Musnad Ahmad

Search Results(1)

165)

165) تعریف اور مذمت کی کتاب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10027

۔ (۱۰۰۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اَحَدَ اَغْیَرُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَلِذٰلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ، مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَابَطَنَ، وَلَا اَحَدَ اَحَبُّ اِلَیْہِ الْمَدْحُِ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۳۶۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند نہیں ہے، اسی لیے اس نے ظاہر ی اور باطنی ہر قسم کی بری چیزکو حرام قرار دیا ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت تعریف زیادہ پسند ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10028

۔ (۱۰۰۲۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ مِثْلُہُ) وَزَادَ (وَلِذٰلِکَ مَدَحَ نَفْسَہُ) بَعْدَ قَوْلِہِ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۴۱۵۳)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ زائد الفاظ ہیں: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10029

۔ (۱۰۰۲۹)۔ عَنِ الْاَسْوَدِ بْنِ سَرِیْعٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلََا اُنْشِدُکَ مَحَامِدَ حَمِدْتُ بِھَا رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی؟ قَالَ: ((اَمَا اِنَّ رَبَّکَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْمَدْحَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۷۱)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ زائد الفاظ ہیں: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی ہے۔کے ذریعے میں نے اپنے ربّ کی تعریف کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک تیرا ربّ تعریف کو پسند کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10030

۔ (۱۰۰۳۰)۔ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَدْ وَفَدَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ رَھْطٍ مِنْ بَنِیْ عَامِرٍ، قَالَ: فَاَتَیْنَاہُ فَسَلَّمْنَا عَلَیْہِ، فَقُلْنَا: اَنْتَ وَلِیُّنَا، واَنْتَ سَیِّدُنَا، وَاَنْتَ اَطْوَلُ عَلَیْنَا، (قَالَ یُوْنُسَ: وَاَنْتَ اَطْوَلُ عَلَیْنَا طَوْلًا) وَاَنْتَ اَفَضَلُ عَلَیْنَا فَضْلًا، وَاَنْتَ الْجَفْنَۃُ الْغرَّائُ، فَقَالَ: ((قُوْلُوْا قَوْلَـکُمْ وَلَا یَسْتَجْرِیَنَّکُمُ الشَّیْطَانُ۔)) قَالَ: وَرُبَمَا قَالَ: وَلَا یَسْتَھْوِیَنَّکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ بنو عامر کے چند ساتھیوں سمیت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آیا اور اس واقعہ کو یوں بیان کیا: پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: آپ ہمارے دوست ہیں، آپ ہمارے سردار ہیں، آپ ہم پر مہربانی و کرم کرنے میں بہت مہربان ہیں، آپ فضیلت میں ہم سے زیادہ ہیں اور آپ بہت بڑے سخی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی مقصد کی بات کرو، ہرگز شیطان تم کو اپنے جال میں نہ پھنسانے پائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10031

۔ (۱۰۰۳۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَنْتَ سَیِّدُ قُرَیْشٍ، فَقَالَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلسَّیِّدُ اللّٰہُ۔)) فَقَالَ: اَنْتَ اَفَضَلُھَا فِیْھَا قَوْلًا، وَاَعْظَمُھَا فِیْھَا طَوْلًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیَقُلْ اَحَدُکُمْ بِقَوْلِہِ وَلَا یَسْتَجِرَّنَّہُ الشَّیْطَانُ اَوِ الشَّیَاطِیْنُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۲۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ قریش کے سردار ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سردار تو اللہ ہے۔ پھر اس نے کہا: آپ بات کے لحاظ سے ہم میں سب سے افضل ہیں، مہربانی و کرم میں سب سے زیادہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر کوئی اپنے مقصد کی بات کرے اور ہر گز شیطان کسی کو اپنے تابع فرمان نہ کرنے پائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10032

۔ (۱۰۰۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ زُھَیْرِ نِ الثَّقَفِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّبَائَۃِ اَوِ النَّبَاوَۃِ (شَکَّ نَافِعٌ) مِنَ الطَّائِفِ وَھُوَ یَقُوْلُ : ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّکُمْ تُوْشِکُوْنَ اَنْ تَعْرِفُوْا اَھْلَ الْجَنّۃِ مِنْ اَھْلِ النَّارِ، اَوْ قَالَ: خِیَارَکُمْ مِنْ شِرَارِکُمْ۔)) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: بِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِِ!؟ قَالَ: ((بِالثَّنَائِ السَّيِّئِ وَالثَّنَائِ الْحَسَنِ، وَاَنْتُمْ شُھْدَائُ اللّٰہِ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۸)
۔ سیدنا زہیر ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے طائف میں نباوہ مقام پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! بیشک قریب ہے کہ تم جنت والوں اور جہنم والوں یا نیکوکاروں اور بدکاروں کو پہچان لو۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بری اور اچھی تعریف کے ذریعے، دراصل تم ایک دوسرے پر گواہی دینے میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10033

۔ (۱۰۰۳۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ یَعْمَلُ الْعَمَلَ فَیَحْمَدُہُ النَّاسُ عَلَیْہِ، وَیُثْنُوْنَ عَلَیْہِ بِہٖفَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِلْکَ عَاجِلُ بَشْرَی الْمُؤْمِنِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آدمی عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی وجہ سے اس کی تعریف اور مدح سرائی کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مؤمن کے لیے جلدی مل جانے والی خوشخبری ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10034

۔ (۱۰۰۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّھُمْ ذَکَرُوْا رَجُلًا عِنْدَہُ، فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَفَضْلُ مِنْہُ فِیْ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْحَکَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ)) مِرَارًا یَقُوْلُ ذٰلِکَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ کَانَ اَحَدُکُمْ مَادِحًا اَخَاہُ لَا مَحَالَۃَ فَلْیَقُل: اَحْسِبُ فُلَانًا اِنْ کَانَ یَرٰی اَنَّہُ کَذَاکَ وَلَا اُزَکِّیْ عَلَی اللّٰہِ تَبَارَکَ اَحَدًا وَحَسِیْبُہُ اللّٰہُ، اَحْسَبُہُ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۳)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی کا تذکرہ کیا اور ایک شخص نے اس کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی شخص نہیں ہے، جو فلاں فلاں عمل میں اللہ کے رسول کے بعد افضل ہو، مگر وہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اپنے ساتھ کی گردن کاٹ دی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی بار یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: اگر کسی نے لامحالہ طور پر کسی کی تعریف کرنی ہی ہو تو وہ یوں کہے: میرا گمان ہے کہ وہ آدمی ایسے ایسے ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا، دراصل اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال میں اس کو ایسے ایسے گمان کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10035

۔ (۱۰۰۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّھُمْ ذَکَرُوْا رَجُلًا عِنْدَہُ، فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَفَضْلُ مِنْہُ فِیْ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْحَکَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ)) مِرَارًا یَقُوْلُ ذٰلِکَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ کَانَ اَحَدُکُمْ مَادِحًا اَخَاہُ لَا مَحَالَۃَ فَلْیَقُل: اَحْسِبُ فُلَانًا اِنْ کَانَ یَرٰی اَنَّہُ کَذَاکَ وَلَا اُزَکِّیْ عَلَی اللّٰہِ تَبَارَکَ اَحَدًا وَحَسِیْبُہُ اللّٰہُ، اَحْسَبُہُ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۳)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اپنے ایک ساتھی کی تعریف کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اس کی گردن کاٹ کے رکھ دی ہے، اگر تو نے لامحالہ طور پر تعریف کرنی ہی ہے تو اس طرح کہہ: میرا گمان ہے کہ وہ شخص ایسے ایسے ہے اور اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10036

۔ (۱۰۰۳۶)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ اَبِیْ رَبَاحٍ، قَالَ: کَانَ رَجُلٌ یَمْدَحُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ یَقُوْلُ ھٰکَذَا یَحْثُوْ فِیْ وَجْھِہِ التُّرَابَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِذَا رَاَیْتُمُ الْمَدَّاحِیْنَ فَاحْثُوْا فِیْ وُجُوْھِھِمُ التُّرَابَ۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۴)
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی تعریف کی اور انھوں نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکی اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم تعریف کرنے والوں کو پاؤ تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10037

۔ (۱۰۰۳۷)۔ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْاَدْرَعِ اَنَّہُ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَابِ الْمَسْجِدِ اِذَا رَجُلٌ یُصَلِّیْ، قَالَ: ((اَتَقُوْلُہُ صَادِقًاَ)) قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! ھٰذَا فُلَانُ، وَھٰذَا مِنْ اَحْسَنِ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ، اَوْ قَالَ: اَکْثَرُ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ صَلَاۃً، قَالَ: ((لَا تُسْمِعْہُ فَتُھْلِـکَہُ۔)) (مَرَّتَیْنِِ اَوْ ثَلَاثًا) اِنَّـکُمْ اُمَّۃٌ اُرِیْدَ بِکُمُ الْیُسْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۴)
۔ سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد کے دروازے پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جب انھوں نے اچانک ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے کہ یہ آدمی سچا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں آدمی ہے، مدینہ میں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا شخص ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یہ بات اس کو سنا کر نہیں کرنی، وگرنہ اس کو ہلاک کر دو گے۔ دو تین بار یہ بات کی اور پھر فرمایا: بیشک تم ایسی امت ہو، جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ کیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10038

۔ (۱۰۰۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا یُثْنِیْ عَلَی رَجُلٍ وَیُطْرِیْہِ فِیْ الْمِدْحَۃِ، فَقَالَ: ((لَقَدْ اَھْلَکْـتُمْ اَوْ قَطَعْتُمْ ظَھْرَ الرَّجُلِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۲۸)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنا کہ آدمی دوسرے آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور مبالغہ سے کام لے رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اس شخص کی کمر کو ہلاک کر دیا ہے، یا کاٹ دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10039

۔ (۱۰۰۳۹)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ، اَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاصِ بَعَثَ وَفْدًا مِنَ الْعِرَاقِ اِلٰی عُثْمَانَ، فَجَائُ وْا یُثْنُوْنَ عَلَیْہِ، فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ یَحْثُوْ فِیْ وُجُوْھِھِمُ التُّرَابَ، وَقَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نَحْثُوَا فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ۔ وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: فَقَامَ الْمِقْدَادُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((احْثُوْا فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ۔)) قَالَ الزُّبَیْرُ: اَمَّا الْمِقْدَادُ فَقَدْ قَضٰی مَاعَلَیْہِ ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۲۵)
۔ مجاہد کہتے ہیں: سیدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عراق سے ایک وفد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجا، جب وہ لوگ آئے تو وہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تعریف کرنے لگے، لیکن سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے چہروں پر مٹی پھینکی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔ امام سفیان نے اپنی روایت میں کہا: سیدنا مقداد نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکو۔ پھر زبیر راوی نے کہا: سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10040

۔ (۱۰۰۴۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنْ اَبِیْ مَعْمَرٍ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ یُثْنِیْ عَلٰی اَمِیْرٍ مِنَ الْاُمَرَائِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ یَحْثِیْ فِیْ وَجْھِہِ التُّرَابَ وقَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْ نَحْثِیَ فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۲۹)
۔ ابو معمر کہتے ہیں: ایک آدمی کھڑا ہوا اور وہ ایک امیر کی تعریف کرنے لگا، اُدھر سے سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکنا شروع کر دی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10041

۔ (۱۰۰۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ اِنِّیْ قُمْتُ رَمَضَانَ کُلَّہُ اَوْ صُمْتُہُ۔)) قَالَ: فَـلَا اَدْرِیْ اَکَرِہَ التَّزْکِیَۃَ اَمْ لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَۃٍ اَوْ رَقْدَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۷۷)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز اس طرح نہ کہے کہ اس نے سارے رمضان کا قیام کیا ہے یا سارے رمضان کے روزے رکھے ہیں۔ راوی کہتا ہے:یہ بات مجھے سمجھ نہ آ سکی کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ بندہ اپنا تزکیہ نہ کرے، یا کوئی اور ارادہ تھا، اس لیے ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ غفلت اختیار کی جائے، یا سویا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10042

۔ (۱۰۰۴۲)۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا تَرَکْتُ فِیْ النَّاسِ بَعْدِیْ فِتْنَۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۷۲)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے بعد لوگوں میں کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا، جو مردوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہو، ما سوائے عورتوں کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10043

