Musnad Ahmad

Search Results(1)

168)

168) انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10317

۔ (۱۰۳۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاھْلِیِّ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ وَفّٰی عِدَّۃُ الْاَنْبِیَائِ؟ قَالَ: ((مِائَۃُ اَلْفٍ وَ اَرْبَعَۃٌ وَ عِشْرُوْنَ اَلْفًا، اَلرُّسُلُ مِنْ ذٰلِکَ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ جَمًّا غَفِیْرًا (وَفِیْ لَفْظٍ) ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَبِضْعَۃَ عَشَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۴)
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ، چوبیس ہزار، ان میں تین سو پندرہ رسول تھے، جم غفیر تھا۔ ایک روایت میں ہے: ان میں تین سو چودہ پندرہ رسول تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10318

۔ (۱۰۳۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُخَیِّرُوْا بَیْنَ الْاَنْبِیَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۸۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10319

۔ (۱۰۳۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ یَبْعَثِ اللّٰہُ نَبِیَّنَا اِلَّا بِلُغَۃِ قَوْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۳۹)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ مبعوث فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10320

۔ (۱۰۳۲۰)۔ عَنْ اَوْسِ بْنِ اَبِیْ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَائِ صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۶۲)
۔ سیدنا اوس بن ابی اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر اس چیز کو حرام قرار دیا ہے کہ وہ انبیا کے جسم کھائے، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10321

۔ (۱۰۳۲۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَدِیْثِ الْاِسْرَائِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَائِ الرَّابِعَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ، فَقِیْلَ: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقِیْلَ: وَقَدْ اُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ اُرْسِلَ اِلَیْہِ، فَفُتِحَ الْبَابُ فَاِذَا اَنَا بِاِدْرِیْسَ فَرَحَّبَ بِیْ وَدَعَا لِیْ بِخَیْرٍ، ثُمَّ قَالَ: یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلّ:َ {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا}۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر ہم کو چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جب جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، تو ان سے پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، پس کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کو بلایا گیا ہے، سو دروازہ کھول دیا گیا، پس اچانک میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے حق میں خیر و بھلائی کی دعا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} اور ہم نے اس کو بلند و بالا مقام تک بلند کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10322

۔ (۱۰۳۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُدْعٰی نُوْحٌ علیہ السلام یَوْمَ الْقَیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہُ: ھَلْ بَلَّغْتَ؟ فَیَقُوْلُ : نَعَمْ، فَیُدْعٰی قَوْمُہُ، فَیُقَالُ لَھُمْ: ھَلْ بَلَّغَکُمْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: مَا اَتَانَا مِنْ نَذِیْرٍ اَوْ مَا اَتَانَا مِنْ اَحَدٍ، قَالَ: فَیُقَالُ لِنُوْحٍ: مَنْ یَشْھَدُ َلکَ فَیَقُوْلُ : مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُمَّتُہُ قَالَ: فَذٰلِکَ قَوْلَہُ تَعَالٰی: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَسَطًا} قَالَ: اَلْوَسَطُ اَلْعَدْلُ قَالَ: فَیُدْعَوْنَ فَیَشْھَدُوْنَ لَہُ بِالْبَلَاغِ قَالَ: ثُمَّ اَشْھَدُ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۰۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کو قیامت والے دن بلا کر ان سے کہا جائے گا: کیا تم نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا،یا ہمارے پاس کوئی بھی ایسا آدمی نہیں آیا، پس نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: کون تمہارے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: اور اسی طرح ہم نے تم کو امت ِ وسط بنایا ہے۔ وسط کا معنی انصاف کرنے والے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کو بلایا جائے گا، سو وہ نوح علیہ السلام کے حق میں پیغام پہنچا دینے کی شہادت دیں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر میں تم پر گواہی دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10323

۔ (۱۰۳۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفَوْعًا: ((اِنَّ اَھْلَ الْمَوْقِفِ یَاْتُوْنَ نُوْحًا فَیَقُوْلُوْنَ: یَانُوْحُ! اَنْتَ اَوَّلُ الرُّسُلِ اِلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ وَسَمَّاکَ اللّٰہُ عَبْدًا شَکُوْرًا، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّکَ، اَلَا تَرٰی مَا نَحْنُ فِیْہِ، اِلَا تَرٰی مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَیَقُوْلُ نُوْحٌ: اِنَّ رَبِّیْ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ، وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ، وَاِنَّہُ کَانَتْ لِیْ دَعْوَۃٌ عَلٰی قَوْمِیْ، نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ، اذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میدان حشر والے لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آ کر کہیں گے: اے نوح! آپ اہل زمین کی طرف پہلے رسول تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت شکر گزار بندہ کہا ہے، پس اپنے ربّ کے ہاں ہمارے لیے سفارش تو کر دو، کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس حالت میں ہیں، کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا ہے کہ ہم کس تکلیف میں مبتلا ہیں؟ نوح علیہ السلام کہیں گے: بیشک میرا ربّ آج اتنے غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے اتنے غصے میں آیا تھا اور نہ بعد میں اتنا غصے میں آئے گا، مجھے ایک دعا کا حق تھا، لیکن وہ میں نے اپنی قوم پر پورا کر لیا، ہائے میری جان، میری جان، میری جان، جاؤ تم چلے جاؤ کسی اور کے پاس۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10324

۔ (۱۰۳۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَدِیْثِ الشّفَاعَۃِ اَیْضًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ (یَعْنِیْ نُوْحًا): اِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ اِنِّیْ دَعَوْتُ بِدَعْوَۃٍ اَغْرَقَتْ اَھْلَ الْاَرْضِ وَاِنَّہُ لَا یُھِمُّنِی الْیَوْمَ اِلَّا نَفْسِیْ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما شفاعت والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس نوح علیہ السلام کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا کر لی، جس کی وجہ سے اہل زمین غرق ہو گئے تھے، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10325

۔ (۱۰۳۲۵)۔ حَدَّثَنَا رُوْحٌ مِنْ کِتَابِہٖ،ثَنَاسَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ عَرُوْبَۃَ، عَنْْ قَتَادَۃَ، قَالَ: حَدَّثَ الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَامُ اَبُوْ الْعَرَبِ، وَ یَافِثُ اَبُوْ الرُّوْمِ، وَحَامُ اَبُوْ الْحَبَشِ۔)) وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ مِنْ حِفْظِہِ: وَلَدُ نُوْحٍ ثَلَاثَۃٌ: سَامُ وَ حَامُ وَ یَافِثُ۔(مسند احمد: ۲۰۳۷۵)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عربوں کے باپ سام، رومیوں کے باپ یافث اور حبشیوں کے باپ حام ہیں۔ روح راوی نے بغداد میںاپنے حفظ سے بیان کرتے ہوئے کہا: نوح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے تین بیٹے تھے: سام، حام اور یافث۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10326

۔ (۱۰۳۲۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَّی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْرَابِیٌ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ مِنْ طَیَالِسَۃٍ مَکْفُوْفَۃٌ بِدِیْبَاجٍ اَوْ مَزْرُوْرَۃٌ بِدِیْبَاجٍ، فَقَالَ: اِنَّ صَاحِبَکُمْ ھٰذَا یُرِیْدُ اَنْ یَرْفَعَ کُلَّ رَاعٍ اِبْنِ رَاعٍ، وَ یَضَعَ کُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ! فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُغْضَبًا فاَخَذَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِہِ فَاجْتَذَبَہُ وَ قَالَ: ((لَا اَرٰی عَلَیْکَ ثِیَابَ مَنْ لَا یَعْقِلُ۔)) ثُمَّ رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ فَقَالَ: ((اِنَّ نُوْحًا عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ دَعَا اِبْنَیْہِ فَقَالَ: اِنِّیْ قَاصِرٌ عَلَیْکُمَا الْوَصِیَّۃَ، آمُرُکُمَا بِاِثْنَیْنِ وَاَنْھَاکُمَا عَنِ اثْنَتَیْنِ، اَنْھَاکُمَا عَنِ الشِّرْکِ وَالْکِبْرِ، وَآمُرُکُمَا بِلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَاِنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا فِیْھِمَا لَوْ وُضِعَتْ فِیْ کِفَّۃِ الْخَیْرَاتِ، وَ وُضِعَتْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فِی الْکِفَّۃِ الْاُخْرٰی کَانَتْ اَرْجَحَ، وَلَوْ اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا حَلْقَۃً فَوُضِعَتْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عَلَیْھِمَا لَفَصَمَتْھُمَا اَوْ لَقَصَمَتْھُمَا، وَ آمُرُکُمَا بِسُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ فَاِنَّھَا صَلَاۃُ کُلِّ شَیْئٍ، وَ بِھَا یُرْزَقُ کُلُّ شَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۷۱۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، اس نے سبز شال کا جبہ پہنا ہوا تھا، اس کو ریشم کے ساتھ بند کیا گیا تھا، اس نے کہا : تمہارا یہ ساتھی چاہتا ہے کہ چرواہوں کو بلند کر دیا جائے اور گھڑسواروں کو پست کر دیا جائے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، اس کو سینے والے مقام سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: مجھ تجھ پر بیوقوفوں کا لباس نہ دیکھنے پاؤں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں تم کو وصیت کرنے لگا ہوں، میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے ہی منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نیکیوں والے پلڑے میں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر آسمان اور زمین ایک کڑا ہوتے اور پھر ان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جاتا تو یہ کلمہ ان کو توڑ دیتا اور میں تم کو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ کہنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہیہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10327

۔ (۱۰۳۲۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، لَمَّا مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوَادِیْ عُسْفَانَ حِیْنَ حَجَّ قَالَ: ((یَا اَبَابَکْرٍ اَیُّ وَادٍ ھٰذَا؟)) قَالَ: وَادِیْ عُسْفَانُ قَالَ: ((لَقَدْ مَرَّ بِہٖھُوْدٌ،وَصَالِحٌعَلٰی بَکَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُھَا اللِّیْفُ،اُزُرُھُمُ الْعَبَائُ، وَ اَرْدِیَتُھُمُ النِّمَارُ، یُلَبُّوْنَیُحَجُّوْنَ الْبَیْتَ الْعَتِیْقَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفرِ حج میں وادیٔ عسفان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے ابو بکر! یہ وادی کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: وادیٔ عسفان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام اس وادی کے پاس سے گزرے، وہ سرخ اونٹوں پر سوار تھے، ان کی لگامیں کھجور کے پتوں کی تھیں، ان کے ازار اوڑھنے والی چادر کے تھے، ان کی چادریں دھاری دار تھیں اور وہ اس پرانے گھر کا حج کرنے کے لیے تلبیہ پکارتے ہوئے جا رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10328

۔ (۱۰۳۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَزِیْدَ الْبَکْرِیِّ قَالَ: خَرَجْتُ اَشْکُوْ الْعَلَائَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَرَرْتُ بِالرَّبَذَۃِ فَاِذَا عَجُوْزٌ مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ مُنْقَطِعٌ بِھَا فَقَالَتْ لِیْ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجَۃٌ فَھَلْ اَنْتَ مُبَلِّغِیْ اِلَیْہِ؟ قَالَ: فَحَمَلْتُھَا فَاَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَاِذَا الْمَسْجِدُ غَاصٌّ بِاَھْلِہِ وَ اِذَا رَأْیَۃٌ سَوْدَائُ تَخْفِقُ وَ بِلَالٌ مُتَقَلِّدُ السَّیْفِ بَینیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ: مَا شَاْنُ النَّاسِ؟ قَالُوْا: یُرِیْدُ اَنْ یَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعََاصِ وَجْھًا قَالَ: فَجَلَسْتُ۔ قَالَ: فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ اَوْ قَالَ: رَحْلَہُ فَاسْتَاْذَنْتُ عَلَیْہِ فَاَذِنَ لِیْ فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: ((ھَلْ کَانَ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ بَنِیْ تَمِیْمٍ شَیْئٌ؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَ کَانَتْ لَنَا الدَّبَرَۃُ عَلَیْھِمْ وَ مَرَرْتُ بِعَجُوْزَۃٍ مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ مُنْقَطِعٍ بِھَا فَسَاَلَتْنِیْ اَنْ اَحْمِلَھَا اِلَیْکَ وَ ھَا ھِیَ بِالْبَابِ، فَاَذِنَ لَھَا فَدَخَلَتْ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! اِنْ رَاَیْتَ اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ بَنِیْ تَمِیْمٍ حَاجِزًا فَاجْعَلِ الدَّھْنَائَ، فَحَمِیَتِ الْعَجُوْزُ وَ اسْتَوْفَزَتْ قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِلٰی اَیْنَ تَضْطَرُّ مُضَرَکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اِنّمَا مَثَلِیْ مَا قَالَ الْاَوَّلُ: مِعْزَائُ حَمَلَتْ حَتْفَھَا، حَمَلْتُ ھٰذِہِ وَ لَا اَشْعُرُ اَنَّھَا کَانَتْ لِیْ خَصْمًا، اَعُوْذُ بِاللّٰہِ وَ رَسُولِہِ اَنْ اَکُوْنَ کَوَافِدِ عَادٍ، قَالَ: ((ھِیہْ وَ مَا وَافِدُ عَادٍ؟)) (وَ ھُوَ اَعْلَمُ بِالْحَدِیْثِ مِنْہُ وَ لٰکِنْ یَسْتَطْعِمُہُ) قُلْتُ: اِنَّ عَادًا قَحَطُوْا فَبَعَثُوْا وَافِدًا لَھُمْ یُقَالُ لَہُ قَیْلٌ فَمَرَّ بِمُعَاوِیَۃَ بْنِ بَکْرٍ فَاَقَامَ عِنْدَہُ شَھْرًا یَسْقِیْہِ الْخَمْرَ وَ تُغَنِّیْہِ جَارِیَتَانِیُقَالُ لَھُمَا: الْجَرَادَتَانِ، فَلَمَّا مَضَی الشَّھْرُ خَرَجَ اِلَی جِبَالِ تِھَامَۃَ فَنَادٰی: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ اَنِّیْ لَمْ اَجِیئْ اِلَی مَرِیْضٍ فَاُدَاوِیَہُ، وَ لَا اِلٰی اَسِیْرٍ فَاُفَادِیَہُ، اَللّٰھُمَّ اسْقِ عَادًا مَا کُنْتَ تَسْقِیْہِ، فَمَرَّتْ بِہٖسَحَابَاتٌسُوْدٌفَنُوْدِیَ مِنْھَا اخْتَرْ، فَاَوْمَأَ اِلٰی سَحَابَۃٍ مِنْھَا سَوْدَائَ فَنُوْدِیَ مِنْھَا خُذْھَا رَمَادًا رِمْدَدًا لَا تُبْقِ مِنْ عَادٍ اَحَدًا، قَالَ: فَمَا بَلَغَنِیْ اَنَّہُ بُعِثَ عَلَیْھِمْ مِنَ الرِّیْحِ اِلَّا قَدْرُ مَا یَجْرِیْ فِیْ خَاتِمِیْ ھٰذَا حَتّٰی ھَلَکُوْا، قَالَ اَبُوْ وَائِلٍ: وَصَدَقَ قَالَ: فَکَانَتِ الْمَرْاَۃُ وَ الرَّجُلُ اِذَا بَعَثُوْا وَافِدًا لَھُمْ، قَالُوْا: لَا تَکُنْ کَوَافِدِ عَادٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۵۰)
۔ حارث بن یزید بکری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں علاء بن حضرمی کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوا، جب میں ربذہ مقام سے گزرا تو دیکھا کہ وہاں بنوتمیم کی ایک بڑھیا خاتون تھا، اس کے لیے سفر کے اسباب منقطع ہو چکے تھے، اس نے مجھ سے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی تقاضا ہے، کیا تو مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا سکتا ہے؟ پس میں نے اس کو اپنے ساتھ اٹھا لیا اور مدینہ منورہ پہنچ گئے، وہاں دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی، سیاہ رنگ کا جھنڈا لہرا رہا تھا اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تلوار لٹکا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑے تھے، میں نے کہا: لوگوں کا کیا مسئلہ ہے ؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کسی غزوے میں بھیجنا چاہتے ہیں، پس میں بیٹھ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں داخل ہوگئے، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اجازت دی، پس میں داخل ہوا اور سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کوئی مسئلہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر میں (حارث) نے کہا: ہمارا ان پر غلبہ تھا اور میں بنوتمیم کی ایک بڑھیاں خاتون کے پاس سے گزرا، اس کے سفر کے اسباب منقطع ہو چکے تھے، اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس کو آپ تک پہنچاؤں، اب وہ درروازے پر موجود ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اجازت دی اور وہ اندر آ گئی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان کوئی حد مقرر کرنا چاہتے ہیں تو دہناء مقام کا تعین کر دیں۔ یہ بات سن کر اس بڑھیا کو غیرت آ گئی تو اس نے اتنی باتیں کیں کہ اپنا پورا حق وصول کر لیا، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنے مضر کو کہاں تک مجبور کریں گے؟ اس کی باتیں سن کر میں نے کہا: میری مثال تو وہ ہے، جس کے بارے میں پہلے کسی نے کہا: معزاء نے اپنی موت کو اٹھا رکھا ہے، میں اس بڑھیا کو اٹھا کر لایا، جبکہ مجھے شعور بھی نہیں تھا کہ مجھ سے جھگڑنے لگے گی، میں اس بات سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں عادیوں کے قاصد کی طرح ہو جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ذرا بیان کرو، عادیوں کا قاصد کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اس بات کو زیادہ جانتے تھے، لیکن اب اس سے سننا چاہتے تھے، میں نے کہا: عاد قوم قحط میں مبتلا ہو گئی، انھوں نے قَیل نامی قاصد کو بھیجا، وہ معاویہ بن بکر کے پاس سے گزرا اور ایک ماہ تک اس کے ہاں ٹھہرا، وہ اس کو شراب پلاتا اور اس کے لیے دو لونڈیاں گانے گاتی تھیں، ان لونڈیوں کو جرادتان کہتے تھے، جب ایک ماہ گزر گیا تو وہ آدمی تہامہ کے پہاڑوں کی طرف نکلا اور اس نے یہ آواز دی: اے اللہ! بیشک تو جانتا ہے کہ میں نہ کسی مریض کا دوا دارو کرنے کے لیے آیا ہوں اور نہ کسی قیدی کو چھڑانے آیا ہوں، اے اللہ! تو عادیوں پر وہی بارش نازل فرما، جو تو پہلے نازل کرتا تھا، پس اس کے پاس سے کالے کالے بادل گزرے اور اس سے کہا: ان میں سے ایک بادل کو منتخب کر، اس نے ایک سیاہ رنگ کی بدلی کی طرف اشارہ کیا، پس اس کو آواز دی گئی: اب لے اس کو، یہ تو آگ کے ساتھ ہونے والی ہلاکت ہے، یہ قومِ عاد میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گی، پھر انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ ان پر اتنی ہوا بھیجی گئی، جو میری اس انگوٹھی سے گزر سکتی تھی، لیکن اس سے بھی وہ ہلاک ہو گئے۔ ابو وائل کہتے ہیں: حارث نے سچ کہا، اسی وجہ سے جب کوئی عورت یا مرد اپنا قاصد بھیجتے تھے تو وہ کہتے تھے: قومِ عاد کے قاصد کی طرح نہ ہو جانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10329

۔ (۱۰۳۲۹)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحِجْرِ قَالَ: ((لَا تَسْاَلُوْا الْآیَاتِ وَ قَدْ سَاَلَھَا قَوْمُ صَالِحٍ فَکَانَتْ تَرِدُ مِنْ ھٰذَا الْفَجِّ، وَ تَصْدُرُ مِنْ ھٰذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ فَعَقَرُوْھَا، فَکَانَتْ تَشْرَبُ مَائَ ھُمْ یَوْمًا وَ یَشْرَبُوْنَ لَبَنَھَا یَوْمًا فَعَقَرُوْھَا فَاَخَذَتْھُمْ صَیْحَۃٌ، اَھْمَدَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ تَحْتِ اَدِیْمِ السَّمَائِ مِنْھُمْ اِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا کَانَ فِیْ حَرَمِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) قِیْلَ: مَنْ ھُوَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَبُوْ رِغَالٍ فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ اَصَابَہُ مَا اَصَابَ قَوْمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۰۷)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران قومِ ثمود کے شہر) حجر کے پاس سے گزرے تو فرمایا: معجزات کی طرح کی نشانیوں کا مطالبہ نہ کیا کرو، صالح علیہ السلام کی قوم نے ان کے بارے میں سوال کیا تھا، (پس اونٹنی کی صورت میں ان کا یہ مطالبہ پورا کیا گیا)، وہ ایک راستے سے آتی تھی اور دوسرے راستے سے نکل جاتی تھی، لیکن انھوں نے سرکشی کی اور اس کی کونچیں کاٹ دیں، وہ ایک دن میں ان کا پانی پی جاتی تھی اور وہ ایک دن میں ان کا دودھ پیتے تھے، لیکن انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، اس وجہ سے ایک چیخ ان پر چھا گئی اور اللہ تعالیٰ نے آسمانی کی نچلی سطح کے نیچے والے ان سب کو ہلاک کر دیا، صرف ایک آدمی بچا، وہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں تھا۔ کسی نے کہا: وہ آدمی کون تھا؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ابو رغال تھا، جب حرم سے نکلا تو وہ اسی مصیبت میں مبتلاہو گیا، جس میں اس کی قوم مبتلا ہوئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10330

۔ (۱۰۳۳۰)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اَنَا وَ عَلِیٌّ رَفِیْقَیْنِ فِیْ غَزْوَۃِ ذَاتِ الْعَشِیْرَۃِ فَذَکَرَ قِصَّۃً، وَ ذَکَرَ اَنَّھُمَا نَامَا عَلَی التُّرَابِ، قَالَ: فَیَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَلِیٍّ: ((یَا اَبَا تُرَابٍ!)) لِمَا یَرٰی عَلَیْہِ مِنَ التُّرَابِ، قَالَ: ((اَلَا اُحَدِّثُکُمَا بِاَشْقَی النَاسِ رَجُلَیْنِ ؟)) قَالَ: قُلْنَا: بَلیٰ،یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اُحَیْمِرُ ثَمُوْدَ الَّذِیْ عَقَرَ النَّاقَۃَ وَالَّذِیْیَضْرِبُکَیَا عَلَیُّ! عَلٰی ھٰذِہِ (یَعْنِیْ قَرْنَہُ) حَتّٰی تُبَلَّ مِنْہُ ھٰذِہِ (یَعْنِیْ لِحْیَتَـہُ)۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۱۱)
۔ سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غزوۂ ذت العشیرہ میں رفیق تھے، پھر انھوں نے ایک قصہ بیان کیا، اس میں یہ ذکر بھی تھا کہ وہ دونوں مٹی پر سو گئے، اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اے ابو تراب کی کنیت سے پکارا، کیونکہ ان کے وجود پر مٹی نظر آ رہی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10331

۔ (۱۰۳۳۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ النَّاقَۃَ وَ ذَکَرَ الَّذِیْ عَقَرَھَا فَقَالَ: {اِذِ انْبَعَثَ اَشْقَاھَا …} اِنْبَعَثَ رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِیْزٌ مَنِیعٌ فِیْ رَھْطِہِ مِثْلُ ابْنِ زَمْعَۃَ۔)) ثُمَّ ذَکَرَ النَّسَائَ فَوَعَظَھُمْ فِیْھِنَّ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۲۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطاب کیا اور اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا ذکر کیا اور فرمایا: جب اس قوم کا بدبخت شخص اٹھا، … ایک خبیث، شریر، سردار اور اپنی قوم کا مطاع کھڑا ہوا، جیسے ابن زمعہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کا ذکر کیا اور ان کے متعلق مردوں کو وعظ و نصیحت کی …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10332

۔ (۱۰۳۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوَادِیْ عُسْفَانَ حِیْنَ حَجَّ قَالَ: ((یَا اَبَا بَکْرٍ! اَیُّ وَادٍ ھٰذَا؟)) قَالَ: وَادِیْ عُسْفَانَ، قَالَ: ((لَقَدْ مَرَّ بِہٖھُوْدٌوَصَالِحٌعَلٰی بَکَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُھَا اللِّیْفُ، اُزُرُھُمُ الْعَبَائُ، وَاَرْدِیَتُھُمُ النِّمَارُ، یُلَبُّوْنَیَحُجُّوْنَ الْبَیْتَ الْعَتِیْقَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفرِ حج میں وادیٔ عسفان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے ابو بکر! یہ وادی کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: وادیٔ عسفان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام اس وادی کے پاس سے گزرے، وہ سرخ اونٹوں پر سوار تھے، ان کی لگامیں کھجور کے پتوں کی تھیں،ان کے ازار اوڑھنے والی چادر کے تھے، ان کی چادریں دھاری دار تھیں اور وہ اس پرانے گھر کا حج کرنے کے لیے تلبیہ پکارتے ہوئے جا رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10333

۔ (۱۰۳۳۳)۔ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاسِ عَامَ تَبُوْکَ نَزَلَ بِھِمُ الْحِجْرَ عِنْدَ بُیُوْتِ ثَمُوْدَ، فَاسْتَقَی النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِیْ کَانَ یَشْرَبُ مِنْھَا ثَمْوُدُ، فَعَجَنُوْا مِنْھَا وَنَصَبُوْا الْقُدُوْرَ بِاللَّحْمِ، فَاَمَرَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَھْرَاقُوْا الْقُدُوْرَ، وَعَلَقُوْا الْعَجِیْنَ الْاِبِلَ، ثُمَّ ارْتَحَلَ بھِمْ حَتّٰی نَزَلَ بِھِمْ عَلَی الْبئْرِ الَّتِیْ کَانَتْ تَشْرَبُ مِنْھَا النَّاقَۃُ، وَنَھَاھُمْ اَنْ یَدْخُلُوْا عَلَی الْقَوْمِ الَّذِیْنَ عُذِّبُوْا، قَالَ: ((اِنِّیْ اَخْشٰی اَنْ یُصِیْبَکُمْ مِثْلُ مَااَصَابَھُمْ فَـلَا تَدْخُلُوْا عَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۵۹۸۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تبوک والے سال حجرمقام پر صحابہ سمیت اترے، یہ مقام ثمود کے گھروں کے پاس تھا، لوگوں نے ان کنووں سے پانی لیا، جن سے ثمودی لوگ پانی پیتے تھے، پس انھوں نے اس پانی سے آٹا گوندھا اور ہنڈیوں میں گوشت پکانا شروع کر دیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا، پس انھوں نے ہنڈیاں انڈیل دیں اور آٹا اونٹوں کو کھلا دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں سے کوچ کیا،یہاں تک کہ اس کنویں کے پاس پڑاؤ ڈالا، جس سے اونٹنی پانی پیتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو عذاب دیئے جانے والی قوم کے علاقے میں داخل ہونے سے منع کیا اور فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو اس عذاب میںمبتلا کر دیا جائے، جس میں ان لوگوں کو مبتلا کیا گیا تھا، پس ان پر داخل نہ ہوا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10334

۔ (۱۰۳۳۴)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُوْا اَمَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِلَّا اَنْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ، اَنْ یُصِیْبَکُمْ مَا اَصَابَکُمْ۔)) وَ تَقَنَّعَ بِرِدَائِہِ وَ ھُوَ عَلَی الرَّحْلِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) ((فَاِنْ لَمْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ فَـلَا تَدْخُلُوْا عَلَیْھِمْ، اَنْ یُصِیْبَکُمْ مِثْلُ مَا اَصَابَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب حجر مقام سے گزرے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کے علاقے میں داخل نہ ہو، مگر اس حالت میں کہ تم رو رہے ہو، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو بھی اس عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی چادر اوڑھ لی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار تھے۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم رونے کی حالت میں نہ ہو تو ان پر داخل نہ ہوا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی عذاب میں مبتلا ہو جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10335

۔ (۱۰۳۳۵)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ کَبْشَۃَ الْاَنْمَارِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: لَمَّا کَانَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ تَسَارَعَ النَّاسُ اِلٰی اَھْلِ الْحِجْرِ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَادٰی فِیْ النَّاسِ: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، قَالَ: فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ھُوَ مُمْسِکٌ بَعِیْرَہُ وَ ھُوَ یَقُوْلُ : ((مَا تَدْخُلُوْنَ عَلٰی قَوْمٍ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ۔)) فَنَادَاہُ رَجُلٌ مِنْھُمْ: نَعْجِبُ مِنْھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِِ! قَالَ: ((اَفَـلَا اُنْذِرُکُمْ بِاَعْجَبَ مِنْ ذٰلِکَ؟ رَجُلٌ مِنْ اَنْفُسِکُمْ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کَانَ قَبْلَکُمْ وَ مَا کَانَ ھُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ، فَاسْتَقِیْمُوْا وَسَدِّدُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَعْبَاُ بِعَذَابِکُمْ شَیْئًا، وَ سَیَاْتِیْ قَوْمٌ لَا یَدْفَعُوْنَ عَنْ اَنْفُسِھِمْ بِشَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۲)
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران لوگوں نے (ثمود کی منازل) حِجر کی طرف جلدی کی اور وہ ان میں داخل ہونے لگ گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں میں یہ اعلان کیا: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اونٹ کو روکا ہوا تھا اور فرما رہے تھے: تم ایسی قوم پر کیوں داخل ہوتے ہو، جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا ہے؟ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ان سے تعجب ہوتا ہے، اس لیے ان کے پاس جاتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تم کو اس سے زیادہ تعجب والے معاملہ سے نہیں ڈرایا؟ تم میں ہی ایک آدمی ہے، وہ تم کو ان امور کی بھی خبر دیتا ہے، جو تم سے پہلے گزر گئے ہیں اور ان امور کی بھی، جو تم سے بعد میں ہونے والے ہیں، پس تم سیدھے ہو جاؤ اور راہِ صواب پر چلتے رہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کی پرواہ نہیں کرے گے اور عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو کسی چیز کو اپنے نفسوں سے دفع نہیں کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10336

۔ (۱۰۳۳۶)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَاخَیْرَ الْبَرِیِّۃِِ! فَقَالَ: ((ذَاکَ اِبْرَاھِیْمُ اَبِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۳۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے مخلوق میں سے بہترین؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے باپ ابراہیم تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10337

۔ (۱۰۳۳۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ وُلَاۃً، وَ اِنَّ وَلِیِّ مِنْھُمْ اَبِیْ وَ خَلِیْلُ رَبِّیْ اِبْرَاھِیْمُ، قَالَ: ثُمَّ قَرَاَ {اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرَاھِیْمَ …الخ} الْآیَۃ۔)) (مسند احمد: ۳۸۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ہر نبی کے انبیاء میں سے دوست ہوتے ہیں اور ان میں سے میرے دوست میرے باپ اور میرے ربّ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: بیشک سب لوگوں سے زیادہ ابراہیم سے نزدیک تر وہ لوگ ہیں، جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے۔(سورۂ آل عمران: ۶۸)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10338

۔ (۱۰۳۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَحْنُ اَحَقُّ بِالشَّکِّ مِنْ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اِذْ قَالَ: {رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنْ لِیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ} (مسند احمد: ۸۳۱۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، جب انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے، اس نے کہا: کیا ابھی تک تو ایمان نہیں لایا، ابراہیم نے کہا: جی کیوںنہیں، (میں اس لیے سوال کر رہا ہوں تاکہ) میرا دل مطمئن ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10339

۔ (۱۰۳۳۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُحْشَرُ النَّاسُ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا فَاَوَّلُ مَنْ یُکْسٰی اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، ثُمَّ قَرَاَ {کَمَا بَدَاْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیْدُہُ}۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اس حالت میں اکٹھا کیا جائے گا کہ وہ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون ہوں گے، سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: جیسے ہم نے پہلی تخلیق کی ابتدا کی، ایسے ہی ہم اسے دوبارہ لوٹائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10340

۔ (۱۰۳۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْتَتَنَ اِبْرَاھِیْمُ خَلِیْلُ الرَّحْمٰنِ بَعْدَ مَا اَتَتْ عَلَیْہِ ثَمَانُوْنَ سَنَۃً، وَ اخْتَتَنَ بِالْقَدُوْمِ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رحمن کے خلیل ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی سال کی عمر میں تیشے کے ساتھ ختنہ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10341

۔ (۱۰۳۴۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُصُّ شَارِبَہُ، وَ کَانَ اَبُوْکُمْ اِبْرَاھِیْمُ مِنْ قَبْلِہِ یَقُصُّ شَارِبَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی مونچھیں کاٹتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام اپنی مونچھیں کاٹتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10342

۔ (۱۰۳۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ یَکْذِبُ اِبْرَاھِیْمُ اِلَّا ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ، قَوْلُہُ حِیْنَ دُعِیَ اِلٰی آلِھَتِھِمْ : {اِنِّیْ سَقِیْمٌ} وَ قَوْلُہُ: {فَعَلَہُ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا} وَقَوْلُہُ لِسَارَۃَ: اِنَّھَا اُخْتِیْ، قَالَ: وَدَخَلَ اِبْرَاھِیْمُ قَرْیَۃً فِیْھَا مَلِکٌ مِنَ الْمُلُوْکِ اَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَۃِ، فَقِیْلَ: دَخَلَ اِبْرَاھِیْمُ اللَّیْلَۃَ بِاِمْرَاَۃٍ مِنْ اَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ: فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ الْمَلِکُ اَوِ الْجَبَّارُ: مَنْ ھٰذِہِ مَعَکَ؟ قَالَ: اُخْتِیْ قَالَ: اَرْسِلْ بِھَا، قَالَ: فَاَرْسَلَ بِھَا اِلَیْہِ قَالَ لَھَا: لَا تُکَذِّبِیْ قَوْلِیْ فَاِنِّیْ اَخْبَرْتُہُ اَنَّکِ اُخْتِیْ اِنْ عَلَی الْاَرْضِ مُؤْمِنٌ غَیْرِیْ وَغَیْرُکِ، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَتْ اِلَیْہِ قَامَ اِلَیْھا، قَالَ: فَاَقْبَلَتْ تَوَضَّاُ وَتُصَلِّیْ وَتَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ آمَنْتُ بِکَ وَبِرَسُوْلِکَ وَاَحْصَنْتُ فَرْجِیْ اِلَّا عَلٰی زَوْجِیْ فَـلَا تُسَلِّطْ عَلَیَّ الْکَافِرَ، قَالَ: فَغُطَّ حَتّٰی رَکَضَ بِرِجْلِہِ، قَالَ اَبُوْالزِّنَادِ: قَالَ اَبُوْ سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ اِنْ یَمُتْیُقَلْ ھِیَ قَتَلَتْہُ، قَالَ: فَاُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ اِلَیْھا، فَقَامَتْ تَوَضَّاُ وَتُصَلِّیْ وَ تَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ آمَنْتُ بِکَ وَ بِرَسُوْلِکَ وَ اَحْصَنْتُ فَرْجِیْ اِلَّا عَلٰی زَوْجِیْ فَـلَا تُسَلِّطْ عَلَیَّ الْکَافِرَ، قَالَ: فَغُطَّ حَتّٰی رَکَضَ بِرِجْلِہِ، قَالَ اَبُوْ الزِّنَادِ: قَالَ اَبُوْ سَلَمَۃَ : عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَانھا قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ اِنْ یَمُتْیُقَلْ اِنَّھَا قَتَلَتْہُ، قَالَ: فَاَرْسَلَ، فَقَالَ: فِیْ الثَّالِثَۃِ وَ الرَّابِعَۃِ مَا اَرْسَلْتُمْ اِلَیَّ اِلَّا شَیْطَانًا اِرْجَعُوْھَا اِلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ اَعْطُوْھَا ھَاجَرَ، قَالَ: فَرَجَعَتْ فَقَالَت لِاِبْرَاھِیْمَ: اَشَعَرْتَ اَنْ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، رَدَّ کَیْدَ الْکَافِرِ وَ اَخْدَمَ وَلِیْدَۃً۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے تھے، (۱) جب ان کو ان کی قوم کے باطل معبودوں کی طرف بلایا گیا تو انھوں نے کہا: میں بیمار ہوں، (۲) انھوں نے بتوں کو توڑنے کے بعد کہا: یہ کام تو ان کے بڑے نے کیا ہے اور (۳) انھوں نے اپنی بیوی سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے بارے میں کہا: بیشکیہ تو میری بہن ہے، آخری بات کی تفصیلیہ ہے: ابراہیم علیہ السلام ایک بستی میں داخل ہوئے، اس میں ایک بادشاہ یا کوئی جابر حکمران تھا، اس کو بتلایا گیا کہ آج رات ابراہیم انتہائی خوبصورت عورت کے ساتھ ہماری بستی میں داخل ہوا ہے، اس نے آپ علیہ السلام کو بلا بھیجا اور پھر پوچھا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ آپ نے کہا: یہ میرے بہن ہے، اس نے کہا: اس کو میری طرف بھیج، پس آپ نے ان کو اس طرف بھیجا اور کہا: میری بات کو جھوٹا نہ کرنا، میں اس کو بتلا چکا ہوں کہ تم میری بہن ہو (لہٰذا تم نے بھی اپنے آپ کو میری بہن ظاہر کرنا ہے)، کیونکہ زمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی مؤمن نہیں ہے، پس جب سیدہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ اس پر داخل ہوئیں تو وہ ان کی طرف اٹھا، انھوں نے وضو کر کے نماز ادا کی اور کہا: اے اللہ! اگر تو میرے بارے میں جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور اپنے خاوند کے علاوہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کر۔ پس اس دعا کے اثر سے اس سے دم گھٹنے کی آواز آنے لگی اور وہ پاؤں کو زمین پر مارنے لگ گیا،یہ صورتحال دیکھ کر سیدہ نے کہا: اے اللہ! اگر یہ مرگیا تو کہا جائے گا کہ اس خاتون نے اس کو قتل کر دیا ہے، پس اس کی وہ کیفیت چھٹ گئی اور وہ پھر ان کی طرف کھڑا ہوا، سیدہ نے اس بار پھر وضو کر کے نماز ادا کی اور کہا: اے اللہ! اگر تو میرے بارے میں جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور اپنے خاوند کے علاوہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کر۔ اس بادشاہ کی پھر دم گھٹنے کی آواز آنے لگی اور وہ زمین پر پاؤں مارنے لگا، سیدہ نے کہا: اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو کہا جائے گا کہ اس خاتون نے اس کو قتل کیا ہے، پس اس کیوہ کیفیت چھٹ گئی، اس نے تیسرییا چوتھی بار کہا: تم لوگوں نے تو میری طرف کوئی شیطان بھیجا ہے، اس کو ابراہیم کی طرف لوٹا دو اور اس کو ہاجر دے دو، پس وہ لوٹ آئیں اور ابراہیم علیہ السلام سے کہا: کیا آپ کو پتہ چل گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے مکر کو ردّ کر دیا ہے اور اس نے خدمت کے لیے ایک لونڈی بھی دی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10343

۔ (۱۰۳۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَاقِ، ثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ اَیُوْبَ وَکَثِیْرِ بْنِ کَثِیْرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ اَبِیْ وَدَاعَۃَیَزِیْدُ اَحَدُھُمَا عَلَی الْآخَرِ، عَنْ سَعیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اَوَّلُ مَا اتَّخَذَتِ النِّسَائُ الْمِنْطَقَ مِنْ قَبْلِ اُمِّ اِسْمَاعِیْلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لِتُعْفِیَ اَثَرَھَا عَلٰی سَارَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَحِمَ اللّٰہُ اُمَّ اِسْمَاعِیْلَ لَوْ تَرَکَتْ زَمْزَمَ، اَوْ قَالَ: لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَائِ لَکَانَتْ زَمْزَمُ عَیْنًا مَعِیْنًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاَلْفٰی ذٰلِکَ اُمَّ اِسْمَاعِیْلَ وَھِیَ تُحِبُّ الْاُنْسَ فَنَزَلُوْا، وَ اَرْسَلُوْا اِلٰی اَھْلِیْھم فَنَزَلُوْا مَعَھُمْ۔)) و قَالَ فِیْ حَدِیْثِہِ: ((فَھَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا حَتّٰی اِذَا بَلَغَتِ الْوَادِیَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِھَا، ثُمَّ سَعَتْ سَعْیَ الْاِنْسَانِ الْمَجْھُوْدِ حَتّٰی جَاوَزَتِ الْوَادِیَ، ثُمَّ اَتَتِ الْمَرْوَۃَ فَقَامَتْ عَلَیْھَا وَ َنظَرَتْ ھَلْ تَرٰی اَحَدًا فَلَمْ تَرَ اَحَدًا فَفَعَلَتْ ذٰلِکَ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِذٰلِکَ سَعَی النَّاسُ بَیْنَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۳۲۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: سب سے پہلے جس خاتون نے کمر پر باندھی جانے والی پیٹی استعمال کی، وہ ام اسماعیل تھیں، انھوں نے سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ پر اس کے نشان کو چھپانے کے لیے پیٹی کا اہتمام کیا، پھر انھوں نے بقیہ حدیث ذکر کی اور کہا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرتے، اگر انھوں نے زمزم کو چھوڑ دیا ہوتا ، ایک روایت میں ہے: اگر وہ زمزم سے چلو نہ بھرتیں تو وہ ایک جاری چشمہ ہوتا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز نے ام اسماعیل کو پا لیا کہ وہ مانوسیت کو پسند کرتی تھیں، پس وہ وہاں اتر پڑے اور انھوں نے اپنے اہل کی طرف بھیپیغام بھیجا، سو وہ بھی وہاں آ کر ٹھہر گئے، … …، پس سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ صفا سے اتریں،یہاں تک کہ وادی میں پہنچیں اور اپنی قمیص کا کنارہ اٹھایا، پھر مشقت میں پڑے ہوئے انسان کی طرح دوڑیں،یہاں تک کہ وادی کو عبور کر لیا، پھر وہ مروہ پر آئیں اور اس پر کھڑے ہو کر دیکھا، تاکہ ان کو کوئی آدمی نظر آجائے، لیکن وہ کسی کو نہ دیکھ سکیں، پس انھوں نے سات دفعہ ایسے ہی کیا۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے لوگ صفا مروہ کی سعی کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10344

۔ (۱۰۳۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ اِبْرَاھِیْمَ جَائَ بِاِسْمَاعِیْلَ عَلَیْھِمَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ وَھَاجَرَ فَوَضَعَھَا بِمَکَّۃَ فِیْ مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ ثُمَّ جَائَ تْ مِنَ الْمَرْوَۃِ اِلٰی اِسْمَاعِیْلَ وَقَدْ نَبَعَتِ الْعَیْنُ فَجَعَلَتْ تَفْحَصُ الْعَیْنَ بِیَدِھَا ھٰکَذَا حَتَّی اجْتَمَعَ الْمَائُ مِنْ شَقَّۃٍ ثُمَّ تَاْخُذُ بِقَدَحِھَا فِیْ سِقَائِھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ تَرَکَتْھَا لَکَانَتْ عَیْنًا سَائِحَۃً تَجْرِیْ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۲۲۸۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ، اسماعیل علیہ السلام اور ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کو لے کر آئے اور ان کو مکہ میں زمزم کے مقام پر ٹھہرایا، … …، پھر جب وہ ہاجرہ مروہ سے اسماعیل کے پاس گئیں، تو چشمہ ابل رہا تھا، وہ اپنے ہاتھ سے اس طرح کر کے چشمہ کی جگہ پر زمین کھودنے لگ گئیں،یہاں تک کہ اس گڑھے میںپانی جمع ہو گیا اور وہ پیالے کی مدد سے اپنے مشکیزے میں ڈالنے لگ گئیں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو چھوڑ دیتیں تو وہ قیامت تک بہنے والا چشمہ ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10345

۔ (۱۰۳۴۵)۔ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، ثَنَا اَیُّوْبُ قَالَ: اُنْبِئْتُ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَائَ الْمَلَکُ بِھَا حَتَّی انْتَھٰی اِلٰی مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَضَرَبَ بِعَقِبِہٖفَفَارَتْعَیْنًا فَعَجِلَتِ الْاِنْسَانَۃُ، فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِیْ شَنَّتِھَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَحِمَ اللّٰہُ اُمَّ اِسْمَاعِیْلَ لَوْ لَا اَنَّھَا عَجِلَتْ لَکَانَتْ زَمْزَمُ عَیْنًا مَعِیْنًا۔)) (مسند احمد: ۳۳۹۰)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: پھر فرشتہ سیدہ ہاجرہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کو لے کر آیا،یہاں تک کہ جب زمزم والی جگہ پر پہنچا تو وہاں اپنی ایڑھی ماری، پس اس جگہ سے چشمہ ابل پڑا، اب اس خاتون نے پیالے کی مدد سے پانی کو اپنے مشکیزے میں ڈالنا شروع کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرے، اگر انھوں نے جلدی نہ کی ہوتی تو زمزم جاری چشمہ ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10346

۔ (۱۰۳۴۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ اَخْبَرَہُ اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَمْ تَرَیْ اِلٰی قَوْمِکِ حِیْنَ بَنَوُا الْکَعْبَۃَ اقْتَصَرُوْا عَنْ قَوْاعِدَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَـلَا تَرُدُّھَا عَلٰی قَوَاعِدِ اِبْرَاھِیْمَ؟، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ۔)) قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ: فَوَاللّٰہ!ِ لَئِنْ کَانَتْ عَائِشَۃُ سَمِعْتْ ذَالِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا اُرٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَرَکَ اِسْتَلَامَ الرُّکْنَیْنِ اللَّذَیْنِیَلِیَانِ الْحِجْرَ اِلَّا اَنَّ الْبَیْتَ لَمْ یُتَمَّمْ عَلٰی قَوَاعِدِ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اِرَادَۃَ اَنْیَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ کُلِّہِ مِنْ وَرَائِ قَوَاعِدِ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۳۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کی طرف نہیں دیکھتی، جب انھوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو کیا آپ اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر نہیں کر دیتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تیری قوم نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا (تو میں اس طرح کر دیتا)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اگر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حطیم کی طرف والے کعبہ کے دو کونوں کا استلام اس بنا پر نہیں کیا کہ اس طرف سے کعبہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ لوگ بیت اللہ کا پوری طرح طواف کریں اور ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے پیچھے سے چکر کاٹیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10347

۔ (۱۰۳۴۷)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِیْ الْاَرْضِ اَوَّلُ؟ قَالَ: ((اَلْمَسْجِدُ الْحَرَامُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((اَلْمَسْجِدُ الْاَقْصٰی۔)) قَالَ: قُلْتُ: کَمْ بَیْنَھُمَا؟ قَالَ: ((اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَیْنَمَا اَدْرَکَتْکَ الصَّلَاۃُ فَصَلِّ فَھُوَ مَسْجِدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۱۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی مسجد سب سے پہلے تعمیر کی گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد ِ حرام۔ میں نے کہا: پھر کون سی بنائی گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد اقصی۔ میں نے کہا: ان دو کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چالیس برس۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاں بھی نماز تجھے پا لے تو وہیں نماز ادا کر لے، پس وہی مسجد ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10348

۔ (۱۰۳۴۸)۔ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ، اُمِّ مَنْصُوْرٍ قَالَتْ: اَخْبَرَتْنِیْ اِمْرَاَۃٌ مِنْ بَنِیْ سُلَیْمٍ وَلَدَتْ عَامَّۃَ اَھْلِ دَارِنَا: اَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِلَی عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ وَ قَالَ مَرَّۃً (یَعْنِیْ الرَّاوِیَ عَنْ صَفِیَّۃَ): اَنَّھَا سَاَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَۃَ: لِمَ دَعَاکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: قَالَ لِیْ : ((کُنْتُ رَاَیْتُ قَرْنَیِ الْکَبْشِ حِیْنَ دَخَلَتُ الْبَیْتَ فَنَسِیْتُ اَنْ آمُرَکَ تُخَمِّرُھُمَا فَخَمِّرْھُمَا، فَاِنَّہُ لَا یَنْبَغِیْ اَنْ یَکُوْنَ فِیْ الْبَیْتِ شَیْئٌیَشْغَلُ الْمُصَلِّیَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْکَبْشِ فِیْ الْبَیْتِ حَتَّی اِحْتَرَقَ الْبَیْتُ فَاحْتَرَقَا۔ (مسند احمد: ۱۶۷۵۴)
۔ ام منصور کہتی ہیں: بنو سلیم کی ایک خاتون، ہمارے گھر کی عام اولاد اسی سے تھی، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عثمان بن طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے سیدنا عثمان بن طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کیوں بلایا تھا؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں نے بیت اللہ کے اندر دنبے کے سینگ دیکھے اور تجھے یہ حکم دینا بھول گیا کہ تو ان کو ڈھانپ دے، پس اب ان کو ڈھانپ دے، کیونکہ مناسب نہیں ہے کہ بیت اللہ میں ایسی چیز ہو، جو نمازی کو مشغول کر دے۔ امام سفیان نے کہا: دنبے کے وہ دونوں سینگ بیت اللہ میں موجود رہے، یہاں تک کہ جب بیت اللہ کو آگ لگ گئی تھی تو وہ بھی جل گئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10349

۔ (۱۰۳۴۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَاَیْتُ عِیْسٰی بْنَ مَرْیَمَ، وَ مُوْسَی، وَاِبْرَاھِیْمَ، فَاَمَّا عِیْسٰی فَاَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِیْضُ الصَّدْرِ، وَ اَمَّا مُوْسٰی جَسِیْمٌ۔))، قَالُوْا لَہُ: فَاِبْرَاھِیْمُ؟ قَالَ: ((اُنْظُرُوْا اِلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) یَعْنِیْ نَفْسَہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں عیسی علیہ السلام ، موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، عیسی علیہ السلام کا رنگ سرخ اور بال گھنگریالے تھے اور وہ چوڑے سینے والے تھے، حضرت موسی علیہ السلام دراز قد تھے۔ لوگوں نے کہا: اور ابراہیم علیہ السلام ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ساتھی کو دیکھ لو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد آپ کا اپنا وجود تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10350

۔ (۱۰۳۵۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَنَظَرْتُ اِلٰی اِبْرَاھِیْمَ، فَـلَا اَنْظُرُ اِلٰی اِرْبٍ مِنْ آرَابِہٖاِلَّانَظَرْتُاِلَیْہِ مِنِّیْ کَاَنَّہُ صَاحِبُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۴۶)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، پس میں ان کے جس عضو کو دیکھتا، اس کو اپنے اندر بھی دیکھ لیتا، گویا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے ساتھی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرح ہی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10351

۔ (۱۰۳۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْکَرِیْمَ بْنَ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِیُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلِ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ، وَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَوْ لَبِثْتُ فِیْ السِّجْنِ مَالَبِثَ یُوْسُفُ، ثُمَّ جَائَ نِیَ الدَّاعِی لَاَجَبْتُہُ اِذْ جَائَ الرَسُوْلُ فَقَالَ: {ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللَّاتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِھِنَّ عَلِیْمٌ} وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی لُوْطٍ اِنْ کَانَ لَیَاْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ، اِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ: {لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ} وَ مَابَعَثَ اللّٰہُ مِنْ بَعْدِہِ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا فِیْ ثَرْوَۃٍ مِنْ قَوْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کریم بن کریم بن کریم بن کریمیوسف بن یعقوب بن اسحاق بن خلیل الرحمن ابراہیمh ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں جیل میں اتنا عرصہ ٹھہرتا، جتنا کہ یوسف علیہ السلام ٹھہرے تھے اور پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں فوراً اس کی بات قبول کرتا، لیکنیوسف علیہ السلام نے کہا: تو لوٹ جا اپنے آقا کی طرف اور اس سے ان عورتوں کے بارے میں پوچھ، جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا ربّ ان کے مکر کو جاننے والا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، انھوں نے اپنی قوم سے کہا: کاش کہ مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی قوت ہوتییا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا۔ (سورۂ ہود: ۸۰) ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا، اس کو اس کی قوم کے انبوہ کثیر میں بھیجا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10352

۔ (۱۰۳۵۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَغْفِرُ اللّٰہُ لِلُوْطٍ اِنَّہُ اَوٰی اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۲)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام کو بخش دے، بیشک انہوں نے کسی زبردست کا آسرا پکڑنے کی خواہش کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10353

۔ (۱۰۳۵۳)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَوْمٍ مِنْ اَسْلَمَ وَھُمْ یَتَنَاضَلُوْنَ فِیْ السُّوْقِ، فَقَالَ: ((ارْمُوْا یَا بَنِیْ اِسْمَاعِیْلَ فَاِنَّ اَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا، ارْمُوْا وَ اَنَا مَعَ بَنِیْ فُلَانٍ لِاَحَدِ الْفَرِیْقَیْنِ)) فَاَمْسَکُوْا اَیْدِیَھُمْ، فَقَالَ: ((ارْمُوْا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ نَرْمِیْ وَ اَنْتَ مَعَ بَنِیْ فُلَانٍ؟ قَالَ: ((ارْمُوْا وَ اَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۴۳)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو اسلم کے کچھ لوگوں کے پاس گئے اور وہ بازار میں تیراندازی کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اولادِ اسماعیل! تم تیر اندازی کو، کیونکہ تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا اور میں بنوفلاں کے ساتھ ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد ایک فریق تھا، یہ سن کر دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم تیر اندازی کرو (کیوں رک گئے ہو؟) انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے تیر اندازی کریں، جبکہ آپ بنو فلاں کے ساتھ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10354

۔ (۱۰۳۵۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْکَرِیْمُ بْنُ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِیُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ اِسْحٰقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ۔)) (مسند احمد: ۵۷۱۲)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کریم بن کریم بن کریم بن کریمیوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10355

۔ (۱۰۳۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْکَرِیْمَ بْنَ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِیُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ اِسْحٰقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلِ الرَّحْمٰنِ، وَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَوْ لَبِثْتُ فِیْ السِّجْنِ مَالَبِثَ یُوْسُفُ، ثُمَّ جَائَ نِیْ الدَّاعِیْ لَاَجَبْتُہُ، اِذْ جَائَ ہُ الرَسُوْلُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: {ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللَّاتِیْ قَطَّعْنَ اَیِدِیَھُنَّ اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِھِنَّ عَلِیْمٌ}۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کریم بن کریم بن کریم بن کریمیوسف بن یعقوب بن اسحاق بن خلیل الرحمن ابراہیمR ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں جیل میں اتنا عرصہ ٹھہرتا، جتنا کہ یوسف علیہ السلام ٹھہرے تھے اور پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں فوراً اس کی بات قبول کرتا، جب کہ قاصد یوسف علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے کہا: تو لوٹ جا اپنے آقا کی طرف اور اس سے ان عورتوں کے بارے میں پوچھ، جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا ربّ ان کے مکر کو جاننے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10356

۔ (۱۰۳۵۶)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُعْطِیَیُوْسُفُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ شَطْرَ الْحُسْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۹۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یوسف علیہ السلام کو نصف حسن دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10357

۔ (۱۰۳۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اُرْسِلَ عَلٰی اَیُّوْبَ جَرَادٌ مِنْ ذَھَبٍ فَجَعَلَ یَلْتَقِطُ، فَقَالَ: اَلَمْ اُغْنِکَ یَااَیُّوْبُ! قَالَ: یَارَبِّ! وَ مَنْ یَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِکَ (اَوْ قَالَ:) مِنْ فَضْلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۲۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں گرائی گئیں، انھوں نے ان کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا، اللہ تعالیٰ نے کہا: اے ایوب کیا میں نے تجھے کو غنی نہیں کر دیا؟ انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! بھلا کون تیری رحمت یا تیرے فضل سے سیر ہو سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10358

۔ (۱۰۳۵۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیْنَمَا اَیُّوْبُیَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ جَرَادٌ مِنْ ذَھَبٍ، فَجَعَلَ اَیُّوْبُیَحْثِیْ فِیْ ثَوْبِہٖفَنَادَاہُرَبُّہُ: یَا اَیُّوْبُ! اَ لَمْ اَکُنْ اُغْنِیْکَ عَمَّا تَرٰی؟ قَالَ: بَلٰی،یَا رَبِّ! وَ لٰکِنْ لَا غِنیً بِیْ عَنْ بَرَکَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۱۴۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایوب ننگے ہو کر غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گر پڑیں، انھوں نے ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنا شروع کر دیا، ربّ تعالیٰ نے آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کر دیا، جو تو دیکھ رہا ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے ربّ! لیکن تیری برکتوں سے مجھے کوئی غِنٰی نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10359

۔ (۱۰۳۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ الْعَالِیْۃِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ ابْنُ عَمِّ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَا یَنْبَغِیْ لِعَبْدٍ اَنْ یَقُوْلَ: اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی وَ نَسَبَہُ اِلٰی اِبْیِہِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۷۹)
۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچازاد نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کہا: کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10360

۔ (۱۰۳۶۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ اَنْ یَقُوْل: اِنِّیْ خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتَّی نَسَبَہُ اِلٰی اَبِیْہِ اَصَابَ ذَنْبًا ثُمَّ اجْتَبَاہُ رَبُّہُ۔)) (مسند احمد: ۳۲۵۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا، انھوں نے گناہ کیا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو منتخب کر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10361

۔ (۱۰۳۶۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مََا یَنْبَغِیْ لِنَبِیٍّ اَنْ یَقُوْلَ: اِنِّیْ خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی۔)) قَالَ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: وَحَدَّثَنَا ھَارُوْنُ بْنُ مَعْرُوْفٍ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10362

۔ (۱۰۳۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لِعَبْدٍ)) بَدْلَ ((نَبِیٍّ))۔ (مسند احمد: ۹۲۴۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ……، اس حدیث میں نبی کے الفاظ کے بجائے بندے کا لفظ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10363

۔ (۱۰۳۶۳)۔ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِیْ وَالِدِیْ مُحَمَّدٌ عَنْ اَبِیْہِ سَعْدٍ قَالَ: مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِیْ الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَمَلَاَ عَیْنَیْہِ مِنِّیْ ثُمَّ لَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ السَّلَامَ فَاَتَیْتُ اَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! ھَلْ حَدَثَ فِیْ الْاِسْلَامِ شَیْئٌ؟ مَرَّتَیْنِ، قَالَ: لَا، وَ مَا ذَاکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا،اِلَّا اِنِّیْ مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ آنِفًا فِیْ الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَمَلَاَ عَیْنَیْہِ مِنِّیْ ثُمَّ لَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ السَّلَامَ، قَالَ: فَاَرْسَلَ عُمَرُ اِلَی عُثْمَانَ فَدَعَاہُ فَقَالَ: مَا مَنَعَکَ اَنْ لَّا تَکُوْنَ رَدَدْتَ عَلٰی اَخِیْکَ السَّلاَمَ؟ قَالَ عُثْمَانُ: مَا فَعَلْتُ، قَالَ سَعْدٌ: قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: حَتّٰی حَلَفَ وَحَلَفْتُ، قَالَ: ثُمَّ اِنَّ عُثْمَانَ ذَکَرَ فَقَالَ: بَلٰی وَ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ، اِنَّکَ مَرَرَتَ بِیْ آنِفًا وَ اَنَا اُحَدِّثُ نَفْسِیْ بِکَلِمَۃٍ سَمِعْتُھَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا وَ اللّٰہِ! مَا ذَکَرْتُھَا قَطُّ اِلَّا تَغَشَّی بَصَرِیْ وَ قَلْبِیْ غِشَاوَۃٌ، قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: فَاَنَا اُنَبِّئُکَ بِھَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ لَنَا اَوَّلَ دَعْوَۃٍ ثُمَّ جَائَ اَعْرَابِیٌّ فَشَغَلَہُ حَتّٰی قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتْبَعْتُہُ فَلَمَّا اَشْفَقْتُ اَنْ یَسْبِقَنِیْ اِلٰی مَنْزِلِہِ ضَرَبْتُ بِقَدَمِی الْاَرْضَ فَالْتَفَتَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا اَبُوْ اِسْحَاقَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَمَہْ!)) قَالَ: قُلْتُ: لَا وَاللّٰہِ! اِلَّا اَنَّکَ ذَکَرْتَ لَنَا اَوَّلَ دَعْوَۃٍ ثُمَّ جَائَ ھٰذَا الْاَعْرَابِیُّ فَشَغَلَکَ، قَالَ: ((نَعَمْ، دَعْوَۃُ ذِی النُّوْنِ اِذْ ھُوَ فِیْ بَطْنِ الْحُوْتِ {لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ} فَاِنَّہُ لَمْ یَدْعُ بِھَا مُسْلِمٌ رَبَّہُ فِیْ شَیْئٍ اِلَّا اسْتَجَابَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۲)
۔ سیدنا سعد علیہ السلام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اور میں نے ان کو سلام کہا، لیکن انھوں نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پس میں امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا اسلام میں کوئی چیز نئی ظاہر ہو گئی ہے؟ دو ددفعہ کہا، انھوں نے کہا: جی نہیں، بھلا بات کون سی ہے؟ میں نے کہا: جی کوئی بات نہیں، بس اتنا ضرور ہوا ہے کہ میں ابھی سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرا، ان کو سلام کہا، انھوں نے آنکھ بھر کر مجھے دیکھا، لیکن میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا اور ان سے کہا: کس چیز نے تم کو اپنے بھائی کے سلام کا جواب دینے سے روک دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے تو ایسا کوئی کام نہیں کیا، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیوں نہیں، ایسے ہوا ہے، یہاں تک کہ انھوں نے بھی قسم اٹھا دی اور میں نے بھی قسم کھا لی، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ابھی تم میرے پاس سے گزرے تھے اور میں اپنے دل میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی ایکحدیثیاد کر رہا تھا، نہیں، اللہ کی قسم، میں جب بھی اس حدیث کو یاد کرتا ہوں تو میری آنکھوں اور دل پر ایک پردہ چڑھ جاتا ہے، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں بھی تم کو ایک بات بتلاتا ہوں، ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں یہ بات بتلانا چاہی کہ پہلی دعا، پھر ایک بدّو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مصروف کر دیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے ہو لیا، جب مجھے یہ شبہ ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر کی طرف مجھ سے آگے نکل جائیں گے، تو میں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف توجہ کی اور فرمایا: یہ کون ہے؟ ابو اسحاق ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! کوئی بات نہیں، بس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذکر کیا تھا کہ پہلی دعا، پھر یہ بدّو آ گیا اور اس نے آپ کو مصروف کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ مچھلی والے کیدعا ہے، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انھوں نے یہ دعا کی تھی: {لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ} (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر تو ہی، تو پاک ہے، بیشک میں ظالموں میں سے ہوں)۔ جو مسلمان جس چیز کے لیے ان الفاظ کے ساتھ اپنے ربّ کو پکارے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پکار قبول کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10364

۔ (۱۰۳۶۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا مَرَّ بِثَنِیَّۃِ ھَرْشَائَ حِیْنَ حَجَّ، قَالَ: ((اَیُّ ثَنِیَّۃٍ ھٰذِہِ؟)) قَالُوْا: ثَنِیَّۃُ ھَرْشَائَ، قَالَ: ((کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰییُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی عَلٰی نَاقَۃٍ حَمْرَائَ جَعْدَۃٍ، عَلَیْہِ جُبَّۃٌ مِنْ صُوْفٍ، خِطَامُ نَاقَتِہِ خُلْبَۃٌ (قَالَ: یَعْنِیْ لِیْفًا) وَ ھُوَ یُلَبِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفرِ حج کے دوران ہرشاء گھاٹی کے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کون سی گھاٹی ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گویا میںیونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں، وہ سرخ اور پر گوشت اونٹنی پر سوار ہیں، انھوں نے اون کا جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے پتوں کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10365

۔ (۱۰۳۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ رَجُلٌ مِنَ الْیَھُوْدِ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِیْ اصْطَفَی مُحَمَّدًا عَلَی الْعَالَمِیْنَ، وَ قَالَ الْیَھُوْدِیُّ: وَ الَّذِی اصْطَفَی مُوْسٰی عَلَی الْعَالَمِیْنَ، فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ فَلَطَمَ عَیْنَ الْیَھُوْدِیِّ، فَاَتَی الْیَھُوْدِیُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَ بِذٰلِکَ، فَدَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلَہُ فَاعْتَرَفَ بِذٰلِکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُخَیِّرُوْنِیْ عَلٰی مُوْسٰی فَاِنَّ النَّاسَ یَصْعَقُوْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَاَکُوْنُ اَوَّلَ مَنْ یُفِیْقُ فَاَجِدُ مُوْسٰی مُمْسِکًا بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَمَا اَدْرِیْ اَکَانَ فِیْمَنْ صَعِقَ فَاَفَاقَ قَبْلِیْ اَمْ کَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۵۷۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایکیہودی نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جہانوں پر منتخب کیا،یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو جہانوں پرمنتخب کیا،یہ بات سن کر مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے یہودی کی آنکھ پر تھپڑ دے مارا، یہودی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس جھگڑے کی تفصیل بتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مسلمان سے پوچھا، اس نے اعتراف کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے موسی پر ترجیح نہ دو، پس بیشک لوگ قیامت کے دن بیہوش ہوں گے، سب سے پہلے مجھے افاقہ ہو گا، پس میں موسی علیہ السلام کو اس حال میں پاؤں گا کہ وہ عرش کے پہلو کے ساتھ کھڑے ہوں گے، پس میں نہیں جانتا کہ کیا وہ بھی بیہوش ہوئے تھے اور مجھ سے پہلے ان کو افاقہ ہو گیایا اللہ تعالیٰ نے ان کو مستثنی رکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10366

۔ (۱۰۳۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُخَیِّرُوْا بَیْنَ الْاَنْبِیَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۵۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم انبیائے کرام کے ما بین ترجیح نہ دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10367

۔ (۱۰۳۶۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ قَسْمًا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ: اِنَّ ھٰذِہِ لَقِسْمَۃٌ مَا اُرِیْدَ بِھَا وَجْہُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَاعَدُوَّ اللّٰہِ! اَمَا لَاُخْبِرَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا قُلْتَ، قَالَ: فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاحْمَرَّ وَجْھُہُ، قَالَ: ((ثُمَّ قَالَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی مُوْسٰی فَقَدْ اُوْذِیَ بِاَکْثَرَ مِنْ ھٰذَا فَصَبَرَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۰۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن مال تقسیم کیا، ایک انصاری نے کہا: اس تقسیم سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہیں ہے، میںنے کہا: اے اللہ کے دشمن! میں ضرور ضرور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کی خبر دوں گا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسی علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی تھی، لیکن انھوں نے پھر بھی صبر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10368

۔ (۱۰۳۶۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، مِنْ حَدِیْثِ الْاِسْرَائِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَائِ السَّادِسَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ، فَقِیْلَ: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ اِلَیْہ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ، فَفَتَحَ لَنَا فَاِذَا اَنَا بِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَرَحَّبَ وَدَعَا بِخَیْرٍ (وَفِیْہِ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَاَوْحَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَیَّ مَا اَوْحٰی، وَفَرَضَ عَلَیَّ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ خَمْسِیْنَ صَلاۃً، قَالَ: فَنَزَلْتُ حَتّٰی انْتَھَیْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّکَ عَلٰی اُمَّتِکَ قَالَ قُلْتُ خَمْسِیْنَ صَلٰوۃً فِیْ کِلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ قَالَ ارْجِعْ اِلَی رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ التَّخْفِیْفَ، فَاِنَّ اُمَّتَکَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ فَاِنِّیْقَدْ بَلَوْتُ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ وَخَبَرْتُھُمْ، قَالَ: فَرَجَعْتُ اِلٰی رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَقُلْتُ: اَیْ رَبِّ! خَفِّفْ عَنْ اُمَّتِیْ فَحَطَّ عَنِّیْ خَمْسًا، فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی، فَقَالَ: مَافَعَلْتَ؟ قُلْتُ: حَطَّ عَنِّیْ خَمْسًا، قَالَ: اِنَّ اُمَّتَکَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِاُمَّتِکَ، قَالَ: فَلَمْ اَزَلْ اَرْجِعُ بَیْنَ رَبِّیْ وَبَیْنَ مُوْسٰی وَ یَحُطَّ عَنِّیْ خَمْسًا، حَتّٰی قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! ھِیَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ بِکُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرٌ فَتِلْکَ خَمْسُوْنَ صَلَاۃً، وَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَفْعَلْھَا کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃً، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ عَشْرًا، وَ مَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمََلْھَا لَمْ تُکْتَبْ شَیْئًا، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً، فَنَزَلْتُ حَتَّی انْتَھَیْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَاَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِاُمَّتِکَ فَاِنَّ اُمَّتِکَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَقَدْ رَجَعْتُ اِلٰی رَبِّیْ حَتّٰی لَقَدْ اسْتَحْیَیْتُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر مجھے چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جبریل علیہ السلام نے کھولنے کا مطالبہ کیا، پس کہا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، پھر کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا جا چکا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کی طرف طرف پیغام بھیجا گیا ہے، پس اس نے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا، اچانک میں نے حضرت موسی علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر و بھلائی کی دعا کی، ……، پس اللہ تعالیٰ نے میری طرف جو وحی کرنی تھی، وہ اس نے کی اور مجھ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کیں، واپسی پر جب میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے مجھے کہا: آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹ جائیں اور تخفیف کا سوال کریں، آپ کی امت اتنینمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں بنو اسرائیل کو آزما چکا ہو، پس میں اپنے ربّ کی طرف لوٹا اور کہا: اے میرے ربّ! میری امت پر تخفیف کیجئے، پس اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کر دیں، لیکن پھر جب میں موسی علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو انھوں نے پوچھا: کیا کر کے آئے ہیں؟ میں نے کہا: جی پانچ نمازیں کم کر دی ہیں، انھوں نے کہا: آپ کی امت (۴۵) نمازوں کے عمل کی طاقت نہیں رکھتی، لہٰذا لوٹ جائیں اور اپنے رب سے امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، پس میں اپنے ربّ اور موسی علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا اور اللہ تعالیٰ پانچ پانچ نمازیں کم کرتے رہے، یہاں تک کہ اس نے کہا: اے محمد! ایک دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کا ثواب دس گنا ملے گا، اس لیے گویایہ پچاس نمازیں ہیں، کیونکہ جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اس کو عملاً سر انجام نہیں دیا تو یہ بھی اس کے لیے نیکی ہے، اور جس نے برائی کا ارادہ کیا، لیکن عملاً اس کا ارتکاب نہیں کیا تو اس کے لیے کوئی برائی نہیں لکھی جائے گی، اور جس نے اس کا ارتکاب کر لیا تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جائے گی، پس میں نیچے اترا اور موسی علیہ السلام کے پاس پہنچا اور ان کو ساری تفصیل بتائی، انھوں نے کہا: آپ اپنے ربّ کی طرف پھر لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، کیونکہ تیری امت اس عمل کی بھی طاقت نہیں رکھتی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اتنی بار اپنے ربّ کے پاس جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10369

۔ (۱۰۳۶۹)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَیَّ الْاُمَمُ فَرَاَیْتُ النَّبِیَّ وَ مَعَہُ الرَّھْطُ وَالنَّبِیَّ وَ مَعَہُ الرَّجُلُ وَ الرَّجُلَیْنِ، وَ النَّبِیَّ لَیْسَ مَعَہُ اَحَدٌ، اِذْ رُفِعَ لِیْ سَوَادٌ عَظِیْمٌ، فَقُلْتُ: ھٰذِہِ اُمَّتِیْ؟ فَقِیْلَ: ھٰذَا مُوْسٰی وَ قَوْمُہُ، وَ لٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْاُفُقِ، فَاِذَا سَوَادٌ عَظِیْمٌ، ثُمَّ قِیْلَ: انْظُرْ اِلٰی ھٰذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ، فَاِذَا سَوَادٌ عَظِیْمٌ، فَقِیْلَ: ھٰذِہِ اُمَّتُکَ وَ مَعَھُمْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَ لَا عَذَابٍ۔)) فَقَالَ بَعْضُھُمُ: لَعَلَّھُمُ الَّذِیْنَ صَحِبُوْا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ قَالَ بَعْضُھُمْ: لَعَلَّھُمُ الَّذِیْنَ وُلِدُوْا فِیْ الْاِسْلَامِ وَ لَمْ یُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیْئًا قَطُّ، وَ ذَکَرُوْا اَشْیَائً، فَخَرَجَ اِلَیْھِمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ تَخُوْضُوْنِ فِیْہِ؟)) فَاَخْبَرُوْہُ بِمَقَالَتِھِمْ،فَقَالَ: ((ھُمُ الَّذِیْنَ لَا یَکْتَوُوْنَ، وَ لَا یَسْتَرْقُوْنَ، و لَا یَتَطَیَّرُوْنَ، وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) فَقَامَ عُکَاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اَنَا مِنْھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اَنْتَ مِنْھُمْ۔)) ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ فَقَالَ: اَنَا مِنْھُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَبَقَکَ بِھَا عُکَاشَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، پس میں نے کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت، کسی کے ساتھ ایک فرد، کسی کے ساتھ دو افراد اور کسی کے ساتھ کوئی آدمی نہیں دیکھا، اچانک مجھے ایک بڑا لشکر دکھایا گیا، میں نے کہا: یہمیری امت ہے؟ جواب دیا گیا: یہ موسی علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، اب آپ افق کی طرف دیکھیں، اُدھر ایک بڑا لشکر موجود تھا، پھر مجھ سے کہا گیا: اب آپ اس طرف دیکھیں، اُدھر بھی بڑا لشکر موجود تھا، پھر مجھے کہا گیا: یہ آپ کی امت ہے اور اس کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے ہیں، جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ممکن ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہے، کسی نے کہا: ایسے لگتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انھوں نے کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا، دوسرے صحابہ نے مزید آراء کا ذکر بھی کیا، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم کس چیز کے بارے میں غور و خوض کر رہے تھے؟ انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنی باتوں کی خبر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونے والے لوگ وہ ہیں جو نہ داغ لگواتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ برا شگون لیتے ہیں اور وہ صرف اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ بن محصن اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان میں سے ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ان میں سے ہے۔ پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی ان میں سے ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10370

۔ (۱۰۳۷۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِوَادِی الْاَزْرَقِ (یَعْنِیْ حِیْنَ حَجَّ) فَقَالَ: ((اَیُّ وَادٍ ھٰذَا؟)) قَالُوْا: ھٰذَا وَادِی الْاَزْرَقُ، فَقَالَ: ((کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَ ھُوَ ھَابِطٌ مِنَ الثَّنِیَّۃِ، وَ لَہُ جُؤَارٌ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِالتَّلْبِیَّۃِ۔)) حَتّٰی اَتٰی عَلٰی ثَنِیَّۃِ ھَرْشَائَ فَقَالَ: ((اَیُّ ثَنِیَّۃِ ھٰذِہِ؟)) قَالُوْا: ثَنِیَّۃُ ھَرْشَائَ، قَالَ: ((کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰییُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی عَلٰی نَاقَۃٍ حَمْرَائَ جَعْدَۃٍ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ مِنْ صُوْفٍ، خِطَامُ نَاقَتِہِ خُلْبَۃٌ (قَالَ ھُشَیْمٌ: یَعْنِیْ لِیْفًا) وَ ھُوَ یُلَبِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفرِ حج کے دوران وادیٔ ازرق سے گزرے تو پوچھا: یہ وادی کون سی ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ وادیٔ ازرق ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گویا کہ میں موسی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، وہ گھاٹی سے اتر رہے ہیں اور وہ بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے گئے، یہاں تک کہ ہرشاء گھاٹی کے پاس سے گزرے اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کون سی گھاٹی ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گویا میںیونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں، وہ سرخ اور پر گوشت اونٹنی پر سوار ہیں، انھوں نے اون کا جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے پتوں کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10371

۔ (۱۰۳۷۱)۔ وَ عَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَاَیْتُ لِیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ مُوْسٰی بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا کَاَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، وَ رَاَیْتُ عِیْسٰی بْنَ مَرْیَمَ عَلَیْھِمَا السَّلَامُ مَرْبُوْعُ الْخَلْقِ اِلَی الْحُمْرَۃِ وَ الْبَیَاضِ، سَبْطَ الرَّاْسِ، (وَ لَہُ فِیْ رِوَایَۃٍ اُخْرٰی) وَ رَاَیْتُ مُوْسٰی اَسْحَمَ آدَمَ کَثِیْرَ الشَّعْرِ، (قَالَ: حسن) اَلشَّعْرَۃُ شَدِیْدُ الْخَلْقِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے موسی بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ دراز قد آدمی تھے، ان کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، پھر میں نے عیسی بن مریم علیہ السلام کو دیکھا، وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کے بال سیدھے تھے، ایک روایت میں ہے: میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، ، وہ سیاہی نما گندمی رنگ کے اور گھنے بالوں والے تھے۔ حسن راوی نے کہا: ان کے بال سخت تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10372

۔ (۱۰۳۷۲)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُرِضَ عَلَیَّ الْاَنْبِیَائُ، فَاِذَا مُوْسٰی رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ کَاَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْاَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۴۳)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگ رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10373

۔ (۱۰۳۷۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ فَرَاٰی الْیَھُوْدَیَصُوْمُوْنَیَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِیْ تَصُوْمُوْنَ؟)) قَالُوْا: ھٰذَا یَوْمٌ صَالِحٌ، ھٰذَا یَوْمٌ نَجَّی اللّٰہُ فِیْہِ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ مِنْ عَدُوِّھِمْ، قَالَ: فَصَامَہُ مُوْسٰی، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا اَحَقُّ بِمُوْسٰی مِنْکُمْ۔)) فَصَامَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ اَمَرَ بِصَوْمِہِ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم کس مناسبت سے اس دن کا روزہ رکھتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ بڑا اچھا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنو اسرائیل کو ان کے دشمنوں سے نجات دلائی تھی، اس مناسبت سے موسی علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ یعنی موسی علیہ السلام کی موافقت کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ حکم دیا: {فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ} …پس تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔ اس سے پتہ چلا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مطلوب موسی علیہ السلام کی موافقت تھی، نہ کہ یہودیوں کی۔ اس سے یہ اشکال ختم ہو جاتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہودیوں کی مخالفت پسند کرتے تھے، نہ کہ موافقت، شروع شروع میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی تالیفِ قلبی کے لیے ان کی موافقت پسند کرتے تھے، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھایہ اہل کتاب تو کفر پر مصرّ ہیں اور تالیف قلبی سے متأثر نہیں ہو رہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی موافقت چھوڑ دی اور ان کی مخالفت کی طرف مائل ہو گئے، اسی لیے آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10374

۔ (۱۰۳۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ کَانُوْا یَغْتَسِلُوْنَ عُرَاۃً (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی سَوْاَۃِ بَعْضٍ) وَ کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ مِنْہُ الْحَیَائُ وَ السِّتْرُ، وَ کَانَ یَتْسَتِرُ اِذَا اغْتَسَلَ فَطَعَنُوْا فِیْہِ بِعَوْرَۃٍ (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالُوْا: وَاللّٰہِ! مَا یَمْنَعُ مُوْسٰی اَنْ یَغْتَسِلَ مَعَنَا اِلَّا اَنَّہُ آدَرُ) قَالَ: فَبَیْنَمَا نَبِیُّ اللّٰہِ یَغْتَسِلُیَوْمًا وَضَعَ ثِیَابَہُ عَلٰی صَخْرَۃٍ فَانْطَلَقَتِ الصَّخْرَۃُ بِثَیَابِہٖ، فَاَتْبَعَھَا نَبِیُّ اللّٰہِ ضَرْبًا بِعَصَاہُ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: ثَوْبِیْیَاحَجَرُ! ثَوْبِیْیَاحَجَرُ! حَتَی اِنْتَھٰی بِہٖاِلٰی مَلَاٍ مِنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ وَ تَوَسَّطَھُمْ فَقَامَتْ (اَیْ: اَلصَّخْرَۃُ) وَ اَخَذَ نَبِیُّ اللّٰہِ ثِیَابَہُ فَنَظَرُوْا فَاِذَا اَحْسَنُ النَّاسِ خَلْقًا وَ اَعْدَلُھُمْ صُوْرَۃً، فَقَالَتْ بَنُوْ اِسْرَئِیْلَ: قَاتَلَ اللّٰہُ اَفَّاکِی بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ فَکَانَتْ بَرَائَ تَہُ الَّتِیْ بَرَّأَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا۔)) (مسند احمد: ۹۰۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بنو اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ وہ ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی موسی علیہ السلام اس چیز سے حیا اور شرم محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ پردہ کر کے غسل کرتے تھے، لیکن بنو اسرائیل نے اس وجہ سے ان پر ان کی شرمگاہ کے بارے میں طعن کیا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسی کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ ان کے خصیتین پھولے ہوئے ہیں، پس ایک دن اللہ کے نبی نہا رہے تھے اور اپنے کپڑے ایک چٹان پر رکھ دیئے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان کپڑوں سمیت چل پڑی، موسی علیہ السلام بھی اس کے پیچھے ہو لیے، اپنی لاٹھی ماری اور یہ آواز دی: اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، لیکن اتنے میں وہ پتھر بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گیا اور ان کے درمیان جا کر کھڑا ہو گیا، اللہ کے نبی نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، جب انھوں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے خوبصورت تخلیق والا اور سب سے معتدل صورت والا پایا، اس کے بعد بنو اسرائیل نے کہا: اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل کے تہمت لگانے والے افراد کو ہلاک کرے، پس یہی وہ براء ت تھی کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بری کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10375

۔ (۱۰۳۷۵)۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) فَاَخَذَ ثَوْبَہُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا، فَقَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَ اللّٰہِ! اِنَّ بِالْحَجَرِ نَدَبًا سَتَۃً اَوْ سَبْعَۃً ضَرَبَ مُوْسٰی بِالْحَجَرِ۔ (مسند احمد: ۸۱۵۸)
۔ ایک روایت میں ہے: موسی علیہ السلام نے اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنا شروع کر دیا، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! موسی علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے پتھر پر چھ سات نشان تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10376

۔ (۱۰۳۷۶)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قَالَ لِیْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مِنْ اَیْنَ اَقْبَلْتَ؟ قُلْتُ: مِنَ الشَّامِ، قَالَ: فَقَالَ لِیْ: ھَلْ رَاَیْتَ حَجَرَ مُوْسٰی؟ قُلْتُ: وَ مَا حَجَرُ مُوْسٰی؟ قَالَ: اِنَّ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ قَالُوْا لِمُوْسٰی قَوْلًا تَحْتَ ثِیَابِہٖ فِیْ مَذَاکِیْرِہِ قَالَ: فَوَضَعَ ثِیَابَہُ عَلٰی صَخْرَۃٍ وَ ھُوَ یَغْتَسِلُ قَالَ: فَسَعَتْ ثِیَابَہُ قَالَ: فَتَبِعَھَا فِیْ اَثَرِھَا وَ ھُوَ یَقُوْلُ: یَاحَجَرُ! اَلْقِ ثِیَابِیْ، حَتّٰی اَتَتْ بِہٖ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ فَرَاَوْا سَوِیًّا حَسَنَ الْخَلْقِ فَلَجَبَہُ ثَلَاثَ لَجَبَاتٍ فَوَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ لَوْ کُنْتُ نَظَرْتُ لَرَاَیْتُ لَجَبَاتِ مُوْسٰی فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۸۲۸۴)
۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا: جی شام سے، انھوں نے کہا: کیا تم نے موسی علیہ السلام کا پتھر دیکھا ہے؟ میں نے کہا: موسی علیہ السلام کے پتھر سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: بنو اسرائیل نے موسی علیہ السلام کے خصیتین کے معیوب ہونے کے بارے میں کوئی بات کی، ایک دن وہ ایک چٹان پر کپڑے رکھ کر نہانے لگے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان ان کے کپڑوں سمیت دوڑ پڑی، وہ اس کے پیچھے دوڑے اور کہا: اے پتھر! میرے کپڑے پھینک دے، لیکن وہ پتھر بنو اسرئیل کے پاس پہنچ گیا، پس انھوں نے دیکھا کہ وہ بالکل ٹھیک اور خوبصورت تخلیق والے ہیں، پھر موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس پتھر کو اپنی لاٹھی سے تین ضربیں لگائیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر میں اس پتھر کو پا لیتا تو اس میں موسی علیہ السلام کی ضربوں کے نشانات دیکھ لیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10377

۔ (۱۰۳۷۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ: آمَنْتُ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ آمَنَتْ بِہٖبَنُوْااِسْرَائِیْلَ، قَالَ: قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ: یَامُحَمَّدُ! لَوْ رَاَیْتَنِیْ وَ قَدْ اَخَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَدَسَّیْتُہُ فِیْ فِیْہِ مَخَافَۃَ اَنْ تَنَالَہُ الرَّحْمَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب فرعون نے غرق ہوتے وقت کہا: میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، مگر وہی کہ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے، جبریل علیہ السلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے محمد! کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب میںنے سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ کی رحمت اس کو پا لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10378

۔ (۱۰۳۷۸)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَدِیٍّ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، قَالَ: رَفَعَہُ اَحَدُھُمَا اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ جِبْرِیْلَ کَانَ یَدُسُّ فِیْ فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّیْنَ مَخَافَۃَ اَنْ یَقُوْلَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۳۱۵۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جبریل علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10379

۔ (۱۰۳۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّھُمْ خَرَجُوْا عَنْ مَکَّۃَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی حُنَیْنٍ قَالَ: وَ کَانَ لِلْکُفَّارِ سِدَرَۃٌیَعْکِفُوْنَ عِنْدَھَا وَ یُعَلِّقُوْنَ بِھَا اَسْلِحَتَھُمْ، یُقَالُ لَھَا: ذَاتُ اَنْوَاطٍ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَۃٍ خَضَرَائَ عَظِیْمَۃٍ، قَالَ: فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ اَنْوَاطٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُلْتُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ کَمَا قَالَ قَوْمُ مُوْسٰی: {اجْعَلْ لَنَا اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ آلِھَۃٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ} اِنَّھَا لَسُنَنٌ، لَتَرْکَبُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ سُنَّۃً سُنَّۃً۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۴۲)
۔ سیدنا ابو واقد لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مکہ مکرمہ سے حنین کی طرف نکلے، راستے میں کافروں کا بیری کا ایک درخت تھا، وہ اس کے مجاور بنتے اور اس کے ساتھ اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے، اس کو ذات انواط کہا جاتا تھا، راوی کہتے ہیں: پس جب ہم ایک سرسبز اور بڑی بیری کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے ایک ذات انواط بنا دو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کر دی ہے، جو موسی علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی، انھوں نے کہا: تو ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں، بیشک تم جاہل قوم ہو۔ یہ بنی اسرائیل کے طریقے تھے، تم ایک ایک کر کے پہلے والے لوگوں کے سب طریقوں کو اختیار کر لو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10380

۔ (۱۰۳۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْخَبْرُ کَالْمُعَایَنَۃِ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَخْبَرَ مُوْسٰی بِمَا صَنَعَ قَوْمُہُ فِیْ الْعِجْلِ فَلَمْ یُلْقِ الْاَلْوَاحَ، فَلَمَّا عَایَنَ مَاصَنَعُوْا اَلْقَی الْاَلْوَاحَ فَانْکَسَرَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۷)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اطلاع دینا، مشاہدہ کرنے کی طرح نہیں ہے، بیشک جب اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بتلایا کہ اس کی قوم نے بچھڑے کے معاملے میں یہ رویہ اختیار کر لیا ہے، تو انھوں نے تختیاں نہیں پھینکی، لیکن جب انھوں نے خود مشاہدہ کیا تو ان کو پھینک دیا اور وہ ٹوٹ گئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10381

۔ (۱۰۳۸۱)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی بَدْرٍ، خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ، فَاَشَارَ عَلَیْہِ اَبُوْبَکَرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، ثُمَّ اسْتَشَارَھُمْ فَاَشْارَ عَلَیْہِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَسَکَتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ: اِنّمَا یُرِیْدُکُمْ فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ لَانَکُوْنَ کَمَا قَالَتْ بَنُوْا اِسْرَئِیْلَ لِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ : {اذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ} وَ لٰکِنْ وَاللّٰہِ لَوْ ضَرَبْتَ اَکْبَادَ الْاِبِلِ حَتّٰی تَبْلُغَ بَرْکَ الْغِمَادِ لَکُنَّا مَعَکَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴۵)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو باہر تشریف لائے اور لوگوں سے مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشورہ طلب کیا، اس بار سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک رائے دی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، اتنے میں ایک انصاری کھڑا ہوا اور اس نے کہا: انصاریو! حضور ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم سے مخاطب ہیں، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہم اس طرح نہیں ہوں گے، جیسا کہ بنو اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا تھا: تو جا اور تیرا ربّ جائے اور تم دونوں جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اللہ کی قسم ہے، اے اللہ کے رسول! اگر آپ اونٹوں کے جگروں پر مارتے ہوئے سفر کرتے جائیں،یہاں تک کہ برک الغماد تک پہنچ جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10382

۔ (۱۰۳۸۲)۔ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرَقْسَانِیّ،ُ قَالَ الْوَلِیْدُ: حَدَّثنِی الْاَوْزَاعِیُّ وَ قَالَ مُحَمَّدٌ: ثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ اَنَّ الزُّھْرِیَّ حَدَّثَہُ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّہُ تَمَارٰی ھُوَ وَ الْحُـرُّ بْنُ قَیْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِیُّ فِیْ صَاحِبِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ الَّذِیْ سَاَلَ السَّبِیْلَ اِلَی لُقِیِّہِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ھُوَ خَضِرٌ اِذْ مَرَّ بِھِمَا اُبَیُّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَنَادَاہُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: اِنِّیْ تَمَارَیْتُ اَنَا وَ صَاحِبِیْ ھٰذَا فِیْ صَاحِبِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ سَاَلَ السَّبیْلَ اِلٰی لُقِیِّہِ، فَھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ شَاْنَہُ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَیْنَا مُوْسٰی علیہ السلام فِیْ مَلَاٍ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، اِذْ قَامَ اِلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ: ھَلْ تَعْلَمُ اَحَدًا اَعْلَمْ مِنْکَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَاَوْحَی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعالٰی اِلَیْہِ خَضِرٌ، فَسَاَلَ مُوْسٰی علیہ السلام السَّبِیْلَ اِلَی لُقِیِّہِ، وَ جَعَلَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَہُ الْحُوْتَ آیَۃَ، فَقِیْلَ لَہُ اِذَا فَقَدْتَ الْحُوْتَ فَارْجِعْ، وَ کَانَ مِنْ شَاْنِھِمَا مَاقَصَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِیْ کِتَابِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۴۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے حُر بن قیس فزاری کے درمیانیہ مباحثہ ہونے لگا کہ وہ موسی علیہ السلام کا وہ صاحب کون تھا کہ انھوں نے جس سے ملاقات کرنے کے لیے راستے کا سوال کیا تھا، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: وہ خضر علیہ السلام تھے، اتنے میں وہاں سے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گزر ہوا، سیدنا ابن عباس نے ان کو بلایا اور کہا: میرا اور میرے اس دوست کی اس موضوع پر بحث ہو رہی ہے کہ موسی علیہ السلام کا وہ صاحب کون تھا کہ جس سے ملاقات کرنے کے لیے راستہ کا انھوں نے سوال کیا تھا، تو کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی بات بیان کر رہے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہفرماتے ہوئے سنا: موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک گروہ میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے موسی! کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں، جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ خضر ہے، موسی علیہ السلام نے ان کی ملاقات کا راستہ دریافت کیا، جواباً اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے بطور نشانی قرار دیا اور ان سے کہا گیا: جب تو مچھلی کو گم پائے تو لوٹ آنا، پھر ان دونوں کا وہی قصہ پیش آیا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔کہ ان کے اور
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10383

۔ (۱۰۳۸۳)۔ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ عُثْمَانَ، عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُکَیْرٍ النَّاقِدُ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَمْروٍ یَعْنِیْ ابْنَ دِیْنَارٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ: اِنَّ نَوْفًا الشَّامِیَّیَزْعَمُ اَوْ یَقُوْلُ: لَیْسَ مُوْسٰی صَاحِبُ خَضِرٍ مُوْسٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، قَالَ: کَذَبَ نَوْفٌ عَدُوُّ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنَّ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ قَامَ فِیْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ خَطِیْبًا فَقَالُوْا لَہُ: مَنْ اَعْلَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: اَنَا، فَاَوْحَی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَاَلٰی اِلَیْہِ اِنَّ لِیْ عَبْدًا اَعْلَمَ مِنْکَ، قَالَ: رَبِّ فَاَرِنِیْہِ؟ قَالَ: قِیْلَ تَاْخُذْ حُوْتًا فَتَجْعَلُہُ فِیْ مِکْتَلٍ فَحَیْثُمَا فَقَدْتَہُ فَھُوَ ثَمَّ، قَالَ: فَاَخَذَ حُوْتًا فَجَعَلَہُ فِیْ مِکْتَلٍ وَ جَعَلَ ھُوَ وَ صَاحِبُہُ یَمْشِیَانِ عَلَی السَّاحِلِ حَتّٰی اَتَیَا الصَّخْرَۃَ رَقَدَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَ اضْطَرَبَ الْحُوْتُ فِیْ الْمِکْتَلِ فَوَقَعَ فِیْ الْبَحْرِ، فَحَبَسَ اللّٰہُ جِرْیَۃَ الْمَائِ فَاضْطَرَبَ الْمَائُ فَاسْتَیْقَظَ مُوْسٰی فَقَالَ: {لِفَتَاہُ آتِنَا غَدَائَ نَا لَقَدَ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا ھٰذَا نَصَبًا} وَ لَمْ یُصِبِ النَّصَبَ حَتّٰیجَاوَزَ الَّذِیْ اَمَرَہُ اللّٰہُ تَباَرَکَ وَ تَعَالٰی فَقَالَ: {اَرَاَیْتَ اِذْ اَوَیْنَا اِلَی الصَّخْرِۃِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ وَ مَا اَنْسَانِیْہِ اِلَّا الشَّیْطَانُ} { فَارْتَدَّا عَلَیَّ آثَارِھِمَا قَصَصًا} فَجَعَلَا یَقُصَّانِ آثَارَھُمَا {وَاتَّخَذَ سَبِیْلََہُ فِیْ الْبَحْرِ سَرَبًا} قَالَ: اَمْسَکَ عَنْہُ جِرْیَۃَ الْمَائِ فَصَارَ عَلَیْہِ مِثْلُ الطَّاقِ فَکَانَ لِلْحُوْتِ سَرَبًا وَ کَانَ لِمُوْسٰی عَلَیْہِ عَجَبًا حَتَّی انْتَھَیَا اِلَی الصَّخْرَۃِ فَاِذَا رَجُلٌ مُسَجِّیٌ عَلَیْہِ ثَوْبٌ، فَسَلَّمَ مُوْسٰی علیہ السلام ، فَقَالَ: وَ اَنّٰی بِاَرْضِکَ السَّلَامُ، قَالَ: اَنَا مُوْسٰی، قَالَ: مُوْسٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، {اَتَّبِعُکَ عَلَی اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا} قَالَ: یَا مُوْسٰی! اِنِّیْ عَلٰی عِلْمٍ مِنَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی لَا تَعْلَمُہُ، وَ اَنْتَ عَلٰی عِلْمٍ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَّمَکَہُ اللّٰہُ، فَانْطَلَقَا یَمْشِیَانِ عَلَی السَّاحِلِ فَمَرَّتْ سَفِیْنَۃٌ فَعَرَفُوْا الْخَضِرَ فَحُمِلَ بِغَیْرِ نَوْلٍ فَلَمْ یُعْجِبْہُ، وَ نَظَرَ فِیْ السَّفِیْنَۃِ فَاَخَذَ الْقَدُوْمَ یُرِیْدُ اَنْ یَکْسِرَ مِنْھَا لَوْحًا، فَقَالَ: حُمِلْنَا بِغَیْرِ نَوْلٍ وَ تُرِیْدُ اَنْ تَخْرُقَھَا لِتُغْرِقَ اَھْلَھَا {قَالَ اَ لَمْ اَقُلْ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا} قَالَ: اِنِّیْ نَسِیْتُ، وَ جَائَ عُصْفُوْرٌ فَنَقَرَ فِیْ الْبَحْرِ قَالَ الْحَضِرُ: مَا یُنْقِصُ عِلْمِیْ وَ لَا عِلْمُکَ مِنْ عِلْمِ اللّٰہِ تَعَالَی اِلَّا کَمَا یُنْقِصُ ھٰذَا الْعُصْفُوْرُ مِنْ ھٰذَا الْبَحْرِ {فَانْطَلَقَا حَتّٰی اِذَا اَتَیَا اَھْلَ قِرْیَۃٍ اسْْتَطْعَمَا اَھْلَھَا فَاَبَوْا اَنْ یُضَیِّفُوْھُمَا} فَرَاٰی غُلَامًا فَاَخَذَ رَاْسَہُ فَانْتَزَعَہُ فَقَالَ: {اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَکِیَّۃً بِغَیْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُکْرًا، قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَکَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا} قَالَ: سُفْیَانُ: قَالَ عَمْرٌو: وَ ھٰذِہِ اَشَدُّ مِنَ الْاُوْلٰی، قَالَ: فَانْطَلَقَا فَاِذَا جِدَارٌ یُرِیْدُ اَنْ یَنْقَضَّ فَاَقَامَہُ، اَرَانَا سُفْیَانُ بِیَدِہِ فَرَفَعَ یَدَہُ ھٰکَذَا رَفَعًا فَوَضَعَ رَاحَتَیْہِ فَرَفَعَھُمَا لِبَطْنِ کَفَّیْہِ رَفْعًا فَقَالَ: {لَوْ شِئْتَ لَا تَّخَذْتَ عَلَیْہِ اَجْرًا قَالَ ھٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِکَ} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: کَانَتِ الْاَوْلیٰ نِسْیَانًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرْحَمُ اللّٰہُ مُوْسٰی لَوْ کَانَ صَبَرَ حَتّٰییَقُصَّ عَلَیْنَا مِنْ اَمْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۳۱)
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کہا: نوف شامی کا خیال ہے کہ جس موسی کی خضر سے ملاقات ہوئی تھی، وہ بنی اسرائیل والے موسی نہیں ہیں، انھوں نے کہا: اللہ کے دشمن نوف نے جھوٹ بولا ہے، سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک موسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، لوگوں نے ان سے پوچھا: لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے؟ انھوں نے کہا: میں ہوں، اُدھر سے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کر دی کہ میرا ایک بندا تجھ سے زیادہ علم والا ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو پھر وہ مجھے دکھاؤ، ان سے کہا گیا کہ تم ایک مچھلی پکڑو اور اس کو ایک ٹوکرے میں ڈالو، جہاں تم اس کو گم پاؤ گے، تو وہ وہاں ہو گا، پس انھوں نے مچھلی پکڑی اور اس کو ایک ٹوکرے میں رکھا اور انھوں نے اور ان کے ایک ساتھی نے ساحل کی طرف چلنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ وہ ایک چٹان کے پاس پہنچ گئے، موسی علیہ السلام وہاں سو گئے، مچھلی نے ٹوکرے میں حرکت کی اور سمندر میں کود گئی، اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے داخل ہونے والی جگہ کا پانی روک لیا (اور یوں ایک غار سی نظر آنے لگی)، جب پانی مضطرب ہوا تو موسی علیہ السلام بیدار ہو گئے (اور کہیں آگے جا کراپنے نوجوان سے) کہا: لا ہمارا کھانا دے، ہمیں تو اپنے اس سفر سے تھکاوٹ اٹھانی پڑی۔ موسی علیہ السلام نے اس مقام سے آگے گزر کر تھکاوٹ محسوس کی، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا، آگے سے اس نوجوان نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جب کہ ہم چٹان پر ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے، وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا ، دراصل شیطان نے مجھے بھلا دیا۔ چنانچہ وہیں سے وہ اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے واپس لوٹے۔ پس انھوں نے اپنے قدموں کے نشانات کو ڈھونڈنا شروع کر دیا، اور اس مچھلی نے انوکھے طریقہ سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کا چلاؤ روک لیا اور وہ جگہ طاق کی طرح نظر آنے لگی،یہ مچھلی کے لیے انوکھا اور موسی علیہ السلام کے لیےعجیب کام تھا، بہرحال وہ دونوں بالآخر اس چٹان تک پہنچ گئے، مطلوبہ مقام پر پہنچ کر انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی ہے، اس نے کپڑا ڈھانپا ہوا ہے، موسی علیہ السلام نے اس کو سلام کہا، اس نے آگے سے کہا: تیری علاقے میں سلام کیسے آ گیا؟ انھوں نے کہا: میں موسی ہوں، خضر علیہ السلام نے کہا: بنو اسرائیل کا موسی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں آپ کی تابعداری کروں کہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں۔ خضر علیہ السلام نے کہا: اے موسی! بیشک مجھے اللہ کی طرف سے ایسا علم دیا گیا ہے کہ تم اس کو نہیں جانتے اور تم کو اسی کی طرف سے ایسا علم دیا گیا ہے کہ میں اس کیمعرفت نہیں رکھتا، پھر وہ دونوں ساحل پر چل پڑے (اور خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام پر پابندی لگا دی کہ انھوں نے اس سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرنا)، وہاں سے ایک کشتی گزری، انھوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیے، اس لیے ان کو بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا گیا، لیکن اس چیز نے ان کو تعجب میں ڈالا، پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کو دیکھا اور کلہاڑا لے کر اس کی ایک تختی کو توڑنا چاہا، موسی علیہ السلام نے کہا: ان لوگوں نے ہمیں اجرت کے بغیر سوار کر لیا اور اب تم اس کشتی کو توڑ کر سب سواروں کو غرق کرنا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے تو پہلے ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہ کر سکے گا۔ موسی علیہ السلام نے کہا: بیشک میں بھول گیا تھا، پھر ایک پرندہ آیا اور اس نے سمندر سے اپنی چونچ بھری، خضر علیہ السلام نے اس کو دیکھ کر کہا: اے موسی! میرے اور تیرے علم نے اللہ تعالیٰ کے علم میں اتنی کمی کی ہے، جتنی کہ اس پرندے نے اس سمندر میں کی ہے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ وہ دونوں ایک گاؤں والوں کے پاس آ کر ان سے کھانا طلب کیا، لیکن انھوں نے ان کی مہمان داری سے صاف انکار کر دیا۔ نیز خضر علیہ السلام نے وہاں ایک لڑکا دیکھا اور اس کو پکڑ کر اس کا سر اکھاڑ دیا، موسی علیہ السلام نے کہا: کیا تو نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈالا، بیشک تو نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی، انھوں نے کہا: کیا میں نے تم کو نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر ہر گز صبر نہیں کر سکتے۔ عمرو نے اپنی روایت میں کہا: یہ پہلے کام سے زیادہ سخت کام تھا، پھر وہ دونوں چل پڑے، جب خضر علیہ السلام نے دیوار کو گرتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے اس کو سیدھا کر دیا، سفیان راوی نے اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کو اس طرح بلند کیا، پھر اپنی ہتھیلیوں کو رکھا اور پھر ان کو ہتھیلیوں کی اندرونی سمت کی طرف سے بلند کیا، موسی علیہ السلام نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے، اس نے کہا: بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: پہلی بار تو موسی علیہ السلام بھول گئے تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ موسی علیہ السلام پر رحم کرے، کاش وہ صبر کرتے تاکہ وہ ہم پر اپنے مزید معاملات بیان کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10384

۔ (۱۰۳۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَا رَجُلٌ یَمْشِیْ بَیْنَ بُرْدَیْنِ مُخْتَالًا خَسَفَ اللّٰہُ بِہٖالْاَرْضَ،فَھُوَیَتَجَلْجَلُ فِیْھَا اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۱۳۷۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی دو چادریں زیب ِ تن کر کے تکبر سے چل رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10385

۔ (۱۰۳۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: حَدَّثَنِیْ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ خَلَیْلِیْ اَبُوْ الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یَتَبَخْتَرُ بَیْنَ بُرْدَیْنِ فَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، فَاَمَرَ الْاَرْضَ فَبَلَعَتْہُ، فَوَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ اِنَّہُ لَیَتَجَلْجَلُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۰۴۵۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے صادق و مصدوق خلیل ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگوں میں ایک آدمی تھا، وہ دو چادریں زیب ِ تن کر کے اترا کے چل رہا تھا، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوا اور اس نے زمین کو حکم دیا، پس وہ اس کو نگل گئی، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ قیامت کے دن تک دھنستا رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10386

۔ (۱۰۳۸۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ ذَکَرَ الصَّلَاۃَیَوْمًا فَقَالَ: ((مَنْ حَافَظَ عَلَیْھَا کَانَتْ لَہُ نُوْرًا وَ بُرْھَانًا وَ نَجَاۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَ مَنْ لَمْ یُحَافِظْ عَلَیْھَا لَمْ یَکُنْلَہُ نُوْرٌ وَ لَا بُرْھَانٌ، وَ کَانَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ قَارُوْنَ، وَ فِرْعَوْنَ،وَ ھَامَانَ، وَ اُبَیِّ بْنِ خَلَفٍ۔)) (مسند احمد: ۶۵۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جس نے اس نماز کی محافظت کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور، دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے اس کی محافظت نہیں کی،یہ ا س کے حق میں نور ہو گی نہ دلیل اور ایسا شخص قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10387

۔ (۱۰۳۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ کَانَ مَلَکُ الْمَوْتِ یَاْتِیْ النَّاسَ عَیَانًا، قَالَ: فَاَتٰی مُوْسٰی فَلَطَمَہُ فَفَقَأَ عَیْنَہُ، فَاَتٰی رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، فَقَالَ: یَا رَبِّ! عَبْدُکَ مُوْسٰی فَقَأَ عَیْنِیْ،وَ لَوْلَا کَرَامَتُہُ عَلَیْکَ لَعَنُفْتُ بِہٖ، (وَقَالَیُوْنُسُ: لَشَقَقَتُ عَلَیْہِ) فَقَالَ لَہُ: اذْھَبْ اِلٰی عَبْدِیْ فَقُلْ لَہُ فَلْیَضَعْیَدَہُ عَلٰی جِلْدِ اَوْ مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ وَارَتْ یَدُہُ سَنَۃٌ، فَاَتَاہُ فَقَالَ لَہُ: مَا بَعْدَ ھَذَا؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ، قَالَ: فَشَمَّہُ شَمَّۃً فَقَبَضَ رُوْحَہُ قَالَ یُوْنُسُ: فَرَدَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَیْنَہُ وَ کَانَ یَاْتِیْ النَّاسَ خُفْیَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۱۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملک الموت (موت والا فرشتہ) لوگوں کے پاس آتا تھا اور وہ اس کو دیکھتے تھے، اسی طرح وہ موسی علیہ السلام کے پاس آیا لیکن انھوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ گیا اور کہا: اے میرے ربّ! تیرے بندے موسی نے (طمانچہ مار کر) میری آنکھ پھوڑ دی، اگر تو نے اسے معزز نہ بنایا ہوتا تو میں بھی اس پر سختی کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: تو میرے بندے کے پاس واپس جا اور اس سے کہہ کہ وہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آ جائیں گے، اتنے سال تم زندہ رہو گے۔ موسی علیہ السلام نے (فرشتے کییہ بات سن کر) کہا: اس کے بعد پھر کیا ہو گا؟ جواب ملا: پھر تجھے موت آئے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر ابھی سہی، پھر انھیں ایک بو سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی۔ یونس راوی نے کہا: پس اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کو آنکھ عطا کر دی، اس کے بعد فرشتہ لوگوں کے پاس مخفی انداز میں آنے لگ گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10388

۔ (۱۰۳۸۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: ((اُرْسِلَ مَلَکُ الْمَوْتِ اِلَی مُوْسٰی فَلَمَّا جَائَ ہُ صَکَّہُ فَفَقَأَ عَیْنَہُ، فَرَجَعَ اِلٰی رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ، فَقَالَ: اَرْسَلْتَنِیْ اِلٰی عَبْدٍ لَا یُرِیْدُ الْمَوْتَ، قَالَ: فَرَدَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَیْہِ عَیْنَہُ وَ قَالَ: ارْجِعْ اِلَیْہِ فَقُلْ لَہُ یَضَعُیَدَہُ عَلٰی مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَہُ بِمَا غَطَّتْ یَدُہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ سَنَۃٌ فَقَالَ: اَیْ رَبِّ! ثُمَّ مَہْ؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فاَلْآنَ، فسَاَلَ َاللّٰہَ اَنْ یُدْنَیَہُ مِنَ الْاَرْضِ الْمُقَدَّسَۃِ رَمْیَۃً بِحَجَرٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :(( فَلَوْ کُنْتُ ثَمَّ لَاَرَیْتُکُمْ قَبْرَہُ اِلٰی جَانِبِ الطَّرِیْقِ تَحْتَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۳۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملک الموت کو موسی علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا، پس جب وہ ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کو تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، پس وہ اپنے ربّ کی طرف لوٹ گیا اور کہا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے، جس کا موت کا ارادہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کی آنکھ واپس لوٹا دی اور اس سے کہا: تو اس کی طرف لوٹ جا اور اس کو کہہ کہ وہ اپنا ہاتھ بیل کی کمر پر رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آ جائیں گے، اتنے سال زندگی مل جائے گی، موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! پھر کیا ہوگا؟ اس نے کہا: پھر موت ہو گی، انھوں نے کہا: تو پھر ابھی سہی، پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ اس کو پاک زمین سے ایک پتھر کی پھینک تک قریب کر دے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو تمھیں سرخ ٹیلے کے نیچے راستے کی ایک طرف ان کی قبر دکھاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10389

۔ (۱۰۳۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَرَرْتُ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ عَلٰی مُوْسٰی فَرَاَیْتُہُ قَائِمًا یُصَلِّیْ فِیْ قَبْرِہِ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: (عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ) (مسند احمد: ۱۲۵۳۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے سیر کرائی گئی، اس رات کو میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے۔ ایک روایت میں یہ زائد بات ہے: یہ قبر سرخ ٹیلے کے پاس تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10390

۔ (۱۰۳۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ عَلٰی بَشَرٍ اِلَّا لِیُوْشَعَ بْنِ نُوْنٍ لَیَالِیَ سَارَ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) (مسند احمد: ۸۲۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورج کو کسی بشر کے لیے نہیں روکا گیا، ما سوائے یوشع بن نون علیہ السلام کے، یہ ان دنوں کی بات ہے، جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10391

۔ (۱۰۳۹۱)۔ عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ مَرْفُوْعًا: (( اِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ عَلٰی بَشَرٍ اِلَّا لِیُوْشَعَ لَیَالِيَ سَارَ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ (وَفِيْ رِوَایَۃٍ: غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْاَنْبِیَائِ، فَقَالَ لِقَوْمِہِ : لَا یَتَّبِعُنِيْ رَجُلٌ قَدْ مَلَکَ بُضْعَ امْرَاَۃٍ، وَھُوَیُرِیْدُ اَنْ یَبْنِيَ بِھَا، وَلَمَّا یَبْنِ بِھَا، وَلَا آخَرُ قَدْ بَنٰی بُنْیَانًا، وَلَمَّا یَرْفَعْ سَقْفَھَا ، وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرٰی غَنَمًا اَوْ خَلِفَاتٍ وَھُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَا دَھَا۔) قَالَ فَغَزَا ، فَاَدْنٰي لِلْقَرْیَۃِ حِیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ اَوْ قَرِیْبًا مِنْ ذٰلِکَ (وَفِيْ رِوَایَۃٍ: فَلَقِيَ الْعَدُوَّ عِنْدَ غَیْبُوْبَۃِ الشَّمْسِ)، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: اَنْتِ مَاْمُوْرَۃٌ، وَاَنَا مَاْمُوْرٌ، اَللّٰھُمَّ احْبِسْھَا عَلَيَّ شَیْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَیْہِ، حَتّٰی فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، فَغَنِمُوْا الْغَنَائِمَ، قَالَ: فَجَمَعُوْا مَا غَنِمُوْا، فَاَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَاْکُلَہٗ،فَاَبَتْاَنْتَطْعَمَہٗ،وَکَانُوْاِذَاغَنِمُوْاالْغَنِیْمَۃَ بَعَثَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْھَا النَّارَ فَاَکَلَتْھَا، فَقَالَ: فِیْکُمْ غُلُوْلٌ، فَلْیُبَایِعْنِيْ مِنْ کُلِّ قَبِیْلَۃٍ رَجُلٌ فَبَایَعُوْہُ، فَلَصَقَتْ یَدُرَجُلٍ بِیَدِہِ، فَقَالَ: فِیْکُمُ الْغُلُوْلُ فَلْتُبَایِعْنِيْ قَبِیْلَتُکَ، فَبَایَعَتْہُ۔ قَالَ: فَلَصِقَتْ بِیَدِ رَجُلَیْنِ اَوْثَلَاثَۃٍیَدُہٗ، فَقَالَ: فِیْکُمُ الْغُلُوْلُ اَنْتُمْ غَلَلْتُمْ۔قَالَ: اَجَلْ! قَدْ غَلَلْنَا صُوْرَۃَ وَجْہِ بَقَرَۃٍ مِنْ ذَھَبٍ قَالَ: فَاَخْرَجُوْا لَہٗمِثْلَرَاْسِبَقَرَۃٍ مِنْ ذَھَبٍ، قَالَ: فَوَضَعُوْہُ فِيْ الْمَالِ وَھُوَ بِالصَّعِیْدِ، فَاَقْبَلَتِ النَّارُ فَاَکَلَتْہُ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِاَحَدٍ مِنْ قَبْلَنَا، ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی رَاٰی ضُعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَیَّبَھَا لَنَا۔(وَفِيْ رِوَایَۃٍ:فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ: اِنَّ اللّٰہَ اَطْعَمَنَا الْغَنَائِمَ رَحْمَۃً بِنَا وَتَخْفِیْفًا لِمَا عَلِمَ مِنْ ضُعْفِنَا۔)) (مسند احمد: ۸۲۲۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک سورج کسی بشر کے لیے کبھی بھی نہیں روکا گیا، سوائے یوشع بن نون کے، یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے، ایک روایت میں ہے: انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا، اس نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے جو کسی عورت کی شرمگاہ کا مالک بن چکا ہے (یعنی اس نے نکاح کر لیا ہے) اور رخصتی کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک نہیں کی، وہ آدمی بھی (میرے لشکر میں شریک) نہ ہو، جس نے کوئی گھر بنانا شروع کیا ہے، لیکن ابھی تک چھت نہیں ڈالی اور جو آدمی بکریاںیا ایسے حاملہ جانور خرید چکا ہے، کہ جن کے بچوں کی ولادت کا اسے انتظار ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ نہ آئے۔(یہ اعلان کرنے کے بعد) وہ غزوہ کے لیے روانہ ہو گیا، جب وہ ایک گاؤں کے پاس پہنچے تو نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا، یا قریب تھا۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ کہ غروبِ آفتاب سے پہلے دشمنوں سے مقابلہ ہوا)۔ اس وقت اس نبی نے سورج سے کہا: تو بھی (اللہ تعالیٰ کا) مامور ہے اور میں بھی (اسی کا) مامور ہوں۔ اے اللہ! تو اس سورج کو میرے لیے کچھ دیر تک روک لے۔ پس اسے روک دیا گیا، ( وہ جہاد میں مگن رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کی اور کافی غنیمتیں حاصل ہوئیں۔ اس لشکر والوں نے (اس وقت کے شرعی قانون کے مطابق) غنیمتوں کا مال جمع کیا، اسے کھانے کے لیے آگ آئی، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا اصول یہ تھا کہ جب وہ غنیمت کا مال حاصل کرتے تو اللہ تعالیٰ آگ بھیجتا جو اسے کھا جاتی۔ اس نبی نے (آگ کے نہ کھانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے) کہا: تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے، لہٰذا ہر قبیلے سے ایک ایک آدمی میری بیعت کرے۔ انھوں نے بیعت کی۔ بیعت کے دوران ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا۔ اس وقت انھوں نے کہا: تم میں خیانت ہے۔ اب تیرے قبیلے کا ہر آدمی میری بیعت کرے گا (تاکہ مجرم کا پتہ چل سکے)، انھوں نے بیعت شروع کی، بالآخر دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ چپک گئے۔ نبی نے کہا: تم میں خیانت ہے، تم نے خیانت کی ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم نے گائے کے چہرے کی مانند بنی ہوئی سونے کی ایک مورتی کی خیانت کی ہے۔ پھر وہ گائے کے چہرے کی طرح کی بنی ہوئی چیز لے کر آئے اور اسے زمین پر مالِ غنیمت میں رکھ دیا، پھر آگ متوجہ ہوئی اور مالِ غنیمت کھا گئی۔ ہم (امتِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سے پہلے کسی کے لیے بھی مالِ غنیمت حلال نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ ہم ضعیف اور بے بس ہیں تو غنیمتوں کو ہمارے لیے حلال قرار دیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وقت فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ رحم کرتے ہوئے اورہماری کمزوری کی بنا پر ہمارے ساتھ تخفیف کرتے ہوئے ہمیں غنیمت کا مال کھانے کی اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10392

۔ (۱۰۳۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قِیْلَ لِبَنِیْ اِسْرَئِیْلَ {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَغْفِرْلَکُمْ خَطَایَاکُمْ} فَبَدَّلُوْا فَدَخَلُوا الْبَابَ یَزْحَفُوْنَ عَلٰی اَسْتَاھِھِمْ وَقَالُوْا: حَبَّۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۸۲۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرئیل سے کہا گیا: تم دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جائو اور زبان سے حِطَّۃ کہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے۔ لیکن انھوں نے اس بات کو بدل ڈالا اور دروازے سے سرینوں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے اور زبان سے حَبَّۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ (گندم بالی میں)کہتے ہوئے داخل ہوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10393

۔ (۱۰۳۹۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ قَوْلِہِ عَزَّوَجَلَّ: {وَادْخُلُوْا الْبَابَ سُجَّدًا} قَالَ: دَخَلُوْا زَحْفًا {وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ} قَالَ: بَدَّلُوْا فَقَالُوْا: حِنْطَۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ۔ (مسند احمد: ۸۰۹۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا کہ دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ۔ لیکن وہ سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، اور ان کو حکم دیا کہ حِطَّۃ کہو، لیکن انھوں نے اس حکم کو بد ڈالا اور کہا: حِنْطَۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ (گندم بالی میں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10394

۔ (۱۰۳۹۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ ھَمَّامٍ، ثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ھَمَّامٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ یُسَمَّ خَضِرًا اِلَّا لِاَنَّہُ جَلَسَ عَلَی فَرْوَۃٍ بَیْضَائَ فاِذَا ھِیَ تَھْتَزُّ خَضْرَائَ)) اَلْفَرْوَۃُ: اَلْحَشِیْشُ الْاَبْیَضُ وَمَا یُشْبِھُہُ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: اَظُنُّ ھٰذَا تَفْسِیْرًا مِنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ (مسند احمد: ۸۲۱۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خضر کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ جب وہ خشک زمین، جس پر کوئی سبزہ نہ ہوتا، پر بیٹھتے تھے تو وہ سر سبز ہو کر ہلنے لگتی تھی۔ راوی کہتا ہے: فَرْوَۃ سے مراد سفید گھاس اور اس سے ملتی جلتی چیزیں ہیں، عبد اللہ راوی نے کہا: میرا خیال ہے کہ عبد الرزاق نے یہ تفسیر بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10395

۔ (۱۰۳۹۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ ھَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْخَضِرِ: ((اِنّمَا سُمِّیَ خَضِرًا اِنَّہُ جَلَسَ عَلَی فَرْوَۃَ بَیْضَائَ فَاِذَا ھِیَ تَحْتَہُ خَضْرَائُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۹۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خضر کے نام کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ خشک زمین، جس پر کوئی سبزہ نہ ہوتا، پر بیٹھتے تو وہ ان کے نیچے سبز ہو جاتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10396

۔ (۱۰۳۹۶)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ عِدَّۃَ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانُوْا یَوْمَ بَدْرٍ عَلٰی عِدَّۃِ اَصْحَابِ طَالُوْتَ یَوْمَ جَالُوْتَ، ثَلَاثُ مَائِۃٍ وَ بِضْعَۃَ عَشَرَ الَّذِیْنَ جَاوَزُوْا مَعَہُ النَّھْرَ، قَالَ: وَ لَمْ یُجَاوِزْ مَعَہُ النَّھْرَ اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۴)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابہ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو اور چودہ پندرہ افراد تھے،، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10397

۔ (۱۰۳۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خُفِّفَ عَلٰی دَاوُدَ علیہ السلام القَّرَائَۃُ، وَ کَانَ یَاْمُرُ بِدَابَّتِہِ فَتُسْرَجُ، وَ کَانَ یَقْرَاُ الْقُرْآنَ قَبْلَ اَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُہُ، وَ کَانَ لَا یَاْکُلُ اِلَّا مِنْ عَمَلِ یَدِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام پر تلاوت کو آسان کر دیا گیا تھا، وہ اپنی سواری کے بارے میں حکم دیتے، پس اس پر زین کسی جاتی، لیکن اس عمل سے پہلے وہ زبور کی تلاوت مکمل کر لیتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10398

۔ (۱۰۳۹۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ صَوْتَ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ وَ ھُوَ یَقْرَاُ فَقَالَ: ((لَقَدْ اُوْتِیَ اَبُوْ مُوْسٰی مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوُدَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۵۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آواز سنی، جبکہ وہ تلاوت کر رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو موسی کو تو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10399

۔ (۱۰۳۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍیَقْرَئُ فَقَالَ: ((لقَدْ اُعْطِیَ ھٰذَا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِیِّ علیہ السلام (وَفِیْ لَفْظٍ) لَقَدْ اُعْطِیَ اَبُوْ مُوْسٰی مَزَامِیْرَ دَاوُدَ۔)) (مسند احمد: ۸۸۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اور فرمایا: اس کو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔ ایک روایت میں ہے: ابو موسی کو داود علیہ السلام کی بانسریاں دے دی گئی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10400

۔ (۱۰۳۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍیَقْرَئُ فَقَالَ: ((لقَدْ اُعْطِیَ ھٰذَا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِیِّ علیہ السلام (وَفِیْ لَفْظٍ) لَقَدْ اُعْطِیَ اَبُوْ مُوْسٰی مَزَامِیْرَ دَاوُدَ۔)) (مسند احمد: ۸۸۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ رات کا نصف حصہ سوتے، پھر ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر باقی چھٹا حصہ سو جاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10401

۔ (۱۰۴۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ دَاوٗدُالنَّبِیُّ فِیْہِ غَیْرَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، وَ کَانَ اِذَا خَرَجَ اُغْلِقَتِ الْاَبْوَابُ فَلَمْ یَدْخُلْ عَلٰی اَھْلِہِ اَحَدٌ حَتّٰییَرْجِعَ، قَالَ: فَخَرَجَ ذَاتَ یَوْمٍ وَ غُلِّقَتِ الدَّارُ فَاَقْبَلَتْ اِمَرَاَتُہُ تَطَّلِعُ اِلَی الدَّارِ فَاِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسْطَ الدَّارِ، فَقَالَت لِمَنْ فِیْ الْبَیْتِ: مِنْ اَیْنَ دَخَلَ ھٰذَا الرَّجُلُ الدَّارَ وَالدَّارُ مُغْلَقَۃٌ؟ وَاللّٰہِ لَتُفْتَضَحَنَّ بِدَاوُدَ فَجَائَ دَاوُدُ، فَاِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسْطَ الدَّارِ، فَقَالَ لَہُ دَاوُدُ: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: اَنَا الَّذِیْ لَا اَھَابُ الْمُلُوْکَ وَ لَا یَمْتَنِعُ مِنِّی شَیْئٌ، فَقَالَ دَاوُدُ: اَنْتَ وَاللّٰہِ! مَلَکُ الْمَوْتِ، فَمَرْحَبًا بِاَمْرِ اللّٰہِ، فَرُمِلَ دَاوُدُ مَکَانَہُ حَیْثُ قُبِضَتْ رُوْحُہُ حَتّٰی فَرَغَ مِنْ شَاْنِہِ وَطَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ، فَقَالَ سُلَیْمَانُ لِلطَّیْرِ: اَظِلِّیْ عَلٰی دَاوُدَ، فَاَظَلَّتْ عَلَیْہِ الطَّیْرُ حَتَّی اَظْلَمَتْ عَلَیْھِمَا الْاَرْضُ، فَقَالَ لَھَا سُلَیْمَانُ: اقْبِضِیْ جَنَاحًا جَنَاحًا۔)) قَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃ: یُرِیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ فَعَلَتِ الطَّیْرُ، وَقَبَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ، وَ غَلَبَتْ عَلَیْہِ ِیَوْمَئِذٍ الْمَصْرَجیَّۃُ۔ (مسند احمد: ۹۴۲۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی داود علیہ السلام شدید غیرت سے متصف تھے، جب وہ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر دیئے جاتے اور ان کے گھر والوں کے پاس کوئی نہ آ سکتا، یہاں تک کہ وہ واپس تشریف لے آتے، ایک دن روٹین کے مطابق وہ باہر چلے گئے اور گھر کو بند کر دیا گیا، لیکن جب ان کی بیوی گھر کی طرف متوجہ ہوئی تو انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی گھر کے درمیان میں کھڑا ہے، انھوں نے اس شخص کے بارے میں کہا: یہ آدمی گھر میں کیسے داخل ہوا، جبکہ گھر بند تھا؟ اللہ کی قسم! ہمیں داود کے ساتھ رسوا ہونا پڑے گا، اتنے میں داود علیہ السلام آگئے، جب انھوں نے گھر کے بیچ میں ایک آدمی کو دیکھا تو انھوں نے کہا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں وہ ہوں، جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا، بلکہ کوئی چیز مجھ سے بچ نہیں سکتی، داود علیہ السلام نے کہا: اللہ کی قسم! تو تو ملک الموت ہے، اللہ کے حکم کو مرحبا، داود علیہ السلام نے اس جگہ پر دفن ہونا تھا، جہاں ان کی روح قبض ہوئی، اُدھر جب فرشتہ اپنے کام سے فارغ ہوا تو سورج طلوع ہو گیا، سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے کہا: داود پر سایہ کرو، پس پرندوں نے ان پر سایہ کیا،یہاں تک کہ زمین نے ان دونوں پر اندھیرا کر دیا، سلیمان علیہ السلام نے کہا: ایک ایک پر بند کرو۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دکھایا کہ پرندوں نے کیسے کیا، ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک بند کیا، اس دن لمبے پروں والے شکرے ان پر غالب آ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10402

۔ (۱۰۴۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، سَاَلَ اللّٰہَ ثَلَاثًا فَاَعْطَاہُ ثِنْتَیْنِ، وَ نَحْنُ نَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنَ لَہُ الثَّالِثَۃُ فَسَاَلَہُ حُکْمًایُصَادِفُ حُکْمَہُ فَاَعْطَاہُ اِیَّاہُ، وَ سَاَلَہُ مُلْکًا لَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِہِ فَاَعْطَاہُ ِایَّاہُ، وَ سَاَلَہُ اَیُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ لَا یُرِیْدُ اِلَّا الصَّلَاۃَ فِیْ ھٰذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِیْئَتِہِ مِثْلَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ فَنَحْنُ نَرْجُوْ اَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں عطا کر دیں اور ہم تیسری کے بارے میں بھی امید رکھتے ہیں، انھوں نے یہ سوال کیا کہ ان کا حکم اور فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے موافق ہو، پس اس نے ان کو یہ چیز عطا کر دی، انھوں نے ایسی بادشاہت کا سوال کیا، جو ان کے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو، پس اس نے ان کو یہ چیز بھی دے دی اور انھوں نے تیسرا سوال یہ کیا کہ جو آدمی اپنے گھر سے صرف نماز ادا کرنے کے لیے نکلے اور اس مسجد میں آئے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح صاف ہو جائے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، پس ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ چیز بھی عطا کر دی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10403

۔ (۱۰۴۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ عِفْرِیْتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَیَّ الْبَارِحَۃَ لِیَقْطَعَ عَلَیَّ الصَّلَاۃَ، فَاَمْکَنَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ فَدَعَتُّہُ وَاَرَدْتُ اَنْ اَرِبِطَہُ اِلٰی جَنْبِ سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ حَتّٰی تُصْبِحُوْا فَتَنْظُرُوْا اِلَیْہِ کُلُّکُمْ اَجْمَعُوْنَ۔)) قَالَ: ((فَذَکَرْتُ دَعْوَۃَ اَخِیْ سُلَیْمَانَ رَبِّ ھَبْ لِیْ مُلْکًا لَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِیْ، قَالَ: فَرَدَّہُ خَاسِئًا۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک شیطان نے گزشتہ رات میری نماز کو کاٹنے کے لیے مجھ پر حملہ کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت دی اور میں نے اس کو دھکا دیا، پھر میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ تم سارے صبح کے وقت اس کو دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنی بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی: اے میرے ربّ! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما کہ جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو، پس اس کو ناکام و نامراد لوٹا دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10404

۔ (۱۰۴۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیْنَمَا اِمْرَأَتَانِ مَعَھُمَا اِبْنَانِ لَھُمَا جَائَ الذِّئْبُ فَاَخَذَ اَحَدَ الْاِبْنَیْنِ فَتَحَاکَمَا اِلٰی دَاوُدَ، فَقَضٰی بِہٖلِلْکُبْرٰی، فَخَرَجَتَا فَدَعَاھُمَا سُلَیْمَانُ ھَاتُوْا السِّکِّیْنَ اَشُقُّہُ بَیْنَھُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرٰی: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ھُوَ اِبْنُھَا لَا تَشُقُّہُ، فَقَضٰی بِہٖ لِلصُّغْرٰی)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: وَاللّٰہِ! اِنَ عَلِمْنَا مَا السِّکِّیْنُ اِلَّا یَؤْمَئِذٍ وَ مَا کُنَّا نَقُوْلُ اِلَّا الْمُدْیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو عورتیں تھیں، دونوں کے ساتھ ایک ایک بیٹا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بیٹا لے گیا، پس دونوں فیصلہ کر لے داود علیہ السلام کے پاس آئیں، انھوں نے بڑی کے حق میں اس بچے کا فیصلہ کر دیا، پھر وہ دونوں چلی گئیں،سلیمان علیہ السلام نے ان کو بلایا اور کہا: چھری لے آؤ، تاکہ میں اس بچے کو اِن دونوں خواتین میں تقسیم کر دوں، یہ بات سن کر چھوٹی خاتون نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، یہ اسی بڑی کا بیٹا ہے، اس کو چیرا مت دو، اس خاتون کییہ بات سن کر سلیمان علیہ السلام نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس دن ہمیں پتہ چلا کہ چھری کو سِکِّیْن بھی کہتے ہیں، ہم تو اس کو مُدْیَۃ ہی کہتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10405

۔ (۱۰۴۰۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَاَطُوْفَنَّ اللَّیْلَۃَ بِمِائَۃِ اِمْرَاَۃٍ تَلِدُ کُلُّ اِمْرَاَۃٍ مِنْھُنَّ غُلَامًا یُقَاتِلُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ، قَالَ: وَ نَسِیَ اَنْ یَقُوْلَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَاَطَافَ بِھِنِّ قَالَ: فَلَمْ تَلِدُ مِنْھُنَّ اِلَّا وَاحِدَۃٌ نِصْفَ اِنْسَانٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ قَالَ: اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَمْ یَحْنَثْ وَ کَانَ دَرَکًا لِحَاجَتِہِ، (وَفِیْ لَفْظٍ) لَوْ اَنَّہُ کَانَ قَالَ: اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَوَلَدَتْ کُلُّ امْرَاَۃٍ مِنْھُنَّ غُلَامًا یَضْرِبُ بِالسَّیْفِ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۷۰۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا: آج رات میں سو خواتین کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر ایک ایک لڑکا جنم دے گی اور وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے، پس سب خواتین کے پاس گئے اور حق زوجیت ادا کیا، لیکن صرف ایک خاتون کا بچہ پیدا ہوا اور وہ بھی ادھورا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر انھوں نے ان شاء اللہ کہا ہوتا تو ان کی قسم بھی نہ ٹوٹتی اور ان کی حاجت بھی پوری ہو جاتی، ایک روایت میں ہے: اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو ہر خاتون نے لڑکا پیدا کرنا تھا، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں تلوار سے جہاد کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10406

۔ (۱۰۴۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَزَلَ نَبِیٌّ مِنَ الْاَنْبِیَائِ تَحْتَ شَجَرَۃٍ فَلَدَغَتْہُ نَمْلَۃٌ فَاَمَرَ بِجَھَازَہِ فَاُخْرِجَ مِنْ تَحْتِھَا ثُمَّ اَمَرَبِھَا فَاُحْرِقَتْ بِالنَّارِ، فَاَوْحَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَیْہِ فَھَلَّا نَمْلَۃً وَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۹۸۰۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیاء میں ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے، ایک چیونٹی نے ان کو ڈسا، پس انھوں نے سامان کو ہٹانے اور نیچے سے چیونٹیوں کو نکالنے اور ان کو جلانے کا حکم دیا، سو ان کو جلا دیا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ایک چیونٹی کو کیوں نہیں جلایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10407

۔ (۱۰۴۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ زَکَرِیَا عَلَیْہِ السَّلَامُ نَجَّارًا۔)) (مسند احمد: ۹۲۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10408

۔ (۱۰۴۰۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ اَحَدٍ مِنْ وُلْدِ آدَمَ اِلَّا قَدْ اَخْطَاَ اَوْ ھَمَّ بِخَطِیْئَۃٍ لَیْسَیَحْيَ بْنُ زَکَرِیَّا، وَ مَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍٍ اَنْ یَقُوْل اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتَّیعَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۴)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اولادِ آدم میں سے کوئی بھی نہیں ہے، مگر اس نے خطا کی ہے، یا پھر خطا کا ارادہ کیا ہے، ما سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے اور کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ یہ کہے: میںیونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10409

۔ (۱۰۴۰۹)۔ عَنِ الْحَارِثِ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَ یَحْيَ بْنَ زَکَرِیَّا بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ یَعْمَلَ بِھِنِّ، وَ اَنْ یَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ اَنْ یَعْمَلُوْا بِھِنِّ فَکَادَ اَنْ یُبْطِیئَ، فَقَالَ لَہُ عِیْسٰی: اِنَّکَ قَدْ اُمِرْتَ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ تَعْمَلَ بِھِنَّ وَ اَنْ تَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ اَنْ یَعْمَلُوْا بِھِنَّ، فَاِمَّا اَنْ تُبَلِّغَھِنَّ وَ اِمَّا اُبَلِّغَھُنَّ؟ فَقَالَ لَہُ: یَا اَخِیْ! اِنِّیْ اَخْشَی اِنْ سَبَقْتَنِیْ اَنْ اُعَذِّبَ اَوْ یُخْسَفَ بِیْ، قَالَ: فَجَمَعَ یَحْیٰی بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ فِیْ بَیْتِ الْمَقْدَسِ حَتَّی اِمْتَلَاَ الْمَسْجِدُ وَ قَعَدَ عَلَی الشُّرَفِ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ اَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَنِیْ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ اَعْمُلَ بِھِنِّ وَآمُرَکُمْ اَنْ تَعْمَلُوْا بِھِنِّ، اَوَّلُھُنَّ اَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَی عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَا