MUSNAD AHMED

Search Results(1)

2)

2) ایمان اور اسلام کی کتاب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 51

۔ (۵۱)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَیُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ وَ أَیُّ الْأَعْمَالِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((إِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ۔))، قَالَ: ثُمَّ أَیٌّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((الْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ سَنَامُ الْعَمَلِ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَیٌّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۸۵۰)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا گیا: کون سا عمل سب سے زیادہ فضلیت والا اور کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے بعد کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد ، جو کہ افضل اور اشرف عمل ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا، اے اللہ کے رسول!؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حج مبرور۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 52

۔ (۵۲)۔عَنْ عَمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَاتَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ قِیْلَ لَہُ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ شِئْتَ۔)) (مسند أحمد: ۹۷)
سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے کہا جائے گا: تو جنت کے آٹھ دروازوں میں جس دروازے سے چاہتا ہے، داخل ہو جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 53

۔ (۵۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَ بُو النَّضْرِ ثَنَا عَبْدُالْحَمِیْدِ یَعْنِی بْنَ بِہْرَامَ ثَنَا شَہْرٌ (یَعْنِی بْنَ حَوْشَبٍ) ثَنَا ابْنُ غَنْمٍ عَنْ حَدِیْثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (ؓ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ بِالنَّاسِ قَبْلَ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ،فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ صَلّٰی بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الصُّبْحِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَکِبُوْا، فَلَمَّا أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ نَعَسَ النَّاسُ فِی أَثَرِ الدُّلْجَۃِ وَلَزِمَ مُعَاذٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتْلُوْ أَثَرَہُ وَ النَّاسُ تَفَرَّقَتْ بِہِمْ رِکَابُہُمْ عَلَی جَوَادِّ الطَّرِیْقِ تَأْکُلُ وَ تَسِیْرُ، فَبَیْنَمَا مُعَاذٌ عَلَی أَثَرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ نَاقَتُہُ تَأْکُلُ مَرَّۃً وَ تَسِیْرُ أُخْرٰی عَثَرَتْ نَاقَۃُ مُعَاذٍ فَکَبَحَہَا بِالزِّمَامِ فَہَبَّتْ حَتَّی نَفَرَتْ مِنْہَا نَاقَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَشَفَ عَنْہُ قِنَاعَہُ فَالْتَفَتَ فَإِذَا لَیْسَ مِنَ الْجَیْشِ رَجُلٌ أَدْنٰی إِلَیْہِ مِنْ مُعَاذٍ،فَنَادَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا مُعَاذُ!۔)) قَالَ: لَبَّیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، قَالَ: ((أُدْنُ دُوْنَکَ۔))،فَدَنَا مِنْہُ حَتَّی لَصِقَتْ رَاحِلَتُہُمَا أَحَدَاہُمَا بِالْأُخْرٰی فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا کُنْتُ أَحْسِبُ النَّاسَ مِنَّا کَمَکَانِہِمْ مِنَ الْبُعْدِ۔))، فَقَالَ مُعَاذٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! نَعَسَ النَّاسُ فَتَفَرَّقَتْ بِہِمْ رِکَابُہُمْ تَرْتَعُ وَ تَسِیْرُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَ أَنَا کُنْتُ نَاعِسًا۔))، فَلَمَّا رَأَی مُعَاذٌ بُشْرٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہِ وَ خَلْوَتَہُ لَہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ائْذَنْ لِیْ أَسْأَلُکَ عَنْ کَلِمَۃٍ قَدْ أَمْرَضَتْنِیْ وَ أَسْقَمَتْنِیْ وَ أَحْزَنَتْنِیْ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((سَلْنِیْ عَمَّا شِئْتَ۔))، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! حَدِّثْنِیْ بِعَمَلٍ یُدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ لَا أَسْأَلُکَ عَنْ شَیْئٍ غَیْرِہٖ، قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَخٍ بَخٍ بَخٍ لَقَدْ سَأَلْتَ بِعَظِیْمٍ لَقَدْ سَأَلْتَ بِعَظِیْمٍ۔)) ثَـلَاثًا، ((وَ إِنَّہُ لَیَسِیْرٌ عَلَی مَنْ اَرَادَ اللّٰہُ بِہِ الْخَیْرَ۔)) فَلَمْ یُحَدِّثْہُ بِشَیْئٍ إِلَّا قَالَہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ یَعْنِیْ أَعَادَہُ عَلَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِرْصًا لِکَیْمَا یُتْقِنُہُ عَنْہُ فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُوْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ وَ تُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَ تَعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہُ لَا تُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا حَتّٰی تَمُوْتَ وَ أَنْتَ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَعِدْ لِیْ، فَأَعَادَہَا لَہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ یَا مُعَاذُ بَرَأْسِ ہٰذَا الْأَمْرِ وَ ذِرْوَۃِ سَنَامِہِ۔)) فَقَالَ مُعَاذٌ: بَلٰی بِأَبِیْ وَ أُمِّیْ أَنْتَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ فَحَدِّثْنِیْ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ ہَذَا الْأَمْرَ أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ، وَأَن قِوَامَ ہَذَا الْأَمْرِ إِقَامُ الصَّـلَاۃِ وَ إِیْتَائُ الزَّکَاۃِ، وَأَنَّ ذِرْوَۃَالسَّنَامِ مِنْہُ الْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یُقِیْمُوا الصَّـلَاۃَ وَ یُؤْتُوا الزَّکَاۃَ وَ یَشْہَدُوْا أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ فَقَدِ اعْتَصَمُوْا وَ عَصَمُوْا دِمَائَہُمْ وَ أَمْوَالَہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔))،وَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا شَحَبَ وَجْہٌ وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِی عَمَلٍ تُبْتَغَی فِیْہِ دَرَجَاتُ الْجَنَّۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ الْمَفْرُوْضَۃِ کَجِہَادٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَلَا ثَقَّلَ مِیْزَانَ عَبْدٍ کَدَابَّۃٍ تَنْفُقُ لَہُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ یَحْمِلُ عَلَیْہَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۷۳)
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک سے قبل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ لوگوں کو لے کر نکلے، جب صبح ہوئی تو نمازِ فجر پڑھائی اور لوگ پھر سوار ہوئے اور چل پڑے، جب سورج طلوع ہوا تو رات کو چلتے رہنے کی وجہ سے لوگ اونگھنے لگ گئے، جبکہ سیدنا معاذ ؓ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کے ساتھ ہی رہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے پیچھے چلتے رہے، جبکہ لوگ سواریوں کو چرانے کے لیے ان کو لے کر بڑے راستوں کی طرف الگ الگ ہو گئے، بہرحال اُدھر سیدنا معاذؓ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے چل رہے تھے، ان کی اونٹنی چرتی بھی گئی اور چلتی بھی رہی، اچانک وہ پھسل پڑھی، سیدنا معاذؓ نے لگام کھینچی، لیکن وہ دوڑنے لگی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی بھی اس کی وجہ سے بدکنے لگی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر سے کپڑا اٹھایا اور پیچھے متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ پورے لشکر میں سے سیدنا معاذ ؓہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قریب ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو آواز دیتے ہوئے فرمایا: اے معاذ! انھوں نے کہا: جی میں حاضر ہوں، اے اللہ کے نبی! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اتنے قریب ہو گئے کہ ایک سواری دوسری کے ساتھ مل گئی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرا یہ خیال تو نہیں تھا کہ لوگ اس قدر ہم سے دور رہ جائیں گے۔ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! لوگوں کو اونگھ آنے لگ گئی اور ان کی سواریاں چرنے کے لیے دور دور تک بکھر گئیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں بھی اونگھ رہا ہوں۔ بہرحال جب سیدنا معاذؓ نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کے ساتھ خوش ہیں اور ان کے ساتھ خلوت میں ہیں تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک ایسی بات پوچھ لینے کی اجازت دیں، جس نے مجھے بیمار اور پریشان کر رکھا ہے۔ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو چاہتے ہو، سوال کر لو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے ایسا عمل بتا دیں کہ جو مجھے جنت میں داخل کر دے میں آپ سے اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے سوال نہیں کرتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: واہ، واہ، واہ،تم نے بڑے عمل کے بارے میں سوال کر دیا ہے، تم نے تو بڑے عمل کے بارے میں سوال کر دیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تین دفعہ یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: لیکن یہ عمل اس آدمی کے لیے آسان ہے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مزید کوئی بات بیان نہ کی، البتہ ان ہی الفاظ کو تین دفعہ دوہرایا تاکہ سیدنا معاذؓاس کو اچھی طرح یاد کر لیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: (وہ عمل یہ ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ اورآخرت کے دن پر ایمان لاؤ، نماز قائم کرو، صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ (اور پھر تم اس سلسلے کو جاری رکھو) یہاں تک کہ اسی پر وفات پا جاؤ۔ انھوںنے آگے سے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ بات دوبارہ ارشاد فرماؤ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تین دفعہ دوہرا دی، پھر اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے معاذ! اگر تم چاہتے ہو تو میں اس دین کی اصل اور اس کی کوہان کی چوٹی کی وضاحت کر دیتا ہوں۔ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے بیان کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس دین کی اصل یہ ہے کہ تم یہ گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہوں، اور اس دین کا سہارا اور ستون یہ ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اس کی کوہان کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے، مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے سے قتال کروں، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ وہ نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں اور یہ شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ یکتا و یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں، جب لوگ یہ امور سر انجام دیں گے تو وہ خود بھی بچ جائیں گے اور اپنے خونوں اور مالوں کو بھی بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مزید فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! فرضی نماز کے بعد جنت کے درجات کو پانے کیلئے جہاد فی سبیل اللہ ہی ایک ایسا عمل ہے، جس میں چہرے کو متغیر کیا جائے اور قدموں کو خاک آلود کیا جائے او ربندے کے ترازو کو سب سے زیادہ بھاری کرنے والا یہ عمل ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے میں کوئی چوپایہ خرچ کرو یا اللہ کے راستے میں کسی کو سواری دے دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 54

