Musnad Ahmad

Search Results(1)

171)

171) سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10651

۔ (۱۰۶۵۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بُعِثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ وَہُوَ ابْنُ أَرْبَعِینَ سَنَۃً، فَمَکَثَ بِمَکَّۃَ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَبِالْمَدِینَۃِ عَشْرَ سِنِینَ، قَالََ: فَمَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّینَ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۰)
سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزولِ قرآن کی ابتداء جب ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس برس مدینہ منورہ میں بسر کئے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10652

۔ (۱۰۶۵۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُنْزِلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِینَ، فَمَکَثَ بِمَکَّۃَ عَشْرًا وَبِالْمَدِینَۃِ عَشْرًا، وَقُبِضَ وَہُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّینَ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۷)
سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزولِ قرآن کی ابتداء جب ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس برس مدینہ منورہ میں بسر کئے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10653

۔ (۱۰۶۵۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: فَنَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَانِبَ الْحَرَّۃِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَی الْأَنْصَارِ فَجَاؤُوا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمُوا عَلَیْہِمَا وَقَالُوا: ارْکَبَا آمِنَیْنِ مُطْمَئِنَّیْنِ، قَالَ: فَرَکِبَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَحَفُّوا حَوْلَہُمَا بِالسِّلَاحِ، قَالَ: فَقِیلَ بِالْمَدِینَۃِ: جَائَ نَبِیُّ اللّٰہِ، فَاسْتَشْرَفُوا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْظُرُونَ إِلَیْہِ وَیَقُولُونَ: جَائَ نَبِیُّ اللّٰہِ، فَأَقْبَلَ یَسِیرُ حَتَّی جَائَ إِلَی جَانِبِ دَارِ أَبِی أَیُّوبَ، قَالُوا: فَإِنَّہُ لَیُحَدِّثُ أَہْلَہَا إِذْ سَمِعَ بِہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ، وَہُوَ فِی نَخْلٍ لِأَہْلِہِ یَخْتَرِفُ لَہُمْ مِنْہُ، فَعَجِلَ أَنْ یَضَعَ الَّذِییَخْتَرِفُ فِیہَا، فَجَائَ وَہِیَ مَعَہُ، فَسَمِعَ مِنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَجَعَ إِلٰی أَہْلِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَیُّ بُیُوتِ أَہْلِنَا أَقْرَبُ؟)) قَالَ: فَقَالَ أَبُو أَیُّوبَ: أَنَا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! ہٰذِہِ دَارِی وَہٰذَا بَابِی، قَالَ: ((فَانْطَلِقْ فَہَیِّئْ لَنَا مَقِیلًا۔)) قَالَ: فَذَہَبَ فَہَیَّأَ لَہُمَا مَقِیلًا، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! قَدْ ہَیَّأْتُ لَکُمَا مَقِیلًا، فَقُومَا عَلٰی بَرَکَۃِ اللّٰہِ فَقِیلَا، فَلَمَّا جَاء َ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ حَقًّا، وَأَنَّکَ جِئْتَ بِحَقٍّ، وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْیَہُودُ أَنِّی سَیِّدُہُمْ وَابْنُ سَیِّدِہِمْ وَأَعْلَمُہُمْ وَابْنُ أَعْلَمِہِمْ، فَادْعُہُمْ فَاسْأَلْہُمْ، فَدَخَلُوا عَلَیْہِ فَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا مَعْشَرَ الْیَہُودِ! وَیْلَکُمْ اتَّقُوا اللّٰہَ، فَوَالَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، إِنَّکُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ حَقًّا وَأَنِّی جِئْتُکُمْ بِحَقٍّ، أَسْلِمُوا۔)) قَالُوا: مَا نَعْلَمُہُ ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۱۳۲۳۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو حرہ کی ایک جانب میں تشریف فرما ہوئے اور انصار کو اپنی آمد کی اطلاع بھجوائی۔ وہ لوگ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے آپ دونوں کو سلام کہا اور عرض کیا آپ امن اور اطمینان کے ساتھ سوار ہو کر شہر میں تشریف لائیں۔ چناں چہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدناابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی اپنی سواری پر سوار ہوئے اور لوگوں نے اسلحہ تان کر آپ کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ مدینہ منورہ میں خبر پھیل گئی کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ چناں چہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف امڈکر آئے، تاکہ آپ کی زیارت کرلیں، اور وہ خوشی سے کہتے جاتے اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں۔ آپ چلتے چلتے سیدناابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے قریب آپہنچے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اہلِ خانہ سے باتیں کرنے لگیں گے۔ تو عبداللہ بن سلام اپنے اہلِ خانہ کے نخلستان میں اہلِ خانہ کے لیے کھجوریں چن رہے تھے انہوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کی خبر سنی، وہ اس قدر تیزی اور جلدی سے آپ کی خدمت میں آئے کہ وہ کھجوریں اٹھائے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے آکر آپ کی گفتگو سنی۔اس کے بعد وہ اپنے گھر تشریف لے گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے رشتہ داروں کے گھروں میں سے کس کا گھر یہاں سے قریب ترین ہے۔ توسیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! یہ میرا گھر اور میرا دروازہ ہے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا آپ جا کر ہمارے لئے جگہ بنائیں۔سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیںیہ سن کرسیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جا کر آپ کے لئے اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے جگہ تیار کی۔ اور آ کر عرض کیا اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! میں آپ دونوں کے لئے جگہ تیار کر آیا ہوں۔ اللہ کے نام کی برکت سے اٹھ کر تشریف لائیں اور آرام فرمائیں۔ جب اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے گھر آئے تو عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگئے۔ اور کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور دعوتِ حق اور دینِ حق لے کر مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار اور ابنِ سراد ہوں، اور میں ان کا سب سے بڑا عالم اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں۔آپ ان یہودیوں کو بلوائیں۔ اور ان سے میری بابت دریافت فرمائیں۔ یہودی آئے تو اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے یہودیو! اللہ سے ڈرو اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم یقینا جانتے ہو کہ میں واقعی اللہ کا رسول ہوں۔ اور میں تمہارے پاس دینِ حق اور دعوتِ حق لے کر آیا ہوں۔ تم اسلام قبول کر لو۔ تو وہ بولے، ہم اس بات کو نہیں جانتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10654

۔ (۱۰۶۵۴)۔ عَنْ أنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ فِی عُلُوِّ الْمَدِینَۃِ فِی حَیٍّ،یُقَالُ لَہُم: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِیہِمْ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً، ثُمَّ إِنَّہُ أَرْسَلَ إِلٰی مَلَإٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ، قَالَ: فَجَائُ وْا مُتَقَلِّدِینَ سُیُوفَہُمْ، قَالَ: فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی رَاحِلَتِہِ وَأَبُو بَکْرٍ رِدْفُہُ، وَمَلَأُ بَنِی النَّجَّارِ حَوْلَہُ، حَتّٰی أَلْقٰی بِفِنَائِ أَبِی أَیُّوبَ، قَالَ: فَکَانَ یُصَلِّی حَیْثُ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ، وَیُصَلِّی فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ إِنَّہُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلٰی مَلَإٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ فَجَائُ وْا، فَقَالَ: ((یَا بَنِی النَّجَّارِ! ثَامِنُونِی حَائِطَکُمْ ہٰذَا۔)) فَقَالُوا: وَاللّٰہِ! لا نَطْلُبُ ثَمَنَہُ إِلَّا إِلَی اللّٰہِ، قَالَ: وَکَانَ فِیہِ مَا أَقُولُ لَکُمْ کَانَتْ فِیہِ قُبُورُ الْمُشْرِکِینَ، وَکَانَ فِیہِ حَرْثٌ، وَکَانَ فِیہِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقُبُورِ الْمُشْرِکِینَ فَنُبِشَتْ، وَبِالْحَرْثِ فَسُوِّیَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، قَالَ: ((فَصَفُّوا النَّخْلَ إِلٰی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَیْہِ حِجَارَۃً، قَالَ: وَجَعَلُوا یَنْقُلُونَ ذٰلِکَ الصَّخْرَ، وَہُمْ یَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُمْ یَقُولُ: ((اللّٰہُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُ الْآخِرَہ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۴۰)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب ہجرت کر کے تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کے بالائی علاقہ میں بنو عمرو بن عوف کے قبیلہ میں چودہ راتیں قیام فرمایا، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ماموں قبیلہ بنو نجار کے معززین کے ہاں پیغام بھجوایا، وہ ہتھیار سجا کر آگئے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:وہ منظر گویا اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار ہیں اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے ہیں اور بنو نجار کے معززین کی جماعت آپ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے سامنے اپنا سامان رکھا، اس وقت تک چونکہ مسجد تعمیر نہ ہوئی تھی اس لئے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہیں نماز ادا فرما لیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تعمیر مسجد کا حکم دیا اور بنو نجار کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طلب فرمایا، وہ آگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو نجار! تم میرے ساتھ اپنے اس قطعہ ارضی کی قیمت طے کرو۔ لیکن انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہم اس کا معاوضہ صرف اللہ سے لیں گے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اس قطعہ میں مشرکین کی قبریں تھیں اور کچھ کھیتیاں(اور کھنڈرات) اور کھجوروں کے کچھ درخت تھے، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرکین کی قبروں کے متعلق حکم دیا کہ ان کو اکھیڑدیا جائے، پس ان کو اکھاڑ دیا گیا اور کھیتوں ( یا کھنڈرات) کے متعلق حکم دیا اور ان کو مسمار کر کے برابر کر دیا گیا اور کھجوروں کے درختوں کو کاٹ دینے کا حکم دیا اور انہیں کاٹ دیا گیا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: کھجوروں کے تنوں کو مسجد کے قبلہ کے رُخ ایک قطار میں کھڑا کر کے دیوار بنا دی گئی، اور دونوں پہلوں کی دیواروں کی جگہ پتھر چُن دئیے گئے، صحابہ کرام ان پتھروں کو اُٹھا اُٹھا کر لاتے اور یہ شعر پڑھتے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے ساتھ یہ کلمات فرما رہے تھے: اَللَّہُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُ الْآخِرَہ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ (یااللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرمایا۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10655

۔ (۱۰۶۵۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِینَۃَ، آخَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَہُ وَبَیْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ، فَقَالَ: أُقَاسِمُکَ مَالِی نِصْفَیْنِ، وَلِی امْرَأَتَانِ فَأُطَلِّقُ إِحْدَاہُمَا، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا فَتَزَوَّجْہَا، فَقَالَ: بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِی أَہْلِکَ وَمَالِکَ، دُلُّونِی عَلَی السُّوقِ،فَدَلُّوہُ، فَانْطَلَقَ فَمَا رَجَعَ إِلَّا وَمَعَہُ شَیْئٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَہُ، فَرَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ذٰلِکَ وَعَلَیْہِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَۃٍ، فَقَالَ: ((مَہْیَمْ؟)) قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: ((مَا أَصْدَقْتَہَا؟)) قَالَ: نَوَاۃً مِنْ ذَہَبٍ، قَالَ حُمَیْدٌ: أَوْ وَزْنَ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ، فَقَالَ: ((أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ۔))۔ (مسند احمد: ۱۳۰۰۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے اور سیدنا سعد بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین مواخات اور بھائی چارہ قائم کر دیا،سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اپنا سارا مال نصف نصف کرتا ہوں، میری دو بیویاں ہیں، میں ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، اس کی عدت پوری ہونے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں، سیدنا عبدالرحمان بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تمہارے اہل وعیال اور مال میں برکت فرمائے، لیکن مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں، مجھے بازاراور منڈی کا راستہ بتلا دو۔ لوگوں نے ان کو منڈی کا راستہ بتلادیا، وہ اس میں چلے گئے اور جب واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور کچھ گھی تھا، جو وہ بطورِ منافع کما کر لائے تھے، اس کے بعد ایک موقعہ پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے کپڑوں پر زرد رنگ لگاہواتھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کیا؟ جواب دیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم نے اسے مہر کے طور پر کیا ادا کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نواۃ کے برابر سونا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ وہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10656

۔ (۱۰۶۵۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: وَحَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ قُرَیْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِی الَّتِی بِالْمَدِینَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۹۹)
سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات اور بھائی چارہ میرے اس گھر میں کرایا تھا، جو مدینہ منورہ میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10657

۔ (۱۰۶۵۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِنَا، قَالَ سُفْیَانُ: کَأَنَّہُ یَقُولُ: آخَی۔ (مسند احمد: ۱۲۱۱۳)
۔(دوسری سند) سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ ہمارے گھر میں قائم کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10657

۔ (۱۰۶۵۷)۔ عََنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَل قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا وَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: بَلَغَکَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاحِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ۔)) قَالَ: فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ: بَلٰی بَلٰی، قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ قُرَیْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۳۱)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: کیا تم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام میں کوئی مؤاخات نہیں ہے۔ ؟یہ سن کر سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے، کیوں نہیں، کیوں نہیں، بلکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود قریش اور انصار کے مابین میرے گھر میں مواخات کرائی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10658

۔ (۱۰۶۵۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۳۲)
۔(دوسری سند) عاصم احول سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں کرائی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10659

۔ (۱۰۶۵۹)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا حِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ، وَأَیُّمَا حِلْفٍ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ لَمْ یَزِدْہُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّۃً۔))۔ (مسند احمد: ۱۶۸۸۳)
سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں آپس کا عہدوپیمان نہیں ہے، البتہ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں جو عہد وپیمان ہو چکا ہے، اسلام اسے مزید مضبوط اور پختہ کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10660

۔ (۱۰۶۶۰)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ عَاصِمٍ اَنَّہُ سَألَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْحَلْفِ، فَقَالَ: ((مَا کَانَ مِنْ حَلْفٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَتَمَسَّکُوْا بِہِ وَلَا حِلْفَ فِی الْاِسْلَامِ۔))۔ (مسند احمد: ۲۰۸۸۹)
قیس بن عاصم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عہدوپیمان کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عہد و پیمان دورِ جاہلیت میں کر چکے ہو، انہیں پورا کرو، البتہ اسلام میں از سرِ نو ایسے عہدو پیمان نہیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10661

۔ (۱۰۶۶۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((شَہِدْتُ حِلْفَ الْمُطَیَّبِینَ مَعَ عُمُومَتِی وَأَنَا غُلَامٌ، فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّی أَنْکُثُہُ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَمْ یُصِبِ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَہُ شِدَّۃً، وَلَا حِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ۔)) وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ قُرَیْشٍ وَالْأَنْصَارِ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۵)
سیدناعبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ابھی لڑکا ہی تھا کہ اپنے چچاؤں کے ساتھ مطیبین کے معاہدہ میں شامل ہوا تھا، اب بھی مجھے بیشِ قیمت سرخ اونٹ بھی مل جائیں تو تب بھی میں اس معاہدہ کو توڑنا پسند نہیں کروں گا۔ امام زہری کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام نے لوگوں کے کئے ہوئے جس معاہدہ کو پایا، اس نے اسے مزید پختہ کیا اور اب اسلام میں اس قسم کے عہدوپیمان اور معاہدوں کی گنجائش نہیں ہے۔ خود اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات قائم کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10662

۔ (۱۰۶۶۲)۔ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ حِلْفٍ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، لَمْ یَزِدْہُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّۃً أَوْ حِدَّۃً۔))۔ (مسند احمد: ۲۹۰۹)
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت میں جو معاہدے اور عہدوپیمان ہوئے، اسلام نے ان کو مزید پختہ اور مضبوط کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10663

۔ (۱۰۶۶۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَتِ الْمُہَاجِرُونَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا رَأَیْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَیْہِمْ أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ کَثِیرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاۃً فِی قَلِیلٍ، قَدْ کَفَوْنَا الْمَئُونَۃَ وَأَشْرَکُونَا فِی الْمَہْنَإِ، فَقَدْ خَشِینَا أَنْ یَذْہَبُوا بِالْأَجْرِ کُلِّہِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((کَلَّا مَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِمْ بِہِ، وَدَعَوْتُمُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ۔))۔ (مسند احمد: ۱۳۱۵۳)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا: ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان سے زیادہ خرچ کرنے والا اور قلت کے باوجود ان سے بڑھ کر ہمدردی کرنے والا کسی کو نہیں پایا، انہوں نے ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا اور ہمیں اپنی ہر خوشی میں شریک رکھا، ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا ثواب یہ لوگ ہی لے جائیں گے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسی بات نہیں ہے، جب تک تم ان کے حسنِ سلوک پر ان کی جو تعریف کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرتے ہو، (اللہ تمہیں بھی اس کا اجروثواب دے گا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10664

۔ (۱۰۶۶۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أبَیِْہِ عَنْ جَدِّہِ، أنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَبَ کِتَابًا بَیْنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ: ((اَنْ یَعْقِلُوْا مَعَاقِلَہُمْ وَاَنْ یَفْدُوْا عَانِیَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَالاِصْلَاحِ بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابینیہ معاہدہ تحریر کیا تھا کہ یہ سب مل کر ایک دوسرے کے خون بہا ادا کریں گے،ایک دوسرے کے قیدیوں کو معروف طریقہ سے رہا کرائیں گے اور مسلمانوں کے مابین اصلاحِ احوال کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10665

۔ (۱۰۶۶۵)۔ حَدَّثَنَاإِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَطِیَّۃَ الْأَنْصَارِیُّ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ عَطِیَّۃَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، جَمَعَ نِسَائَ الْأَنْصَارِ فِی بَیْتٍ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَیْہِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَامَ عَلَی الْبَابِ فَسَلَّمَ، فَرَدَدْنَ عَلَیْہِ السَّلَامَ، فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْکُنَّ، قُلْنَا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللّٰہِ وَرَسُولِ رَسُولِ اللّٰہِ وَقَالَ: ((تُبَایِعْنَ عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَزْنِینَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَکُنَّ، وَلَا تَأْتِینَ بِبُہْتَانٍ تَفْتَرِینَہُ بَیْنَ أَیْدِیکُنَّ وَأَرْجُلِکُنَّ، وَلَا تَعْصِینَہُ فِی مَعْرُوفٍ۔)) قُلْنَا: نَعَمْ! فَمَدَدْنَا أَیْدِیَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَیْتِ، وَمَدَّ یَدَہُ مِنْ خَارِجِ الْبَیْتِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّہُمَّ اشْہَدْ! وَأَمَرَنَا بِالْعِیدَیْنِ أَنْ نُخْرِجَ الْعُتَّقَ وَالْحُیَّضَ، وَنَہٰی عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَا جُمُعَۃَ عَلَیْنَا، وَسَأَلْتُہَا عَنْ قَوْلِہِ: {وَلَا یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ} قَالَتْ: نُہِینَا عَنِ النِّیَاحَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۷۸)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کی خواتین کو ایک گھر میں جمع کیا اور سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی طرف بھیجا، وہ جا کر دروازے پر کھڑے ہو گئے اور سلام کہا، ان عورتوں نے سلام کا جواب دیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قاصد ہوں۔ ہم نے کہا: ہم اللہ کے رسول اور اللہ کے رسول کے قاصد کو مرحبا اور خوش آمدید کہتی ہیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم ان امور پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کرو گی،تم از خود کوئی بات بنا کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کرو گی اور نوحہ نہیں کرو گی۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر ہم نے گھر کے اندر سے اپنے ہاتھ آگے کو بڑھائے اور انھوں نے باہر ہی سے اپنا بڑھایا، ہاتھ ملائے بغیر ہی محض اشارے سے بیعت ہوئی۔ پھر انھوں نے فرمایا: یا اللہ! گواہ رہنا۔ انھوں نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم عیدین کے موقعہ پر نوجوان لڑکیوں کو اور حیض والی خواتین کو بھی باہر، عیدگاہ کی طرف عید کے لیے لے جایا کریں اور انھوں نے ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع فرمایا، نیز فرمایا کہ ہمارے لیے جمعہ کی حاضری ضروری نہیں۔ اسمٰعیل بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی سے دریافت کیا کہ حدیث میں وارد لفظ {وَلَا یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ} سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس لفظ کے ذریعے ہمیںنوحہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10666

۔ (۱۰۶۶۶)۔ عَنْ أُمَیْمَۃَ بِنْتِ رُقَیْقَۃَ قَالَتْ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نِسَائٍ نُبَایِعُہُ فَأَخَذَ عَلَیْنَا مَا فِی الْقُرْآنِ أَنْ لَا نُشْرِکَ بِاللّٰہِ شَیْئًا الْآیَۃَ قَالَ: ((فِیمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ۔)) قُلْنَا اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، قُلْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا تُصَافِحُنَا؟ قَالَ: ((إِنِّی لَا أُصَافِحُ النِّسَائَ إِنَّمَا قَوْلِی لِامْرَأَۃٍ وَاحِدَۃٍ کَقَوْلِی لِمِائَۃِ امْرَأَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۴۹)
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں عورتوں کے ساتھ مل کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئی، ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے قرآن پاک میں بیان کئے گئے اصولوں پر بیعت لی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں گی، (آیت آخر تک)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ان شقوں پر تم نے اتنا عمل کرنا ہے، جتنی تم میں طاقت اور قوت ہو گی۔ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تو ہمارے ساتھ ہمارے نفسوں سے بھی زیادہ رحم کرنے والے ہیں، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے ساتھ مصافحہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اجنبی عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میرا سو خواتین سے عہد لینا، ایسے ہی ہے جیسے ایک عورت سے عہد لیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10667

۔ (۱۰۶۶۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: جَائَ تْ أُمَیْمَۃُ بِنْتُ رُقَیْقَۃَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُبَایِعُہُ عَلَی الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: ((أُبَایِعُکِ عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِکِی بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَسْرِقِی، وَلَا تَزْنِی وَلَا تَقْتُلِی وَلَدَکِ، وَلَا تَأْتِی بِبُہْتَانٍ تَفْتَرِینَہُ بَیْنَیَدَیْکِ وَرِجْلَیْکِ، وَلَا تَنُوحِی، وَلَا تَبَرَّجِی تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْأُولٰی۔)) (مسند احمد: ۶۸۵۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں اسلام کی بیعت کرنے کی غرض سے حاضر ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری اور زنانہیں کرو گی، اپنے بچوں کو قتل نہ کرو گی، اور از خود گھڑ کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کرو گی، نوحہ نہیں کرو گی اور پہلی جاہلیت کی طرح سرِ عام بے پردہ نہ گھومو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10668

۔ (۱۰۶۶۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، وَہِیَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاشْتَکٰی أَبُو بَکْرٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْہَا، وَبَارِکْ لَنَا فِی مُدِّہَا وَصَاعِہَا، وَانْقُلْ حُمَّاہَا فَاجْعَلْہَا فِی الْجُحْفَۃِ۔))۔ (مسند احمد: ۲۴۷۹۲)
سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو وہ شدید قسم کی وبائی زمین تھی، پھر سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی: یا اللہ ! ہمارے لئے مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ کی طرح یا اس سے بھی زیادہ محبوب بنا دے اور اس کی فضا کو صحت والا کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت فرما اور اس کے بخار کو یہاں سے جُحفہ کے علاقے میں منتقل کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10669

۔ (۱۰۶۶۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، اشْتَکٰی أَصْحَابُہُ، وَاشْتَکٰی أَبُو بَکْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ مَوْلٰی أَبِی بَکْرٍ وَبِلَالٌ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَۃُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی عِیَادَتِہِمْ، فَأَذِنَ لَہَا، فَقَالَتْ لِأَبِی بَکْرٍ: کَیْفَ تَجِدُکَ؟ فَقَالَ: ((کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ، وَالْمَوْتُ أَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ، وَسَأَلَتْ عَامِرًا فَقَالَ: إِنِّی وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِہِ، إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُہُ مِنْ فَوْقِہِ،وَسَأَلَتْ بِلَالًا فَقَالَ: یَا لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً بِفَجٍّ، وَحَوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ، فَأَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَتْہُ بِقَوْلِہِمْ، فَنَظَرَ إِلَی السَّمَائِ وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ، کَمَا حَبَّبْتَ إِلَیْنَا مَکَّۃَ اَوْ أَشَدَّ، اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی صَاعِہَا وَفِی مُدِّہَا، وَانْقُلْ وَبَائَ ہَا إِلٰی مَہْیَعَۃَ۔)) وَہِیَ الْجُحْفَۃُ کَمَا زَعَمُوا۔ (مسند احمد: ۲۴۸۶۴)
سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر صدیق، ان کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا بلال سمیت کچھ صحابۂ کرام بیمار پڑ گئے۔ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کی عیادت کے لیے جانے کی خاطر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت چاہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں جانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ جب انھوں نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کیسے ہیں؟ تو انہوں نے یہ شعر پڑھ کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا: ہر شخص کو اس کے اہلِ خانہ میں صبح بخیر کہا جاتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے قریب ہے۔ پھر جب انھوں نے سیدنا عامر بن فہیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں موت کے آنے سے پہلے ہی موت سے دو چار ہو گیا ہوں، موت ہر وقت بزدل آدمی کے سر پرکھڑی ہوتی ہے۔ جب سیدہ نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: اے کاش میں جان سکوں کہ میں کوئی ایک رات اس وادی فج (جو کہ مکہ کی ایک وادی ہے) میں گزار سکوں گا، جہاں میرے گرد اذخر گھاس اور جلیل نامی گھاس ہو۔ جب عیادت کے بعد سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں آئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان حضرات کی باتوں کے متعلق بتلایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ ! ہمارے لیے مدینہ منورہ کے صاع اور مد میں برکت فرما اور اس کی وباء کو مہیعہیعنی حجفہ کی طرف منتقل کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10670

۔ (۱۰۶۷۰)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ وَہِیَ وَبِیئَۃٌ، ذُکِرَ أَنَّ الْحُمّٰی صَرَعَتْہُمْ فَمَرِضَ أَبُو بَکْرٍ، وَکَانَ إِذَا أَخَذَتْہُ الْحُمَّییَقُولُ: کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ، وَالْمَوْتُ أَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ، قَالَتْ: وَکَانَ بِلَالٌ إِذَا أَخَذَتْہُ الْحُمّٰییَقُولُ: أَلَا لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً بِوَادٍ، وَحَوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ، وَہَلْ أَرِدْنَ یَوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّۃٍ، وَہَلْیَبْدُوَنْ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلُ، اللَّہُمَّ الْعَنْ عُتْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ وَشَیْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ وَأُمَیَّۃَ بْنَ خَلَفٍ، کَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَکَّۃَ، فَلَمَّا رَأٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَقُوا، قَالَ: ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ أَوْ أَشَدَّ، اللَّہُمَّ صَحِّحْہَا، وَبَارِکْ لَنَا فِی صَاعِہَا وَمُدِّہَا، وَانْقُلْ حُمَّاہَا إِلَی الْجُحْفَۃِ۔)) قَالَ: فَکَانَ الْمَوْلُودُ یُولَدُ بِالْجُحْفَۃِ، فَمَا یَبْلُغُ الْحُلُمَ حَتّٰی تَصْرَعَہُ الْحُمّٰی۔ (مسند احمد: ۲۶۷۷۰)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ وبا والا علاقہ اور لوگ بخار میں مبتلا تھے، سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار ہو گئے۔ انہیں جب شدت کا بخار ہوتا تو وہ یوں کہنے لگتے: ہر شخص اپنے اہلِ خانہ میں صبح کرتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شدید بخار ہوتا تو وہ یوں کہتے: اے کاش میں جان سکوں کہ میں کوئی ایک رات اس وادی میں گزار سکوں گا، جہاں میرے اردگرد اذخر اور جلیل نامی گھاس ہو، اور میں کبھی مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور کیا شامہ اور جلیل نامی پہاڑ میرے لیے ظاہر ہوں گے، اے اللہ !عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت فرما کہ انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکال دیا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب ان صحابہ کییہ پریشانی دیکھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ ! ہمارے لئے مدینہ منورہ کو مکہ مکرمہ کی طرح یا اس سے بھی بڑھ کر محبوب بنا دے۔ اور اس کی فضا کو صحت والا بنا دے، اور ہمارے لئے یہاں کے صاع اور مد میں برکت فرما اور یہاں کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کر دے عروہ کہتے ہیں آپ کی اس دعا کا نتیجہیہ ہوا کہ جحفہ کے علاقے میں جو بچہ بھی پیدا ہوتا وہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچتا تھا حتی کہ اسے بخار چت گرا دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10671

۔ (۱۰۶۷۱)۔ عَنْ أَسْمَائَ أَنَّہَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ فَنَزَلْتُ بِقُبَائَ فَوَلَدْتُہُ بِقُبَائَ، ثُمَّ أَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعْتُہُ فِی حِجْرِہِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَۃٍ فَمَضَغَہَا ثُمَّ تَفَلَ فِی فِیہِ، فَکَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِی جَوْفِہِ رِیقُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: ثُمَّ حَنَّکَہُ بِتَمْرَۃٍ، ثُمَّ دَعَا لَہُ وَبَرَّکَ عَلَیْہِ، وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِی الْإِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۷۷)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مکہ میں حاملہ ہو گئی تھیں، وہ کہتی ہیں: میں جب مکہ سے سفر ہجرت پر روانہ ہوئی تو ایام حمل پورے ہو چکے تھے، میں مدینہ منورہ آئی اور قباء میں قیام کیا، وہیں میں نے بچے کو جنم دیا، میں اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لائی اور میں نے اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گود میں رکھ دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجور منگوا کر اسے چبایا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا، اس کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لعاب مبارک داخل ہوا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور اس کے حق میں برکت کی دعا کی، اسلام کے دور میں یہ سب سے پہلا پیدا ہونے والا بچہ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10672

۔ (۱۰۶۷۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ شَوَّالٍ وَبَنٰی بِیْ فِیْ شَوَّالٍ، فَأیُّ نِسَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اَحْظٰی عِنْدَہُ مِنِّیْ، وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ نِسَائُھَا فِیْ شَوَّالٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۳۵)
سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ( قبل از ہجرت) ماہِ شوال میں مجھ سے نکاح کیا تھا اور ( بعد ازہجرت) ماہ شوال میں میری رخصتی ہوئی، تو کونسی بیوی مجھ سے بڑھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منظورِ نظر تھی، اور سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ اپنے خاندان کی عورتوں کی ماہِ شوال میں شادی کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10673

۔ (۱۰۶۷۳)۔ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ قَالَتْ: کُنْتُ صَاحِبَۃَ عَائِشَۃَ الَّتِی ہَیَّأَتْہَا وَأَدْخَلَتْہَا عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعِیْ نِسْوَۃٌ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا وَجَدْنَا عِنْدَہُ قِرًی إِلَّا قَدَحًا مِنْ لَبَنٍ، قَالَتْ: فَشَرِبَ مِنْہُ ثُمَّ نَاوَلَہُ عَائِشَۃَ، فَاسْتَحْیَتِ الْجَارِیَۃُ، فَقُلْنَا: لَا تَرُدِّییَدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُذِی مِنْہُ، فَأَخَذَتْہُ عَلَی حَیَائٍ، فَشَرِبَتْ مِنْہُ، ثُمَّ قَالَ: ((نَاوِلِی صَوَاحِبَکِ۔)) فَقُلْنَا: لَا نَشْتَہِہِ، فَقَالَ:((لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَکَذِبًا۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَیْئٍ تَشْتَہِیہِ: لَا أَشْتَہِیہِ،یُعَدُّ ذَلِکَ کَذِبًا، قَالَ: ((إِنَّ الْکَذِبَ یُکْتَبُ کَذِبًا حَتَّی تُکْتَبَ الْکُذَیْبَۃُ کُذَیْبَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۱۹)
سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں روانہ کرتے وقت ان کو تیار کیا، چند دوسری خواتین بھی میرے ساتھ تھیں، اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں دودھ کے ایک پیالے کے سوا مزید کوئی مہمانی نہ پائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے دودھ نوش فرمایا اور پھر وہ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو تھما دیا، انھوں نے دلہن ہونے کی وجہ سے دودھ نوش کرنے میں جھجک محسوس کی، لیکن ہم نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ یوں نہ واپس کرو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پیالہ پکڑ لو، انہوں نے جھجکتے ہوئے پیالہ لے کر اس سے نوش کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اپنی ان سہیلیوں کو دے دو، تو ہم نے عرض کیا، ہمیں اس کی حاجت نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ اور بھوک کو یکجا نہ کرو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کو کسی چیز کی حاجت تو ہو مگر وہ ویسے ہی کہہ دے کہ مجھے حاجت نہیں تو کیا یہ بھی جھوٹ لکھا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جھوٹ کو جھوٹ ہی لکھا جاتا ہے اور چھوٹا جھوٹ چھوٹا ہی لکھا جاتا ہے۔ شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ وہ ایک دن قبیلہ بنو عبد الاشھل کی ایک خاتون سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں گئے، انہوں نے اس کے سامنے کھانا پیش کیا، تو انہوں نے کہا کہ مجھے کھانے کی طلب نہیں،انہوں نے کہا: میں نے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ان کی شادی کی موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ کرتے وقت تیار کیا تھا، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئی اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ملوانے کے لئے بلایا، آپ آکر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے نوش فرمایا اور پھر آپ نے باقی ماندہ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو دیا، انہوں نے سر جھکا لیا اور شرما گئیں۔ سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو جھڑک دیا اور کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ سے پیالہ پکڑ لو، چنانچہ انہوں نے پیالہ لے کر اس سے کچھ پی لیا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: اپنی سہیلی کو دے دو۔ سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ لیں اور نوش فرمائیں، اس کے بعد مجھے عنایت فرمائیں، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیالہ لے کر اس میں سے کچھ نوش کیا اور پھر وہ مجھے تھما دیا، وہ کہتی ہیں کہ میں نے بیٹھ کر اسے اپنے گھٹنے پر رکھا اور اسے گھمانے لگی اور اپنے ہونٹ اس پر پھیرنے لگی تاکہ میرے ہونٹ اس مبارک مقام پر لگ جائیں، جہاں منہ رکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرمایا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں میرے پاس موجود خواتین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ انہیں بھی دو، تو انہوں نے کہا ہمیں حاجت نہیں ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ اور بھوک کو جمع نہ کرو، پس کیا تو اس بات سے باز نہیں آئے گی کہ مجھے حاجت نہیں ہے؟ میں نے کہا: اماں جان! میں آئندہ ایسے نہ کہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10674

۔ (۱۰۶۷۴)۔ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ یَزِیدَ بْنِ السَّکَنِ، إِحْدٰی نِسَائِ بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ، دَخَلَ عَلَیْہَایَوْمًا، فَقَرَّبَتْ إِلَیْہِ طَعَامًا، فَقَالَ: لَا أَشْتَہِیہِ، فَقَالَتْ: إِنِّی قَیَّنْتُ عَائِشَۃَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ جِئْتُہُ فَدَعَوْتُہُ لِجِلْوَتِہَا، فَجَائَ فَجَلَسَ إِلٰی جَنْبِہَا، فَأُتِیَ بِعُسِّ لَبَنٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَفَضَتْ رَأْسَہَا وَاسْتَحْیَا، قَالَتْ أَسْمَائُ: فَانْتَہَرْتُہَا، وَقُلْتُ لَہَا: خُذِی مِنْ یَدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: فَأَخَذَتْ فَشَرِبَتْ شَیْئًا، ثُمَّ قَالَ لَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَعْطِی تِرْبَکِ۔)) قَالَتْ أَسْمَائُ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَلْ خُذْہُ فَاشْرَبْ مِنْہُ، ثُمَّ نَاوِلْنِیہِ مِنْ یَدِکَ، فَأَخَذَہُ فَشَرِبَ مِنْہُ، ثُمَّ نَاوَلَنِیہِ، قَالَتْ: فَجَلَسْتُ ثُمَّ وَضَعْتُہُ عَلٰی رُکْبَتِی، ثُمَّ طَفِقْتُ أُدِیرُہُ وَأَتْبَعُہُ بِشَفَتَیَّ لِأُصِیبَ مِنْہُ مَشْرَبَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ لِنِسْوَۃٍ عِنْدِی: ((نَاوِلِیہِنَّ۔)) فَقُلْنَ: لَا نَشْتَہِیہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَکَذِبًا، فَہَلْ أَنْتِ مُنْتَہِیَۃٌ أَنْ تَقُولِی لَا أَشْتَہِیہِ؟)) فَقُلْتُ: أَیْ أُمَّہْ! لَا أَعُودُ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۸۱۴۳)
امام نافع سے مروی ہے کہ سیدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہ جمع ہو کر نماز کے وقت انتظار کیا کرتے تھے، اس وقت کوئی بھی اذان دینے والا نہیں ہوتا تھا، ایک دن صحابہ نے اس بارے میں گفتگو شروع کی، بعض نے کہا کہ عیسائیوں کے ناقوس جیسا ناقوس بنا لو۔ بعض نے کہا کہ ناقوس تو نہیں ہونا چاہیے، البتہ یہودیوں کی طرح کا ایک سینگ مقرر کر لو۔ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم اس طرح کیوں نہیں کرتے کہ کسی کو بھیج دیا کرو جو نماز کا اعلان کر دیا کرے؟ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! اُٹھو اور نماز کا اعلان کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10675

۔ (۱۰۶۷۵)۔ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ: کَانَ الْمُسْلِمُونَ حِینَ قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ،یَجْتَمِعُونَ فَیَتَحَیَّنُونَ الصَّلَاۃَ، وَلَیْسَیُنَادِی بِہَا أَحَدٌ، فَتَکَلَّمُوا یَوْمًا فِی ذٰلِکَ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارٰی، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْیَہُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا یُنَادِی بِالصَّلَاۃِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاۃِ۔))۔ (مسند احمد: ۶۳۵۷)
پھر سیدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خواب میں اذان دیکھی اور آ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی، نماز کے ابواب میں اذان کی مکمل تفصیل گزر چکی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10676

۔ (۱۰۶۷۶)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ بِمَکَّۃَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، زَادَ مَعَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ، فَإِنَّہَا وِتْرُ النَّہَارِ، وَصَلَاۃَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاء َتِہِمَا، قَالَ: وَکَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّی الصَّلَاۃَ الْأُولٰی۔ (مسند احمد: ۲۶۵۷۰)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ مکہ میں نماز کی دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہر دو رکعت کے ساتھ مزید دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا تھا، ما سوائے مغرب کے، کیونکہ وہ دن کی طاق نماز ہے اور ما سوائے نمازِ فجر کے، کیونکہ ان میں قراء ت طویل ہوتی ہے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر پر روانہ ہوتے تو پہلے کی طرح نماز ادا فرماتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10677

۔ (۱۰۶۷۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلَتْ یَہُودُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا أَبَا الْقَاسِمِ! إِنَّا نَسْأَلُکَ عَنْ خَمْسَۃِ أَشْیَائَ، فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِہِنَّ عَرَفْنَا أَنَّکَ نَبِیٌّ وَاتَّبَعْنَاکَ، فَأَخَذَ عَلَیْہِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی بَنِیہِ إِذْ قَالُوْا: {اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ} قَالَ: ((ہَاتُوْا۔)) قَالُوْا: أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَۃِ النَّبِیِّ، قَالَ: ((تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَا یَنَامُ قَلْبُہُ۔))، قَالُوْا: أَخْبِرْنَا کَیْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَۃُ وَکَیْفَ تُذْکِرُ؟ قَالَ: ((یَلْتَقِی الْمَائَ انِِ فَإِذَا عَلَا مَائُ الرَّجُلِ مَائَ الْمَرْأَۃِ أَذْکَرَتْ، وَإِذَا عَلَا مَائُ الْمَرْأَۃِ آنَثَتْ۔))، قَالُوْا: أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی نَفْسِہِ، قَالَ: ((کَانَ یَشْتَکِی عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًایُلَائِمُہُ إِلَّا أَلْبَانَ کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْن أَحْمَد: قَالَ أَبِی: قَالَ بَعْضُہُمْ: یَعْنِی الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَہَا، قَالُوْا: صَدَقْتَ، قَالُوْا: أَخْبِرْنَا مَا ہٰذَا الرَّعْدُ؟ قَالَ: ((مَلَکٌ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَکَّلٌ بِالسَّحَابِ بِیَدِہِ، أَوْ فِییَدِہِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ، یَزْجُرُ بِہِ السَّحَابَ، یَسُوقُہُ حَیْثُ أَمَرَ اللّٰہُ۔)) قَالُوْا: فَمَا ہٰذَا الصَّوْتُ الَّذِییُسْمَعُ؟ قَالَ: ((صَوْتُہُ۔))، قَالُوْا: صَدَقْتَ، إِنَّمَا بَقِیَتْ وَاحِدَۃٌ وَہِیَ الَّتِی نُبَایِعُکَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِہَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ إِلَّا لَہُ مَلَکٌ یَأْتِیہِ بِالْخَبَرِ، فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُکَ؟ قَالَ: ((جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام۔)) قَالُوْا: جِبْرِیلُ؟ ذَاکَ الَّذِییَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا۔ لَوْ قُلْتَ: مِیکَائِیلَ الَّذِییَنْزِلُ بِالرَّحْمَۃِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَکَانَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ} إِلَی آخِرِ الْآیَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کریں گے، اگر آپ ان کے جوابات دیں گے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ برحق نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع بھی کریں گے، آپ نے ان سے اس طرح عہد لیا، جس طرح یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے عہد لیا تھا، جب انھوں نے کہا تھا ہم جو بات کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ وکیل ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: و ہ سوال پیش کرو۔ (۱) انہوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ (۲) انھوں نے کہا: یہ بتائیں کہ نر اورمادہ کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوزن کا آب جو ہر دونوں ملتے ہیں، جب آدمی کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے، تو نر پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا آب جو ہر غالب آتا ہے تو مادہ پیدا ہوتی ہے۔ (۳) انہوں نے کہا: ہمیں بتائو کہیعقوب علیہ السلام نے خود پر کیا حرام قرار دیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں عرق نسا کی بیماری تھی، انہیں صرف اونٹنیوں کا دودھ موافق آیا، تو صحت ہونے پر اونٹوں کا گوشت خود پر حرام قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، (۴) اچھا یہ بتائیں کہ یہ گرج کیا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جس کے سپرد بادل ہیں۔ اس فرشتہ کے ہاتھ میں آگ کا ہنٹرہے، جس کے ساتھ وہ اس جگہ بادلوں کو چلاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آواز کیا ہے جو سنی جاتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اسی ہنٹر کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ (۵) انہوں نے کہا: ایک بات رہ گئی ہے، اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو ہم آپ کی بیعت کریں گے، وہ یہ ہے کہ ہر نبی کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جواس کے پاس بھلائییعنی وحی لے کر آتا ہے، آپ بتائیں آپ کا فرشتہ ساتھی کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام ہیں۔ اب کی بار انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو جنگ، لڑائی اور عذاب لے کر آتا ہے، یہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کہتے جو کہ رحمت، نباتات اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، تو پھر بات بنتی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل کی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10678

۔ (۱۰۶۷۸)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیرِ، أَہِیَ مِنْ نَسْلِ الْیَہُودِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ، فَمَسَخَہُمْ فَکَانَ لَہُمْ نَسْلٌ حِینَیُہْلِکُہُمْ،وَلٰکِنْ ہٰذَا خَلْقٌ کَانَ، فَلَمَّا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَی الْیَہُودِ، مَسَخَہُمْ فَجَعَلَہُمْ مِثْلَہُمْ۔))۔ (مسند احمد: ۳۷۴۷)
سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بندروں اور خنزیروں کے متعلق دریافت کیا کہ کیایہیہودیوں کی مسخ شدہ نسل سے ہیں؟ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسا کبھی نہیں ہو اکہ کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پرلعنت کرتے ہوئے انہیں مسخ کر دے اور انہیں ہلاک کر دے اور پھر ان کی نسل چلے، در حقیقتیہ مخلوق ان کے مسخ کئے جانے سے پہلے کی ہے، اللہ تعالیٰ جب یہود پر غضب ناک ہوا تو اس نے ان کو ان مخلوقات کی مانند بنا دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10679

