MUSNAD AHMED

Search Results(1)

164)

164) زبان کی آفتوں کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9858

۔ (۹۸۵۸)۔ عَنْ تَمِیْمِ بْنِ یَزِیْدَ، مَوْلیٰ بَنِیْ زَمْعَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ذَاتَ یَوْمٍ، ثُمَّ قَالَ: ((اَیُّھَا النَّاسُ ، ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاہُ اللّٰہُ شَرَّھُمَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَا تُخْبِرْنَا مَاھُمَا؟ ثُمَّ قَالَ: ((اِثْنَانِ مَنْ وَقَاہُ اللّٰہُ شَرَّھُمَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ)) حَتّٰی اِذَا کَانَتِ الثَّالِثَۃُ، اَجْلَسَہُ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالُوْا: تَرٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرِیْدُیُبَشِّرُنَا فَتَمْنَعُہُ، فَقَالَ: اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَتَّکِلَ النَّاسُ، فَقَالَ: ((ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاہُ اللّٰہُ شَرَّھُمَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، مَا بَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَابَیْنَ رِجْلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۵۳)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور پھر فرمایا: لوگو! دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے محفوظ کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ سن کر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں یہ نہ بتلائیے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اسی آدمی نے وہی بات کہی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسر بار ارشاد فرمایا تو صحابہ نے اس آدمی کو بٹھایا اور اس سے کہا: تجھے نظر نہیں آ رہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں، لیکن تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روک رہا ہے، اس نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ توکل کر کے مزید عمل ترک کر دیں گے۔ بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میںداخل ہو جائے گا، ایک دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور دوسری دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9859

۔ (۹۸۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ الصَّبْھَائِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِیْدَ بْنَ جُبَیْرٍیُحَدِّثُ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، لَا اَعْلَمُہُ اِلَّا رَفَعَہُ قَالَ: ((اِذَا اَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَاِنَّ اَعْضَائَہُ تُکَفِّرُ اللِّسَانَ تَقُوْلُ: اتَّقِ اللّٰہَ فِیْنَا، فَاِنَّکَ اِنِ اسْتَقَمْتَ اِسْتَقَمْنَا، وَاِنِ اعْوَجَجْتَ اِعْوَجَجْنَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۳۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضائ، زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9860

۔ (۹۸۶۰)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۷)
۔ سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندے کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9861

۔ (۹۸۶۱)۔ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِیْ بِاَمْرٍ اَعْتَصِمُ بِہٖ (وَفِیْ لَفْظٍ: مُرْنِیْ فِیْ الْاِسْلَامِ بِاَمْرٍ لَا اَسْاَلُ عَنْہُ اَحَدًا بَعْدَکَ) قَالَ: ((قُلْ رَبِّیَ اللّٰہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: آمَنْتُ بِااللّٰہِ) ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَخْوَفُ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَااَکْبَرُ) مَاتَخَافُ عَلَیَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَاَیُّ شَیْئٍ اَتَّقِیْ) قَالَ: فاَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِہِ ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۹۷)
۔ سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام سے متعلقہ ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں کہ میں اس کو تھام لوں اور اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے سوال نہ کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو کہہ کہ میرا ربّ اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ ڈر کس چیز پر ہے، ایک روایت میں ہے: پس میں کس چیز سے بچ کر رہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوابا! اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: یہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9862

۔ (۹۸۶۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِن لِّسَانِہِ وَیِدِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۵۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9863

۔ (۹۸۶۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَ اَعْرَابِیًا بِخِصَالٍ مِنْ اَنْوَاعِ الْبِرِّ (فِیْھَا) ((وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَاِنْ لَمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَکُفَّ لِسَانَکَ اِلَّا مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۵۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بدّو کو نیکی کی مختلف انواع کے بارے میں بتلایا، ان میں یہ چیزیں بھی تھیں: اور تو نیکی کا حکم کر اور برائی سے منع کر، پس اگر تجھ کو ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کو بند کر لے، ما سوائے خیر والی باتوں کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9864

۔ (۹۸۶۴)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((اَلَا اُخْبِرُکَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ وَعَمُوْدِہِ، وَذِرْوَۃِ سَنَامِہِ؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: بَلیٰیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((رَاْسُ الْاَمْرِ وَعَمُوْدُہُ الصَّلَاۃُ، وَذِرْوَۃُ سَنَامِہِ الْجِھَادُ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکَ، بِمِلَاکِ ذٰلِکَ کُلِّہِ؟)) فَقُلْتُ: بَلیٰیَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَاَخَذَ بِلِسَانِہِ فَقَالَ: ((کُفَّ عَلَیْکَ ھٰذَا۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ؟فَقَالَ: ((ثَکُلَتْکَاُمُّکَیَا مُعَاذُ! وَھَلَ یَکُبُّ النَّاسَ عَلٰی وُجُوْھِمْ فِیْ النَّارِ۔)) اَوْ قَالَ: ((عَلٰی مَنَاخِرِھِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۶۶)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا میں تجھے بتلاؤ کہ دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی کوہان کی چوٹی کیا ہے ؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین کی اصل اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی کوہان کی چوٹی نماز ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے اس چیز کے بارے میں بھی بتلا دوں جو ان سب کو کنٹرول کرنے والی ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوابا اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: اس کو اپنے اوپر روک کر رکھنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہماری باتوں کی وجہ سے بھی ہمارا مؤاخذہ کیاجائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے، لوگوں کو آگ میں ان کے نتھنوں کے بل گرانے والی ان کی زبانوں کی کٹی ہوئی باتیں ہی ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9865

۔ (۹۸۶۵)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا یُسْلِمُ عَبْدٌ حَتّٰییَسْلَمَ قَلْبُہُ وَلِسَانُہُ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا، جب تک اس کا دل اور زبان سلامتی والے نہیں بن جاتے۔‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9866

۔ (۹۸۶۶)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَکَّلَ لِیْ مَابَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ، تَوَکَّلْتُ لَہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۱۱)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مجھے دو جبڑوں کے درمیان والی اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیزوں کی ضمانت دے گا، میں اس کو جنت کی ضمانت دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9867

۔ (۹۸۶۷)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْطُفَاوِیِّ، قَالَ: خَرَجَ اَبُوْ الْغَادِیَۃِ، وَحَبِیْبُ بْنُ الْحَارِثِ، وَاُمُّ اَبِیْ الْعَالِیَۃِ مُھَاجِرِیْنَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَسْلَمُوْا ، فَقَالَتِ الْمَرْاَۃُ: اَوْصِنِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِیَّاکِ وَمَا یَسُوْئُ الُاُذُنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۲۱)
۔ سیدنا محمد بن عبد الرحمن طفاوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو غادیہ، سیدنا حبیب بن حارث، سیدہ ام ابی العالیہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ہجرت کی اور اسلام قبول کر لیا، اس خاتون نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز سے بچ، جو کانوں کو بری لگتی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9868

۔ (۹۸۶۸)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُحَیْمٍ، عَنْ اُمِّہِ ابْنَۃِ اَبِیْ الْحَکَمِ الْغِفَّارِیِّ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ الرَّجُلََ لَیَدْنُوْ مِنَ الْجَنَّۃِ، حَتّٰی مَایَکُوْنَ بَیْنَہُ وَبَیْنَھَا قِیْدُ ذِرَاعٍ، فَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ فَیَتَبَاعَدُ مِنْھَا اَبْعَدٰ مِنْ صَنْعَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۸۶)
۔ سیدہ بنتِ ابی حکم غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی جنت کے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایسی (بدترین) بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے صنعاء تک جنت سے دور ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9869

۔ (۹۸۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنْ حَفِظَ مَا بَیْنَ فُقْمَیْہِ وَفَرْجَہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۸۸)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9870

۔ (۹۸۷۰)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ عَلْقَمَۃَ اللَّیْثِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَلْقَمَۃَ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مِنْ رِضْوَانِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، مَا یَظُنُّ اَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، یَکْتُبُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِھَا رِضْوَانَہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَایَظُنُّ اَنْ تَبْلُغَ مَابَلَغَتْ، یَکْتُبُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا عَلَیْہِ سَخَطَہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ )) قَالَ: فکَانَ عَلْقَمَۃُیَقُوْلُ : کَمْ مِنْ کَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِیْہِ حَدِیْثُ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۴۶)
۔ سیدنا بلال بن حارث مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی سے متعلقہ ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھییہ گمان نہیں ہوتا کہ وہ کس بڑے مرتبے تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے، اور بیشک ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والی ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔ علقمہ نے کہا: کتنی ہی باتیں ہیں کہ سیدنا بلال بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس حدیث نے مجھے ان سے روک دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9871

۔ (۹۸۷۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَمَتَ نَجَا۔)) (مسند احمد: ۶۶۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا، وہ نجات پا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9872

