Musnad Ahmad

Search Results(1)

169)

169) گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10422

۔ (۱۰۴۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَوْلَانِیِّ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَاِذَا کَعْبٌ یَقُصُّ فَقَالَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: کَعْبٌ یَقُصُّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَقُصُّ اِلَّا اَمِیْرٌ، اَوْ مَاْمُوْرٌ، اَوْ مُخْتَالٌ۔)) قَالَ: فَبَلَغَ ذٰلِکَ کَعْبًا فَمَا رُؤِیَیَقُصُّ بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۱۴)
۔ عبد الجبار خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک صحابی مسجد میں داخل ہوا، جبکہ سیدنا کعب وعظ کر رہے تھے، اس نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وعظ کر رہے ہیں، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قصے بیان نہیں کرتا مگر امیر،یا مامور،یا متکبر۔ جب یہ بات سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو معلوم ہوئی تو اس کے بعد ان کو وعظ کرتے ہوئے نہیں پایا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10423

۔ (۱۰۴۲۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَقُصُّ عَلَی النَّاسِ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَاْمُوْرٌ اَوْ مُرَائٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو قصے بیان نہیں کرتا، مگر امیر،یا ما مور، یا ریاکار۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10424

۔ (۱۰۴۲۴)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْاَشْجَعِّیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَقُصُّ عَلَی النَّاسِ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَاْمُوْرٌ اَوْ مُخْتَالٌ (وَ فِیْ لَفْظٍ) لَایَقُصُّ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَاْمُوْرٌ اَوْ مُتَکَلِّفٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۹۴)
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں سے قصہ گوئی نہیں کرتا، مگر امیریا مامور یا متکبر، ایک روایت میں ہے: وعظ نہیں کرتا مگر امیریا مامور یا تکلف کرنے والا۔ اس جگہ قصہ گوئی سے مراد وعظ و نصیحت کرنا ہے۔ اسی لیے وعظ و نصیحت کرنے والے کو قاصٌ کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10425

۔ (۱۰۴۲۵)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ: اِنَّہُ لَمْ یَکُنْیُقَصُّ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ لَا اَبِیْ بَکْرٍ، وَ کَانَ اَوَّلُ مَنْ قَصَّ تَمِیْمًا الدَّارِیَّ، اِسْتَاْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنْ یَقُصَّ عَلَی النَّاسِ قَائِمًا فَاَذِنَ لَہُ عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۶)
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانوں میں قصے بیان نہیں کیے جاتے تھے، سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سب سے پہلے یہ کام کیا، انھوں نے پہلے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے لوگوں پر کھڑے ہو کر قصے بیان کرنے کے لیے اجازت طلب کی، پس انھوں نے ان کو اجازت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10426

۔ (۱۰۴۲۶)۔ حَدَّثَنَا ھَاشِمٌ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ کُرْدُوْسَ بْنَ قَیْسٍ، وَ کَانَ قَاصَّ الْعَامَّۃِ بِالْکُوْفَۃِ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ بَدْرٍ اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاَنْ اَقْعُدَ فِیْ مِثْلِ ھٰذَا الْمَجْلِسِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَ رِقَابٍ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ: اَیُّ مَجْلِسٍ تَعْنِیْ؟ قَالَ: کَانَ قَاصًّا۔ (مسند احمد: ۱۵۹۹۵)
۔ کردوس بن قیس، جو کہ کوفہ میں عام لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے والے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اصحاب ِ بدر میں سے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس قسم کی مجلس میں بیٹھنا مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد کون سی مجلس ہے؟ اس نے کہا: وعظ و نصیحت والی مجلس۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10427

۔ (۱۰۴۲۷)۔ قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ، سَمِعْتُ مُصْعَبَ نِ الزُّبَیْرِیَّ قَالَ: جَائَ اَبُوْطَلْحَۃَ الْقَاصُّ عَلٰی مَالِکِ بْنِ اَنَسٍ فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ اللّٰہِ! اِنَّ قَوْمًا قَدْ نَھَوْنِیْ اَنْ اَقُصُّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ صَلَی اللّٰہُ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ وَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِہِ وَ عَلَی اَزْوَاجِہِ فَقَالَ مَالِکٌ: حَدِّثْ بِہٖوَقُصَّبِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۶۷۰۵)
۔ مصعب زبیری کہتے ہیں: قصہ گو ابو طلحہ نے امام مالک بن انس ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌سے پوچھا: اے ابو عبد اللہ! بعض لوگوں نے مجھے یہ حدیث بیان کرنے سے منع کیا ہے: اللہ تعالیٰ ابراہیم علیہ السلام پر رحمت بھیجے، بیشک تو تعریف کیا ہوا اور برزگی والا ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت پر اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں پر؟ امام مالک نے کہا: تو اس حدیث کو بیان کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10428

۔ (۱۰۴۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی قَاصٍّ یَقُصُّ فَاَمْسَکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُصَّ فَلاَنْ اَقْعُدَ غُدْوَۃً اِلٰی اَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَ رِقَابٍ، وَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَ رِقَابٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۰۹)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے، وہ قصہ گوئی کر رہا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ کر رک گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قصہ گوئی کرو، اگر میں نماز فجر سے طلوع آفتا ب تک ایسی مجلس میں بیٹھوں تو یہ مجھے چار گردنیں آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہو گا، اگر میں عصر سے غروب ِ آفتاب تک بیٹھوں تو یہ عمل بھی مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10429

۔ (۱۰۴۲۹)۔ عَنْ اَبِیْ نَمْلَۃَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا حَدَّثَکُمْ اَھْلُ الْکِتَابِ فَـلَا تُصَدِّقُوْھُمْ، وَ لَا تُکَذِّبُوْھُمْ، وَ قُوْلُوْا: آمَنَّا بِاللّٰہِ وَ کُتُبِہٖوَرُسُلِہِ،فَاِنْ کَانَ حَقًّا لَمْ تُکَذِّبُوْھُمْ، وَ اِنْ کَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۵۷)
۔ سیدنا ابو نملہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم سے بیان کریں تو نہ ان کی تصدیق کرو اور نہ تکذیب، بلکہ کہو: ہم اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، پس اگر ان کی بات حق ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی اور اگر وہ باطل ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10430

۔ (۱۰۴۳۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسْاَلُوْا اَھْلَ الْکِتَابِ عَنْ شَیْئٍ فَاِنَّھُمْ لَنْ یَھْدُوْکُمْ وَ قَدْ ضَلُّوْا، فَاِنَّکُمْ اِمَّا اَنْ تُصَدِّقُوْا بِبَاطِلٍ اَوْ تُکَذِّبُوْا بِحَقٍّ، فَاِنَّہُ لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا بَیْنَ اَظْھُرِکُمْ مَا حَلَّ لَہُ اِلَّا اَنْ یَتَّبِعَنِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۸۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو، کیونکہ وہ تمہاری رہنمائی نہیں کریں گے، وہ تو خود گمراہ ہو چکے ہیں، اس طرح تم یا تو باطل کی تصدیق کرو گے یا حق کی تکذیب، پس بیشک شان یہ ہے کہ اگر موسی علیہ السلام بھی تمہارے ما بین زندہ ہو جائیں تو ان کے لیے کوئی چیز حلال نہیں ہو گی، مگر یہ کہ وہ میری پیروی کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10431

۔ (۱۰۴۳۱)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُنَا عَامَّۃَ لَیْلِہِ عَنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ حَتّٰییُصْبِحَ) لَا یَقُوْمُ اِلَّا اِلَی عُظْمِ صَلَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۶۳)
۔ عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں رات کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کے بارے میں(روایات) بیان کرتے رہتے، صرف فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10432

