Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

33)

33) سلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونے اور اس کے متعلقات کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1884

۔ (۱۸۸۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرَقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ الرَّجُلُ یُکَلِّمُ صَاحِبَہُ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْحَاجَۃِ فِی الصَّلاَۃِ حَتّٰی نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ {وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} فَأُمِرْنَا بِالسُّکُوْتِ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۹۳)
سیدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں نماز میں اپنے ساتھی سے ضرورت کی کوئی بات کرلیتا تھا، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی {وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} (اور اللہ تعالیٰ کے لیے فرمانبردار ہو کر کھڑے رہا کرو) اس کے بعد ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1885

۔ (۱۸۸۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ یَعْنِی (ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: کُنَّا نُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ فَیَرُدُّ عَلَیْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ سَلَّمْنَا عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْنَا فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَیْکَ فِی الصَّلاَۃِ فَتَرُدُّ عَلَیْنَا، فَقَالَ: ((إِنَّ فِی الصَّلاَۃِ لَشُغْلاً۔)) (مسند احمد: ۳۵۶۳)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کرتے تھے، جب کہ آپ نماز میں ہوتے، اور آپ ہمیں جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نے نجاشی کے پاس سے واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نماز میں آپ کو سلام کہتے تھے توآپ جواب دیتے تھے، (لیکن آج؟) تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1886

۔ (۱۸۸۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا کُنَّا بِمَکَّۃَ قَبْلَ أَنْ نَأْتِیَ أَرْضَ الْحَبَشَۃِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ أَتَیْنَاہُ فَسَلَّمْنَا عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ، فَأَخَذَنِیْ مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ حَتّٰی قَضَوُا الصَّلاَۃَ فَسَأَلْتُہُ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلُّ یُحْدِثُ فِی أَمْرِہِ مَا یَشَائُ وَإِنَّہُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِہِ أَنْ لاَ نَتَکَلَّمَ فِی الصَّلاَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۵۷۵)
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب ہم حبشہ کی طرف جانے سے پہلے مکہ میں ہوتے تھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نماز میں سلام کہتے تھے (اور آپ سلام کا جواب دیتے تھے)، لیکن جب ہم حبشہ کے علاقے سے واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا تو آپ نے جواب نہ، مجھے تو قریب کی اوردور کی وجوہات نے پکڑ لیا (کہ جواب نہ دینے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے، بالآخر) جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے نیا حکم کرتا ہے، اب اس سے نیا حکم یہ دیا ہے کہ ہم نماز میں کلام نہ کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1887

۔ (۱۸۸۷) عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ نُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، فَرَمَانِیَ الْقَوْمُ بِأَبْصَارِھِم فَقُلْتُ: وَاثُکْلَ أُمِّیَاہ! مَاشَأْنُکُمْ تَنْظُرُوْنَ إِلَیَّ؟ قَالَ: فَجَعَلُوْا یَضْرِبُوْنَ بِأَیْدِیْہِمْ عَلٰی أَفْخَاذِھِمْ فَلَمَّا رَأَیْتُہُمْیُصَمِّتُوْنَنِیْ، لٰکِنِّیْ سَکَتُّ، فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبِأَبِیْ ھُوَ وَأُمِّیْ مَا رَأَیْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَہُ وَلاَ بَعْدَہُ أَحْسَنَ تَعْلِیْمًا مِنْہُ، وَاللّٰہِ! مَا کَہَرَنِیْ وَلاَشَتَمَنِیْ وَلاَضَرَبَنِیْ، قَالَ: ((إِنَّ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ لاَ یَصْلُحُ فِیْہَا شَیْئٌ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ ھٰذَا، إِنَّمَا ھِیَ التَّسْبِیْحُ وَالتَّکْبِیْرُ وَقِرَائَ ۃُ الْقُرْآنِ۔)) أَوْکَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّا قَوْمٌ حَدِیْثُ عَہْدٍ بِالْجَاھِلِیَّۃِ وَقَدْ جَائَ اللّٰہُ بِالإِْ سْلاَمِ، وَإِنَّ مِنَّا قَوْمًا یَأْتُوْنَ الْکُہَّانَ۔ قَالَ: ((فَلاَ تَأْتُوْھُمْ۔)) قُلْتُ: إِنَّ مِنَّا قَوْمًا یَتَطَیَّرُوْنَ، قَالَ: ((ذَاکَ شَیْئٌیَجِدُوْنَہُ فِیْ صُدُوْرِھِمْ فَلاَیَصُدَّنَّہُمْ۔)) قُلْتُ: إِنَّ مِنَّا قَوْمًا یَخُطُّوْنَ۔ قَالَ: ((کَانَ نَبِیٌّیَخُطُّ فَمَنْ وَّافَقَ خَطَّہُ فَذٰلِکَ۔)) قَالَ وَکَانَتْ لِیْ جَارِیَۃٌ تَرْعٰی غَنَمًا (فَذَکَرَ قِصَّتَہَا)۔ (مسند احمد: ۲۴۱۶۳)
سیدنامعاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے چھینکا، میں نے اسے یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہا، اس وجہ سے لوگ تو مجھے گھورنے لگ گئے، میں نے ان سے کہا: ہائے میری ماں مجھے گم پائے! تم کو کیا ہو گیا ہے کہ میری طرف دیکھ رہے ہو؟ لوگ تو اپنے ہاتھ رانوں پر مارنے لگے، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کروا رہے ہیں (تو میں نے کچھ کہنا چاہا) لیکن میں خاموش ہوگیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے، پس میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی ایسا استاد نہیں دیکھا ہے جو تعلیم میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اچھا ہو، اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے جھڑکا ، نہ برا بھلا کہا اور نہ مجھے مارا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ یہ نماز ہے، اس میں لوگوں کے کلام سے کوئی چیز بھی درست نہیں ہے، یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قراء تِ قرآن ہے۔ یا جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگوں کا جاہلیت والا زمانہ قریب ہے، اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام عطا کیا ہے، تو ہم میں بعض لوگ کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جاتے ہیں(اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے) ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جایا کرو۔ میں نے کہا: اور ہم میں کچھ لوگ بری فال لیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ اس چیز کو اپنے دلوں میں محسوس تو کر جاتے ہیں، لیکنیہ ان کو کسی کام سے روکنے نہ پائے۔ میں نے کہا: ہم میں بعض لوگ لکیریں کھینچتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک نبی خط کھینچتا تھا، جس کا خط اس کے موافق ہوگیا وہ تو درست ہو گا۔ میں نے کہا: اورمیری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی، ……۔ پھر اس کا واقعہ ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1888

۔ (۱۸۸۸) عَنْ حُصَیْنٍ الْمُزَنِیِّ قَالَ: قَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَی الْمِنْبَرِ: أَیُّہَا النَّاسُ! إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لاَ یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ إِلاَّ الْحَدَثُ، لاَ أَسْتَحْیِیْکُمْ مِمَّا لَایَسْتَحْیِیْ مِنْہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: وَالْحَدَثُ أَنْ یَفْسُوَ أَوْ یَضْرِطَ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۴)
سیدناعلی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منبر پر کہا: لوگو! بلاشبہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: نماز کو حَدَث کے علاوہ کوئی چیز نہیں توڑتی۔ میں اس چیز سے تم سے شرم محسوس نہیں کرتا، جس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہیں شرماتے تھے، حَدَث یہ ہے کہ بندہ پھسکی چھوڑے یا گوز مارے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1889

۔ (۱۸۸۹) عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ھِلاَ لٍ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ الصَّامِتِ عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَقْطَعُ صَلَاۃَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَیَدَیْہِ کَآخِرَۃِ الرَّحْلِ الْمَرْأَۃُ وَالْحِمَارُ وَالْکَلْبُ الْأَ سْوَدُ۔)) قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَ ْسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: اِبْنَ أَخِیْ! سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمَا سَأَلْتَنِیْ، فَقَالَ: ((اَلْکَلْبُ الْأَسْوَدُ شَیْطَانٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۴۹)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نمازی کے سامنے کچاوے کی پچھلی لکڑی (جتنی بلند) کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ عبد اللہ بن صامت نے کہا: سرخ کتے میں سے سیاہ کتے (کو مخصوص کرنے) کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: بھتیجے! جس طرح تو نے مجھ سے سوال کیا، اسی طرح میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1890

۔ (۱۸۹۰) عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَقْطَعُ صَلَاۃَ الْمُسْلِمِ شَیْئٌ إِلاَّ الْحِمَارَ وَالْکَافِرَ وَالْکَلْبَ وَالْمَرْأَۃَ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُیَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْ قُرِنَّا بِدَوَابِّ سُوئٍ ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۵۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کی نماز کو گدھے، کافر، کتے اور عورت کے علاوہ کوئی چیز نہیں توڑتی۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ہمیں تو برے جانوروں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1891

۔ (۱۸۹۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ الْمَرْأَۃُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ الْحَائِضُ) وَالْحِمَارُ وَالْکَلْبُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۴۸)
سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حائضہ عورت، گدھا اور کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1892

۔ (۱۸۹۲) عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ بَلَغَہَا أَنَّ نَاسًا یَقُوْلُوْنَ: إِنَّ الصَّلاَۃَیَقْطَعُہَا الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَۃُ۔۔ قَاَلَتْ: أَلَا أَرَاھُمْ قَدْ عَدَلُوْنَا بِالْکِلَابِ وَالْحُمُرِ رُبَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ وَأَنَا عَلَی السَّرِیْرِ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ فَتَکُوْنُ لِیَ الْحَاجَۃُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ السَّرِیْرِ کَرَاھِیَۃَ أَنْ أَسْتَقْبِلَہُ بِوَجْہِیْ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۵۴)
اسود کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو یہ بات پہنچی کہ لوگ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں تو وہ کہنے لگیں: کیا میں لوگوں کو اس طرح نہیں دیکھ رہی کہ انھوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برا برکردیا ہے، حالانکہ بسا اوقات ایسے ہوتا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی، جب مجھے کوئی ضرورت پڑتی تو چارپائی کی پاؤں والی طرف سے کھسک جاتی، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اپنا چہرہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1893

۔ (۱۸۹۳) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمُوْنَا بِالْکَلْبِ وَالْحِمَارِ، قَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ وَأَنَا مُعْتَرِضَۃٌ بَیْنَیَدَیْہِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَسْجُدَ غَمَزَ یَعْنِیْ رِجْلِیْ فَضَمَمْتُہَا إِلَیَّ ثُمَّ یَسْجُد۔ (مسند احمد: ۲۴۶۷۰)
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: بری بات ہے کہ تم نے ہمیں کتے اور گدھے کے برابر کردیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حالت میں نماز پرھتے ہوئے دیکھا کہ میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب آپ سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تومیری ٹانگ دباتے تھے، پس میں اس کو اپنی طرف کھینچ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1894

۔ (۱۸۹۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوعًا: یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ الْکَلْبُ وَالْمَرْأَۃُ الْحَائِضُ۔ (مسند احمد: ۳۲۴۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتا،اور حائضہ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1895

۔ (۱۸۹۵) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْطَعُ الصَّلَا ۃَ الْمَرْأَۃُ وَالْکَلْبُ وَالْحِمَارُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۰)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت، کتا اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1896

۔ (۱۸۹۶) عَنْ کُریْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَأیٰ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحَارِثِ یُصَلِّیْ وَرَأْسُہُ مَعْقُوْصٌ مِنْ وَرَائِہٖفَقَامَوَرَائَہُوَجَعَلَیَحُلُّہُ وَأَقَرَّ لَہُ الْآخَرُ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَالَکَ وَرَأْسِیْ؟ قَالَ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّمَا مَثَلُ ھٰذَا کَمَثَلِ الَّذِیْیُصَلِّیْ وَھُوَ مَکْتُوْفٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۷)
کریب کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبد اللہ بن حارث کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ ان کے سر کے بال پیچھے سے بندھے ہوئے تھے، وہ ان کے بال کھولنے لگے اور انھوں نے بھی ان کو ایسا کرنے پر برقرار رکھا۔ لیکن وہ (نماز کے بعد) سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر متوجہ ہوئے اور کہا: آپ کو میرے سر کے ساتھ کیا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اس طرح کر کے نماز پڑھتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو اس حال میں نماز ادا کرتا ہے کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1897

۔ (۱۸۹۷) عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُّصَلِّیَ الرَّجُلُ وَشَعْرُہُ مَعْقُوصٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۲۶)
مولائے رسول اللہ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے بال باندھے ہوئے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1898

۔ (۱۸۹۸) عَنْ عَلَیِّ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْمَعَاوِیِّ قَالَ صَلَّیْتُ إِلٰی جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَلَبْتُ الْحَصٰی، فَقَالَ: لاَ تَقْلِبِ الْحَصٰی فَإِنَّہُ مِنَ الشَّیْطَانِ وَلٰکِنْ کَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ، کَانَ یُحَرِّکُہُ ھٰکَذَا، قَالَ أَبُوْ عَبْدِاللّٰہِ یَعْنِی مَسْحَۃً۔ (مسند احمد: ۴۵۷۵)
علی بن عبدالرحمن معاوی کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی اور نماز میں کنکریوں کو الٹ پلٹ کیا، انہوں نے کہا: کنکریوںکو الٹ پلٹ نہ کرو، کیونکہ ایسا کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح حرکت دے لیتے تھے۔ امام ابو عبد اللہ احمد نے کہا: یعنی ایک دفعہ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1899

۔ (۱۸۹۹) عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ إِلَی الصَّلاَۃِ فَإِنَّ الرَّحَمْۃَ تُوَاجِہُہُ فَلاَ یَمْسَحِ الْحَصٰی (وَفِیْ رِوَایَۃ)ٍ فَلاَ یُحَرِّکِ الْحَصٰی، أَوْ لَا یَمَسََّ الْحَصٰی۔ (مسند احمد: ۲۱۶۵۶)
سیدناابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں کو صاف نہ کرے یا ان کو حرکت نہ دے یا ان کو نہ چھوئے، کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1900

۔ (۱۹۰۰) عَنْ جَاِبرِ بْنِِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ مَسْحِ الْحَصٰی فَقَالَ: ((وَاحِدَۃً، وَلَئِنْ تُمْسِکْ عَنْہَا خَیْرٌ لَّکَ مِنْ مِائَۃِ بَدَنَۃٍ کُلُّہَا سُوْدُ الْحَدَقَۃِ (زَادَفِیْ رِوَایَۃٍ) فَاِنْ غَلَبَ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ فَلْیَمْسَحْ مَسْحَۃً وَاحِدَۃً)) (مسند احمد: ۱۴۲۵۳)
سیدناجابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کنکریوں کو چھونے کے بارے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ کر لو، اور اگر اس سے بھی رک جاؤ تو یہ تمہارے لیے سیاہ آنکھوں والے سو اونٹوں سے بہتر ہے اور اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آ جائے تو وہ ایک دفعہ صاف کر لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1901

۔ (۱۹۰۱) عَنْ مُعَیْقِیْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قِیْلَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْحُ فِی الْمَسْجِدِ یَعْنِی الْحَصٰی فَقَالَ: ((إِنْ کُنْتَ لاَبُدَّ فَاعِلاً فَوَا حِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۰۹)
سیدنا معیقیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ سجدہ گاہ میں کنکریوں کو چھونا کیسا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرضروری کرنا ہی ہو تو ایک دفعہ کر لیا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1902

۔ (۱۹۰۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الرَّجُلِ یُسَوِّی التُّرَابَ حَیْثُیَسْجُدُ قَالَ: ((إِنْ کُنْتَ فَاعِلاً فَوَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۱۱)
۔ (دوسری سند) جو آدمی سجدے والی جگہ سے مٹی صاف کرتا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اگر تو نے کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کر لیا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1903

۔ (۱۹۰۳) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَاریِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فَآخُذُ قَبْضَۃً مِنْ حَصًی فِیْ کَفِّیْ لِتَبْرُدَ حَتّٰی أَسْجُدَ عَلَیْہِ مِنْ شِدَّۃِ الْحَرِّ (وَفِیْرِوَایَۃٍ) فَأَجْعَلُہَا فِییَدِیَ الْأُخْرٰی حَتّٰی تَبْرُدَ مِنْ شَدَِّۃِ الْحَرِّ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۶۱)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے میں مٹھی بھر کنکریاں اپنی ہتھیلی میں پکڑ لیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہو جائیں اور پھر میں ان پر سجدہ کر سکوں۔ایک روایت میں ہے: گرمی کی شدت کی وجہ سے میں ان کو دو سر ے ہاتھ میں کرلیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1904

۔ (۱۹۰۴) عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَدَخَلَ عَلَیْہَا ابْنُ أَخٍ لَھَا فَصَلّٰی فِی بَیْتِھَا رَکْعَتَیْنِ، فَلَمَّا سَجَدَ نَفَخَ التُّرَابَ، فَقَالَتْ لَہُ أُمُّ سَلَمَۃَ: اِبْنَ أَخِیْ! لاَ تَنْفُخْ، فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لِغُلَامٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ یَسَارٌ وَنَفَخَ: ((تَرِّبْ وَجْہَکَ لِلّٰہِ)) (مسند احمد: ۲۷۱۰۷)
ابو صالح کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا تھا، اس نے ان کے گھر میں دو رکعت نماز پڑھی، جب اس نے سجدہ کیا تو مٹی کو پھونک ماری، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اسے کہا: بھتیجے! پھونک نہ مار، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے یسارنامی غلام نے پھونک ماری اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اللہ کے لئے اپنے چہرے کو مٹی لگنے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1905

۔ (۱۹۰۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَصِفُ صَلَاۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُسُوْفِ الشَّمْسِ قَالَ …… وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِیْ الْأَرْضِ وَیَبْکِیْ وَھُوَ سَاجِدٌ فِیْ الرَّکْعَۃِ الثَّانِیْۃِ وَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔)) فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، الحدیث۔ (مسند احمد: ۶۴۸۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے کہا: … … پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت میں سجدے کی حالت میں زمین پر پھونک مارنا ، رونا اور یہ کہنا شروع کر دیا: رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔ (اے میرے ربّ! تو ان کو کیوں عذاب دیتا ہے، جب کہ میں ان میں موجود ہوں، تو ہمیں کیوں عذاب دیتا ہے، جبکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں)۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا تو سورج صاف ہو چکا تھا، …۔ الحدیث
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1906

۔ (۱۹۰۶) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَوْصَانِیْ خَلِیْلِیْ بِثَلاَثٍ وَنَہَانِیْ عَنْ ثَلاَثٍ، أَوْصَانِیْ بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِیَامِ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، وَرَکْعَتَیْ الضُّحٰی۔ قَالَ: وَنَہَانِیْ عَنِ الإِْلْتِفَاتِ وَإِقْعَائٍ کَإِقْعَاِء الْقِرْدِ، وَنَقْرٍ کَنَقْرِالدِّیْکِ۔ (مسند احمد: ۷۵۸۵)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین چیزوں سے منع فرمایا، مجھے (حکم دیتے ہوئے) یہ وصیت فرمائی کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں، ہر ماہ میں تین روزے رکھوں اور چاشت کی دو رکعت پڑھا کروں۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (نماز میں) اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، بندر کے بیٹھنے کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے منع کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1907

۔ (۱۹۰۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ’ وَفِیْہِ وَنَہَانِیْ عَنْ نَقْرَۃٍ کَنَقْرَۃِ الدِّیْکِ، وَإِقْعَائٍ کَإِقْعَائِ الْکَلْبِ وَالْتِفَاتٍ کَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ۔ (مسند احمد: ۸۰۹۱)
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اور آپ نے مجھے مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے،کتے کی طرح بیٹھنے سے اور لومڑ کی طرح جھانکنے سے منع فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1908

۔ (۱۹۰۸) عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ: ((اَلضَّاحِکُ فِی الصَّلاَۃِ وَالْمُلْتَفِتُ وَالْمُفَقِّعُ أَصَابِعَہُ بِمَنْزِلَۃٍ وَاحِدۃٍ)) (مسند احمد: ۱۵۷۰۶)
سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا نماز میں ہنسنے والا،جھانکنے والا اور اپنی انگلیوں کے پٹاخے نکالنے والا ایک درجہ کے لوگ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1909

۔ (۱۹۰۹) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَزَالُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلاً عَلَی الْعَبْدِ فِیْ صَلاَتِہِ مَا لَمْ یَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْہَہُ اِنْصَرَفَ عَنْہُ)) (مسند احمد: ۲۱۸۴۰)
سیدناابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی نماز کی طرف متوجہ رہتے ہیں، جب تک وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، پس جب وہ چہرہ پھیرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پھر جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1910

۔ (۱۹۱۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّلَفُّتِ فِی الصَّلاَۃِ فَقَالَ: ((اِخْتِلاَسٌ یَخْتَلِسُہُ الشَّیْطَانُ مِنْ صَلاَۃِ الْعَبْدِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۱۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز میں جھانکنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ تواچکنا ہے، جسے شیطان بندے کی نماز سے اچک لیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1911

۔ (۱۹۱۱) عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ! إِیَّاکُمْ وَالإِْلْتِفَاتَ فَإِنَّہُ لاَصَلاَۃَ لِلْمُلْتَفِتِ، فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِی التَّطَوُّعِ فَلاَ تُغْلَبُنَّ فِی الْفَرَائِضِ)) (مسند احمد: ۲۸۰۴۵)
سیدناابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اے لوگو! التفات سے بچو، کیونکہ التفات کرنے والے کی کوئی نماز نہیں ہے، اگر تم نفلی نماز میں مغلوب ہوجاؤ (تو دیکھ لیا کرو) بہرحال فرائض میں ہرگز مغلوب نہ ہونا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1912

۔ (۱۹۱۲) عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّکْتُ بَیْنَ أَصَابِعِیْ، فَقَالَ لِیْ: ((یَاکَعْبُ! إِذَا کُنْتَ فِی الْمَسْجِدِ فَلاَ تُشَبِّکْ بَیْنَ أَصَابِعِکَ فَأَنْتَ فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتَ الصَّلاَۃَ)) (مسند احمد: ۱۸۳۱۰)
سیدناکعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ پر مسجد میں داخل ہوئے جبکہ میں نے اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک کی ہوئی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کعب! جب تو مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ ڈالا کر، کیونکہ جب تک تو نماز کی انتظار میں رہے گا، نماز میں ہی ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1913

۔ (۱۹۱۳) عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ یَتَطَہَّرُ رَجُلٌ فِیْ بَیْتِہِ ثُمَّ یَخْرُجُ لاَ یُرِیْدُ إِلاَّ الصَّلاَۃَ إِلاَّ کَانَ فِی صَلاَۃٍ حَتّٰییَقْضِیَ صَلاَتَہُ، وَلاَ یُخَالِفْ أَحَدُکُمْ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدَیْہِ فِی الصَّلاَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۹۲)
سیدناکعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی گھر میں وضو کر کے صرف نماز کے لیے (مسجد کی طرف) نکلتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، جب تک نماز پوری نہیں کر لیتا، اور تم سے کوئی نماز میں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان مخالفت نہ کرے (یعنی تشبیک نہ ڈالے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1914

۔ (۱۹۱۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَابَالُ أَقْوَامٍ یَرْفَعُوْنَ أَبْصَارَھُمْ إِلَی السَّمَائِ فِیْ صَلاَتِہِمْ؟!)) وَاشْتَدَّ قَوْلُہُ فِیْ ذٰلِکَ حَتّٰی قَالَ: ((لَیَنْتَہُنَّ عَنْ ذٰلِکَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۸۸)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ پھر اس کے متعلق آپ نے بڑی سختی کرتے ہوئے فرمایا: یہ لوگ یا تو ایساکرنے سے ضرور بازآجائیں گے یاان کی نظریں اچک لی جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1915

۔ (۱۹۱۵) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ ۔ (مسند احمد: ۸۳۸۹)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1916

۔ (۱۹۱۶) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُوْدٍ أنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُ کُمْ فِیْ صَلاَتِہِ فَلاَ یَرْفَعْ بَصَرَہُ إِلَی السَّمَائِ أَنْیُلْتَمَعَ بَصَرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۳۷)
ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں ہو تو وہ اپنی نظر آسمان کی طرف نہ اٹھائے،کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر اچک لی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1917

۔ (۱۹۱۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَمَا یَخْشٰی أَحَدُکُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ أَنْ لاَ یَرْجِعَ إِلَیْہِ بَصَرُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۲۶)
سیدناجابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنا سر اٹھاتا ہے تو کیا وہ اس سے نہیں ڈرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی نگاہی واپس نہ لوٹے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1918

۔ (۱۹۱۸) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَھُمْ حِلَقٌ فَقَالَ مَالِیْ أَرَاکُمْ عِزِیْنَ وَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَقَدْ رَفَعُوْا أَیْدِیَہُمْ فَقَالَ قَدْ رَفَعُوْھَا کَأَنَّہَا أَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ اسْکُنُوْا فِی الصَّلاَۃِ ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۴۰)
سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور لوگ مختلف حلقوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم کو ٹولیوں کی صورت میں دیکھ رہا ہو؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگوں نے (نماز میں) سرکش گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز میں سکون اختیار کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1919

۔ (۱۹۱۹) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی فِیْ الصَّلاَۃِ عَنْ ثَلاَثٍ، نَقْرِالْغُرَابِ، وَاِفْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ یُّوْطِنَ الرَّجُلُ الْمُقَامَ الْوَاحِدَ کَإِ یْطَانِ الْبَعِیْرِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۱۸)
سیدناعبدالرحمن بن شبل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں تین چیزوں سے منع کیا ہے: کوّے کے ٹھونگے سے، درندے کی طرح (ہاتھوںکو) بچھانے سے اور اس سے کہ آدمی اونٹ کی طرح (مسجد میں) ایک جگہ مقرر کرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1920

۔ (۱۹۲۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَان) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْھٰی عَنْ ثَلاَثٍ، عَنْ نَقْرَۃِ الْغُرَابِ، وَعَنْ اِفْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَأَنْ یُّوْطِنَ الرَّجُلُ مَقَامَہُ فِی الصَّلاَۃِ کَمَا یُوطِنُ الْبَعِیْرُ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۱۷)
۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان تین چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا: کوے کے ٹھونگے سے،درندے کی طرح بازو بچھانے سے اور اس سے کہ آدمی نماز کے لیےیوں جگہ مقرر کر لے، جیسے اونٹ کرتا ہے۔ نماز میں اپنے کھڑے ہونے کی جگہ مقرر کرلے جیسے اونٹ مقرر کرتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1921

۔ (۱۹۲۱) عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِیْ أَبِیْ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ حَجَّ فَکَانَ یُصَلِّیِْ بِأَصْحَابِہِ یُؤَذِّنُ وَیُقِیْمُ، فَأَقَامَ یَوْمًا الصَّلاَۃَ وَقَالَ: لَیُصَلِّ أَحَدُکُمْ، فَإِنِیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یَذْھَبَ إِلَی الْخَلَاء وَأُقِیْمَتِ الصَّلاَۃُ فَلْیَذْھَبْ إِلَی الْخُلاَئِ)) (مسند احمد: ۱۶۰۵۵)
عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج کیا، وہ (اس سفر کے دوران) اذان دیتے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے، ایک دن وہ نماز تو کھڑی کرنے لگے، لیکن اتنے میں کہا: تم میں سے کوئی بندہ نماز پڑھا دے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں کسی کا قضائے حاجت کے لیے جانے کا ارادہ ہو اور نماز بھی کھڑی کر دی جائے تو وہ پہلے قضائے حاجت کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1922

۔ (۱۹۲۲) عَنْ أَبِیْ أَمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَایأْتِ أَحَدُکُمُ الصَّلَاۃَ وَھُوَ حَاقِنٌ وَلاَ یَدْ خُلْ بَیْتًا إِلاَّ بِإِذْنٍ، وَلاَ یَؤُمَّنَّ إِمَامٌ قَوْمًا فَیَخُصَّ نَفْسَہُ بِدَعْوَۃٍ دُوْنَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۰۴)
سیدناابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم سے کوئی آدمی اس حالت میں نماز کی طرف نہ آئے کہ وہ پاخانہ یا پیشاب روکنے والا ہو اور کسی گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہوا جائے اور کوئی امام کسی قوم کی اس طرح امامت نہ کرائے کہ ان کو چھوڑ کر دعا میں اپنے نفس کو خاص کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1923

۔ (۱۹۲۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لاَ یُصَلَّی بِحَضْرَۃِ الطَّعَامِ وَلاََ ھُوَ یُدَافِعُہُ الْأَخَبْثَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۶۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھانے کی موجودگی میں نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس وقت جب دو خبیث چیزیں مدافعت کر رہی ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1924

۔ (۱۹۲۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ھِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِیْ أَبِیْ أَخْبَرَتْنِیِْ عَائِشَۃُ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا وُضِعَ الْعَشَائُ وَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَابْدَئُ وْا بِالْعَشَائِ، وَقَالَ وَکِیْعٌ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ وَالْعَشَائُ، وَقَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ إِذَا وُضِعَ العَشَائُ)) (مسند احمد: ۲۶۱۳۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو کھانے سے ابتدا کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1925

۔ (۱۹۲۵) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ فِی الصَّلاَۃِ فَلْیَرْقُدْ حَتّٰییَذْھَبَ عَنْہُ النَّوْمُ، فَإِنَّہُ إِذَا صَلّٰی وَھُوَ یَنْعَسُ لَعَلَّہُ یَذْھَبُیَسْتَغْفِرُ فَیَسُبُّ نَفْسَہُ)) (مسند احمد: ۲۴۷۹۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے، یہاں تک نیند کا اثر ختم ہو جائے، کیونکہ جب وہ اسی اونگھنے والی حالت میں نماز پڑھے گا تو ممکن ہے کہ وہ (بزعم خود) بخشش طلب کر رہا ہو، جبکہ وہ اپنے آپ کو گالیاں دے رہا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1926

۔ (۱۹۲۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ وَھُوَ یُصَلِّیْ فَلْیَنْصَرِفْ فَلْیَنَمْ حتّٰییَعْلَمَ مَا یَقُوْلُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۴۸)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میںسے کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو وہ نماز چھوڑکر سوجائے حتیٰ کہ وہ اپنے کہے ہوئے کلمات کو سمجھنے لگ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1927

۔ (۱۹۲۷) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ لِبْسَتَیْنِ وَعَنْ بَیْعَتَیْنِ، أَمَّا الْبَیْعَتَانِ الْمُلاَمَسَۃُ وَالْمُنَابَذَۃُ، وَاللِّبْسَتَانِ اشْتِمَالُ الصَّمَّائِ وَالْاِحْتِبَائُ فِیْ ثَوْبٍ وَّاحِدٍ لَیْسَ عَلٰی فَرْجِہِ مِنْہُ شَیْئٌ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۳۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوقسم کے لباسوں اور دو قسم کے سودوں سے منع کیا، دو سودے ملامسہ اور منابذہ ہیں اور دو لباس یہ ہیں: گونگی بکل اور ایک کپڑے میں اس طرح گوٹھ مارنا کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1928

۔ (۱۹۲۸) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ السَّدْلِ یَعْنِیْ فِی الصَّلاَۃِ ۔ (مسند احمد: ۸۴۷۷)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں سدل سے منع کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1929

۔ (۱۹۲۹) عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: بَیْنَمَا رَجُلٌ یُصَلِّیْ وَھُوَ مُسْبِلٌ إزَارَہُ إِذْ قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذْھَبْ فَتَوَضَّأْ۔)) قَالَ: فَذَھَبَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذْھَبْ فَتَوَضَّأْ۔)) قَالَ: فَذَھَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: مَالَکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَالَکَ أَمَرْتَہُ یَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَکَتَّ؟ قَالَ: ((إِنَّہُ کَانَ یُصَلِّی وَھُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَہُ وَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لاَ یَقْبَلُ صَلاَۃَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۴۵)
ایک صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ اس کا تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹک رہا تھا، اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: جا اور وضو کر۔ پس وہ چلا گیا اور وضو کر کے آ گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: جا اور وضو کر۔ پھر وہ چلا گیا اور وضو کر کے آ گیا، اتنے میں ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے اسے حکم دیا، وہ وضو کرکے آیا اور پھر آپ خاموش رہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اس حال میں نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کا ازار لٹکا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والے آدمی کی نماز قبول نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1930

۔ (۱۹۳۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِیْ خَمِیْصَۃ لَھَا أَعْلاَمٌ، فَلَمَّا قَضٰی صَلاَتَہُ قَالَ: ((شَغَلَنِیْ أَعْلاَمُہَا، اِذْھَبُوْا بِہَا إِلٰی أَبِیْ جَہْمٍ وَأْئْتُوْنِیْ بِأَنْبِجَانِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۸۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک نقش و نگار والی چادر میں نماز پڑھی، جب آپ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا: اس کے نقش و نگار تو مجھے مشغول کرنے لگے تھے، اس لیے اس کو ابو جہم کی طرف لے جاؤ اور میرے پاس انبجانیہ کپڑا لے آؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1931

۔ (۱۹۳۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَانَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَمِیْصَۃٌ فَأَعْطَاھَا أَبَا جَہْمٍ وَأَخَذَ أَنْبِجَانِیَّۃً لَہُ، فَقَالُوا: یَارَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ الْخَمِیْصَۃَ ھِیَ خَیْرٌ مِنَ الْأَنْبِجَانِیَّۃِ، قَالَتْ: فَقَالَ: ((إِنِّی کُنْتُ أَنْظُرُ إِلٰی عَلَمِہَا فِی الصَّلَاۃ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۹۴)
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نقش و نگار والی چادر تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ ابو جہم کودے دی اور اس سے انبجانیہ چادر لے لی، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ نقش و نگار والی چادر سادہ چادر سے بہتر تھی، (آپ نے وہ واپس کیوں کر دی؟) آپ نے فرمایا: بلاشبہ میں نماز میں اس کے نقش کی طرف دیکھتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1932

۔ (۱۹۳۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا ھَمَّامٌ قَالَ ثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَرِہَ الصَّلَاۃَ فِی مَلاَحِفِ النِّسَاء قَالَ قَتَادَۃُ وَحَدَّثَنِیْ إِمَّا قَالَ کَثِیْرٌ وإِمَّا قَالَ عَبْدُ رَبِّہِ شَکَّ ھَمَّامٌ عَنْ أَبْو عِیَاضٍ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی وَعَلَیْہِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ لِعَائِشَۃَ عَلَیْھَا بَعْضُہُ وَعَلَیْہِ بَعْضُہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۶۶)
ابن سیرین کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنا ناپسند فرمایا۔ ابو عیاض کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ آپ پر عائشہ کی ایک اونی چادر تھی، کچھ حصہ عائشہ پر اور کچھ آپ پر تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1933

۔ (۱۹۳۳) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی نُخَامَۃً فِی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَحَکَّہَا أَوْ قَالَ فَحَتَّھَا بِیَدِہِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَتَغَیَّظَ عَلَیْھِمْ وَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْہِ أَحَدِ کُمْ فِی صَلاَتِہ فَلاَ یتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ قِبَلَ وَجْہِہِ فِی صَلاَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۵۰۹)
سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد کی قبلہ والی سمت میں کھنکار دیکھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اٹھ کر اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، ان پر غصے کا اظہار کیا اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نماز میں تمہارے چہرے کے سامنے ہوتا ہے، اس لیے کوئی آدمی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے کی طرف نہ تھوکا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1934

۔ (۱۹۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ابْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ سَعِیْدٍ وَابْنِ جَعْفَرٍثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فِی الصَّلاَۃِ فَإِنَّہُ مُنَاجٍ رَبَّہُ فَلاَیَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ عَنْ یَمِیْنِہِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَلاَ یَتْفُلْ أَمَامَہُ وَلَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَلٰکِنْ عَنْ یَسَارِہِ أَوْتَحْتَ قَدَمَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میںسے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کررہا ہوتا ہے، اس لیے تم میںسے کوئی بھی اپنے آگے اور اپنی دائیں جانب نہ تھوکا کرے، البتہ اپنی بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1935

۔ (۱۹۳۵) عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَآی نُخَامَۃً فِی الْقِبْلَۃِ قَالَ: یَقُوْلُ مَرَّۃً: فَحَتَّہَا قَالَ: ثُمَّ قَالَ: قُمْتُ فَحَتَّیْتُہَا ثُمَّ قَالَ: ((أَیُحِبُّ أَحَدُ کُمْ إِذَا کَانَ فِی صَلَاتِہِ أَنْ یُتَنَخَّعَ فِی وَجْہِہِ أَوْ یُبْزَقََ فِیْ وَجْہِہِ؟ إِذَا کَانَ أَحَدُ کُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلاَ یَبْزُقَنَّ بَیْنَیَدَیْہِ وَلاَ عَنْ یَمِیْنِہِ، وَلٰکِنْ عَنْ یَسَارِہِ تَحْتَ قَدَمِہِ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ قَالَ بِثَوْبِہِ ھٰکَذَا۔)) (مسند احمد: ۹۳۵۵)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبلہ کی جانب ایک کھنکار دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھرچ دیا (ایک روایت کے مطابق ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور اسے میں نے کھرچا) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ نماز میں ہو تو اس کے چہرے پر کھنکار پھینک دیا جائے یا تھوک دیا جائے؟ جب تم سے کوئی آدمی نماز میں ہو تو وہ ہر گز اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکا کرے، البتہ بائیں جانب قدم کے نیچے تھوک لیا کرے، اگر وہ (جگہ) نہ پائے تو اپنے کپڑے میں تھوک لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1936

۔ (۱۹۳۶) عَنْ زِیَادِ بْنِ صُبَیْحٍ الْحَنَفِیِّ قَالَ: کُنْتُ قَائِمًا أُصَلِّیْ إِلَی الْبَیْتِ وَشَیْخٌ إِلٰی جَانِبِیْ فَأَطَلْتُ الصَّلاَۃَ فَوَضَعْتُ یَدِیْ عَلٰی خَصْرِیْ، فَضَرَبَ الشَّیْخُ صَدْرِیْ بِیَدِہِ ضَرْبَۃً لَایَأْلُوْ، فَقُلْتُ فِی نَفْسِیْ: مَارَابَہُ مِنِّیْ، فَأَسْرَعْتُ الإِْنْصِرَافَ، فَإِذَا غُلاَمٌ خَلْفَہُ قَاعِدٌ، فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الشَّیْخُ؟ فَقَالَ: ھَذَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، فَجَلَسْتُ حَتَّی انْصَرَفَ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مَا رَابَکَ مِنِّیْ؟ قَالَ: أَنْتَ ھُوَ؟ قُلْتُ: نَعْمَ، قَالَ: ذَاکَ الصَّلْبُ فِیْ الصَّلاَۃِ، کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْھٰی عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۴۸۴۹)
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں: میں بیت اللہ کی طرف نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ میری ایک جانب ایک بزرگ آدمی تھا، میں نے نماز کو لمبا کیا، اس لیے اپنا ہاتھ کوکھ پر رکھ لیا، لیکن اس شیخ نے اپنے ہاتھ سے میرے سینے پر بڑی لاپرواہی سے ضرب لگائی، میں نے اپنے دل میںکہا: اس کو میرے بارے میں کیا شک ہوا ہے، بہرحال میں جلدی جلدی نماز سے فارغ ہوا اور دیکھا کہ ایک لڑکا اُس کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے اسے پوچھا: یہ بزرگ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، پس میں بیٹھا رہا، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے، میں نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ کو میرے بارے میں کیا گمان ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: تم وہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: نماز میں یہ تو سولی پر لٹکنا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے منع کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1937

۔ (۱۹۳۷) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ھَارُوْنَ عَنْ ھِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نُھِیَ عَنْ الْإِخْتِصَارِفِی الصَّلاَۃِ، قَالَ: قُلْنَا لِھِشَامٍ: مَا الإِْخْتِصَارُ؟ قَالَ: یَضَعُیَدَہُ عَلٰی خَصْرِہِ وَھُوَ یُصَلِّیْ، قَالَ یَزِیْدُ: قُلْنَا لِھِشَامٍ: ذَ کَرَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ بِرَأْسِہِ: نَعَمْ ۔ (مسند احمد: ۷۸۸۴)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نماز میں اختصار سے منع کیا گیا ہے۔ راوی نے کہا: ہم نے ہشام سے پوچھا: اختصار کیاہے؟ انہوں نے کہا: بندے کا کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا۔ یزید نے کہا: ہم نے ہشام سے پوچھا کہ انہوں نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی تھی؟ انہوں نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے ہاں میں جواب دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1938

۔ (۱۹۳۸) عَنْ جَابِرٍ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ مُنْطَلِقٌ إِلٰی بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَأَتَیْتُہُ وَھُوَ یُصَلِّیْ عَلٰی بَعِیْرِہ فَکَلَّمْتُہُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھٰکَذَا، ثُمَّ کَلَّمْتُہُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھَکَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُہُ یَقْرَأُ وَیُومِیئُ بِرَأْسِہِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((مَا فَعَلْتَ فِی الَّذِی أَرْسَلْتُکَ؟ فَإِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی إِلاَّ أَنِّی کُنْتُ أُصَلِّیْ۔)) (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) وَھُوَ مُوَجِّہٌ حِیْنَئِذٍ إِلَی الْمَشْرِقِ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۹۷)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (کسی کے لئے کام) بھیجا، جبکہ آپ خود بنو مصطلق کی طرف جارہے تھے، جب میں آپ کے پاس واپس آیا جبکہ آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے اسی حالت میں آپ سے بات کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں نے پھر بات کرنا چاہی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا، جبکہ میں سن رہا تھا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلاوت کررہے تھے اور سر سے اشارہ کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: جس کام کیلئے میں نے تجھے بھیجا تھا، اس کا کیا بنا؟ مجھے بولنے سے روکنے والی چیز صرف یہ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مشرق کی طرف متوجہ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1939

۔ (۱۹۳۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْفَجْرِ فَجَعَلَ یَہْوِی بِیَدِہِ قَالَ خَلَفٌ یَہْوِی فِی الصَّلاَۃِ قُدَّامَہُ، فَسَأَلَہُ الْقَوْمُ حِیْنَ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّیْطَانَ ھُوَ کَانَ یُلْقِیْ عَلَیَّ شَرَرَ النَّارِ لِیَفْتِنَنِی عَنْ صَلاَۃٍ، فَتَنَاوَلْتُہُ فَلَوْ أَخَذْتُہُ مَا انْفَلَتَ مِنِّیْ حَتّٰییُنَاطَ إِلٰی سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یَنْظُرُ إِلَیْہِ وِلْدَانُ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۱۲)
سیدناجابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، (عبدالرزاق اور خلف دونوں راویوں کے الفاظ کا اکٹھا مفہوم یہ ہے کہ) آپ نماز میں ہی اپنے سامنے اپنا ہاتھ جھکانے لگ گئے یا خود جھکنے لگ گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں نے ایسا کرنے کے بارے میںپوچھا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ شیطان مجھ پر آگ کی چنگاریاں ڈال رہا تھا تاکہ مجھے میری نماز سے فتنے میں ڈال دے تو مجھے اسے پکڑنے کا خیال آیا اور اگر میں اسے پکڑ لیتا تو وہ مجھ سے نہ چھوٹ پاتا اور اسے مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور اہل مدینہکے بچے اس کی طرف دیکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1940

۔ (۱۹۴۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صُہَیْبٍ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَضِیَ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّی فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ إِلَیَّ إِشَارَۃً وَقَالَ: لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ إِشَارَۃً بِإِصْبَعِہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۳۹)
سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صہیب نامی صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا تو آپ نے اشارہ کر کے مجھ پر (سلام کا جواب) لوٹایا، راوی کہتا ہے: میں تو نہیں جانتا مگر یہی بات کہ انھوں نے انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کی بات کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1941

۔ (۱۹۴۱) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قُلْتُ لِبِلاَلٍ: کَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرُدُّ عَلَیْہِمْ حِیْنَ کَانُوا یُسَلِّمُونَ فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ: کَانَ یُشِیْرُ بِیَدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۸۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ لوگ جب نماز میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہتے تھے تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1942

۔ (۱۹۴۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُشِیْرُ فِی الصَّلاَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۳۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں اشارہ کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1943

۔ (۱۹۴۳) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ کَیْسَانَ اِسْتَأْذَنْتُ عَلٰی سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ وَھُوَ یُصَلِّیْ فَسَبَّحَ لِیْ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا کَانَ فِی الصَّلَاۃِیُسَبِّحُ وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَۃِ أَنْ تُصَفِّقَ۔ (مسند احمد: ۷۸۸۰)
یزید بن کیسان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سالم بن ابو جعد سے اجازت طلب کی جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے مجھے (جواباً)سبحان اللہ کہا، پھر جب سلام پھیرا تو کہا: جب مردنماز پڑھ رہا ہو تو اس کا اجازت دینایہ ہے کہ وہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے اور عورت تالی بجائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1944

۔ (۱۹۴۴) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ آتِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْتَأْذِنُ فَاِنْ کَانَ فِیْ صَلاَۃٍ سَبَّحَ، وَإِنْ کَانَ فِیْ غَیْرِ صَلاَۃٍ أَذِنَ لِیْ۔ (مسند احمد: ۵۹۸)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا کرتا تھا، پس جب میں اجازت مانگتا اور آپ نماز میں ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے اور اگر نماز میںنہ ہوتے تو مجھے اجازت دے دیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1945

۔ (۱۹۴۵) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا أَنْسَانِیَ الشَّیْطَانُ شَیْئًا مِنْ صَلَاتِیْ فَلْیُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْیُصَفِّقِ النِّسَائُ)) (مسند احمد: ۱۴۷۰۸)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شیطان نماز سے کوئی چیز مجھے بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیںاور عورتیں تالی بجائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1946

۔ (۱۹۴۶) عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ نَابَہُ شَیْئٌ فِیْ صَلَاتِہِ فَلْیَقْلْ سُبْحَانَ اللّٰہِ،إِنَّمَا التَّصْفِیْقُ لِلنِّسَائِ وَالتَّسْبِیْحُ لِلرِّجَالِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۸۷)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے نماز میںکوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ سبحان اللہ کہے، تالی بجانا عورتوںکے لیے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1947

۔ (۱۹۴۷) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلتَّسْبِیْحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِیْقُ لِلنِّسَائِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۷۹)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1948

۔ (۱۹۴۸) عَنْ مُطَرِّفِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْتَھَیْتُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّی وَلِصَدْرِہِ أَزِیْزٌ کَأَ زِیْزِ الْمِرْجَلِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) مِنَ الْبُکَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۲۱)
سیدنا عبداللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس حال میں پہنچا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ہنڈیا کے ابلنے کی طرح آواز آ رہی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1949

۔ (۱۹۴۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِیْ حَدِیْثِ مَرْضِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِیْ تُوُفِّیَ فِیْہِ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مُرُوْا أَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَابَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیْقٌ لاَ یَمْلِکُ دَمْعَہُ، وَإِنَّہُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَکٰی، قَالَتْ: مَا قُلْتُ ذٰلِکَ إِلاَّ کَرَاھِیَۃَ أَنَّ یَتَاثَّمَ النَّاسُ بِأَبِیْ بَکْرٍ أَنْ یَّکُوْنَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) فَرَاجَعْتُہُ، فَقَالَ: ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ، إِنَّکُنَّ صَوَاحِِبُ یُوسُفَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۶۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بیماری کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہو گئے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر کو حکم کرو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ابو بکرنرم دل آدمی ہیں، اپنے آنسوؤں پر قابو نہیںپا سکتے، اس لیے جب وہ قرآن پڑھیں گے تو رو پڑیں گے۔ میں نے یہ بات صرف اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہی تھی کہ لوگ گناہ میں پڑ جائیں گے کہ ابو بکر سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں۔لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ میں نے تکرار کرتے ہوئے پھر وہی بات کہی، لیکن اس بار آپ نے فرمایا: ابو بکرکو حکم دوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں،یقینا تم حضرت یوسف علیہ السلام کی صواحب کی طرح ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1950

۔ (۱۹۵۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَیْنِ فِی الصَّلَاۃِ، اَلْعَقْرَبِ وَالْحَیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۷۳۷۳)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سیاہ چیزوںیعنی بچھو اور اور سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1951

۔ (۱۹۵۱) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِی الْبَیْتِ وَالْبَابُ عَلَیْہِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَمَشٰی حَتّٰی فَتَحَ لِیْ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی مَقَامِہِ، وَوَصَفَتْ أَنَّ الْبَابَ فِی الْقِبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، پھر جب میں آتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (آگے) چلتے اور میرے لیے دروازہ کھول کر اپنے مقام پر واپس آ جاتے تھے۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ وہ دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1952

۔ (۱۹۵۲) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: اِسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمٌ یُصَلِّی فَمَشٰی فِی الْقِبْلَۃِ إِمَّا عَنْ یَمِیْنِہِ وَاِمَّا عَنْ یَسَارِہٖ حَتَّی فَتَحَ لِیْ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مُصَلاَّہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۹۹)
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے دروازے پر دستک دی، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، پس آپ دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے قبلہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ میرے لیے دروازہ کھول دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی جائے نماز پر لوٹ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1953

۔ (۱۹۵۳) عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: کَانَ أَبُوْبَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بَالْأَھْوَازِ عَلٰی حَرْفِ نَہْرٍ وَقَدْ جَعَلَ اللِّجَامَ فِیْیَدِہِ وَجَعَلَ یُصَلِّیْ، فَجَعَلَتِ الدَّابَّۃُ تَنْکُصُ وَجَعَلَ یَتَأَخَّرُ مَعَھَا، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ یَقُولُ: اَللّٰہُمَّ اخْزِ ھٰذَا الشَّیْخَ کَیْفَیُصَلِّیْ؟ قَالَ: فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَکُمْ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِتًّا أَوْسَبْعًا أَوْثَمَا نِیًا فَشَہِدْتُّ أَمْرَہُ وَتَیْسِیْرَہُ، فَکَانَ رُجُوْعِیْ مَعَ دَابَّتِی أَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ تَرْکِھَا فَتَنْزِعُ إِلٰی مَأْلَفِہَا فَیَشُقُّ عَلَیَّ، وَصَلّٰی أَبُو بَرْزَۃَ الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۰۸)
ازرق بن قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اہواز مقام میں دریا کے ایک کنارے پر تھے، انھوں نے سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں پکڑ کر نماز شروع کر دی، اتنے میں سواری پیچھے ہٹنے لگ گئی اور وہ بھی اس کے ساتھ پیچھے ہونے لگ گئے، ایک خارجی آدمی نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اے اللہ! اس شیخ کو ذلیل کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہا ہے۔جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے تمہاری بات سنی ہے، (حقیقتیہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ غزوے کیے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معاملات اور آسانی کا مشاہدہ کیا،(جن سے میں نے یہ استدلال کیا کہ) میرا نماز کے اندر سواری کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا، یہ اس سے ہلکا تھا کہ میں اس کو چھوڑ دیتا اور وہ اپنی چراگاہ کی طرف چلی جاتی اور یہ میرے لیے مشقت کا باعث بنتی۔ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دو رکعت عصر کی نماز پڑھی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1954

۔ (۱۹۵۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّییَلْتَفِتُیَمِیْنًا وَشِمَالاً وَلاً یَلْوِی عُنُقَہُ خَلْفَ ظَہْرِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کی حالت میں دائیں بائیں جھانک لیتے تھے، لیکن اپنی گردن کو اپنے پیٹھ کی طرف نہیں مروڑتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1955

۔ (۱۹۵۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ ھِنْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عِکْرِمَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَلْحَظُ فِیْ صَلاَتِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَلْوِیَ عُنُقَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۶)
عکرمہ کا ایک شاگرد بیان کرتا ہے کہ جنابِ عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں گردن موڑے بغیر اِدھر اُدھر دیکھ لیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1956

۔ (۱۹۵۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَسْتَشْرِفُ لِشَیْئٍ وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ،یَنْظُرُ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۴۰۸۳)
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا وہ کسی چیز کے لئے نظر اٹھاتے، جبکہ وہ نماز میں ہوتے اور اس کی طرف دیکھ لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1957

۔ (۱۹۵۷) عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَۃَیَقُوْلُ: بَیْنَا نَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ جُلُوْسٌ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْمِلُ أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ ابْنِ الرَّبِیْعِ وَأُمُّہَا زَیْنَبُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھِیَ َصَبِیَّۃٌ فَحَمَلَہَا عَلٰی عَاتِقِہِ فَصَلّٰی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھِیَ عَلٰی عَاتِقِہِ، یَضَعُہَا إِذَا رَکَعَ وَیُعِیْدُھَا عَلٰی عَاتِقِہِ إِذَا قَامَ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھِیَ عَلٰی عَاتِقِہِ حَتّٰی قَضٰی صَلاَتَہُ، یَفْعَلُ ذٰلِکَ بِہَا۔ (مسند احمد: ۲۲۹۵۴)
سیدناابو قتادۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دفعہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ امامہ بنت ابی العاص بن ربیع کو اٹھائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، یہ ایک بچی تھی اور اس کی ماں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، آپ نے اسے اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی، جبکہ وہ بچی آپ کے کندھے پر تھی، جب آپ رکوع کرتے تو اسے رکھ دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو دوبارہ اسے کندھے پر اٹھا لیتے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی حالت میں نماز پڑھی کہ وہ آپ کے کندھے پر تھی، حتیٰ کہ نماز پوری ہو گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ اسی طرح کرتے رہے (کہ ہر رکوع کے وقت رکھ دیتے تھے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1958

۔ (۱۹۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِیْ عَامِرُ بْنُ عَبْدُِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَۃَیَقُوْلُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی وَأُمَامَۃُ بِنْتُ زَیْنَبَ ابْنَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھِی ابْنَۃُ أَبِی الْعَاصِ ابِنْ الرَّبِیْعِ بْنِ عَبْدِ الْعُزّٰی عَلٰی رَقَبَتِہِ فَإِذَا رَکَعَ وَضَعَھَا وَإِذَا قَامَ مِنْ سُجُودِہِ أَخَذَھَا فَأَعَادَھَا عَلٰی رَقَبَتِہِ ، فَقَالَ عَامِرٌ وَلَمْ أَسْأَلْہُ أَیُّ صَلاَۃٍ ھِیَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ وَحُدِّثْتُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی عَتَّابٍ عَنْ عَمْرِو بِنْ سُلَیْمٍ أَنَّہَا صَلاَۃُ الصُّبْحِ قَالَ أَبُو عَبْدِالرَّحٰمَنِ: جَوَّدَہُ ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۵۹)
سیدنا ابو قتادۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ سیدہ امامہ بنت زینب بنت نبی کریم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گردن پر تھی اوریہ ابو العاص بن ربیع کی بیٹی تھی، جب آپ رکوع کرتے تو اسے رکھ دیتے اور جب سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو اسے اپنی گردن پر دوبارہ اٹھالیتے۔ عامر کہتے ہیں:میں نے عمرو بن سلیم سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ کون سی نماز تھی۔ ابن جریج کہتے ہیں:مجھے زید بن ابی عتاب سے بیان کیا گیا ہے کہ وہ نمازِ فجر تھی، ابو عبد الرحمن نے کہا: ابن جریج نے (نماز فجر کے ذکر) والی روایت کو جیّد کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1959

۔ (۱۹۵۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی إِحْدٰی صَلاَتَیِ الْعَشِیِّ الظُّہْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَھُوَ حَامِلُ حَسَنٍ أَوْ حُسَیْنٍ فَتَقَدَّمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعَہُ ثُمَّ کَبَّرَ لِلصَّلاَۃِفَصَلّٰی فَسَجَدَ بَیْنَ ظَہْرَیْ صَلاَتِہِ سَجْدَۃً أَطَالَھَا، قَالَ: إِنِّی رَفَعْتُ رَأْسِی فَإِذَا الصَّبِیُّ عَلٰی ظَہْرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ سَاجِدٌ، فَرَجَعْتُ فِی سُجُودِی، فَلَمَّا قَضٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلاَۃَ، قَالَ النَّاسُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّکَ سَجَدْتَّ بَیْنَ ظَہْرَی الصَّلاَۃِ سَجْدَۃً أَطَلْتَھَا حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّہُ یُوحٰی إِلَیْکَ، قَالَ: ((کُلُّ ذَلِکَ لَمْ یَکُنْ، وَلٰکِنِ ابْنِی ارْتَحَلَنِی فَکَرِھْتُ أَنْ أُعَجِّلَہُ حَتّٰییَقْضِیَ حَاجَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۹۹)
سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پچھلے پہر کی ظہر یا عصر کی نماز کے لیے ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسن یا سیدنا حسین کو اٹھایا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے اور اسے بٹھاکر نماز کے لیے تکبیر کہی اور نماز پڑھنا شروع کر دی، بیچ میں آپ نے ایک طویل سجدہ کیا، جب میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا (کہ کیا وجہ ہے) تو اچانک وہی بچہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیٹھ پر تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے کی حالت میں تھے، تو میں اپنے سجدہ میں لوٹ گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پوری کرلی تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کیا کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ کوئی معاملہ پیش آگیا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسی کوئی بات نہیں تھی،یہی میرا بیٹا مجھ پر سوار ہوگیا تھا اور میں نے ناپسند کیا کہ اس سے جلدی کروں، یہاں تک کہ وہ اپنا شوق پورا کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1960

۔ (۱۹۶۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِیْ بُرْدَۃٍ حِبَرَۃٍ قَالَ أَحْسَبُہُ عَقَدَ بَیْنَ طَرَفَیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۹۶۷)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دھاری دار یمنی چادرمیں نماز پڑھی، میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے دونوں کناروں کے درمیان گرہ لگائی ہوئی تھی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1961

۔ (۱۹۶۱) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: آخِرُ صَلاَۃٍ صَلَّاھَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ الْقَوْمِ صَلّٰی فِی ثَوْبٍ وَّاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِہِ خَلْفَ أَبِی بَکْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۹۱)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ آخری نماز جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کے ساتھ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اقتدا میں پڑھی تھی وہ ایک کپڑے میں تھی، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے توشیح کر رکھی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1962

۔ (۱۹۶۲) عَنْ مُوسَی بْنِ إِبْرَاھِیْمَ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَھُوَ یُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُہُ مَوْضُوْعٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: تُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی ھٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۱۲۳۰۵)
ابراہیم بن ابو ربیعہ کہتے ہیں: ہم سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر داخل ہوئے اور وہ ایک کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی چادر علیحدہ رکھی ہوئی تھی، میں نے کہا: آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہیں؟ انہوںنے کہا: بلاشبہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1963

۔ (۱۹۶۳) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلْیُخَالِفْ بَیْنَ طَرَفَیْہِ فَلْیَجْعَلْ طَرَفَیْہُ عَلٰی عَاتِقَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۳۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اس کے دونوںکناروں کے درمیان مخالفت ڈالے اور ان کے کناروں کو کندھوں پر ڈال دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1964

۔ (۱۹۶۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی وَعَلَیْہِ مِرْطٌ لِبَعْضِ نِسَائِہِ وَعَلَیْہَا بَعْضُہُ ، قَالَ سُفْیَانُ أُرَاہُ قَالَ حَائِضٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۴۰)
سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حال میں نماز پڑھی کہ آپ پر آپ کی کسی بیوی کی چادر تھی اور اس کا کچھ حصہ اس بیوی پر تھا، سفیان کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا تھا کہ وہ حائضہ تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1965

۔ (۱۹۶۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْھَادِ قَالَ: سَمِعْتُ خَالَتِیْ مِیْمُونَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا کَانَتْ تَکُونُ حَائِضًا وَھِیَ مُفْتَرِشَۃٌ بِحِذَائِ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَیُصَلِّیْ عَلٰی خُمْرَتِہِ إِذَا سَجَدَ أَصَابَنِیْ طَرَفُ ثَوْبِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۴۲)
عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ وہ حائضہ ہوتی تھیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سجدہ گاہ کے سامنے لیٹی ہوئی ہوتی تھی، جبکہ آپ اپنی چٹائی پر نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کے کپڑے کا ایک کنارہ مجھے لگ جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1966

۔ (۱۹۶۶) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْمُ فَیُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ وَأَنَا نَائِمَۃٌ إِلٰی جَنْبِہِ’ فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِیْ ثِیَابُہُ وَأَنَا حَائِضٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۴۳)
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، جب کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں سوئی ہوتی تھے، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کے کپڑے مجھے لگ جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1967

۔ (۱۹۶۷) عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کُنْتُ أَنَامُ بَیْنَیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرِجْلَیَّ فِیْ قِبْلَتِہِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِیْ فَقَبَضْتُ رِجْلَیَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُّہَا وَالْبُیُوْتُ لَیْسَیَوْمَئِذٍ فِیْہَا مَصَابِیْحُ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۶۳)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سویا کرتی تھی اور میری ٹانگیں آپ کے قبلہ کی سمت میں ہوتی تھی، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے دباتے، پس میں اپنی ٹانگوں کو اکٹھا کر لیتی،جب آپ کھڑے ہوتے تو میں ان کو پھیلا دیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1968

۔ (۱۹۶۸) عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ وَأَنَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ مُضْطَجِعَۃً۔ (مسند احمد: ۲۵۶۴۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی مروی ہے، وہ کہتی ہیں:بلاشبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اورمیں (کبھی) آپ کی دائیں اور (کبھی) بائیں جانب لیٹی ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1969

۔ (۱۹۶۹) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ صَلَاتَہُ مِنَ اللَّیْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَۃٌ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ کَاِعْتِرَاضِ الْجَنَازَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۸۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کی نماز پڑھا کرتے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتی تھی، جس طرح جنازہ پڑھا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1970

۔ (۱۹۷۰) عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی وَھِیَ مُعْتَرِضَۃٌ بَیْنَیَدَیْہِ، وَقَالَ: أَلَیْسَ ھُنَّ أُمَّہَاتِکُمْ وَأَخَوَاتِکُمْ وَعَمَّاتِکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۶۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے (یہ بھی) روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس حال میں نماز پڑھتے تھے کہ وہ آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی۔جناب عروہ نے کہا: کیایہ عورتیں تمہاری مائیں، بہنیں اور پھوپھیاں نہیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1971

۔ (۱۹۷۱) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَخْبَرَتْہُ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ وَأَنَا مُعْتَرِ ضَۃٌ عَلَی السَّرِیْرِ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ۔ قُلْتُ: أَبَیْنَہُمَا جَدْرُ الْمَسْجِد؟ قَالَ: لَا، فِی الْبَیْتِ إِلٰی جَدْرِہِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس حال میں نماز پڑھتے کہ وہ آپ کے اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ عطا کہتے ہیں: میں نے عروہ سے پوچھا: کیا ان دونوں کے درمیان مسجد کی دیوار ہوتی؟ انہوں نے کہا: نہیں، گھر میں اس کی دیوار کی طرف۔

آیت نمبر