Musnad Ahmad

Search Results(1)

18)

18) نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 930

۔ (۹۳۰)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ الْیَہُوْدَ کَانُوْا اِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْہُمْ لَمْ یُؤَاکِلُوْہُنَّ وَلَمْ یُجَامِعُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ، فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {وَیَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ} حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْآیَۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِصْنَعُوْا کُلَّ شَیئٍ اِلَّا النِّکَاحَ)) (مسند أحمد: ۱۲۳۷۹)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ جب عورت حائضہ ہو جاتی تو یہودی لوگ نہ اس کے ساتھ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ ہم بستری کرتے تھے، جب صحابہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے میں دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوہُنَّ حَتَّی یَطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَھَّرْنَ فَأْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ۔}… آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے کہ وہ تکلیف دہ چیز ہے، حالت ِ حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیںان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ، جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور بہت پاک رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۲۲) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہم بستری کے علاوہ ہر چیز کر سکتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 931

۔ (۹۳۱)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا وَقَدْ حَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَکَّۃَ: قَالَ لَہَا: (( اِقْضِیْ مَا یَقْضِیْ الْحَاجُّ غَیْرَ أَن لَّا تَطُوْفِیْ بِالْبَیْتِ)) (مسند أحمد: ۲۴۶۱۰)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب وہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے سرِف مقَامَ پر حائضہ ہو گئی تھیں، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے ان سے فرمایا تھا: تم بھی وہی کچھ کرتی رہو، جو کچھ حاجی لوگ کر رہے ہیں، البتہ بیت اللہ کا طواف نہیں کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 932

۔ (۹۳۲)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ(فِی قِصَّۃِ أُمِّ حَبِیْبَۃَ بِنْتِ جَحْشٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا: ((فَاِذَا أَقْبَلَتِ الْحَیْضَۃُ فَدَعِیْ الصَّلٰوۃَ وَاِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِیْ ثُمَّ صَلِّیْ)) (مسند أحمد: ۲۵۰۴۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحشؓ کا قصہ بیان کرتی ہوئے کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھنا شروع کر دیا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 933

۔ (۹۳۳)۔ عَنْ مُعَاذَۃَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِی الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِیْ الصَّلٰوۃَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُوْرِیَّۃٌ أَنْتِ؟ قُلْتُ: لَسْتُ بِحَرُوْرِیَّۃٍ وَلَکِنِّیْ أَسْأَلُ، قَالَتْ: قَدْ کَانَ یُصِیْبُنَا ذَالِکَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُؤْمَرُ وَلَا نُؤْمَرُ، فَیَأْمُرُ بِقَضَائِ الصَّوْمِ وَلَا یَأْمُرُ بِقَضَائِ الصَّلَوۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۴۷۷)
معاذہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے سوال کیا: کیا وجہ ہے کہ حائضہ خاتون روزوںکی قضائی دیتی ہے اور نماز کی قضائی نہیں دیتی؟ انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تو حروراء علاقے سے ہے؟ میں نے کہا: جی میں حروریہ نہیں ہوں، ویسے سوال کر رہی ہوں، پس انھوں نے کہا: ہمیں یہ حیض آتا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ہوتی تھیں، تو ہمیں (کچھ کا) حکم دیا جاتا تھا اور (کچھ کا) ہمیں حکم نہیں دیا جاتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ روزوں کی قضائی کا حکم دیتے تھے اور نمازوں کی قضائی کا حکم نہیں دیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 934

۔ (۹۳۴)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتٰی حَائِضًا أَوِ امْرَأَۃً فِی دُبُرِہَا أَوْ کَاہِنًا فَصَدَّقَہُ فَقَدْ بَرِیئَ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ۔)) (مسند أحمد: ۹۲۷۹)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے حائضہ بیوی سے جماع کیا یا اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کیا یا جو نجومی کے پاس گیا اور اس کی تصدیق کی، وہ اس دین سے بری ہو جائے گا، جو اللہ تعالیٰ نے جنابِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر نازل کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 935

۔ (۹۳۵)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الَّذِیْ یَأْتِیْ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ ((یَتَصَدَّقُ بِدِیْنَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِیْنَارٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۳۲)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ جو آدمی حائضہ بیوی سے مجامعت کرتا ہے، اس کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ ایک دینار یا نصف دینار کا صدقہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 936

۔ (۹۳۶)۔ (وَعَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الرَّجُلِ یَأْتِیْ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ، قَالَ: ((یَتَصَدَّقُ بِدِیْنَارٍ فَاِنْ لَمْ یَجِدْ فَنِصْفُ دِیْنَارٍ۔)) (مسند أحمد: ۳۴۲۸)
۔ (دوسری روایت) جو آدمی حائضہ بیوی سے ہم بستری کرتا ہے، اس کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر اس میں اتنی ہمت نہ ہو تو نصف دینار صدقہ کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 937

۔ (۹۳۷)۔عَنْ مَیْمُوْنَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُبَاشِرُ نِسَائَ ہُ فَوْقَ الْاِزَارِ وَہُنَّ حُیَّضٌ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۹۱)
سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنی بیویوں کے ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کر لیتے تھے، جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 938

۔ (۹۳۸)۔عَنْ عَائِشَۃَؓعَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۵۴۷)
سیدہ عائشہ ؓ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 939

۔ (۹۳۹)۔عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُ اِحْدَانَا اِذَا حَاضَتْ تَأْتَزِرُ ثُمَّ یُبَاشِرُہَا۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۳۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو حکم دیتے کہ وہ ازار باندھ لے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے جسم ساتھ جسم ملاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 940

۔ (۹۴۰)۔عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُبَاشِرُنِی وَأَنَا حَائِضٌ وَیَدْخُلُ مَعِیَ فِی لِحَافِیْ وَأَنَا حَائِضٌ وَلٰکِنْ کَانَ أَمْلَکَکُمْ لِاِرْبِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۳۳۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میرے جسم کے ساتھ جسم ملاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور آپ میرے لحاف میں میرے ساتھ داخل ہو جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنی شرمگاہ پر زیادہ کنٹرول کرنے والے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 941

۔ (۹۴۱)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ یَأْمُرُنِیْ فَأَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ یُبَاشِرُنِیْ، وَکُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَہُ وَہُوَ مُعْتَکِفٌ وَأَنَا حَائِضٌ۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۸۴)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مجھے حکم دیتے کہ میں ازار باندھ لوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میرے ساتھ لیٹ جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سر کی کنگھی کرتی تھی، جبکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 942

۔ (۹۴۲)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنْتُ أَنَامُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فِرَاشٍ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَیَّ ثَوْبٌ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۹۳)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بچھونے پر سوتی تھی، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، لیکن مجھ پر کپڑا ہوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 943

۔ (۹۴۳)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ بَابَنُوسَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَشَّحُنِیْ وَیَنَالُ مِنْ رَأْسِیْ وَأَنَا حَائِضٌ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۵۸)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مجھ سے معانقہ کرتے تھے اور میرے سر پر بوسہ وغیرہ دیتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 944

۔ (۹۴۴)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُجَاوِرُ فِی الْمَسْجِدِ فَیُصْغِیْ اِلَیَّ رَأْسَہُ فَأُرَجِّلُہُ وَأَنَا حَائِضٌ۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۴۲)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے اور اپنے سر مبارک کو میری طرف جھکاتے تھے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی کنگھی کرتی تھی، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 945

۔ (۹۴۵)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الرَّجُلِ یُبَاشِرُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ، قَالَ: ((لَہُ مَا فَوْقَ الْاِزَارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۹۴۰)
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ ازار سے اوپر والا حصہ استعمال کر سکتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا یہ ارشاد اس شخص کے بارے میں ہے، جو حائضہ بیوی کے جسم ساتھ جسم ملا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 946

۔ (۹۴۶)۔عَنْ مَیْمُونَۃَ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُبَاشِرُ الْمَرْأَۃَ مِنْ نِسَائِہِ وَہِیَ حَائِضٌ، اِذَا کَانَ عَلَیْہَا اِزَارٌ یَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَیْنِ أَوِ الرُّکْبَتَیْنِ مُحْتَجِزَۃً بِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۸۷)
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنی بیویوں میں سے حائضہ کے جسم کے ساتھ جسم ملا لیا کرتے تھے، جبکہ اس پر (کم از کم) ایسا ازار ہوتا جو نصف رانوں تک یا گھٹنوں تک پہنچ جاتا تھا، وہ اس سے (مخصوص جگہ کو) محفوظ کر لیتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 947

۔ (۹۴۷)۔ عَنِ ابْنِ قُرَیْظَۃَ الصَّدَفِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَؓ: أَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُضَاجِعُکِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، اِذَا شَدَدتُّ عَلَیَّ اِزَارِیْ وَلَمْ یَکُنْ لَنَا اِذْ ذَاکَ اِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ، فَلَمَّا رَزَقَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِرَاشًا آخَرَ اِعْتَزَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۱۳)
ابن قریظہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا: جب آپ حائضہ ہوتی تھیں تو کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آپ کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب میں ازار کو اپنے اوپر کس لیتی تھی اور اس وقت سرے سے ہمارا بچھونا ہی ایک تھا، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور بچھونا دے دیاتھا تو میں اس حالت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے الگ ہو جاتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 948

۔ (۹۴۸)۔عَنْ جُمَیْعِ بْنِ عُمَیْرٍ التَّیْمِیِّ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِیْ وَخَالَتِیْ اِلٰی عَائِشَۃَؓفَسَأَلْتُہَا: کَیْفَ کَانَتْ اِحْدَاکُنَّ تَصْنَعُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا عَرَکَتْ؟ فَقَالَتْ: کَانَ اِذَا کَانَ ذَالِکَ مِن احْدَانَا، اِئْتَزَرَتْ بِالْاِزَارِ الْوَاسِعِ ثُمَّ اِلْتَزَمَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدَیْہَا وَنَحْرِہَا۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۳۶)
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں: میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا اور میں نے سوال کیا: جب تم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تھی تو وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے کیا کرتی تھی؟ انھوں نے کہا: جب ہم میں سے کوئی اس حالت میں ہوتی تھی تو وہ کھلا سا ازار باندھ لیتی تھی اور اپنے ہاتھوں اور سینے کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو چمٹ جاتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 949

۔ (۹۴۹)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ثَوْبِہِ، قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ: ((أَنَفِسْتِ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَجَدْتُّ مَا تَجِدُ النِّسَائُ، قَالَ: ((ذَاکِ مَا کُتِبَ عَلٰی بَنَاتِ آدَمَ۔)) قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِیْ فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ ثُمَّ جِئْتُ مَعَہُ فِی لِحَافِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۶۰)
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں میں اس وقت حائضہ ہو گئی، جب میں اوررَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک کپڑے میں تھے، پس میں کھسک گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں اسی چیز میں مبتلا ہو گئی ہوں، جس میں خواتین ہو جاتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ چیز تو پھر بناتِ آدم پر لکھ دی گئی ہے۔ بہرحال میں چلی گئی اور اپنی حالت کو سنوار کر ایک کپڑے سے لنگوٹ کس لیا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ لحاف میں آ کر لیٹ گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 950