۔ (۵۴)۔عَنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُوہُرَیْرَۃَؓ إِذْ ذَاکَ وَ نَحْنُ بِالْمَدِیْنَۃِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِیئُ الْأَعْمَالُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَتَجِیئُ الصَّلَاۃُ فَتَقُوْلُ: یَا رَبِّ! أَنَاالصَّلَاۃُ، فَیَقُوْلُ: إِنَّکِ عَلٰی خَیْرٍ، فَتَجِیئُ الصَّدَقَۃُ فَتَقُوْلُ: یَا رَبِّ! أَنَا الصَّدَقَۃُ،فَیَقُوْلُ: إِنَّکِ عَلٰی خَیْرٍ،ثُمَّ یَجِیئُ الصِّیَامُ فَیَقُوْلُ: أَیْ رَبِّ! أَنَا الصِّیَامُ، فَیَقُوْلُ: إِنَّکَ عَلٰی خَیْرٍ، ثُمَّ یَجِیئُ الْأَعْمَالُ عَلٰی ذٰلِکَ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّکَ عَلٰی خَیْرٍ، ثُمَّ یَجِیئُ الْإِسْلَامُ فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! أَنْتَ السَّلَامُ وَ أَنَا الْإِسْلَامُ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: إِنَّکَ عَلٰی خَیْرٍ، بِکَ الْیَوُمَ آخُذُ وَ بِکَ أُعْطِیْ، فَقَالَ اللّٰہُ فِی کِتَابِہِ: {وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الْآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ}۔)) (مسند أحمد: ۸۷۲۷)
حسن بصری کہتے ہیں: ہم مدینہ منورہ میں تھے کہ سیدنا ابوہریرہؓ نے ہمیں بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت والے دن اعمال آئیں گے، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) نماز آئے گی اور کہے گی: اے میرے ربّ! میں نماز ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے۔ اسی طرح صدقہ آ کر کہے گا: اے میرے ربّ! میں صدقہ ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے۔ پھر روزہ آ کر کہے گا: اے میرے ربّ! میں روزہ ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے۔ پھر دوسرے اعمال آئیں گے اور اللہ تعالیٰ یہی کہتا رہے گا کہ تم خیر پر ہو، پھر اسلام آئے گااور کہے گا: اے میرے ربّ! تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں، اللہ تعالیٰ کہے گا: بیشک تو خیر پر ہے اورتیرے ذریعے آج میں مؤاخذہ کروں گا اور تیرے ذریعے عطا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا: {وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الْآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ}… جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہو گا۔ (سورۂ آل عمران: ۸۵)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 55

۔ (۵۵)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ ذَاتَ یَوْمٍ عِنْدَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیْدُ بَیَاضِ الثِّیَابِ شَدِیْدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لَا یُرَی(وَفِی رِوَایَۃٍ لَا نَرَی) عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا یَعْرِفُہُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّی جَلَسَ إِلَی نَبِیِّ اللّّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلٰی فَخِذَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْإِسْلَامِ مَا الْاِسْلَامُ؟ فَقَالَ: (( الْاِسْلَامُ أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ تُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیَ الزَّکٰوۃَ وَ تَصُوْمَ رَمَضَانَ وَ تَحُجَّ الْبَیْتَ إِنِِِِِِِِِِ اسْتَطَعْتَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا۔))، قَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجِبْنَا لَہُ یَسْأَلُہُ وَ یُصَدِّقُہُ ،قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْإِیْمَانِ، قَالَ: ((الْإِیْمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَ مَلَائِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رُسُلِہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ وَ الْقَدْرِ کُلِّہِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔))، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِیْ عَنِ الْإِحْسَانِ مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: ((أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ۔))، قَالَ: فَأَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ، قَالَ: ((مَا الْمَسْئُولُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ بِہَا مِنَ السَّائِلِ۔))، قَالَ: فَأَخْبِرْنِیْ عَنِ أَمَارَاتِہَا، قَالَ: ((أَنْ تَلِدَ الْأَمَۃُ رَبَّتَہَا وَ أَنْ تَرَی الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ رِعَائَ الشَّائِ یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبِنَائِ۔))، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ، قَالَ: فَلَبِثَ مَلِیًّا، (وَفِی رِوَایَۃٍ فَلَبِثَ ثَلَاثًا) فَقَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عُمَرُ! أَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ؟)) قُلْتُ: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَإِنَّہُ جِبْرِیْلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۳۶۷)
سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ہمارے پاس ایک آدمی آیا، اس کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور بال بہت زیادہ سیاہ تھے، نہ تو اس پر سفر کی کوئی علامت نظر آ رہی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا، بہرحال وہ آیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس اس طرح بیٹھ گیا کہ اپنے گھٹنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوں کے ساتھ ملا دیئے اور اپنے ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی رانوں پر رکھ دیئے اور کہا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتاؤ کہ اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے، زکوۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔ اس نے آگے سے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ یہ شخص سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ بہرحال اس نے پھر سوال کیا اور کہا: آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالی، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور ساری کی ساری تقدیر، وہ اچھی ہو یا بری، پر ایمان لائے۔ اس نے کہا: جی، آپ نے سچ کہا ہے۔ اس نے تیسرا سوال کرتے ہوئے کہا: اب آپ مجھے احسان کے بارے میں بتائیں، احسان کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اور اگر تو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے پھر سوال کیا: آپ مجھے قیامت کے بارے میں بتائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسئول، قیامت کے بارے میں سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا۔ اس نے کہا: تو پھر آپ مجھے اس کی علامتوں کے بارے میں بتا دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ یہ ہیں: لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی، تو دیکھے گا کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسموں والے بکریوں کے چرواہے عمارتوں پر غرور کریں گے۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں: پھر وہ بندہ چلا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کچھ زمانے، ایک روایت کے مطابق تین دنوں تک اس کے بارے میں خاموش رہے اور پھر مجھ سے فرمایا: عمر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سائل کون تھا؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ حضرت جبریلؑتھے، وہ تم لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 56

۔ (۵۶)۔عَنْ أَبِیْ عَامِرِ الْأَشْعَرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ وَ فِیْہِ: ثُمَّ وَلّٰی (أَیْ السَّائِلُ) فَلَمَّا لَمْ نَرَ طَرِیْقَہُ بَعْدُ قَالَ (أَیْ النَّبِیُّ) ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! ثَلَاثًا، ہَذَا جِبْرِیْلُ جَائَ لِیُعَلِّمَ النَّاسَ دِیْنَہُمْ، وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ مَا جَائَ نِیْ قَطُّ إِلَّا وَ أَنَا أَعْرِفُہُ إِلَّا أَنْ تَکُوْنَ ہَذِہِ الْمَرَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۹۹)
سیدنا ابو عامر اشعریؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پھر وہ سوال کرنے والا آدمی چلا گیا، جب ہمیں اس کا کوئی راستہ نظر نہ آیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سبحان اللہ! سبحان اللہ! سبحان اللہ! (یعنی بڑا تعجب ہے) یہ جبرائیل ؑتھے جو لوگوں کو دین سکھلانے کے لیے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ جب بھی میرے پاس آتے تھے تو میں ان کو پہچانتا ہوتا تھا، ماسوائے اس دفعہ کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 57

۔ (۵۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَجْلِسًا لَہُ فَجَائَ جِبْرِیْلُؑ فَجَلَسَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاضِعًا کَفَّیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِی بِالْاِسْلَامِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((الْاِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْہَکَ لِلّٰہِ وَ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ۔))، قَالَ: إِذَا فَعَلْتُ ذَالِکَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: ((إِذَا فَعَلْتَ ذَالِکَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ۔))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ! فَحَدِّثْنِی مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((الْاِیْمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ الْمَلَائِکَۃِ وَ الْکِتَابِ وَ النَّبِیِّیْنَ وَ تُؤْمِنَ بِالْمَوْتِ وَ بِالْحَیَاۃِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَ تُؤْمِنَ بِالْجَنَّۃِ وَالنَّارِ وَ الْحِسَابِ وَالْمِیْزَانِ وَ تُوْمِنَ بِالْقَدْرِ کُلِّہِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔))قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَالِکَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ: ((إِذَا فَعَلْتَ ذَالِکَ فَقَدْ آمَنْتَ۔))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِی مَا الْاِحْسَانُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْاِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلّٰہِ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تَرَہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ۔))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَحَدِّثْنِی مَتَی السَّاعَۃُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! فِی خَمْسٍ مِنَ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا ہُوَ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ } وَلٰکِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ بِمَعَالِمَ لَہَا دُوْنَ ذَالِکَ۔))، قَالَ: أَجَلْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہَ فَحَدِّثْنِیْ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا رَأَیْتَ الْأَمَۃَ وَلَدَتْ رَبَّتَہَا أَوْ رَبَّہَا وَ رَأَیْتَ أَصْحَابَ الشَّائِ تَطَاوَلُوْا بِالْبُنْیَانِ وَ رَأَیْتَ الْحُفَاۃَ الْجِیَاعَ الْعَالَۃَ کَانُوْا رُئُ وْسَ النَّاسِ فَذَالِکَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَۃِ وَ أَشْرَاطِہَا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّائِ وَالْحُفَاۃُ الْجِیَاعُ الْعَالَۃُ؟ قَالَ: (( الْعَرَبُ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۲۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، اتنے میں جبرائیلؑآ گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ہتھیلیاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوں پر رکھ دیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں بیان کرو کہ وہ کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع کر دے اور یہ شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ انھوں نے کہا: جب میں یہ امور سرانجام دے دوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب تو یہ اعمال کرے گا تو تو مسلمان ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کِتَابُ پر، نبیوں پر، موت اور موت کے بعددوبارہ زندہ ہونے پر، جنت و جہنم پر، حساب اور میزان پر اور ساری کی ساری تقدیر پر، وہ اچھی ہو یا بری۔ انھوں نے کہا: جب میں یہ اعمال کروں گا تو مؤمن ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب تو ایسا کرے گا تو مؤمن ہو جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ تو بتلا د و کہ احسان کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح عمل کرے کہ گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے، پس اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو بیشک وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بیان کرو کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، اس کا تعلق تو غیب والی ان پانچ چیزوں سے ہے، جن کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ } (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میںمرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورۂ لقمان: ۳۴)، البتہ اگر تو چاہتا ہے تو میں تجھے اس کی علامتیں بیان کر دیتا ہوں۔ انھوں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بیان کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو دیکھے گا کہ لونڈی اپنی مالکہ یا آقا کو جنم دے گی اور بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کرنے لگیں گے اور ننگے پاؤں والے بھوکے اور فقیر لوگوں کے سردار بن جائیں گے، یہ قیامت کی علامتیں ہیں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکریوں کے چرواہوں اور ننگے پاؤں والے بھوکوں اور فقیروں سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عرب۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 58

۔ (۵۸)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ وَ فِیْہِ: ((وَ إِذَا کَانَتِ الْعُرَاۃُ الْحُفَاۃُ الْجُفَاۃُ ،وَ فِیْہِ: وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاۃُ الْبَہْمِ فِی الْبُنْیَانِ۔)) وَفِیْہِ بَعْدَ ذِکْرِ الْآیَۃِ زِیَادَۃُ: ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رُدُّوْا عَلَیَّ الرَّجُلَ۔))، فَأَخَذُوْا لِیَرُدُّوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا فَقَالَ: ((ہٰذَا جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ جَائَ لِیُعَلِّمَ النَّاسَ دِیْنَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۹۷)
سیدنا ابوہریرہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: جب ننگے جسموں اور ننگے پاؤں والے اکھڑ مزاج اور سنگ دل لوگ… اس میں مزید یہ الفاظ ہیں: جب چھوٹی چھوٹی بھیڑ بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کریں گے۔ آیت کے بعد یہ الفاظ بھی اس روایت میں ہیں: پھر وہ آدمی چلا گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس آدمی کو دوبارہ میرے پاس بلاؤ۔ لوگوں نے اسے تلاش کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس لانا چاہا، لیکن وہ سرے سے اسے دیکھ ہی نہ سکے (کہ کہاں گیا ہے)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ جبرائیلؑ تھے، جو لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 59

۔ (۵۹)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((الْإِسْلَامُ عَلَانِیَۃٌ وَالْإِیْمَانُ فِی الْقَلْبِ۔)) قَالَ: ثُمَّ یُشِیْرُ بِیَدِہِ إِلٰی صَدْرِہِ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ: ((التَّقْوَی ہٰہُنَا۔)) (مسند أحمد:۱۲۴۰۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام (اعضاء سے متعلقہ) علانیہ چیز ہے اور ایمان دل سے متعلقہ مخفی چیز ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے سینے کی طرف تین دفعہ اشارہ کیا اور پھر فرمایا: تقوی یہاں ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 60

۔ (۶۰)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کُنَّا قَدْ نُہِیْنَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ،فَکَانَ یُعْجِبُنَا أَنْ یَجِیْئَ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ الْعَاقِلُ فَیَسْأَلَہُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! أَتَانَا رَسُوْلُکَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّکَ تَزْعُمُ أَنَّ اللّٰہَ أَرْسَلَکَ، قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ؟ قَالَ: ((اللّٰہُ۔))، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: ((اللّٰہُ۔))، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ ہٰذِہِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِیْہَا مَا جَعَلَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ۔))، قَالَ: فَبِالَّذِی خَلَقَ السَّمَائَ وَ خَلَقَ الْأَرْضَ وَ نَصَبَ ہٰذِہِ الْجِبَالَ! آللّٰہُ أَرْسَلَکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: فَزَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِنَا وَ لَیْلَتِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَبِالَّّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: فَزَعَمَ رَسُوْلُکُ أَنَّ عَلَیْنَا زَکٰوۃً فِی أَمْوَالِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: وَ زَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا صَوْمَ شَہْرِ رَمَضَانَ فِی سَنَتِنَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، صَدَقَ۔)) قَالَ: فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا حَجَّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))،قَالَ: ثُمَّ وَلّٰی فَقَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَا أَزِیْدُ عَلَیْہِنَّ شَیْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْہُنَّ شَیْئًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَئِنْ صَدَقَ لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۸۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرنے سے ہی منع کر دیا گیا تھا، اس لیے ہمیں یہ بات پسند تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوالات کرے اور ہم سنیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتلایا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: تو پھر آپ بتلائیے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: ان پہاڑوں کو کس نے پیدا کر کے ان میں بہت کچھ رکھ دیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: تو پھر اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو پیدا کیا، زمین کو پیدا کیا اور ان پہاڑوں کو گاڑھا! کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بات بھی کی تھی کہ ایک دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے مالوں میں زکوۃ فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر ایک سال میں رمضان کے روزے بھی فرض ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان روزوں کا حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پھر کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ جو آدمی طاقت رکھتا ہو، اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ یہ سارا کچھ سن کر وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چل دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! میں ان (عبادات) میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو ضرور ضرور جنت میں داخل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 61

۔ (۶۱) (وَ عَنْہُ فِی أُخْرٰی)۔ بِنَحْوِ ہٰذَا وَزَادَ، قَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِہِ وَ أَنَا رَسُوْلُ مَنْ وَرَائِیْ مِنْ قَوْمِیْ، قَالَ: وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَۃَ أَخُو بَنِی سَعْدِ بْنِ بَکْرٍ۔ (مسند أحمد: ۱۲۷۴۹)
اسی (انسؓ) سے روایت میں ایک اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: میں آپ کی لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لایا ہوں اور میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والے افراد کا قاصد ہوں، بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 62

۔ (۶۲)۔عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ۔)) قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُنَّ؟ قَالَ: ((لَا۔)) وَسَأَلَہُ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ((صِیَامُ رَمَضَانَ۔)) قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ؟ قَالَ: ((لَا۔))قَالَ: وَذَکَرَ الزَّکَاۃَ، قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا؟ قَالَ: ((لَا۔))قَالَ: وَاللّٰہِ! لَا أَزِیْدُ عَلَیْہِنَّ وَلَا اَنْقُصُ مِنْہُنَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۹۰)
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا ور کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایک دن رات میں پانچ نمازیں۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر اس نے روزوں کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رمضان کے روزے۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر زکوۃ کا ذکر ہوا اور اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوۃ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔ بالآخر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان عبادات میں نہ کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 63

۔ (۶۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ مَا أَتَیْتُکَ حَتَّی حَلَفْتُ أَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُوْلَائِ أَنْ لَا آتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ ،وَجَمَعَ بَہْزٌ بَیْنَ کَفَّیْہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: حَتَّی حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِیْ ہَذِہِ أَنْ لَاآتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ) وَإِنِّی قَدْ جِئْتُ امْرَئً ا لَا أَعْقِلُ شَیْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہُ، وَإِنِّی أَسْئَلُکَ بِوَجْہِ اللّٰہِ بِمَ بَعَثَکَ رَبُّنَا إِلَیْنَا؟ قَالَ: ((بِالْاِسْلَامِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا آیَۃُ الْاِسْلَامِ؟ (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَمَا الْاِسْلَامُ؟) قَالَ: ((أَنْ تَقُوْلَ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ وَتَخَلَّیْتُ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ وَکُلُّ مُسْلِمٍ عَلٰی مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۹۹)
سیدنا معاویہ بن حیدہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس آنے سے پہلے اِن سے زیادہ قسمیں اٹھائیں تھیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے۔ بہز راوی نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے اشارہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ میں نے ان اپنی انگلیوں کی تعداد جتنی قسمیں اٹھائیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے، بہرحال اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں، جبکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جسے کسی چیز کوئی سمجھ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ امور جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھے سمجھا دیں گے، اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمارے ربّ نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ مبعوث کیاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے ساتھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کی نشانی کیا ہے، اسلام کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ (اللہ کے لیے) مطیع کر دیا ہے اور میں (شرکیہ دین سے) باز آ گیا ہوں، پھر تو نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے اور ہر مسلمان، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 64

۔ (۶۴) ((أَخَوَانِ نَصِیْرَانِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْ مُشْرِکٍ یُشْرِکُ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا أَوْ یُفَارِقَ الْمُشْرِکِیْنَ إِلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۳۰۰)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو مدد کرنے والے بھائی، اللہ تعالیٰ شرک کرنے والا مشرک سے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتے، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 65

۔ (۶۵) ((مَا لِیْ أُمْسِکُ بِحْجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ، أَلَا إِنَّ رَبِّیْ دَاعِیَّ وَ إِنَّہُ سَائِلٌ ہَلْ بَلَّغْتَ عِبَادِیْ وَ أَنَا قَائِلٌ لَہُ رَبِّ قَدْ بَلَّغْتُہُمْ ، أَلَا فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ مِنْکُمُ الْغَائِبَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۹۲)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے کیا ہوا ہے کہ میں آگ سے بچانے کے لیے تم کو کمروں سے پکڑ رہا ہوں، خبردار! بیشک میرا ربّ مجھے بلانے والا ہے اور وہ مجھ سے یہ سوال کرنے والا ہے کہ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا، اور میں یہ کہتے ہوئے جواب دوں گا کہ اے میرے ربّ! میں نے ان تک پہنچا دیا تھا، خبردار! موجودہ لوگ، غیر موجود لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 66

۔ (۶۶) ((ثُمَّ إِنَّکُمْ مَدْعُوُّوْنَ وَمُفَدَّمَۃٌ أَفْوَاہُکُمْ بِالْفِدَامِ وََإِنَّ أَوَّلَ مَا یُبِیْنُ (وَ فِی رِوَایَۃٍ یُتَرْجِمُ)،۔)) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : بِیَدِہِ عَلٰی فَخِذِہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَا یُبِیْنُ عَنْ أَحَدِکُمْ لَفَخِذُہُ وَ کَفُّہُ )۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَذَا دِیْنُنُا؟ قَالَ: ((ہَذَا دِیْنُکُمْ وَ أَیْنَمَا تُحْسِنْ یَکْفِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۳۰۲)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر تم کو (قیامت کے دن) بلایا جائے گا، جبکہ تمہارے منہ، منہ بند سے بندھے ہوئے ہوں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سب سے پہلے یہ چیز بولے گی۔ ایک روایت میںہے: تمہاری طرف سے سب سے پہلے بولنے والی چیز ران اور ہتھیلی ہو گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہمارا دین ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی نیکی کرو گے، تم کو کفایت کرے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 67

۔ (۶۷)۔عَنْ أَبِیْ رَزِیْنٍ الْعُقَیْلِیِّؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ وَ أَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِمَّا سِوَاہُمَا، وَأَنْ تُحْرَقَ بِالنَّارِ أَحَبُّ إِلَیْکَ مِنْ أَنْ تُشْرِکَ بِاللّٰہِ، وَأَْنْ تُحِبَّ غَیْرَ ذِیْ نَسْبٍ لَا تُحِبُّہُ إِلَّا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِذَا کُنْتَ کَذٰلِکَ فَقَدْ دَخَلَ حُبُّ الْاِیْمَانِ فِی قَلْبِکَ کَمَا دَخَلَ حُبُّ الْمَائِ لِلظَّمْآنِ فِی الْیَوْمِ الْقَائِظِ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ لِیْ بِأَْنْ أَعْلَمَ أَنِّیْ مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: ((مَا مِنْ أُمَّتِی أَوْ ہَذِہِ الْأُمَّۃِ عَبْدٌ یَعْمَلُ حَسَنَۃً فَیَعْلَمُ أَنَّہَا حَسَنَۃٌ وَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَازِیْہِ بِہَا خَیْرًا، وَلَا یَعْمَلُ سَیِّئَۃً، فَیَعْلَمُ أَنَّہَا سَیِّئَۃٌ وَیَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ مِنْہَا وَیَعْلَمُ أَنَّہُ لَا یَغْفِرُ إِلَّا ہُوَ إِلَّا وَہُوَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۲۹۵)
سیدنا ابو رزین عقیلیؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ یکتا و یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ اللہ اور اس کا رسول، باقی تمام چیزوں کی بہ نسبت تجھے سب سے زیادہ محبوب ہوں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کی بہ نسبت تجھے آگ میں جل جانا زیادہ پسند ہو اور یہ کہ تو کسی غیر رشتہ دار سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے۔ جب اس طرح ہو جائے گا ، یعنی جب یہ امور سرانجام دے لے گا تو تیرے دل میں ایمان کی محبت اس طرح داخل ہو جائے گی، جیسے سخت گرمی والے دن میں پیاسے کے اندر پانی کی محبت سرایت کر جاتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں مومن ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری امت کا جو آدمی نیکی کرے، جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ یہ نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس کا بدلہ دینے والا ہے، اسی طرح جو آدمی برائی کرے، جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ یہ واقعی برائی ہے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ صرف وہی بخشتا ہے تو وہ مؤمن ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 68

۔ (۶۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمُوْا الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِمَّنِ الْوَفْدُ أَوْ قَالَ الْقَوْمُ؟)) قَالُوْا: رَبِیْعَۃَ، قَالَ: ((مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ قَالَ الْقَوْمِ، غَیْرَ خَزَایَا وَلَا نَدَامٰی۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَیْنَاکَ مِنْ شُقَّۃٍ بَعِیْدَۃٍ وَبَیْنَنَا وَبَیْنَکَ ہَذَا الْحَیُّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِیْعُ أَنْ نَأْتِیَکَ إِلَّا فِی شَہْرٍ حَرَامٍ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِہِ الْجَنَّۃَ وَ نُخْبِرُ بِہِ مَنْ وَرَائَ نَا، وَسَأَلُوْہُ عَنِ الْأَشْرِبَۃِ فَأَمَرَہُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَہَاہُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، أَمَرَہُمْ بِالْاِیْمَانِ بِاللّٰہِ، قَالَ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا الْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((شَہَادَۃُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَإِقَامُ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائُ الزَّکَاۃِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَ أَنْ تُعْطُوْالْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ۔)) وَنَہَاہُمْ عَنِ الدُّبَّائِ وَ الْحَنْتَمِ وَالنَّقِیْرِ وَالْمُزَفَّتِ، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ: الْمُقَیَّرِ، قَالَ: ((احْفَظُوْہُنَّ وَأَخْبِرُوْا بِہِنَّ مَنْ وَرَائَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ عبد القیس کا وفد جب مدینہ منورہ پہنچا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس وفد یا اس قوم کا تعلق کن سے ہے؟ انھوں نے کہا: ہم ربیعہ سے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس وفد یا قوم کو مرحبا، رسوائی اور ندامت کے بغیر آ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دور کا سفر کر کے آپ کے پاس آئے ہیں، چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان کافروں کا یہ مضر قبیلہ رکاوٹ بنا ہوا ہے، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں آ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کوئی ایسا حکم دیں کہ ہم اس کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی تعلیم دیں، پھر ان لوگوں نے پینے کے برتنوں کے بارے میں سوال کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو چار چیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کا حکم دیا اور پھر پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ ایمان باللہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو کدو کے برتن، سبز مٹکوں، کھجور کے تنے سے بنائے ہوئے برتن اور تارکول والے برتن سے منع کیا اور فرمایا: یہ امور یاد کر لو اور اپنے پچھلے لوگوں کو بھی ان کی خبر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 69

۔ (۶۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمُوْا الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِمَّنِ الْوَفْدُ أَوْ قَالَ الْقَوْمُ؟)) قَالُوْا: رَبِیْعَۃَ، قَالَ: ((مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ قَالَ الْقَوْمِ، غَیْرَ خَزَایَا وَلَا نَدَامٰی۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَیْنَاکَ مِنْ شُقَّۃٍ بَعِیْدَۃٍ وَبَیْنَنَا وَبَیْنَکَ ہَذَا الْحَیُّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِیْعُ أَنْ نَأْتِیَکَ إِلَّا فِی شَہْرٍ حَرَامٍ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِہِ الْجَنَّۃَ وَ نُخْبِرُ بِہِ مَنْ وَرَائَ نَا، وَسَأَلُوْہُ عَنِ الْأَشْرِبَۃِ فَأَمَرَہُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَہَاہُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، أَمَرَہُمْ بِالْاِیْمَانِ بِاللّٰہِ، قَالَ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا الْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((شَہَادَۃُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَإِقَامُ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائُ الزَّکَاۃِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَ أَنْ تُعْطُوْالْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ۔)) وَنَہَاہُمْ عَنِ الدُّبَّائِ وَ الْحَنْتَمِ وَالنَّقِیْرِ وَالْمُزَفَّتِ، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ: الْمُقَیَّرِ، قَالَ: ((احْفَظُوْہُنَّ وَأَخْبِرُوْا بِہِنَّ مَنْ وَرَائَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۰)
عبد اللہ یشکری کہتے ہیں: میں خچر لانے کے لیے کوفہ گیا، جب میں بازار پہنچا تو دیکھا کہ وہ ابھی تک بند تھا، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: اگر ہم مسجد میں چلے جائیں (تو بہتر ہو گا)، جبکہ مسجد کی جگہ کھجور والوں کے درمیان تھی، ہم نے دیکھا کہ مسجد میں قیس قبیلے کا ایک آدمی تھا، لوگ اسے ابن منتفق کہتے تھے، وہ یہ بیان کر رہا تھا: ایک آدمی نے میرے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صفات بیان کیں، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو منیٰ میں تلاش کیا، لیکن کسی نے مجھے بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو اس وقت عرفات میں ہوں گے، میں وہاں تک پہنچ گیا، لیکن جب میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے آنا چاہا تو مجھے کہا گیا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے راستے سے پرے ہٹ جا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس بندے کو بلاؤ، اس کے اعضاء ناکارہ ہو جائے، کیا ہے اس کو۔ چنانچہ میں دھکیلتے ہوئے آگے بڑھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تک پہنچ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری کی لگام پکڑ لی اور کہا: دو چیزوں کے بارے میں میں سوال کروں گا، کون سا عمل مجھے آگ سے نجات دلائے گا اور کون سا عمل مجھے جنت میں داخل کرے گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر اپنے سر کو جھکا لیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے چہرے کے ساتھ میری طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا: تو نے سوال تو بڑا مختصر کیا ہے، لیکن حقیقت میں بڑی عظیم اور لمبی بات کر دی ہے، بہرحال اب میری بات کو سمجھ، تو نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، فرضی نماز ادا کرنی ہے، فرضی زکوۃ دینی ہے، رمضان کے روزے رکھنے ہیں اور لوگوں کی طرف سے جو چیز تو اپنے حق میں پسند کرتا ہے، ان کے حق میں بھی اسی چیز کا انتخاب کر اور لوگوں کی طرف سے جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تو لوگوں کو بھی اس چیز سے محفوظ رکھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اب سواری کے راستے سے ہٹ جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 70

۔ (۷۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! دُلَّنِیْ عَلٰی عَمَلٍ یُدْخِلُنِیْ الْجَنَّۃَ وَ یُنَجِّیْنِیْ مِنَ النَّارِ، قَالَ: ((بَخٍ بَخٍ، لَئِنْ کُنْتَ قَصَّرْتَ فِی الْخُطْبَۃِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ فِی الْمَسْأَلَۃِ، اِتَّقِ اللّٰہَ، لَا تُشْرِکُ بِاللّٰہِ وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَتُؤَدِّی الزَّکَاۃَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ، خَلِّ عَنْ طَرِیْقِ الرِّکَابِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۷۸)
اس (ابن منتفق) کی ایک اور روایت میں اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسے عمل پر میری رہنمائی فرمائیں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کر دے اور آگ سے دور کر دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: واہ، واہ، تو نے بات تو بڑی مختصر کی ہے، لیکن سوال بہت بڑا کر دیا ہے، (بہرحال اب اس کا جواب یہ ہے کہ) تو اللہ تعالیٰ سے ڈر، اس کے ساتھ شرک نہ کر، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر، بیت اللہ کا حج کر اور رمضان کے روزے رکھ، اب سواری کے راستے سے پرے ہٹ جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 71

۔ (۷۱)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((أَنْ یُسْلِمَ قَلْبُکَ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ أَنْ یَسْلَمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِکَ وَیَدِکَ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْاِیْمَانُ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ)، قَالَ: وَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَـلَائِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رُسُلِہِ وَ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ: وَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَۃُ)، قَالَ: فَأَیُّ الْاِیْمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْہِجْرَۃُ۔)) قَالَ: وَمَا الْہِجْرَۃُ؟ قَالَ: ((تَہْجُرُ السُّوْئَ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْہِجْرَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْجِہَادُ۔)) قَالَ: وَمَا الْجِہَادُ؟ قَالَ: ((أَنْ تُقَاتِلَ الْکُفَّارَ إِذَا لَقِیْتَہُمْ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْجِہَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ وَ أُہْرِیْقَ دَمُہُ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثُمَّ عَمَلَانِ ہُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِہِمَا، حَجَّۃٌ مَبْرُوْرَۃٌ أَوْ عُمْرَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۵۲)
سیدنا عمرو بن عبسہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تیرا دل اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جائے اور دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان۔ ایک روایت میں ہے : اچھا اخلاق۔ اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، رسولوں پر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لائے۔ ایک روایت میںہے: اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صبر و سماحت۔ اس نے کہا: افضل ایمان کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہجرت۔ اس نے کہا: ہجرت کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: برائی کو ترک کر دینا۔ اس نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جہاد۔ اس نے کہا: جہاد کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کافروں سے مقابلہ ہو تو ان سے قتال کرنا۔ اس نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور خود اس کا خون بہا دیا جائے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر دو عمل ہے، وہ افضل ترین ہیں اور(ان کو کرنے والا سب سے زیادہ افضل ہے) الا یہ کہ کوئی آدمی ان ہی دو پر عمل کرے، حج مبرور یا عمرہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 72

۔ (۷۲)۔عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ ؓ أَنَّہُ اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِخَادِمِہِ: ((اُخْرُجِیْ إِلَیْہِ فَإِنَّہُ لَا یُحْسِنُ الْإِسْتِئْذَانَ، فَقُوْلِیْ لَہُ: فَلْیَقُلْ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ! أَأَدْخُلُ؟)) قَالَ: فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ذَالِکَ فَقُلْتُ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَأَدْخُلُ؟ قَالَ: فَأَذِنَ لِیْ، أَوْ قَالَ: فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ: بِمَ اَتَیْتَنَا بِہِ؟ قَالَ: ((لَمْ آتِکُمْ إِلَّا بِخَیْرٍ، أَتَیْتُکُمْ بِأَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: وَأَحْسِبُہُ قَالَ: ((وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَنْ تَدَعُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی، وَأَنْ تُصَلُّوْا بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَ أَنْ تَصُوْمُوْا مِنَ السَّنَۃِ شَہْرًا وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَیْتَ وَأَنْ تَأْخُذُوْا مِنْ مَالِ أَغْنِیَائِکُمْ فَتَرُدُّوْہَا عَلٰی فُقَرَائِکُمْ۔))قَالَ: فَقَالَ: ہَلْ بَقِیَ مِنَ الْعِلْمِ شَیْئٌ لَا تَعْلَمُہُ؟ قَالَ: ((قَدْ عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ خَیْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَا یَعْلَمُہُ إِلَّا اللّٰہُ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ}۔)) (مسند أحمد: ۲۳۵۱۵)
ربعی بن حراش سے مروی ہے کہ بنوعامر کے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا: کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی خادمہ سے فرمایا: اس بندے نے اچھے انداز میں اجازت نہیں لی، اس لیے اس کی طرف جاؤ اور اس کو کہو کہ وہ یوں کہے: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں۔ اس آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے یہ الفاظ خود سن لیے اور اس نے کہا: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے اجازت دی، اس نے کہا: پس میں داخل ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا: آپ کون سی چیز لے کر ہمارے پاس آئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی میں خیر ہی لے کر آیا ہوں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، جو کہ یکتا ویگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لات و عزی کو چھوڑ دو اور دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرو، ایک سال میں ایک ماہ کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور اپنی مالدار لوگوں سے زکوۃ کا مال لے کر اپنے فقیروں میں تقسیم کر دو۔ اس بندے نے کہا: کیا عمل کی کوئی ایسی قسم بھی ہے، جو آپ نہیں جانتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم دی ہے، لیکن علم کی بعض ایسی صورتیں بھی ہے کہ جن کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ} (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میںمرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورۂ لقمان: ۳۴)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 73

۔ (۷۳)۔ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ إذَا رَاکِبٌ یُوْضِعُ نَحْوَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((کَأَنَّ ہَذَا الرَّاکِبَ إِیَّاکُمْ یُرِیْدُ۔)) قَالَ: فَانْتَہَی الرَّجُلُ إِلَیْنَا فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مِنْ أَیْنَ أَقْبَلْتَ؟)) قَالَ: مِنْ أَہْلِیْ وَوَلَدِی وَ عَشِیْرَتِیْ، قَالَ: ((فَأَیْنَ تُرِیْدُ؟)) قَالَ: أُرِیْدُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((فَقَدْ أَصَبْتَہُ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((تَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَ تُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیْْ الزَّکَاۃَ وَ تَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ۔)) قَالَ: قَدْ أَقْرَرْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِیْرَہُ دَخَلَتْ یَدُہُ فِی شَبْکَۃِ جُرْذَانٍ فَہَوٰی بَعِیْرُُہُ وَہَوَی الرَّجُلُ فَوََقَعَ عَلٰی ہَامَتِہِ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیَّ بِالرَّجُلِ۔)) قَالَ: فَوَثَبَ إِلَیْہِ عَمَّارُبْنُ یَاسِرٍ وَحُذَیْفَۃُ فَأَقْعَدَاہُ فَقَالَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُبِضَ الرَّجُلُ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، ثُمَّ قَالَ لَہُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا رَأَیْتُمَا إِعْرَاضِیْ عَنِ الرَّجُلِ فَإِنِّی رَأَیْتُ مَلَکَیْنِِ یَدُسَّانِ فِیْ فِیْہِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ فَعَلِمْتُ أَنَّہُ مَاتَ جَائِعًا۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَذَا وَاللّٰہِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالَ لَہُمُ اللّٰہُ فِیْہِمْ: {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُوْلٰئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُوْنَ}۔)) ثُمَّ قَالَ: ((دُوْنَکُمْ أَخَاکُمْ۔)) قَالَ: فَاحْتَمَلْنَاہُ إِلَی الْمَائِ فَغَسَّلْنَاہُ وَ حَنَّطْنَاہُ وَکَفَّنَّاہُ وَحَمَلْنَاہُ إِلَی الْقَبْرِ، قَالَ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی جَلَسَ عَلٰی شَفِیْرِ الْقَبْرِ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِلْحَدُوْا وَلَا تَشُقُّوْا، فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَیْرِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۹۰)
سیدناجریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلے، جب ہم مدینہ منورہ سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سوار ہماری طرف آنے کے لیے اپنی سواری کو جلدی چلا رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس سوار کا ارادہ تم لوگ ہو۔ جب وہ ہمارے پاس پہنچا تو اس نے سلام کہا اور ہم نے اس کا جواب دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے پوچھا: تم کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا: جی اپنے اہل و اولاد اور رشتہ داروں کے پاس سے آ رہا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی اللہ کے رسول کو ملنا چاہتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو نے اپنے مقصد کو پا لیا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کی تعلیم دیں کہ وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔ اس نے کہا: جی میں اقرار کرتا ہوں۔ اتنے میں اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے بلوں میں گھس گئی، جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا اور وہ آدمی بھی اپنے سر کے بل گرا اور فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔ سیدنا عمار اور سیدنا حذیفہؓجلدی سے گئے، اس آدمی کو بٹھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! بندہ تو فوت ہو گیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ میں اس بندے سے اعراض کر رہا تھا، پس بیشک میں نے دیکھا کہ دو فرشتے اس کے منہ میں جنت کے پھل ڈال رہے تھے، اس سے مجھے پتہ چلا کہ بھوکا مرا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ ان لوگوں میں سے ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُوْلٰئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُوْنَ} (جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہِ راست پر چل رہے ہیں۔) (سورۂ انعام: ۸۲) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنے اس بھائی کو سنبھال لو۔ پس ہم اسے اٹھا کر پانی کی طرف لے گئے، اس کو غسل دیا، خوشبو لگائی، کفن دیا اور قبر کی طرف اٹھا کر لے گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور قبرکے کنارے پر بیٹھ گئے اور فرمایا: لحد بناؤ، شَق نہ بناؤ، کیونکہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسرے مذاہب والوں کے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 74

۔ (۷۴) (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَیْنَا نَحْنُ نَسِیْرُ إِذْ رُفِعَ لَنَا شَخْصٌ، فَذَکَرَ نَحْوَہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ: وَقَعَتْ یَدُ بَکْرِہِ فِی بَعْضِ تِلْکَ الَّتِیْ تَحْفُرُ الْجُرْذَانُ، وَقَالَ فِیْہِ: ((ہَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِیْلاً وَأُجِرَ کَثِیْرًا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۹۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا جریرؓ نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلے، ہم چل رہے تھے کہ ہمیں ابھرتا ہوا ایک شخص دکھائی دیا…، پھر اسی قسم کی روایت کا ذکر کیا، البتہ یہ الفاظ بھی کہے: اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے کھودے ہوئے کسی بل میں گھس گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہے، جو عمل تو تھوڑا کرتے ہیں، لیکن اجر بہت زیادہ پاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 75

۔ (۷۵) (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)أَنَّ رَجُلًا جَائَ فَدَخَلَ فِی الْاِسْلَامِ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُہُ الْاِسْلَامَ وَہُوَ فِی مَسِیْرِہِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِیْرِہِ فِی جُحْرِ یَرْبُوْعٍ فَوَقَصَہُ بَعِیْرُہُ فَمَاتَ، فَأَتٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((عَمِلَ قَلِیْلاً وَأُجِرَ کَثِیْرًا۔)) قَالَہَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا، ((اَللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۷۱)
۔ (تیسری سند) ایک آدمی آیا اور اسلام میں داخل ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ایک سفر میں اسے اسلام کی تعلیم دے رہے تھے، اتنے میں اس کے اونٹ کا پاؤں چوہے کے بل میں گھسا، (جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا ) اور اس نے اس آدمی کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے پاس آئے اور فرمایا: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن اجر بہت زیادہ پایا۔ تین دفعہ یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شَق دوسرے لوگوں کے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 76

۔ (۷۶)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ أَعْرَابِیًا جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! دُلَّنِیْ عَلٰی عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُہُ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ((تَعْبُدُاللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَتُؤَدِّی الزَّکَاۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ۔)) قَالَ: وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَا أَزِیْدُ عَلٰی ہٰذَا أَبَدًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْہُ، فَلَمَّا وَلّٰی قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَنْظُرَ إِلٰی رَجُلٍ مِنْ أَہْلٍ الْجَنَّۃِ فَلْیَنْظُرْ إِلٰی ہٰذَا۔)) (مسند أحمد: ۸۴۹۶)
سیدناابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے لیے ایسے عمل کی نشاندہی کر دیں کہ اگر میں وہ عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرضی نماز قائم کرو، فرضی زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی جان ہے! میں نہ ان عبادات پر زیادتی کروں گا اور نہ ان میںکمی ہونے دوں گا، جب وہ چلا گیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کو یہ بات بھلی لگے کہ وہ اہلِ جنت میں کوئی سے آدمی دیکھے تو وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 77

۔ (۷۷)۔عَنْ أَبِی سُوَیْدِ نِ الْعَبْدِیِّ قَالَ: أَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَؓ فَجَلَسْنَا بِبَابِہِ لِیُؤْذَنْ لَنَا، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَی جُحْرٍ فِی الْبَابِ فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِیْہِ فَفَطِنَ بِیْ، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا فَقَالَ: أَیُّکُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِی دَارِیْ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَیِّ شَیْئٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِی دَارِیْ، قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَالِکَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوْہُ عَنْ أَشْیَائَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صِیَامِ رَمَضَانَ۔)) قُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا تَقُوْلُ فِی الْجِہَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاہَدَ فَإِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہِ۔ (مسند أحمد: ۵۶۷۲)
ابوسوید عبدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرؓکی طرف گئے اور ان کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب ہم نے دیکھا کہ ہمیں اجازت دینے میں بہت تاخیر ہو گئی ہے تو میں دروازے میں موجود ایک سوراخ کی طرف اٹھا اور وہاں سے اندر کی طرف جھانکنے لگا، وہ سمجھ گئے اور ہمیں اجازت دے دی اور ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے کہا: تم میں سے کون ہے، جو ابھی میرے گھر میں جھانک رہا تھا؟ میںنے کہا: میں تھا، انھوں نے کہا: تو نے کس دلیل کی روشنی میں میرے گھر میں جھانکنے کو حلال سمجھ لیا؟ میں نے کہا: ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی گئی تھی، اس لیے میں نے دیکھ لیا، جان بوجھ کر تو میں نے نہیں کیا، پھر ہم لوگ سیدنا ابن عمرؓ سے سوال کرنے لگ گئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جو جہاد کرے گا، وہ اپنے لیے کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 78

۔ (۷۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ بِشْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: بُنِیَ الْاِسُلَامُ عَلٰی خَمْسٍ، شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّّلَاۃِ وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: وَالْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْجِہَادُ حَسَنٌ، ہَکَذَا حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۴۷۹۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ ایک آدمی نے کہا: اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد؟ انھوں نے کہا: جہاد اچھی چیز ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں یہ حدیث ایسے بیان کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 79

۔ (۷۹)۔عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۹)
سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 80

۔ (۸۰)۔عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمِ نِ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرْبَعٌ فَرَضَہُنَّ اللّٰہُ فِی الْاِسْلَامِ فَمَنْ جَائَ بِثَلَاثٍ لَمْ یُغْنِیْنَ عَنْہُ شَیْئًا حَتَّی یَأْتِیَ بِہِنَّ جَمِیْعًا، اَلصَّلَاۃُ وَ الزَّکَاۃُ وَ صِیَامُ رَمَضَانَ وَ حَجُّ الْبَیْتِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۴۲)
زیاد بن نعیم حضرمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: چار چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام میں فرض کیا ہے، جو بندہ ان میں تین ادا کرے گا، تو وہ اسے اس وقت تک کچھ کفایت نہیں کریں گی، جب تک وہ اِن سب کی ادائیگی نہیں کرے گا، وہ چار امور یہ ہیں: نماز، زکوۃ، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 81

۔ (۸۱)۔ عَنْ عَلِیٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ حَتَّی یَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ وَ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۸)
سیدنا علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 82

۔ (۸۲) (وَعَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَنْ یُؤْمِنَ عَبْدٌ حَتَّی یُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ أَنَّ اللّٰہَ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ وَ یُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَیُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۲)
۔ (دوسری روایت) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو گا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس چیز پر کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے، وہ اچھی ہو یا بری۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 83

۔ (۸۳)۔عَنِ السَّدُوْسِیِّ یَعْنِی ابْنَ الخَصَاصِیَّۃِ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأُبَایِعَہُ فَاشْتَرَطَ عَلَیَّ شَہَادَۃَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ وَ أَنْ أُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَ أَنْ أُؤَدِّیَ الزَّکَاۃَ وَ أَنْ أَحُجَّ حَجَّۃَ الْاِسُلَامِ وَ أَنْ أَصُوْمَ شَہْرَ رَمَضَانَ وَ أَنْ أُجَاہِدَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَمَّا اثْنَتَانِ فَوَاللّٰہِ مَا أُطِیْقُہُمَا الْجِہَادُ وَ الصَّدَقَۃُ، فَإِنَّہُمْ زَعَمُوْا أَنَّ مَنْ وَلَّی الدُّبُرَ فَقَدْ بَائَ بِغَضَبٍ مِنَ اللّٰہِ فَأَخَافُ إِنْ حَضَرَتُ تِلْکَ جَشِعَتْ نَفْسِیْ وَ کَرِہَتِ الْمَوْتَ، وَ الصَّدَقَۃُ فَوَاللّٰہِ مَا لِیْ إِلَّا غُنَیْمَۃٌ وَ عَشْرُ ذَوْدٍ، ہُنَّ رِسْلُ أَہْلِی وَحُمُوْلَتُہُمْ، قَالَ: فَقَبَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَدَہُ ثُمَّ حَرَّکَ یَدَہُ ثُمَّ قَالَ: ((فَـلَا جِہَادَ وَلَا صَدَقَۃَ فَلِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِذًا؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا أُبَایِعُکَ، قَالَ: فَبَایَعْتُ عَلَیْہِنَّ کُلِّہِنَّ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۹۸)
سیدنا ابن خصاصیہ سدوسیؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھ پر یہ شرطیں عائد کر دیں: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حجۃ الاسلام ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اللہ کے راستے میںجہاد کرنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ جو دو چیزیں جہاد اور زکوۃ ہیں نا، ان کی مجھ میں طاقت نہیں ہے، کیونکہ جہاد کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ جو وہاں سے پیٹھ پھیر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ لوٹتا ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میدانِ جہاد میں میرا نفس گھبرا جائے اور موت کو ناپسند کرنے لگے اور رہا مسئلہ زکوۃ کا، تو اللہ کی قسم ہے کہ میرے پاس تھوڑی سی بکریاں ہیں اور دس اونٹ ہیں، میرے اہل کے لیے دودھ والے اور سواری والے یہی جانور ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور اس کو حرکت دی اور فرمایا: اگر جہاد بھی نہ ہو اور زکوۃ بھی نہ ہو تو پھر تو جنت میں کیسے داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کرتا ہوں، پھر میں نے ان سب امور پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 84

۔ (۸۴)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَی الْیَمَنِ قَالَ: ((إِنَّکَ تَأْتِیْ قَوْمًا أَہْلَ کِتَابٍ فَادْعُہُمْ اِلٰی شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً فِی أَمْوَالِہِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِہِمْ وَ تُرَدُّ فِیْ فُقَرَائِہِمْ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ فَإِیَّاکَ وَ کَرَائِمَ أَمْوَالِہِمْ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّہَا لَیْسَ بَیْنَہَا وَ بَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۷۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جب سیدنا معاذؓ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: تم اہل کِتَابُ لوگوں کی طرف جا رہے ہو، پس ان کو سب سے پہلے یہ دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیں، اگر وہ اس معاملے میں تیری اطاعت کر لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دن رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بات بھی تسلیم کر جائیں تو ان کویہ تعلیم دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں پرزکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی،ا گر وہ یہ بات بھی مان جائیں تو پھر تم نے ان کے عمدہ مالوں سے بچ کر رہنا ہے اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا ہے، کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین کوئی پردہ نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 85

۔ (۸۵)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَ لْاِیْمَانُ أَرْبَعَۃٌ وَ سِتُّونَ بَابًا، أَرْفَعُہَا وَ أَعْلَاہَا قَوْلُ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَدْنَاہَا إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۱۳)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان کے چونسٹھ شعبے ہے، ان میں سب سے بلند اور عالی شعبہ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنا ہے اور سب سے کم مرتبہ شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 86

۔ (۸۶)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ بَابًا، أَفْضَلُہَا لَاإِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَدْنَاہَا إِمَاطَۃُ الْأَذَی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۹۳۵۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان کے پچھہتر چھہتر شعبے ہیں، ان میں افضل شعبہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور کم تر شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 87

۔ (۸۷)۔عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِیِّ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِیْمًا وَ عَلٰی جَنَبََتَیِ الصِّرَاطِ سُوْرَانِ فِیْہِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَۃٌ، وَ عَلٰی الْأَبْوَابِ سُتُوْرٌ مُرْخَاۃٌ، وَعَلٰی بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ یَقُوْلُ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اُدْخُلُوْا الصِّرَاطَ جَمِیْعًا وَلَا تَتَفَرَّجُوْا، وَدَاعٍ یَدْعُوْ مِنْ جَوْفِ الصِّرَاطِ، فَإِذَا أَرَادَ یَفْتَحُ شَیْئًا مِنْ تِلْکَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَیْحَکَ لَا تَفْتَحْہُ فَإِنَّکَ إِنْ تَفْتَحْہُ تَلِجْہُ،وَالصِّرَاطُ الْاِسْلَامُ وَالسُّوْرَانِ حُدُوْدُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَۃُ مَحَارِمُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَ ذَالِکَ الدَّاعِی عَلٰی رَأْسِ الصِّرَاطِ کِتَابُ اللّّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَالدَّاعِی فَوْقَ الصِّرَاطِ وَاعِظُ اللّٰہِ فِی قَلْبِ کُلِّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۸۴)
سیدنا نواس بن سمعان انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس راستے کے دونوں اطراف میں دو دیواریں ہیں، جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں، راستے کے دروازے پر ایک داعی یہ کہہ رہا ہے: لوگو! سارے کے سارے راستے میں داخل ہو جاؤ اور اس سے زائل نہ ہو جاؤ اور جب کوئی آدمی کسی دورازے کو کھولنا چاہتا ہے تو راستے کے بیچ میں سے ایک داعی یوں آواز دیتا ہے: تو ہلاک ہو جائے، اس کو نہ کھول، اگر تو نے اس کو کھول دیا تو اس میں گھس جائے گا۔ (اس مثال کی وضاحت یہ ہے کہ) راستہ، اسلام ہے اور دیواریں، اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں اور کھلے دروازے، اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور ہیں اور راستے کے سرے پر داعی، اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور راستے کے بیچ والا داعی ہر مسلمان کے دل میں موجود اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 88

۔ (۸۸) (وَ عَنْہُ فِی أُخْرَی)۔قَالَ: قَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ ضَرَبَ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِیْمًا عَلٰی کَنَفَیِ الصِّرَاطِ سُوْرَانِ، فِیْہِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَۃٌ، وَ عَلٰی الْأَبْوَابِ سُتُوْرٌ، وَ دَاعٍ یَدْعُوْ عَلٰی رَأْسِ الصِّرَاطِ وَ دَاعٍ یَدْعُوْ مِنْ فَوْقِہِ وَاللّٰہُ یَدْعُوْ اِلٰی دَارِ السَّلَامِ وَ یَہْدِی مَنْ یَشَائُ اِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ، فَالْأَبْوَابُ الَّتِی عَلٰی کَنَفَیِ الصِّرَاطِ حُدُوْدُ اللّٰہِ لَا یَقَعُ أَحَدٌ فِی حُدُوْدِ اللّٰہِ حَتَّی یَکْشِفَ سِتْرَ اللّٰہِ، وَالَّذِی یَدْعُوْ مِنْ فَوْقِہِ وَاعِظُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۸۶)
۔ (دوسری روایت) سیدنا نواسؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس کی دونوں جانبوں میں دیواریں ہیں، ان میں کھلے ہوئے دروازے ہیں، جن پر پردے لٹک رہے ہیں اور ایک داعی راستے کے سرے پر ہے اور ایک داعی بندے کے اوپر اوپر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سلامتی والے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے، راستے کے دونوں جانبوں میں جو دروازے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، جب تک آدمی اللہ تعالیٰ کے پردے کو چاک نہیں کرتا، اس وقت تک وہ اس کی حدوں میں نہیں گھستا اور جو داعی اوپر سے بلا رہا ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 89

۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)
سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 90

۔ (۹۰) (وَ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِیْ بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِہِ، قَالَ: ((قُلْ رَبِّیَ اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَیَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِہِ ثُمَّ قَالَ: ((ہٰذَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۶)
۔ (دوسری سند) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بیان کرو کہ اس کے ساتھ چمٹ جاؤں (اور اس کا اہتمام کروں)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میرا ربّ اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میری کس چیز سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں؟ جواباً آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اس سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 91

۔ (۹۱)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ قَسَمَ بَیْنَکُمْ أَخْلَاقَکُمْ کَمَا قَسَمَ بَیْنَکُمْ أَرْزَاقَکُمْ، وَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعْطِی الدُّنْیَا مَنْ یُحِبُّ وَمَنْ لَا یُحِبُّ وَلَا یُعْطِی الدِّیْنَ إِلَّا لِمَنْ أَحَبَّ، فَمَنْ أَعْطَاہُ الدِّیْنَ فَقَدْ أَحَبَّہُ، وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِِ! لَا یُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّی یُسْلِمَ قَلْبُہُ وَلِسَانُہُ وَلَا یُؤْمِنُ حَتَّی یَأْمَنَ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) قَالُوا: وَمَا بَوَائِقُہُ؟ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! قَالَ: ((غَشْمُہُ وَ ظُلْمُہُ، وَلَا یَکْتَسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَیُنْفِقُ مِنْہُ فَیُبَارَکُ لَہُ فِیْہِ، وَلَا یَتَصَدَّقُ بِہٖ فَیُقْبَلُ مِنْہُ، وَلَا یَتْرُکُ خَلْفَ ظَہْرِہِ إِلَّا کَانَ زَادَہُ اِلَی النَّارِ، لَا یَمْحُو السَّیِّئَ بِالسَّیِّء وَلَکِنْ یَمْحُوْ السَّیِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِیْثَ لَا یَمْحُو الْخَبِیْثَ۔)) (مسند أحمد: ۳۶۷۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمہارے درمیان رزق کو تقسیم کیا ہے، اسی طرح اس نے تمہارے مابین تمہارے اخلاق کو بھی تقسیم کیا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ دنیا اس کو بھی عطا کر دیتا ہے، جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اس کو بھی دے دیتا ہے، جس سے وہ محبت نہیں کرتا، لیکن دین کی نعمت صرف اس کو عطا کرتا ہے، جس سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے جس کو دین عطا کر دیا، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا، جب تک اس کا دل اور زبان مطیع نہ ہو جائیں اور کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ اس کا ہمسائیہ اس کے شرور سے محفوظ رہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کا ظلم و زیادتی کرنا اور جو آدمی حرام مال کما کر اس کو خرچ کرے گا تو اس میں برکت نہیں ہو گی اور اس سے کیا ہوا صدقہ قبول نہیں ہو گا اور ایسا آدمی اس قسم کا جو مال بھی اپنے ترکہ میں چھوڑ کر جائے گا، وہ اس کی جہنم کے لیے اس کا زادِ راہ ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا، بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے اور بیشک خبیث چیز، خبیث چیز کو نہیں مٹا سکتی۔ (حرام مال خرچ کرنے سے گناہ نہیں مٹتے بلکہ حلال مال خرچ کرنے سے گناہوں کی صفائی ہوتی ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 92

۔ (۹۲)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَفْضَلِ الْاِیْمَانِ قَالَ: ((أَنْ تُحِبَّ لِلّٰہِ وَ تُبْغِضَ لِلّٰہِ وَ تُعْمِلَ لِسَانَکَ فِی ذِکْرِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: وَمَا ذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ وَ تَکْرَہَ لَہُمْ مَا تَکْرَہُ لِنَفْسِکَ۔)) (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ:وَأَنْ تَقُوْلَ خَیْرًا أَوْ تَصْمُتَ)۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۸۳)
سیدنا معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے، اللہ تعالیٰ کے بغض رکھے اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رکھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مزید کچھ فرما دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اور تو لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرے، جو اپنے لیے پسند کرے اور ان کے لیے اس چیز کو ناپسند کرے، جس کو اپنے لیے ناپسند کرے۔ ایک روایت میں ہے : اور بھلائی والی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 93

۔ (۹۳)۔عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَ بِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا وَ رَسُوْلًا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۹)
سیدنا عباس بن عبد المطلبؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اس بندے نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ، جو اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے نبی اور رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 94

۔ (۹۴)۔عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ عَمِلَ حَسَنَۃً فَسُرَّ بِہَا وَ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَسَائَتْہُ فَہُوَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۹۴)
سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو نیکی کر کے خوش ہوا اور برائی کر کے پریشان ہوا، وہ مؤمن ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 95

۔ (۹۵)۔عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَعْنَاہُ۔ (مسند أحمد: ۱۵۷۸۶)
سیدنا عامر بن ربیعہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 96

۔ (۹۶)۔عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا الْاِثْمُ؟ قَالَ: ((إِذَا حَکَّ فِی نَفْسِکَ شَیْئٌ فَدَعْہُ۔)) قَالَ: فَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((إِذَا سَائَ تْکَ سَیِّئَتُکَ وَ سَرَّتْکَ حَسَنَتُکَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۵۱۲)
سیدنا ابوامامہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: گناہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکنے لگے تو اسے چھوڑ دے۔ اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تیری برائی تجھے بری لگے اور تیری نیکی تجھے خوش کر دے تو تو مؤمن ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 97

۔ (۹۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۶۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ جو خیر و بھلائی وہ اپنے لیے پسند کرے، وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 98

۔ (۹۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (ؓ) أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُْولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ اور سالم رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 99

۔ (۹۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ فِیْہِ: أَیُّ الْمُسْلِمِیْنَ بَدْلَ قَوْلِہِ أَیُّ الْاِسْلَامِ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۸۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سا اسلام افضل ہے کے بجائے یہ سوال کیا گیا: کون سے مسلمان افضل ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 100

۔ (۱۰۰)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی الشَّرِیْدِ (بْنِ سُوَیْدٍ الثَّقَفِیِّ ؓ) أَنَّ أُمَّہُ أَوْصَتْ أَنْ یُعْتِقَ عَنْہَا رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً فَسَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ، فَقَالَ: عِنْدِیْ جَارِیَۃٌ سَوْدَائُ نُوْبِیََّۃٌ فَأُعْتِقُہَا؟ فَقَالَ: ((ائْتِ بِہَا۔)) فَدَعَوْتُہَا فَجَائَ تْ فَقَالَ لَہَا: (( مَنْ رَبُّکِ؟)) قَالَتْ: اللّٰہُ، قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) فَقَالَتْ: رَسُوْلُُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۰۹)
سیدنا ابو شرید بن سوید ثقفیؓ سے مروی ہے کہ اس کی ماں نے یہ وصیت کی تھی کہ وہ اس کی طرف سے مسلمان غلام آزاد کرے، پس اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا کہ اس کے پاس کالے رنگ کی سوڈانی لونڈی ہے، کیا وہ اس کو آزاد کر سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو میرے پاس لے آؤ۔ پس میں نے اس کو بلایا اور وہ آگئی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: تیرا ربّ کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 101

۔ (۱۰۱)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ (ؓ) أَنَّہُ جَائَ بِأَمَۃٍ سَوْدَائَ وَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلَیَّ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً فَإِنْ کُنْتَ تَرٰی ہَذِہِ مُؤْمِنَۃً أَعْتِقْہَا، فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَشْہَدِیْنَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَتُؤْمِنِیْنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَعْتِقْہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۵)
ایک انصاری صحابی سے روایت ہے کہ وہ سیاہ رنگ کی ایک لونڈی لے کر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے مسلمان گردن آزاد کرنی ہے، اب اگر آپ اس لونڈی کو مومنہ خیال کرتے ہیں تو اس کو آزاد کر دیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: کیا تو یہ گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: کیا تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان رکھتی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو آزاد کردے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 102

۔ (۱۰۲)۔عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْئِ قِلَّۃُ الْکَلَامِ فِیْمَا لَا یَعْنِیْہِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۷)
سیدنا حسین بن علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندے کے حسنِ اسلام میں سے یہ ہے کہ جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اس کے بارے میں باتیں کم کرے۔ اور ایک روایت میں ہے: جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اسے چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 103

۔ (۱۰۳)۔عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجِلُّوْا اللّٰہَ یَغْفِرْلَکُمْ۔)) قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ) یَعْنِی أَسْلِمُوْا۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۷۷)
سیدنا ابو الدرداء ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرو، وہ تم کو بخش دے گا۔ ابن ثوبان راوی نے کہا: اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جاؤ۔

آیت نمبر