Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

4)

4) علم کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 233

۔ (۲۳۳)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا حَسَدَ اِلَّا فِیْ اثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلَی ہَلَکَتِہِ فِیْ الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتاہ اللّٰہُ حِکْمَۃً فَہُوَ یَقْضِی بِہَا وَیُعَلِّمُہَاالنَّاسَ۔)) (مسند أحمد: ۳۶۵۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف دو چیزوں میں رشک ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر اس کو حق کے لیے بھرپور خرچ کرنے کی توفیق بھی دی اور دوسرا وہ آدمی کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو حکمت (یعنی علمِ نافع) عطا اور وہ اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 234

۔ (۲۳۴)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَائِ فِی الْأَرْضِ کَمَثَلِ النُّجُوْمِ فِی السَّمَائِ یُہْتَدٰی بِھِمْ فِیْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، فَاِذَا انْطَمَسَتِ النُّجُوْمُ یُوْشِکُ أَنْ تَضِلَّ الْہُدَاۃُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶۲۷)
سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: زمین میں اہل علم کی مثال، آسمان میں ستاروں کی سی ہے، اِن علماء کے ذریعے خشکی اور سمندری اندھیروں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے، جب یہ ستارے مٹ جائیں گے تو جلدی ہی رہنمائی کرنے والے گمراہ ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 235

۔ (۲۳۵)۔عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا بَعَثَ اَحَدًا مِنْ أَصْحَابِہِ فِیْ بَعْضِ أَمْرِہِ قَالَ: ((بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا وَیَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۳۵)
سیدناابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو کسی کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے: (لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے وقت) خوشخبریاں سنانا اور متنفر نہ کر دینا اور آسانیاں پیدا کرنا اور (دین میں) مشکلات پیدا نہ کر دینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 236

۔ (۲۳۶)وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہِ مِنَ الْہُدٰی وَالْعِلْمِ کَمَثَلِ غَیْثٍ أَصَابَ الْأَرْضَ، فَکَانَتْ مِنْہُ طَائِفَۃٌ قَبِلَتْ فَأَنْبَتَتِ الْکَلَاَ وَالْعُشْبَ الْکَثِیْرَ، وَکَانَتْ مِنْہَا أَجَادِبُ أَمْسَکَتِ الْمَائَ فَنَفَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہَا نَاسًا فَشَرِبُوْا فَرَعَوْا وَسَقَوْا وَ زَرَعُوْا وَأَسْقَوْا، وَأَصَابَتْ طَائِفَۃً مِنْہَا أُخْرٰی، اِنَّمَا ہِیَ قِیْعَانٌ لَا تُمْسِکُ مَائً وَلَا تُنْبِتُ کَلََأً، فَذٰلِکَ مَثَلُ مَنْ فَقُہَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَنَفَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِمَا بَعَثَنِیْ بِہِ وَنَفَعَ بِہِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ یَرْفَعْ بِذٰلِکَ رَأْسًا وَلَمْ یَقْبَلْ ہُدَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ الَّذِیْ أُرْسِلْتُ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۰۲)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم عطا کر کے بھیجا ہے، اس کی مثال اس بارش کی سی ہے، جو زمین پر نازل ہوئی، زمین کے ایک حصے نے اس کا پانی قبول کیا اور بہت زیادہ گھاس اگائی اور ایک حصہ سخت تھا، اس نے پانی کو روک لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے کئی لوگوں کو فائدہ پہنچایا، پس انھوں نے پانی پیا، مویشیوں کو پلایا، کھیتی کاشت کی اور اس کو سیراب کیا۔ پھر یہی بارش اس زمین پر بھی برسی، جو چٹیل میدان تھی، وہ نہ پانی کو روک سکی اور نہ گھاس اگا سکی۔ پس اول الذکر اس شخص کی مثال ہے جس نے دین میں فقہ حاصل کی، (یعنی دین کو سمجھا اور اس کا علم حاصل کیا)، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے جس چیز کے ساتھ بھیجا ہے، اس کو اس کے ذریعے نفع دیا اور پھر اس کے ذریعے لوگوں کو نفع دیا، سو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور لوگوں کو بھی اس کی تعلیم دی اور مؤخر الذکر اس آدمی کی مثال ہے، جس نے (علم اور ہدایت قبول کرنے کیلئے) سرے سے سر ہی نہیں اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی وہ ہدایت قبول نہیں کی، جس کے ساتھ اس نے مجھے مبعوث کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 237

۔ (۲۳۷)۔عَنْ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِالْحٰرِثِ أَنَّہُ لَقِیَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِؓ بِعُسْفَانَ، وَکَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَہُ عَلٰی مُلْکِہِ، فقَالَ لَہُ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَی أَھْلِ الْوَادِیْ؟ قَالَ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَیْہِمُ ابْنَ أَبْزٰی، قَالَ: وَمَا ابْنُ أَبْزٰی؟ فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ مَوَالِیْنَا، فَقَالَ عُمَرُ: اسْتَخْلَفْتَ عَلَیْہِمْ مَولًی! فَقَالَ: اِنَّہُ قَارِیئٌ لِکِتَابِ اللّٰہِ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَاضٍ، فَقَالَ عُمَرُؓ: أَمَا اِنَّ نَبِیَّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۲)
نافع بن عبدالحارث سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطابؓ کو عُسفان مقام پر ملے، سیدنا عمر ؓ نے اُس کو اس کے سابقہ ملک کا عامل بنایا ہوا تھا، سیدنا عمر ؓ نے اس سے کہا: تم وادی والوں پر کس کو نائب بنا کر آئے ہو؟ اس نے کہا: جی میں ابن ابزی کو نائب بنا کر آیا ہوں، انھوں نے کہا: ابن ابزی کون ہے؟ اس نے کہا: یہ ہمارا ایک غلام ہے، انھوں نے کہا: تم غلام کو نائب بنا آئے ہو! اس نے کہا: جی وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پڑھنے والا، فرائض کو جاننے والا اور فیصلہ کرنے والا ہے، سیدنا عمرؓ نے کہا: خبردار! تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو رفعت عطا کرتا ہے اور اسی کے ذریعے بعضوں کو ذلیل کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 238

۔ (۲۳۸)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ: أَنَّ أھَلَ الْیَمَنِ قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ فَقَالُوْا: ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا یُعَلِّمُنَا، فَأَخَذَ بِیَدِ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِؓ فَأَرْسَلَہُ مَعَہُمْ فَقَالَ: ((ھٰذَا أَمِیْنُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۸۲۰)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ یمن کے لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے پاس ایسا آدمی بھیجیں، جو ہمیں دین کی تعلیم دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ؓکا ہاتھ پکڑا اور ان کو ان کے ساتھ بھیجا اور فرمایا: یہ اس امت کا امین ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 239

۔ (۲۳۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ہٰرُوْنَ ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِیْ مَالِکُ بْنُ الْخَیْرِ الزِیَادِیُّ عَنْ أَبِیْ قَبِیْلِ نِ الْمَعَافِرِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ(ؓ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنْ أُمَّتِیْ مَنْ لَمْ یُجِلَّ کَبِیْرَنَا وَ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَ یَعْرِفْ لِعَالِمِنَا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَسَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہَارُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۳۵)
سیدنا عباد ہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ آدمی میری امت میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، چھوٹوںپر رحم نہیں کرتا اور ہمارے اہل علم کا حق نہیں پہنچانتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 240

۔ (۲۴۰)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 241

۔ (۲۴۱)۔عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ(ؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۷۰۵۵)
سیدنا معاویہ بن ابو سفیان ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 242

۔ (۲۴۲)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَزَادَ: ((وَ اِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَیُعْطِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۹۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ زائد بات ہے: صرف اور صرف میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 243

۔ (۲۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ جَبْلَۃَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ أَبِیْ سُفْیَانؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵۹)
سیدنا معاویہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین میں سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 244

۔ (۲۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ جَبْلَۃَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ أَبِیْ سُفْیَانؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵۹)
عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کے ساتھ متصل یہ کلام بھی اپنے باپ کی کتاب میں ان کے ہاتھ کے ساتھ لکھا ہوا پایا اور انھوں نے اس پر لکیر بھی لگائی ہے، لیکن اب میں یہ نہیں جانتا کہ کیا انھوں نے مجھ پر یہ پڑھا تھا یا نہیں، وہ کلام یہ ہے: اور بیشک سننے والے اور اطاعت کرنے والے کے خلاف کوئی حجت نہیں ہے اور سننے والے اور نافرمانی کرنے والے کے حق میں کوئی حجت نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 245

۔ (۲۴۵)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((النَّاسُ مَعَادِنُ، فَخَیَارُہُمْ فِی الْجَاہِلِیِّۃِ خِیَارُہُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِہُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۰۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگ بھی کان ہوتے ہیں، پس جو (خاندان اور قبیلے) جاہلیت کے زمانے میں بہتر شمار کیے جاتے ہیں، وہی زمانۂ اسلام میں بھی بہتر ہوتے ہیں، بشرطیکہ دین میں فقہ اور سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 246

۔ (۲۴۶)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَی سَائِرِ الْکَوَاکِبِ، اِنَّ الْعُلَمَائَ ہُمْ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ، لَمْ یَرِثُوْا دِیْنَارًا وَلَا دِرْہَمًا وَاِنّمَا وَرِثُوْا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۵۸)
سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: علم والے کو عبادت گزار پر اتنی فضیلت حاصل ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انھوں نے ورثے میں درہم و دینار نہیں لیے، بلکہ علم وصول کیا، پس جس شخص نے علم حاصل کیا، اس نے (نبوی میراث سے) بھرپور حصہ لے لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 247

۔ (۲۴۷)۔عَنْ قَیْسٍ بْنِ کَثِیْرٍ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلَی أَبِیْ الدَّرْدَائِ(ؓ) وَھُوَ بِدِمَشْقَ فَقَالَ: مَا أَقْدَمَکَ أَیْ أَخِیْ؟ قَالَ: حَدِیْثٌ، بَلَغَنِیْ أَنَّکَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَۃٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِحَاجَۃٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: مَا قَدِمْتَ اِلَّا فِیْ طَلْبِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہِ عِلْمًا سَلَکَ اللّٰہُ بِہِ طَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ، وَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَہَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَاِنَّہُ لَیَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّی الْحِیْتَانُ فِی الْمَائِ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَی سَائِرِ الْکَوَاکِبِ،اِنَّ الْعُلَمَائَ ہُمْ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ، لَمْ یَرِثُوْا دِیْنَارًا وَلَا دِرْہَمًا وَاِنَّمَا وَرِثُوْا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۵۸)
قیس بن کثیرکہتے ہیں: ایک آدمی مدینہ منورہ سے سیدنا ابو درداءؓ کے پاس آیا، جو کہ دمشق میں تھے، انھوں نے اس سے پوچھا: میرے بھائی! کون سی چیز تجھے لے آئی ہے؟ اس نے کہا: ایک حدیث کی خاطر آیا ہوں، مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کرتے ہو، انھوں نے کہا: کیا تو تجارت کے لیے تو نہیں آیا؟ اس نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: تو کسی اور ضرورت کے لیے تو نہیں آیا؟ اس نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: تو صرف اس حدیث کے حصول کے لیے آیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: پس بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی حصول علم کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے، اور بیشک فرشتے طالب علم کی خوشنودی کیلئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور زمین و آسمان کی ساری مخلوق عالم کے لیے بخشش کی دعا کرتی ہے، حتی کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی، اور عالم کی عبادت گزار پر اتنی فضیلت ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انھوں نے ورثے میں دینار لیے نہ درہم، بلکہ انھوں نے تو صرف علم وصول کیا ہے، جس نے یہ علم حاصل کیا، اس نے (انبیائے کرام کی میراث سے) بھرپور حصہ لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 248

۔ (۲۴۸)۔عَنْ زِرِّبْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: غَدَوْتُ اِلٰی صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِیِّؓ أَسْأَلُہُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ فَقَالَ: مَا جَائَ بِکَ؟ قُلْتُ: اِبْتِغَائَ الْعِلْمِ، قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُکَ، وَرَفَعَ الْحَدِیْثَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَہَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا یَطْلُبُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۵۸)
زِرّ بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی ؓ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے گیا، انھوں نے کہا: کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: حصولِ علم کے لیے، انھوں نے کہا: تو پھر کیا میں تجھے خوشخبری نہ سناؤں، پھر انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی یہ حدیث بیان کی: بیشک فرشتے طالب ِ علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اس چیز کی رضامندی کی خاطر جو وہ طلب کر رہا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 249

۔ (۲۴۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمرَحَلَ اِلَی فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍؓ وَھُوَ بِمِصْرَ، فَقَدِمَ عَلَیْہِ وَھُوَ یَمُدُّ نَاقَۃً لَہُ، فَقَالَ: اِنِّیْ لَمْ آتِکَ زَائِرًا، اِنَّمَا أَتَیْتُکَ لِحَدِیْثٍ بَلَغَنِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، رَجَوْتُ أَنْ یَکُوْنَ عِنْدَکَ مِنْہُ عِلْمٌ، فَرَآہُ شَعِثًا فَقَالَ: مَا لِیْ أَرَاکَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِیْرُ الْبَلَدِ؟ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْہَانَا عَنْ کَثِیْرٍ مِنَ اْلاِرْفَاہِ وَرَآہُ حَافِیًا، قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَنَا أَنْ نَحْتَفِیَ أَحْیَانًا۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۶۹)
عبد اللہ بن بریدہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی، سیدنا فضالہ بن عبیدؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ مصر میں تھے، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اونٹنی کو چارہ کھلا رہے تھے، آنے والے نے کہا: میں تمہیں ملنے کے لیے نہیں آیا، میں تو صرف ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، جو مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے پہنچی ہے اور مجھے امید ہے کہ تم بھی اس کے بارے میں کچھ جانتے ہو گے، جب انھوں نے اس کو پراگندہ بالوں والا دیکھا تو پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میں تم کو پراگندہ بالوں والا دیکھ رہا ہوں، حالانکہ تم اس شہر کے امیر ہو؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں زیادہ خوشحالی اور آسودگی سے منع کرتے تھے، نیز انھوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ انھوں نے جوتا پہنا ہوا نہیں تھا، انھوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں بعض اوقات جوتا اتار دینے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 250

۔ (۲۵۰)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہُ طَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۹۹)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی علم تلاش کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 251

۔ (۲۵۱)۔عَنْ عَیَاضٍ بْنِ حِمَارٍالْمُجَاشِعِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَمَرَنِیْ أَنْ أُعَلِّمَکُمْ مَا جَہِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِیْ یَوْمِیْ ہٰذَا، وَأَنَّہُ قَالَ: اِنَّ کُلَّ مَا نَحَلْتُہُ عِبَادِیْ فَہُوَ لَہُمْ حَلَالٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۲۹)
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک خطبے میں ارشادفرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دے دوں، جن سے تم جاہل ہو، ان امور میں سے جو اس نے مجھے آج سکھائے ہیں، نیز اس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر وہ چیز جو میںنے اپنے بندوںکو عطا کی ہے، وہ ان کے لیے حلال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 252

۔ (۲۵۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((عَلِّمُوْا وَ بَشِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَاِذَا غَضِبَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْکُتْ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۳۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تعلیم دو اور خوشخبریاں سناؤ اور مشکلات پیدا نہ کرو اور جب کسی کو غصہ آ جائے تو وہ خاموش ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 253

۔ (۲۵۳) (وَعَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((عَلِّمُوْا وَیَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَاِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ وَاِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ وَاِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۵۶)
۔ (دوسری روایت) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگوں کو علم سکھاؤ اور آسانیاں پیدا کرو اور مشکلات پیدا نہ کرو، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 254

۔ (۲۵۴)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَشِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا وَسَکِّنُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۵۸)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خوشخبریاں سناؤ اور مشکلات پیدا نہ کرو اور لوگوں کو سکون و آرام پہنچاؤ اور ان کو متنفر نہ کردو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 255

۔ (۲۵۵)۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ قَالَ: لَقَدْ تَرَکَنَا مُحَمَّدٌ وَمَا یُحَرِّکُ طَائِرٌ جَنَاحَیْہِ فِی السَّمَائِ اِلَّا أَذْکَرَنَا مِنْہُ عِلْمًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۶۸۸)
سیدنا ابوذرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں اس حال میں چھوڑا کہ جو پرندہ بھی (اڑنے کے لیے) اپنے پروں کو حرکت دیتا، ہمیں اس سے کوئی نہ کوئی علم ہو جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 256

۔ (۲۵۶)۔عن أَبِیْ زَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّؓ قَالَ: صَلّٰی بِنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الظُّہْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی حَضَرَ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی الْعَصْرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی غَابَتِ الشَّمْسُ، فَحَدَّثَنَا بِمَا کَانَ وَمَا ہُوَ کَائِنٌ، فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا۔ (مسند أحمد: ۲۳۲۷۶)
سیدنا ابو زید انصاری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لائے اور نمازِ ظہر تک خطاب کرتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی، بعد ازاں پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ منبر پر چڑھ گئے اور پھر خطاب شروع کر دیا، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اترے اور عصر کی نماز پڑھا کر پھر منبر پر تشریف لائے اور غروبِ آفتاب تک خطاب جاری رکھا، پس جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ ہونے والا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں وہ سب کچھ بیان کر دیا، پس ہم میں سب سے بڑا عالم وہی تھا، جو زیادہ حفظ کرنے والا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 257

۔ (۲۵۷)۔عَنْ حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِؓ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ حَتَّی کَأَ نَّا رَأْیَ الْعَیْنِ، فَقُمْتُ اِلَی أَہْلِیْ فَضَحِکْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ أَہْلِیْ وَوَلَدِیْ فَذَکَرْتُ مَا کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجْتُ فَلَقِیْتُ أَبَابَکْرٍ(ؓ) فَقُلْتُ: یَا أَبَابَکْرٍ! نَافَقَ حَنْظَلَۃُ، قَالَ: وَمَا ذَاکَ؟ قُلْتُ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ حَتَّی کَأَ نَّا رَاْیَ عَیْنٍ، فَذَہَبْتُ اِلَی أَہْلِیْ فَضَحِکْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ وَلَدِیْ وَأَہْلِیْ، فَقَالَ: اِنَّا لَنَفْعَلُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَذَہَبْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمفَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ((یَا حَنْظَلَۃُ! لَوْ کُنْتُمْ تَکُوْنُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ کَمَا تَکُوْنُوْنَ عِنْدِیْ لَصَافَحَتْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بِأَجْنِحَتِہَا) وَأَنْتُمْ عَلَی فُرُشِکُمْ وَبِالطَّرِیْقِ، یَا حَنْظَلَۃُ! سَاعَۃً وَ سَاعَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۵۴)
سیدنا حنظلہ کاتبؓ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جنت اور جہنم کے موضوع پر ہمیں خطاب کیا، یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، پھر میں اٹھ کر اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا رہا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مجھ پر طاری تھی، پس میں نکل پڑا اور سیدنا ابو بکرؓ کو ملا اور کہا: اے ابو بکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے، انھوں نے کہا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ کیا اور یوں لگا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آ گئی ہیں، لیکن جب میں اپنے اہل و عیال کے پاس گیا تو (اس کیفیت کو بھول کر) اپنے بیوی بچوں سے ہنسنے کھیلنے لگا۔ سیدنا ابو بکر ؓ نے کہا: بیشک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں، یہ سن کر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس چلا گیا اور یہ ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حنظلہ! اگر گھروں میں بھی تمہاری وہی کیفیت ہو، جو میرے پاس ہوتی ہے تو بستروں اور راستوں پر فرشتے اپنے پروں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں، لیکن حنظلہ! کبھی اِس طرح اور کبھی اُس طرح۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 258

۔ (۲۵۸)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمقَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّا اِذَا کُنَّا عِنْدَکَ فَحَدَّثْتَنَا رَقَّتْ قُلُوْبُنَا، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِکَ عَافَسْنَا النِّسَائَ وَالصِّبْیَانَ وَفَعَلْنَا وَ فَعَلْنَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ تِلْکَ السَّاعَۃَ لَوْ تَدُوْمُوْنَ عَلَیْہَا لَصَافَحَتْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۸۲۷)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے فرمایا: بیشک جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہم سے گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رِقّت طاری ہو جاتی ہے، لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو اپنی بیوی بچوں کے کاموںمیں لگ جاتے ہیں اور ایسے ایسے کرتے ہیں (اور آپ کے پاس والی کیفیت زائل ہو جاتی ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ میرے پاس والی گھڑی، اگر تم اسی پر برقرار رہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 259

۔ (۲۵۹)۔عَنْ أَبِیْ وَاقَدٍ اللَّیْثِیِّؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ مَرَّ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ، فَجَائَ أَحَدُہُمْ فَوَجَدَ فُرْجَۃً فِی الْحَلْقَۃِ فَجَلَسَ وَجَلَسَ الْآخَرُ مِنْ وَرَائِہِمْ وَانْطَلَقَ الثَّالِثُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَبَرِ ہٰؤُلَائِ النَّفَرِ؟۔)) قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((أَمَّا الَّذِیْ جَائَ فَجَلَسَ فَأَوٰی فَآوَاہُ اللّٰہُ، وَالَّذِیْ جَلَسَ مِنْ وَّرَائِکُمْ فَاسْتَحْیٰ فَاسْتَحْیَ اللّٰہُ مِنْہُ، وَأَمَّا الَّذِیْ اِنْطَلَقَ رَجُلٌ أَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللّٰہُ عَنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۲۵۲)
سیدنا ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے تین افراد کا گزر ہوا، ان میں سے ایک فرد متوجہ ہوا اور مجلس کے اندر خالی جگہ دیکھ کر وہاں بیٹھ گیا، دوسرا فرد لوگوںکے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا چلا گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ان تین افراد کی بات بیان نہ کر دوں؟ صحابہ کرام نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص آگے بڑھ کر بیٹھ گیا، اس نے جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جگہ دے دی، جو آدمی تمہارے پیچھے بیٹھ گیا، پس اس نے شرم محسوس کی اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے شرما گیا اور جو فرد چلا گیا، پس اس نے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 260

۔ (۲۶۰)۔عَنْ أَبِیْ مِجْلَزٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ (بْنِ الْیَمَانِ)ؓ فِی الَّذِیْ یَقْعُدُ فِی وَسْطِ الْحَلْقَۃِ،قَالَ: مَلْعُوْنٌ عَلٰی لِسَانِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمأَوْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۵۲)
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ نے مجلس کے درمیان میں بیٹھنے والے شخص کے بارے میں کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مبارک زبان کے مطابق اس شخص پر لعنت کی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 261

۔ (۲۶۱)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ حُسَیْنٍ قَالَ: بَلَغَنِیْ أَنَّ لُقْمَانَ کَانَ یَقُوْلُ: یَا بُنَیَّ!لَا تَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاہِیَ بِہِ الْعُلَمَائَ أَوْ تُمَارِیَ بِہِ السُّفَہَائَ وَتُرَائِیَ بِہِ فِی الْمَجَالِسِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۱)
عبد اللہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت لقمان نے کہا تھا: اے میرے پیارے بیٹے! علماء پر فخر کرنے کے لیے، بیوقوفو ں (اور جاہلوں) سے جھگڑنے کے لیے اور مجلسوں میں شہرت اور تعظیم کی خاطر علم حاصل نہ کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 262

۔ (۲۶۲)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَثَلُ الَّذِیْ یَجْلِسُ فَیَسْمَعُ الْحِکْمَۃَ، ثُمَّ لَا یُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِہِ اِلَّا بِشَرِّ مَا سَمِعَ، کَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰی رَاعِیًا فَقَالَ: یَا رَاعِیْ! اجْزُرْ لِیْ شَاۃً مِنْ غَنَمِکَ، قَالَ: اذْہَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَیْرِہَا، فَذَہَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ کَلْبِ الْغَنَمِ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۲۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص حکمت کی بات سن کر اس کو اس کے کہنے والے کے حوالے سے بیان نہیں کرتا، مگر وہ جو صرف اس نے شرّ والی بات سنی ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے ایک چرواہے کے پاس آ کر کہا: اے چرواہے! ایک بکری تو دے دو، جو ذبح کے قابل ہو، اس نے کہا: جا اور سب سے بہترین بکری کا کان پکڑ لے (اور اس کو لے جا)، لیکن وہ گیا اور بکریوں کے رکھوالے کتے کا کان پکڑ کر لیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 263

۔ (۲۶۳)۔عَنْ زَیْدٍ بْنِ ثَابِتٍؓ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تُحْسِنُ السُّرْیَانِیَّۃَ؟ اِنَّہَا تَأْتِیْنِیْ کُتُبٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَتَعَلَّمْہَا۔)) فَتَعَلَّمْتُہَا فِیْ سَبْعَۃَ عَشَرَ یَوْمًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۲۰)
سیدنا زیدبن ثابت ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھ سے فرمایا: کیا تو سریانی زبان کی مہارت رکھتا ہے؟ میرے پاس اس قسم کے خطوط آتے ہیں۔ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر اس کو سیکھو۔ میں نے سترہ دنوں میں یہ زبان سیکھ لی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 264

۔ (۲۶۴)۔عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَرُوْنِیْ مَا تَرَکْتُکُمْ، فَاِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِ ہِمْ، مَا نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا وَمَا أَمَرْتُکُمْ فَأْتُوْا مِنْہُ مَااسْتَطَعْتُمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۶۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تک میں تم کو چھوڑے رکھوں، تم بھی مجھے چھوڑے رکھو، تم سے پہلے والے لوگ کثرتِ سوال اور انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، جس چیز سے میں تم کو منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا حکم دے دوں، اس پر حسب ِ استطاعت عمل کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 265

۔ (۲۶۵)۔عَنْ سَعْدِ ابْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ أَکْبَرِ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَیْئٍ وَنَقَّرَ عَنْہُ حَتَّی أُنْزِلَ فِیْ ذٰلِکَ الشَّیْئِ تَحْرِیْمٌ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۲۰)
سیدنا سعد بن ابو وقاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جرم کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اس قدر چھان بین کرتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کے حرام ہونے کا حکم نازل ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 266

۔ (۲۶۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخر)۔ یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَعْظَمُ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ یُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَی النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسلمانوں میں جرم کے لحاظ سے سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے، جو حرام نہیں تھی، لیکن اس کے سوال کی وجہ سے لوگوں پر اس کو حرام کر دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 267

۔ (۲۶۷)۔عَنْ عَمْروٍ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ عن أَبِیْہِ عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَزَالُوْنَ یَسْأَلُوْنَ حَتَّی یُقَالَ: ھٰذَا اللّٰہُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَجَالِسٌ یَوْمًا اِذْ قَالَ لِیْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْعَرَاقِ: ھٰذَا اللّٰہُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: فَجَعَلْتُ اُصْبُعَیَّ فِیْ أُذُنَیَّ ثُمَّ صِحْتُ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ، اَللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔ (مسند أحمد: ۹۰۱۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگ سوالوں پر سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک یہ بھی پوچھ لیا جائے گا کہ (یہ بات تو ٹھیک ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عراقی آدمی نے یہی سوال کر دیا اور کہا: یہ اللہ تعالی، اس نے ہم کو تو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ میں نے اپنی دو انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور چِلّا کر کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 268

۔ (۲۶۸)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فَسَأَلَہُ رَجُلٌ لَمْ أَدْرِ مَا ہُوَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! سَأَلَ عَنْہَا اثْنَانِ وَہٰذَاالثَّالِثُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ رِجَالًا سَتَرْتَفِعُ بِھِمِ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یَقُوْلُوْا: خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۷۷)
محمد بن سیرین کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس تھا کہ ایک آدمی نے ان سے ایک سوال کیا، مجھے علم نہیں کہ وہ سوال کیا تھا، جواباً سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! اس کے بارے میں دو بندے سوال کر چکے ہیں اور یہ تیسرا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک لوگوں کے ساتھ سوالات کا سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ وہ یہ سوال بھی کر دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، لیکن اُس کو کس نے پیدا کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 269

۔ (۲۶۹)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ، لَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ بِہِ۔)) فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُذَافَۃَ: مَنْ أَبِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((أَبُوْکَ حُذَافَۃُ بْنُ قَیْسٍ۔)) فَرَجَعَ اِلٰی أُمِّہِ فَقَالَتْ: وَیْحَکَ مَا حَمَلَکَ عَلَی الَّذِیْ صَنَعْتَ، فَقَدْ کُنَّا أَھْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَھْلَ أَعْمَالٍ قَبِیْحَۃٍ، فَقَالَ لَہَا: اِنْ کُنْتُ لَأُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ أَبِیْ وَمَنْ کَانَ مِنَ النَّاسِ۔ (مسند أحمد: ۱۰۵۳۸)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ صرف اور صرف کثرتِ سوال اور اپنے انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔ سیدنا عبد اللہ بن حذافہ ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ بن قیس تھا۔ پھر جب وہ اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے ان کو کہا: تو ہلاک ہو جائے، کس چیز نے یہ سوال کرنے پر آمادہ کیا، ہم جاہلیت والے اور قبیح اعمال کرنے والے تھے۔ انھوںنے اپنی ماں سے کہا: میں یہ جاننا پسند کرتا تھا کہ میرا باپ کون تھا اور کن لوگوں میں سے تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 270

۔ (۲۷۰)۔عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِلَّا حَدَّثْتُکُمْ بِہِ۔)) قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُذَافََۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ أَبِیْ؟ قَالَ: ((أَبُوْکَ حُذَافَۃُ۔)) فَقَالَتْ أُمُّہُ: مَا أَرَدْتَّ اِلٰی ہٰذَا؟ قَالَ: أَرَدْتُّ أَنْ أَسْتَرِیْحَ، قَالَ: وَکَانَ یُقَالُ فِیْہِ، (قَالَ حُمَیْدٌ: وَأَحْسِبُ ھٰذَا عَنْ أَنَسٍ) قَالَ: فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ عُمَرُ: رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّاوَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضِبِ اللّٰہِ وَغَضِبِ رَسُوْلِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۶۷)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت کے دن تک کی جس چیز کے بارے میںتم مجھ سے سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب بیان کر دوں گا۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ ان کی ماں نے ان سے کہا: اس سوال سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ انھوں نے کہا: میرا ارادہ راحت حاصل کرنے کا تھا، اس کے بارے میں کچھ کہا جاتا تھا، لیکن اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو غصہ آگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھ کر سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے نبی ہونے پر راضی ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 271

۔ (۲۷۱)۔عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الصُّنَابِحِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِن أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: عَنِ الصُّنَابِحِیِّ عَنْ مُعَاوِیَۃَؓ) قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْغُلُوْطَاتِ، قَالَ الْأُوْزَاعِیُّ: اَلْغُلُوْطَاتُ شِدَادُ الْمَسَائِلِ وَصِعَابُہَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۰۸۷)
ایک صحابی (اور ایک روایت کے مطابق سیدنا معاویہ ؓ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مغالطہ آمیز باتوں سے منع کیا ہے۔ امام اوزاعی نے کہا: غُلُوْطَات سے مراد مشکل اور پیچیدہ مسائل ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 272

۔ (۲۷۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَہُ جُرْحٌ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُمِرَ بِالْاِغْتِسَالِ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((قَتَلُوْہُ قَتَلَہُمُ اللّٰہُ، أَلَمْ یَکُنْ شِفَائَ الْعَیِّ السَّؤَالُ۔)) (مسند أحمد: ۳۰۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی عہد ِ نبوی میں زخمی ہو گیا، پس اس کو (جنابت کی وجہ سے) غسل کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ اس غسل سے فوت ہو گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگوں نے اُس کو قتل کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ اِن کو ہلاک کرے، کیا جہالت کی شفا سوال میں نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 273

۔ (۲۷۳)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَہُ أُلْجِمَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَلْجَمَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ) بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس آدمی سے علم سے متعلق کوئی سوال کیا گیا، لیکن اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے لگام ڈالیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 274

۔ (۲۷۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ کَمَثَلِ کَنَزٍ لَا یُنْفَقُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۴۸۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے ہی روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جس علم سے فائدہ حاصل نہیں کیا جاتا، اس کی مثال اس خزانے کی سی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کیا جاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 275

۔ (۲۷۵)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَمَّا أُسْرِیَ بِیْ مَرَرْتُ بِرِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاہُھُمْ بِمَقَارِیْضَ مِنْ نَارٍ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰؤُلَائِ یَا جِبْرِیْلُ؟ قَالَ: ہٰؤُلَائِ خُطَبَائُ مِنْ أُمَّتِکَ یَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَیَنْسَوْنَ أَنْفُسَہُمْ وَہُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتَابَ، أَفَلَا یَعْقِلُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۴۵۴)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے وہ خطیب لوگ ہیں، جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں، لیکن اس کے بارے میں اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ یہ کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 276

۔ (۲۷۶)۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّکُمْ فِیْ زَمَانٍ عُلَمُائُ ہُ کَثِیْرٌ، خُطَبَائُ ہُ قَلِیْلٌ، مَنْ تَرَکَ فِیْہِ عُشَیْرَ مَا یَعْلَمُ ہَوٰی، أَوْ قَالَ: ہَلَکَ، وَسَیَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَقِلُّ عُلُمَائُ ہُ وَیَکْثُرُ خُطَبَائُ ہُ، مَنْ تَمَسَّکَ فِیْہِ بِعَشِیْرِ مَا یَعْلَمُ نَجَا۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۹۹)
سیدنا ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اب تم ایسے زمانے میں ہو کہ جس میں علماء زیادہ ہیں اور خطباء کم ہے، ایسے میں جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل نہ کیا تو وہ ہلاک ہو جائے گا، لیکن عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جس میں علماء کم ہوں گے اور خطباء زیادہ ہوں گے، اس زمانے میں جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل کر لیا تو وہ نجات پا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 277

۔ (۲۷۷)۔عَنْ شَقِیْقٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ؓ قَالَ: قِیْلَ لَہُ: أَلَا تَدْخُلُ عَلَی ھٰذَا الرَّجُلِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَلَا تُکَلِّمُ عُثْمَانَ) قَالَ: فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنِّیْ لَا أُکَلِّمُہُ اِلَّا أُسْمِعُکُمْ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ کَلَّمْتُہُ فِیْمَا بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ مَادُوْنَ أَنْ أَفْتَحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَکُوْنَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ فَتَحَہُ وَلَا أَقُوْلُ لِرَجُلٍ أَنْ یَکُوْنَ عَلَیَّ أَمِیْرًا اِنَّہُ خَیْرُالنَّاسِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَا أَقُوْلُ لِرَجُلٍ اِنَّکَ خَیْرُ النَّاسِ وَاِنْ کَانَ عَلَیَّ أَمِیْرًا) بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُؤْتٰی بِالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِہِ فَیَدُوْرُ بِہَا فِی النَّارِ کَمَا یَدُوْرُ الْحِمَارُ بِالرَّحٰی، قَالَ: فَیَجْتَمِعُ أھَلُ النَّارِ اِلَیْہِ، فَیَقُوْلُوْنَ: یَا فَلَانُ! أَمَا کُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ؟ قَالَ: فیَقُوْلُ: بَلٰی! قَدْ کُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ فَـلَا آتِیْہِ وَ أَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۱۴۳)
شقیق کہتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے کسی نے کہا: کیا تم اس آدمی یعنی سیدنا عثمان ؓ کے پاس جا کرگفتگو نہیں کرتے، انھوں نے کہا: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں جب بھی ان سے گفتگو کروں تو تم کو سناؤں گا، اللہ کی قسم ہے! کسی چیز کا اعلان کیے بغیر میں نے ان سے گفتگو کی ہے، جبکہ اس مجلس میں صرف میں اور وہ تھے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایسے امور کا پہلے میں اعلان کروں، میں یہ حدیث سننے کے بعد کسی بندے کے بارے میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ لوگوں میں سب سے بہتر ہے، اگرچہ وہ میرا امیر بھی ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایک آدمی کو قیامت کے روز لایا جائے گا اور اس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکل آئیں گی اور وہ جہنم میں ان کے ارد گرد چکر کاٹنا شروع کر دے گا، جیسے گدھاچکی کے چکر کاٹتا ہے، اس کی یہ حالت دیکھ کر جہنمی لوگ اس کے پاس جمع ہو کر کہیں گے: کیا تو تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، لیکن میں تم کو نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود اس کو نہیں کرتا تھا اور تم کو برائی سے منع کرتا تھا، لیکن خود اس کا ارتکاب کر جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 278

۔ (۲۷۸)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُبْتَغٰی بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ لَا یَتَعَلَّمُہُ اِلَّا لِیُصِیْبَ بِہِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْیَا لَمْ یَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّۃَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) یَعْنِیْ رِیْحَہَا۔ (مسند أحمد:۸۴۳۸)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ علم جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا چہرہ تلاش کیا جاتا ہے، جو آدمی اس کو سامانِ دنیا حاصل کرنے کے لیے سیکھتا ہے وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 279

۔ (۲۷۹)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍؓ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نَحْوًا مِنْ نِصْفِ النَّہَارِ فَقُلْنَا: مَا بَعَثَ اِلَیْہِ السَّاعَۃَ اِلَّا لِشَیْئٍ سَأَلَہُ عَنْہُ، فَقُمْتُ اِلَیْہِ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: أَجَلْ، سَأَلَنَا عَنْ أَشْیَائٍ سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْرَئً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغَہُ غَیْرَہُ، فَاِنَّہُ رُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیْہٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلٰی مَنْ ہُوَ أَفْقَہُ مِنْہُ، ثَلَاثٌ لَا یُغِلُّ عَلَیْہِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ أَبَدًا، اِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلّٰہِ وَمُنَاصَحَۃُ وُلَاۃِ الْأَمْرِ وَلْزُوْمُ الْجَمَاعَۃِ، فَاِنَّ دَعْوَتَہُمْ تُحِیْطُ مَنْ وَرَائَ ہُمْ۔)) وَقَالَ: ((مَنْ کَانَ ہَمُّہُ الْآخِرَۃَ، جَمَعَ اللّٰہُ شَمْلَہُ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہِ وَأَتَتْہُ الدُّنْیَا وَہِیَ رَاغِمَۃٌ، وَمَنْ کَانَتْ نِیَّتُہُ الدُّنْیَا فَرَّقَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ضَیْعَتَہُ وَجَعَلَ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَلَمْ یَأْتِہِ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّا مَا کُتِبَ لَہُ۔)) وَسَأَلَنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَہِیَ الظُّہْرُ۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۲۳)
ابان بن عثمان کہتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت ؓ تقریباً نصف النہار کے وقت مروان کے پاس سے نکلے، ہم نے کہا: اس نے اس وقت کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے اِن کو بلایا ہو گا، چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، سیدنا زیدؓ نے کہا: جی ہاں، اُس نے مجھ سے ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی تھیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے، جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی، پھر اس کو یاد کیا، یہاں تک کہ اس کو آگے پہنچا دیا، کوئی حاملینِ فقہ فقیہ نہیں ہوتے اور کئی حاملینِ فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک یہ فقہ پہنچا دیتے ہیں۔ اگر تین چیزیں ہوں تو مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص کے ساتھ عمل کرنا، دوسرا امراء کی ہمدردی کرنا اور تیسرا جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ مؤمنوں کی دعا ان کو پیچھے سے گھیر کر رکھتی ہے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کی فکر اور غم آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کا شیرازہ مجتمع کر دیتا ہے اور اس کے دل میں غِنٰی رکھ دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے، لیکن جس کی نیت اور عزم دنیا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مشاغل بڑھا دیتا ہے اور اس کی فقیری اس کی پیشانی پر رکھ دیتا ہے اور دنیا بھی اس کو اتنی ہی ملتی ہے، جتنی اس کے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔ اس نے ہم سے نمازِ وسطٰی کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ ظہر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 280

۔ (۲۸۰)۔عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ؓ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْخَیْفِ مِنْ مِنًی فَقَالَ: ((نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْرَئً ا سَمِعَ مَقَالَتِیْ فَوَعَاہَا ثُمَّ أَدَّاہَا اِلَی مَنْ لَمْ یَسْمَعْہَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَا فِقَہَ لَہُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلَی مَنْ ہُوَ أَفْقَہُ مِنْہُ، ثَلَاثٌ لَا یُغِلُّ عَلَیْہِنَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ، اِخْلَاصُ الْعَمَلِ، وَالنَّصِیْحَۃُ لِوَلِیِّ الْأَمْرِ، وَلُزُوْمُ الْجَمَاعَۃِ، فَاِنَّ دَعَوْتَہُمْ تَکُوْنُ مِنْ وَرَائِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۵۹)
سیدنا جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مِنٰی کی خیف وادی میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے، جس نے میری بات سنی، پھر اس کو یاد کیا اور اس تک پہنچا دیا،جس نے اِس کو نہیں سنا تھا، پس کئی حاملینِ فقہ ایسے ہیں کہ ان کے پاس فقہ نہیں ہوتی اور کئی حاملین فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک یہ فقہ پہنچا دیتے ہیں، اگر یہ تین چیزیں ہوں تو مؤمن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو خالص کرنا، امراء کی خیرخواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، پس بیشک ان کی دعا اس کے پیچھے ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 281

۔ (۲۸۱)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْرَئً ا سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغَہُ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَحْفَظُ لَہُ مِنْ سَامِعٍ۔)) (مسند أحمد: ۴۱۵۷)
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی، پھر اس کو یاد کیا، یہاں تک کہ اس کو آگے پہنچا دیا، کئی ایسے لوگ ہیں کہ جن کو حدیث پہنچائی جاتی ہے، وہ سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 282

۔ (۲۸۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تَسْمَعُوْنَ وَ یُسْمَعُ مِنْکُمْ، یُسْمَعُ مِمَّنْ یَسْمَعُ مِنْکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۴۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم سنتے ہو اور تم سے بھی سنا جائے گا اور جو تم سے سنیںگے، ان کو بھی سنا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 283

۔ (۲۸۳)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِیْ لَیْلٰی یُحَدِّثُ عَنْ زَیْدٍ بْنِ أَرْقَمَؓ قَالَ: کُنَّا اِذَا جِئْنَاہُ قُلْنَا: حَدِّثْنَا عَنْْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،قَالَ: اِنَّا قَدْ کَبُرْنَا وَنَسِیْنَا وَالْحَدِیْثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَدِیْدٌ۔ (مسند أحمد: ۱۹۵۱۹)
ابن ابی لیلی کہتے ہیں: ہم سیدنا زید بن ارقم ؓ کے پاس جاتے اور کہتے: ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کرو (پس وہ بیان کرتے تھے، لیکن جب وہ بوڑھے ہو گئے تھے تو) کہتے تھے: بیشک ہم عمررسیدہ ہو گئے ہیں اور بھول گئے ہیں، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو بیان کرنا سخت معاملہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 284

۔ (۲۸۴)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ثَنَا أَبُوْ ہَارُوْنَ الْغَنَوِیُّ عَنْ مُطَرِّفٍ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) قَالَ: قَالَ لِیْ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ؓ: أَیْ مُطَرِّفُ! وَاللّٰہِ اِنْ کُنْتُ لَأَرٰی أَنِّیْ لَوْ شِئْتُ حَدَثَّتُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ لَا أُعِیْدُ حَدِیْثًا، ثُمَّ لَقَدْ زَادَ بِیْ بُطْأً عَنْ ذٰلِکَ وَکَرَاہِیَّۃً لَہُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ مِنْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہِدْتُ کَمَا شَہِدُوْا وَسَمِعْتُ کَمَا سَمِعُوْا یُحَدِّثُوْنَ أَحَادِیْثَ مَا ہِیَ کَمَا یَقُوْلُوْنَ، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّہُمْ لَا یَأْلُوْنَ عَنِ الْخَیْرِ، فَأَخَافُ أَنْ یُشَبَّہَ لِیْ کَمَا شُبِّہَ لَہُمْ، فَکَانَ أَحْیَانًا یَقُوْلُ: لَوْ حَدَّثْتُکُمْ أَنِّیْ سَمِعْتُ مِنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذَا وَکَذَا، رَأَیْتُ اَنِّیْ قَدْ صَدَقْتُ، وَاَحْیَانًا یَعْزِمُ فَیَقُوْلُ: سَمِعْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: کَذَا وَ کَذَا۔ (مسند أحمد: ۲۰۱۳۴)
مُطَرِّف بن عبد اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین ؓ نے مجھے کہا: اے مطرف! اللہ کی قسم! میرا یہ خیال تھا کہ اگر میں دو دن مسلسل نبی ٔ کریم کی احادیث بیان کروں تو ایک حدیث دوسری دفعہ پڑھنے کی نوبت نہیں آئے گی، لیکن پھر میں نے دیکھا کہ مجھ پر سستی غالب آنے لگی ہے اور میں اس چیز کو ناپسند کرنے لگا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ ٔ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ میں سے بعض لوگ میری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس حاضر رہتے اور میری طرح احادیث سنتے تھے، لیکن جب وہ احادیث بیان کرتے ہیں تو وہ اُس طرح نہیں ہوتیں، جیسے وہ بیان کرتے ہیں، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ خیر میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، اب مجھے بھی یہ اندیشہ ہونے لگا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر بھی (احادیث کا معاملہ) مشتبہ ہو جائے، جیسے ان پر مشتبہ ہو گیا ہے۔ بسا اوقات سیدنا عمران ؓ یوں کہتے تھے: اگر میں تم کو یہ بیان کروں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ یہ احادیث سنی ہیں تو میرا یہی خیال ہو گا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں گا، اور بسا اوقات تو بڑے عزم کے ساتھ کہتے تھے: میں نے اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسے ایسے کہتے سنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 285

۔ (۲۸۵)۔ قَالَ أَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ: حَدَّثَنِیْ نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ أَبِیْ ہَارُوْنَ الْغَنَوِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ ہَانِیئٌ الْأَعْوَرُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ ہُوَ ابْنُ حُصَیْنٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، فَحَدَّثْتُ بِہِ أَبِیْ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی فَاسْتَحْسَنَہُ وَقَالَ: زَادَ فِیْہِ رَجُلًا۔ (مسند أحمد: ۲۰۱۳۵)
۔ (امام احمد کے بیٹے) ابو عبدالرحمن عبداللہ کہتے ہیں: … مطرف نے سیدنا عمران بن حصین ؓ سے بیان کیا اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس قسم کی حدیث بیان کی، پھر میں نے یہ حدیث اپنے باپ (امام احمد) کو بیان کی، تو انھوں نے اس کو اچھا قرار دیا، البتہ عبد اللہ نے اس میں ایک راوی (ہانی اعور) زیادہ کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 286

۔ (۲۸۶)۔عَنِ ابْنِ عَوْنٍٍ عَنْ مُحَمَّدٍ (یَعْنِیْ ابْنَ سِیْرِیْنَ) قَالَ: کَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍؓ اِذَا حَدَّثَ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَفَرَغَ مِنْہُ قَالَ: أَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۳۱۵۵ )
ابن سیرین کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک ؓجب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی حدیث بیان کرنے سے فارغ ہوتے تو کہتے: أَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ (یا پھر جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرما یا ہے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 287

۔ (۲۸۷)۔عَنْ سُلَیْمَانَ الْیَشْکُرِیِّ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّہُ قَالَ فِیْ الْوَہْمِ: ((یُتَوَخّٰی۔)) قَالَ لَہُ رَجُلٌ: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ قَالَ: فِیْمَا أَعْلَمُ۔ (مسند أحمد: ۱۱۴۴۰)
سلیمان یشکری سے مروی ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے (نماز میں) وہم ہو جانے کے بارے میں یتوخی کا لفظ استعمال کیا، ایک آدمی نے ان سے کہا کہ کیا یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کی جا رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میرے علم کے مطابق تو یہی بات ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 288

۔ (۲۸۸)۔عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: أَ لَا یُعْجِبُکَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ؟ جَائَ فَجَلَسَ اِلَی جَانِبِ حُجْرَتِیْ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسْمِعُنِیْ ذٰلِکَ وکُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِیَ سُبْحَتِیْ وَلَوْ أَدْرَکْتُہُ لَرَدَدْتُ عَلَیْہِ، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَکُنْ یَسْرُدُ الْحَدِیْثَ کَسَرْدِکُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۵۳۷۷)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: کیا ابو ہریرہ تم کو تعجب میں نہیں ڈالتے؟ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر مجھے سناتے ہوئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث بیان کر رہے تھے، جبکہ میںنفلی نماز پڑھ رہی تھی، پھر وہ میری نماز پوری ہونے سے پہلے چلے گئے، اگر میں ان کو پا لیتی تو میں نے ان کا ردّ کرنا تھا، بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تمہاری طرح تسلسل کے ساتھ بات نہیں کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 289

۔ (۲۸۹)۔عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍؓ قَالَ: مَا کُلُّ الْحَدِیْثِ سَمِعْنَاہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، کَانَ یُحَدِّثُنَا أَصْحَابُنَا عَنْہُ، کَانَتْ تَشْغَلُنَا عَنْہُ رَعْیَۃُ الْاِبِلِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۶۸۷)
سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں: یہ ساری احادیث ہم نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے نہیں سنیں، ہمارے ساتھی ہم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کرتے تھے، کیونکہ ہم اونٹ چرانے کی وجہ سے مصروف رہتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 290

۔ (۲۹۰)۔عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ أَبِیْ حُمَیْدٍ وَعَنْ أَبِیْ أَسِیْدٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِیْثَ عَنِّیْ تَعْرِفُہُ قُلُوْبُکُمْ وَتَلِیْنُ لَہُ أَشْعَارُکُمْ وَأَبْشَارُکُمْ وَتَرَوْنَ أَنَّہُ مِنْکُمْ قَرِیْبٌ فَأَنَا أَوْلَاکُمْ بِہِ، وَاِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِیْثَ عَنِّیْ تُنْکِرُہُ قُلُوْبُکُمْ وَتَنْفِرُ مِنْہُ أَشْعَارُکُمْ وَأَبْشَارُکُمْ وَتَرَوْنَ أَنَّہُ مِنْکُمْ بَعِیْدٌ فَأَنَا أَبْعَدُکُمْ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۰۰۵)
سیدنا ابو حمید اور سیدنا ابو اسید ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میری طرف منسوب حدیث سنو (تو دیکھو کہ آیا) تمہارے دل اس سے مانوس ہو رہے ہیں اور تمہارے بال اور چمڑے اس کے لیے نرم ہو رہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ وہ بات تم بھی کر سکتے ہو تو میں ایسی (حدیث بیان کرنے کا) بالاولی مستحق ہوں گا۔ لیکن اگر تم دیکھو کہ جو حدیث میری طرف منسوب ہے، تمہارے دل اس کا انکار کر رہے ہیں اور تمہارے بال اور چمڑے اس سے نفرت کر رہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ تم بھی (اس کی قسم کی) بات نہیں کر سکتے، تو میں اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والا ہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 291

۔ (۲۹۱)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: اِذَا حَدَّثْتُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِذَا حَدَّثْتُکُمْ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا فَظُنُّوْا بِہِ الَّذِیْ أَہْدٰی وَالَّذِیْ ہُوَ أَہْیَا، وَالَّذِیْ ہُوَ أَتْقٰی۔ (مسند أحمد: ۹۸۵)
سیدنا علی ؓ نے کہا: جب تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے حدیث بیان کرو، ایک روایت میں ہے: جب میں تم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی حدیث بیان کروں تو اس بات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث خیال کرو جو زیادہ ہدایت والی ہو، ہیئت میں زیادہ اچھی ہو اور زیادہ تقوے والی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 292

۔ (۲۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ بِنَحْوِہِ وَ فِیْہِ: فَظُنُّوْا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَہْنَاہُ وَ اَتْقَاہُ وَأَہْدَاہُ۔ (مسند أحمد: ۹۸۷)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: جو بات زیادہ خوشگوار ، زیادہ تقویٰ والی اور زیادہ ہدایت والی ہو، اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث خیال کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 293

۔ (۲۹۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَکْتُبُوْا عَنِّیْ شَیْئًا سِوَی الْقُرْآنِ، مَنْ کتَبَ شَیْئًا سِوَی الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۰۱)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے قرآن کے سوال کچھ نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہے، وہ اس کو مٹا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 294

۔ (۲۹۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنَّا قُعُوْدًا نَکْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا تَکْتُبُوْنَ؟۔)) فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْکَ، فَقَالَ: ((أَ کِتَابٌ مَعَ کِتَابِ اللّٰہِ؟ أَمْحِضُوْا کِتَابَ اللّٰہِ،أَ کِتَابٌ مَعَ کِتَابِ اللّٰہِ؟ أَمْحِضُوْا کِتَابَ اللّٰہِ وَخَلِّصُوْہُ۔)) قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا کَتَبْنَا فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ أَحْرَقْنَاہُ بِالنَّارِ، قُلْنَا: أَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ نَتَحَدَّثُ عَنْکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوْا عَنِّیْ وَلَا حَرَجَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔))قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ، فَاِنَّکُمْ لَا تُحَدِّثُوْنَ عَنْہُمْ بِشَیْئٍ اِلَّا وَقَدْ کَانَ فِیْھِمْ أَعْجَبُ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۰۸)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: ہم بیٹھے تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی احادیث لکھ رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم یہ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے کہا: جو کچھ آپ سے سنتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صرف اللہ کی کتاب کو لکھو، کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صر ف اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لکھو اور اس کو کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ملط نہ کرو۔ پس ہم نے جو کچھ لکھا تھا، اس کو ایک جگہ پر جمع کیا اور آگ سے جلادیا، پھر ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کی احادیث بیان کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہاںتم مجھ سے بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ پھر ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہاں، بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم ان سے جو بھی بیان کرو، بہرحال ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز بات ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 295

۔ (۲۹۵)۔عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: دَخَلَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍؓ عَلَی مُعَاوِیَۃَؓ فَحَدَّثَہُ حَدِیْثًا فَأَمَرَ اِنْسَانًا أَنْ یَکْتُبَ فَقَالَ زَیْدٌ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی أَنْ نَکْتُبَ شَیْئًا مِنْ حَدِیْثِہِ فَمَحَاہُ۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۱۲)
عبد المطلب بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت ؓ، سیدنا معاویہ ؓ کے پاس گئے اور ان کو ایک حدیث بیان کی، انھوں نے ایک انسان کو حکم دیا کہ وہ یہ حدیث لکھ لیں، لیکن سیدنا زید ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی حدیث لکھنے سے منع فرمایا ہے، پس انھوں نے اس کو مٹا دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 296

۔ (۲۹۶)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ (یَعْنِی بْنَ الْعَاصِؓ) قَالَ: کُنْتُ أَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ أَسْمَعُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُرِیْدُ حِفْظَہُ فَنَہَتْنِیْ قُرَیْشٌ فَقَالُوْا: اِنَّکَ تَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ تَسْمَعُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَشَرٌ یَتَکَلَّمُ فِی الْغَضَبِ وَالرَّضَا، فَأَمْسَکْتُ عَنِ الْکِتَابِ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اکْتُبْ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ مَا خَرَجَ مِنِّیْ حَقٌّ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے جو چیز سنتا تھا، اس کو یاد کرنے کے ارادے سے لکھ لیتا تھا، لیکن قریشیوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور کہا: تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیتا ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو ایک بشر ہیں اور غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے رہتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات بتلا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو لکھ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھ سے صرف حق کا صدور ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 297

۔ (۲۹۷)۔عَنْ مُجَاہِدٍ وَالْمُغِیْرَۃِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَا: سَمِعْنَاہُ یَقُوْلُ: مَا کَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنِّیْ اِلَّا مَا کَانَ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (یَعْنِیْ بْنَ الْعَاصِؓ) فَاِنَّہُ کَانَ یَکْتُبُ بِیَدِہِ وَیَعِیْہِ بِقَلْبِہِ وکُنْتُ أَعِیْہِ بِقَلْبِیْ وَلَا أَکْتُبُ بِیَدِیْ، وَاسْتَأْذَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکِتَابِ عَنْہُ فَأَذِنَ لَہُ۔ (مسند أحمد:۹۲۲۰)
مجاہد اور مغیرہ بن حکیم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدناابو ہریرہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث کومجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا، ما سوائے سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے تھے اور دل سے یاد کر لیتے تھے، جبکہ میں دل سے یاد کر لیتا تھا اور لکھتا نہیں تھا، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے لکھنے کی اجازت طلب کی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو اجازت دے دی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 298

۔ (۲۹۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَ: لَیْسَ أَحَدٌ أَکْثَرَ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنِّیْ اِلَّا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، فَاِنَّہُ کَانَ یَکْتُبُ وَکُنْتُ لَا أَکْتُبُ۔ (مسند أحمد: ۷۳۸۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں تھا، ما سوائے سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 299

۔ (۲۹۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ: قَالَ لِیْ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أُکْتُبْ عَنِّیْ وَلَوْ حَدِیْثًا وَاحِدًا مِنْ غَیْرِ کِتَابٍ فَقُلْتُ: لَا وَلَا حَرْفًا۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۱۷)
یحییٰ بن معین کہتے ہے: امام عبد الرزاق نے مجھ سے کہا: مجھ سے لکھو، اگرچہ ایک حدیث ہی ہو، لیکن میرے پاس کتاب نہیں ہے۔ میں (یحییٰ) نے کہا: جی نہیں، ایک حرف بھی نہیں لکھوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 300

۔ (۳۰۰)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَسْأَلُوْا أَھْلَ الْکِتَابِ عَنْ شَیْئٍ فَاِنَّہُمْ لَنْ یَہْدُوْکُمْ وَقَدْ ضَلُّوْا، فَاِنَّکُمْ اِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوْا بِبَاطِلٍ أَوْ تُکَذِّبُوْا بِحَقٍّ، فَاِنَّہُ لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ مَا حَلَّ لَہُ اِلَّا أَنْ یَتَّبِعَنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۶۸۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو، کیونکہ وہ ہرگزتمہاری رہنمائی نہیں کریں گے، جبکہ وہ تو گمراہ ہو چکے ہیں، اور اس معاملے میں یا تو تم کو باطل کی تصدیق کرنا پڑے گی یا حق کو جھٹلانا پڑے گا، پس بیشک اگر موسیؑ بھی تمہارے اندر زندہ ہوتے تو ان کے لیے حلال نہ ہوتا، مگر میری پیروی کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 301

۔ (۳۰۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِؓ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمبِکِتَابٍ أَصَابَہُ مِنْ بَعْضِ أَھْلِ الْکِتَابِ فَقَرَأَہُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَغَضِبَ فَقَالَ: ((أَمُتَہَوِّکُوْنَ فِیْھَا یَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہَا بَیْضَائَ نَقِیَّۃً، لَا تَسْأَلُوْہُمْ عَنْ شَیْئٍ فَیُخْبِرُوْکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوْا بِہِ أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوْا بِہِ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَوْ أَنَّ مُوْسٰی حَیًّا مَا وَسِعَہُ اِلَّا أَنْ یَتَّبِعَنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۲۲۳)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓایک کتاب لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے، وہ ان کو کسی اہل کتاب سے ملی تھی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پڑھنا شروع کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تو غصہ آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے عمر بن خطاب! کیا تم اپنی شریعت کے بارے میں شک میں پڑ گئے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے پاس ایسی شریعت لے کر آیا ہوں، جو واضح، صاف (اور شک و شبہ سے پاک) ہے، اِن اہل کتاب سے سوال نہ کیا کرو، وگرنہ ایسے ہو سکتا ہے کہ وہ تم کو حق بات بتلائیں اور تم اس کو جھٹلا دو یا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ تم کو باطل بات بتلائیں اور تم اس کی تصدیق کردو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیؑ زندہ ہوتے تو ان کو بھی صرف میری پیروی کرنے کی گنجائش ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 302

۔ (۳۰۲)۔عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمفَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ مَرَرْتُ بِأَخٍ لِیْ مِنْ قُرَیْظَۃَ فَکَتَبَ لِیْ جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاۃِ، أَ لَا أَعْرِضُہَا عَلَیْکَ؟ قَالَ: فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ لَہُ: أَ لَا تَرٰی مَا بِوَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَّمَدٍ رَسُوْلًا، قَالَ: فَسُرِّیَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَوْ أَصْبَحَ فِیْکُمْ مُوْسٰی ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوْہُ وَتَرَکْتُمُوْنِیْ لَضَلَلْتُمْ، اِنَّکُمْ حَظِّیْ مِنَ الْأُمُمِ وَ أَنَا حَظُّکُمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۵۸)
سیدنا عبد اللہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! قریظہ کے ایک بھائی کے پاس سے میرا گزر ہوا، پس اس نے میرے لیے تورات کی اہم اہم باتیں لکھ دیں، کیا میں ان کو آپ پر پیش کروں؟ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا چہرہ متغیر ہونا شروع ہو گیا، سیدنا عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر ؓ سے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے چہرے پر کیا تبدیلی آئی ہے؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے، محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے (غصے والی کیفیت) ختم ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے؟ اگر موسیؑ بھی تم میں آجائیں اور پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگ جاؤ تو گمراہ ہو جاؤ گے، بیشک تم امتوںمیں سے میرا حصہ ہو اور میں انبیاء میں سے تمہارا حصہ ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 303

۔ (۳۰۳)۔عن أَبِیْ نَمْلَۃَ الْاَنْصَارِیِّؓ أَنَّہُ بَیْنَمَا ہُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْیَہُوْدِ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! ھَلْ تَتَکَلَّمُ ہٰذِہِ الْجَنَازَۃُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَللّٰہُ أَعْلَمُ۔))قَالَ الْیَہُوْدِیُّ: أَنَا أَشْہَدُ أَنَّہَا تَتَکَلَّمُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا حَدَّثَکُمْ أَھْلُ الْکِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوْہُمْ وَلَا تُکَذِّبُوْہُمْ، وَقُوْلُوْا: آمَنَّا بِاللّٰہِ وَ کُتُبِہِ وَرُسُلِہِ، فَاِنْ کَانَ حَقًّا لَمْ تُکَذِّبُوْہُمْ وَاِنْ کَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۵۷)
سیدنا ابو نملہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک یہودی آدمی آ گیا اور اس نے کہا: اے محمد! کیا یہ جنازے کلام کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ اُس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کرتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو کوئی ایسی چیز بیان کریں تو نہ ان کی تصدیق کیا کرو اور نہ تکذیب، بلکہ اس طرح کہہ دیا کرو: آمَنَّا بِاللّٰہِ وَ کُتُبِہِ وَرُسُلِہِ (ہم اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔) پس اگر وہ حق ہوا تو تم نے اس کو جھٹلایا نہیں اور اگر وہ باطل ہوا تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 304

۔ (۳۰۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِ و بْنِ الْعَاصِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ آیَۃً، وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۰۶)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے آگے پہنچاؤ، اگرچہ وہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور جس نے مجھ پر جان بوجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 305

۔ (۳۰۵)۔عن أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ، فَاِنَّکُمْ لَا تُحَدِّثُوْنَ عَنْہُمْ بِشَیْئٍ اِلَّا وَقَدْ کَانَ فِیْھِمْ أَعْجَبُ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۰۸)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نبی اسرائیل سے بیان کرسکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، تم بنی اسرائیل سے بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پس بیشک تم ان سے جو چیز بھی بیان کرو گے، ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز امور پائے جاتے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 306

۔ (۳۰۶)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیَکُوْنُ فِیْ أُمَّتِیْ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ یُحَدِّثُوْنَکُمْ بِبِدَعٍ مِنَ الْحَدِیْثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوْا أَنْتُمْ وَلَا آبَائُ کُمْ، فَاِیَّاکُمْ وَاِیَّاہُمْ! لَا یَفْتِنُوْنَکُمْ۔)) (مسند أحمد:۸۵۸۰)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عنقریب میری امت میں دجال اور جھوٹ لوگ پیدا ہوں گے، وہ تم کو ایسی نئی نئی احادیث بیان کریں گے، جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس تم ان سے بچ کر رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو فتنے میں ڈال دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 307

۔ (۳۰۷)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ رَوٰی عَنِّیْ حَدِیْثًا وَھُوَ یَرٰی أَنَّہُ کَذِبٌ فَہُوَ أَحَدُ الْکَاذِبِیْنَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: الْکَذَّابِیْنَ۔)))۔ (مسند أحمد: ۲۰۴۲۵)
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیال یہ ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 308

۔ (۳۰۸)۔عَنِ الُمُغِیْرَۃَ بْنِ شُعْبَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ::؛)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 309

۔ (۳۰۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِتَّقُوْا الْحَدِیْثَ عَنِّی اِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَاِنَّہُ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۷۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے احادیث بیان کرنے سے بچو، مگر وہ جن کا تم کو علم ہو، پس بیشک جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 310

۔ (۳۱۰)۔عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ عَلَی ھٰذَا الْمِنْبَرِ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الْحَدِیْثِ عَنِّیْ، مَنْ قَالَ عَلَیَّ فَـلَا یَقُوْلَنَّ اِلَّا حَقَّا أَوْ صِدْقًا، فَمَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۲۹۰۶)
سیدنا ابو قتادہ ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا: لوگو!مجھ سے کثرت سے احادیث بیان کرنے سے بچو، جو آدمی میرے حوالے سے کوئی بات کرے تو وہ صرف حق اور سچ کہے، پس جس نے میری طرف وہ بات منسوب کر دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 311

۔ (۳۱۱)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَدِّثُوْا عَنِّیْ وَلَا تَکْذِبُوْا عَلَیَّ، وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ تَبَوَّأَ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ)) (مسند أحمد: ۱۱۴۴۴)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے بیان کرو اور مجھ پر جھوٹ نہ بولو، جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا، اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 312

۔ (۳۱۲)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ مَیْمُوْنٍ الْحَضْرَمِیِّ أَنَّ أبامُوْسَی الْغَافِقِیَّؓ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّؓ یُحَدِّثُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَادِیْثَ، فَقَالَ أَبُوْ مُوْسٰی: اِنَّ صَاحِبَکُمْ ھٰذَا لَحَافِظٌ أَوْ ہَالِکٌ، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ آخِرُ مَا عَہِدَ اِلَیْنَا أَنْ قَالَ: ((عَلَیْکُمْ بکِتَابِ اللّٰہِ، وَسَتَرْجِعُوْنَ اِلَی قَوْمٍ یُحِبُّوْنَ الْحَدِیْثَ عَنِّیْ، فَمَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ حَفِظَ عَنِّیْ شَیْئًا فَلْیُحَدِّثْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۱۵۴)
یحییٰ بن میمون حضرمی کہتے ہیں: سیدنا ابو موسی غافقی ؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو منبر پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث بیان کرتے ہوئے سنا، پھر ابو موسی نے کہا: یہ تمہارا ساتھی (واقعی احادیث کو) یاد کرنے والا ہے یا پھر ہلاک ہونے والا ہے، بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں آخری نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لازم پکڑنا اور عنقریب تم ایسی قوم کی طرف لوٹو گے، جو مجھ سے احادیث بیان کرنے کی مشتاق ہو گی، پس جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہ کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے، اور جس نے میری بعض احادیث یاد کر رکھی ہوں، وہ ان کو بیان کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 313

۔ (۳۱۳)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا أَبُوْقَتَادَۃَ ؓ وَنَحْنُ نَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذَا، وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذَا،فَقَالَ: شَاہَتِ الْوُجُوْہُ، أَتَدْرُوْنَ مَا تَقُوْلُوْنَ؟ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۱۶)
محمد بن کعب کہتے ہیں: سیدنا ابو قتادہ ؓہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم احادیث بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا، انھوں نے یہ دیکھ کر کہا: قبیح ہو جائیں یہ چہرے، کیا تم اپنی کہی ہوئی اِن باتوں کو جانتے بھی ہو؟ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 314

۔ (۳۱۴)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الَّذِیْ یَکْذِبُ عَلَیَّ یُبْنٰی لَہُ بَیْتٌ فِی النَّارِ)) (مسند أحمد: ۶۳۰۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جو شخص مجھ پرجھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے آگ میں ایک گھر تیار کیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 315

۔ (۳۱۵)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبِضُ الْعِلْمَ اِنْتِزَاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ النَّاسِ، وَلَکِنْ یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ حَتَّی اِذَا لَمْ یَتْرُکْ عَالمًا، اِتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَائَ جُہَّالًا فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَأَضَّلُوْا۔)) (مسند أحمد: ۶۵۱۱)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گاکہ وہ اِس کو لوگوں سے سلب کر لے، وہ تو علماء کو فوت کر کے علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، پس جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جائیں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 316

۔ (۳۱۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ أَنْ یُعْطِیَہِمْ اِیَّاہُ، وَلَکِنْ یَذْہَبُ بِالْعُلَمَائِ، وَکُلَّمَا ذَہَبَ عَالِمٌ ذَہَبَ بِمَا مَعَہُ مِنَ الْعِلْمِ حَتَّی یَبْقٰی مَنْ لَا یَعْلَمُ، فَیَتَّخِذُ النَّاسُ رُؤَسَائَ جُہَّالًا فَیُسْتَفْتَوْا فَیُفْتُوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَیَضِلُّوْا وَیُضِلُّوْا۔)) (مسند أحمد: ۶۸۹۶)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو علم عطا کر دیتا ہے تو وہ اس کو لوگوں سے چھین نہیں لیتا، بلکہ وہ علماء کو فوت کرنا شروع کر دیتا ہے، جب ایک عالم فوت ہوتا ہے تو وہ علم بھی چلا جاتا ہے، جو اس کے پاس ہوتا ہے، یہاں تک کہ صرف وہ لوگ باقی رہ جاتے ہیں، جن کو علم نہیں ہوتا، پس لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں اور پھر جب ان سے فتوی طلب کیا جاتا ہے تو وہ بغیر علم کے فتوی دیتے ہیں اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 317

۔ (۳۱۷)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ یُرْفَعُ الْعِلْمُ وَیَثْبُتَ الْجَھْلُ وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ وَیَظْہَرَ الزِّنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۳۱۲۶)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، شراب کو پیا جائے گا اور زنا عام ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 318

۔ (۳۱۸)۔عَنْ قَابُوْسٍ عن أَبِیْہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: آخِرُ شِدَّۃٍ یَلْقَاہَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ، وَفِیْ قَوْلِہِ: {یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَائُ کَالْمُہْلِ} قَالَ: کَدُرْدِیِّ الزَّیْتِ، وفِیْ قَوْلِہِ: {آنَائَ اللَّیْلِ} قَالَ: جَوْفُ اللَّیْلِ وَقَالَ: ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا ذَہَابُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: ہُوَ ذَہَابُ الْعُلَمَائِ مِنَ الْأَرْضِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: آخری سختی، جس میں مؤمن مبتلا ہوتا ہے، موت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان {یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَائُ کَالْمُہْلِ} میں مُھْل سے مراد تیل کا تلچھٹ ہے اور {آنَائَ اللَّیْلِ} سے مراد رات کا درمیانہ حصہ ہے۔ پھر انھوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ علم کا ختم ہو جانا کیا ہے؟ وہ زمین سے اہل علم کا اٹھ جانا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 319

۔ (۳۱۹)۔عَنْ زَیَادِ بْنِ لَبِیْدٍؓ قَالَ: ذَکَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا فَقَالَ: ((وَذَاکَ عِنْدَ أَوَانِ ذَہَابِ الْعِلْمِ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ یَذْہَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُہُ أَبْنَائَ نَا وَیُقْرِئُہُ أَبْنَائُ نَا أَبْنَائَ ہُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: ((ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا ابْنَ أُمِّ لَبِیْدٍ، اِنْ کُنْتُ لَاَرَاکَ مِنْ أَفْقَہِ رَجُلٍ بِالْمَدِیْنَۃِ، أَوَ لَیْسَ ہٰذِہِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی یَقْرَؤُونَ التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ لَا یَنْتَفِعُوْنَ مِمَّا فِیْہِمَا بِشَیْئٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۶۱۲)
سیدنا زیاد بن لبید ؓ کہتے ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کسی چیز کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ اس وقت ہوگا، جب علم اٹھ جائے گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! علم کیسے ختم ہو جائے گا، جبکہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کی اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر ہمارے بیٹے اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیں گے اور قیامت کے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ابن ام لبید! تجھے تیری ماں گم پائے، میرا خیال تو یہ تھا کہ مدینہ میں سب سے بڑا سمجھ دار اور فقیہ آدمی تو ہے، کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل کو نہیں پڑھتے،لیکن صورتحال یہ ہے کہ یہ لوگ ان میں سے کسی چیز سے مستفید نہیں ہو رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 320

۔ (۳۲۰)۔عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْجُرَشِیِّ قَالَ: حَدَّثَنَا جُبَیْرُ بْنُ نُفَیْرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ (الْأَشْجَعِیِّؓ) أَنَّہُ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ نَظَرَ اِلَی السَّمَائِ ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا أَوَانُ الْعِلْمِ أَنْ یُرْفَعَ۔))، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ زَیَادُ بْنُ لَبِیْدٍ: أَیُرْفَعُ الْعِلْمُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِیْنَا کِتَابُ اللّٰہِ وَقَدْ عَلَّمْنَاہُ أَبْنَائَ نَا وَنِسَائَ نَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّکَ مِنْ أَفْقَہِ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ۔)) ثُمَّ ذَکَرَضَلَالَۃَ أَھْلِ الْکِتَابَیْنِ وَعِنْدَہُمَا مَا عِنْدَہُمَا مِنْ کِتَاب اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَلَقِیَ جُبَیْرُ بْنُ نُفَیْرٍ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ (ؓ) بِالْمُصَلَّی فَحَدَّثَہُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ عَوْفٍ فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، ثُمَّ قَالَ: وَھَلْ تَدْرِیْ مَا رَفْعُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: ذَہَابُ أَوْعِیَتِہِ، قَالَ: وَھَلْ تَدْرِیْ أَیُّ الْعِلْمِ أَوَّلُ أَنْ یُرْفَعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: الْخَشُوْعُ حَتَّی لَا تَکَادُ تَرٰی خَاشِعًا۔ (مسند أحمد:۲۴۴۹۰)
سیدنا عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ علم کے اٹھ جانے کا وقت ہو گا۔ زیاد بن لبید نامی ایک انصاری آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا علم اٹھا لیا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تو تجھے اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو کتابوں والوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی اور ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب کی جو صورتحال ہے، اس کا ذکر کیا۔ جب جبیر بن نفیر کی سیدنا شداد بن اوس ؓ سے عید گاہ کے مقام پر ملاقات ہوئی تو انھوں نے ان کو سیدنا عوف ؓ کی حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: جی عوف نے سچ کہا ہے، پھر انھوں نے کہا: اور کیا تم جانتے ہو کہ علم کا اٹھ جانا کیا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: اس سے مراد علم کے برتنوں کا اٹھ جانا ہے، اور کیا تو جانتا ہے کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: نماز میں خشوع، (اور اس چیز کا اتنا فقدان ہو جائے گا کہ) ممکن ہو گا کہ تو خشوع کرنے والا کوئی شخص نہ دیکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 321

۔ (۳۲۱)۔عن أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلیِّ ؓ قَالَ: لَمَّا کَانَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَی جَمَلٍ آدَمَ فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! خُذُوْا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ یُقْبَضَ الْعِلْمُ وَقَبْلَ أَنْ یُرْفَعَ الْعِلْمُ۔)) وَقَدْ کَانَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {یَا أَیُّہَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُوئْ کُمْ، وَاِنْ تَسْأَلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنْزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَلَکُمْ، عَفَااللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ} قَالَ: فَکُنَّا نَذْکُرُہَا کَثِیْرًا مِنْ مَسْأَلَتِہِ وَاتَّقَیْنَا ذَاکَ حِیْنَ أنَزَلَ اللّٰہُ عَلَی نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَأَتَیْنَا أَعْرَابِیًّا فَرَشَوْنَاہُ بِرِدَائٍ، قَالَ: فَاعْتَمَّ بِہِ حَتَّی رَأَیْتُ حَاشِیَۃَ الْبُرْدِ خَارِجَۃً مِنْ حَاجِبِہِ الْأَیْمَنِ، قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَہُ: سَلِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَقَالَ لَہُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَیْفَ یُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَیْنَ أَظْہُرِنَا الْمَصَاحِفُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِیْھَا وَعَلَّمْنَا ہَا نِسَائَ نَا وَذَرَارِیَّنَا وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمرَأْسَہُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْہَہُ حُمْرَۃٌ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ: ((أَیْ ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ، وَہٰذِہِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی بَیْنَ أَظْہُرِہُمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ یُصْبِحُوْا یَتَعَلَّقُوْا بِحَرْفٍ مِمَّا جَائَ تْہُمْ بِہ أَنْبِیَائُ ہُمْ، أَلَا وَاِنَّ مِنْ ذَہَابِ الْعِلْمِ أَنْ یَذْہَبَ حَمَلَتُہُ۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۴۶)
سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے ، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سفید اونٹ پر سوار تھے اور سیدنا فضل بن عباس ؓ کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگو! علم حاصل کرو، قبل اس کے کہ علم سلب کر لیا جائے اور اس کو اٹھا لیا جائے۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان بھی نازل کر دیا تھا: اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اور اگر تم زمانۂ نزولِ قرآن میں ان باتوں کو پوچھو گے تو تم پر ظاہر کی دی جائیں گی، سوالات گزشتہ اللہ نے معاف کر دیئے اور اللہ بڑی مغفرت والابڑے حلم والا ہے۔ (سورۂ مائدہ:۱۰۱) ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بڑے سوالات کرتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی تو ہم نے سوال کرنے سے بچنا شروع کر دیا۔ (ایک دن ایک سوال کرنے کی خاطر) ہم ایک بدّو کے پاس گئے اور یہ کام کروانے کے لیے اسے ایک چادر دی، اس نے اس سے پگڑی باندھی اور چادر کا کنارہ دائیں ابرو کی طرف سے نکلا ہوا نظر آ رہا ہے، پھر ہم نے اس سے کہا: تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ایک سوال کر، پس اس نے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھایا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر قرآن مجید موجود ہے اور ہم نے اس کی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنی عورتوں، بچوں اور خادموں کو اس کی تعلیم دی ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا سر اٹھایا اور غصے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے چہرے پر سرخی نظر آ رہی تھی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: او فلاں! تجھے تیری ماں گم پائے، یہ یہودی اور عیسائی ہیں، ان کے اندر ان کی کتابیں موجود ہیں،لیکن صورتحال یہ ہے کہ ان کے انبیاء جو کچھ لائے ہیں، یہ اس کی ایک شق پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، خبردار! علم کا اٹھ جانا یہ ہے کہ حاملینِ علم اٹھ جائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔

آیت نمبر