MUSNAD AHMED

Search Result (69)

23)

23) اذان اور اقامت کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1316

۔ (۱۳۱۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ وَسُلَیْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاھِیْمَ الْتَّیمِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ أَعْرِضُ عَلَیْہِ وَیَعْرِضُ عَلَیَّ وَقَالَ أَبُو عَوَانَۃَ: کُنْتُ أَقْرَأُ عَلَیْہِ وَیَقْرَأُ عَلَیَّ فِی السِّکَّۃِ فَیَمُرُّ بِالسَّجْدَۃِ فَیَسْجُدُ قَالَ: قُلْتُ: أَتَسْجُدُ فِی السِّکَّۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ أَبَاذَرٍّ یَقُوْلُ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِی الْأَرْضِ أَوَّلاً؟ قَالَ: ((الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَیٌّ؟ قَال: ((ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَ قْصٰی۔)) قَالَ: قُلْتُ: کَمْ بَیْنَہُمَا؟ قَالَ: ((أَرْبَعُوْنَ سَنَۃً۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَیْنَمَا أَدْرَ کَتْکَ الصَّلَاۃُ فَصَلِّ فَہُوَ مَسْجِدٌ، وَفِیْ رَوِایَۃٍ فَکُلُّہَا مَسْجِدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۱۱)
ابو عوانہ کہتے ہیں: گلی میں (چلتے چلتے) میں ابراہیم تیمی پر اور وہ مجھ پر قرآن پڑھتے، جب ابراہیم سجدے والی آیت کی تلاوت کرتے تو سجدہ کرتے۔ میں نے کہا: آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہاں! میں نے سیّدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا تھا ، انھوں نے کہا: میںنے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا:اے اللہ کے رسول! زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد حرام ۔ میں نے کہا: پھر کون سی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر مسجد اقصی ۔ میں نے کہا : دونوں کے درمیان کتنی مدت تھی ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چالیس سال۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاں بھی نماز تجھے پالے، وہاں نماز پڑھ لیا کر، وہی مسجد ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: زمین ساری کی ساری مسجد ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1317

۔ (۱۳۱۷) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطِّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِداً یُذْ کَرُ فِیْہِ اسْمُ اللّٰہِ تَعَالٰی بَنیَ اللّٰہُ لَہُ بِہِ بِیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶)
سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے ایسی مسجد بنائی جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو اللہ اس کے لیے اس کے بدلے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1318

۔ (۱۳۱۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِداً بَنیَ اللّٰہُ لَہُ مِثْلَہُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۴۳۴)
سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی اللہ اس کے لیے اس کی مثل جنت میں (گھر) بنائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1319

۔ (۱۳۱۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ بَنَی لِلّٰہِ مَسْجَداً بُنِیَ لَہُ بَیْتٌ أَوْسَعُ مِنْہُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۵۶)
عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی، جنت میں اس کے لیے اس سے وسیع گھر بنایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1320

۔ (۱۳۲۰) وَعَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۳۶)
سیدہ اسما بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1321

۔ (۱۳۲۱) وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ: جَائَ وَاثِلَۃُ بْنُ الْأَ سْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَنَحْنُ نَبْنِیْ مَسْجِدَنَا، قَالَ فَوَقَفَ عَلَیْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِداً یُصَلّٰی فِیْہِ بَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ أَفْضَلَ مِنْہُ۔)) قَالَ أَ بُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَقَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ ھَیْثَمِ بْنِ خَارِجَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۰۱)
بشر بن حیان نے کہتے ہیں: ہم اپنی مسجد بنا رہے تھے، سیّدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آ کر کھڑے ہوئے، سلام کیا اور کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص نے اللہ کے لیے ایسی مسجد بنائی جس میں نماز پڑھی جاتی ہو، اللہ تعالیٰ جنت میں اُس کے لیے اِس سے بہتر گھربناتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1322

۔ (۱۳۲۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَن بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِدًا وَلَوْ کَمَفْحَصِ قَطاَۃٍ لِبَیْضِہَا بَنیَ اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۷)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی ، خواہ وہ فاختہ پرندے کے انڈا دینے کے لیے بیٹھنے والے گھونسلے جتنی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1323

۔ (۱۳۲۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِدًا لِیُذْ کَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ، وَمَنْ أَعْتَقَ نَفْسًا مُسْلِمَۃً کَانَتْ فِدْیَتَہُ مِنْ جَہَنَّمَ، وَمَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۴۹)
سیّدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے اس لیے مسجد بنائی کہ اللہ تعالیٰ کا اس میں ذکر کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم کا فدیہ ہوجائے گی اور جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہوا تو وہ بڑھاپا اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1324

۔ (۱۳۲۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُوْرًا وَمَسْجِداً، فَأَیُّمَا رَجُلِ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ فَلْیُصَلِّ حَیْثُ أَدْرَکَتْہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۴۳۱۴)
سیّدناجابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین کو پاک کرنے والا اورمسجد بنا دیا گیا ہے، لہٰذا جس آدمی کو جہاں بھی نماز پالے،وہ وہیںنماز ادا کرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1325

۔ (۱۳۲۵) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَضْلُ الدَّارِ الْقَرِیْبَۃِ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَی الدَّارِالشَّا سِعَۃِ کَفَضْلِ الْغَازِیْ عَلَی الَقَاعِدِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۷۶)
سیّدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد کے قریبی کی دور والے گھر پر ایسے ہی فضیلت ہے جیسے غزوہ کرنے والے کی بیٹھ رہنے والے پر فضیلت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1326

۔ (۱۳۲۶) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا، اَلْمَلَئِکَۃُ جُلَسَائُ ھُمْ إِنْ غَابُوْا یَفْتَـقِدُوْنَہُمْ، وَإِنْ مَرِضُوْا عَادُوْھُمْ ، وَإِ نْ کَانُوْا فِیْ حَاجَۃٍ اَعَانُوْھُمْ۔)) وَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَلِیْسُ الْمَسْجِدِ عَلَی ثَـلَاثِ خِصَالٍ، أَخٌ مُسْتَفَادٌ أَوْ کَلِمَۃٌ مُحْکَمَۃٌ أَوْ رَحْمَۃٌ مُنْتَظَرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۴)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ میخوں کی طرح مسجدوں میں بیٹھے رہتے ہیں، ان کے ہم مجلس فرشتے ہوتے ہیں، اگر وہ غائب ہو جائیں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو وہ ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں اگر وہ کسی کام میں مصروف ہوں تو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد میں بیٹھنے والا تین خصلتوں پر ہوتا ہے: ایسا بھائی جس سے فائدہ حاصل ہو، یا کوئی محکم بات یا ایسی رحمت جس کا انتظار ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1327

۔ (۱۳۲۷) وَعَنْہُ أَیْضاً عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہٗقَالَ: ((لَا یُوْطِنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاۃِ وَالذِّکْرِ إِلاَّ تَبَشْبَشَ اللّٰہُ بِہِ یَعْنِیْ حِیْنَیَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ کَمَا یَتَبَشْبَشُ أَھْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِہِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۹۸۴۰)
سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان آدمی نماز اور ذکر کے لیے مساجد کو اپنا ٹھکانہ نہیں بناتا مگر جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایسے خوش ہوتے ہیں کہ غائب آدمی کے گھر والے اس کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1328

۔ (۱۳۲۸) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ غَدَا إِلَی الْمَسْجِدِ وَ رَاحَ أَعَدَّ اللّٰہُ لَہُ الْجَنَّۃَ نُزُلًا کُلَّمَا غَدَا وَرَاحَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۱۶)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان فرمایا : جو شخص مسجد کی طرف آتا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے میزبانی (کا سامان) تیار کرتے ہیں، جب بھی وہ آتا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1329

۔ (۱۳۲۹) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ اَلْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ یَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْہَدُوْا عَلَیْہِ بِالإِْیْمَانِ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {إِنَّمَا َیعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ}۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۷۴
سیّدناابوسعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جب تم کسی ایسے آدمی کو دیکھو جو مسجد میں آنے جا نے کا عادی ہے تو اس پر ایمان کے شاہدبن جا ئو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اللہ کی مسا جد کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آ خرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1330

۔ (۱۳۳۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عاَمِرٍ الْأَلْھَانِیِّ قاَلَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ حاَبِسُ بْنُ سَعْدٍ الطَّائِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنَ السَّحَرِ وَقَدْ أَدْرَکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَأَی النَّاسَ یُصَلُّوْنَ فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مُرَاؤُوْنَ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ! اَرْعِبُوْھُمْ فَمَنْ أَرْعَبَہُمْ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ۔ فَأَتَا ھُمُ النَّاسُ فَأَخْرَجُوْھُمْ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِکَۃَیُصَلُّوْنَ مِنَ السَّحَرِ فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۲۷)
عبداللہ بن عامر ألھانی کہتے ہیں: سیّدنا حابس بن سعید طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جنھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا، سحری کے وقت مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصہ میں نماز پڑھ رہے ہیں،یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے: رب کعبہ کی قسم! یہ لوگ ریاکار ہیں، انہیں ڈراؤ، جس نے انہیں ڈرایا، اس نے اللہ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت کی۔ یہ سن کر لوگ ان کے پاس گئے اور انہیں باہر نکال دیا، پھر سیّدنا حابس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سحری کے وقت مسجد کے اگلے حصہ میں فرشتے نماز پڑھتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1331

۔ (۱۳۳۱) عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیْدٍ بْنِ سُوَیْدٍ أَلْأَنْصَارِیِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَاحُمَیْدٍ وَأَبَا أُسَیْدٍیَقُوْلَانِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا دَخَلَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَقُلْ اللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَ إِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ اللّٰہُمَّ إِنَّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (مسند احمد: ۱۶۱۵۴)
عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا ابو حمید اور سیّدناابو اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما دونوں سے سنا ، وہ یہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: اللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ، اے اللہ! تو اپنی رحمت اور جب مسجد سے نکلے تو یہ پڑھے: أَللّٰھُمّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1332

۔ (۱۳۳۲) عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ رَضِیَ اللَّہٗعَنْھَاوَأَرْضَاھَاقَالَتْ: کَانَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ))) وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوبِیْ وَافْتَحْ لِیْ أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔)) وَإِذَا خَرَجَ صَلَّی عَلَی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ)) ثُمَّ قَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ أَبْوَابَ فَضْلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۵۱)
سیدۃ فاطمہ بنت رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وارضاھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے: یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ (اللہ کے نام کے ساتھ، اور رسول اللہ پر سلامتی ہو) اور پھر یہ پڑھتے: اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلتے تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1333

۔ (۱۳۳۳) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَوْھِبٍ عَنْ مَوْلًی لِأَبِیْ سَعْیِدٍ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَیْنَمَا أَنَامَعَ أَبِی سَعَیْدٍٍ نِ الْخُدْرِیِّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ َدخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِیْ وَسْطِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِیًا مُشَبِّکاً أَصَابِعَہُ بَعْضَہَا فِی بِعْضٍ، فَأَشَارَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمْ یَفْطِنِ الرَّجُلُ لإِ شَارَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَالْتَفَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَبِیْ سَعَیِدٍ فَقَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُ کُمْ فِی الْمَسْجِدِ فَـلَا یُشَبِّکُنَّ فَإِنَّ الْتَشَّبِیْکَ مِنَ الشَّیْطَانِ، وَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَا یَزَالُ فِیْ صَلَاۃٍ مَادَامَ فِی الْمَسْجِدِ حَتّٰییَخْرُجَ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۰۵)
عبید اللہ بن عبدالرحمن بن موہب، سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک غلام سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں سیّدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صحبت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، ہم مسجد میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد کے درمیان میں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کرگوٹھ مارے ہوئے بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اشارہ فرمایا، مگر وہ آدمی نہ سمجھ پایا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابوسعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف مڑ کر فرمایا: جب تم میںسے کوئی مسجد میں ہو تو وہ انگلیوں میں تشبیک نہ ڈالے، کیونکہ تشبیک شیطان کی طرف سے ہے اور یقینا جب تک کوئی آدمی مسجد میں رہتا ہے تو وہ نماز میں ہی رہتا ہے حتی کہ وہ مسجد سے نکل جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1334

۔ (۱۳۳۴) عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّکْتُ بَیْنَ أَصَا بِعِیِْ، فَقَالَ لِیْ: ((یَاکَعْبُ! إِذَا کُنْتَ فِی الْمَسْجِدِ فَـلَا تُشَبِّکْ بَیْنَ أَصَابِعِکَ، فَأَنْتَ فِیْ صَلَاۃٍ ماَ انْتَظَرْتَ الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۱۰)
سیّدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں میرے پاس اس حالت میں آئے کہ میں نے انگلیوں کے درمیان تشبیک ڈالی ہوئی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے کعب! جب تم مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشیبک نہ ڈالا کرو ،کیونکہ جب تک تم نماز کے انتظار میں رہتے ہو تب تک نماز میں ہی ہوتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1335

۔ (۱۳۳۵) عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَ شْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَرْتُمْ بِالسِّہَاِم فِی أَسْوَاقِ الْمُسْلِمِیْنَ أَوْمَسَاجِدِھِمْ فَأَمْسِکُوْا بِالْأَنْصَالِ لَاتَجْرَحُوْا بِہَا أَحَداً۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۲۹)
سیّدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم مسلمانوں کے بازاروں یا ان کی مسجدوں سے تیروں سمیت گزرو تو ان کے پھلوں (تیز دھار حصے) سے پکڑا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے کسی کو زخمی کر بیٹھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1336

۔ (۱۳۳۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إَِذا مَرَّ أَحَدُ کُمْ بِسُوقٍ أَوْ مَجْلِسٍ أَوْ مَسْجِدٍ وَمَعَہُ نَبْلٌ فَلْیَقْبِضْ عَلَی نِصَالَھَا فَلْیَقْبِضْ عَلَی نِصَا لِھَا۔)) ثَـلَاثًا قَالَ أَبُو مُوسی: فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَائُ حَتّٰی سَدَّدَ بِہَا بَعْضُنَا فِی وُجُوہِ بَعْضٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۹۲
سیّدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بازار یا کسی مجلس یا کسی مسجد سے اس حالت میں گزرے کہ اس کے پاس تیر ہوں تو وہ ان کے پھلوں سے پکڑ لیا کرے۔ ابو موسی فرماتے ہیں: ہم پر ہمیشہآزمائش آتی رہییہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے یہ تیر بعض کے چہروں میں سیدھے کردیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1337

۔ (۱۳۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سَفُیْانُ قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرٍو أَسَمِعْتَ جَابِراً یَقُولُ: مَرَّ رَجُلٌ فِی الْمَسْجِدِ مَعَہُ سِھاَمٌ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمْسِکْ بِنِصَالِھَا۔))؟ فَقَالَ نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۶۱)
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمروبن دینارسے پوچھا کہ کیا آپ نے سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کویہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی مسجد سے تیر سمیت گزرا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ان کے پھلوں سے پکڑ۔ ؟ تو عمر و کہنے لگے: جی ہاں! میں نے سنا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1338

۔ (۱۳۳۸) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُوْسٰی ثَنَا ابْنُ لَھِیْعَۃَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ بَنَّۃَ الْجُہَنِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ عَلَی قَوْمٍ فِی الْمَسْجِدِ أَوْ فِی الْمَجْلِسِ یَسُلُّوْنَ سَیْفًا بَیْنَہُمْیَتَعَا طَوْنَہُ بَیْنَہُمْ غَیْرَ مَغْمُوْدٍ، فَقَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ یَفْعَلُ ذٰلِکَ، أَوَ لَمْ أَزْجُرْکُمْ عَنْ ھٰذَا؟ فَإِذَا سَلَلْتُمُ السَّیْفَ فَلْیَغْمِدْہُ الرَّجُلُ ثُمَّ لِیُعْطِہِ کَذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۰۱)
دوسری سند سے مروی ہے کہ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیّدنا بنّہ جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میںیا کسی مجلس میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو بغیر نیام کے تلوار سونت کر ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے، یہ دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جو شخص ایسا کرتا ہے اللہ اس پر لعنت کرے ، کیا میں نے تمہیں اس طرح کرنے سے منع نہیں کیا؟ جب تم تلوار نکالو توآدمی اسے نیام میں رکھے، پھر وہ اسی طرح آگے دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1339

۔ (۱۳۳۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا کَانَ فِی الْمَسْجِدِ جَائَ الشَّیْطَانُ فأَبَسَّ بِہِ کَمَا یُبِسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِہِ فَإِذَا سَکَنَ لَہُ زَنَقَہُ أَوْ أَلْجَمَہُ۔)) قَالَ أَبُوھُرَیْرَۃَ: فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِکَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاہُ مَائِلًا کَذَا لَایَذْکُرُ اللّٰہَ، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَفَاتِحٌ فَاہُ لَایَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۸۳۵۲)
سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے تو شیطان اس سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جب وہ اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے تو وہ اسے جھکا لیتا ہے یا لگام ڈال لیتا ہے ۔ سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: تم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہو، جسے جھکا لیا جاتا ہے تو تم اسے ایسے جھکا ہوا ہی دیکھتے ہو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، اور جسے لگام ڈال لی جاتی ہے، تو وہ اپنا منہ کھول لیتا ہے اور اس طرح اللہ کا ذکر نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1340

۔ (۱۳۴۰) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُ کُمْ فِی الْمَسْجِدِ فَلْیُغَیِّبْ نُخَامَتَہُ أَنْ تُصِیْبَ جِلْدَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَہُ فَتُؤْذِیَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۳)
سیّدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں کھنکارپھینکے تو وہ اسے چھپا دیا کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی مومن کے جسم یا کپڑے پر لگ جائے اور اس طرح اسے تکلیف ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1341

۔ (۱۳۴۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ فَرَأَی فِی الْقِبْلَۃِ نُخَامَۃً، فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ قَالَ: ((إِنَّ أَحَدَ کُمْ إِذَا صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ فَإِنَّہُ یُنَاجِیْ رَبَّہٗوَإِنَّاللّٰہَتَبَارَکَوَتَعَالٰییَسْتَقْبِلُہُ بِوَجْہِہِ فَـلَا یَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْقِبْلَۃِ وَلَاعَنْ یَمِیِنِہ۔)) ثُمَّ دَعَا بِعُودٍ فَحَکَّہُ ثُمَّ دَعَا بِخَلُوقٍ فَحَضَبَہُ۔ (مسند احمد: ۴۹۰۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجدمیں نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قبلہ کی سمت میں ایک کھنکار نظر آیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازسے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجا ت کر تا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے سامنے ہو تا ہے، اس لیے تم میں سے کوئی شخص قبلہ کی طر ف اور نہ ہی اپنی دائیں طر ف کھنکار پھینکا کرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لکڑی منگوا کر اسے کھرچ دیا اور خوشبو منگوا کر وہاں لگا دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1342

۔ (۱۳۴۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا بَزَقَ أَحَدُکُمْ فِی الْمَسْجِدِ فَلْیَدْفِنْہُ فَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلْیَبْزُقْ فِیْ ثَوْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۲۲)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میںسے کوئی آدمی مسجد میں تھوکے تو اسے دفن کردیا کرے ، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تواپنے کپڑے میں تھوکا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1343

۔ (۱۳۴۳) عَنْ أَبِیْ سَعِیدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَآی نُخَامَۃً فِیْ قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ فَحَکَّہَا بِحَصَاۃٍ ثُمَّ نَھٰی أَنْ یَبْصُقَ الرَّجُلُ بَیْنَیَدَیْہِ وَعَنْ یَمِیْنِہ، وَقَالَ: ((لِیَبْصُقْ عَنْ یَسَارِہِ أَوْتَحْتَ قَدَمِہِ الْیُسْرٰی۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۳۹)
ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد کے قبلہ میں ایک کھنکار دیکھااور اسے کنکری سے کھرچ دیا، پھر آدمی کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے منع کر دیا اور فرمایا: آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوکا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1344

۔ (۱۳۴۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یَحْیٰ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عِیَاضُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُعْجِبُہُ الْعَرَاجِیْنُ أَنْ یُمْسِکَہَا بِیَدِہِ،فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ یَوْمٍ وَفِییَدِہِ وَاحِدٌ مِنْہَا فَرَآی نُخَامَاتٍ فِی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّہُنَّ بِہِ حَتّٰی أَنْقَاھُنَّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ مُغْضِبًا فَقَالَ: ((أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ یَسْتَقْبِلَہٗ رَجُلٌ فَیَبْصُقَ فِی وَجْہِہِ؟ إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ فَإِنَّمَایَسْتَقْبِلُ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَکُ عَنْ یَمِیْنِہِ، فَـلَا یَبْصُقْ بَیْنَیَدَیْہِ وَلَا عَنْ یَّمِیْنِہِ، وَلْیَبْصُقْ تَحْتَ قَدَمِہِ الْیُسْرٰی أَوْعَنْ یَسَارِہِ، فَإِنْ عَجَّلَتْ بِہِ بَادِرَۃٌ فَلْیَقُلْ ھٰکَذَا۔)) وَرَدَّ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ وَتَفَلَ یَحَيٰ فِیْ ثَوْبِہِ وَدَلَکَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۰۳)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے ہاتھ میں کھجور کی ٹہنیاں رکھنا پسند تھا، ایک دن آپ کے ہاتھ میں یہی ایک ٹہنی تھی کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد کے قبلہ میں کچھ کھنکار دیکھ کر انہیں کھرچا حتی کہ انہیں صاف کر دیا، پھر غصہ کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: کیا تم سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی آدمی آئے اوراس کے چہرے میں تھوک دے؟ (غور کرو کہ) جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا ربّ اس کے سامنے ہوتا ہے اور فرشتہ اس کی دائیں جانب، (اس لیے) وہ اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ وہ اپنے بائیں قدم کے نیچےیا اپنی بائیں طرف تھوکے، اگر اس کو کوئی جلدی پڑ جائے تو وہ اس طرح کرلے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کپڑے کے بعض حصے کو بعض پر مل دیا۔ اور راویٔ حدیثیحییٰ نے (اس تمثیل کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1345

۔ (۱۳۴۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلنُّخَامَۃُ فِی الْمَسْجِدِ خَطِیْئَۃٌ وَکَفَّارَتُہَا دَفْنُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۸۴)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1346

۔ (۱۳۴۶) وَعَنْہُ أیْضًا أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فِی الصَّلَاۃِ فَإِنَّہُ مُنَاجٍ رَبَّہُ، فَـلَا یَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِّنْکُمْ عَنْ یَمِیْنِہِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرِ: فَـلَا یَتْفُلْ أَمَامَہُ وَلَا عَنْ یَمِیْنِہِ، وَلٰکِنْ عَنْ بَسَارِہِ أَوْتَحْتَ قَدَمَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۸۶)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے کوئی آدمی اپنی دائیں طرف نہ تھوکا کرے۔ ابن جعفر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے اور اپنی بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1347

۔ (۱۳۴۷) عَنْ أَبِیْ غَالِبٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَۃَیَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((التَّفْلُ فِی الْمَسْجِدِ سَیِّئَۃٌ وَدَفْنُہٗ حَسَنَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۹۸)
سیّدنا ابو امامۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا برائی ہے اور اسے دفن کرنا نیکی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1348

۔ (۱۳۴۸) عَنْ أَبِیْ سَعْدٍ قَالَ: رَأَیْتُ وَاثِلَۃَ بْنَ الْأَسْقَعِ یُصَلِّیْ فِیْ مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ عَرَکَہَا بِرِجِلْہِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَبْزُقُ فِی الْمَسْجِدِ؟ قَالَ ھٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۰۵)
ابو سعدکہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا وا ثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مسجد ِدمشق میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک کر اسے قدم کیساتھ رگڑ دیا، جب فارغ ہوئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں سے ہو کر مسجد میں تھوک رہے ہیں؟ تو سیّدنا وا ثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیا کہاس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1349

۔ (۱۳۴۹) عَنْ أَبِیْ سَہْلَۃَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلاً أَمَّ قَوْمًا فَبَسَقَ فِی الْقِبْلَۃِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ فَرَغَ: ((لَایُصَلِّ لَکُمْ۔)) فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِکَ أَنْ یُصَلِّیَ لَھُمْ فَمَنَعُوْہُ وَأَخَبَرُوْہُ بِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ ذَلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((نَعَمْ)) وَحَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: ((آذَیْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۷)
سیّدناابو سہلہ سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اس نے دوران نماز قبلہ کی طرف تھوکا۔ جس وقت وہ فارغ ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ شخص آئندہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔ بعد میںجب اس نے نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے منع کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان اسے سنا دیا، اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ہاں، (میں نے منع کیا ہے) کیونکہ تو نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1350

۔ (۱۳۵۰) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَیَّ أُمَّتِیْ بِأَعْمَالِھَا حَسَنَۃٍ وَسَیِّئَۃٍ، فَرَأَیْتُ فِیْ مَحَاسِنِ أَعْمَالِھَا إِمَاطَۃَ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَرَأَیْتُ فیِ سَیِّیئِ أَعْمَالِھَا الْنُخَاعَۃَ فِی الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۸۳)
سیّدناابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت مجھ پر اپنے اچھے اور برے اعمال کے ساتھ پیش کی گئی، میں نے ا ن کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور برے اعمال میں مسجد میں غیر مدفون کھنکاردیکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1351

۔ (۱۳۵۱) عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِذَا صَلَّیْتَ فَـلَا تَبْصُقْ بَیْنَیَدَیْکَ وَلَاعَنْ یَمِیْنِکَ، وَلٰکِنِ ابْصُقْ تِلْقَائَ شِمَالِکَ إِنْ کَانَ فَارِغًا، وَإِلاَّ فَتَحْتَ قَدَمَیْکَ وَادْلُکْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۶۴)
سیّدناطارق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو نماز پڑھے تو اپنے آگے اور دائیں طرف نہ تھوک، البتہ اپنی بائیں جانب تھوک لیا کر، بشرطیکہ وہ خالی ہو (یعنی اس طرف کوئی نمازی نماز نہ پڑھ رہا ہو)، وگرنہ اپنا قدم اٹھا اور (اس کے نیچے تھوک کر) اسے مل دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1352

۔ (۱۳۵۲) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ فِیْ خُطْبَۃٍ لَہُ: ثُمَّ إِنَّکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ تَأْکُلُوْنَ مِنْ شَجَرَتَیْنِ لَا أُرَاھُمَا إِلَّا خَبِیْثَتَیْنِ، ھٰذَا الثُّوْمُ وَالْبَصَلُ، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَقَدْکُنْتُ أَرَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجِدُ رِیْحَہَا مِنَ الرَّجُلِ فَیَأْمُرُ بِہٖفَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ فَیُخْرَجُ بِہِ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتّٰییُؤْتٰی بِہِ الْبَقَیْعَ، فَمَنْ أَکَلَہَا لَابُدَّ، فَلْیُمِتْہَا طَبْخًا۔ (مسند احمد: ۱۸۶)
سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: لوگو! تم دو درخت تھوم اور پیاز کھاتے ہو، میں تو انہیں خبیث (مکروہ) ہی سمجھتا ہوں، اللہ کی قسم! میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتا تھا، جب آپ کسی آدمی سے ان کی بو محسوس کرتے تو اس کے متعلق ایسا حکم دیتے کہ اس کا ہاتھ پکڑ کراسے مسجدسے باہر نکال دیا جاتا تھا،یہاں تک کہ اسے بقیع مقام پر لایا جاتا۔ اگر کسی شخص نے ان کو کھانا ہی ہے تو پکا کر (ان کی بو کو) ختم کر لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1353

۔ (۱۳۵۳) عَنْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَـلَا یَأْتِیَنَّ الْمَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۴۷۱۵)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ درخت (پیازیا لہسن ) کھالے وہ اللہ تعالیٰ کے گھروں(یعنی مسجدوں) میں نہ آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1354

۔ (۱۳۵۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِیَعْنِی الثُّومَ فَـلَا یُؤْذِیَنَّا فِی مَسْجِدِنَا۔)) وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ: ((فَـلَا یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا یُؤْذِیَنَّا ِبرِیِحِ الثُّومِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۹۹)
سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس درخت یعنی تھوم سے کچھ کھا لیا تو وہ ہماری مسجد میںآکر ہرگز ہمیں تکلیف نہ دے۔ ایک دوسرے مقام میں فرمایا: ایسا شخص نہ ہماری مسجدکے قریب آئے اور نہ تھوم کی بو سے ہمیںاذیت پہنچائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1355

۔ (۱۳۵۵) عَنْ أَبِیْ سَعِیدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَیْبِرُ وَقَعْنَا فِی تِلْکَ الْبَقَلَۃِ فَأَکَلْنَا مِنْہَا أَکْلاً شَدِیْدًا وَنَاسٌ جِیَاعٌ، ثُمَّ رُحْنَا إِلیَ الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الرِّیَحَ، فَقَالَ: ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیْثَۃِ شَیْئًا فَـلَا یَقْرَبَنَّا فِی الْمَسْجِدِ۔)) فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ! فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیّْہَا النَّاسُ، إِنَّہُ لَیْسَ لِیْ تَحْرِیْمُ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ وَلَکِنَّھَا شَجَرَۃٌ أَکْرَہُ رِیْحَھَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۰۴)
سیّدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح سے آگے نہیں بڑھے تھے کہ سبزی (کھیت) میں گھس گئے، لوگوں کو بھوک لگی ہوئی تھی، اس لیے ہم نے اسے خوب کھایا، پھر ہم مسجد میں چلے گئے ، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بو محسوس کی تو فرمایا: جو شخص اس خبیث (مکروہ) درخت سے کچھ کھا لے تو وہ مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔ لوگ کہنے لگے: یہ حرام ہو گیایہ حرام ہو گیا۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خبر موصول ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! مجھے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء کوحرام کرنے کا کوئی اختیار نہیںہے، دراصل یہ ایسا درخت ہے کہ جس کی بو مجھے ناپسند لگتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1356

۔ (۱۳۵۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَکَلَ ثُوْمًا أَوْبَصَلًا فَلْیَعْتَزِلْنَا، أَوْقَالَ فَلْیَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْیَقْعُدْ فِی بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۷۳)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص تھوم یا پیاز کھا لے تو وہ ہم سے یا ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1357

۔ (۱۳۵۷) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَکَلْتُ ثُومًا ثُمَّ أَتَیْتُ مُصَلَّی النَّبیِِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْتُہُ قَدْ سَبَقَنِیْ بِرَکْعَۃٍ فَلَمَّا صَلّٰی قُمْتُ أَقْضِیْ فَوَجَدَ رِیَحَ الثُّوْمِ، فَقَالَ: ((مَنْ أَکَلَ ھٰذِہِ الْبَقْلَۃَ فَـلَا یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتّٰییَذْھَبَ رِیْحُہَا۔)) قَالَ: فَلَمَّا قَضَیْتُ الصَّلَاۃَ أَتَیْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِیْ عُذْراً، نَاِولْنِیْیَدَکَ، قَالَ فَوَجَدْتُہُ وَاللّٰہِ سَہْلاً، فَنَاوَلَنِیْیَدَہُ فَأَدْخَلَہَا فِی کُمِّیْإِلٰی صَدْرِیْ فَوَجَدَہُ مَعْصُوْبًا فَقَالَ: ((إِنَّ لَکَ عُذْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۹۲)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں تھوم کھا کرنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسجد میں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رکعت پڑھ چکے تھے، اس لیے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز فارغ ہوئے تو میں ایک رکعت ادا کرنیکے لیے کھڑا ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تھوم کی بو محسوس کی اور فرمایا: جو شخص یہ سبزی کھائے تو وہ اس کی بو ختم ہونے تک ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آیا کرے۔ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نماز پوری کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا عذر ہے، اپنا ہاتھ مجھے دیجئے۔ وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے آپ کو نرم پایا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنا ہاتھ دے دیا، پھر اسے میری آستین میں سے داخل کر کے سینے تک پہنچایا اور میرے سینے پر بندھی ہوئی پٹی محسوس کر کے فرمایا: واقعی تیرا عذر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1358

۔ (۱۳۵۸) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الشِّرَائِ وَالْبَیْعِ فِی الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِیْہِ الْأَ شْعَارُ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِیْہِ الضَّالَّۃُ وَعَنِ الْحِلَقِ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ قَبْلَ الصَّلاۃِ۔ (مسند احمد: ۶۶۷۶)
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا (سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے، اشعار پڑھنے اور گم شدہ چیز کا اعلان کرنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1359

۔ (۱۳۵۹) عَنْ عَبِدْ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْبَیْعِ وَاْلأِشْتِرَائِ فِی الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۶۹۹۱) (۱۳۶۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَمِعَ رَجُلًا یَنْشُدُ فِی الْمَسْجِدِ ضَالَّۃً فَلْیَقُلْ لَہُ: لَا أَدَّاھَا اللّٰہُ إِلَیْکَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۹۴۳۸)
سیّدناعبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1360

۔ (۱۳۶۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَمِعَ رَجُلًا یَنْشُدُ فِی الْمَسْجِدِ ضَالَّۃً فَلْیَقُلْ لَہُ: لَا أَدَّاھَا اللّٰہُ إِلَیْکَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۹۴۳۸)
سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسے آدمی کو سنے جو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کر رہا ہو تو وہ اسے کہے: اللہ یہ چیز تجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ مساجد اس لیے تو نہیں بنائی گئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1361

۔ (۱۳۶۱) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِِّ أََنَّ أَعْرَابِیًّا قَالَ فِی الْمَسْجِدِ مَنْ دَعَا لِلْجَمَلِ الْأَحْمَرِ بَعْدَ الْفَجْرِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وَجَدْتَّہُ لَا وَجَدْتَّہُ، إِنَّمَا بُنِیَتْ ھٰذِہِ الْبُیُوتُ قَالَ مُؤَمِّلٌ ھٰذِہِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنْیَتْ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۳۲)
سیّدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میںفجر کے بعد اعلان کیا کہ کس نے سرخ اونٹ کو بلایا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے نہ پائے، تو اسے نہ پائے، یہ مساجد صرف ان مقاصد کے لیے ہیں جن کے لیے ان کو تعمیر کیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1362

۔ (۱۳۶۲) عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُقَامُ الْحُدُوْدُ فِی الْمَسَاجِدِ وَلَا یُسْتَـقَادُ فِیہَا۔)) (زَادَفِی رِوَایَۃٍ غَیْرِ مَرْفُوَعَۃٍ) وَلَا یُنْشَدُ فیِہَاالْأَشْعَارُ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۶۵)
سیّدناحکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مساجد میں نہ حدود کا نفاذ کیا جائے اور نہ قصاص لیا جائے۔ اور ایک غیر مرفوع روایت میں مزیدیہ الفاظ بھی ہیں: اور نہ ان میں اشعار پڑھے جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1363

۔ (۱۳۶۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عِلیُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحَمٰنِ عَنْ مَنْصُوْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمٰنِ عَنْ أُمِّہِ عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ ابْنَۃِ سُفْیَانَ وَھِیَ أُمُّ بَنِیْ شَیْبَۃَ الْأَکَابِرِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَقَدْ بَایَعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا شَیْبَۃَ فَفَتَحَ فَلَمَّا دَخَلَ الْبِیْتَ وَرَجَعَ وَفَرَغَ، وَرَجَعَ شَیْبَۃُ، إِذَا رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَنْ أَجِبْ، فَأَتَاہُ فَقَالَ: ((إِنِّیْ رَأَیْتُ فِی الْبَیْتِ قَرْنًا فَغَیِّبْہُ۔)) قَالَ مَنْصُوْرٌ فَحَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُسَافِعٍ عَنْ أُمِّیْ عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ بِنْتِ سُفْیَانَ أَنَّ النَّبِیَّ قَالَ لَہُ فِی الْحَدِیْثِ: ((فَإِنَّہُ لَایَنْبَغِیْ أَنْ یَکُونَ فِی الْبَیْتِ شَیْئٌیُلْھِی الْمُصَلِّیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۵۳)
اکابر بنوشیبہ کی ماں ام عثمان بنت سفیان نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی،یہ بیان کرتی ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شیبہ کو بلایا، اس نے دروازہ کھولا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہو کر واپس آ گئے، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہو گئے اور شیبہ واپس چلا گیا۔ لیکن جلد ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قاصد پھر سے پہنچا اور کہنے لگاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن۔ سو وہ آپ کے پاس پہنچ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے بیت اللہ میں ایک سینگ دیکھا ہے اسے چھپا دے۔ اسی حدیث کا ایک دوسرا راوی کہتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا کہ بیت اللہ میں نمازیوں کو غافل کرنے والی کسی چیز کا ہونا نامناسب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1364

۔ (۱۳۶۴) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ حَدَّثَنِیْ مَنْصُوْرٌ عَنْ خَالِہِ مُسَافِعٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ أُمِّ مَنْصُورٍ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِیْ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِیْ سُلَیُمٍ وَلَدَتْ عَامَّۃَ أَھْلِ دَارِناَ، أَرَسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ، وَقَالَ مَرَّۃً: إِنَّہَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَۃَ لِمَ دَعَاکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَال: قَالَ لِیْ: ((إِنِّیْ کُنْتُ رَأَیْتُ قَرْنَیِْ الْکَبْشِ حِیْنَ دَخَلْتُ الْبَیْتَ فَنَسِیِْتُ أَنْ آمُرَکَ أَنْ ُتخَمِّرَھُمَا فَخَمِّرْھُمَا، فَإِنَّہُ لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یَکُوْنَ فی الْبَیْتِ شَیْئٌیُشْغِلُ الْمُصَلِّیَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْکَبْشِ فِی الْبَیْتِ حَتَّی احْتَرَقَ الْبَیْتُ فَاحْتَرَقَا۔ (مسند احمد: ۲۳۶۰۹)
ایک دوسری سند سے مروی ہے: صفیہ بنت شیبہ کہتی ہے:بنو سلیم کی ایک عورت، جو ہمارے گھر والوں میں سے اکثر کی والدہ ہے، نے مجھے بتایاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عثمان بن طلحہ کو پیغام بھیجا۔ ایک مرتبہ راوی نے یہ کہا کہ اس عورت نے عثمان بن طلحہ سے پوچھا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھے کیوں بلایا تھا؟ عثمان بن طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب میں بیت اللہ میں داخل ہوا تو میں نے مینڈھے کے دو سینگ دیکھے تھے، پھر میں بھول گیا کہ تجھے ان کو ڈھانپ دینے کا حکم دوں، اس لیے ا ب انہیں ڈھانپ دے، کیونکہ بیت اللہ میں کسی ایسی چیز کا ہونا مناسب نہیں ہے جو نمازی کو مشغول کرے۔ سفیان فرماتے ہیں: مینڈھے کے دونوں سینگ بیت اللہ میں ہی رہے، جب بیت اللہ کو آگ لگی تو وہ بھی جل گئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1365

۔ (۱۳۶۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَـقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَتَبَاھَی النَّاسُ فِی الْمَسْاجِدِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۶۵)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، حتیٰ کہ لوگ مساجد (کے بنانے) میں ایک دوسرے سے فخر کرنے لگ جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1366

۔ (۱۳۶۶) عَنِ الْخَضْرَمِیِّ بْنِ لَاحِقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ الْقَمْلَۃَ فِی ثَوْبَہِ فَلْیَصُرَّھَا وَلَا یُلْقِہَا فِی الْمَسْجِدِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۸۱)
حضرمی بن لاحق ایک انصاری آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میںسے کوئی شخص اپنے کپڑے میں جوں محسوس کرے تو وہ اسے دبا لے اور مسجد میں نہ پھینکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1367

۔ (۱۳۶۷) عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ یَعْنِی بِْنَ کُرْزٍعَنْ شَیْخٍ مِنْ أَھْلِ مَکَّۃَ مِنْ قُرَیْشٍ قَالَ وَجَدَ رَجُلٌ فِیْ ثَوْبِہِ قَمْلَۃً فَأَخَذَھَا لِیَطْرَحَہَا فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَفْعَلْ، ارْدُدْھَا فِیْ ثَوْبِکَ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۵۴)
طلحہ بن عبید اللہ بن کرز، مکہ مکرمہ کے ایک قریشی شیخ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے کپڑے میں ایک جوں محسوس کی اور وہ اسے مسجد میں پھینکنے لگا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ایسا نہ کر، مسجد سے نکلنے تک اسے اپنے کپڑے میں ہی رکھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1368

۔ (۱۳۶۷) عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ یَعْنِی بِْنَ کُرْزٍعَنْ شَیْخٍ مِنْ أَھْلِ مَکَّۃَ مِنْ قُرَیْشٍ قَالَ وَجَدَ رَجُلٌ فِیْ ثَوْبِہِ قَمْلَۃً فَأَخَذَھَا لِیَطْرَحَہَا فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَفْعَلْ، ارْدُدْھَا فِیْ ثَوْبِکَ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۵۴)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، اس وقت ایک بدو آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ آپ کے صحابہ کہنے لگے: ٹھہر جا ٹھہرجا۔ لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو، اسے چھوڑ دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: یہ مساجد گندگی، پیشاب اور پائخانہ میں سے کسی چیز کے لیے درست نہیں،یہ تو صرف نماز، اللہ کے ذکر اور تلاوت ِ قرآن کے لیے ہیں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو فرمایا: اٹھ اور پانی کا ایک ڈول لا کر اس پر بہا دے۔ پس اس نے پانی کا ڈول لا کر اس پر ڈال دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1369

۔ (۱۳۶۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کُنَّا فِیْ زَمَنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَنَامُ فِی الْمَسْجِدِ نَـقِیْلُ فِیْہِ وَنَحْنُ شَبَابٌ۔ (مسند احمد: ۴۶۰۷)
سیّدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں ہم مسجد میں سوتے تھے، قیلولہ کر لیا کرتے تھے، حالانکہ ہم نوجوان تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1370

۔ (۱۳۷۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: مَاکَانَ لِیِْ مَبِیْتٌ وَلَا مَأْوًی عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا فِی الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۵۸۳۹)
دوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں میرے لیے مسجد کے علاوہ نہ کوئی رات گزارنے کی جگہ ہوتی تھی اور نہ کوئی اور پناہ گاہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1371

۔ (۱۳۷۱) عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیْمٍ عَنْ عَمِّہِ أَ نَّہُ أَبْصَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَسْتَلْقِیًا فِی الْمَسْجِدِ عَلٰی ظَہْرِہِ وَاضِعًا إِحْدٰی رِجْلَیْہِ عَلَی الْأُخْرٰی۔ (مسند احمد: ۱۶۵۵۸)
عباد بن تمیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر مسجد میں پیٹھ کے بل چت لیٹے ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1372

۔ (۱۳۷۲) حَدَّثْنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِیْسٰی ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ قَالَ: کَتَبَ إِلیَّ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَیُخْبِرُنِیْ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احْتَجَمَ فِیْ الْمَسْجِدِ، قُلْتُ لِأِبْنِ لَھِیْعَۃَ فِی مَسْجِدِ بَیْتِہِ؟ قَالَ لَا، فِی مَسْجِِدِ الرَّسُوْلِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۴۴)
سیّدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں سینگی لگوائی۔ روای کہتے ہیں: میں نے ابن لہیعہ سے پوچھا: اپنے گھر کی مسجد میں؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ مسجد نبوی میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1373

۔ (۱۳۷۳) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَۃُیَلْعَبُوْنَ فَزَجَرَھُمْ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْہُمْ یَا عُمَرُ، فإِنَّہُمْ بَنُو أَرْفِدَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۸۰)
سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور حبشی لوگ کھیل رہے تھے، سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں منع کیا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو چھوڑ دو، کیونکہیہ بنو ارفدہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1374

۔ (۱۳۷۴) عَنْ سَعِیْدِ (بْنِ الْمُسَیَّبِ) قَالَ: مَرَّ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَھُوَ یَنْشُدُ (وَفِی رَوِایَۃٍ وَھُوَ یَنْشُدُ الشِّعْرَ) فِی الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَیْہِ، وَفِی رَوِایَۃٍ: فَقَالَ: فِی مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَنْشُدُ الشِّعْرَ؟ قَالَ: کُنْتُ أَنْشُدُ وَفِیْہِ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِنْکَ۔ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلٰی أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَجِبْ عَنِّیْ اَللَّہُمَّ أَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ؟)) قَالَ: نَعَمْ (زَادَ فِیْ رَوِایَۃٍ قَالَ فَانْصَرَفَ عُمَرُ وَھُوَ یَعْرِفُ أَنَّہُ یُرِیْدُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )۔ (مسند احمد: ۲۲۲۸۴)
سعید بن مسیّب کہتے ہیں: سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیّدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزر ہوا اور وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے۔ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی طرف غصے کی نظر سے دیکھا اور کہا: کیا تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسجد میں شعر پڑھ رہے ہو ؟ آگے سے سیّدناحسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیا: آپ سے بہتر ہستی کی موجودگی میں میں شعر پڑھاکرتا تھا، پھر وہ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : (حسان!) میری طرف سے جواب دے۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی تائید فرما۔ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ (یہ سن کر)سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس چلے گئے اور سمجھ گئے کہ حسان کی مراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1375

۔ (۱۳۷۵)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُمَا قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَفِقَ یُلْقِیْ خَمِیْصَتَہُ عَلٰی وَجْہِہِ فَإِذَ اِغْتَمَّ رَفَعْنَاھَا عَنْہُ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی، اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِھِمْ مَسَاجِدَ۔)) تَـقُوْلُ عَائِشَۃُ: یُحَذِّرُھُمْ مِثْلَ الَّذِیْ صَنَعُوْا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۴)
سیّدناعبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات کے قریب ہوئے تو آپ اپنے چہرے پر چادر ڈالتے، جس وقت آپ کو گُھٹن محسوس ہوتی تو ہم چادر اٹھادیتے تھے،اس حالت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا تھا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: (دراصل) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو ان جیسا کام کرنے سے ڈرا رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1376

۔ (۱۳۷۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ أُمَّ حَبِیْبَۃَ وَأُمَّ سَلَمَۃَ ذَکَرَتَا کَنِیْسَۃً رَأَیْنَہَا بِالْحَبَشَۃِ (وَفِیْ رِوَایَہٍ تَذَاکَرُوْا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَرَضِہِ فَذَکَرَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ وَأُمُّ حَبِیْبَۃَ کَنِیْسَۃً رَأَیْنَھَا فِیْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ) فِیْہَا تَصَاوِیْرُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أُولٰئِکَ إِذَا کَانَ فِیْہِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَی قَبْرِہِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوْا فِیْہِ تِلْکَ الصُّوَرَ، أُولَئِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّیَوْمَ الْقِیَا مَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۵۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ اور سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا، جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اور ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آپ کی بیماری میں ایک دوسرے سے باتیں کیں تو سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا، اسمیں تصویریں تھیں،یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا حال یہ رہا ہے کہ جب ان میںکوئی نیک آدمی فوت ہوتا تو اس کی قبر پر مسجد تعمیر کر کے اس میں یہ تصویریں بنالیتے تھے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاںیہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1377

۔ (۱۳۷۷) وَعَنْہَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَمِیْصَۃٌ سَوْدَائُ حِیْنَ اشْتَدَّبِہِ وَجَعُہٗ،قَالَتْ: فَہُوَیَضَعُہَا مَرَّۃً عَلَی وَجْہِہِ وَمَرَّۃًیَکْشِفُہَا عَنْہُ وَیَقُوْلُ: ((قَاتَلَ اللّٰہُ قَوْمًا اِتَّخَذُوْا قُبُوَرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) یُحَرِّمُ ذَلِکَ عَلٰی أُمَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۸۲)
سیدۃعائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سیاہ چادر تھی، جس وقت آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی اسے چہرے پر لے لیتے اور کبھی چہرے سے ہٹا دیتے اور فرماتے: اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس فعل کو اپنی امت پر حرام فرمارہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1378

۔ (۱۳۷۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِبَنِیِْ النَّجَّارِ وَکَانَ فِیْہِ نَخْلٌ وَخَرِبٌ وَقُبُورٌ مِنْ قُبْورِالْجَاھِلِیَّۃِ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَامِنُوْنِیْ۔)) فَقَالُوْا: لَانَبْغِیْ بِہِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّخْلِ فَقُطِّعَ وَبِالْحَرْثِ فَأُفْسِدَ وَبِالْقُبُورِ فَنُبِشَتْ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ ذَلِکَ یُصَلِّیْ فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ حَیْثُ أَدْرَکَتْہٗالصَّلَاۃُ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۶۷)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی جگہ بنو نجار کی ملکیت تھی اور اسمیں کھجوروں کے درخت اور زمانہ جاہلیت کی قبریں تھیں اور کچھ جگہ ویران پڑی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: مجھ سے قیمتاً سودا کر لو۔ لیکن انھوں نے کہا کہ ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے لیں گے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجور کے درختوں کے بارے حکم دیاتو انہیں کاٹ دیا گیا اور کھیتی کے متعلق حکم دیا تو اسے اجاڑ دیا گیا اور قبروں کے بارے حکم دیا تو انہیں اکھاڑ دیا گیا۔ اس سے پہلے جہاں آپ کو نماز پالیتی، آپ وہیں ادا کر لیتے، حتی کہ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1379

۔ (۱۳۷۹) عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَفَدْنَا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا وَدَّعَنَا أَمَرَنِیْ فَأَتَیْتُہُ بِإِدَاوَۃٍ مِنْ مَائٍ فَحَثَا مِنْہَا ثُمَّ مَجَّ فِیْھَا ثَـلَاثًا ثُمَّ أَوْکَأَھَا ثُمَّ قَالَ: ((اذْھَبْ بِہَا وَانْضَحْ مَسْجِدَ قَوْمِکَ وَأْمُْرْھُمْ أَنْ یَّرْفَعُوْا بِرُؤُوْسِہِمْ أَنْ رَفَعَہَا اللّٰہُ۔)) قَلْتُ: إِنَّ الْأَرْضَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ بَعِیْدَۃٌ وَإِنَّھَا تَیْبَسُ۔ قَالَ: ((فَإِذَا یَبِسَتْ فَمُدَّھَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۰۲)
سیّدنا طلق بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم وفد کی صورت میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں الوداع کیا تو مجھے حکم دیا، پسمیں پانی کا ایک لوٹا لے کر آپ کے پاس آیا،آپ نے اس سے چلو بھر کر تین دفعہ اسمیں کلی کی، پھر اس کو تسمہ سے باندھ کر فرمایا: یہ پانیلے جائو، اسے اپنی قوم کی مسجد پر چھڑک دینا اور لوگوں کو حکم دینا کہ اب وہ اپنے سر اٹھالیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا دیا ہے۔ سیّدنا طلق بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمارا اور آپ کا زمینی فاصلہ توبہت زیادہ ہے، اس لیےیہ پانی تو خشک ہو جائے گا۔ (یہ سن کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب یہ خشک ہونے لگے تو (اسمیں اور پانی ڈال کر) اسے بڑھا لینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1380

۔ (۱۳۸۰) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَتَّخِذَ الْمَسَاجِدَ فِی دِیَارِنَا وَ أَمَرَنَا أَنْ نُنَظِّفَہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴۶)
سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اپنے محلوں میں مساجد بنانے کا اور انہیں صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا ہے۔‘ـ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1381

۔ (۱۳۸۱) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِبُنْیَانِ الْمَسَاجِدِ فِیْ الدُّوْرِ وَأَمَرَ بِہَا أَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَیَّبَ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۱۸)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محلوںمیں مساجد بنانے کا ،انہیں صاف ستھرا رکھنے کا اور ان میں خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1382

۔ (۱۳۸۲) عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ قَالَ حَدَّثَنِیْ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَنْسِ ابْنِ مَالِکٍ قَالَ قَدِمِ أَبِیْ مِنَ الشَّامِ وَافِدًا وَأَنَا مَعَہُ فَلَقِیَنَا مَحْمُودُ بْنُ الرَّبیِعِ فَحَدَّثَ أَبِیْ حَدِیثًا عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَبِیْ: أَیْ بُنَیَّ اِحْفَظْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فَإِنَّہُ مِنْ کُنُوزِ الْحَدِیْثِ، فَلَمَّا قَفَلْنَا اِنْصَرَفْنَا إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَسَأَلْنَا عَنْہُ فَإِذَا ھُوَ حَیٌّ وَإِذَا شَیْخٌ أَعْمٰی مَعَہُ، قَالَ فَسَأَلْنَا ہُ عَنِ الْحَدِیْثِ فَقَالَ نَعَمْ، ذَھَبَ بَصَرِیْ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ بَصَرِیْ وَلَا أَسْتَطِیعُ الصَّلَاۃَ خَلْفَکَ، فَلَوْ بَوَّأْتُ فِیْ دَاِریْ مَسْجِدًا فَصَلَّیْتَ فِیْہِ فَأَتَّخِذُہُ مُصَلیًّ قَالَ: ((نَعَمْ، فَإِنِّیْ غَادٍ عَلَیْکَ غَداً۔)) قَالَ: فَلَمَّا صَلّٰی مِنَ الْغَدِ اِلْتَفَتَ إِلَیْہِ فَقَامَ حَتّٰی أَتَاہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَجَائَ ھُوَ وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ) فَقَالَ ((یَا عِتْبَانُ! أَیْنَ تُحِبُّ أَنْ أُبَوِّیئَ لَکَ؟)) فَوَصَفَ لَہُ مَکَانًا فََبَوَّأَ لَہُ وَصَلّٰی فِیْہِ، ثُمَّ حُبِسَ أَوْ جَلَسَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَاحْتَبَسُوْا عَلٰی طَعَامٍ) وَبَلَغَ مَنْ حَوْلَنَا مِنَ الْأَنْصَاِر فَجَائُ وْا حَتّٰی مُلِئَتْ عَلَیْنَا الدَّارُ فَذَکَرُوْا الْمُنَافِقِیْنَ وَمَا یَلْقَوْنَ مِنْ أَذَاھُمْ وَشَرِّھِمْ حَتّٰی صَیَّرُوْا أَمْرَھُمْ إِلٰی رَجُلٍ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ مَالِکُ بْنُ الدُّخْشُمَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ الدُّخْشُنِ أَوِ الدُّخَیْشِنِ) وَقَالُوْا مِنْ حَالِہِ وَمِنْ حَالِہِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاکِتٌ، فَلَمَّا اَکْثَرُوْا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَیْسَیَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ؟)) فَلَمَّا کَانَ فِی الثَّالِثَۃِ، قَالُوْا: إِنَّہُ لَیَقُولُہُ، قَالَ: ((وَالَّذِی بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ! لَئِنْ قَالَھَا صَادِقًا مِنْ قَلْبِہِ لَا تَأْ کُلُہٗالنَّارُأَبَدًا۔)) قَالُوْا: فَمَافَرِحُوْابِشَیْئٍ قَطُّ کَفَرَحِہِمْ بِمَا قَالَ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۹۸)
ابو بکر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ میرے والد وفد کی صورت میں شام سے آئے،میں بھی ان کے ساتھ تھا،ہمیں محمود بن ربیع ملے، انہوں نے میرے والد کو سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک حدیث بیان کی، میرے والد کہنے لگے: میرے پیارے بیٹے! یہ حدیثیاد کرلو کیونکہیہ حدیثخزائنِ حدیث میں سے ہے۔ پھر جب ہم واپس گئے تومدینہ جا کر ان کے بارے پوچھا، وہ زندہ تھے اور ان کے پاس ایک نابینا بزرگ بھی تھے۔ ہم نے ان سے حدیث کے بارے میں پوچھا، وہ کہنے لگے: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں میری نظر ختم ہو گئی، اس لیے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نظر ختم ہو گئی ہے، میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ میرے گھر میں مسجد کے لیے کوئی جگہ پسند فرما کر اس میں نماز پڑھتے تو میں اسے جائے نماز بنالیتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، کل صبح میں تیرے پاس آؤں گا۔ اگلے دن آپ نے (فجر کی) نماز پڑھی تو اس کی طرف چل پڑے حتی کہ اس کے پاس پہنچ گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما تشریف لائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عتبان! تو کہاں پسندکرتاہے کہ میں تیرے لیے (نماز کی) جگہ متعین کروں؟ اس نے ایک جگہ کا تعین کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں نماز پڑھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں بیٹھ گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ کھانے کے لیے رک گئے۔ جب اردا گرد کے انصار کو (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کا) پتہ چلا تو وہ بھی جمع ہونے لگ گئے حتی کہ ہمارا گھر بھر گیا۔لوگ وہاںمنافقوں اور ان کی طرف سے آنے والی تکلیف اور شرّ کا ذکر کرنے لگے، حتی کہ مالک بن دخشم (یا دخشن یا دخیشن) نامی آدمی کا تذکرہ چل نکلا، لوگوں نے اس کے بارے میں کافی باتیں کیں کہ وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے، جبکہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموشی کے ساتھ تشریف فرما تھے، جب بہت زیادہ باتیں ہونے لگیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیایہ شخص لاإلہ إلا اللہ کی گواہی نہیں دیتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ سوال کیا، جس کا جواب دیتے ہوئے لوگ کہنے لگے: یہ کلمہ تو وہ پڑھتا ہے۔ یہ سن کرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق دے کر مبعوث کیا ہے! اگر وہ صدقِ دل سے یہکلمہ پڑھتا ہے آگ کبھی بھی اس کو نہیں کھائے گی۔ لوگ کبھی بھی کسی چیز سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنا کہ ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان سے خوشی ہوئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1383

۔ (۱۳۸۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ (بِنْ مَالِکٍ) رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ ذَھَبَ بَصَرُہُ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْجِئْتَ صَلَّیْتَ فِی دَارِیِْ أَوْقَالَ: فِی بَیْتِیْ لَأَتَّخَذْتُ مُصَلَّاکَ مَسْجِدًا ، فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی فِی دَارِہِ أَوْ قَالَ فِیْ بَیْتِہِ، وَاجْتَمَعَ قَوْمُ عِتْبَانَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ فَذَ کَرُوْا مَالِکَ بْنَ الدُّخْشُمِ، فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہُ وَإِنَّہُ یُعَرِّ ضُوْنَ بِالنِّفَاقَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَیْسَیَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ؟)) قَالُوْا: بَلَی، قَالَ: ((وَالَّذِی نَـفْسِیْ بِیَدِہِ لَا یَقُوْلُھَا عَبْدٌ صَادِقٌ بِہَا إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَیْہِ النَّارُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۸۱۹)
یہی روایت ایک دوسری سند کے ساتھ یوں ہے: سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بینائی ختم ہو گئی، اس لیے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ! اگر آپ تشریف لائیں اورمیرے گھر میں نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی جائے نماز کو مسجد بنالوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور اس کے گھر میں نماز پڑھی۔ سیّدنا عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قوم کے لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر مالک بن دخشم کا ذکر کرنے لگے اور اس کے نفاق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ لوگ کہنے لگے: کیوں نہیں (یہ شہادت تو وہ دیتا ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو بندہ بھی صدق و اخلاص کے ساتھ یہ کلمہ کہتا ہے، اس پر آگ حرام کر دی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1384

۔ (۱۳۸۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! إِنِّیْ لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ، فَصَنَعَ لَہُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہِ وَبَسَطُوْا لَہُ حَصِیْراً وَنَضَحُوْہٗفَصَلّٰی عَلَیْہِ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ، أَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ الضُّحٰی؟ قَالَ مَارَأَیْتُہُ صَلَّاھَا إِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۴۷)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی موٹا تھا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! مجھ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کی سکت نہیں ہے۔ پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دی اور آپ کے لیے ایک چٹائی بچھائی اور اس پر پانی چھڑکا۔ آپ نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی۔ آل جارود کے ایک آدمی نے اس سے پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ اس نے جواب دیاکہ میں نے تو اس دن کے علاوہ آپ کو نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔

آیت نمبر