Musnad Ahmad

Search Results(1)

174)

174) کتاب الفضائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12467

۔ (۱۲۴۶۷)۔ عَنْ أَبِی حَلْبَسٍ یَزِیدَ بْنِ مَیْسَرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَائِ تَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ یَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَا سَمِعْتُہُ یُکَنِّیہِ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَہَا،یَقُولُ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: یَا عِیسٰی! إِنِّی بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِکَ أُمَّۃً، إِنْ أَصَابَہُمْ مَا یُحِبُّونَ حَمِدُوا اللّٰہَ وَشَکَرُوْا، وَإِنْ أَصَابَہُمْ مَا یَکْرَہُونَ احْتَسَبُوْا وَصَبَرُوْا، وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ، قَالَ: یَا رَبِّ! کَیْفَ ہٰذَا لَہُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ؟ قَالَ: أُعْطِیہِمْ مِنْ حِلْمِیْ وَعِلْمِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۹۵)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا،راویہ ام درداء کہتی ہیں: میں نے ابودرداء کو اس سے پہلے یا اس کے بعد رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر کنیت کے ساتھ کرتے نہیں سنا، بہرحال وہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تیرے بعد ایک ایسی امت بھیجنے والا ہوں، اگر ان کو وہ چیز ملے جس سے وہ محبت کرتے ہوں، تو وہ میری حمد کریں گے اور شکر بجا لائیںگے اور اگر ان کو ایسے احوال پیش آئیں، جو بظاہر انہیں ناپسند ہوں گے، تب بھی وہ صبر کریں گے اور ثواب کی امید رکھیں گے اور ان کے پاس نہ بردباری ہو گی اور نہ علم ہوگا، عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! جب ان کے پاس حلم اور علم نہ ہوگا تو مذکورہ خصائص ان میں کیسے آئیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنی طرف سے انہیں حلم اور علم سے نواز دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12468

۔ (۱۲۴۶۸)۔ عَنْ حَکِیمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِینَ أُمَّۃً، أَنْتُمْ آخِرُہَا وَأَکْرَمُہَا عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَا بَیْنَ مِصْرَاعَیْنِ مِنْ مَصَارِیعِ الْجَنَّۃِ مَسِیرَۃُ أَرْبَعِینَ عَامًا، وَلَیَأْتِیَنَّ عَلَیْہِیَوْمٌ وَإِنَّہُ لَکَظِیظٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۷۸)
سیدنا معاویہ بن جیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم امتوں کے ستر کے عدد کو پورا کرنے والے ہو، ان میں سے تم سب سے آخری اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزر اور مکرم ہو،جنت کے دروازوں کی جانبی لکڑیوں کے مابین چالیس برس کی مسافت ہے، لیکن جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہونے کے باوجود تمہارے رش کی وجہ سے تنگ پڑجائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12469

۔ (۱۲۴۶۹)۔ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: فُضِّلَتْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃُ عَلٰی سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ، جُعِلَتْ لَہَا الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُہَا عَلٰی صُفُوفِ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ ذَا: ((وَأُعْطِیتُ ہٰذِہِ الْآیَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ مِنْ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَہَا نَبِیٌّ قَبْلِی۔))قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ: کُلُّہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۰)
سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اس امت کو باقی امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے: اس کے لیے پوری زمین کو ذریعۂ طہارت یعنی وضو کے قائم مقام تیمم کا ذریعہ اور عبادت گاہ بنایا گیا ہے اور اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مزید بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آخری آیات مجھے عرش کے نیچے والے خزانوں میں سے عطا کی گئی ہیں، ایسا خزانہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس حدیث کا ایک راوی ابومعاویہ کہتا ہے کہ یہ ساری باتیں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12470

۔ (۱۲۴۷۰)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَشِّرْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ بِالسَّنَائِ وَالرِّفْعَۃِ وَالدِّینِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْکِینِ فِی الْأَرْضِ۔)) وَہُوَ یَشُکُّ فِی السَّادِسَۃِ قَالَ: فَمَنْ عَمِلَ مِنْہُمْ عَمَلَ الْآخِرَۃِ لِلدُّنْیَا لَمْ یَکُنْ لَہُ فِی الْآخِرَۃِ نَصِیبٌ۔)) قَالَ عَبْد اللّٰہِ: قَالَ أَبِی أَبُو سَلَمَۃَ: ہٰذَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخُو عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِیِّ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۳۹)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کو اللہ کے ہاں قدرو منزلت، بلند مرتبت، دین داری، تائید و نصرت اور زمین پر غلبہ کی بشارت دے دیں۔ راوی کو یہ پانچ چیزیں یاد رہیں اور چھٹی اس کے ذہن سے محو ہوگئی،اس کے بارے میں اسے شک ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کا جوآدمی آخرت کا عمل دنیا کے لیے کرے گا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ عبداللہ کہتے ہیں: میرے والد نے بتلایا کہ اس حدیث کے راوی ابو سلمہ کا اصل نام مغیرہ بن مسلم ہے اور وہ عبدالعزیز بن مسلم قسملی کا بھائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12471

۔ (۱۲۴۷۱)۔ وعَنِ أَبِی مُوسٰی قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أُمَّتِی أُمَّۃٌ مَرْحُومَۃٌ لَیْسَ عَلَیْہَا فِی الْآخِرَۃِ عَذَابٌ، إِنَّمَا عَذَابُہُمْ فِی الدُّنْیَا الْقَتْلُ وَالْبَلَابِلُ وَالزَّلَازِلُ)) قَالَ أَبُو النَّضْرِ: بِالزَّلَازِلِ وَالْقَتْلِ وَالْفِتَنِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۱۴)
سیدناابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت پر رحمت کر دی گئی ہے، اسے آخرت میں عذاب نہیں دیا جائے گا، میرے امتیوں کا عذاب دنیا میں قتل، پریشانیوں، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12472

۔ (۱۲۴۷۲)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اُمَّتِیْ اُمَّۃٌ مَرْحُوْمَۃٌ لَیْسَ عَلَیْہَا فِی الْآخِرَۃِ عَذَابٌ اِلَّا عَذَابُہَا فِی الدُّنْیَا الْقَتْلُ وَالْبَلَائُ وَالزَّلَازِلُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۹۰)
سیدناابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت پر اللہ کی خصوصی رحمت ہے، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہو گا، اس کا عذاب تو دنیا میں قتل، پریشانیوں اور زلزلوں کی صورت میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12473

۔ (۱۲۴۷۳)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ: أَمَانَانِ کَانَا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رُفِعَ أَحَدُہُمَا وَبَقِیَ الْآخَرُ: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} [الانفال: ۳۳]۔ (مسند احمد: ۱۹۸۳۶)
سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کی طرف سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں اس امت کو دو ضمانتیں حاصل تھیں، اب ان میں سے ایک ضمانت تو اٹھا لی گئی ہے اور دوسری ابھی تک باقی ہے، امان کی ان دو قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} … اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا، اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12474

۔ (۱۲۴۷۴)۔ عَنْ یَحْیَی بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَنْ یَجْمَعَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ سَیْفَیْنِ، سَیْفًا مِنْہَا وَسَیْفًا مِنْ عَدُوِّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸۹)
سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں ہرگز جمع نہیں فرمائے گا،ایک تلوار اس امت کی اپنی اور دوسری دشمن کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12475

۔ (۱۲۴۷۵)۔ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِی أَحْرَزَہُمُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ، عِصَابَۃٌ تَغْزُو الْہِنْدَ، وَعِصَابَۃٌ تَکُونُ مَعَ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۵۹)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میر ی امت کے دوگروہوں کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر لیا ہے، ایک وہ گروہ، جو ہندوستان پر حملہ کرے گا اور دوسرا وہ گروہ، جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12476

۔ (۱۲۴۷۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَیُّوبَ صَاحِبُ الْبَصْرِیِّ سُلَیْمَانُ بْنُ أَیُّوبَ، حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ دِینَارٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لَہُ: مَیْمُونُ بْنُ سُنْبَاذَ، یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((قِوَامُ أُمَّتِی بِشِرَارِہَا۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۲۳۳۴)
سیدنا میمون بن سنباذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نامی ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میر ی امت کا استحکام برے لوگوں سے ہوگا۔ یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار ارشاد فرمائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12477

۔ (۱۲۴۷۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ أُمَّتِی لَمَنْ یَشْفَعُ لِأَکْثَرَ مِنْ رَبِیعَۃَ وَ مُضَرَ، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِی لَمَنْ یَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتّٰییَکُونَ رُکْنًا مِنْ أَرْکَانِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۱۳)
سیدناابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے، جو قبیلہ ربیعہ اور مضر کے افراد سے زیادہ لوگوں کے حق میں سفارش کریں گے اور میری ہی امت میں بعض ایسے افراد بھی ہوں گے، جو جہنم کے لیے بڑے ہو جائیں گے، یہاں تک جہنم کا کونہ بھر جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12478

۔ (۱۲۴۷۸)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: ((لَا تَعْجِزُ أُمَّتِی عِنْدَ رَبِّی أَنْ یُؤَخِّرَہَا نِصْفَ یَوْمٍ۔)) وَسَأَلْتُ رَاشِدًا ہَلْ بَلَغَکَ مَاذَا النِّصْفُ یَوْمٍ؟ قَالَ خَمْسُ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۴)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجزنہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب میں نصف یوم تک روکے رکھے۔ ابو بکر کہتے ہیں: میں نے راشد سے کہا: کیاآپ کو اس بارے میں کوئی خبر پہنچی کہ نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12479

۔ (۱۲۴۷۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَعْجِزَ أُمَّتِی عِنْدَ رَبِّی، أَنْ یُؤَخِّرَہُمْ نِصْفَ یَوْمٍ۔)) فَقِیلَ لِسَعْدٍ: وَکَمْ نِصْفُ یَوْمٍ؟ قَالَ: خَمْسُ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجز نہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب کے لیے نصف یوم تک روکے رکھے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی نے پوچھا: نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوںنے کہا: پانچ سو سال۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12480

۔ (۱۲۴۸۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((کُلُّ أُمَّتِییَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَّا مَنْ أَبٰی۔)) قَالُوْا: وَمَنْ یَأْبٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((مَنْ أَطَاعَنِی دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ أَبٰی۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میری ساری امت جنت میں جائے گی، ما سوائے ان لوگوں کے جو خود جنت میں جانے سے انکاری ہوں۔ صحابۂ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں جانے سے کون انکارکرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میںجائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12481

۔ (۱۲۴۸۱)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرْکَبُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِی ثَبَجَ الْبَحْرِ، أَوْ ثَبَجَ ہٰذَا الْبَحْرِ، ہُمُ الْمُلُوکُ عَلَی الْأَسِرَّۃِ، أَوْ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۵۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک قوم اس سمندر کی سطح پر سوار ہوگی، وہ یوں لگیں گے جیسے تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12482

۔ (۱۲۴۸۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَقَالَ: ((مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِییَرْکَبُونَ ہٰذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَثَلُہُمْ کَمَثَلِ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۲۱)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: وہ اللہ کی راہ میں غز وۂ کرتے ہوئے اس بحرا خضر کی سطح پر سوار ہوں گے، ان کی مثال یوں ہوگی جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12483

۔ (۱۲۴۸۳)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَثَلُ أُمَّتِی مَثَلُ الْمَطَرِ لَا یُدْرٰی أَوَّلُہُ خَیْرٌ أَمْ آخِرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۸۷)
سیدناعمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا ابتدائی حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12484

۔ (۱۲۴۸۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ مَثَلَ أُمَّتِی مَثَلُ الْمَطَرِ لَا یُدْرٰی أَوَّلُہُ خَیْرٌ أَوْ آخِرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۵۲)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12485