۔ (۹۵۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: حِضْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فِرَاشِہِ فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ لِیْ: ((أَحِضْتِ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَشُدِّیْ عَلَیْکِ اِزَارَکِ ثُمَّ عُوْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۰۳۰)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بستر پر تھی کہ میں حائضہ ہو گئی، اس لیے میں وہاں سے کھسک گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھ سے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنا ازار اپنے اوپر کس لے اور پھر واپس آ جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 951

۔ (۹۵۱)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ بُدَیَّۃَ قَالَتْ: أَرْسَلَتْنِیْ مَیْمُوْنَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اِلَی امْرَأَۃِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍؓ وَکَانَتْ بَیْنَہُمَا قِرَابَۃٌ، فَرَأَیْتُ فِرَاشَہَا مُعْتَزِلًا فِرَاشَہُ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَالِکَ لِہِجْرَانٍ، فَسَأَلْتُہَا فَقَالَتْ: لَا وَلٰـکِنِّیْ حَائِضٌ، فَاِذَا حِضْتُ لَمْ یَقْرَبْ فِرَاشِیْ، فَأَتَیْتُ مَیْمُوْنَۃَ فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لَہَا فَرَدَّتْنِیْ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: أَرَغْبَۃً عَنْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ لَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنَامُ مَعَ الْمَرْأَۃِ مِنْ نِسَائِہِ الْحَائِضِ وَمَا بَیْنَہُمَا اِلَّا ثَوْبٌ مَا یُجَاوِزُ الرُّکْبَتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۵۶)
بُدَیّہ کہتی ہیں: زوجۂ رسول سیدہ میمونہ بنت حارث ؓ نے مجھے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓکی بیوی کی طرف بھیجا، ان دو کے درمیان رشتہ داری تھی، میں نے دیکھا کہ اس کا بستر سیدنا ابن عباسؓ کے بستر سے الگ تھلگ تھا، میں نے سمجھا کہ ناراضگی کی وجہ سے ایسا ہو گا، لیکن جب میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: کوئی ناراضگی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ میں حائضہ ہوں اور جب میرا حیض شروع ہو تا ہے تو وہ میرے قریب نہیں آتے، پس میں سیدہ میمونہ کے پاس آگئی اور ان کو یہ صورتحال بتائی، انھوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی طرف واپس کر دیا اور ان کی طرف یہ پیغام بھیجا: کیا تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت سے بے رغبتی کر رہے ہو؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو اپنی حائضہ بیویوں کے ساتھ سو تے تھے، جبکہ ان کے درمیان صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جو گھٹنوں سے بھی تجاوز نہیں کرتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 952

۔ (۹۵۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: اِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُؤْتٰی بِالْاِنَائِ فَأَشْرَبُ مِنْہُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ یَأْخُذُ فَیَضَعُ فَاہُ عَلٰی مَوْضِعِ فِیَّ، وَاِنْ کُنْتُ لَآخُذُ الْعَرْقَ فَآکُلُ مِنْہُ ثُمَّ یَأْخُذُہُ فَیَضَعُ فَاہُ عَلٰی مَوْضِعِ فِیَّ۔ (مسند أحمد: ۲۴۸۳۲)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس برتن لایا جاتا، پہلے میں اس سے پیتی، جبکہ میں حائضہ ہوتی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ برتن پکڑ لیتے اور میرے منہ کی جگہ پر اپنا منہ رکھتے تھے اور میں ہڈی والی بوٹی لے کر اس سے گوشت نوچ کر کھاتی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو لے لیتے اور میرے منہ کی جگہ پر اپنا منہ رکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 953

۔ (۹۵۳)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ ؓ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ مُؤَاکَلَۃِ الْحَائِضِ فَقَالَ: ((وَاٰکِلْہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۱۷)
سیدنا عبد اللہ بن سعد ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے حائضہ کے ساتھ کھانا کھانے کے بارے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے ساتھ کھایا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 954

۔ (۹۵۴)۔عَنْ مَنْبُوْذٍ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: کُنْتُ عِنْدَ مَیْمُوْنَۃَ فَأَتَاہَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: یَا بُنَیَّ! مَالَکَ شَعِثًا رَأْسُکَ؟ قَالَ: أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِیْ حَائِضٌ، قَالَتْ: أَیْ بُنَیَّ! وَأَیْنَ الْحَیْضَۃُ مِنَ الْیَدِ؟ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُ عَلٰی اِحْدَانَا وَہِیَ حَائِضٌ فَیَضَعُ رَأْسَہُ فِی حِجْرِہَا فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَہِیَ حَائِضٌ، ثُمَّ تَقُوْمُ اِحْدَانَا بِخُمْرَتِہِ فَتَضَعُہَا فِی الْمَسْجِدِ وَہِیَ حَائِضٌ، أَیْ بُنَیَّ! وَأَیْنَ الْحَیْضَۃُ مِنَ الْیَدِ؟ (مسند أحمد: ۲۷۳۴۶)
ام منبوذ کہتی ہیں: میں سیدہ میمونہؓ کے پاس تھی، سیدنا ابن عباسؓ ان کے پاس آئے، انھوںنے ان سے پوچھا: میرے بیٹے! کیا وجہ ہے کہ تیرا سر پراگندہ ہے؟ انھوں نے کہا: ام عمار میرے سر کی کنگھی کرتی تھیں اور وہ آج کل حائضہ ہیں۔ سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہم میں سے کسی کے پاس آتے، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کی گود میں سر رکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے، اسی طرح وہ کھڑی ہوتی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی چٹائی آپ کے لیے مسجد میں بچھاتی، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق ہے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 955