۔ (۹۸۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ،وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَـلَا یُؤْذِ جَارَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُل خَیْرًا اَوْ لِیَسْکُتْ ۔)) (مسند احمد: ۹۹۷۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنی مہمان کی قدر کرے، جس کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو، پس اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9873

۔ (۹۸۷۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ (وَفِیْہِ) ((وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر درج بالا حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں لِیَصْمُتْ کے الفاظ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9874

۔ (۹۸۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاالْغِیَابَۃُ۔)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((ذِکْرُکَ اَخَاکَ بِمَا لَیْسَ فِیْہَ۔))، قَالَ: اَرَاَیْتَ اِنْ کَانَ فِیْ اَخِیْ مَا اَقُوْلُ لَہُ؟ قَالَ: ((اِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ: فقَدِ اغْتَبْتَہُ، وَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْہِ فَقَدْ بَھَتَّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے بھائی کے وہ عیوب بیان کرنا، جو اس میں ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: میں اپنے بھائی کے بارے میں جو کچھ کہوں، اگر وہ عیوب اس کے اندر پائے جاتے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کچھ تو کہہ رہا ہے، اگر وہ چیزیں اس میں پائی جاتی ہیں تو تو نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر وہ نقائص اس میں نہیں ہیں تو تو نے اس پر بہتان لگایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9875

۔ (۹۸۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: نَادٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فَقَالَ:) ((یَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ قَلْبَہُ، لَا تَغْتَابُوْا الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا تَتَّبِعُوْا عَوْرَاتِھِمْ، فَاِنَّہُ مَنْ یَتَّبِعْ عَوْرَاتِھِمْ یَتَّبِِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ، وَمَنْ یَتَّبِِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ یَفْضَحْہُ فِیْ بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۴)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قدر بلند آواز دی کہ جوان عورتوں نے بھی سن لیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ان افراد کی جماعت جو زبان سے ایمان لائے ہو اور ابھی تک ایمان دل میں داخل نہیں ہوا، تم مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور ان کے پردے والے امور کی ٹوہ میں نہ لگو، جو ان کے معائب کو تلاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کی تلاش میں پڑ جائے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب کی جستجو میں پڑ جاتا ہے، اس کو اس کے گھر میں رسوا کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9876

۔ (۹۸۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، حَکَتْ اِمْرَاَۃً عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَتْ قِصَرَھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدِ اغْتَبْتِھَا، مَا اُحِبُّ اَنَّیْ حَکَیْتُ اَحَدًا وَاَنَّ لِیْ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۲۷)
۔ سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک عورت کی نقل اتاری اور اس کے کوتاہ قد کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی غیبت کی ہے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں کسی کی نقل اتاروں اور اس کے عوض میں مجھے اتنا کچھ عطا کر دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9877

۔ (۹۸۷۷)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ اَیْضًا، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ: حَکَیْتُ لِلنَّبِیِّ رَجُلًا ، فَقَالَ: ((مَایَسُرُّنِیْ اَنِّیْ حَکَیْتُ رَجُلًا وَاَنَّ لِیْ کَذَا وَکَذَا)) قَالَتْ: قُلْتُ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ صَفِیِّۃَ امْرَاَۃٌ وَقَالَ: بِیَدِہِ (یَعْنِیْ الرَّاوِیَ) کَاَنَّہُ یَعْنِیْ قَصِیْرَۃً فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لقَدْ مَزَحْتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: تَکَلَّمْتِ) بِکَلِمَۃٍ لَوْ مُزِجَ بِھَا مَائُ الْبَحْرِ مَزَجَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۷۵)
۔ (دوسری سند) عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ایک مرد کی نقل اتارنے لگی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقالی کروں، اگرچہ اس کے عوض میں مجھے بہت کچھ دیا جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک صفیہ تو چھوٹے قد والی خاتون ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تم نے ایسی بات کی ہے کہ اگر اس کو سمندر کے پانی کے ساتھ ملا دیا جائے تو وہ مل جائے گی (یعنی بات کی گندگی سمندر کے پانی پر غالب آکر اسے خراب کر دے گی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9878

۔ (۹۸۷۸)۔ عَنْ عُبَیْدٍ مَوْلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ امْرَاَتَیْنِ صَامَتَا، وَاِنَّ رَجُلًا ، قَالَ: یارَسُوْلَ اللّٰہ! اِنَّ ھَاھُنَا امْرَاَتَیْنِ قَدْ صَامَتَا، وَاَنَّھُمْا قَدْ کَادَتَا اَنْ تَمُوْتَا مِنَ الْعَطْشِ، فَاَعْرَضَ عَنْہُ، اَوْ سَکَتَ، ثُمَّ عَادَ، (قَالَ الرَّاوِیُّ) وَاُرَاہُ قَالَ: بِالْھَاجِرَۃِ، قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، اِنَّھُمْا وَاللّٰہِ قَدْ مَاتَتَا، اَوْ کَادَتَا اَنْ تَمُوْتَا، قَالَ: ((ادْعُھُمَا۔)) قَالَ: فَجَائَ تَا، قَالَ: فَجِیْئَ بِقَدَحٍ، اَوْ عُسٍّ، فَقَالَ: لِاِحْدَاھُمَا: ((قِیْئِیْ۔)) فَقَائَتْ قَیْحًا اَوْ دَمًا وَصَدِیْدًا وَلَحْمًا، حَتّٰی قَائَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ۔ ثُمَّ قَالَ لِلْاُخْرٰی: ((قِیْئِیْ۔)) فَقَائَتْ مِنْ قَیْحٍ، وَدَمٍ، وَصَدِیْدٍ، وَلَحْمٍ عَبِیْطٍ، وَغَیْرِہِ، حَتّٰی مَلَاَتِ الْقَدَحَ۔ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ ھَاتَیْنِ صَامَتَا عَمَّا اَحَلَّ اللّٰہُ، وَاَفْطَرَتَا عَلٰی مَا حَرَّمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْھِمَا، جَلَسَتْ اِحْدَاھُمَا اِلَی الْاُخْرٰی، فَجَعَلَتَا یَاْکْلَانِ لُحُوْمَ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۵۳)
۔ مولائے رسول سیدنا عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہاں دو عورتیں ہیں، انھوں نے روزہ رکھا ہوا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ پیاس کی وجہ سے مرنے لگی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض کیایا خاموش رہے، اس نے پھر اپنی بات کو دوہرایا اور دوپہر کے وقت کا ذکر بھی کیا اور کہا: اللہ کی قسم! وہ تو مرنے لگی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو بلا۔ پس جب وہ دونوں آئیں تو ایک بڑا پیالہ بھی لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان میں سے ایک خاتون سے فرمایا: تو قے کر۔ پس اس نے پیپیا خون، خون ملی پیپ اور گوشت پر مشتمل نصف پیالے کے بقدر قے کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری خاتون سے فرمایا: اب تو قے کر۔ اس نے پیپ، خون، خون ملی پیپ اور کچے تازہ گوشت پرمشتمل اتنی قے کی کہ پیالہ بھر گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دو عورتوں نے اس کھانے پینے سے تو روزہ رکھا ہوا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور اس چیز پر روزہ افطار کر رہی ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، یہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھا رہی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9879

۔ (۹۸۷۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَارْتَفَعَتْ رِیْحُ جِیْفَۃٍ مُنْتِنَۃٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتَدْرُوْنَ مَا ھٰذِہِ الرِّیْحُ؟ ھٰذِہِ رِیْحُ الَّذِیْنََیَغْتَابُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے کہ بد بو دار مرداروں کی بو اٹھنے لگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ بد بو کیسی ہے؟ یہ ان لوگوں کی بد بو ہے، جو مؤمنوں کی غیبت کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9880

۔ (۹۸۸۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ ذَبَّ عَنْ لَحْمِ اَخِیْہِ فِیْ الْغِیْبَۃِ، کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُعْتِقَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۶۲)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کا دفاع کیا، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو آگ سے آزاد کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9881

۔ (۹۸۸۱)۔ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسٰی قَالَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ رَاشِدٍ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا عَشَرَۃً مِنْ أَہْلِ الشَّامِ حَتّٰی أَتَیْنَا مَکَّۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَأَتَیْنَاہُ فَخَرَجَ إِلَیْنَایَعْنِی ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللّٰہَ فِی أَمْرِہِ وَمَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَلَیْسَ بِالدِّینَارِ وَلَا بِالدِّرْہَمِ وَلٰکِنَّہَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّیِّئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِی بَاطِلٍ وَہُوَ یَعْلَمُہُ لَمْ یَزَلْ فِی سَخَطِ اللّٰہِ حَتّٰییَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِی مُؤْمِنٍ مَا لَیْسَ فِیہِ أَسْکَنَہُ اللّٰہُ رَدْغَۃَ الْخَبَالِ حَتّٰییَخْرُجَ مِمَّا قَالَ۔)) (مسند احمد: ۵۳۸۵)
۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش، اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے لیے رکاوٹ بن گئی ، اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی، جو آدمی مقروض ہو کر مرا، تو (وہ یاد رکھے کہ) روزِ قیامت درہم و دینار کی ریل پیل نہیں ہو گی، وہاں تو نیکیوں اور برائیوں کا تبادلہ ہو گا۔ جس نے دیدۂ دانستہ باطل کے حق میں جھگڑا کیا وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب میں رہے گا جب تک باز نہیں آتا۔ جس نے مومن پر ایسے جرم کا الزام لگایا جو اس میں نہیں پایا جاتا اسے رَدْغَۃُ الْخَبَال (جہنمیوں کے پیپ) میں روک لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس بات سے نکل آئے، جو اس نے کہی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9882