۔ (۱۲۴۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَثَلُکُمْ وَمَثَلُ الْیَہُودِ وَالنَّصَارٰی، کَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا، فَقَالَ: مَنْ یَعْمَلُ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ إِلٰی نِصْفِ النَّہَارِ عَلٰی قِیرَاطٍ قِیرَاطٍ؟ أَلَا فَعَمِلَتِ الْیَہُودُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ یَعْمَلُ لِی مِنْ نِصْفِ النَّہَارِ إِلٰی صَلَاۃِ الْعَصْرِ عَلٰی قِیرَاطٍ قِیرَاطٍ؟ أَلَا فَعَمِلَتِ النَّصَارٰی، ثُمَّ قَالَ: مَنْ یَعْمَلُ لِی مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ إِلٰی غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلٰی قِیرَاطَیْنِ قِیرَاطَیْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِینَ عَمِلْتُمْ فَغَضِبَ الْیَہُودُ وَالنَّصَارٰی، قَالُوْا: نَحْنُ کُنَّا أَکْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَائً، قَالَ: ہَلْ ظَلَمْتُکُمْ مِنْ حَقِّکُمْ شَیْئًا؟ قَالُوْا: لَا، قَالَ: فَإِنَّمَا ہُوَ فَضْلِی أُوتِیہِ مَنْ أَشَائُ۔)) (مسند احمد: ۴۵۰۸)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو بہت سے لوگوں کو بطور مزدور لگائے اور ان سے کہے: کون ہے جو صبح سے نصف النہار تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ یہودیوں نے اس شرط پر کام کیا، اس نے پھر کہا: کون ہے جو نصف النہار سے نماز عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ نصاریٰ نے اس شرط پر کام کرنا منظور کر لیا، اس نے بعد ازاں کہا: کون ہے جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک دو دو قیراط کے عوض پر کام کرے گا۔ خبردار! وہ تم ہی ہو، جو تھوڑا وقت اور زیادہ معاوضہ پرکام کرنے والے ہو، یہ سن کر یہود اور نصاریٰ غضبناک ہوئے کہ ہم نے محنت زیادہ کی اور مزدوری تھوڑی ملی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پہلے یہ بتاؤ کہ کیا میں نے تمہارے حق میں کچھ کمی کی ہے یا اجرت کے سلسلہ میں تم پر کوئی زیادتی کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، یہ میں جسے چاہتا ہوں، دے دیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12486

۔ (۱۲۴۸۶)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ الْأَنْمَارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَثَلُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ مَثَلُ أَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا وَعِلْمًا فَہُوَ یَعْمَلُ بِہِ فِی مَالِہِ فَیُنْفِقُہُ فِی حَقِّہِ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ عِلْمًا وَلَمْ یُؤْتِہِ مَالًا فَہُوَ یَقُولُ: لَوْ کَانَ لِی مِثْلُ مَا لِہٰذَا عَمِلْتُ فِیہِ مِثْلَ الَّذِییَعْمَلُ۔)) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَہُمَا فِی الْأَجْرِ سَوَائٌ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا وَلَمْ یُؤْتِہِ عِلْمًا فَہُوَ یَخْبِطُ فِیہِیُنْفِقُہُ فِی غَیْرِ حَقِّہِ، وَرَجُلٌ لَمْ یُؤْتِہِ اللّٰہُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَہُوَ یَقُولُ: لَوْ کَانَ لِی مَالٌ مِثْلُ ہٰذَا عَمِلْتُ فِیہِ مِثْلَ الَّذِییَعْمَلُ۔)) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَہُمَا فِی الْوِزْرِ سَوَائٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸۷)
سیدناابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کی مثال چار آدمیوں کی مانند ہے، ایک کو اللہ تعالیٰ مال اور علم سے نوازے،وہ اپنے علم کو مال میں استعمال کرے اور مال حاصل کرکے اس کے جائز مقامات پر صرف کرے،دوسرے کو اللہ تعالیٰ علم عطا فرمائے اور مال نہ دے، وہ کہے اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی اسے اس کی طرح اس کے جائز مقامات پر صرف کرتا،تیسرے کو اللہ تعالیٰ مال تو دے مگر علم نہ دے، وہ اپنے مال ہی میںمگن رہے، نہ تو صلہ رحمی کرے اور نہ کسی حقدار کو حق ادا کرے بلکہ وہ اس مال کو ناحق خرچ کرتا ہے اور چوتھے کو اللہ تعالیٰ نہ مال دے اور نہ علم اور وہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں بھی اس کی طرح ناجائز کا موں میں خرچ کروں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گناہ میں یہ اور وہ دونوں برابر ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12487

۔ (۱۲۴۸۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قُبَّۃٍ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعِینَ، فَقَالَ: ((أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوْا ثُلُثَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوْا نِصْفَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، وَذَاکَ أَنَّ الْجَنَّۃَ لَا یَدْخُلُہَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِی الشِّرْکِ إِلَّا کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوِ السَّوْدَائِ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَحْمَرَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۶۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم تقریباً چالیس آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک قبہ میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بات پر راضی ہو کہ اہل جنت کا چوتھا حصہ تم لوگ ہو گے۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری تعداد اہل جنت کا تیسراحصہ ہو؟ ہم نے کہا:جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھی تعداد تمہاری ہوگی، اس لیے کہ جنت میں وہی لوگ جائیں گے جو مسلمان ہوں گے اور اہل شرک کے بالمقابل تمہاری تعداد یوں ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر سفید بال ہو یا سرخ بیل کی جلد پر سیاہ بال ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12488

۔ (۱۲۴۸۸)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((کَیْفَ أَنْتُمْ وَرُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟ لَکُمْ رُبُعُہَا وَلِسَائِرِ النَّاسِ ثَلَاثَۃُ أَرْبَاعِہَا۔)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَکَیْفَ أَنْتُمْ وَثُلُثَہَا؟)) قَالُوْا فَذَاکَ أَکْثَرُ، قَالَ: ((فَکَیْفَ أَنْتُمْ وَالشَّطْرَ؟)) قَالُوْا: فَذٰلِکَ أَکْثَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَہْلُ الْجَنَّۃِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِشْرُونَ وَمِائَۃُ صَفٍّ، أَنْتُمْ مِنْہَا ثَمَانُونَ صَفًّا۔)) (مسند احمد: ۴۳۲۸)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت کیا عالم ہوگا، جب جنت میں ایک چوتھائی تم لوگ ہو گے، پوری جنت کا چوتھا حصہ صرف تمہارے لیے اور تین چوتھائی باقی ساری امتوں کے لیے۔ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا، جب جنت میں ایک تہائی تعداد تمہاری ہوگی؟ صحابہ نے کہا: تب تو پہلے سے بھی زیادہ ہوں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں تمہاری ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12489

۔ (۱۲۴۸۹)۔ وَعَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَہْلُ الْجَنَّۃِ عِشْرُونَ وَمِائَۃُ صَفٍّ، مِنْہُمْ ثَمَانُونَ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔)) وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: ((أَنْتُمْ مِنْہُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۸)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیںاس میری امت کے لوگوں کی ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12490

۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12491

۔ (۱۲۴۹۱)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((أَرْجُو أَنْ یَکُونَ مَنْ یَتَّبِعُنِی مِنْ أُمَّتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَکَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: ((أَرْجُو أَنْ یَکُونُوْا ثُلُثَ النَّاسِ۔)) قَالَ: فَکَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: ((أَرْجُوْ أَنْ یَّکُوْنُو الشَّطْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۸۱)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: مجھے امید ہے کہ میری امت میں سے میری اتباع کرنے والے قیامت کے دن کل اہل جنت کا چوتھا حصہ ہوں گے۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:یہ سن کر ہم نے خوشی سے اللہ اکبر کہا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے پیروکار اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوں گے۔ یہ سن کر ہم نے خوشی سے پھر اللہ اکبر کہا،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے متبعین ا ہل جنت کی کل تعداد کا نصف ہوںگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12492

۔ (۱۲۴۹۲)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُولُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ لِآدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ: قُمْ فَجَہِّزْ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ تِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِینَ إِلَی النَّارِ وَوَاحِدًا إِلَی الْجَنَّۃِ۔)) فَبَکٰی أَصْحَابُہُ وَبَکَوْا ثُمَّ قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْفَعُوا رُؤُ وْسَکُمْ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! مَا أُمَّتِی فِی الْأُمَمِ إِلَّا کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ۔)) فَخَفَّفَ ذٰلِکَ عَنْہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۳۷)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: تم اٹھو اور اپنی اولاد کے ہر ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے الگ کردو۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام f رونے لگ گئے، اس کے بعدرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے سر اوپر اٹھاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے! دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کی مثال ایسے ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال ہو۔ یہ سن کر صحابہ کا غم کچھ ہلکا ہوا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12493

۔ (۱۲۴۹۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَوَّلُ مَنْ یُدْعٰییَوْمَ الْقِیَامَۃِ آدَمُ، فَیُقَالُ: ہٰذَا أَبُوکُمْ آدَمُ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، فَیَقُولُ لَہُ رَبُّنَا: أَخْرِجْ نَصِیبَ جَہَنَّمَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ! وَکَمْ؟ فَیَقُولُ: مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا یَبْقٰی مِنَّا؟ قَالَ: ((إِنَّ أُمَّتِی فِی الْأُمَمِ کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۰۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو لا کر کہا جائے گا: یہ تمہارا باپ آدم علیہ السلام ہے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب! میں حاضر ہوں، پھر ہمارا رب ان سے فرمائے گا: تم اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ الگ کر دو، وہ کہیں گے:اے میرے رب! کتنا حصہ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر سو میںسے ننانوے۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہر سو میں ننانوے نکل گئے تو جنت میں جانے کے لیے ہم میں سے کتنے باقی بچیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باقی امتوں کے بالمقابل میری امت یوں ہوگی، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12494

۔ (۱۲۴۹۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ لِعَدُوِّہِمْ قَاہِرِینَ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ إِلَّا مَا أَصَابَہُمْ مِنْ لَأْوَائَ حَتَّییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ وَہُمْ کَذٰلِکَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَیْنَ ہُمْ؟ قَالَ: ((بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ وَأَکْنَافِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۷۶)
سیدناابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ قیامت تک دین پر ثابت قدم اور دشمن پر غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، سوائے اس کے کہ انہیں کچھ معاشی تنگدستی کا سامنا کرنا پڑے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا او روہ اسی حالت پر ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کہاں ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح میں ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12495

۔ (۱۲۴۹۵)۔ وَعَنْ مُعَاوِیْۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًایُفَقِّھْہُ فِی الدِّینِ، وَلَا تَزَالُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَیُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ عَلٰی مَنْ نَاوَأَہُمْ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۴)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطافرما دیتا ہے،مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک اپنے مخالفین پر غالب رہیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12496

۔ (۱۲۴۹۶)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ ذَکَرَ حَدِیثًا رَوَاہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لَمْ أَسْمَعْہُ رَوٰی عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیثًا غَیْرَہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًایُفَقِّھْہُ فِی الدِّینِ وَلَا تَزَالُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَیُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ عَلٰی مَنْ نَاوَأَہُمْ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۴)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل شام میں بگاڑ آگیا تومسلمانوں میںکوئی خیر نہیں رہے گی میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ رہے گا، جنہیںاللہ کی نصرت حاصل رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والے ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہوجائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12497

۔ (۱۲۴۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ عُمَیْرَ بْنَ ہَانِئٍ حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی قَائِمَۃً بِأَمْرِ اللّٰہِ لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَذَلَہُمْ أَوْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَ أَمْرُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَہُمْ ظَاہِرُونَ عَلَی النَّاسِ۔)) فَقَامَ مَالِکُ بْنُ یَخَامِرٍ السَّکْسَکِیُّ: فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ یَقُولُ: وَہُمْ أَہْلُ الشَّامِ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: وَرَفَعَ صَوْتَہُ ہٰذَا مَالِکٌ یَزْعُمُ أَنَّہُ سَمِعَ مُعَاذًا یَقُولُ: وَہُمْ أَہْلُ الشَّامِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۵۶)
عمیر بن ہانی سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا وہ اس منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک اللہ کے حکم سے موجود رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے،بلکہ وہ لوگوںپر غالب رہیں گے۔ مالک بن یخامر سکسکی نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کہتے سنا ہے کہ اس حدیث کا مصداق اہل شام ہیں، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بلند آواز سے کہا: یہ مالک کہہ رہا ہے کہ اس نے سیدنا معا ذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ اس گروہ سے مراد اہل شام ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12498

۔ (۱۲۴۹۸)۔ عَنْ سَہْلٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَزَالُ الْأُمَّۃُ عَلَی الشَّرِیعَۃِ مَا لَمْ یَظْہَرْ فِیہَا ثَلَاثٌ، مَا لَمْ یُقْبَضِ الْعِلْمُ مِنْہُمْ، وَیَکْثُرْ فِیہِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ، وَیَظْہَرْ فِیہِمُ الصَّقَّارُونَ۔)) قَالَ: وَمَا الصَّقَّارُونَ أَوْ الصَّقْلَاوُونَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((بَشَرٌ یَکُونُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ تَحِیَّتُہُمْ بَیْنَہُمُ التَّلَاعُنُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۳)
سیدنا معاذ بن انس جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت شریعت پر ثابت قدم رہے گی، جب تک ان میں یہ تین باتیں ظاہر نہ ہو جائیں گی: (۱) علم کا اٹھ جانا، (۲) زنا کی یعنی حرامی اولاد کی کثرت ہو جانا اور صَقَّارُون کا ظاہر ہونا۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! صقارون سے کون لوگ مرادہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخر زمانہ میں ایسے لوگ آئیں گے، جو ملاقات کے وقت سلام کی بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12499

۔ (۱۲۴۹۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ عِنَبَۃَ الْخَوْلَانِیَّیَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا یَزَالُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَغْرِسُ فِی ہٰذَا الدِّینِ بِغَرْسٍ یَسْتَعْمِلُہُمْ فِی طَاعَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۴۰)
سیدنا ابو عتبہ خولانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دین میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا، جن کو وہ اپنی اطاعت کے لیے استعمال کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12500

۔ (۱۲۵۰۰)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِییُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: ((فَیَنْزِلُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَیَقُولُ أَمِیرُہُمْ: تَعَالَ صَلِّ بِنَا، فَیَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ أَمِیرٌ لِیُکْرِمَ اللّٰہُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ۔))(مسند احمد: ۱۴۷۷۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک دوسروں پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا، تو اس گروہ کا امیر ان سے کہے گا: تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں، لیکن وہ جواباً کہیں گے:تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو (لہٰذا تم خود نماز پڑھاؤ)، یہ دراصل اللہ تعالیٰ اس امت کو عزت دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12501

۔ (۱۲۵۰۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ہٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقِّ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ، وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۵)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہو جائے گی اور وہ اسی طرز عمل پر ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12502

۔ (۱۲۵۰۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ہٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقِّ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ، وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۵)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ اپنے مخالفین پر ہمیشہ غالب رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12503

۔ (۱۲۵۰۳)۔ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَۃَ، قَالَ شُرَیْحُ بْنُ عُبَیْدٍ: مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ وَعَلَیْہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِیُّ فَلَمْ یَعُدْہُ، فَدَخَلَ عَلٰی ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْکَلَاعِیِّینَ عَائِدًا، فَقَالَ لَہُ ثَوْبَانُ: أَتَکْتُبُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: اکْتُبْ، فَکَتَبَ لِلْأَمِینِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قُرْطٍ مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّہُ لَوْ کَانَ لِمُوسَی وَعِیسَی مَوْلًی بِحَضْرَتِکَ لَعُدْتَہُ ثُمَّ طَوَی الْکِتَابَ، وَقَالَ لَہُ: أَتُبَلِّغُہُ إِیَّاہُ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِکِتَابِہِ فَدَفَعَہُ إِلَی ابْنِ قُرْطٍ، فَلَمَّا قَرَأَہُ قَامَ فَزِعًا، فَقَالَ النَّاسُ: مَا شَأْنُہُ أَحَدَثَ أَمْرٌ؟ فَأَتٰی ثَوْبَانَ حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْہِ فَعَادَہُ وَجَلَسَ عِنْدَہُ سَاعَۃً ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِہِ وَقَالَ: اجْلِسْ حَتّٰی أُحَدِّثَکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۸۲)
شریح بن عبید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حمص میں سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑگئے، ان دنوں وہاں کا عامل عبداللہ بن قرط ازدی تھا، وہ ان کی عیادت کے لیے نہ آیا، جب بنو کلاع قبیلہ کا ایک آدمی سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے آیا تو انھوں نے اس سے کہا: کیا تم لکھنا جانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: لکھو، پھر انہوں نے یہ تحریر لکھوائی: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کے نام، امابعد! اگرتمہارے علاقہ میں موسی یا عیسیٰh کا کوئی خادم ہوتا تو تم ضرور اس کی بیمار پرسی کو جاتے۔ پھر انہوں نے خط لپیٹ کر کہا: کیا تم یہ خط عبداللہ تک پہنچادو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس جب اس آدمی نے جا کر وہ خط عبداللہ بن قرط کو دے دیا اور اس نے پڑھا تو وہ خوف زدہ سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا، لوگوں نے کہا: اسے کیا ہوا؟ کیا کوئی حادثہ پیش آگیا ہے؟ وہ ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں پہنچا، ان کی عیادت کی اور کچھ دیر ان کی خدمت میں بیٹھا رہا، اس کے بعد اٹھ کر جانے لگا تو سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کی چادر پکڑی اور کہا: بیٹھ جاؤ، میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے اور اس پر مستزاد یہ کہ ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر آدمی ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12504

۔ (۱۲۵۰۴)۔ وَعَنْ سَہْلٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِیْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا اَوْ قَالَ: سَبْعُمِائِۃِ اَلْفٍ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۲۷)
سیدناسہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار یا فرمایا سات لاکھ آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12505

۔ (۱۲۵۰۵)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، حَدَّثَنَا ابْنُ ہُبَیْرَۃَ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا تَمِیمٍ الْجَیْشَانِیَّیَقُولُ: أَخْبَرَنِی سَعِیدٌ، أَنَّہُ سَمِعَ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِیَقُولُ: غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا فَلَمْ یَخْرُجْ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ لَنْ یَخْرُجَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَۃً، فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَہُ قَدْ قُبِضَتْ فِیہَا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ قَالَ: ((إِنَّ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اسْتَشَارَنِی فِی أُمَّتِی، مَاذَا أَفْعَلُ بِہِمْ؟ فَقُلْتُ: مَا شِئْتَ أَیْ رَبِّ، ہُمْ خَلْقُکَ، وَعِبَادُکَ، فَاسْتَشَارَنِی الثَّانِیَۃَ، فَقُلْتُ لَہُ کَذٰلِکَ، فَقَالَ: لَا أُحْزِنُکَ فِی أُمَّتِکَ یَا مُحَمَّدُ، وَبَشَّرَنِی أَنَّ أَوَّلَ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعُونَ أَلْفًا مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا، لَیْسَ عَلَیْہِمْ حِسَابٌ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَقَالَ: ادْعُ تُجَبْ، وَسَلْ تُعْطَ، فَقُلْتُ لِرَسُولِہِ: أَوَمُعْطِیَّ رَبِّی سُؤْلِی؟ فَقَالَ: مَا أَرْسَلَنِی إِلَیْکَ إِلَّا لِیُعْطِیَکَ، وَلَقَدْ أَعْطَانِی رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ، وَغَفَرَ لِی مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِی وَمَا تَأَخَّرَ، وَأَنَا أَمْشِی حَیًّا صَحِیحًا، وَأَعْطَانِی أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِی وَلَا تُغْلَبَ، وَأَعْطَانِی الْکَوْثَرَ فَہُوَ نَہْرٌ مِنَ الْجَنَّۃِیَسِیلُ فِی حَوْضِی، وَأَعْطَانِی الْعِزَّ وَالنَّصْرَ وَالرُّعْبَ، یَسْعٰی بَیْنَیَدَیْ أُمَّتِی شَہْرًا، وَأَعْطَانِی أَنِّی أَوَّلُ الْأَنْبِیَائِ أَدْخُلُ الْجَنَّۃَ، وَطَیَّبَ لِی وَلِأُمَّتِی الْغَنِیمَۃَ، وَأَحَلَّ لَنَا کَثِیرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلٰی مَنْ قَبْلَنَا، وَلَمْ یَجْعَلْ عَلَیْنَا مِنْ حَرَجٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۲۵)
سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے پورا دن غائب رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف نہ لائے، ہم نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اب باہر بالکل نہیں آئیں گے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے آئے اور آتے ہی اس قدر طویل سجدہ کیا کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی روح قبض کر لی گئی ہے، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: میرے رب نے مجھ سے میری امت کے بارے میں مشورہ لیاہے کہ میں ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کروں؟ میں نے کہا: اے میرے رب! وہ تیری مخلوق اور بندے ہیں، تو ان کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے، کر سکتا ہے، اللہ نے دوبارہ مجھ سے مشورہ لیا، میں نے پھر اسی طرح کہا، پھر اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: اے محمد! میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ کی امت کے بارے میں غمگین نہیں کروں گا اور اس نے مجھے بشارت دی کہ سب سے پہلے میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ان میں سے ہر ہزار افراد کے ساتھ ستر ہزار آدمی بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی کہ آپ کوئی دعا کریں، قبول ہوگی، کچھ مانگیں آپ کو دیا جائے گا، میں نے اللہ کے فرستادے یعنی فرشتے سے کہا: کیا میں جو سوال کروں گا، میرا رب مجھے ضرو ر دے گا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا اسی لیے ہے کہ آپ جو سوال بھی کریں گے، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دے دے گا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، اس نے میرے اگلے پیچھے گناہ معاف کر دئیے ہیں اور میں تندرست صحیح چلتا ہوں اور اس نے مجھے یہ خصوصیت بھی دی ہے کہ میری امت قحط سے نہیں مرے گی اور نہ دشمن اس پر غالب آئے گا اور اللہ نے مجھے کو ثر سے نوازا ہے، یہ ایک نہر ہے، جو جنت سے بہہ کر میرے حوض میں گرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت اور نصرت عطا فرمائی ہے اور میری امت کا رعب اس سے ایک مہینہ کی مسافت کے برابر آگے آگے چلتا ہے اور اللہ نے مجھے یہ فضیلت بھی دی ہے کہ انبیائے کرام میں سے میں سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اور میری امت کے لیے غنیمت کو حلال ٹھہرا یا ہے اور ہم سے پہلے لوگوں پر جو سخت احکامات نازل ہوئے تھے ان میں سے بہت سے ہمارے لیے حلال کر دئیے اور ہم پر کوئی مشقت یا تنگی مقرر نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12506

۔ (۱۲۵۰۶)۔ عَنْ أَنَسٍ، أَوْ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِی أَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی أَرْبَعَ مِائَۃِ أَلْفٍ۔)) فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: زِدْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَہٰکَذَا۔)) وَجَمَعَ کَفَّہُ قَالَ: زِدْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((وَہٰکَذَا)) فَقَالَ عُمَرُ: حَسْبُکَ یَا أَبَا بَکْرٍ!، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: دَعْنِییَا عُمَرُ! مَا عَلَیْکَ أَنْ یُدْخِلَنَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّۃَ کُلَّنَا، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَائَ أَدْخَلَ خَلْقَہُ الْجَنَّۃَ بِکَفٍّ وَاحِدٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((صَدَقَ عُمَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۲۵)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہاـ: اے اللہ کے رسول! اس تعداد میں ہمارے لیے اضافہ کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ہتھیلی کو جمع کر کے فرمایا: اور اس طرح۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس تعداد میں ہمارے لیے اضافہ کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اس طرح۔ اتنے میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابو بکر! تمہیں یہ کافی ہے، اب بس کرو، لیکن سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: عمر! تم مجھے چھوڑو، اور درخواست کر لینے دو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت میںداخل کرے تو آپ کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک ہی ہتھیلی سے اپنی ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سچ کہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12507

۔ (۱۲۵۰۷)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَکْثَرْنَا الْحَدِیثَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَیْہِ، فَقَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَیَّ الْأَنْبِیَائُ اللَّیْلَۃَ بِأُمَمِہَا، فَجَعَلَ النَّبِیُّیَمُرُّ وَمَعَہُ الثَّلَاثَۃُ، وَالنَّبِیُّ وَمَعَہُ الْعِصَابَۃُ، وَالنَّبِیُّ وَمَعَہُ النَّفَرُ، وَالنَّبِیُّ لَیْسَ مَعَہُ أَحَدٌ، حَتّٰی مَرَّ عَلَیَّ مُوسٰی مَعَہُ کَبْکَبَۃٌ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ، فَأَعْجَبُونِی فَقُلْتُ: مَنْ ہٰؤُلَائِ؟ فَقِیلَ لِی: ہٰذَا أَخُوکَ مُوسٰی مَعَہُ بَنُو إِسْرَائِیلَ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَیْنَ أُمَّتِی؟ فَقِیلَ لِیَ: انْظُرْ عَنْ یَمِینِکَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوہِ الرِّجَالِ، ثُمَّ قِیلَ لِیَ: انْظُرْ عَنْ یَسَارِکَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوہِ الرِّجَالِ، فَقِیلَ لِی: أَرَضِیتَ؟ فَقُلْتُ: رَضِیتُیَا رَبِّ، رَضِیتُیَا رَبِّ، قَالَ: فَقِیلَ لِی: إِنَّ مَعَ ہَؤُلَائِ سَبْعِینَ أَلْفًا یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فِدًا لَکُمْ اَبِیْ وَاُمِّیْ ٔوَأُمِّی إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَکُونُوا مِنَ السَّبْعِینَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَکُونُوْا مِنْ أَہْلِ الظِّرَابِ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَکُونُوا مِنْ أَہْلِ الْأُفُقِ، فَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ ثَمَّ نَاسًا یَتَہَاوَشُونَ۔)) فَقَامَ عُکَاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَ لِییَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنَ السَّبْعِینَ، فَدَعَا لَہُ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((قَدْ سَبَقَکَ بِہَا عُکَاشَۃُ۔)) قَالَ: ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا: مَنْ تَرَوْنَ ہٰؤُلَائِ السَّبْعُونَ الْأَلْفُ، قَوْمٌ وُلِدُوا فِی الْإِسْلَامِ لَمْ یُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا حَتّٰی مَاتُوا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((ہُمْ الَّذِینَ لَا یَکْتَوُونَ، وَلَا یَسْتَرْقُونَ، وَلَا یَتَطَیَّرُونَ، وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۰۶)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک رات ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کا فی دیر تک باتیں کیں، پھر جب صبح کو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج رات تمام انبیاء اور ان کی امتیں میرے سامنے پیش کیے گئے، کسی نبی کے ساتھ تین آدمی تھے، کسی کے ساتھ چھوٹی سی جماعت، کسی کے ساتھ جھوٹا سا گروہ تھا اور کچھ نبی ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ میرے سامنے سے موسیٰ علیہ السلام گزرے اور ان کے ساتھ بنو اسرائیل کی ایک بڑی جماعت تھی، وہ لوگ مجھے بڑے اچھے لگے،میں نے پوچھا:یہ کون لو گ ہیں؟ مجھے بتلایا گیا کہ یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی قوم بنو اسرائیل ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے پوچھا کہ میری امت کہاںہے؟ مجھ سے کہا گیا کہ آپ اپنی دائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھاتو وہاں ایک بہت بڑا ہجوم ساتھا، جو لوگوں کے چہروں سے بھر ا ہوا تھا، پھر مجھے کہا گیا: اپنی بائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھا تو اس طرف والا افق لوگوں سے بھرا ہوا تھا، پھر مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اب راضی ہیں؟ میں نے کہا: جی میں راضی ہوں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اے میرے ربّ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان امتیوں کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہیں، جو حساب کے بغیر جنت میںجائیں گے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ماں باپ تم لوگوں پر فدا ہوں، اگر ہوسکے تو تم ان ستر ہزار میں سے بننے کی کوشش کرو اور اگر اس قدرمحنت نہ ہو سکے تو کم از کم اس ہجوم والوںمیں سے ہی بننے کی کوشش کرو اور اگر اتنا بھی نہ ہوسکے تو افق والوں میں سے بننے کی کوشش کرو، میں نے وہاں کچھ لوگوں کو دھکم پیل کرتے بھی دیکھا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان ستر ہزار والوں میں سے مجھے بھی بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی، اتنے میں ان کے بعد ایک اور آدمی کھڑ اہوا اور اس نے بھی یہی درخواست کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تم سے سبقت لے گیا۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر ہم باتوں میں مصروف ہوگئے اور ہم نے کہا کہ اس بارے میں کیا خیال ہے کہ یہ ستر ہزار آدمی کون ہوسکتے ہیں، کیا یہ وہ لوگ ہیںجو اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر مرتے دم تک شرک کے قریب نہیں گئے؟ جب یہ باتیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ زخموں کو داغتے ہیں،نہ دم جھاڑ کرتے ہیں اور نہ بد فالی یا بد شگونی لیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر مکمل توکل کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12508

۔ (۱۲۵۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِیِّ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ أُمَّتِی مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ تَعْرِفُہُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فِی کَثْرَۃِ الْخَلَائِقِ؟ قَالَ: ((أَرَأَیْتَ لَوْ دَخَلْتَ صَبْرَۃً فِیہَا خَیْلٌ دُہْمٌ بُہْمٌ، وَفِیہَا فَرَسٌ أَغَرُّ مُحَجَّلٌ، أَمَا کُنْتَ تَعْرِفُہُ مِنْہَا؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((فَإِنَّ أُمَّتِییَوْمَئِذٍ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ، مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوئِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۴۵)
سیدناعبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز میں اپنی امت کے ہر فرد کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام f نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس قدر لوگوں میں سے آپ اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچان لیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا خیال ہے، اگر تم کسی اصطبل میں جاؤ، وہاں خالص سیاہ فام گھوڑے ہوں اور ان میں ایک ایسا گھوڑا ہو، جس کی پیشانی اور چاروں پاؤں سفید ہوں، تو کیا تم اسے جلدی سے پہچان نہ لوگے؟ صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میری امت کے افراد کی پیشانی سجدہ کی وجہ سے اور ہاتھ پاؤں وضو کی وجہ سے چمکتے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12509

۔ (۱۲۵۰۹)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ أُمَّتِی أَحَدٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَنْ رَأَیْتَ وَمَنْ لَمْ تَرَ؟ قَالَ: ((مَنْ رَأَیْتُ وَمَنْ لَمْ أَرَ غُرًّا مُحَجَّلِینَ مِنْ أَثَرِ الطُّہُورِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۱۲)
سیدناابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اپنی امت کے ہر فرد کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام نے کہاـ: اے اللہ کے رسول! خواہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کودیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، ہر ایک کو پہچان لیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے کسی کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12510

۔ (۱۲۵۱۰)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا أَوَّلُ مَنْ یُؤْذَنُ لَہُ بِالسُّجُودِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ یُؤْذَنُ لَہُ أَنْ یَرْفَعَ رَأْسَہُ، فَأَنْظُرَ إِلٰی بَیْنِیَدَیَّ، فَأَعْرِفَ أُمَّتِی مِنْ بَیْنِ الْأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِی مِثْلُ ذٰلِکَ، وَعَنْ یَمِینِی مِثْلُ ذٰلِکَ، وَعَنْ شِمَالِی مِثْلُ ذٰلِکَ۔)) فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَکَ مِنْ بَیْنِ الْأُمَمِ فِیمَا بَیْنَ نُوحٍ إِلٰی أُمَّتِکَ؟ قَالَ: ((ہُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوئِ، لَیْسَ أَحَدٌ کَذَلِکَ غَیْرُہُمْ، وَأَعْرِفُہُمْ أَنَّہُمْ یُؤْتَوْنَ کُتُبَہُمْ بِأَیْمَانِہِمْ، وَأَعْرِفُہُمْ یَسْعَی بَیْنَ أَیْدِیہِمْ ذُرِّیَّتُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۸۰)
سیدناابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے ہی سب سے پہلے سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو ساری امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا، میرے پیچھے میری دائیں اور میری بائیں جانب، ہرطرف لوگ ہی لوگ ہوں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نوح علیہ السلام سے اپنی امت تک کی امتوں کے افراد میں سے اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وضو کی برکت سے ان کے وضو کے اعضا ء روشن ہوں گے، اس امت کے علاوہ کسی دوسری کا کوئی آدمی اس علامت کا حامل نہ ہوگا اور میری امت کے لوگوں کو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھوںمیں دئیے جائیں گے اور میںانہیں اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ ان کی اولاد ان کے سامنے دوڑ رہی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12511

۔ (۱۲۵۱۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرٍ، أَنَّہُ سَمِعَ مِنْ أَبِی ذَرٍّ، وَأَبِی الدَّرْدَائِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنِّی لَأَعْرِفُ أُمَّتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ بَیْنِ الْأُمَمِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَکَ؟ قَالَ: ((أَعْرِفُہُمْ یُؤْتَوْنَ کُتُبَہُمْ بِأَیْمَانِہِمْ، وَأَعْرِفُہُمْ بِسِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ، وَأَعْرِفُہُمْ بِنُورِہِمْ یَسْعٰی بَیْنَ أَیْدِیہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۸۳)
سیدنا ابو ذر اور سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں ساری امتوں میں سے اپنی امت کے لوگوں کو پہچان لوں گا۔ صحابہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںانہیںپہچان لوں گا، انہیں ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھوںمیں ملیں گے اور سجدوں کی وجہ سے ان کے چہروں پر علامت ہو گی، میں اس علامت کی وجہ سے بھی انہیں پہچان لوں گا اور ان کے آگے آگے روشنی دوڑ رہی ہوگی،اس سے بھی میں انہیں پہچان لوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12512

۔ (۱۲۵۱۲)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی مَرَرْنَا عَلٰی مَسْجِدِ بَنِی مُعَاوِیَۃَ، فَدَخَلَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، وَنَاجٰی رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ طَوِیلًا، قَالَ: ((سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا، سَأَلْتُہُ أَنْ لَا یُہْلِکَ أُمَّتِی بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یُہْلِکَ أُمَّتِی بِالسَّنَۃِ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یَجْعَلَ بَأْسَہُمْ بَیْنَہُمْفَمَنَعَنِیہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۶)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے، ہمارا مسجد بنی معاویہ کے پاس سے گزر ہوا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کے اندر تشریف لے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی، ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کافی دیر تک اللہ سے مناجات کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں، میں نے ایک دعا یہ کی کہ اللہ میری امت کو غرق کے ذریعے ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ وہ میری امت کو قحط کے ذریعے ہلاک نہ کرے،اللہ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی، میں نے تیسری دعا یہ کی کہ ان کا آپس میں اختلاف نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیںکی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12513

۔ (۱۲۵۱۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ صَلّٰی سُبْحَۃَ الضُّحٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنِّی صَلَّیْتُ صَلَاۃَ رَغْبَۃٍ وَرَہْبَۃٍ، سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِی اثْنَتَیْنِ، وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُہُ أَنْ لَا یَبْتَلِیَ أُمَّتِی بِالسِّنِینَ، وَلَا یُظْہِرَ عَلَیْہِمْ عَدُوَّہُمْ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَأَبٰی عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۷)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سفر میں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی، نماز سے فراغت کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج میں نے انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نما ز پڑھی ہے، میںنے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں،اس نے میری دو دعاؤں کو قبول اورایک کو قبول نہیں کیا، میں نے دعا کی کہ وہ میری امت کو قحط میں مبتلا نہ کرے،اس نے اسے قبول کر لیا، پھر میں نے دعا کی کہ ان کا دشمن ان پر غالب نہ آئے، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے دعا کی کہ ان کے آپس میں اختلافات نہ ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12514

۔ (۱۲۵۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِیہِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ مَوْلٰی بَنِی زُہْرَۃَ، وَکَانَ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّہُ قَالَ: رَاقَبْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی لَیْلَۃٍ، صَلَّاہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلَّہَا حَتّٰی کَانَ مَعَ الْفَجْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِہِ، جَائَ ہُ خَبَّابٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، لَقَدْ صَلَّیْتَ اللَّیْلَۃَ صَلَاۃً مَا رَأَیْتُکَ صَلَّیْتَ نَحْوَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجَلْ إِنَّہَا صَلَاۃُ رَغَبٍ وَرَہَبٍ، سَأَلْتُ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ثَلَاثَ خِصَالٍ، فَأَعْطَانِی اثْنَتَیْنِ، وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ لَا یُہْلِکَنَا بِمَا أَہْلَکَ بِہِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا ٔیُظْہِرَ عَلَیْنَا عَدُوًّا غَیْرَنَا فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ لَا یَلْبِسَنَا شِیَعًا فَمَنَعَنِیہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۶۷)
سیدنا خباب بن ارت سے روایت ہے، یہ صحابی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں نے ساری رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نگاہ رکھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساری رات نماز پڑھنے میں گزاردی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فجر کا وقت سلام پھیرا، تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آج رات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسی نماز پڑھی ہے کہ میں نے قبل ازیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں یہ انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈروالی نماز تھی،میں نے اپنے رب تعالیٰ سے تین دعائیں کیں تو اس نے دو کو قبول اور ایک کو رد کردیا، میں نے اپنے رب تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ہمیں ان عذابوں کے ساتھ ہلاک نہ کرے جن کے ساتھ اس نے گزشتہ قوموں کو ہلاک کیا تھا، تو اس نے یہ دعا قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعا کی کہ وہ ہمارے دشمنوں کو ہم پر غالب نہ کرے، اس نے میری یہ دعا بھی قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعاکی کہ وہ ہمارے درمیان آپس میں اختلافات نہ ڈالے، تو اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12515

۔ (۱۲۵۱۵)۔ عَنْ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعًا فَأَعْطَانِی ثَلَاثًا وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا یَجْمَعَ أُمَّتِی عَلٰی ضَلَالَۃٍ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا یُہْلِکَہُمْ بِالسِّنِینَ کَمَا أَہْلَکَ الْأُمَمَ قَبْلَہُمْ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَہُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِیہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۶۶)
صحابی ٔ رسول سیدنا ابو بصرہ غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے چار دعائیں کی ہیں، اس نے تین کو قبول کر لیا اور ایک کو قبول نہ کیا، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ میری امت کو گمراہی پراکٹھا نہ کرے، اس نے میری یہ دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ اس نے جس طرح گزشتہ اقوام کو قحط کے ذریعے ہلاک کیا تھا، میری امت کو اس طرح ہلاک نہ کرے، اس نے اسے بھی قبول کر لیا اور میں نے یہ دعا بھی کی کہ وہ میری امت کو آپس کے اختلافات میں نہ ڈالے، لیکن اس نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12516

۔ (۱۲۵۱۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِی فَارْفُقْ بِہِ، وَمَنْ شَقَّ عَلَیْہِمْ فَشُقَّ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۴۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو آدمی میری امت سے نرمی کا برتاؤ کرے تو بھی اس پرنرمی فرما اور جو آدمی ان سے سختی کرے اس پر تو بھی سختی فرما۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12517

۔ (۱۲۵۱۷)۔ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ قَیْسٍ أَخِی أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ فَنَائَ أُمَّتِی فِی سَبِیلِکَ بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۳)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بھائی سیدنا ابوبردہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو میری امت کی موت اس طرح بنا دیا کہ وہ تیرے راستے میں نیزے کے ذریعے موت پائیں یا طاعون کے ذریعے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12518

۔ (۱۲۵۱۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ السَّرِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِی ابْنٌ لِکِنَانَۃَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَبَاہُ الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ حَدَّثَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ لِأُمَّتِہِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ فَأَکْثَرَ الدُّعَائَ، فَأَجَابَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْ قَدْ فَعَلْتُ وَغَفَرْتُ لِأُمَّتِکَ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا، فَقَالَ: یَا رَبِّ! إِنَّکَ قَادِرٌ أَنْ تَغْفِرَ لِلظَّالِمِ، وَتُثِیبَ الْمَظْلُومَ خَیْرًا مِنْ مَظْلَمَتِہِ، فَلَمْ یَکُنْ فِی تِلْکَ الْعَشِیَّۃِ إِلَّا ذَا، فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ دَعَا غَدَاۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ فَعَادَ یَدْعُو لِأُمَّتِہِ، فَلَمْ یَلْبَثِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَبَسَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِہِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، ضَحِکْتَ فِی سَاعَۃٍ لَمْ تَکُنْ تَضْحَکُ فِیہَا، فَمَا أَضْحَکَکَ أَضْحَکَ اللّٰہُ سِنَّکَ؟ قَالَ: ((تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللّٰہِ إِبْلِیسَ حِینَ عَلِمَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اسْتَجَابَ لِی فِی أُمَّتِی وَغَفَرَ لِلظَّالِمِ، أَہْوٰییَدْعُو بِالثُّبُورِ وَالْوَیْلِ، وَیَحْثُو التُّرَابَ عَلٰی رَأْسِہِ، فَتَبَسَّمْتُ مِمَّا یَصْنَعُ جَزَعُہُ))۔ (مسند احمد: ۱۶۳۰۸)
سیدنا عباس بن مرداس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کے حق میں مغفرت و رحمت کی بہت سی دعائیں کیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے آپ کی یہ دعائیں قبول کر لیں ہیں اور میں نے آپ کی امت کی مغفرت کر دی ہے، البتہ لوگوں میں سے کوئی کسی پر ظلم کرے تو یہ جرم معاف نہ ہوگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے رب! تو اس بات پر قادر ہے کہ ظالم کو معاف کر دے اور مظلوم کو اس کے ظلم کے بقدر بدلہ اپنی طرف سے عطا فرما دے۔ اس رات صرف اتنی با ت ہوئی،دوسرا دن ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ کو صبح کو دوبارہ امت کے حق میں دعائیں کیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اچانک مسکرانے لگ گئے، کسی صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے ایک ایسے وقت میں تبسم فرمایا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت تبسم نہیں فرمایا کرتے تھے، اللہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مسکراتا رکھے، اس مسکراہٹ کی وجہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کے دشمن ابلیس کی حالت دیکھ کر مسکرایا ہوں، جب اسے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے امت کے حق میں میری دعا قبول کر لی ہے اور ظالم کو بھی بخشنے کا وعدہ کیا ہے تو وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اپنی ہلاکت و تباہی کی باتیں کرنے لگا اور اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا، تو میں اس کی پریشانی اور گھبراہٹ دیکھ کر مسکرا دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12519

۔ (۱۲۵۱۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بُعِثْتُ مِنْ خَیْرِ قُرُونِ بَنِی آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّی بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِی کُنْتُ فِیہِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۸۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں زمانہ بہ زمانہ بنی آدم کے بہترین زمانہ میں مبعوث ہوا ہوں، تاآنکہ میں اس دور میں آیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12520

۔ (۱۲۵۲۰)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ: صَلَّیْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتّٰی نُصَلِّیَ مَعَہُ الْعِشَائَ، قَالَ: فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَیْنَا، فَقَالَ: ((مَا زِلْتُمْ ہَاہُنَا۔)) قُلْنَا: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قُلْنَا: نُصَلِّی مَعَکَ الْعِشَائَ، قَالَ: ((ٔأَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ۔)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ قَالَ: وَکَانَ کَثِیرًا مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: ((النُّجُومُ أَمَنَۃٌ لِلسَّمَائِ فَإِذَا ذَہَبَتِ النُّجُومُ أَتَی السَّمَائَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَۃٌ لِأَصْحَابِی، فَإِذَا ذَہَبْتُ أَتٰی أَصْحَابِی مَا یُوعَدُونَ وَأَصْحَابِی أَمَنَۃٌ لِأُمَّتِی، فَإِذَا ذَہَبَتْ أَصْحَابِی أَتٰی اُمَّتِیْ مَا یُوْعَدُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۵)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ادا کی، اس کے بعد ہم نے سوچا کہ ہم انتظار کر لیں اور عشاء کی نماز بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ادا کر لیں، سو ہم نے انتظار کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عشاء کے وقت تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم مغرب سے اب تک یہیں ٹھہرے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! جی ہاں، ہم نے سوچا تھا کہ عشاء کی نماز بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ادا کرلیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اکثر و بیشتر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تار ے آسمان کے محافظ ہیں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو اللہ نے آسمان کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا ہوگا اور میں اپنے صحابہ کا محافظ ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ حالات پیش آ جائیں گے، جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے محافظ ہیں،جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ شدید حالات درپیش ہوں گے، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12521

۔ (۱۲۵۲۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قِیلَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((أَنَا وَمَنْ مَعِی۔)) قَالَ: فَقِیلَ لَہُ: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((الَّذِی عَلَی الْأَثَرِ۔)) قِیلَ لَہُ: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: فَرَفَضَہُمْ۔ (مسند احمد: ۷۹۴۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگوںمیں سب سے افضل کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اور میرے ساتھ والے۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کون لوگ افضل ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان سے بعد والے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ ان کے بعد کون ہیں؟ تو آپ نے انس کو چھوڑ دیا (یعنی خاموش رہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12522

۔ (۱۲۵۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیقٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((خَیْرُکُمْ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: لَا أَدْرِی ذَکَرَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ((ثُمَّ خَلَفَ مِنْ بَعْدِہِمْ قَوْمٌ یُحِبُّونَ السَّمَانَۃَ،یَشْہَدُونَ وَلَا یُسْتَشْہَدُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۱۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، پھراس کے بعد والا۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نہیںجانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو بار اس چیز کا ذکر کیا یا تین بار، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور بغیر گواہی طلب کیے وہ گواہیاں دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12523

۔ (۱۲۵۲۳)۔ (وَعَنْہَااَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ أُمَّتِی الْقَرْنُ الَّذِی بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) وَاللّٰہُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَۃَ أَمْ لَا، ((ثُمَّ یَجِیئُ قَوْمٌ یُحِبُّونَ السَّمَانَۃَیَشْہَدُونَ قَبْلَ أَنْ یُسْتَشْہَدُوْا))۔ (مسند احمد: ۷۱۲۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا سب سے بہترین زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے،پھر اس کے بعدوالا زمانہ افضل ہو گا، پھر اس کے بعد والا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بعد تیسرے زمانے کا ذکر کیا یا نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی دیں گے، جب کہ ان سے گواہی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12524

۔ (۱۲۵۲۴)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَوَلَۃَ قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أَسِیرُ بِالْأَہْوَازِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ یَسِیرُ بَیْنَیَدَیَّ عَلٰی بَغْلٍ أَوْ بَغْلَۃٍ، فَإِذَا ہُوَ یَقُولُ: اللَّہُمَّ ذَہَبَ قَرْنِی مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ فَأَلْحِقْنِی بِہِمْ، فَقُلْتُ: وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِی دَعْوَتِکَ، قَالَ: وَصَاحِبِی ہٰذَا إِنْ أَرَادَ ذٰلِکَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ أُمَّتِی قَرْنِی مِنْہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) قَالَ: وَلَا أَدْرِی أَذَکَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ یَظْہَرُ فِیہِمُ السِّمَنُ، یُہْرِیقُونَ الشَّہَادَۃَ وَلَا یَسْأَلُونَہَا۔)) قَالَ: وَإِذَا ہُوَ بُرَیْدَۃُ الْأَسْلَمِیُّ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۴۸)
عبد اللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اہوا ز میں چلا جارہا تھااور میرے آگے آگے ایک آدمی خچر پر سوار یوں کہتا جارہا تھا: یا اللہ اس امت میں میرا زمانہ پورا ہوگیا ہے، اب تو مجھے میرے ساتھیوں کے ساتھ ملا دے، میں نے ان کی بات سن کر کہا: اور میں بھی، مجھے بھی اپنی دعامیںشامل کرو، اس نے کہا: اے اللہ! میرا یہ ساتھی بھی میرے ساتھ ہو،اگر یہ بھی اس بات کا متمنی ہے تو، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد ہے: میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والوںکا۔ اب میں نہیں جانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا تھا یا نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعدایسے لوگ آجائیں گے، جن میں موٹاپا عام ہوگا، ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی، مگر وہ گواہی دیں گے۔ یہ آدمی سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12525

۔ (۱۲۵۲۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَأْتِی بَعْدَ ذٰلِکَ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَاتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ، وَأَیْمَانُہُمْ شَہَادَاتِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۹۴)
سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوںکے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، پھر اس کے بعد والا زمانہ، پھر اس کے بعد والا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا زمانہ، بعد ازاں ایسے لوگ آجائیں گے، جن کی گواہیاں ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی گواہیوں پر سبقت لے جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12526

۔ (۱۲۵۲۶)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِی، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَجِیئُ قَوْمٌ یَتَسَمَّنُونَ،یُحِبُّونَ السِّمَنَ، یُعْطُونَ الشَّہَادَۃَ قَبْلَ أَنْ یُسْأَلُوہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۵۸)
سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کے لیے سب سے افضل میرا زمانہ ہے، اس کے بعد اس کے بعد والا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا دور، ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹے ہوں گے اور موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی طلب کیے جانے سے پہلے از خود گوائیاں دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12527

۔ (۱۲۵۲۷)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: سَاَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((اَلْقُرُوْنَ الَّذِیْ اَنَا فِیْہِ ثُمَّ الثَّانِیْ ثُمَّ الثَّالِثُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۴۷)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: لوگوں کے لیے کونسا زمانہ سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس میں میں ہوں پھر اس کے بعد والا دوسرا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا تیسرا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12528

۔ (۱۲۵۲۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَیُقَالُ: ہَلْ فِیکُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ، فَیُفْتَحُ لَہُمْ ثُمَّ یَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَیُقَالُ: ہَلْ فِیکُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ، فَیُفْتَحُ لَہُمْ، ثُمَّ یَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَیَقُولُونَ: ہَلْ فِیکُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ فَیُفْتَحُ لَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۵۶)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ جنگ میں شامل ہوں گے، اسی دوران پوچھا جائے گا کیا تمہارے اندر کوئی صحابی ہے؟ جواباً کہا جائے گا جی ہاں! سو وہ فتح یاب ہو جائیں گے، اس کے بعد پھر جنگ ہو گی، اسی دوران پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے اندر کوئی تابعی ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! چنانچہ وہ بھی فتح یاب ہو جائیں گے، اس کے بعد پھر لوگوں میں جنگ ہو گی، اسی دوران پوچھا جائے گا: کیا تمہارے اندر کوئی تبع تابعی ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! تو وہ بھی فتح یاب ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12529

۔ (۱۲۵۲۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، قَالَ حَسَنٌ: ثُمَّ یَنْشَأُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ أَیْمَانُہُمْ شَہَادَتَہُمْ وَشَہَادَتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۳۹)
سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کا بہترین زمانہ اور بہترین لوگ وہ ہیں، جن کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا، ان کے بعد وہ لوگ جو اِس زمانے کے بعد آئیں گے، ان کے بعد وہ لوگ جو اِن کے بعد آئیں گے، اِن کے بعد وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے، جن کی قسمیں ان کی گواہی پر اوران کی گواہی ان کی قسموں سے سبقت لے جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12530

۔ (۱۲۵۳۰)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَوَلَۃَ قَالَ: کُنْتُ أَسِیرُ مَعَ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((خَیْرُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ أَنَا فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَکُونُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ وَأَیْمَانُہُمْ شَہَادَتَہُمْ۔)) وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: ((الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۱۲)
عبداللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اس امت کا بہترین دور وہ ہے، جس کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا ہے، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین اور اسکے بعد تبع تابعین کادور ہے، ان کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے کہ جن کی گواہی ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ عفان نے ایک مرتبہ روایت کو یوں بیان کیا: سب سے بہتر زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین کا اس کے بعد تبع تابعین کا اور اس کے بعد بعدوالوں کا زمانہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12531

۔ (۱۲۵۳۱)۔ وَعَنْ زَہْدَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍیُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ خَیْرَکُمْ قَرْنِی، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، (قَالَ عِمْرَانُ: فَلَا أَدْرِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ قَرْنِہِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً؟) ثُمَّ یَکُونُ بَعْدَہُمْ قَوْمٌ یَشْہَدُونَ وَلَا یُسْتَشْہَدُونَ، وَیَخُونُونَ وَلَا یُؤْتَمَنُونَ، وَیَنْذُرُونَ وَلَا یُوفُونَ، وَیَظْہَرُ فِیہِمُ السِّمَنُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۴۸)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا زمانہ جو اس کے بعد آئیں گے، پھر ان کے بعد والے لوگوں کا اور پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ بہتر ہو گا، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جن سے گواہی طلب نہ کی جائے گی، مگر وہ پھر بھی گواہی دیں گے، وہ خیانتیں کریں گے، امانتوں کا پاس نہیں کریں گے، وہ نذر مانیں گے، مگر پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا عام ہوگا۔ سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12532

۔ (۱۲۵۳۲)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَا یَاْتِیْ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ اِلَّا ھُوَ شَرٌّ مِنَ الزَّمَانِ الَّذِیْ قَبْلَہٗ،سَمِعْنَاذٰلِکَمِنْنَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۸۶)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: تم پر جو بھی زمانہ آئے گا، وہ گزرے ہوئے زمانہ سے بدتر ہوگا، ہم نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دومرتبہ سنی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12533

۔ (۱۲۵۳۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَکْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: ((أَتْقَاہُمْ۔)) قَالُوْا: لَیْسَ عَنْ ہٰذَا نَسْأَلُکَ، قَالَ: ((فَیُوسُفُ نَبِیُّ اللّٰہِ ابْنُ نَبِیِّ اللّٰہِ ابْنِ نَبِیِّ اللّٰہِ ابْنِ خَلِیلِ اللّٰہِ۔)) قَالُوْا: لَیْسَ عَنْ ہٰذَا نَسْأَلُکَ، قَالَ: ((فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِّی، خِیَارُہُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُہُمْ فِی الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُہُوْا))۔ (مسند احمد: ۹۵۶۴)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیاگیاـ: لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ صحابہ نے کہا: ہم نے اس کے بارے میں تو سوال نہیں کیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والے اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام ہیں، جن کے باپ بھی نبی ہیں، دادا بھی نبی ہیں اور پڑدادا خلیل اللہ ہیں۔ صحابہ نے کہا: ہمارا سوال اس کے متعلق بھی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم عرب کی کانوں (یعنی مختلف لوگوں) کے متعلق سوال کررہے ہو؟ لوگ تو کانیں ہیں، ان میں سے زمانہ ٔ جاہلیت کے بہتر لوگ، اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ انھیں دین کی سمجھ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12534

۔ (۱۲۵۳۴)۔ وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ غَشَّ الْعَرْبَ لَمْ یَدْخُلْ فِیْ شَفَاعَتِیْ وَلَمْ تَنَلْہٗمَوَدَّتِیْ۔)) (مسند احمد: ۵۱۹)
سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عربوں سے دھوکہ کیا، وہ نہ میری شفاعت میں داخل ہو سکے گا اور نہ اسے میری محبت حاصل ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12535

۔ (۱۲۵۳۵)۔ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَا سَلْمَانُ لَا تُبْغِضْنِی فَتُفَارِقَ دِینَکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ أُبْغِضُکَ وَبِکَ ہَدَانَا اللَّہُ؟ قَالَ: ((تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۳۲)
سیدناسلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے سلمان! تم مجھ سے بغض نہ رکھنا، یہ بغض تمہیں دین سے دور کر دے گا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے ذریعہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیسے بغض رکھ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عربوں سے بغض رکھو توگویا یہ میرے ساتھ بغض رکھنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12536

۔ (۱۲۵۳۶)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُبْغِضُ الْعَرَبَ اِلَّا مُنَافِقٌ۔)) (مسند احمد: ۶۱۴)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی منافق ہی عربوں سے بغض رکھے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12537

۔ (۱۲۵۳۷)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: سَعِمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ یُرِدْ ھَوْنَ قُرَیْشٍ اَھَانَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۳)
سیدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی قریش کی اہانت کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ذلیل و رسوا کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12538

۔ (۱۲۵۳۸)۔ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ لِیْ اَبِیْ: یَا بُنَیَّ اِنْ وَلِیْتَ مِنْ اَمْرِ النَّاسِ شَیْئًا فَاَکْرِمْ قُرَیْشًا، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ اَھَانَ قُرَیْشًا اَھَانَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۴۶۰)
عمرو بن عثمان بن عفان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد نے مجھ سے کہا: پیارے بیٹے! اگر تمہیںلوگوں پر حکم رانی کا موقع ملے تو قریش کا اکرام کرنا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے قریش کی توہین کی، اللہ اسے ذلیل و رسواکرے گا۔ فوائد:… دورِ جاہلیت میں قریش کو جو شرف حاصل رہا، ان کے مسلمان ہونے کے بعد اسلام نے اس کو برقرار رکھا اور اسے عربوں کے بقیہ قبائل پر امامت و امارت میں مقدم قرار دیا۔ عامر بن شہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ((اُنْظُرُوْا قُرَیْشًا،فَخُذُوْا مِنْ (وَفِيْ رِوَایَۃٍ: فَاسْمَعُوْا) قَوْلَھُمْ،وَذَرُوْا فِعْلَھُمْ۔)) … قریش کو سامنے رکھو، ان کے اقوال سنو، (اور پیروی کرو) اور ان کے افعال کو نظر انداز کر دو۔ (احمد:۴/۲۶۰، صحیحہ: ۱۵۷۷) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عام صحابہ کے بارے میں بھی یہی قانون پیش کیا ہے کہ ان کی حسنات و خیرات کو مدنظر رکھا جائے، ان کے بشری تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔ جو صحابہ کرام کے بارے میں اپنا قبلہ درست رکھنا چاہتا ہے، اس کے لیے اسی کلیہ میں عافیت ہے کہ وہ صحابہ کرام کے معائب و نقائص کے سلسلے کو ہی بند کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12539

۔ (۱۲۵۳۹)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ، أَنَّ قَتَادَۃَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِیَّ وَقَعَ بِقُرَیْشٍ، فَکَأَنَّہُ نَالَ مِنْہُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا قَتَادَۃُ! لَا تَسُبَّنَّ قُرَیْشًا، فَلَعَلَّکَ أَنْ تَرٰی مِنْہُمْ رِجَالًا تَزْدَرِی عَمَلَکَ مَعَ أَعْمَالِہِمْ، وَفِعْلَکَ مَعَ أَفْعَالِہِمْ، وَتَغْبِطُہُمْ إِذَا رَأَیْتَہُمْ لَوْلَا أَنْ تَطْغٰی قُرَیْشٌ، لَأَخْبَرْتُہُمْ بِالَّذِی لَہُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) قَالَ یَزِیدُ: سَمِعَنِی جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَسْلَمَ وَأَنَا أُحَدِّثُ ہٰذَا الْحَدِیثَ، فَقَالَ: ہٰکَذَا حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۹۹)
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ سیدنا قتادہ بن نعمان ظفری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قریش کے بارے میں ناقدانہ باتیں کیں اور ان کو برا بھلا بھی کہا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتادہ! قریش کو برا بھلا مت کہو، ہوسکتا ہے تم ان میں ایسے افرادبھی دیکھوکہ ان کے اعمال کے بالمقابل تمہیں اپنے اعمال معمولی نظر آئیں اور تم اپنے افعال کو ان کے افعال کے بالمقابل کم تر خیال کرو اور تم انہیں دیکھو تو تم ان پر رشک کرو، اگر قریش کے اترانے اور مغرور ہوجانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں بتلا دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کاکیا مرتبہ ہے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12540

۔ (۱۲۵۴۰)۔ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ، عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُرَیْشًا فَقَالَ: ((ہَلْ فِیکُمْ مِنْ غَیْرِکُمْ؟)) قَالُوْا: لَا، إِلَّا ابْنَ أُخْتِنَا وَحَلِیفَنَا وَمَوْلَانَا، فَقَالَ: ((ابْنُ أُخْتِکُمْ مِنْکُمْ، وَحَلِیفُکُمْ مِنْکُمْ، وَمَوْلَاکُمْ مِنْکُمْ، إِنَّ قُرَیْشًا أَہْلُ صِدْقٍ وَأَمَانَۃٍ، فَمَنْ بَغٰی لَہَا الْعَوَائِرَ أَکَبَّہُ اللّٰہُ فِی النَّارِ لِوَجْہِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۰۲)
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش کو جمع کیا اور فرمایا: کیا تمہارے درمیان اس وقت کوئی غیر قریشی تو نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، البتہ ہمارا ایک بھانجا، ایک حلیف اور ایک غلام ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا بھانجا، تمہارا حلیف اور تمہارا غلام تم میں سے ہیں، بے شک قریش صدق و امانت کے حامل ہیں، جو آدمی ان کی کوتاہیاں اور لغزشیں تلاش کرے گا، اللہ اسے اس کے منہ کے بل جہنم میںـ ڈالے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12541

۔ (۱۲۵۴۱)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَہْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((خُذُوا بِقَوْلِ قُرَیْشٍ وَدَعُوا فِعْلَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۷۵)
سیدناعامر بن شہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے, رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم قریش کی بات کو سامنے رکھو اور ان کے اعمال کو نذر انداز کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12542

۔ (۱۲۵۴۲)۔ وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْتَقِیْمُوْا لِقُرَیْشٍ مَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۴۷)
مولائے رسول سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم قریش کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، جب تک وہ بھی تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12543

۔ (۱۲۵۴۳)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ، صَالِحُہُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِہِمْ، وَشِرَارُہُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰)
سیدنا علی بن طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے یاد کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ قریش کے پیرو کار ہیں، نیک لوگ قریش کے نیک لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور برے لوگ قریش کے برے لوگوں کے پیچھے چلتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12544

۔ (۱۲۵۴۴)۔ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: سَمِعْتُ أَبِی،یَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا یَزَالُ ہٰذَا الْأَمْرُ فِی قُرَیْشٍ، مَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ۔)) قَالَ: وَحَرَّکَ إِصْبَعَیْہِیَلْوِیہِمَا ہٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۴۸۳۲)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک دنیا میں دو آدمی باقی رہیں گے، یہ اقتدار ہمیشہ قریش میں رہے گا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو حرکت دے کر دو کا اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12545

۔ (۱۲۵۴۵)۔ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی الْہُذَیْلِ، قَالَ: کَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ یَتَخَوَّلُنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ قُرَیْشٌ لَیَضَعَنَّ اللّٰہُ ہٰذَا الْأَمْرَ فِی جُمْہُورٍ مِنْ جَمَاہِیرِ الْعَرَبِ سِوَاہُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: کَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((قُرَیْشٌ وُلَاۃُ النَّاسِ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۶۱)
عبداللہ بن ہذیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے، بکر بن وائل کے قبیلہ میں سے کسی نے کہا: اگر قریش اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو یہ اقتدار ان سے نکل کر عربوں کے دوسرے قبائل میں چلا جائے گا، یہ سن کر سیدنا عمر و بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم غلط کہتے ہو، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بھلائی کا کوئی کام ہو یا برائی کا، قیامت تک ہر کام میں قریش ہی لوگوں کے سربراہ رہیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12546

۔ (۱۲۵۴۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِی عَلٰی قُرَیْشٍ حَقًّا، وَإِنَّ لِقُرَیْشٍ عَلَیْکُمْ حَقًّا، مَا حَکَمُوا فَعَدَلُوا، وَأْتُمِنُوا فَأَدَّوْا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا۔)) (مسند احمد: ۷۶۴۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے کچھ حقوق قریش کے ذـمہ ہیں اور قریش کے لیے کچھ حقوق تمہارے ذمے ہیں، جب تک وہ عدل و انصاف سے فیصلے کرتے رہیں، جب ان کے پاس امانتیں رکھی جائیں تو وہ امانتیں ادا کرتے رہیں اور جب ان سے رحم کا مطالبہ کیا جائے تو وہ شفقت کرتے رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12547

۔ (۱۲۵۴۷)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِلْقُرَشِیِّ مِثْلَیْ قُوَّۃِ الرَّجُلِ مِنْ غَیْرِ قُرَیْشٍ۔)) فَقِیلَ لِلزُّہْرِیِّ: مَا عَنٰی بِذٰلِکَ؟ قَالَ: نُبْلَ الرَّأْیِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۶۳)
سیدناجبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک قریشی کو غیر قریشی سے دوگنا زیادہ قوت حاصل ہے۔ زہری سے پوچھا گیا: اس حدیث سے مراد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اصابت رائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12548

۔ (۱۲۵۴۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَائً قُرَیْشٌ، وَیُوشِکُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَۃُ بِالنَّعْلِ، فَتَقُولَ: إِنَّ ہٰذَا نَعْلُ قُرَشِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۸۴۱۸)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عرب کے قبائل میں سب سے جلدی ہلاک ہونے والا قبیلہ قریش کاہے، قریب ہے کہ ایک عورت ایک جوتے کے پاس سے گزرے اور کہے: یہ کسی قریشی آدمی کا جوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12549

۔ (۱۲۵۴۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَا عَائِشَۃُ! إِنَّ أَوَّلَ مَنْ یَہْلِکُ مِنْ النَّاسِ قَوْمُکِ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَائَکَ أَبَنِی تَیْمٍ؟ قَالَ: ((لَا، وَلٰکِنْ ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ قُرَیْشٍ، تَسْتَحْلِیہِمُ الْمَنَایَا وَتَنَفَّسُ عَنْہُمْ أَوَّلَ النَّاسِ ہَلَاکًا۔)) قُلْتُ: فَمَا بَقَائُ النَّاسِ بَعْدَہُمْ؟ قَالَ: ((ہُمْ صُلْبُ النَّاسِ فَإِذَا ہَلَکُوا ہَلَکَ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۶۱)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ!لوگوں میں سے پہلے جو لوگ فنا ہوں گے، وہ تیری قوم کے لوگ ہوں گے۔ سیدہ نے کہا: میں نے کہا: اللہ مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر فدا کرے، کیا اس سے بنو تیم مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، میری مراد یہ قریش ہیں، موتیں ان کو میٹھا سمجھیں گی اور ان کو برگشتہ کریں گی اور یہ سب سے پہلے تباہ ہوں گے۔ میں نے کہا: ان کے بعد باقی رہنے والے کیسے ہوں گے؟ فرمایا: وہ مضبوط لوگ ہوںگے، جب یہ ہلاک ہوجائیں گے توباقی لوگ بھی ہلاک ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12550

۔ (۱۲۵۵۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطِیعٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُیَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: ((لَا یُقْتَلُ قُرَشِیٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْیَوْمِ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ) وَلَمْیُدْرِکْ الْإِسْلَامُ أَحَدًا مِنْ عُصَاۃِ قُرَیْشٍ غَیْرَ مُطِیعٍ، وَکَانَ اسْمُہُ عَاصِی فَسَمَّاہُ مُطِیعًایَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۲۲)
سیدنامطیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر قتل نہیںکیا جائے گا۔ قریش کے عُصَاۃ یعنی عاص نامی افراد میں سے اس مطیع کے سوا کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا اور اس صحابی کانام بھی عاصی تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12551

۔ (۱۲۵۵۱)۔ عَنْ طَارِقٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ إِنَّکَ أَذَقْتَ أَوَائِلَ قُرَیْشٍ نَکَالًا، فَأَذِقْ آخِرَہُمْ نَوَالًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ تو نے قریش کے پہلے لوگوں کو عذاب دئیے، پس اب تو قریش کے بعد والے لوگوںکو نعمتوں سے نواز۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12552

۔ (۱۲۵۵۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ ہَانِیئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ، نِسَائُ قُرَیْشٍ أَحْنَاہُ عَلَی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ، وَأَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیرًا، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ إِلَّا قَوْلَہُ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بَعِیرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہوچکی ہوں اور میری کفالت میں بچے بھی ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ کی سواری کرتی ہیں، وہ قریشی خواتین ہیں، یہ اولاد پر ان کے بچپنے میں ازحد مہربان اور خاوندوں کے اموال کی بہت زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدہ مریم بنت عمران نے اونٹ پر کبھی سواری نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12553

۔ (۱۲۵۵۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ ہَانِیئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ، نِسَائُ قُرَیْشٍ أَحْنَاہُ عَلَی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ، وَأَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیرًا، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ إِلَّا قَوْلَہُ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بَعِیرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی نیک خواتین ہیں، جو اپنی اولاد کے بچپنے میں اس کا بہت خیال رکھنے والی اور اپنے خاوندوں کے مال و منال کی حفاظت کرنے والی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12554

۔ (۱۲۵۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ مَادَّۃً وَإِنَّ مَوَادَّ قُرَیْشٍ مَوَالِیہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۰۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر قوم کے کچھ معاون ہوتے ہیں، قریش کے معاون ان کے حلیف (یا غلام) ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12555

۔ (۱۲۵۵۵)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) ((اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ مَادَّۃً وَاِنَّ مَادَّۃَ قُرَیْشٍ مَوَالِیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۵۴۸)
دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’ہر قوم کا ایک معاون ہوتا ہے، قریش کے معاون ان کے حلیف (یا غلام) ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12556

۔ (۱۲۵۵۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْرِضُیَوْمًا خَیْلًا وَعِنْدَہُ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِیُّ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَیْلِ مِنْکَ۔)) فَقَالَ عُیَیْنَۃُ: وَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْکَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((وَکَیْفَ ذَاکَ؟)) قَالَ: خَیْرُ الرِّجَالِ رِجَالٌ یَحْمِلُونَ سُیُوفَہُمْ عَلٰی عَوَاتِقِہِمْ، جَاعِلِینَ رِمَاحَہُمْ عَلٰی مَنَاسِجِ خُیُولِہِمْ، لَابِسُو الْبُرُودِ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((کَذَبْتَ، بَلْ خَیْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَہْلِ الْیَمَنِ، وَالْإِیمَانُیَمَانٍ إِلٰی لَخْمٍ وَجُذَامَ وَعَامِلَۃَ، وَمَأْکُولُ حِمْیَرَ خَیْرٌ مِنْ آکِلِہَا، وَحَضْرَمَوْتُ خَیْرٌ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ، وَقَبِیلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ قَبِیلَۃٍ وَقَبِیلَۃٌ شَرٌّ مِنْ قَبِیلَۃٍ، وَاللّٰہِ! مَا أُبَالِی أَنْ یَہْلِکَ الْحَارِثَانِ کِلَاہُمَا لَعَنَ اللّٰہُ الْمُلُوکَ الْأَرْبَعَۃَ جَمَدَائَ وَمِخْوَسَائَ وَمِشْرَخَائَ وَأَبْضَعَۃَ وَأُخْتَہُمْ الْعَمَرَّدَۃَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَمَرَنِی رَبِّی عَزَّوَجَلَّ أَنْ أَلْعَنَ قُرَیْشًا مَرَّتَیْنِ فَلَعَنْتُہُمْ، وَأَمَرَنِی أَنْ أُصَلِّیَ عَلَیْہِمْ فَصَلَّیْتُ عَلَیْہِمْ مَرَّتَیْنِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((عُصَیَّۃُ عَصَتِ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ غَیْرَ قَیْسٍ وَجَعْدَۃَ وَعُصَیَّۃَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَیْنَۃُ وَأَخْلَاطُہُمْ مِنْ جُہَیْنَۃَ خَیْرٌ مِنْ بَنِی أَسَدٍ وَتَمِیمٍ وَغَطَفَانَ وَہَوَازِنَ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((شَرُّ قَبِیلَتَیْنِ فِی الْعَرَبِ نَجْرَانُ وَبَنُو تَغْلِبَ، وَأَکْثَرُ الْقَبَائِلِ فِی الْجَنَّۃِ مَذْحِجٌ وَمَأْکُولٌ۔)) قَالَ: قَالَ أَبُو الْمُغِیرَۃِ: قَالَ صَفْوَانُ: حِمْیَرَ حِمْیَرَ خَیْرٌ مِنْ آکِلِہَا، قَالَ: مَنْ مَضَی خَیْرٌ مِمَّنْ بَقِیَ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۷۵)
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے، عیینہ بن حصن بن بدر فزاری بھی آپ کے پاس موجود تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عیینہ سے فرمایا: میں گھوڑوں کے بارے میں تم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ عیینہ نے کہا: اور میں لوگوں کے بارے میں آپ سے زیادہ بصیرت رکھتا ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: لوگوں میں سب سے اچھے اور افضل لوگ وہ ہیں، جو اپنی تلواریں اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کی گردنوں پر رکھتے ہوں اور نجد کی بنی ہوئی چادریں زیب تن کرتے ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے غلط کہا، صحیح یہ ہے کہ لوگو ں میں سب سے اچھے اہل یمن ہیں، قابل قدر ایمان یمنی یعنی اہل یمن کا ایمان ہے، آپ کا اشارہ لخـم، جذام اورعاملہ نامی قبائل کی طرف تھا اور قبیلہ حمیر کی ماکول نامی شاخ کے گزشتہ لوگ موجود لوگوں میں سے بہتر ہیں اور قبیلہ حضرموت، بنوحارث سے بہتر ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر یا ایک قبیلہ دوسرے سے بدترہو، اللہ کی قسم! مجھے اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کہ حارث کے دونوں قبیلے ہلاک ہوجائیں، اللہ تعالیٰ نے چار بادشاہوں جمدائ،1 منحوسائ، مشرفاء اور بضعہ پر اور ان سے ملتی جلتی عمر دۃ پر لعنت کرے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش پر دو مرتبہ لعنت کروں، پس میں نے ان پر لعنت کی اور ربّ تعالیٰ نے مجھے ان کے لیے دعائے رحمت کرنے کا حکم دیا تو میں نے ان کے حق میں دو مرتبہ رحمت کی دعا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے، البتہ ان میں سے قیس، جعدہ اور عصیہ2 کے قبائل معصیت سے محفوظ رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے دیگر قبائل اللہ تعالیٰ کے ہاں بنو اسد، تمیم، غطفان، ہوازن سے بہتر ہوں گے، عرب میں سے بنو نجران اور بنو تغلب کے قبیلے بد ترین ہیں اور جنت میں مذحج اور بنو ما کول کے افراد باقی قبائل کی نسبت زیادہ ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12557

۔ (۱۲۵۵۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْرِضُ خَیْلًا وَعِنْدَہُ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَیْفَۃَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِیُّ فَقَالَ لِعُیَیْنَۃَ: ((أَنَا أَبْصَرُ بِالْخَیْلِ مِنْکَ)) فَقَالَ عُیَیْنَۃُ: وَأَنَا أَبْصَرُ بِالرِّجَالِ مِنْکَ، قَالَ: ((فَکَیْفَ ذَاکَ؟)) قَالَ: خِیَارُ الرِّجَالِ الَّذِینَیَضَعُونَ أَسْیَافَہُمْ عَلٰی عَوَاتِقِہِمْ، وَیَعْرِضُونَ رِمَاحَہُمْ عَلٰی مَنَاسِجِ خُیُولِہِمْ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ، قَالَ: ((کَذَبْتَ خِیَارُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَہْلِ الْیَمَنِ، وَالْإِیمَانُیَمَانٍ وَأَنَا یَمَانٍ، وَأَکْثَرُ الْقَبَائِلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِی الْجَنَّۃِ مَذْحِجٌ، وحَضْرَمَوْتُ خَیْرٌ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ، وَمَا أُبَالِی أَنْ یَہْلِکَ الْحَیَّانِ کِلَاہُمَا فَلَا قِیلَ وَلَا مُلْکَ إِلَّا لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، لَعَنَ اللّٰہُ الْمُلُوکَ الْأَرْبَعَۃَ جَمَدَائَ وَمِشْرَخَائَ وَمِخْوَسَائَ وَأَبْضَعَۃَ وَأُخْتَہُمْ الْعَمَرَّدَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۷۹)
۔ (دوسری سند) سیدناعمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے اور عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بد رفزاری بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عیینہ سے فرمایا: میں گھوڑوں ے بارے میں تم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ آگے سے عیینہ نے کہا: اور میں لوگوں کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: بہترین لوگ وہ اہل نجد ہیں، جو اپنی تلواریں اپنے کاندھوں پر یعنی نسخوں میں الفاظ کے ضبط میں فرق ہے۔ جس کی تفصیل مسند احمد کے محقق نسخے میں دیکھی جاسکتی ہے۔ @ بعض نسخوں میں عصیۃ کی جگہ عصمۃ ہے جو سیاق کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہے۔ (عبداللہ رفیق) رکھتے ہیں اور اپنے نیزے گھوڑوں کی گردنوں پر رکھتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: تم نے غلط کہا، بہترین لوگ یمن کے ہیں اور بہترین ایما ن بھی اہل یمن کا ایمان ہے، میں بھی اصلاً یمنی ہی ہوں اور قیامت والے دن جنت میں تمام قبائل کی نسبت بنو مذ حج کے افراد زیادہ ہوں گے اور قبیلہ حضر موت، قبیلہ بنو حارث سے بہتر ہے اور مجھے ایک بات کی قطعاً پرواہ نہیں ہے کہ دونوں قبیلے ہلاک ہوجائیں، حکمرانی اور بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ جمدائ، شرحائ، مخوساء اور ابضعہ چاروں بادشاہوں اور ان کی بہن عمردۃ پر لعنت کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12558

۔ (۱۲۵۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ، طَیِّبَۃٌ أَفْوَاہُہُمْ، بَرَّۃٌ أَیْمَانُہُمْ، نَقِیَّۃٌ قُلُوبُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۶۰۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبیلہ ازد کے لوگ بہترین لوگ ہیں، ان کے منہ یعنی گفتگو انتہائی شان دار ہوتی ہے، یہ اپنی قسم کو پورا کرتے ہیں اوردلوں کے صاف ہوتے ہیں، یعنی یہ کسی کے خلاف بغض یا حسد نہیں رکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12559

۔ (۱۲۵۵۹)۔ (وَعَنْہُ اَیْضا) قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الْعَنْ حِمْیَرَ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ جَائَ ہُ مِنْ نَاحِیَۃٍ أُخْرٰی، فَأَعْرَضَ عَنْہُ، وَہُوَ یَقُولُ: الْعَنْ حِمْیَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ حِمْیَرَ أَفْوَاہُہُمْ سَلَامٌ، وَأَیْدِیہِمْ طَعَامٌ، أَہْلُ أَمْنٍ وَإِیمَانٍ۔)) (مسند احمد: ۷۷۳۱)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، ایک آدمی نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض فرمایا، وہ دوسری طرف سے آگیا اور اس بار بھی یہی بات کہی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اور فرمایا: اللہ قبیلہ حمیر پر رحم فرمائے، ان کے منہ یعنی گفتگو سلامتی والی ہے، ان کے ہاتھ کھانا کھلانے والے ہیں اور یہ لوگ امن و ایمان والے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12560

۔ (۱۲۵۶۰)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِبَنِیْ نَاجِیَۃَ: ((اَنَا مِنْہُمْ وَھُمْ مِنِّی۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۷)
سیدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبیلہ بنی ناجیہ کے بارے میں فرمایا: میں ان سے اور وہ مجھ سے ہیں، (یعنی وہ میرے اور میں ان کا ہوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12561

۔ (۱۲۵۶۰)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِبَنِیْ نَاجِیَۃَ: ((اَنَا مِنْہُمْ وَھُمْ مِنِّی۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۷)
ایک دوسری روایت جو سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بھتیجے سے مروی ہے، اس میں ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں بنو ناجیہ کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قبیلہ مجھ سے ہے۔ اس روایت کی سند میں سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذکر نہیں کیا جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12562

۔ (۱۲۵۶۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: شَہِدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُو لِہٰذَا الْحَیِّ مِنَ النَّخَعِ، أَوْ قَالَ: یُثْنِی عَلَیْہِمْ حَتّٰی تَمَنَّیْتُ أَنِّی رَجُلٌ مِنْہُمْ۔ (مسند احمد: ۳۸۲۶)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو نخع کے اس قبیلہ کے حق میں اس قدر دعا کی یا یوں کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی اس قدر مدح کی کہ میں نے تمنا کی کہ میں بھی ان میں سے ایک فرد ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12563

۔ (۱۲۵۶۳)۔ وَعَنِ الْغَضْبَانِ بْنِ حَنْظَلَۃَ، أَنَّ أَبَاہُ حَنْظَلَۃَ بْنَ نُعَیْمٍ وَفَدَ إِلٰی عُمَرَ، فَکَانَ عُمَرُ إِذَا مَرَّ بِہِ إِنْسَانٌ مِنَ الْوَفْدِ سَأَلَہُ مِمَّنْ ہُوَ؟ حَتّٰی مَرَّ بِہِ أَبِی فَسَأَلَہُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عَنَزَۃَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((حَیٌّ مِنْ ہَاہُنَا مَبْغِیٌّ عَلَیْہِمْ مَنْصُورُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱)
حنظلہ بن نعیم سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے، یہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عادت تھی کہ جب وفد کا کوئی آدمی ان کے پاس سے گزرتا تو وہ اس سے دریافت کرتے کہ وہ کس قبیلہ سے ہے؟ یہاں تک کہ میرے والد سیدنا حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے ان سے پوچھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہیں؟ انہوںنے کہا: میں عنزہ قبیلے سے ہوں، یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: یہاںایک قبیلہ ایسا بھی ہے کہ ان پر ظلم کیا جائے گا، لیکن ان کی تائید و نصرت کی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12564

۔ (۱۲۵۶۴)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُرَیْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُہَیْنَۃُ وَمُزَیْنَۃُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَأَشْجَعُ مَوَالِیَّ، لَیْسَ لَہُمْ مَوْلًی دُونَ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۹۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، بنو اسلم، بنو غفار اور بنواشجع یہ سب میرے حلیف ہیں، ان کا اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی دوسرا حلیف نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12565