Musnad Ahmad

Search Results(1)

38)

38) نفل نماز کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2168

۔ (۲۱۶۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاأَھْلَ الْقُرْآنِ! أَوْتِرُوْا فإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو، یقینا اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2169

۔ (۲۱۶۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاأَھْلَ الْقُرْآنِ! أَوْتِرُوْا فإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2170

۔ (۲۱۷۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۷۴۹۳)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2171

۔ (۲۱۷۱) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۹۷۱۵)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو وتر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2172

۔ (۲۱۷۲) عَنْ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا۔)) قَالَھَا ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۳۴۰۷)
سیدنابریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: وتر حق ہے، جو وتر نہیں پڑھتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2173

۔ (۲۱۷۳) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ أَنَّ ابْنَ مُحَیْرِیْزٍ الْقُرَشِیَّ ثُمَّ الْجُمَحِیَّ أَخْبَرَہُ وَکَانَ بِالشَّامِ وَکَانَ قَدْ أَدْرَکَ مُعَاوِیَۃَ، فَأَخْبَرَہُ أَنَّ الْمُخْدِجِیَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْأَ نْصَارِ کَانَ بِالشَّامِ یُکَنّٰی أَبَا مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَہُ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَذَکَرَ الْمُخْدِجِیُّ أَنَّہُ رَاحَ إِلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَذَکَرَلَہَ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ یَقُوْلُ: اَلْوِتْرُ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: کَذَبَ أَبُوْ مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((خَمْسُ صَلَواتٍ کَتَبَہُنَّ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَی الْعِبَادِ مَنْ أَتٰی بِہِنَّ، لَمْ یُضَیِّعْ مِنْھُنَّ شَیْئًا اِسْتِخْفَافًا بِحَقِّہِنَّ کَانَ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی عَھْدٌ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَمْ یَأْتِ بِہِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ عَہْدٌ، اِنْ شَائَ عَذَّبَہُ وَإِنْ شَائَ غَفَرَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۶۹)
ابن محیریز جمحی شام میں تھے، انھوں نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی پایا تھا، انھوںنے بتایا کہ بنوکنانہ کے مخدجی آدمی نے بتلایا کہ شام میں سکونت پذیر ایک انصاری آدمی ابو محمد نے کہا کہ وتر واجب ہے، یہ سن کر مخدجی، سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا کہ ابو محمدانصاری کہہ رہا ہے کہ وتر واجب ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ بولا ہے، میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جس نے ان کو ادا کیا اور کسی کے حق کو کمزور سمجھتے ہوئے ان میں سے کسی نماز کو ضائع نہیں کیا، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے یہ عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، لیکن جس نے ان کو ادا نہ کیا تو اس کے لئے اللہ کے ہاں کوئی عہد نہیں ہے، اگر اس نے چاہا تو اسے عذاب دے گا اور چاہا تو بخش دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2174

۔ (۲۱۷۴) عَنْ نَافِعٍ سَأَلَ رَجُلٌ اِبْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ أَوَاجِبٌ ھُوَ؟ فَقَالَ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُسْلِمُوْنَ۔ (مسند احمد: ۵۲۱۶)
جنابِ نافع کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا کہ کیایہ نماز واجب ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور مسلمانوں نے نمازِ وتر پڑھی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2175

۔ (۲۱۷۵) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَرَأَیْتَ الْوِتْرَ أَسُنَّۃٌ ھُوَ؟ قَالَ: مَاسُنَّۃٌ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ، قَالَ: لَا، أَسُنَّۃٌ ھَُو؟ قَالَ: مَہْ، أَتَعْقِلُ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ۔ (مسند احمد: ۴۸۳۴)
۔ (دوسری سند)ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: وتر کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ سنت ہے؟ انہوں نے کہا: سنت کیا ہوتی ہے؟ بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز وتر پڑھی ہے اور مسلمانوں نے بھییہ نماز پڑھی ہے۔ اس نے کہا: نہیں، نہیں، میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیاوہ سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا: ٹھہر جا ذرا، کیا تیری عقل کام کرتی ہے؟ میں کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ وتر پڑھی ہے اور مسلمانوں نے بھی ہے، (لہٰذا ہمیں پڑھنی چاہیے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2176

۔ (۲۱۷۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحَمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوْخِیِّ قَاضِیْ إِفْرِیْقِیَۃَ أَنَّ مُعَاذَ ابْنَ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَدِمَ الشَّامَ وَأَھْلُ الشَّامِ لَایُوْتِرُوْنَ، فَقَالَ لِمُعَاوِیَۃَ: مَا لِی أَرٰی أَھْلَ الشَّامِ لَایُوتِرُونَ؟ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: وَوَاجِبٌ ذَالِکَ عَلَیْہِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((زَادَنِیْ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ صَلَاۃً وَھِیَ اَلْوِتْرُ، وَوَقُتْہَا مَا بَیْنَ الْعِشَائِ إِلٰی طُلُوْعِ الْفَجْرِ)) (مسند احمد: ۲۲۴۴۶)
قاضی افریقہ عبد الرحمن بن رافع تنوخی سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام میں آئے، جبکہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے تھے، انہوں نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے؟ انھوں نے کہا: کیایہ نماز ان پر ضروری ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے ایک اور نماز دی ہے اوروہ وتر ہے اور اس کا وقت عشاء سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2177

۔ (۲۱۷۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَلْوِتْرُ لَیْسَ بِحَتْمٍ کَالصَّلَاۃِ وَلٰکِنَّہُ سُنَّۃٌ سَنَّہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۶۱)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: وتر کی نماز فرضی نمازوں کی طرح حتمی نہیںہے، بلکہ یہ سنت ہے، جسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسنون قرار دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2178

۔ (۲۱۷۸) عَنْ أَبِیْ تَمِیْمٍ الْجَیْشَانِیِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا بَصَرَۃَ حَدَّثَنِیْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ زَادَکُمْ صَلَاۃً وَھِیَ الْوِتْرُ، فَصَلُّوْھَا فِیْمَا بَیْنَصَلَاۃِ الْعِشَائِ إِلٰی صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔)) قَالَ أَبُوْ تَمِیْمٍ: فَأَخَذَ بِیَدِیْ أَبُوْذَرٍّ فَسَارَ فِی الْمَسْجِدِ إِلٰی أَبِی بَصْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ مَا قَالَ عَمْرٌو؟ قَالَ أَبُوْبَصْرَۃَ: أَنَا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۵۲)
ابو تمیم جیشانی سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: سیدنا ابو بصرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز اور دی ہے اور وہ وتر ہے،تم اس کو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانےوقت میں ادا کیا کرو۔ ابو تمیم کہتے ہیں: سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں سیدنا ابو بصرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئے اور ان سے کہا: جو بات سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں، کیا آپ نے وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، انھوں نے کہا: ہاں، میں نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2179

۔ (۲۱۷۹) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَزَادَ: فَانْطَلَقْنَا إِلٰی أَبِیْ بَصْرَۃَ فَوَجَدَنَاہُ عِنْدَ الْبَابِ الَّذِییَلِی دَارَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ أَبُوْذَرٍّ: یَا أَبَا بَصْرَۃَ! أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللَّہَ عَزَّوَجَلَّ زَادَکُمْ صَلَاۃً، صَلُّوْھَا فِیْمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ إِلٰی صَلَاۃِ الصُّبْحِ، الْوِتْرُالْوِتْرُ۔))؟ قَالَ: نَعْمَ، قَالَ: آنْتَ سَمِعْتَہُ؟ قَالَ: نَعْمَ، قَالَ: آنْتَ سَمِعْتَہُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۷۱)
۔ (دوسری سند)اسی طرح ہی ہے، البتہ کچھ تفصیل اس طرح ہے: تو ہم سیدنا ابو بصرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئے اور ان کو اس دروازے کے پاس پایا جو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے قریب تھا، سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابو بصرہ! کیا آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اور نماز دی ہے، تم اس کو نماز عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانی وقت میں ادا کیا کرو، وہ وتر ہے، وہ وتر ہے ۔ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوںنے پھر کہا: کیا آپ نے واقعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2180

۔ (۲۱۸۰) عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ ضِفْتُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَہُ فَضَرَبَہَا وَقَالَ: یَا أَشْعَثُ! اِحْفَظْ عَنِّیْ ثَلَاثًا، حَفِظْتُہُنَّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَاتَسْأَلِ الرَّجُلَ فِیْمَ ضَرَبَ امْرَأَتَہُ وَلَا تَنَمْ إِلاَّ عَلٰی وِتْرٍ وَنَسِیْتُ الثَّالثَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲)
اشعث بن قیس کہتے ہیں: میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مہمان بنا، پہلے تو انہوں نے اپنی بیوی کو پکڑ کر مارا اور پھر کہا: اے اشعث! تین چیزیں مجھ سے یاد کرلو، میں نے یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یاد کی تھیں، آدمی سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے، وتر ادا کیے بغیر نہ سوؤ اور تیسری بات میں بھول گیا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2181

۔ (۲۱۸۱) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوِتْرُ فِی أَوَّلِ اللَّیْلِ وَفِی وَسَطِہِ وَفِی آخِرِہِ، ثُمَّ ثَبَتَ لَہُ الْوِتْرُ فِی آخِرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۸)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی تو رات کے ابتدائی حصے، کبھی درمیانی حصے میں اور بسا اوقات آخری حصے میں وتر ادا کرتے تھے، پھر بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وتر کے آخری حصہ رات میں ہی ہوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2182

۔ (۲۱۸۲) وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ زَوَائِدِ عَبْدِ اللّٰہِ عَلٰی مُسْنَدِ اَبِیْہِ مِثْلُہُ۔
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی ایک اور حدیث بیان کی، ہے جو مسند احمد کی حدیث جیسی اور زوائد عبداللّٰہ میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2183

۔ (۲۱۸۳) وَعَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ یُوْتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَیُصَلِّیْ الرَّکْعَتَیْنِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیِْ اَلْفَجْرِ) عِنْدَ الْأِقَامَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۵۹)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اذان کے وقت وتر پڑھتے اور اقامت کے وقت فجر کی دو سنیں ادا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2184

۔ (۲۱۸۴) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْوِتْرُ بِلَیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۱۴)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وتر رات کی نماز ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2185

۔ (۲۱۸۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِأَبِیْ بَکْرٍ: ((مَتٰی تُوْتِرُ؟)) قَالَ: أَوَّلَ اللَّیْلِ بَعْدَ الْعَتَمَۃِ، قَالَ: ((فَأَنْتَ یَاعُمَرُ؟)) قَالَ: آخِرَ اللَّیْلِ، قَالَ: ((أَمَّا أَنْتَ یَا أَبَابَکْرٍ! فَأَخَذْتَ بِالثِّقَۃِ وَأَمَّا أَنْتَ یَاعُمَرُ! فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّۃِ)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۴)
سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم کب وتر پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے شروع میں ہی عشاء کی نماز کے بعد، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے آخر میں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تم نے احتیاط کو اور اے عمر! تم نے قوت کواختیار کیاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2186

۔ (۲۱۸۶) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی بِاللَّیْلٍ فَلْیَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِہِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِذَالِکَ، فَإِذَا کَانَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَھَبَتْ کُلُّ صَلَاۃِ اللَّیْلٍ وَالْوِتْرُ، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَوْتِرُوْا قَبْلَ الْفَجْرِ)) (مسند احمد: ۶۳۷۲)
جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے تھے کہ جو رات کو نماز پڑھے وہ آخر میں وتر پڑھا کرے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی حکم دیا ہے، اور جب فجر ہوگئی تورات کی ساری نماز اور وتر (کا وقت) ختم ہوگیا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2187

۔ (۲۱۸۷) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ: ((أَوْتِرُوْا قَبْلَ الصُّبْحِ)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۳)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2188

۔ (۲۱۸۸) عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍواَلْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّیْلِ وَأَوْسَطَہُ وَآخِرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۲۱)
سیدناابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی تو رات کے ابتدائی حصے میں، کبھی درمیانے حصے میں اور بسا اوقات آخری حصے میں نمازِ وتر پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2189

۔ (۲۱۸۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مِنْ کُلِّ اللَّیْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْتَھٰی وِتْرُہُ إِلَی السَّحَرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۹۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رات کے ہر حصے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ وتر پڑھی ہے، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وتر سحری تک ختم ہو جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2190

۔ (۲۱۹۰) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رُبَمَا أَوْتَرَ قَبْلَ أَنْ یَّنَامَ، وَرُبَمَا أَوْتَرَ بَعْدَ أَنْ یَّنَامَ، وَرُبَمَا اِغْتَسَلَ قَبْلَ أَنْ یَنَامَ، وَرُبَمَا نَامَ قَبْلَ أَنْ یَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۸۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بسا اوقات سونے سے پہلے وتر پڑھا کرتے اور کبھی کبھار سونے کے بعد پڑھ لیتے، اسی طرح بسا اوقات سونے سے پہلے غسل جنابت کر لیا کرتے اور کبھی کبھار اِس غسل سے پہلے سو جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2191

۔ (۲۱۹۱) عَنْ أَبِیْ نَہِیْکٍ أَنَّ أَبَاالدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وِتْرَ لِمَنْ أَدْرَکَ الصَّبْحَ، فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنْ الْمُوَْمِنِیْنَ إِلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَأَخْبَرُوْھَا، فَقَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصْبِحُ فَیُوْتِرُ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۸۶)
ابونہیک سے مروی ہے کہ سیدناابو الدردا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے، ایک دن انھوں نے کہا کہ جو آدمی صبح کو پا لے، اس کے لیے کوئی وتر نہیں ہے، یہ سن کر کچھ لوگ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس چلے گئے اور ان کو یہ بات بتلائی، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2192

۔ (۲۱۹۲) عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ وَنَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ فَمَنْ کَانَ مِنَّا فِیْ رَکْعَۃٍ شَفَعَ إِلَیْہَا أُخْرٰی حَتّٰی اِجْتَمَعْنَا إِلَیْہِ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّیْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ فِیْ وَسَطِہِ، ثُمَّ اَثْبَتَ الْوِتْرَ فِیْ ھٰذِہِ السَْاعَۃِ، قَالَ: وَذَالِکَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۹۷۴)
عبد خیر کہتے ہیں: ہم مسجد میں تھے، سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے، ہم سے جو ایک رکعت پڑھ چکا تھا، (لیکن اس کی ایک رکعت باقی تھی تو) اس نے وہ رکعت ادا کی،یہاں تک کہ ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، انہوں نے کہا: پہلے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے شروع میں وتر پڑھتے تھے، پھر اس کے درمیان میں پڑھنے لگے، لیکن بعد میں اس وقت میں نمازِ وترکی ادائیگی کو برقرار رکھا۔ یہ طلوعِ فجر کے قریب کا وقت تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2193

۔ (۲۱۹۳) عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی أَسَدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا عَلَیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلُوْہُ عَنِ الْوِتْرِ،قَالَ: فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نُّوْتِرَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ، ثَوِّبْ یَا ابْنَ التَّیَّاحِ! أَوْ أَذِّنْ أَوْ أَقِمْ (وَفِیْ لَفْظٍ:) قَالَ: خَرَجَ عَلِیٌّ حِیْنَ ثَوَّبَ الْمُثّوِّبُ لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۸۹)
بنو اسد کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہمارے پاس سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے،لوگوں نے ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس وقت وتر پڑھیں۔ پھر کہا: ابن تَیّاح! الصلاۃ خیر من نوم کہو یا اذان کہو یا اقامت کہو۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس وقت نکلے، جب مؤذن نے نمازِ فجر کے لیے الصلاۃ خیر من نوم کے الفاظ پر مشتمل اذان کہی۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2194

۔ (۲۱۹۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی اللَّیْلَ مَثْنٰی مَثْنٰی، ثُمَّ یُوْتِرُ بِرَکْعَۃٍ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ، ثُمَّ یَقُوْمُ کَأَنَّ الْأَذَانَ أَوِ الإِْقَامَۃَ فِیْ أُذُنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۴۸۶۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر ادا کرتے، پھر (فجر کی دو سنتیں ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہوتے اور (اتنا جلدی ادا کر لیتے) کہ گویا کہ اذان یا اقامت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کان میں ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2195

۔ (۲۱۹۵) عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَادِرُوْا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ۔)) (مسند احمد: ۴۹۵۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وتر کی نماز کو صبح سے پہلے پہلے ادا کر لیاکرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2196

۔ (۲۱۹۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاۃِ النَّھَارِ، فَأَوْتِرُوْا صَلَاۃَ اللَّیْلِ، وَصَلَاۃُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی، وَالْوِتْرُ رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۵۵۴۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مغرب کی نماز، دن کی نماز کا وتر ہے، اور تم (نماز وتر ادا کر کے) رات کو نماز کو طاق کر لیا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخر میں وتر ایک رکعت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2197

۔ (۲۱۹۷) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِجْعَلُوْا آخِرَ صَلَاتِکُمْ بِاللَّیْلِ وِتْرًا۔)) (مسند احمد: ۴۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وتر کو اپنی رات کی آخری نماز بناؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2198

۔ (۲۱۹۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ ظَنَّ مِنْکُمْ أَنْ لَا یَسْتَیْقِظَ آخِرَہُ فَلْیُوْتِرْ أَوَّلَہُ، وَمَنْ ظَنَّ مِنْکُمْ أَنَّہُ یَسْتَیْقِظُ آخِرَہُ فَلْیُوْتِرْ آخِرَہُ، فَإِنَّ صَلَاۃَ آخِرِ اللَّیْلِ مَحْضُوْرَۃٌ وَھِیَ أَفْضَلُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۵۶)
سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس شخص کو یہ گمان ہو کہ وہ رات کے آخرحصے میں بیدار نہیں ہو سکے گا تو وہ رات کے شروع میں ہی وتر پڑھ لے، لیکن جس شخص کا یہ خیال ہو کہ وہ رات کے آخر میں بیدار ہوجائے گا، تو وہ اس کے آخر میں ہی وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ سب سے بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2199

۔ (۲۱۹۹) عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ: أَیُّ سَاعَۃٍ تُوْتِرِیْنَ؟ قَالَتْ: مَا أُوْتِرُ حَتّٰییُؤَذِّنُوْا وَمَا یُؤَذِّنُوْنَ حَتّٰییَطْلُعَ الْفَجْرُ، قَالَتْ: وَکَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُؤَذِّنَانِ، بِلَالٌ وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا أَذَّنَ عَمْرٌو فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا، فَإِنَّہُ رَجُلٌ ضَرِیْرُ الْبَصَرِ وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَارْفَعُوْا أَیْدِیَکُمْ فَإِنَّ بِلَالاً لَایُؤَذِّنُ (کَذَا قَالَ) حَتّٰییُصْبِحَ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۳۷)
اسود بن یزید کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: آپ کس وقت وتر پڑھتی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں تو اس وقت تک وتر نہیں پڑھتی، جب تک مؤذن اذانیں نہ دے دیں اور وہ اذانیں بھی طلوعِ فجر کے بعد دیتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دو مؤذن تھے، سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمرو بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ: جب عمرو اذان کہے تو تم کھا پی لیا کرو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے، لیکن جب بلال اذان کہے تو کھانے پینے سے ہاتھ اٹھالیا کرو، کیونکہ جب تک صبح نہ ہو جائے، اس وقت تک بلال اذان نہیں دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2200

۔ (۲۲۰۰) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحُصَیْنِ أَنَّہُ حَدَّثَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّیْ الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ یُوْتِرُ بِوَاحِدَۃٍ لَا یَزِیْدُ عَلَیْہَا، فَقِیْلَ لَہُ: أَتُوْتِرُ بِوَاحِدَۃٍ لَا تَزِیْدُ عَلَیْہَایَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((الَّذِیْ لَا یَنَامُ حَتّٰییُوْتِرَ حَازِمٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۱)
محمد بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد نبوی میں نماز عشاء ادا کرتے اور اس کے بعد صرف ایک رکعت وتر ادا کرتے، مزید کوئی نفل نہ پڑھتے، کسی نے ان سے کہا: اے ابو سحاق! کیاآپ ایک ہی رکعت پڑھتے ہیں اوراس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھتے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص وتر پڑھ کر ہی سوتا ہے، وہ محتاط ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2201

۔ (۲۲۰۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُصَلِّیَ مِنَ اللَّیْلِ؟ قَالَ: ((یُصَلِّی أَحَدُکُمْ مَثْنٰی مَثْنٰی فَإِذَا خَشِیَ الصُّبْحَ صَلّٰی وَاحِدَۃً فَأَوْتَرَتْ لَہُ مَا قَدْ صَلّٰی مِنَ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۹۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں رات کو کیسے نماز پڑھنے کا حکم دیںگے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی دو دو رکعت کر کے نماز پڑھتا رہے، جب صبح طلوع ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، یہ ایک رکعت اس کی رات کو پڑھی ہوئی نماز کو طاق کر دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2202

۔ (۲۲۰۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: صَلَاۃُ اللَّیْلِ (وَفِی رِوَایَۃٍ وَالنَّہَارِ) مَثْنٰی مَثْنٰی تُسَلِّمُ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَکْعَۃً تُوْتِرُ لَکَ مَا قَبْلَہَا۔)) (مسند احمد: ۵۱۰۳)
۔ (دوسری سند)اس میں یہ تفصیل ہے: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے،تو ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتا رہے، لیکنجب تو صبح کے طلوع ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ تیرے لئے پہلے والی ساری نماز کو وتر یعنی طاق بنا دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2203

۔ (۲۲۰۳) عَنْ أَبِیْ مِجْلَزِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ۔)) وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۳۶)
ابو مجلز کہتے ہیں: میں نے سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا توانہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔ پھر میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2204

۔ (۲۲۰۴) عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوْتِرْ بَخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ تَسَتَطِعْ فَبِثَلَاثِ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِوَ احِدَۃَ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِیْٔ إِیْمَائً۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۴۱)
سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پانچ رکعت وتر پڑھ، اگر تجھے اتنی طاقت نہ ہو تو تین پڑھ لے، اگر تجھے یہ قدرت بھی نہ ہو تو ایک پڑھ لے اور اگر تجھے یہ استطاعت بھی حاصل نہ ہو تو اشارہ کرکے پڑھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2205

۔ (۲۲۰۵) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ اللَّیْلَۃَ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ، فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَہُ أَوْ فُسْطَاطَہٗفَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ، ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ طَوِ یَلَتَیْنِ، ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَھُمَا دُوْنَ اللَّتَیْنِ قَبْلَہُمَا، ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْن دُوْنَ اللّتَیْنِ قَبْلَھُمَا، ثُمَّ صَلّٰی رْکَعَتَیْنِ دُوْنَ اللَّتَیْنِ قَبْلَہُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَالِکَ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۲۰)
سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: میں آج رات ضرور بالضرور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز دیکھوں گا، پس میں نے آپ کی دہلیز پر یا خیمے کو تکیہ بنا اور دیکھنے لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں، پھر طویل دو رکعتیں ادا کیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، لیکنیہ پہلے والیوں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، لیکن اپنے والی پہلے دو سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں،یہ بھی اپنے سے پہلے والی دو سے کم تھیں، پھر وتر ادا کیے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہو گئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2206

۔ (۲۲۰۶) عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ (وَفِیْ رَوَایَۃٍ وَیُصَلِّیْ رَکَعَتَیِ اَلْفَجْرِ) فَلَمَّا کَبِرَ صَارَ إِلٰی تِسْعٍ، سِتٍّ وَثَلَاثٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۱۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کوآٹھ رکعت نماز اور تین وتر پڑھتے، اس کے بعد فجر والی دو سنتیں پڑھتے، پھرجب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمر رسیدہ ہوگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز نو رکعت ہو گئی،یعنی چھ رکعت اورتین وتر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2207

۔ (۲۲۰۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُوْتِرُ بِثَـلَاثٍ۔ (مسند احمد: ۶۸۵)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین وتر پڑھا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2208

۔ (۲۲۰۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوتَرَ بِثَلَاثٍ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} وَ{قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} وَ{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}۔ (مسند احمد: ۲۷۲۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین وتر ادا کیے اور ان میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2209

۔ (۲۲۰۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃًیُوْتِرُ بَخَمْسٍ وَلَا یَجْلِسُ إِلاَّ فِی الْخَامِسَۃِ فَیُسَلِّمُ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۴۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کوتیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، ان میں پانچ رکعت نمازِ وتر ہوتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (یہ پانچ رکعتیں اکٹھی ادا کرتے) اور پانچویں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھتے اور پھر سلام پھیرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2210

۔ (۲۲۱۰) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً بِرَکْعَتَیْۃِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ، إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً مِنَ اللَّیْلِ، سِتٌّ مِنْہَا مَثْنٰی مَثْنٰی وَیُوْتِرُبِخَمْسٍ لَایَقْعُدُ فِیْہِنَّ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۹۰)
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو تیرہ رکعات نماز پڑھتے تھے، ان میں وہ دو سنتیں بھی شامل ہوتیں، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طلوعِ فجر کے بعد اور نمازِ فجر سے پہلے پڑھتے تھے، اس طرح رات کی کل گیارہ رکعتیں رہ گئیں، ان میں سے چھ رکعتیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو کر کے ادا کرتے اور پانچ وتر اس طرح ادا کرتے کہ (درمیانے تشہد کے لیے) بیٹھتے نہیں تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2211

۔ (۲۲۱۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِسَبْعٍ وَبِخَمْسٍ لَایَفْصِلُ بَیْنَہُنَّ بِسَلَامٍ وَلَا بِکَلَامٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۱۹)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات اور پانچ وتر پڑھتے تھے اوران میں سلام یا کلام کے ساتھ فاصلہ نہیں کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2212

۔ (۲۲۱۲) عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِتِسْعٍ حَتّٰی إِذَا بَدُنَ وَکَثُرَ لَحْمُہُ أَوْتَرَ بِسَبِعٍ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ فَقَرأَ بِـ{إِذَا زُلْزِلَتْ} وَ{قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ}۔ (مسند احمد: ۲۲۶۶۹)
سیدناابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نو(۹) وتر پڑھا کرتے تھے، لیکن جب آپ موٹے ہوگئے اور آپ کا گوشت زیادہ ہوگیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات وتر پڑھتے تھے اور (وتروں کے بعد) بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، ان میں سورۂ زلزال اور سورۂ کافرون کی تلاوت کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2213

۔ (۲۲۱۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِتِسْعِ رَکَعَاتٍ وَرَکْعَتََیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ فَلَمَّا ضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ وَرَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۶۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نو رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے، جب آپ ضعیف ہوگئے تو سات وتر پڑھتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2214

۔ (۲۲۱۴) وَعَنْہَا أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّیْ تِسْعَ رَکَعَاتٍ، لَا یَقْعُدُ فِیْہِنَّ إِلاَّ عَنْدَ الثَّامِنَۃِ، فَیَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَیَذْکُرُہُ وَیَدْعُوْ، ثُمَّ یَنْہَضُ وَلَا یُسَلِّمُ، ثُمَّ یَصَلِّی التَّاسِعَۃَ فَیَقْعُدُیَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَیَذْ کُرُہُ وَیَدْعُوْ، ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیْمًایُسْمِعُنَا، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ قَاعِدٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۶۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نو رکعت نماز پڑھتے،اور ان میں آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے، اس طرح نوویں رکعت ادا کرتے اور پھر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰکی تعریف ، اس کا ذکر اور اس سے دعا کرتے اور پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہم سن رہے ہوتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2215

۔ (۲۲۱۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَیْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ بِکَمْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ؟ قَالَتْ: بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرَۃٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ یَکُنْیُوْتِرُ بِأَکْثَرَ مِنَ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ، وَلَا أَنْقَصَ مِنْ سَبِعٍ وَکَانَ لَایَدَعُ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۷۴)
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کتنے وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: چار اور تین، چھ اور تین، دس اورتین اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرہ سے زیادہ اور سات سے کم وتر نہیں پڑھتے تھے اور آپ (فجر سے پہلے) دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2216

۔ (۲۲۱۶) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ بَعَدَ الْوِتْرِ وَھُوَ جَاِلسٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۸۸)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2217

۔ (۲۲۱۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْصِلُ بَیْنَ الْوِتْرِ وَالشَّفْعِ بِتَسْلِیْمَۃٍ وَّیُسْمِعُنَاھَا۔ (مسند احمد: ۵۴۶۱)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (تین) وتروں میں ایک اور دو رکعتوں کے درمیان ایک دفعہ سلام کے ساتھ فاصلہ کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں یہ سلام سناتے بھی تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2218

۔ (۲۲۱۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِی الْحُجْرَۃِ وَأَنَا فِی الْبَیْتِ فَیَفْصِلُ بَیْنَ الشَّفْعِ وَالْوِتْرِ بِتَسْلِیْمٍیُسْمِعُنَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۴۶)۔
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجرے میں نماز پڑھتے اور میں گھر میں ہوتی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وتر کی دو اور ایک رکعت میں فاصلہ کرنے کے لیے سلام پھیرتے تو آپ ہمیں وہ سلام سناتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2219

۔ (۲۲۱۹) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ، یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلَی {أَلْھَاکُمُ التَّکَاثُرُ} وَ {إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ} وَ {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ} وَفِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ {وَالْعَصْرِ} وَ {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} وَ {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ} وَفِی الثَّالِثَۃِ {قُلْ یَاأَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} وَ {تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}۔ (مسند احمد: ۶۷۸)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (۹)مفصل سورتوں کے ساتھ وتر پڑھتے تھے، آپ پہلی رکعت میں {أَلْھَاکُمُ التَّکَاثُرُ…}، {إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ…} اور {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ…} اور دوسری رکعت میں { وَالْعَصْرِ…}، {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ…} اور {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ…} اور تیسری رکعت میں {قُلْ یَاأَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ…}، {تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ…} اور {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ…} پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2220

۔ (۲۲۲۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} وَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ} وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَّنْصَرِفَ مِنْ الْوِتْرِ قَالَ: ((سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ یَرْفَعُ صَوْتَہُ فِی الثَّالِثَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۲۹)
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ وتر میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے اور جب وتر سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ کہتے اور تیسری مرتبہ آواز بلند کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2221

۔ (۲۲۲۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقْرَأُ فِی الْوِتْرِ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} وَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ} وَکَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ: ((سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ۔)) یُطَوِّلُھَا ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۱۵۴۳۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز وتر میںسورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سلام پھیرتے تو تین دفعہ لمبا کر کے سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ کہتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2222

۔ (۲۲۲۲) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ جُرَیْجٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : بِأَیِّ شَیْئٍ کَانَ یُوْتِرُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: کَانَ یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِکَ الْأَعْلٰی} وَفِی الثَّانِیَۃِ بِـ{قُلْ یَا أَیُّہَا الَْکَافِرُونَ} وَفِی الثَّالِثَۃِ بِـ{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ} وَالْمُعَوِّذَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۳۱)
عبد العزیز بن جریج کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس چیز کے ساتھ وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ پہلی رکعت میںسورۂ اعلی، دوسری رکعت میں سورۂ کافرون اور تیسری رکعت میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2223

۔ (۲۲۲۳) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُوْتِرُ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} وَ {قُلْ یَاأَیُّھَا الْکَافِرُونَ} وَ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}۔ (مسند احمد: ۲۱۴۵۹)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز وتر میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2224

۔ (۲۲۲۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی قسم حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2225

۔ (۲۲۲۵) عَنِ الْحَکَمِ قَالَ: قُلْتُ لِمِقْسَمٍ: أُوْتِرُ بِثَلَاثٍ ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَی الصَّلَاۃِ مَخَافَۃَ أَنْ تَفُوْتَنِیْ، قَالَ: لَا وِتْرَ إِلاَّ بِخَمْسٍ أَوْسَبْعٍ، قَالَ: فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِیَحَیٰ بْنِ الْجَزَّارِ وَمُجْاھِدٍ، فَقَالَا لِیْ: سَلْہُ عَمَّنْ؟ فَقُلْتُ لَہُ؟ فَقَالَ: عَنِ الثِّقَۃِ عَنْ عاَئِشَۃََ وَمَیْمُونَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۳۴)
حکم کہتے ہیں: میں نے مقسم سے کہا: میں اس ڈر سے کہ نمازِ فجر فوت نہ ہو جائے، (جلدی جلدی) تین وتر پڑھ کر نماز کی طرف نکلتا ہوں، لیکن انھوں نے کہا: وتر تو کم از کم پانچ یا سات ہوتے ہیں۔ میں نے ان کییہ بات یحییٰ بن جزار اور مجاہد کو بتلائی، انھوں نے کہا: ان سے پوچھو کہ یہ روایت کس سے بیان کرتے ہیں، جب میں نے ان سے یہ بات پوچھی تو انھوں نے کہا: مجھے ایک ثقہ راوی نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2226

۔ (۲۲۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانَ ثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو السُّحَیْمِیُّ ثَنَا جَدِّی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ بَدْرٍ قَالَ وَحَدَّثَنِیْ سِرَاجُ بْنُ عُقْبَۃَ أَنَّ قَیْسَ بْنَ طَلْقٍ حَدَّثَہُمَا أَنَّ أَبَاہُ طَلْقَ بْنَ عَلِیٍّ أَتَانَا فِی رَمَضَانَ وَکَانَ عِنْدَنَا حَتّٰی أَمْسٰی فَصَلّٰی بِنَا الْقِیَامَ فِیْ رَمَضَانَ وَأَوْتَرَ بِنَا ثُمَّ انْحَدَرَ إِلٰی مَسْجِدِ رِیْمَانَ فَصَلّٰی بِہِمْ حَتّٰی بَقِیَ الْوِتْرُ فَقَدَّمَ رَجُلاً فَأَوْتَرَ بِھِمْ وَقَالَ سَمِعْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا وِتْرَانِ فِی لَیْلَۃٍ)) (مسند احمد: ۱۶۴۰۵)
قیس بن طلق کہتے ہیں: میرے باپ طلق بن علی رمضان میں ہمارے پاس آئے اور یہیں ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ شام ہوگئی، پھر انہوں نے ہمیں رمضان میں قیام کروایا اور وتر بھی پڑھا دیئے، اس کے بعد وہ رَیمان مسجد کی طرف چلے گئے اور جا کر ان کو رات کی نماز پڑھائی، جب نمازِ وتر کی باری آئی تو انھوں نے ایک اور آدمی کو آگے کر دیا، پس اس نے وتر پڑھائے اور انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2227

۔ (۲۲۲۷) عَنِ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْوِتْرِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ أَوْتَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ثُمَّ أَرَدْتُّ أَنْ أُصَلِّیَ بِاللَّیْلِ شَفَعْتُ بِوَا حِدَۃٍ مَا مَضٰی مِنْ وِتْرِیْ ثُمَّ صَلَیْتُ مَثْنٰی مَثْنٰیفَإِذَا قَضَیْتُ صَلَاتِیْ أَوْتَرْتُ بِوَاحِدَۃٍ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَنْ یُجْعَلَ آخِرَ صَلَاۃِ اللَّیْلِ الْوِتْرُ۔ (مسند احمد: ۶۱۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب ان سے وتر کے بارے میں سوال کیاجاتا تو وہ کہتے: جہاں تک میری بات کا تعلق ہے تو اگر میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں، لیکن پھر رات کو نماز پڑھنے کا ارادہ کر لوں تو ایک رکعت ادا کر کے پہلے والے وتر کو جفت بنالیتا ہوں،پھر دو دو رکعت کرکے نماز پڑھتا رہتا ہوں، اور جب مطلوبہ نماز پوری کرلیتا ہوں تو آخر میں ایک وتر پڑھ لیتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا ہے کہ وتر کو رات کی آخری نماز بنایا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2228

۔ (۲۲۲۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ، فإِذَا انْصَرَفَ قَالَ لِیْ: ((قُوْمِیْ فَأَوْتِرِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۹۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو نماز پڑھتے رہتے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوتے تومجھے فرماتے: اٹھو اور وتر پڑھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2229

۔ (۲۲۲۹) عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہٖوَیُوْتِرُ عَلَیْہَا وَیَذْکُرُ ذَالِکَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۶۲۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھتے تھے اور اس پر وتر بھی ادا کر لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2230

۔ (۲۲۳۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْتَرَ عَلَی الْبَعِیْرِ۔ (مسند احمد: ۴۵۱۹)
سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ پر نمازِ وتر ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2231

۔ (۲۲۳۱) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: قَالَ لِی ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَمَالَکَ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُسْوَۃٌ؟ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ عَلٰی بَعِیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۵۲۰۸)
سعید بن یسار کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیاتیرے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں نمونہ نہیں ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اپنے اونٹ پر وتر پڑھ لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2232

۔ (۲۲۳۲) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہٖتَطَوُّعًا،فَإِذَاأَرَادَأَنْیُّوْتِرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَی الْأَرْضِ۔ (مسند احمد: ۴۴۷۶)
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھتے تھے، لیکن جب نمازِ وتر ادا کرنے کا ارادہ کرتے تو زمین پر اتر کر وتر ادا کرتے۔

آیت نمبر