۔ (۱۰۶۷۹)۔ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ أَخِی بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ سَلَامَۃَ بْنِ وَقْشٍ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ، قَالَ: کَانَ لَنَا جَارٌ مِنْ یَہُودَ فِی بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَیْنَایَوْمًا مِنْ بَیْتِہِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَسِیرٍ، فَوَقَفَ عَلٰی مَجْلِسِ عَبْدِ الْأَشْہَلِ، قَالَ سَلَمَۃُ: وَأَنَا یَوْمَئِذٍ أَحْدَثُ مَنْ فِیہِ سِنًّا، عَلَیَّ بُرْدَۃٌ مُضْطَجِعًا فِیہَا بِفِنَائِ أَہْلِی، فَذَکَرَ الْبَعْثَ وَالْقِیَامَۃَ وَالْحِسَابَ وَالْمِیزَانَ وَالْجَنَّۃَ وَالنَّارَ، فَقَالَ: ذٰلِکَ لِقَوْمٍ أَہْلِ شِرْکٍ أَصْحَابِ أَوْثَانٍ لَا یَرَوْنَ أَنَّ بَعْثًا کَائِنٌ بَعْدَ الْمَوْتِ، فَقَالُوا لَہُ: وَیْحَکَیَا فُلَانُ! تَرٰی ہٰذَا کَائِنًا، إِنَّ النَّاسَ یُبْعَثُونَ بَعْدَ مَوْتِہِمْ إِلٰی دَارٍ فِیہَا جَنَّۃٌ وَنَارٌ، یُجْزَوْنَ فِیہَا بِأَعْمَالِہِمْ، قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِییُحْلَفُ بِہِ! لَوَدَّ أَنَّ لَہُ بِحَظِّہِ مِنْ تِلْکَ النَّارِ أَعْظَمَ تَنُّورٍ فِی الدُّنْیَایُحَمُّونَہُ، ثُمَّ یُدْخِلُونَہُ إِیَّاہُ، فَیُطْبَقُ بِہِ عَلَیْہِ، وَأَنْیَنْجُوَ مِنْ تِلْکَ النَّارِ غَدًا، قَالُوا لَہُ: وَیْحَکَ! وَمَا آیَۃُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: نَبِیٌّیُبْعَثُ مِنْ نَحْوِ ہٰذِہِ الْبِلَادِ، وَأَشَارَ بِیَدِہِ نَحْوَ مَکَّۃَ وَالْیَمَنِ، قَالُوا: وَمَتٰی تَرَاہُ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَیَّ وَأَنَا مِنْ أَحْدَثِہِمْ سِنًّا، فَقَالَ: إِنْ یَسْتَنْفِدْ ہٰذَا الْغُلَامُ عُمُرَہُ یُدْرِکْہُ، قَالَ سَلَمَۃُ: فَوَاللّٰہِ! مَا ذَہَبَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ حَتّٰی بَعَثَ اللّٰہُ تَعَالٰی رَسُولَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ حَیٌّ بَیْنَ أَظْہُرِنَا، فَآمَنَّا بِہِ وَکَفَرَ بِہِ بَغْیًا وَحَسَدًا، فَقُلْنَا: وَیْلَکَ،یَا فُلَانُ! أَلَسْتَ بِالَّذِی قُلْتَ لَنَا فِیہِ مَا قُلْتَ؟ قَالَ: بَلٰی وَلَیْسَ بِہ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۳۵)
قبیلہ بنو عبدالاشہل کے سیدنا محمود بن لبید سلمہ بن سلامہ بن وقش سے روایت ہے، یہ اصحاب بدر میں سے تھے، کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عبدالا شھل کا ایکیہودی ہمارا ہمسایہ تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت سے کچھ دن پہلے ایک دن وہ اپنے گھر سے نکل کر قبیلہ عبدالاشھل کی ایک محفل میں آکھڑا ہوا، سلمہ کہتے ہیں کہ میں اس روز وہاں پر موجود سب سے کم سن تھا۔ میں ایک چادر اوڑھے اپنے گھر کے سامنے لیٹا ہوا تھا۔ اس یہودی نے مرنے کے بعد جی اُٹھنے قیامت، حساب وکتاب، میزان اور جنت وجہنم کا ذکر کیا۔ اس نے یہ باتیں ایسے لوگوں کے سامنے کی تھیں، جو مشرک اور بت پرست تھے، وہ مرنے کے بعد جی اُٹھنے پر ایمان واعتقاد نہ رکھتے تھے، انہوں نے اس سے کہا: ارے یہ کیا؟ تو بھی کہتا ہے کہ یہ کچھ ہو گا اور لوگ مرنے کے بعد ایک ایسے جہان میں اُٹھائے جائیں گے، جہاں جنت اور جہنم ہو گی اور لوگوں کو ان کے اعمال کی جزادی جائے گی؟ اس نے کہا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کی قسم اُٹھائی جاتی ہے! میں تو یہ بھی پسند کرتا ہوں کہ دنیا میں آگ کا ایک بہت بڑا تنور ہو اور لوگ اس میں داخل ہو جائیں اور پھر اسے اوپر سے بند کر دیا جائے اور میں کل کو جہنم کی آگ سے بچ جاؤں۔ لوگوں نے اس سے کہا: تجھ پر افسوس، اس کی علامت کیا ہے؟ تو اس نے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں سے ایک نبی مبعوث ہو گا لوگوں نے اس سے پوچھا ہم اس کو کب دیکھ سکیں گے؟ اس نے میری طرف دیکھا، میں ان میں سب سے کم سن تھا اور اس نے کہا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اپنی عمر تمام ہونے سے پہلے پہلے اسے دیکھلے گا۔ سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! کچھ دن رات ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھیج دیا اور وہ ہمارے درمیان زندہ موجود تھے۔ پس ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لے آئے اور اس نے بغض وحسد کی بنا پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کفر کیا، ہم نے اس سے کہا: اے فلاں! تجھ پر افسوس! کیا تو ہی وہ شخص نہیں، جس نے ہم سے اس نبی کے متعلق باتیں کی تھیں اور بتلایا تھا؟ اس نے کہا! ہاں، کیوں نہیں، لیکنیہ وہ نبی نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10680

۔ (۱۰۶۸۰)۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ الزُّہْرِیِّ قَالَ: مَرَّ بِیْیَہُوْدِیٌّ، وَأنَا قَائِمٌ خَلْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأ، قَالَ: فَقَالَ: اِرْفَعْ أوِ اکْشِفْ ثَوْبَہُ عَنْ ظَہْرِہِ؟ قال: فَذَھَبْتُ بِہِ اَرْفَعُہُ، قَالَ: فَنَضَحَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی وَجْہِیْ مِنَ الْمَائِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۱۵)
سیدنا مسور بن مخرمہ زہری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کر رہے تھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا تھا، ایکیہودی میرے پاس سے گزرا اور اس نے کہا ان کی پشت پر سے کپڑا اوپر اُٹھاؤ، تو میں آپ کا کپڑا اوپر کو اٹھانے لگا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے چہرے پر پانیکے چھینٹے مارے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10681

۔ (۱۰۶۸۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: جَائَ جُرْمُقَانِیٌّ إِلَی أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَیْنَ صَاحِبُکُمْ ہٰذَا الَّذِییَزْعُمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ؟ لَئِنْ سَأَلْتُہُ لَأَعْلَمَنَّ أَنَّہُ نَبِیٌّ أَوْ غَیْرُ نَبِیٍّ، قَالَ: فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ الْجُرْمُقَانِیُّ: اِقْرَأْ عَلَیَّ أَوْ قُصَّ عَلَیَّ، فَتَلَا عَلَیْہِ آیَاتٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَقَالَ الْجُرْمُقَانِیُّ: ہٰذَا، وَاللّٰہِ الَّذِی جَائَ بِہِ مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَحْمَد: ہٰذَا الْحَدِیثُ مُنْکَرٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۷۶)
سیدناجابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک عجمی قوم جرامقہ کا ایک فرد صحابہ کرام کے پاس آیا اور اس نے کہا: تمہارے وہ صاحب کہاں ہیں جو نبی ہونے کے دعوے دار ہیں؟ میں ان سے کچھ دریافت کر نا چاہتا ہوں ، تاکہ جان لوں کہ وہ نبی ہیںیا نہیں ؟ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور اس جرمقانی نے کہا: آپ میرے سامنے کچھ تلاوت کریںیا بیان کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سامنے کتاب اللہ کی چند آیات کی تلاوت کی، جرمقانی نے کہا: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام بھی ایسی ہی تعلیم لے کر آئے تھے۔ عبداللہ بن احمد نے کہا کہ یہ حدیث منکر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10682

۔ (۱۰۶۸۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ أَخْبَرَہُ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکِبَ حِمَارًا، عَلَیْہِ إِکَافٌ تَحْتَہُ قَطِیفَۃٌ فَدَکِیَّۃٌ، وَأَرْدَفَ وَرَائَہُ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ، وَہُوَ یَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ فِی بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَذٰلِکَ قَبْلَ وَقْعَۃِ بَدْرٍ، حَتّٰی مَرَّ بِمَجْلِسٍ، فِیہِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُشْرِکِینَ عَبَدَۃِ الْأَوْثَانِ وَالْیَہُودِ، فِیہِمْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیٍّ، وَفِی الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ، فَلَمَّا غَشِیَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَۃُ الدَّابَّۃِ، خَمَّرَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیٍّ أَنْفَہُ بِرِدَائِہِ ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَیْنَا، فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاہُمْ إِلَی اللّٰہِ وَقَرَأَ عَلَیْہِمْ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیٍّ: أَیُّہَا الْمَرْئُ! لَا أَحْسَنَ مِنْ ہٰذَا إِنْ کَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا، فَلَا تُؤْذِینَا فِی مَجَالِسِنَا، وَارْجِعْ إِلٰی رَحْلِکَ، فَمَنْ جَاء َکَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَیْہِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ: اغْشَنَا فِی مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذٰلِکَ، قَالَ: فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِکُونَ وَالْیَہُودُ، حَتّٰی ہَمُّوا أَنْ یَتَوَاثَبُوا، فَلَمْ یَزَلِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُخَفِّضُہُمْ، ثُمَّ رَکِبَ دَابَّتَہُ حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، فَقَالَ: ((أَیْ سَعْدُ! أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ؟ (یُرِیدُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أُبَیٍّ) قَالَ کَذَا وَکَذَا۔)) فَقَالَ: اعْفُ عَنْہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَاصْفَحْ، فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ أَعْطَاکَ اللّٰہُ الَّذِی أَعْطَاکَ، وَلَقَدْ اصْطَلَحَ أَہْلُ ہٰذِہِ الْبُحَیْرَۃِ، أَنْ یُتَوِّجُوہُ فَیُعَصِّبُونَہُ بِالْعِصَابَۃِ، فَلَمَّا رَدَّ اللّٰہُ ذٰلِکَ بِالْحَقِّ الَّذِی أَعْطَاکَہُ شَرِقَ بِذٰلِکَ فَذَاکَ فَعَلَ بِہِ مَا رَأَیْتَ، فَعَفَا عَنْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۱۰)
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے، اس پر کاٹھی اور اس کے نیچے فد کی کپڑا یعنی فدک مقام کا تیار شدہ کپڑا رکھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو گدھے پر اپنے پیچھے سوار کر لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، یہ غزوۂ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے چلتے ایک ایسی محفل کے پاس سے گذرے جس میں مسلمان، مشرکین، بتوں کے پجاری اور یہودی ملے جلے بیٹھے تھے۔ ان میں عبداللہ ابن ابی اور عبداللہ بن رواحہ بھی تھے، گدھے کے چلنے کی وجہ سے اڑنے والا غبار محفل پر پہنچا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر سے اپنی ناک کو ڈھانپ لیا اور بولا ہم پر غبار نہ اڑاؤ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کو سلام کہا اور رک کر نیچے اتر آئے اور ان لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، عبداللہ بن ابی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ کی بات سے بہتر کوئی بات نہیں، اگر آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری محافل میں آکر ہمیں تنگ نہ کیا کریں، آپ اپنے گھر جائیں ہم میں سے جو کوئی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے سامنے یہ چیزیں بیان کیا کریں۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری محافل میں تشریف لایا کریں، ہم پسند کرتے ہیں۔ یا سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبداللہ بن ابی سے مخاطب ہو کر کہا:تم اپنی محافل میں آنے سے ہمیں روک رہے ہو، تاہم ہم تمہیں اپنی محافل میں آنے کی دعوت دیتے ہیں، تم ہماری محافل میں آیا کر و ہم اسے پسند کرتے ہیں، ان باتوں سے مسلمانوں، مشرکین اور یہود میں تو تُکار شروع ہو گئی،یہاں تک کہ نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں خاموش کراتے رہے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر تشریف لے گئے اور سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں جا کر نزول فرما ہوئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سعد! کیا تم نے ابو حباب یعنی عبداللہ بن ابی کی بات سنی ہے؟ اس نے یوںیوں کہا ہے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے جانے دیں اور درگزر کریں، اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو عزت دینی تھی، وہ دے رکھی ہے اس بستییعنی مدینہ منورہ کے لوگ اس کی تاج پوشی اور دستار بندی کر کے اسے سردار بنانے والے تھے، جب اللہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عطا کئے ہوئے حق کے ذریعے اسے ناکام ونامراد کیا تو وہ آپ سے حسد کرنے لگا ہے۔ اس نے آپ کے ساتھ جو کچھ کیایہ اسی کا نتیجہ ہے،سو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے معاف کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10683

۔ (۱۰۶۸۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: غَزَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَمْسَ عَشَرَۃَ غَزْوَۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۸)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پندرہ غزوے کئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10684

۔ (۱۰۶۸۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) ثَنَا إِسْرَائِیْلُ عَنْ أبِیْ اِسْحٰقَ عَنِ الْبَرَائِ ابْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَمْسَ عَشْرَۃَ غَزْوَۃً، وَأنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ لِدَۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸۷)
۔( دوسری سند) سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پندرہ غزوات میں شرکت کی، میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم عمر ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10685

۔ (۱۰۶۸۵)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ کَمْ غَزَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: تِسْعَ عَشْرَۃَ، وَغَزَوْتُ مَعَہُ سَبْعَ عَشْرَۃَ، وَسَبَقَنِی بِغَزَاتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۳۱)
ابو اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کل کتنے غزوے کئے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انیس غزوے کیے اور میں نے آپ کے ساتھ سترہ غزوات میں شرکت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو غزووں میں مجھ سے سبقت لے گئے تھے، (سو میں ان میں شرکت نہ کر سکا تھا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10686

۔ (۱۰۶۸۶)۔ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أبِیْہِ قَالَ: غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِتَّ عَشَرَۃَ غَزْوَۃً۔ (مسند احمد: ۲۳۳۴۱)
سیدنا بریدہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10686

۔ (۱۰۶۸۶م)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْزُو فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ إِلَّا أَنْ یُغْزٰی أَوْ یُغْزَوْا، فَإِذَا حَضَرَ ذٰلِکَ، أَقَامَ حَتّٰییَنْسَلِخَ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۳۷)
سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حرمت والے مہینوں میں قتال نہیں کیا کرتے تھے، سوائے اس صورت کے کہ دشمن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر چڑھائی کر دیتا، اگر کوئی ایسی صورت پیش آ جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حرمت والے مہینے کے گزرنے تک رک جاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10687

۔ (۱۰۶۸۷)۔ عَنْ أنَسٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا غَزَا قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ أنْتَ عَضُدِیْ، وَأنْتَ نَصِیْرِیْ، وَبِکَ أُقَاتِلُ۔))۔ (مسند احمد: ۱۲۹۴۰)
سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب دشمن سے قتال کرتے تو یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ عَضُدِی وَاَنْتَ نصِیری وَبِکَ اُقَاتِلُ۔ (یا اللہ ! تو ہی میرا دست وبازو اور مدد گار ہے اور میں تیرے ہی سہارے دشمن سے قتال کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10688

۔ (۱۰۶۸۸)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَعَلِیٌّ رَفِیقَیْنِ فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ الْعُشَیْرَۃِ، فَلَمَّا نَزَلَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَقَامَ بِہَا، رَأَیْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ یَعْمَلُونَ فِی عَیْنٍ لَہُمْ فِی نَخْلٍ، فَقَالَ لِی عَلِیٌّ: یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! ہَلْ لَکَ أَنْ تَأْتِیَ ہٰؤُلَائِ، فَنَنْظُرَ کَیْفَیَعْمَلُونَ؟ فَجِئْنَاہُمْ فَنَظَرْنَا إِلٰی عَمَلِہِمْ سَاعَۃً، ثُمَّ غَشِیَنَا النَّوْمُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِیٌّ، فَاضْطَجَعْنَا فِی صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِی دَقْعَائَ مِنَ التُّرَابِ، فَنِمْنَا فَوَاللّٰہِ! مَا أَہَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَرِّکُنَا بِرِجْلِہِ، وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْکَ الدَّقْعَائِ، فَیَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَلِیٍّ: ((یَا أَبَا تُرَابٍ!)) لِمَا یُرَی عَلَیْہِ مِنَ التُّرَابِ، قَالَ: ((أَلَا أُحَدِّثُکُمَا بِأَشْقَی النَّاسِ رَجُلَیْنِ؟)) قُلْنَا: بَلٰی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((أُحَیْمِرُ ثَمُودَ الَّذِی عَقَرَ النَّاقَۃَ، وَالَّذِییَضْرِبُکَیَا عَلِیُّ عَلٰی ہٰذِہِ، یَعْنِی قَرْنَہُ، حَتّٰی تُبَلَّ مِنْہُ ہٰذِہِ، یَعْنِی لِحْیَتَہُ۔))۔ (مسند احمد: ۱۸۵۱۱)
سیدناعمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۃ العشیرۃ میں میں اور علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اکٹھے تھے۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں نزول فرما ہوئے تو ہم نے وہاں بنو مدلج کے لوگوں کو ایک نخلستان میں ایک چشمے پر کام کرتے دیکھا تو علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا ابو الیقظان!کیا خیال ہے ہم ان کے پاس جا کر دیکھیںیہ کس طرح کام کرتے ہیں؟ ہم ان کے پاس گئے اور ہم نے کچھ دیر ان کا کام دیکھا۔ پھر ہمیں نیند نے آلیا۔ تو میں اور علی چل کر کھجوروں کے ایک جھنڈ میں مٹی پر ہی لیٹ کر سو گئے۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہی اپنے پاؤں سے حرکت دے کر ہمیں بیدار کیا۔ ہم دونوں مٹی کے ساتھ لتھڑے ہوئے تھے اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اے ابو تراب کی کنیت سے پکارا، کیونکہ ان کے وجود پر مٹی نظر آ رہی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10689

۔ (۱۰۶۸۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، جَائَتْہُ جُہَیْنَۃُ، فَقَالُوا: إِنَّکَ قَدْ نَزَلْتَ بَیْنَ أَظْہُرِنَا، فَأَوْثِقْ لَنَا حَتّٰی نَأْتِیَکَ وَتُؤْمِنَّا، فَأَوْثَقَ لَہُمْ فَأَسْلَمُوا، قَالَ: فَبَعَثَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجَبٍ، وَلَا نَکُونُ مِائَۃً وَأَمَرَنَا أَنْ نُغِیرَ عَلٰی حَیٍّ مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ إِلٰی جَنْبِ جُہَیْنَۃَ، فَأَغَرْنَا عَلَیْہِمْ وَکَانُوا کَثِیرًا، فَلَجَأْنَا إِلٰی جُہَیْنَۃَ فَمَنَعُونَا، وَقَالُوا: لِمَ تُقَاتِلُونَ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ؟ فَقُلْنَا: إِنَّمَا نُقَاتِلُ مَنْ أَخْرَجَنَا مِنَ الْبَلَدِ الْحَرَامِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: مَا تَرَوْنَ، فَقَالَ بَعْضُنَا: نَأْتِی نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُخْبِرُہُ، وَقَالَ قَوْمٌ: لَا، بَلْ نُقِیمُ ہَاہُنَا، وَقُلْتُ أَنَا فِی أُنَاسٍ مَعِی: لَا، بَلْ نَأْتِی عِیرَ قُرَیْشٍ فَنَقْتَطِعُہَا، فَانْطَلَقْنَا إِلَی الْعِیرِ، وَکَانَ الْفَیْئُ إِذْ ذَاکَ مَنْ أَخَذَ شَیْئًا فَہُوَ لَہُ، فَانْطَلَقْنَا إِلَی الْعِیرِ، وَانْطَلَقَ أَصْحَابُنَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرُوہُ الْخَبَرَ، فَقَامَ غَضْبَانًا مُحْمَرَّ الْوَجْہِ، فَقَالَ: ((أَذَہَبْتُمْ مِنْ عِنْدِی جَمِیعًا وَجِئْتُمْ مُتَفَرِّقِینَ، إِنَّمَا أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ الْفُرْقَۃُ، لَأَبْعَثَنَّ عَلَیْکُمْ رَجُلًا لَیْسَ بِخَیْرِکُمْ، أَصْبَرُکُمْ عَلَی الْجُوعِ وَالْعَطَشِ۔)) فَبَعَثَ عَلَیْنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جَحْشٍ الْأَسَدِیَّ، فَکَانَ أَوَّلَ أَمِیرٍ أُمِّرَ فِی الْإِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۹)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ جہینہ کے لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا آپ ہمارے درمیان تشریف لا چکے ہیں، آپ ہمارے ساتھ مضبوط تعلق قائم کریں تاکہ ہم آپ کی خدمت میں آئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری قیادت بھی فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پختہ عہدوپیمان کیا، وہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ماہ رجب میں روانہ کیا، ہماری تعداد ایک سو بھی نہ تھی، آپ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم قبیلہ جہینہ کے قریب آباد بنو کنانہ کی ایک شاخ پر حملہ کریں، ہم نے ان پر حملہ کر دیا، وہ لوگ تعداد میں بہت زیادہ تھے، ہم قبیلہ جہینہ میں جا کر پناہ گزیں ہو گئے اورانہوں نے ہمیںپناہ دے دی اور یہ بھی کہا کہ آپ لوگ حرمت والے مہینے میں قتال کیوں کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہم ان لوگوں سے قتال کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں بلد حرامیعنی حرمت والے شہر سے حرمت والے مہینے میں نکال باہر کیا،یہ باتیں سن کر ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا: اب تمہارا کیا خیال ہے؟ بعض نے کہا:ہم اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر صورتِ حال کی خبر کریں، لیکن کچھ لوگوں نے کہا: نہیں نہیں، ہمیں یہیں ٹھہرنا چاہیے۔اور میں نے چند مزید لوگوں کو ساتھ ملا کر کہا کہ ہمیں قریش کے قافلہ کا رخ کر کے اس کو لوٹ لینا چاہیے، چنانچہ ہم قافلہ کی طرف چل پڑے، ان دنوں دستور تھا کہ مال پر جو آدمی قابض ہو جاتا وہ اسی کا ہوتا ،ہم قافلہ کی طرف چل دئیے، اور ہمارے کچھ ساتھیوں نے جا کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارے حالات کی اطلاع کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غضب ناک ہو کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم میرے ہاں سے اکٹھے ہو کر گئے تھے اور تم الگ الگ ہو کر واپس آ رہے ہو، تم سے پہلے لوگوں کو بھی اسی اختلاف نے ہلاک کیا تھا، میں تمہارے اوپر ایک ایسے آدمی کو امیر بنا کر بھیجوں گا جو تم سے بہتر یا افضل نہیں، البتہ تمہاری نسبت وہ بھوک پیاس کو زیادہ برداشت کر سکتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبداللہ بن جحش اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ہمارے اوپر امیر بنا کر روانہ فرمایا،یہ پہلا شخص تھا جسے دورِ اسلام میں سب سے پہلے امیر بنایا گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10690

۔ (۱۰۶۹۰)۔ عَنِ الْبَرَاء ِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، نَزَلَ عَلَی أَجْدَادِہِ اَوْ أَخْوَالِہِ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَّہُ صَلَّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ تَکُونَ قِبْلَتُہُ قِبَلَ الْبَیْتِ، وَأَنَّہُ صَلّٰی أَوَّلَ صَلَاۃٍ صَلَّاہَا صَلَاۃَ الْعَصْرِ وَصَلّٰی مَعَہُ قَوْمٌ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلّٰی مَعَہُ، فَمَرَّ عَلٰی أَہْلِ مَسْجِدٍ وَہُمْ رَاکِعُونَ، فَقَالَ: أَشْہَدُ بِاللّٰہِ! لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِبَلَ مَکَّۃَ، قَالَ: فَدَارُوا کَمَا ہُمْ قِبَلَ الْبَیْتِ، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَیْتِ، وَکَانَ الْیَہُودُ قَدْ أَعْجَبَہُمْ إِذْ کَانَ یُصَلِّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَأَہْلُ الْکِتَابِ فَلَمَّا وَلّٰی وَجْہَہُ قِبَلَ الْبَیْتِ أَنْکَرُوا ذٰلِکَِِِِ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۹۰)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ابتدائی طور پر اپنے انصاری اجداد یا ماموؤں کے ہاں اترے اور وہیں قیام فرمایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہاں آکر سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا فرمائیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دلی پسند یہتھی کہ آپ کاقبلہ خانہ کعبہ ہو۔ (تحویل قبلہ کے بعد) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلی نماز عصر( خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے ) ادا فرمائی۔ لوگوں نے بھی آپ کی معیت میں نماز ادا کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے والے لوگوں میں سے ایک آدمی وہاں سے روانہ ہوا، تو اس کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا، جو مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے اور وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس شخص نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر شہادت دیتا ہوں کہ میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مکہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر کے آیا ہوں۔ وہ لوگ نماز کے دوران ہی کعبہ کی طرف مڑ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بھی دلی پسند یہی تھی کہ آپ کا رخ کعبہ (بیت اللہ) کی طرف کر دیا جائے اور یہودیوں کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ آپ بیت المقدس کی طرف اور اہل کتاب کے قبلہ کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا کیا کرتے تھے، جب آپ کا رخ بیت اللہ کی طرف کر دیا گیا تو انہیںیہ بات اچھی نہ لگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10691

۔ (۱۰۶۹۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((إِنَّہُمْ (یَعْنِی الْیَہُوْدَ) لَا یَحْسُدُونَّا عَلٰی شَیْئٍ کَمَا یَحْسُدُونَّا عَلٰییَوْمِ الْجُمُعَۃِ، الَّتِی ہَدَانَا اللّٰہُ لَہَا وَضَلُّوا عَنْہَا، وَعَلَی الْقِبْلَۃِ الَّتِی ہَدَانَا اللّٰہُ لَہَا وَضَلُّوا عَنْہَا، وَعَلٰی قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ آمِینَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۵۵۴۳)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: یہودی ہمارے اوپر اور کسی چیز کا اتنا حسد نہیں کرتے جتنا وہ جمعہ کے دن پر حسد کرتے ہیں، جبکہ اللہ نے یہ دن ہمیں دیا اور وہ اس سے محروم رہے، وہ ہمارے قبلہ پر بھی حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں یہقبلہ دیا اور وہ اس سے محروم ہے اور وہ امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے پر بھی حسد کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10692

۔ (۱۰۶۹۲)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: اُحِیْلَتِ الصَّلَاۃُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ وَاُحِیْلَ الصِّیَامُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ، فَاَمَّا اَحْوَالُ الصَّلَاۃِ فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ وَہُوَ یُصَلِّیْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ (الْحَدِیْثِ) قَالَ: وَاَمَا اَحْوَالُ الصِّیَامِ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ فَجَعَل یَصُوْمُ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، وَقَالَ یَزِیْدُ: فَصَامَ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا مِنْ رَبِیْعِ الْاَوَّلِ إِلٰی رَمَضَانَ، مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، وَصَامَ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ عَلَیْہِ الصِّیَامَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (إِلٰی ھٰذِہِ الآیَۃِ) وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} قَالَ: فَکَانَ مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ اَطْعَمَ مِسْکِیْنًا فَاَجْزَأَ ذَالِکَ عَنْہُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَنْزَلَ اْلآیَۃَ الْاُخْرٰی: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ (إِلٰی قَوْلِہِ) فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} فَاَثْبَتَ اللّٰہُ صِیَامَہُ عَلَی الْمُقِیْمِ الصَّحِیْحِ، وَرَخَّصَ فِیْہِ لِلْمَرِیْضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الإِطْعَامَ لِلْکَبِیْرِ الَّذِی لَایَسْتَطِیْعُ الصِّیَامَ فَھٰذَانِ حَالَانِ، قَالَ: وَکَانُوْا یَاْکُلُوْنَ وَیَشْرَبُوْنَ، وَیَاْتُوْنَ النِّسَائَ مَالَمْ یَنَامُوْا فَإِذَا نَامُوْا اِمْتَنَعُوْا، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ صِرْمَۃُ، ظَلَّ یَعْمَلُ صَائِمًا حَتّٰی اَمْسٰی فَجَائَ إِلٰی اَہْلِہِ فَصَلَّی الْعِشَائَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ یَاْکُلْ، وَلَمْ یَشْرَبْ حَتّٰی اَصْبَحَ فَاَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: فَرَآہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ جَہِدَ جَہْدًا شَدِیْدًا، قَالَ: ((مَالِیْ اَرَاکَ قَدْ جَہِدْتَّ جَہْدًا شَدِیْدًا؟)) قَالَ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی عَمِلْتُ اَمْسِ فَجِئْتُ حِیْنَ جِئْتُ فَاَلْقَیْتُ نَفْسِی فَنِمْتُ وَاَصْبَحْتُ حِیْنَ اَصْبَحْتُ صَائِمًا، قَالَ: وَکَانَ عُمَرُ قَدْ اَصَابَ مِنَ النِّسَائِ مِنْ جَارِیَۃٍ اَوْ مِنْ حُرْۃٍ بَعْدَ مَانَامَ، وَاَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ ذَالِکَ لَہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلٰی نِسَائِکُمْ (إِلٰی قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ) ثُمَّاَتِمُّوْاالصِّیامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (مسند احمد: ۲۲۴۷۵)
سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین مراحل میں نماز کی فرضیت اور تین مراحل میں ہی روزے کی فرضیت ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے،… (کتاب الصلاۃ میں مکمل حدیث گزر چکی ہے) روزے کے مراحل یہ ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے، یزید راوی کہتا ہے: ربیع الاول سے لے کر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت تک کل سترہ ماہ کے دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے رہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس محرم کا روزہ بھی رکھا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جائو۔ )نیز فرمایا: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزہ کا یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے، یہ دو حالتیں ہو گئیں، تیسری حالت یہ تھی کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے تک کھا پی سکتے تھے اور بیویوں سے ہم بستری کر سکتے تھے تھے، لیکن جب نیند آ جاتی تو اس کے بعد یہ سب کچھ ان کے لئے ممنوع قرار پاتا تھا، ایک دن یوں ہوا کہ ایک صرمہ نامی انصاری صحابی روزے کی حالت میں سارا دن کام کرتا رہا، جب شام ہوئی تو اپنے گھر پہنچا اور عشا کی نماز پڑھ کر کچھ کھائے پئے بغیر سو گیا،یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور اس طرح اس کا روزہ بھی شروع ہو چکا تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ کافی نڈھال ہوچکا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا کہ: بہت نڈھال دکھائی دے رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل سارا دن کام کرتا رہا، جب گھر آیا تو ابھی لیٹا ہی تھا کہ سو گیا( اور اس طرح میرے حق میں کھانا پینا حرام ہو گیا اور) جب صبح ہوئی تو میں نے تو روزے کی حالت میں ہی ہونا تھا۔ اُدھر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بھی ایک معاملہ تھا کہ انھوں نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوییا لونڈی سے ہم بستریکر لی تھی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر ساری بات بتلا دی تھی، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلَی نِسَائِکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (روزے کی راتوںمیں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10693

۔ (۱۰۶۹۳)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی بَدْرٍ، خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ، فَاَشَارَ عَلَیْہِ اَبُوْبَکَرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، ثُمَّ اسْتَشَارَھُمْ فَاَشْارَ عَلَیْہِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَسَکَتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ: اِنّمَا یُرِیْدُکُمْفَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ لَانَکُوْنُ کَمَا قَالَتْ بَنُوْا اِسْرَئِیْلَ لِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ : {اذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ} وَلٰکِنْ وَاللّٰہِ لَوْ ضَرَبَتَ اَکْبَادَ الْاِبِلِ حَتّٰی تَبْلُغَ بَرْکَ الْغِمَادِ لَکُنَّا مَعَکَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴۵)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو باہر تشریف لائے اور لوگوں سے مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشورہ طلب کیا، اس بار سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک رائے دی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، اتنے میں ایک انصاری کھڑا ہوا اور اس نے کہا: انصاریو! حضور ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم سے مخاطب ہیں، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہم اس طرح نہیں ہوں گے، جیسا کہ بنو اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کہا تھا: تو جا اور تیرا ربّ جائے اور تم دونوں جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اللہ کی قسم ہے، اے اللہ کے رسول! اگر آپ اونٹوں کے جگروں پر مارتے ہوئے سفر کرتے جائیں،یہاں تک کہ برک الغماد تک پہنچ جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10694

۔ (۱۰۶۹۴)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بُسَیْسَۃَ عَیْنًا،یَنْظُرُ مَا فَعَلَتْ عِیرُ أَبِی سُفْیَانَ، فَجَائَ وَمَا فِی الْبَیْتِ أَحَدٌ غَیْرِی وَغَیْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَا أَدْرِی مَا اسْتَثْنٰی بَعْضَ نِسَائِہِ فَحَدَّثَہُ الْحَدِیثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَکَلَّمَ، فَقَالَ: ((إِنَّ لَنَا طَلِبَۃً فَمَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا فَلْیَرْکَبْ مَعَنَا۔)) فَجَعَلَ رِجَالٌ یَسْتَأْذِنُونَہُ فِی ظَہْرٍ لَہُمْ فِی عُلُوِّ الْمَدِینَۃِ، قَالَ: ((لَا إِلَّا مَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا۔)) فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ حَتّٰی سَبَقُوا الْمُشْرِکِینَ إِلٰی بَدْرٍ، وَجَائَ الْمُشْرِکُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلٰی شَیْئٍ حَتّٰی أَکُونَ أَنَا أُؤْذِنُہُ۔)) فَدَنَا الْمُشْرِکُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُومُوا إِلٰی جَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ۔)) قَالَ: یَقُولُ عُمَیْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِیُّ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! جَنَّۃٌ عَرْضُہَا السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَقَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا یَحْمِلُکَ عَلٰی قَوْلِکَ بَخٍ بَخٍ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِلَّا رَجَائَ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِہَا، قَالَ: ((فَإِنَّکَ مِنْ أَہْلِہَا۔)) قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِہِ فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَیِیتُ حَتّٰی آکُلَ تَمَرَاتِی ہٰذِہِ إِنَّہَا لَحَیَاۃٌ طَوِیلَۃٌ، قَالَ: ثُمَّ رَمٰی بِمَا کَانَ مَعَہُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَہُمْ حَتّٰی قُتِلَ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۲۵)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بسیسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جاسوس کی حیثیت سے روانہ فرمایا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ پر نظر رکھے، ایک دفعہ جب کہ گھر میں میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سوا اور کوئی نہ تھا وہ آئے، ثابت راوی کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امہات المؤمنین میں سے کسی کا استثناء کیا تھا یا نہیں، اور سیدنا بسیسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک قافلے پر ہماری نظر ہے، جس آدمی کے پاس سواری ہو، وہ سوار ہو کر ہمارے ساتھ چلے۔ بعض لوگوں نے یہ اجازت چاہی کہ ان کی سواریاں مدینہ منورہ کے بالائی علاقہ میں ہیں، وہ جا کر سواریاں لے آئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف وہ لوگ چلیں جن کی سواریاں اس وقت موجود ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے اصحاب روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے پہلے بدر کے مقام پر جا پہنچے، مشرکین بھی آگئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک میں اجازت نہ دوں کوئی آدمی پیش قدمی نہ کرے۔ جب مشرکین مسلمانوں کے قریب آپہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب بڑھو اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ عمیر بن نحام انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا جنت کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں! تو وہ کہنے لگے: واہ، واہ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یہ واہ واہ کیوں کہہ رہے ہو؟ انہوں نے :کہا اللہ کے رسول! میں یہ الفاظ اس امید پر کہہ رہا ہوں کہ اللہ مجھے اہلِ جنت میں سے بنا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جنتی ہو، اس کے بعد اس نے اپنی تھیلی سے کچھ کھجوریں نکالیں اور کھانے لگا ، اتنے میں اس نے کہا: اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہوں، تو یہ تو بڑی طویل زندگی ہے، چنانچہ اس کے پاس جو کھجوریں تھیں، اس نے ان کو پھینک دیا اور مشرکین سے قتال کیایہاں تک کہ شہید ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10695

۔ (۱۰۶۹۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِہَا، فَاجْتَوَیْنَاہَا وَأَصَابَنَا بِہَا وَعْکٌ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ، فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِکِینَ قَدْ أَقْبَلُوا، سَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی بَدْرٍ، وَبَدْرٌ بِئْرٌ،فَسَبَقَنَا الْمُشْرِکُونَ إِلَیْہَا، فَوَجَدْنَا فِیہَا رَجُلَیْنِ مِنْہُمْ، رَجُلًا مِنْ قُرَیْشٍ وَمَوْلًی لِعُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ، فَأَمَّا الْقُرَشِیُّ فَانْفَلَتَ، وَأَمَّا مَوْلَی عُقْبَۃَ فَأَخَذْنَاہُ فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَہُ: کَمِ الْقَوْمُ؟ فَیَقُولُ: ہُمْ، وَاللّٰہِ! کَثِیرٌ عَدَدُہُمْ، شَدِیدٌ بَأْسُہُمْ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ، إِذْ قَالَ ذٰلِکَ، ضَرَبُوہُ حَتّٰی انْتَہَوْا بِہِ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہُ: ((کَمِ الْقَوْمُ؟)) قَالَ: ہُمْ، وَاللّٰہِ! کَثِیرٌ عَدَدُہُمْ، شَدِیدٌ بَأْسُہُمْ، فَجَہَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُخْبِرَہُ کَمْ ہُمْ فَأَبٰی، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَہُ: ((کَمْ یَنْحَرُونَ مِنَ الْجُزُرِ۔)) فَقَالَ: عَشْرًا کُلَّ یَوْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((الْقَوْمُ أَلْفٌ کُلُّ جَزُورٍ لِمِائَۃٍ۔)) وَتَبِعَہَا ثُمَّ إِنَّہُ أَصَابَنَا مِنَ اللَّیْلِ طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ، فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَہَا مِنَ الْمَطَرِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُو رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ، وَیَقُولُ: ((اللَّہُمَّ إِنَّکَ إِنْ تُہْلِکْ ہٰذِہِ الْفِئَۃَ لَا تُعْبَدْ۔)) قَالَ: فَلَمَّا أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَی الصَّلَاۃَ عِبَادَ اللّٰہِ، فَجَائَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ فَصَلَّی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحَرَّضَ عَلَی الْقِتَالِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ جَمْعَ قُرَیْشٍ تَحْتَ ہٰذِہِ الضِّلَعِ الْحَمْرَائِ مِنَ الْجَبَلِ۔)) فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ مِنَّا وَصَافَفْنَاہُمْ، إِذَا رَجُلٌ مِنْہُمْ عَلٰی جَمَلٍ لَہُ أَحْمَرَ یَسِیرُ فِی الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا عَلِیُّ! نَادِ لِی حَمْزَۃَ۔)) وَکَانَ أَقْرَبَہُمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، وَمَاذَا یَقُولُ لَہُمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنْ یَکُنْ فِی الْقَوْمِ أَحَدٌ یَأْمُرُ بِخَیْرٍ فَعَسٰی أَنْ یَکُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ۔)) فَجَائَ حَمْزَۃُ، فَقَالَ: ہُوَ عُتْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَہُوَ یَنْہٰی عَنِ الْقِتَالِ، وَیَقُولُ لَہُمْ: یَا قَوْمُ! إِنِّی أَرٰی قَوْمًا مُسْتَمِیتِینَ لَا تَصِلُونَ إِلَیْہِمْ وَفِیکُمْ خَیْرٌ،یَا قَوْمُ! اعْصِبُوہَا الْیَوْمَ بِرَأْسِی، وَقُولُوا: جَبُنَ عُتْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّی لَسْتُ بِأَجْبَنِکُمْ، فَسَمِعَ ذٰلِکَ أَبُو جَہْلٍ فَقَالَ: أَنْتَ تَقُولُ ہٰذَا؟ وَاللّٰہِ! لَوْ غَیْرُکَیَقُولُ ہٰذَا، لَأَعْضَضْتُہُ قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُکَ جَوْفَکَ رُعْبًا، فَقَالَ عُتْبَۃُ: إِیَّایَ تُعَیِّرُیَا مُصَفِّرَ اسْتِہِ! سَتَعْلَمُ الْیَوْمَ أَیُّنَا الْجَبَانُ، قَالَ: فَبَرَزَ عُتْبَۃُ وَأَخُوہُ شَیْبَۃُ وَابْنُہُ الْوَلِیدُ حَمِیَّۃً، فَقَالُوا: مَنْ یُبَارِزُ؟ فَخَرَجَ فِتْیَۃٌ مِنْ الْأَنْصَارِ سِتَّۃٌ، فَقَالَ عُتْبَۃُ: لَا نُرِیدُ ہٰؤُلَائِ وَلٰکِنْ یُبَارِزُنَا مِنْ بَنِی عَمِّنَا مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُمْ یَا عَلِیُّ! وَقُمْ یَا حَمْزَۃُ! وَقُمْ یَا عُبَیْدَۃُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ!)) فَقَتَلَ اللّٰہُ تَعَالَی عُتْبَۃَ وَشَیْبَۃَ ابْنَیْ رَبِیعَۃَ وَالْوَلِیدَ بْنَ عُتْبَۃَ وَجُرِحَ عُبَیْدَۃُ، فَقَتَلْنَا مِنْہُمْ سَبْعِینَ وَأَسَرْنَا سَبْعِینَ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَصِیرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِیرًا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ ہٰذَا وَاللّٰہِ مَا أَسَرَنِی، لَقَدْ أَسَرَنِی رَجُلٌ أَجْلَحُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْہًا، عَلٰی فَرَسٍ أَبْلَقَ مَا أُرَاہُ فِی الْقَوْمِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ: أَنَا أَسَرْتُہُ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اسْکُتْ فَقَدْ أَیَّدَکَ اللّٰہُ تَعَالَی بِمَلَکٍ کَرِیمٍ۔)) فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْعَبَّاسَ وعَقِیلًا وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ۔ (مسند احمد: ۹۴۸)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہاں کی آب وہوا ہمیں راس نہ آئی اور ہمیں شدید بخار نے آلیا۔ اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدر کے متعلق حالات و واقعات معلوم کرتے رہتے تھے، جب ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مشرکین مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے نکل پڑے ہیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدر کی طرف روانہ ہوئے، بدر ایک کنوئیں کا نام ہے مشرکین ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئے، ہمیں وہاں دو مشرک ملے، ان میں سے ایک قریشی تھا اور دوسرا عقبہ بن ابی معیط کا غلام تھا، قریشی تو وہاں سے بھاگ نکلا البتہ عقبہ کے غلام کو ہم نے پکڑ لیا۔ہم اس سے پوچھنے لگے کہ قریشیوں کی تعداد کتنی ہے؟ وہ کہتا اللہ کی قسم وہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور سازوسامان کے لحاظ سے بھی وہ مضبوط ہیں، اس نے جب یہ کہا تو مسلمانوں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آئے۔ آپ نے بھی اس سے دریافت کیا کہ ان کی تعداد کتنی ہے؟ تو اس نے پھر وہی کہا کہ اللہ کی قسم! ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور سازوسامان بھی ان کے پاس کافی ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پورا زور لگایا تاکہ وہ بتلادئے کہ ان کی تعداد کس قدر ہے؟ مگر اس نے کچھ نہ بتلایا۔ بعدازاں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ وہ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ اس نے بتلایا کہ روزانہ دس اونٹ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی تعداد ایک ہزار ہے ایک سو کے لگ بھگ افراد کے لیے ایک اونٹ ہوتا ہے۔ بعدازاں رات کو بوندا باندی ہو گئی ہم نے بارش سے بچاؤ کے لیے درختوں اور ڈھالوں کی پناہ لی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساری رات اللہ سے دعائیں کرتے رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہہ رہے تھے یا اللہ ! اگر تو نے اس چھوٹی سی جماعت کوہلاک کر دیا تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ صبح صادق ہو ئی تو آپ نے آواز دی، لوگو! نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ لوگ درختوں اور ڈھالوں کے نیچے سے نکل آئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دشمن کے خلاف لڑنے کی ترغیب دلائی، پھر آپ نے فرمایا کہ قریش کیجماعت اس ٹیڑھے سرخ پہاڑ کے نیچے ہو گی جب دشمن ہمارے قریب آئے اور ہم بھی ان کے بالمقابل صف آراء ہوئے تو ان میں سے ایک آدمی اپنے سرخ اونٹ پر سوار دشمن کی فوج میں چکر لگا رہا تھا، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پکار کر فرمایا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کومیری طرف بلاؤ وہ مشرکین کا سب سے قریبی رشتہ دار تھا، آپ نے پوچھا یہ سرخ اونٹ والا آدمی کون ہے؟ اور وہ ان سے کیا کہہ رہا ہے؟ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اگر ان لوگوں میں کوئی بھلامانس ان کو اچھی بات کہنے والا ہوا تو وہ یہی سرخ اونٹ والا ہی ہو گا۔حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو انہوں نے بتلایا کہ یہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو انہیں قتال سے منع کر رہا ہے اور ان سے کہہ رہا ہے لوگو! میں ایسے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو مرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور تم ان تک نہیں پہنچ سکو گے۔ اسی میں تمہاری خیر ہے، لوگو! تم لڑائی سے پیچھے ہٹنے کی عار میرے سر پر باندھو، اور کہہ دوکہ عتبہ بن ربیعہ نے بزدلی دکھائی، تم جانتے ہو کہ میں تم سے زیادہ بزدل نہیں ہوں، ابو جہل نے اس کی باتیں سنیں تو کہا ارے تم ایسی باتیںکہہ رہے ہو؟ کوئی دوسرا کہتا تو میں اس سے کہتا جا کر اپنے باپ کی شرم گاہ کوکاٹ کھاؤ، تمہارے دل میں تو خوف بھر گیا ہے۔ تو عتبہ نے کہا ارے اپنی دبر کو زعفران سے رنگنے والے کیا تو مجھے عار دلاتا ہے ؟ آج تجھے پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے بزدل کون ہے؟ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فرماتے ہیں چنانچہ عتبہ اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید قومی حمیت وغیرت کے جذبہ سے مقابلے میں نکلے اور عتبہ نے پکارا، کون آئے گا ہمارے مقابلہ میں؟ تو چھ انصاری اس کے جواب میں سامنے آئے۔ تو عتبہ نے کہا ہم ان سے لڑنا نہیں چاہتے، ہم تو اپنے عم زاد بنو عبدالمطلب کو مقابلے کی دعوت دیتے ہیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ! تم اٹھو، حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھو اور عبیدہ بن حارث بن مطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تم اُٹھو، تو اللہ تعالیٰ نے ربیعہ کے دونوں بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو قتل کر دیا اور مسلمانوں میں سے عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ زخمی ہو گئے۔ مسلمانوں نے ستر کا فروں کو قید اور ستر کو قتل کیا، ایک پست قد انصاری صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عباس بن عبدالمطلب کو گرفتار کر لائے، تو عباس نے کہا اللہ کے رسول! ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کی قسم مجھے اس نے نہیں بلکہ مجھے ایک ایسے آدمی نے گرفتار کیا ہے جس کے سر کے دونوں پہلوؤں پربال نہیں تھے۔ جو انتہائی حسین وجمیل تھا اور اس کے گھوڑے کی ٹانگیں رانوں تک سفید تھیں۔ وہ آدمی مجھے آپ لوگوں میں دکھائی نہیں دے رہا۔ تو انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا اللہ کے رسول! اسے میں نے ہی گرفتار کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خاموش رہو، اس سلسلہ میں اللہ نے اپنے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری نصرت کی تھی۔ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے بہت سے کافروں کو اور بنو عبدالمطلب میں سے عباس، عقیل اور نوفل بن حارث کو گرفتار کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10696

۔ (۱۰۶۹۶)۔ عن ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ، قَالَ: نَظَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَصْحَابِہِ، وَہُمْ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَنَیِّفٌ، وَنَظَرَ إِلَی الْمُشْرِکِینَ فَإِذَا ہُمْ أَلْفٌ وَزِیَادَۃٌ، فَاسْتَقْبَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَۃَ، ثُمَّ مَدَّ یَدَیْہِ وَعَلَیْہِ رِدَاؤُہُ وَإِزَارُہُ ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ أَیْنَ مَا وَعَدْتَنِی، اللّٰہُمَّ أَنْجِزْ مَا وَعَدْتَنِی، اللّٰہُمَّ إِنَّکَ إِنْ تُہْلِکْ ہٰذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ أَہْلِ الْإِسْلَامِ، فَلَا تُعْبَدْ فِی الْأَرْضِ أَبَدًا۔)) قَالَ: فَمَا زَالَ یَسْتَغِیثُ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَیَدْعُوہُ حَتّٰی سَقَطَ رِدَاؤُہُ، فَأَتَاہُ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَخَذَ رِدَائَ ہُ فَرَدَّاہُ، ثُمَّ الْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ، ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَفَاکَ مُنَاشَدَتُکَ رَبَّکَ، فَإِنَّہُ سَیُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ، وَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ} فَلَمَّا کَانَ یَوْمُئِذٍ وَالْتَقَوْا، فَہَزَمَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُشْرِکِینَ، فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا، وَأُسِرَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا، فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبَا بَکْرٍ وَعَلِیًّا وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ہٰؤُلَائِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِیرَۃُ وَالْإِخْوَانُ، فَإِنِّی أَرٰی أَنْ تَأْخُذَ مِنْہُم الْفِدْیَۃَ، فَیَکُونُ مَا أَخَذْنَا مِنْہُمْ قُوَّۃً لَنَا عَلَی الْکُفَّارِ، وَعَسَی اللّٰہُ أَنْ یَہْدِیَہُمْ، فَیَکُونُونَ لَنَا عَضُدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا تَرٰییَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا أَرٰی مَا رَأٰی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَلٰکِنِّی أَرٰی أَنْ تُمَکِّنَنِی مِنْ فُلَانٍ قَرِیبًا لِعُمَرَ، فَأَضْرِبَ عُنُقَہُ، وَتُمَکِّنَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ عَقِیلٍ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ، وَتُمَکِّنَ حَمْزَۃَ مِنْ فُلَانٍ أَخِیہِ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ حَتّٰییَعْلَمَ اللّٰہُ أَنَّہُ لَیْسَتْ فِی قُلُوبِنَا ہَوَادَۃٌ لِلْمُشْرِکِینَ، ہٰؤُلَائِ صَنَادِیدُہُمْ وَأَئِمَّتُہُمْ وَقَادَتُہُمْ، فَہَوِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَلَمْ یَہْوَ مَا قُلْتُ فَأَخَذَ مِنْہُمُ الْفِدَائَ، فَلَمَّا أَنْ کَانَ مِنْ الْغَدِ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: غَدَوْتُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا ہُوَ قَاعِدٌ وَأَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَإِذَا ہُمَا یَبْکِیَانِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِی مَاذَا یُبْکِیکَ أَنْتَ وَصَاحِبَکَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَیْتُوَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُکَائً تَبَاکَیْتُ لِبُکَائِکُمَا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((الَّذِی عَرَضَ عَلَیَّ أَصْحَابُکَ مِنَ الْفِدَائِ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَیَّ عَذَابُکُمْ أَدْنٰی مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ لِشَجَرَۃٍ قَرِیبَۃٍ۔)) وَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْأَرْضِ… إِلٰی قَوْلِہِ: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ} مِنَ الْفِدَائِ ثُمَّ أُحِلَّ لَہُمُ الْغَنَائِمُ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا یَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِہِمُ الْفِدَائ، فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ، وَفَرَّ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ وَہُشِمَتِ الْبَیْضَۃُ عَلٰی رَأْسِہِ، وَسَالَ الدَّمُ عَلٰی وَجْہِہِ، وَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالَی: {أَوَلَمَّا أَصَابَتْکُمْ مُصِیبَۃٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا} الْآیَۃَ بِأَخْذِکُمُ الْفِدَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸)
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا،جبکہ وہ تین سوسے کچھ زائد تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرکوں کی طرف دیکھا اور وہ ایک ہزار سے زائد تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے، ہاتھوں کو لمبا کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چادر اور ایک ازار زیب ِ تن کیا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، وہ کہاں ہے، اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کو پورا کر دے، اے اللہ! اگر تو نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ختم کر دیا تو زمین میں کبھی بھی تیریعبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ربّ سے مدد طلب کرتے رہے اور دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر گر گئی، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے، انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر اٹھائی اور اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ڈال کر پیچھے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑ لیا اور پھر کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے ربّ سے جو مطالبہ کر لیا ہے، یہ آپ کو کافی ہے، اس نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے، وہ عنقریب اس کو پورا کر دے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمایا: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ۔}… اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا، جو لگاتار چلے آئیں گے۔ (سورۂ انفال: ۹) پھر جب اس دن دونوں لشکروں کی ٹکر ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو اس طرح شکست دی کہ ان کے ستر افراد مارے گئے اور ستر افراد قید کر لیے گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر، سیدنا علی اور سیدنا عمر سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ لوگ ہمارے چچوں کے ہی بیٹے ہیں، اپنے رشتہ دار اور بھائی ہیں، میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں، اس مال سے کافروں کے مقابلے میں ہماری قوت میں اضافہ ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بعد میں ہدایت دے دے، اس طرح یہ ہمارا سہارا بن جائیں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انھو ں نے کہا: اللہ کی قسم! میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا، میرا خیال تو یہ ہے کہ فلاں آدمی، جو میرا رشتہ دار ہے، اس کو میرے حوالے کریں، میں اس کی گردن اڑاؤں گا، عقیل کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سپرد کریں، وہ اس کو قتل کریں گے، فلاں شخص کو سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے کریں، وہ اس کی گردن قلم کریں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو جائے کہ ہمارے دلوں کے اندر مشرکوں کے لیے کوئی رحم دلی نہیں ہے، یہ قیدی مشرکوں کے سردار، حکمران اور قائد ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے پسند کی اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کو پسند نہیں کیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فدیہ لے لیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب اگلے دن میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو آپ اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیں جو آپ کو اور آپ کے ساتھی کو رُلا رہی ہے؟ اگر مجھے بھی رونا آ گیا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو تمہارے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت بنا لوں گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں جو رائے دی تھی، اس کی وجہ سے مجھ پر تمہارا عذاب پیش کیا گیا ہے، جو اس درخت سے قریب ہے۔ اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیمراد قریب والا ایک درخت تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓاَسْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْز’‘ حَکِیْم’‘۔ لَوْ لَا کِتٰب’‘ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} نبی کے ہاتھ قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے، تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی۔ (سورۂ انفال:۶۷) پھر ان کے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا، جب اگلے سال غزوۂ احد ہوا تو بدر والے دن فدیہ لینے کی سزا دی گئی اور ستر صحابہ شہید ہو گئے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بھاگ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دانت شہید کر دئیے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر خود کو توڑ دیا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر خون بہنے لگا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃ’‘ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر’‘۔} (کیا بات ہے کہ جب احد کے دن)تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے، تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۶۵) یعنی فدیہ لینے کی وجہ سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10697

۔ (۱۰۶۹۷)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَاوَرَ النَّاسَ یَوْمَ بَدْرٍ، فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ تَکَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِیَّانَا تُرِیدُ؟ فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِیضَہَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاہَا، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَکْبَادَہَا إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ فَعَلْنَا فَشَأْنَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَنَدَبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَصْحَابَہُ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی نَزَلَ بَدْرًا وَجَائَتْ رَوَایَا قُرَیْشٍ، وَفِیہِمْ غُلَامٌ لِبَنِی الْحَجَّاجِ أَسْوَدُ، فَأَخَذَہُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلُوہُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ وَأَصْحَابِہِ، فَقَالَ: أَمَّا أَبُو سُفْیَانَ فَلَیْسَ لِی بِہِ عِلْمٌ، وَلٰکِنْ ہٰذِہِ قُرَیْشٌ وَأَبُو جَہْلٍ وَأُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ جَائَ تْ، فَیَضْرِبُونَہُ فَإِذَا ضَرَبُوہُ، قَالَ: نَعَمْ، ہَذَا أَبُو سُفْیَانَ، فَإِذَا تَرَکُوہُ فَسَأَلُوہُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ، قَالَ: مَا لِی بِأَبِی سُفْیَانَ مِنْ عِلْمٍ، وَلٰکِنْ ہٰذِہِ قُرَیْشٌ قَدْ جَائَتْ، وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی فَانْصَرَفَ فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ لَتَضْرِبُونَہُ إِذَا صَدَقَکُمْ وَتَدَعُونَہُ إِذَا کَذَبَکُمْ۔)) وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ فَوَضَعَہَا، فَقَالَ: ((ہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا، وَہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا، إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) فَالْتَقَوْا فَہَزَمَہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَاللّٰہِ! مَا أَمَاطَ رَجُلٌ مِنْہُمْ عَنْ مَوْضِعِ کَفَّیِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَخَرَجَ إِلَیْہِمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ وَقَدْ جَیَّفُوا، فَقَالَ: ((یَا أَبَا جَہْلٍ! یَا عُتْبَۃُ! یَا شَیْبَۃُ! یَا أُمَیَّۃُ! قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّی قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی رَبِّی حَقًّا۔)) فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! تَدْعُوہُمْ بَعْدَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ وَقَدْ جَیَّفُوا، فَقَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ غَیْرَ أَنَّہُمْ لَا یَسْتَطِیعُونَ جَوَابًا، فَأَمَرَ بِہِمْ فَجُرُّوا بِأَرْجُلِہِمْ فَأُلْقُوا فِی قَلِیبِ بَدْرٍ۔))۔ (مسند احمد: ۱۳۳۲۹)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بدر کے دن لوگوں سے مشاورت کی، ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی تو آپ نے منہ دوسری طرف موڑ لیا، پھر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف سے بھی منہ موڑ لیا، تو انصار نے کہا اللہ کے رسول! آپ ہماری بات کے منتظر ہیں؟ تو مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا( دوسری روایت میں سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام ہے) اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ اگر ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم فرمائیں تو ہم سمندر میں کود جائیں اور اگر آپ ہمیں برک الغماد تک اپنی سواریاں دوڑانے کا حکم دیں تو ہم اس کے لیے بھی حاضر ہیں۔ اللہ کے رسول! جو مقصد پیشِ نظر ہے اس کے لیے چلیں، چنانچہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام کو روانگی کا حکم دیا۔ آپ روانہ ہو کر بدر کے مقام پر نزول فرما ہوئے، قریش کے پانی لانے والے اونٹ پر آدمی آئے۔ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پکڑ لیا۔ مسلمانوں نے اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق دریافت کیا تو اس نے کہا ابو سفیان کے متعلق تو میں کچھ نہیں جانتا۔ البتہ قریش، ابوجہل اور امیہ بن خلف وغیرہیہاں آئے ہوئے ہیں مسلمان اس کی بات سن کر اسے مارنے لگے مسلمانوں نے جب اسے مارا تو اس نے کہا ہاں ہاں ابو سفیان وہاں ہے، جب اسے مارنا چھوڑ کر اس سے ابو سفیان کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا مجھے تو ابوسفیان کے متعلق کچھ علم نہیں، البتہ قریشیہاں آئے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز ادا فرما رہے تھے۔ آپ نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا، وہ سچ کہتا ہے تو اسے مارتے ہو جھوٹ بولتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ جگہوں پر ہاتھ رکھ رکھ کر فرمایا، ان شاء اللہ کل فلاں آدمییہاں مر کر گرے گا اور فلاں آدمییہاں گرے گا۔ مسلمانوں اور کفار کا مقابلہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست دی، اللہ کی قسم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہتھیلیوں والی جگہوں سے کوئی بھی آدمی ادھر اُدھر نہ گرا۔ تین دن بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان مردہ کافروں کی طرف گئے۔ ان کی لاشوں میںبدبو پڑ چکی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اے ابو جہل! اے عتبہ! اے شیبہ! اے امیہ! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا تم اسے سچ پا چکے ہو۔ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو مرے ہوئے تین دن گزر چکے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے ہم کلام ہو رہے ہیں؟ جب کہ ان کے لاشو میں بدبو پڑ چکی ہے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ یہ جواب دینے کی استطاعت نہیں رکھتے، چنانچہ آپ نے ان مردوں کے متعلق حکم صادر فرمایا، انہیں ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر بدر کے کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10698

۔ (۱۰۶۹۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ وَہُوَ فِی قُبَّۃٍیَوْمَ بَدْرٍ: ((اللَّہُمَّ إِنِّی أَنْشُدُکَ عَہْدَکَ وَوَعْدَکَ، اللَّہُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْیَوْمِ۔)) فَأَخَذَ أَبُو بَکْرٍ بِیَدِہِ فَقَالَ: حَسْبُکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلٰی رَبِّکَ، وَہُوَ یَثِبُ فِی الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَہُوَ یَقُولُ: {سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ}۔ (مسند احمد: ۳۰۴۲)
سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے قبہ کے اندر تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! میں تجھے تیرا کیا ہوا وعدہ یا د دلاتا ہوں، یا اللہ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے( تو ہمارے مخالفین کو ہم پر غلبہ دے اور ہمیں ان کے ہاتھوں قتل کرا دے۔) اتنے میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے رب سے خوب خوب دعائیں کر لی ہیں اور یہی کافی ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی قمیض میں خوشی سے اچھلتے ہوئے فرما رہے تھے {سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ} … عنقریب مسلمانوں کی دشمن جماعتیں ہزیمت سے دو چار ہوں گی، اور وہ پیٹھ دے کر بھاگ جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10699

۔ (۱۰۶۹۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: مَا کَانَ فِیْنَا فَارِسٌ یَوْمَ بَدْرٍ غَیْرَ الْمِقْدَادِ، وَلَقَدْ رَاَیْتُنَا وَمَا فِیْنَا اِلَّا نَائِمٌ إِلَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَحْتَ شَجَرَۃٍیُصَلِّیْ وَیَبْکِیْ حَتّٰی اَصْبَحَ۔ (مسند احمد: ۱۰۲۳)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن ہم مسلمانوں میں مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوا کوئی گھڑ سوار نہ تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سوا ہم میں سے ہر ایک کو نیند آگئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے تھے اور صبح تک اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ زاری کرتے رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10700

۔ (۱۰۷۰۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ لَمَّا حَضَرَ الْبَأسُ یَوْمَ بَدْرٍ، اِلْتَقَیْنَا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَکَانَ مِنْ اَشَدِّ النَّاسِ، مَا کَانَ اَوْ لَمْ یَکُنْ اَحَدٌ اَقْرَبَ اِلَی الْمُشْرِکِیْنَ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۴۲)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب لڑائی شروع ہوئی تو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جاملے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت بہادر تھے اور ہم میں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر مشرکین کے قریب تر اور کوئی نہ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10701

۔ (۱۰۷۰۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَقَدْ رَاَیْتُنَایَوْمَ بَدْرٍ، وَنَحْنُ نَلُوْذُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَھُوَ اَقْرَبُنَا اِلَی الْعَدُوِّ، وَکَانَ مِنْ اَشَدِّ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ بَاْسًا۔ (مسند احمد: ۶۵۴)
۔( دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بدر کے دن دیکھا کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پناہ ڈھونڈتے تھے اور ہم سب کی بہ نسبت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دشمن کے انتہائی قریب تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10702

۔ (۱۰۷۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ اَلْحَنْفِیِّ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قِیْلَ لِعَلِیٍّ وَلِاَبِیْ بَکْرٍ یَوْمَ بَدْرٍ: مَعَ اَحَدِکُمَا جِبْرِیْلُ وَ مَعَ الْآخَرِ مِیْکَائِیْلُ وَ اِسْرَافِیْلُ، مَلَکٌ عَظِیْمٌیَشْہَدُ الْقِتَالَ اَوْ قَالَ: یَشْہَدُ الصَّفَّ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۷)
ابو صالح حنفی سے مروی ہے کہ بدر کے دن سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا گیا کہ تم میں سے ایک کے ساتھ جبریل اور دوسرے کے ساتھ میکائل اور اسرافیل بھی،یہ بہت بڑا فرشتہ ہے، جو لڑائی میںیا لڑائی کے وقت صف میں حاضر ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10703

۔ (۱۰۷۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ دَاوُدَ الْمَازِنِیِّ، وَکَانَ شَہِدَ بَدْرًا، قال: اِنِّیْ لَاَتْبَِعُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ لِاَضْرِبَہُ اِذَا وَقَعَ رَاْسَہُ قَبْلَ اَنْ یَصِلَ اِلَیْہِ سَیْفِیْ، فَعَرَفْتُ اَنَّہُ قَدْ قَتَلَہُ غَیْرِیْ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۶)
سیدنا ابو داؤد مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،جو غزوۂ بدر میں شریک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک مشرک کو قتل کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اچانک میری تلوار اس تک نہ پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر کٹ کر دور جا گرا، میں جان گیا کہ اسے میرے سوا کسی دوسرے نے قتل کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10704

۔ (۱۰۷۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنِّی لَوَاقِفٌ یَوْمَ بَدْرٍ فِی الصَّفِّ، نَظَرْتُ عَنْ یَمِینِی وَعَنْ شِمَالِی، فَإِذَا أَنَا بَیْنَ غُلَامَیْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِیثَۃٍ أَسْنَانُہُمَا، تَمَنَّیْتُ لَوْ کُنْتُ بَیْنَ أَضْلَعَ مِنْہُمَا فَغَمَزَنِی أَحَدُہُمَا، فَقَالَ: یَا عَمِّ! ہَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَہْلٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُکَ؟ یَا ابْنَ أَخِی؟ قَالَ: بَلَغَنِی أَنَّہُ سَبَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ رَأَیْتُہُ لَمْ یُفَارِقْ سَوَادِی سَوَادَہُ حَتَّییَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، قَالَ: فَغَمَزَنِی الْآخَرُ، فَقَالَ لِی مِثْلَہَا، قَالَ: فَتَعَجَّبْتُ لِذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلٰی أَبِی جَہْلٍ یَجُولُ فِی النَّاسِ، فَقُلْتُ لَہُمَا: أَلَا تَرَیَانِ ہٰذَا صَاحِبُکُمَا الَّذِی تَسْأَلَانِ عَنْہُ، فَابْتَدَرَاہُ فَاسْتَقْبَلَہُمَا فَضَرَبَاہُ حَتّٰی قَتَلَاہُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَاہُ، فَقَالَ: ((أَیُّکُمَا قَتَلَہُ؟)) فَقَالَ: کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا أَنَا قَتَلْتُہُ، قَالَ: ((ہَلْ مَسَحْتُمَا سَیْفَیْکُمَا؟)) قَالَا: لَا فَنَظَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی السَّیْفَیْنِ، فَقَالَ: ((کِلَاکُمَا قَتَلَہُ۔)) وَقَضٰی بِسَلَبِہِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَہُمَا مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَائَ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۳)
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا، میں نے دائیں بائیں دیکھا تو میں نے اپنے آپ کو دو نو عمر انصاری بچوں کے درمیان کھڑا ہوا پایا، میں نے سو چا کہ کاش میرے قریب ان نو عمر بچوں کی بجائے کوئی طاقت ور آدمی ہوتا، اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے متوجہ کر کے پوچھا چچا جان!کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں! لیکن بھتیجے! یہ تو بتلاؤ تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ وہ بولا: میں نے سنا ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گالیاں دی ہوئی ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس سے اس وقت تک جدانہ ہوں گا، جب تک کہ ہم میں سے جس نے پہلے مرنا ہے وہ مرنہ جائے، اس کے ساتھ ہی دوسرے نوجوان لڑکے نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، اس نے بھی مجھ سے ویسی ہی بات کی، مجھے ان دونوں کی باتوں پر تعجب ہوا۔ اتنے میں میں نے ابوجہل کو دیکھا، وہ کافر لوگوں کے درمیان چکر لگا رہا تھا، میں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ یہیوہ آدمی ہے جس کی بابت تم دریافت کر رہے ہو، وہ یہ سنتے ہی اس کی طرف لپکے، ابوجہل کا ان دونوں سے سامنا ہوا تو انہوں نے وار کر کے اسے قتل کر ڈالا، اور اس کے بعد وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، اور سارا واقعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گوش گزار کیا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا کہ اسی نے قتل کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنی تلواروں کو صاف کر لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا تو فرمایا: تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوجہل کا حاصل شدہ سامان کا فیصلہ سیدنا معاذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں کیا، ان دونوں نوجوانوں کے نام سیدنا معاذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا معاذ بن عفراء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10705

۔ (۱۰۷۰۵)۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ بَدْرٍ: ((مَنْ یَنْظُرُ مَا فَعَلَ اَبُوْ جَہْلٍ؟)) فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَوَجَدَ اِبْنَیْ عَفْرَائَ قَدْ ضَرَبَاہُ حَتّٰی بَرَدَ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَتّٰی بَرَکَ) فَاَخَذَ بِلِحْیَتِہِ فَقَالَ: اَنْتَ اَبُوْ جَہْلٍ! فَقَالَ: وَھَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوْہُ اَوْ قَتَلَہُ اَھْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶۷)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بدر کے دن فرمایا: کون ہے جو جا کر دیکھے کہ ابوجہل کیا کر رہا ہے؟ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دو بیٹوں نے ابوجہل کو مار گرایا ہوا ہے تاآنکہ وہ ٹھنڈا ہونے یعنی مرنے کے قریب تھا، تو ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے اس کی ڈاڑھی سے پکڑ کر کہا: تو ہی ابوجہل ہے؟ ابوجہل نے کہا: تم نے جن جن لوگوں کو قتل کیا، کیا مجھ سے بڑھ کر بھی ان میں سے کوئی ہے؟ یایوں کہا: کیا مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی آدمی ایسا ہے، جسے اس کے خاندان والوں نے قتل کیا ہو؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10706

۔ (۱۰۷۰۶)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ یَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُہُ، وَہُوَ صَرِیعٌ وَہُوَ یَذُبُّ النَّاسَ عَنْہُ بِسَیْفٍ لَہُ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَخْزَاکَ،یَا عَدُوَّ اللّٰہِ! فَقَالَ: ہَلْ ہُوَ إِلَّا رَجُلٌ قَتَلَہُ قَوْمُہُ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُہُ بِسَیْفٍ لِی غَیْرِ طَائِلٍ، فَأَصَبْتُ یَدَہُ فَنَدَرَ سَیْفُہُ فَأَخَذْتُہُ فَضَرَبْتُہُ بِہِ حَتّٰی قَتَلْتُہُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ حَتّٰی أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنَّمَا أُقَلُّ مِنَ الْأَرْضِ فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((آللَّہِ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ۔)) قَالَ: فَرَدَّدَہَا ثَلَاثًا قَالَ: قُلْتُ: آللَّہِ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ، قَالَ فَخَرَجَ یَمْشِی مَعِی حَتّٰی قَامَ عَلَیْہِ، فَقَالَ: ((الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِیأَخْزَاکَ، یَا عَدُوَّ اللّٰہِ! ہٰذَا کَانَ فِرْعَوْنَ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔)) قَالَ: وَزَادَ فِیہِ أَبِی عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَنَفَّلَنِی سَیْفَہُ۔ (مسند احمد: ۴۲۴۶)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن میں ابوجہل کے پاس پہنچا، اس کی ٹانگ پر ضرب آئی ہوئی تھی اور وہ گرا پڑا تھا اور اس حال میں بھی اپنی تلوار سے لوگوں کو اپنے آپ سے دور بھگا رہا تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن! اُس اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے رسوا کیا، وہ بولا: میں وہی ہوں جسے اس کی اپنی قوم نے قتل کیا ہے۔سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ اس کی اس بات پر میں نے بلاتا خیر اپنی تلوار چلا کر اس کے ہاتھ پر ماری اور اس کی تلوار گر گئی۔ پھر میں نے اسے اچھی طرح پکڑ کر اسے مارا اور قتل کر ڈالا۔ پھر میں گرمی میں، خوشی خوشی چلتا ہوا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا، خوشی کے مارے میرے پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے تھے، میں نے آپ کو ساری بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کیا واقعی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات کو تین بار دہرایا، میں نے عرض کیا: واقعی، اُس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے گئے یہاں تک کہ اس کی میت پر جا کھڑے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے دشمن! اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے ذلیل ورسوا کیا،یہ اس امت کا فرعون تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوجہل کی تلوار مجھے عنایت فرمائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10707

۔ (۱۰۷۰۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ قَتَلَ اَبَا جَہْلٍ، فَقَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَصَرَ عَبْدَہُ وَاَعَزَّ دِیْنَہُ۔)) وَقَال مَرَّۃًیَعْنِیْ اُمَیَّۃَ: ((صَدَقَ عَبْدَہُ وَاَعَزَّ دِیْنَہُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ آخَرَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۳۸۵۶)
۔(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کو ہلاک کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت دی۔ امیہ بن خالد راوی کے الفاظ یہ ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اپنے بندے کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کو پورا کیا اور اپنے دین کو عزت دی۔ ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنا وعدہ پوراکیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے کفار کے تمام لشکروں کو شکست دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10708

۔ (۱۰۷۰۸)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ أَہْلِ بَدْرٍ قَالَ: إِنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُرِینَا مَصَارِعَہُمْ بِالْأَمْسِ، یَقُولُ: ((ہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاء َ اللّٰہُ تَعَالٰی، وَہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاء َ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) قَالَ: فَجَعَلُوایُصْرَعُونَ عَلَیْہَا، قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! مَا أَخْطَئُوا تِیکَ کَانُوا یُصْرَعُونَ عَلَیْہَا، ثُمَّ أَمَرَ بِہِمْ فَطُرِحُوا فِی بِئْرٍ، فَانْطَلَقَ إِلَیْہِمْ، فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! یَا فُلَانُ! ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمُ اللّٰہُ حَقًّا؟ فَإِنِّی وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی اللّٰہُ حَقًّا۔)) قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُکَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَیَّفُوا؟ قَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ، وَلٰکِنْ لَا یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یُجِیبُوا۔)) (مسند احمد: ۱۸۲)
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اہلِ بدر کے متعلق مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ بدر سے ایک دن پہلے ہمیں سردارانِ قریش کے گرنے اور پچھڑنے کے مقامات دکھا رہے تھے، اور فرماتے تھے: کل ان شاء اللہ فلاں کافر یہاں قتل ہو کر گرے گا، اور فلاں آدمی قتل ہو کر یہاں گرے گا، ان شاء اللہ۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ واقعی وہ لوگ انہی جگہوں پر گرے۔ میں (عمر) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! وہ ان مقامات سے بالکل اِدھر اُدھر نہیں گرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی لاشوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں گھسیٹ کر کنوئیں میں پھینک دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کفار کی لاشوں کی طرف گئے اور فرمایا: اے فلاں! اے فلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچ پا لیا ہے، میرے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے پورا پالیا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے، لیکن وہ ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10709

۔ (۱۰۷۰۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُنَادِی عَلٰی قَلِیبِ بَدْرٍ: ((یَا أَبَا جَہْلِ بْنَ ہِشَامٍ! یَا عُتْبَۃُ بْنَ رَبِیعَۃَ! یَا شَیْبَۃُ بْنَ رَبِیعَۃَ! یَا أُمَیَّۃُ بْنَ خَلَفٍ! ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا، فَإِنِّی وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی رَبِّی حَقًّا؟)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! تُنَادِی قَوْمًا قَدْ جَیَّفُوا، قَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ وَلٰکِنَّہُمْ لَا یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یُجِیبُوا۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۴۳)
سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب صحابۂ کرام نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یوں کلام کرتے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو جہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! اے امیہ بن خلف! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے پورا پا لیا ہے؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے ہو؟ لیکن وہ جواب دینے کی سکت نہیں رکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10710

۔ (۱۰۷۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْقَلِیْبِیَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! یَا فُلَانُ! ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ أَمَا وَاللّٰہِ! إِنَّہُمُ الْآنَ لَیَسْمَعُوْنَ کَلاَمِیْ۔)) قَالَ یَحْیَی: فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: غَفَرَاللّٰہُ لِأَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اِنَّہُ وَہِلَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! إِنَّہُمْ لَیَعْلَمُوْنَ الْآنَ أَنَّ الَّذِی کُنْتُ أَقُوْلُ لَہُمْ حَقًّا۔)) وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُوْلُ: {إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی} {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ۔} (مسند احمد: ۴۸۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بدر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنویں (جس میں کفار کے مقتولوں کو پھینک دیا گیا تھا) کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: او فلاں! اوفلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ اس وقت میرا کلام سن رہے ہیں۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا، وہ حق تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ نیز فرمایا: جو لوگ قبروں میں ہیں، توان کو نہیں سنا سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10711

۔ (۱۰۷۱۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: وَحُدِّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِبِضْعَۃٍ وَعِشْرِینَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِیدِ قُرَیْشٍ، فَأُلْقُوا فِی طُوًی مِنْ أَطْوَائِ بَدْرٍ خَبِیثٍ مُخْبِثٍ، قَالَ: وَکَانَ إِذَا ظَہَرَ عَلٰی قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَۃِ ثَلَاثَ لَیَالٍ، قَالَ: فَلَمَّا ظَہَرَ عَلٰی بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَیَالٍ، حَتّٰی إِذَا کَانَ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِہِ فَشُدَّتْ بِرَحْلِہَا ثُمَّ مَشٰی، وَاتَّبَعَہُ أَصْحَابُہُ قَالُوا: فَمَا نَرَاہُ یَنْطَلِقُ إِلَّا لِیَقْضِیَ حَاجَتَہُ، قَالَ: حَتّٰی قَامَ عَلٰی شَفَۃِ الطُّوٰی، قَالَ: فَجَعَلَ یُنَادِیہِمْ بِأَسْمَائِہِمْ وَأَسْمَائِ آبَائِہِمْ: ((یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ! أَسَرَّکُمْ أَنَّکُمْ أَطَعْتُمُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟)) قَالَ عُمَرُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا تُکَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِیہَا؟ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: أَحْیَاہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ حَتّٰی سَمِعُوا قَوْلَہُ تَوْبِیخًا وَتَصْغِیرًا وَنِقْمَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۴۹۸)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کو بیان کیا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیس سے زائد قریشی سرداروں کے متعلق حکم دیا اور انہیں بدر کے کنوؤں میں سے ایک کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ وہ کنواں بڑا خبیث اور گندا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی قوم پر فتح پاتے تو وہاں تین رات قیام فرماتے، اسی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بدر میں فتح یاب ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں بھی تین رات قیام فرمایا، جب تیسرا دن ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری کو تیار کرنے کا حکم فرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہو ئے، صحابہ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی، صحابہ کہتے ہیں کہ ہم سب نے سمجھا کہ آپ اپنی کسی ضروری حاجت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ چلتے چلتے آپ اس کنوئیں کے کنارے پر جا رکے اور ان مقتول کفار قریش کو ان کے ناموں اور ان کے آباء کے ناموں کا ذکر کر کے ان کو پکارا اور یوں فرمایا: اے فلاں بن فلاں! کیا اب تمہیںیہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے؟ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچا پالیا ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا آپ ایسے اجسام سے ہم کلام ہو رہے ہیں، جن میں روحیں ہی نہیں ہیں؟ قتادہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ، رسوائی اور اظہار ناراضگی کے لیے ان کفار کو زندہ کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10712

۔ (۱۰۷۱۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ بَدْرٍ بِأُولَئِکَ الرَّہْطِ، فَأُلْقُوا فِی الطُّوٰی عُتْبَۃُ وَأَبُو جَہْلٍ وَأَصْحَابُہُ، وَقَفَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((جَزَاکُمُ اللّٰہُ شَرًّا مِنْ قَوْمِ نَبِیٍّ مَا کَانَ أَسْوَأَ الطَّرْدِ وَأَشَدَّ التَّکْذِیبِ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ تُکَلِّمُ قَوْمًا جَیَّفُوا؟ فَقَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَفْہَمَ لِقَوْلِی مِنْہُمْ أَوْ لَہُمْ أَفْہَمُ لِقَوْلِی مِنْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۸۶)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ بدر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب ان مقتول سردارانِ قریش عتبہ، ابوجہل اور ان کے ساتھیوں کے پاس سے گزرے، جنہیں کنوئیں میں پھینک دیا گیا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں رک گئے اور فرمایا: تم ایک نبی کی ایسی قوم ہو، جو اس کے شدید مخالف اور بہت زیادہ تکذیب کرنے والے تھے، اللہ نے تمہیں بہت بُرا بدلہ دیا، میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی نسبت میری بات کو زیادہ نہیں سن رہے ہو۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ تمہاری بہ نسبت میری بات کو زیادہ سمجھ رہے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10713

۔ (۱۰۷۱۳)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْقَتْلٰی أَنْ یُطْرَحُوا فِی الْقَلِیبِ، فَطُرِحُوا فِیہِ إِلَّا مَا کَانَ مِنْ أُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ فَإِنَّہُ انْتَفَخَ فِی دِرْعِہِ فَمَلَأَہَا، فَذَہَبُوا یُحَرِّکُوہُ فَتَزَایَلَ، فَأَقَرُّوہُ وَأَلْقَوْا عَلَیْہِ مَا غَیَّبَہُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَۃِ، فَلَمَّا أَلْقَاہُمْ فِی الْقَلِیبِ وَقَفَ عَلَیْہِمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَہْلَ الْقَلِیبِ! ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا، فَإِنِّی قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی رَبِّی حَقًّا۔)) فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُکَلِّمُ قَوْمًا مَوْتٰی؟ قَالَ: فَقَالَ لَہُمْ: ((لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُہُمْ حَقٌّ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَالنَّاسُ یَقُولُونَ لَقَدْ سَمِعُوا، مَا قُلْتُ لَہُمْ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَقَدْ عَلِمُوا۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۹۳)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مقتولینِ بدر کو کنوئیں میں پھینک دئیے جانے کا حکم صادر فرمایا، پس ان کو اس میں پھینک دیا گیا۔ البتہ امیہ بن خلف اپنی زرہ کے اندر اس قدر پھول چکا تھا اور اس کے اندر پھنس گیا، جب صحابہ کرام نے اسے کھینچا تو اس کے اعضاء الگ ہو گئے، سو انھوں نے اسے ویسے ہی رہنے دیا اور اس پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے چھپا دیا، جب ان مقتولین کو کنوئیں میں ڈالا جا چکا تھا تو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے اوپر جا کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے کنوئیں والو! کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پا لیاہے؟ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے سچا پالیا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مردوں سے کلام کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں نے ان سے جو وعدہ کیا تھا یعنی ان سے جو کچھ کہا تھا وہ حق تھا۔ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ لوگ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان مقتولین نے آپ کی باتیں سن لی تھیں، میں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا کہ یہ لوگ اس بات کو جانتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10714

۔ (۱۰۷۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا، فَنَزَلَ عَلٰی صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ، وَکَانَ أُمَیَّۃُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَی الشَّامِ فَمَرَّ بِالْمَدِینَۃِ نَزَلَ عَلٰی سَعْدٍ، فَقَالَ أُمَیَّۃُ لِسَعْدٍ: انْتَظِرْ حَتّٰی إِذَا انْتَصَفَ النَّہَارُ وَغَفَلَ النَّاسُ انْطَلَقْتَ فَطُفْتَ، فَبَیْنَمَا سَعْدٌ یَطُوفُ إِذْ أَتَاہُ أَبُو جَہْلٍ فَقَالَ: مَنْ ہٰذَا یَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ آمِنًا، قَالَ سَعْدٌ: أَنَا سَعْدٌ، فَقَالَ أَبُو جَہْلٍ: تَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ آمِنًا: وَقَدْ آوَیْتُمْ مُحَمَّدًا عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَتَلَاحَیَا، فَقَالَ أُمَیَّۃُ لِسَعْدٍ: لَا تَرْفَعَنَّ صَوْتَکَ عَلٰی أَبِی الْحَکَمِ فَإِنَّہُ سَیِّدُ أَہْلِ الْوَادِی، فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ: وَاللّٰہِ! إِنْ مَنَعْتَنِی أَنْ أَطُوفَ بِالْبَیْتِ لَأَقْطَعَنَّ إِلَیْکَ مَتْجَرَکَ إِلَی الشَّأْمِ، فَجَعَلَ أُمَیَّۃُیَقُولُ: لَا تَرْفَعَنَّ صَوْتَکَ عَلٰی أَبِی الْحَکَمِ، وَجَعَلَ یُمْسِکُہُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ فَقَالَ: دَعْنَا مِنْکَ، فَإِنِّی سَمِعْتُ مُحَمَّدًا یَزْعُمُ أَنَّہُ قَاتِلُکَ، قَالَ: إِیَّایَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا یَکْذِبُ مُحَمَّدٌ، فَلَمَّا خَرَجُوا رَجَعَ إِلَی امْرَأَتِہِ، فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتِ؟ مَا قَالَ لِیَ الْیَثْرِبِیُّ، فَأَخْبَرَہَا فَلَمَّا جَائَ الصَّرِیخُ، وَخَرَجُوا إِلٰی بَدْرٍ، قَالَتِ امْرَأَتُہُ: أَمَا تَذْکُرُ مَا قَالَ أَخُوکَ الْیَثْرِبِیُّ؟ فَأَرَادَ أَنْ لَا یَخْرُجَ، فَقَالَ لَہُ أَبُو جَہْلٍ: إِنَّکَ مِنْ أَشْرَافِ الْوَادِی فَسِرْ مَعَنَا یَوْمًا أَوْ یَوْمَیْنِ، فَسَارَ مَعَہُمْ فَقَتَلَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۳۷۹۴)
سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عمرہ کی غرض سے تشریف لے گئے، صفوان بن امیہ بن خلف کے ہاں مہمان ٹھہرے، امیہ بھی مکہ سے شام کی طرف جاتے ہوئے مدینہ منورہ سے گزرتے ہوئے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں قیام کیا کرتا تھا، امیہ نے سعد سے کہا: تم ابھیانتظار کرو، جب دوپہر ہو گی اور لوگ تھک جائیں گے تب جا کر طواف کر لینا، سیدنا سعد طواف کر رہے تھے کہ ابو جہل ان کے پاس آگیا اور بولا یہ کون ہے، جو بڑے امن اور سکون کے ساتھ کعبہ کا طواف کر رہا ہے؟ سعد نے کہا: میں سعد ہوں۔ ابوجہل نے کہا: تو بڑے سکون سے طواف کر رہا ہے حالانکہ تم لوگوں نے محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو پناہ دے رکھی ہے۔ دونوں میں تو تکار ہو گئی، تو امیہ نے سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ ابو الحکم (یعنی ابوجہل) کے مقابلے میں آواز بلند نہ کریں،یہیہاں کا سردار ہے۔ لیکن سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تو نے مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے سے روکا تو میں شام کی طرف تمہارا تجارتی راستہ بند کر دوں گا۔ امیہ پھر سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہنے لگا اور اسے پکڑ کر روکنے لگا کہ ابو الحکم (یعنی ابوجہل) کے سامنے آواز بلند نہ کرو، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو غصہ آ گیا، وہ بولے مجھے چھوڑ دو، میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سن چکا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ تجھے قتل کر کے رہیں گے، امیہ نے کہا: کیا مجھے؟ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہاں، ہاں، امیہ نے کہا: اللہ کی قسم! محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات غلط نہیں ہو سکتی، جب لوگ چلے گئے تو وہ اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہا: کیا تیرے علم میں وہ بات آئی جو یثربی مہمان نے کہی ہے؟ اور پھر اسے ساری بات بتلائی، جب لڑائی کا اعلان ہوا اور لوگ بدر کی طرف جانے لگے تو امیہ کی بیوی نے اس سے کہا: کیا تمہیں وہ بات یاد نہیں ہے جو تمہارے یثربی بھائی نے کہی تھی؟ اس نے ایک دفعہ تو ارادہ کیا کہ لڑائی کے لیے نہ جائے، لیکن ابوجہل نے اس سے کہا تم یہاں کے سرداروں میں سے ہو، سو ہمارے ساتھ ایک دو دن کے لیے ضرور چلو، پس وہ ان کے ساتھ چل پڑا اور اللہ تعالیٰ نے اسے (بدر میں) ہلاکت سے دو چار کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10715

۔ (۱۰۷۱۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ أَہْلَ بَدْرٍ کَانُوا ثَلَاثَ مِائَۃٍ وَثَلَاثَۃَ عَشَرَ رَجُلًا، وَکَانَ الْمُہَاجِرُونَ سِتَّۃً وَسَبْعِینَ، وَکَانَ ہَزِیمَۃُ أَہْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشْرَۃَ مَضَیْنَیَوْمَ الْجُمُعَۃِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۲)
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل بدر کی کل تعداد تین سو تیرہ تھی، ان میں سے چھہتر(۷۶) مہاجرین تھے، کفار سترہ رمضان کو جمعہ کے دن ہزیمت سے دو چار ہو ئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10716

۔ (۱۰۷۱۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قِیلَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ: عَلَیْکَ الْعِیرَ لَیْسَ دُونَہَا شَیْئٌ، قَالَ فَنَادَاہُ الْعَبَّاسُ وَہُوَ أَسِیرٌ فِی وَثَاقِہِ: لَا یَصْلُحُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لِمَ؟)) قَالَ: لِأَنَّ اللّٰہَ قَدْ وَعَدَکَ إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ، وَقَدْ أَعْطَاکَ مَا وَعَدَکَ۔ (مسند احمد: ۲۸۷۳)
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ ابو سفیان کے قافلہ کی خبر لیں، اب کوئی آپ کی مزاحمت نہیں کر سکے گا ، لیکن عباس جو کہ اس وقت اسیر تھے اور بندھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اب ابو سفیان کا پیچھا کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور اس نے اپنے وعدے کے مطابق آپ کو ایک گروہ پر غلبہ دے دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10717

۔ (۱۰۷۱۷)۔ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ أَبِی أُسَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: لَمَّا الْتَقَیْنَا نَحْنُ وَالْقَوْمُ یَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ لَنَا: ((إِذَا أَکْثَبُوکُمْ (یَعْنِی غَشُوکُمْ) فَارْمُوہُمْ بِالنَّبْلِ۔)) وَأُرَاہُ قَالَ: ((وَاسْتَبْقُوا نَبْلَکُمْ۔))۔ (مسند احمد: ۱۶۱۵۷)
سیدنا ابو اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن جب ہماری اور کفار کی مڈبھیڑ ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: جب دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے یعنی بالکل قریب آجائے تو تب تم ان پر تیر چلانا۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اندھا دھند تیر اندازی کرنے کی بجائے احتیاط سے تیر چلانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10718

۔ (۱۰۷۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: صَفَفْنَا یَوْمَ بَدْرٍ فَنَدَرَتْ مِنَّا نَادِرَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَۃٌ) اَمَامَ الصَّفِّ، فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیْہِمْ فَقَالَ: ((مَعِیْ مَعِیْ۔))۔ (مسند احمد: ۲۳۹۶۵)
سیدناابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن ہم نے صف بندی کی تو ہم میں سے بعض جلد بازوں نے جلدی کی اور صف سے آگے نکل گئے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: میرے ساتھ ساتھ رہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10719

۔ (۱۰۷۱۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ اَبَا طَلْحَۃَ قَالَ: غَشِیَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِیْ مَصَافِّنَا یَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: فَکُنْتُ فِیْمَنْ غَشِیَہُ النُّعَاسُ یَوْمَئِذٍ، فَجَعَلَ سَیْفِیْیَسْقُطُ مِنْ یَدِیْ وَآخُذُہُ، وَیَسْقُطُ وَآخُذُہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۷۰)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ بدر کے دن ہم میدان جنگ میں تھے کہ ہمیں اونگھ نے آلیا، وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اس دن انہی لوگوں میں شامل تھا ،جن کو اونگھ آگئی تھی، میری تلوار بار بار میرے ہاتھ سے چھوٹ کر جاتی تھی اور میں اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10720

۔ (۱۰۷۲۰)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اسْتَصْغَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَا وَابْنَ عُمْرَ، فَرُدِدْنَا یَوْمَ بَدْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۳۶)
سیدنابراء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے اور ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کم عمر قرار دے کر ہمیں لڑائی سے واپس بھیج دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10721

۔ (۱۰۷۲۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ صُعَیْرٍ اَنَّ اَبَا جَہْلٍ قَالَ حِیْنَ اِلْتَقَی الْقَوْمُ: اَللّٰھُمَّ اَقْطَعَنَا الرَّحِمَ، وَاَتَانَا بِمَا لَانَعْرِفُہُ، فَاَحِنْہُ الْغَدَاۃَ فَکَانَ الْمُسْتَفْتِحُ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۶۱)
سیدناعبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب کفار اور مسلمان ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئے تو ابو جہل نے کہا: یا اللہ! ہم میں سے جس نے قطع رحمی کی اور ہمارے پاس ایسی چیز لایا جسے ہم پہنچانتے نہیں تو اسے کل صبح رسوا کر، چنانچہ اس کییہی دعا مسلمانوں کی فتح کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10722

۔ (۱۰۷۲۲)۔ (۶۹۳۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْنَتَہ، فَقُلْتُ: مَا لِیْ مِنْ شَیْئٍ فَکَیْفَ؟ ثُمَّ ذَکَرْتُ صِلَتَہ، وَعَائِدَتَہ، فَخَطَبْتُہَا اِلَیْہِ، فَقَالَ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَأَیْنَ دِرْعُکَ الْحَطْمِیَّۃُ الَّتِیْ أَعْطَیْتُکَیَوْمَ کَذَا وَکَذَا؟)) قَالَ: ھِیَ عِنْدِیْ، قَالَ: ((فَأَعْطِہَا اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۰۳)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ارادہ کیا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی کے بارے میں پیغام بھیجوں، لیکن پھر میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی مال نہیں ہے، سو میں کیا کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بار بار ہمارے گھر آتے جاتے رہتے ہیں، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ پیغام بھیج دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حطمی زرہ کہاں ہے، جو میں نے تجھے فلاں دن دی تھی؟ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہی فاطمہ کو دے دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10723

۔ (۱۰۷۲۳)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا زَوَّجَہُ فَاطِمَۃَ، بَعَثَ مَعَہَ بِخَمِیْلَۃٍ وَوِسَادَۃٍ مِنْ اَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَیْفُ الْاِذْخَرِ) وَرَحْیَیْنِ وَسِقَائً وَ جَرَّتَیْنِ، فَقَالَ عَلِیٌّ لِفَاطِمَۃَ ذَاتَ یَوْمٍ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَنَوْتُ حَتّٰی لَقَدِ اشْتَکَیْتُ صَدْرِیْ، قَالَ: وَقَدْ جَائَ اللّٰہُ اَبَاکَ بِسَبْیٍ، فَاذْھَبِیْ فَاسْتَخْدِمِیْہِ، فَقَالَتْ: وَاَنَا وَاللّٰہِ! قَدْ طَحَنْتُ حَتّٰی مَجَلَتْ یَدِیْ، فَاَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا جَائَ بِکِ اَیْ بُنَیَّۃَ؟)) قَالَتْ: جِئْتُ لِاُسَلِّمَ عَلَیْکَ، وَاسْتَحْیَتْ اَنْ تَسْاَلَہُ وَرَجَعَتْ، فَقَالَ: مَا فَعَلْتِ؟ قَالَتْ: اسْتَحْیَیْتُ اَنْ اَسْاَلَہُ، فَاَتَیْنَا جَمِیْعاً، فَقَال عَلِیٌّ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّی اشْتَکَیْتُ صَدْرِیْ، وَقَالَتْ فَاطِمَۃُ: قَدْ طَحَنْتُ حَتّٰی مَجَلَتْ یَدَایَ وَقد جَائَکَ اللّٰہُ بِسَبْیٍ وَسِعَۃٍ فَاَخْدِمْنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! لَا اُعْطِیْکُمَا وَاَدَعُ اَھْلَ الصُّفَّۃَ تَطْوِیْ بُطُوْنُہُمْ لَا اَجِدُ مَا اُنْفِقُ عَلَیْہِمْ، وَلٰکِنِّیْ اَبِیْعُہُمْ وَاُنْفِقُ عَلَیْہِمْ اَثْمَانَہُمْ۔)) فَرَجَعَا فَاَتَاھُمَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ دَخَلَا فِیْ قَطِیْفَتِہِمَا اِذَا غَطَّتْ رُئُ وْسَہُمَا تَکَشَّفَتْ اَقْدَامُھُمَا، وَإِذَا غَطَّیَا اَقْدَامَہَمَا تَکَشَّفَتْ رُئُ ْوسُہُمَا فَثَارَا، فَقَالَ: ((مَکَانَکُمَا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُ کُمَا بِخَیْرِ مِمَّا سَاَلْتُمَانِیْ؟)) قَالَا: بَلٰی! فَقَالَ: ((کَلِمَاتٍ عَلَّمَنِیْہِنَّ جِبْرِیْلُ علیہ السلام ، فَقَالَ: تُسَبِّحَانِ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرًا، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا، وَتُکَبِّرَانِ عَشْرًا، وَإِذَا اٰوَیْتُمَا اِلٰی فِرَاشِکُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِیْنَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِیْنَ، وَکَبِّرَا اَرْبَعًا وَثَلَاثِیْنَ۔)) قَال: فَوَ اللّٰہِ! مَا تَرَکْتُہُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِیْہِنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ ابْنُ الْکَوَائِ: وَلَا لَیْلَۃَ صِفِّیْنَ، فَقَالَ قَاتَلَکُمُ اللّٰہُ، یَا اَھْلَ الْعَرَاقِ! نَعَمْ، وَلَا لَیْلَۃَ صِفِّیْنَ۔ (مسند احمد: ۸۳۸)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نکاح کیا تو آپ نے ان کے ہمراہ ایک اونی چادر، چمڑے کا ایک تکیہ، جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں، ایک مشک اور دو مٹکے بھیجے، ایک دن سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیّدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا کہ باہر سے پانی لالا کر اب تو میرا سینہ دکھنے لگا ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد کے پاس کچھ قیدی بھیج دئیے ہیں، تم جا کر ان سے ایک خادم طلب کر لو، انہوں نے کہا اللہ کی قسم! میرا بھی اب تو یہ حال ہو چکا ہے کہ آٹا پیسنے کے لیے چکی چلا چلا کر میرے ہاتھوں پر گٹے پڑ گئے ہیںیعنی ہاتھ بہت سخت ہو گئے ہیں۔ چنانچہ سیّدہ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت کیا: بیٹی! کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے کہا میں تو محض سلام کہنے کی غرض سے آئی ہوں، اور کوئی چیز طلب کرنے سے جھجک گئیں۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا کہ کیا بنا؟ انہوں نے بتلایا:میں تو شرم کے مارے آپ سے کچھ نہیں مانگ سکی، پھر ہم دونوں آپ کی خدمت میں گئے، اس بار سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! باہر سے پانی لالا کر میرا سینہ دکھنے لگا ہے، اور سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا کہ چکی چلاچلا کر میرے ہاتھوں پر گٹے پڑ گئے ہیں، اب اللہ نے آپ کے پاس قیدی بھیجے ہیں اور آپ کو مالی طور پر خوش حال کر دیا ہے، پس آپ ہمیں ایک خادم عنایت کر دیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں خادم نہیں دے سکتا، جب کہ اہلِ صفہ کا حال یہ ہے کہ بھوک کے مارے ان کے پیٹ بل کھاتے ہیں اور میرے پاس اس قدر گنجائش نہیں کہ ان پر کچھ خرچ کر سکوں، یہ جو قیدی آئے ہیں، میں انہیں فروخت کر کے ان سے حاصل ہونے والی رقم اصحاب صفہ پر خرچ کروں گا۔ یہ سن کر وہ دونوں لوٹ آئے، بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں ایسے وقت تشریف لے گئے، جب وہ اپنی چادر میں داخل ہو چکے تھے، اور اس چادر کا بھییہ حال تھا کہ وہ چادر ان کے سروں کو ڈھانپتی تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب وہ دونوں اپنے کے پاؤں ڈھانپتے تو ان کے سر ننگے رہ جاتے، وہ اٹھ کر بیٹھنے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں، تم اپنی جگہ پرہی رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ لوگوں نے مجھ سے جو کچھ طلب کیا تھا، اب کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتلاؤں؟ دونوں نے کہا: ضرور، ضرور، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ چند کلمات ہیں جو جبریل علیہ السلام نے مجھے سکھائے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سُبْحانَ اللّٰہ، دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ، اور دس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ لیا کرو اور جب تم سونے کے لیے بستر پر آؤ تو ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور ۳۴ مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ لیا کرو۔ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب سے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے ہیں، میں نے انہیں ترک نہیں کیا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کواء نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ نے جنگ صفین والی رات کو بھی انہیں ترک نہیں کیا تھا؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اہل ِ عراق! اللہ تمہیں ہلاک کرے، ہاں صفین کی شب کو بھی میںنے اس عمل کو ترک نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10724

۔ (۱۰۷۲۴)۔ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَغْنَمِ یَوْمَ بَدْرٍ، وَأَعْطَانِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَارِفًا أُخْرٰی، فَأَنَخْتُہُمَا یَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَیْہِمَا إِذْخِرًا لِأَبِیعَہُ وَمَعِی صَائِغٌ مِنْ بَنِی قَیْنُقَاعَ لِأَسْتَعِینَ بِہِ عَلٰی وَلِیمَۃِ فَاطِمَۃَ، وَحَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَشْرَبُ فِی ذٰلِکَ الْبَیْتِ، فَثَارَ إِلَیْہِمَا حَمْزَۃُ بِالسَّیْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَہُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَہُمَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَکْبَادِہِمَا، قُلْتُ لِابْنِ شِہَابٍ: وَمِنَ السَّنَامِ؟ قَالَ: جَبَّ أَسْنِمَتَہُمَا، فَذَہَبَ بِہَا، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلٰی مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِی، فَأَتَیْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعِنْدَہُ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ فَأَخْبَرْتُہُ الْخَبَرَ، فَخَرَجَ وَمَعَہُ زَیْدٌ فَانْطَلَقَ مَعَہُ فَدَخَلَ عَلٰی حَمْزَۃَ فَتَغَیَّظَ عَلَیْہِ، فَرَفَعَ حَمْزَۃُ بَصَرَہُ فَقَالَ: ہَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِیدٌ لِأَبِی، فَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَہْقِرُ حَتّٰی خَرَجَ عَنْہُمْ وَذٰلِکَ قَبْلَ تَحْرِیمِ الْخَمْرِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۱)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میںمجھے مالِ غنیمت میں سے ایک اونٹ ملا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک اور اونٹ عطا فرمایا تھا، میں نے ایک دن دونوں اونٹوں کو ایک انصاری کے دروازے کے پاس بٹھایا۔ میں اذخرگھاس کاٹ کر ان پر لاد کر لے جا کر بیچنا چاہتا تھا۔ میرے ہمراہ بنو قینقاع کا ایک صراف شخص بھی تھا، میں اس سے حاصل ہونے والی رقم کو سیّدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ولیمہ پرخرچ کرنا چاہتا تھا۔ انصاری کے اس گھر میں سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے شراب نوشی کر رہے تھے کہ اچانک وہ تلوار لے کر اُٹھے اور اونٹوں کی طرف لپک کر ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھیں چاک کر دیں اور ان کے جگر نکال کر چلتے بنے۔ ابن جریج راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ زہری سے دریافت کیا کہ کوہانوں کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا: انہیں بھی وہ کاٹ کر ساتھ لے گئے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا اور گھبرا گیا، میں اسی وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا، اس وقت سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی وہاں موجود تھے۔ میں نے سارا واقعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گوش گزار کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں سے روانہ ہو کر سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئے اور ناراضگی کا اظہار فرمایا، سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی نظروں کو گھمایا اور کہنے لگے: تم لوگ تو میرے باپ کے غلام ہو۔ سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییہ بات سن کر رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ الٹے پاؤں واپس ہو کر واپس لوٹ آئے۔ یہ واقعہ شراب کی حرمت سے پہلے کاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10725

۔ (۱۰۷۲۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَشٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ، ثُمَّ وَجَّہَہُمْ وَقَالَ: ((انْطَلِقُوْا عَلَی اسْمِ اللّٰہِ، وَقَالَ اَللّٰھُمَّ اَعِنْہُمْ۔)) (یَعْنِی النَّفَرَ الَّذِیْنَ وَجَّہَہُمْ اِلٰی کَعْبِ بْنِ الْاَشْرَفِ)۔ (مسند احمد: ۲۳۹۱)
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع الغرفد میں تشریف لے گئے اور صحابہ کرام کو ان کے مشن کے لیے روانہ کرتے ہوئے فرمایا: تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو۔ اور یہ دعا فرمائی: یا اللہ ان کی مدد فرمانا۔ (یہ وہ گروہ تھا، جس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعب بن اشرف کی طرف روانہ کیا تھا۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10726

۔ (۱۰۷۲۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَنَفَّلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَیْفَہُ ذَا الْفَقَارِ یَوْمَ بَدْرٍ وَہُوَ الَّذِی رَأٰی فِیہِ الرُّؤْیَایَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَأَیْتُ فِی سَیْفِی ذِی الْفَقَارِ فَلًّا فَأَوَّلْتُہُ فَلًّا یَکُونُ فِیکُمْ وَرَأَیْتُأَنِّی مُرْدِفٌ کَبْشًا فَأَوَّلْتُہُ کَبْشَ الْکَتِیبَۃِ وَرَأَیْتُ أَنِّی فِی دِرْعٍ حَصِینَۃٍ فَأَوَّلْتُہَا الْمَدِینَۃَ وَرَأَیْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللّٰہِ خَیْرٌ فَبَقَرٌ وَاللّٰہِ خَیْرٌ فَکَانَ الَّذِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۵)
سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ذوالفقار تلوار جنگ بدر کے دن بطور نفل حاصل کییہ وہی تلوار ہے جس کے بارے میں آپ نے احد کے دن خواب دیکھا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی اس تلوار ذوالفقار میں ایک دندانہ دیکھا ہے اس کی تعبیریہ ہے کہ تمہیں شکست ہوگی میں نے دیکھا ہے کہ میں نے مینڈھے کو پیچھے سوار کیا ہوا ہے میں نے تاویل کی ہے کہ لشکر کا بہادر شہید ہوگا میں نے دیکھا ہے کہ میں نے محفوظ زرہ پہنی ہوئی ہے میں نے اس کی تاویلیہ کی ہے کہ مدینہ محفوظ رہے گا میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے اللہ کی قسم یہ بہتر ہے۔ وہی ہوا جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10727

۔ (۱۰۷۲۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَأَیْتُ کَأَنِّی فِی دِرْعٍ حَصِینَۃٍ، وَرَأَیْتُ بَقَرًا مُنَحَّرَۃً، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِینَۃَ الْمَدِینَۃُ، وَأَنَّ الْبَقَرَ ہُوَ وَاللّٰہِ خَیْرٌ۔)) قَالَ: فَقَالَ لِأَصْحَابِہِ: ((لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِینَۃِ فَإِنْ دَخَلُوا عَلَیْنَا فِیہَا قَاتَلْنَاہُمْ۔)) فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ، مَا دُخِلَ عَلَیْنَا فِیہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَکَیْفَیُدْخَلُ عَلَیْنَا فِیہَا فِی الْإِسْلَامِ؟ قَالَ عَفَّانُ فِی حَدِیثِہِ: فَقَالَ: ((شَأْنَکُمْ إِذًا۔)) قَالَ: فَلَبِسَ لَأْمَتَہُ، قَالَ: فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: رَدَدْنَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْیَہُ، فَجَائُ وْا فَقَالُوا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! شَأْنَکَ إِذًا، فَقَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ لِنَبِیٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَہُ أَنْ یَضَعَہَا حَتَّییُقَاتِلَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۴۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ایک محفوظ مضبوط قلعہ کے اندر ہوں، اور میں نے ایک ذبح شدہ گائے دیکھی، میں نے اس کی تعبیریہ کی کہ مضبوط ومحفوظ قلعہ سے مراد مدینہ منورہ ہے، اور اللہ کی قسم گائے کا دیکھنا بھی بہتر ہے۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے مشورہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ہم مدینہ میں ٹھہریں، پھر اگر دشمن ہم پر حملہ آور ہو تو ہم ان سے قتال کریں، اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دشمن ہم پر ہمارے شہر میں اس وقت بھی نہیں آیا تھا، جب ہم کافر تھے، اب جب کہ ہم اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، وہ ہمارے اوپر ہمارے شہر میں کیونکر آسکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کی بات سن کر فرمایا: چلو ٹھیک ہے، جیسے چاہو کر لو۔ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہتھیار اپنے جسم پر سجالئے، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ یہ منظر دیکھ کر انصاریوں نے آپس میں کہا کہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رائے کے برعکس عمل کیا ہے۔ (اللہ خیر کرے) چنانچہ انہوں نے آکر عرض کیا کہ اللہ کے نبی! آپ اپنی رائے پر ہی عمل کریں، لیکن اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی کے لیےیہ روا نہیں کہ جب وہ ہتھیاروں سے مسلح ہو جائے تو دشمن سے قتال کیے بغیر انہیں اتا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10728

۔ (۱۰۷۲۸)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَأَیْتُ فِیمَایَرَی النَّائِمُ کَأَنِّی مُرْدِفٌ کَبْشًا، وَکَأَنَّ ظُبَۃَ سَیْفِی انْکَسَرَتْ، فَأَوَّلْتُ أَنِّی أَقْتُلُ صَاحِبَ الْکَتِیبَۃِ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ بَیْتِییُقْتَلُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۶۱)
انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے گویا کہ ایک مینڈھا میرے پیچھے ہے اور گویا میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے، تو میں نے ان خوابوں کی تعبیریہ کی کہ میں مشرکین کے جھنڈا بردار (طلحہ بن ابی طلحہ) کو قتل کروں گا اور میرےاہل بیت میں سے ایک آدمی قتل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10729

۔ (۱۰۷۲۹)۔ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّ الْبَرَاء َ بْنَ عَازِبٍ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الرُّمَاۃِیَوْمَ أُحُدٍ وَکَانُوا خَمْسِینَ رَجُلًا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جُبَیْرٍ، قَالَ: وَوَضَعَہُمْ مَوْضِعًا، وَقَالَ: ((إِنْ رَأَیْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّیْرُ فَلَا تَبْرَحُوا حَتّٰی أُرْسِلَ إِلَیْکُمْ، وَإِنْ رَأَیْتُمُونَا ظَہَرْنَا عَلَی الْعَدُوِّ وَأَوْطَأْنَاہُمْ فَلَا تَبْرَحُوا حَتّٰی أُرْسِلَ إِلَیْکُمْ۔)) قَالَ: فَہَزَمُوہُمْ، قَالَ: فَأَنَا وَاللّٰہِ! رَأَیْتُ النِّسَائَ یَشْتَدِدْنَ عَلَی الْجَبَلِ، وَقَدْ بَدَتْ سُوْقُہُنَّ وَخَلَاخِلُہُنَّ رَافِعَاتٍ ثِیَابَہُنَّ، فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جُبَیْرٍ: الْغَنِیمَۃَ أَیْ قَوْمُ الْغَنِیمَۃَ، ظَہَرَ أَصْحَابُکُمْ فَمَا تَنْظُرُونَ؟ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جُبَیْرٍ: أَنَسِیتُمْ، مَا قَالَ لَکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوا: إِنَّا وَاللّٰہِ لَنَأْتِیَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِیبَنَّ مِنَ الْغَنِیمَۃِ، فَلَمَّا أَتَوْہُمْ صُرِفَتْ وُجُوہُہُمْ، فَأَقْبَلُوا مُنْہَزِمِینَ، فَذٰلِکَ الَّذِییَدْعُوہُمُ الرَّسُولُ فِی أُخْرٰاہُمْ، فَلَمْ یَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَیْرُ اثْنَیْ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِینَ رَجُلًا، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ أَصَابَ مِنْ الْمُشْرِکِینَیَوْمَ بَدرٍ أَرْبَعِینَ وَمِائَۃً، سَبْعِینَ أَسِیرًا وَسَبْعِینَ قَتِیلًا، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: أَفِی الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ أَ فِی الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ أَ فِی الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ ثَلَاثًا، فَنَہَاہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُجِیبُوہُ، ثُمَّ قَالَ: أَفِی الْقَوْمِ ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ؟ أَ فِی الْقَوْمِ ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ؟ أَ فِی الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ أَ فِی الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلٰی أَصْحَابِہِ، فَقَالَ: أَمَّا ہٰؤُلَائِ فَقَدْ قُتِلُوا وَقَدْ کُفِیتُمُوہُمْ، فَمَا مَلَکَ عُمَرُ نَفْسَہُ أَنْ قَالَ: کَذَبْتَ وَاللّٰہِ، یَا عَدُوَّ اللّٰہِ! إِنَّ الَّذِینَ عَدَدْتَ لَأَحْیَائٌ کُلُّہُمْ، وَقَدْ بَقِیَ لَکَ مَا یَسُوئُکَ، فَقَالَ: یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ، إِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ فِی الْقَوْمِ مُثْلَۃً لَمْ آمُرْ بِہَا وَلَمْ تَسُؤْنِی، ثُمَّ أَخَذَ یَرْتَجِزُ: اعْلُ ہُبَلُ، اعْلُ ہُبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَلَا تُجِیبُونَہُ؟)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: ((قُولُوا: اَللَّہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ۔)) قَالَ: إِنَّ الْعُزّٰی لَنَا وَلَا عُزّٰی لَکُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَلَا تُجِیبُونَہُ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: ((قُولُوا: اللّٰہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ۔))۔ (مسند احمد: ۱۸۷۹۴)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے روز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچاس تیر اندازوں پر عبداللہ بن جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں ایک مقام پر ٹھہرایا اور فرمایا: اگر تم دیکھو کہ پرندے ہماری لاشوں کو آکر کھا رہے ہیں تم تب بھییہاں سے نہ ہٹنا، تاآنکہ میں خود تمہارے پاس پیغام بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم دشمن پر غالب آ چکے اور اسے روند چکے ہیں تم تب بھییہاں سے اِدھر اُدھر نہ جانا، جب تک کہ میں خود تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:مسلمانوں نے کفار کو شکست سے دو چار کیا۔ اللہ کی قسم! میں نے عورتوں کو پہاڑ کے اوپر دوڑتے ہوئے یعنی گھبراہٹ میں تیز تیز چلتے دیکھا ان کی حالت یہ تھی کہ ان کی پنڈلیاں اور پازیبیں دکھائی دے رہی تھیں اور انہوں نے اپنے کپڑوں کو اٹھایا ہوا تھا۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا عبداللہ بن جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے تیر انداز ساتھیوں نے کہا: لوگو! چلو مالِ غنیمت اکٹھا کریں، مسلمانوں کو فتح حاصل ہو چکی ہے، اب تم کس چیز کے منتظر ہو؟ سیدنا عبداللہ بن جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے بہت کہا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم سے جو فرمایا تھا، کیا تم اسے بھول گئے ہو؟ یہ لوگ جب میدان میں پہنچے، صورت حالات بدل گئی اور شکست خوردہ ہو کر واپس ہوئے۔ یہی وہ وقت تھا جب رسول ان کو ان کے پیچھے سے آوازیں دے دے کر بلا رہے تھے اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ محض بارہ آدمی رہ گئے تھے اور کفار نے ہمارے ستر آدمیوں کو قتل کیا تھا، جب کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام نے بدر کے دن ستر کافر وں کو قتل اور ستر کافروں کو قیدی بنایا تھا، لڑائی کے بعد ابو سفیان نے پکار کر دریافت کیا: کیا تمہارے اندر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجود ہیں؟ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلمانوں کو اس کی بات کا جواب دینے سے منع فرما دیا۔ اس کے بعد اس نے پکار کر پوچھا کیا تمہارے ابن ابی قحافہ یعنی ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر ابو قحافہ کے بیٹے موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر ابن خطاب ہیں؟ کیا تمہارے اندر خطاب کا بیٹا ہے؟ پھر اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر خوشی سے کہا یہ سب لوگ مارے جا چکے ہیں اور ان کی بابت تمہارا کام مکمل ہو چکا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کییہ باتیں سن کر کنٹرول نہ کر سکے اور فرمایا: اے اللہ کے دشمن! تو جھوٹ کہہ رہا ہے، تو نے جن جن لوگوں کے نام لیے ہیں وہ سب زندہ ہیں، اور تیرے لیے بری خبر باقی ہے۔ ابو سفیان نے کہا: آج کا دن، بدر کا بدلہ ہے، اور لڑائی میں ایسا ہوتا رہتا ہے، کبھی کوئی غالب اورکبھی کوئی، تم دیکھوگے کہ تمہارے مسلمانوں کے مقتولین کا مُثلہ کیا گیا ہے، مگر میں نے کسی کو ایسا کرنے کانہیں کہا۔ مگر مجھے یہ کام بُرا بھی نہیں لگا، پھر وہ خوشی سے اس قسم کے رجز یہ کلمات کہنے لگا۔ اے ہُبل! تو سر بلند ہو، اے ہبل! تو سربلند ہو، تب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کی باتوں کا جواب نہ دو گے؟ صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا، اللہ کے رسول! اس کے جواب میں ہم کیا کہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یوں کہو اَللَّہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ (اللہ ہی بلند وبالا اور بزرگی والا ہے)۔ ابو سفیان نے کہا: ہمارے پاس تو ایک عُزی ہے، جب کہ تمہارا کوئی عزی نہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے اس کی بات کا جواب کیوں نہیں دیتے ہو؟ صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تم یوں کہو: اَللّٰہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ (ہمارا مدد گار تو اللہ ہے، تمہارا کوئی مدد گار نہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10730

۔ (۱۰۷۳۰)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: مَا نَصَرَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِی مَوْطِنٍ کَمَا نَصَرَ یَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: فَأَنْکَرْنَا ذٰلِکَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَیْنِی وَبَیْنَ مَنْ أَنْکَرَ ذٰلِکَ کِتَابُ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ فِییَوْمِ أُحُد: {وَلَقَدْ صَدَقَکُمْ اللّٰہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُمْ بِإِذْنِہِ } یَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَالْحَسُّ الْقَتْلُ، {حَتّٰی إِذَا فَشِلْتُمْ إِلٰی قَوْلِہِ وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ وَاللّٰہُ ذُو فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ} وَإِنَّمَا عَنٰی بِہٰذَا الرُّمَاۃَ، وَذٰلِکَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقَامَہُمْ فِی مَوْضِعٍ، ثُمَّ قَالَ: ((احْمُوا ظُہُورَنَا فَإِنْ رَأَیْتُمُونَا نُقْتَلُ فَلَا تَنْصُرُونَا، وَإِنْ رَأَیْتُمُونَا قَدْ غَنِمْنَا فَلَا تَشْرَکُونَا۔)) فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبَاحُوا عَسْکَرَ الْمُشْرِکِینَ أَکَبَّ الرُّمَاۃُ جَمِیعًا فَدَخَلُوا فِی الْعَسْکَرِ یَنْہَبُونَ، وَقَدِ الْتَقَتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَہُمْ کَذَا وَشَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدَیْہِ، وَالْتَبَسُوا فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاۃُ تِلْکَ الْخَلَّۃَ الَّتِی کَانُوا فِیہَا دَخَلَتِ الْخَیْلُ مِنْ ذٰلِکَ الْمَوْضِعِ عَلٰی أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَرَبَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا وَالْتَبَسُوا وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ نَاسٌ کَثِیرٌ، وَقَدْ کَانَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابِہِ أَوَّلُ النَّہَارِ حَتّٰی قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَائِ الْمُشْرِکِینَ سَبْعَۃٌ أَوْ تِسْعَۃٌ، وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ جَوْلَۃً نَحْوَ الْجَبَلِ وَلَمْ یَبْلُغُوا حَیْثُیَقُولُ النَّاسُ الْغَارَ، إِنَّمَا کَانُوا تَحْتَ الْمِہْرَاسِ وَصَاحَ الشَّیْطَانُ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَلَمْ یُشَکَّ فِیہِ أَنَّہُ حَقٌّ، فَمَا زِلْنَا کَذٰلِکَ مَا نَشُکُّ أَنَّہُ قَدْ قُتِلَ حَتّٰی طَلَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ السَّعْدَیْنِ نَعْرِفُہُ بِتَکَفُّئِہِ إِذَا مَشٰی، قَالَ: فَفَرِحْنَا حَتّٰی کَأَنَّہُ لَمْ یُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا، قَالَ: فَرَقِیَ نَحْوَنَا وَہُوَ یَقُولُ: ((اشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَلٰی قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْہَ رَسُولِہِ۔)) قَالَ: وَیَقُولُ مَرَّۃً أُخْرٰی: اللّٰہُمَّ إِنَّہُ لَیْسَ لَہُمْ أَنْ یَعْلُونَا حَتَّی انْتَہَی إِلَیْنَا، فَمَکَثَ سَاعَۃً فَإِذَا أَبُو سُفْیَانَیَصِیحُ فِی أَسْفَلِ الْجَبَلِ: اعْلُ ہُبَلُ، مَرَّتَیْنِیَعْنِی آلِہَتَہُ، أَیْنَ ابْنُ أَبِیکَبْشَۃَ؟ أَیْنَ ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ؟ أَیْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا أُجِیبُہُ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) فَلَمَّا قَالَ: اعْلُ ہُبَلُ، قَالَ عُمَرُ: اللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلُّ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! إِنَّہُ قَدْ أَنْعَمَتْ عَیْنُہَا فَعَادِ عَنْہَا أَوْ فَعَالِ عَنْہَا، فَقَالَ أَیْنَ ابْنُ أَبِی کَبْشَۃَ؟ أَیْنَ ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ؟ أَیْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: ہٰذَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہٰذَا أَبُوبَکْرٍ، وَہَا أَنَا ذَا عُمَرُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ، الْأَیَّامُ دُوَلٌ، وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ:لَا سَوَائً قَتْلَانَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلَاکُمْ فِی النَّارِ، قَالَ: إِنَّکُمْ لَتَزْعُمُونَ ذٰلِکَ لَقَدْ خِبْنَا إِذَنْ وَخَسِرْنَا، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: أَمَا إِنَّکُمْ سَوْفَ تَجِدُونَ فِی قَتْلَاکُمْ مُثْلًا، وَلَمْ یَکُنْ ذَاکَ عَنْ رَأْیِ سَرَاتِنَا، قَالَ: ثُمَّ أَدْرَکَتْہُ حَمِیَّۃُ الْجَاہِلِیَّۃِ، قَالَ: فَقَالَ: أَمَا إِنَّہُ قَدْ کَانَ ذَاکَ وَلَمْ نَکْرَہُّ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جیسے احد کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کی، ایسی کسی بھی موقع پر نہیں کی، عبیداللہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییہ بات سن کر ہم سب کو تعجب ہوا۔ انھوں نے کہا: جو لوگ اس بات کے انکاری ہیں ان کے اور میرے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے احد والے دن کے متعلق فرمایا ہے:{وَلَقَدْ صَدَقَکُمْ اللّٰہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُمْ بِإِذْنِہِ} … اللہ نے تمہارے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کیا تم ان کافروں کو قتل کر رہے تھے۔ یہاں الحسّ سے مراد قتل کرنا ہے۔ مزید فرمایا: {حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَآ اَرٰیکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْھُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ وَاللّٰہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ۔}… مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مالِ غنیمت اور دشمن کی شکست)تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے، اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔ اس سے وہ تیر انداز مراد ہیں جنہیں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مقام پر متعین کیا تھا، اور فرمایا تھا کہ تم ادھر سے یعنی ہماری پشت کی جانب سے ہماری حفاظت کرنا، اگر تم دیکھو کہ ہم مارے جا رہے ہیں تب بھی تم ہماری مدد کو نہ آنا، اگر تم دیکھو کہ ہم غنیمتیں جمع کر رہے ہیں تب بھی تم ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غنیمتیں جمع کرنے لگے اور انہوں نے مشرکین کے لشکر کو شکست سے دو چار کیا تم تمام تیر انداز اُدھر امڈ آئے اور لشکر میں شامل ہو کر لوٹ مار کرنے لگے، اصحاب رسول کی صفیں آپس میں اس طرح گڈ مڈ ہو گئیں اور ساتھ ہی ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے دکھایا، جب ان تیر اندازوں نے اس مقررہ مقام کو غیر محفوظ چھوڑ دیا جہاں انہیں متعین کیا گیا تھا تو دشمنوں کا لشکر ادھر ہی سے اصحاب نبی پر حملہ آور ہو گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے کو مارا اور گتھم گتھا ہو گئے اوربہت سے مسلمان شہید ہو گئے۔ دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کا پلہ بھاری رہا، یہاں تک کہ مشرکین کے سات یا نو جھنڈا بردار قتل ہوئے اور مسلمان پہاڑ کی جانب بڑھتے گئے، وہ اس غار تک نہیں پہنچے تھے جس کے متعلق لوگ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان غار تک پہنچ گئے تھے بلکہ وہ مہر اس نامی چشمہ تک پہنچے تھے جس کے قریب ہی سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دفن کیا گیا تھا۔اور شیطان نے زور دار آواز سے چیخ کر کہا تھا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قتل ہو گئے۔ اس بات کے حق ہونے میں کسی کو شک بھی نہ گزرا، ہمیں بھی اس بات کا پورا یقین ہو چکا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سعدین کے درمیان سے نظر آئے۔ ہم آپ کو آپ کے چلنے کے انداز سے پہچان لیتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے وقت سامنے کی طرف تھوڑا سا جھک کر چلتے تھے، صحابہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ کر ہمیں اس قدر خوشی ہوئی گویا کہ ہمیں کوئی دکھ پہنچا ہی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہاڑ کے اوپر ہماری طرف چڑھ آئے اور اس وقت آپ یوں کہہ رہے تھے: ان لوگوں پر اللہ کا سخت غضب ہو، جنہوں نے اس کے رسول کے چہرے کو خون آلود کیا۔ اور کبھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں کہا: یہ لوگ کبھی بھی ہم پر غالب نہیں ہو سکتے۔ آپ اسی طرح کے کلمات کہتے کہتے ہمارے پاس آن پہنچے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ پہاڑ کے نیچے سے ابو سفیان نے زور سے چیخ کر دو مرتبہ کہا، اے ہُبُل، تو سربلند ہو۔ ابن ابی کبشہ کہاں ہے؟(اس سے اس کی مراد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے) ابو قحافہ کا بیٹا ابوبکر کہاں ہے؟ خطاب کا بیٹا عمر کہاں ہے؟ اس کی باتیں سن کر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کی باتوں کا جواب نہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور دو۔ ابو سفیان نے جب کہا کہ اے ہبل تو سر بلند ہو۔ تو اس کے جواب میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللّٰہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ (صرف اللہ ہی سب سے بلند اور بزرگ ترین ہے۔) ابو سفیان نے کہا: اے ابن خطاب! ہبل کی بات پوری ہو چکی ہے۔ اب تم اس کے ذکر کو چھوڑو، ابو سفیان نے کہا تھا: ابو کبشہ کا بیٹا محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہاں ہے؟ ابو قحافہ کا بیٹا کہاں ہے؟ اور خطاب کا بیٹا کہاں ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ ہیں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، یہ ہیں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور یہ میں ہوں عمر، ابو سفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، یہ ایام پانی کے ڈول کی مانند ہوتے ہیں کبھی کوئی غالب آتا ہے اور کوئی مغلوب اور لڑائی میں باریاں ہوتی ہیں، غالب ہونے والے کبھی مغلوب اور مغلوب ہونے والے کبھی غالب آجاتے ہیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں، برابری نہیں ہے، ہمارے مقتول تو جنت میں جائیں گے اور تمہارے مقتول جہنمی ہیں۔ ابو سفیان بولا: یہ تو تمہارا خیال ہے، اگر بات ایسی ہی ہو تو ہم سراسر ناکام اور خسارہ پانے والے ہیں۔ پھر ابو سفیان نے کہا: اے عمر! تم دیکھو گے کہ تمہارے مقتولین کا مثلہ کیا گیا ہے۔ مگر یہ ہمارے لیڈروں کا فیصلہ قطعاً نہ تھا، یہ بات کرنے کے ساتھ ہی اسے جاہلی حمیتنے آن لیا اور کہنے لگا: اگر چہ بات ایسے ہی ہے کہ یہ ہمارے لیڈروں کا فیصلہ نہ تھا، تاہم ہم اس پر خوش ہیں اور اسے ناپسند نہیں کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10731

۔ (۱۰۷۳۱)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النِّسَائَ کُنَّ یَوْمَ أُحُدٍ خَلْفَ الْمُسْلِمِینَیُجْہِزْنَ عَلٰی جَرْحٰی الْمُشْرِکِینَ، فَلَوْ حَلَفْتُ یَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنَّا یُرِیدُ الدُّنْیَا، حَتَّی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ} فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَصَوْا مَا أُمِرُوا بِہِ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی تِسْعَۃٍ سَبْعَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ وَہُوَ عَاشِرُہُمْ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ، قَالَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا رَدَّہُمْ عَنَّا۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَۃً حَتّٰی قُتِلَ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ أَیْضًا قَالَ: ((یَرْحَمُ اللّٰہُ رَجُلًا رَدَّہُمْ عَنَّا۔)) فَلَمْ یَزَلْیَقُولُ ذَا حَتّٰی قُتِلَ السَّبْعَۃُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصَاحِبَیْہِ: ((مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا۔)) فَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ فَقَالَ: اعْلُ ہُبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُولُوا: اَللَّہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ۔)) فَقَالُوا: اللّٰہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: لَنَا عُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُولُوا: اللّٰہُ مَوْلَانَا وَالْکَافِرُونَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ، یَوْمٌ لَنَا وَیَوْمٌ عَلَیْنَا، وَیَوْمٌ نُسَائُ وَیَوْمٌ نُسَرُّ، حَنْظَلَۃُ بِحَنْظَلَۃَ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا سَوَائً أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْیَائٌیُرْزَقُونَ، وَقَتْلَاکُمْ فِی النَّارِ یُعَذَّبُونَ۔)) قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: قَدْ کَانَتْ فِی الْقَوْمِ مُثْلَۃٌ، وَإِنْ کَانَتْ لَعَنْ غَیْرِ مَلَإٍ مِنَّا مَا أَمَرْتُ وَلَا نَہَیْتُ وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا کَرِہْتُ وَلَا سَائَ نِیْ وَلَا سَرَّنِی، قَالَ: فَنَظَرُوا فَإِذَا حَمْزَۃُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُہُ وَأَخَذَتْ ہِنْدُ کَبِدَہُ فَلَاکَتْہَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْکُلَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَأَکَلَتْ مِنْہُ شَیْئًا؟)) قَالُوا: لَا، قَالَ: ((مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُدْخِلَ شَیْئًا مِنْ حَمْزَۃَ النَّارَ۔)) فَوَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ، وَجِیئَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَوُضِعَ إِلَی جَنْبِہِ،فَصَلَّی عَلَیْہِ، فَرُفِعَ الْأَنْصَارِیُّ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ، ثُمَّ جِیء َ بِآخَرَ فَوَضَعَہُ إِلَی جَنْبِ حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ، ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ، حَتَّی صَلَّی عَلَیْہِیَوْمَئِذٍ سَبْعِینَ صَلَاۃ۔ (مسند احمد: ۴۴۱۴)