۔ (۹۸۸۲)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ قَتَّاتٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۳۶)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چغلخور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9883

۔ (۹۸۸۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ مَاالْعَضْہُ؟ قَالَ: ھِیَ النَّمِیْمَۃُ الْقَالَۃُ بَیْنَ النَّاسِ۔)) وَاِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ یَصْدُقُ، حَتّٰییُکْتَبَ صِدِّیْقًا، وَیَکْذِبُ حَتّٰییُکْتَبَ کَذَّابًا۔)) (مسند احمد: ۴۱۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو یہ بتلا نہ دو کہ عَضْہ کیا ہے؟ یہ لوگوں کی آپس میں چغلخوری والی باتیں ہیں۔ نیز محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو سچا لکھ لیا جاتا ہے اور اس طرح بھی ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9884

۔ (۹۸۸۴)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیَّۃِ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخِیَارِکُمْ؟)) قَالُوْا: بلٰییارَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ((الّذِیْنَ اِذَا رُؤْوْا ذُکِرَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلََا اُخْبِرُکُمْ بِشِرَارِکُمْ؟ الْمَشَّاؤُوْنَ بِالنَّمِیْمَۃِ، الْمُفْسِدُوْنَ بَیْنَ الْاَحِبَّۃِ، الْبَاغُوْنَ الْبُرَآئَ الْعَنَتَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۵۱)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے پسندیدہ لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جن کو دیکھنے سے اللہ یاد آ جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے شریر لوگوں کے بارے میں بتلا دوں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو چغلخور ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے درمیان فساد برپا کرتے ہیں اور (عیوب سے) بری لوگوں کے لیے غلطیاں تلاش کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9885

۔ (۹۸۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَبَرَیْنِ، فَقَالَ: ((اِنَّھُمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ، اَمَّا اَحَدُھُمَا فَکَانَ لَا یَسْتَنْزِہُ مِنَ الْبَوْلِ۔)) قَالَ وَکِیْعٌ: مِنْ بَوْلِہِ، ((وَاَمَّا الْآخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۰)
۔ لوگ ہیں جو چغلخور ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے درمیان فساد برپا کرتے ہیں اور (عیوب سے) بری لوگوں کے لیے غلطیاں تلاش کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9886

۔ (۹۸۸۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَصْحَابِہٖ: ((لَا یُبَلِّغُنِیْ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ مِنْ اَصْحَابِیْ شَیْئًا، فَاِنِّیْ اُحِبُّ اَنْ اَخْرُجَ الِیْکُمْ، وَاَنَا سَلِیْمُ الصَّدْرِ۔))، قَالَ: وَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَالٌ، فَقَسَمَہُ، قَالَ: فَمَرَرْتُ بِرَجُلَیْنِ، وَاَحَدُھُمَا یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ: وَاللّٰہِ! مَااَرَادَمُحَمَّدٌبِقِسْمَتِہِوَجْہَاللّٰہِ،وَلَاالدَّارَالْآخِرَۃِ، فَتَثَبَّتُّ، حَتّٰی سَمِعْتُ مَا قَالَا، ثُمَّ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّکَ قُلْتَ لَنَا: ((لَا یُبَلِّغُنِیْ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ مِنْ اَصْحَابِیْ شَیْئًا۔)) وَاِنِّیْ مَرَرْتُ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ، وَھُمَا یَقُوْلَانِ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: فَاحْمَرَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَشَقَّ عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((دَعْنَا مِنْکَ فَقَدْ اُوْذِیَ مُوْسٰی اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ، ثُمَّ صَبَرَ۔)) (مسند احمد: ۳۷۵۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کوئی آدمی میرے کسی صحابی کی قابل اعتراض بات مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس آؤں تو میرا سینہ صاف ہو۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ مال لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو تقسیم کیا، میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا، ان میں سے ایک آدمی دوسرے سے کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! اس تقسیم سے محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کا ارادہ نہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے اور نہ آخرت کا گھر، پھر میں نے مزید توجہ کی اور ان کی باتیں سن لیں، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے توہمیں یہ فرمایا تھا کہ کوئی آدمی میرے کسی صحابی کی قابل اعتراض بات مجھ تک نہ پہنچائے۔ لیکن اب بات یہ ہے کہ میں فلاں فلاں کے پاس سے گزرا اور وہ اس طرح کی باتیں کر رہے تھے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گراں گزری اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھوڑ دو ہم کو، پس موسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی، لیکن انھوں نے پھر بھی صبر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9887

۔ (۹۸۸۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: تَکَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ کَلِمَۃً فِیْھَا مَوْجِدَۃٌ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ تُقِرَّنِیْ نَفْسِیْ اَنْ اَخْبَرْتُ بِھَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَوَدِدْتُ اَنِّیْ اِفْتَدَیْتُ مِنْھَا بِکُلِّ اَھْلٍ وَمَالٍ، فَقَالَ: ((قَدْ آذَوْا مُوْسٰی عَلَیْہِ الصلاۃ والسلام اَکَثْرَ مِنْ ذٰلِکَ فَصَبَرَ، ثُمَّ اَخْبَرَ اَنَّ نَبِیًّا کَذَّبَہُ قَوْمُہُ، وَشَجُّوْہُ حِیْنَ جَائَ ھُمْ بِاَمْرِ اللّٰہِ، فَقَالَ: وَھُوَ یَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْھِہِ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۳۳۱)
۔ (دوسری سند) ایک انصاری آدمی نے ایسی بات کی کہ جس سے پتہ چل رہا تھا کہ اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی بات محسوس کی ہوئی ہے، (بات اتنی سخت تھی کہ) میرا نفس مجھ پر قابو نہ پا سکا اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کر دیا، میں نے تو چاہا کہ اس بات کے فدیے میں اپنا سارا اہل و مال قربان کر دوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں نے موسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ ایذا دی، لیکن انھوں نے صبر کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بتایا کہ ایک نبی کو اس کی قوم نے جھٹلایا اور جب وہ اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کو زخمی کر دیا، اب وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، کیونکہ وہ جانتے نہیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9888

۔ (۹۸۸۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِیِّاکُمْ وَالْکَذِبَ، فَاِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِیْ اِلَی الْفُجُوْرِ، وَاِنَّ الْفُجُوْرَ یَھْدِیْ اِلَی النَّارِ، وَمَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَکْذِبُ وَیَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتَّییُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کَذَّابًا۔)) (مسند احمد: ۳۶۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جھوٹ سے بچو، پس بیشک جھوٹ برائیوں کی طرف لے جاتا ہے اور برائیاں جہنم کی طرف لے جاتی ہیں اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کو تلاش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب (بہت جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9889

۔ (۹۸۸۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: مَاکَانَ خُلُقٌ اَبْغَضَ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْکَذِبِ، وَلَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ یَکْذِبُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکَذِبَۃَ فَمَا یَزَالُ فِیْ نَفْسِہِ عَلَیْہِ حَتّٰییَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَحْدَثَ مِنْھَا تَوْبَۃً۔ (مسند احمد: ۲۵۶۹۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کرام کے ہاں سب سے ناپسندیدہ وصف جھوٹ بولنا تھا، جب کوئی آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جھوٹ بول دیتا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل میں اس وقت تک اس چیز کا احساس رہتا، جب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ علم نہ ہو جاتا کہ اس شخص نے اس گناہ سے توبہ کر لی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9890

۔ (۹۸۹۰)۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَدَّثَ بِحَدِیْثٍ وَھُوَ یَرٰی اَنَّہُ کَذِبٌ فَھُوَ اَحَدُ الْکَاذِبَیْنِ۔)) وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: ((فھُوَ اَحَدُ الْکَذَّابَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۲۹)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی بات بیان کی، جبکہ اس کا خیالیہ ہو کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9891

۔ (۹۸۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَی الْخِلَالِ کُلِّھَا، اِلَّا الْخِیَانَۃَ، وَالْکَذِبَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۲۳)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن ہر قسم کے فعل کا عادی بن سکتا ہے، ما سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9892

