Musnad Ahmad

Search Results(1)

17)

17) نواقض الوضو کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 769

۔ (۷۶۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوْبَ، قَالَ عَفَّانُ: قَالَ حَمَّادٌ: أَنَا أَیُّوبُ وَقَیْسٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَّرَ الْعِشَائَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتّٰی نَامَ الْقَوْمُ ثُمَّ اسْتَیْقَظُوْا ثُمَّ نَامُوْا ثُمَّ اسْتَیْقَظُوْا، قَالَ قَیْسٌ: فَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: اَلصَّلَاۃَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلّٰی بِہِمْ وَلَمْ یَذْکُر أَنَّہُم تَوَضَّؤُوْا۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا، یہاں تک لوگ سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ بالآکر سیدنا عمر بن خطاب ؓآئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! نماز پڑھائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، راوی نے اس قسم کی کوئی بات ذکر نہیں کی کہ انھوں نے وضو کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 770

۔ (۷۷۰)۔عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: أُقِیْمَتْ صَلاۃُ الْعِشَائِ، قَالَ عَفَّانُ: أَوْ أُخِّرَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ اِلَیْکَ حَاجَۃً فَقَامَ مَعَہُ یُنَاجِیْہِ حَتّٰی نَعَسَ الْقَومُ، أَوْ قَالَ: بَعْضُ القَوْمِ، ثُمَّ صَلّٰی وَلَم یَذْکُرْ وُضُوئً ا۔ (مسند أحمد: ۱۳۸۶۸)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز عشاء کے لیے اقامت کہہ دی گئی یا ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا گیا، پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے، یہاں تک کہ لوگ سونے لگ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی اور وضو کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 771

۔ (۷۷۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنَامُوْنَ وَلَا یَتَوَضَّؤُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۱۳۹۸۳)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام سو جاتے تھے اور پھر نیا وضو نہیں کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 772

۔ (۷۷۲)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا نَؤُوْمًا وَکُنْتُ اِذَا صَلَّیْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَیَّ ثِیَابِیْ نِمْتُ، ثُمَّ قَالَ یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ: فَأَنَامُ قَبْلَ الْعِشَائِ، فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ فَرَخَّصَ لِیْ۔ (مسند أحمد: ۸۹۲)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ سونے والا آدمی تھا، اس لیے جب میں مغرب پڑھتا اور مجھ پر میرے کپڑے ہوتے تو میں سو جاتا، پھر ایک دفعہ یحییٰ بن سعید نے علیؓ کی بات نقل کرتے ہوئے یہ کہا: تو میں عشاء سے پہلے سو جاتا پس جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے رخصت دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 773

۔ (۷۷۳)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَامَ حَتّٰی نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس طرح سو گئے کہ آواز کے ساتھ سانس لینے لگے، پھر جب اٹھے تو نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 774

۔ (۷۷۴)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ عَنِ النَبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔
سیدہ عائشہؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اسی طرح کی ایک حدیث روایت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 775

۔ (۷۷۵)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ، بِتُّ عِنْدَ خَالَتِیْ مَیْمُونَۃَ فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیْفًا فَقَامَ فَصَنَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَمَا صَنَعَ ثُمَّ جَائَ فَقَامَ فَصَلّٰی فَحَوَّلَہُ فَجَعَلَہُ عَنْ یَمِیْنِہِ ثُمَّ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰی نَفَخَ، فَأَتَاہُ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ: أَخْبَرَنِیْ کُرَیْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: لَمَّا صَلّٰی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ حَتّٰی نَفَخَ، فَکُنَّا نَقُولُ لِعَمْرٍو: اِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَنَامُ عَیْنَایَ وَلَا یَنَامُ قَلْبِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۱۲)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہؓ کے گھر رات گزاری، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کو بیدار ہوئے، ہلکا سا وضو کیا اور نماز شروع کر دی، سیدنا ابن عباسؓ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرح عمل کیا اور پھر آ کر (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بائیں جانب) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو پھیر کر دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نماز پڑھتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہو کر لیٹ گئے، یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر مؤذن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا (اور نمازِ فجر کی اطلاع دی)، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز کے لیے چلے گئے اور وضو نہیں کیا۔ دوسری روایت میں ہے: سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فجر کی دو سنتیں پڑھ لیں تو لیٹ گئے اور خرّاٹے لینے لگے، پس ہم عمرو سے کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا: میرے آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 776

۔ (۷۷۶)۔عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَامَ حَتّٰی سُمِعَ لَہُ غَطِیْطٌ فَقَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ، فَقَالَ عِکْرِمَۃُ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَحْفُوظًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۴)
سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس طرح سو جاتے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی خرّاٹوں کی آواز آنے لگتی، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ عکرمہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی تو حفاظت کی گئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 777

۔ (۷۷۶)۔عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَامَ حَتّٰی سُمِعَ لَہُ غَطِیْطٌ فَقَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ، فَقَالَ عِکْرِمَۃُ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَحْفُوظًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی سجدے کی حالت میں سو جائے، اس پر کوئی وضو نہیں ہے، وضو اس پر ہے جو لیٹ کر سو جاتا ہے ، کیونکہ جب بندہ لیٹ کر سوتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے اور سست پڑ جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 778

۔ (۷۷۸)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ فَمَنْ نَامَ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۷)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 779

۔ (۷۷۹)۔عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ، فَاِذَا نَامَتِ الْعَیْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۰۳)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 780

۔ (۷۸۰)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَن مَسَّ فَرْجَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۳۱)
سیدنا زیدبن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنی فَرْج کو چھوئے وہ وضو کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 781

۔ (۷۸۱)۔عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ مَسَّ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ، وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ مَسَّتْ فَرْجَہَا فَلْتَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۷۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو (آدمی) اپنی اگلی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے، اسی طرح جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ بھی وضو کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 782

۔ (۷۸۲)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَفْضٰی بِیَدِہِ اِلٰی ذَکَرِہِ لَیْسَ دُوْنَہُ سِتْرٌ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۸۵)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنا ہاتھ اپنی اگلی شرمگاہ کو لگائے، جبکہ اس کے سامنے کوئی پردہ بھی نہ ہو تو یقینا اس پر وضو واجب ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 783

۔ (۷۸۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ ہِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبِیْ أَنَّ بُسْرَۃَ بِنْتَ صَفْوَانَؓ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَن مَسَّ ذَکَرَہُ فَلَا یُصَلِّ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۸۳۸)
سیدہ بسرہ بن صفوانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ اس وقت تک نماز نہ پڑھے، جب تک وضو نہ کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 784

۔ (۷۸۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: وَجَدتُّ فِی کِتَابِ أَبِیْ بَخَطِّ یَدِہِ، ثَنَا أَبُوالْیَمَانِ قَالَ: أَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِیُّ أَ نَّہُ سَمِعَ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ:ذَکَرَ مَرْوَانُ فِی اِمَارَتِہِ عَلٰی الْمَدِیْنَۃِ أَنَّہُ یُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ اِذَا أَفْضَی الرَّجُلُ بِیَدِہِ، فَأَنْکَرْتُ ذَالِکَ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: لَا وُضُوئَ عَلٰی مَنْ مَسَّہُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِیْ بُسْرَۃُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ مَا یُتَوَضَّأُ مِنْہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَیُتَوَضَّأُ مِن مَسِّ الذَّکَرِ۔)) قَالَ عُرْوَۃُ: فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِیْ مَرْوَانَ حَتّٰی دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِہِ فَأَرْسَلَہُ اِلٰی بُسْرَۃَ یَسْأَلُہَا عَمَّا حَدَّثَتْ مِنْ ذَالِکَ، فَأَرْسَلَتْ اِلَیْہِ بُسْرَۃُ بِمِثْلِ الَّذِیْ حَدَّثَنِیْ عَنْہَا مَرْوَانُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۳۸م)
عروہ بن زبیر کہتے ہے: جب مروان مدینہ منورہ پر حکمران تھا، اس دوران اس نے ذکر کیا کہ جب کوئی آدمی اپنا ہاتھ شرمگاہ کو لگا دے گا تو وہ وضو کرے گا، لیکن میں نے اس کی اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ شرمگاہ کوچھونے والے پر کوئی وضو نہیں ہے۔ مروان نے کہا: سیدہ بسرہ ؓ نے مجھے بیان کیا ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نواقضِ وضو ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بھی فرمایا تھا: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ لیکن مروان سے میرا مجادلَہُ جاری رہا، یہاں تک کہ اس نے اپنے محافظوں میں سے ایک آدمی کو بلا کر اسے سیدہ بسرہؓکی طرف بھیجا تاکہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں پوچھ کر آئیں، جو اس نے اس (مروان) کو بیان کی تھی، سیدہ بسرہ ؓ نے جواباً وہی حدیث ذکر کی،جو مروان نے مجھے ان کے واسطے سے بیان کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 785

