Musnad Ahmad

Search Results(1)

26)

26) نمازی کی جائے نماز، کپڑے اور بدن کا نجاست سے پاک ہونے کا بیان اور جو نجاست معلوم نہ ہو اس سے در گزر کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1449

۔ (۱۴۴۹) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَوَّلَ مَاقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ نَزَلَ عَلَی أَجْدَادِہِ أَوْ أَخْوَالِہِ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَ نَّہُ صَلَّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّـۃَ عَشَرَ أَوْسَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ تَکُوْنَ قِبْلَتُہُ قِبَلَ الْبَیْتِ وَأَ نَّہُ صَلّٰی أَوَّلَ صَلَاۃٍ صَلَّاھَا صَلَاۃَ الْعَصْرِ وَصَلّٰی مَعَہُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلّٰی مَعَہُ فَمَرَّ عَلٰی أَھْلِ مَسْجِدٍ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ فَقَالَ: أَشْہَدُ بِاللّٰہِ لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِبَلَ مَکَّۃَ۔ قَالَ: فَدَارُوْا کَمَا ھُمْ قِبَلَ الْبَیْتِ وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُحَوَّلَ قِبَلَ الْبِیْتِ، وَکَانَ الْیَہُوْدُ قَدْ أَعْجَبَھُمْ اِذْ کَانَ یُصَلِّیْ قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَأَھْلُ الْکِتَابِ فَلَمَّا وَلّٰی وَجْہَہُ قِبَلَ الْبَیْتِ أَنْکَرُوْا ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۹۰)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ پہنچے تو سب سے پہلے اپنے اجداد یا ماموؤں کے پاس ٹھہرے، جن کا تعلق انصار سے تھا،آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سولہ یا سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے رہے، جبکہ آپ کو پسند یہ تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو۔ (بالآخر ایسے ہی ہوا اور) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلی نماز جو اس کی طرف پڑھی ، وہ عصر تھی،کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ان میں سے ایک آدمی ایک مسجد والوں کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس نے ان سے کہا: میں اللہ کو گواہ بناکر کہتاہوں کہ (قبلہ تبدیل ہو چکا ہے اور) میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نماز پڑھی ہے ۔ وہ (یہ اعلان سن کر رکوع کی)حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ کو بیت اللہ کی طرف پھیر دیا جائے، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تو یہودیوں اور اہل کتاب کویہ اچھا لگتا تھا (کیونکہ اس کو وہ اپنی اقتدا سمجھتے تھے)، اس لیے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا رخ بیت اللہ کی طرف پھیر لیا تو انہوں نے اسے برا جانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1450

۔ (۱۴۵۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: بَیْنَمَا النَّاسُ بِقُبَائٍ فِیْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاھُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُنْزِلَ عَلَیْہِ قُرْآنٌ اللَّیْلَۃَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ یَسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃَ فَاسْتَقْبِلُوْھَا وَکَانَتْ وُجُوھُہُمْ إِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوْا إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۹۳۴)
سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ قباء میںکچھ لوگ نمازِ فجر ادا کررہے تھے، ان کے پاس ایک آنے والے نے آکر کہا: رات رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے ، جس کے مطابق آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم بھی اس کی طرف منہ کرلو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، وہ (یہ اعلان سن کر) کعبہ کی طرف پھر گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1451

۔ (۱۴۵۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَھْراً ثُمَّ صُرِفَتِ الْقِبْلَۃُ۔ (مسند احمد: ۳۲۷۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے سولہ مہینے تک نماز پڑھتے رہے، پھر قبلہ تبدیل ہوگیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1452

۔ (۱۴۵۲) عَنْ عُبَیْدِ بْنِ آدَمَ وَأَبِیْ مَرْیَمَ وَأَبِیْ شُعَیْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ بِالْجَابِیَۃِ فَذَکَرَ فَتْحَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْسَلَمَۃَ فَحَدَّثَنِی أَبُوْ سِنَانٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ آدَمَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُوْلُ: لِکَعْبٍ أَیْنَ تَرٰی أَنْ أُصَلِّیَ؟ فَقَالَ: إِنْ أَخَذْتَ عَنِّی صَلَّیْتَ خَلْفَ الصَّخْرَۃِ، فَکَانَتِ الْقُدْسُ کُلُّھَا بَیْنَیَدَیْکَ۔ فَقَالَ عُمَرُ: ضَاھَیْتُ الْیَہُودِیَّۃَ، لَا، وَلٰکِنْ أُصَلِّیْ حَیْثُ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَقَدَّمَ، إِلَی الْقِبْلَۃِ فَصَلّٰی ثُمَّ جَائَ فَبَسَطَ رِدَائَ ہُ فَکَنَسَ الْکُنَاسَۃَ فِی رِدَائِہِ وَکَنَسَ النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۲۶۱)
عبید بن آدم، ابو مریم ، اور ابو شعیب سے مروی ہے کہ سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جابیہ میں تھے ۔ پھر راوی نے بیت المقدس کی فتح کا ذکر کیا۔ ابو سلمہ کہتے ہیں: مجھے ابوسفیان نے عبید بن آدم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا کہ وہ سیّدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھ رہے تھے: میںنماز کہاں پڑھوں، آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میری رائے لینا چاہتے ہو تو صخرہ کے پیچھے نماز پڑھ لو، سارے کا سارا قدس آپ کے سامنے آجائے گا، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: اس طرح تو یہودیت کی مشابہت اختیار کرلوں گا، نہیں ، لیکن میں وہاں نماز پڑھوں گا، جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازپڑھی تھی۔ پھر وہ آگے بڑھے اور قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور نماز ادا کی، پھر آکر صفائی کی اور کوڑا اپنی چادر میں اکٹھا کر لیا اور پھر لوگوں نے بھی صفائی کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1453

۔ (۱۴۵۳) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ بْنِ أَبِیْ عَبْلَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ أُمِّ حَرَامٍ الْأَنْصَارِیَّ وَقَدْ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَتَیْنِ وَعَلَیْہِ ثَوْبُ خَزٍّ أَغْبَرُ وَأَشَارَ إِبْرَاہِیْمُ بِیَدِہِ إِلٰی مَنْکِبَیْہِ فَظَنَّ کَثِیْرٌ أَنَّہُ رِدَائُہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۱۳)
ابراہیم بن ابی عبلہ کہتے ہیں: میں نے سیّدناعبد اللہ بن ام حرام انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا،انہوںنے اپنے اوپر گندمی رنگ کا اونی ریشمی کپڑا لیے ہوئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ ابراہیم نے اپنے ہاتھ سے کندھوں کی طرف اشارہ کیا، جس سے کثیر بن مروان نے سمجھا کہ وہ چادر مراد لے رہے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1454

۔ (۱۴۵۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ رَأَیْتُ أَبَاأُبِیٍّ الْأَنْصَارِیَّ وَھُوَ اِبْنُ أَبِیْ حَرَامٍ الْأَنْصَارِیِّ اَخْبَرَنِیْ أَ نَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَتَیْنِ جَمِیْعًا وَعَلَیْہِ کِسَائُ خَزٍّ أَغْبَرُ (مسند احمد: ۱۸۲۱۳)
(دوسری سند)میں نے ابو اُبَیّ انصاری کو دیکھا، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی، جبکہ اس نے اپنے اوپر گندمی رنگ کی اونی ریشمی چادر لی ہوئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1455

۔ (۱۴۵۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰییَشْہَدُوْا أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مَحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ فَإِذَا شَہِدُوْا وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَا وَأَکَلُوْا ذَبِیْحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَاؤُھُمْ وَأَمْوَ الُھُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، لَھُمْ مَالِلْمُسْلِمِیْنَ وَعَلَیْہِمْ مَاعَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۸۷)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں، جب تک وہ یہ گواہی نہ دے دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جب وہ گواہی دے دیں گے ، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کریں گے، ہمارا ذبیحہ کھائیں گے او رہماری نماز پڑھیں گے تو ان کے خون و مال ہم پر حرام ہو جائیں گے،مگر حق کے ساتھ اوران کے لیے وہی ہو گا جو دوسرے عام مسلمانوں کے لیے ہے او ران پر بھی وہی ہو گا جو دوسرے مسلمانوں پر ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1456

۔ (۱۴۵۶) عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَاِفعٍ الزُّرَقِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِلْمُسِیْئِ فِیْ صَلَاتِہِ: ((إِذَا أَرَدْتَّ أَنْ تُصَلِّیَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوْئَ کَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ ثُمَّ کَبِّرْ۔)) الحدیث۔ (مسند احمد: ۱۹۲۰۶)
سیّدنا رفاعہ بن رافع زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسیء الصلاۃ کو فرمایاتھا: جب تو نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو وضو کر اوروضو اچھا کر ، پھر قبلہ رخ ہوجا، پھر اللہ اکبر کہہ۔ الحدیث۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1457

۔ (۱۴۵۷) عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَبِّحُ وَھُوَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ وَیُوْمِیئُ بِرَأْسِہِ قِبَلَ أَیِّ وَجْہٍ تَوَجَّہَ، وَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ذٰلِکَ فِی الصَّلَاۃِ الْمَکْتُوبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۸۳)
سیّدنا عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سواری پر نفلی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا،آپ اپنے سر سے اشارہ کرتے تھے (اور اس چیز کی کوئی پروا نہ کرتے کہ) جس طرف بھی آپ کا رخ ہو جاتا، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرض نماز میں ایسا نہ کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1458

۔ (۱۴۵۸) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَیْتَ فَجَلَسَ فَحَمِدَ اللّٰہِ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَکَبَّرَ وَھَلَّلَ، ثُمَّ قَامَ إِلَی مَابَیْنَیَدَیْہِ مِنَ الْبَیْتِ فَوَضَعَ صَدْرَہُ عَلَیْہِ وَخَدَّہُ وَیَدَیْہُ۔ قَالَ: ثُمَّ کَبَّرَ وَھَلَّلَ وَ دَعَا ثُمَّ فَعَلَ ذٰلِکَ بِالْأَرْکَانِ کُلِّہَا، ثُمَّ خَرَجَ فَأَقْبَلَ عَلَی الْقِبْلَۃِ وَھُوَ عَلَی الْبَابِ، فَقَالَ: ((ھَذِہِ الْقِبْلَۃُ، ھٰذِہِ الْقِبْلَۃُ۔)) مَرَّتَیْنِ أَوْثَـلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۲۱۶۶)
سیّدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اورتکبیر و تہلیل بیان کی،پھر اپنے سامنے والے بیت اللہ کے حصے کی طرف کھڑے ہوئے اور اپنا سینہ ، رخسار اور ہاتھ اس پر رکھ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تہلیل بیان کی اور دعا بھی کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمام کونوں میں یہی عمل کیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دو یا تین مرتبہ فرمایا: یہی قبلہ ہے،یہی قبلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1459

۔ (۱۴۵۹) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَائٍ: أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسِ یَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُوْمَرُوْا بِالدُّخُوْلِ۔ قَالَ: لَمْ یَکُنْیَنْھٰی عَنْ دُخُولِہِ، وَلٰـکِنَّیْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: أَخْبَرَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّادَخَلَ الْبَیْتَ دَعَا فِیْ نَوَاحَیْہِ کُلِّہَا وَلَمْ یُصَلِّ فِیْہِ حَتّٰی خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی قُبُلِ الْقِبْلَۃِ۔ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقاَلَ: ((ھٰذِہِ الْقِبْلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۵۲)
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھاکہ کیاآپ نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ تمہیں صرف بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ اس میں داخل ہونے کا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اس میںداخل ہونے سے منع تو نہیں کرتے تھے، البتہ میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا: سیّدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کے سارے کونوںمیں دعا کی اور نماز نہیں پڑھی،یہاں تک کہ باہر تشریف لے آئے،باہر نکل کرقبلہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: یہ قبلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1460

۔ (۱۴۶۰) عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَ عَنْ بِلَالٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی الْبَیْتِ۔ قَالَ: وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسِ یَقُوْلُ: لَمْ یُصَلِّ فِیْہِ وَلٰکِنَّہُ کَبَّرَ فِی نَوَاحِیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۱۶)
عمرو بن دینار سے مروی ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی۔ انھوں نے کہا: سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو یہ بیان کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں نماز نہیں پڑھی تھی،البتہ اس کے مختلف کونوں میں تکبیر کہی (اللہ کی بڑھائی بیان کی) تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1461

۔ (۱۴۶۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ سَأَلَ بِلَالًا ھَلْ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکَعْبَۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَکَعَ رَکْعَتَیْںِ بَیْنَ السَّارِیَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۸۲)
سیّدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے: کہ انہوںنے بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی تھی؟ توانہوںنے جواب دیا: ہاں، دو ستونوںکے درمیان دو درکعتیں پڑھی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1462

۔ (۱۴۶۲) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ الْبَیْتَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وِجَاھَکَ حِیْنَ تَدْخُلُ بَیْنَ السَّارِ یَتَیِْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۶۲)
سیّدناعثمان بن طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور ان دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی، جو تیرے داخل ہوتے وقت تیرے سامنے پڑتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1463

۔ (۱۴۶۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ عَلٰی نَاقَتِہِ تَطَوُّعاً فِی السَّفَرِ لِغَیْرِ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۰۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اونٹنی پر قبلے کے علاوہ دوسری طرف رخ کر کے نفلی نماز پڑھ لیاکرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1464

۔ (۱۴۶۴) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کاَنَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ تَطَوُّعًا اِسْتَقْبَلَ الْقَبِلَۃَ فَکَبَّرَ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ خَلّٰی عَنْ رَاحِلَتِہِ فَصَلّٰی حَیْثُمَا تَوَ جَّہَتْ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۴۰)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تو ایک دفعہ قبلہ رخ ہو کر نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے، پھر اپنی سواری کوچھوڑ دیتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز جاری رکھتے، سواری جس طرف مرضی رخ کر لیتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1465

۔ (۱۴۶۵) عَنْ أَبِیْ سَعَیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہِ فِی التَّطَوُّعِ حَیْثُمَا تَوَجَّہَتْ بِہِ، یُوْمِیئُ إِیْمَائً، وَیَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنْ الرُّ کُوعِ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۲۴)
سیّدناابوسعید خدری او ر سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھ لیتے تھے۔ وہ جس طرف مرضی رخ کر لیتی تھی ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع و سجود کے لیے اشارہ کرتے تھے او ر رکوع کی بہ نسبت سجدہ کے لیے زیادہ جھک جاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1466

۔ (۱۴۶۶) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ (مسند احمد: ۱۴۶۰۹)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1467

۔ (۱۴۶۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہِ مُقْبِلًا مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ حَیْثُ تَوَجَّہَتْ بِہِ، وَفِیْہِ نَزَلَتْ: {فَأَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ}۔ (مسند احمد: ۴۷۱۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف آتے ہوئے اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، سواری جدھر مرضی رخ کر لیتی تھی،یہ آیت اسی مسئلے کے بارے نازل ہوئی: {أَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} (تم جس طرف بھی منہ کرواللہ کا چہرہ وہاں ہی ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1468

۔ (۱۴۶۸) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلٰی حِمَارٍ وَھُوَ مُوَجِّہٌ (وَفِیْ رِوَایَۃِ وَھُوَ مُتَوَجِّہٌ) إِلَی خَیْبَرَ (مسند احمد: ۴۵۲۰)
سیّدنا عبداللہ بن عمر سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رخ خیبر کی طرف تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1469

۔ (۱۴۶۹) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یُصَلِّیْ عَلٰی دَابَّتِہِ التَّطَوُّعَ حَیْثُ تَوَجَّہَتْ بِہٖ،فَذَکَرْتُلَہُذٰلِکَفَقَالَرَأَیْتُ أَبَا الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُہُ۔ (مسند احمد: ۴۴۷۰)
نافع کہتے ہیں:میںنے سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سواری پر نفلی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جس طرف بھی اس کا رخ ہو جاتا۔ جب میںنے ان سے اس کا ذکر کیا توانہوںنے کہا: میں نے ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1470

۔ (۱۴۷۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ تَلَقَّیْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حِیْنَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ فَلَقِیْنَاہُ بِعَیْنِ التَّمْرِ وَھُوَ یُصَلِّیْ عَلٰی دَابَّتِہِ لِغَیْرِ الْقِبْلَۃِ، فَقُلْنَا لَہُ: إِنَّکَ تُصَلِّیْ إِلٰی غَیْرِ الْقَبِلَۃِ؟ فَقَالَ: لَوْ لَا أَ نِّیْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ ذٰلِکَ مَافَعَلْتُ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۴۴)
انس بن سیرین کہتے ہیں: جب سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام سے آئے،تو ہم انہیں عین التمر مقام پر ملے، ہم نے دیکھا کہ وہ ا پنی سواری پر غیر قبلہ کی طرف نمازپڑھ رہے تھے، پس ہم نے ان سے کہا: آپ غیر قبلہ کی طرف نمازپڑھتے ہیں؟ انہوںنے جواب دیا:اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میںبھی ایسے نہ کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1471

۔ (۱۴۷۱) عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلٰی ظَہْرِ رَاحِلَتِہِ النَّوَافِلَ فِیْ کُلِّ جِہَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۷۲)
سیّدناعامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سواری کی پیٹھ پر ہر جہت کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1472

۔ (۱۴۷۲) عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انْتَھٰی إِلٰی مَضِیْقٍ ھُوَ وَأَصْحَابُہُ وَھُوَ عَلٰی رَاحِل َتِہِ وَالسَّمائُ مِنْ فَوْقِھِمْ وَالْبِلَّۃُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْہُمْ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاَۃُ، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی رَاحِلَتِہِ فَصَلّٰی بِہِمْ یُومِیئُ إِیِمَائًیَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّکُوعِ أَوْ یَجْعَلُ سُجُودَہُ أَخْفَضَ مِنْ رُکُوعِہِ۔ (مسند احمد: ۱۷۷۱۶)
سیّدنایعلی بن مرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ ایک تنگ جگہ کی طرف گئے، آپ اپنی سواری پر تھے، صورتحال یہ تھی کہ اوپر سے بارش برس رہی تھی اور نیچے کیچڑ تھا، ادھر نماز کا وقت ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اذان اور اس کے بعد اقامت کہی،پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری پر ہی آگے بڑھے اور ان کونماز پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع و سجود کے لیے اشارے کیے اور رکوع کی بہ نسبت سجدے کے لیے ذرا پست ہو کر اشارہ کیا۔

آیت نمبر