۔ (۹۸۹۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اِمْرَاَۃً جَائَ تِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَت: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَّ لِیْ زَوْجًا وَ لِیْ ضَرَّۃٌ، وَاِنِّیْ اَتَشَبَّعُ مِنْ زَوْجِیْ اَقُوْلُ: اَعْطَانِیْ کَذَا، وَکَسَانِیْ کَذَا، وَھُوَ کَذِبٌ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ یُعْطَ کَلَابِسِ ثَوْبَیْ زُوْرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۵۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ہے اور میری ایک سوکن بھی ہے، میں اپنے خاوند کے بارے میںیوں اظہار کرتی ہوں کہ اس نے مجھے فلاں چیز دی ہے، اس نے مجھے اس طرح کا کپڑا لا کر دیا ہے، تو کیایہ جھوٹ ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو جو چیز نہ دی گئی ہو، لیکن پھر بھی وہ اس کے دیئے جانے کا اظہار کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا، جس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9893

۔ (۹۸۹۳)۔ عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَبُرَتْ خَیَانَۃً تُحَدِّثُ اَخَاکَ حَدِیْثًا ھُوَ لَکَ مُصَدِّقٌ وَاَنْتَ بِہٖکَاذِبٌ۔)) (مسنداحمد: ۱۷۷۸۵)
۔ سیدنا نواس بن سمعان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے ایک بات کرے اور وہ تیری تصدیق کرنے والا ہو، جبکہ تو اس کے ساتھ جھوٹ بولنے والا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9894

۔ (۹۸۹۴)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ قَالَتْ اِحْدَانَا لِشَیْئٍ تَشْتَھِیْہِ: لَا اَشْتَھِیْہِ،یُعَدُّ ذٰلِکَ کَذِبًا؟ قَالَ: ((اِنَّ الْکَذِبَ یُکْتَبُ کَذِبًا حَتَّی تُکْتَبَ الْکُذَیْبَۃُ کُذَیْبَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۱۹)
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی کسی چیز کو چاہتی تو ہو، لیکن وہ اس کے بارے میں کہے کہ وہ نہیں چاہتی، تو کیااس کو بھی جھوٹ لکھا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جھوٹ کو جھوٹ ہی لکھا جاتا ہے، یہاںتک کہ چھوٹے جھوٹ کو چھوٹا جھوٹ لکھا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9895

۔ (۹۸۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَکْذَبُ النَّاسِ، اَوْ مِنْ اَکْذَبِ النَّاسِ الصَّوَّاغُوْنَ وَالصَّبَّاغُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑے جھوٹے سنار اور رنگ ساز ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9896

۔ (۹۸۹۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَکْذَبُ النَّاسِ الصُّنَّاعُ)) (مسند احمد: ۹۲۸۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا کاریگر اور ہنر مند ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9897

۔ (۹۸۹۷)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُیَقُوْلُ : ((یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا، مَا یَحْمِلُکُمْ عَلٰی اَنْ تَتَابَعُوْا فِیْ الْکَذِبِ کَمَا یَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِیْ النَّارِ، کُلُّ الْکَذِبِ یُکْتَبُ عَلَی ابْنِ آدَمَ اِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ، رَجُلٌ کَذَبَ عَلَی امْرَاَتِہِ لِیُرْضِیَھَا، اَوْ رَجُلٌ کَذَبَ فِیْ خَدِیْعَۃِ حَرْبٍ، اَوْ رَجُلٌ کَذَبَ بَیْنَ امْرَاَیْـنِ مُسْلِمَیْنِ لِیُصْلِحَ بَیْنَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۲۲)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ایمان والو! تم لوگوں کو کون سی چیز اس طرح لگاتار جھوٹ بولنے پر آمادہ کرتی ہے، جیسے پتنگے لگاتار آگ میں گرنا شروع ہو جاتے ہیں، ابن آدم پر اس کے ہر جھوٹ کو لکھ لیا جاتا ہے، ما سوائے تین امور کے، (۱) وہ خاوند جو اپنی بیوی سے جھوٹ بولتا ہے، تاکہ اس کو راضی رکھے، (۲) وہ آدمی جو جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹ بولتا ہے اور (۳) وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9898

۔ (۹۸۹۸)۔ عَنْ حُمَیِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ، اَنَّ اُمَّہُ اُمَّ کُلْثُوْمٍ بِنْتَ عُقْبَۃَ اَخْبَرَتْہُ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَیْسَ الْکَذَّابُ الَّذِیْیُصْلِحُ بَیْنَ النَّاسِ فَیَنْمِیْ خَیْرًا، اَوْ یَقُوْلُ خَیْرًا۔)) وَقَالَتْ: لَمْ اَسْمَعْہُ یُرَخِّصُ فِیْ شَیْئٍ مِمَّا یَقُوْلُ النَّاسُ اِلَّا فِیْ ثَلَاثٍ، فِیْ الْحَرْبِ، وَالْاِصْلَاحِ بَیْنَ النَّاسِ، وَحَدِیْثِ الرَّجُلِ اِمْرَاتَہُ، وَحَدِیْثِ الْمَرْاَۃِ زَوْجَھَا، وَکَانَتْ اُمُّ کُلْثُوْمِ بِنْتُ عُقْبَۃَ مِنَ الْمُھَاجِرَاتِ اللَّاتِیْ بَایَعْنَ رَسُوْ لَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۱۵)
۔ سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جھوٹا نہیں ہے ، جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے اور خیر کو آگے پہنچاتا ہے یا اچھی بات کرتا ہے۔ سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو گفتگو میں جھوٹ بولنے کی رخصت دی ہو، ما سوائے تین امور کے، جنگ میں، لوگوں کے ما بین اصلاح کرتے وقت اور خاوند کااپنی بیوی اور بیوی کا اپنے خاوند سے گفتگو کرتے وقت۔ سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ان مہاجر خواتین میں سے تھیں، جنہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9899

۔ (۹۸۹۹)۔ عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَھُوَ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۳۲۶)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مر وی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، پس وہ آگ میں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9900

۔ (۹۹۰۰)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَا یَمْنَعُنِیْ اَنْ اُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ لَّا اَکُوْنَ اَوْعَی اَصْحَابِہٖعَنْہُ،وَلٰکِنِّیْ اَشْھَدُ لَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : ((مَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ اَقُلْ، فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) وَقَالَ حُسَیْنٌ: اَوْعَی صَحَابَتِہِ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۴۶۹)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ کی احادیث بیان کرنے سے روکنے والی چیزیہ نہیں ہے کہ میں احادیث کو بہت زیادہیاد رکھنے والے صحابہ میں سے نہیں ہوں، اصل بات یہ ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے مجھ پر وہ بات کہی، جو میں نے نہ فرمائی ہو تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9901

۔ (۹۹۰۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَعَمَّدَ عَلَیَّ کَذِبًا فَلْیَتَبَوَّاْ بَیْتًا فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۵۰۷)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا گھر جہنم میں تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9902

۔ (۹۹۰۲)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَکْذِبُوْا عَلَیَّ فَاِنَّہُ مَنْ یَکْذِبْ عَلَیَّیَلِجِ النَّارَ۔)) (مسند احمد: ۶۳۰)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ نہ بولا کرو، پس بیشک جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے گا، وہ آگ میں داخل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9903

۔ (۹۹۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَدَّثَ عَنِّیْ حَدِیْثًایَرٰی اَنَّہُ کَذِبٌ فَھُوَ اَکْذَبُ الْکَاذِبَیْنِ۔))(مسند احمد: ۹۰۳)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیالیہ ہو کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ جھوٹوں میں سب سے بڑا جھوٹا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9904

۔ (۹۹۰۴)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قُلْتُ لِلزُّبَیِرِ: مَالِیْ لَا اَسْمَعُکَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمَا اَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُوْدٍ وَفُلَانًا وَفُلَانًا؟ قَالَ: اَمَا اِنِّی لَمْ اُفَارِقْہُ مُنْذُ اَسْلَمْتُ، وَلٰکِنِّیْ سَمِعْتُ عَنْہُ کَلِمَۃً: ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَّبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد:۱۴۱۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے احادیث بیان کرتے نہیں سنتا، جیسا کہ ابن مسعود اور فلاں فلاں لوگ بیان کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: خبردار! میں اسلام لانے کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جدا نہیں ہوا، اصل بات یہ ہے کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایکیہ حدیث سنی تھی: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9905

۔ (۹۹۰۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الَّذِیْیَکْذِبُ عَلَیَّیُبْنیٰ لَہُ بَیْتٌ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۶۳۰۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جو شخص مجھ پر جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے آگ میں ایک گھر بنایا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9906

۔ (۹۹۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَقَوَّلَ عَلَیَّ مَالَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۲۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر وہ بات کہی، جو میں نے نہ فرمائی ہو، وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9907

۔ (۹۹۰۷)۔ عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ قَتَادَۃُ، وَحَمَّادُ بْنُ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، وسُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ سَمِعُوْا اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۰۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9908

