MUSNAD AHMED

Search Result (22)

35)

35) نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2010

۔ (۲۰۱۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَرأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَۃَ فَسَجَدَ اِعْتَزَلَ الشَّیْطَانُیَبْکِیْیَقُوْلُ: یَاوَیْلَہُ، أُمِرَ بِالسُّجُوْدِ فَسَجَدَ فَلَہُ الْجَنَّۃُ، وَأَمِرْتُ بِالسُّجُوْدِ فَعَصَیْتُ فَلِیَ النَّارُ۔)) (مسند احمد: ۹۷۱۱)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب انسان سجدہ والی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان علیحدہ ہوکر روتا ہے اورکہتا ہے: ہائے افسوس ! اس انسان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا،اس نے سجدہ کیا، پس اس کے لئے جنت ہے اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، لیکن میں نے نافرمانی کی، سو میرے لئے آگ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2011

۔ (۲۰۱۱) عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ سَجَدْتُّ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِحْدٰی عَشَرَۃَ سَجْدَۃً، مِنْہُنَّ سَجْدَۃُ النَّجْمِ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۴۲)
سیدنا ابو الدردا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، ان میںسے ایک سجدہ سورۂ نجم کا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2012

۔ (۲۰۱۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ سُجُوْدِ الْقُرْآنِ: ((سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ بِحَوْلِہِ وَقُوَّتِہِ)) (مسند احمد: ۲۴۵۲۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن کے سجدہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: سَجَدَ وَجہِیَ لِلَّذیْ خَلَقَہٗوَشَقَّسَمعَہُوَبَصَرَہُبِحَوْلِہٖوَقُوَّتِہٖ۔ (میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اپنی طاقت اور قوت سے اس کے کان اور نظر کو کھولا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2013

۔ (۲۰۱۳) عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ قَالَ صَلَّیْتُ مَعَ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ صَلَاۃَ الْعَتَمَۃِ أَوْ قَالَ صَلَاۃَ الْعِشَائِ فَقَرأَ {إِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ} فَسَجَدَ فِیْہَا، فَقُلْتُ: یَا أَبَا ھُرَیْرَۃَ! مَاھٰذِہِ السَّجْدَۃُ؟ فَقَالَ: سَجَدْتُّ فِیْہَا خَلْفَ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ ھَا حَتّٰی أَلْقَاہُ۔ (مسند احمد: ۷۱۴۰)
سیدناابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھی، انہوں نے سورۂ انشقاق پڑھی اور اس میں سجدہ بھی کیا، میں نے کہا: اے ابو ہریرہ! یہ کون سا سجدہ ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں یہ سجدہ کیا تھا، لہٰذا ہمیشہ میں یہ سجدہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جا ملوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2014

۔ (۲۰۱۴) عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیْ مِجْلَزٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی مِنْ صَلَاۃِ الظُّہْرِ، فَرَاٰی أَصْحَابُہٗأَنَّہُقَرَأَتَنْزِیْلَ السَّجْدَۃِ قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ أَبِیْمِجْلِزٍ۔ (مسند احمد: ۵۵۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں سجدہ کیا، صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خیال تھاکہ آپ نے سورۂ سجدہ کی تلاوت کی ہے۔ راویٔ حدیث سلیمان تیمی نے کہا: میں نے یہ حدیث ابو مجلز سے نہیں سنی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2015

۔ (۲۰۱۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ عَلَیْنَا السُّوْرَۃَ فَیَقْرَأُ السَّجْدَۃَ فِی غَیْرِ صَلَاۃٍ فَیَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَہُ حَتّٰی مَایَجِدُ أَحَدُنَا مَکَانًا لِمَوْضِعِ جَبْہَتِہِ۔ (مسند احمد: ۴۶۶۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم پر سجدۂ تلاوت والی سورت کی تلاوت کرتے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں نہیں ہوتے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدۂ تلاوت کرتے تو ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے، حتیٰ کہ ہم میںسے بعض افراد اپنا ماتھا نیچے رکھنے کے لئے جگہ بھی نہیںپاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2016

۔ (۲۰۱۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ فَإِذَا مَرَّ بِسُجُودِ الْقُرْآنِ سَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَہُ ۔ (مسند احمد: ۶۴۶۱)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن کی سجدے والی آیت سے گزرتے تو سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2017

۔ (۲۰۱۷) عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّجْمَ فَلَمْ یَسْجُدْ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۲۷)
سیدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سورۂ نجم کی تلاوت کی اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سجدۂ تلاوت نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2018

۔ (۲۰۱۸) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ الْمُسْلِمُونَ إِلاَّ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ أَخَذَ کَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَرَفَعَہُ إِلٰی جَبْہَتِہِ فَسَجَدَ عَلَیْہِ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: فَرَایْتُہُ بَعْدُ قُتِلَ کَافِرًا۔ (مسند احمد: ۳۶۸۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ قریش کا ایک آدمی تھا، اس نے مٹھی بھر مٹی اپنی پیشانی کی طرف اٹھائی اور اسی پر سجدہ کر لیا۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا تھا کہ وہ آدمی بحالت ِ کفر قتل ہو گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2019

۔ (۲۰۱۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأَ النَّجْمَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَہُ إِلاَّ رَجُلَیْنِ أَرَادَا الشُّہْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۸۰۲۱)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ نجم پڑھی اورسجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، البتہ دو آدمیوں نے سجدہ نہیں کیا تھا، ان کا مقصد شہرت طلبی تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2020

۔ (۲۰۲۰) عَنْ جَعْفَرِبْنِ المُطَّلِبِ بْنِ أَبِیْ وَدَاعَۃَ السَّہْمِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَرَأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ سُوْرَۃ َالنَّجْمِ فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَہُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ وَأَبَیْتُ أَنْ أَسْجُدَ۔ وَلَمْ یَکُنْ أَسْلَمَ یَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ، وَکَانَ بَعْدُ لَا یَسْمَعُ أَحَدًا قَرَأَھَا إِلاَّ سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۴۴)
سیدنا مطلب بن ابو وداعہ سہمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ میں سورۂ نجم کی تلاوت کی اورسجدہ کیا اور جو لوگ آپ کے پاس تھے، انہوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ میں نے اپنا سر اٹھا لیا تھا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ دراصل سیدنا مطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان دنوں مسلمان نہیں ہوئے تھے، قبولیت ِ اسلام کے بعد وہ جب بھی کسی کواس کی تلاوت کرتے سنتے توسجدہ کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2021

۔ (۲۰۲۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَقَالَ الْمُطَّلِبُ: فَلَا أَدَعُ السُّجُوْدَ فِیْھَا أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۱۵۵۴۳)
۔ (دوسری سند)سیدنا مطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: قبولیت ِ اسلام کے بعد میں نے اس سورت میں کبھی بھی سجدہ ترک نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2022

۔ (۲۰۲۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَجَدْ نَا مَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی {إِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ} وَ {اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ}۔ (مسند احمد: ۹۹۴۰)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سورۂ انشقاق اور سورۂ علق میں سجدۂ تلاوت کیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2023

۔ (۲۰۲۳) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفُضِّلَتْ سُوْرَۃُ الْجَجِّ عَلٰی سَائِرِ الْقُرْآنِ بِسَجْدَتَیْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَمَنْ لَمْ یَسْجُدْھُمَا فَلَا یَقْرَأْھُمَا۔ (مسند احمد: ۱۷۵۴۷)
سیدناعقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا سورۂ حج کو دو سجدوں کی وجہ سے باقی قرآن پر فضیلت دی گئی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اورجو یہ سجدے نہ کرے، وہ اس کی تلاوت بھی نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2024

۔ (۲۰۲۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَجَدَ فِیْ صٓ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا آپ نے سورۂ ص میں سجدہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2025

۔ (۲۰۲۵) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّہُ قَالَ فِی السُّجُودِ فِیْ صٓ: لَیْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُوْدِ وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْجُدُ فِیْھَا۔ (مسند احمد: ۳۳۸۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، انہوں نے سورۂ ص کے سجدہ کے بارے میں کہا: یہ ضروری سجدوں میں سے نہیں ہے، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2026

۔ (۲۰۲۶) عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) سَجَدَ فِیْ صٓ۔ (مسند احمد: ۵۴۱)
سائب بن یزیدسے روایت ہے کہ سیدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سورۂ صٓ میں سجدہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2027

۔ (۲۰۲۷) عَنِ الْعَوَّامِ بِنْ حَوْشَبٍ قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاھِدًا عَنِ السَّجْدَۃِ الَّتِی فِی صٓ، فَقَالَ نَعَمْ، سَأَلْتُ عَنْہَا ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ أَتَقْرَأُ ھٰذِہِ الْآیَۃَ؟ (وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ دَاوُدَ وَسُلَیْمَانَ) وَفِی آخِرِھَا (فَبِہُدَاھُمُ اقْتَدِہْ) قَالَ أُمِرَ نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَقْتَدِیَ بِدَاوُدَ ۔ (مسند احمد: ۳۳۸۸)
عوّام بن حوشب کہتے ہیں: میں نے مجاہد سے سورۂ ص والے سجدے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: جی ہاں، یہ سجدہ ہے، اور میں نے اس کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا: کیا تو یہ آیت پڑھتا ہے: {وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاودَ وَ سُلَیمَانَ}، اسی کے آخر میں ہے: {فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ} (اے محمد! آپ بھی ان کی ہدایت کی پیروی کریں)۔ دیکھیں کہ تمہارے نبی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ داود علیہ السلام کی پیروی کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2028

۔ (۲۰۲۸) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَأَی رُؤْیَا أَنَّہُ یَکْتُبُ صٓ فَلَمَّا بَلَغَ إِلٰی سَجْدَ تِہَا، قَالَ: رَأَی الدَّوَاۃَ وَالْقَلَمَ وَکُلَّ شَیْئٍ بِحَضْرَتِہِ انْقَلَبَ سَاجِدًا، قَالَ فَقَصَّہَا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَزَلْیَسْجُدُ بِہَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۶۳)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ خواب دیکھا کہ وہ سورۂ ص لکھ رہے ہیں، جب اس کی سجدہ والی آیت کے پاس پہنچے تو انہوں نے دوات،قلم اور اپنے پاس والی ہر چیز کودیکھا کہ وہ سجدے کی حالت میں ہو گئی، پھر جب انہوں نے یہ خواب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بیان کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سجدہ کرنا شروع کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2029

۔ (۲۰۲۹) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِی رِوَایَۃٍ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَارِ جًا مِنَ الْمَسْجِدِ) فَاتَّبَعْتُہُ حَتّٰی دَخَلَ نَخْلاً فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُوْدَ، حَتّٰی خِفْتُ أَوْ خَشِیْتُ أَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ قَدْ تَوَفَّاہُ أَوْ قَبَضَہُ، قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَہُ، فَقَالَ: ((مَالَکَ یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ، فَقَالَ: ((إِنَّ جِبْرِیْلَ علیہ السلام قَالَ لِیْ: أَلَا أُبَشِّرُکَ؟ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ لَکَ مَنْ صَلّٰی عَلَیْکَ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَیْکَ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ)) (مسند احمد: ۱۶۶۲)
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا اور جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مسجد میں سے نکلتے ہوئے دیکھا، تو میں آپ کے پیچھے ہو لیا،حتیٰ کہ آپ نے کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہوکر سجدہ کیا اور اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے یہ خوف آنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فوت کر دیا ہے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب آیا، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: اے عبدالرحمن! تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سن کر فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: کیا میں آپ کو یہ خوشخبری نہ دوںکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا ہے کہ جو آپ پر درود پڑے گا، میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جو آ پ پر سلام بھیجے گا، میں اس پر سلامتی نازل کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2030

۔ (۲۰۳۰) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِالْوَاحِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَوَجَّہَ نَحْوَ صَدَفَتِہِ فَدَخَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَأَطَالَ السُّجُوْدَ حَتّٰی ظَنُنْتُ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَبَضَ نَفْسَہُ فِیْہَا، فَدَنَوْتُ مِنْہُ فَجَلَسْتُ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا؟)) قُلْتُ: عَبْدُالرَّحْمٰنِ، قَالَ: ((مَاشَأْنُکَ؟)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! سَجَدْتَّ سَجْدَۃً خَشِیْتُ أَنْ یَکُونَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ قَدْ قَبَضَ نَفْسَکَ فِیْھَا، فَقَالَ: ((أِنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَتَانِیْ فَبَشَّرَنِیْ فَقَالَ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی عَلَیْکَ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَیْکَ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَسَجَدْتُّ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شُکْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۴)
سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بلند کھجوروں کی طرف نکلے، ان میں داخل ہوئے اورقبلہ رخ ہو کر سجدہ میں گر پڑے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا سجدہ کیاکہ مجھے تو یہ گمان ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کرلی ہے، بہرحال میں آپ کے قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھا لیا اور فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: عبدالرحمن ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا سجدہ کیا ہے کہ میں ڈر گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت کر دیا ہے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے یہ خوشخبری دی: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو آدمی آپ کے لیے رحمت کی دعا کرے گا، میں اس پر رحمت بھیجوں گا اور جو آپ پر سلام بھیجے گا، میںبھی اس پر سلام بھیجوں گا، تو میںنے اللہ تعالیٰ کے لئے شکرانے کے طور پر سجدہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2031

۔ (۲۰۳۱) عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ شَہِدَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ بَشِیْرٌیُبَشِّرُہُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَّہُ عَلٰی عَدُوِّھِمْ وَرَأَسُہُ فِیْ حِجْرِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ أَنْشَأَ یُسَائِلُ الْبَشِیْرَ فَأَخْبَرَہُ فِیْمَا أَخْبَرَہُ اَنَّہُ وَلِیَ أَمْرَھُمُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْآنَ ھَلَکَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَائَ، ھَلَکَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَائَ۔)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۹)
ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا کہ ایک بشارت دینے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خوشخبری دینے آیا تھا کہ آپ کا لشکر دشمن پر غالب آ گیا ہے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی گود میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھ کر سجدہ کی حالت میںگر گئے، پھر بشارت دینے والے سے سوال و جواب کرنے لگے، اس نے مختلف باتیں بتائیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کے حکومتی معاملات کی والی ایک عورت بن گئی ہے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب وہ مرد ہلاک ہوگئے، جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگ گئے، وہ مرد ہلاک ہوگئے جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ ارشاد دہرایا۔

آیت نمبر