۔ (۱۰۴۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا کاَنْتِ اللَّیْلَۃُ الَّتِیْ اُسْرِیَ بِیْ فِیْھَا اَتَتْ عَلَیَّ رَائِحَۃٌ طَیِّبَۃٌ فَقُلْتُ: یَاجِبْرِیْلُ! مَاھٰذِہِ الرَّائِحَۃُ الطَّیِّبَۃُ؟)) فَقَالَ: ھٰذِہِ رَائِحَۃُ مَاشِطَۃَ ابْنَۃِ فِرْعَوْنَ وَ اَوْلَادِھَا، قَالَ: قُلْتُ: ((وَ مَا شَاْنُھَا؟)) قَالَ: بَیْنَا ھِیْ تُمَشِّطُ ابْنَۃَ فِرْعَوْنَ ذَاتَ یَوْمٍ اِذْ سَقَطَتِ الْمِدْرٰی مِنْ یَدَیْھَا فَقَالَت: بِسْمِ اللّٰہِ، فَقَالَتْ لَھَا ابْنَۃُ فِرْعَوُنَ: اَبِیْ؟ قَالَتْ: لَا وَلٰکِنْ رَبِّیْ وَ رَبُّ اَبِیْکِ اللّٰہُ، قَالَتْ: اُخْبِرُہُ بِذٰلِکَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ فَاَخْبَرَتْہُ فَدَعَاھَا فَقَالَ: یَافُلَانَۃُ! وَ اِنَّ لَکَ رَبًّا غَیْرِیْ، قَالَتْ: نَعَمْ، رَبِّیْ وَ رَبُّکَ اللّٰہُ، (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: رَبِّیْ وَ رَبُّکَ مَنْ فِیْ السَّمَائِ) فَاَمَرَ بِبَقَرَۃٍ مِنْ نُحَاسٍ فَاُحْمِیَتْ ثُمَّ اَمَرَ بِھَا اَنْ تُلْقَی ھِیَ وَ اَوْلَادُھَا فِیْھَا، قَالَتْ لَہُ: اِنَّ لِیْ اِلَیْکَ حَاجَۃً، قَالَ: وَ مَا حَاجَتُکِ؟ قَالَتْ: اُحِبُّ اَنْ تَجْمَعَ عِظَامِیْ وَ عِظَامَ وَلَدِیْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَ تُدْفِنُنَا، قَالَ: ذٰلِکَ لَکِ عَلَیْنَا مِنَ الْحَقِّ، قَالَ: فَاَمَرَ بِاَوْلَادِھَا فَاُلْقُوْا بَیْنَیَدَیْھَا وَاحِدًا وَاحِدًا اِلٰی اَنِ انْتَھٰی ذٰلِکَ اِلٰی صَبِیٍّ لَھَا مُرْضَعٍ وَ کَاَنَّھَا تَقَاعَسَتْ مِنْ اَجْلِہِ، فَقَالَ: فَقَالَ: یَااُمَّہْ! اِقْتَحِمِیْ فَاِنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا اَھْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَۃِ فَاقْتَحَمَتْ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَکَلَّمَ اَرْبَعَۃُ صِغَارٍ، عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَ صَاحِبُ جُرَیْجٍ، وَ شَاھِدُ یُوْسُفَ، وَ ابْنُ مَاشِطَۃَ ابْنَۃِ فِرْعَوْنَ۔ (مسند احمد: ۲۸۲۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کی بات ہے، مجھے بڑی پاکیزہ خوشبو محسوس ہوئی، میں نے کہا: اے جبریل! یہ پاکیزہ خوشبو کیسی ہے؟ اس نے کہا: یہ ماشطہ بنت فرعون اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے، میں نے کہا: اس کا واقعہ کیا ہے؟ اس نے کہا: ایک دن وہ فرعون کی کسی بیٹی کی کنگھی کر رہی تھی، اچانک ہی جب کنگھی اس کے ہاتھ سے گری تو نے کہا: بسم اللہ، فرعون کی بیٹی نے کہا: بسم اللہ میں اللہ سے مراد میرا باپ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے مراد میرا اور تیرا ربّ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: اس سے مراد میرا اور تیرا وہ ربّ ہے، جو آسمانوں میں ہے ۔ اس نے کہا: کیا میں اپنے باپ فرعون کو یہ بات بتا دوں؟ اس نے کہا: جی بالکل، پس اس نے اس کو بتا دی، اس نے اپنی اس مسلمان بیٹی کو بلایا اور کہا: اے فلانہ! کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی ربّ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، بلکہ میرا ربّ بھی ہے اور تیرا بھی اور وہ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: میرا اور تیرا ربّ وہ جو آسمانوںمیں ہے، پس فرعون نے تانبے کی گائے کی شبیہ تیار کروائی، اس کو گرم کیا گیا، پھر اس نے حکم دیا کہ اس کو اور اس کی اولاد کو اس گائے میں ڈال دیا جائے۔ ماشطہ نے کہا: تیرے ذمے میری ایک ضرورت ہے، اس نے کہا: تیری ضرورت کیا ہے؟ اس نے کہا: میں پسند کرتی ہوں کہ تو میری ہڈیاں اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کروا کر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کی بات ہے، مجھے بڑی پاکیزہ خوشبو محسوس ہوئی، میں نے کہا: اے جبریل! یہ پاکیزہ خوشبو کیسی ہے؟ اس نے کہا: یہ ماشطہ بنت فرعون اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے، میں نے کہا: اس کا واقعہ کیا ہے؟ اس نے کہا: ایک دن وہ فرعون کی کسی بیٹی کی کنگھی کر رہی تھی، اچانک ہی جب کنگھی اس کے ہاتھ سے گری تو نے کہا: بسم اللہ، فرعون کی بیٹی نے کہا: بسم اللہ میں اللہ سے مراد میرا باپ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے مراد میرا اور تیرا ربّ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: اس سے مراد میرا اور تیرا وہ ربّ ہے، جو آسمانوں میں ہے ۔ اس نے کہا: کیا میں اپنے باپ فرعون کو یہ بات بتا دوں؟ اس نے کہا: جی بالکل، پس اس نے اس کو بتا دی، اس نے اپنی اس مسلمان بیٹی کو بلایا اور کہا: اے فلانہ! کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی ربّ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، بلکہ میرا ربّ بھی ہے اور تیرا بھی اور وہ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: میرا اور تیرا ربّ وہ جو آسمانوںمیں ہے، پس فرعون نے تانبے کی گائے کی شبیہ تیار کروائی، اس کو گرم کیا گیا، پھر اس نے حکم دیا کہ اس کو اور اس کی اولاد کو اس گائے میں ڈال دیا جائے۔ ماشطہ نے کہا: تیرے ذمے میری ایک ضرورت ہے، اس نے کہا: تیری ضرورت کیا ہے؟ اس نے کہا: میں پسند کرتی ہوں کہ تو میری ہڈیاں اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کروا کر
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10433

