Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

29)

29) نماز کے طریقہ کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1756

۔ (۱۷۵۶) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِبْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ سَعِیْدٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ ثَنَا سَعِیْدٌ الْمَعْنٰی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَّبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ رِعْلٌ وَذَکْوَانُ وَعُصَیَّۃُ وَبَنُو لِحْیَانَ فَزَعَمُوْا أَنَّہُمْ قَدْأَسْلَمُوْا فَاسْتَمَدُّوْہُ عَلٰی قَوْمِہِمْ فَأَمَدَّھُمْ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ بِسَبْعِیْنَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ أَنَسٌ کُنَّا نُسَمِّیْہِمْ فِیْ زَمَانِہِمُ الْقُرَّائَ، کَانَوا یَحْتَطِبُوْنَ بِالنَّھَارِ وَیُصَلُّوْنَ بِاللَّیْلِ، فَانْطَلَقُوْا بِہِمْ حَتّٰی إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُوْنَۃَ غَدَرُوْا بِہِمْ فَقَتَلُوْھُمْ، فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا فِیْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَدْعُوْا عَلٰی ھٰذِہِ الْأَحْیَائِ رِعْلٍ وَ ذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَبَنِیْ لِحْیَانَ قَالَ قَتَادَۃَ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّہُمْ قَرَأُوْا بِہِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِیْ حَدِیْثِہِ إِنَّا قَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔ ثُمَّ رُفِعَ ذٰلِکَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ أَوْ رُفِعَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرے ہیں کہ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مدد مانگی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے، کیونکہیہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ جب بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبج کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1757

۔ (۱۷۵۷) (وَمِنَ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَاوَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی سَرِیَّۃٍ مَاوَجَدَ عَلَیْہِمْ، کَانُوْا یُسَمُّوْنَ الْقُرَّائَ، قَالَ سُفْیَانُ نَزَلَ فِیْہِمْ: بَلِّغُوْا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِیْنَا وَرَضِیَ عَنَّا۔ قِیْلَ لِسُفْیَانَ: فِیْمَنْ نَزَلَتْ؟ قَالَ: فِیْ أَھْلِ بِئْرِ مَعُوْنَۃَ ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۱۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی دستے پر اتنا غم محسوس نہیں کیا جتنا ان لوگوں پر محسوس کیا، ان کو قراء کہا جاتا تھا،سفیان کہتے ہیں: ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {بَلِّغُوْا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِیْنَا وَرَضِیَ عَنَّا} یعنی: ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم (اپنے رب سے) راضی ہو گئے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے۔ کسی نے امام سفیان سے پوچھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے بارے میںنازل ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: بئر معونہ والوں کے بارے میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1758

۔ (۱۷۵۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا بَعْدَ الرُّکُوْعِ یَدْعُوْا عَلٰی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ، وَقَالَ: ((عُصَیَّۃُ عَصَتِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۷۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ تک دعائے قنوت کی، اس میں آپ رعل اور ذکوان قبیلوں پر بد دعا کرتے تھے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1759

۔ (۱۷۵۹) (وَعَنْہُ أَیْضًا) قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا یَدْعُوْا بَعَدَ الرُّکُوْعِ عَلٰی حَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۸۸)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد دعائے قنوت کی، اس میں آپ عرب قبائل میں سے ایک قبیلہ پر بددعا کرتے تھے، پھر اسے ترک کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1760

۔ (۱۷۶۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ حِیْنَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ، قَالَ: ((رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ)) فِی الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ، ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ الْعَنْ فُلاَنَا…۔)) دَعَا عَلٰی نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْیَتُوْبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ۔} (مسند احمد: ۶۳۴۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر میں جب رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ یہ آخری رکعت کی بات تھی، پھر یہ بد دعا کرنے لگے: اے اللہ! تو فلاں پر لعنت کر، …۔ منافق لوگوں پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بددعا کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: (اے پیغمبر!) آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1761

۔ (۱۷۶۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَمَّا رَفَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ الْفَجْرِ) قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیْدَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْجِ الْوَلِیْدَ) ابْنَ الْوَلِیْدِ وَسَلَمَۃَ ابْنَ ھِشَامٍ وَعَیَّاشَ بْنَ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ بِمَکَّۃَ، اَللّٰہُمَّ اشْدُدْ وَطَأَتَکَ عَلٰی مُضَرَ وَاجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ سِنِیْنَ کَسِنِیْیُوسُفَ۔)) (مسند احمد: ۷۲۵۹)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز میںآخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ دعا کی: اے اللہ: ہمارے رب! اورتیرے لئے ہی ساری تعریف ہے، تو ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اورمکہ کے کمزوروں کو نجات دے دے، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنا عذاب سخت کردے اوراسے ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی کی طرح قحط کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1762

۔ (۱۷۶۲) عَنْ خُفَافِ بْنِ إِیْمَائِ بْنِ رَحْضَۃَ الْغِفَارِیِّ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ وَنَحْنُ مَعَہُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْأَخِیْرَۃِ قَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ لِحْیَانَ وَرِعْلًا وَذَ کْوَانَ وَعُصَیَّۃَ، عَصَوُا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ، أَسْلَمُ سَالَمَھَا اللّٰہُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللّٰہُ لَھَا، ثُمَّ وَقَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاجِدًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَرَأَ عَلَی النَّاسِ: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّیْ أَنَا لَسْتُ قُلْتُہُ، وَلٰکِنَّ اللّٰہَ عَزْوَجَلَّ قَالَہُ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ حُفَافٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَۃُ الْکَفَرَۃِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۷)
سیدنا خفاف بن ایماء غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جبکہ ہم آپ کے ساتھ تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ بد دعا کی: اللہ لعنت کرے، لحیان پر، رعل پر، ذکوان پر اور عصیہ پر، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اورغفار کو اللہ معاف فرمائے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے میں گر پڑے،جب آپ (نماز سے)فارع ہوئے تو فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کلمات نہیں کہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے کہے ہیں۔ ایک روایت میںہے: خفاف نے کہا: اسی وجہ سے کافروں پر لعنت کرنا بنا دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1763

۔ (۱۷۶۳) عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ھَلْ قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ بَعْدَ الرُّکُوْعِ، ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِکَ مَرَّۃً أُخْرٰی ھَلْ قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ قَالَ بَعْدَ الرُّکُوْعِ یَسِیْرًا۔ (مسند احمد: ۱۲۱۴۱)
ابن سیرین کہتے ہیں کہ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا:ہاں رکوع کے بعد کی ہے۔ اس کے بعد پھر ایک دفعہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی، رکوع کے بعد کچھ عرصہ تک کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1764

۔ (۱۷۶۴) عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُہُ عَنِ الْقُنُوْتِ أَقَبْلَ الرُّکُوْعِ أَوْبَعْدَ الرُّکُوْعِ؟ فَقَالَ: قَبْلَ الرُّکُوْعِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّہُمْ یَزْعُمُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَنَتَ بَعْدَ الرُّکُوْعِ؟ فَقَالَ: کَذَبُوْا، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا یَدْعُوْا عَلَی نَاسٍ قَتَلُوْا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِہِ یُقَالُ لَھُمُ الْقُرَّائُ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۳۵)
عاصم احول کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قنوت کے متعلق سوال کیا کہ آیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟ انہوںنے جواب دیا: رکوع سے پہلے ہے۔ میں نے کہا: لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کے بعد قنوت کی تھی،یہ سن کرانہوں نے کہا: لوگوں سے غلطیہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صرف ایک مہینہ قنوت کی ہے جس میں آپ ان لوگوں پربد دعا کرتے جنہوں نے آپ کے ان صحابہ کو قتل کر دیا تھا، جن کو قرّاء کہا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1765

۔ (۱۷۶۵) عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَازَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْنُتُ فِی الْفَجْرِ حَتّٰی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ (مسند احمد: ۱۲۶۸۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر میں ہمیشہ قنوت کرتے رہے حتی کہ آپ دنیا سے جدا ہوگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1766

۔ (۱۷۶۶) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُوْا فِیْ دُبُرِ صَلاَۃِ الظُّہْرِ: ((اَللّٰہُمَّ خَلِّصِ الْوَلِیْدَ بْنَ الْوَلِیْدِ، وَسَلَمَۃَ بْنَ ھِشَامٍ، وَعَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیْعَۃَ، وَضَعَفَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ أَیْدِی الْمُشْرِکِیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَلاَ یَہْتَدُوْنَ سَبِیْلاً۔)) (مسند احمد: ۹۲۷۴)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کی نماز کے آخر میں یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمۃ بن ہشام، عیاش بن ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو چھٹکارا عطا فرما، جو کسی حیلے کی طاقت رکھتے ہیں نہ نکلنے کا کوئی راستہ پاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1767

۔ (۱۷۶۷) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَنَتَ فِی الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۱۹)
سیدنابراء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح اور مغرب کی نماز میں قنوت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1768

۔ (۱۷۶۸) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ الأَخِیْرَۃِ مِنْ صَلاَۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ قَنَتَ وَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیْدَ بْنَ الْوَ لِیْدِ، اَللّٰہُمَّ أَنْجِ سَلَمَۃَ بْنَ ھِشَامٍ، اَللّٰہُمَّ أَنْجِ عَیَّاشَ بْنَ أَبِیْ رَبِیْعَۃً، اللَّھُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ، اَللّٰہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلٰی مُضَرَ، اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا سِنِیْنَ کَسِنِیْیُوْسُفَ ۔)) (مسند احمد: ۱۰۰۷۴)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عشاء کی نماز میں جب آخری رکوع سے سر اٹھاتے تو قنوت کرتے اورکہتے: اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دلا، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دلا،اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دلا اے اللہ! کمزور مؤمنوں کو نجات دلا اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کردے، اے اللہ! اسے ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی کی طرح قحط سالی کردے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1769

۔ (۱۷۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُوْ قُطْنٍ وَأَبُوْ عَامِرٍ قاَلاَ حَدَّثَنَا ھِشَامٌ یَعْنِیْ الدَّسْتَوَائِیَّ عَنْ یَحْیٰی عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَاللّٰہِ لَأُقَرِّبَنَّ لَکُمْ صَلاَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ إِنِّیْ لَأَقْرَبُکُمْ صَلاَۃَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ فَکَانَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقْنُتُ فِی الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ مِنْ صَلاَۃِ الظُّہْرِ وَصَلاَۃِ الْعِشَائِ وَصَلاَۃِ الصُّبْحِ، قَالَ أَبُوْ عَامِرٍ فِی حَدِیْثِہِ: الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ وَصَلاَۃِ الصُّبْحِ بَعْدَ مَا یَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَیَدْعُوْا لِلْمُؤُمِنِیْنَ وَیَلْعَنُ الْکُفَّارَ، قَالَ أَبُوْ عَامِرٍ وَیَلْعَنُ الْکَافِرِیْنَ۔ (مسند احمد: ۷۴۵۷)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ضرور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز تمہارے سامنے رکھوںگا،ایک روایت میں ہے:بلاشبہ نماز کے لحاظ سے میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوں، پس سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ظہر، عشاء اورفجر کی نمازوں کی آخری رکعت میں قنوت کیا کرتے تھے، جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تھے، اس میں مؤمنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1770

۔ (۱۷۷۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا مُتَتَا بِعًا فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ وَالصُّبْحِ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) مِنَ الرَّکْعَۃِ الْأَخِیْرَۃِ،یَدْعُوْ عَلَیْہِمْ، عَلٰی حَیٍّ مِنْ َبنِیْ سُلَیْمٍ عَلٰی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَیَؤْ مِّنُ مَنْ خَلْفَہُ، أَرْسَلَ إِلَیْہِمْیَدْعُوْھُمْ إِلَی الإِْسْلاَمِ فَقَتَلُوْھُمْ، قَالَ عَفَّانُ فِیْ حَدِیْثِہِ قَالَ وَقَالَ عِکْرِمَۃُ ھٰذَا کَانَ مِفْتَاحَ الْقُنُوْتِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۶)
سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلسل ایک ماہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں قنوت کی، جب آپ آخری رکعت میں سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تویہ قنوت کرتے، جس میں بنو سلیم کے ایک قبیلے رِعل، ذکوان اور عصیہ پر بددعا کرتے اور پیچھے والے مقتدی آمین کہتے، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ صحابہ کو ان لوگوں کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا، لیکن انہوں نے انہیں قتل کردیا۔ عفان نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ عکرمہ کہتے تھے کہ یہ قنوت شروع ہونے کا سبب تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1771

۔ (۱۷۷۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْعُوَ عَلٰی أَحَدٍ أَوْ یَدْ عُوَ لِأَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَ الرُّکُوْعِ فَرُبَّمَا قَالَ: إِذَا قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ، اَللّٰہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیْدَ بْنَ الْوَلِیْدِ، وَسَلَمَۃَ بْنَ ھِشَامٍ، وَعَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیْعَۃَ، وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ، اَللّٰہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلٰی مُضَرَ وَاجْعَلْہَا ِنِیْنَ کَسِنِیْیُوْسُفَ، قَالَ یَجْہَرُ بِذٰلِکَ، وَیَقُوْلُ فِیْ بَعْضِ صَلاَتِہِ فِیْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ، اَللّٰہُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا حَیَّیْنَ مِنَ الْعَرَبِ حَتّٰی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِشَیْئٌ أَوْیَتُوْبَ عَلَیْہِمْ أَوْیُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُوْنَ۔} (مسند احمد: ۷۴۵۸)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی کے خلاف بد دعا کرنے یا کسی کے حق میں دعا کرنے کا ارادہ کرتے تو رکوع کے بعد قنوت کرتے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہہ لیتے تو اس طرح دعا کرتے: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مؤمنوں کو نجات عطا فرما، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنا عذاب سخت کر دے اور اس کو ان پر یوسف علیہ السلام کے قحط کی طرح قحط بنا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا جہری آواز کے ساتھ کرتے تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر کی نماز میں تو یہ بددعا کرتے تھے: اے اللہ! فلاں فلاں (عرب کے دو قبیلوں) پر لعنت کر، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: (اے پیغمبر!) آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1772

۔ (۱۷۷۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) (۱) قَالَ: رَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الصَّلاَۃِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ أَنْجِ عَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیْعَۃَ إِلٰی أَنْ قَالَ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا سِنِیَْن کَسِنِیْیُوْسُفَ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ)) ثُمََّ خَرَّ سَاجِدًا ۔ (مسند احمد: ۱۰۵۲۸)
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں رکوع کیا، پھر سر اٹھا یا اور یہ دعا کی:اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دلا … … اے اللہ! اس کو ان پر یوسف علیہ السلام والا قحط بنا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1773

۔ (۱۷۷۳) عَنْ أَبِیْ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ: یَاأَبَتِ! إِنَّکَ قَدْ صَلَّیْتَ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعُمَرَوَ عُثْمَانَ وَعَلَیٍّ ھٰہُنَا بِالْکُوْفَۃِ قَرِیْبًا مِنْ خَمْسِ سِنِیْنَ، أَکَانُوْا یَقْنُتُوْنَ؟ قَالَ: أَیْ بُنَیَّ مُحْدَثٌ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۷۴)
ابو مالک اشجعی کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے کہا: ا ے ا باجان: بلاشبہ آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدناعمر، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی اقتدا میں اور یہاں کوفہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے پانچ سال نمازیں پڑھی ہیں، تو کیایہ لوگ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹےیہ ایک نئی چیز ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1774

۔ (۱۷۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ أَبِیْ قَدْ صَلَّی خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَقُلْتَ لَہُ: أَکَانُوْا یَقْنُتُوْنَ ؟ قَالَ: لَا، أَیْ بُنیَّ مُحْدَثٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۵۱)
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میرے باپ نے سولہ سال کی عمر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی، پھر انھوں نے سیدناابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ( کے پیچھے بھی نماز پڑھی)میں نے ان سے کہا: کیا وہ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میرے پیارے بیٹےیہ نئی چیز ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1775

۔ (۱۷۷۵) عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلَیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَلِمَاتٍ أَقُولُھُنَّ فِی قُنُوْتِ الْوِتْرِ: ((اَللّٰہُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَباَرِکْ لِیْ فِیْمَا أَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، فَإِنَّکَ تَـقْضِیْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ، إِنَّہُ لَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۸)
سیدناحسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے قنوتِ وتر میں پڑھنے کے لیے ان کلمات کی تعلیم دی: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ، اِنَّہٗلَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ،تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا ،اے ہمار ے ربّ! تو برکت والا اور بلند و بالا ہے۔

آیت نمبر