۔ (۹۵۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضَعُ رَأْسَہُ فِی حَجْرِیْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ : یَتَّکِیئُ عَلَیَّ) وَأَنَا حَائِضٌ فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۰۱)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ میرے گود میں اپنا سر رکھتے، ایک روایت میں ہے: میرے ساتھ ٹیک لگاتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 956

۔ (۹۵۶)۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَّکِیُٔ فِیْ حَجْرِیْ وَأَنَا حَائِضٌ فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ۔ (مسند أحمد: ۲۶۷۵۱)
ایک روایت میں ہے: سیدہؓ کہتی ہیں:رسول اللہ میری گود میں ٹیک لگاتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 957

۔ (۹۵۷)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِعَائِشَۃَ: ((نَاوِلِیْنِیْ الْخُمْرَۃَ)) مَِن الْمَسْجِدِ۔ فَقَالَتْ: اِنِّی قَد أَحْدَثْتُ، فَقَالَ: ((أَوَ حَیْضَتُکِ فِی یَدِکِ؟))(مسند أحمد:۵۳۸۲)
سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مسجد سے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ انھوں نے کہا: میں تو حائضہ ہو گئی ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تیرا حیض تیرے ہاتھ میں ہے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 958

۔ (۹۵۸)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((نَاوِلِیْنِیْ الْخُمْرَۃَ۔)) مِنَ الْمَسْجِدِ۔ قَالَتْ: قُلْتُ: اِنِّیْ حَائِضٌ، قَالَ: ((اِنَّ حَیْضَتَکِ لَیْسَتْ فِی یَدِکِ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۴۴۴)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مسجد سے مجھے فرمایا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ میں نے کہا: میں تو حائضہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 959

۔ (۹۵۹)۔وَعَنْہَا أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِلْجَارِیَۃِ وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ: ((نَاوِلِیْنِیْ الْخُمْرَۃَ)) قَالَتْ: أَرَادَ أَنْ یَبْسُطَہَا فَیُصِلِّیْ عَلَیْہَا، فَقَالَتْ: اِنِّیْ حَائِضٌ، فَقَالَ: ((اِنَّ حَیْضَہَا لَیْسَتْ فِی یَدِہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۵۹۷۴)
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسجد میں تھے، لونڈی سے کہا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، اس نے کہا: میں تو حائضہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اس کا حیض اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 960

۔ (۹۶۰)۔عَنْ حُذَیْفَۃَ (بْنِ الْیَمَانِ)ؓ قَالَ: بِتُّ بِآلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ وَعَلَیْہِ طَرَفُ اللِّحَافِ وَعَلٰی عَائِشَۃَ طَرَفُہُ وَہِیَ حَائِضٌ لَا تُصَلِّیْ۔ (مسند أحمد: ۲۳۷۸۸)
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے آلِ رسول کے ساتھ ایک رات گزاری، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کو اٹھے اور نماز پڑھنے لگے، جبکہ لحاف کا ایک کنارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر تھا اور دوسرا کنارہ سیدہ عائشہؓ پر تھا، جبکہ وہ حائضہ تھیں اور نماز نہیں پڑھتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 961

۔ (۹۶۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُومُ فَیُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ وَأَنَا نَائِمَۃٌ اِلٰی جَنْبِہِ فَاِذَا سَجَدَ أَصَابَنِیْ ثِیَابُہُ وَأَنَا حَائِضٌ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۴۳)
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کو بیدار ہوتے اور نماز پڑھتے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پہلو میں لیٹی ہوتی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سجدہ کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا کپڑا مجھے لگتا، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 962

۔ (۹۶۲)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَ نَّہَا طَرَقَتْہَا الْحَیْضَۃُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فَأَشَارَتْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِثَوْبٍ وَفِیْہِ دَمٌ فَأَشَارَ اِلَیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ فِی الصَّلَوۃِ، اِغْسِلِیْہِ، فَغَسَلْتُ مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ أَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَالِکَ الثَّوْبَ فَصَلّٰی فِیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۸۷۴)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رات کو ان کو حیض آ گیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز پڑھ رہے تھے، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف کپڑے کا اشارہ کیا، جبکہ اس میں خون لگا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز کے اندر ہی اشارہ کیا کہ وہ اس کو دھو دیں، پس انھوں نے خون کی جگہ دھو دی ، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ کپڑا پکڑا اور اس میں نماز پڑھنے لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 963

۔ (۹۶۳)۔وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: کُنْتُ أَبِیْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا طَامِثٌ حَائِضٌ، قَالَتْ: فَاِنْ أَصَابَہُ مِنِّیْ شَیْئٌ غَسَلَہُ لَمْ یَعْدُ مَکَانَہُ وَصَلّٰی فِیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۷۵)
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور اللہ کے رسول ایک کپڑے میں رات گزارتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، اگر خون آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو لگ جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وہ جگہ دھو لیتے اور متاثرہ جگہ سے تجاوز نہ کرتے اور پھر اس میں نماز پڑھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 964

