MUSNAD AHMED

Search Result (50)

30)

30) رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1776

۔ (۱۷۷۶) عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْأَ سْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ النَّخَعِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّشَہُّدَ فِیْ وَسْطِ الصَّلاَۃِ وَفِیْ آخِرِ ھَا، فَکُنَّا نَحْفَظُ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ حِیْنَ أَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُ إِیَّاہُ، فَکَانَ یَقُوْلُ إِذَا جَلَسَ فِیْ وََسْطِ الصَّلاَۃِ وَفِیْ آخِرِھَا عَلٰی وَرِکِہِ الْیُسْرٰی ((اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ،أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہُ۔)) قَالَ: ثُمَّإِنْکَانَفِیْ وَسْطِ الصَّلاَۃ نَھَضَ حِیْنَیَفْرُغُ مِنْ تَشَھُّدِہِ، وَإِنْ کَانَ فِی آخِرِھَا دَعَا بَعْدَ تَشَھُّدِہِ بِمَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ یَدْعُوَ ثُمَّ یُسَلِّمُ۔ (مسند احمد: ۴۳۸۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں تشہد سکھایا،اسود بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یادکرتے تھے جب انہوں نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو تشہد کی تعلیم دی تھی، پس وہ کہتے تھے: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں بائیں سرین پر بیٹھتے تو پڑھتے: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ،أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہُ۔ پھراگرنمازکےدـرمیان میں ہوتے تو تشہد سے فارغ ہونے کے بعد (تیسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوجاتے اور اگر نماز کے آخر میں ہوتے تو اتنی دعائیں کرتے، جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتیں، پھر سلام پھیر دیتے۔ تشہد کا ترجمہ:تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کیلئے ہیں، اے نبی: آپ پر اللہ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1777

۔ (۱۷۷۷) عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَۃُ بِیَدِیْ وَحَدَّثَنِیْ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ أَخَذَ بِیَدِہِ وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَ بِیَدِ عَبْدِاللّٰہِ فَعَلَّمَہُ التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ، فَقَالَ: ((قُلْ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ (کَمَا تَقَدَّمَ إِلٰی قَوْلِہِ) وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ قَالَ: فَإِذَا قَضَیْتَ ھٰذَا أَوْقَالَ فَإِذَا فَعَلْتَ ھٰذَا فَقََدْ قَضَیْتَ صَلَاتَکَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُوْمُ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ۔)) (مسند احمد: ۴۰۰۶)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کاہاتھ پکڑا اور نماز میں (پڑھا جانے والے) تشہد کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: کہو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ ……أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہُ (سابقہحدیث والا تشہد بیان کیا)۔ پھر فرمایا: جب تو یہ پورا کرلے توتونے اپنی نماز پوری کرلی، اگر کھڑا ہونا چاہے توکھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھا رہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1778

۔ (۱۷۷۸) عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا عُلِّمَ فَواتِحَ الْخَیْرِ وَجَوَامِعَہُ وَخَوَاتِمَہُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَإِنَّا کُنَّا لَانَدْرِیْ مَا نَقُوْلُہُ فِیْ صَلَاتِنَا حَتّٰی عَلَّمَنَا) فَقَالَ: ((إِذَا قَعَدْتُّمْ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ فَقُوْلُوْا: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ (فَذَکَرَ مِثْلَ مَاتَقَدَّمَ إِلٰی قَوْلِہِ عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ) قَالَ ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ أَحَدُکُمْ مِنَ الدُّعَائِ أَعْجَبَہُ إِلَیْہِ فَلْیَدْعُ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۴۱۶۰)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خیر و بھلائی کی ابتدائی، جامع اور اختتامی چیزوں کی تعلیم دی گئی تھی، جبکہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم نماز کے (تشہد) میں کیا کہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس چیز کی تعلیم دی اور فرمایا: جب تم دو رکعتوں کے بعد بیٹھو تو پڑھو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ … … عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ پھر تم سے ہر کوئی اپنی پسندیدہ دعا کا انتخاب کرے اور اس کے ساتھ اپنے ربّ کو پکارے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1779

۔ (۱۷۷۹) عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّشَہُّدَ وَأَمَرَہُ أَنْ یُعَلِّمَ النَّاسَ: ((اَلتَّحِیَِّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحَمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۳۹۲۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے تشہد کی تعلیم دی اور یہ حکم بھی دیا کہ وہ لوگوں کو بھییہ سکھائے: ((اَلتَّحِیَِّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحَمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ۔))
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1780

۔ (۱۷۸۰) عَنْ عَبِدِاللّٰہِ بْنِ سَخْبَرَۃَ أَبِیْ مَعْمَرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّشَہُدَ کَفِّیْ بَیْنَ کَفَّیْہِ کَمَا یُعَلِّمُنِیْ السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: ((اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔)) وَھُوَ بَیْنَ ظَہْرَانَیْنَا فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا: اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ۔ (مسند احمد: ۳۹۳۵)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے قرآن کی سورت کی طرح اس تشہدکی تعلیم دی، جبکہ میری ہتھیلی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو ہتھیلیوں میں تھی: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ جب آپ ہمارے درمیان موجود تھے (تو ہم اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ کہتے تھے)، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہوگئے تو ہم اس طرح کہتے تھے: اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1781

۔ (۱۷۸۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الصَّلَاۃِ قُلْنَا: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ عِبَادِہِ، اَلسَّلَامُ عَلٰی فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْلُوْا: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ، فَإِنَّ اللّٰہَ ھُوَ السَّلاَمُ، وَلٰکِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ: اَلتَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، فَإِنَّکُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذٰلِکَ أَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ أَحَدُکُمْ مِنَ الدُّعَائِ أَعْجَبَہُ إِلَیْہِ فَلْیَدْعُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۴۱۰۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازمیںبیٹھتے تو ہم کہتے: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ عِبَادِہِ، اَلسَّلاَمُ عَلٰی فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ (اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلامتی ہو اور فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ نہ کہا کرو کہ اللہ تعالیٰ پر سلامتی ہو، کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے، (آئندہ) جب تم سے کوئی شخص بیٹھے تو وہ یہ کہا کرے: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، جب تم یہ (دعا) کرو گے تو وہ زمین و آسمان کے مابین ہر عبادت گزار کو پہنچ جائے گی، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ پھر تم میں سے ہر کوئی اپنی پسندیدہ دعا منتخب کر لے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1782

۔ (۱۷۸۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنْحْوِہِ وَفِیْہِ: کُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الصَّلاَۃِ قُلْنَا: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ قِبَلَ عِبَادِہِ، اَلسَّلَامُ عَلٰی جِبْرِیْلَ، اَلسَّلَامُ عَلٰی مِیْکَائِیلَ، اَلسَّلَامُ عَلٰی فُلاَنٍ۔ اَلْحَدِیث کَمَا تَـقَدَّمَ ۔ (مسند احمد: ۳۶۲۲)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازمیں بیٹھتے تو کہتے: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ قِبَلَ عِبَادِہِ، اَلسَّلَامُ عَلٰی جِبْرِیْلَ، اَلسَّلاَمُ عَلٰی مِیْکَائِیلَ، اَلسَّلَامُ عَلَی فُلاَنٍ۔ (اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں کی طرف سے، جبریل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو، … …۔ آگے پہلی حدیث کی طرح۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1783

۔ (۱۷۸۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُنَا الَتَّشَہُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ، فَکَانَ یَقُوْلُ: ((اَلتَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّٰہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ قَالَ حُجَیْرٌ سَلَامٌ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، سَلَامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ وَأَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن مجید کی طرح ہمیں تشہد کی تعلیم دیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: اَلتَّحِیَّاتُ الْمُبَاَرَکَاتَ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّٰہِ، سَلَامٌ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، سَلَامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ وَأَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ تشہد کا ترجمہ:تمام برکت والی قولی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کیلئے ہیں، اے نبی: آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1784

۔ (۱۷۸۴) عَنْ أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَدِیثٍ ذَکَرَ فِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُمْ الصَّلاَۃَ (إِلٰی أَنْ قَالَ:) ((فَإِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِکُمْ أَنْ یَّقُوْلَ: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَات لِلَّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَ بَرَکَاَتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۹۸۹۹)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسی حدیث نقل کرتے ہیں، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو نماز کی تعلیم دی،یہاں تک کہ فرمایا: جب تم سے کوئی قعدے میں ہو تو سب سے پہلے یہ کہے: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَات لِلَّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَ بَرَکَاَتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1785

۔ (۱۷۸۵) عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَنِ افْتِرَاشِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخِذَہُ الْیُسْرٰی فِی وَسَطِ الصَّلاَۃِ وَفِی آخِرِھَا وَقُعُودِہِ عَلٰی وَرِکِہِ الْیُسْرٰی وَوَضْعِہِ یَدَہُ الیُسْرٰی عَلٰی فَخِذَہِ الْیُسْرٰی وَنَصْبِہِ قَدَمَہُ الْیُمْنٰی وَوَضْعِہِ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذَہِ الْیُمْنٰی وَنَصْبِہِ إِصْبَعَہُ السَّبَابَۃَیُوَحِّدُ بِہَا رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ عِمْرَانُ ابْنُ أَبِیْ أَنَسٍ أَخُوْ بَنِیْ عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ وَکَانَ ثِقَۃً عَنْ أَبِی الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلٰیعَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِیِْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قَالَ صَلَّیْتُ فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ غِفَارٍ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِیْ صَلاَتِیْ اِفْتَرَشْتُ فَخِذِیْ الْیُسْرٰی وَنَصَبْتُ السَّبَّابَۃَ، قَالَ: فَرَآنِیْ خُفَافُ بُنْ إِیِمَائِ ابْنِ رَحَضَۃَ الْغِفَارِیُّ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أَصْنَعُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلاَتِیْ، قَالَ لِیْ: أَیْ بُنَیَّ لِمَ نَصَبْتَ إِصْبَعَکَ ھٰکَذَا؟ قَالَ: وَمَا تُنْکِرُ رَأَیْتُ النَّاسَ یَصْنَعُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: فَإِنَّکَ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا صَلّٰییَصْنَعُ ذٰلِکَ، فَکَانَ الْمُشْرِکُوْنَ یَقُوْلُوْنَ إِنَّمَا یَصْنَعَ ھٰذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِہِ یَسْحَرُ بِہَا وَکَذَبُوْا، إِنَّمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ذٰلِکَ یُوَحِّدُ بِہَا رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۸)
ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز کے درمیان اور اس کے آخر میں بائیں ران کو بچھانے، دائیں قدم کو کھڑا رکھنے، دائیں ہاتھ کو ران پر رکھنے اور انگلی کے ساتھ ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے کے بارے میں مجھے عمران بن ابو انس نے بیان کیا، … … مدینہ منورہ کے ایک باشندے نے کہا: میں نے مسجد بنو غفار کی مسجد میں نماز پڑھی، جب میں بیٹھا تو بائیں ران کو بچھا دیا اور انگشت ِ شہادت کو گاڑھ دیا، مجھے صحابی رسول خفاف بن ایماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا، جب میں نماز سے فارغ ہواتو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو اس طرح اپنی انگلی کو کیوں گاڑھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: آپ کون سے چیز کا انکار کرنا چاہتے ہیں، بس میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا؟ انھوں نے کہا: بیشک تو نے سنت کے مطابق کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اسی طرح کرتے تھے اور ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرتے تھے، جبکہ مشرکین کہتے تھے: محمد اپنی انگلی سے اس طرح کر کے جادو کرتا ہے، اور انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1786

۔ (۱۷۸۶) عَنْ أَبِیْ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ طَاوٗسًایَقُوْلُ: قُلْنَا لِأِبْنِ عَبَّاسٍ فِی الإِقْعَائِ عَلَی القَدَمَیْنِ، فَقَالَ: ھِیَ السُّنَّۃُ، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَاہُ جَفَائً بِالرَّجُلِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ھِیَ سُنَّۃُ نَبِیِّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۸۵۳)
طاووس کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قدموں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ ہم نے کہا: ہم تو اس کو آدمی کی اکھڑ مزاجی اور اجڈ پن خیال کرتے تھے۔ انھوں نے کہا: یہ تو تیری نبی کی سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1787

۔ (۱۷۸۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ طَاوُسٍ أَیْضَا قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَجْثُوْعَلَی صُدُوْرِ قَدَمِیْہِ فَقُلْتُ: ھَذَا یَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّہُ مِنَ الْجَفَائِ، قَالَ ھُوَ سُنَّۃُ نَبِیِّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۸۵۵)
۔ (دوسری سند)طاووس کہتے ہیں: میں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کودیکھا کہ وہ پاؤں کو کھڑا کر کے ان پر بیٹھ جاتے۔ میں نے کہا: لوگ تو اس کیفیت کو اکھڑ مزاجی اور اجڈ پن خیال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ تو تیری نبی کی سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1788

۔ (۱۷۸۸) عَنْ عَائِشَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِیْ صِفَۃِ صَلاَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: وَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ التَّحِیَّۃَ، وَکَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَفْتَرِشَ ذِرَاعَیْہِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَکَانَ یَفْرِشُ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی وَیَنْصِبُ رِجْلَہُ الْیُمْنٰی، وَکَانَ یَنْھٰی عَنْ عَقِبِ الشَّیْطَانِ، وَکَانَ یَخْتِمُ الصَّلاَۃَ بِالتَّسْلِیْمِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۳۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناپسند کرتے تھے کہ آدمی (سجدے میں) اپنے بازؤں کو درندے کی طرح بچھائیں، آپ بائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور آپ شیطان کی بیٹھک سے منع فرماتے تھے اور آپ نمازکو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1789

۔ (۱۷۸۹) عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَصِفُ صَلاَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی فَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہٖوَرُکْبَتِہِالْیُسْرٰی، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِہِ الْأَیْمَنِ عَلَی فِخِذِہِ الْیُمْنٰی، ثُمَّ قَبَضَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ فَحَلَّقَ حَلْقَۃً (وَفِیْ رِوَایَۃٍ حَلَّقَ بِالْوُ سْطٰی وَالإِْ بْہَامِ وَأَشَارِ بِالسَّبَّابَۃِ) ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُہَایَدْ عُوْبِہَا ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۷۵)
یہ مکمل حدیث صحیح ہے، مذکورہ الفاظ کو شاذ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہیہ ثقہ کی ایسی زیادتی نہیں ہے، جس سے ثقات کی روایت کی نفی ہو رہی ہو،ثقات کی روایت کے الفاظ وَأَشَارَ باِلسَّبَّابَۃِ اور زائدہ بن قدامہ کی روایت کے الفاظ ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُہَایَدْعُوْبِہَا میں سرے سے کوئی تضاد ہی نہیں ہے، امام البانی نے بھی اس کو صحیح کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1790

۔ (۱۷۹۰) عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلاً مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ الرَّجُلِ بِإِصْبَعِہِ یَعْنِیْ ھٰکَذَافِی الصَّلاَۃِ قَالَ ذَاکَ الإِْ خْلاَصُ۔ (مسند احمد: ۳۱۵۲)
سیدناوائل بن حجر حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ بیٹھے،بایاں پاؤں بچھا دیا، بائیں ہتھیلی ران اور بائیں گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کو بائیں ران سے اٹھا کر رکھا، پھر أپنی انگلیاں بند کرکے حلقہ بنایا۔ اور ایک روایت میں ہے: انگوٹھے اور درمیانی (انگلی) کا حلقہ بنایا اورسبابہ سے اشارہ کیا۔ پھر اپنی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ کو دیکھا آپ اسے ہلا کر اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1791

۔ (۱۷۹۱) عَنْ نَاِفعٍ قَالَ: کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ وَأَشَارَ بِاِصْبَعِہِ وَأَتْبَعَہَا بَصَرَہُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَھِیَ أَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنَ الْحَدِیْدِ)) یَعْنِی االسَّبَّابَۃَ۔ (مسند احمد: ۶۰۰۰)
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے، اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نظر اسی کے پیچھے لگاتے، پھر یہ بیان کرتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ یہ انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1792

۔ (۱۷۹۲) عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَلَسَ فِی التَّشَہُّدِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی وَأَشَارَ باِلسَّبَّابَۃِ وَلَمْ یُجَاوِزْ بَصَرُہُ إِشَارَتَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۹۹)
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اورسبابہ کے ساتھ اشارہ کرتے اور آپ کی نظر آپ کے اشارے سے آگے نہ گزرتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1793

۔ (۱۷۹۳) عَنْ عَلَیِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِیِّ أَنَّہُ قَالَ: رَآنِیَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصٰی فِی الصَّلاَۃِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَہَانِیْ، وَقَالَ: اِصْنَعْ کَمَا کَاَن رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ۔ قُلْتُ: وَکَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ؟ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ وَضَعَ کَفَّہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَقَبَضَ أَصَابِعَہُ کُلَّہَا وَأَشَاَر بِإِصْبَعِہِ الَّتِی تَلِی الإِْبْھَامَ وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی۔ (مسند احمد: ۵۳۳۱)
علی بن عبد الرحمن معاوی کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھ لیا، جب وہ فارغ ہوئے تو مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: تم اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی دائیں ران پر رکھتے اور ساری انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے اور بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1794

۔ (۱۷۹۴) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ ناَفِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا جَلَسَ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ وَرَفَعَ إِصْبَعَہُ الْیُمْنٰی الَّتِی تَلِی الإِْ بْہَامَ فَدَعَا بِھَا وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ بِاسِطَہَا عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۶۳۴۸)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بیٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی دائیں انگلی کو اٹھا کر اس کے ساتھ دعا کرتے اوراپنا بایاں ہاتھ گھٹنے پر پھیلا کر رکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1795

۔ (۱۷۹۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلاً سَاقِطًا یَدَہُ فِی الصَّلاَۃِ فَقَالَ: ((لَاتَجْلِسْ ھٰکَذَا، إِنَّمَا ھٰذِہِ جِلْسَۃُ الَّذِیْنَیُعَذَّبُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۵۹۷۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نماز میں اپنا ہاتھ گرایا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اس طرح نہ بیٹھ،یہ ان لوگوں کے بیٹھنے کی کیفیت ہے، جن کو عذاب دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1796

۔ (۱۷۹۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَجْلِسَ الرَّجُلُ فِی الصَّلاَۃِ وَھُوَ یَعْتَمِدُ عَلٰییَدَیْہِ۔ (مسند احمد: ۶۳۴۷)
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی نماز میں اپنے دونوں ہاتھوں پر ٹیک لگا کر بیٹھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1797

۔ (۱۷۹۷) عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ (یَعْنِیْ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ کَأَنَّہُ عَلَی الرَّضْفِ، قُلْتُ: حَتّٰییَقُوْمَ، قَالَ: حَتّٰییَقُومَ۔ (مسند احمد: ۳۶۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتوں(کے تشہد میں اس طرح ہوتے کہ) گویا کہ آپ گرم پتھر پر ہیں، میںنے کہا: یہاں تک کہ کھڑے ہو جاتے؟ انھوں نے کہا: حتی کہ آپ کھڑے ہوجاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1798

۔ (۱۷۹۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَأَنَّمَا کَانَ جُلُوْسُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الرَّکْعَتَیْنِ عَلَی الرَّضْفِ۔ (مسند احمد: ۴۰۷۴)
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا:گویا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دو رکعتوں میں بیٹھنا گرم پتھر پر ہوتاتھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1799

۔ (۱۷۹۹) عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَضِیَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتّٰی جَلَسَ بَیْنَیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنَ عِنْدَہُ، فَقَالَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! أَمَّا السَّلاَمُ عَلَیْکَ فَقَدْ عَرَفْنَاہُ فَکَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ إِذَا نَحْنُ صَلَّیْنَا فِیْ صَلاَتِنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ یَسْأَلْہُ قَالَ: ((إِذَا أَنْتُمْ صَلَّیْتُمْ عَلَیَّ فَقُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۰۰)
سیدناابو مسعود عقبہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، جبکہ ہم بھی آپ کے پاس موجود تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو ہم پہچان چکے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجنا ہے، (اب سوال یہ ہے کہ) جب ہم نماز ادا کریں تو آپ پر درود پڑھنے کا کیا طریقہ ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت نازل فرمائے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جواباً خاموش ہو گئے (اور اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ چاہنے لگے کہ کاش اس آدمی نے سوال نہ کیا ہوتا، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود بھیجو تو اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّ وَعَلیَ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّکَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1800

۔ (۱۸۰۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ؟ فَقَالَ: ((قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا باَرَکْتَ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۹۴)
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: آپ سے پوچھا گیا کہ ا ے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا باَرَکْتَ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1801

۔ (۱۸۰۱) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: أَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ فَقَالَ لَہُ بِشْرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللّٰہُ أَنْ نُصَلِّیَ عَلَیْکَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ؟ قَالَ: فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَمَنَّیْنَا أَنَّہُ لَمْ یَسْأَلْہُ، ثُمَّ قَالَ: ((قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ فِی الْعَاَلَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، وَالسَّلاَمُ کَمَا قَدْعَلِمْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۰۹)
۔ (دوسری سند)سیدنا عقبہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سعد بن عبادہ کی مجلس میں تشریف لائے، سیدنا بشر بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درودبھیجیں ، پس ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہوگئے حتی کہ ہم یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال نہ کیا ہوتا، اتنے میں آپ نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ فِی الْعَاَلَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اور سلام کے بارے میں تو تم جان چکے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1802

۔ (۱۸۰۲) عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِکٍ الْجَنْبِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ صَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: سَمِعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلاً یَدْعُوْ فِی الصَّلاَۃِ وَلَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَلَمْ یُصَلِّ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَجَّلَ ھٰذَا۔)) ثُمَّ دَعَاہُ فَقَالَ لَہُ وَلِغَیْرِہِ: ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلْیَبْدَأْ بِتَحْمِیْدِ رَبِّہِ وَثَنَائٍ عَلَیْہِ ثُمَّ لِیُصَلِّ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ لِیَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۳۴)
صحابی رسول سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا، جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجا، اور فرمایا: اس بندے نے جلدی کی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا اور اسے اور دوسرے لوگوں سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے ساتھ ابتدا کرے، پھر نبی پر درود بھیجے، پھر جو چاہے دعا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1803

۔ (۱۸۰۳) عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ عَلِمْنَا السَّلَامَ عَلَیْکَ فَکَیْفَ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ؟ قَالَ: ((قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۸۳)
سیدناکعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ معرفت تو ہم حاصل کر چکے ہیں کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب سوال یہ ہے کہ درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1804

۔ (۱۸۰۴) عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ: لَقِیْنِیْ کَعْبُ بْنُ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: قَالَ: أَلَا اُھْدِیْ لَکَ ھَدِیَّۃً؟ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فُقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ عَلِمْنَا أَوْ عَرَفْنَا کَیْفَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ، فَکَیْفَ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: ((قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۸۵)
ابن ابی لیلی کہتے ہیں: مجھے سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ملے اور کہا: کیا میں تجھے ایک ہدیہ نہ دوں؟ (اور وہ یہ ہے کہ) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ہم نے یہ تو پہچان لیا ہے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب درود پڑھنے کا کیاطریقہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1805

۔ (۱۸۰۵) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ زِیَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِنَّ اللَّہَ وَمَلاَئِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ} قَالُوا: کَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَیَا نَبِیَّ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔)) قَالَ وَنَحْنُ نَقُوْلُ وَعَلَیْنَا مَعَہُمْ، قَالَ یَزِیْدُ فَلاَ أَدْرِیْ أَشَیْئٌ زَادَہُ ابْنُ أَبِیْ لَیْلٰی مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ، أَوْشَیْئٌ رَوَاہُ کَعْبٌ۔ (مسند احمد: ۱۸۳۱۳)
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:: جب یہ آیت {إِنَّ اللَّہَ وَمَلاَئِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ} نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا:اے اللہ کے نبی! ہم آپ کیسے درود کیسے بھیجا کریں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ وہ کہتے ہیں: ہم یہ درود پڑھتے وقت یہ الفاظ بھی کہہ دیتے تھے: وَعَلَیْنَا مَعَھْمْ (اور ہم پر بھی ہو) ۔ یزید راوی کہتا ہے: میں اس چیز کو نہ سمجھ سکا کہ یہ آخری الفاظ ابن ابی لیلی نے اپنی طرف سے زیادہ کیے ہیںیا سیدنا کعب نے ان کو باقاعدہ روایت کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1806

۔ (۱۸۰۶) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا السَّلَامُ عَلَیْکَ قَدْ عَلِمْنَاہُ، فَکَیْفَ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ؟ فَقَالَ: ((قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مَحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ أَبْرَاھِیْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۵۳)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جانتے ہیں کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب آپ پر درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مَحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ أَبْرَاھِیْمَ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1807

۔ (۱۸۰۷) عَنْ بُریْدَۃَ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ عَلِمْنَا کَیْفَ نُسِّلُمْ عَلَیْکَ، فَکَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ؟ قَالَ: ((قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا جَعَلْتَہَا عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۷۶)
سیدنا بریدہ خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: یا رسول اللہ! بلاشبہ ہم نے جان لیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، اب ہم آپ پر درود کیسے پڑھا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس طرح پڑھا کرو: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا جَعَلْتَہَا عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔))
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1808

۔ (۱۸۰۸) عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ الصَّلاَۃُ عَلَیْکَ؟ قَالَ: ((قُلْ: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مَحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۱۳۹۶)
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مَحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1809

۔ (۱۸۰۹) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَارِجَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنِّی سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَفْسِیْ کَیْفَ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ؟ قَالَ: ((صَلُّوْا وَاجْتَہِدُوْا، ثُمَّ قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مَحُمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۴)
سیدنازید بن خارجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر درود کیسے بھیجا جائے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (مجھ پر) درود پڑھو اورکوشش کرو، پھرکہو: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مَحُمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1810

۔ (۱۸۱۰) عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ مَحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی أَھْلِ بَیْتِہِ وَعَلٰی أَزْوَاجِہِ وَذُرِّیِّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی أَھْلِ بَیْتِہِ وَعَلٰی أَزَوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔)) قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: وَکَانَ أَبِیْیَقُوْلُ مِثْلَ ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۶۰)
ایک صحابی رسول سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی أَھْلِ بَیْتِہِ وَعَلٰی أَزْوَاجِہِ وَذُرِّیِّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰیأَھْلِ بَیْتِہِ وَعَلٰی أَزَوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں: میرا باپ بھی اسی طرح کہا کرتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1811

۔ (۱۸۱۱) عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ أَنَّہُ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ أَبُوْ حُمَیْدٍ السَّاعِدِیُّ أَنَّہُمْ قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۹۸)
سیدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1812

۔ (۱۸۱۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا فَرَغَ أَحَدُکُمْ مِنَ التَّشَہُّدِ الْآخِرِ فَلْیَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۳۶)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تووہ ان چار چیزوں سے پناہ مانگا کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت کے فتنہ سے اورمسیح دجال کے شر سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1813

۔ (۱۸۱۳) عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ بَعْدَ التَّشَہُّدِ فِی الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ کَلِمَاتٍ کَانَ یُعَظِّمُھُنَّ جِدَّا، یَقُولُ: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ، قَالَ: کَانَ یُعَظِّمُہُنَّ وَیَذْکُرُھُنَّ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶۷)
جناب طاؤوس نمازِ عشاء میں آخری تشہد کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے اور ان کو بہت عظیم سمجھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ۔ (میںجہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اورمیںزندگی و موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔) وہ ان کو عظیم سمجھتے تھے اور ان کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حوالے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1814

۔ (۱۸۱۴) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْبَرَتْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُوْ فِی الصَّلاَۃِ: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔)) قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: مَا أَکْثَرَمَا تَسْتَعِیْذُ مِنَ الْمَغْرَمِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَکَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۸۵)
سیدناعروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے)۔ کسی آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے لیکن جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے لیکن اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1815

۔ (۱۸۱۵) عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِرَجُلٍ: ((کَیْفَ تَقُوْلُ فِی الصَّلاَۃِ؟)) قَالَ: أَتَشَہَّدُ ثُمَّ أَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّاِر، أَمَا إِنِّیْ لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَکَ وَلاَ دَنْدَنَۃَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَوْ لَھُمَا نْدَنْدِنُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۹۳)
ایک صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تو نماز میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا: میں پہلے تشہد پڑھتا ہوں پھر اس طرح دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مجھ سے آپ اور معاذ کے گنگنانے کی طرح نہیں گنگنایا جا سکتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1816

۔ (۱۸۱۶) عَنْ مِحْجِنِ بْنِ الْأَدْرَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضٰی صَلَاتَہُ وَھُوَ یَتَشَہَّدُ وَھُوَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ قَالَ: فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْغُفِرَ لَہُ، قَدْغُفِرَلَہُ، قَدْغُفِرَلَہُ۔)) ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۳)
سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر کے تشہد میں یہ دعا کر رہا ہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْیَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! جو یکتا و یگانہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے، یہ کہ تو میرے لیے میرے گناہ بخش دے، بیشک تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے ، بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ یعنی تین مرتبہ فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1817

۔ (۱۸۱۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ فَدَعَا وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فِخَذِہِ ثُمَّ کَانَ یُشِیْرُ بِإِصْبَعِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۴)
سیدناعبد الرحمن بن ابزی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز میں بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی ران پر رکھتے پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1818

۔ (۱۸۱۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُشِیْرُ بِإِصْبَعِہِ السَّبَّاحَۃِ فِی الصَّلاَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۲)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں انگشت ِ شہادت کے ساتھ اشارہ کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1819

۔ (۱۸۱۹) عَنْ مَالِکِ بِنْ نُمَیْرٍ الْخُزَاعِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ قَاعِدٌ فِی الصَّلاَۃِ قَدْ وَضَعَ ذِرَاعَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی رَافِعًا بِاِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ قَدْ حَنَأَھَا شَیْئًا وَھُوَ یَدْعُوْ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۶۰)
سیدنانمیر خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے ہوئے تھے اور دایاں بازو دائیں ران پر رکھا ہوا تھا اور انگشت ِ شہادت کو اٹھا کر دعا کر رہے تھے، جبکہ اس انگلی کو کچھ جھکایا ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1820

۔ (۱۸۲۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَعْدٍ وَھُوَ یَدْعُوْ بِاِصْبَعَیْنِ فَقَالَ: ((أَحِّدْ یَاسَعْدُ!)) (مسند احمد: ۱۲۹۳۲)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ دو انگلیوں کے ساتھ دعا کر رہے تھے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد! ایک کے ساتھ دعا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1821

۔ (۱۸۲۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوعَنْ أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : عَلِّمْنِیْ دُعَائً أَدْعُوْ بِہِ فِیْ صَلاَتِیْ، قَالَ: ((قُلْ: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ کَبِیْرًا بَدْلَ کَثِیْرًا) وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۲۸)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدناابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: مجھے کسی دعا کی تعلیم دیں تاکہ اسے نماز میں پڑھ سکوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَّلاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بلاشبہ میں نے اپنے نفس پر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اورتیرے علاوہ گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ہے، سو تو مجھے بخش دے اپنی طرف سے بخش دینا اور مجھ پر رحم کر بلاشبہ تو ہی بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1822

۔ (۱۸۲۲) عَنْ أَبِیْ مِجْلَزٍ قَالَ: صَلّٰی بِنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ صَلَاۃ فَأَوْجَزَ فِیْہَا فَأَنْکَرُوْا ذٰلِکَ، فَقَالَ: أَلَمْ أُتِمَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ؟ قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: أَمَا إِنِّیْ دَعَوْتُ فِیْہَا بِدُعَائٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُوْ بِہِ: ((اَللّٰہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبِ وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ أَحْیِنِیْ مَاعَلِمْتَ الْحَیَاۃَ خَیْرًا لِّیْ وَتَوَفَّنِیْ إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ، أَسْأَلُکَ خَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰیَ، وَلَذَّۃَ النَّظْرِ إِلٰی وَجْہِکَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَمِنْ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اَللّٰہُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الإِْ یْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مَھْدِیِّیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۱۵)
ابو مجلز کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، انھوں نے اس میں اختصار کیا، اس لیے لوگوں نے اس چیز کا انکار کیا،لیکن انھوں نے کہا: کیا میں نے رکوع وسجود کو پوری طرح ادا نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، پھر انھوں نے کہا: میں نے تو اس نماز میں ایسی دعا کی ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھتے تھے، وہ دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبِ وَقُدْرَتِکَ …… وَالشَّہَادَۃِ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰیَ، وَلَذَّۃَ النَّظْرِ إِلٰی وَجْہِکَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَمِنْ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اَللّٰہُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الإِْ یْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مَھْدِیِّیْنَ۔ (اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور مخلوق پر تیری قدرت کی وجہ سے تجھ (سے سوال کرتا ہوں کہ) جب تک تو میرے لئے زندگی کو بہتر سمجھے مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لئے وفات بہتر ہو تو مجھے فوت کر دینا، میں تجھ سے خلوت اور جلوت (دونوں حالتوں میں) میں تیری خشیت کا، غصے اور خوشی میں کلمۂ حق کہنے کا، فقیری اورمالداری میں میانہ روی اختیار کرنے کا، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کا شوق رکھنے کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں نقصان پہنچانے والی مصیبت سے اور گمراہ کرنے والے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ ہمیں ایمان کی زینت سے مزین کر دے اور ایسے رہنما بنا دے جو خود بھی ہدایتیافتہ ہوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1823

۔ (۱۸۲۳) عَنْ زَاذَانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ صَلاَۃٍ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: أَوْقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔)) مِائَۃَ مَرَّۃِ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۳۷)
ایک انصاری صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز میں یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر، کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بخشنے والا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سو دفعہ یہ دعا پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1824

۔ (۱۸۲۴) عَنْ أَبِیْ السَّلِیْلِ عَنْ عَجُوْزٍ مِنْ بَنِیْ نُمَیْرٍ أَنَّہَا سَمِعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّیِْ بِالنَّاسِ وَوَجْہُہُ إِلَی الْبَیْتِ، قَالَتْ فَحَفِظَتُ مِنْہُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطَایَایَ وَجَہْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۸۱)
بنو نمیر کی ایک بڑھیا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور آپ کا چہرہ بیت اللہ کی طرف تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ دعا یاد کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطَایَایَ وَجَہْلِیْ۔ (اے میرے رب! میرے لیے میری خطائیں اور میرے جہالت والے امور معاف کردے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1825

۔ (۱۸۲۵) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقِیَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَامُعَاذُ! إِنِّی لَأُحِبُّکَ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَأَنَا وَاللّٰہِ أُحِبُّکَ، قَالَ: ((فَإِنِّیْ أُوْصِیْکَ بِکَلِمَاتٍ تَقُوْلُھُنَّ فِی کُلِّ صَلاَۃٍ: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۷۷)
سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے ملے اور فرمایا: اے معاذ! بلاشبہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے جواباًکہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے چند کلمات کی وصیت کرتا ہوں، تو نے ہر نماز میں ان کو پڑھنا ہے، وہ یہ ہیں: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔)

آیت نمبر