ یَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضعیف مؤمن کی بہ نسبت قوی مؤمن زیادہ بہتر، زیادہ فضیلت والا اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے، بہرحال ہر ایک میں خیر و بھلائی پائی جاتی ہے، نفع بخش چیزوں کی حرص رکھ اور عاجز نہ آ جا، اگر کوئی معاملہ تجھ پر غالب آ جائے تو یہ کہا کر کہ اللہ تعالیٰ کا یہی اندازہ تھا اور جو وہ چاہتا ہے، کر دیتا ہے، اور لَوْ سے بچ ، کیونکہ لَوْ شیطان کا کام کھولتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9581

۔ (۹۵۸۱)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَسْتَقِیْمُ اِیْمَانُ عَبْدٍ حَتّٰییَسْتَقِیْمَ قَلْبُہُ، وَلَا یَسْتَقِیْمُ قَلْبُہُ حَتّٰییَسْتَقِیْمَ لِسَانُہُ، وَلَا یَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّۃَ لَا یَاْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۷۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا، جب تک اُس کا دل درست نہیں ہوتا اور کسی کا دل اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی زبان راہِ راست پر نہیں آ جاتی اور ایسا شخص تو جنت میں داخل نہیں ہوگا کہ جس کے شرور سے اُس کا ہمسایہ امن میں نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9582

۔ (۹۵۸۲)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَقِیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَابْتَدَاْتُہُ فَاَخَذْتُ بِیِدِہِ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَانَجَاۃُ الْمُؤْمِنِ؟ قَالَ: ((یَاعُقْبَۃُ! اَمْلِکْ لِسَانَکَ، وَلْیَسَعْکَ بَیْتُکَ، وَابْکِ عَلٰی خَطِیْئَتِکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ لَقِیَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَابْتَدَأَنِیْ فَاَخَذَ بِیَدِیْ، فَقَالَ: ((یَا عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ! اَلاَ اُعَلِّمُکَ خَیْرَ ثلَاَثِ سُوَرٍ اُنْزِلَتْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالزَّبُوْرِ وَالْفُرْقَانِ الْعَظِیْمِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ قَالَ: فَاَقْرَأَنِیْ قَالَ: {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} وَ {قُلْ اَعَوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} ثُمَّ قَالَ:((یَاعُقْبَۃُ: لَاتَنْسَاْھُنَّ، وَلَا تَبِیْتَنَّ لَیْلَۃً حَتّٰی تَقْرَاَھُنَّ۔)) قَالَ: فَمَا نَسِیْتُھُنَّ مِنْ مُنْذُ قَالَ: لَا تَنْسَاْھُنَّ وَمَا بِتُّ لَیْلَۃً قَطُّ حَتّٰی اَقْرَئَھُنَّ، قَالَ عُقْبَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ثُمَّ لَقِیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَابْتَدَاْتُہُ فَاَخَذْتُ بِیَدِہِ، فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ! اَخْبِرْنِیْ بِفَوَاضِلِ الْاَعْمَالِ؟ فَقَالَ: ((یَاعُقْبَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌! صِلْ مَنْ قَطَعَکَ، وَاَعْطِ مَنْ حَرَمَکَ، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۶۷)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوئی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ابتدا کی اور آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مؤمن کی نجات کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عقبہ ! اپنی زبان کو قابو میں رکھ، تیرا گھر تجھے اپنے اندر سما لے (یعنی ضرورت کے بغیر گھر سے نہ نکل) اور اپنی غلطیوں پر رو۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے ملے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے ابتدا کی اور میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے عقبہ بن عامر! کیا میں تجھے ایسی بہترین سورتوں کی تعلیم دوں کہ ان جیسی سورتیں نہ تورات میں نازل ہوئیں، نہ زبور میں، نہ انجیل میں اور نہ قرآن مجید (کے بقیہ حصے) میں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}، {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَق} اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس} پڑھائیں اور پھر فرمایا:اے عقبہ! ان کو نہیں بھولنا اور ان کی تلاوت کیے بغیر کوئی رات نہیں گزارنی۔ پس جب سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا کہ تونے ان سورتوں کو نہیں بھولنا اس وقت سے میں نہ ان کو بھولا اور نہ میں نے ایسی رات گزاری، جن میں ان کی تلاوت نہ کی ہو۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مزید کہا: پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ابتدا کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فضیلت والے اعمال کے بارے میں مجھے بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عقبہ!جو تجھ سے قطع رحمی کرے، اس سے صلہ رحمی کر، جو تجھے محروم کرے، تو اسے عطا کر اور جو تجھ پر ظلم کرے، تو اسے معاف کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9583

۔ (۹۵۸۳)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْصِنِیْ، قَالَ: ((اِتَّقِ اللّٰہَ حَیْثُمَا کُنْتَ اَوْ اَیْنَمَا کُنْتَ۔)) قَالَ: زِدْنِیْ، قَالَ: ((اَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُھَا۔)) قَالَ: زِدْنِیْ، قَالَ: ((خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۰۹)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت کرو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا: مزید نصیحت فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: برائی کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ برائی کو مٹا دے۔ انھوں نے کہا: اور زیادہ نصیحت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9584

۔ (۹۵۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ اَیَوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: عِظْنِیْ وَاَوْجِزْ، فَقَالَ: ((اِذَا قُمْتَ فِیْ صَلَاتِکَ فَصَلِّ صَلَاۃَ مُوَدِّعٍ، وَلَا تَکَلَّمْ بِکَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْہُ غَدًا، وَاَجْمِعِ الْاِیْاسَ مِمَّا فِیْ اَیْدِی النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۹۴)
۔ ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بلیغ و مختصرنصیحت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو نماز ادا کرے تو (اپنی زندگی کی) آخری نماز سمجھ کر ادا کر اور ایسا کلام مت کر کہ جس سے کل تجھے معذرت کرنا پڑے، نیز جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مکمل ناامید (اور غنی) ہو جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9585

۔ (۹۵۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثَۃٌ عَلٰی کُثْبَانِِ الْمِسْکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، رَجُلٌ اَمَّ قَوْمًا وَھُمْ بِہٖرَاضُوْنَ،وَرَجُلٌیُؤَذِّنُ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَعَبْدٌ اَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ تَعَالٰی و َحَقّ مَوَالِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۹۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ قیامت کے روز کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے: (۱) وہ آدمی، جو لوگوں کی امامت کروائے اور وہ اس سے راضی ہوں، (۲) وہ آدمی جو ہر روز پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا ہو اور (۳) وہ غلام، جو اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9586

۔ (۹۵۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ کُلُّھُمْ حَقٌّ عَلٰی اللّٰہِ عَوْنُھُمْ، اَلْمُجَاھِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَالنَّاکِحُ الْمُسْتَعْفِفُ، وَالْمُکَاتَبُ یُرِیْدُ الْاَدَائَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۱۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا، پاکدامنی کی خاطر نکاح کرنے والا اور ادائیگی کا ارادہ رکھنے والا مکاتَب۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9587

۔ (۹۵۸۷)۔ وعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: ثَلَاثٌ اَوْصَانِیْ بِھِنَّ خَلِیْلِیْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا اَدَعُھُنَّ اَبَدًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَا اَدَعُھُنَّ حَتّٰی اَمُوْتَ) اَلْوِتْرُ قَبْلَ اَنْ اَنَامَ، وَصِیَامُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ، وَالْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۴۵۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے تین امور کی نصیحت کی، میں ان کو موت تک نہیں چھوڑوں گا، سونے سے پہلے وتر ادا کرنا، ہر ماہ میں تین دنوں کے روزے رکھنا اور جمعہ کے دن غسل کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9588

۔ (۹۵۸۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ کَرِہَ لَکُمْ ثَلَاثًا، وَرَضِیَ لَکُمْ ثَلَاثًا، رَضِیَ لَکُمْ اَنْ تَعْبُدُوْہُ، وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، وَاَنْ تَعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا، وَاَنْ تَنْصَحُوْا لِوُلَاۃِ الْاَمْرِ، وَکَرِہَ لَکُمْ قِیَلَ وَقَالَ وِاِضَاعَۃَ الْمَالِ وَکَثْرَۃَ السُّؤَالِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۱۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کی ہیں اور تین پسند، اس نے تمہارے لیے اِن چیزوں کو پسند کیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور سب کے سب اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھام لو اور یہ کہ تم اپنے امیروں کی خیرخواہی کرو اور تمہارے لیےیہ چیزیں ناپسند کی ہیں: قیل و قال، مال کو ضائع کرنا اور زیادہ سوال کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9589

۔ (۹۵۸۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثَۃٌ کُلُّھُنَّ حَقٌّ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ، عِیَادَۃُ الْمَرِیْضِ، وَشُھُوْدُ الْجَنَازَۃِ، وَتَشْمِیْتُ الْعَاطِسِ اِذَا حَمِدَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۸۶۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہے، ہر مسلمان پر حق ہیں، مریض کی عیادت، جنازوں میں شرکت کرنا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے والے چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9590

۔ (۹۵۹۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((یَتْبَعُ الْمَیِّتَ، ثَلَاثٌ، اَھْلُہُ، وَمَالُہُ، وَعَمَلُہُ، فَیَرْجِعُ اِثْنَانِ وَیَبْقٰی وَاحِدٌ، اَھْلُہُ وَمَالُہُ یَبْقٰی عَمَلُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۰۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزیں میت کے پیچھے چلتی ہیں، اس کے اہل و عیال، اس کا مال اور اس کا عمل، دو چیزیں واپس آ جاتی ہیں اور ایک باقی رہ جاتی ہے، اہل و عیال اور مال لوٹ آئیں گے اور اس کا عمل باقی رہ جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9591

۔ (۹۵۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عُرِضَ عَلَیَّ اَوَّلُ ثَلَاثَۃٍیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، وَاَوَّلُ ثَلَاثَۃٍیَدْخُلُوْنَ النَّارَ، فَاَمَّا اَوَّلُ ثَلَاثَۃٍیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، فَالشَّھِیْدُ، وَعَبْدٌ مَمَلُوْکٌ اَحْسَنَ عِبَادَۃَ رَبِّہِ وَنَصَحَ لِسَیِّدِہِ،وَعَفِیْفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُوْعَیَالٍ، وَاَمَّا اَوَّلُ ثَلَاثَۃٍیَّدْخُلُوْنَ النَّارَ فَاَمِیْرٌ مُسَلَّطٌ وَذُوْ ثَرْوَۃٍ مِنْ مَّالٍ لَایُعْطِیْ حَقَّ مَالِہِ، وَفَقِیْرٌ فَخُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین افراد اور سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد مجھ پر پیش کیے گئے، پہلے پہل جنت میں داخل ہونے والے افراد یہ ہیں:(۱) شہید، (۲) وہ غلام جو اچھے انداز میں اپنے ربّ کی عبادت کرنے والا اور اپنے آقا کا خیر خواہ ہو، اور (۳) بچوں کے باوجود پاکدامن بننے والے اور پہلے پہل جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد یہ ہیں: (۱) مسلط ہو جانے والا امیر، (۲) مال کا حق ادا نہ کرنے والا مالدار اور (۳) تکبر کرنے والا فقیر ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9592

۔ (۹۵۹۲)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ سَعَادَۃِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَۃٌ، وَمِنْ شِقْوَۃِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَۃٌ، مِنْ سَعَادَۃِ ابْنِ آدَمَ الْمَرْاَۃُ الصَّالِحَۃُ، وَالْمَسْکَنُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْکَبُ الصَّالِحُ،وَمِنْ شِقْوَۃِ ابْنِ آدَمَ الْمَرْاَۃُ السَوْئُ، الْمَسْکَنُ السَوْئُ، وَالْمَرْکَبُ السَوْئُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ابن آدم کی سعادت میں سے اور تین چیزیں ابن آدم کی شقاوت میں سے ہیں، ابن آدم کی سعادت والی تین چیزیںیہ ہیں: نیک بیوی، مناسب گھر اور اچھی سواری اور ابن آدم کی بد بختی والی تین چیزیںیہ ہیں: بری بیوی، برا گھر اور بری سواری۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9593

۔ (۹۵۹۳)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ قَالَ: ((اَنْتَ رَسُوْلِیْ اِلٰی اَھْلِ مَکَّۃَ قُلْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ اَرْسَلَنِیْیَقْرَأُ عَلَیْکُمُ السَّلَامَ، وَیَاْمُرُکُمْ بِثَلَاثٍ لَا تَحْلِفُوْا بِغَیْرِ اللّٰہِ، وَاِذَا تَخَلَّیْتُمْ فَـلَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَۃَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْھَا، وَلَا تَسْتَنْجُوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعَرَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۸۰)
۔ سیدنا سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا اور فرمایا: تو اہل مکہ کی طرف میرا قاصد ہے، ان کو کہنا: اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم لوگوں کو سلام کہا اور تین چیزوں کا حکم دیا: (۱)غیر اللہ کی قسم نہیں اٹھانی، (۲) قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا ہے نہ پیٹھ اور (۳) ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہیں کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9594

۔ (۹۵۹۴)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَھُمْ دَعْوَتُھُمُ الْمُسَافِرُ، وَالْوَالِدُ، وَالْمَظْلُوْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۳۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، مسافر، والدین اور مظلوم۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9595

۔ (۹۵۹۵)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((ثَلَاثٌ حَقٌّ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ، اَلْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَالسِّوَاکُ، وَیَمَسُّ مِنْ طِیْبٍ اِنْ وَجَدَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۱۱)
۔ ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین امور ہر مسلمان پر حق ہیں، جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا اور اگر گنجائش ہو تو خوشبو لگائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9596

۔ (۹۵۹۶)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثٌ لَا یَغِلُّ عَلَیْھِنَّ قَلْبُ الْمُؤُمِنِ، اِخْلَاصُ الْعَمَلِ، وَالنَّصِیْحَۃُ لِوَلِیِّ الْاَمْرِ، ولُزُوْمِ الْجَمَاعَۃِ، فَاِنَّ دَعْوَتَھُمْ تَکُوْنُ مِنْ وَّرَائِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۷۵)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین خصائل پر مومن کا دل خیانت نہیں کرتا : خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرنا، اربابِ حل وعقد کی خیر خواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ ان کی دعا سب کو شامل ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9597

۔ (۹۵۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَوَالَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، مَوْتِیْ، وَالدَّجَّالِ، وَقَتْلِ خَلِیْفَۃٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ یُعْطِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن حوالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں سے نجات پانے والا نجات پا جائے گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ جملہ تین دفعہ ارشاد فرمایا، (۱) میری وفات، (۲) دجال اور (۳) اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے خلافت کے حق پر ڈٹ جانے والے خلیفے کاقتل۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9598

۔ (۹۵۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَوْصَانِیْ حِبِّیْ بِثَلَاثٍ لَا اَدَعُھُنَّ اِنْ شَائَ اللّٰہُ اَبَدًا، اَوْصَانِیْ بِصَلَاۃِ الضُّحٰی وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَبِصِیَامِ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۵۱)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے محبوب ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں کی نصیحت کی، میں ان شاء اللہ کبھی بھی ان کو نہیں چھوڑوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نمازِ چاشت پڑھنے کی، سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی اور ہر ماہ میں تین روزے رکھنے کی نصیحت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9599

۔ (۹۵۹۹)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَفِیْہِ: وَسُبْحَۃُ الضُّحٰی فِی الْحَضْرِ وَالسَّفْرِ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۰۲)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی مروی ہے، البتہ اس میں ہے: حضرو سفر میں نمازِ چاشت پڑھنے کی وصیت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9600

۔ (۹۶۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِثَلَاثٍ، وَنَھَانِیْ عَنْ ثَلَاثٍ، اَمَرَنِیْ ((بِرَکْعَتَیِ الضُّحٰی کُلَّ یَوْمٍ، وَالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِیَامِ َثلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ، وَنَھَانِیْ عَنْ نَقْرِۃٍ کَنَقْرَۃِ الدِّیْکِ، وَاِقْعَائٍ کَاِقْعَائِ الْکَلْبِ، وَاِلْتِفَاتٍ کَاِلْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ۔)) (مسند احمد: ۸۰۹۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین چیزوں سے منع کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ہر روز نمازِ چاشت پڑھنے، سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کرنے اور ہر ماہ میں تین روزے رکھنے کا حکم دیا اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے، (جلسہ میں) کتے کی طرح بیٹھنے اور (نماز میں) لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر متوجہ ہونے سے منع فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9601

۔ (۹۶۰۱)۔ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، قَالَ: بَلَغَنِیْ عَنْ اَبِی ذَرٍّ حَدِیْثٌ فَکُنْتُ اُحِبُّ اَنْ اَلْقَاہُ، فَلَقِیْتُہُ فَقُلْتُ لَہُ:یَا اَبَا ذَرٍّ، بَلَغَنِیْ عَنْکَ حَدِیْثٌ فَکُنْتُ اُحِبُّ اَنْ اَلْقَاکَ فَاَسْاَلَکَ عَنْہُ، فَقَالَ: قَدْ لَقِیْتَ فَسَلْ! قَالَ: قُلْتُ: بَلَغَنِیْ اَنَّکَ تَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ ((: ثَلَاثَۃٌیُحِبُّھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَثَلَاثَۃٌیُبْغِضُھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ: نَعَمْ، فَمَا اَخَالُنِیْ اَکْذِبُ عَلٰی خَلِیْلِیْ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثَلَاثًا یَقُوْلُھَا، قَالَ: قُلْتُ: مَنِ الثَّلَاثَۃُ الَّذِیْنَیُحِبُّھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ: ((رَجُلٌ غَزَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَقِیَ الْعَدُوَّ مُجَاھِدًا مُحْتَسِبًا فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ)) وَاَنْتُمْ تَجِدُوْنَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ {اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَیُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہِ صَفًّا} ((وَرَجُلٌ لَہُ جَارٌ یُؤُذِیْہِ فَیَصْبِرُ عَلٰی اَذَاہُ وَیَحْتَسِبُہُ حَتّٰییَکْفِیَہُ اللّٰہُ اِیَّاہُ بِمَوْتٍ اَوْ حَیَاۃٍ، ((وَرَجُلٌ یَکُوْنُ مَعَ قَوْمٍ فَیَسِیْرُوْنَ حَتّٰییَشُقَّ عَلَیْھِمُ الْکَرٰی اَوِالنُّعَاسُ فَیَنْزِلُوْنَ فِیْ آخِرِ اللَّیْلِ، فَیَقُوْمُ اِلٰی وُضُوْئِہِ وَصَلَاتِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَیُصَلِّیْ حَتّٰییُوْقِظَھُمْ لِرَحِیْلِھِمْ)۔)) قَالَ: قُلْتُ: مَنِ الثلَّاَثَۃُ الَّذِیْنَیُبْغِضُھُمُ اللّٰہُ؟ قَالَ: ((اَلْفَخُوْرُ الْمُخْتَالُ۔)) وَاَنْتُمْ تَجِدُوْنَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ {اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِّبُ کُلَّ مُخَتَالٍ فَخُوْرٍ} وَالْبَخِیْلُ الْمَنَّانُ، وَالتَّاجِرُ، وَالْبَیَّاعُ الْحَلَّافُ۔)) قَالَ: قُلْتُ:یَا اَبَاذَرٍّ! مَاالْمَالُ؟ قَالَ: فِرْقٌ لَنَا وَذَوْدٌ، یَعْنِیْ بِالْفِرْقِ غَنَمًا یَسِیْرَۃً، قَالَ: قُلْتُ: لَسْتُ عَنْ ھٰذَا اَسْاَلُ، اِنّمَا اَسْاَلُکَ عَنْ صَامِتِ الْمَالِ، قَالَ: مَااَصَبَحَ لَا اَمْسٰی، وَمَا اَمْسٰی لَا اَصْبَحَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا اَبَا ذَرٍّ! مَالَکَ وَلِاِخْوَتِکَ قُرَیْشٍ؟ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَا اَسْاَلُھُمْ دُنْیَا، وَلَا اَسْتَفْتِیْھِمْ عَنْ دِیْنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، حَتّٰی اَلْقَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ، ثَلَاثًا یَقُوْلُھا ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۶۳)
۔ مطرف بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مجھے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک حدیث موصول ہوئی تو میں ان سے ملاقات کرنے کو پسند کرنے لگا، پھر میں ان کو ملا اور کہا: اے ابو ذر! مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی اور میں نے چاہا کہ آپ کو ملوں اور اس کے بارے میں سوال کرو، انھوں نے کہا: اب ملاقات تو ہو گئی ہے، اس لیے پوچھ لو، میں نے کہا: جی مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین افراد سے محبت کرتا ہے اور تین افراد سے بغض رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں اور میں اپنے بارے میں یہ خیال نہیں کرتا کہ میں اپنے خلیل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولوں گا، یہ بات انھوں نے تین بار دوہرائی، میں نے کہا: اچھا وہ تین افراد کون ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، پس دشمن سے اس کا مقابلہ ہوا اور اس نے حصول ثواب کے لیے قتال کیا،یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ اور تم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ آیت تلاوت کرتے ہو: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے، جو صف باندھ کر اس کے راستے میں قتال کرتے ہیں۔ اور ایک وہ آدمی کہ اس کا ہمسایہ اس کو تکلیف دیتا ہے، لیکن وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو موت یا حیات کے ساتھ کفایت کرتا ہے، اور ایک وہ آدمی ہے جو ایک قوم کے ساتھ چلتا رہتا، یہاں تک کہ نیندیا اونگھ ان پر غالب آ گئی اور انھوں نے رات کے آخری حصے میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈال دیا، لیکن وہ آدمی وضو اور نماز کے لیے اٹھ پڑا اور نماز پڑھتا رہا، یہاں تک کہ ان کو وہاں سے کوچ کرنے کے لیے جگایا۔ میں نے کہا: وہ تین افراد کون ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے؟ انھوں نے کہا: فخر کرنے والا تکبر کرنے والا۔ تم قرآن مجید میں پڑھتے ہی ہو کہ بیشک اللہ تعالیٰتکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور احسان جتلانے والا بخیل اور وہ تاجر جو زیادہ قسم اٹھا کر سودابیچنے والا ہو۔ میں نے کہا: اے ابو ذر! مال سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ہماری بکریاں اور اونٹ، میں نے کہا: میں اس کے بارے میں سوال نہیں کررہا، میں آپ سے مال میں سے سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، انھوں نے کہا: اس نے صبح کی نہ شام اور اس نے شام کی نہ صبح۔ میں نے کہا: اے ابو ذر! آپ کو اور آپ کے قریشی بھائیوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہ ان سے دنیا کا سوال کرتا ہوں اور نہ اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں ان سے کوئی بات پوچھتا ہوں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو جا ملوں گا، یہ بات انھوں نے تین دفعہ کہی۔ مطلبیہ ہے کہ جو صبح میرے پاس ہوتا ہے وہ شام نہیں کرتا، اس سے پہلے ہی میں اسے خرچ کر دیتا ہوں اور جو شام کو میرے پاس ہوتا ہے وہ صبح نہیں کرتا، صبح سے پہلے میں اسے اللہ کے راستہ میں دے دیتا ہوں۔ (عبداللہ رفیق)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9602

۔ (۹۶۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنْبِئْنِیْ عَنْ اَمْرٍ اِذَا اَخَذْتُ بِہٖدَخَلْتُالْجَنَّۃَ؟ قَالَ: ((اَفْشِ السَّلَامَ، وَاَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَصَلِ الْاَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ بِسَلَامٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حکم کے بارے میں بتلائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں، تو جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام کو عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو قیام کر اور پھر جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9603

۔ (۹۶۰۳)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اسْتَجْمَرَ اَحَدُکُمْ فَلْیُوْتِرْ، وَاِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِیْ اِنَائِ اَحَدِکُمْ فَلْیَغْسِلْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَلَا یَمْنَعْ فَضْلَ مَائٍ لِیَمْنَعَ بِہٖالْکَلَائَ،وَمِنْحَقِّالْاِبِلِاَنْ تُحْلَبَ عَلَی الْمَائِ یَوْمَ وِرْدِھَا۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی پتھروں سے استنجا کرے تو طاق پتھر استعمال کرے، جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال جائے تو وہ اس کوسات دفعہ دھوئے، کوئی آدمی گھاس کو بچانے کے لیے زائد پانی سے نہ روکے اور اونٹوں کا حق یہ ہے کہ اس دن ان کو دوہا جائے، جس دن وہ پانی کے گھاٹ پر آئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9604

۔ (۹۶۰۴)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اکْتَحَلَ فَلْیُوْتِرْ وَمَنْ فَعَلَ فقَدْ اَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَـلَا حَرَجَ عَلَیْہِ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فُلْیُوْتِرْ، وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ اَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَـلَا حَرَجَ، وَمَنْ اَکَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْیَلْفِظْ، وَمَنْ لَاکَ بِلِسَانِہِ فَلْیَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ اَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَـلَا حَرَجَ، وَمَنْ اَتَی الْغَائِطَ فَلْیَسْتَتِرْ، فَاِنْ لَمْ یَجِدْ اِلَّا اَنْ یَجْمَعَ کَثِیْبًا فَلْیَسْتَدْبِرْہُ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَیَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِی آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ اَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَـلَا حَرَجَ۔)) (مسند احمد: ۸۸۲۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو سرمہ ڈالے، وہ طاق سلائیاں ڈالے، جو ایسے کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، جو پتھروں سے استنجاء کرے، وہ طاق پتھر استعمال کرے، جو ایسے کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، اسی طرح جو آدمی کھانا کھانے کے بعد دانتوں سے کھانے کے اجزاء نکالے، وہ ان کے پھینک دے اور زبان کو منہ میں پھیر کر کھانے کے جو اجزاء اکٹھے کر لے، ان کو نگل جائے، جو ایسے کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہوگا، جو آدمی پائخانہ کرنے کے لیے آئے، وہ پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے اس کو کوئی چیز نہ ملے، تو وہ ڈھیر سا بنا کر اس کی طرف پیٹھ کر لے، کیونکہ شیطان بنی آدم کی دبروں کے ساتھ کھیلتا ہے، جو ایسا کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9605

۔ (۹۶۰۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا شِغَارَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَا حِلْفَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَاجَلَبَ وَلَا جَنَبَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۸۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے، اسلام میں معاہدہ نہیں ہے اور جَلَب ہے نہ جَنَب۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9606

۔ (۹۶۰۶)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَغْلِقُوْا اَبْوَابَکُمْ، وَخَمِّرُوْا آنِیَتَکُمْ، وَاَطْفِئُوْا سُرُجَکُمْ، وَاَوْکُوْا اَسْقِیَتَکُمْ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَلَا یَکْشِفُ غِطَائً، وَلَا یَحُلُّوِکَائً، وَاِنَّ الْفُوَیْسَقَۃَ تُضْرِمُ الْبَیْتَ عَلٰی اَھْلِہِ۔)) یَعْنِی الْفَارَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۷۷)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے دروازوں کو بند کر دیا کرو، برتنوں کو ڈھانک دیا کرو، چراغوں کو بجھا دیا کرواور مشکیزوں کو بند کر دیا کرو، کیونکہ شیطان نہ بند دروازہ کھولتا ہے، نہ برتن سے ڈھکن اٹھاتا ہے اور نہ مشکیزے کی ڈوری کھولتا ہے اور چوہیا گھر کو گھر والوں سمیت جلا دیتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9607

۔ (۹۶۰۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((اِنَّہُ مَنْ اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الرِّفْقِ، فَقَدْ اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَصِلَۃُ الرَّحِمِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ، وَحُسْنُ الْجِوَارِ یَعْمُرَانِ الدِّیَارَ، وَیَزِیْدَانِ فِیْ الْاَعْمَارِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۷۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اُن کو فرمایا : جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9608

۔ (۹۶۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَدَا جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّیْدَ غَفَلَ، وَمَنْ اَتٰی اَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ، مَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا اِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللّٰہِ بُعْدًا۔)) (مسند احمد: ۸۸۲۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا، جو شکار کے پیچھے چل پڑا وہ غافل ہو گیا، جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنے میں پڑ گیا اور جو آدمی بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا، وہ اللہ تعالیٰسے اتنا ہی دور ہوتا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9609

۔ (۹۶۰۹)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ بَعْضِ بَنِیْ رَافِعِ بْنِ مَکِیْثٍ، وَکَانَ مِمَّنْ شَھِدَ الْحُدَیْبِیَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حُسْنُ الْخُلُقِ نَمَائٌ، وَسُوْئُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ، وَالْبِرُّ زَیَادَۃٌ فِیْ الْعُمُرِ، وَالصَّدَقَۃُ تَمْنَعُ مِیْتَۃَ السَّوْئِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۷)
۔ رافع بن مکیث کا ایک بیٹا، جو حدیبیہ میں بھی حاضر ہوا تھا، سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حسن اخلاق اضافہ اور بڑھوتری ہے، بداخلاقی نحوست ہے، نیکی سے عمر بڑھتی ہے اور صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9610

۔ (۹۶۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اسْتَعَاذَ بِااللّٰہِ فَاَعِیْذُوْہُ، وَمَنْ سَأَلَکُمْ بِاللّٰہِ فَاَعْطُوْہُ، وَمَنْ دَعَاکُمْ فَاَجِیْبُوْہُ، وَمَنْ اَتٰی عَلَیْکُمْ مَعُرُوْفًا فَکَافِئُوْہُ، فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا مَاتُکَافِئُوْہُ، فَادْعُوْا لَہُ حَتّٰی تَعْلَمُوْا اَنْ قَدْ کَافَاْتُمُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۶۵)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ کا واسطہ دے کر پناہ مانگے، اس کو پناہ دے دو، جو اللہ کے نام پر تم سے سوال کرو، اس کو دے دو، جو تمہیں دعوت دے، اس کی دعوت قبول کرو اور جو تم سے کوئی نیکی کرے، اس کو اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ دینے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ تمہیں اندازہ ہو جائے کہ تم نے گویا بدلہ دے دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9611

۔ (۹۶۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِیْنِِ، اَلتَّعَطُّرُ، وَالنِّکَاحُ، وَالسِّوَاکُ، وَالْحَیَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۷۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار امور رسولوں کی سنتیں ہیں، خوشبولگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیا کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9612

۔ (۹۶۱۲)۔ عَنْ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: اَرْبَعٌ لَمْ یَکُنْیَدَعُھُنَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صِیَامَ عَاشُوْرَائَ، وَالْعَشْرِ،وَثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ، وَالرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۹۱)
۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار چیزوں کو نہیں چھوڑتے تھے، عاشوراء کا روزہ، دس دنوں کے روزے اور ہر ماہ سے تین دنوں کے روزے اور فجر سے پہلی والی دو سنتیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9613

۔ (۹۶۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَرْبَعٌ اِذَا کُنَّ فِیْکَ فَـلَا عَلَیْکَ مَافَاتَکَ مِنَ الدُّنْیَا، حِفْظُ اَمَانَۃٍ، وَصِدْقُ حَدِیْثٍٍ، وَحُسْنُ خَلِیْقَۃٍ، وَعِفَّۃٌ فِیْ طُعْمَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۵۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار نیکیاں ہیں، اگر تجھ میں پائی جائیں، تو دنیا کی کسی چیز کے فوت ہو جانے کا تجھے کوئی غم نہیں ہونا چاہیے، امانت کی حفاظت، سچی بات، حسن اخلاق اور کھانے میںپاکدامنی (یعنی گزارے کے لائق حلال روزی ملتی رہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9614

۔ (۹۶۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنّمَا الدُّنْیَا لِاَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، عَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فھُوَ یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ، یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حَقَّہُ، قَالَ: فَھٰذَا بِاَفْضَلِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالاً۔)) قَالَ: فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ((فَاَجْرُھُمَا سَوَائٌ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَھُوَ یَخْبِطُ فِیْ مالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَا یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، وَلَا یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ، وَلَا یَعْلَمُ فِیْہِ لِلّٰہِ حَقَّہُ، فَھٰذَا اَخْبَثُ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَا عِلْمًا فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ھِیَ نِیَّتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۴)
۔ سیدنا ابو کبشہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل مرتبے والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9615

۔ (۹۶۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنَ الْکَلَامِ اَرْبَعًا، سُبَحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، فَمَنْ قَالَ سُبَحَانَ اللّٰہِ کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ عِشْرِیْنَ حَسَنَۃً، أَوْ حَطَّ عَنْہُ عِشْرِیْنَ سَیِّئَۃً، وَمَنْ قَالَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ فَمِثْلُ ذٰلِکَ،فَمَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَمِثْلُ ذٰلِکَ،وَمَنْ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ کُتِبَ لَہُ ثَلَاثُوْنَ حَسَنَۃً، وَحُطَّ اَوْ حُطَّتْ عَنْہُ ثَلَاثُوْنَ سَیِّئَۃً۔)) (مسند احمد: ۷۹۹۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے یہ چار کلمات پسند کیے ہیں: سُبَحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ، پس جس نے سُبَحَانَ اللّٰہِ کہا، اللہ اس کے لیے بیس نیکیاں لکھ دیتا ہے یا بیس برائیاں مٹا دیتا ہے، جس نے کہ اَللّٰہُ اَکْبَرُاس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا، جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا ، اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا اور جس نے اپنی طرف سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہا، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں مٹا دی جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9616

۔ (۹۶۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِیْ فَقَالَ: ((یَااَبَا سَعِیْدٍ! ثَلَاثَۃٌ مَنْ قَالَھُنَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قُلْتُ: مَاھُنَّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا، وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا اَبَاسَعِیْدٍ! وَالرَّابِعَۃُ لَھَا مِنَ الْفَضْلِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ وَھِیَ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے ابو سعید! تین کلمات ہیں، جس نے ان کو ادا کیا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے رسول ہونے پر راضی ہوا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو سعید! ایک چوتھی چیز بھی ہے، اس کی اتنی فضیلت ہے، جیسے آسمان سے زمین تک اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9617

۔ (۹۶۱۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: اِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِیْعَۃَ، وَبَیْنَنَا وَبَیْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ، وَلَسْنَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَأْتِیَکَ اِلَّا فِیْ اَشْھُرِ الْحُرُمِ، فَمُرْنَا بِاَمْرٍ اِذَا نَحْنُ اَخَذْنَا بِہٖدَخَلْنَاالْجَنَّۃَ، وَنَاْمُرُ بِہٖاَوْنَدْعُوْمَنَوَرَائَنَا،فَقَالَ: ((آمُرُکُمْبِاَرْبَعٍ،وَاَنْھَاکُمْعَنْاَرْبَعٍ،اُعْبُدُوْااللّٰہَوَلَاتُشْرِکُوْابِہٖشَیْئًا فَھٰذَا لَیْسَ مِنْ الْاَرْبَعِ، وَاَقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ، وَآتَوُا الزَّکَاۃَ، وَصُوْمُوْا رَمَضَانَ، وَاَعْطُوْا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ، وَاَنْھَاکُمْ عَنْ اَرْبَعٍِ، عَنِ الدُّبَّائِ، وَالنَّقِیْرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ۔)) قَالُوْا: وَمَا عِلْمُکَ بِالنَّقِیْرِ؟ قَالَ: ((جِذْعٌ یُنْقَرُ ثُمَّ یُلْقُوْنَ فِیْہِ الْقُطَیْعَائَ اَوِ التَّمْرَ وَالْمَائَ، حَتّٰی اِذَا سَکَنَ غَلَیَانُہُ شَرِبْتُمُوُہُ، حَتّٰی اَنَّ اَحَدَکُمْ لَیَضْرِبُ ابْنَ عَمِّہِ بِالسَّیْفِ۔)) وَفِیْ الْقُوْمِ رَجُلٌ اَصَابَتْہُ جَرَاحَۃٌ مِنْ ذٰلِکَ، فَجَعَلْتُ اُخَبِّؤُھَا حَیَائً مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: فَمَا تَاْمُرُنَا اَنْ نَشْرَبَ؟ قَالَ: ((فِیْ الْاَسْقِیَۃِ الَّتِیْیُلاثُ عَلٰی اَفْوَاھِھَا۔)) قَالَ: اِنَّ اَرْضَنَا اَرْضٌ کَثِیْرَۃُ الْجُرْذَانِ لَاتَبْقٰی فِیْھَا اَسْقِیَۃُ الْاَدَمِ، قَالَ: ((وَاِنْ اَکَلَتْہُ الُجُرْذَانُ۔)) مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا، وَقَالَ لِاَشَجِّ عَبْدِ الْقَیْسِ: ((اِنَّ فِیْکَ خُلَّتَیْنِیُحِبُّھُمَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْحِلْمُ وَالْأَنَاۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۹۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب عبدالقیس کا وفد، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا توکہا: ربیعہ قبیلے سے ہمارا تعلق ہے، آپ کے اور ہمارے مابین مضر قبیلے کے کفار حائل ہیں، ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں آ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں کوئی (ایسا جامع) حکم دیں کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہو جائیں اور ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمھیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، یہ چار امور میں سے نہیںہے، اورنماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمھیں کدو کے برتن، لکڑی سے بنائے ہوئے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور ہرے رنگ کے گھڑے سے منع کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نَقِیْر کے بارے آپ کیا جانتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تنے کو کھود کر یہ برتن بنایا جاتا ہے، پھر لوگ اس میں شہریز کھجوریںیا عام کھجوریں اور پانی ڈالتے ہیں، جب اس کے جوش میں ٹھیراؤ پیدا ہوتا ہے تو پھر تم پیتے ہو (اور نشہ چڑھتا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی اپنے چچا زاد بھائی کو تلوار کے ساتھ قتل کر دیتاہے۔ ان لوگوں میں ایک آدمی ایسا تھا، جو اسی وجہ سے زخمی ہوا تھا، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شرماتے ہوئے اس کو چھپانے لگ گیا۔ ان لوگوں نے کہا: تو پھر آپ ہمیں کن برتنوںمیں پینے کا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان مشکیزوں میں، جن کے منہوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے علاقے میں چوہے بہت زیادہ ہیں، اس وجہ سے چمڑے کا تو کوئی مشکیزہ بچتا ہی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس کو چوہے کھا جائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات دو تین بار ارشاد فرمائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عبد القیس کے ایک فرد سیدنا اشج (منذر بن عائذ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آدمی سے کہا: تجھ میں دو خصلتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے، ایک عقل اور بردباری اور دوسری وقار و تمکنت اور جلدی نہ کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9618

۔ (۹۶۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ اَرْبَعُ خِلَالٍ، اَنْ یُّجِیْبَہُ اِذَا دَعَاہُ، وَیُشَمِّتَہُ اِذَا عَطَسَ، واِذَا مَرِضَ اَنْ یَّعُوْدَہَ، وَ اِذَا مَاتَ اَنْ یَشْھَدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۸)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، جب وہ چھینکے تو اس کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمارداری کرے اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9619

۔ (۹۶۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ اَرْبَعُ خِلَالٍ، اَنْ یُّجِیْبَہُ اِذَا دَعَاہُ، وَیُشَمِّتَہُ اِذَا عَطَسَ، واِذَا مَرِضَ اَنْ یَّعُوْدَہَ، وَ اِذَا مَاتَ اَنْ یَشْھَدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۸)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے دیا، اللہ تعالیٰ کے لیے روکا، اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھا اور اللہ تعالیٰ کے لیے نکاح کیا، پس تحقیق اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9620

۔ (۹۶۲۰)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سِتَّۃُ اَیَّامٍ ثُمَّ اعْقِلْ یَااباذَرٍّ! مَا اَقُوْلُ لَکَ بَعْدُ۔)) فَلَمَّا کَانَ الْیَوْمُ السَّابِعُ، قَالَ: ((اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فِیْ سِرِّ اَمْرِکَ وَعَلَانِیَتِہِ، وَاِذَا اَسَأْتَ فَاَحْسِنْ، وَلَا تَسْاَلَنَّ اَحَدًا شَیْئًا وَاِنْ سَقَطَ سَوْطُکُ، وَلَا تَقْبِضْ اَمَانَۃً (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَا تُؤْوِیَنَّ اَمَانَۃً) وَلَا تَقْضِ بَیْنَ اثْنَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۰۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھ دن ہیں، پھر اے ابو ذر! اس چیز کو سمجھنا جو میں تجھے بیان کرنے والا ہوں۔ جب ساتواں دن آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے تیرے مخفی اور اعلانیہ امور میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، جب تو برائی کرے تو اس کے بعد نیکی کر، کسی سے کسی چیز کا ہر گز سوال نہ کر، اگرچہ تیرا کوڑا گر جائے، کوئی امانت اپنے پاس نہ رکھ اور دو افراد کے مابین فیصلہ نہ کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9621

۔ (۹۶۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ مَرْیَمَ، اَنَّہُ سَمِعَ اَبَاھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُلْکُ فِیْ قُرَیْشٍ، وَالْقَضَائُ فِیْ الْاَنْصَارِ وَالْاَذَانُ فِیْ الْحَبْشَۃِ، وَالشِّرْعَۃُ فِیْ الْیَمَنِ۔)) وَقَالَ زَیْدٌ مَرَّۃًیَحْفَظُہُ: ((وَ الْاَمَانَۃُ فِیْ الْاَزْدِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۴۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بادشاہت قریشیوں میں، قضا انصاریوں میں، اذان حبشیوں میں، راہِ مستقیمیمنیوں میں اور امانت ازدیوں میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9622

۔ (۹۶۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَاْخُذُ مِنْ اُمَّتِیْ خَمْسَ خِصَالٍ فَیَعْمَلُ بِھِنِّ، اَوْ یُعَلِّمُھُنَّ مَنْ یَفْعَلُ بِھِنَّ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَعَدَّھُنَّ فِیْھَا، ثُمَّ قَالَ: ((اِتَّقِ الْمَحَارِمَ تَکُنْ اَعْبَدَ النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ تَکُنْ اَغْنَی النَّاسِ، وَاَحْسِنْ اِلٰی جَارِکَ تَکُنْ مُؤْمِنًا، وَاَحِبَّ لِلنَّاسَ ماتُحِبُّ لِنَفْسِکَ تَکُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تُکْثِرِ الضِّحْکَ فَاِنَّ کَثْرَۃَ الضِّحْکِ تُمِیْتُ الْقَلْبَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۸۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھ سے ان کلمات کی تعلیم حاصل کرے اور خود ان پر عمل کرے یا ان پر عمل کرنے والے کو سکھا دے؟ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اورشمار کرتے ہوئے پانچ چیزیں بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو، لوگوں میں سب سے بڑا عبادت گزار بن جاؤ گے، اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جاؤ، سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے حسن سلوک سے پیش آ ؤ، مومن بن جاؤ گے۔ لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، مسلمان بن جاؤ گے اور کثرت سے ہنسنا ترک کر دو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9623

۔ (۹۶۲۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ، رَدُّ التَّحِیَّۃِ، وَاِجَابَۃُ الدَّعْوَۃِ، وَشُھُوْدُ الْجَنَازَۃِ، وَعِیَادَۃُ الْمَرِیْضِ، وَتَشْمِیْتُ الْعَاطِسِ اِذَا حَمِدَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازے میں شرکت کرنا، مریض کی عیادت کرنا، اَلْحَمْدُ لَلّٰہ کہنے والے چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9624

۔ (۹۶۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَامٍ، عَنْ مَوْلٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَا اَثْقَلَھُنَّ فِیْ الْمِیْزَانِ: (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ رَجُلٌ: مَا ھُنَّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ) لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ،یُتَوَفّٰی فَیَحْتَسِبُہُ وَالِدُہُ۔)) وَقَالَ: ((بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ مُسْتَیْقِنًا بِھِنَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَیُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، وَبِالْجَنَّۃِ، وَالنَّارِ وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْحِسَابِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۴۴)
۔ ابو سلام ، ایک مولائے رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، کیا بات ہے پانچ چیزوں کی، وہ کتنی بھاری ہیں ترازو میں۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِاور نیک بیٹا، جو فوت ہو جائے اور اس کے والدین ثواب کی نیت سے صبر کریں۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ، کیابات ہے پانچ چیزوں کی، جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ ان پر یقین رکھتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا، وہ اللہ تعالی، آخرت کے دن، جنت، جہنم، موت کے بعد جی اٹھنے اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9625

۔ (۹۶۲۵)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: عَھِدَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ خَمْسٍ مَنْ فَعَلَ مِنْھُنَّ وَاحِدَۃً کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللّٰہِ: ((مَنْ عَادَ مَرِیْضًا، اَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَۃٍ، أَوْ خَرَجَ غَازِیًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اَوَ دَخَلَ عَلٰی اِمَامٍیُرِیْدُ بِذٰلِکَ تَعْزِیْزَہُ وَتَوْقِیْرَہُ، اَوْ قَعَدَ فِیْ بَیْتٍ فَیَسْلَمُ النَّاسُ مِنْہُ وَیَسْلَمُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۴۴)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں پانچ چیزوں کی نصیحت کی کہ جو آدمی ان میں سے ایک کام کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ پر ضامن ہو گا، جو مریض کی تیمار داری کرے، یا جنازے کے ساتھ نکلے، یا اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کرنے کے لیے نکلے، یا حکمران کی تائید اور توقیر کے لیے اس کے پاس جائے، یا پھر اپنے گھر میں بیٹھا رہے، تاکہ لوگ اس سے سالم رہیں اور وہ لوگوں سے سالم رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9626

۔ (۹۶۲۶)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَوْصَانِیْ حِبِّيْ بِخَمْسٍ: اَرْحَمُ الْمَسَاکِیْنَ وَاُجَالِسُھُمْ، وَاَنْظُرُ اِلٰی مَنْ ھُوَ تَحْتِیْ وَلَا اَنْظُرُ اِلٰی مَنْ ھُوَ فَوْقِیْ، وَاَنْ اَصِلَ الرَّحِمَ وَاِنْ اَدْبَرَتْ، وَاَنْ اَقُوْلَ بِالْحَقِّ وَاِنْ کَانَ مُرًّا، وَاَنْ اَقُوْلَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ یَقُوْلُ مَوْلٰی غُفْرَۃَ: لَا اَعْلَمُ بَقِیَ فِیْنَا مِنَ الْخَمْسِ اِلَّا ھٰذِہِ، قَوْلُنَا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ قَالَ اَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنَ الْحَکْمِ بْنِ مُوْسٰی وَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۴۹)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے محبوب نے مجھے پانچ امور کی نصیحت کی،یہ کہ میں مسکینوں پر رحم کروں اور ان کے ساتھ بیٹھو، (دنیا کے معاملے میں) اپنے سے کم تر افراد کی طرف دیکھوں، اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں، صلہ رحمی کروں، اگرچہ وہ پیٹھ پھیر رہی ہو، حق کہوں، اگرچہ وہ کڑوا ہو اور یہ کہ میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہوں۔ غفرہ کا غلام کہتا ہے: میرے علم کے مطابق ہم میں ان پانچ امور میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، ما سوائے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9627

۔ (۹۶۲۷)۔ عَنِ الْحَارِثِ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَ یَحْيَ بْنَ ذَکَرِیَّا، بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ یَعْمَلُ بِھِنَّ وَاَنْ یَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَیَعْمَلُوْا بِھِنِّ، فَکَادَ اَنْ یُبْطِیئَ، فَقَالَ َلہ عِیْسٰی: اِنَّکَ قَدْ اُمِرْتَ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ تَعْمَلَ بِھِنِّ وَاَنْ تَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اَنْ یَعْمَلُوْا بِھِنِّ، فَاِمَّا اَنْ تُبَلِّغَھُنَّ وَاِمَّا اُبَلِّغَھُنَّ، فَقَالَ لَہُ: یَا اَخِیْ! اِنِّیْ اَخْشٰی اِنْ سَبَقْتَنِیْ اَنْ اُعَذَّبَ، اَوْ یُخْسَفَ بِیْ، قَالَ: فَجَمَعَ یَحْيٰ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ فِیْ بَیْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّی اِمْتَلَاَ الْمَسْجِدُ، وَقُعِدَ عَلَی الشُّرَفِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَنِیْ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ اَعْمَلَ بِھِنِّ وَآمُرَکُمْ اَنْ تَعْمَلُوْا بِھِنِّ، اَوَّلُھُنَّ اَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرٰی عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِہِ بِوَرِقٍ، اَوْ ذَھَبٍ، فَجَعَلَ یَعْمَلُ وَیُؤَدِّیْ عَمَلَہُ اِلٰی غَیْرِ سَیِّدِہِ، فَاَیُّکُمْیَسُرُّہُ اَنْ یَکُوْنَ عَبْدُہُ کَذٰلِکَ، وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَکُمْ وَرَزَقَکُمْ فَاعْبُدُوْہُ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا وَآمُرُکم بِالصَّلَاۃِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَنْصِبُ وَجْھَہَ لِوَجْہِ عَبْدِہِ مَالَمْ یَلْتَفِتْ، فَاِذَا صَلَّیْتُمْ فَـلَا تَلْتَفِتُوْا، وَآمُرُکُمْ بِالصِّیَامِ فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَہُ صُرَّۃٌ مِنْ مِسْکٍ فِیْ عِصَابَۃٍ کُلُّھُمْ یَجِدُ رِیْحَ الْمِسْکِ، وَاِنَّ خَلُوْفَ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللّٰہِ اَطْیَبُ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَآمُرُکُمْ بِالصَّدَقَۃِ فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ اَسَرَہُ الْعَدُوُّ فَشَدُّوْا یَدَیْہِ اِلٰی عُنُقِہِ وَقََرَّبُوْہُ لِیَضْرِبُوْا عُنُقَہُ فَقَالَ: ھَلْ لَکُمْ اَنْ اَفْتَدِیَ نَفْسِیْ مِنْکُمْ ؟ فَجَعَلَ یَفْتَدِیْ نَفْسَہُ مِنْھُمْ بِالْقَلِیْلِ وَ الْکَثِیْرِ حَتّٰی فَکَّ نَفْسَہَ ۔ وَ آمُرُکُمْ بِذِکْرِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کَثِیْرًا، وَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَہُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِیْ اَثَرِہِ فَاَتٰی حِصْنًا حَصِیْنًا فَتَحَصَّنَ فِیْہِ وَاِنَّ الْعَبْدَ اَحْصَنُ مَایَکُوْنُ مِنَ الشَّیْطَانِ اِذَا کَانَ فِیْ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ، اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنِّ بِالْجَمَاعَۃِ، وَبِالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، وَالْھِجْرَۃِ، وَالْجِھَادِ فِیْ سِبِیْلِ اللّٰہِ، فَاِنَّہُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَۃِ قِیْدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہِ، اِلٰی اَنْ یَّرْجِعَ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ فَھُوَ مِنْ جُثَائِ جَھَنَّمَ۔)) قَالُوْا: یارَسُوْلَ اللہِ! وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی؟ قَالَ: ((وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ، فَادْعُوْا الْمُسْلِمِیْنَ بِمَا سَمَّاھُمُ اللّٰہُ الْمُسْلِمِیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ عِبَادَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۰۲)
۔ سیدنا حارث اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو پانچ کلمات کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، انھوں نے لوگوں کو بتانے میں دیر کی، عیسی علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ کو پانچ کلمات کے بارے میں حکم دیا گیا تھا کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنو اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، اب آپ ان کو بتلائیںیا میں بتلا دیتا ہوں، انھوں نے کہا: اے میرے بھائی! اگر آپ مجھ سے پہلے بتلا دیں تو مجھے یہ ڈر ہو گا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے عذاب دیا جائے یا مجھے دھنسا دیا جائے۔ پس یحییٰ علیہ السلام نے بنو اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا،یہاں تک کہ مسجد بھر گئی، پھر ان کو اونچی جگہ پر بٹھا دیا گیا، پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تم کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں، پہلا حکم یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، پس بیشک مشرک کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے اپنے خالص مال چاندییا سونے کے عوض غلام خریدا، لیکن ہوا یوں کہ وہ غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے لیے کام کرنے لگا، اب تم میں سے کس کو یہ بات خوش کرے گی کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے اور تم کو رزق دیا ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور میں تم کو نماز کا حکم دیتا ہوں، پس بیشک اللہ تعالیٰ اپنا چہرہ بندے کے چہرے کی خاطر اس وقت تک متوجہ کیے رکھتے ہیں، جب تک وہ اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو، اس لیے جب نماز پڑھو تو اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہوا کرو، اور میں تمہیں روزوں کا حکم دیتا ہوں، ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس کے پاس کستوری کی تھیلی ہو اور سارے لوگ کستوری کی خوشبو محسوس کر رہے ہوں، روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے ، اور میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس کو اس کے دشمن نے قید کر کے اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیتے ہوں اور اس کی گردن کاٹنے کے لیے اس کو قریب کر لیا ہو اور وہ آگے سے کہا: اگر میں اپنے نفس کے عوض اتنا فدیہ دے دوں تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گے؟ پھر اس نے کم مقدار اور زیادہ مقدار فدیہ دینا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اپنے آپ کو بچا لیا، اور میں تم کو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کا دشمن جلدی کرتے ہوئے اس کا تعاقب کر رہا ہو، لیکن وہ مضبوط قلعے میں پہنچ کر قلعہ بند ہو گیا، اور بیشک بندہ شیطان سے سب سے زیادہ حفاظت میں اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میںمصروف ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں بھی تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے، (وہ پانچ چیزیںیہ ہیں:) جماعت، امیر کی بات سننا اور اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا، پس جو آدمی ایک بالشت کے بقدر جماعت سے نکل گیا، اس نے واپس پلٹنے تک اپنی گردن سے اسلام کا معاہدہ اتار پھینکا اور جس نے جاہلیت کی پکار پکاری، وہ جہنم کی جماعت میں سے ہوگا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزے بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ روزہ بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے اور یہ گمان بھی کرے کہ وہ مسلمان ہے، پس مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے نام سے پکارو، یعنی مسلمان، مؤمن، اللہ تعالیٰ کے بندے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9628

۔ (۹۶۲۸)۔ عَنْ عَیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی اَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ نَعُوْدُہُ مِنْ شَکْوًی اَصَابَہُ، وَامْرَاَتُہُ تُحَیْفَۃُ قَاعِدَۃٌ عَنْدَ رَاْسِہِ، قُلْتُ: کَیْفَ بَاتَ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ ؟ قَالَتْ: وَاللّٰہِ لَقَدْ بَاتَ بِاَجْرٍ، فَقَالَ اَبُوْعُبَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَا بِتُّ بِاَجْرٍِ، وَکَانَ مُقْبِلًا بِوَجْھِہِ عَلَی الْحَائِطِ، فَاَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ بِوَجْھِہِ، فَقَالَ: اَلا تَسْاَلُوْنَنِیْ عَمَّا قُلْتُ؟ قَالُوْا: مَا اَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ، فَنَسْاَلُکَ عَنْہُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ اَنْفَقَ نَفَقَۃً فَاضِلَۃً فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَسَبْعُمَائِۃٍ، وَمَنْ اَنْفَقَ عَلَی نَفْسِہِ، وَاَھْلِہِ، اَوْ عَادَ مَرِیْضًا اَوْ مَازَ اَذًی، فَالْحَسَنَۃُ بِعَشَرِ اَمْثَالِھَا، وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ، مَالَمْ یَخْرِقْھَا، وَمَنِ ابْتَلَاہُ اللّٰہُ بِبَلائٍ فِیْ جَسَدِہِ فَھُوَ لَہُ حِطَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۰)
۔ عیاض بن غطیف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے، وہ بیمار تھے اور ان کی بیوی تُحیفہ ان کے سر کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، میں نے پوچھا: سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رات کیسے گزری ہے؟ اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم! انھوں نے اجر و ثواب کے ساتھ رات گزاری ہے، لیکن اُدھر سے سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خود کہا: میںنے اجر کے ساتھ نہیں گزاری، جبکہ وہ دیوار کی طرف رخ کیے ہوئے تھے، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: جو بات میں نے کہی ہے، تم لوگ اس کے بارے میں سوال کیوں نہیںکرتے؟ انھوں نے کہا: تم نے کوئی قابل تعجب بات ہی نہیں کی کہ ہم اس کے بارے میں سوال کریں، پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے زائد چیز اللہ کی پناہ میں خرچ کی، اس کو سات سو گنا ثواب ملے گا، اور جس نے اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا،یا کسی مریض کی تیمار داری کی، کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دی تو اس کو اس نیکی کا دس گنا ثواب ملے گا اور روزہ ڈھال ہے، لیکن جب تک وہ روزے دار اسے پھاڑ نہ لے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم کی آزمائش کے ذریعے آزمایا تو اس تکلیف سے اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9629

۔ (۹۶۲۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِلْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ مِنَ الْمَعْرُوْفِ سِتٌّ، یُسَلِّمُ عَلَیْہِ اِذَا لَقِیَہُ، وَیُشَمِّتُہُ اِذَا عَطَسَ، وَیَعُوْدُہُ اِذَا مَرِضَ، وَیُجِیْبُہُ اِذَا دَعَاہُ، وَیَشْھَدُہُ اِذَا تُوُفِّیَ، وَیُحِبُّ لَہُ مَایُحِبُّ لِنَفْسِہِ، وَیَنْصَحُ لَہُ بِالْغَیْبِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۳)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر نیکی کی صورت میں چھ حقوق ہیں، جب اس سے ملاقات ہو تو سلام کرے، جب وہ چھینکے تو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے، جب وہ اس کو دعوت دے تو قبول کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو نماز جنازہ میں شرکت کرے، جو کچھ اپنے لیے پسند کرے، وہ اس کے لیے بھی پسند کرے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیرخواہی کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9630

۔ (۹۶۳۰)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أِضْمَنُوْا لِیْ سِتًّا مِنْ أنْفُسِکُمْ اَضْمَنْ لَکُمُ الْجَنَّۃَ: اُصْدُقُوْا إذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوْا إذَا وَعَدْتُّمْ وَأَدُّوْا إذَا ائْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ وَغُضُّوْا أبْصَارَکُمْ وَکُفُّوْا أیْدِیَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۳۷)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں (۱)جب بات کرو تو سچ بولو (۲) جب وعدہ کرو تو پورا کرو (۳)جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اداکرو (۴) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو (۵) اپنی آنکھوں کو نیچا رکھو (۶) اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9631

۔ (۹۶۳۱)۔ عَنْ خُرَیْمِ بْنِ فَاتِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْاَعْمَالُ سِتَّۃٌ وَالنَّاسُ اَرَبعَۃٌ، فَمُوْجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَحَسَنَۃٌ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا، وَحَسَنَۃٌ بِسَبْعِمَائِۃٍ، فَاَمَّا الْمُوْجِبَتَانِ فَمَنْ مَاتَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ مَاتَ یُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیئاً دَخَلَ النَّارَ، وَاَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ فَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ حَتّٰییَشْعُرَھَا قَلْبُہُ وَیَعْلَمَھَا اللّٰہُ مِنْہُ کُتِبَتْ لَہْ حَسَنَۃً،وَمَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃًکُتِبَتْ عَلَیْہِ سَیِّئَۃً، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَۃً فَبِعَشْرِ اَمْثَالِھَا، وَمَنْ اَنْفَقَ نَفَقَۃً فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَحَسَنَۃٌ بِسَبْعِمِائَۃٍ، وَاَمَّا النَّاسُ فَمُوَسَّعٌ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا مَقْتُوْرٌ عَلَیْہِ فِیْ الآخِرَۃِ، وَمَقْتُوْرٌ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا، مُوَسَّعٌ عَلَیْہِ فِیْ الْآخِرَۃِ، وَمَفْتُوْرٌ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمُوَسَّعٌ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۰۷)
۔ سیدنا خریم بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اعمال چھ ہیں اور لوگ چار ہیں، دو واجب کرنے والے ہیں، دو ہم مثل ہیں، ایک نیکی دس گناہ ہے اور ایک نیکی سات سو گناہے، دو واجب کرنے والے یہ ہیں: جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، جنت میں داخل ہو گیا اور جو اس حال میں مرا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ دو ہم مثل یہ ہیں: جس نے نیکی کرنے کا اتنا ارادہ کیا کہ اس کے دل کو سمجھ آگئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جان لیا تو اس کی ایک نیکی لکھی جائے گی اور جو ایک برائی کرے گا، اس کی ایک برائی ہی لکھی جائے گی، جو ایک نیکی کرے گا، اس کو ثواب دس گنا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرکے ایک نیکی کرے گا، اس کا اجر سات سو گنا ہو گا، رہا مسئلہ لوگوں کا ، تو جس پر دنیا میں وسعت کی جائے گی، آخرت میں اس پر تنگی کی جائے گی، جس پر دنیا میں تنگی کی جائے گی، آخرت میں اس پر وسعت پیدا کی جائے گی اور بعض ایسے ہیں کہ دنیا و آخرت میں ان پر وسعت اختیار کی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9632

۔ (۹۶۳۲)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَبْعَۃٌیُظِّلُھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ، اَلْاِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَاَ بِعِبَادَۃِ اللّٰہِ، وَرَجُلٌ قُلْبُہُ مُتَعَلِّقٌ بِالْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِیْ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِجْتَمَعَا عَلَیْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ اَخْفَاھَا لَا تَعْلَمُ شِمَالُہُ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہُ،وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ، وَرَجُلٌ دَعَتْہُ ذَاتُ مَنْصَبٍ وَجَمَالٍ اِلَی نَفْسِھَا، فَقَالَ: اَنَا اَخَافُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۹۶۶۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دن سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن صرف اسی کا سایہ ہو گا، (۱)منصف حکمران، (۲) وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں پروان چڑھا، (۳) وہ آدمی جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہو، (۴) وہ دو آدمی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کی، اسی پر جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے، (۵) وہ آدمی نے جس نے صدقہ کیا اور اس کو اس طرح چھپایا کہ جو کچھ اس کے دائیں ہاتھ نے خرچ کیا، اس کے بائیں ہاتھ کو اس کا علم نہ ہوا، (۶) وہ آدمی جس نے خلوت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اس کی آنکھیں بہہ پڑھیں اور (۷) وہ آدمی جس کو منصب اور حسن والی عورت نے اپنے وجود یعنی برائی کی دعوت دی، لیکن اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9633

۔ (۹۶۳۳)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعٍ، وَنَھَانَا عَنْ سَبْعٍ، قَالَ فَذَکَرَ: ((مَا اَمَرَھُمْ بِہٖمِنْعِیَادَۃِ الْمَرِیْضِ، وَاِتْبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِیْتِ الْعَاطِسِ، وَرَدِّ السِّلَامِ، وَاِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَاِجَابَۃِ الدَّاعِیْ، وَنَصْرِ الْمَظْلُوْمِ، وَنَھَانَا عَنْ آنِیَۃِ الْفِضَّۃِ، اَوْ قَالَ: حَلْقَۃِ الذَّھَبِ، وَالْاِسْتَبْرَقِ، وَالْحَرِیْرِ، وَالدِّیْبَاجِ، وَالْمِیْثَرَۃِ، وَالْقَسِّیِّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۹۸)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن چیزوں کا حکم دیا، وہ یہ تھیں: بیمار کی تیمارداری کرنا، جنازوں میں شرکت کرنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا، قسم اٹھانے والے کی قسم پوری کرنا، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن چیزوں سے منع فرمایا، وہ یہ تھیں: چاندی کے برتن، سونے کا کڑا، استبرق، ریشم، دیباج، ریشم و دیباج سے آراستہ سوارییا کشتی، قسِّیّ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9634

۔ (۹۶۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ الْاَنْمَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((ثَلَاثٌ اُقْسِمُ عَلَیْھِنِّ، وَاُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا فَاحْفَظُوْہُ۔)) قَالَ: ((فَاَمَّا الثَّلَاثُ الَّذِیْ اُقْسِمُ عَلَیْھِنِّ: فَاِنَّہُ مَانَقَّصَ مَالَ عَبْدٍ صَدَقَۃٌ، وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ بِمَظْلِمَۃٍ فَیَصْبِرُ عَلَیْھَا اِلَّا زَادَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا عِزًّا، وَلَا یَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْاَلَۃٍ اِلَّا فَتَحَ اللّٰہُ لَہُ بَابَ فَقْرٍ۔)) (وَاَمَّا الَّذِیْ اُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا فَاحْفَظُوْہُ) فَاِنَّہُ قَالَ: ((اِنّمَا الدُّنْیَا لِاَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، عَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فَھُوَ یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ وَیَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حَقَّہُ، قَالَ: فَھٰذَا بِاَفْضَلِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالًا، قَالَ: فھُوَ یَقُوْلُ : لَوْکَانَ لِیْ مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: فَاَجْرُھُمَا سِوَائٌ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَھُوَ یَخْبِطُ فِیْ مَالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَا یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ وَلَا یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ، وَلَا یَعْلَمُ لِلّٰہِ فِیْہِ حَقَّہُ، فَھٰذَا بِاَخْبَثِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالًا وَ لَاعِلْمًا فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ: ھِیَ نِیَّتُہُ فَوِزْرُھُمَا فِیْہِ سَوَائٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۴)
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں اور تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، پس اس کو یاد کرو۔ وہ تین چیزیں، جن پر میں قسم اٹھاتا ہوں، یہ ہیں: (۱)صدقہ بندے کے مال میں کمی نہیں کرتا، (۲) جس آدمی پر ظلم کیا جاتا ہے اور پھر وہ صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کر دیتاہے اور (۳) جب بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے فقیری کا دروازہ کھول دیتاہے۔ اب میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس کو یاد کر لو: دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل مرتبے والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے اور ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9635

۔ (۹۶۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَمَرَنِیْ خَلِیْلِیْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعٍ: اَمَرَنِیْ بِحُبِّ الْمَسَاکِیْنِ وَالدُّنُوِّ مِنْھُمْ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اَنْظُرَ اِلٰی مَنْ ْ ھُوَ دُوْنِیْ وَلَا اَنْظُرَ اِلٰی مَنْ ْ ھُوَ فَوْقِیْ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اَصِلَ الرَّحِمَ وَاِنْ اَدْبَرَتْ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ لَا اَسْاَلَ اَحَدًا شَیْئاً ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اَقُوْلَ بِالْحَقِّ وَاِنْ کَانَ مُرًّا، وَاَمَرَنِیْ اَنْ لَا اَخَافَ فِیْ اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اُکْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ فَاِنَّھُنَّ مِنْ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۴۵)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے سات چیزوں کا حکم دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسکینوں سے محبت کروں اور ان کے قریب ہوا کرو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سے کم تر افراد کی طرف دیکھوں اور اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں صلہ رحمی کروں، اگرچہ وہ پیٹھ پھیر رہی ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ حق کہوں، اگرچہ وہ کڑوا ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں کثرت سے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کا ذکر کروں،کیونکہیہ عرش کے نیچے موجود ایک خزانے میں سے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9636

۔ (۹۶۳۶)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَتَصْدِیْقٌ وَجِھَادٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ، وَحَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) قَالَ الرَّجُلُ: اَکْثَرْتَ یارَسُوْلَ اللہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِیْنُ الْکَلَامِ، وَبَذْلُ الطَّعَامِ، وَسَمَاحٌ وَحُسْنُ خُلُقٍ۔)) قَالَ الرَّجُل: اُرِیْدُ کَلِمَۃً وَاحِدَۃً، قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اذْھَبْ، فَـلَا تَتَّھِمُ اللّٰہَ نَفْسَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۶۷)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! افضل عمل کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، تصدیق کرنا، اللہ تعالیٰ کی راہ میںجہاد کرنا اور حج مبرور۔ اس بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو زیادہ چیزوں کا ذکر کردیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر نرم کلام کرنا، کھانا کھلانا، درگزر کرنا اور حسن اخلاق۔ اس بندے نے کہا: میں تو صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلا جا اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی سے بچانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9637

۔ (۹۶۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ ظَبْیَۃَ، قَالَ: اِنَّ شُرَحْبِیْلَ بْنَ السِّمْطِ دَعَا عَمْرَوبْنَ عَبَسَۃَ السُّلَمِیَّ فَقَالَ: یَاابْنَ عَبَسَۃَ ھَلْ اَنْتَ مُحَدِّثِیْ حَدِیْثًا سَمِعْتَہُ اَنْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْسَ فِیْہِ تَزَیُّدٌ وَلَا کَذِبٌ، وَلَا تُحَدِّثْنِیْہِ عَنْ آخَرَ سَمِعَہُ مِنْہُ غَیْرُکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ : قَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلَّذِیْنَیَتَحَابُّوْنَ مِنْ اَجْلِیْ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلَّذِیْنَیَتَصَافَوْنَ مِنْ اَجْلِیْ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلَّذِیْنَیَتَزَاوَرُوْنَ مِنْْ اَجْلِیْ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلَّذِیْنَیَتَبَاذَلُوْنَ مِنْْ اَجْلِیْ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلَّذِیْنَیَتَنَاصَرُوْنَ مِنْ اَجْلِیْ۔)) وَقَالَ عَمْرٌو بْنُ عَبَسَۃَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَیُّمَا رَجُلٍ رَمٰی بِسَھْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَبَلَغَ مُخْطِئًا اَوْ مُصِیْبًا فَلَہُ مِنَ الْاَجْرِ کَرَقَبَۃٍیُعْتِقُھَا مِنْ وُلْدِ اِسْمَاعِیْلَ، وَاَیُّمَا رَجُلٍ شَابَ شَیْبَۃً فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَھِیَ لَہُ نُوْرٌ، وَاَیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ اَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فُکُلُّ عُضْوٍ مِنَ الْمُعْتَقِ بِعُضْوٍ مِنَ الْمُعْتِقِ فِدَائٌ لَہُ مِنَ النَّارِ، وَاَیُّمَا امْرَاَۃٍ مُسْلِمَۃٍ اَعْتَقَتْ اِمْرَاَۃً مُسْلِمَۃً فُکُلُّ عُضْوٍ مِنَ الْمُعْتَقَۃِ بِعُضْوٍ مِنَ الْمُعْتِقِۃِ فِدَائٌ لَھَا مِنَ النَّارِ، وَاَیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ قَدَّمَ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ صُلْبِہٖثَلَاثَۃً لَمْ یَبْلُغُوْ الْحِنْثَ اَوِ امْرَاَۃٌ فَھُمْ لَہُ سُتْرَۃٌ مَنَ النَّارِ، وَاَیُّمَا رَجُلٍ قَامَ اِلَی وَضُوْئٍ یُرِیْدُ الصَّلَاۃَ فَاَحْصَی الْوُضُوْئَ اِلٰی اَمَاکِنِہِ سَلِمَ مِنْْ کُلِّ ذَنْبٍ اَوْ خَطِیْئَۃٍ لَہُ، فَاِنْ قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ رَفَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا دَرَجَۃً وَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا۔)) فَقَالَ شُرَحْبِیْلُ بْنُ السِّمْطِ: اَنْتَ سَمِعْتَ ھٰذَا الْحَدِیْثَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَا ابْنَ عَبَسَۃَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ لَوْ اَنِّیْ لَمْ اَسْمَعْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَیْرَ مَرَّۃٍ اَوْ مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثٍ اَوْ اَرْبَعٍ اَوْ خَمْسٍ اَوْ سِتٍّ اَوْ سَبْعٍ فَانْتَھٰی عِنْدَ سَبْعٍ مَاحَلَفْتُ، یَعْنِی مَابَالَیْتُ اَنْ لَا اُحَدِّثَ بِہٖاَحَدًامِنَالنَّاسِ،وَلٰکَنِّیْ وَاللّٰہِ مَااَدْرِیْ عَدَدَ مَاسَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۶۲)
۔ ابو ظبیہ کہتے ہیں: شرحبیل بن سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا اور کہا: اے ابن عبسہ! کیا تم ایسی حدیث بیان کرسکتے ہو، جو تم نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے اور اس میں کسی زیادتی اور جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو، نیز تم نے وہ حدیث کسی اور آدمی سے بیان نہیں کرنی، جو اُس نے سنی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تحقیق میری محبت ان لوگوںکے لیے ثابت ہو گئی جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی، جو میری وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ خالص تعلق رکھتے ہیں، میری محبت میری وجہ سے ایک دوسرے کی زیارت اور ملاقات کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی، میری محبت میری وجہ سے خرچ کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری وجہ سے ایک دوسروں کی مدد کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی۔ پھر سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:جس آدمی نے اللہ کے راستے میں تیر پھینکا، وہ نشانے پر لگا یا نہ لگا، اسے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، جو آدمی اللہ کے راستے میں بوڑھا ہو گیا تو یہ عمل اس کے لیے نور ہو گا، جس مسلمان نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو آزاد شدہ کے ہر ایک عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو آگ سے آزاد ہو جائے گا، جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو آزاد شدہ عورت کے ہر عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہو جائے گا، جس مسلمان مرد یا عورت نے اپنی اولاد میں سے تین نابالغ بچے آگے بھیج دیے (یعنی فوت ہو گئے) تو وہ اس کے لیے آگ کے سامنے آڑ بن جائیں گے (یعنی وہ جہنم میں داخل نہیںہو گا)، جو آدمی نماز کے ارادے سے وضو کرنے کے لیے اٹھا اور اس نے وضو کے پانی کو اس کی جگہ تک پہنچایا تو وہ ہر گناہ یا خطا سے پاک ہو جائے گا۔ اب اگر وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرے گا اور اگر ویسے ہی بیٹھ جاتا ہے تو (گناہوں سے) پاک ہو کر بیٹھے گا۔ شرحبیل نے تصدیق کرنے کے لیے کہا: اے ابن عبسہ! کیا تم نے خود یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایکیا دو یا تینیا چار یا پانچ یا چھ یا سات یا آٹھیا نو دفعہ سنی ہوتی تو میں قسم نہ اٹھاتا، یعنی کسی آدمی کو یہ بیان نہ کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتا، اللہ کی قسم! بات یہ ہے کہ مجھے وہ تعداد ہییاد نہیں ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کتنی دفعہ یہ حدیث سنی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9638

۔ (۹۶۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ تَمِیْمَۃَ الْھُجَیْمِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ قَالَ: لَقِیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِیْنَۃِ فَسَاَلْتُہُ عَنِ الْمَعْرُوْفِ فَقَالَ: ((لَاتَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئاً وَلَوْ اَنْ تُعْطِیَ صِلَۃَ الْحَبْلِ، وَلَوْ اَنْ تُعْطِیَ شِسْعَ النَّعْلِ، وَلَوْ اَنْ تُفْرِغَ مِنْْ دَلْوِکَ فِیْ اِنَائِ الْمُسْتَسْقِیْ، وَلَوْ اَنْ تُنَحِّیَ الشَّیْئَ مِنْْ طَرِیْقِ النَّاسِ یُؤْذِیْھِمْ، وَلَوْ اَنْ تَلْقٰی اَخَاکَ وَوَجْھُکَ اِلَیْہِ مُنْطَلِقٌ، وَلَوْ اَنْ تَلْقٰی اَخَاکَ فَتُسَلِّمَ عَلَیْہِ، وَلَوْ اَنْ تُؤْنِسَ الْوَحْشَانَ فِیْ الْاَرْضِ، وَاِنْ سَبَّکَ رَجُلٌ بِشَیْئٍیَعْلَمُہُ فِیْکَ وَاَنْتَ تَعْلَمُ فِیْہِ نَحْوَہُ فَلَاتَسُبَّہُ فَیَکُوْنَ اَجْرُہُ لَکَ وَوِزْرُہُ عَلَیْہِ، وَمَاسَرَّ اُذُنَکَ اَنْ تَسْمَعَہُ فَاعْمَلْ بِہٖ،وَمَاسَائَاُذُنَکَاَنْتَسْمَعَہُفَاجْتَنِبْہُ۔)) (مسنداحمد: ۱۶۰۵۱)
۔ ابو تمیمہ ہجیمی اپنی قوم کے آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ کے کسی راستے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نیکی کے بارے میںپوچھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی نیکی سر انجام دینے کو معمولی خیال نہ کرنا، اگرچہ (وہ نیکییہ ہو کہ تو کسی کو)رسی کا عطیہ دے دے، کسی کو جوتے کا تسمہ ہبہ کر دے،اپنے ڈول سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی ڈال دے، لوگوںکے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے،اپنے بھائی کو خندہ پیشانی کے ساتھ ملے، اپنے بھائی سے ملاقات کرتے وقت سلام کہہ دے، خوف و گبھراہٹ میں مبتلا آدمی کا دل بہلا دے، اگر کوئی آدمی تیری کسی ایسی خامی کی بنا پر تجھے برا بھلا کہے، جس کو وہ جانتا ہے تو تو اس کو اس کے عیب کی بنا پر برا بھلا مت کہے، اس کاروائی کا اجر تیرے لیے ہو گا اور گناہ اس پر ہو گا، تیرا کان جس چیز کو سننا پسند کریں، اس پر عمل کر اور تیرے کان کو جس چیز کو سننا برا لگے، اس سے اجتناب کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9639

۔ (۹۶۳۹)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: اتَّزِرُوْا، وَارْتَدُوْا، وَانْتَعِلُوْا، وَاَلْقُوْا الْخِفَافَ وَالسَّرَاوِیْلَاتِ، وَالْقُوْا الرُّکُبَ، وَانْزُوْا نَزْوًا، وَعَلَیْکُمْ بِالْمَعَدِّیَّۃِ، وَارْمُوْا الْاَغْرَاضَ، وَ ذَرُوْا التَّنَعُّمَ وَ زِیَّ الْعَجَمِ، وَ اِیَّاکُمْ وَالْحَرِیْرَ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَھٰی عَنْہُ، وقَالَ: ((لَا تَلْبَسُوْا مِنَ الْحَرِیْرِ اِلَّا مَاکَانَ ھٰکَذَا۔)) وَاَشَارَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِصْبَعَیْہِ۔ (مسند احمد: ۳۰۱)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تہبند باندھا کرو، چادر اوڑھا کرو اور جوتے پہنا کرو اور موزوں اور شلواروں کو ترک کر دو، اسی طرح (سواریوں سے) رکاب بھی پھینک دو اور کود کر چڑھا کرو، معد بن عدنان کی طرح کی زندگی گزارو، نشانوں پر تیر پھینکا کرو، عیش پرستی اور عجموں کے فیشن اپنانے سے بچو اور ریشم سے بھی دور رہو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس سے منع کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ریشم نہ پہنا کرو، مگر اتنا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9640

۔ (۹۶۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا صَلَّتِ الْمَرْاَۃُ خَمْسَھَا، وَصَامَتْ شَھْرَھَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَھَا، وَاَطَاعَتْ زَوْجَھَا، قِیْلَ لَھَا: ادْخُلِی الْجَنّۃَ مِنْ اَیِّ اَبْوَابِ الْجَنّۃِ شِئْتِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۱)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت پانچ نمازیں پڑھے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے تو اس سے کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہتی ہے، داخل ہو جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9641

۔ (۹۶۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، اَنَّ اِمْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَسْاَلُہُ وَمَعَھَا صَبِیَّانِ لَھَا، فَاَعْطَاھَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَاَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْھَا تَمْرَۃٍ، قَالَ: ثُمَّ اِنَّ اَحَدَ الصَّبِیَّیِْنِ بَکٰی، قَالَ: فَشَقَّتْھَا فَاَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدٍ نِصْفًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِیْمَاتٌ بِاَوْلَادِھِنِّ، لَوْلَا مَایَصْنَعْنَ بِاَزْوَاجِھِنَّ لَدَخَلَ مُصَلِّیَاتُھُنَّ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۲۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، جبکہ اس کے ساتھ دو بچے بھی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ہر بچے کو ایک ایک کھجور دے دی، پھر جب ایک بچہ رونے لگا تو اس نے تیسری کھجور بھی دو ٹکڑوں میں تقسیمکر کے ہر ایک آدھی آدھی دے دی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بچوں کو پیٹ میں اٹھانے والی، پھر جنم دینے والی اور پھر ان سے شفقت کرنے والی،یہ خواتین جو کچھ اپنے خاوندوں کے ساتھ کر جاتی ہیں، اگر یہ چیز نہ ہوتی تو نمازی عورتوں نے جنت میں داخل ہو جانا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9642

۔ (۹۶۴۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِمْرَاَۃٌ، وَمَعَھَا صَبِیٌّ لَھَا تَحْمِلُہُ وَبِیَدِھَا آخَرُ، لَا اَعْلَمُہُ اِلَّا قَالَ: وَھِیَ حَامِلٌ فَلَمْ تَسْاَلْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًایَوْمَئِذٍ اِلَّا اَعْطَاھَا اِیَّاہُ، ثُمَّ قَالَ: ((حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ۔)) اَلْحَدِیْثَ (مسند احمد: ۲۲۵۷۲)
۔ (دوسری سند) ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، ایک بچہ اس نے اٹھایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں دوسرا بچہ تھا، میرا خیال ہے کہ راوی نے یہ بھی کہا کہ وہ عورت حاملہ بھی تھی اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو چیز مانگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دے دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بچوں کو پیٹ میں اٹھانے والیاں، پھر ان کو جنم دینے والیاں، …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9643

۔ (۹۶۴۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنْصَرَفَ مِنَ الصُّبْحِ یَوْمًا فَاَتَی النِّسَائَ فِیْ الْمَسْجِدِ فَوَقَفَ عَلَیْھِنَّ فَقَالَ: ((یَامَعْشَرَ النِّسَائِ! مَارَاَیْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُوْلٍ وَدِیْنٍ اَذْھَبَ لِقُلُوْبِ ذَوِی الْاَلْبَابِ مِنْکُنَّ، فَاِنِّیْ قَدْ رَاَیْتُکُنَّ اَکْثَرَ اَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَتَقَرَّبْنَ اِلَی اللّٰہِ مَااسْتَطَعْتُنَّ۔)) وَکَانَ فِیْ النِّسَائِ امْرَاَۃُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، فَاَخْبَرَتْہُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَخَذَتْ حُلِیًّا لَھَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَاَیْنَ تَذْھَبِیْنَ بِھٰذَا الْحُلِیِّ؟ فَقَالَتْ: اَتَقَرَّبُ بِہٖاِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلِہِ، لَعَلَّ اللّٰہَ اَنْ لَّا یَجْعَلَنِیْ مِنْ اَھْلِ النَّارِ، فَقَالَ: وَیْلَکِ ھَلُمِّیْ فَتَصَدَّقِیْ بِہٖعَلَیَّ وَعَلَی وَلَدِیْ فَاِنَّا لَہُ مَوْضِعٌ، فَقَالَت: وَاللّٰہِ حَتّٰی اَذْھَبَ بِہٖاِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَھَبَتْ تَسْتَاْذِنُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ھٰذِہِ زَیْنَبُ تَسْتَاْذِنُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اَیُّ الزَّیَانِبِ ھِیَ؟)) فَقَالُوْا: امْرَاَۃُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، فَقَالَ: ((اِئْذَنُوْا لَھَا۔)) فَدَخَلَتْ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَت: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ سَمِعْتُ مِنْکَ مَقَالَۃً، فَرَجَعَتُ اِلَی ابْنِ مَسْعُوْدٍ فَحَدَّثَتُہُ وَاَخَذْتُ حُلِیًّا اَتَقَرَّبُ بِہٖاِلَی اللّٰہِ وَاِلَیْکَ رَجَائَ اَنْ لَّا یَجْعَلَنِیَ اللّٰہُ مِنْ اَھْلِ النَّارِ، فَقَالَ لِیَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: تَصَدَّقِیْ بِہٖعَلَیَّ وَعَلَی وَلَدِیْ فَاِنَّا لَہُ مَوْضِعٌ، فَقُلْتُ: حَتّٰی اَسْتَاْذِنَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقِیْ بِہٖعَلَیْہِ وَعَلٰی بَنِیْہِ فَاِنَّھُمْ لَہُ مَوْضِعٌ۔)) ثُمَّ قَالَتْ: یارَسُوْلَ اللہِ! اَرَاَیْتَ مَاسَمِعْتُ مِنْکَ حِیْنَ وَقَفْتَ عَلَیْنَا، ((مَارَاَیْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُوْلٍ قَطُّ وَلَا دِیْنٍ اَذْھَبَ بِقُلُوْبِ ذَوِیْ الْاَلْبَابِ مِنْکُنَّ۔)) قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا نُقْصَانُ دِیْنِنَا وَعُقُوْلِنَا؟ فَقَالَ: ((اَمَّا مَاذَکَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِکُنَّ، فَالْحَیْضَۃُ الَّتِیْ تُصِیْبُکُنَّ، تَمْکُثُ اِحْدَاکُنَّ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ تَمْکُثَ، لَاتُصَلِّی وَلَا تَصُوْمُ، فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِکُنَّ، وَاَمَّا مَاذَکَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ عُقُوْلِکُنَّ، فَشَھَادَتُکُنَّ، اِنّمَا شَھَادَۃُ الْمَرْاَۃِ نِصْفُ شَھَادَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۸۸۴۹)
۔ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِفجر سے فارغ ہوئے ، مسجد میں موجود عورتوں کے پاس آئے، ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آجانے والا کوئی نہیں دیکھا اور میں نے قیامت کے دن جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی، لہٰذا حسب ِ استطاعت اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو۔ عورتوں میں عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی بھی موجود تھی ، اس نے اپنے خاوند کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی باتوں کی اطلاع دی اور اپنا زیور لے کر نکل پڑی، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ زیور لے کر کہاں جا رہی ہے؟ اس نے کہا: اس کے ذریعے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم والوں میں نہ بنائے، انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اِدھر آ اور مجھ پر اور میرے بچوں پر صدقہ کر، ہم اس کا بہترین مصرف ہیں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! اس وقت تک نہیں، جب تک میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس نہ جاؤں، پس وہ چلی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا کہ یہ زینب آئی ہے اور آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سی زینب ہے؟ لوگوں نے کہا؛ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دے دو۔پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں نے آپ سے بات سنی، پھر میں اپنے خاوند سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئی، ان کو یہ حدیث بیان کی اور اس نیت سے اپنا زیور لے کر چل پڑی کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کرتی ہوں، اس امید میں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم والوں میں سے نہ بنائے، لیکن ابن مسعود نے مجھے کہا: مجھ پر اور میرے بچوں پر صدقہ کر، ہم اس کے مستحق ہیں، میں نے کہا: جی میں پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت لے لوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسی پر اور اس کے بیٹوں پر صدقہ کر دے، وہی اس کے مستحق ہیں۔ پھر اس خاتون نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ صبح ہمارے پاس آئے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آجانے والا کوئی نہیں دیکھا اور میں نے قیامت کے دن جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔ اے اللہ کے رسول! گزارش یہ ہے کہ ہمارے دین اور عقل کی کمی کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے جو نقصانِ دین کی بات کی، وہ یہ ہے کہ تم میں سے جب کسی کو حیض آتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق نماز پڑھنے سے اور روزے رکھنے سے رکی رہتی ہے، اس سے دین میں کمی آ جاتی ہے اور میں نے جو عقل کی کمی کی بات کی ہے تو وہ تمہاری گواہی کا مسئلہ ہے کہ ایک عورت کی گواہی کو مرد کی نصف شہادت کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9644

۔ (۹۶۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَامَعْشَرَ النِّسَائِ، تَصَدَّقْنَ وَاَکْثِرْنَ، فَاِنِّیْ رَاَیْتُکُنَّ اَکْثَرَ اَھْلِ النَّارِ لِکَثْرَۃِ اللَّعْنِ وَکُفْرِ الْعَشِیْرِ، مَارَاَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ اَغْلَبَ لِذِیْ لَبٍّ مِنْکُنَّ۔)) قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَانُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّیْنِ؟ قَالَ: ((اَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَ الدِّیْنِ، فَشَھَادَۃُ امْرَاَتَیْنِ تَعْدِلُ شَھَادَۃَ رَجُلٍ، فَھٰذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ، وَتَمْکُثُ اللَّیَالِیَ لَاتُصَلِّیْ وَتُفْطِرُ فِیْ رَمْضَانَ فَھٰذَا نُقْصَانُ الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴۳)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو اور کثرت سے کرو، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ جہنم کی اکثریت تم ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن اور خاوند کی ناشکری بہت زیادہ کرتی ہو ، میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آ جانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ ایک خاتون نے کہا: ہمارے عقل اور دین کی کمی کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عقل اور دین کی کمییہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے، یہ عقل کا نقص ہے اور عورت حیض کے دنوں میں نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں روزے نہیں رکھتی،یہ د ین کا نقص ہے۔