۔ (۹۶۴)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّہْرِ؟ فَقَالَ: ((خُذِیْ فِرْصَۃً مُمَسَّکَۃً فَتَوَضَّئِیْ بِہَا۔)) قَالَتْ: کَیْفَ أَتَوَضَّأُ بِہَا؟ قَالَ: ((تَوَضَّئِیْ بِہَا۔)) قَالَتْ: کَیْفَ أَتَوَضَّأُ بِہَا؟ ثُمَّ اِنَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّحَ فَأَعْرَضَ عَنْہَا، ثُمَّ قَالَ: ((تَوَضَّئِیْ بِہَا۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَفَطِنْتُ لِمَا یُرِیْدُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذْتُہَا فَجَذَبْتُہَا اِلَیَّ فَأَخْبَرْتُہَا بِمَا یُرِیْدُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۱۹)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طہارت حاصل کرتے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر۔ اس نے کہا: اس کے ذریعے میں کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ وہ پھر کہنے لگی: میں اس کے ذریعے کیسے طہارت حاصل کروں؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا اور اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا مقصد سمجھ گئی، اس لیے میں نے اس خاتون کو اپنی طرف کھینچ لیا اور سمجھا دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو کیا فرمانا چاہ رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 965

۔ (۹۶۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔عَنْ اِبْرَاہِیْمَ الْمُہَاجِرِ قَالَ: سَمِعْتُ صَفِیَّۃَ بِنْتَ شَیْبَۃَ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَسْمَائَ سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ غُسْلِ الْمَحِیْضِ، قَالَ: تَأْخُذُ اِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا فَتَطَہَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّہُوْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَی رَأْسِہَا فَتَدْلُکُہٗ دَلْکًا شَدِیْدًا حَتّٰی یَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَأْسِہَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْہَا الْمَائَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَۃً مُمَسَّکَۃً فَتَطَہَّرُ بِہَا۔)) قَالَتْ أَسْمَائُ: وَکَیْفَ تَطَہَّرُ بِہَا؟ قَالَ: ((سُبْحَان اللّٰہِ! تَطَہَّرِیْ بِہَا۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: کَأَنَّہَا تُخْفِیْ ذٰلِکَ: تَتَبَّعِیْ أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلْتُہُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَۃِ، قَالَ: ((تَأْخُذِیْ مَائَ کِ فَتَطَہَّرِیْنَ فَتُحْسِنِیْنَ الطُّہُوْرَ أَوْ أَبْلِغِی الطُّہُوْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلٰی رَأْسِہَا فَتَدْلُکُہٗ حَتّٰی یَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَأْسِہَا ثُمَّ تُفِیْضُ عَلَیْہَا الْمَائَ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: نِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الْأَنْصَارِ، لَمْ یَکُنْ یَمْنَعُہُنَّ الْحَیَائُ أَنْ یَتَفَقَّہْنَ فِی الدِّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۶۶۰)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ اسماء ؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے حیض کے غسل کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خاتون پانی اور بیری کے پتے لے لے اور وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی بہائے اور اس کو اچھی طرح مَلے، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے وجود پر پانی بہا دے، پھر کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ اسماءؓ نے کہا: وہ اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سبحان اللہ! تو اس سے پاکیزگی حاصل کر۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: گویا کہ یہ بات اس کے لیے خفا والی تھی کہ وہ اس کو خون کے نشانات پر لگا دے۔ اور میں نے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم پانی لو، وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر اپنے سر پر پانی بہاؤ اور اس کو خوب ملو، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے جسم پر پانی بہادے۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: انصار کی عورتیں بہترین عورتیں ہیں، ان کے لیے دین کی فقاہت حاصل کرنے کے لیے حیا مانع نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 966

۔ (۹۶۶)۔عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَ نَّہَا ذُکِرَتِ نِسَائُ الْأَنْصَارِ فَأثْنَتْ عَلَیْہِنَّ وَقَالَتْ لَہُنْ مَعْرُوْفًا وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُوْرَۃُ النُّوْرِ عَمَدْنَ اِلٰی حُجَزِ أَوْ حُجُوْزِ مَنَاطِقِہِنَّ فَشَقَقْنَہُ ثُمَّ اتَّخَذْنَ مِنْہُ خُمُرًا، وَاِنَّہَا دَخَلَتْ اِمْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الطُّہُوْرِ مِنَ الْحَیْضِ، فَقَالَ: ((نَعَمْ، لِتَأْخُذَ اِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا…)) فَذَکَرَتْ نَحْوَ الْحَدَیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۶۷)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ انصار کی عورتوں کا ذکر کیا گیا، انھوں نے ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں اچھی باتیں کہیں، نیز انھوں نے کہا: جب سورۂ نور نازل ہوئی تو اِن انصاری خواتین نے اپنے ازاروں کی طرف قصد کیا اور ان کو پھاڑ کر دو پٹے بنا لیے، نیز سیدہ نے یہ بات بھی ذکر کی کہ ایک دفعہ ایک انصاری خاتون رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حیض سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، خاتون کو چاہیے کہ پانی اور بیری کے پتوں کا اہتمام کرے، ……۔ پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 967

۔ (۹۶۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ خَالَتِیْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِیْ حُبَیْشٍ (ؓ) قَالَتْ: أَتَیْتُ عَائِشَۃَؓ فَقُلْتُ لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! قَدْ خَشِیْتُ أَنْ لَا یَکُوْنَ لِیْ حَظٌّ فِی الْاِسْلَامِ وأَنْ أَکُوْنَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ، أَمْکُثُ مَا شَائَ اللّٰہُ مِنْ یَوْمِ أُسْتَحَاضُ فَلَا أُصَلِّیْ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ صَلَاۃً، قَالَتْ: اجْلِسِیْ حَتّٰی یَجِیْئَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَلَمَّا جَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰذِہِ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِیْ حُبَیْشٍ تَخْشٰی أَنْ لَا یَکُوْنَ لَہَا حَظٌّ فِی الْاِسْلَامِ وأَنْ تَکُوْنَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ، تَمْکُثُ مَا شَائَ اللّٰہُ مِنْ یَوْمِ تُسْتَحَاضُ فَلَا تُصَلِّیْ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاۃً، فَقَالَ: ((مُرِیْ فَاطِمَۃَ بِنْتَ أَبِیْ حُبَیْشٍ فَلْتُمْسِکْ کُلَّ شَہْرٍ عَدَدَ أَیَّامِ أَقْرَائِہَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَحْتَشِیْ وَتَسْتَثْفِرُ وَتَتَنَظَّفُ ثُمَّ تَطَہَّرُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَتُصَلِّیْ، فَاِنَّمَا ذٰلِکِ رَکْضَۃٌ مِنَ الشَّیْطَانِ أَوْ عِرْقٌ اِنْقَطَعَ أَوْ دَائٌ عَرَضَ لَہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۸۳)
سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئی اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے تویہ ڈر لگا ہوا ہے کہ اسلام میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے اور میں جہنمی لوگوںمیں سے ہوں گی، کیونکہ جس دن سے مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے، میں رکی ہوئی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نماز نہیں پڑھ رہی، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی تشریف آوری تک اِدھر ہی بیٹھ جاؤ، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیشؓ ہیں، ان کو یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ جہنمیوں میں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ استحاضہ والے دن سے ٹھہری ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے نماز نہیں پڑھ رہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فاطمہ کو حکم دو کہ وہ ہر ماہ میں سے اپنے حیض کے دنوں میں (صوم و صلاۃ سے) رک جایا کرے، پھر غسل کر کے اپنی شرمگاہ میں کوئی روئی وغیرہ دے کر لنگوٹ کَس لے اور صفائی ستھرائی حاصل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کیا کرے اور نماز ادا کیا کرے، یہ شیطان کی طرف سے کوئی ٹھوکر مار دی گئی ہے یا کوئی رگ پھٹ گئی ہے یا کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 968

۔ (۹۶۸)۔عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ أَبِیْ حُبَیْشٍؓ حَدَّثَتْہُ أَنَّہَا أَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَکَتْ اِلَیْہِ الدَّمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا ذٰلِکِ عِرْقٌ، فَانْظُرِیْ اِذَا أَتی قَرْؤُکِ فَلَا تُصَلِّیْ، فَاِذَا مَرَّ الْقَرْئُ تَطَہَّرِیْ ثُمَّ صَلِّیْ مَا بَیْنَ الْقَرْئِ اِلَی الْقَرْئِ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۸۲)
سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیش ؓ بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے خون کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کسی رگ کامسئلہ ہے، پس تو دیکھ کہ جب تجھے حیض آئے تو تو نے نماز نہیں پڑھنی، جب حیض ختم ہو جائے تو طہارت حاصل کر کے اِس حیض سے اگلے حیض تک نماز پڑھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 969

۔ (۹۶۹)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: أَتَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِیْ حُبَیْشٍ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: اِنِّیْ اُسْتُحِضْتُ، فَقَالَ: ((دَعِی الصَّلوٰۃَ أَیَّامَ حَیْضِکِ ثُمَّ اغْتَسِلِیْ وَتَوَضَّئِیْ عِنْدَ کُلِّ صَلوٰۃٍ وَاِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَی الْحَصِیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۷۸۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیش ؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس تشریف لائیں اور کہا: میں استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز پڑھ، اگرچہ خون چٹائی پر گرتا رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 970

۔ (۹۷۰)۔عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ امْرَأَۃً کَانَتْ تُہَرَاقُ الدَّمَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَفْتَتْ لَہَا أُمُّ سَلَمَۃَ زَوْجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لِتَنْظُرْ عِدَّۃَ اللَّیَالِیْ وَالْأَیَّامِ الَّتِیْ کَانَتْ تَحِیْضُہُنَّ مِنَ الشَّہْرِ، فَاِذَا بَلَغَتْ ذٰلِکِ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ تَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّیْ)) (مسند أحمد: ۲۷۲۵۲)
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ عہد ِ نبوی میں ایک عورت نے خون بہانا شروع کر دیا، پس جب سیدہ ام سلمہؓ نے اس کے لیے فتوی پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایک مہینہ میں جتنی راتوں اور دنوں میں اس کو حیض آتا تھا، وہ ان کو دیکھ لے، جب وہ اس مقدار کو پورا کر لے تو غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھنا شروع کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 971

۔ (۹۷۱)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ أُمَّ حَبِیْبَۃَ بِنْتَ جَحْشٍ کَانَتْ تَحْتَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ وَاِنَّہَا اسْتُحِیْضَتْ فَلَا تَطْہُرُ، فَذُکِرَتْ شأْنُہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَیْسَتْ بِالْحَیْضَۃِ وَلٰـکِنَّہَا رَکْضَۃٌ مِنَ الرَّحِمِ، فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِہَا الَّتِیْ کَانَتْ تَحِیْضُ لَہُ فَلْتَتْرُکِ الصَّلوٰۃَ ثُمَّ لِتَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَلْتُصَلِّ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۴۸۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بن جحشؓ، جو سیدہ عبد الرحمن بن عوفؓ کی بیوی تھیں، کو استحاضہ کا اتنا خون آنے لگ گیا کہ وہ پاک نہیں ہوتی تھیں، جب ان کا معاملہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، یہ رحم میں کسی رگ کو ٹھوکر لگ گئی ہے، اس عورت کو جتنے دنوںمیں حیض آتا تھا، اس کو چاہیے کہ ان دنوں میں نماز ترک کر دے اور پھر دیکھ لے کہ ان کے بعد (طہر کے) کتنے دن بنتے ہیں، ان میں ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 972

۔ (۹۷۲)۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: اُسْتُحِیْضَتْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ بِنْتُ جَحْشٍ وَہِیَ تَحْتَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِیْنَ فَشَکَتْ ذٰلِکَ اِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ ہٰذِہِ لَیْسَتْ بِالْحَیْضَۃِ، وَاِنَّمَا ہُوَ عِرْقٌ، فَاِذَا اَقْبَلَتِ الْحَیْضَۃُ فَدَعِی الصَّلوٰۃَ وَاِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِیْ ثُمَّ صَلِّی۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: فکَانَتْ تَغْتَسِلُ لِکُلِّ صَلٰوۃٍ ثُمَّ تُصَلِّی، وَکَانَتْ تَقْعُدُ فِیْ مِرْکَنٍ لِأُخْتِہَا زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّی اَنَّ حُمْرَۃَ الدَّمِ لَتَعْلُوْ الْمَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۰۴۵)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ ؓ، جو سیدنا عبد الرحمن بن عوف ؓکی بیوی تھیں، کو سات سال سے استحاضہ کا خون آ رہا تھا، جب انھوںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کی شکایت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، یہ تو کسی رگ کامسئلہ ہے، جب حیض آ جائے تو تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھا کر۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرتی تھیں اور اپنی بہن سیدہ زینب بنت جحش ؓ کے ٹب میں بیٹھتی تھیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر چڑھ آتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 973

۔ (۹۷۳)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اِنَّہَا قَالَتْ: اِسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: اِنِّیْ اُسْتَحَاضُ، قَالَ: ((اِنَّمَا ذَاکِ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِیْ ثُمَّ صَلِّیْ۔)) فَکَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: لَمْ یَأْمُرْہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، اِنَّمَا فَعَلَتْہُ ہِیَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۰۲۸)
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت جحش ؓ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے فتوی پوچھا اور کہا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کسی رگ کا مسئلہ ہے، پس تو غسل کر اور نماز پڑھ۔ پس یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں، ابن شہاب نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، یہ خود ایسا کرتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 974

۔ (۹۷۴)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ أُمِّہِ حَمْنَۃَ بِنْتِ جَحْشٍؓ قَالَتْ: کُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَیْضَۃً شَدِیْدَۃً کَثِیْرَۃً، فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْتَفْتِیْہِ وَأُخْبِرُہُ فَوَجَدْتُہُ فِیْ بَیْتِ أُخْتِیْ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ اِلَیْکَ حَاجَۃً، فَقَالَ: ((مَاہِیَ؟)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ اُسْتَحَاضُ حَیْضَۃً کَثِیْرَۃً شَدِیْدَۃً فَمَا تَرٰی فِیْہَا؟ قَدْ مَنَعَتْنِیَ الصَّلوٰۃَ وَالصِّیَامَ، قَالَ: ((أَنْعَتُ لَکِ الْکُرْسُفَ فَاِنَّہُ یُذْہِبُ الدَّمَ)) قَالَتْ: ہُوَ أَکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَتَلَجَّمِیْ)) قَالَتْ: اِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًا؟ فَقَالَ لَہَا: ((سَآمُرُکِ بِأَمَرَیْنِ، أَیُّہُمَا فَعَلْتِ فَقَدْ أَجْزَأَ عَنْکِ مِنَ الْآخَرِ، فَاِنْ قَوِیْتِ عَلَیْہِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ۔)) فقَالَ لَہَا: ((اِنَّمَا ہٰذِہِ رَکَضَۃٌ مِنْ رَکَضَاتِ الشَّیْطَانِِ، فَتَحَیَّضِیْ سِتَّۃَ أَیَّامٍ اِلٰی سَبْعَۃٍ فِیْ عِلْمِ اللّٰہِ ثُمَّ اغْتَسِلِیْ حَتّٰی اِذَا رَأَیْتِ أَنَّکِ قَدْ طَہُرْتِ وَاسْتَیْقَنْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّیْ أَرْبَعًا وَعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً وَأَیَّامَہَا وَصُوْمِیْ فَاِنَّ ذٰلِکِ یُجْزِئُکِ وَکَذٰلِکِ فَافْعَلِیْ فِیْ کُلِّ شَہْرٍ کَمَا تَحِیْضُ النِّسَائُ وَکَمَا یَطْہُرْنَ بِمِیْقَاتِ حَیْضِہِنِّ وَطُہْرِہِنَّ، وَاِنْ قَوِیْتِ عَلٰی أَنْ تُؤَخِّرِی الظُّہْرَ وَتُعَجِّلِیْ الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِیْنَ ثُمَّ تُصَلِّیْنَ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیْعًا ثُمَّ تُؤَخِّرِیْنَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِیْنَ الْعِشَائَ ثُمَّ تَغْتَسِلِیْنَ وَتجْمَعِیْنَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ فَافْعَلِیْ، وَتَغْتَسِلِیْنَ مَعَ الْفَجْرِ وَتُصَلِّیْنَ، وَکذٰلِکِ فَافْعَلِیْ وَصَلِّیْ وَصُوْمِیْ اِنْ قَدَرْتِ عَلَی ذٰلِکَ)) وَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَہٰذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَیْنِ اِلَیَّ)) (مسند أحمد: ۲۸۰۲۲)
سیدہ حمنہ بنت جحش ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے بڑی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا کون آتا تھا، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے فتوی پوچھنے اور آپ کو اپنا مسئلہ بتانے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اپنی بہن سیدہ زینب بن جحشؓ کے گھر پایا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بڑی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا خون آتا ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اس نے تو مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تجھے روئی کی تجویز دیتا ہوں، وہ خون کو ختم کر دے گی۔ میں نے کہا: وہ خون تو اس سے زیادہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر لنگوٹ کس لے۔ اس نے کہا: میں تو بہت خون بہا رہی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تجھے دو حکم دیتا ہوں، تو ان میں سے جو بھی کرے گی، وہ تجھے کفایت کرے گا، پس اگر تجھے اِن دونوں کو کرنے کی طاقت ہو تو تو خود بہتر جانتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ شیطان کی ٹھوکروںمیں سے ایک ٹھوکر ہے، پس تو چھ سے سات دن اپنے آپ کو حائضہ شمار کر جو بھی اللہ کے علم کے مطابق ہو، پھر اس طرح غسل کر کہ تجھے نظر آنے لگے کہ واقعی تو پاک اور صاف ہو گئی ہے اور تجھے اس چیز کا یقین ہو گیا ہے، پھر تو تئیس یا چوبیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، پس یہ عمل تجھے کفایت کرے گا، پس تو ہر ماہ کو اسی طرح کر، جیسا کہ خواتین کو ان کے حیض اور طہر کے وقت میں حیض آتا ہے اور پھر وہ پاک ہو جاتی ہیں اور اگر تجھ میں اتنی قدرت ہے کہ تو ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ان کیلئے غسل کر ے اور اِن دونوں کو اکٹھا کرکے ادا کرے، مغر ب کو مؤخر کر کے اور عشاء کو معجل کر کے ان کیلئے غسل کرے اور اِن دونوں کو اکٹھا کر کے ادا کرے اور فجر کے لیے علیحدہ غسل کر کے اس کو ادا کر لے، تو تو اسی طرح کر اور نماز پڑھ اور روزے رکھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اِن دو حکموں میں سے یہ عمل مجھے زیادہ پسند ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 975

۔ (۹۷۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: اِنَّ سَلَمَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: سُہَیْلَۃَ) بِنْتَ سُہَیْلِ بْنِ عَمْروٍ اُسْتُحِیْضَتْ فَأَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَتْہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَأَمَرَہَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، فَلَمَّا جَہَدَہَا ذٰلِکَ أَمَرَہَا أَنْ تَجْمَعَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِغُسْلٍ وَالصُّبْحَ بِغُسْلٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۳۹۱)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ سلمہ یا سہیلہ بنت سہیلؓ استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئیں، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں اور اس بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو ہر نماز کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ عمل ان پر گراں گزرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک غسل کے ساتھ ظہر و عصر کو اور ایک غسل کے ساتھ مغرب و عشا کو ادا کر لیں اور نماز فجر کیلئے الگ سے غسل کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 976

۔ (۹۷۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ اِمْرَأَۃً مُسْتَحَاضَۃً سَأَلَتْ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقِیْلَ: اِنَّمَا ہُوَ عِرْقٌ عَائِذٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّہْرَوَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَائَ وَتَغْتَسِلَ لَہُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلُ لِصلَاۃِ الصُّبْحِ غُسْلًَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُسْلًا وَاحِدًا۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ استحاضہ والی ایک خاتون نے عہد ِ نبوی میں اپنی کیفیت کے بارے میں سوال کیا، کسی نے اس کو کہا: یہ اعتدال کی کیفیت سے آگے بڑھ جانے والی ایک رگ ہے، پھر اس کو حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب کو مؤخر کر کے اور عشا کو معجل کر کے ان کے لیے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کے لیے الگ سے غسل کر لے۔ (مسند أحمد: ۲۵۹۰۵)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 977

۔ (۹۷۷)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُصَلِّی الْمُسْتَحَاضَۃُ وَاِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَی الْحَصِیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۵۷۳)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مستحاضہ خاتون نماز پڑھے گی، اگرچہ اس کا خون چٹائی پر بہتا رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 978

۔ (۹۷۸)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: اِعْتَکَفَتْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِمْرَأَۃٌ مِنْ أَزْوَاجِہِ مُسْتَحَاضَۃٌ فَکَانَتْ تَرَی الْصُّفْرَۃَ وَالْحُمْرَۃَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَہَا وَہِیَ تُصَلِّیْ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۱۲)
سیدہ عائشہؓ یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویوں میں ایک خاتون مستحاضہ تھی، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ اعتکاف کیا تھا، جبکہ وہ زرد اور سرخ رنگ کا خون دیکھتی رہتی تھی، بسا اوقات تو ہم اس کے نیچے ایک تھال رکھتی تھیں، جبکہ وہ نماز پڑھ رہی ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 979

۔ (۹۷۹)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْمَرْأَۃِ تَرٰی مَا یُرِیْبُہَا بَعْدَالطُّہْرِ: قَالَ: ((اِنَّمَا ہُوَ عِرْقٌ۔)) أَوْ قَالَ: ((عُرُوْقٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۳۲۳)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس خاتون کے بارے میں فرمایا جو طہر کے بعد (ایسا خون) دیکھتی رہتی ہے، جو اسے شک میں ڈالتا ہے: یہ تو کسی رگ کا مسئلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 980

۔ (۹۸۰) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ النُّفَسَائُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِہَا أَرْبَعِیْنَ یَوْماً أَوْ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً شَکَّ أَبُوْ خَیْثَمَۃَ وَکُنَّا نَطْلِیْ عَلَی وُجُوْہِنَا الْوَرَسَ مِنَ الْکَلَفِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۹۶)
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں نفاس والی عورتیں بچہ جنم دینے کے بعد چالیس دن یا چالیس راتیں بیٹھتی تھیں اور ہم اپنے چہروں پر جھائیوں کی وجہ سے ورس بوٹی خوب ملتی تھیں۔

آیت نمبر