۔ (۹۹۰۸)۔ عَنْ مُسْلِمٍ مَوْلیٰ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَۃَ، اَنَّ خَالِدَ بْنَ عُرْفُطَۃَ، قَالَ: الْمُخْتَارُ ھٰذَا رَجُلٌ کَذَّابٌ وَلَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنْ جَھَنَّمَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۶۸)
۔ سیدنا خالد بن عرفطہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ مختار جھوٹا آدمی ہے اور تحقیق میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9909

۔ (۹۹۰۹)۔ عَنِ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ کِذْبَۃً مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّاْ مَضْجَعًا مِنَ النَّارِ، اَوْ بَیْتًا فِیْ جَھَنَّمَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۶۱)
۔ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر ایک دفعہ جھوٹ بولا، پس وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے یا گھر جہنم میں تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9910

۔ (۹۹۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْاِیْمَانَ کُلَّہُ حَتّٰییَتْرُکَ الْکَذِبَ مِنَ الْمُزَاحَۃِ، وَیَتْرُکُ الْمِرَائَ وَاِنْ کَانَ صَادِقًا۔)) (مسند احمد: ۸۶۱۵)
۔ مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9911

۔ (۹۹۱۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ قَالَ لِصَبِیِّ: تَعَالَ ھَاکَ، ثُمَّ لَمْ یُعْطِہِ فَھِیَ کَذْبَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۹۸۳۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے بچے سے کہا: اِدھر آ اور یہ چیز لے لے، پھر اس کو وہ چیز نہیں دی تو یہ جھوٹ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9912

۔ (۹۹۱۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، اَنَّہُ قَالَ: اَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِنَا، وَاَنَا صَبِیٌّ، قَالَ: فَذَھَبْتُ اَخْرُجُ لِاَلْعَبَ فَقَالَت اُمِّیْ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! تَعَالَ اُعْطِکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَمَا اَرَدْتِ اَنْ تُعْطِیَہُ؟)) قَالَتْ: اُعْطِیْہِ تَمْرًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا اِنَّکِ لَوْ لَمْ تَفْعَلِی کُتِبَتْ عَلَیْکِ کَذْبَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۹۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس ہمارے گھر میں تشریف لائے، میں اس وقت بچہ تھا، جب میں کھیلنے کے لیے جانے لگا تو میری ماں نے کہا: اے عبد اللہ! ادھر آ، میں تجھے کچھ دینا چاہتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں اس کو کھجور دوں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو نے اس کو کچھ نہ دینا ہوتا تو یہ تیرا ایک جھوٹ لکھ لیا جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9913

۔ (۹۹۱۳)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((وَیْلٌ لِلَّذِیْیُحَدِّثُ الْقَوْمَ ثُمَّ یَکْذِبُ لِیُضْحِکَھُمْ، وَیْلٌ لَہُ وَوَیْلٌ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۷۰)
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے ہلاکت ہے، جو لوگوں سے بات کرتا ہے اور ان کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9914

۔ (۹۹۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِیُضْحِکُ بِھَا جُلَسَائَہُ یَھْوِیْ بِھَا اَبْعَدَ مِنَ الثُّرَیَّا۔)) (مسند احمد: ۹۲۰۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی اپنے ہم مجلسوں کو ہنسانے کے لیے ایسی بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے ثریا ستارے سے بھی دور تک جا گرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9915

۔ (۹۹۱۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الرَّجُلَ یَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ لَا یَرٰی بِھَا بَاْسًا، یَھْوِیْ بِھَا سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۱۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی ایسی بات کرتا ہے، جبکہ وہ اس میں حرج بھی محسوس نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے آگ میں ستر سال کی مسافت تک گر جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9916

۔ (۹۹۱۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) یَرْفَعُھَا ((اِنَّ الْعَبْدَ یَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِیَزِلُّ بِھَا فِیْ النَّارِ، اَبْعَدَ مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۰۹)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی ایسی بات کر جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے پھسل کر آگ میں اتنی دوری تک چلا جاتا ہے، جتنی مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9917

۔ (۹۹۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَرْفَعُہُ، قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ لَا یُرِیْدُ بِھَا بَاْسًا، اِلَّا لِیُضْحِکَ بِھَا الْقَوْمَ فَاِنَّہُ لَیَقَعُ مِنْھَا اَبْعَدَ مِنَ السَّمَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۵۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی ایک بات کرتا ہے،وہ اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو ہنسائے، پس وہ اس کی وجہ سے آسمان تک کی مسافت سے بھی دور تک جا گرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9918

۔ (۹۹۱۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ وَعَظَھُمْ فِیْ ضِحْکِھِمْ مِنَ الضَّرْطَۃِ فَقَالَ: ((عَلَامَ یَضْحَکُ اَحَدُکُمْ عَلٰی مَایَفْعَلُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ دیا اور پھر لوگوں کو گوز مار کر ہنسنے کے بارے میں وعظ کیا اور فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اس چیز پر کیوں ہنستا ہے ، جو وہ خود بھی کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9919

۔ (۹۹۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنِّیْ لَا اَقُوْلُ اِلَّا حَقًّا۔))، قَالَ بَعْضُ اَصْحَابِہٖ: فَاِنَّکَتُدَاعِبُنَایارَسُوْلُ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: ((اِنِّیْ لَا اَقُوْلُ اِلَّا حَقًّا۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ بعض صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ بھی ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9920

۔ (۹۹۲۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَحْمَلَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّا حَامِلُوْکَ عَلٰی وَلَدِ نَاقَۃٍ۔)) قَالَ: یارَسُوْل اللّٰہِ! مَا اَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَۃٍ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَھَلْ تَلِدُ الْاِبِلَ اِلَّا النُّوْقُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۵۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سواری طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوہو، اونٹوں کو اونٹنیاں ہی جنم دیتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9921

۔ (۹۹۲۱)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ اَبَا بَکْرٍ خَرَجَ تَاجِرًا اِلٰی بُصْرٰی، وَمَعَہُ نُعَیْْمَانُ وَسُوَیْبِطُ بْنُ حَرْمَلَۃَ، وَکِلَاھُمَا بَدْرِیٌّ، وَکَانَ سُوَیْبِطُ عَلَی الزَّادِ، فَجَائَ ہُ نُعَیْمَانُ فَقَالَ: اَطْعِمْنِیْ، فَقَالَ: لَا، حَتّٰییَاْتِیَ اَبُوْبَکْرٍ، وَ کَانَ نُعَیْمَانُ رَجُلًا مِضْحَاکًا مَزَّاحًا، فَقَالَ: لَاُغِیْظَنَّکَ، فَجَائَ اِلَی اُنَاسٍ جَلَبُوْا ظَھْرًا، فَقَالَ: ابْتَاعُوْا مِنِّیْ غُلَامًا عَرَبِیًّا فَارِھًا، وَھُوَ ذُوْ لِسَانٍ، وَلَعَلَّہُ یَقُوْلُ : اَنَا حُرٌّ، فَاِنْ کُنْتُمْ تَارِکِیْہِ لِذٰلِکَ فَدَعُوْنِیْ، لَا تُفْسِدُوْا عَلَیَّ غُلَامِیْ، فَقَالُوْا: بَلْ نَبْتَاعُہُ مِنْکَ بِعَشْرِ قَلَائِصَ، فَاَقْبَلَ بِھَا یَسُوْقُھَا، وَاَقْبَلَ بِالْقَوْمِ حَتَّی عَقَلَھَا، ثُمَّ قَالَ لِلْقَوْمِ: دُوْنَکُمْ ھُوَ ھٰذَا، فَجَائَ الْقَوْمُ، فَقَالُوْا: قَدِ اشْتَرَینَاکَ، قَالَ سُوَیْبِطُ: ھُوَ کَاذِبٌ اَنَا رَجُلٌ حُرٌّ، فَقَالُوْا: قَدْ اَخْبَرَنَا خَبْرَکَ وَطَرَحُوْا الْحَبْلَ فِیْ رَقَبَتِہِ، فَذَھَبُوْا بِہٖفَجَائَاَبُوْبَکْرٍفَاَخْبَرَ، فَذَھَبَ ھُوَ وَاَصْحَابٌ لَہُ، فَرَدُّوْا الْقَلَائِصَ وَاَخَذُوْہُ، فَضَحِکَ مِنْھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَصْحَابُہُ حَوْلًا۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۲)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تجارت کی غرض سے بصری کی طرف نکلے، سیدنا نعیمان اور سیدنا سویبط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، یہ دونوں بدری صحابی تھے، زادِ سفر سیدنا سویبط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھے، سیدنا نعیمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، انھوں نے کہا: جی نہیں،یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آجائیں۔ سیدنا نعیمان بہت زیادہ ہنسانے والے اور مذاق کرنے والے آدمی تھے، پس انھوں نے کہا: میں تجھے ضرور ضرور غصہ دلاؤں گا، پس وہ ایسے لوگوں کے پاس گئے جو سواریاں لے کر جا رہے تھے اور ان سے کہا: تم لوگ مجھ سے ایک پھرتیلا اور چست عربی غلام خرید لو، البتہ وہ زبان دراز ہے، ممکن ہے کہ وہ یہ کہے کہ وہ تو آزاد شخص ہے، اگر اس کی اس بات کی وجہ سے تم نے اس کو چھوڑ دینا ہے تو پھر سودا ہی رہنے دو اور مجھ پر میرے غلام کو خراب نہ کرو، انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تجھ سے دس اونٹنیوں کے عوض خریدیں گے، پس سیدنا نعیمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس ساتھی کو کھینچ کر لے آئے اور اس کو لوگوں کے سامنے لا کر باندھ دیا اور ان کو کہا: یہ لو، وہ غلام یہ ہے، پس لوگ آئے اور انھوں نے اس سے کہا: ہم نے تجھے خرید لیا ہے، سیدنا سویبط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: وہ جھوٹا ہے، میں تو آزاد آدمی ہوں، انھوں نے کہا: اس نے ہمیں تیری ساری بات بتلا دی ہے، پھر انھوں نے اس کی گردن میں رسی ڈالی اور اس کو لے گئے، اتنے میں اُدھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے اور انھوں نے ان کو واقعہ کی خبر دی، پس وہ اور ان کے ساتھی گئے اور ان کی اونٹنیاں واپس کر کے اس کو واپس لے آئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ ایک سال تک اس واقعہ سے ہنستے رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9922

۔ (۹۹۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیْدِ بْنِ صَیْفِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: اِنَّ صُھَیْبًا قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَیْنَیَدَیْہِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ، فَقَالَ: ((ادْنُ فَکُلْ)) فَاَخَذَ یَاْکُلُ مِنَ التَّمْرِ۔ فقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ بِعَیْنِکَ رَمَدًا۔)) فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنّمَا آکُلُ مِنَ النَّاحِیَۃِ الْاُخْرٰی، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۶۷)
۔ عبد الحمید بن صیفی اپنے باپ اور وہ ان کے دادے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے خشک کھجوراور روٹی پڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا اور کھا۔ پس اس نے کھانا شروع کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: بیشک تیری آنکھ بیمار ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دوسرے کنارے سے کھا لیتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بات سن کر مسکرا پڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9923

۔ (۹۹۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جِدَالٌ فِیْ الْقُرْآنِ کُفْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9924

۔ (۹۹۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ ھُدًی کَانُوْا عَلَیْہِ اِلَّا اُوْتُوْا الْجَدَلَ۔)) ثُمَّ تَلَاھٰذِہِ الْآیَۃَ {مَا ضَرَبُوْہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ}۔ (مسند احمد: ۲۲۵۵۷)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد گمراہ نہیں ہوتی، مگر اس طرح کہ وہ جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیںیا وہ؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ (سورۂ زخرف: ۵۸)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9925

۔ (۹۹۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُؤ ْمِنُ الْعَبْدُ الْاِیْمَانَ کُلَّہُ حَتّٰییَتْرُکَ الْکَذِبَ مِنَ الْمُزَاحَۃِ، وَیَتْرُکُ الْمِرَائَ وَاِنْ کَانَ صَادِقًا۔)) (مسند احمد: ۸۶۱۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیںپہنچ سکتا، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیںپہنچ سکتا، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے،
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9926

۔ (۹۹۲۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ ابَغْضَ الرِّجَالِ اِلَی اللّٰہِ الْاَلَدُّ الْخَصِمُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۲۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ آدمی ہے جو سخت جھگڑالوہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9927

۔ (۹۹۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُبْغِضُ الْبَلِیْغَ مِنَ الرِّجَالِ، الَّذِیْیَتَخَلَّلُ بِلِسَانِہِ کَمَا تَخَلَّلَ الْبَاقِرَۃُ بِلِسَانِھَا۔)) (مسند احمد: ۶۵۴۳)
۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ آدمیوں میں سے اس بلاغت جھاڑنے والے شخص کو سخت ناپسند کرتا ہے جو (منہ پھاڑ پھاڑ کر تکلف و تصنّع سے گفتگو کرتے ہوئے) اپنی زبان کو گائے کے جگالی کرنے کی طرح بار بار پھیرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9928

۔ (۹۹۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِشِرَارِکُمْ؟ فَقَالَ: ھُمُ الثَّرْثَارُوْنَ، الْمُتَشَدِّقُوْنَ، اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِخِیَارِکُمْ؟ اَحَاسِنُکُمْ اَخْلَاقًا۔)) (مسند احمد: ۸۸۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ وہ ہیں جو فضول بولنے والے اور گفتگو کے لیے باچھوں کو موڑنے والے ہوں۔ نیز کیا تمہیں تمہارے بہترین افراد کے بارے میں بتاؤں؟ وہ ہیں جو تم میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9929

۔ (۹۹۲۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِیْنَیُشَقِّقُوْنَ الْکَلَامَ تَشْقِیْقَ الشِّعْرِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۲۴)
۔ سیدہ معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے، جو شعروں کی طرح کلام کی شقیں نکالتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9930

۔ (۹۹۳۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِیْبَانِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَا فَتَکَلَّمَا، ثُمَّ قَعَدَا، وَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ خَطِیْبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَکَلَّمَ، ثُمَّ قَعَدَ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِھِمْ، فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ! قُوْلُوْا بِقَوْلِکُمْ، فَاِنّمَا تَشْقِیْقُ الْکَلَامِ مِنَ الشَّیْطَانِ۔)) قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں مشرق کی طرف سے دو خطیب آدمی آئے، انھوں نے کھڑے ہو کر خطاب کیا اور پھر بیٹھ گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطیب سیدنا ثابت بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور گفتگو کرنے کے بعد وہ بھی بیٹھ گئے، پس لوگوں کو ان کی گفتگو سے بڑا تعجب ہوا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! (طبعی انداز میں اور بغیر کسی تکلف اور تصنّع کے) اپنا مدّعا بیان کر دیا کرو، پس بیشک کلام کی شقیں نکالنا شیطان کی طرف سے ہے ۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9931

۔ (۹۹۳۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: جَائَ رَجُلَانِ مِنْ اَھْلِ الْمَشْرِقِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ بَیَانِھِمَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا، وَاِنَّ بَعْضَ الْبَیَانِ سِحْرٌ۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۱)
۔ (دوسری سند) اہل مشرق سے دو آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آئے اور انھوں نے ایسے انداز میں خطاب کیا کہ لوگ تعجب میںپڑ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں، بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9932

۔ (۹۹۳۲)۔ عَنْ سُھَیْلِ بْنِ ذِرَاعٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ مَعْنَ بْنَ یَزِیْدَ اَوْ اَبَا مَعْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اجْتَمَعُوْا فِیْ مَسَاجِدِکُمْ فَاِذَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فلْیُؤْذِنُوْنِیْ۔)) قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا اَوَّلَ النَّاسِ فَاَتَیْنَاہُ فَجَائَ یَمْشِیْ مَعَنَا حَتّٰی جَلَسَ اِلَیْنَا، فَتَکَلَّمَ مُتَکَلِّمٌ مِنَّا، فَقَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَیْسَ لِلْحَمْدِ دُوْنَہُ مُقْتَصِرٌ، لَیْسَ وَرَائَ ہُ مَنْفَذٌ، وَنَحْوًا مِنْ ھٰذَا، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ، فَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا، فَقُلْنَا: خَصَّنَا اللّٰہُ بِہٖاَنْاَتَانَااَوَّلَالنَّاسِوَاَنْفَعَلَوَفَعَلَ،قَالَ: فَاَتَیْنَاہُ فَوَجَدْنَاہُ فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ فُلَانٍ، فَکَلَّمْنَاہُ فَاَقْبَلَ یَمْشِیْ مَعَنَا حَتّٰی جَلَسَ فِیْ مَجْلِسِہِ الَّذِیْ کَانَ فِیْہِ اَوْ قَرِیْبًا مِنْہُ ثُمَّ، قَالَ: ((اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ مَاشَائَ اللّٰہُ جَعَلَ بَیْنَیَدَیْہِ وَمَاشَائَ جَعَلَ خَلْفَہُ، وَاِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا۔)) ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا فَاَمَرَنَا وَکَلَّمَنَا وَعَلَّمَنَا۔ (مسند احمد: ۱۵۹۵۵)
۔ سیدنا معن بن یزیدیا سیدنا ابو معن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجدوں میں جمع ہو جاؤ، جب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے بتلانا۔ پس ہم سب سے پہلے جمع ہو گئے، پھر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے، یہاں تک کہ ہمارے پاس بیٹھ گئے، پھر ہم میں سے ایک مقرر نے کلام کیا اور کہا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جس سے پہلے کسی کی تعریف پر اقتصار نہیں ہے اور جس کی تعریف سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا، یا اس قسم کی بات کی، لیکن ہوا یوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے ہو کر چلے گئے، ہم نے آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کیا اور کہا: اللہ تعالیٰ نے اس اعتبار سے ہم کو خاص کیا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے اور اب یہ کچھ ہو گیا۔ پھر ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ساتھ چل پڑے،یہاں تک کہ اسی مقام میںیا اس کے قریب بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اب یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ اس تعریف کو موجودہ وقت سے پہلے بنائے یا اس کے بعد، اور بیشک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں حکم دیئے، ہم سے کلام کیا اور ہمیں بعض امور کی تعلیم دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9933

۔ (۹۹۳۳)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ قَوْمٌ یَاْکُلُوْنَ بِاَلْسِنَتِھِمْ، کَمَا تَاْکُلُ الْبَقَرُ بِاَلْسِنَتِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۷)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک بپا نہیں ہو گی، جب تک ایسے لوگ نہ نکل آئیں، جو اپنی زبانوں سے اس طرح کھائیں گے، جیسے گائے اپنی زبان سے کھاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9934

۔ (۹۹۳۴)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَجُلًا اِسْتَاْذَنَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ائْذَنُوْا لَہُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِیْرَۃِ اَوْ بِئْسَ اَخُوْ الْعَشِیْرَۃِ۔)) وقَالَ مَرَّۃً: رَجُلٌ، فلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہِاَلَانَ لَہُ الْقََوْلَ، فلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَۃُ: قُلْتَ لَہُ الَّذِیْ قُلْتَ ثُمَّ اَلَنْتَ لَہُ الْقَوْلَ! فَقَالَ: ((اَیْ عَائِشَۃُ! شَرُّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ وَدَعَہُ النَّاسُ اَوْ تَرَکَہُ النَّاسُ اِتْقَائَ فُحْشِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ) اِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ اَوْ شَرِّ النَّاسِ الّذِیْنَیُکْرَمُوْنَ اتِّقَائَ شَرِّھِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۰۷)
۔ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اسے دیکھ کر) فرمانے لگے: اس آدمی کو اجازت دے دو، یہ اپنے خاندان کا برا فرد ہے۔ پھر جب وہ اندر آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے ساتھ نرم برتاؤ کیا، جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! پہلے تو آپ نے جو کچھ کہا وہ کہا، پھر اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا،(ان دو قسم کے رویوں کی کیا وجہ ہے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت والے دن مرتبہ کے اعتبار سے بدترین لوگ وہ ہوں گے کہ جن کے شرّ سے بچنے کے لیے لوگ ان سے لاتعلق ہو جائیں۔ ایک روایت میں ہے: بدترین لوگ وہ ہیں کہ جن کے شرّ سے بچنے کے لیے ان کی عزت کی جاتی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9935

۔ (۹۹۳۵)۔ عَنْ اَبِیْیُوْنُسَ مَوْلیٰ عَائِشَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: اِسْتَاْذَنَ رَجُلٌ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((بِئْسَ ابْنُ الْعَشِیْرَۃِ۔)) فَلَمَّا دَخَلَ ھَشَّ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَانْبَسَطَ اِلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ، فَاسْتَاْذَنَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِعْمَ ابْنُ الْعَشِیْرَۃِ)) فَلَمَّا دَخَلَ لَمْ یَنْبَسِطْ اِلَیْہِ کَمَا انْبَسَطَ اِلَی الْآخَرِ، وَلَمْ یَھَشَّ لَہُ کَمَا ھَشَّ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اسْتَاْذَنَ فُلانٌ فَقُلْتَ لَہُ مَاقُلْتَ، ثُمَّ ھَشَشْتَ لَہُ وْانْبَسَطْتَ اِلَیْہِ وَقُلْتَ لِفُلَانٍ مَاقُلْتَ، وَلَمْ اَرَکَ صَنَعْتَ بِہْ مَاصَنَعَتَ لِلْآخَرِ، فَقَالَ: ((یَاعَائِشَۃُ! اِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنِ الُّقِیَ لِفُحْشِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۶۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ اپنے خاندان کا برا آدمی ہے۔ پھر جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ خوشی اور بے تکلفی سے پیش آئے، پھر وہ آدمی چلا گیا، اتنے میں ایک دوسرا آدمی آ گیا، اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اپنے خاندان کا بہترین آدمی ہے۔ پھر جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ نہ اس طرح بے تکلفی سے پیش نہ آئے، جیسے پہلے سے آئے تھے اور نہ اس کے ساتھ خوش ہوئے، جب وہ یہ آدمی بھی چلا گیا تو میں (عائشہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب فلاں آدمی نے آپ سے اجازت طلب کی تو آپ نے اس کو خاندان کا برا آدمی قرار دیا، لیکن پھر اس کے ساتھ خوش اور بے تکلفی سے پیش آئے اور فلاں آدمی کے بارے میں تبصرہ تو اچھا کیا، لیکن اس کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا، جو پہلے سے کیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! بدترین لوگ وہ ہیں کہ جن کے شر سے بچا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9936

۔ (۹۹۳۶)۔ عَنْ سَعْدٍ یَعْنِیْ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاَنْ یَمْتَلِیئَ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا حَتّٰییَرِیَہُ خَیْرٌ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیْئَ شِعْرًا ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۶)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کسی کا پیٹ پیپ سے اس قدر بھر جائے کہ وہ اس کو نظر آنے لگے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھرا ہوا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9937

۔ (۹۹۳۷)۔ وعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۸۳۵۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9938

۔ (۹۹۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاَنْ یَمْتَلِیئَ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا، خَیْرٌلَہُ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیئَ شِعْرًا۔)) (مسند احمد: ۴۹۷۵)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لیے شعروں سے بھر جانے سے بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9939

۔ (۹۹۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعَرْجِ اِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ یُنْشِدُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا الشَّیْطَانَ، اَوْ اَمْسِکُوْا الشَّیْطَانَ، لَاَنْ یَمْتَلِیئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَیْحًا خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیئَ شِعْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۷۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرج مقام پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے آ گیا، جو شعر گاہ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پکڑ لو اس شیطان کو، یا فرمایا: روک دو اس شیطان کو، اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھر جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9940

۔ (۹۹۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ نَوْفَلِ بْنِ اَبِیْ عَقْرَبَ، قَالَ: سَاَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُتَسَامَعُ عِنْدَہٗالشِّعْرُ؟فَقَالَتْ: قَدْکَانَاَبْغَضَالْحَدِیْثِ اِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۳۴)
۔ ابو نوفل سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس شعر سنے جاتے تھے، سیدہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ کلام شعر تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9941

۔ (۹۹۴۱)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھٰرُوْنَ، اَنَا قَزَعَۃُ بْنُ سُوَیْدٍ الْبَاھِلِیِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مَخْلَدٍ، عَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ، قَالَ اَبِیْ: ثَنَا الْاَشْیَبُ، فَقَالَ: عَنْ اَبِیْ عَاصِمٍ الْاَحْوَلِ، عَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَضَ بَیْتَ شِعْرٍ بَعْدَ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلَاۃُ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۶۴)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ عشا کے بعد دو مصرعوں کا شعر مرتب دیا، اس کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9942

۔ (۹۹۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ کَعْبٍ، عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اھْجُوْا الْمُشْرِکِیْنَ بِالشِّعْرِ، اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ کَاَنّمَایَنَضَحُوْھُمْ بِالنَّبْلِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۸۹)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شعروں کے ذریعے مشرکوں کی ہجو کرو، بیشک مؤمن اپنے نفس اور مال سے جہا د کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے ! گویا کہ یہ شاعر ان پر تیر پھینک رہے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9943

۔ (۹۹۴۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہُ قَالَ لِلنَّبیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَنْزَلَ فِیْ الشِّعْرِ مَا اَنَزَلَ، فَقَالَ: ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُ بِسَیْفِہِ وَلِسَانِہِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَکَاَنّمَا تَرْمُوْنَھُمْ بِہٖنَضْحُالنَّبْلِ۔)) (مسنداحمد: ۲۷۷۱۶)
۔ (دوسری سند) انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ شعروں کے بارے میں جوکچھ نازل کرنا تھا، وہ تو کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! گویا کہ تم ان پر تیر برسا رہے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9944

۔ (۹۹۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ حَیْنَ اَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ تَعَالیٰ فِیْ الشِّعْرِ مَا اَنْزَلَ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ تَعَالیٰ قَدْ اَنْزَلَ فِیْ الشِّعْرِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَکَیْفَ تَرٰی فِیْہِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُ بِسَیْفِہِ وَلِسَانِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۷۷)
۔ (تیسری سند) سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں (مذمت والی آیات) نازل کیں تو وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں جو کچھ نازل کیا ہے، آپ اس کو جانتے ہیں، اب آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان، دونوں کے ذریعے جہاد کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9945

۔ (۹۹۴۵)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۷۲)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بعض شعر دانائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9946

۔ (۹۹۴۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُکْمًا، وَمِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا، (وفِیْ لَفْظٍ) وَاِنَّ مِنَ الْقَوْلِ سِحْرًا۔)) (مسند احمد: ۲۸۵۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بعض شعر حکمت و دانائی والے ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9947

۔ (۹۹۴۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَا اُبَالِیْ مَا اَتَیْتُ، وَمَا رَکِبْتُ، اِذَا اَنَا شَرِبْتُ تِرْیَاقًا، وَتَعَلَّقْتُ تَمِیْمَۃً، اَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِیْ۔)) (مسند احمد: ۷۰۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میں تریاق پی لوں گا اور تمیمہ لٹکا لوں گا یا اپنی طرف سے شعر کہہ لوں گا تو پھر میں اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں کدھر جا رہا ہوں اور کس چیز پر سوار ہو رہا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9948

۔ (۹۹۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اَشْعَرُ بَیْتٍ قَالَتْہُ الْعَرَبُ، اَلََا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ۔)) وَکَادَ اُمَیَّۃُ بْنُ اَبِیْ الصَّلْتِ اَنْ یُسْلِمَ۔ (مسند احمد: ۹۰۷۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر فرمایا: عربوں کا کہا ہوا سب سے عظیم شعر یہ ہے: اَلََا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے)۔ قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9949

۔ (۹۹۴۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہ قَالَ: ((اَصْدَقُ بَیْتٍ قَالَہُ الشَّاعِرُ اَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ۔)) (مسند احمد: ۹۹۰۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاعر کا کہا ہوا سب سے سچا شعر یہ ہے: اَلََا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9950

۔ (۹۹۵۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَّقَ اُمَیَّۃَ فِیْ شَیْئٍ مِنْ شِعْرِہِ، فَقَالَ: رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ یَمِیْنِہِ وَالنَّسْرُ لِلْاُخْرٰی وَلَیْتٌ مُرْْصَدُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ۔)) وَقَالَ: وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ کُلَّ آخِرِ لَیْلَۃٍ حَمْرَائَیُصْبِـحُ لَوْنُھَا یَتَوَرَّدُ تَاْبیٰ فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِیْ رِسْلِھَا اِلَّا مُعَـذَّبَۃً وَاِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ)) (مسند احمد: ۲۳۱۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کی تصدیق کی تھی، اس نے ایک شعر یہ کہا تھا: (حاملین عرش میں کوئی) مرد کی صورت پر ہے، کوئی بیل کی صورت پر ہے، اللہ تعالیٰ کی دائیں ٹانگ کے نیچے، تو کوئی گدھ کی صورت ہے اور کوئی گھات بیٹھے ہوئے شیر کی صورت پر۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امیہ نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ اس نے یہ اشعار کہے تھے: اور ہر رات کے آخر میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی نظر آ رہا ہوتا ہے ، وہ انکار کردیتا ہے اور نرمی کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا، وگرنہ اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9951

۔ (۹۹۵۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشُّرَیْدِ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَنْشَدَہُ مِنْ شِعْرِ اُمَیَّۃَ بْنِ اَبِیْ الصَّلْتِ، قَالَ: فَاَنْشَدَہُ مِائَۃَ قَافِیَۃٍ، قَالَ: فَلَمْ اُنْشِدْہُ شَیْئًا اِلَّا قَالَ: ((اِیْہِ اِیْہِ۔)) حَتّٰی اِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِائَۃِ قَافِیَۃٍ، قَالَ: ((کَادَ اَنْ یُسْلِمَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۹۳)
۔ سیدنا شرید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امیہ بن ابی صلت کے اشعار پڑھیں، پس انھوں نے سو قافیے سنائے، جب بھی وہ ایک شعر مکمل کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اور پڑھو، اور پڑھو۔ یہاں تک کہ جب میں سو قافیوں سے فارغ ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ یہ شخص مسلمان ہو جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9952

۔ (۹۹۵۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ الشَّرِیْدُ کُنْتُ رَدِفًا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِیْ: ((اَمَعَکَ مِنْ شِعْرِ اُمَیَّۃَ ابْنِ اَبِیْ الصَّلْتِ شَیْئٌ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((اَنْشِدْنِیْ۔)) فَاَنْشَدْتُہُ بَیْتًا، فَلَمْ یَزَلْیَقُوْلُ لِیْ کُلَّمَا اَنْشَدْتُہُ بَیْتًا: ((اِیْہِ۔)) حَتّٰی اَنْشَدْتُہُ مِائَۃَ بَیْتٍ، قَالَ: ثُمَّ سَکَتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَکَتُّ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۹۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا شرید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ردیف تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’کیا تجھے امیہ بن ابی صلت کے کچھ اشعار یاد ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے سناؤ۔ پس میں نے ایک شعر پڑھا، جب بھی میں ایک شعر سے فارغ ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اور سناؤ۔ یہاں تک کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سو اشعار سنا دیئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے اور میں بھی خاموش ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9953

۔ (۹۹۵۳)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، عَنْ شَرِیْکٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَیْحٍ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: قُلْتُ لَھَا: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْوِیْ شَیْئًا مِنَ الشِّعْرِ قَالَتْ: نَعَمْ، شِعْرُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ، کَانَ یَرْوِیْ ھٰذَا الْبَیْتَ، وَیَاْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۸۵)
۔ شریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی کسی کے شعر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ شعر پڑھتے تھے: وَیَاْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9954

۔ (۹۹۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبْرُ تَمَثَّلَ فِیْہِ بِبَیْتِ طَرَفَۃَ: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9955

۔ (۹۹۵۵)۔ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ، اَنَّ حَسَّانَ قَالَ: فِیْ حَلْقَۃٍ فِیْھِمْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اُنْشِدُکَ اللّٰہَ یَا اَبَاھُرَیْرَۃَ، ھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَجِبْ عَنِّیْ، اَیَّدَکَ اللّٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ۔)) قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۷۶۳۲)
۔ ابن مسیب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌کہتے ہیں: سیدنا حسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک مجلس میں کہا،جبکہ اس میں سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف فرما تھے، اے ابوہریرہ! میں تجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: حسان! تو میری طرف سے جواب دے، اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے تیری مدد کرے۔ ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9956

۔ (۹۹۵۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَضَعَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، مِنْبَرًا فِیْ الْمَسْجِدِ، یُنَافِحُ عَنْہُ بِالشِّعْرِ، ثُمَّ یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ یُنَافِحُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۴۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھوایا، وہ اس پر بیٹھ کر شعری کلام کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کرتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے حسان کی تائید کرتا ہے، جب تک وہ اس کے رسول کا دفاع کرتا رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9957

۔ (۹۹۵۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحَرِّمْ حُرْمَۃً، اِلَّا وَقَدْ عَلِمَ اَنَّہُ سَیَطَّلِعُھَا مِنْکُمْ مُطَّلِعٌ، اَلَا وَاِنِّیْ آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ، اَنْ تَھَافَتُوْا فِیْ النَّارِ، کَتَھَافُتِ الْفَرَاشِ اَوِ الذُّبَابِ۔)) (مسند احمد: ۴۰۲۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو بھی حرام کیا، اس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ تم میں سے لوگ اس پر جھانکے گے، خبردار! میں تمہاری کمروں سے پکڑ کر تم کو روکتا ہوں تاکہ تم اس طرح آگ میں نہ گرو، جیسے پتنگے اور مکھیاں آگ میں گرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9958

۔ (۹۹۵۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَعْمَلْ سُوْئً ا یُجْزَ بِہٖفِیْ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۲۳)
۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے برا کام کیا، اس کو دنیا میں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9959

۔ (۹۹۵۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ خَبُثَتْ نَفْسِیْ، وَلٰکِنْ لِیَقُلْ لَقِسَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۴۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اس طرح نہ کہے کہ خَبُثَتْ نَفْسِیْ، بلکہ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے لَقِسَتْ نَفْسِیْ کہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9960

۔ (۹۹۶۰)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلشُّؤْمُ سُوْئُ الْخُلُقِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۵۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نحوست، بری عادات ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9961

۔ (۹۹۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُلْ اَحَدُکُمُ لِلْعِنَبِ الْکَرْمُ، اِنّمَا الْکَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی انگور کو کَرْم نہ کہے، کیونکہ کَرْم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9962

۔ (۹۹۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((شَرُّ مَا فِیْ رَجُلٍ شُحٌّ ھَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ۔)) (مسند احمد: ۷۹۹۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سخت کنجوسی اور سخت بزدلی کسی آدمی میں پائی جانے والی بدترین صفات ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9963

۔ (۹۹۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ مِمَّا اَخْشٰی عَلَیْکُمْ شَھَوَاتِ الْغَیِّ فِیْ بُطُوْنِکُمْ وَفُرُوْجِکُمْ وَمُضِلَّاتِ الْھَوٰی، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) مُضِلِّاتِ الْفِتَنِ ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۱)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: