MUSNAD AHMED

Search Result (21)

19)

19) حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 981

۔ (۹۸۱)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَرَّسَ بِأُوَلَاتِ الْجَیْشِ وَمَعَہُ عَائِشَۃُ زَوْجُتُہُؓ فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَہَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَائَ عِقْدِہَا وَذٰلِکَ حِیْنَ أَضَائَ الْفَجْرُ وَلَیْسَ مَعَ النَّاسِ مَائٌ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ رُخْصَۃَ التَّطَہُّرِ بِالصَّعِیْدِ الطَّیِّبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَرَبُوْا بِأَیْدِیْہِمُ الْاََرْضَ ثُمَّ رَفَعُوْا أَیْدِیَہُمْ وَلَمْ یَقْبِضُوْا مِنَ التُّرَابِ شَیْئًا فَمَسَحُوْا بِہَا وُجُوْہَہُمْ وَأَیْدِیَہُمْ اِلَی الْمَنَاکِبِ وَمِنْ بُطُوْنِ أَیْدِیْہِمْ اِلَی الْآبَاطِ، وَلَا یَغْتَرُّ بِھٰذَا النَّاسُ، وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ قَالَ لِعَائِشَۃَؓ: وَاللّٰہِ! مَا عَلِمْتُ اِنَّکِ لَمُبَارَکَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۱۲)
سیدنا عمار بن یاسرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے رات کے آخری حصے میں اولات الجیش کے مقام پر پڑاؤ ڈالا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ آپ کی بیوی سیدہ عائشہؓ بھی تھیں، ان کا ظفار کے موتیوں کا ہاتھ گم ہو گیا اور لوگوں کو اس ہار کی تلاش کے لیے روک لیا گیا، اُدھر فجر روشن ہو رہی تھی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، پس اللہ تعالیٰ نے پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل کر دی، پس مسلمان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان کو اٹھایا اور مٹی ہاتھوں کے ساتھ بالکل نہیں اٹھائی۔ پھر ان کو اپنے چہروں پر پھیرا اور اپنے ہاتھوں کے ظاہری حصے سے کندھوں تک اور باطنی حصے سے بغلوں تک، ان حصوںپر بھی ہاتھ پھیرے۔ لیکن لوگوں کو اس کیفیت سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابو بکر ؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے جو بات سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ تو بہت برکت والی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 982

۔ (۹۸۲)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ ثَنَا سُلَیْمَانُ الْأَعْمَشُ ثَنَا شَقِیْقٌ قَالَ: کُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِیْ ابْنَ مَسْعُوْدٍ) وَأَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ فَقَالَ أبو مُوْسٰی لِعَبْدِ اللّٰہِ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ یَجِدِ الْمَائَ لَمْ یُصَلِّ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَا، فَقَالَ أَبُوْ مُوْسٰی: أَمَا تَذْکُرُ اِذْ قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ: أَلَا تَذْکُرُ اِذْ بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِیَّاکَ فِیْ اِبِلٍ فَأَصَابَتْنِیْ جَنَابَۃٌ فَتَمَرَّغْتُ بِالتُّرَابِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْبَرْتُہُ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((اِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْکَ أَنْ تَقُوْلَ ہٰکَذَا۔)) وَضَرَبَ بِکَفَّیْہِ اِلَی الْاََرْضِ ثُمَّ مَسَحَ کَفَّیْہِ جَمِیْعًا وَمَسَحَ وَجْہَہُ مَسْحَۃً وَاحِدَۃً بِضَرْبَۃٍ وَاحِدَۃٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَاجَرَمَ مَا رَأَیْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذٰلِکَ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ أَبُوْ مُوْسٰی: فَکَیْفَ بہٰذِہِ الْآیَۃِ فِیْ سُوْرَۃِ النِّسَائِ {فَلَمْ تَجِدُوْا مَائً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا}؟ قَالَ: فَمَا دَرٰی عَبْدُ اللّٰہِ مَایَقُوْلُ، وَقَالَ: لَوْ رَخَّصْنَا لَہُمْ فِی التَّیَمُّمِ لَأَوْشَکَ أَحَدُہُمْ اِنْ بَرَدَ الْمَائُ عَلَی جِلْدِہِ أَنْ یَتَیَمَّمَ، قَالَ عَفَّانُ: وَأَنْکَرَہُ یَحْیٰی یَعْنِی ابْنَ سَعِیْدٍ، فَسَأَلْتُ حَفْصَ بْنَ غَیَاثٍ فَقَالَ: کَانَ الْأَعْمَشُ یُحَدِّثُنَا بِہِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ وَذَکَرَ أَبَا وَائِلٍ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۱۹)
شقیق کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابو موسی اشعری ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو موسی ؓ نے سیدنا عبد اللہ ؓ سے کہا: اگر کسی آدمی کو پانی نہ ملے تو وہ نماز نہیں پڑھے گا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، سیدنا ابو موسیؓ نے کہا: کیا تمہیں یاد نہیں ہے کہ سیدنا عمار ؓ نے سیدنا عمر ؓ سے کہا: کیا تم کو یاد نہیں رہا کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے اور آپ کو اونٹوں کے ساتھ بھیجا تھا، مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، پس میں مٹی میں لیٹا تھا، لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف واپس لوٹا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات بتلایا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسکرائے اور فرمایا: صرف تجھے یہ کافی تھا کہ تو اس طرح کر لیتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی ہتھیلیوں کو ایک دفعہ زمین پر مارا اور ان کو اپنی ہتھیلیوں ( کی پشتوں) پر اور چہرے پر ایک ایک دفعہ پھیر دیا۔ لیکن سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: یقینا، میں نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر ؓ نے اس پر قناعت کی ہو، سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: تو پھر آپ سورۂ نساء والی اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے: پس تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ اس مقام پر سیدنا عبد اللہ ؓ کو کوئی جواب نہ آیا، البتہ انھوں نے یہ کہا: اگر ہم ان کو تیمم کی رخصت دیں تو قریب ہے کہ جب کسی کو پانی ٹھنڈا لگے گا تو وہ تیمم کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 983

۔ (۹۸۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُوْمُعَاوِیَۃَ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِیْقٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِیْ مُوْسٰی وَعَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْمُوْسٰی: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَانِ! أرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ یَجِدِ الْمَائَ وَقَدْ أَجْنَبَ شَہْرًا أَمَا کَانَ یَتَیَمَّمُ؟ قَالَ: لَا، وَلَوْ لَمْ یَجِدِ الْمَائَ شَہْرًا (فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْہِ) قَالَ لَہُ أَبُوْ مُوْسٰی: أَلَمْ تَسْمَعْ لِقَوْلِ عَمَّارٍ؟ بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَاجَۃٍ فَأجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَائَ فَتَمَرَّغْتُ فِی الصَّعِیْدِ کَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَۃُ، ثُمَّ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ، فَقَالَ: ((اِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْکَ أَنْ تَقُوْلَ وَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی الْأَرْضِ، ثُمَّ مَسَحَ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا بِصَاحِبَتِہَا ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ (وَفِیْہِ) قَالَ عَبْدُالرَّحْمَانِ: قَالَ أَبِیْ: وَقَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃِ مَرَّۃً: قَالَ: فَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی الْاََرْضِ ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِہِ عَلٰی یَمِیْنِہِ وَیَمِیْنِہِ عَلٰی شِمَالِہِ عَلَی الْکَفَّیْنِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْہَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۱۸)
۔ (دوسری سند) شقیق کہتے ہیں: میں سیدنا ابو موسی ؓاور سیدنا عبد اللہ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی کو (غسل کے لیے) پانی نہیں ملتا، جبکہ وہ ایک مہینہ سے جنبی ہے، کیا وہ تیمم نہیں کرے گا؟ انھوںنے کہا: جی نہیں، اگرچہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔ پھر سابق حدیث کی مانند حدیث ذکر کی، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: کیا آپ نے سیدنا عمار ؓکی بات نہیں سنی؟ وہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک کام کے لیے بھیجا، پس میں جنبی ہو گیا اور غسل کے لیے پانی نہ ملا، پس میں جانور کی طرح مٹی میں لیٹا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تجھے تو یہ کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ہر ہاتھ کو دوسرے پر پھیرا اور دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیر لیا۔ اس میں مزید یہ الفاظ بھی ہیں: ایک دفعہ ابو معاویہ نے یہ طریقہ یوں بیان کیا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور دائیں کو بائیں پر ہتھیلیوں پر پھیرا اور پھر اپنے چہرے پر پھیر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 984

۔ (۹۸۴)۔ (ومِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ قَالَ: قَالَ أبومُوْسٰی لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ: اِنْ لَمْ نَجِدِ الْمَائَ لَا نُصَلِّیْ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: نَعَمْ، اِنْ لَمْ نَجِدِ الْمَائَ شَہْرًا لَمْ نُصَلِّ، وَلَوْ رَخَّصْتُ لَہُمْ فِیْ ھٰذَا کَانَ اِذَا وَجَدَ أَحَدُہُمُ الْبَرَدَ، قَالَ ہٰکذا یَعْنِیْ تَیَمَّمَ وَصَلّٰی، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَأَیْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ؟ قَالَ: اِنِّیْ لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۲۰)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابو موسی ؓ نے سیدنا عبد اللہ ؓ سے کہا: اگر ہمیں پانی نہ ملے (جبکہ ہم جنبی ہوں) تو کیا نماز نہیں پڑھیں گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اگر ایک ماہ تک بھی پانی نہ ملے تو ہم نماز نہیں پڑھیں گے، اگر میں اس معاملے میں لوگوں کو رخصت دے دوں تو جو کوئی آدمی سردی محسوس کرے گا، وہ تیمم کر کے نماز پڑھنا شروع کر دے گا۔ سیدنا ابو موسیؓ نے کہا: تو پھر وہ بات کہاں جائے گی جو سیدنا عمار ؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہی تھی؟ انھوں نے کہا: وہ تو سیدنا عمرؓ نے سیدنا عمارؓ کے قول پر قناعت ہی نہیں کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 985

۔ (۹۸۵)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنَّا نَمْکُثُ الشَّہْرَ وَالشَّہْرَیْنِ لَا نَجِدُ الْمَائَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَکُنْ لِأُصَلِّیَ حَتّٰی أَجِدَ الْمَائَ، فَقَالَ عَمَّارٌ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! تَذْکُرُ حَیْثُ کُنَّا بِمَکَانِ کَذَا کَذَا وَنَحْنُ نَرْعَی الْاِبِلَ فَتَعْلَمُ أَنَّنَا أَجْنَبْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّیْ تَمَرَّغْتُ بِالتُّرَابِ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثْتُہُ فَضَحِکَ وَقَالَ: ((کَانَ الصَّعِیْدُ کَافِیَکَ۔)) وَضَرَبَ بِکَفَّیْہِ الْاََرْضَ ثُمَّ نَفَخَ فِیْہِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَبَعْضَ ذِرَاعَیْہِ۔ قَالَ: اِتَّقِ اللّٰہَ، یَا عَمَّارُ! قَالَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْکُرْہُ مَا عِشْتُ أَوْ مَا حَیِیْتُ، قَالَ: کَلَّا وَاللّٰہِ، وَلٰکِنْ نُوَلِّیْکَ مِنْ ذٰلِکَ مَا تَوَلَّیْتَ۔ (مسند أحمد: ۱۹۰۸۸)
عبد الرحمن بن ابزی کہتے ہیں: ہم سیدنا عمر ؓ کے پاس تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم ایک ایک اور دو دو ماہ ٹھہرتے ہیں اور پانی نہیں پاتے؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: رہا مسئلہ میرا، تو میں تو اس وقت تک نماز نہیں پڑھوں گا، جب تک مجھے پانی نہیں ملے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمار ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کو یاد ہو گا کہ جب ہم فلاں جگہ پر اونٹ چرا رہے تھے اور ہمیں جنابت لاحق ہو گئی تھی۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمار ؓ نے کہا: پس میں مٹی میں لیٹا تھا اور جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آکر یہ بات ذکر کی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہنس پڑے تھے اور فرمایا تھا: تجھے مٹی ہی کافی تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری اور ان کو اپنے چہرے اور بازوؤں کے بعض حصوں پر پھیر دیا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے عمار! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا: اے امیرے المؤمنین! اگر آپ چاہتے ہیں تو میں زندگی بھر یہ چیز بیان نہیں کروں گا، سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! تم جس چیز کی ذمہ داری خودلینا چاہتے ہو، ہم تم کو اس کا ذمہ دار بنا دیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 986

۔ (۹۸۶)۔عَنْ عَمَّارِبْنِ یَاسِرٍؓ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّیَمُّمِ، فَقَالَ: ((ضَرْبَۃٌ لِلْکَفَّیْنِ وَالْوَجْہِ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ) اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ فِیْ التَّیَمُّمِ: ((ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ)) (مسند أحمد: ۱۸۵۰۹)
سیدنا عمار بن یاسرؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے تیمم کے بارے میں سوال کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہتھیلیوں اور چہرے کے لیے ایک ضرب ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تیمم کے بارے میں فرمایا: چہرے اور ہتھیلیوں کے لیے ایک ضرب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 987

۔ (۹۸۷)۔عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَسَارٍ مَوْلَی مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی دَخَلْنَا عَلَی أَبِیْ جُہَیْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّۃِ الْأَنْصَارِیِّؓ، قَالَ أَبُوْجُہَیْمٍ: أَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ نَحْوِ بِئْرِجَمَلٍ فَلَقِیَہُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أقَبْلَ عَلَی الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْہِہِ وَیَدَیْہِ ثُمَّ رَدَّ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۴۲۷۷)
مولائے ابن عباس عمیر کہتے ہیں: میں اور مولائے میمونہ عبد اللہ بن یسار گئے اور سیدنا ابو جہیم بن حارث انصاری پر داخل ہوئے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بئرِ جمل کی طرف سے آ رہے تھے کہ ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ملا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو جواب نہ دیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مسح کیا اور پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 988

۔ (۹۸۸)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِیْ، بُعِثْتُ اِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَکَانَ النَّبِیُّ اِنَّمَا یُبْعَثُ اِلَی قَوْمِہِ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِیْ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِیْرَۃِ شَہْرٍ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاََرْضُ طَہُوْرًا وَمَسْجِدًا، فَأَیُّمَا رَجُلٍ أَدْرَکَتْہُ الصَّلوٰۃُ فَلْیُصَلِّ حَیْثُ أَدْرَکَتْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۳۱۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے ایسی پانچ چیزیں دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے ہر نبی کو خاص طور پر اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے، میرے لیے غنیمتیں حلال قرار دی گئیں، جبکہ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں تھیں، ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے زمین کو پاک کرنے والا اور مسجد بنا دیا گیا ہے، پس جس آدمی کو نماز جہاں بھی پا لیتی ہے، وہ وہیں نماز پڑھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 989

۔ (۹۸۹)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((جُعِلَتِ الْاََرْضُ کُلُّہَا لِیْ وَلِأُمَّتِیْ مَسْجِدًا وَطَہُوْرًا، فَأَیْنَمَا أَدْرَکَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِیْ الصَّلوٰۃُ فَعِنْدَہُ مَسْجِدُہُ وَعِنْدَہُ طَہُوْرُہُ)) (مسند أحمد: ۲۲۴۸۸)
سیدنا ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ساری زمین میرے لیے اور میری امت کے لیے مسجد اور پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے، پس میری امت کے جس فرد کو نماز جہاں بھی پا لے، تو اس کے پاس اس کی مسجد اور پاک کرنے والی چیز موجود ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 990

۔ (۹۹۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُوْتِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاََرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُوْرًا۔)) (مسند أحمد: ۹۷۰۳)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ہیں اور زمین کو میرے لیے مسجد اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 991

۔ (۹۹۱)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُعْطِیْتُ مَالَمْ یُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِیَائِ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاہُوَ؟ قَالَ: ((نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ الْاََرْضِ وَسُمِّیْتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِیْ طَہُوْرًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِیْ خَیْرَ الْأُمَمِ۔)) (مسند أحمد: ۷۶۳)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے وہ چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، مجھے زمین کی چابیاںعطا کی گئی ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لیے پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے اور میری امت کو سب سے بہترین امت بنایا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 992

۔ (۹۹۲)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((جُعِلَتْ لِیَ الْاََرْضُ مَسَاجِدَ وَطَہُوْرًا، أَیْنَمَا أَدْرَکَتْنِیَ الصَّلوۃُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّیْتُ وَکَانَ مِنْ قَبْلِیْ یُعَظِّمُوْنَ ذٰلِکَ، اِنَّمَا کَانُوْا یُصَلُّون فِیْ کَنَائِسِہِمْ وَبِیَعِہِمْ)) (مسند أحمد: ۷۰۶۸)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے لیے زمین کو مسجد اور پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے، نماز جہاں بھی مجھے پا لے، میں تیمم کر کے نماز پڑھ لوں گا، جبکہ مجھ سے پہلے والے لوگوں پر یہ عمل دشوار گزرتا تھا، وہ صرف اپنے گرجا گھروں اور کلیساؤں میں نماز پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 993

۔ (۹۹۳)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَخْرُجُ فَیُہْرِیْقُ الْمَائَ فَیَتَمَسَّحُ فَأَقُوْلُ: اِنَّ الْمَائَ مِنْکَ قَرِیْبٌ فَیَقُوْلُ: ((وَمَا اَدْرِیْ لَعَلِّیْ لَا أَبْلُغُہُ)) (مسند أحمد: ۲۷۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نکلتے تھے اور پیشاب کر کے تیمم کر لیتے تھے، جب میں کہتا کہ پانی آپ کے قریب ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فرماتے: میں نہیں جانتا، شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 994

۔ (۹۹۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ أَکُوْنُ فِی الرَّمْلِ أَرْبَعَۃَ أَشْہْرٍ أَوْ خَمْسَۃَ أَشْہُرٍ فَیَکُوْنُ فِیْنَا النُّفَسَائُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ فَمَا تَرٰی؟ قَالَ: ((عَلَیْکَ بِالتُّرَابِ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۳۳)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدّو ، نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں چار پانچ پانچ مہینوں تک صحراء میں ہوتا ہوں اور ہم میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگ بھی ہوتے ہیں، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو مٹی کو لازم پکڑ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 995

۔ (۹۹۵)۔ عَنْ نَاجِیَۃَ الْعَنَزِیِّ قَالَ: تَدَارَاَ عَمَّارُ (بْنُ یَاسِرٍ) وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍؓ فِی التَّیَمُّمِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَوْ مَکَثْتُ شَہْرًا لَا أَجِدُ فِیْہِ الْمَائَ لَمَا صَلَّیْتُ، فَقَالَ لَہُ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْکُرُ اِذْ کُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِی الْاِبِلِ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّکْتُ تَمَعُّکَ الدَّابَّۃِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِیْ صَنَعْتُ فَقَالَ: ((اِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْکَ التَّیَمُّمُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۰۵)
ناجیہ عنزی کہتے ہیں: تیمم کے سلسلے میں سیدنا عمار بن یاسر ؓاور سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓکا ایک دوسرے سے اختلاف ہو گیا، سیدنا عبد اللہ نے کہا: اگر مجھے ایک ماہ تک ٹھہرنا پڑے اور پانی نہ ملے تومیں تو نماز نہیں پڑھوں گا۔ سیدنا عمارؓ نے ان سے کہا: کیا تم کو یاد ہے کہ جب میں اور تم اونٹوں میں تھے اور مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے میں چوپائے کی طرح مٹی میں لیٹا تھا، پھر جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اپنے کیے کی خبر دی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف تجھے تیمم کافی تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 996

۔ (۹۹۶)۔عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍؓ قَالَ: أَجْنَبَ رَجُلَانِ فَتَیَمَّمَ أَحَدُہُمَا فَصَلّٰی وَلَمْ یُصَلِّ الْأَخَرُ، فَأَتَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَعِبْ عَلَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۱۹۰۳۸)
سیدنا طارق بن شہابؓ کہتے ہیں: دو آدمیوں کو جنابت لاحق ہو گئی، ان میں سے ایک نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور دوسرے نے نماز نہ پڑھی، پس جب وہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کسی پر عیب نہیں لگایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 997

۔ (۹۹۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَہُ جُرْحٌ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُمِرَ بِالْاِغْتِسَالِ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((قَتَلُوْہُ قَتَلَہُمُ اللّٰہُ، أَلَمْ یَکُنْ شِفَائُ الْعِیِّ السِّؤَالَ۔)) (مسند أحمد: ۳۰۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی عہد ِ نبوی میں زخمی ہو گیا، پس اس کو (جنابت کی وجہ سے) غسل کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ اس غسل سے فوت ہو گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگوں نے اُس کو قتل کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ اِن کو ہلاک کرے، کیا جہالت کی شفا سوال میں نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 998

۔ (۹۹۸)۔عن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِؓ أَنَّہُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: احْتَلَمْتُ فِیْ لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ شَدِیْدَۃِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ اِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَہْلِکَ فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ بِأَصْحَابِیْ صَلَاۃَ الصُّبْحِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ((یَا عَمْرُو! صَلَّیْتَ بِأَصْحَابِکَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ احْتَلَمْتُ فِیْ لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ شَدِیْدَۃِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ اِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَہْلِکَ وَذَکَرْتُ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ {وَلَا تَقْتُلُوْا أَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا} فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ، فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا۔ (مسند أحمد: ۱۷۹۶۵)
سیدنا عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو ذات السلاسل والے سال بھیجا، ہوا یوں کہ مجھے شدید سردی والی رات کو احتلام ہو گیا، اب میں ڈرنے لگا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، سو میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو نماز ِ فجر پڑھائی، جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس واپس آئے تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے عمرو! کیا تو نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے سخت سردی والی رات کو احتلام ہو گیا تھا اور میں ڈرنے لگا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا اور مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد آ گیا: اور اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تمہاے ساتھ بے حد رحم کرنے والا ہے۔ پس میں نے تیمم کر کے لوگوں کو نماز پڑھا دی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسکرا پڑے اور مزید کچھ نہ کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 999

۔ (۹۹۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمٰعِیْلُ ثَنَا أَیُّوْبُ عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ عَامِرٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ بَنِیْ قُشَیْرٍ) قَالَ: کُنْتُ کَافِرًا فَہَدَانِیَ اللّٰہُ لِلْاِسْلَامِ وکُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَائِ وَمَعِیَ أَہْلِیْ فَتُصِیْبُنِیْ الْجَنَابَۃُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلَا أَجِدُ الْمَائَ فَأَتَیَمَّمُ) فَوَقَعَ ذٰلِکَ فِیْ نَفْسِیْ وَقَدْ نُعِتَ لِیْ أَبُوْ ذَرٍّ فَحَجَجْتُ فَدَخَلْتُ مَسْجِدَ مِنًی فَعَرَفْتُہُ بِالنَّعْتِ فَاِذَا شَیْخٌ مَعْرُوْقٌ آدَمُ عَلَیْہِ حُلَّۃٌ قِطْرِیٌّ فَذَہَبْتُ حَتَّی قُمْتُ اِلٰی جَنْبِہِ وَھُوَ یُصَلِّیْ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ، ثُمَّ صَلّٰی صَلَاۃً أَتَّمَہَا وَأَحْسَنَہَا وَأَطْوَلَہَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَدَّ عَلَیَّ، قُلْتُ: أَنْتَ أَبُوْذَرٍّ؟ قَالَ: اِنَّ أَہْلِیْ لَیَزْعُمُوْنَ ذٰلِکَ، قَالَ: کُنْت کَافِرًا فَہَدَانِیَ اللّٰہُ لِلْاِسْلَامِ وَأَہَمَّنِی دِیْنِیْ وَکُنْت أَعْزُبُ عَنْ الْمَائِ وَمَعِیْ أَہْلِیْ فَتُصِیْبُنِیْ الْجَنَابَۃُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلَبِثْتُ أَیَّامًا أَتَیَمَّمُ) فَوَقَعَ ذٰلِکَ فِیْ نَفْسِیْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَأَشْکَلَ عَلَیَّ) قَالَ: ھَلْ تَعْرِفُ أَبَا ذَرٍّ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّی اجْتَوَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ، قَالَ أَیُّوْبُ: أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا، فَأَمَرَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِذَوْدٍ مِنْ اِبِلٍ وَغَنَمٍ، فَکُنْتُ أَکُوْنُ فِیْھَا فکُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَائِ وَمَعِیْ أَہْلِیْ فَتُصِیْبُنِی الْجَنَابَۃُ فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ أَنِّیْ قَدْ ہَلَکْتُ فَقَعَدْتُ عَلَی بَعِیْرٍ مِنْہَا، فَانْتَہَیْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِصْفَ النَّہَارِ وَھُوَ جَالِسٌ فِیْ ظِلِّ الْمَسْجِدِ فِیْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ فَنَزَلَتُ عَنِ الْبَعِیْرِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَالَ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! أَبُوْ ذَرٍّ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ وقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلَکُتُ، قَالَ: ((وَمَا أَہْلَکَکَ؟)) فَحَدَّثْتُہُ فَضَحِکَ فَدَعَا اِنْسَانًا مِنْ أَہْلِہِ فَجَائَ تْ جَارِیَۃٌ سَوْدَائُ بِعُسٍّ فِیْہِ مَائٌ مَا ہُوَ بِمَلْآنَ اِنَّہُ لَیَتَخَضْخَضُ فَاسْتَتَرْتُ بِالْبَعِیْرِ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ فَسَتَرَنِیْ، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَیْتُہُ، فَقَالَ: ((اِنَّ الصَّعِیْدَ الطَّیِّبَ طَہُوْرٌ مَا لَمْ تَجِدِ الْمَائَ وَلَوْ اِلٰی عَشْرِ حِجَجٍ، فَاِذَا وَجَدْتَ الْمَائَ فَأَمِسَّ بَشَرَتَکَ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَأَمْسِسْہُ بَشَرَتَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۲۹)
بنو عامر کا ایک آدمی (عمرو بن بجدان) کہتا ہے: میں کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی، میں پانی سے دور تھا، جبکہ میری بیوی میرے ساتھ تھی، پس مجھے جنابت لاحق ہو جاتی تھی اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کرتا تھا، لیکن میرے دل میں شبہ سا پیدا ہوا اور سیدنا ابو ذر ؓ کے بارے میں بتلایا گیا، پس میں نے حج کیا اور مسجد ِ مِنٰی میں داخل ہوا اور اُن کو اُن کی صفات کی روشنی میں پہنچان لیا، وہ دبلے پتلے اور گندمی رنگ کے بزرگ تھے اور قطری حلہ زیب ِ تن کیا ہوا تھا، پس میں چلا، یہاں تک کہ میں ان کے پہلو کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور ان کو سلام کہا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے، اس لیے انھوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، انھوں نے مکمل، خوبصورت اور طویل نماز پڑھی، جب وہ فارغ ہوئے تو میرے سلام کا جواب دیا، میں نے کہا: آپ ابو ذر ہیں؟ انھوں نے کہا: جی میرے اہل کا یہی خیال ہے (کہ میں ابو ذر ہوں)۔ میں نے کہا: میں کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دی ہے، لیکن میرے دین نے مجھے بے چین کیا ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ میں پانی سے دور ہوں اور میرے ساتھ میری بیوی بھی ہے، اس لیے مجھے جنابت لاحق ہو جاتی ہے اور کئی دنوں تک تیمم کرتا رہتا ہوں، اس سے میرے دل میں کھٹکا سا پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا: کیا تم ابو ذر کو پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے کہا: مدینہ منورہ کی آب و فضا مجھے موافق نہ آئی، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرے لیے چند اونٹوں اور بکریوں کا حکم دیا، پس میں ان میں ہوتا تھا اور پانی سے دور ہوتا تھا، جبکہ میرے ساتھ میری بیوی بھی ہوتی تھی، اس وجہ سے جنابت بھی لاحق ہو جاتی تھی، پس اس وجہ سے میرے دل میں کھٹکا سا پیدا ہوا، سو میں اونٹ پر بیٹھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس پہنچ گیا، یہ نصف النہار کا وقت تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ صحابہ کے ایک گروہ میں مسجد کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، پس میں اونٹ سے اترا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: سبحان اللہ! ابو ذر؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ساری بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسکرائے اور اپنے گھر والوں میں سے میں ایک انسان کو بلایا، تو کالے رنگ کی ایک لونڈی پانی کا بڑا پیالہ لے کر آئی، وہ بھراہوا نہیں تھا اور اس میں پانی چھلک رہا تھا، پس میں نے اونٹ کے ساتھ پردہ کیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے قوم میں سے ایک آدمی کو حکم دیا اور اس نے میرے سامنے پردہ کیا، پس میں نے غسل کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک پاک مٹی اس وقت تک پاک کرنے والی ہے، جب تک تجھے پانی نہ ملے، اگرچہ دس سال نہ ملے، پھر جب تو پانی پا لے تو اس کو اپنے چمڑے پر لگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1000

۔ (۱۰۰۰)۔عَنْ عَمْروِ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ یَغِیْبُ لَا یَقْدِرُ عَلَی الْمَائِ أَیُجَامِعُ أَہْلَہُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۹۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی دور چلا جاتا ہے اور پانی کو حاصل کرنے پر قدرت نہیں رکھتا، کیا وہ اپنی بیوی سے جماع کر سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1001

۔ (۱۰۰۱)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عن أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّہَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَائَ قِلَادَۃً فَہَلَکَتْ، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رِجَالًا فِیْ طَلْبِہَا فَوَجَدُوْہَا، فَأَدْرَکَتْہُمُ الصَّلَاۃُ وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ فَصَلَّوْا بِغَیْرِ وُضُوْئٍ فَشَکَوْا ذٰلِکَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ التَّیَمُّمَ، فَقَالَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ لِعَائِشَۃَ: جَزَاکِ اللّٰہُ خَیْرًا، فَوَاللّٰہِ! مَا نَزَلَ بِکِ أَمْرٌ تَکْرَہِیْنَہُ اِلَّا جَعَلَ اللّٰہُ لَکِ وَلِلْمُسْلِمِیْنَ فِیْہِ خَیْرًا۔ (مسند أحمد: ۲۴۸۰۳)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ اسماءؓ سے ایک ہار بطورِ استعارہ لیا تھا، تو وہ گم ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کچھ افراد کو اس کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، ان کو وہ مل گیا، لیکن نماز نے ان کو اس حال میں پا لیا کہ ان کے پانی نہیں تھا، پس انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف یہ شکایت کی، پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی رخصت نازل کر دی، سیدنا اسید بن حضیر ؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اللہ تعالیٰ تم کو جزائے خیر دے، جب بھی تمہارا کوئی ایسا معاملہ بنتا ہے، جس کو تم ناپسند کرتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس میں تمہارے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر و بھلائی بنا دیتا ہے۔

آیت نمبر