۔ (۷۸۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَعِیْلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ بِمِثْلِہِ وَفِیْہِ: فَذَکَرَ الرَّسُوْلُ أَ نَّہَا تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَن مَسَّ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۸۳۶)
۔ (تیسری سند) اس میں ہے: قاصد نے بتلایا کہ سیدہ بسرہؓیہ بیان کر رہی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایاتھا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 786

۔ (۷۸۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ رَابِـعٍ)۔ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَ نَّہُ سَمِعَہُ مِنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَہُوَ مَعَ أَبِیْہِ یُحَدِّثُ أَنَّ مَرْوَانَ أَخْبَرَہُ عَنْ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَسَّ فَرْجَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) قَالَ: فَأَرْسَلَ اِلَیْہَا رَسُوْلًا وَأَ نَا حَاضِرٌ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَجَائَ مِنْ عِنْدِہَا بِذَاکَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۳۷)
۔ (چوتھی سند)عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، جبکہ وہ اپنے باپ کے ساتھ تھے، کہ مروان نے اس کو سیدہ بسرہ بنت صفوان ؓکی وساطت سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔ پھر مروان نے اس کی طرف قاصد بھیجا، جبکہ میں موجود تھا، سیدہ ؓ نے جواباً کہا: جی ہاں، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسے ہی فرمایا تھا)، پس قاصد ان کے پاس سے وہی بات لے کر آیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 787

۔ (۷۸۷)۔عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا اِذَا مَسَّ ذَکَرَہُ، قَالَ: ((اِنَّمَا ہُوَ بَضْعَۃٌ مِنْکَ أَوْ جَسَدِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۹۵)
سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا کہ جب کوئی آدمی اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو کیا وہ اس سے وضو کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 788

۔ (۷۸۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَسَسْتُ ذَکَرِیْ، أَوِ الرَّجُلُ یَمُسُّ ذَکَرَہُ فِی الصَّلٰوۃِ، عَلَیْہِ الْوُضُوئُ؟ قَالَ: ((لَا، اِنَّمَا ہُوَ مِنْکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۰۱)
۔ (دوسری سند)سیدنا طلقؓ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا: میں نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے یا ایک آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہے، کیا وہ دوبارہ وضو کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں، یہ تمہارے وجود کا حصہ ہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 789

۔ (۷۸۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ)۔عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا اِذَا مَسَّ ذَکَرَہُ فِی الصَّلَاۃِ؟ قَالَ: ((ہَلْ ہُوَ اِلَّا مِنْکَ، أَوْ بَضْعَۃٌ مِنْکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۰۴)
۔ (تیسری سند) سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے تو کیا وہ وضو کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہی ہے، (اس سے وضو کرنے کی کیا ضرورت ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 790

۔ (۷۹۰)۔عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ زُبَیْرٍ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِہِ ثُمَّ خَرَجَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ، قَالَ عُرْوَۃُ: قُلْتُ لَہَا: مَنْ ہِیَ اِلَّا أَنْتِ؟ فَضَحِکَتْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۲۸۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک بیوی کابوسہ لیا اور پھر وضو کیے بغیر نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ میں (عروہ) نے کہا: یہ بیوی آپ ہی ہوں گی؟ یہ سن کر سیدہ مسکرا پڑیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 791

۔ (۷۹۱)۔عَنْ عَائِشَۃَ أَیْضًاؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ ثُمَّ یُصَلِّیْ ثُمَّ یُقَبِّلُ وَیُصَلِّیْ وَلَا یَتَوَضَّأُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۸۳۳)
سیدہ عائشہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وضو کر کے نماز پڑھتے، پھر اپنی بیوی کا بوسہ لیتے اور پھر وضو کیے بغیر مزید نماز پڑھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 792

۔ (۷۹۲)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَؓزَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا قَالَتْ: کُنْتُ أَنَامُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرِجْلَیَّ فِی قِبْلَتِہِ، فَاِذَا سَجَدَ غَمَزَنِیْ فَقَبَضْتُ رِجْلَیَّ وَاِذَا قَامَ بَسَطتُّہُمَا وَالْبُیُوتُ لَیْسَ یَوْمَئِذٍ فِیْہَا مَصَابِیْحُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۶۶۳)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میںرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے سویا کرتی تھی اور میری ٹانگیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قبلہ کی سمت میں ہوتی تھیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سجدہ کرتے تو آپ مجھے دباتے اور میں اپنی ٹانگوں کو سمیٹ لیتی تھی، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہو جاتے تو میں ان کو بچھا دیتی، ان دنوں میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 793

۔ (۷۹۳)۔عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ أَنَّ أَبَاالدَّرْدَائِؓ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائَ فَأَفْطَرَ، قَالَ: فَلَقِیْتُ ثَوْبَانَ مَولٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ: اِنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ أَخْبَرَنِی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائَ فَأَفْطَرَ، قَالَ: صَدَقَ، أَنَا صَبَبْتُ لَہُ وَضُوْئَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۴۰)
معدان بن ابی طلحہ کہتے ہیں: سیدنا ابو درداءؓ نے مجھے بتلایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے قے کی اور پھر روزہ افطار کر دیا، اس کے بعد مسجد ِ دمشق میں مولائے رسول سیدنا ثوبانؓ سے جب میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو بتلایا کہ سیدنا ابو درداء ؓ نے مجھے بتلایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے قے کی اورپھر روزہ افطار کر دیا، انھوں نے کہا: جی انھوں نے سچ کہا، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کا پانی بہایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 794

۔ (۷۹۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ؓ قَالَ: اِسْتَقَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَفْطَرَ فَأُتِیَ بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۸۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے از خود قے کی تھی، اس لیے روزہ افطار کر دیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس پانی لایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 795

۔ (۷۹۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَؓ قَالَ: کُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُوْمِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((اِنْ شِِئْتَ تَوَضَّأْ مِنْہُ وَاِنْ شِئْتَ لَا تَوَضَّأْ مِنْہُ۔)) قَالَ: أَفَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُوْمِ الْاِبِلِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُوْمِ الْاِبِلِ۔)) قَالَ: فَنُصَلِّیْ فِیْ مَبَارِکِ الْاِبِلِ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: أَنُصَلِّیْ فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، صَلِّ فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۳۲۸)
سیدنا جابر بن سمرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بکری کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو وضو کر لے اور چاہے تو وضو نہ کرے۔ اس نے کہا: تو کیا ہم اونٹ کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کیا کر۔ اس نے کہا: کیا ہم اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ہم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 796

۔ (۷۹۶)۔عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۱۸۷۳۷)
سیدنا براء بن عازبؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 797

۔ (۷۹۷)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی عَنْ ذِی الْغُرَّۃِ ؓ قَالَ: عَرَضَ أَعْرَابِیٌّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسِیْرُ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تُدْرِکُنَا الصَّلَاۃُ وَنَحْنُ فِی أَعْطَانِ الاِبِلِ أَفَنُصَلِّیْ فِیْہَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا۔)) قَالَ: أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: أَفَنُصَلِّیْ فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُوْمِہَا؟ قَالَ: ((لَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۷۴۶)
سیدنا ذو الغرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ چل رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اونٹوں کے باڑوں میں ہی نماز کا وقت ہو جائے تو کیا ہم ان میں نماز پڑھ لیا کریں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ہم ان کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہم بکریوںکے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہم ان کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 798

۔ (۷۹۸)۔عَنْ أُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْاِبِلِ، قَالَ: (تَوَضَّئُوْا مِنْ أَلْبَانِہَا۔)) وَسُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: ((لَا تَوَضَّئُوْا مِنْ أَلْبَانِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۰۷)
سیدنا اسید بن حضیرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اونٹوں کے دودھ سے (وضو کرنے کے) بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ان کے دودھ سے وضو کیا کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بکریوں کے دودھ کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ان کے دودھ سے وضو نہ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 799

۔ (۷۹۹)۔عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَارِظٍ قَالَ: مَرَرْتُ بِأَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ فَقَالَ: أَتَدْرِیْ مِمَّا أَتَوَضَّأُ؟ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَکَلْتُہَا، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَوَضَّئُوْا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۹۴)
عبد اللہ بن قارظ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ ؓ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے، انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ میں کس چیز سے وضو کر رہا ہوں؟ پنیر کے ٹکڑے کھانے کی وجہ سے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس چیز کو آگ پر پکایا گیا ہو، اس کو کھانے سے وضو کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 800

۔ (۸۰۰)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۳۴)
سیدنا زید بن ثابت ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 801

۔ (۸۰۱)۔عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَوَضَّؤُوْا مِمَّا غَیَّرَتِ النَّارُ لَوْنَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۴۰)
سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آگ نے جس چیز کا رنگ تبدل کیا ہو، اس کو کھانے سے وضو کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 802

۔ (۸۰۲)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ ثَوْرَ أَقِطٍ فَتَوَضَّأَ مِنْہُ وَصَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۹۰۳۸)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پنیر کا ایک ٹکڑا کھایا اور اس سے وضو کیا اور نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 803