۔ (۱۰۰۴۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ الدُّنْیَا فَقَالَ: ((اِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ فَاتَّقُوْھَا وَاتَّقُوْا النِّسَائَ، ثُمَّ ذَکَرَ نِسْوَۃً ثَلَاثًا مِنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ امْرَاَتَیْنِ طَوَیْلَتَیْنِتُعْرَفَانِ وَاِمْرَاَۃٌ قَصِیْرَۃٌ لَا تُعْرَفُ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَیْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْہُ مِنْ اَطْیَبِ الطِّیْبِ الْمِسْکِ، وَجَعَلَتْ لَہُ غَلَقًا، فَاِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَائِ اَوِ الْمَجْلِسِ قَالَتْ بِہٖفَفَتَحَتْہُفَفَاحَرِیْحُہُ، قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِہِ الْیُسْرٰی فَاَشْخَصَھَا دُوْنَ اَصَابِعِہِ الثَّلَاثِ شَیْئًا وَقَبَضَ الثَّلَاثَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۴۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا کا ذکر کیا اور فرمایا: بیشک دنیا سرسبز وشاداب (پرکشش) اور میٹھی ہے، پس تم اس سے بھی بچو اور عورتوں سے بھی بچو، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل میں تین عورتیں تھیں، دو کو دراز قد ہونے کی وجہ سے پہچان لیا جاتا تھا اور ایک کو کوتاہ قد ہونے کی وجہ سے نہیں پہچانا جاتا تھا، پس اس نے کھڑاؤں (لکڑی کے جوتے) بنوا لیے اور ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں سب سے بہترین خوشبو کستوری بھری اور اس کا ایک ڈھکن بنوایا، پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو ڈھکن کو کھولتی، پس خوشبو پھیل جاتی تھی۔ مستمر راوی نے کہا کہ وہ انگوٹھی اس بائیں چھنگلی انگلی میں ہوتی، پس وہ اس کو باقی تین انگلیوں کی طرف جھکاتی اور باقی تینوں کو بند کر لیتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10044

۔ (۱۰۰۴۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْفُسَّاقَ ھُمْ اَھْلُ النَّارِ۔)) قِیْلَ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَنِ الْفُسَّاقُ؟ قَالَ: ((النِّسَائُ۔)) وقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْ لَسْنَ اُمَّھَاتِنَا وَاَخَوَاتِنَا وَاَزْوَاجَنَا قَالَ: ((بَلٰی، وَلٰکِنَّھُنَّ اِذَا اُعْطِیْنَ لَمْ یَشْکُرْنَ، وَاِذَا ابْتُلِیْنَ لَمْ یَصْبِرْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۵۳)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے مروی سے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک فاسق لوگ جہنمی ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فاسق لوگ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن جب ان کو دیا جاتا ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتیں اور جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10045

۔ (۱۰۰۴۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَاَیْتُ النَّارَ فَلَمْ اَرَ کالْیَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا النِّسَائَ۔)) قَالُوْا: لِمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بِکُفْرِھِنَّ۔)) قِیْلَ: اَیَکْفُرْنَ بِاللّٰہِ؟ قَالَ: ((یَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ، وَیَکْفُرْنَ الُاِحْسَانَ، لَوْ اَحْسَنْتَ اِلٰی اِحَدَاھُنَّ الدَّھْرَ ثُمَّ رَاَتْ مِنْکَ شَیْئًا قَالَتْ: مَارَاَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم کو دیکھا ہے اور آج کی طرح سخت منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا، اس میں اکثریت عورتوں کی تھی۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے۔ کسی نے کہا: کیایہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے خاوندوں اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں، اگر تو زمانہ بھر کسی عورت کے ساتھ احسان کرتا رہے، لیکن پھر بھی جب وہ تجھ میں قابل اعتراض چیز دیکھے گی تو کہے گی: میں نے کبھی بھی تیرے پاس بھلائی نہیں پائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10046

۔ (۱۰۰۴۶)۔ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَجٍّ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِمَرِّالظُّھْرَانِ فَاِذَا اِمْرَاَۃٌ فِیْ ھَوْدَجِھَا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِذَا اِمْرَاَۃٌ فِیْیَدَیْھَا حَبَائِرُھَا وَخَوَاتِیْمُھَا) قَدْ وَضَعَتْ یَدَیْھَا عَلٰی ھَوْدَجِھَا قَالَ: فَمَالَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ، فَدَخَلْنَا مَعَہُ، فَقَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا الْمَکَانِ فَاِذَا نَحْنُ بِغِرْبَانٍ کَثِیْرَۃٍ فِیْھَا غُرَابٌ اَعْصَمُ، اَحْمَرُ الْمِنْقَارِ، وَالرِّجْلَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا مِثْلُ ھٰذَا الْغُرَابِ فِیْ ھٰذِہِ الْغِرْبَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۸۰)
۔ عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ سفرِ حج میں تھے، جب ہم مر ظہران مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے کجاوے میں تھی، ایک روایت میں ہے: ایک خاتون کے ہاتھ مزین تھے اور اس نے انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں اور اس نے اپنے ہاتھوں کو کجاوے پر رکھا ہوا تھا، پھر سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک طرف مڑے اور گھاٹی میں داخل ہو گئے، پس ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ داخل ہو گئے، پھر انھوں نے کہا: ہم اس مقام میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے اچانک بہت زیادہ کوے دیکھے، ان میں ایک کوا سرخ چونچ اور سرخ پائوں والا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی، مگر سرخ چونچ اور سرخ پائوں والے کوے کی طرح بہت کم۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10047

۔ (۱۰۰۴۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِطَّلَعْتُ فِیْ النَّارِ فَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا النِّسَائَ، وَاطَّلَعْتُ فِیْ الْجَنَّۃِ فَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا الْفُقَرَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۹۲)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم میں جھانکا اور دیکھا کہ اس کی اکثریت عورتوں پر مشتمل تھی اور پھر میں نے جنت میں جھانکا اور دیکھا کہ اس میں فقیر لوگوں کی اکثریت تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10048

۔ (۱۰۰۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ التَّیَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًایُحَدِّثُ اَنَّہُ کَانَتْ لَہُ امْرَاَتَانِ قَالَ: فجَائَ اِلیٰ اِحْدَاھُمَا قَالَ: فَجَعَلَتْ تَنْزِعُ بِہٖعِمَامَتَہُ،وَقَالَتْ: جِئْتَمِنْعِنْدِامْرَاَتِکَ،قَالَ: جِئْتُمِنْعِنْدِعِمْرَانَبْنِحُصَیْنٍ فَحَدَّثَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحْسِبُ اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ اَقَلَّ سَاکِنِی الْجَنَّۃِ النِّسَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۷۶)
۔ ابو تیاح بیان کرتے ہیں کہ مطرف کی دو بیویاں تھیں، جب وہ ایک بیوی کے پاس گئے اور اس نے ان کی پگڑی اتاری تو اس نے کہا: آپ تو اپنی بیوی کے پاس سے آئے ہیں، انھوں نے کہا: میں سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے آیا ہوں، انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے باسیوں میں عورتیں کم تعداد ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10049

۔ (۱۰۰۴۹)۔ عَنْ نَضْلَۃَ بْنِ طَرِیْفٍ، اَنَّ رَجُلًا مِنْھُمْ یُقَالُ لَہُ الْاَعْشٰی، وَاِسْمُہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْاَعْوَرِ، کَانَتْ عِنْدَہُ اِمْرَاَۃٌیُقَالُ لَھَا: مُعَاذَۃُ، خَرَجَ فِیْ رَجَبٍ یَمِیْرُ اَھْلَہُ مِنْ ھَجَرَ، فَھَرَبَتِ امْرَاَتُہُ بَعْدَہُ نَاشِزًا عَلَیْہِ، فَعَاذَتْ بِرَجُلٍ مِنْھُمْ یُقَالُ لَہُ: مُطَرِّفُ بْنُ بُھْصُلِ بْنِ کَعْبِ بْنِ قُمَیْشَعِ بْنِ دُلَفِ بْنِ اَھْضَمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحِرْمَازِ، فَجَعَلَھَا خَلْفَ ظَھْرِہِ، فلَمَّا قَدِمَ وَلَمْ یَجِدْھَا فِیْ بَیْتِہِ وَاُخْبِرَ اَنَّھَا نَشَزَتْ عَلَیْہِ، وَاَنَّھَا عَاذَتْ بِمُطَرِّفِ بْنِ بُھْصُلٍ، فَاَتَاہُ فَقَالَ: یَا ابْنَ الْعَمِّ، اَعِنْدَکَ اِمْرَاَتِیْ مُعَاذَۃُ؟ فَادْفَعْھَا اِلَیَّ، فَقَالَ: لَیْسَتْ عِنْدِیْ، وَلَوْ کَانَتْ عِنْدِیْ لَمْ اَدْفَعْھَا اِلَیْکَ، قَالَ: وَکَانَ مُطَرِّفٌ اَعَزَّ مِنْہُ، فَخَرَجَ حَتّٰی اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَاذَ بِہٖوَاَنْشَاَیَقُوْلُ :
۔ سیدنا نضلہ بن طریف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، عام طور پر اس کو اعشی کہا جاتا تھا، اس کا نام عبد اللہ بن اعور تھا، اس کی معاذہ نامی ایک بیوی تھی، وہ اپنے اہل و عیال کے لیے کھانے لینے کی خاطر رجب میں ہجر گیا، پیچھے اس کی بیوی بغاوت کر کے کہیں بھاگ گئی اور مطرف بن بُہصُل نامی آدمی کے ہاں جا کر پناہ لی، اس نے اس کو اپنی کمر کے پیچھے بٹھا لیا، جب اعشی واپس آیا، اس نے اپنی بیوی کو اپنے گھر میں نہ پایا اور اس کو بتلایا گیا کہ وہ بغاوت کر گئی ہے اور مطرف بن بُہصُل کی پناہ میں ہے، چنانچہ وہ مطرف کے پاس گیا اور اس سے کہا: اے چچا زاد! کیا تیرے پاس میری بیوی معاذہ ہے؟ اگر ہے تو مجھے دے دے، اس نے کہا: وہ میرے پاس نہیں ہے اور اگر وہ میری پاس ہوتی تو میں نے تجھ کو نہیں دینی تھی۔ دراصل مطرف، اعشی سے زیادہ عزت و قوت والا تھا، پس اعشی نکل پڑا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پناہ طلب کی اور پھر یہ اشعار پڑھے: اے لوگوں کے سردار! اور عربوںپر غالب آ جانے والے! میں آپ سے خائن عورتوں میں سے ایک خائن عورت کی شکایت کرتا ہوں گہری سیاہی والی مادہ بھیڑیئے کی طرح، جو بِل کے سائے میں ہو، میں اس کے لیے غلہ طلب کرنے کے لیے رجب میں نکلا اس نے جھگڑنے اور بھاگنے کی صورت میں اپنے حق میں میرے ظن کی مخالفت کی، اس نے وعدہ خلافی کی ہے اور اس نے اپنی دم کو بند کر لیا ہے اس نے مجھے کثیر مقدار کے گھنے درختوں میں پھینک دیا ہے، یہ اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پا لینے والی ہیں، جس پر غلبہ پا لیں یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خواتین اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پانے والی ہیں، جس پر یہ غلبہ پا لیں۔ پھر اعشی نے اپنی بیوی اور اس کاروائی کا شکوہ کیا اور بتلایا کہ اب وہ ہمارے قبیلے کے مطرف بن بہصل نامی آدمی کے پاس ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مطرف کی طرف یہ خط لکھا: تو اس کی بیوی تلاش کر کے اس کو واپس کر دے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خط اُس آدمی کے پاس پہنچا اور اس پر پڑھا گیا تو اس نے اسی خاتون سے کہا: اے معاذہ! یہ تیرے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خط موصول ہوا ہے، اس کی وجہ سے میں تجھے اس کے سپرد کرنے والا ہوں۔ اس خاتون نے کہا: تو پھر تو میرے حق میں اس سے پختہ عہد اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امان لے لے، تاکہ وہ مجھے میرے کیے پر سزا نہ دے، پس مطرف نے اعشی سے یہ عہد و پیمان لیا اور پھر اس کی بیوی کو اس کے سپرد کر دیا، اعشی نے اپنی بیوی وصول کی اور یہ شعر پڑھنے لگا: تیری عمر کی قسم! معاذہ سے میری محبت ایسی نہیں ہے کہ جس کو چغلخور اورزمانے کا گزرنا کم کر دے نہ وہ برائی اس کو کم کر سکے گی، جو معاذہ نے کی ہے، کیونکہ گمراہ لوگوں نے اس کو پھسلا دیا تھا، جب وہ میرے جانے کے بعد اس سے سرگوشیاں کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10050