۔ (۱۰۴۳۳)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، عَنْ صُھَیْبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ مَلِکٌ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ وَ کَانَ لَہُ سَاحِرٌ فَلَمَّا کَبِرَ السَّاحِرُ، قَالَ لِلْمَلِکِ: اِنِّیْ قَدْ کَبِرَتْ سِنِّیْ وَ حَضَرَ اَجَلِیْ فَادْفَعْ اِلَیَّ خَادِمًا فَلَاُعَلِّمُہُ السِّحْرَ، فَدَفَعَ اِلَیْہِ غُلَامًا فَکَانَ یُعَلِّمُہُ السِّحْرَ، وَ کَانَ بَیْنَ السَّاحِرِ وَ بَیْنَ الْمَلِکِ رَاھِبٌ فَاَتَی الْغُلَامُ عَلَی الرَّاھِبِ، فَسَمِعَ مِنْ کَلَامِہِ فَاَعْجَبَہُ نَحْوُہُ وَ کَلَامُہُ، فَکَانَ اِذَا اَتَی السَّاحِرَ ضَرَبَہُ وَ قَالَ: مَا حَبَسَکَ؟ وَ اِذَا اَتَی اَھْلَہُ ضَرَبُوْہُ وَ قَالُوْا: مَاحَبَسَکَ؟ فَشَکٰی ذٰلِکَ اِلَی الرَّاھِبِ، فَقَالَ: اِذَا اَرَادَ السَّاحِرُ اَنْ یَضْرِبَکَ فَقُلْ حَبَسَنِیْ اَھْلِیْ، وَ اِذَا اَرَادَ اَھْلُکَ اَنْ یَضْرِبُوْکَ فَقُلْ: حَبَسَنِیْ السَّاحِرُ، وَ قَالَ: فَبَیْنَمَا ھُوَ کَذٰلِکَ اِذْ اَتٰی ذَاتَ یَوْمٍ عَلٰی دَابَّۃٍ فَظِیْعَۃٍ عَظِیْمَۃٍ، وَ قَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ فَـلَایَسْتَطِیْعُوْنَ اَنْ یَجُوْزُوْا، فَقَالَ: الْیَوْمَ اَعْلَمُ اَمْرَ الرَّاھِبِ اَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ اَمْ اَمْرَ السَّاحِرِ، فَاَخَذَ حَجَرًا، فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ اَمْرُ الرَّاھِبِ اَحَبَّ اِلَیْکَ وَ اَرْضٰی لَکَ مِنْ اَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ ھٰذِہِ الدَّابَّۃَ حَتّٰییَجُوْزَ النّاسُ، وَ رَمَاھَا فَقَتَلَھَا، وَ مَشَی النَّاسُ، فَاَخْبَرَ الرَّاھِبَ بِذٰلکِ،َ فَقَالَ: اَیْ بُنَیَّ! اَنْتَ اَفْضَلُ مِنِّیْ وَ اِنَّکَ سَتُبْتَلٰی، فَاِنِ ابْتُلِیْتَ فَـلَا تَدُلَّ عَلَیَّ، فَکَانَ الْغُلَامُیُبْرِیئُ الْاَکْمَہَ وَ سَائِرَ الْاَدْوَائِ، وَ یَشْفِیْھِمْ، وَ کَانَ یَجْلِسُ لِلْمَلِکِ جَلِیْسٌ فَعَمِیَ فَسَمِعَ بِہٖفَاَتَاہُبِھَدَایَا کَثِیْرَۃٍ، فَقَالَ: اشْفِنِیْ وَ لَکَ مَا ھَاھُنَا اَجْمَعُ، فَقَالَ: مَا اَشْفِیْ اَنَا اَحَدًا اِنّمَا یَشْفِیْ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَاِنْ اَنْتَ آمَنْتَ بِہٖدَعَوْتُاللّٰہَفَشَفَاکَ،فَآمَنَفَدَعَا اللّٰہَ لَہُ فَشَفَاہُ، ثُمَّ اَتَی الْمَلِکَ فَجَلَسَ مِنْہُ نَحْوَ مَا کَانَ یَجْلِسُ، فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ: یَا فُلَانُ! مَنْ رَدَّ عَلَیْکَ بَصَرَکَ؟ فَقَالَ: رَبِّیْ، فَقَالَ: اَنَا؟ قَالَ: لَا، وَلٰکِنْ رَبِّیْ وَ رَبُّکَ اللّٰہُ، قَالَ: لَکَ رَبٌّ غَیْرِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَلَمْ یَزَلْیُعَذِّبُہُ حَتّٰی دَلَّہُ عَلَی الْغُلَامِ فَبَعَثَ اِلَیْہِ فَقَالَ: اَیْ بُنَيَّ! قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِکَ اَنْ تُبْرِیئَ الْاَکْمَہَ وَ الْاَبْرَصَ وَ ھٰذِہِ الْاَدْوَائَ، قَالَ: مَا اَشْفِیْ اَنَا اَحَدًا، مَا یَشْفِیْ غَیْرُاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: اَنَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: اَوَلَکَ رَبٌّ غَیْرِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ رَبِّیْ وَ رَبُّکَ اللّٰہُ، فَاَخَذَہُ اَیْضًا بِالْعَذَابِ فَلَمْ یَزَلْ بِہٖحَتّٰی دَلَّ عَلَی الرَّاھِبِ، فَاُتِیَ بِالرَّاھِبِ فَقَالَ: ارْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَاَبٰی، فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِیْ مَفْرِقِ رَاْسِہِ حَتّٰی وَقَعَ شِقَّاہُ وَ قَالَ لِلْاَعْمٰی: ارْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَاَبٰی فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِیْ مَفْرِقِ رَاْسِہِ حَتّٰی وَقَعَ شِقَّاہُ عَلَی الْاَرْضِ، وَ قَالَ لِلْغُلَامِ: ارْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَاَبٰی فَبَعَثَ بِہٖمَعَنَفَرٍاِلٰی جَبَلِ کَذَاوَکَذَا فَقَالَ: اِذَا بَلَغْتُمْ ذِرْوَتَہُ فَاِنْ رَجَعَ عَنْ دِیْنِہِ وَ اِلَّا فَدَھْدِھُوْہُ مِنْ فَوَقِہِ فَذَھَبُوْا بِہٖفَلَمَّاعَلَوْابِہٖالْجَبَلَقَالَ: اَللّٰھُمَّاکْفِنِیْھِمْ بِمَا شِئْتَ فَرَجَفَ بِھِمُ الْجَبَلُ فَدَھْدَھُوْا اَجْمَعُوْنَ، وَ جَائَ الْغُلَامُ یَتَلَمَّسُ حَتّٰی دَخَلَ عَلَی الْمَلِکِ فَقَالَ: مَا فَعَلَ اَصْحَابُکَ؟ فَقَالَ: کَفَانِیْھِمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، فَبَعَثَہُ مَعَ نَفَرٍ فِیْ قُرْقُوْرٍ فَقَالَ: اِذَا لَجَجْتُمْ بِہٖالْبَحْرَفَاِنْرَجَعَعَنْدِیْنِہِ وَ اِلَّا فَغَرِّقُوْہُ، فَلَجَّجُوْا بِہٖالْبَحْرَفَقَالَالْغُلَامُ: اَللّٰھُمَّاکْفِنِیْھِمْ بِمَا شِئْتَ! فَغَرَقُوْا اَجْمَعُوْنَ وَ جَائَ الْغُلَامُ یَتَلَمَّسُ حَتّٰی دَخَلَ عَلَی الْمَلِکِ فَقَالَ: مَا فَعَلَ اَصْحَابُکَ؟ فَقَالَ: کَفَانِیْھِمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ لِلْمَلِکِ: اِنَّکَ لَسْتَ بِقَاتِلِیْ حَتّٰی تَفْعَلَ مَا آمُرُکَ بِہٖ،فَاِنْاَنْتَفَعَلْتَ مَا آمُرُکَ بِہٖقَتَلْتَنِیْ وَ اِلَّا فَاِنَّکَ لَا تَسْتَطِیْعُ قَتْلِیْ، قَالَ: وَ مَا ھُوْ؟ قَالَ: تَجْمَعُ النَّاسَ فِیْ صَعِیْدٍ ثُمَّ تَصْلُبُنِیْ عَلَی جِزْعٍ فَتَاْخُذُ سَھْمًا مِنْ کِنَانَتِیْ ثُمَّ قَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ، فَاَنْتَ اِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ قَتَلْتَنِیْ، فَفَعَلَ وَ وَضَعَ السَّھْمَ فِیْ کَبِدِ قَوْسِہِ ثُمَّ رَمٰی فَقَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ، فَوَقَعَ السَّھْمُ فِیْ صُدْغِہِ فَوَضَعَ الْغُلَامُ یَدَہُ عَلٰی مَوْضِعِ السَّھْمِ، وَ مَاتَ فَقَالَ النَّاسُ: آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ، فَقِیْلَ لِلْمَلِکِ: اَرَاَیْتَ مَاکُنْتَ تَحْذَرُ فَقَدْ وَاللّٰہِ نَزَلَ بِکَ، قَدْ آمَنَ النَّاسُ کُلُّھُمْ، فَاَمَرَ بِاَفْوَاہِ السِّکَکِ فَخُدِّدَتْ فِیْھَا الْاَخَادِیْدُ وَ اُضْرِمَتْ فِیْھَا النِّیْرَانُ، وَ قَالَ: مَنْ رَجَعَ عَنْ دِیْنِہِ فَدَعَوْہُ وَ اِلَّا فَاَقْحِمُوْہُ فِیْھَا قَالَ: فَکَانُوْا یَتَعَادَوْنَ فِیْھَا، وَ یَتَدَافَعُوْنَ، فَجَائَ تِ امْرَاَۃُ بِابْنٍ لَھَا تُرْضِعُہُ فَکَاَنَّھَا تَقَاعَسَتْ اَنْ تَقَعَ فِیْ النَّارِ، فَقَالَ الصَّبِیُّ: یَا اُمَّہْ! اصْبِرِیْ فَاِنَّکِ عَلٰی حَقٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۲۸)
۔ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک جادو گر تھا، جب وہ جادو گر بوڑھا ہوا تواس نے بادشاہ سے کہا: میںعمر رسیدہ ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت آ چکا ہے، لہٰذا مجھے کوئی خادم دو، تاکہ میں اس کو جادو کا علم سکھا سکوں، پس اس نے اس کو ایک لڑکا دے دیا اور وہ اس کو جادو کی تعلیم دینے لگا، جادوگر اور بادشاہ کے درمیان ایک پادری تھا، ایک دن وہ بچہ اس پادری کے پاس چلا گیا اور اس کا کلام سنا، اس کا طرز و طریقہ اور کلام اس کو پسند آیا، جب وہ پادری کی وجہ سے لیٹ ہو جاتا اور پھر جادو گر کے پاس پہنچتا تو وہ اس کی پٹائی کرتا اور کہتا: کس چیز نے تجھے روکے رکھا؟ اسی طرح جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچتا تو وہ بھی اس کی پٹائی کرتے اور کہتے: کس چیز نے تجھے روکے رکھا؟ جب اس نے پادری سے یہ شکایت کی تو اس نے کہا: جب جادو گر تجھے سزا دینا چاہے تو یہ کہہ دینا کہ گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب گھر والے سزا دینے لگیں تو کہنا کہ جادو گر نے روک لیا تھا، پس یہی روٹیں جاری رہی، ایک دن اس کا گزر ایک بہت بڑے جانور کے پاس سے ہوا، اس جانور نے لوگوں کو روک رکھا تھا، وہ اس سے آگے گزر جانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اس لڑکے نے کہا: آج مجھے پتہ چل جائے گا کہ پادری کا معاملہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے یا جادو گر کا معاملہ، پس اس نے پتھر لیا اور کہا: اے اللہ! اگر جادو گر کی بہ نسبت پادری کا معاملہ تیرے نزدیک زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے تو اس جانور کو اس پتھر سے قتل کر دے، تاکہ لوگ گزر سکیں، پھر اس نے وہ پتھر پھینکا اور اس نے تو واقعی جانور کو قتل کر دیا اور لوگ گزر گئے، پھر جب اس لڑکے نے پادری کو اس واقعہ کی خبر دی تو اس نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو تو مجھ سے افضل ہے اور عنقریب تجھے آزمایا جائے گا، لیکن اگر تجھ پر آزمائش آ پڑی تو میراکسی کو نہ بتلانا، پس یہ لڑکا پیدائشی اندھوں اور باقی بیماریوںکا علاج کرنے لگا اور ان کو شفا ہونے لگی۔ ایک دن ہوا یوں کہ بادشاہ کا ایک ہم نشیں اندھا ہو گیا، جب اس نے اس لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت زیادہ تحائف لے کر آیا اور اس نے کہا: تو مجھے شفا دے دے اور یہ سب کچھ تیرا ہو گا، اس نے کہا: میں تو شفا نہیں دیتا، بلکہ اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے، اگر تو اس اللہ پر ایمان لے آئے تو میں اس سے دعا کروں گا اور وہ تجھے شفا دے دے گا، پس وہ آدمی ایمان لے آے اور اس لڑکے نے اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس نے اس کو شفا دے دی، پھر وہ ہم نشیں بادشاہ کے پاس آیا اور سابقہ روٹین کے مطابق بیٹھنے لگا، بادشاہ نے اس سے پوچھا: اے فلاں! کس نے تیری نظر لوٹائی ہے؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے، بادشاہ نے کہا: میں نے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میرے اور تیرے ربّ اللہ نے، اس نے کہا: کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی ربّ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، پس بادشاہ نے اس شخص کو سزا دینا شروع کر دی،یہاں تک کہ اس نے اس لڑکے کے بارے میں بتلا دیا، پس اس بادشاہ نے اس کو بلا بھیجا اور کہا: اے میرے بیٹے! تیرا جادو تو اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ تو اندھوں، پھل بہریوں اور ان بیماریوں کا علاج کرنے لگ گیا ہے، اس نے کہا: میں نے کسی کو شفا نہیں دی، صرف اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے، بادشاہ نے کہا: یعنی میں، اس لڑکے نے کہا: نہیں، بادشاہ نے کہا: کیامیرے علاوہ بھی تیرا کوئی ربّ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، وہ میرا ربّ بھی ہے اور تیرا بھی اور وہ اللہ ہے، بادشاہ نے اس کو سزا دینا شروع کر دی،یہاں تک کہ اس لڑکے نے پادری کے بارے میں بتلا دیا، پس اس پادری کو لایا گیا، بادشاہ نے اس سے کہا: اپنے دین سے پلٹ جا، لیکن اس نے انکار کیا، پس اس کے سر کی مانگ یعنی سر کے وسط میں آری رکھ کر چلائی گئی،یہاں تک کہ اس کے جسم کے دو ٹکڑے گر پڑے، پھر بادشاہ نے سابق اندھے سے کہا: تو اپنے دین سے مرتد ہو جا، لیکن اس نے بھی انکار کیا، پس اس کے سر کے وسط میں بھی آری رکھ کر چلائی گئی اور اس کے وجود کے دو ٹکڑے زمین پر گر پڑے، پھر بادشاہ نے لڑکے سے کہا: تو اپنے دین سے پلٹ جا، لیکن اس نے انکار کر دیا، پس بادشاہ نے اس کو چند افراد کے ساتھ ایک مخصوص پہاڑ کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ جب تم لوگ اس کی چوٹی پر پہنچ جاؤ تو اس سے پوچھنا، اگر یہ اپنے دین سے پلٹ آئے تو ٹھیک، وگرنہ اس کو وہاں سے لڑھکا دینا، پس وہ اس کو لے گئے اور جب پہاڑ پر چڑھنے لگے تو اس لڑکے نے یہ دعا کی: اے اللہ! تو جس چیز کے ساتھ چاہے، مجھے کفایت کر، پس پہاڑ پر زلزلہ طاری ہو گیا اور وہ سارے کے سارے لڑھک پڑے (اور مرگئے)، وہ لڑکا تلاش کرتے کرتے دوبارہ بادشاہ کے پاس پہنچ گیا، اس نے پوچھا: تیرے ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے کفایت کیا ہے، پھر بادشاہ نے اس کو ایک جماعت کے ساتھ ایک بڑی کشتی میں بھیجا اور کہا: جب تم سمندر میں گھس جاؤ تو اس سے پوچھنا، اگر یہ اپنے دین سے باز آجائے تو ٹھیک، وگرنہ اس کو غرق کر دینا، پس جب وہ سمندر میں گھسے تو اس لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو جس چیز کے ساتھ چاہتا ہے، مجھے اس کے ساتھ ان سے کفایت کر، پس وہ سارے کے سارے غرق ہو گئے اور وہ لڑکا تلاش کرتے کرتے بادشاہ کے پاس پہنچ گیا، اس نے پوچھا: تیرے ساتھیوںکا کیا بنا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے کفایت کیا ہے، پھر اس بچے نے بادشاہ سے کہا: تو اس وقت تک مجھے قتل نہیں کر سکتا، جب تک میرے حکم پر عمل نہیں کرے گا، اگر تو نے میرے حکم پر عمل کیا تو تب مجھے قتل کر سکے گا، وگرنہ تو مجھے قتل نہیں کر سکتا، بادشاہ نے کہا: وہ کون سا حکم ہے؟ اس نے کہا: تو لوگوں کو ایک میدان میںجمع کر، پھر مجھے ایک تنے پر سولی چڑھا، پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکال اور کہہ: بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ (اللہ کے نام کے ساتھ، جو اس لڑکے کا ربّ ہے) ، اگر تو یہ طریقہ اپنائے گا تو مجھے قتل کر لے گا، پس اس بادشاہ نے ایسے ہی کیا اور تیر کو کمان پر رکھا اور کہا: بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ، پس وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی پر لگا، اس نے اپنا ہاتھ تیر والی جگہ پر رکھا اور فوت ہو گیا، لوگوں نے یہ منظر دیکھ کر کہا: ہم اس لڑکے کے ربّ پر ایمان لائے ہیں، کسی نے بادشاہ سے کہا: کیا تجھے پتہ چل گیا ہے کہ جس چیز سے تو ڈرتا تھا، اللہ کی قسم! تو اسی چیز میں پھنس گیا ہے، سارے لوگ مؤمن ہو گئے ہیں، پس بادشاہ نے سزا دینے کے لیے حکم دیا کہ جہاں سے گلیاں شروع ہوتی ہیں، وہاں کھائیاں کھودی جائیں اور پھر ان میں آگ جلائی جائے، پھر اس نے کہا: جو آدمی اپنے اِس دین سے مرتد ہو جائے، اس کو چھوڑ دو، وگرنہ اُس کو اِس آگ میں دھکیل دو، پس وہ دوڑ کر آتے اور دھکم دھکا ہو کر آگ میں گھس جاتے، یہاں تک ایک خاتون اپنے شیر خوار بچے کو لے کر آئی اور یوں لگ رہا تھا کہ وہ آگ میں گھسنے سے پیچھے ہٹنا چاہتی ہے، لیکن اس بچے نے کہا: اے میری ماں! صبر کر، بیشک تو حق پر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10434