۔ (۸۰۳)۔عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلٰی مُعَاوِیَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَرَأَیْتُ نَاسًا مُجْتَمِعِینَ وَشَیْخٌ یُحَدِّثُہُم، قُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالُوا: سُہَیْلُ بْنُ الْحَنْظَلِیَّۃِ ؓ، فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: سِمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَکَلَ لَحْمًا فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۷۱)
سیدنا معاویہؓ کا غلام قاسم کہتا ہے: میں مسجد ِ دمشق میں داخل ہوا اور دیکھا کہ لوگ جمع ہیں اور ایک بزرگ ان کو احادیث بیان کر رہے ہیں، میں نے کہا: یہ بزرگ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ سیدنا سہیل بن حظلیہ ؓ ہیں، پھر میں نے ان کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی گوشت کھائے، وہ وضو کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 804

۔ (۸۰۴)۔عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَقُوْلُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَوَضَّئُوْا مِمَا مَسَّتِ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۰۸۷)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 805

۔ (۸۰۵)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَائَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ سَلَمَۃَ: اِنَّ ظِئْرَکَ سُلَیْمًا لَا یَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَیْمٍ وَقَالَ: أَْشْہَدُ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا کَانَتْ تَشْہَدُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ۔ (مسند أحمد:۲۷۲۶۰)
محمد بن طحلاء کہتے ہیں: میں نے ابو سلمہ سے کہا: تمہارے رضاعی باپ سُلَیم آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہیں کرتے، یہ سن کر انھوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓپر گواہی دیتا ہوں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر شہادت دیتے ہوئے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 806

۔ (۸۰۶)۔عَنْ أَبِیْ سُفْیَانَ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ أَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی أُمِّ حَبِیْبَۃَ زَوْجٍِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ زِیَادَۃُ وَکَانَتْ خَالَتَہُ) فَسَقَتْہُ قَدَحًا مِنْ سَوِیْقٍ فَدَعَا بِمَائٍ فَمَضْمَضَ فَقَالَتْ لَہُ: یَا ابْنَ اُخْتِیْ! أَ لَا تَتَوَضَّأ؟ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَوَضَّئُوْا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، أَوْ غَیَّرَتِ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۰۹)
ابو سفیان بن سعید بن مغیرہ، زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہؓ کے پاس گئے، جو کہ ان کی خالَہُ تھیں، انھوں نے ان کو ستو کا پیالَہ پلایا، پھر انھوں نے پانی منگوا کر کلی کی، لیکن سیدہ نے کہا: اے بھانجے! کیا تم وضو نہیں کرو گے؟ کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس چیز کو آگ پر پکایا جائے، اس سے وضو کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 807

۔ (۸۰۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔أَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی أُمِّ حَبِیْبَۃَ فَسَقَتْہُ سَوِیْقًا ثُمَّ قَامَ یُصَلِّیْ، فَقَالَتْ لَہُ: تَوَضَّأْ یَا ابْنَ أُخْتِیْ فَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَوَضَّئُوْا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ)) (مسند أحمد: ۲۷۳۱۹)
۔ (دوسری سند) ابو سفیان، سیدہ ام حبیبہؓ کے پاس گئے، انھوں نے اس کو ستو پلائے، وہ ستو پی کر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے، لیکن سیدہ نے کہا: بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس چیز کو آگ نے چھوا ہے، اس کو کھانے سے وضو کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 808

۔ (۸۰۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ)۔وَفِیْہِ: قَالَ: قَالَتْ لِیْ: أَیْ بُنَیَّ! لَا تُصَلِّیَنَّ حَتّٰی تَتَوَضَّأَ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۲۱)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: سیدہ نے کہا: پیارے بیٹے! اس وقت تک ہر گز نماز نہ پڑھو، جب تک وضو نہ کر لو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس کھانے کو آگ پر پکایا جائے، ہم ا سے کھا کر وضو کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 809

۔ (۸۰۹)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: رَأَیْتُ عُثْمَانَ ؓ قَاعِدًا فِی الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِطَعَامٍ مِمَّا مَسَّتْہُ النَّارُ فَأَکَلَہُ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَصَلّٰی ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ: قَعَدتُّ مَقْعَدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَکَلْتُ طَعَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلَّیْتُ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۵۰۵)
سعید بن مسیب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمانؓ کو مقاعد میں دیکھا، انھوں نے آگ پر پکا ہوا کھانا منگوا کر کھایا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔پھر سیدنا عثمان ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی جگہ پر بیٹھا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا کھانا کھایا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہی کی نماز پڑھائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 810

۔ (۸۱۰)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: أَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّا غَیَّرَتِ النَّارُ ثُمَّ صَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۱۹۹۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی اور پھر نماز پڑھی، جبکہ نیا وضو نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 811

۔ (۸۱۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ اِمَّا ذِرَاعًا مَشْوِیًّا وَاِمَّا کَتِفًا ثُمَّ صَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ وَلَمْ یَمَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۲۲۸۶)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جانور کا بھونا ہوا بازو یا کندھے کا گوشت کھایا اور پھر نماز پڑھی، جبکہ نہ نیا وضو کیا اور نہ پانی کو چھوا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 812

۔ (۸۱۲)۔عَنْ أَبِیْ رَافِعٍؓ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۵۶)
مولائے رسول سیدنا ابو رافعؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کی قسم حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 813

۔ (۸۱۳)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند أحمد:۲۷۱۵۷)
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ نے اسی قسم کی ایک حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 814

۔ (۸۱۴)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَقَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بَنِ عَطَائِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ عَلْقَمَۃَ أَخُو بَنِیْ عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ بَیْتَ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِغَدِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ قَالَ: وَکَانَتْ مَیْمُونَۃُ قَدْ أَوْصَتْ لَہُ بِہِ فَکَانَ اِذَا صَلَّی الْجُمُعُۃَ بُسِطَ لَہُ فِیْہِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَیْہِ فَجَلَسَ فِیْہِ لِلنَّاسِ، قَالَ: فَسَأَلَہُ رَجُلٌ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الْوُضُوئِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ: فَرَفَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَدَہُ اِلَی عَیْنَیْہِ وَقَدْ کُفَّ بَصَرُہُ فَقَالَ: بَصُرَ عَیْنَایَ ہَاتَانِ، رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ لِصَلَاۃِ الظُّہْرِ فِی بَعْضِ حُجَرِہِ ثُمَّ دَعَاہُ بِلَالٌ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَنَہَضَ خَارِجًا فَلَمَّا وَقَفَ عَلٰی بَابِ الْحُجْرَۃِ لَقِیَتْہُ ہَدِیَّۃٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ بَعَثَ بِہَا اِلَیْہِ بَعْضُ أَصْحَابِہِ، قَالَ: فَرَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَنْ مَعَہُ وَوُضِعَتْ لَہُمْ فِی الْحُجْرَۃِ، قَالَ: فَأَکَلَ وَأَکَلُوْا مَعَہُ، قَالَ: ثُمَّ نَہَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَنْ مَعَہُ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَمَا مَسَّ وَلَا أَحَدٌ مِمَنْ کَانَ مَعَہُ مَائً، قَالَ: ثُمَّ صَلّٰی بِہِمْ، وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ اِنَّمَا عَقَلَ مِنْ أَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخِرَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۷۷)
محمد بن عمر کہتے ہیں: میں جمعہ کے اگلے دن سیدنا ابن عباسؓ کے پاس گیا، جو سیدہ میمونہؓ کے گھر میں تھے، سیدہ نے ان کے لیے اس گھر کی وصیت کی تھی، جب وہ نمازِ جمعہ ادا کر لیتے تو ان کے لیے اس گھر میں چٹائی وغیرہ بچھا دی جاتی، پس وہ اس گھر کی طرف چلے جاتے اور لوگوں کے لیے بیٹھ جاتے۔ ایک دن ایک بندے نے ان سے آگ پر پکے ہوئے کھانے سے وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا، جبکہ میں سن رہا تھا۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا، جبکہ اِس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے، اور کہا: میری ان آنکھوں نے دیکھا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کسی حجرے میں وضو کیا، پھر سیدنا بلالؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کے لیے بلایا اور آپ نکل پڑے، لیکن جب حجرے کے دروازے پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو روٹی اور گوشت کا ہدیہ وصول ہوا، جو کسی صحابی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف بھیجا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ساتھ والے صحابہ کے ساتھ واپس لوٹ گئے، حجرے میں یہ کھانا لگایاگیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ نے کھایا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کسی صحابی نے پانی کو چھوا تک نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدنا ابْنِ عَبَّاسٍؓ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے آخری عمل کو پایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 815

۔ (۸۱۵)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ ؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْکُلُ یَحْتَزُّ مِنْ کَتِفِ شَاۃٍ ثُمَّ دُعِیَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ (وَفِی لَفْظٍ) فَدُعِیَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَطَرَحَ السِّکِّیْنَ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۱۷۳۸۲)
سیدنا عمرو بن امیہ ضمریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بکری کے کندھے سے (چھری کے ساتھ) گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ ایک روایت میں ہے: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کے لیے بلایا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے چھری پھینک دی اور وضو نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 816

۔ (۸۱۶)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ لَحْمًا ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَمَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۳۷۹۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے گوشت کھایا اور پھر نماز کی طرف کھڑے ہوئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 817

۔ (۸۱۷)۔عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ أَنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ؓ وَرَاٰی أَبَا ہُرَیْرَۃَ ؓ یَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِی مِمَّا أَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِن أَثْوَارِ أَقِطٍ أَکَلْتُہُمَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُبَالِیْ مِمَّا تَوَضَّأْتُ، أَشْہَدُ لَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ کَتِفَ لَحْمٍ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَمَا تَوَضَّأَ، قَالَ: وَسُلَیْمَانُ حَاضِرٌ ذَالِکَ مِنْہُمَا جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۳۴۶۴)
سیدنا ابن عباسؓ نے سیدنا ابو ہریرہؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انھوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے وضو کر رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تھے، ان کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: مجھے اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں نے کس چیز سے وضو کرنا ہے، جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کندھے کا گوشت کھایا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز کے لیے اٹھے اور وضو نہیں کیا۔ سلیمان ان دونوں شخصیتوں کے پاس موجود تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 818

۔ (۸۱۸)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ قَالَ: أَکَلْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَصَلَّوْا وَلَمْ تَوَضَّئُوْا۔ (مسند أحمد: ۱۴۳۱۲)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمرؓ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا، پھر ان سب نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 819

۔ (۸۱۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًاؓ قَالَ: قُرِّبَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُبْزٌ وَلَحْمٌ ثُمَّ دَعَا بَوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلّٰی الظُّہْرَ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِہِ فَأَکَلَ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ فَوُضِعَتْ لَہُ ہَاہُنَا (قَالَ ابْنُ بَکْرٍ: اَمَامَنَا) جَفْنَۃٌ، فِیْہَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَہَاہُنَا جَفْنَۃٌ فِیْہَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَکَلَ عُمَرُ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۱۴۵۰۷)
سیدنا جابر بن عبد اللہؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: روٹی اور گوشت پر مشتمل کھانا رسو ل اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے پیش کیا گیا، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تناول فرمایا)، پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا او رنمازِ ظہر ادا کی، پھر واپس آ کر بچا ہوا کھانا منگوایا اور اس کو تناول فرمانے کے بعد پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا، پھر میں سیدنا عمر ؓ کے ساتھ داخل ہوا، ان کے لیے یہاں ہمارے سامنے ایک بڑا پیالَہُ رکھا گیا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، وہ پیالَہُ یہاں رکھا گیا تھا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، پس سیدنا عمر ؓ نے یہ کھانا کھایا اور پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 820

۔ (۸۲۰)۔عَنْ سُوَیْدِ بْنِ نُعْمَانَؓ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ خَیْبَرَ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِالصَّہْبَائِ وَصَلّٰی الْعَصْرَ دَعَا بِالْأَطْعِمَۃِ، فَمَا أُتِیَ اِلَّا بِسَوِیْقٍ فَأَکَلُوْا وَشَرِبُوْا مِنْہُ ثُمَّ قَامَ اِلَی الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا مَعَہُ وَمَا مَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۹۳)
سیدنا سوید بن نعمان ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر والے سال رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلے، جب ہم صہباء مقَامَ پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عصر ادا کی اور کھانا طلب کیا، صرف ستو لایا گیا، لوگوں نے کھایا اور پیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کلی کر کے نمازِ مغرب کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم نے بھی کلی کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے (وضو کے لیے) پانی کو چھوا تک نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 821

۔ (۸۲۱)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وَأَبُو طَلْحَۃَ جُلُوْسًا فَأَکَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوْئٍ فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِھٰذَا الطَّعَامِ الَّذِی أَکَلْنَا، فَقَالَا: أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّیِّبَاتِ؟ لَمْ یَتَوَضَّأْ مِنْہُ مَنْ ہُوَ خَیرٌ مِنْکَ۔ (مسند أحمد: ۲۱۴۹۹)
سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں: میں، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے گوشت اور روٹی پر مشتمل کھانا کھایا، پھر میں (انس) نے وضو کیلئے پانی منگوایا، ان دونوں نے مجھے کہا: تم کیوں وضو کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے، انھوں نے کہا: کیا تم پاکیزہ چیزیں کھانے کی وجہ سے وضو کرتے ہو؟ اس ہستی نے تو اس قسم کے کھانے کے بعد وضو نہیں کیا تھا، جو تم سے بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 822

۔ (۸۲۲)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَیْدِیِّؓ قَالَ: أَکَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شِوَائً فِی الْمَسْجِدِ فَأُقِیْمَتِ الصَّلٰوۃُ فَأَدْخَلْنَا أَیْدِیَنَا فِی الْحَصٰی ثُمَّ قُمْنَا نُصَلِّیْ وَلَمْ نَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۵۴)
سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مسجد میں بھونا ہوا گوشت کھایا، پھر نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، پس ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں کے ساتھ ملے اور پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور وضو نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 823

۔ (۸۲۳)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ طَعَامًا ثُمَّ أُقِیمَتِ الصَّلٰوۃُ فَقَامَ وَقَدْ کَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَالِکَ فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ یَتَوَضَّأُ مِنْہُ فَانْتَہَرَنِیْ وَ قَالَ: ((وَرَائَ کَ۔)) فَسَائَ نِیْ وَاللّٰہِ ذَالِکَ، ثُمَّ صَلّٰی فَشَکَوْتُ ذَالِکَ اِلَی عُمَرَ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنَّ الْمُغِیْرَۃَ قَدْ شَقَّ عَلَیْہِ انْتِہَارُکَ اِیَّاہُ وَخَشِیَ أَنْ یَکُوْنَ فِی نَفْسِکَ عَلَیْہِ شَیْئٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَیْسَ عَلَیْہِ فِی نَفْسِیْ شَیْئٌ اِلَّا خَیْرٌ، وَلَکِنْ أَتَانِیْ بِمَائٍ لِأَتَوَضَّأَ وَاِنَّمَا أَکَلْتُ طَعَامًا، وَلَوْ فَعَلْتُہُ فَعَلَ ذَالِکَ النَّاسُ بَعْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۰۶)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھانا کھایا، پھر نماز کیلئے اقامت کہہ دی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھ کھڑے ہوئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کھانے سے پہلے وضو کر چکے تھے، میں پھر پانی لے آیا، (میرے خیال میں یہ تھا کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پھر وضو کریں گے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے جھڑک دیا اور فرمایا: پیچھے ہٹ جا۔ اللہ کی قسم! یہ بات مجھ پر تو بڑی گراں گزری، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی، میں نے سیدنا عمرؓ کے سامنے اپنی شکایت رکھی (کہ آج میرے ساتھ یہ کچھ ہوا ہے)۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا مغیرہ کو جھڑکنا، یہ چیز ان پر بڑی گراں گزری ہے اور وہ ڈر رہے ہیں کہ ان کے بارے میں آپ کے دل میں کوئی بات ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے دل میں ان کے بارے میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ میرے وضو کیلئے پانی لے آئے تھے، جبکہ میں نے تو صرف کھانا ہی کھایا تھا، اب اگر میں وضو کر دیتا تو میرے بعد لوگوں نے بھی کرنا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 824

۔ (۸۲۴)۔عَنْ أَبِیْ رَافِعٍؓ قَالَ: ذَبَحْنَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَاۃً فَأَمَرَنَا فَعَالَجْنَا لَہُ شَیْئًا مِنْ بَطْنِہَا فَأَکَلَ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأ۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۵۶)
سیدنا ابو رافعؓ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے ایک بکری ذبح کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حکم کے مطابق ہم نے اس کے پیٹ کا کوئی حصہ پکایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تناول فرمایا اور پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 825

۔ (۸۲۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأتِی الْقِدْرَ فَیَأخُذُ الذِّرَاعَ مِنْہَا فَیَأکُلُہَا ثُمَّ یُصَلِّیْ وَلَا یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۸۲۸)
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہنڈیا کے پاس تشریف لاتے، اس سے دستی نکال کر تناول فرماتے اور پھر نیا وضو کیے بغیر نماز پڑھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 826

۔ (۸۲۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ مَرْوَانَ قَالَ: تَوَضَّئُوْا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ اِلٰی أُمِّ سَلَمَۃَؓ فَسَأَلَہَا فَقَالَتْ: نَہَسَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدِیْ کَتِفًا ثُمَّ خَرَجَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَمَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۲۷۱۴۷)
عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں: جب سیدنا ابوہریرہؓ نے مروان کو یہ حدیث بیان کی کہ جس چیز کو آگ پر پکایا جائے، اس کو کھانے سے وضو کرو۔ مروان نے یہ سن کر سیدہ ام سلمہؓ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: میرے پاس تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کندھے کا گوشت نوچا اور نماز کی طرف چلے گئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 827

۔ (۸۲۷)۔عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ سَمِعَ مَیْمُونَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَقُوْلُ: أَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ کَتِفِ شَاۃٍ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۲۴۰۶)
مولائے ابن عباس کریب بیان کرتے ہیں کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بکری کے کندھے سے گوشت تناول فرمایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھ کھڑے ہوئے اور نیا وضو کیے بغیر نماز ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 828

۔ (۸۲۸)۔ عَنْ فَاطِمَۃَ (الزَّہْرَائَ) بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ عَنْہَا وَأَرْضَاہَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَکَلَ عَرْقًا فَجَائَ بِلَالٌ بِالْاَذَانِ فَقَامَ لِیُصَلِّیَ فَأَخَذْت بِثَوْبِہِ فَقُلْتُ: یَا أَبَتِ! أَلَا تَتَوَضَّأْ؟ فَقَالَ: ُ ((مِمَّ أَتَوَضَّأُ یَا بُنَیَّۃُ؟)) فَقُلْتُ: مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، فَقَالَ لِیْ: ((أَوَلَیْسَ أَطْیَبُ طَعَامِکُمْ مَا مَسَّتْہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۹۵۰)
سیدہ فاطمہ زہراءؓ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میرے پاس تشریف لائے اور ہڈی پر لگاہوا گوشت کھایا، اتنے میں سیدنا بلالؓ نماز کیلئے بلانے کیلئے آ گئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، لیکن میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کپڑے کو پکڑ کر کہا: اے ابو جان! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیٹی! کس چیز سے میں وضو کروں؟ میں نے کہا: آگ پر پکے ہوئے کھانے کو کھانے سے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: کیا تمہارا سب سے پسندیدہ کھانا وہی نہیں ہے، جس کو آگ پر پکایا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 829

۔ (۸۲۹)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْأَشْہَلِیِّ عَنْ أُمِّ عَامِرٍؓ بِنْتِ یَزِیْدَ امْرَأَۃٍ مِنَ الْمُبَایِعَاتِ، أَنَّہَا أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرْقٍ فِی مَسْجِدِ فُـلَانٍ فَتَعَرَّقَہُ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۳۹)
سیدہ ام عامرؓ، جو کہ بیعت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مسجد میں ہڈی والا گوشت لائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو نوچا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 830

۔ (۸۳۰)۔عَنْ أُمِّ حَکِیْمٍ بِنْتِ الزُّبَیْرِ حَدَّثَتْہُ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ فَنَھَسَ مِنْ کَتِفٍ عِنْدَھَا ثُمَّ صَلّٰی وَمَا تَوَضَّاَ مِنْ ذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۹۸)
سیدہ ام حکیم بنت زبیر بن عبد المطلبؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سیدہ ضباعہ بن زبیر کے پاس گئے اور ان کے ہاں کندھے سے نوچ کر گوشت کھایا اور پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 831

۔ (۸۳۱)۔ عَنْ ضَبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِبْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۳۱)
سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلبؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 832

۔ (۸۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ کَتِفَ شَاۃٍ فَمَضْمَضَ وَغَسَلَ یَدَہُ وَصَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۹۰۳۷)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا، پھر کلی کی اور ہاتھ دھوئے اور پھر نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 833

۔ (۸۳۳)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَأَلَ عُثْمَانَ (بْنَ عَفَّانَ)ؓ قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَیْتَ اِذَا جَامَعَ امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُمْنِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: یَتَوَضَّأُ کَمَا یَتَوَضَّأُ لِلصَّلٰوۃِ وَیَغْسِلُ ذَکَرَہُ، وَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَالِکَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَامِ وَطَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِاللّٰہِ وَأُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَأَمَرُوْہُ بِذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۴۵۸)
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا عثمانؓ سے یہ سوال کیا کہ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن منی کا انزال نہیں ہوتا؟ سیدنا عثمان ؓ نے کہا: وہ نماز والا وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے، پھر انھوں نے کہا: میں نے خود رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ بات سنی ہے۔ پھر اس نے سیدنا علی، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ سے یہی سوال کیا، ان سب نے اسی طرح کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 834

۔ (۸۳۴)۔عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ أَخْبَرَنَا أَبِیْ أَخْبَرَنَا أَبُوْ أَیُّوْبَ (الْأَنْصَارِیُّ ؓ) أَنَّ أُبَیًّا حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قُلْتُ: الرَّجُلُ یُجَامِعُ أَہْلَہُ فَلَا یُنْزِلُ؟ قَالَ: ((یَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَۃَ مِنْہُ وَیَتَوَضَّأُ وَیُصَلِّیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۴۰۳)
سیدنا ابیؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنے بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کی شرمگاہ کا جو حصہ عورت کو لگا ہے، وہ اس کو دھو لے اور وضو کر کے نماز پڑھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 835

۔ (۸۳۵)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ اِلَیْہِ فَخَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ، فَقَالَ لَہُ: (لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاکَ؟) قَالَ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِذَا أُعْجِلْتَ أَو أُقْحِطتَّ فَلَا غُسْلَ عَلَیکَ، عَلَیْکَ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۷۹)
سیدنا ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ایک انصاری آدمی کے پاس سے گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ باہر آیا تو اس کے سر سے (غسل کی وجہ سے) پانی کے قطرے بہہ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: شاید ہم نے آپ کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تجھے جلدی میں ڈال دیا جائے یا انزال نہ ہو تو تجھ پر کوئی غسل نہیں ہو گا، ایسی صورت میں وضو کیا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 836

۔ (۸۳۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی قُبَائَ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ فَمَرَرْنَا فِی بَنِیْ سَالِمٍ فَوَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَابِ بَنِیْ عِتْبَانَ فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلٰی بَطْنِ امْرَأَتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ اِزَارَہُ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ۔)) قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ الرَّجُلَ اِذَا أَتٰی امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُمْنِ عَلَیْہَا مَاذَا عَلَیْہِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّمَا الْمَائُ مِنَ الْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۴۵۴)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے ایک دوسری حدیث یوں بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سوموار کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ قبا کی طرف نکلے، ہم بنو سالم (محلے) میں سے گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وہاں بنوعتبان کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور ابن عتبان کو بلند آواز دی، جبکہ وہ اپنی بیوی کے پیٹ پر تھے، بہرحال وہ چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ہم نے اس بندے کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ پھر سیدنا ابن عتبان ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ جو اپنی بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا، اس پر کس چیز کی ذمہ داری ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 837

۔ (۸۳۷)۔عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ (الْأَنْصَارِیِّ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَائُ مِنَ الْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۷۲)
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے استعمال کیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 838

۔ (۸۳۸)۔عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ الْفُتْیَا الَّتِی کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ: اَلْمَائُ مِنَ الْمَائِ رُخْصَۃٌ، کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَخَّصَ بِہَا فِی أَوَّلِ الْاِسْلَامِ ثُمَّ أَمَرَنَا بِالْاِغْتِسَالِ بَعْدَہَا۔ (مسند أحمد: ۲۱۴۱۷)
سیدنا ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے کہ لوگ یہ جو فتوی دیتے تھے کہ غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے، یہ رخصت تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ابتدائے اسلام میں اس کی رخصت دی تھی، پھر اس کے بعد ہم کو غسل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 839

۔ (۸۳۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَہَا رُخْصَۃً لِلْمُؤْمِنِیْنَ لِقِلَّۃِ ثِیَابِہِمْ ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْہَا بَعْدُ یَعْنِیْ قَوْلَہُمْ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ ۔ (مسند أحمد: ۲۱۴۲۲)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کپڑے کم ہونے کی وجہ سے مؤمنوں کو اس چیز کی رخصت دی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع کر دیا تھا۔ رخصت سے یہ حدیث مرا د تھی: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 840

۔ (۸۴۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبِیْ قَالَ: ثَنَا یَحْیٰی بْنُ آدَمَ قَالَ: ثَنَا زُہَیْرٌوَابْنُ اِدْرِیْسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحٰقَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی حَبِیْبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِیْ حَبِیبَۃَ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ زُہَیْرٌ فِی حَدِیْثِہِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ وَکَانَ عَقَبِیًّا بَدَرِیًّا، قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَقِیْلَ لَہُ: اِنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ یُفْتِی النَّاسَ فِی الْمَسْجِدِ، قَالَ زُہَیْرٌ فِی حَدِیْثِہِ: یُفْتِی النَّاسَ بِرَأْیِہِ فِی الَّذِیْ یُجَامِعُ وَلَا یُنْزِلُ، فَقَالَ: أَعْجِلْ بِہِ، فَأَتٰی بِہِ فَقَالَ: یَا عَدُوَّ نَفْسِہِ! أَوَ قَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِیَ النَّاسَ فِی مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَأْیِکَ، قَالَ: مَا فَعَلْتُ وَلَکِنْ حَدَّثَنِیْ عُمُومَتِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: أَیُّ عُمُومَتِکَ؟ قَالَ: أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ، قَالَ زُہَیْرٌ وَأَبُوْ أَیُّوْبَ وَرِفَاعَۃُ بْنُ رَافِعٍ: فَالْتَفَتَ اِلَیَّ وَقَالَ: مَا یَقُوْلُ ھٰذَا الْفَتٰی؟ وَقَالَ زُہَیْرٌ: مَا یَقُولُ ھٰذَا الْغُلَامُ؟ فَقُلْتُ: کُنَّا نَفْعَلُہُ فِی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَسَأَلْتُمْ عَنْہُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: کُنَّا نَفْعَلُہُ عَلٰی عَہْدِہِ فَلَمْ نَغْتَسِلْ، قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلٰی أَنَّ الْمَائَ لَا یَکُونُ الِاَّ مِنَ الْمَائِ اِلَّا رَجُلَیْنِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَا: اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَقَالَ عَلِیٌّ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِھٰذَا أَزْوَاجُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَأَرْسَلَ اِلٰی حَفْصَۃَ فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِیْ، فَأَرْسَلَ اِلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَتَحَطَّمَ عُمَرُ یَعْنِی تَغَیَّظَ ثُمَّ قَالَ: لَا یَبْلُغُنِیْ أَنَّ أَحَدًا فَعَلَہُ وَلَا یَغْتَسِلُ اِلَّا أَنْہَکْتُہُ عُقُوْبَۃً۔ (مسند أحمد: ۲۱۴۱۳)
سیدنا رفاعہ بن رافعؓ، جو کہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمرؓ کے پاس تھا، کسی نے ان سے کہا: سیدنا زید بن ثابت مسجد میں لوگوں کو اپنے رائے کی روشنی میں اس آدمی کے بارے فتوی دیتے ہیں جو مجامعت کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اس کو جلدی جلدی میرے پاس لے آؤ، پس وہ اس کو لے آئے، سیدنا عمر ؓ نے کہا: او اپنی جان کے دشمن! کیا تو اس حدتک پہنچ گیا ہے کہ تو نے لوگوں کو مسجد ِ نبوی میں اپنی رائے کی روشنی میں فتوے دینا شروع کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے تو ایسی کوئی کاروائی نہیں کی، البتہ میرے چچوں نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کیا ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: کون سے تیرے چچے؟ انھوں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابو ایوب اور سیدنا رفاعہ بن رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: یہ نوجوان کیا کہتا ہے؟ میں نے جواباً کہا: جی ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے عہد میں ایسے ہی کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: تو پھر کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے میں پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں ایسے ہی کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے۔ پھر انھوں نے لوگوں کو جمع کر کے یہ بات پوچھی، ہوا یوں کہ سب لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غسل کا پانی منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا تھا، ما سوائے دو آدمیوں سیدنا علی اور سیدنا معاذؓ کے، یہ دو کہتے تھے: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں اس چیز کو زیادہ جاننے والی ہیں، تو آپ نے سیدہ حفصہؓ کی طرف اس بارے میں پیغام بھیجا۔ انھوں نے جواباً کہا: مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، پھر انھوں نے سیدہ عائشہؓکی طرف پیغام بھیجا، انھوں نے کہا: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول نہ ہونے پائے کہ کسی نے ایسا کام کیا ہو اور پھر غسل نہ کیا ہو، وگرنہ میں اسے سخت ترین سزا دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 841

۔ (۸۴۱)۔عَنْ عَائِشَۃَؓقَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِہَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۷۱۰)
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جاتا ہے اور اپنی ختنے والی جگہ اس کی ختنے والی جگہ سے ملا دیتا ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 842

۔ (۸۴۲)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِِ وَتَوَارَتِ الْحَشَفَۃُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔ (مسند أحمد: ۶۶۷۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنے والے دو مقامات مل جاتے ہیں اور حشفہ چھپ جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 843

۔ (۸۴۳)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا جَلَسَ بَیْنَ شُعَبِہَا الْأَرْبَعِ وَأَجْہَدَ نَفْسَہُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ جَہَدَہَا) فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ أَنْزَلَ أَوْ لَمْ یُنْزِلْ۔)) (مسند أحمد: ۸۵۵۷)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں میں بیٹھ جائے اور پھر اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے (ایک روایت کے مطابق پھر اسے (بیوی کو) مشقت میں ڈالے) تو غسل واجب ہو جائے گا، انزال ہو یا نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 844

۔ (۸۴۴)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَی (الْأَشْعَرِیِّ) ؓ قَالَ لِعَائِشَۃَؓ: اِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنْ شَیْئٍ وَأَنَا أَسْتَحْیِیْ مِنْکِ، فَقَالَتْ: سَلْ وَلَا تَسْتَحْیِیْ، فَاِنَّمَا أَنَا أُمُّکِ، فَسَأَلَہَا عَنِ الرَّجُلِ یَغْشٰی وَلَا یُنْزِلُ، فَقَالَتْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۶۲)
سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، جبکہ میں آپ سے شرماتا بھی ہوں، انھوں نے کہا: تم سوال کرو اور نہ شرماؤ، میں تمہاری ماں ہی ہوں۔ پھر انھوں نے اس آدمی کے بارے میں سوال کیاجو اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن انزال نہیں ہوتا، انھوں نے جواباً کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنہ والی جگہ، ختنے والی جگہ سے ٹکرا جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 845

۔ (۸۴۵)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۶)
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنے والی جگہ، ختنے والی جگہ سے آگے بڑھ جائے (یعنی اندر داخل ہو جائے) تو غسل واجب ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 846

۔ (۸۴۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَمَّا یُوجِبُ الْغُسْلَ وَعَنِ الْمَائِ یَکُونُ بَعْدَ الْمَائِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فِی الْبَیْتِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فِی الْمَسْجِدِ وَعَنْ مُؤَاکَلَۃِ الْحَائِضِ، فَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، اَمَّا أَنَا فَاِذَا فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا، فَذَکَرَ الْغُسْلَ، قَالَ: أَتَوَضَّأُ وُضُوئِیْ لِلصَّلَاۃِ أَغْسِلُ فَرْجِیْ ثُمَّ ذَکَرَ الْغُسْلَ، وَأَمَّا الْمَائُ یَکُوْنُ بَعْدَ الْمَائِ فَذَالِکَ الْمَذْیُ وَکُلُّ فَحْلٍ یُمْذِیْ فَأَغْسِلُ مِنْ ذَالِکَ فَرْجِیْ وَأَتَوَضَّأُ، وَأَمَّا الصَّلٰوۃُ فِی الْمَسْجِدِ وَالصَّلٰوۃُ فِیْ بَیْتِیْ فَقَدْ تَرٰی مَا أَقْرَبَ بَیْتِیْ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّیَ فِیْ بَیْتِی أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّیَ فِی الْمَسْجِدِ اِلَّا أَنْ تَکُوْنَ صَلَاۃً مَکْتُوبَۃً، وَأَمَّا مُؤَاکَلَۃُ الْحَائِضِ فَآکُلُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۱۶)
سیدنا عبد اللہ بن سعدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوالات کیے: کون سی چیز غسل کو واجب کرتی ہے، پیشاب کے بعد آ جانے والے سفید قطروں کا حکم، گھر اور مسجد میں نماز کا حکم اور حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، رہا مسئلہ میرا تو جب میں ایسے ایسے کرتا ہوں تو آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں نماز والا وضو کر تا ہوں، اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور پھر غسل کر لیتا ہوں۔ رہا مسئلہ پیشاب کے بعد نکل آنے والے قطروں کا، تو یہ مذی ہے اور ہر نر کو مذی آ جاتی ہے، میں اس کی وجہ سے اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور وضو کر لیتا ہوں، جہاں تک مسجد اور گھر میں نماز پڑھنے کی بات ہے تو تم دیکھ رہے ہو کہ میرا گھر میری مسجد کے بالکل قریب ہے، لیکن مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا، مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے، الا یہ کہ فرضی نماز ہو، اور رہا مسئلہ حائضہ کے ساتھ کھانے پینے کا تو میں تو ایسی بیوی کے ساتھ کھاتا پیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 847

۔ (۸۴۷)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الرَّجُلِ یَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا یَذْکُرُ احْتِلَامًا، قَالَ: ((یَغْتَسِلُ۔)) وَعَنِ الرَّجُلِ یَرٰی أَ نَّہُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا یَرٰی بَلَلًا، قَالَ: ((لَا غُسْلَ عَلَیْہِ۔)) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: ہَلْ عَلَی الْمَرْأَۃِ تَرٰی ذَالِکَ شَیْئٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، اِنَّمَا النِّسَائُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۷۲۵)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو منی کی تری تو پاتا ہے، لیکن اسے احتلام یاد نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ غسل کرے گا۔ پھر اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس کا یہ خیال ہے کہ اسے احتلام تو ہوا ہے، لیکن وہ تری کو نہیں پاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس پر کوئی غسل نہیں ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اگر عورت کو اسی قسم کا خواب آئے، تو کیا اس کا بھی یہی حکم ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، عورتیں مردوں کی مانند ہی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 848

۔ (۸۴۸)۔عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ سُلَیْمٍؓ قَالَتْ: کَانَتْ مُجَاوِرَۃَ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَتْ تَدْخُلُ عَلَیْہَا فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ اِذَا رَأَتِ الْمَرْأَۃُ أَنَّ زَوْجَہَا یُجَامِعُہَا فِی الْمَنَامِ أَتَغْتَسِلُ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: تَرِبَتْ یَدَاکَ یَا أُمَّ سُلَیْمٍ! فَضَحْتِ النِّسَائَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ وَاِنَّا اِنْ نَسْأَلِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَمَّا أَشْکَلَ عَلَیْنَا خَیْرٌ مِنْ أَنْ نَکُونَ مِنْہُ عَلٰی عَمْیَائَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاُمِّ سَلَمَۃَ: ((أَنْتِ تَرِبَتْ یَدَاکِ، نَعَمْ یَا أُمَّ سُلَیْمٍ! عَلَیْہَا الْغُسْلُ اِذَا وَجَدتِ الْمَائَ۔)) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَہَلْ لِلْمَرْأَۃِ مَائٌ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَأَنّٰی یُشْبِہُہَا وَلَدُہَا؟ ہُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۵۹)
سیدہ ام سلیمؓ، زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ کہ ہمسائی تھیں اور وہ ان کے پاس آتی رہتی تھیں، ایک دن نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ گھر میں داخل ہوئے اور سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، اے ام سلیم! تو نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے نزدیک عورتوں کو رسوا کر دیا ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا اور اگر ہم اپنے اشکالات کے بارے میں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کر لیں تو یہ اس سے تو بہتر ہے کہ ان کے بارے میں ہم جاہل اور اندھے ہوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدہ ام سلمہؓ سے فرمایا: بلکہ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، جی ہاں ام سلیم! جب ایسی عورت منی کا پانی محسوس کرے گی تو اس پر غسل ہو گا۔ سیدہ ام سلیمؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کا بھی پانی ہوتا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے، اس معاملے میں خواتین مردوں کی طرح ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 849

۔ (۸۴۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُونَ وَحَدَّثَنِیْ حَجَّاجٌ قَالَ: أَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: امْرَأَۃَ أَبِیْ طَلْحَۃَ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الْمَرْأَۃُ تَرٰی زَوْجَہَا فِی الْمَنَامِ یَقَعُ عَلَیْہَا أَعَلْیْہَا غُسْلٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، اِذَا رَأَتِ الْمَائَ۔)) فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: وَتَفْعَل ذَالِکَ؟ فَقَالَ: ((تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ، فَأَنّٰی یَأتِیْ شَبَہُ الْخُؤُولَۃِ اِلَّا مِنْ ذَالِکَ،أَیُّ النُّطْفَتَیْنِ سَبَقَتْ اِلَی الرَّحِمِ غَلَبَتْ عَلٰی الشَّبَہِ۔)) وَقَالَ حَجَّاجٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: تَرِبَتْ جَبِیْنُکِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۱۶۶)
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم زوجہ سیدنا ابو طلحہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا اس پر غسل واجب ہو جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ منی کا پانی دیکھ لے گی۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: کیا عورت کا پانی بھی نکلتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، بچے کی ماموؤں کے ساتھ مشابہت عورت کے اسی پانی کی وجہ سے ہوتی ہے، دو نطفوں میں سے جو نطفہ رحم کی طرف سبقت لے جاتا ہے، وہی مشابہت پر غالب آ جاتا ہے۔ حجاج کی حدیث میں ہے: تیری پیشانی خاک آلود ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 850

۔ (۸۵۰)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ)۔عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّہَا أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، ہَلْ عَلٰی الْمَرْأَۃِ غُسْلٌ اِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، اِذَا رَأَتِ الْمَائَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۱۴)
۔ (دوسری سند)سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، تو کیا جب عورت کو احتلام ہو جاتا ہے، تو اس پر غسل ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ پانی (منی) دیکھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 851

۔ (۸۵۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔عَنْہَا عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: جَائَ تْ أُمُّ سُلَیْمٍ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَتْہُ عَنِ الْمَرْأَۃِ تَرٰی فِی مَنَامِہَا مَا یَرَی الرَّجُلُ، فَقَالَ: ((اِذَا رَأَتِ الْمَائَ فَلْتَغْتَسِلْ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَائَ، وَہَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَۃُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ، فَبِمَ یُشْبِہَا وَلَدُہَا اِذًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۴۸)
۔ (تیسری سند) سیدہ ام سلمہؓ کہتی ہیں: سیدہ ام سلیمؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف آئی اور اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب وہ پانی دیکھ لے، تو غسل کرے۔ میں نے کہا: تو نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا ہے، بھلا کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو پھر عورت کا بچہ اس سے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 852

۔ (۸۵۲)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ سُمَیَّۃَ سَمِعَتُ ابْنَ عُمَرَ ؓ یَقُولُ: سَأَلَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ وَہِیَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَرَی الْمَرْأَۃُ فِی الْمَنَامِ مَا یَرَی الرَّجُلُ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا رَأَتِ الْمَرْأَۃُ ذَالِکَ وَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ)) (مسند أحمد: ۵۶۳۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مرو ی ہے کہ سیدہ ام سلیم ؓ، جو کہ سیدنا انس بن مالک ؓ کی والدہ تھیں، نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ مرد خواب میں دیکھتا ہے اور اگر وہی کچھ عورت دیکھے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب یہ چیز دیکھے اور اسے انزال بھی ہو تو وہ غسل کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 853

۔ (۸۵۳)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ امْرَأَۃٍ تَرٰی فِی مَنَامِہَا مَا یَرَی الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ رَأَتْ ذَالِکَ مِنْکُنَّ فَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ۔)) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: أَوَ یَکُونُ ذَالِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مَائُ الرَّجُلِ غَلِیْظٌ أَبْیَضُ وَمَائُ الْمَرْأَۃِ أَصْفَرُ رَقِیْقٌ، فَأَیُّہَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَھَہُ الْوَلَدُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۲۴۷)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو اپنے خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت اس طرح کا خواب دیکھے اور پھر اسے انزال بھی ہو جائے تو وہ غسل کرے۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کے ساتھ بھی ایسے ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتاہے، ان میں سے جو سبقت لے جاتا ہے، اسی سے بچے کی مشابہت ہو جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 854

۔ (۸۵۴)۔عَنْ عُـرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ امْرَأۃً قَالَتْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ہَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَۃُ اِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَائَ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ: تَرِبَتْ یَدَاکِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((دَعِیْہَا، وَہَلْ یَکُونُ الشَّبَہُ اِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَالِکَ، اِذَا عَلَا مَاؤُہَا مَائَ الرَّجُلِ أَشْبَہَ أَخَوَالَہُ، وَاِذَا عَلَا مَائُ الرَّجُلِ مَائَ ہَا أَشْبَہَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۱۷)
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: جب عورت کو احتلام ہو جائے اور وہ پانی بھی دیکھ لے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہؓ نے اس خاتون سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: چھوڑ دے اس عورت کو، (یہ صحیح کہہ رہی ہے) اسی وجہ سے تو مشابہت ہوتی ہے، جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ ماموؤں کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچے کی مشابہت اس سے ہو جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 855

۔ (۸۵۵)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ حَکِیْمٍؓ أَ نَّہَا سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمَرْأَۃِ تَرٰی فِی مَنَامِہَا مَا یَرَی الرَّجُلُ، فَقَالَ: ((لَیْسَ عَلَیْہَا غُسْلٌ حَتّٰی یَنْزِلَ الْمَائُ کَمَا أَنَّ الرَّجُلَ لَیْسَ عَلَیْہِ غُسْلٌ حَتّٰی یُنْزِلَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۸۵۵)
سیدہ خولَہُ بنت حکیمؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تک پانی کانزول نہیں ہو گا، اس پر کوئی غسل نہیں ہو گا، جیسے مرد پر اس وقت تک غسل نہیں ہوتا، جب تک اسے انزال نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 856

۔ (۸۵۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: اِنَّ خَوْلَۃَ بِنْتَ حَکِیْمٍ السُّلَمِیَّۃَ وَہُوَ اِحْدٰی خَالَاتِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمَرْأَۃِ تَحْتَلِمُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لِتَغْتَسِلْ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۸۵۶)
۔ (دوسری سند) سیدہ خولہ بن حکیم سُلَمِیّہؓ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایک خالہ تھیں، نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جسے احتلام ہو جائے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ غسل کرے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 857

۔ (۸۵۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍؓ أَنَا وَرَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنْ قَوْمِی وَرَجُلٌ مِنْ بَنِیْ أَسَدٍ أَحْسِبُ، فَبَعَثَہُمَا وَجْہًا وَقَالَ: أَمَا اِنَّکُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِیْنِکُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَقَضٰی حَاجَتَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَخَذَ حَفْنَۃً مِن مَّائٍ فَتَمَسَّحَ بِہَا ثُمَّ جَعَلَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَکَأَنَّہُ رَآنَا أَنْکَرْنَا ذَالِکَ، ثُمَّ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْضِیْ حَاجَتَہُ ثُمَّ یَخْرُجُ فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیَأکُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَم یَکُنْ یَحْجُبُہُ عَنِ الْقُرْآنِ شَیْئٌ لَیْسَ الْجَنَابَۃَ۔ (مسند أحمد: ۸۴۰)
عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں: میں اور دو آدمی، ہم سب سیدنا علیؓ کے پاس گئے، ایک آدمی میرے قوم سے تھا اور میرے خیال کے مطابق دوسرا بنو اسد سے تھا، سیدنا علی ؓ نے ان کو ایک طرف بھیج دیااور ان سے کہا: تم دونوں قوی آدمی ہو، اس لیے میں تم کو جس کام کی طرف بھیج رہا ہوں، اس میں اچھی طرح محنت کرنا، پھر وہ قضائے حاجت کے لیے ایک جگہ میں گئے، قضائے حاجت کی، پھر وہاں سے نکلے اور پانی کا ایک چلّو لیا اور اس سے ہاتھ دھوئے اور پھر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ہم لوگ ان کی اس کاروائی کو صحیح نہیں سمجھ رہے تو انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی قضائے حاجت کر کے قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے اورہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے اور جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے قرآن مجید سے مانع نہیں ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 858

۔ (۸۵۸)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَالَمْ یَکُنْ جُنُبًا۔ (مسند أحمد: ۱۱۲۳)
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں قرآن مجید پڑھاتے تھے، الّا یہ کہ جنابت کی حالت میں ہوتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 859

۔ (۸۵۹)۔عَنْ أَبِی الْغَرِیْفِ قَالَ: أُتِیَ عَلِیٌّؓ بِوَضُوْئٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَـلَاثًا وَغَسَلَ یَدَیْہِ وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأسِہِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ شَیْئًا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا لِمَنْ لَیْسَ بِجُنُبٍ، فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آیَۃً۔)) (مسند أحمد: ۸۷۲)
ابو غریف کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انھوں نے تین تین بار کلی اور ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھوں اور بازوؤں کو دھویا، پھر اپنے سرکا مسح کیا اور پھر پاؤں کو دھویا۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے قرآن مجید کی کچھ تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: وہ بندہ یہ تلاوت کر سکتا ہے، جو جنبی نہ ہو، رہا مسئلہ جنابت والے آدمی کا تو وہ تلاوت نہیں کر سکتا ہے، ایک آیت بھی نہیں پڑھ سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 860

۔ (۸۶۰)۔ عَنْ عَلِیٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ جُنُبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ وَلَا کَلْبٌ۔)) (مسند أحمد: ۶۳۲)
سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس میں جنابت والا آدمی، تصویر اور کتا ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 861

۔ (۸۶۱)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ أَمَرَ عَلِیًّا فَوَضَعَ لَہُ غُسْلًا ثُمَّ أَعْطَاہُ ثَوْبًا فَقَالَ: ((اُسْتُرْنِیْ وَوَلِّنِیْ ظَہْرَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۱۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا علی ؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کا پانی رکھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو ایک کپڑا دے کر فرمایا: اس کے ساتھ مجھ پر پردہ کرو اور اپنی پیٹھ میری طرف کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 862

۔ (۸۶۲)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ مُوسَی ابْنَ عِمْرَانَ کَانَ اِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْخُلَ الْمَائَ لَمْ یُلْقِ ثَوْبَہُ حَتّٰی یُوَارِیَ عَوْرَتَہُ بِالْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۰۰)
سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک حضرت موسی بن عمرانؑجب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اس وقت تک کپڑا نہیں اتارتے تھے، جب تک پردے کے مقامات کو پانی نہ چھپا لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 863

۔ (۸۶۳)۔عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَیِِیُّ سِتِّیْرٌ، فَاِذَا أَرَادَ أَحَدُکُم أَنْ یَغْتَسِلَ فَلْیَتَوَارَ بِشَیْئٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۳۳)
سیدنا یعلی بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بہت زیادہ حیادار اور پردے والا ہے، اس لیے جب کوئی آدمی غسل کرنے لگے تو وہ کسی چیز کے ساتھ چھپ جایا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 864

۔ (۸۶۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْحَیَائَ وَالسِّتْرَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۳۱)
سیدنا یعلی بن امیہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 865

۔ (۸۶۵)۔عَنْ أَبِیْ مُرَّۃَ مَوْلٰی عَقِیلِ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ عَنْ أُمِّ ہَانِیئٍ (بِنْتِ أَبِیْ طَالِبٍ)ؓ أَنَّہَا ذَہَبَتْ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ قَالَتْ: فَوَجَدتُّہُ یَغْتَسِلُ وَفَاطِمَۃُ تَسْتُرُہُ بِثَوْبٍ، (الحدیث) سَیَأْتِی بِتَمِامِہِ فِی غَزْوَۃِ فَتْحِ مَکَّۃَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔ (مسند أحمد: ۲۷۹۲۳)
سیدہ ام ہانیؓ سے مروی ہے کہ وہ فتح مکہ والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف گئیں، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس حالت میں پایا کہ آپ غسل فرما رہے تھے اور سیدہ فاطمہ ؓ ایک کپڑے کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا پردہ کر رہی تھیں، …۔ (یہ پوری حدیث غَزْوَۃُ فَتْحِ مَکَّۃَ میں آئے گی۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 866

۔ (۸۶۶)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((بَیْنَمَا أَیُّوْبُ یَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ جَرَادٌ مِنْ ذَہَبٍ، فَجَعَلَ أَیُّوْبُ یَحْثِیْ فِی ثَوْبِہِ، فَنَادَاہُ رَبُّہُ یَا أَیُّوْبُ! أَلَمْ أَکُنْ أَغْنَیْتُکَ عَمَّا تَرٰی؟ قَالَ: بَلٰی یَا رَبِّ، وَلٰکِنْ لَا غِنًی بِیْ عَنْ بَرَکَتِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۴۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حضرت ایوب ؑ برہنہ حالت میں غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، حضرت ایوبؑ ان کو اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگ گئے، اس کے ربّ نے اس کو یوں آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کیا، جو تجھے نظر آ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن تیری برکت سے کوئی بے پرواہی نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 867

۔ (۸۶۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: کَمْ یَکْفِیْنِیْ مِنَ الْوُضُوئِ؟ قَالَ: مُدٌّ، قَالَ: کَمْ یَکْفِینِیْ لِلْغُسْلِ؟ قَالَ: صَاعٌ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا یَکْفِیْنِیْ، قَالَ: لَا أُمَّ لَکَ قَدْ کَفٰی مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۶۲۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: مجھے وضو کے لیے کتنا پانی کفایت کرے گا؟ انھوں نے کہا: ایک مُدّ، اس نے کہا: غسل کے لیے مجھے کتنا پانی کفایت کرے گا؟ انھوں نے کہا: ایک صاع، یہ سن کر اس نے کہا: یہ مقدار تو مجھے کفایت نہیں کرے گی، انھوں نے کہا: تیری ماں ہی نہ ہو، یہ مقدار اس ہستی کو تو کفایت کرتی تھی، جو تجھ سے بہتر ہے، یعنی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 868

۔ (۸۶۸)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ بِاِنَائٍ یَکُونُ رِطْلَیْنِ وَیَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۸۷۴)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دو رطل کے بقدربرتن سے وضو کرتے تھے اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 869

۔ (۸۶۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَیَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ۔ (مسند أحمد: ۱۴۳۰۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے اورایک مُدّ سے وضو کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 870

۔ (۸۷۰)۔عَنْ سَفِیْنَۃَؓ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُوَضِّئُہُ الْمُدُّ وَیُغَسِّلُہُ الصَّاعُ مِنَ الْجَنَابَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۷۶)
مولائے رسول سیدنا سفینہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مُدّ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو اور ایک صاع سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا غسل جنابت ہو جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 871

۔ (۸۷۱)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَیَغْتَسِلُ بِنَحْوِ الصَّاعِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۰۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک مُدّ پانی سے وضو کرتے تھے اور ایک صاع کے بقدر پانی سے غسل کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 872

۔ (۸۷۲)۔عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ قَالَ: جَائُ وْا بِعُسٍّ فِی رَمَضَانَ، فَحَزَرْتُہُ بِثَمَانِیَۃِ أَوْ تِسْعَۃِ أَوْ عَشَرَۃِ أَرْطَالٍ، فَقَالَ مُجَاہِدٌ: حَدَّثَتْنِیْ عَائِشَۃُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ بِمِثْلِ ہٰذَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۵۲)
موسی جہنی کہتے ہیں: لوگ رمضان میں ایک بڑا پیالہ لے کر آئے، میں نے اندازہ لگایا کہ وہ آٹھ یا نو یا دس رطل ہو گا، مجاہد