MUSNAD AHMED

Search Results(1)

22)

22) نمازوں کے اوقات کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1242

۔ (۱۲۴۲/۱) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیِّ قَا لَ: کاَنَ رَجُلٌ بِالشَّامِ یُقَالُ لَہُ مَعْدَانُ، کَانَ أَبُوْ الدَّرْدَائِ یُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ فَفَقَدَہُ أَبُوْ الدَّرْدَائِ فَلَقِیَہُ یَوْماً وَھُوَ بِدَاِبقٍ فَقَالَ لَہُ أَ بُوْ الدَّرْدَائِ: یَا مَعْدَانُ! مَافَعَلَ الْقُرْآنُ الَّذِیْ کَانَ مَعَکَ؟ کَیْفَ أَنتَ وَالْقُرْآنُ الْیَوْمَ؟ قاَلَ قَدْ عَلَّمَ اللّٰہُ مِنْہُ فَاَ حْسَنَ۔ قَالَ: یَامَعْدَانُ! أَفِیْ مَدِیْنَۃٍ تَسْکُنُ الْیَوْمَ أَوْفِیْ قَرْیَۃٍ؟ قَالَ: لَا، بَلْ فِیْ قَرْیَۃٍ قَرِیْبَۃٍ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ (وَفِیْ رِوَاَیۃٍ: فِیْ قَرْیَۃٍ قَرِیْبَۃٍ دُوْنَ حِمْصَ) قاَل: مَہْلًا وَیْحَکَ یَامَعْدَانُ! فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَامِنْ خَمْسَۃٍ أَھْلِ أَبْیَاتٍ لَا یُؤْذَّنُ فِیْہِمْ بِالصَّلَاۃِ وَتُقَامُ فِیہِمُ الصَّلَاۃُ إلاَّ اسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطَانُ، وَإِنَّ الذِّئْبَ یَأْخُذُ الشَّاذَّۃَ۔)) فَعَلَیْکَ ِبالْمدَائِنِ وَیْحَکَ یَا مَعْدانُ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۳)
عبادہ بن نسی کہتے ہیں: شام میں ایک معدان نامی آدمی تھا، سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسے قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اُسے گم پایا۔ پھر ایک دن جب دابق مقام پر اسے ملے تو کہنے لگے: معدان! وہ قرآن جو تیرے پاس تھا، اس کا کیا بنا؟ آج کل تیرا اور قرآن کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے وہ سکھایا اور اچھا سکھایا۔سیّدنا ابو درداء نے پوچھا: معدان! آج کل شہر میں رہتے ہو یا کسی دیہات میں؟ معدان نے جواب دیا: نہیں، میں ایک دیہات میں سکونت پذیر ہوں، وہ شہر کے قریب ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ایسے دیہات میں ہوں جو حمص شہر کے قریب ہے۔ سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: چھوڑ، تجھ پر افسوس ہے معدان! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہاں پانچ گھر واقع ہوں اور ان میں نہ اذان دی جاتی ہو نہ نماز قائم کی جاتی ہو، ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے اور (تجھے ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ) بھیڑیا علیحدہ رہنے والی بکری کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ اس لیے تجھ پر شہروں میں رہنا لازم ہے۔اے معدان! تجھ پر افسوس ہے!
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1242

۔ (۱۲۴۲/۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قاَلَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَامِنْ ثَـلَاثَۃٍ فِیْ قَرْیَۃٍ فَـلَا یُؤَذَّنُ وَلَا تُقَامُ فِیہِمُ الصَّلَاۃُ إلاَّ اسْتَحْوَذَ عَلیْہِمُ الشَّیطَانُ۔ عَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ فَإنَّمَا یَأْ کُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِیَۃَ۔)) قَالَ ابْنُ مَہْدِیٍّ: قَالَ السَّائِبُ: یَعْنِیْ الْجَمَاعَۃَ فِی الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۴)
یہ روایت دوسری سند کے ساتھ اس طرح مروی ہے: وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس بستی میں تین شخص رہتے ہوں اور ان میں نہ اذان دی جاتی ہو نہ نماز قائم کی جاتی ہو، ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے، اس لیے تجھ پر جماعت لازم ہے، کیونکہ بھیڑیا صرف دور رہنے والی بکری کو ہی کھاتا ہے۔ ابن مہدی نے کہا کہ سائب کا خیال ہے کہ تجھ پر جماعت لازم ہے سے نماز باجماعت مراد ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1243

۔ (۱۲۴۳) عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ: أتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ مُتََقَارِبُوْنَ فَأَقَمْنَا مَعَہُ عِشِْرِیْنَ لَیْلَۃً۔ قَالَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَحِیْمًا رَفِیقاً فَظَنَّ أنَّاَ قَدِ اشْتَقْنَا أَھْلَنَا فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا فِیْ أَھْلِنَا فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ: ((اِرْجِعُوْا إِلٰی أَھْلِیْکُمْ فأَقِیْمُوْا فِیہِمْ وَعَلِّمُوْھُمْ وَمُرُوْھُمْ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۳)
سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم تقریبا ایک عمر کے نوجوان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور بیس راتیں قیام کیا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑے رحیم اور نرم دل تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا ہم اپنے گھر والوں کے مشتاق ہو گئے ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے ان (افراد)کے متعلق پوچھا جو ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے تھے؟ جب ہم نے ساری بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں میں واپس چلے جاؤ اور ان میں رہو، اور ان کو (دین)سکھاؤ،ان کو حکم دو کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے، پھر تم میں بڑی عمر والا امامت کروائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1244

۔ (۱۲۴۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَافِی النِّدَائِ والصَّفِّ الْاَوَّلِ لَاسْتَہَمُوْا عَلَیْہِمَا، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَافِی التَّہْجِیْرِ لَاسْتَبَقُوْا إِلَیْہِ، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَافِی الْعَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْھُمَا وَلَوْحَبْوًا۔)) فَقُلْتُ لِمَالِکٍ: أمَا یَکْرَہُ أَنْ یَقُولَ الْعتَمَۃَ؟ قَالَ: ھٰکَذَا قَالَ الَّذِیْ حَدَّثنَیْ۔ (مسند احمد: ۷۷۲۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان کہنے اور پہلی صف کے اندر شامل ہونے میں کیا فضیلت ہے تو وہ ان پر قرعہ ڈالیں اور اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ نماز کی طرف جلدی پہنچنے میں کیا اجر وثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اگر وہ جان لیں کہ نماز عشاء اور نماز فجر میں کیا اجر ہے تو یہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شامل ہوں اگرچہ ان کو گھٹنوں کے آنا پڑے۔ عبد الرزاق کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کیا عشاء کی نماز کو عَتَمَۃ کہنا مکروہ نہیںہے؟ انھوں نے کہا: جس نے مجھے حدیث بیان کی اس نے ایسے ہی کہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1245

۔ (۱۲۴۵) عَنْ أَبِیْ سَعْیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَافِی التَّأْذِیْنِ لَتَضَارَبُوْا عَلَیْہِ بِالسُّیُوْفِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۶۱)
سیّدناابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ اذان کہنے میں کیا(اجروثواب)ہے تو وہ اس (ثواب کے حصول کے لیے) تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑ پڑیں۔ سیّدناعقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا ربّ عزوجل پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہہ کر نماز ادا کرنے والے بکریوں کے چرواہے پر تعجب کرتا (یعنی خوش ہوتا) ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو کہ اذان کہتا ہے اور اقامت کہتا ہے، یہ کسی ذات سے ڈرتا ہے، یقینا میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔ اوردوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ کا رب تعجب کرتا ہے پھرسابقہ حدیث کا معنی بیان کیا، البتہ آخری الفاظ یوں بیان کیے: یہ مجھ سے ڈرتا ہے، سو میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1246

۔ (۱۲۴۶) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَعْجَبُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ مِنْ رَاعِیِْ غَنَمٍ فِیْ رَأْسِ الشِّظِیَّۃِ لِلْجَبَلِ یُؤََذِّنُ بِالصَّلَاۃِ وَیُصَلِّیْ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُنْظُرُوْا اِلٰی عَبْدِیْ ھٰذَا، یُؤََذِّنُ وَیُقِیْمُیَخَافُ شَیْئًا، قَدْ غَفَرْتُ لَہُ وَأَدْخَلْتُہٗالْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۷۹)
سیّدناعقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا ربّ عزوجل پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہہ کر نماز ادا کرنے والے بکریوں کے چرواہے پر تعجب کرتا (یعنی خوش ہوتا) ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو کہ اذان کہتا ہے اور اقامت کہتا ہے، یہ کسی ذات سے ڈرتا ہے، یقینا میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔ اوردوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ کا رب تعجب کرتا ہے پھرسابقہ حدیث کا معنی بیان کیا، البتہ آخری الفاظ یوں بیان کیے: یہ مجھ سے ڈرتا ہے، سو میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1247

۔ (۱۲۴۷) (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِسَنَدٍ صَحِیحٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَعْجَبُ رَبُّکَ…)) فَذَکَرَ مَعْنَاہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((یَخَافُ مِنِّیْ قَدْغَفَرْتُ لَہُ فأَدْخَلْتُہٗالْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۰)
اوردوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ کا رب تعجب کرتا ہے پھرسابقہ حدیث کا معنی بیان کیا، البتہ آخری الفاظ یوں بیان کیے: یہ مجھ سے ڈرتا ہے، سو میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1248

۔ (۱۲۴۸) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسْولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَعْضِ أَسْفَارِہٖسَمِعْنَامُنَادِیًایُنَادِی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَی الْفِطْرۃَ۔)) فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَرَجَ ِمنَ النَّارِ۔)) فَابْتَدَرْناَہُ فَإِذَا ھُوَ صَاحِبُ مَاشِیَۃٍ أدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ، فَنَادٰی ِبہاَ۔ (مسند احمد: ۳۸۶۱)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم نے ایک اذان کہنے والے کو سنا، وہ اللہ اکبر، اللہ اکبر کہہ رہا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ الفاظ سن کر فرمایا: یہ شخص فطرتِ اسلام پر ہے۔ پھر جب اس نے اشہد أن لا الہ إلا اللہ کہا تو اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (جہنم کی) آگ سے نکل گیا ہے۔ پھر ہم جلدی جلدی اس کی طرف گئے، وہ جانوروں کا ایک چرواہا تھا،جسے نماز نے پالیا تھا، اس لیے اس نے اذان کہی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1249

۔ (۱۲۴۹) وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْوُہُ، وَفِیْہِ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لاَّ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ فَقَالَ (یَعْنِی الَّنِبَّيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((شَہِدَ بِشَہَادَۃِ الْحَقِّ۔)) قَالَ: أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، قَالَ: ((خَرَجَ مِنَ النَّارِ، اُنْظُرُوْا فَسَتَجِدُونَہُ إِمَّا رَاعِیًا مُعْزِبًا وَإِمَّا مُکَلِّبًا۔)) وَفِی رِوَایَۃٍ: ((تَجِدُوْنَہٗرَاعِیْ غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَھْلِہِ۔)) فَنَظَرُوْا فَوَ جَدُوْہُ رَاعِیًا حَضَرَتْہُ الصَّلَاۃُ فَنَادٰی ِبِہَا۔ (مسند احمد: ۲۲۴۸۵)
سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سابقہ حدیث جیسی روایت مروی ہے، البتہ اِس میں یہ الفاظ ہیں: جب اس اذان کہنے والے نے اشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ کہا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے حق کی گواہی دی ہے۔ جب اس نے أشہد أن محمدًا رسول اللّٰہ کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ سے نکل گیا ہے، دیکھو تم اسے یا تو گھاس کی تلاش میں دور نکلنے والا چراواہا یا کتوں سے شکار کرنے والا شکاری پاؤ گے۔ اور ایک روایت میں ہے تم اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے گھر والوں سے دور نکلنے والا پاؤ گے۔ پھر جب انہوں نے دیکھا تو وہ چرواہا نکلا، چونکہ نماز کا وقت ہوگیا تھا، اس لیے اس نے اذان کہی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1250

۔ (۱۲۵۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَغْفِرُ اللّٰہُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَّ صَوْتِہِ وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ َویَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَہُ۔)) (مسند احمد: ۶۲۰۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخشتا ہے اور اس کے لیے اس کی آواز سننے والی ہر تر اور خشک چیز گواہی دیتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1251

۔ (۱۲۵۱) (وَفِیْ لَفْظٍ) یَغْفِرُ اللّٰہُ لِلْمُؤَذِّنَ مُنْتَھٰی أَذَاِنہِ وَیَسْتَغْفِرُ لَہٗکُلُّرَطْبِوَیَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَہُ۔)) (مسند احمد: ۶۲۰۲)
اور ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: اللہ تعالیٰ مؤذن کو اس کی اذان کی آواز کی انتہا تک بخش دیتا ہے اور اس کی آواز کو سننے والی ہر چیز اس کے لیے بخشش طلب کرتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1252

۔ (۱۲۵۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قاَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُؤَذِّنُ یُغْفَرُ لَہُ مَدَّ صَوْتِہِ وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ وَشَاھِدُ الصَّلَاِۃیُکْتَبُ لَہُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَۃً وَیُکَفَّرُ عَنْہُ مَا بَیْنَہُمَا۔)) (مسند احمد: ۹۳۱۷)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخش دیا جاتا ہے اور اس کے لیے ہر خشک اور ترچیز گواہی دیتی ہے اور باجماعت نماز ادا کرنے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دو نمازوں کے درمیان والے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1253

۔ (۱۲۵۳) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلإِْ مَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اَللّٰہُمَّ أَرْشِدِ اْلأَئِمَّۃَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۹۹۴۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اے اللہ ائمہ کی راہنمائی فرما اور مؤذنوں کو بخش دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1254

۔ (۱۲۵۴) عَنْ عاَئِشَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْإِ مَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤََذِّنُ مُؤْ تَمَنٌ، فَأَرْشَدَ اللّٰہُ الإِْ مَامَ وَعَفَا عَنِ الْمُؤََذِّنِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۶۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اللہ امام کی راہنمائی فرمائے اور مؤذن کو معاف کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1255

۔ (۱۲۵۵) عَنْ أَنَسِ بِنْ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْمُؤََذِّنُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۵۹)
انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے لمبی گردنوں والے مؤذن ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1256

۔ (۱۲۵۶) وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بِنْ أَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ (مسند احمد: ۱۶۹۸۶)
معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1257

۔ (۱۲۵۷) عَنِ الْبَرَائِ بِنْ عَاِزبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤََذِّنُ یُغْفَرُ لَہُ مَدَّ صَوْتِہِ وَیُصَدِّقُہُ مَنْ سَمِعَہُ مِنْ رَطْبٍ وَیَابِسٍ، وَلَہُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلّٰی مَعَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۰۰)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں اور مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخش دیا جاتا ہے، اور اس کو سننے والی خشک اور ترچیز اس کی تصدیق کرتی ہے ، اور اسے اس کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کا اجرو ثواب بھی ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1258

۔ (۱۲۵۸) عَنِ ابنِْ أََبِیْ صَعْصَعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ لِیْ أَبُوْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ، وَکَانَ فِی حِجْرِہِ فَقَالَ لِیْ: یَابُنَیَّ! إِذَا أَذَّنْتَ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیْسَ شَیْئٌ یَسْمَعُہُ إِلَّا شَھِدَ لَہُ، جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: یَابُنَیَّ! إِذَا کُنْتَ فِیْ الْبَرَارِیْ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَسْمَعُہُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ وَلَاشَیْئٌیَسْمَعُہُ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۴۵)
ابو صعصعہ،جو کہ سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پرورش میں تھے، کہتے ہیں: سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا:میرے پیارے بیٹے! جب تو اذان کہے تو بلند آواز سے اذان کہا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ہر چیز جو اس کو سنتی ہے وہ اس کے لیے گواہی دیتی ہے، وہ جن ہو یا انسان ہو یا پتھر ہو۔ اور ایک مرتبہ کہا: میرے بیٹے! جب تو خشکی (یعنی بے آباد علاقوں) میں ہو تو اذان کے لیے اپنی آواز کو اونچا کیا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کوئی جن، کوئی انسان، کوئی پتھر اور کوئی چیز اس کو نہیں سنتی مگر وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1259

۔ (۱۲۵۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَا سَعِیْدٍ قَالَ لَہُ إِنِّیْ أَرَاکَ تُحِبُّ الَغَنْمَ وَالبَادِیَۃَ فَإِذَا کُنْتَ فِیْ غَنَمِکَ أَوْ بَادِیَتِکَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاۃِ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالنِّدَائِ فَإِنَّہُ لَایَسْمَعُ مَدٰی صَوْتِ الْمُؤََذِّنِ جِنٌّ وَلَا شَیْئٌ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۲۵)
اور انہی ابو صعصعہ سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ سیّدنا ابو سعید نے کہا: جب تو اپنی بکریوںیا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان کہے تو اذان میں اپنی آواز کو بلند کیا کر، کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن، انسان اور کوئی چیز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ میں نے یہ الفاظ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1260

۔ (۱۲۶۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قاَلَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ أَدْبَرَ الشَّیْطَانُ وَلَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ التَّأْذِیْنَ فَإِذَا قُضِیَ التَّأْذِینُ أَقْبَلَ حَتّٰی إِذَا ثُوِّبَ بِہَا أَدْبَرَ حَتّٰی إِذَا قُضِیَ التَّثْوِیْبُ أَقْبَلَ حَتّٰییَخْطُرَ بَیْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِہِ فَیَقُوْلُ لَہُ: اُذْکُرْ کَذَا اُذْکُرْ کَذَا، لِمَا لَمْ یَکُنْیَذْکُرُ مِنْ قَبْلُ حَتّٰییَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ یَدْرِیْ کَمْ یُصَلِّیْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۳۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا اتنی دور بھاگ جاتا ہے کہ اذان نہیں سنتا ، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو بھاگ جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور انسان اور اس کے نفس کے درمیان حائل ہو کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے ۔وہ (نمازی کو) کہتا ہے: تو فلاں کام یاد کر ، فلاں کام یاد کر، وہ کام جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتے(وہ یاد کراتا ہے)، نتیجتاً آدمی ایسی حالت میں ہو جاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1261

۔ (۱۲۶۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ إِذَاسَمِعَ الشَّیْطَانُ الْمُنَادِیَیُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ وَلّٰی وَلَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَایَسْمَعَ الصَّوْتَ، فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ فَوَسَوْسَ فَإِذَا أَخَذَ فِی الإِقَامَۃِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ۔)) (مسند احمد: ۹۱۵۹)
اور انہی سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شیطان مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا اتنا دور چلا جاتا ہے کہ آواز نہ سن سکے، جب مؤذن فارغ ہو جاتا ہے تو وہ واپس آ کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر جب مؤذن اقامت کہنا شروع کرتا ہے تو شیطان اسی طرح کرتا ہے، (یعنی بھاگ جاتا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1262

۔ (۱۲۶۲)عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قاَلَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا أَذَّنَ الْمُؤََذِّنُ ھَرَبَ الشَّیْطَانُ حَتّٰییَکُونَ بِالرَّ وْحَائِ۔)) وَھِیَ مِنَ الْمَدِیَنۃَ ثَـلَاثُونَ مِیلاً۔ (مسند احمد: ۱۴۴۵۷)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے، یہاں تک کہ روحاء مقام تک پہنچ جاتا ہے، اور یہ مقام مدینہ سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1263

۔ (۱۲۶۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدُّعَائُ لَایُرَدُّ بَیْنَ الْأَذَانِ وَاْلإِقَامَۃِ۔))(مسند احمد: ۱۲۶۱۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا ردّ نہیں کی جاتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1264

۔ (۱۲۶۴) عَنْ جَابِرِ بِنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاۃِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَائِ وَاسْتُجِیْبَ الدُّعَائُ ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۴۵)
جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہو جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1265

۔ (۱۲۶۵) عَنْ نَافِع أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُوْلُ: کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ حِیَنَ قَدِمُوا الْمَدِیْنَۃَیَجْتَمِعُوْنَ فَیَتَحَیَّنُوْنَ الصَّلَاۃَ وَلَیْسَیُنَادِیْ بِہَا أَحَدٌ، فَتَکَلَّمُوْا یَوْمًا فِیْ ذَالِکَ فَقَالَ بَعَضُہُمْ: اِتَّخِذُوْا نَاقُوْساً مِثْلَ نَاقُوْسِ النَّصَارٰی، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثلَ قَرْنَ الْیَہُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَاتَبْعَثُونَ رَجُلَا یُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاۃِ۔))(مسند احمد: ۶۳۵۷)
نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: جب مسلمان مدینہ میں آئے تو نماز کے وقت کا اندازہ لگا کر اکٹھے ہوا کرتے تھے، کوئی نماز کے لیے اذان نہیں کہا کرتا تھا ۔ ایک دن لوگوں نے اس کے متعلق بات چیت کی، کسی نے یہ مشورہ دیا کہ عیسائیوں کی ناقوس جیسی ناقوس بنا لو اور بعض نے کہا کہ یہودیوں کے قرن جیسا قرن بنا لیتے ہیں، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے کہ تم لوگ (نماز کے وقت) ایک ایسے آدمی کو کیوں نہیںبھیج دیا کرتے جو نماز کے لیے اعلان کر دے گا۔ (یہ رائے پسندیدہ تھی اس لیے)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اعلان کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1266

۔ (۱۲۶۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ زَیْدِ (بِنْ عَبْدِ رَبَّہِ) قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاقُوْسِ لِیُضْرَبَ بِہٖلِلنَّاسِفِی الْجَمْعِ للِصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ وَھُو کَارِہٌ لِمَوافَقَتِہِ النَّصَارٰی) طَافَ بِیْ وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوْسًا فِیْیَدِہِ ِفَقُلْتُ لَہُ: یَاعَبْدَ اللّٰہِ! أَتَبِیْعُ النَّاقُوَسَ؟ قَالَ: مَاتَصْنَعُ بِہِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَدْعُوْا بِہِ إِلَی الصَّلَاۃَ، قَالَ: أَفَـلَا أَدُلُّکَ عَلٰی مَا ھُوَ خَیْرٌ مِنْ ذَالِکَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: بَلٰی، قَالَ: تَقُوْلُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَیْرَ بَعِیْدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذاَ أُقیمَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فأَخْبَرْ تُہُ بِمَا رَأَیْتُ فَقَالَ: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالِ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَارَأَیْتَ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ فَإِنَّہُ أَنْدٰی صَوْتاً مِنْکَ۔)) قَالَ: فَقُمْتُ مَعَ بِلَالِ فَجَعَلْتُ أُلْقِیہِ عَلَیْہِ وَیُؤََذِّنُ بِہِ، قَالَ فَسَمِعَ بِذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَھُوَفِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ رِدَائَ ہُ یَقُولُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحقِّ! لَقَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ الَّذِی أُرِیَ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۹۲)
سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کے وقت لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دے دیا اور عیسائیوں کی موافقت کی وجہ سے یہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ناپسند بھی تھی، تو میں سویا ہوا تھا، ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے میرے پاس سے گذرا، میں نے اسے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس فروخت کرنا چاہتا ہے؟ تو اس نے جواباً پوچھا: تو اس سے کیا کرے گا؟ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اسے بتایا کہ ہم اس کے ذریعے نماز کی طرف بلائیں گے۔ اس نے کہا: کیا میں اس سے بہتر چیز کی طرف تیری راہنمائی نہ کر دوں؟ عبد اللہ بن زیدنے کہا: میں نے اسے کہا کہ کیوں نہیں! تو وہ کہنے لگا کہ تم یہ الفاظ کہا کرو: اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور کہنے لگا کہ جس وقت نماز کھڑی ہونے لگے تو یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنا خواب بیان کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: إن شاء اللہ بلاشک و شبہ یہ سچا خواب ہے، عبد اللہ! بلال کے ساتھ کھڑا ہوجا اور خواب والے کلمات اس کو کہلوا تاکہ وہ ان کے ساتھ اذان کہتا جائے کیونکہ وہ تجھ سے اچھی اور بلند آواز والا ہے۔ عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اس پر کلمات ڈالتا گیا اور وہ ان کے ساتھ اذان کہتے گئے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ کلمات سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے گھر میں سنے تو اپنی چادر کھینچتے ہوئے جلدی سے باہر آئے اور کہنے لگے: (اے اللہ کے رسول!) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اسی طرح کا خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ (اللہ کا شکر ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1267

۔ (۱۲۶۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَزَادَ ثُمَّ أَمَرَ بِالتَّأْ ذِیِن فَکَانَ بِلَالٌ مَوْلیٰ أَبیِ بَکْرٍ یُؤَذِّنُ بِذَالِکَ وَیَدْعُوْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصَّلَاۃِ قَالَ، فَجَائَ ہُ فَدَعَاہُ ذَاتَ غَدَاۃٍ إِلَی الفَجْرِ، فَقِیلَ لَہُ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَائِمٌ، قَالَ فَصَرَخَ بِلَالٌ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ ، قَالَ سَعِیدُ بِنْ اَلْمَسَیِّبِ فَأُ دْ خِلَتْ ھَذِہِ الْکَلِمَۃُ فِی التَّأْذِینِ إِلٰی صَلَاۃِ الفَجْرِ (مسند احمد: ۱۶۵۹۱)
سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی دوسری سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں مزید اس چیز کا ذکر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان کہنے کا حکم دے دیا۔ سیّدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے آزاد کردہ غلام سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انہی کلمات کے ساتھ اذان کہا کرتے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز کے لیے بلایا کرتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید کہتے ہیں: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک دن صبح کے وقت فجر کی نماز کے لیے آپ کو بلانے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے ہیں تو بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بآوازِ بلند کہا: الصلاۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے)۔ سعید بن مسیّبکہتے ہیں: تو یہ کلمات فجر کی اذان میں داخل کر دیے گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1268

۔ (۱۲۶۸)عَنْ مُعَاذِ بِنْ جَبَلِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنِّیْ رَأَیْتُ فِی النَّوْمِ کَأَنِّی مُسْتَیْقِظٌ أَریٰ رَجُلاً نَزَلَ مِنَ السَّمَائِ عَلَیْہِ بُرْدَانٍ أَخْضَرَانِ نَزَلَ عَلٰی جِذْم ِحاَئِطٍ مِنَ الْمَدِیَنَۃِ ِفَأَذَّنَ مَثْنٰی مَثْنٰی ثُمَّ جَلَسَ، ثُم أَقَامَ فَقَالَ مَثْنٰی مَثْنٰی، قَالَ: ((نِعْمَ مَا رَأَ یْتَ، عَلِّمْہَا بِلَالًا۔)) قَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ ذَالِکَ وَلٰـکِنَّہُ سَبَقَنِیْ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۷۷)
سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک انصاری آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے، مجھے یوں لگا کہ میں جاگ رہا ہوں، ایک آدمی اپنے اوپر دو سبز چادریں لیے ہوئے مدینہ کے کسی باغ کی ایک طرف آسمان سے نازل ہوا، اس نے دو دو کلموں والی اذان کہی، پھر بیٹھ گیا ہے، پھر اس نے دو دو کلموں والی اقامت کہی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے بہترین چیز دیکھی ہے، یہ کلمات بلال کو سکھاَ سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یقینا میں نے بھی اس طرح کا خواب دیکھا تھا، لیکن وہ مجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1269

۔ (۱۲۶۹) عَنْ بِلَالٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أمَرَنِیِْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أنْ لَا أُثَوِّبَ فِیْ شَیْئٍ مِنَ الصَّلَاۃِ إِلاَّ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔ وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ (أحَدُ الرُّوَاۃِ) فِی حَدِیثِہِ: قَالَ لِیِْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَذَّ نْتَ فَـلَا تُثَوِّبْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۰۹)
سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں فجر کی نماز کے علاوہ کسی دوسری نماز میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نہ کہوں اور ایک راویٔ حدیث أبو احمد کہتے ہیں سیّدنا کہ بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اذان کہے تو اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نہ کہا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1270

۔ (۱۲۷۰) (وَمِنْ طَرِبقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّ ثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُو قَطَنِ قَالَ ذَکَرَ رَجُلٌ لِشُعْبَۃَ الْحَکَمَ عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی عَنْ بِلَالَ قَالَ: فَأَمَرَنِیْ أَنْ أُثَوِّبَ فِیِْ الْفَجْرِ، وَنَہَانِیْ عَنِ الْعِشَائِ، فَقَالَ شُعْبَۃُ: وَاللّٰہِ مَاذَکَرَ ابْنُ أَبِیْ لَیْلٰی، وَلَا ذَکَرَ إِلاَّ إِسْنَادًا ضَعِیْفًا، قَالَ أَظُنُّ شُعْبَۃَ قَالَ: کُنْتُ أُرَاہُ رَوَاہُ عَنْ عِمْرَانَ بِنْ مُسْلِمٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۱۱)
ایک اور سند کے ساتھ مروی حدیثیہ ہے: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہوں اور عشا سے منع فرما دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1271

۔ (۱۲۷۱) عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُحَیْرِیْزٍ أَخْبَرَ وَ کَانَ یَتِیْمًا فِی حِجْرِ أَبِیْ مَحْذُورَۃَ حِینَ جَہَّزَہُ إِلَی الشَّامِ قَالَ: فَقْلْتُ ِلأَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ: یَاعَمِّ! إِنِّیْ خَارِجٌ إِلَی الشَّامِ وَأَخْشٰی أَنْ أُسْئَلَ عَنْ تَأْذِیْنِکَ، فَأَخْبَرَنِیِْ أَنَّ أَبَا مَحْذُوْرَۃَ قَالَ لَہُ: نَعَمْ، خَرَجْتُ فِی نَفَرٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ فِی عَشْرَۃِ فِتْیَانٍ) فَکُنَّا بِبَعْضِ طَرِیقِ حُنَیْنِ، فَقَفَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ حُنَیْنٍ، فَلَقِیَناَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِ الطَّرِیْقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّلَاۃِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَکِّبُوْنَ فَصَرَخْنَا نَحْکِیْہِ وَنَسْتَہْزِیُٔ بِہِ فَسَمِعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّوْتَ، فَأَرْسَلَ إِلَیْنَا إِلیَ أَنْ وَقَفْنَا بَیْنَیَدَیْہِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّکُمُ الَّذِیْ سَمِعْتُ صَوْتَہُ قَدِ ارْتَفَعَ؟)) فَأَشَارَالْقَوْمُ کُلُّہُمْ إِلَیَّ وَصَدَقُوْا ، فَأَرْسَلَ کُلَّہُمْ وَحَبَسَنِیْ فَقَالَ: ((قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاۃِ۔)) فَقُمْتُ وَلَا شَیْئَ أَکْرَہُ إِلَیَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا مِمَّا یَأْمُرُنِیِْ بِہِ، فَقُمْتُ بَیْنَیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَلْقٰی إِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّأْذِینَ ھُوَ نَفْسُہُ فَقَالَ: ((قُلْ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ)) ثُمَّ قَالَ لِیْ: ((اِرْجِعْ فَامْدُ دْ مِنْ صَوْتِکَ)) ثُمَّ قَالَ: ((أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔)) ثُمًّ دَعَانِی حِیْنَ قَضَیْتُ التَّأْذِیْنَ فَأَعْطَانِیْ صُرَّۃً فِیْہَا شَیْئٌ مِنْ فِضَّۃٍ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی نَاصِیَۃِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ ثُمَّ أَمَرَّھَا عَلیَ وَجْہِہِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ مَرَّتَیْنِ عَلَییَدَیْہِ ثُمَّ عَلَی کَبِدِہِ ثُمَّ بَلَغَتْ یَدُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُرَّۃَ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَارَکَ اللّٰہُ فِیکََ۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مُرْنِیْ بِالتَّأْذِیْنِ بِمَکَّۃَ۔ فَقَالَ: ((قَدْ أَمَرْتُکَ بِہِ۔)) وَذَھَبَ کُلُّ شَیْئٍ کَانَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ کَرَاھِیَۃٍ وَعَادَ ذَالِکَ مَحَبَّۃً لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَدِمْتُ عَلَی عَتَّابِ بِنْ أَسِیْدٍ عَامِلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ فَأَذَّنْتُ مَعَہُ بِالصَّلَاۃِ عَنْ أَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَخْبَرنِیْ ذَالِکَ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ أَھْلِیْ مِمَّنْ أَدْرَکَ أَبَا مَحْذُوْرَۃَ عَلیَ نَحْوِ مَا أَخْبَرَ نِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بِنْ مُحَیْرِیْزٍٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۴)
جس وقت عبد العزیز بن عبد الملک بن أبی محذورہ نے عبد اللہ بن محیریز، جو سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پرورش میں ایکیتیم تھے، کو شام کی طرف بھیجنے کے لیے تیار کیا تو عبد اللہ بن محیریز نے کہا:میں نے ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کی اے چچا جان! میں شام کی طرف جا رہا ہوں او رمجھے لگتا ہے کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے سوال ہو گا۔ عبد العزیز کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن محیریز نے اس کو بتایا کہ ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اُن سے کہا: ٹھیک ہے، میں تجھے اپنی اذان کے بارے میں بتا دیتا ہوں، میں کچھ لوگوں، اور ایک روایت کے مطابق دس نوجوانوں کے ساتھ نکلا،ہم حنین کے کسی راستہ میں تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حنین سے واپس آرہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں ایک راستہ میں ملے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان کہی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی اور راستہ سے پیچھے ہٹ کر اس کی نقل اتارتے ہوئے اور مذاق کرتے ہوئے شور کرنا شروع کر دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بلانے کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا اور ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم میں سے کون ہے، جس کی بلند آواز میں نے سنی ہے؟ سارے لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور وہ سچے تھے۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور اور فرمانے لگے: کھڑا ہو جا اور نماز کے لیے اذان کہہ۔ میں کھڑا ہو گیا، حالانکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کا حکم مجھے سب سے بڑھ کر ناپسند تھا۔ بہرحال میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بذاتِ خود مجھے اذان کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: کہہ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پھر فرمایا: اپنی آواز بڑھا کر دوبارہ کہہ: أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أشْھَدُأَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلا کر ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔ پھر آپ نے ابو محذورہ کی پیشانی پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے اس کے چہرے پر دو مرتبہ پھیرا، پھر اس کے ہاتھوں پر دو دفعہ پھیرا، پھر اس کے جگر پر ہاتھ مارا حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ ابو محذورہ کی ناف تک پہنچ گیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ (اللہ تجھ میں برکت فرمائے)َ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے یہ حکم دے دیا ہے۔ سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جتنی کراہت تھی، وہ ساری کی ساری ختم ہو گئی او راس کی بجائے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محبت پیدا ہو گئی۔ پھر میں (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کے مطابق) مکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عامل عتاب بن اسید کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان کہنا شروع کر دی۔ عبد العزیز بن عبد الملک کہتے ہیں: میرے گھر والوں میں سے جس جس نے مجھے یہ واقعہ بیان کیا، وہ عبد اللہ بن محیریز کے بیان کردہ واقعہ کے مطابق تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1272

۔ (۱۲۷۲) عَنِ السَّائِبِ مَولٰی أَبِی مَحْذُوْرَۃَ وَأُمِّ عَبْدِا لْمَلِکِ ابِنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ أَ نَّہُمَا سَمِعَا مِنْ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ فَذَکَرَ نَحْوَالْحَدِیثِ الْمُتَقَدِّمِ مُخْتَصَراً وَفِیہِ ذِکْرُ التَّکْبِیِر الْأَ وَّلِ أرْبَعًا وَزَاد َفِیِہ قَوْلَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَإِذَاأَذَّنْتَ بِالْأَوَّلِ مِنَ الصُّبْحِ فَقُلْ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْہَا مَرَّتَیْنِ قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، أَسَمِعْتَ؟)) قَالَ وَکَانَ أبُوْمَحْذُورَۃَ لَا یَجِزُّ نَاصِیَتَہُ وَلَا یَفْرِقُہَا لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَسَحَ عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۰)
سائب مولی ابی محذورہ او رام عبد الملک بن ابی محذورہ دونوں نے سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا ، راوی نے ذرا اختصار کے ساتھ سابقہ حدیث کی طرح روایت بیان کی، البتہ اس میں پہلی تکبیر کے چار مرتبہ کہنے کا ذکر ہے اور اس میں مزید نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے: جس وقت تو صبح کی پہلی اذان کہے تو اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہنا اور جب تو اقامت کہے تو دو مرتبہ قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہنا، کیا تو نے سن لیا ہے؟ سائب کہتے ہیں: سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی پیشانی کے بال کاٹتے تھے نہ ان میں مانگ نکالتے تھے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1273

۔ (۱۲۷۳) عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کُنْتُ اُاَذِّنُ فِیْ زَمَنِ النَّبِییً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فیِ صَلَاۃِ الصُّبْحِ فَاِذَا قُلْتُ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ قُلْتُ اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الْأَ ذَانَ الْأَوَّلَ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۲)
سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں صبح کی نماز کے لیے اذان کہا کرتا تھا، جب میں حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کہتا تو اَلصَّلَاۃُخَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہتا، یہ پہلی اذان کی بات ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1274

۔ (۱۲۷۴) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَۃَ کَلِمَۃً وَالِْأقَامَۃَ سَبْعَ عَشْرَۃَ کَلِمَۃً الأَذاَنُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَالإِ قَامَۃُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قاَمَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۶)
سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أشْھَدُأَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔اور اقامت کے الفاظ یہ ہیں:اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1275

۔ (۱۲۷۵) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ سُنَّۃَ الْأَذَانِ فَمَسَحَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِیْ وَقَالَ: ((قُلْ: اَللّٰہُ أکْبَرُ، اللّٰہُ أکْبَرْ تَرْفَعُ بِہَا صَوْتَکَ، ثُمَّ تَـقُوْلُ أَشْہَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أشْہَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، مَرَّتَیْنِ تَخْفِضُ بِہَا صَوْتَکَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَکَ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، مَرَّتَیْنِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، مَرَّتَیْنِِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، مَرَّتَیْنِ، فَإِنْ کَانَ صَلَاۃُ الصُّبْحِ قَلْتَ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَللّٰہُ أَکْبَر اَللّٰہُ أَکْبَر لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، (زَادَفِی رِوَایَۃٍ) قَالَ وَالْإِ قَامَۃُ مَثْنٰی مَثْنٰی لَا یُرَجِّعُ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۳)
سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اذان کا طریقہ سکھائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر کے اگلے حصہ پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: بلند آواز سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ، پھر أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ دو دو مرتبہ آہستہ آواز کے ساتھ کہہ، پھر اپنی آواز بلند کر کے دو دفعہ أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ اور دو دفعہ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، پھر دو دو مرتبہ ہی کہہ: حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ۔ اگر صبح کی نماز ہو تو اَلصَّلَاۃُخَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ کہہ۔ ایک روایت میں مزید فرمایا: اقامت بغیر ترجیع کے دو دو کلمے کہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1276

۔ (۱۲۷۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّ ثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ یَعْنِیْ اَلْمُؤََذِّنَ یُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِیْ الْمُثَنّٰییُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ إِنَّمَا کَانَ الْأَذَانُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ، وَقَالَ حَجَّاجٌ یَعْنِیْ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ، وَالإْ قَامَۃُ مَرَّۃً غَیْرَ أَنَّہٗیَقُوْلُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، وَکُنَّا إِذَا سَمِعْنَا الإِْقَامَۃَ تَوَضَّاْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلیَ الصَّلَاۃِ، قَالَ شُعْبَۃُ لَا أَحْفَظُ غَیْرَ ھَذَا۔(مسند احمد: ۵۵۶۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں اذان (کے کلمات) دو دو مرتبہ او راقامت کے ایک ایک مرتبہ تھے، البتہ مؤذن اقامت میں قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ (دو دفعہ) کہتا تھا، اور ہم جس وقت اقامت سنتے تو وضو کر کے نماز کے لیے نکلتے تھے۔امام شعبہ کہتے ہیں: مجھے تو صرف یہی کچھ یاد ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1277

۔ (۱۲۷۷) عَنَ اَنَسِ بِنْ مَالِکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ یَّشْفَعَ الْأَذَانَ وَیُوْتِرَ الإْ قَامَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۲۴)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا او راقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم کیا گیا تھا۔ (دوسری سند)سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا اور اقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم دیا گیاتھا، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کے علاوہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1278

۔ (۱۲۷۸)(وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أبِیْ ثَنَا إِسْمَاعِیلُ أنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ قَالَ أَنَسٌ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ یَّشْفَعَ الْأَذَانَ وَیُوِتِرَ الإِْ قَامَۃَ۔ فَحَدَّثْتُ بِہِ أَیُّوْبَ فَقَالَ: إِلاَّ الإِْقَامَۃَ۔
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا او راقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم کیا گیا تھا۔ (دوسری سند)سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا اور اقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم دیا گیاتھا، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کے علاوہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1279

۔ (۱۲۷۹) عَنْ عَوْنِ بِنْ أَبِیْ جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِیْہِ (أبِیْ جُحَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ رَأَیْتُ بِلَالًا یُؤََذِّنُ وَیَدُوْرُ وَأَتَتَبَّعُ فَاہُ ھَاھُنَا وَھَاھُنَا (زَادَفیِ رَوِایَۃٍیَعْنِییَمِینًا وَشِمَالاً وَاِصْبَعَاہُ فیِ أُذُنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۶۶)
سیّدنا ابوجحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کہتے ہوئے دیکھا کہ وہ (حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہتے وقت) گھوم رہے تھے اور میں ان کے منہ کو اِدھر اُدھرہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ ایک روایت میں مزید فرمایا: کہ دائیں بائیں گھوم رہے تھے او راپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1280

۔ (۱۲۸۰)عَنِ ابْنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ عَنْ أَبِیْہِ أَوْعَنْ جَدِّہِ قَالَ جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْأَذَانَ لَنَا وَلِمَوالِیْنَا، وَالسِّقَایَۃَ لِبَنِیِْ ھَاشِمٍ، وَالْحِجَامَۃَ لِبَنِیِْ عَبْدِالدَّارِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۹۵)
ابن ابی محذورہ اپنے باپ یا دادا سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے اور ہمارے موالیوں کے لیے اذان، اور بنوہاشم کے لیے حاجیوں کو پانی پلانا، اور بنو عبد الدار کے لیے سنگی لگانا خاص فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1281

۔ (۱۲۸۱) عَنْ عُثْمَانَ بِنِ أَبِی الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِجْعَلْنِی إِمَامَ قَوْمِیْ۔ فَقَالَ: ((أَنْتَ إِمَامُہُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِہِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤََذِّنًا لا یَأَخُذُ عَلٰی أَذَانِہِ أَجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۰)
سیّدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری قوم کا امام بنا دیجئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے)، تو اُن کا امام ہے، ان میں سے زیادہ کمزور کا خیال رکھنا او رایسا مؤذن مقرر کرنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لیتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1282

۔ (۱۲۸۲) عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ مَوْلی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤََذِّنَ، قَالَ مِثْلَ مَا یَقُولُ حَتّٰی إِذَا بَلَغَ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ قَالَ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۳۱)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام سیّدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس وقت مؤذن کو (اذان دیتے ہوئے) سنتے تو جو وہ کہتا وہی آپ کہتے، حتی کہ جب وہ حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ پر پہنچتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1283

۔ (۱۲۸۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بِنْ رُبَیِّعَۃَ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا یَقُوْلُ: أشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ)) قَالَ: أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَشْہَدُ أَنِّیْ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ)) فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِدُوْنَہُ رَاعِیَ غَنَمٍ أَوْعَازِباً عَنْ أَھْلِہٖ۔)) فَلَمَّاھَبَطَالْوَادِیَ قَالَ مَرَّ عَلَی سَخْلَۃٍ مَنْبُوْذَۃ ٍفَقَالَ: ((أَتَرَوْنَ ھَذِہٖھَیِّنَۃً عَلَی أَھْلِہَا؟ لَلدُّنْیَا أَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی أَھْلِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۷۲)
سیّدنا عبد اللہ بن ربیعہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مؤذن کو أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہتے ہوئے سن کر أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہا، پھر اس نے أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے أَشْہَدُ أَنِّیْ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے گھر والوں سے دور نکلنے والا پاؤ گے۔ عبد اللہ بن ربیعہ کہتے ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی میں اُترے تو بکری کے ایک (مردار) بچے کے پاس سے گزرے جسے پھینک دیا گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو اس کے مالکوں کے ہاں حقیر خیال کرتے ہو؟ (تبھی تو انھوں نے اسے پھینک دیا)۔ یقینایہ دنیا اللہ کے ہاں مالکوں پر اس بچے سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1284

۔ (۱۲۸۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَاسَمِعَ الْمُنَادِیَ قَالَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ أِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔))(مسند احمد: ۲۵۴۴۶)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اذان کہنے والے کو سنا کرتے تھے تو فرماتے: أشہد أن لا إلہ إلا اللہ اور أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1285

۔ (۱۲۸۵) عَنْ أُمَّ حَبِیَبۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَََذِّنَ یُؤََذِّنُ قَالَ کَمَا یَقُولُ حَتّٰییَسْکُتَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۰۳)
سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس وقت مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتے تو اس کے خاموش ہونے تک وہی کہتے جو وہ کہتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1286

۔ (۱۲۸۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ: کَانَ عَلِیُّ بِْنُ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِذَا سَمِعَ الْمُوََذِّنَ قَالَ کَمَا یَقُولُ، فَإِذَا قَالَ: أشْہَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أشْہَدُ أنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، وَأِنَّ الَّذِینَ جَحَدُوْا مُحَمَّدًا ھُمْ الْکَاذِبُوْنَ۔ (مسند احمد: ۹۶۵)
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتے تو جیسے وہ کہتا ویسے ہی کہتے، اور جب وہ أشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ اور أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ کہتا توسیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی أشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہاور أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ ہی کہتے ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ((وَأِنَّ الَّذِینَ جَحَدُوْا مُحَمَّدًا ھُمْ الْکَاذِبُوْنَ)) یقینا جن لوگوں نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انکار کیا ہے وہی جھوٹے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1287

۔ (۱۲۸۷) عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ حِیْنَیَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْناً غُفِرَلَہُ ذَنْبُہُ۔))
سیّدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کو سن کر یہ دعا پڑھی: ((وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْناً۔)) اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، ہم اللہ کے رب ہونے پر، محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر خوش ہیں۔ …تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1288

۔ (۱۲۸۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَایَقُوْلُ، ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ فَإِنَّ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلَاۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوْا لِیَ الْوَ سِیلَۃَ فَإِنَّہَا مَنْزِلَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ لَاتَنْبَغِیْ إِلَّا لِعَبْدٍ مِّنْ عِبَادِ اللّٰہِ وَأَرْجُوْ أَنْ أَکُونَ أَنَا ھُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِیَ الْوَسِیْلَۃَ حَلَّتْ عَلَیْہِ الشَّفَاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۶۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم مؤذن کو سنو تو جیسے وہ کہتا ہے ویسے تم بھی کہتے رہو، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، بعد ازاں میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، کیونکہیہ جنت کے اندر ایک ایسا مرتبہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لیے ہی مناسب ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں، جس شخص نے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا اس کے لیے میری سفارش حلال ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1289

۔ (۱۲۸۹) عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدَّرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : الْوَسِیلَۃُ دَرَجَۃٌ عِنْدَ اللّٰہِ لَیْسَ فَوْقَہَا دَرَجَۃٌ، فَسَلُوا اللّٰہَ أنْ یُؤْتِیَنِیَ الْوَسیِلَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۵)
سیّدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وسیلہ جنت میں ایک مرتبہ ہے اور فضیلت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی درجہ نہیںہے، تم اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو کہ وہ یہ وسیلہ مجھے عطا کردے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1290

۔ (۱۲۹۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (ابِنْ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ الْمُؤَذِّنِیْنَیَفْضُلُوْنَّا بِأَذَانِہِمْ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُلْ کَمَا یَقُوْلُوْنَ فَإِذَا انْتَہَیْتَ فَسَلْ تُعْطَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۰۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہنے لگا: ا ے اللہ کے رسول! مؤذن لوگ اپنی اذانوںکی وجہ سے ہم سے فضیلت لے جائیں گے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: وہ اذان کہتے وقت جو(کلمات) کہتے ہیں تو بھی وہ دوہراتا رہا کر، پھر جب تو فارغ ہو تو (اللہ سے) سوال کیا کر، (جو کچھ تو مانگے گا)تجھے دے دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1291

۔ (۱۲۹۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِتَلَعَاتِ الْیَمَنِ فَقَامَ بِلَالٌ یُنَادِیْ فَلَمَّا سَکَتَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ھَذَا یَقِیْنًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۰۹)
سیّدنا ابوہریرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یمن کے بلند ٹیلوں پر تھے، سیّدنابلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہو کر اذان کہنے لگے، جب وہ اذان سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے یقین کے ساتھ اسی طرح (یہ کلمات) کہے، جو اس (بلال) نے کہے تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1292

۔ (۱۲۹۲) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَائَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَایَقُوْلُ الْمُؤََذِّنُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۳۳)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو جیسے مؤذن کہتا ہے ویسے تم بھی کہا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1293

۔ (۱۲۹۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ حَیْنَیَسْمَعُ النِّدَائَ: اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّداً نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَّہُ إِلاَّ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷۷)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّداً نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَّہُ إِلاَّ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) اے اللہ! اس مکمل دعوت اور قائم رہنے والی نماز کے رب! محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور اس کو اس مقامِ محمود پر پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ …تو اس کے لیے قیامت کے دن میری سفارش واجب ہو گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1294

۔ (۱۲۹۴) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ حِیْنَیُنَادِی الْمُنَادِی: اللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ النَّافِعَۃِ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ وَارْضَ عَنِّی رِضاً لَا تَسْخَطُ بَعْدَہُ اِسْتَجَابَ اللّٰہُ لَہُ دَعْوَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۷۴)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص مؤذن کی اذان سن کر یہ دعا پڑھے: (( اللَّہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ النَّافِعَۃِ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ وَارْضَ عَنِّی رِضاً لَا تَسْخَطُ بَعْدَہُ اِسْتَجَابَ اللّٰہُ لَہُ دَعْوَتَہُ۔)) اے اللہ! اس مکمل دعوت اور فائدہ دینے والی نماز کے رب! محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیج، اور مجھ سے ایسا راضی ہو جا کہ جس کے بعد تو ناراض نہ ہو۔ …تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی دعا قبول کرلیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1295

۔ (۱۲۹۵)عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّیْ لَعِنْدَ مُعَاوِیَۃَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُہُ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ کَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنَ، حَتّٰی إِذَا قَالَ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، فَلَمّا قَالَ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قاَلَ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّہَ إِلَّا بِاللّٰہِ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِکَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنَ، ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۶)
عبد اللہ بن علقمہ بن وقاص کہتے ہیں: میں سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا، جب ان مؤذن نے اذان کہی تو انھوں نے وہی (کلمات) کہے جو مؤذن کہتا تھا، حتی کہ جب اس نے حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کہا تو سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّہَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہا اور اس کے بعد وہی کہا جو مؤذن نے کہا ، پھر یہ بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہی کہتے ہوئے سنا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1296

۔ (۱۲۹۶) عَنْ مَعْاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَتَشَہَّدُ مَعَ الْمُؤَذِّنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۶۶)
سیّدنامعاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مؤذنوں کے ساتھ شہادت والے کلمے کہا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1297

۔ (۱۲۹۷) عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ یَحْیَی الْأَ نْصَارِیِّ قَالَ: کُنْتُ إِلی جَنْبِ أَبِیْ أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ وَھُوَ مُسْتَـقْبِلُ الْمُوََذِّنِ وَکَبَّرَ الْمُؤَذِّنُ اثْنَتَیْنِ، فَکَبَّرَ أَبُو أُمَامَۃَ اثْنَتَیْنِ، وَشَہِدَ أَنْ لَّاإِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ اِثْنَتَیْنِ، فَشَہِدَ أَبُو أُمَامَۃَ اثْنَتَیْنِ، وَشَہِدَ الْمُؤَذِّنُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ اِثْنَتَیْنِ، وَشَہِدَ أَبُوْ أُمَامَۃَ اثْنَتَیْنَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ: ھٰکَذَا حَدَّثَنِیْ مُعَاِویَۃُ بْنُ أَبِیْ سُفْیَانَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۷)
مجمع بن یحی انصاری کہتے ہیں: میں سیّدنا ابو امامہ بن سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا اور وہ مؤذن کی طرف رخ کیے ہوئے تھے، مؤذن نے دو دفعہ اللہ اکبر کہا، جواب میں سیّدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی دو دفعہ اللہ اکبر کہا، مؤذن نے دو مرتبہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ کہا، سیّدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی دو مرتبہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ کہا، پھر مؤذن نے دو دفعہ أشہد أن محمدا رسول اللہ کہا تو سیّدنا ابو امامہ نے بھی دو دفعہ أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ کہا، پھر میری طرف رُخ کر کے فرمایا: مجھے سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسے ہی بیان کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1298

۔ (۱۲۹۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ بِلَالٌ یُؤَذِّنُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لَایَخْرُمُ ثُمَّ لَا یُقِیْمُ حَتّٰییَخْرُجَ النَّبِیُِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فَإِذَا خَرَجَ أَقَامَ حِیْنَیَرَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۹)
سیّدنا جابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سورج ڈھلتے وقت اذان کہاکرتے تھے اور اس کا کوئی لفظ نہیں چھوڑتے تھے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نکلنے تک اقامت نہ کہتے، البتہ جس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلتے تو آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1299

۔ (۱۲۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیِْ أَبِیْ ثَنَا اِبْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیْ عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَمْنَعَنَّ أَحَدَکُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُوْرِہِ فَإِنَّہُ إِنَّمَایُنَادِیْ أَوْ قَالَ یُؤََذِّنُ لِیَرْ جِعَ قاَئِمَکُمْ وَیُنَبِّہَ نَائِمَکُمْ لَیْسَ أَنْ یَقُوْلَ ھٰکَذَا وَلٰکِنْ حَتّٰییَقُوْلَ ھٰکَذَا۔)) وَضَمَّ ابْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ أَبُوْ عَمْرو أَصَابِعَہٗوَصَوَّبَہَاوَفَتَحَمَابَیْنَ إِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَتَیْنِیَعْنِی الْفَجْرَ۔ (مسند احمد: ۳۷۱۷)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال کی اذان تم سے کسی کو اس کی سحری نہ روکے،کیونکہ وہ تو صرف اس لیے اذان کہتا ہے کہ قیام کرنے والے کو واپس لوٹا دے اورسوئے ہوئے کو بیدار کر دے اور (فجر صادق میں روشنی) اس طرح (اوپر کو) ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ اس طرح (افق میں) پھیل جاتی ہے۔ اور ابن ابی عدی ابو عمر نے (اس تمثیل کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنی انگلیوں کو ملا کر جھکایا اور شہادت والی انگلیوں کے درمیان کشادگی کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1300

۔ (۱۳۰۰) عَنْ سَاِلمٍ عَنْ أَبِیہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ بِلَالاً یُؤَذَّنَ بِلَیْلِ فَکُلُوْا وَاشْرَ بُوْا حَتّٰییُؤَذِّنَ اِبْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ۔)) (مسند احمد: ۴۵۵۱)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رات کے وقت اذان کہتا ہے اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان کہہ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1301

۔ (۱۳۰۱) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنْ أبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ بِلَالاً یُنَادِیْ بَلَیْلٍ، فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی تَسْمَعُوْا تَأْذِیْنَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ۔)) قَالَ: وَکَانَ ابُنْ أُمِّ مَکْتُوْمٍ رَجُلاً أَعْمٰی لَا یُبْصِرُ، لَا یُؤَذِّنُ حَتَّییَقُولَ النَّاسُ قَدْ أَصْبَحْتَ۔ (مسند احمد: ۶۰۵۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرویہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم ایک نابینا آدمی تھے، اس لیے وہ اس وقت تک اذان نہیں کہتے تھے جب تک لوگ اسے یہ نہ کہہ دیتے کہ تو نے صبح کردی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1302

۔ (۱۳۰۲) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُؤَذِّنَانِ۔ (مسند احمد: ۵۶۸۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دو مؤذن تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1303

۔ (۱۳۰۳) عَنْ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍقَالَ لَمْ یَکُنْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلأَ مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِی الصَّلَوَاتِ کُلِّہَا، فِی الْجُمْعَۃِ وَغَیْرِھاَیُوئَ ذِّنَ وَیُقِیِمُ، قَالَ کَانَ بِلَالٌ یُؤَذِّنَ إِذَا جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ وَیُقِیْمُ إِذَا نَزَلَ، وَلِأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما حَتّٰی کَانَ عُثْمَانُ (مسند احمد: ۱۵۸۰۷)
سیّدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا جمعہ وغیرہ تمام نمازوں کیے لیے ایک ہی مؤذن ہوا کرتا تھا، یہاں تک کہ سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے۔ سیّدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے روز جب رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما ہوتے تو سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اذان کہتے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیچے اترتے تو سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اقامت کہتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1304

۔ (۱۳۰۴)وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ الْأَذَانُ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَذَانَیْنِ حَتّٰی کَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ فَکَثُرَ النَّاسُ فأَمَرَ بِاْلأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَائِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۹)
سیّدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابو بکر اورسیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ادوار میں (جمعہ کے لیے اذان اور اقامت) دو اذانیں ہوا کرتی تھیں،یہاں تک سیّدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا زمانہ آ گیا اور لوگوں کی کثرت ہوگئی تو سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے زوراء مقام پر ایک اور اذان کہنے کا حکم دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1305

۔ (۱۳۰۵) عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسِ أَنَّ رَجُلاً مِنْ ثَـقِیْفٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ مُؤَذِّنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْیَوْمٍ مَطِیْرٍیَقُوْلُ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ صَلُّوْا فِی رِحَالِکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۵۴)
سیّدنا عمر بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بنو ثقیف کے ایک آدمی نے بتایاکہ اس نے بارش والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن کو حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کے بعد صَلُّوْا فِی رِحَالِکُمْ ( اپنے گھروں میں پڑھ لو) کہتے ہوئے سناتھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1306

۔ (۱۳۰۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ مُؤَذِّنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤَذِّنَ ثُمَّ یُمْہِلُ فَـلَا یُقِیْمُ حَتّٰی إِذَا رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاۃَ حِیْنَیَرَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۸۵)
سیّدناجابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مؤذن اذان کہہ کر ٹھہر جاتا اور اقامت نہ کہتا، جب وہ دیکھ لیتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (گھر سے ) نکل آئے ہیں تو اقامت کہنا شروع کر دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1307

۔ (۱۳۰۷)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نُوْدِیَ للِصَّلَاۃِ (وَفِی رَوِاَیۃٍ إذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ) فَـلَا تَقُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۰۱)
سیّدناابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جائے اور ایک روایت کے مطابق جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو تم نہ اٹھا کرو حتی کہ مجھے دیکھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1308

۔ (۱۳۰۸) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بِلَالُ! اِجْعَلْ بَیْنَ أذَانِکَ وَإِقَامَتِکَ نَـفَسًا یَفْرُغُ الْآٰ کِلُ مِنْ طَعَامِہِ فِی مَہَلٍ وَیَقْضِی الْمُتَوَضِّیئُ حَاجَتَہُ فِی مَہَلِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۹)
سیّدنااُبی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال ! اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ کر کہ کھانے والا اپنے کھانے سے باآسانی فارغ ہوسکے اور وضو کرنے والا آرام سے اپنی حاجت پوری کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1309

۔ (۱۳۰۹) عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ زِیَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِی أَنَّہُ أَذَّنَ فَأَرَادَ بِلالٌ أَنْ یُقِیْمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاأَخَا صُدَائٍ! إِنَّ الَّذِیْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیْمُ۔))
زیاد بن نُعیم حضرمی بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا زیاد بن حارث صدائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اذان کہی، پھر سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہنا چاہی، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: صدا کے بھائی! جس نے اذان کہی ہو وہی اقامت کہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1310

۔ (۱۳۱۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَریِقٍ ثَانٍ) عَنْ زِیَادِ بِنْ الْحَارِثَِ الصُّدَائیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أذِّنْ یَا أَخَاصُدَائٍ!)) قَالَ: فَأَذَّنْتُ وَذَلِکَ حِیْنَ أَضَائَ الْفَجْرُ، قَالَ: فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ یُقِیْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُقِیْمُ أَخُوْ صُدَائٍ، فَإِنَّ مَنْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۷۹)
سیّدنا زیاد بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو فرمایا: صدا کے بھائی ! اذان کہو۔ زیاد کہتے ہیں: پس میں نے اذان کہی ، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب فجر روشن ہوئی تھی ، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کرکے نماز کے لیے اٹھے تو سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہنا چاہی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدائی اقامت کہے کیونکہ جو اذان کہتاہے، و ہی اقامت کہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1311

۔ (۱۳۱۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أُرِیَ الْأَذَانَ قَالَ فَجِئْتُ إِلیَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: ((أَلْقِہْ عَلٰی بِلَالٍ۔)) فَأَلَقَیْتُہُ فَأَذَّنَ، قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ یُّقِیْمَ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا رَأَیْتُ، أُرِیْدُ أَنْ أُقِیْمَ، قَالَ: ((فَأَقِمْ أَنْتَ۔)) فَاقَامَ ھُوَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۹۰)
سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اذان کا خواب دیکھا، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آکر بتایا، لیکن آپ نے فرمایا: یہ کلمات بلال کو سکھا۔ پس میں نے وہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سکھائے، پھر انہوں نے اذان کہی ،جب سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا: اللہ کے رسول ! خواب میں نے دیکھا ہے ، اس لیے میرا ارادہ ہے کہ اقامت تو میں کہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سن کر فرمایا: (ٹھیک ہے) تو ہی اقامت کہہ لے۔ پس سیّدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہی، جبکہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اذان کہی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1312

۔ (۱۳۱۲) عَنْ سَھْلِ عَنْ أَبِیْہِ (مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((الْجَفَائُ کُلُّ الْجَفَائِ وَالْکُفْرُ وَالنِّـفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُناَدِیَ اللّٰہِ یُنَادِیْیَدْعُوْ إِلیَ الْفَـلَاحِ وَلَا یُجِیْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۲)
سیّدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فر ما یا : یہ ظلم ہی ظلم ہے، بلکہ کفر و نفاق ہے کہ ایک شخص مُنَادِی (مؤذن) کو سنتا ہے کہ وہ فلاح کی طرف دعوت دے رہا ہوتا ہے، لیکن وہ اس کا جواب نہیں دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1313

۔ (۱۳۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ھَاشِمٌ ثَنَا الْمَسْعُوْدِیُّ وَشَرِیکٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِیْ الشَّعْشَائِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: أَمَّا ھَذَا فَقَدْ عَصٰی أَبَا الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالَ: وَفِیْ حَدِیْثِ شَرِیْکٍ: ثُمَّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَاکُنْتُمْ فِی الْمَسْجِدِ فَنُوْدِیَ بالصَّلَاۃِ فَـلَا یَخْرُجْ أَحَدُ کُمْ حَتّٰییُصَلِّیَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۴۶)
ابو شعثاء کہتے ہیں کہ ایک آدمی مؤذن کے اذان کہہ دینے کے بعد مسجد سے نکل گیا، اسے دیکھ کر سیّدنا ا بو ہر یر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اِ س شخص نے ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ شریک کی بیان کردہ حدیث میں ہے: پھر سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ: جب تم مسجد میں ہو اور نماز کے لیے اذان ہوجائے تو تم میں سے کوئی (مسجد سے باہر) نہ نکلے یہاں تک کہ نماز پڑھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1314

۔ (۱۳۱۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا سَمِعَ أَحَدُ کُمُ الْأَذَانَ وَالْأِنَائُ عَلَییَدِہِ فَـلَا یَدَعْہُ حَتّٰییَقْضِیَ حَاجَتَہُ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۹۴۶۸)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اس حالت میں اذان سنے کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے رکھ نہ دے، یہاں تک کہ اپنی ضرورت پوری کرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1315

۔ (۱۳۱۵) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَارَوْحٌ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بِنْ أَبِیْ عَمَّارٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَزَادَ فِیْہِ وَکَانَ الْمُؤَذِّنُ یُؤَذِّنُ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۳۸)
اور دوسری سند کے ساتھ مروی حدیث میں یہ زائد بات ہے: سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اور مؤذن اُس وقت اذان کہتا جب فجر طلوع ہوجاتی ۔

آیت نمبر