۔ (۱۰۴۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ یَتَکَلَّمْ فِیْ الْمَھْدِ اِلَّا ثَلَاثَۃٌ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ، وَ کَانَ مِنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ رَجُلٌ عَابِدٌ یُقَالُ لَہُ: جُرَیْجٌ فَاَبْتَنٰی صَوْمَعَۃً وَتَعَبَّدَ فِیْھَا، قَالَ: فَذَکَرَ بَنُوْ اِسْرَئِیْلَیَوْمًا عِبَادَۃَ جُرَیْجٍ فَقَالَتْ بَغِیٌّ مِنْھُمْ: لَئِنْ شِئْتُمْ لَاُصِیْبَنَّہُ، قَالُوْا: قَدْ شِئْنَا، قَالَ: فَاَتَتْہُ فَتَعَرَّضَتْ لَہُ فَلَمْ یَلْتَفِتْ اِلَیْھَا فَاَمْکَنَتْ نَفْسَھَا مِنْ رَاعٍ کَانَ یُؤْوِیْ غَنَمَہُ اِلٰی اَصَلِ صَوْمَعَۃِ جُرَیْجٍ فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالُوْا: مِمَّنْ؟ قَالَتْ: مِنْ جُرَیْجٍ، فَاَتَوْہُ فَاسْتَنْزَلُوْہُ فَشَتَمُوْہُ وَضَرَبُوْہُ وَ ھَدَمُوْا صَوْمَعَتَہُ، فَقَالَ: مَا شَاْنُکُمْ؟ قَالُوْا: اِنَّکَ زَنَیْتَ بِھٰذِہِ الْبَغِیِّ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، قَالَ: وَ اَیْنَ ھُوَ؟ قَالُوْا: ھَا ھُوَ ذَا؟ قَالَ: فَقَامَ فَصَلّٰی وَ دَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی الْغُلَامِ فَطَعَنَہُ بِاِصْبَعِہِ وَ قَالَ: بِاللّٰہِ یَاغُلَامُ! مَنْ اَبُوْکَ؟ قَالَ: اَنَا ابْنُ الرَّاعِیْ، فَوَثَبُوْا اِلٰی جُرَیْجٍ فَجَعَلُوْا یُقَبِّلُوْنَہُ وَ قَالُوْا: نبَنِیْ صَوْمَعَتَکَ مِنْ ذَھَبٍ، قَالَ: لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْ ذٰلِکَ، ابْنُوْھَا مِنْ طِیْنٍ کَمَا کَانَتْ، قَالَ: وَ بَیْنَمَا اِمْرَاَۃٌ فِیْ حِجْرِھَا ابْنٌ تُرْضِعُہُ اِذْ مَرَّ بِھَا رَاکِبٌ ذُوْ شَارَۃٍ فَقَالَتْ: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اِبْنِیْ مِثْلَ ھٰذَا، قَالَ: فَتَرَکَ ثَدْیَھَا وَ اَقْبَلَ عَلَی الرَّاکِبِ فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ مِثْلَہُ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ اِلَی ثَدْیَھَایَمُصُّہُ، (قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ : فَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْکِیْ عَلٰی صَنِیْعِ الصَّبِیِّ وَ وَضَعَ اِصْبَعَہُ فِیْ فَمِہِ فَجَعَلَ یَمُصُّھَا) ثُمَّ مَرَّ بِاَمَۃٍ تُضْرَبُ فَقَالَتْ: اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ اِبْنِیْ مِثْلَھَا، قَالَ: فَتَرَکَ ثَدْیَھَا وَ اَقْبَلَ عَلَی الْاَمَۃِ، فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِثْلَھَا، قَالَ: فَذٰلِکَ حِیْنَ تَرَاجَعَا الْحَدِیْثَ فَقَالَت: حَلْقَی مَرَّ الرَّاکِبُ ذُوْ الشَّارَۃِ فَقُلْتُ: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اِبْنِیْ مِثْلَہُ فَقُلْتَ: اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ مِثْلَہُ وَ مَرَّ بِھٰذِہِ الْاَمَۃِ فَقُلْتُ: اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ اِبْنِیْ مِثْلَھَا فَقُلْتَ: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِثْلَھَا، قَالَ: یَا اَمَّتَاہْ! اِنَّ الرَّاکِبَ ذُوْالشَّارَۃِ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَۃِ، وَ اِنَّ ھٰذِہِ الْاَمَۃَیَقُوْلُوْنَ زَنَتْ وَ لَمْ تَزْنِ وَ سَرَقَتْ وَ لَمْ تَسْرِقْ وَ ھِیَ تَقُوْلُ: حَسْبِیَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۵۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے، (۱) عیسی بن مریم، (۲)بنو اسرائیل میں جریج نامی ایک عبادت گزار آدمی تھا، اس نے گرجا گھر بنایا اور اس میں عبادت کی، ایک دن بنو اسرائیل نے جریج کی عبادت کا ذکر کیا، لیکن ان کی ایک زانیہ عورت نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں اس کو آزمائش میں ڈالتی ہوں؟ انھوں نے کہا: ہم یہ چاہتے ہیں، پس وہ خاتون آئی، اس کے درپے ہوئی، لیکن جب اس نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، تو اس نے اس چرواہے کو اپنے ساتھ زنا کرنے کا موقع دیا، جو اپنی بکریوں کو جریج کے گرجا گھر کے ساتھ بٹھاتا تھا، پس وہ حاملہ ہو گئی، پھر جب اس نے بچہ جنم دیا اور لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ بچہ کس سے ہے تو اس بدکار خاتون نے کہا: یہ جریج کا ہے، (یعنی جریج نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا تھا)، پس لوگ جریج کے پاس آئے، اس کو نیچے اتار کر برا بھلا کہا، اس کی پٹائی کی اور اس کا گرجا گھر گرا دیا، اس نے پوچھا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: تو نے فلاں زانیہ عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور اب اس نے بچہ بھی جنم دیا ہے، جریج نے کہا: وہ بچہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: وہ یہ ہے، پس جریج کھڑے ہوئے، نماز پڑھی اور دعا کی، پھر اس بچے کی طرف آئے، اس کو اپنی انگلی ماری اور کہا: اللہ کی قسم! اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: میں چرواہے کا بیٹا ہوں، یہ سن کر لوگ جریج پر ٹوٹ پڑے اور اس کے بوسے لینے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سونے سے تیرا گرجا گھر بنائیں گے، لیکن اس نے کہا: مجھے سونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، تم اس کو پہلے کی طرح مٹی سے بنا دو۔ (۳) ایک خاتون اپنی گودی میں ایک بچے کو دودھ پلا رہی تھی کہ اس کے پاس سے حسن و جمال والا ایک سوار گزرا، اس خاتون نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا بنا دے، بچے نے ماں کا پستان چھوڑ دیا اور سوار کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے اللہ! مجھے اس کی طرح کا نہ بنانا، پھر وہ پستان کو چوسنے لگ گیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: گویا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے کے کیے کو بیان کیا اور اپنی انگلی کو منہ میں ڈال کر چوسا۔ اتنے میں اسی خاتون کے پاس سے ایک ایسی لونڈی کو گزارا گیا، جس کی پٹائی کی جا رہی تھی، اس خاتون نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا نہ بنانا، بچے نے اس کا پستان چھوڑا اور لونڈی کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے اللہ! مجھے اسی کی طرح کا بنانا، پھر جب انھوں نے بات کو دوہرایا تو اس خاتون نے اپنے بیٹے سے کہا: میں سر منڈی، حسن و جمال والا سوار گزرا اور میں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا بنا دے تو تو نے کہا: اے اللہ! مجھے اس کی طرح کا نہ بنانا، پھر جب اس لونڈی کو گزارا گیا اور میں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کا نہ بنانا تو تو نے کہا: اے اللہ! مجھے اس کی طرح کا بنانا، اب کی بار اس بچے نے کہا: اے میری ماں! وہ حسن و جمال والا سوار سرکشوں میں سے ایک سرکش تھا اور یہ لونڈی، لوگ کہتے تھے: اس نے زنا کیا ہے، جبکہ اس نے زنا نہیں کیا تھا، لوگ کہتے تھے کہ اس نے چوری کی ہے، جبکہ اس نے چوری نہیں کی تھی، اور وہ کہہ رہی تھی: اللہ مجھے کافی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10435

۔ (۱۰۴۳۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَمْ یَتَکَلَّمْ فِیْ الْمَھْدِ اِلَّا ثَلَاثَۃٌ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَ صَبِیٌّ کَانَ فِیْ زَمَانِ جُرَیْجٍ وَ صَبِیٌّ آخَرُ،… فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، قَالَ: ((وَ اَمَّا جُرَیْجٌ فَکَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِیْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ وَ کَانْتَ لَہُ اُمٌّ وَ کَانَ یَوْمًایُصَلِّیْ اِذَا اشْتَاقَتْ اِلَیْہِ اُمُّہُ فَقَالَت: یَاجُرَیْجُ! فَقَالَ:یَا رَبِّ! الصَّلَاۃُ خَیْرٌ اَمْ اُمِّیْ آتِیْھَا، ثُمَّ صَلّٰی؟ وَ دَعَتْہُ فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ دَعَتْہُ فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِکَ وَ صَلّٰی، فَاشْتَدَّ عَلٰی اُمِّہِ و قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ اَرِجُرَیْجًا الْمُوْمِسَاتِ! ثُمَّ صَعِدَ صَوْمَعَۃً لَہُ وَ کاَنْتَ زَانِیَۃٌ مِنْ بَنِیْ اسرائیل…۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۸۰۵۸)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے: (۱) عیسی بن مریم علیہ السلام ، (۲) جریج کے زمانے کا ایک بچہ اور (۳) ایک اور بچہ، ……،پھر باقی حدیث ذکر کی، اس میںکچھ تفصیلیوں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جریج بنی اسرائیل کا ایک عبادت گزار آدمی تھا، اس کی ماں بھی حیات تھی، ایک دن وہ نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ اُدھر ماں کو اپنے بیٹے کا اشتیاق پیدا ہوا اور اس نے کہا: اے جریج! اس نے نماز کے اندر ہی کہا: اے میرے ربّ! اب نماز بہتر ہے یا اپنی ماں کے پاس چلا جاؤں؟ پھر اس نے نماز جاری رکھی، ماں نے دوبارہ آواز دی، اس نے پھر اسی طرح کیا، ماں نے سہ بارہ آواز دی، اس نے پھر اسی طرح کیا اور نماز جاری رکھی،یہ چیز ماں پر بڑی گراں گزری، چنانچہ اس نے کہا: اے اللہ! زانی عورتوں سے جریج کا واسطہ پڑے، پھر وہ اپنے گرجا گھر کی طرف چڑھا اور بنی اسرائیل کی زانی عورت، ……۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی روایت ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10436

۔ (۱۰۴۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ رَجُلٌ فِیْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ تَاجِرًا، وَ کَانَ یَنْقُصُ مَرَّۃً وَ یَزِیْدُ اُخْرٰی قَالَ: مَا فِیْ ھٰذِہِ التِّجَارَۃِ خَیْرٌ اَلْتَمِسُ تِجَارَۃً ھِیَ خَیْرٌ مِنْ ھٰذِہِ، فَبَنٰی صَوْمَعَۃً وَ تَرَھَّبَ فِیْھَا، وَ کَانَ یُقَالُ لَہُ: جُرِیْجٌ…۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہُ (مسند احمد: ۹۶۰۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کا ایک آدمی تاجر تھا، کبھی اس کا مال کم ہو جاتا اور کبھی زیادہ، بالآخر اس نے کہا: اس تجارت میں کوئی خیر نہیں ہے، میں اس سے بہتر کوئی اور تجارت تلاش کرتا ہوں، پس اس نے ایک گرجا گھر بنایا اور رہبانیت اختیارکر کے اس میں بیٹھ گیا، اس کو جریج کہا جاتا تھا، ……۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10437

۔ (۱۰۴۳۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ یَکُوْنَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرَقِ الْاَرُزِّ فَلْیَکُنْ مِثْلَہُ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَ مَا صَاحِبُ فَرَقِ الْاَرُزِّ؟ قَالَ: ((خَرَجَ ثَلَاثَۃٌ فَغَیَّمَتْ عَلَیْھِمُ السَّمَائُ فَدَخَلُوْا غَارًا فَجَائَتْ صَخْرَۃٌ مِنْ اَعْلَی الْجَبَلِ حَتّٰی طَبَّقَتِ البَابَ عَلَیْھِمْ فَعَالَجُوْھَا فَلَمْ یَسْتَطِیْعُوْھَا، فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: لَقَدْ وَقَعْتُمْ فِیْ أَمْرٍ عَظِیْمٍ فَلْیَدْعُ کُلُّ رَجُلٍ بِأَحْسَنِ مَا عَمِلَ لَعَلَّ اللّٰہَ تَعَالٰی أَنْ یُّنْجِیَنَا مِنْ ھٰذَا(فَقَالَ أَحَدُھُمْ:) اَللّٰھُمَّ أَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّہُ کَانَ لِیْ أَبَوَانِ شَیْخَانِ کَبِیْرَانِ وَکُنْتُ أَحْلُبُ حِلَابَھُمَا فَأَجِْیْئُھُمَا وَقَدْ نَامَا، فَکُنْتُ أَبِیْتُ قَائِمًا وَحِلَابُھُمَا عَلٰییَدِیْ أَکْرَہُ أَنْ أَبْدَأَ بِاَحَدٍ قَبْلَھُمَا أَوْ أَنْ اُوْقِظَھُمَا مِنْ نَوْمِھِمَا، وَصِبْیَتِیْیَتَضَآغَوْنَ حَوْلِیْ، فَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنِّیْ اِنَّمَا فَعَلْتُہُ مِنْ خَشْیَتِکَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَتَحَرَّکَتِ الصَّخْرَۃُ، قَالَ: وَقَالَ الثَّانِی: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ أَنَّہُ کَانَتْ لِیْ اِبْنَۃُ عَمٍّ لَمْ یَکُنْ شَیْئٌ مِمَّا خَلَقْتَ أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْھَا، فَسُمْتُھَا نَفْسَھَا فَقَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! دُوْنَ مِائَۃِ دِیْنَارٍ فَجَمَعْتُھَا وَدَفَعْتُھَا اِلَیْھَا حَتّٰی اِذَا جَلَسْتُ مِنْھَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ، فَقَالَتْ: اِتَّقِ اللّٰہَ وَلَاتَفُضِّ الْخَاتَمَ اِلَّا بِحَقِّہِ، فَقُمْتُ عَنْھَا، فَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّمَا فَعَلْتُہُ مِنْ خَشْیَتِکَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَزَالَتِ الصَّخْرَۃُ حَتّٰی بَدَتِ السَّمَائُ، وَقَالَ الثَّالِثُ: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ اَنَّیْ کُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِیْرًا بِفَرَقٍ مِنْ أَرُزٍّ، فَلَمَّا أَمْسٰی عَرَضْتُ عَلَیْہِ حَقَّہُ فَأَبٰی أَنْ یَّأْخُذَہُ وَذَھَبَ وَتَرَکَنِیْ، فَتَحَرَّجْتُ مِنْہُ وَثَمَّرْتُہُ لَہُ وَأَصْلَحْتُہُ حَتَّی اشْتَرَیْتُ مِنْہُ بَقَرًا وَرَاعِیَھَا فَلَقِیَنِیْ بَعْدَ حِیْنٍ، فَقَالَ: اتَّقِ اللّٰہِ وَأَعْطِنِیْ أَجْرِیْ وَلَا تَظْلِمْنِیْ، فَقُلْتُ: انْطَلِقْ اَلٰی ذٰلِکَ الْبَقَرِ وَرَاعِیْھَا فَخُذْھَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللّٰہَ وَلَاتَسْخَرْ بِیْ، فَقُلْتُ: اِنِّیْ لَسْتُ أَسْخَرُ بِکَ، فَانْطَلَقَ فَاسْتَاقَ ذٰلِکَ، فَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّیْ اِنَّمَا فَعَلْتُہُ ابْتِغَائَ مَرْضَاتِکَ خَشْیَۃً مِنْکَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَتَدَحْرَجَتِ الصَّخْرَۃُ فَخَرَجُوْا یَمْشُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۵۹۷۳)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی ایک فرق چاول والے آدمی کی طرح ہونے کی طاقت رکھتا ہے، پس چاہیے کہ وہ اس کی طرح ہو جائے۔صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک فرق چاول والے آدمی کا کیا قصہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد سفر پر نکلے، آسمان ابر آلودہوگیا، اس لیے وہ ایک غار میں داخل ہو گئے، لیکن ہوا یوں کہ پہاڑ کے اوپر والے حصے سے ایک چٹان گری اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا، انھوں نے اس کو ہٹانے کی کوشش تو کی، لیکنیہ ان کے بس کا کام نہیں تھا، پھر بعض افراد نے بعض سے کہا: تم بڑی مصیبت میں پڑ گئے ہو، اب ہر آدمی سب سے بہترین عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارے، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اس مصیبت سے نجات دے، پس ان میں ایک نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے والدین بڑی عمر کے ہو گئے تھے، میں ان کے لیے دودھ دوہ کر ان کو پلاتا تھا، ایک دن جب میں ان کا دودھ لے کر آیا تو وہ سوچکے تھے، میںنے ان کے انتظار میں کھڑے ہو کر رات گزار دی، جبکہ ان کا دودھ اٹھایا ہوا تھا، میں اس چیز کو ناپسند کرتا تھا کہ ان سے پہلے کسی کو پلاؤں یا ان کو جگاؤں اور حال یہ تھا کہ میرے بچے بھوک کی وجہ سے میرے ارد گرد چلاتے رہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری خشیت کی وجہ سے کیا تو اس چٹان کو ہم سے ہٹا دے، پس اس کا یہ کہنا تھا کہ چٹان کچھ حد تک سرک گئی، دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے چچا کی ایک بیٹی تھی، وہ تیری مخلوق میں مجھے سب سے پیاری لگتی تھی، میں نے اس سے اس کے نفس کا سودا کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! سو دیناروں سے کم پر کچھ نہیں ہو گا، پس جب میں نے یہ مقدار جمع کر کے اس کو دی اور اس سے برائی کرنے کے لیے خاوند کی طرح بیٹھ گیا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر جا اور اس مہر کو حق کے بغیر نہ توڑ، پس یہ سننا تھا کہ میں اس سے کھڑا ہو گیا، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے تیری خشیت کی وجہ سے کیا ہے تو اس چٹان کو ہم سے دور کر دے، پس چٹان تھوڑی سی مزید سرک گئی اور ان کو آسمان نظر آنے لگا، اب تیسرے فرد نے کہا: اے اللہ! بیشک تو جانتا ہے کہ میں ایک فرق چاول کے عوض ایک مزدور رکھا، جب شام ہوئی تو میں نے اس پر اس کا حق پیش کیا، لیکن اس نے کسی وجہ سے اپنا حق وصول کرنے سے انکار کر دیا اور مجھے چھوڑ کر چل دیا، پس میں نے اس سے حرج محسوس کیا اور اس کے اس سرمائے کو ثمر آور بنایا اور اس کی اصلاح کی،یہاں تک کہ میں نے اس سے گائیں اور ان کا چرواہا خرید لیا، جب وہ کچھ عرصے کے بعد ملا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر جا اور میری مزدوری مجھے دے دے اور مجھ پر ظلم نہ کر، میں نے کہا: ان گائیوں اور چرواہے کی طرف جا اور ان کو لے جا، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ سے ڈر اور میرے ساتھ مذاق تو نہ کر، میں نے کہا: بیشک میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا، پس وہ چلا اور ان کو ہانک کر لے گیا، پس اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے تیری خوشنودی تلاش کرنے کے لیےیہ کام کیا تھا تو اس چٹان کو ہم سے ہٹا دے، پس چٹان لڑھک گئی اور وہ باہر نکل کر چلنے لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10438

۔ (۱۰۴۳۸)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ الرَّقِیْمَ فَقَالَ: ((إِنَّ ثَلَا ثَۃً کَانُوْا فِیْ کَھْفٍ فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلٰی بَابِ الْکَھْفِ فَأَوْصَدَ عَلَیْھِمْ، قَالَ قَائِلٌ مِنْھُمْ: تَذَاکَرُوْا، أَیُّکُمْ عَمِلَ حَسَنَۃً لَعَلَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بِرَحْمَتِہِ یَرْحَمُنَا! فَقَالَ رَجُلٌ مِنْھُمْ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَۃً مَرَّۃً، کَانَ لِی أُجَرَآئٌ یَعْمَلُوْنَ، فَجَائَ عُمَّالٌ لِیْ، فَاسْتَأجَرْتُ کُلَّ رَجُلٍ مِنْھُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُوْمٍ فَجَائَ نِیْ رَجُلٌ ذَاتَ یَوْمٍ وَسْطَ النَّھَارِ فَاسْتَأْجَرْتُہُ بِشَطْرِ أَصْحَابِہٖ،فَعَمِلَفِی بَقِیَّۃِ نَھَارِہِ کَمَا عَمِلَ کُلُّ رَجُلٍ مِنْھُمْ فِی نَھَارِہِ کُلِّہِ فَرَأَیْتُ عَلَیَّ فِی الذِّمَامِ أَنْ لاَّ أَنْقُصَہُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِہٖأَصْحَابَہُ،لِمَاجَھِدَفِیْ عَمَلِہِ، فَقَال رَجُلُ مِنْھُمْ: أَتُعْطِی ھٰذَا مِثْلَ مَا أَعْطَیْتَنِیْ، وَلَمْ یَعْمَلْ اِلَّا نِصْفَ نَھَارٍ، فَقُلْتُ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! لَمْ أَبْخَسْکَ شَیْئًا مِنْ شَرْطِکَ وَ اِنَّمَا ھُوَ مَالِیْ، اَحْکُمُ فِیْہِ مَا شِئْتُ۔ قَالَ: فَغَضِبَ وَذَھَبَ وَتَرَکَ اَجْرَہٗ۔قَالَ: فَوَضَعْتُحَقَّہُفِی جَانِبٍ مِنَ الْبَیْتِ مَاشَائَ اللّٰہُ، ثُمَّ مَرَّتْ بِی بَعْدَ ذٰلِکَ بَقَرٌ،فَاشْتَرَیْتُ بِہٖفَصِیْلَۃً مِنَ البَقَرِ فَبَلَغْتْ مَاشَائَ اللّٰہُ فَمَرَّ بِی بَعْدَ حِیْنٍ شَیْخاً ضَعِیْفًا لَا أَعْرِفُہُ، فَقَالَ: إِنَّ لِیْ عِنْدَکَ حَقًّا، فَذَکَّرَنِیْہِ حَتّٰی عَرَفْتُہُ، فَقُلْتُ: إِیَّاکَ أَبْغِی، ھٰذَا حَقُّکَ فَعَرَضْتُہُ عَلَیْہِ جَمِیْعَھَا! فَقَالَ: یَا عَبْدَاللّٰہِ! لَا تَسْخَرْ بِی! إِن لَّمْ تَصَدَّقْ عَلَیَّ فَأَعْطِنِیْ حَقِّی، قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَسْخَرُبِکَ، إِنَّھَا لَحَقُّکَ، مَا لِیْ مِنْھَا شَیْئٌ، فَدَفَعْتُھَا إِلَیْہِ جَمِیْعاً۔ اَللَّھُمَّ! اِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ لِوَجْھِکَ فَافْرُجْ عَنّا! قَالَ: فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتّٰی رَأَوْا مِنْہُ وَأَبْصَرُوْا۔ قَالَ الآخَرُ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَۃً مَرَّۃً کَانَ لِی فَضْلٌ، فَأَصَابَتِ النَّاسَ شِدَّۃٌ، فَجَائَ تْنِی امْرَأَۃٌ تَطْلُبُ مِنِّی مَعْرُوْفاً، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ مَا ھُوَ دُوْنَ نَفْسِکِ! فَأَبَتْ عَلَیَّ فَذَھَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَذَکَّرَتْنِیْ بِاللّٰہِ، فَأَبَیْتُ عَلَیْھَا وَقُلْتُ: لَا وَاللّٰہِ مَاھُوَ دُوْنَ نَفْسِکِ! فَأَبَتْ عَلَیَّ وَذَھَبَتْ، وَذَکَرَتْ لِزَوْجِھَا، فَقَالَ لَھَا: أَعْطِیْہِ نَفْسَکِ! وَاَغْنِیْ عِیَالَکِ فَرَجَعَتْ اِلَیَّ فَنَاشَدَتْنِیْ بِاللّٰہِ فَأَبَیْتُ عَلَیْھَا وَقُلْتُ: وَاللّٰہِ!مَاھُوَدُوْنَ نَفْسِکِ! فَلَمَّا رَأَتْ ذَالِکَ أَسْلَمَتْ إِلٰیَّ نَفْسَھَا، فَلَمَّا تَکَشَّفْتُھَا وَھَمَمْتُ بِھَا، اِرْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِی فَقُلْتُ: مَاشَأْنُکِ؟ قَالَتْ: أَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ! فَقُلْتُ لَھَا: خِفْتِہِ فِی الشِّدَّۃٍ، وَلَمْ أَخَفْہُ فِی الرَّخَائِ! فَتَرَکْتُھَا وَأَعْطَیْتُھَا مَا یَحُقُّ عَلَیَّ بِمَا تَکَشَّفْتُھَا، اَللّٰھُمَّ! إِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ لِوَجْھِکَ، فَافْرُجْ عَنَّاقَالَ: فَانْصَدَعَ حَتّٰی عَرَفُوْا وَتَبَیَّنَ لَھُمْ۔ قَالَ الآخَرُ: عَمِلْتُ حَسَنَۃً مَرَّۃً کَانَ لِی أبَوْانِِ شَیْخَانِ کَبِیْرَانِ، وَکَانَ لِی غَنَمٌ فَکُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَیَّ وَأَسْقِیْھِمَا، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلٰی غَنَمِیْ قَالَ: فأَصَابَنِییَوْمُ غَیْثٍ حَبَسَنِیْ فَلَمْ أَبْرَحْ حَتّٰی أَمْسَیْتُ فَأَتَیْتُ أَھْلِیْ، وَأَخَذْتُ مَحْلَبِیْ، فَحَلَبْتُ غَنَمِیْ قَائِمَۃً فَمَضَیْتُ إِلٰی أَبَوَیَّ،فَوَجَدتُّھُمَا قَدْ نَامَا، فَشَقَّ عَلَیَّ أَنْ أُوْقِظَھُمَا، وَشَقَّ أَنْ أَتْرُکَ غَنَمِیْ، فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا، وَمَحْلَبِی عَلٰییَدِی حَتّٰی أَیْقَظَھُمَا الصُّبْحُ، فَسَقَیْتُھُمَا، اَللّٰھُمَّ! إِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ لِوَجْھِکَ فَافْرُجْ عَنَّا! قَالَ النُّعْمَانُ: لَکَاَنِّی أَسْمَعُ ھٰذِہِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالَ الْجَبَلُ: طَاقٌ، فَفَرَّجَ اللّٰہُ عَنْھُمْ فَخَرَجُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۰۷)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غار والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ایک غار میں تین آدمیوں نے پناہ لی، پہاڑ کا کچھ حصہ غار کے دروازہ پر گرا اور اس کا راستہ بند کر دیا۔ ایک نے کہا: یاد کرو، تم میں سے کس نے نیک عمل کیا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے بسبب ہم پر رحم کر دے۔ ایک آدمی نے کہا: میں نے ایک دفعہ ایک نیکی کی تھی، (اس کی تفصیلیہ ہے کہ) میرے کچھ مزدور کام کرتے تھے، میرے عمال میرے پاس آئے، میں نے ہر ایک کو معین مزدوری دی۔ ایک دن ایک آدمی نصف النھار کے وقت میرے پاس آیا، میں نے اسے مزدوری پر تو لگا دیا، لیکن (نصف دن) کی وجہ سے دوسرے مزدوروں کی مزدوری کے نصف کے بقدردینے کا طے کیا ، لیکن اس نے اس نصف دن میں اتنا کام کیا، جو دوسروں نے پورے دن میں کیا تھا، اس لیے میں نے اپنی ذمہ داری سمجھی کہ اسے اس کے ساتھیوں کی طرح پوری اجرت دوں، کیونکہ اس نے اپنا کام کرنے میں پوری محنت کی ہے۔ ان میں سے ایک آدمی نے (اعتراض کرتے ہوئے) کہا: کیا تو اس کو وہی اجرت دے رہا ہے جو مجھے دی، حالانکہ اس نے نصف دن کام کیا ہے؟میں نے کہا: اللہ کے بندے! جو کچھ تجھ سے تیرے بارے میں طے ہوا تھا، اس میں میں نے کوئی کمی نہیں کی،یہ میرا مال ہے، میں جیسے چاہوں اس کے بارے میں فیصلہ کر سکتا ہوں۔ (میری اس بات سے) اسے غصہ آیا اور وہ اجرت چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں اس کا حق رکھ دیا، پھر ایک دن میرے پاس سے گائے گزری، میں نے اس کی اجرت والے مال سے دودھ چھڑایا ہوا گائے کا بچہ خرید لیا، (اس کی نسل بڑھتی رہی اور) گائیوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایکدن وہی مزدور میرے پاس سے گزرا، وہ بوڑھا اور کمزور ہو چکا تھا، اس لئے میں نے اسے نہیں پہچانا۔ اس نے کہا: میرا حق تیرے پاس ہے، جب اس نے مجھے یاد کرایا تو بات میری سمجھ میں آ گئی۔ میں نے کہا: میں تو تیری ہی تلاش میں تھا، میں نے اس پر (ساری گائیں) پیش کرتے ہوئے کہا: یہ تیرا حق ہے۔ اس نے کہا: او اللہ کے بندے! میرے ساتھ مذاق تو نہ کر، اگر میرے ساتھ ہمدردی نہیں کر سکتا تو میرا حق تو مجھے دے دے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، یہ تیرا ہی حق ہے، اس میں کوئی چیز میری نہیں ہے، سو میں نے وہ سارا مال اسے دے دیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ نیکی تیری ذات کے لئے کی ہے تو اس سے ہمارے لئے گنجائش پیدا کر۔ (اس دعا کی وجہ سے) پتھر اتنا ہٹ (یا پھٹ) گیا کہ باہر کا ماحول انھیں نظر آنے لگ گیا۔ دوسرے نے کہا: میں نے بھی ایک دفعہ ایک نیکی کی تھی۔ (تفصیلیہ ہے کہ) میرے پاس زائد از ضرورت مال تھا، لوگ شدت میں مبتلا ہو گئے، ایک عورت میرے پاس کچھ مال طلب کرنے کے لئے آئی۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تیری شرمگاہ کے علاوہ اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ اس نے (ایسا کرنے سے) انکار کر دیا اور وہ چلی گئی، پھر وہ لوٹ آئی اور مجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیا، لیکن میں انکار پر تلا رہا اور کہا: نہیں، اللہ کی قسم! تیری شرمگاہ کے علاوہ اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس نے میرے مطالبے کا انکار دیا اور چلی گئی۔ اس نے یہ بات اپنے خاوند کو بتلائی تو اس نے کہا: تو اسے اپنا نفس دے دے (یعنی اسے زنا کرنے دے) اور (کچھ لے کر) اپنے بچوں کی ضرورت پورا کر۔ وہ آئی اور مجھ پر اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی، لیکن میں نے (پہلے کی طرح) انکار ہی کیا اور کہا: پہلے اپنا نفس فروخت کرنا ہو گا (یعنی اپنی عزت لٹانی ہو گی) ۔ جب اس نے یہ صورتحال دیکھی تو اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیا۔ جب میں نے اسے ننگا کیا اور بدکاری کا ارادہ کر لیا تو اس پر میرے نیچے کپکپی طاری ہو گئی۔ میں نے اسے کہا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میں جہانوں کے پالنہار اللہ سے ڈر رہی ہوں۔ میں نے اسے کہا: تو تنگدستی کے باوجود اس سے ڈرتی ہے اور میں تو خوشحالی میں بھی نہیں ڈرتا۔ پس میں نے اسے چھوڑ دیا اور اسے ننگا کرنے کے جرم میں جو کچھ مجھ پر عائد ہوتا تھا، میں نے اسے دے دیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ نیکی تیری ذات کے لئے کی تھی تو آج اس (چٹان) کو ہٹا دے۔ (اس دعا کی وجہ سے) وہ مزید ہٹ گئی، حتی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے لگ گئے۔ تیسرے نے کہا: میں نے بھی ایک نیکی کی تھی۔ (اس کی تفصیلیہ ہے کہ) میرے والدین بوڑھے تھے اور میرے پاس بکریاں تھیں۔ میں اپنے والدین کو کھانا کھلاتا اور دودھ پلاتا تھا اور پھر اپنی بکریوں کی طرف لوٹ جاتا تھا۔ ایک دن بارش نے مجھے (وقت پر) لوٹنے سے روک لیا، وہیں شام ہو گئی۔ جب میں گھر پہنچا، برتن لیا، بکریوں کا دودھ دوہا اور اپنے والدین کے پاس لے کر گیا، لیکن وہ (میرے پہنچنے سے پہلے) سو چکے تھے۔ ایک طرف ان کو بیدار کرنا مجھ پر گراں گزر رہا تھا اور دوسری طرف بکریوں کو (یوں ہی بے حفاظت چھوڑ آنا) پریشان کر رہا تھا۔ بہرحال میں برتن تھامے ان کے انتظار میں بیٹھا رہا، حتی کہ وہ صبح کو بیدار ہوئے اور میں نے ان کو دودھ پلایا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ نیکی تیرے لئے کی تھی تو (اس چٹان کو) ہٹا دے۔ سیدنا نعمان کہتے ہیں: گویا کہ میں یہ الفاظ اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سن رہا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس (پتھر کو غار کے دہانے سے) ہٹا دیئے اور وہ نکل گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10439

۔ (۱۰۴۳۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا لَوْ لَمْ أَسْمَعْہُ اِلَّا مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ حَتّٰی عَدَّ سَبْعَ مِرَارٍ وَلٰکِنْ قَدْ سَمِعْتُہُ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ قَالَ: ((کَانَ الْکِفْلُ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ لَا یَتَوَرَّعُ مِنْ ذَنْبٍ عَمِلَہُ، فَأَتَتَہُ اِمْرَأَۃٌ فَأَعْطَاھَا سِتِّیْنَ دِیْنَارًا عَلَی أَنْ یَطَأَھَا، فَلَمَّا قَعَدَ مِنْھَا مَقْعَدَ الرََّجُلِ مِنِ امْرَأَتِہِ أَرْعَدَتْ وَبَکَتْ ، فَقَالَ: مَا یُبْکِیْکِ أَ کْرَھْتُکِ؟ قَالَتْ: لَا وَلٰکِنْ ھٰذَا عَمْلٌ لَمْ أَعْمَلْہُ قَطُّ، وَاِنَّمَا حَمَلَنِیْ عَلَیْہِ الْحَاجَۃُ، قَالَ: فَتَفْعَلِیْنَ ھٰذَا وَلَمْ تَفْعَلِیْہِ قَطُّ، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ: اذْھَبِیْ فَالدَّنَانِیْرُ لَکِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَا یَعْصِی اللّٰہَ الْکِفْلُ أَبَدًا، فَمَاتَ مِنْ لَیْلَتِہِ فَأَصْبَحَ مَکْتُوْبًا عَلٰی بَابِہٖقَدْغَفَرَاللّٰہُلِلْکِفْلِ۔)) (مسنداحمد: ۴۷۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک حدیث سنی، اگر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک بار، یا دو بار، یہاں تک کہ انھوں سات بار کا ذکرکیا، بلکہ میں نے اس سے بھی زیادہ دفعہ سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کفل کا تعلق بنو اسرائیل سے تھا، وہ کسیگناہ سے نہیں بچتا تھا، ایک دن ایک خاتون اس کے پاس آئی، اس نے اس کو اس شرط پر ساٹھ دینار دیئے کہ وہ اس سے زنا کرے گا، پس جب وہ اس خاتون سے خاوند کی طرح بیٹھ گیا تو اس پر کپکپی طاری ہو گئی اور وہ رونے لگ گئی، اس نے کہا: تو کیوں رو رہی ہے، کیا میں نے تجھے مجبور کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ میں نے یہ جرم کبھی بھی نہیںکیاتھا، بس آج حاجت نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کر دیا ہے، اس نے کہا: تو اب یہ جرم کر رہی ہے، جبکہ اس سے پہلے تو نے کبھی ایسے نہیں کیا، پھر وہ اس سے ہٹ گیا اور کہا: تو چلی جا اور یہدینار بھی تیرے ہیں، پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! اب کفل کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرے گا، پھر وہ اسی رات کو مر گیا، صبح کے وقت اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے کفل کو بخش دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10440

۔ (۱۰۴۴۰)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ بَیْنَمَا رَجُلٌ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانَ فِیْ مَمْلَکَتِہِ فَتَفَکَّرَ فَعَلِمَ أَنَّ ذٰلِکَ مُنْقَطِعٌ عَنْہُ وَاَنَّ مَا ھُوَ فِیْہِ قَدْ شَغَلَہُ عَنْ عِبَادَۃِ رَبِّہِ فَتَسَرَّبَ فَانْسَابَ ذَاتَ لَیْلَۃٍمِنْ قَصْرِہِ فَأَصْبَحَ فِیْ مَمْلَکَۃِ غَیْرِہِ، وَأَتَی سَاحِلَ الْبَحْرِ وَکَانَ بِہٖیَضْرِبُ اللَّبِنَ بِالْأَجْرِ فَیَأْکُلُ وَیَتَصَدَّقُ بِالْفَضْلِ، فَلَمْ یَزَلْ کَذٰلِکَ حَتّٰی رَقِیَ أَمْرُہُ اِلٰی مَلِکِھِمْ وَعِبَادَتُہُ وَفَضْلُہُ، فَأَرْسَلَ مَلِکُھُمْ اِلَیْہِ أَنْ یَأْتِیَہُ فَأَبٰی أَنْ یَأْتِیَہُ، فَأَعَادَ ثُمَّ أَعَادَ اِلَیْہِ فَأَبٰی أَنْ یَأْتِیَہُ وَقَالَ: مَا لَہُ وَمَا لِیْ؟ قَالَ: فَرَکِبَ الْمَلَکُ فَلَمَّا رَآہُ الرَّجُلُ وَلّٰی ھَارِبًا، فَلَمَّا رَأٰی ذٰلِکَ الْمَلِکُ رَکَضَ فِیْ أَثْرِہِ فَلَمْ یُدْرِکْہُ، قَالَ: فَنَادَاہُ یَا عَبْدَ اللّٰہِ! اِنَّہُ لَیْسَ عَلَیْکَ مِنِّیْ بَأْسٌ، فَأَقَامَ حَتّٰی أَدْرَکَہُ فَقَالَ لَہُ: مَنْ أَنْتَ رَحِمَکَ اللّٰہُ؟ قَالَ: أَنَا فَلَانُ بْنُ فَلَانٍ صَاحِب مُلْکِ کَذَا وَکَذَا، تَفَکَّرْتُ فِیْ أَمْرِیْ فَعَلِمْتُ أَنَّ مَا أَنَا فِیْہِ مُنْقَطِعٌ، فَاِنَّہُ شَغَلَنِیْ عَنْ عِبَادَۃِ رَبِّیْ فَتَرَکْتُہُ وَ جِئْتُ ھٰھُنَا أَعْبُدُ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: مَا أَنْتَ بِِأَحْوَجَ اِلٰی مَا صَنَعْتَ مِنِّیْ، قَالَ: ثَمَّ نَزَلَ عَنْ دَابَّتِہِ فَسَیَّبَھَا ثُمَّّ نَزَلَ عَنْ دَابَّتِہِ فَسَیَّبَھَا ثُمَّّ تَبِعَہُ فَکَانَا جَمِیْعًایَعْبُدَانِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فَدَعَوَا اللّٰہَ أَنْ یُمِیْتَھُمَا جَمِیْعًا، قَالَ: فَمَاتَا، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: لَوْ کُنْتُ بِرُمَیْلَۃِ مِصْرَ لَأَرَیْتُکُمْ قُبُوْرَھُمَا بِالنَّعْتِ الَّذِیْ نَعَتَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۳۱۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تم سے پہلے ایک آدمی اپنی مملکت میں موجود تھا، اس نے سوچا اور پھر جان لیا کہ یہ سارا کچھ اس سے منقطع ہونے والا ہے اور اس مملکت نے مجھے اپنے ربّ کی عبادت سے روک رکھا ہے، پھر وہ گھسا (یعنی گھر میں الگ تھلک ہو گیا) اور ایک رات کو اپنے محل سے نکلا اور بے روک چلتا رہا، یہاں تک کہ صبح کے وقت کسی اور کی سلطنت میں پہنچ گیا، پھر وہ سمندر کے ساحل پر آیا،وہاں اجرت پر اینٹیں بناتا، اس طرح رزق حاصل کرتا اور زائد مال کا صدقہ کر دیتا، اس کا معاملہ اسی طرح رہا، یہاں تک کہ بادشاہ کو اس کے معاملے، عبادت اور فضیلت کا پتہ چل گیا، بادشاہ نے اس کو اپنے پاس آنے کا پیغام بھیجا، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا، اس نے دوبارہ پیغام بھیجا، لیکن اس نے اس بار بھی انکار کر دیا اور اس نے کہا: اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟ پھر ایک دن بادشاہ سوار ہوا اور اس کے پاس پہنچ گیا، لیکن جب اس نے بادشاہ کو دیکھا تو اس نے بھاگنا شروع کر دیا، جب بادشاہ نے اس کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو اس نے بھی سواری کو ایڑ لگائی، لیکن وہ اس کو نہ پا سکا، بالآخر بادشاہ نے کہا: او اللہ کے بندے! میری طرف سے تجھ پر کوئی حرج نہیں ہو گا، پس وہ کھڑا ہو گیا،یہاں تک کہ اس نے اس کو پا لیا اور کہا: اللہ تجھ پر رحم کرے، تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں اور فلاں بادشاہت والا ہوں، میں نے اپنے معاملے میں غور کیا اور یہ جان لیا کہ جو کچھ میرے آس پاس ہے، یہ ختم ہونے والا ہے، لیکن اس نے مجھے اپنے ربّ کی عبادت سے مشغول کر رکھا ہے، اس لیے میں اُس چیز کو چھوڑ کر یہاں آگیا اور اب اپنے ربّ کی عبادت کر رہا ہوں، یہ سن کر بادشاہ نے کہا: جو کچھ تو نے کیا ہے، اس معاملے میں تو مجھ سے زیادہ محتاج نہیںہے، پھر وہ آدمی اپنی سواری سے اترا اور اس کو چھوڑ دیا اور وہ بادشاہ بھی اپنی سواری سے اترا اور اس کو چھوڑ دیا اور اس آدمی کی پیروی کرنے لگا، پس وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور ان دونوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ ان کو اکٹھا فوت کرے، پس پھر وہ وفات پا گئے۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں مصر کے رُمیلہ میدان میں ہوتا تو تم کو ان دونوںکی قبریں ان صفات سے پہچان کر دکھاتا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو بیان کی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10441

۔ (۱۰۴۴۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ سَبَأٍ مَا ھُوَ أَ رَجُلٌ أَمْ اِمْرَأَۃٌ أَمْ أَرْضٌ؟ فَقَالَ: ((بَلْ ھُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَۃً فَسَکَنَ الْیَمَنَ مِنْھُمْ سِتَّۃٌ، وَبِالشَّامِ مِنْھُمْ أَرْبَعَۃٌ، فَأَمَّا الْیَمَانِیُّوْنَ فَمَذْحِجٌ وَکِنْدَۃُ وَالْأَزْدُ، وَالْأَشْعَرِیُّوْنَ وَأَنْمَارٌ، وَحِمْیَرُ عَرَبًا کُلُّھَا، وَأَمَّا الشَّامِیَّۃُ فَلَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَۃُ وَغَسَّانُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سبا کے بارے میں سوال کیا کہ وہ مرد تھا یا عورت یا زمین کانام ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:وہ مرد تھا، اس کے دس بچے تھے، ان میں چھ یمن میں اور چار شام میں آباد ہوئے، پس یمنییہ ہیں: مذحج، کندہ، ازد، اشعری، انمار اور حمیر،یہ سارے کے سارے عرب تھے اور شامییہ ہیں: لخم، جذام، عاملہ اور غسان۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10442

۔ (۱۰۴۴۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ مُسَیْکٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْل َاللّٰہِ! أُقَاتِلُ بِمُقْبِلِ قَوْمِیْ مُدْبِرَھُمْ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، فَقَاتِلْ بِمُقْبِلِ قَوْمِکَ مُدْبِرَھُمْ۔)) فَلَمَّا وَلَّیْتُ دَعَانِیْ فَقَالَ: ((لَا تُقَاتِلْھُمْ حَتّٰی تَدْعُوَھُمْ اِلَی الْإِسْلَامِ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ رَأَیْتَ سَبَأً، أ وَادٍ ھُوَ أَوْ جَبَلٌ، مَا ھُوَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لَا بَلْ ھُوَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرْبِ وُلِدَ لَہُ عَشْرَۃٌ، فَتَیَامَنَ سِتَّۃٌ وَتَشَائَ مَ أَرْبَعَۃٌ، تَیَامَنَ الْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِیُّوْنَ وَحِمْیَرٌ وَکِنْدَۃُ وَمذْحِجٌ وَأَنْمَارٌ الَّذِیْنَیُقَالُ لَھُمْ بَجَیْلَۃُ وَخَثْعَمُ، وَتَشَائَمَ لَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَۃُ وَغَسَّانُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۰۶)
۔ سیدنا عروہ بن مسیک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم کے مسلمان ہونے والے افراد کو لے کر اس کے اسلام قبول نہ کرنے والے افراد سے جہاد کر سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، تو اپنی قوم کے مسلمانوں کو لے کر اپنی قوم کے کافروں سے لڑائی کر۔ پھر جب میں جانے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: تو نے اس وقت تک ان سے قتال نہیں کرنا، جب تک ان کو اسلام کی دعوت نہ دے دے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سبأ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، یہ وادی کا نام ہے یا کوئی پہاڑ ہے؟ یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ تو ایک آدمی تھا، اس کے دس بچے پیدا ہوئے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں بسے، یمن میں آباد ہونے والے ازد، اشعری، حمیر، کندہ، مذحج اور انمار ہیں، مؤخر الذکرکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بجیلہ اور خثعم بھی ان میں سے ہیں، اور شام میں آباد ہونے والے لخم، جذام، عاملہ اور غسان ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10443

۔ (۱۰۴۴۳)۔ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ ھٰذَا الْأَمْرُ فِیْ حِمْیَرَ فَنَزَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْھُمْ فَجَعَلَہُ فِیْ قُرَیْشٍ وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ۔)) وَکَذَا کَانَ فِیْ کِتَابِ أَبِیْ مُقَطَّعٌٍ وَحَیْثُ حَدَّثَنَا بِہٖتَکَلَّمَ عَلَی الْإِسْتَوَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۲)
۔ سیدنا ذو مخمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریبیہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخریالفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10444

۔ (۱۰۴۴۴)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَعِمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَسُبُّوْا تُبَّعًا فِإِنَّہُ قَدْ کَانَ أَسْلَمَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۶۸)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تبع کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ وہ مسلمان ہو گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10445

۔ (۱۰۴۴۵)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَوَّلَ مَنْ سَیَّبَ السَّوَائِبَ وَعَبَدَ الْأَصْنَامَ اَبُوْخُزَاعَۃَ عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ وَإِنِّیْ رَأَیْتُہُیَجُرُّ أَمْعَائَہُ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے اونٹنیوں کو غیر اللہ کی منت ماننے کی وجہ سے آزاد چھوڑنے والا اور بتوں کی عبادت کرنے والا عمرو بن عامر ہے، یہ خزاعہ قبیلے کا باپ ہے، میں نے اسے دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاںگھسیٹ رہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10446

۔ (۱۰۴۴۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رَأَیْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ (اَلْخُزَاعِیَّ) یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ، وَکَانَ أَوَّلُ مَنْ سَیَّبَ السَّائِبَۃَ وَبَحَرَ الْبَحِیْرَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہاتھا، وہ پہلا شخص ہے، جس نے اونٹنیوں کو غیر اللہ کی منت ماننے کی وجہ سے آزاد چھوڑا اور اونٹنیوں کے کان کاٹ کر ان کو چھوڑا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10447

۔ (۱۰۴۴۷)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبِیْ کَانْ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیَقْرِی الضَّیْفَ وَیَفْعَلُ کَذَا، قَالَ: ((اِنَّ أَبَاکَ أَرَادَ شَیْئًا فَأَدْرَکَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۱)
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا، مہمان نوازی کرتا تھا اور دیگر کوئی امور سر انجام دیتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے باپ نے جس چیز کا ارادہ کیا، اس کو پا لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10448

۔ (۱۰۴۴۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ:قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِبْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِیَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمَسَاکِیْنَ فَھَلْ ذَاکَ نَافِعُہُ؟ قَالَ: ((لَا، یَاعَائِشَۃُ! إِنَّہُ لَمْ یَقُلْیَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِیْ خَطِیْئَتِیْیَوْمَ الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۲۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! ابن جدعان دورِ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مساکین کو کھانا کھلاتا تھا، آیایہ نیکیاں اس کے لئے نفع مند ثابت ہوں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، عائشہ! اس نے ایک دن بھییہ نہیں کہا تھا: اے میرے رب! روزِ قیامت میرے گناہوں کو بخش دینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10449

۔ (۱۰۴۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِمْرَؤُ الْقَیْسِ صَاحِبُ لِوَائِ الشُّعَرَائِ اِلَی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امرؤ القیس جہنم کی طرف شعراء کا جھنڈا اٹھانے والا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10450

۔ (۱۰۴۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اَشْعَرُ بَیْتٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَصْدَقُ بَیْتٍ) قَالَتْہُ الْعَرَبُ: (أَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ) وَکَادَ اُمَیَّۃُ بْنُ أَبِی الصَّلْتِ أَنْ یُسْلِمَ۔)) (مسند احمد: ۹۰۷۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر فرمایا: عربوں کا کہا ہوا سب سے سچا شعر یہ ہے: أَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے) اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10451

۔ (۱۰۴۵۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیْدِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ اسْتَنْشَدَہُ مِنْ شِعْرِ أُمَّیَۃَ بْنِ أَبِی الصَّلْتِ، قَالَ: فَأَنْشَدَہُ مِائَۃَ قَافِیَۃٍ، قَالَ: فَلَمْ أُنْشِدْہُ شَیْئًا اِلَّا قَال: ((اِیْہِ، اِیْہِ۔)) حَتّٰی اِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِائَۃِ قَافِیَۃٍ قَالَ: ((کَادَ أَنْ یُسْلِمَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۹۳)
۔ سیدنا شرید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امیہ بن ابی صلت کے شعر پڑھے، پس میں نے سو قافیے پڑھ دیئے، میں جب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا کوئی کلام سناتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اور سناؤ، اور سناؤ۔ یہاں تک کہ جب میں سو قافیوں سے فارغ ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہو جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10452

۔ (۱۰۴۵۲)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ، و ذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْوَحْیُ، فَقَدَّمَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُفْرَۃً فِیْھَا لَحْمٌ فَأَبَی أَنْ یَّأْکُلَ مِنْھَا، ثُمَّّ قَالَ: إِنِّیْ لَا آکُلُ مَا تَذْبَحُوْنَ عَلٰی أَنْصَابِکُمْ وَ لَا آکُلُ اِلَّا مَا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَ حَدَّثَ ھٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہٖوَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۶۱۱۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، زید بن عمرو بن نفیل کو بلدح کے زیریں مقام پر ملے، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزولِ وحی سے پہلے کی بات ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو ایک تھیلا پیش کیا، اس میں گوشت تھا، لیکن اس نے اس سے کھانے سے انکارکر دیا اور کہا: بیشک میں وہ چیز نہیں کھاتا جوتم اپنے تھانوں پر ذبح کرتے ہو، میں صرف وہ چیز کھاتا ہوں، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10453

۔ (۱۰۴۵۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ خَدِیْجَۃَ سَأَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ وَرْقَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ فَقَالَ: ((قَدْ رَأَیْتُہُ فِی الْمَنَامِ فَرَأَیْتُ عَلَیْہِ ثِیَابُ بَیَاضٍ فَأَحْسِبُہُ لَوْ کَانَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ ثِیَابُ بَیَاضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو خواب میں دیکھا ہے، اس نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے، میرا خیال ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتا تو اس پر سفید کپڑے نہ ہوتے۔

آیت نمبر