۔ (۱۰۰۵۰)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ طَیْسَلَۃَ، حَدَّثَنِیْ مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَۃَ الْمَازِنِیُّ وَالْحَیُّ بَعْدُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ الْاَعْشٰی الْمَازِنِیُّ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَنْشَدْتُہُ: یَامَالِکَ النَّاسِ وَدَیَّانَ الْعَرَبْ! اِنِّیْ لَقِیْتُ ذِرْبَۃً مِنَ الذِّرَبْ غَدَوْتُ اَبْغِیْھَا الطَّعَامَ فِیْ رَجَبْ فَخَلَفَتْـنِیْ بِنِـزَاعٍ وَھَـَربْ اَخْلَفَتِ الْعَھْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ وَھُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ (مسند احمد: ۶۸۸۵)
۔ (دوسری سند) اعشی کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ اشعا ر پڑھے: اے لوگوں کے مالک اور عربوں پر غالب آ جانے والے! خائن عورتوں میں سے ایک خائن عورت سے میرا واسطہ پڑا ہے میں اس کے لیے اناج لانے کے لیے رجب میں نکلا لیکن وہ جھگڑنے اور بھاگنے کی صورت میں میرا نائب بنی اس نے وعدہ خلافی کی اور اپنی دُم کو بند کر دیایہ اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پا لینے والی ہیں، جس پر غلبہ پا لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10051

۔ (۱۰۰۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ شَھِدَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَاہُ بَشِیْرٌیُبَشِّرُہُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَہُ عَلٰی عَدُوِّھِمْ، وَرَاْسُہُ فِیْ حِجْرِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا، فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ اَنْشَاَ یُسَائِلُ الْبَشِیْرَ، فَاَخْبَرَہُ فِیْمَا اَخْبَرَہُ اَنَّہُ وَلِیَ اَمْرَھُمُ امْرَاَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْآنَ ھَلَــکَتِ الرِّجَالُ اِذَا اَطَاعَتِ النِّسَائَ، ھَلَـکَتِ الرِّجَالُ اِذَا اَطَاعَتِ النِّسَائَ۔)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۹)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے کہ خوشخبری دینے والا ایک آدمییہ خوشخبری دینے کے لیے آیا کہ وہ دشمن پر کامیاب ہو گئے ہیں، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی گودی میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے، سجدہ کیا اور پھر خوشخبری دینے والے سے سوال جواب کرنے لگے، اس نے ایک بات یہ بھی بتلائی کہ اُن لوگوں کی ذمہ دار خاتون تھی، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت مرد ہلاک ہو جائیں گے، جب عورتوں کی اطاعت کریں گے، اس وقت مرد ہلاک ہو جائیں گے، جب عورتوں کی اطاعت کریں گے۔ تین بار ارشاد فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10052

۔ (۱۰۰۵۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ فَارِسَ، اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَدْ قَتَلَ رَبَّکَ، قَالَ: وَقِیْلَ لَہُ یَعْنِیْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَدِ اسْتَخْلَفَ اِبْنَتَہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ: ((لَایُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِکُھُمُ امْرَاَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۱۰)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل فارس کا ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: میرے ربّ نے تیرے رب کو ہلاک کر دیا ہے۔ کسی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: وہ تو اپنی بیٹی اپنا نائب بنا گیا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پا سکتی، جن کی حکمران عورت ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10053

۔ (۱۰۰۵۳)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: ثَنَا ھَمَّامُ، اَنَا قَتَادَۃُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقْرَاُ {اَلْھَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} قَالَ: فَقَالَ: ((یَقُوْلُ ابْنُ آدَمَ: مَالِیْ مَالِیْ وَھَلْ لَکَ یَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِکَ؟ اِلَّا مَا اَکَلْتَ فَاَفْنَیْتَ اَوْ لَبِسْتَ فَاَبْلَیْتَ، اَوْ تَصَدَّقْتَ فَاَمْضَیْتَ۔)) وَکَانَ قَتَادَۃُیَقُوْلُ : کُلُّ صَدَقَۃٍ لَمْ تُقْبَضْ فَلَیْسَ بِشَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۳۶)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر داخل ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ آیات تلاوت کر رہے تھے: زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا،یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے : میرا مال، میرا مال، اے ابن آدم! تیرے مال میں سے تیرا مال نہیں ہے، مگر وہ جو تونے کھا کر ختم کر دیا،یا پہن کر بوسیدہ کر دیا،یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔ قتادہ کہا کرتے تھے: وہ صدقہ کچھ نہیں ہے، جس کو قبضے میں نہیں لیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10054

۔ (۱۰۰۵۴)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ عِیَاضٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنِّ لِکُلِّ اُمَّۃٍ فِتْنَۃٌ وَاِنَّ فِتْنَۃَ اُمَّتِیْ الْمَالُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۱۰)
۔ سیدنا کعب بن عیاض ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ہر امت کا فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10055

۔ (۱۰۰۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ الْعَبْدُ: مَالِیْ مَالِیْ وَاِنَّ مَالَہُ مِنْ ثَلَاثٍ، مَااَکَلَ فَاَفْنٰی، اَوْ لَبِسَ فاَبْلیٰ، اَوْ اَعْطٰی فَاقْنٰی، مَاسِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ ذَاھِبٌ وَتَارِکُہُ لِلنَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۹۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، حالانکہ بندے کے مال کی صرف تین صورتیں ہیں،جو وہ کھا کر ختم کر دے، یا پہن کر بوسیدہ کر دے، یا وہ کسی کو دے کر ختم کر دے، اس کے علاوہ جو مال ہے، اس کو وہ لوگوں کے لیے چھوڑ کر چلا جانے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10056

۔ (۱۰۰۵۶)۔ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَمَّا اُنْزِلَتْ {الّذِیْنَیَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ} قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَعْضِ اَسْفَارِہِ، فَقَالَ بَعْضُ اَصْحَابِہٖ: قَدْنَزَلَفِیْ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ مَانَزَلَ، فَلَوْ اَنَّا عَلِمْنَا اَیَّ الْمَالِ خَیْرٌ اِتَّخَذْنَاہُ، فَقَالَ: ((اَفَضَلُہُ لِسَانًا ذَاکِرًا، وَقَلْبًا شَاکِرًا، وَزَوْجَۃً مُؤْمِنَۃً تُعِیْنُہُ عَلٰی اِیْمَانِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۵۱)
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا خزانہ کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ اس وقت ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم میں سے بعض افراد نے بعض سے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں تو یہ کچھ نازل ہو چکا ہے، اب اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ کون سا مال بہتر ہے، تاکہ اس کا اہتمام کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین مال ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور صاحب ِ ایمان بیوی، جو بندے کے ایمان پر اس کا تعاون کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10057

۔ (۱۰۰۵۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِی الْھُذَیْلِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ صَاحِبٌ لِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَبـًّـا لِلذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ۔)) قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ صَاحِبِیْ اَنَّہُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَوْلُکَ تَبًّا لِلذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ مَاذَا نَدَّخِرُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِسَانًا ذَاکِرًا، وَقَلْبًا شَاکِرًا، وَزَوْجَـۃً تُعِیْنُ عَلَی الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۸۹)
۔ عبد اللہ بن ابو ہذیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ایک ساتھی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ فرما دیا ہے کہ سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہے، اب ہم کیا خزانہ کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور ایسی بیوی، جوآخرت کے معاملے میں اپنے خاوند کا تعاون کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10058

۔ (۱۰۰۵۸)۔ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِیُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ بِالْکُوْفَۃِ اَمِیْرٌ قَالَ: فَخَطَبَ یَوْمًا فَقَالَ: اِنَّ فِیْ اِعْطَائِ ھٰذَا الْمَالِ فِتْنَۃً وَفِیْ اِمْسَاکِہِ فِتْنَۃٌ وَبِذٰلِکَ قَامَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ خُطْبَتِہِ حَتّٰی فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۶۲)
۔ مطرف بن عبد اللہ ، ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں، وہ کوفہ کے امیر تھے، انھوں نے ایک دن خطاب کیا اور کہا: بیشک اس مال کو دینے میں بھی فتنہ ہے اور اس کو روکنے میں بھی فتنہ ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی موضوع پر اپنا خطبہ دیا،یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے اور نیچے اتر آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10059

۔ (۱۰۰۵۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: وَقَفْتُ اَنَاوَاُبَیُ بْنُ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ ظِلِّ اُجُمِ حَسَّانَ فَقَالَ لِیْ اُبَیٌّ: اَلَاتَرَی النَّاسَ مُخْتَلِفَۃً اَعْنَاقُھُمْ فِیْ طَلَبِ الدُّنْیَا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((یُوْشِکُ الْفُرَاتُ یَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَھَبٍ فَاِذَا سَمِعَ بِہٖالنَّاسُسَارُوْااِلَیْہِ فَیَقُوْلُ مَنْ عِنْدَہُ: وَاللّٰہِ لَئِنْ تَرَکْنَا النَّاسَ یَاْخُذُوْنَ مِنْہُ لَیَذْھَبَنَّ فَیَقْتَتِلُ النَّاسُ حَتّٰییُقْتَلَ مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ۔)) وَھٰذَا لَفْظُ حَدِیْثِ اَبِیْ عَنْ عَفَّانَ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۸۳)
۔ عبد اللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا حسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے محل کے سائے میں کھڑے تھے، سیدنا ابی ّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تو لوگوں کو نہیں دیکھتا کہ طلب ِ دنیا کے لیے ان کی گردنیں مختلف ہوئی ہوئی ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: قریب ہے کہ فرات سے سونے کا پہاڑ نکل آئے، جب لوگوں کو اس کا پتہ چلے گا تو وہ اس کی طرف جائیں گے، اس پہاڑ کے پاس موجودہ لوگ کہیں گے: اللہ کی قسم! اگر لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں تو یہ پہاڑ تو ختم ہو جائے گا، پس لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے اور ہر سو میں سے ننانوے افراد قتل ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10060

۔ (۱۰۰۶۰)۔ عَنْ عَلَیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ وَتَرَکَ دِیْنَارَیْنِ اَوْ دِرْھَمَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیَّتَانِ،صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۸۸)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ میں سے ایک آدمی دو دیناریا دو درہم چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10061

۔ (۱۰۰۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ تُوُفِّیَ وتَرَکَ دِیْنَارًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَہُ: ((کَیَّۃٌ۔)) قَالَ: ثُمَّ تُوُفِّیَ آخَرُ فَتَرَکَ دِیْنَارَیْنِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَوُجِدَ فِیْ مِئْزَرِہِ دِیْنَارَانِِ) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیَّتَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۲۵)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں ایک آدمی ایک دینار چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ ایک داغ ہے۔ پھر ایک اور آدمی دو دینار چھوڑ کر فوت ہو گیا، ایک روایت میں ہے: اس کے ازار میں دو دینار پائے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10062

۔ (۱۰۰۶۲)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ سَاھِمُ الْوَجْہِ قَالَتْ: فَحَسِبْتُ اَنَّ ذٰلِکَ مِنْ وَجَعٍ، فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ مَالَکَ سَاھِمُ الْوَجْہِ؟ قَالَ: ((مِنْ اَجْلِ الدَّنَانِیْرِ السَّبْعَۃِ الَّتِیْ اَتَتْـنَا اَمْسِ، اَمْسَیْنَا وَھِیَ فِیْ خُصْمِ الْفِرَاشِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۴۹)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا، میں نے سمجھا کہ شاید آپ کو کوئی تکلیف ہو گی، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا وجہ ہے کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان سات دیناروں کی وجہ سے ہے، جو کل ہمارے پاس آئے تھے اور ابھی تک بچھونے کے کونے میں پڑے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10063

۔ (۱۰۰۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَرَضِہِ الّذِیْ مَاتَ فِیْہِ : ((یَاعَائِشَۃُ! مَافَعَلَتِ الذَّھَبُ؟ ۔)) فَجَائَ تْ مَابَیْنَ الْخَمْسَۃِ اِلَی السَّبْعَۃِ اَوِ الثَّمَانِیَۃِ اَوِ التِّسْعَۃِ فَجَعَلَ یُقَلِّبُھَا بِیَدِہِ و یَقُوْلُ : ((مَاظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَوْ لَقِیَہُ وَھٰذِہِ عِنْدَہُ، اَنْفِقِیْھَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۲۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرض الموت کے دوران فرمایا: عائشہ! اس سونے کا کیا بنا؟ یہ سن کر سیدہ چھ سات یا آٹھ یا نو دینار نکال لائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہاتھ سے ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے اور فرمایا: محمد کا اللہ کے بارے میں کیا گمان ہو گا، اگر وہ اس کو اس حال میں ملے کہ یہ دینار اس کے پاس ہوں، ان کو خرچ کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10064

۔ (۱۰۰۶۴)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَ: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنِّیْ اَخْشٰی اَنْ اَکُوْنَ قَدْ ھَلَکْتُ، اِنِّیْ مِنْ اَکْثَرِ قُرَیْشٍ مَالًا بِعْتُ اَرْضًا لِیْ بِاَرْبَعِیْنَ اَلْفَ دِیْنَارٍ، فَقَالَتْ: اَنْفِقْ یَا بُنَیَّ! فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ مِنْ اَصْحَابِیْ مَنْ لَا یَرَانِیْ بَعْدَ اَنْ اُفَارِقَہُ۔)) فَاَتَیْتُ عُمَرَ فَاَخْبَرْتُہُ، فَاَتَاھَا، فَقَالَ: بِاللّٰہِ! اَنَا مِنْھُمْ؟ قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ لَا، وَلَنْ اُبَرِّئَ اَحَدًا بَعْدَکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۹)
۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو جاؤں گا، کیونکہ قریشیوں میں سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے اور اب میں نے چالیس ہزار دینار کی ایک زمین بیچی ہے، سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا مال خرچ کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک میرے بعض ساتھی ایسے ہیں کہ جب میں (وفات کے وقت) ان سے جدا ہوں گا تو وہ بعد میں مجھے نہیں مل سکیں گے۔ پس میں عبد الرحمن، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور ان کو یہ حدیث سنائی، وہ سیدہ کے پاس پہنچے اور کہا: اللہ کی قسم! کیا میں ان میں سے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اور آپ کے بعد میں ہر گز کسی کو بری نہیں کروں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10065

۔ (۱۰۰۶۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَحْسَابَ اَھْلِ الدُّنْیَا الَّذِیْنَیَذْھَبُوْنَ اِلَیْہِ ھٰذَا الْمَالُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۷۸)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اہل دنیا جس حسب کو اختیار کرتے ہیں، وہ مال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10066

۔ (۱۰۰۶۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ سُلَیْمٍ، عَنْ جَدِّہِ اَنَّہُ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِفِضَّۃٍ، فَقَالَ: ھٰذِہِ مِنْ مَعْدِنٍ لَنَا، فَقَالَ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَـتَکُوْنُ مَعَادِنُ یَحْضُرُھَا شِرَارُ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۴۵)
۔ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنے دادا سے بیان کرتا ہے کہ وہ چاندی لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ ہماری ایک کان کی چاندی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب کانیں ہوں گی، لیکن بدترین لوگ ان پر حاضر ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10067

۔ (۱۰۰۶۷)۔ عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ اِمْرَاَۃِ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی حَمْزَۃَ فَتَذَاکَرَا الدُّنْیَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ، فَمَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّھَا بُوْرِکَ لَہُ فِیْھَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِیْ مَالِ اللّٰہِ وَمَالِ رَسُوْلِہِ لَہُ النَّارُ یَوْمَیَلْقَی اللّٰہَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۹۴)
۔ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور پھر دونوں نے دنیا کا ذکر کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشکیہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے، جو اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مال میں گھس تو جاتے ہیں، لیکن جس دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے، اس دن ان کے لیے آگ ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10068

۔ (۱۰۰۶۸)۔ عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ ثَامِرٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ الدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ، وَاِنَّ رِجَالًا یَتَخَوَّضُوْنَ فِیْ مَالِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِغَیْرِ حَقٍّ لَھُمُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۶۱)
۔ سیدہ خولہ بنت ثامر انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشکیہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے اور جو لوگ بغیر حق کے اللہ کے مال میں گھس جاتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10069

۔ (۱۰۰۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اِنَّ اَخْوَفَ مَااَخَافُ عَلَیْکُمْ مَا یُخْرِجُ اللّٰہُ مِنْ نَبَاتِ الْاَرْضِ وَزَھْرَۃِ الدُّنْیَا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَیْ رَسُوْلَ اللّٰہ! اَوَ یَاْتِی الْخَیْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَکَتَ حَتّٰی رَاَیْنَا اَنَّہُ یَنْزِلُ عَلَیْہِ قَالَ: وَغَشِیَہُ بُھْرٌ وَعَرِقَ فَقَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ؟)) فَقَالَ: ھَا اَنَا وَلَمْ اُرِدْ اِلَّا خَیْرًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْخَیْرَ لَا یَاْتِیْ اِلَّا بِالْخَیْرِ، اِنَّ الْخَیْرَ لَایَاْتِیْ اِلَّا بِالْخَیْرِ، اِنَّ الْخَیْرَ لَا یَاْتِیْ اِلَّا بِالْخَیْرِ، وَلٰکِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ وَکُلُّ مَا یُنْبِتُ الرَّبِیْعُیَقْتُلُ حَبَطًا اَوْ یُلِمُّ اِلَّا آکِلَۃَ الْخَضِرِ فَاِنَّھَا اَکَلَتْ حَتَّی امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاھَا وَاسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَاَکَلَتْ فَمَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّھَا بُوْرِکَ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ اَخَذَھَا بِغَیْرِ حَقِّھَا لَمْ یُبَارَکْ لَہُ۔)) وَکَانَ کَالَّذِیْیَاْ کُلُ وَلَا یَشْبَعُ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِیْ ابْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدِ بْنِ حَنَّبَلٍL ): قَالَ اَبِیْ: قَالَ سُفْیَانُ: وَکَانَ الْاَعْمَشُ یَسْاَلُنِیْ عَنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۴۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر فرمایا: بیشک مجھے سب سے زیادہ ڈر اس چیز کے بارے میں ہے، جو اللہ تعالیٰ زمین کی انگوریوں اور دنیا کے مال و متاع کی صورت میں نکالے گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا خیر بھی شرّ کو لاتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سانس پھولنے لگا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بہت زیادہ پسینہ آ گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک خیر صرف خیر لاتی ہے، بیشک خیر صرف خیر کو لاتی ہے، بیشک خیر صرف خیر کو ہی لاتی ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ دنیا سر سبزو شادات اور میٹھی ہے، موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے، وہ سوجن کی وجہ سے یا تو قتل کر دیتا ہے، یا قتل کے قریب کر دیتا ہے، ایک جانور چارہ کھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں، پھر وہ سورج کے سامنے لیٹ جاتا ہے اورپتلا پاخانہ اور پیشاب کر کے پھر کھانا شروع کر دیتا ہے، بات یہ ہے کہ جو آدمی دنیا کو اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو بغیر حق کے لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی، بلکہ وہ اس آدمی کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10070

۔ (۱۰۰۷۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی عَلٰی قَتْلٰی اُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِیْنَ کَالْمُوَدِّعِ لِلْاَحْیَائِ وَالْاَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: ((اِنِّیْ فَرَطُکُمْ وَاَنَا عَلَیْکُمْ شَھِیْدٌ، وَاِنَّ مَوْعِدَکُمُ الْحَوْضُ، وَاِنِّیْ لَاَنْظُرُ اِلَیْہِ، وَلَسْتُ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا (اَوْ قَالَ: تَکْفُرُوُا) وَلٰکِنِ الدُّنْیَا اَنْ تَنَافَسُوْا فِیْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۳۷)
۔ سیدہ عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آٹھ برسوں کے بعد غزوۂ احد کے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھی، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں گا اور تمہارے حق میں گواہی دوں گا، بیشک تمہارے وعدے کی جگہ حوض ہے اور میں اس حوض کی طرف دیکھ رہا ہوں، مجھے تمہارے بارے میں شرک کا ڈر نہیں ہے، بلکہ دنیا کا ڈر ہے کہ تم اس میں پڑ جاؤ گے۔ ایک روایت میں شرک کے بجائے کفر کے الفاظ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10071

۔ (۱۰۰۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَحَبَّ دُنْیَاہُ اَضَرَّ بِآخِرَتِہِ، وَمَنْ اَحَبَّ آخِرَتَہُ اَضَرَّ بِدُنْیَاہُ، فَآثِرُوْا مَایَبْقٰی عَلٰی مَا یَفْنٰی۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۳۳)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی دنیا سے محبت کی، اس کی آخرت کو نقصان پہنچا اور جس نے اپنی آخرت کو پسند کیا، اس کی دنیا کو نقصان پہنچا، پس تم باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10072

۔ (۱۰۰۷۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَانَ ھَمُّہُ الْآخِرَۃَ جَمَعَ اللّٰہُ شَمْلَہُ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖوَاَتَتْہُ الدُّنْیَا وَھِیَ رَاغِمَۃٌ، وَمَنْ کَانَ نِیَّتُہُ الدُّنْیَا فَرَّقَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ضَیْعَتَہُ وَجَعَلَ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَلَمْ یَاْتْہِ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّا مَاکُتِبَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۲۵)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی فکر آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کے امور کی شیرازہ بندی کر دیتا ہے، اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر (اس کے مقدر کے مطابق) اس کے پاس پہنچ جاتی ہے، لیکن جس آدمی کا رنج و غم دنیا ہی دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو منتشر کر دیتا ہے، اس کی فقیری و محتاجی کو اس کی آنکھوں کے درمیان رکھ دیتا ہے اور اسے دنیا سے بھی وہی کچھ ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10073

۔ (۱۰۰۷۳)۔ عَنْ عُبَیْدِ نِ الْحَضْرَمِیِّ، اَنَّ اَبَا مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ: یَا سامَعَ الْاَشْعَرِیِّیْنَ لِیُبَلِّغْ مِنْکُمُ الْغَائِبَ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((حُلْوَۃُ الدُّنْیَا مُرَّۃُ الْآخِرَۃِ، وَمُرَّۃُ الدُّنْیَا حُلْوَۃُ الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۸۷)
۔ عبید حضرمی سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے کہا: اے اشعریوں کی جماعت! موجودہ لوگ، غائب لوگوں تک میری بات پہنچا دیں۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا: دنیا کی لذت آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی تلخی آخرت کی لذت و شیری ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10074

۔ (۱۰۰۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لِثَوْبَانَ: ((کَیْفَ اَنْتَ یَا ثَوْبَانُ! اِذَا تَدَاعَتْ عَلَیْکُمُ الْاُمَمُ کَتَدَاعِیْکُمْ عَلٰی قَصْعَۃِ الطَّعَامِ یُصِیْبُوْنَ مِنْہُ؟)) قَالَ ثَوْبَانُ: بِاَبِیْ وَاُمِّیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قِلَّۃٌ بِنَا؟ قَالَ: ((لَا، اَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیْرٌ، وَلٰکِنْ یُلْقٰی فِیْ قُلُوْبِکُمُ الْوَھَنُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الْوَھَنُ؟ یَارَسُوْلُ اللہ! قَالَ: ((حُبُّکُمُ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَتُکُمْ لِلْقِتَالِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے ثوبان! اس وقت تمہارا کیا بنے گا، جب دوسری امتوں کے لوگ تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گے، جیسے تم کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیںَ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تمھاری بہت زیادہ تعداد ہو گی، دراصل تمھارے دلوں میں وہنڈال دیا جائے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہن کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا کی محبت اور جہاد کی کراہیت کو وہن کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10075

۔ (۱۰۰۷۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّـۃُ الْکَافِرِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10076

۔ (۱۰۰۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَسَنَتُہُ، فَاِذَا فَارَقَ الدُّنْیَا فَارَقَ السِّجْنَ وَالسَّنَۃَ۔)) (مسند احمد: ۶۸۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا مؤمن کے لیے قیدخانہ اور قحط سالی ہے، جب وہ دنیا سے جدا ہوتا ہے تو وہ قید خانے اور قحط سالی سے الگ ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10077

۔ (۱۰۰۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَسَنَتُہُ، فَاِذَا فَارَقَ الدُّنْیَا فَارَقَ السِّجْنَ وَالسَّنَۃَ۔)) (مسند احمد: ۶۸۵۵)
۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تمہیں غربت و افلاس کا ڈر ہے، کیا تمہاری پریشانی دنیا ہے، پس بیشک اللہ تعالیٰ تم پر فارس اور روم کی سلطنتیں تمہارے لیے فتح کروانے والا ہے، دنیا تم پر اس طرح بہہ پڑے گیکہ کوئی چیز تم کو گمراہ کرنے والی نہیں ہو گی، مگر یہی دنیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10078

۔ (۱۰۰۷۸)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَتْ نَاقَۃُرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُسَمَّی الْعَضْبَائَ وَکَانَتْ لَا تُسْبَقُ، فَجَائَ اَعْرَابِیٌّ عَلٰی قَعُوْدٍ فَسَبَقَھَا فَشَقَّ ذٰلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، فلَمَّا رَاٰی مَافِیْ وُجُوْھِھِمْ، قَالُوْا: سُبِقَتِ الْعَضْبَائُ فَقَالَ: ((اِنَّ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ لَا یَرْفَعَ شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَا اِلَّا وَضَعَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۳۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک اونٹنی تھا، اس کا نام عضباء تھا، کوئی دوسرا اونٹ اس سے سبقت نہیں لے جا سکتا تھا، پس ایک دن ایک بدّو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس سے آگے گزر گیا،یہ چیز مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے چہروں سے ان کی پریشانی کو محسوس کیا تو اتنے میں انھوں نے خود کہہ دیا کہ عضباء تو پیچھے رہ گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ دنیا میں جس چیز کو بلند کرے گا، اس کو نیچے بھی کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10079

۔ (۱۰۰۷۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدُّنْیَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَہُ وَلَھَا یَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۲۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا اس شخص کا گھر ہے، جس کا کوئی گھر نہیں ہوتا اور وہ آدمی اس کے لیے جمع کرتا ہے، جو عقل سے خالی ہوتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10080

۔ (۱۰۰۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَاۃٍ مَیْتَۃٍ قَدْ اَلْقَاھَا اَھْلُھُا، فَقَالَ: ((وَالّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی اَھْلِھَا۔)) (مسند احمد: ۳۰۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، جس کو اس کے مالکوں نے پھینک دیا تھا، اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی اہمیت اس بکری کی اس کے مالکوں کے ہاں ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی اہمیت اس سے بھی کم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10081

۔ (۱۰۰۸۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِسَخْلَۃٍ جَرْبَائَ قَدْ اَخْرَجَھَا اَھْلُھَا فَقَالَ: ((اَتَرَوْنَ ھٰذِہِ ھَیِّنَۃً عَلٰی اَھْلِھَا؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی اَھْلِھَا۔)) (مسند احمد: ۸۴۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک خارش زدہ بھیڑیا بکری کے بچے کے پاس سے گزرے، اس کے مالکوں نے اس کو گھر سے نکال دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہو گا؟ لوگوںنے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جتنا یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10082

۔ (۱۰۰۸۲)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَی الْعَالِیَۃَ فَمَرَّ بِالسُّوْقِ فَمَرَّ بِجَدْیٍ اَسَکَّ مَیِّتٍ فَتَنَاوَلَہُ فَرَفَعَہُ ثُمَّ قَالَ: ((بِکَمْ تُحِبُّوْنَ اَنَّ ھٰذَا لَکُمْ۔)) قَالُوْا: مَانُحِبُّ اَنَّہُ لَنَا بِشَیْئٍ، وَمَا نَصْنَعُ بِہٖ؟قَالَ: ((بِکَمْتُحِبُّوْنَاَنَّہُلَکُمْ؟)) قَالُوْا: وَاللّٰہِ! لَوْکَانَحَیًّا لَکَانَ عَیْبًا فِیْہِ اَنَّہُ اَسَکُّ، فَکَیْفَ وَھُوَ مَیِّتٌ، قَالَ: ((فَوَاللّٰہِ! لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۹۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالائی علاقے میں تشریف لائے اور وہاں چھوٹے چھوٹے کانوں والے بکری کے ایک مردار بچے کے پاس سے گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بچے کو پکڑا اور بلند کیا اور پھر فرمایا: تم اس کو کتنی قیمت کے عوض لینا چاہو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم اس کے عوض کوئی چیز دینا بھی گوارا نہیں کریں گے، بھلا ہم نے اس کو کیا کرنا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تم اس کو کتنی قیمت کے عوض خریدنا چاہو گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو اس کو اس بنا پر معیوب سمجھا جاتا کہ اس کے کان چھوٹے چھوٹے ہیں، اب تو سرے سے ہے ہی مردہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10083

۔ (۱۰۰۸۳)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((وَاللّٰہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ)! مَاالدُّنْیَا فِیْ الْآخِرَۃِ اِلَّا کَرَجُلٍ وَضَعَ اِصْبَعَہُ فِیْ الْیَمِّ ثُمَّ رَجَعَتْ اِلَیْہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَلْیَنْظُرْ بِمَا یَرْجِعُ اَشَارَ بِالسَّبَابَۃِ وَفِیْلَفْظٍ: یَعْنِیْ اَلَّتِیْ تَلِیْ الْاِبْھَامَ) قَالَ: وَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ: اَشْھَدُ اَنِّیْ کُنْتُ مَعَ الرَّکْبِ الَّذِیْنَ کَانُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ مَرَّ بِمَنْزِلِ قَوْمٍ قَدِ ارْتَحَلُوْا عَنْہُ فَاِذَا سَخْلَۃٌ مَطْرُوُحَۃٌ، فَقَالَ: ((اَتَرَوْنَ ھٰذِہٰ ھَانَتْ عَلٰی اَھْلِھَا حِیْنَ اَلْقَوْھَا؟)) قَالُوْا: مِنْ ھَوَانِھَا عَلَیْھِمْ اَلْقَوْھَا، قَالَ: ((فَوَاللّٰہِ! لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی اَھْلِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸۴)
۔ سیدنا مستورد بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے کہ آدمی اپنی انگلی دریا میں ڈالے اور پھر اس کو باہر نکالے اور دیکھے کہ وہ کتنے پانی کے ساتھ واپس آئی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگشت ِ شہادت کی طرف اشارہ کیا۔ سیدنا مستورد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس قافلے کے ساتھ تھا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قوم کے مقام کے پاس سے گزرے، وہ وہاں سے کوچ کر چکے تھے، وہاں ایک بکری کا بچہ پڑا ہوا تھا، جس کو ان لوگوں نے پھینک دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس کے مالکوں نے اس کو حقیر سمجھ کر ہی چھوڑ دیا ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی اس کی کم اہمیت کی وجہ سے وہ اس کو پھینک گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10084

۔ (۱۰۰۸۴)۔ عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ سُفْیَانَ الْکِلَابِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا ضَحَّاکُ! مَاطَعَامُکَ؟)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اللَّبَنُ وَاللَّحْمُ، قَالَ: ((ثُمَّ یَصِیْرُ اِلٰی مَاذَا؟)) قَالَ: اِلٰی مَا قَدْ عَلِمْتَ؟ قَالَ (النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ): ((فَاِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ضَرَبَ مَایَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۳۹)
۔ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ضحاک! کون سی چیز تمہارا کھانا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ اور گوشت، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: بالآخر یہ کیا بن کر وجود سے نکلتا ہے ؟ انھوں نے کہا: جناب آپ جانتے ہی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک اللہ تعالیٰ نے ابن آدم سے خارج ہونے والی چیز کو دنیا کے لیے بطورِ مثال بیان کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10085

۔ (۱۰۰۸۵)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْیَا، وَاِنْ قَزَّحَہُ وَمَلَّحَہُ فَانْظُرُوْا اِلٰی مَایَصِیْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۵۹)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے کھانے کو دنیا کے لیے بطورمثال بیان کیا گیا ہے، ، اگرچہ کھانا مسالے دار اور نمکین ہو، پس دیکھو کہ وہ (بالآخر) کیا ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10086

۔ (۱۰۰۸۶)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ طَرِیْقِ الْمَدِیْنَۃِ فَرَاٰی قُبَّۃً مِنْ لَبِنٍ، فَقَالَ: ((لِمَنْ ھٰذِہِ؟)) فَقُلْتُ: لِفُلَانٍ، فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّ کُلَّ بَنَائٍ ھَدٌّ عَلٰی صَاحِبِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا مَاکَانَ فِیْ مَسْجِدٍ (اَوْ فِیْ بِنَائِ مَسْجِدِ،شَکَّ اَسْوَدُ) اَوْ اَوْ اَوْ۔)) ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ یَرَھَا فَقَالَ: ((مَافَعَلَتِ الْقُبَّۃُ؟)) قُلْتُ: بَلَغَ صَاحِبَھَا مَا قُلْتَ فَھَدَمَھَا، قَالَ: فَقَالَ: ((رَحِمَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۳۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک راستے میں جا رہا تھا، راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچی اینٹوں کا ایک گنبد دیکھا اور پوچھا: یہ کس کا ہے؟ میں نے کہا: جی،یہ فلاں آدمی کا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! ہر عمارت کو قیامت والے دن اس کے مالک پر گرا دیا جائے گا، مگر وہ جو مسجد کی تعمیر میں لگا دیا جائے، یا پھر فلاں فلاں امور میں۔ بعد میں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اسی راستے سے گزر ہوا تو وہ گنبد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نظر نہ آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اس گنبد کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جب آپ کی بات اس کے مالک تک پہنچی تو اس نے اس کو گرا دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10087

۔ (۱۰۰۸۷)۔ عَنْ قَیْسٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَی خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ نَعُوْدُہُ ھُوَ یَبْنِیْ حَائِطًا لَہُ، فَقَالَ: ((الْمُسْلِمُ یُؤْجَرُ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَا مَا یَجْعَلُ فِیْ ھٰذَا التُّرَابِ۔)) وَقَدِ اکْتَوٰی سَبْعًا فِیْ بَطْنِہِ، وَقَالَ: لَوْ لَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھَانَا، اَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِہٖ (زَادَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ قَالَ: اِنَّ اَصْحَابَنَا الَّذِیْنَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْھُمُ الدُّنْیَا شَیْئًا، وَاِنَّا اَصَبْنَا بَعْدَھُمْ مَا لَا نَجِدُ لَہُ مَوْضِعًا اِلَّا التُّرَابَ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۷۴)
۔ قیس کہتے ہیں: ہم سیدنا خباب بن ارت کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، جبکہ وہ ایک دیوار بنا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کو ہر چیز میں اجر دیا جاتا ہے، ماسوائے اس سرمائے کے، جس کو اس مٹی پر خرچ کرتا ہے۔سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے پیٹ پر سات مقامات پر داغا گیا تھا، انھوں نے کہا: اگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا، پھر انھوں نے کہا: ہمارے بعض ساتھی ایسے تھے کہ وہ دنیا سے چلے گئے، لیکن دنیا ان کے کسی اجر میں کمی نہ کر سکی، جبکہ ہم نے تو ان کے بعد اتنا مال و متاع حاصل کر لیاہے کہ ہم اس کے لیے مٹی کے علاوہ کوئی جگہ ہی نہیں پاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10088

۔ (۱۰۰۸۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ نُصْلِحُ خُصًّالَنَا، فَقَالَ: ((مَاھٰذَا؟)) قُلْنَا: خُصًّا لَنَا وَھٰی فَنَحْنُ نُصْلِحُہُ قَالَ: فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّ الْاَمْرَ اَعْجَلُ مِنْ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۶۵۰۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سے گزرے، جبکہ ہم اپنی ایک جھونپڑی کو مرمت کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: جییہ ہماری چھونپڑی کمزور ہو گئی تھی، اس کی مرمت کر رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک موت کا معاملہ اس سے جلدی آنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10089

۔ (۱۰۰۸۹)۔ عَنْ اُمِّ مُسْلِمٍ الْاَشْجَعِیَّۃِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَاھَا وَھِیَ فِیْ قُّبَّۃٍ، فَقَالَ: ((مَا اَحْسَنَھَا اِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْھَا مَنِیَّۃٌ۔)) قَالَتْ: فَجَعَلْتُ اَتَتَبَّعُھَا۔ (مسند حمد: ۲۸۰۱۲)
۔ سیدہ ام مسلم اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ اپنے ایک گنبد میں تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کتنا خوبصورت ہے، بشرطیکہ اس میں موت نہ ہوتی۔ وہ کہتی ہیں: پھر میں نے اس کی تلاش شروع کر دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10090

۔ (۱۰۰۹۰)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((لَا اَدْرِیْ۔)) فلَمَّا اَتَاہُ جِبْرِیْلُ علیہ السلام قَالَ: ((یَاجِبْرِیْلُ! اَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ حَتّٰی اَسْاَلَ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ، فَانْطَلَقَ جِبْرِیْلُ علیہ السلام ثُمَّ مَکَثَ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَمْکُثَ، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّکَ سَاَلْتَنِیْ اُیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقُلْتُ: لَا اَدْرِیْ اِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: اَسْوَاقُھَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۶۵)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ پھر سیدنا جبریل علیہ السلام ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے جبریل! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی میں نہیں جانتا، لیکن میں اپنے ربّ سے سوال کروں گا، پھر وہ چلے گئے اور جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ٹھہرے رہے، پھر آئے اور کہا: اے محمد! آپ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کون سے مقامات برے ہیں، میں نے جواب دیا تھا کہ میں تو نہیں جانتا، پھر میں نے اپنے ربّ سے سوال کیا کہ کون سے مقامات سے سب سے برے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بازار۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10091

۔ (۱۰۰۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُوْا مَسَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِلَّا اَنْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ اَنْ یُصِیْبَکُمْ مَا اَصَابَھُمْ۔)) وَتَقَنَّعَ بِرِدَائِہِ وَھُوَ عَلَی الرَّحْلِ۔ (مسند احمد: ۵۷۰۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب حجر کے پاس سے گزرنے لگے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کی رہائش گاہوں میں نہ گھسو، مگر اس حال میں کہ تم رو رہے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ جو عذاب ان کو ملا تھا، تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی چادر اوپر اوڑھ لی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10092

۔ (۱۰۰۹۲)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَدَا جَفَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۲۲)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10093

۔ (۱۰۰۹۳)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلَاعَنُوْا بِلَعْنَۃِ اللّٰہِ، وَلَا بِغَضَبِہٖ،وَلَابِالنَّارِ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۴۳۷)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت، اس کے غضب اور آگ کے ساتھ ایک دوسرے پر لعنت نہ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10094

۔ (۱۰۰۹۴)۔ عَنْ جَرْمُوْزِ نِ الْھُجَیْمِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْصِنِیْ، قَالَ: ((اُوْصِیْکَ اَنْ لَا تَکُوْنَ لَعَّانًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۵۴)
۔ سیدنا جرموز ہجیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ لعنت کرنے والا نہ بننا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10095

۔ (۱۰۰۹۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، قَالَ: کَانَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ یُرْسِلُ اِلٰی اُمِّ الدِّرْدَائِ فَتَبِیْتُ عِنْدَ نِسَائِہِ وَیَسْاَلُھَا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَامَ لَیْلَۃً فَدَعَا خَادِمَہُ فَاَبْطَاَتْ عَلَیْہِ فَلَعَنَھَا، فَقَالَت: لَا تَلْعَنْ! فَاِنَّ اَبَا الدَّرْدَائِ حَدَّثَنِیْ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللَّعَّانِیْنَ لَا یَکُوْنُوْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُھْدَائَ وَلَا شُفَعَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۷۹)
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف پیغام بھیجتے، پس وہ ان کی بیویوں کے پاس رات گزارتی اور وہ اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں سوال کرتے، ایک رات کو عبد الملک اٹھا اور اس نے اپنی خادمہ کو بلایا، جب اس نے آنے میں تاخیر کی تو اس نے اس پر لعنت کی، اس پر سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو لعنت نہ کر، کیونکہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک لعنت کرنے والے قیامت والے دن گواہ نہیں ہوں گے اور نہ سفارشی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10096

۔ (۱۰۰۹۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیْسَ بِاللَّعَّانِ، وَلَاالطَّعَّانِ، وَالْفَاحِشِ، وَلَا الْبَـذِیِّ۔)) (مسند احمد: ۳۹۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:نہ مومن طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا اور نہ فحش بکنے والا ہوتا ہے اور نہ زبان درازی کرنے والا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10097

۔ (۱۰۰۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَنْبَغِیْ لِلصِّدِیْقِ اَنْ یَکُوْنَ لَعَّانًا۔)) (مسند احمد: ۸۷۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدیق اور سچے آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10098

۔ (۱۰۰۹۸)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ جَرْوَلِ نِ الْحَضْرَمِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْھُمْ یُکَنَّی اَبَا عُمَیْرٍ اَنَّہُ کَانَ صَدِیْقًا لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، وَاَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ زَارَہُ فِیْ اَھْلِہِ فَلَمْ یَجِدْہُ، قَالَ: فَاسْتَاْذَنَ عَلٰی اَھْلِہِ فَاسْتَسْقٰی، قَالَ: فَبَعَثَتِ الْجَارِیَۃَ تَجِیْئُہُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِیْرَانِ، فَاَبْطَاَتْ فَلَعَنَتْھَا فَخَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ، فَجَائَ اَبُوْ عُمَیْرٍ فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! لَیْسَ مِثْلُکَ یُغَارُ عَلَیْہِ، ھَلَّا سَلَّمْتَ عَلٰی اَھْلِ اَخِیْکَ وَجَلَسْتَ وَاَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلَتُ، فَاَرْسَلَتِ الْخَادِمَ فَاَبْطَاَتْ اِمَّا لَمْ یَکُنْ عِنْدَھُمْ وَاِمَّا رَغِبُوْا فِیْمَا عِنْدَھُمْ فَاَبْطَاَتِ الْخَادِمُ فَلَعَنَتْھَا، وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللَّعْنَۃَ اِلٰی مَنْ وُجِّھَتْ فَاِنْ اَصَابَتْ عَلَیْہِ سَبِیْلًا اَوْ وَجَدَتْ فِیْہِ مَسْلِکًا وَ اِلَّا قَالَتْ : یَا رَبِّ! وُجِّھْتُ اِلٰی فُلَانٍ، فَلَمْ اَجِدْ عَلَیْہِ سَبِیْلًا، وَلَمْ اَجِدْ فِیْہِ مَسْلَکًا فَیُقَال‘ لَھَا: ارْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِئْتِ)) فَخَشِیْتُ اَنْ تَکُوْنَ الْخَادِمُ مَعْذُوْرَۃً فَتَرْجِعَ اللَّعْنَۃُ فَاَکُوْنَ سَبَبَھَا۔)) مسند احمد: ۳۸۷۶)
۔ ابو عمیر سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دوست تھے، ایک دن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ملنے کے لیے اس کے گھر آئے، لیکن وہ گھر پر موجود تھے، پس انھوں نے اس کے گھر والوں سے اجازت طلب کی اور مشروب طلب کیا، اس کی بیوی نے لونڈی کو بھیجا کہ وہ ہمسائیوںسے کوئی مشروب لائے، جب اس نے تاخیر کی اور اس نے اس پر لعنت کی،یہ سن کر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چلے گئے، جب ابو عمیر آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جیسی شخصیتوں پر غیرت نہیں کی جا سکتی، آپ نے ایسے کیوں نہیں کیا کہ اپنے بھائی کے گھر والوں پر سلام کہتے اور ان کے ہاں بیٹھتے اور پانی وغیرہ پیتے؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح ہی کیا تھا، لیکن اصل بات یہ ہے کہ تیری بیوی نے اپنی خادمہ کو بھیجا، اس نے تاخیر کی، ممکن ہے کہ ہمسائیوں کے پاس وہ چیز نہ ہو یا وہ اپنی رغبت کی وجہ سے دینا نہ چاہتے ہوں، اس لیے خادمہ سے تاخیر ہو گئی، جس کی وجہ سے تیری بیوی نے اس پر لعنت کی اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک جب کسی چیز پر لعنت کی جاتی ہے تو اگر اس کو اس چیز پر کوئی گنجائش مل جائے تو ٹھیک، وگرنہ وہ کہتی ہیں: اے میرے ربّ! مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا ہے، لیکن اس میں تو کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی ہے، پس اس کو کہا جاتا ہے: تو جہاں سے آئی ہے، اُدھر ہی لوٹ جا۔ تو میں ڈر گیا کہ خادمہ معذور ہو گی تو لعنت واپس آئے گیاور میں اس کا سبب بن جائوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10099

۔ (۱۰۰۹۹)۔ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَـقَتْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹۸)
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10100

۔ (۱۰۱۰۰)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، رَفَعَ الْحَدِیْثَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَہَ بِشَیْئٍ عُذِّبَ بِہٖ،وَمَنْشَھِدَعَلٰی مُسْلِمٍ (اَوْ قَالَ: مُؤْمِنٍ) بِکُفْرٍ فَھُوَ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ لَعَنَہُ فَھُوَ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَی مِلَّۃٍ غَیْرِ الْاِسْلَامِ کَاذِبًا فَھُوَ کَمَا حَلَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۰۵)
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جس چیز کے ساتھ خود کشی کی، اس کو اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا، جس نے کسی مؤمن اور مسلمان پر کفر کی گواہی دی تو یہ اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا، جس نے اس پر لعنت کی تو وہ بھی اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ اسی طرح ہی ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10101

۔ (۱۰۱۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ حَسَّانَ، اَنَّ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، کَانَ یَاْمُرُ بِالْاَمْرِ فَیْؤُتٰی، فَیُقَالُ: قَدْ فَعَلْنَا کَذَا وَکَذَا، فَیَقُوْلُ : صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ الْاَشْتَرُ: اِنَّ ھٰذَا الَّذِیْ تَقُوْلُ، قَدْ تَفَشَّغَ فِیْ النَّاسِ اَ فَشَیْئٌ عَھِدَہُ اِلَیْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَا عَھِدَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا خَاصَّۃً دُوْنَ النَّاسِ، اِلَّا شَیْئٌ سَمِعْتُہُ مِنْہُ فَھُوَ فِیْ صَحِیْفَۃٍ فِیْ قِرَابِ سَیْفِیْ، قَالَ: فَلَمْ یَزَالُوْا بِہٖحَتّٰی اَخْرَجَ الصَّحِیْفَۃَ، قَالَ: فَاِذَا فِیْھَا: ((مَنْ اَحْدَثَ حَدَثًا اَوْ آوٰی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ والْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ، لَا یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ۔)) قَالَ وَاِذَا فِیْھَا: ((اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۹۵۹)
۔ ابو حسان سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب کوئی حکم دیتے اور اس کو پورا کر کے کہا جاتا کہ ہم لوگوں نے فلاں فلاں کام کر دیا ہے، تو وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے، اشتر نے ان سے کہا: آپ کییہ بات لوگوں میں مشہور ہو گئی ہے، کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کو اس کے بارے میں کوئی وصیت کی تھی؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کسی ایسی خاص چیز کی وصیت نہیں کی، جو دوسرے لوگوں کو نہ کی ہو، ما سوائے اس چیز کے، جو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے اور وہ میری تلوار کے میان میں موجود صحیفے میں ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے اصرار کرنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ انھوں نے صحیفہ نکالا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا: جس نے بدعت ایجاد کی،یا کسی بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور اس کی فرضی عبادت قبول ہو گی نہ نفلی۔ اس میں مزیدیہ حدیث بھی تھی: بیشک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10102

۔ (۱۰۱۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ الطُّفَیْلِ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِیٍّ : اَخْبِرْنَا بِشَیْئٍ اَسَرَّہُ اِلَیْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا اَسَرَّ اِلَیَّ شَیْئًا کَتَمَہُ النَّاسَ، وَلٰکِنْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ، وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ آوٰی مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَیْہِ، وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ غَیَّرَ تُخُوْمَ الْاَرْضِ یَعْنِیْ الْمَنَارَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۵)
۔ ابو طفیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ہمیں اس چیز کے بارے میں بتلاؤ جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف آپ کوعطا کی ہو، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کوئی ایسی راز کی بات نہیں بتلائی، جس کو لوگوں سے چھپایا ہو، البتہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے بدعتی کو جگہ دی، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی لعنت کرے، جس نے زمین کے نشانات کو بدل دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10103

۔ (۱۰۱۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَلٰی رَجُلٍ یَقْتُلُہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص پر اللہ تعالیٰ کا غصہ سخت ہو گیا، جس کو اللہ کا رسول اس کی راہ میں قتل کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10104

۔ (۱۰۱۰۴)۔ قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ، حَدَّثَنِیْ نَصْرُبْنُ عَلِیٍّ وَعُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ(یَعْنِیْ الْقَوَارِیْرِیَّ) قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُُ دَاوٗدَ،عَنْنُعَیْمِ بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ اَبِیْ مَرْیَمَ، عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ امْرَاَۃَ الْوَلِیْدِ بْنِ عُقْبَۃَ اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَت: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ الْوَلِیْدَیَضْرِبُھَا، وَقَالَ نَصْرُبْنُ عَلِیٍّ فِیْ حَدِیْثِہِ: تَشْکُوْہُ، قَالَ: ((قُوْلِیْ لَہُ قَدْ اَجَارَنِیْ۔)) قَالَ عَلِیٌّ: فَلَمْ تَلْبَثْ اِلَّایَسِیْرًا حَتّٰی رَجَعَتْ فَقَالَت: مَازَادَنِیْ اِلَّا ضَرْبًا، فاَخَذَ ھُدْبَۃً مِنْ ثَوْبِہٖفَدَفَعَھَااِلَیْھا، وَقَالَ: ((قولِیْ لَہُ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ اَجَارَنِیْ۔)) فَلَمْ تَلْبَثْ اِلَّا یَسِیْرًا حَتّٰی رَجَعَتْ، فَقَالَت: مَازَادَنِیْ اِلَّا ضَرْبًا، فَرَفَعَ یَدَیْہِ وقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ الْوَلِیْدَ، اَثِمَ بِیْ مَرَّتَیْنِ۔)) وَھٰذَا لَفْظُ حَدِیْثِ الْقَوَارِیْرِیِّ وَمَعَنَاھُمَا وَاحِدٌ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ولید بن عقبہ کی بیوی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ولید مجھے مارتا ہے، اس طرح اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کہو کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دے دی ہے۔ وہ چند دن ٹھہرنے کے بعد پھر آئی اور کہا: اس نے تو میری پٹائی کرنے میں اضافہ ہی کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کپڑے کا جھالر پکڑا اور اس کو دے کر فرمایا: اس کو کہنا کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دی ہے۔ وہ معمولی عرصہ گزارنے کے بعد پھر آگئی اور کہا: اس نے میری مار میں ہی اضافہ کیا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اے اللہ! تو ولید کی گرفت کر، وہ میری وجہ سے دو بار گنہگار ہو چکا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10105

۔ (۱۰۱۰۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَلْعُوْنُ مَنْ سَبَّ اَبَاہُ، مَلْعُوْنٌ مَنْ سَبَّ اُمَّہُ، مَلْعُوْنٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ، مَلْعُوْنٌ مَنْ غَیَّرَ تُخُوْمَ الْاَرْضِ، مَلْعُوْنٌ مَنْ کَمَہَ اَعْمٰی عَنْ طَرِیْقٍ، مَلْعُوْنٌ مَنْ وَقَعَ عَلیٰ بَھِیْمَۃٍ، مَلْعُوْنٌ مَنْ عَمِلَ بِعَمَلِ قَوْمِ لُوْطٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کو گالی دینے والا ملعون ہے، اپنی ماں کو برا بھلا کہنے والا ملعون ہے، غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والا ملعون ہے، زمین کے نشانات کو تبدیل کر دینے والا ملعون ہے، اندھے کو راستے سے بھٹکا دینے والا ملعون ہے، چوپائے سے بد فعلی کرنے والا ملعون ہے اور قوم لوط والا فعل کرنے والا بھی ملعون ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10106

۔ (۱۰۱۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلَیْنِیَتَغَنَّیَانِ وَاَحَدُھُمَا یُجِیْبُ الْآخَــرَ وَھُوَ یَقُوْلُ : لَا یَزَالُ حَوَارِیُّ تَلُوْحُ عِظَامُہُ، زَوَی الْحَرْبَ عَنْہُ اَنْ یُجَنَّ فَیُقْبَرَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْظُرُوْا مَنْ ھُمَا؟)) قَالَ: فَقَالُوْا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ ارْکُسْھُمَا رَکْسًا وَدُعَّھُمَا اِلَی النَّارِ دَعًّا۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۸)
۔ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو افراد کو گاتے ہوئے سنا، وہ ایک دوسرے کا جواب دے رہے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے مددگاروں کی ہڈیاں تو (دفن نہ ہونے کی وجہ سے) نظر آتی رہیں، اس نے اپنے آپ سے لڑائی کے ہٹ جانے کو روک دیا کہ اس کو مٹی کے نیچے چھپا کر دفن کر دیاجاتا۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیکھویہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ فلاں اور فلاں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان کے سر کے بال گرا دے اور دھتکار دے جہنم میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10107

۔ (۱۰۱۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلَیْنِیَتَغَنَّیَانِ وَاَحَدُھُمَا یُجِیْبُ الْآخَــرَ وَھُوَ یَقُوْلُ : لَا یَزَالُ حَوَارِیُّ تَلُوْحُ عِظَامُہُ، زَوَی الْحَرْبَ عَنْہُ اَنْ یُجَنَّ فَیُقْبَرَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْظُرُوْا مَنْ ھُمَا؟)) قَالَ: فَقَالُوْا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ ارْکُسْھُمَا رَکْسًا وَدُعَّھُمَا اِلَی النَّارِ دَعًّا۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میرے ابو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کپڑے پہننے کے لیے چلے گئے، تاکہ مجھے مل سکیں، ابھی تک ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہی تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملعون شخص تم پر ضرور ضرور داخل ہونے والا ہے۔ پس اللہ کی قسم! میں خوفزدہ ہو کر آنے جانے والوں کو دیکھنے لگا، یہاں تک کہ حکم داخل ہوا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10108

۔ (۱۰۱۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُخَنَّثِی الرِّجَالِ الَّذِیْنَیَتَشَبَّھُوْنَ بِالنِّسَائِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ الْمُتَشَبِّھِیْنَ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَبَتِّلِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِیْیَقُوْلُ : لَایَتَزَوَّجُ، وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ، اللَّائِیْیَقُلْنَ ذٰلِکَ، وَرَاکِبَ الْفَلاۃِ وَحْدَہُ، فَاشْتَدَّ عَلٰی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی اسْتَبَانَ ذٰلِکَ فِیْ وُجُوْھِھِمْ وَقَالَ: اَلْبَائِتَ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مخنث مردوں،مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں اور تبتل اختیار کرنے والے ان مردوں اور عورتوں پر لعنت کی ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گے، اور بیابان میں اکیلے سوار پر بھی لعنت کی،یہ باتیں صحابہ پر بڑی گراں گزریں،یہاں تک کہ ان کے چہروں سے واضح ہونے لگا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اکیلا رات گزارنے والابھی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10109

۔ (۱۰۱۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُخَنَّثِی الرِّجَالِ الَّذِیْنَیَتَشَبَّھُوْنَ بِالنِّسَائِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ الْمُتَشَبِّھِیْنَ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَبَتِّلِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِیْیَقُوْلُ : لَایَتَزَوَّجُ، وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ، اللَّائِیْیَقُلْنَ ذٰلِکَ، وَرَاکِبَ الْفَلاۃِ وَحْدَہُ، فَاشْتَدَّ عَلٰی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی اسْتَبَانَ ذٰلِکَ فِیْ وُجُوْھِھِمْ وَقَالَ: اَلْبَائِتَ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو قریب ہے کہ تو ایسے لوگ دیکھے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح اور اس کی لعنت میں شام کریں گے، ان کے ہاتھوں میں گائیوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10110

۔ (۱۰۱۱۰)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ سَعِیْدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُجَیْرٍ، ثَنَا سَیَّارٌ اَنَّ اَبَا اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ذَکَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ فِیْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ۔)) اَوْ قَالَ: ((یَخْرُجُ رِجَالٌ مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ مَعَھُمْ اَسْیَاطٌ کَاَنَّھَا اَذْنَابُ الْبَقَرِ، یَغْدُوْنَ فِیْ سَخَطِ اللّٰہِ، وَیَرُوْحُوْنَ فِیْ غَضَبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۲۵۰۲)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں اس امت میں ایسے افراد ہوں گے کہ ان کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور اس کے غصے میں شام۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10111

۔ (۱۰۱۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَتَّخِذُ عِنْدَکَ عَھْدًا لَنْ تُخْلِفَنِیْہِ، اِنّمَااَنَا بَشَرٌ فاَیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ آذَیْتُہُ اَوْ شَتَمْتُہُ اَوْ جَلَدْتُہُ اَوْ لَعَنْتُہُ، فَاجْعَلْھَا لَہُ صَلَاۃً وَزَکَاۃً وَقُرْبَۃً تُقَرِّبُہُ بِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۱۳۱۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ایک معاہدہ لیتا ہوں، تو نے ہر گز اس کی مخالفت نہیں کرنی، میں صرف اور صرف ایک بشر ہوں، پس جس مؤمن کو میں تکلیف دوں، یا اس کو گالی دوں، یا اس کو کوڑے لگاؤں، یا اس پر لعنت کروں، پس تو اس چیز کو اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور تقرب کا ایسا سبب بنا کہ جس کے ذریعے تو اس کو قیامت کے دن اپنے قریب کر لے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10112

۔ (۱۰۱۱۲)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ اَبِیْ قُرَّۃَ، قَالَ: کَانَ حُذَیْفَۃُ (یَعْنِیْ ابْنَ الْیَمَانِِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) بِالْمَدَائِنِ فَکَانَ یَذْکُرُ اَشْیَائً قَالَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَجَائَ حُذَیْفَۃُ اِلَی سَلْمَانَ فَیَقُوْلُ سَلْمَانُ: یَا حُذَیْفَۃُ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْضَبُ فَیَقُوْلُ وَیَرْضٰی وَیَقُوْلُ، لَقَدْ عَلِمْتُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ فَقَالَ: ((اُیَّمَا رَجُلٍ مِنْ اُمَّتِیْ سَبَبْتُہُ سَبَّۃً فِیْ غَضَبِیْ، اَوْ لَعَنْتُہُ لَعْنَۃً فَاِنّمَا اَنَا مِنْ وُلْدِ آدَمَ اَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُوْنَ، وَاِنّمَا بَعَثَنِیْ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْنَ، فَاجْعَلْھَا صَلَاۃً عَلَیْہِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۲۴۱۰۷)
۔ عمرو بن ابو فرہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدائن میں تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ذکر کردہ احادیث بیان کیا کرتے تھے، جب سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عمرو بن ابو فرہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدائن میں تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ذکر کردہ احادیث بیان کیا کرتے تھے، جب سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10113

۔ (۱۰۱۱۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَفَعَ اِلٰی حَفْصَۃَ اِبْنَۃِ عُمَرَ رَجُلًا، فَقَالَ: احْتَفِظِیْ بِہٖ،قَالَ: فَغَفَلَتْحَفْصَۃُ وَمَضَی الرَّجُلُ، فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((یَاحَفْصَۃُ! مَا فَعَلَ الرَّجُلُ؟)) قَالَتْ: غَفَلْتُ عَنْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَخَرَجَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَطَعَ اللّٰہُ یَدَکِ۔)) فَرَفَعَتْ یَدَیْھَا ھٰکَذَا، فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَاشَاْنُکِ یَا حَفْصَۃُ؟)) فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْتَ قَبْلُ لِیْ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ لَھَا: ((صُفِّیْیَدَیْکِ، فَاِنِّیْ سَاَلْتُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَیُّ اِنْسَانٍ مِنْ اُمَّتِیْ دَعَوْتُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ اَنْ یَجْعَلَھَا لَہُ مَغْفِرَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۵۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے سپرد کیا اور فرمایا: اس کی حفاظت کر کے رکھنا۔ لیکن انھوں نے غفلت برتی اور وہ بندہ نکل گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور فرمایا: حفصہ! اس آدمی کا کیا بنا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے غفلت ہو گئی اور وہ نکل گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں کو کاٹ دے۔ یہ سن کر سیدہ نے اپنے ہاتھ اس طرح بلند کر لیے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہوئی اور پوچھا: حفصہ! تجھے کیا ہو گیا ہے ؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کچھ دیر پہلے مجھے یہ بد دعا دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھوں کو سیدھا کر لے، پس بیشک میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا ہے کہ میں اپنی امت کے جس فرد کو بد دعا دوں، وہ اس کو اس کے لیے بخشش کا ذریعہ بنا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10114

۔ (۱۰۱۱۴)۔ عَنْ ذَکْوَانَ مَوْلیٰ عَائِشَۃَ،عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاَسِیْرٍ فَلَھَوْتُ عَنْہُ فَذَھَبَ فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَافَعَلَ الْاَسِیْرُ؟)) قَالَتْ: لَھَوْتُ عَنْہُ مَعَ النِّسْوَۃِ فَخَرَجَ، فَقَالَ: ((مَالَکِ قَطَعَ اللّٰہُ یَدَکِ اَوْ یَدَیْکِ۔)) فَخَرَجَ فَآذَنَ بِہٖالنَّاسَفَطَلَبُوْہُفَجَائُوْابِہٖفَدَخَلَعَلَیَّ وَاَنَا اُقَلِّبُ یَدَیَّ، فَقَالَ: ((مَالَکِ اَجُنِـنْتِ؟)) قُلْتُ: دَعَوْتَ عَلَیَّ فَاَنَا اُقَلِّبُ یَدَیَّ اَنْظُرُ اَیُّھُمَایُقْطَعَانِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِرَفَعَیَدَیْہِ مَدًّا وقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ بَشَرٌ اَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَاَیُّمَا مُؤْمِنٍ اَوْ مُؤْمِنَۃٍ دَعَوْتُ عَلَیْہِ فَاجْعَلْہُ لَہُ زَکَاۃً وَطُھْرًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۶۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں؛ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قیدی میرے پاس لائے، لیکن میں اس سے غافل ہو گئی اور وہ بھاگ گیا، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو پوچھا: قیدی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جی میں دوسری خواتین کے ساتھ غافل ہو گئی تھی، پس وہ نکل گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں یا پاؤں کو کاٹ دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے گئے اور لوگوں میں اس قیدی کا اعلان کیا، پس انھوں نے اس کو تلاش کیا اور پکڑ کر لے آئے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے، پاگل ہو گئی ہے تو؟ میں نے کہا: جی آپ نے مجھ پر بد دعا کی ہے، اب میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ رہی ہوں کہ کون سا ہاتھ پہلے کٹتا ہے، ہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حمد و ثنا بیان کی اور اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! بیشک میں ایک بشر ہوں اور بشر کی طرح ہی غصے ہو جاتا ہوں، پس میں جس مؤمن مردیا عورت پر بد دعا کروں تو اس کو اس کے لیے پاکیزگی اور طہارت کا سبب بنا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10115

۔ (۱۰۱۱۵)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ اِزَارٍ وَرِدَائٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَبَسَطَ یَدَیْہِ فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ، فَاَیُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِکَ ضَرَبْتُ، اَوْ آذَیْتُ فَـلَا تُعَاقِبْنِیْ بِہٖ۔)) قَالَ: بھزفیہ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۳۰)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چادر اور ازار پہنا ہوا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبلہ رخ ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور یہ دعا کی: اے اللہ! میں ایک بشر ہوں، پس میں تیرے جس بندے کو ماروں یا تکلیف دوں تو تو نے اس کی وجہ سے مجھے سزا نہیں دینی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10116

۔ (۱۰۱۱۶)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِنَّ اَمْدَادَ الْعَرَبِ کَثَرُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی غَمُّوْہُ وَقَامَ الْمُھَاجِرُوْنَ یُفَرِّجُوْنَ عَنْہُ حَتَّی قَامَ عَلٰی عَتَبَۃِ عَائِشَۃَ، فَرَھِقُوْہُ فَاَسْلَمَ رِدَائَہُ فِیْ اَیْدِیْھِمْ، وَوَثَبَ عَلَیالْعَتَبَۃِ فَدَخَلَ وَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلَکَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((کَلَّا وَاللّٰہِ! یَا بِنْتَ اَبِیْ بَکْرٍ! لَقَدِ اشْتَرَطْتُ عَلٰی رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ شَرْطًا لَا خُلْفَ لَہُ۔)) فَقُلْتُ: ((اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ اَضِیْقُ کَمَا یَضِیْقُ بِہٖالْبَشَرُ،فَاَیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ بَدَرَتْ اِلَیْہِ مِنِّیْ بَادِرَۃٌ فَاجْعَلْھَا لَہُ کَـفَّارَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۷۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ عرب اعوان وانصاری اس کثرت سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور اتنا ہجوم ہوا کہ مہاجرین کھڑے ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کشادگی پیدا کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی دہلیز کے پاس کھڑے ہو گئے، پھر وہ اس قدر قریب ہو گئے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی چادر پکڑا دی اور خود جلدی سے دہلیز پر چڑھ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر داخل ہو گئے اور فرمایا: اے اللہ! ان پر لعنت کر۔ سیدہ نے کہا: لوگ تو ہلاک ہو گئے ہیں، (کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعنت کر دی ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اے ابو بکر کی بیٹی! میں نے اپنے ربّ سے ایک شرط لگائی ہے، وہ اس کی مخالفت نہیں کرے گا، میں نے اپنے ربّ سے کہا: میں تو ایک بشر ہی ہوں اور بشر کی طرح ہی تنگ ہو جاتا ہوں، پس جس مؤمن کے حق میں میری طرف سے غصہ کی حالت میں کوئی بات نکل جائے تو اس کو اس کے حق میں کفارہ بنا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10117

۔ (۱۰۱۱۷)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلَانِ فَاَغْلَظَ لَھُمَا وَسَبَّھُمَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمَنْ اَصَابَ مِنْکَ خَیْرًا مَا اَصَابَ ھٰذَانِ مِنْکَ خَیْرًا قَالَتْ: فَقَالَ: ((اَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَھِدْتُ عَلَیْہِ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰھُمَّ اَیُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُہُ اَوْ جَلَدْتُہُ اَوْ لَعَنْتُہُ فَاجْعَلْھَا لَہُ مَغْفِرَۃً وَعَافِیَۃً وَکَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۸۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دو آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر خوب سختی کی اور برا بھلا کہا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے آپ کی طرف سے خیر پائی (یہ تو ٹھیک ہے) لیکن ان بیچاروں کو آپ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ملی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ سے جو معاہدہ کیا ہے، کیا تو اس کو نہیں جانتی، میں نے اپنے ربّ سے کہا: اے اللہ! میں نے جس مؤمن کو برا بھلا کہا، یا کوڑے لگائے، یا لعنت کی تو تو اس کو اس کے حق میں بخشش اور عافیت کا سبب قرار دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10118

۔ (۱۰۱۱۸)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ غَزْوَۃِ تَبُوکَ قَالَ: فَبَلَغَہُ اَنَّ فِیْ الْمَائِ قِلَّۃً الَّذِیْیَرِدُہُ فَاَمَرَ مُنَادِیًا فَنَادٰی فِیْ النَّاسِ اَنْ لَا یَسْبِقْنِیْ اِلَی الْمَائِ اَحَدٌ، فَاَتَی الْمَائَ وَقَدْ سَبَقَہُ قَوْمٌ فَلَعَنَھُمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۸۷)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر نکلے، جب راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا علم ہوا کہ اس پانی میں قلت ہے، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وارد ہونے والے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ کوئی آدمی پانی کی طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سبقت نہ لے جائے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ کچھ افراد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سبقت لے جا چکے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر لعنت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10119

۔ (۱۰۱۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ السَّوَّارِ، عَنْ خَالِہِ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُنَاسٌ یَتْبَعُوْنَہُ، فَاَتَّبَعْتُہُ مَعَھُمْ، قَالَ: فَفَجِئَنِی الْقَوْمُ یَسْعَوْنَ، قَالَ: وَاَبْقَی الْقَوْمُ، قَالَ: فَاَتَی عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَرَبَنِیْضَرْبَۃً،اِمَّا بِعَسِیْبٍ، اَوْ قَضِیْبٍ، اَوْ سِوَاکٍ، اَوْ شَیْئٍ کَانَ مَعَہُ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا اَوْجَعَنِیْ، قَالَ: فَبِتُّ بِلَیْلَۃٍ، قَالَ: وَقُلْتُ: مَاضَرَبَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا لِشَیْئٍ عَلَّمَہُ اللّٰہُ فِیَّ، قَالَ: وَحَدَّثَنِیْ نَفْسِیْ اَنْ آتِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اَصْبَحْتُ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّکَ رَاعٍ لَا تَکْسِرَنَّ قُرُوْنَ رَعِیَّتِکَ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَیَّنَا الْغَدَاۃَ، اَوْ قَالَ: صَبَّحْنَا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اِنَّ اُنَاسًا یَتْبَعُوْنِیْ، وَاِنِّیْ لَا یُعْجِبُنِیْ اَنْ یَتَّبِعُوْنِیْ، اَللّٰھُمَّ فَمَنْ ضَرَبْتُ، اَوْ سَبَبْتُ، فَاجْعَلْھَا لَہُ کَفَّارَۃً وَاَجْرًا، اَوْ قَالَ: مَغْفِرَۃً وَرَحْمَۃًََ۔)) اَوْ کَمَا قَالَ۔(مسند احمد: ۲۲۸۷۷)
۔ ابو سوار اپنے ماموں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک طرف گئے اور کچھ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے چل پڑے، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لوگ جلدی جلدی چل رہے تھے، کچھ افراد پیچھے رہ گئے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک چیزسے ضرب لگائی، وہ کھجور کی شاخ، یا چھڑی،یا مسواک، یا کوئی اور چیز تھی، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے تکلیف تو نہیں دی، لیکن میری وہ رات سوچ و بچار میں ہی گزر گئی، میں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے صرف اس چیز کی وجہ سے مارا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے بارے میں بتلائی ہو گی، پھر مجھے خیال آیا کہ جب صبح ہو گی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤں گا، پس جبریل علیہ السلام یہ پیغام لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئے: بیشک آپ نگہبان ہیں، پس اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑ دینا (یعنی ان کے ساتھ نرمی کرنا)۔ پس جب ہم نے نماز فجر ادا کییا صبح کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10120

۔ (۱۰۱۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی اَبِیْ الطُّفَیْلِ فَوَجَدْتُہُ طَیَّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ: لَاَغْتَنِمَنَّ ذٰلِکَ مِنْہُ، فَقُلْتُ:یَا اَبَا الطُّفَیْلِ! النَّفَرُ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ بَیْنِھِمْ مَنْ ھُمْ؟ فَھَمَّ اَنْ یُخْبِرَنِیْ بِھِمْ، فَقَالَتْ لَہُ امْرَاَتُہُ سَوْدَۃُ: مَہْ یَا اَبَا الطُّفَیْلِ! اَمَا بَلَغَکَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ فَاَیُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ دَعَوْتُ عَلَیْہِ دَعْوَۃً فَاجْعَلْھَا لَہُ زَکَاۃً وَرَحْمَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۰۳)
۔ اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10121

۔ (۱۰۱۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ، قَالَ: کَانَتْ رَاحِلَۃٌ اَوْ نَاقَۃٌ اَوْ بَعِیْرٌ عَلَیْھَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ وَعَلَیْھَا جَارِیَۃٌ فَاَخَذُوْا بَیْنَ جَبَلَیْنِ فَتَضَایَقَ بِھِمُ الطَّرِیْقُ فَاَبْصَرَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَت: حَلْ حَلْ اَللّٰھُمَّ الْعَنْھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَاحِبُ ھٰذِہِ الْجَارِیَۃِ؟ لَا تَصْحَبُنَا رَاحِلَۃٌ اَوْ نَاقَۃٌ اَوْبَعِیْرٌ عَلَیْھَا مِنْ لَعْنَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۰۴)
۔ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک سواری،یا اونٹنی،یا اونٹ پر کچھ بعض افراد کا سامان لدا ہوا تھا اور ایک لونڈی بھی سوار تھی، جب لوگ دو پہاڑوں کے درمیانی راستے میں چلے اور راستہ تنگ ہو گیا تو اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، تو کہا: چل چل، اے اللہ! اس اونٹنی پر لعنت کر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لونڈی کا مالک کون ہے؟ ہمارے ساتھ اس سواری،یا اونٹنی،یا اونٹ کو نہ چلایا جائے، جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کی گئی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10122

۔ (۱۰۱۲۲)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: بَیْنَمَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَعْضِ اَسْفَارِہِ وَاِمْرَاَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ عَلٰی نَاقَۃٍ فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْھَا، فَسَمِعَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذُوْا مَا عَلَیْھَا وَدَعُوْھَا فَاِنَّھَا مَلْعُوْنَۃٌ۔)) قَالَ عِمْرَانُ: فَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْھَا الْآنَ تَمْشِیْ فِیْ النَّاسِ مَا یَعْرِضُ لَھَا اَحَدٌ یَعْنِیْ النَّاقَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۱۱)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی سفر میں تھے، ایک انصاری خاتون ایک اونٹنی پر تھی، اس نے اس کو ڈانٹا اور اس پر لعنت کر دی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات سنی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی پر جو سامان لدا ہوا ہے، وہ اتار لو اور اس کو چھوڑ دو، کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے۔ سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں، وہ لوگوں کے بیچ میں چل رہی تھی اور کوئی بھی اس کے درپے نہیں ہو رہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10123

۔ (۱۰۱۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ یَسِیْرُ فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَۃً فَقَالَ: ((اَیْنَ صَاحِبُ النَّاقَۃِ؟)) فَقَالَ الرَّجُلُ: اَنَا، قَالَ: ((اَخِّرْھَا فَقَدْ اُجِبْتَ فِیْھَا۔)) (مسند احمد: ۹۵۱۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سفر میں چل رہے تھے کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی پر لعنت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی کا مالک کہاں ہے؟ متعلقہ آدمی نے کہا: جی میں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی کو پیچھے کر دے، اس پر کی گئی بددعا قبول کرلی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10124

۔ (۱۰۱۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ الْجَوْزَائِ، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّھَا کَانَتْ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَلَعَنَتْ بَعِیْرًا لَھَا فَامَرَ بِہٖالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُرَدَّ وَقَالَ: ((لَا یَصْحَبُنِیْ شَیْئٌ مَلْعَوْنٌ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَرْکَبِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۴۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، انھوں نے اپنے اونٹ پر لعنت کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ اس اونٹ کو ردّ کر دیا جائے اور فرمایا: ہمارے ساتھ کوئی چیز نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اس پر سوار نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10125

۔ (۱۰۱۲۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، لَعَنَ رَجُلٌ دِیْکًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلْعَنْہُ فَاِنَّہُ یَدْعُوْ اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۶۰)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرغ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آواز نکالی، ایک آدمی نے اس وجہ سے اس پر لعنت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس