Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

34)

34) نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1972

۔ (۱۹۷۲) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ لَہُ عُمَرُ: یَاغُلَامُ! ھَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِہِ إِذَا شَکَّ الرَّجُلُ فِی صَلاَتِہِ مَاذَا یَصْنَعُ؟ قَالَ: فَبَیْنَمَا ھُوَ کَذٰلِکَ إِذْ أَقْبَلَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: فِیْمَ أَنْتَمَا؟ فَقَالَ عُمَرُ: سَأَلْتُ ھٰذَا الْغُلاَمَ ھَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِہِ إِذَا شَکَّ الرَّجُلُ فِی صَلاَتِہِ مَاذَا یَصْنَعُ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖفَلَمْ یَدْرِ أَوَاحِدَۃً صَلّٰی أَمْ ثِنْتَیْنِ فَلْیَجْعَلْہَا وَاحِدَۃً، وَإِذَا لَمْ یَدْرِ ثِنْتَیْنِ صَلّٰی أَمْ ثَلاَثًا فَلْیَجْعَلْھَا ثِنْتَیْنِ، وَإِذَا لَمْ یَدْرِ أَثَلَاثًا صَلّٰی أَمْ أَرْبَعًا فَلْیَجْعَلْہَا ثَلَاثًا، ثُمَّ یَسْجُدُ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ وَھُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ سَجْدَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے لڑکے! کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی صحابی سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے کہ اگر نمازی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہی بات ہو رہی تھی کہ اتنے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچ گئے اور انھوں نے پوچھا: تم کیا بات کر رہے ہو؟ سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اس لڑکے سے پوچھا ہے کہ کیا اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یا کسی صحابی سے کوئی اس قسم کی حدیث سنی ہے کہ جب آدمی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہ سن کر سیدنا عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اوروہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو تو وہ ایک رکعت ہی سمجھ لے، جب اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیںیا تین تو وہ ان کو دو ہی سمجھ لے اور جب اسے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیںیا چار تو وہ ان کو تین ہی سمجھ لے، پھر جب نماز سے فارغ ہو نے لگے تو بیٹھے بیٹھے اور سلام سے پہلے دو سجدے کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1973

۔ (۱۹۷۳) عَنْ مُرَّۃَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ یَزْیِدَ بْنِ أَبِیْ کَبْشَۃَ عَنْ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ صَلَّیْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعْتُ أَمْ أَوْتَرْتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِیَّایَ وَأَنْ یَتَلَعَّبَ بِکُمُ الشَّیْطَانُ فِیْ صَلاَتِکُمْ، مَنْ صَلّٰی مِنْکُمْ فَلَمْ یَدْرِ أَشَفَعَ أَوْ أَوْتَرَ فَلَیْسْجُدْ سَجْدَ تَیْنِ فَإِنَّہُمَا تَمَامُ صَلَاتِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۵۰)
سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نمازپڑھی لیکن (بھول گیا)، جس کی وجہ سے اب یہ پتہ نہیں چل رہا کہ جفت رکعات پڑھی ہیںیا طاق؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اپنے آپ کواس سے ڈراتا ہوں کہ شیطان تمہاری نماز میں تم سے کھیلنے لگ جائے، تم میںسے جو آدمی نماز پڑھے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ جفت رکعات پڑھ لی ہیںیا طاق تو وہ دو سجدے کر لے، ان سے اس کی نماز کی تکمیل ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1974

۔ (۱۹۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلّٰی بِنَا یَزِیْدُ ابْنُ أَبِی کَبْشَۃَ الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَیْنَا بَعْدَ صَلَاتِہٖفَقَالَ: إِنِّیْ صَلَّیْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَسَجَدَ مِثْلَ ھَاتَیْنِ السَّجْدَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَیْنَا فَأَعْلَمَنَا أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَ کَرَ مِثْلَہُ أَوْنَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۴۵۱)
۔ (دوسری سند)مرہ بن معبد کہتے ہیں: یزید بن ابو کشبہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں نے مروان بن حکم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، انہوں نے اسی طرح دو سجدے کیے تھے، پھر وہ ہماری طرف پھرے اور ہمیں یہ بتلایا کہ انھوں نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا تھا، پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1975

۔ (۱۹۷۵) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلاَۃً فَلَا أَدْرِیْ زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ، قِیْلَ لَہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ حَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((لاَ، وَمَا ذَاکَ؟)) قَالُوْا: صَلَّیْتَ کَذَا وَکَذَا،، قَالَ: فَثَنٰی رِجْلَیْہِ فَسَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ، وَإِذَاشَکَّ أَحَدُ کُمْ فِی الصَّلاَۃِ فَلْیَتَحَرَّ الصَّلاَۃ،َ فَإِذَا سَلَّمَ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۰۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک نماز پڑھائی،مجھےیہ یاد نہیں رہا کہ زیادتی ہو گئی تھییا کمی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز مشروع ہو گئی ہے؟ آ پ نے فرمایا: (نہیں، اور وہ کیا ہے (جو تم محسوس کر رہے ہو)؟ لوگوںنے کہا: آپ نے اتنی اتنی نماز پڑھائی ہے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہوکے دو سجدے کئے، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا: میںتوایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو اسی طرح میں بھی بھول جاتا ہوں، جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ نماز (کی رکعات کی تعداد کی درست صورت کو) تلاش کرے اور جب سلام پھیرے تو دو سجدے کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1976

۔ (۱۹۷۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ فَثَنٰی رِجْلَہُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہِ فَقَالَ: ((لَوْ حَدَثَ فِی الصَّلَاۃِ شَیْئٌ لَأَنْبَأْ تُکُمُوہُ وَلٰکِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِنْ نَسِیْتُ فَذَکِّرُونِی وَأَیُّکُمْ مَا شَکَّ فِی صَلَاتِہِ فَلْیَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذٰلِکَ لِلصَّوَابِ فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ وَیُسَلِّمْ ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۴۱۷۴)
۔ (دوسری سند)اسی قسم کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پاؤں موڑا،قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز میںکوئی نئی چیز مشروع ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتاتا، بات یہ ہے کہ میں صرف ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، پس اگر میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو اور تم میں جس کسی کو بھی نماز میں شک ہو جائے تو وہ ایسی صورت کو تلاش کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو، پھر اس نماز کو مکمل کرے اور سلام پھیر کر دو سجدے لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1977

۔ (۱۹۷۷) عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَاکُنْتَ فِی الصَّلَاۃَ فَشَکَکْتَ فِی ثَلاَثٍ أَوْ اَرْبَعٍ، وَأَکْثَرُ ظَنِّکَ عَلٰی أَرْبَعٍ، تَشَہَّدْتَّ ثُمَّ سَجَدْتَّ سَجْدَتَیْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسْلِّمَ، ثُمَّ تَشَہَّدْتَ أَیْضًا ثُمّ َسَلَّمْتَ۔)) (مسند احمد: ۴۰۷۵)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تونماز میں ہو اور تینیا چار رکعتوں میں شک ہو جائے، البتہ تیرا زیادہ گمان چار پر ہو، تو تو تشہد پڑھ اور سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور اس کے بعد سلام پھیر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1978

۔ (۱۹۷۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: ((إِذَا شَکَکْتَ فِیْ صَلَاتِکَ وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمْ تَدْ رِثَلَاثًا صَلَیْتَ أَمْ أَرْبَعًا، فَاِنْ کَانَ أَکْبَرُ ظَنِّکَ أَنَّکَ صَلَّیْتَ ثَلاَثًا فَقُمْ فَارْکَعْ رَکْعَۃً ثُمَّ سَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ تَشَہَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ، وَإِنْ کَانَ أَکْبَرُ ظَنِّکَ أَنَّکَ صَلَّیْتَ أَرْبَعًا فَسَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ تَشَہَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ۔ (مسند احمد: ۴۰۷۶)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب تجھے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور تو بیٹھا ہوا ہو اور تجھے یہ پتہ نہ چل سکے کہ تو نے تین رکعات پڑھی ہیںیا چار، تو اگر تیرا غالب ظن یہ ہو کہ تو نے تین رکعتیں پڑھ لی ہیں تو تو کھڑا ہو جا اور ایک رکعت ادا کر، پھر سلام پھیر، پھر دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور پھر سلام پھیر، اور اگر غالب ظن یہ ہو کہ تو نے چار رکعتیں پڑھ لی ہیں تو سلام پھیر دے، پھر دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور پھر سلام پھیر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1979

۔ (۱۹۷۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَأْتِیْ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ وَھُوَ فِیْ صَلَاتِہِ فَیُلَبِّسُ عَلَیْہِ حَتّٰی لَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ)) (مسند احمد: ۷۲۸۴)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے تو اس پر اس کی نماز کو اتنا خلط ملط کر دیتا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جان سکتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، پس جو آدمی ایسی صورتحال پائے تو وہ دو سجدے کرے، اس حال میں کہ وہ بیٹھا ہوا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1980

۔ (۱۹۸۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا جَائَ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ فَقَالَ إِنَّکَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْیَقُلْ کَذَبْتَ إِلاَّ مَاوَجَدَ رِیْحَہُ بَأَنْفِہِ أَوْ سَمِعَ صَوْتَہُ بَأُذُنِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۹۸)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور وہ (اس قدر بھول جائے کہ یہ) بھی نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے تووہ بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرلے اور جب شیطان کسی کے پاس آ کر کہے کہ تو بے وضو ہو گیا ہے تو وہ اسے کہے کہ تو نے جھوٹ کہا، الا یہ کہ وہ اپنے ناک سے بو محسوس کر لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1981

۔ (۱۹۸۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہِ فَلَمْ یَدْرِکَمْ صَلّٰی فَلْیَبْنِ عَلَی الْیَقَیْنِ حَتّٰی إِذَا اسْتَیْقَنَ أَنْ قَدْ أَتَمََ فَلَیْسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ، فَإِنَّہُ إِنْ کَانَتْ صَلَاتُہُ وِتْراً صَارَتْ شَفْعًا وَإِنْ کَانَتْ شَفْعًا کَانَ ذٰلِکَ تَرْغِیْمًا لِلشَّیْطَانِ)) (مسند احمد: ۱۱۷۱۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، تو وہ یقین پر بنیاد رکھے (اور مزید رکعات ادا کرے) حتی کہ اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو جائے، پھر وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے، اگر اس کی (پڑھی ہوئی زائد نماز) طاق رکعات ہوں گی تو وہ (سہو کے دو سجدوں) کی بنا پر جفت بن جائے گی اور اگر اس کی نماز جفت (یعنی پوری ہی) ہو گی تو یہ سجدے شیطان کو خاک آلود کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1982

۔ (۱۹۸۲) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُکُمْ بِحَدِیْثٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالُوْا: بَلٰی۔ قَالَ: فَأَشْہَدُ أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی صَلَاۃًیَشُکُّ فِی النُّقْصَانِ فَلْیُصَلِّ حَتّٰییَشُکَّ فِی الزِّیَادَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۹)
سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیامیں تمہیں وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے اس کے کم ہونے کا شک ہوتا ہے تو وہ نماز پڑھتا رہے، یہاں تک کہ اسے زیادہ ہونے میں شک ہونے لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1983

۔ (۱۹۸۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَکَّ فِی صَلَاتِہِ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَایُسَلِّمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۱)
سیدناعبد اللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز میں شک کرے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ ایک روایت میں ہے: وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1984

۔ (۱۹۸۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَاإِغْرَارَ فِیْ صَلَاۃٍ وَلاَ تَسْلِیْمَ۔)) (مسند احمد: ۹۹۳۸)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ نماز (کے ارکان) میںنقص پیدا کرنا جائز ہے اور نہ (نماز میں) سلام کہنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1985

۔ (۱۹۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ (یَعْنِیْ اِبْنَ مَہْدِیٍّ) عَنْ سُفْیَانَ (یَعْنِیْ الثَّوْرِیَّ) قَالَ: سَمِعْتُ أَبِیْیَقُوْلُ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو اَلشَّیْبَانِیَّ عَنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔)) فَقَالَ: إِنَّمَا ھُوَ لَاغِرَارَ فِی الصَّلاَۃِ، وَمَعْنَی غِرَارَ یَقُولُ لاَیَخْرُجُ مِنْہَا وَھُوَ یَظُنُّ أَنَّہُ قَدْ بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْہَاشَیْئٌ حَتّٰییَکُونَ عَلَی الْیَقِیْنِ وَالْکَمَالِ۔ (مسند احمد: ۹۹۳۸) ذکر الامام احمد ھذا القول بعد الحدیث السابق: ۸۸۷
سفیان ثوری کہتے ہیں: میرے باپ نے ابو عمرو شیبانی سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قول لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔ (نمازمیںنقص پیدا کرنا نہیں ہے۔) کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: یہ روایت اس طرح ہے: لَا غِرَارَ فِی الصَّلَاۃِ۔ اور لَا غِرَار کا معنییہ ہے کہ بندہ اس حال میں نماز سے نہ نکلے کہ اسے یہ گمان بھی ہو کہ اس کی نماز کا کچھ حصہ باقی ہے، (وہ اس وقت نکلے) جب اسے مکمل ہونے کا یقین ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1986

۔ (۱۹۸۶) عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ عَمَّارًا (یَعْنِی بْنَ یَاسِرٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ لَہُ عَبْدُالرَّحْمٰنِ ابْنُ الْحَارِثِ: یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! لَا أَرَاکَ إِلاَّ خَفَّفْتَہُمَا۔ قَالَ: ھَلْ نَقَصْتُ مِنْ حُدُودِھَا شَیْئًا؟ قَالَ: َلا، وَلٰکِنْ خَفَّفْتَہُمَا، قَالَ: إِنِّی بَادَرْتُ بِہِمَا السَّہْوَ، إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیُصَلِّیْ وَلَعَلَّہُ أَنْ لَا یَکُوْنَ لَہُ مِنْ صَلَاتِہِ إِلاَّ عُشْرُھَا أَوْ تُسْعُہَا أَوْ ثُمْنُہَا أَوْ سُبْعُہَا،…۔)) حَتَّی انْتَھٰی إِلٰی آخِرٍ الْعَدَدِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۸۵)
سیدنا عماربن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی، عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا: اے ابو الیقظان! میرا خیالیہ ہے کہ آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: کیا میں نے اس کی حدود و قیود میں سے کسی چیز کی کمی کی ہے؟ وہ کہنے لگے: نہیں، لیکن آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: (اصل بات یہ ہے کہ) میں نے بھولنے سے پہلے جلدی جلدی ان کو ادا کر لیا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک آدمی تو نماز پڑھتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ اس کے لیے اس کی نماز سے نہ ہو مگر دسواں حصہ، یا نواں حصہ، یا آٹھواں حصہ، یا ساتواں حصہ، …۔ حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخری عدد تک پہنچ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1987

۔ (۱۹۸۷) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ َلاسٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ: دَخَلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ الْمَسْجِدَ فَرَکَعَ فِیِہِ رَکْعَتَیْنِ أَخَفَّھُمَا وَأَتَمَّہُمَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَقُمْنَا إِلَیْہِ فَجَلَسْنَا عِنْدَہُ ثُمَّ قُلْنَا لَہُ لَقَدْ خَفَّفْتَ رَکْعَتَیْکَ ھَاتَیْنِ جِدًّا یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! فَقَالَ: إِنِّیْ بَادَرْتُ بِہِمَا الشَّیْطَانَ أَنْ یَدْخُلَ عَلَیَّ فِیْہِمَا، قَالَ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۱۳)
۔ (دوسری سند)ابن لاس خزاعی کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی، وہ بہت تخفیف والی تھیں، لیکن مکمل بھی تھیں، پھر وہ بیٹھ گئے، ہم کھڑے ہوئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے، ہم نے کہا: ابو الیقظان! آپ نے ان دو رکعتوں میں تخفیف کی ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے ان کو اپنے اندر شیطان کے داخل ہونے سے پہلے ادا کر لیا ہے، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1988

۔ (۱۹۸۸) عَنْ أَبِی العَلاَئِ بْنِ الشِّخِّیْرِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِی الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! حَالَ الشَّیْطَانُ بَیْنِی َوَبَیْنَ صَلَاتِیْ وَبَیْنَ قِرَائَ تِیْ قَالَ: ((ذَاکَ شَیْطَانٌیُقَالُ لَہُ خِنْزَبٌ فَإِذَا أَنْتَ حَسَسْتَہُ فَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنْہُ وَاتْفُلْ عَنْ یَسَارِکَ ثَلاَثًا۔)) قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَاکَ فَاَذْھَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَنِّیْ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۵۷)
سیدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! شیطان میرے اور میری نماز اور قراء ت کے درمیان حائل ہوگیا ہے، آپ نے فرمایا: یہ شیطان ہے، اس کو خنزب کہتے ہیں، جب تو اسے محسوس کرے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگ اور تین دفعہ اپنی بائیں جانب تھوک دے۔ انھوں نے کہا: پس میں نے یہ عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وسوسہ ختم کردیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1989

۔ (۱۹۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ (یَعْنِیْ ابْنَ سِیْرِیْنَ) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِحْدٰی صَلَاتَیِ الْعَشِیِّ، قَالَ: ذَکَرَھَا أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَنَسِیَہَا مَحَمَّدٌ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَأَتٰی خَشَبَۃً مُعْرُوْضَۃً فِی الْمَسْجِدِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ أَتٰی جِذْعًا فِی الْقِبْلَۃِ کَانَ یُسْنِدُ إِلَیْہِ ظَھْرَہُ فَأَسْنَدَ إِلَیْہِ ظَھْرَہُ) فَقَالَ بِیَدِہِ عَلَیْہَا کَأَنَّہُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرْعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ قَالُوْا: قُصِرَتِ الصَّلَاۃُ، قَالَ: وَفِی الْقَوْمِ أَبُوبَکْرٍ وَعُمَرُ، فَہَابَاہُ اَنْ یُکَلِّمَاہُ، وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ فِیْیَدَیْہِ طُوْلٌ، یُسَمّٰی ذَا الْیَدَیْنِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَسِیْتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاۃُ؟ فَقَالَ: ((لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقَصَرِ الصَّلَاۃُ (وَفِی رِوَایَۃٍ مَاقُصِرَتْ وَمَا نَسِیْتُ)۔)) قَالَ: فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: ((کَمَا یَقُوْلُ ذَُوالْیَدَیْنِ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، فَجَائَ فَصَلَّی الَّذِی تَرَکَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ، قَالَ: فَکَانَ مُحَمَّدٌ یُسْئَلُ: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَیَقُوْلُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۷۲۰۰)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچھلے پہر کی (ظہر اور عصر کی) دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو اس نماز کا ذکر کیا تھا، لیکن ابن سیرین اس کو بھول گئے تھے، بہرحال آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے پاس آ گئے۔ایک روایت میں ہے: پھر آپ قبلہ کی سمت پڑے ہوئے ایک تنے کے پاس آئے آپ اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ پس آپ نے اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لی اور اپنا ہاتھ بھی اس پر رکھ لیا، گویا کہ آپ غصے میں ہیں،اُدھر مسجد کے دروازوں سے جلد باز لوگ یوں کہتے ہوئے نکلتے گئے: نماز کم ہو گئی ہے۔ لوگوں میں سیدنا ابو بکراورسیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی موجود تھے، لیکن وہ دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کرنے سے گھبرا گئے، لوگوں میں ایک آدمی تھا، اس کے ہاتھ ذرا لمبے تھے، اسی وجہ سے اسے ذوالیدین کہتے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیںیا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا: یقینا آپ نے دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا: (بات ایسے ہی ہے) جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور نماز کی جتنی رکعتیں رہ گئی تھیں، وہ ادا کیں، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور عام سجدوں کی طرح یا ان سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، پھر عام سجدوں کی طرح یا لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، ابن عون کہتے ہیں: جب محمد بن سیرین سے پوچھا گیا کہ کیا (سجدوں کے بعد) سلام پھیرا تھا، تو انھوں نے کہا: مجھے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے سے یہ بتلایا گیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1989

۔ (۱۹۸۹م) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ سَمِعَ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَیَقُوْلُ سَمِعْتُ أَبَاھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ صَلّٰی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِحْدٰی صَلَاتَیِ الْعَشِیِّ إِمَّا الظُّہْرَ وَأَکْثَرُ ظَنِّیْ أَنَّہَا الْعَصْرُ فَذَکَرَ نَحْوَ مَاتَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۷۳۷۰)
۔ (دوسری سند)محمد بن سیرین کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچھلے پہر کی دو نمازوںمیںسے ایک نماز پڑھائی ظہر یا عصر پڑھی، اور میرا زیادہ گمان یہ ہے انھوںنے نمازِ عصر کا ذکر کیا تھا، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1990

۔ (۱۹۹۰) (وِمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ لَہُ ذُوالشَّمَالَیْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو، وَکَانَ حَلِیْفًا لِبَنِیْ زُھْرَۃَ: أَخُفِّفَتِ الصَّلَاۃُ أَمْ نَسِیْتَ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَقُوْلُ ذُوالْیَدَیْنِ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ! فَأَتَمَّ بِہِمُ الرَّکَعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ نَقَصَ۔ (مسند احمد: ۷۶۵۳)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالشمالین بن عبد عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، بنو زہرہ کے حلیف تھے، نے آپ سے کہا: آیا نماز میں تخفیف کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس نے سچ کہا ہے، پھر آپ نے ان کو ساتھ لے کر وہ دو رکعتیں مکمل کیں، جو رہ گئی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1991

۔ (۱۹۹۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ رَابِعٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ رَکَعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالُوْا: أَقُصِرَتِ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: فَقَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۸۹۹۸)
۔ (چوتھی سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، لوگوں نے کہا: کیا نماز کم ہوگئی ہے؟ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے، دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا اور بعد ازاں دو سجدے کیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1992

۔ (۱۹۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ خَاِمسٍ) قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الظُّہْرِ، سَلَّم رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ رَکْعَتَیْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ سُلَیْمٍ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَقُصِرَتِ الصَّلَاۃُ أَمْ نَسِیْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ تُقْصَرْ وَلَمْ أَنْسَہْ۔)) قَالَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا صَلَّیْتَ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَحَقٌ مَا یَقُولُ ذُوالْیَدَیْنِ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ آخِرَتَیْنِ قَالَ یَحْیٰی حَدَّثَنِیْ ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ ثُمَّ سَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۴۵۸)
۔ (پانچویں سند)سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، بنو سلیم کا ایک آدمی اٹھ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔ ا س نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے صرف دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کچھ ذوالیدین کہہ رہا ہے، کیا وہ سچ ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اٹھ کر آخری دو رکعتیں پڑھائیں، ((ضمضم بن جوس کی ابوہریرہ سے روایت کے مطابق)) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سجدے کیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1993

۔ (۱۹۹۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ سَادِسٍ) قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ مِنْ رَکْعَتَیْنِ، فَقَامَ ذُوالْیَدَیْنِ فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاۃُیَا رَسُولَ اللّٰہِ أَمْ نَسِیْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ ذَلِکَ لَمْ یَکُنْ۔)) فَقَالَ: قَدَ کَانَ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَأَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی النَّاسِ، فَقَالَ: ((أَصَدَقَ ذُوالْیَدَیْنِ؟)) فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَمَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا بَقِیَ مِنْ صَلَاتِہِ ثُمَّ سَجَدَ سَجَدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ۔ (مسند احمد: ۹۹۲۷)
۔ (چھٹی سند)سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: کیا نماز کم ہوگئی ہے اے اللہ کے رسول ! یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ بھی نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یقینا کچھ تو ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں پر متوجہ ہوکر فرمانے لگے: کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، سو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بقیہ نماز مکمل فرمائی، پھر دو سجدے کیے، جب کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1994

۔ (۱۹۹۴) عَنْ عَطَائٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ صَلَّی الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ وَنَہَضَ لِیَسْتِلَمَ الْحَجَرَ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: مَاشَأَنُکُمْ؟ قَالَ: فَصَلّٰی مَا بَقِیَ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنَ، قَالَ: فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِأِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّۃِ نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۲۸۵)
عطا کہتے ہیں:سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی اوردو رکعتوں کے بعد سلام پھیر کرحجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، لوگوں نے سبحان اللہ کہا، انہوں نے کہا: تمہیں کیا ہواہے؟ (جب صورتحال بتائی گئی) تو انھوں نے بقیہ نماز پڑھی اور دو سجدے کیے، جب سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لئے اس کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا: وہ اپنے نبی کی سنت سے نہیں ہٹے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1995

۔ (۱۹۹۵) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَلَّمَ فِیْ ثَلَاثِ رَکَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ الْخِرْبَاقُ وَکَانَ فِییَدِہِ طُوْلٌ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَخَرَجَ إِلَیْہِ، فَذَکَرَ لَہُ صَنِیْعَہُ، فَجَائَ فَقَالَ: ((أَصَدَقَ ھٰذَا؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، فَصَلَّی الرَّکْعَۃَ الَّتِیْ تَرَکَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۶۶)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عصر کی تین رکعات کے بعد سلام پھیر دیا اور پھر اٹھ کر گھر چلے گئے، ایک آدمی اٹھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف گیا، اسے خرباق کہا جاتاتھااور اس کے ہاتھ کچھ لمبے تھے اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف آئے تو اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر یہ بات واضح کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ سن کر تشریف لائے اور فرمایا: کیایہ سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا:جی ہاں! تو آپ نے جو رکعت چھوڑی تھی، وہ ادا کی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1996

۔ (۱۹۹۶) عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حُدَیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰییَوْمًا وَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِیَ مِنَ الصَّلَاۃِ رَکْعَۃٌ فَأَدْ رَکَہُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِیْتَ مِنَ الصَّلَاۃِ رَکْعَۃً، فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالاً فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ رَکْعَۃً، فَأَخْبَرْتُ بِذَالِکَ النَّاسَ، فَقَالُوْا لِی: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلاَّ أَنْ أَرَاہُ، فَمَرَّ بِی، فَقُلْتُ ھُوَ ھٰذَا، فَقَالُوْا: طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۹۶)
سیدنامعاویہ بن حدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ایک نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر چلے گئے، جب کہ اس نماز سے ایک رکعت باقی تھی، ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جا ملا اور کہا: آپ نماز سے ایک رکعت بھول گئے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوبارہ مسجد میں داخل ہوئے اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا، پس انھوں نے نماز کو کھڑا کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی۔ جب میں نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو وہ مجھ سے پوچھنے لگے: کیا تم اس آدمی کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، ہاں اگر میں اس کو دیکھ لوں تو پہنچان لوں گا، اتنے میں وہ میرے پاس سے گزر پڑا، میں نے کہا کہ یہ وہ آدمی ہے، لوگوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1997

۔ (۱۹۹۷) عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ أَنَّ ابْنَ بُحَیْنَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ فِی الثِّنْتَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ، نَسِیَ الْجُلُوْسَ حَتّٰی إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ إِلٰی أَنْ یُسَلِّمَ، سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ خَتَمَ بِالتَّسْلِیْمِ (وَفِی رِوَایَۃٍ:) فَلَمَّا صَلَّی الْأُخْرَیَیْنِ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِیْمَہُ فَکَبَّرَ فََسَجَدَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۰۷)
سیدنا ابن بحینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کی دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوگئے اور بیٹھنا بھول گئے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز مکمل کر کے سلام پھیرنے لگے تو دو سجدے کئے اور پھر سلام پھیر کر نماز ختم کی۔ایک روایت میں ہے: جب آپ نے آخری دو رکعتیں پڑھ لیں تو لوگ آپ کے سلا م پھیرنے کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہہ کر سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا اور پھر سلام پھیر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1998

۔ (۱۹۹۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ أَیْضًا صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃً نَظُنُّ أَنَّہَا الْعَصْرُ فَقَامَ فِی الثَّانِیَۃِ لَمْ یَجْلِسْ، فَلَمَّا کَانَ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ (زَادَفِی رِوَایَۃٍ:) وَسَجَدَ ھُمَا النَّاسُ مَعَہُ مَکَانَ مَانَسِیَ مِنَ الْجُلُوسِ ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۰۸)
۔ (دوسری سند)سیدناابن بحینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، ہمارا خیال ہے کہ وہ عصر تھی، ہوا یوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسری رکعت کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، جب سلام پھیرنے کے قریب تھے تودو سجدے کئے اور لوگوں نے بھی سجدے کیے،یہ (سجدے) بیٹھنا بھول جانے کی وجہ سے کیے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1999

۔ (۱۹۹۹) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوْسُفَ مَوْلٰی عُثْمَانَ عَنْ أَبِیْہِیُوْسُفَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ صَلّٰی اَمَامَھُمْ، فَقَامَ فِی الصَّلَاۃِ وَعَلَیْہِ جُلُوسٌ فَسَبَّحَ النَّاسُ فَتَمَّ عَلٰی قِیَامِہِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ بَعْدَ أَنْ أَتَمَّ الصَّلَاۃَ، ثُمَّ قَعَدَ عَلٰی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ نَسِیَ مِنْ صَلَاتِہِ شَیْئًا فَلْیَسْجُدْ مِثْلَ ھَاتَیْنِ السَّجْدَتِیْنَ)) (مسند احمد: ۱۷۰۴۱)
یوسف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے آگے یعنی ان کا امام بن کر نماز ادا کی،ایک مقام پر آپ بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، لوگوں نے سبحان اللہ تو کہا لیکن وہ کھڑے ہو گئے اور نماز جاری رکھی، پھر سہو کے دو سجدے کیے، جب کہ وہ نماز مکمل کرنے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے، پھر منبر پر بیٹھ گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ اس طرح دو سجدے کر لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2000

۔ (۲۰۰۰) عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلَاقَۃَ قَالَ: صَلّٰی بِنَا الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعبَۃَ فَلَمَّا صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ قَامَ وَلَمْ یَجْلِسْ فَسَبَّحَ بِہِ مَنْ خَلْفَہُ، فَأَشَارَ إِلَیْہِمْ أَنْ قُوْمُوْا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ سَلَّم ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ ھٰکَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۳۴۶)
زیادبن علاقہ نے کہا: سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی،وہ دو رکعتیں ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، جب لوگوں نے سبحان اللہ کہاتو انہوں نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بھی کھڑے ہوجائیں، جب اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو انھوں نے سلام پھیرا، پھر دوسجدے کیے اور پھر سلام پھیرا، اس کے بعدکہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2001

۔ (۲۰۰۱) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ أَمَّنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الظُّہْرِ أَوِ الْعَصْرِ فَقَامَ، فَقُلْنَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَأَشَارَبِیَدِہِیَعْنِیْ قُوْمُوْا، فَقُمْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِذَا ذَکَرَ أَحَدُکُمْ قَبْلَ أَنْ یَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْیَجْلِسْ وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا یَجْلِسْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۰۹)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر یا عصر میں ہماری امامت کرائی اور آپ (درمیانے تشہد کو چھوڑ کر) تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے، جب ہم نے سبحان اللہ کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں متنبہ کرنے کے لیے سبحان اللہ کہا اور ہمیں کھڑے ہونے کا اشارہ کیا، پس ہم بھی کھڑے ہو گئے، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سجدے کئے اورفرمایا: جب کسی کو مکمل سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو وہ بیٹھ جائے اور جب وہ مکمل سیدھا کھڑا ہوجائے توپھر نہ بیٹھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2002

۔ (۲۰۰۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ خَمْسًا، فَقِیْلَ: زِیْدَ فِی الصَّلَاۃِ؟ قِیْلَ: صَلَّیْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۳۵۶۶)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہرکی پانچ رکعات پڑھادیں، کسی نے پوچھا: کیانماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ کسی نے کہا: آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سجدے کئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2003

۔ (۲۰۰۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ خَمْسًا، ثُمَّ انْفَتَلَ فَجَعَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ یُوَشْوِشُ إِلٰی بَعْضٍ، فَقَالُوْا لَہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! صَلَّیْتَ خَمْسًا؟ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ بِہِمْ سَجْدَتَیْنِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((إِنَّمَا أَنا بَشَرٌ أَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۲۸۲)
۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو پانچ رکعات پڑھا دیں اورسلام پھیر کر ان کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے، بعض لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پوشیدہ طور پر باتیں کرنے لگے پس انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ نے پانچ رکعات پڑھا دی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھرے اور دو سجدے کر کے سلام پھیر دیا اور فرمایا: میں ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2004

۔ (۲۰۰۴) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَھُمَا بَعْدَ السَّلَامِ، وَقَالَ مَرَّۃَ: إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَ السَّجْدَتَیْنِ فِی السَّہْوِ بَعْدَ السَّلَامِ۔ (مسند احمد: ۳۵۷۰)
۔ (تیسری سند) سیدنا عبداللہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کے بعد سجدے کیے اور ایک مرتبہ فرمایا: یقینا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سہو میں سلام کے بعد دو سجدے کئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2005

۔ (۲۰۰۵) (وَمِنْ طَرِیقٍ رَاِبعٍ) عَنْ الْأَ سْوَدِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرِ خَمْسًا ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَاتَانِ السَّجْدَ تَانَ لِمَنْ ظَنَّ مِنْکُمْ أَنَّہُ زَادَ أَوْنَقَصَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۸۳)
۔ (چوتھی سند)سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور پھرسہو کے دو سجدے کیے اور اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں، جسے یہ خیال آنے لگے کہ اس سے زیادتی ہو گئی ہے یا کمی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2006

۔ (۲۰۰۶) (وَمِنْ طَرِیقٍ خَامِسٍ) عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَہَا فِی الصَّلَاۃِ فَسَجَدَ بِہِمْ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ بَعْدَ الْکَلَامِ۔ (مسند احمد: ۴۳۵۸)
۔ (پانچویں سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں بھول گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلام کرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2007

۔ (۲۰۰۷) عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لِکُلِّ سَہْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَایُسَلِّمُ)) (مسند احمد: ۲۲۷۸۱)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر بھول کے لئے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2008

۔ (۲۰۰۸) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ فَسَہَا فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَ تَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۹۷۷۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں نماز پڑھائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھول گئے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2009

۔ (۲۰۰۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَکَّ فِی صَلَاتِہٖفَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَایُسَلِّمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۲)
سیدناعبد اللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرلے۔

آیت نمبر