Musnad Ahmad

Search Results(1)

40)

40) نمازِ تراویح کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2285

۔ (۲۲۸۵) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَافِرُوا تَصِحُّوا وَاغْزُوا تَسْتَغْنُوا۔)) (مسند احمد: ۸۹۳۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفر کیا کرو، تندرست رہو گے اور غزوہ کیا کرو، غنی ہوجاؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2286

۔ (۲۲۸۶) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ خَارِجٍ یَخْرُجُ یَعْنِی مِنْ بَیْتِہِ اِلَّا بِبَابِہِ رَایَتَانِ، رَایَۃٌ بِیَدِ مَلَکٍ، وَرَایَۃٌ بِیَدِ شَیْطَانٍ، فَاِنْ خَرَجَ لِمَا یُحِبُّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِتَّبعَہُ الْمَلَکُ بِرَایَتِہِ فَلَمْ یَزَلْ تَحْتَ رَایَۃِ الْمَلَکِ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلٰی بَیْتِہِ، وَاِنْ خَرَجَ لِمَا یُسْخِطُ اللّٰہَ اِتَّبَعَہُ الشَّیْطَانُ بِرَایَتِہِ فَلَمْ یَزَلْ تَحْتَ رَایَۃِ الشَّیْطَانِ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلٰی بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی نکلنے والا، جو اپنے گھر سے نکلتا ہے، مگر اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں، ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہو تا ہے اور ایک شیطان کے ہاتھ میں، اگر وہ شخص اللہ کے پسندیدہ کام کے لیے نکلتا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے چل پڑتا ہے اور وہ شخص فرشتے کے جھنڈے کے نیچے رہتاہے یہاں تک کہ گھر واپس آ جاتا ہے اور اگر وہ ایسے کام کے لیے نکلتا ہے جو اللہ کو ناراض کرتا ہے، تو اس کے پیچھے شیطان اپنا جھنڈا لے کر چل پڑتا ہے اور وہ شخص شیطان کے جھنڈے کے نیچے ہی رہتا ہے یہاں تک وہ گھر واپس لوٹ آتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2287

۔ (۲۲۸۷) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِکَۃُ رُفْقَۃً فِیْہَا کَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں کتا ہو یا گھنٹی کی آواز ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2288

۔ (۲۲۸۸) عَنْ سُہَیْلِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا سَافَرْتُمْ فِی الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْاِبِلَ حَظَّہَا، وَاِذَا سَافَرْتُمْ فِی الْجَدْبِ فَأَسْرِعُوا السَّیْرَ، وَاِذَا أَرَدْتُمُ التَّعْرِیْسَ فَتَنَکَّبُو الطَّرِیْقَ۔))ی (مسند احمد: ۸۴۲۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سبزہ زاروںمیں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دیا کرو اور جب تم خشک زمین پر سفر کرو تو تیزی کے ساتھ چلا کرو اور جب تم رات کے آخر میں پڑائو ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے اتر کر ایک طرف پڑاؤ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2289

۔ (۲۲۸۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((وَاِذَا عَرَّسْتَمْ فَاجْتَنِبُوْا الْطُّرُق فَاِنَّھَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَی الھَوَامِّ بِاللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۰۵)
۔ (دوسری سند) اس میں یہ ہے: اورجب تم رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ ڈالو تو راستوں سے ایک جانب ہو جایا کرو، کیونکہ یہ گزر گاہیں رات کو جانوروں کے راستے اور کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ بن جاتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2290

۔ (۲۲۹۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا سِرْتُمْ فِی الْخِصْبَ فَأَمْکِنُوا الرِّکَابَ أَسْنَانَہَا وَلَا تُجَاوِزُوْا الْمَنَازِلِ وَاِذَا سِرْتُمْ فِی الْجَدْبِ فَاسْتَجِدُّوا وَعَلَیْکُمْ بِالدَّلَجِ فَاِنَّ الْأَرْضَ تُطْوٰی بِاللَّیْلِ، وَاِذَا تَغَوَّلَتْ لَکُمُ الْغِیْلَانُ فَنَادُوا بِالْأَذَانِ، وَاِیَّاکُمْ وَالصَّلَاۃَ عَلٰی جَوَادِّ الطَّرِیْقِ وَالنُّزُولَ عَلَیْہَا، فَاِنَّہَا مَأْوَی الْحَیَّاتِ وَالْسِّبَاعِ، وَقَضَائَ الْحَاجَۃِ فَاِنَّہَا الْمَلَاعِنُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۲۸)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سر سبز و شاداب زمین میں چلو تو اپنی سواریوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دو، (مسافر لوگوں کے آرام کرنے والی) منزلوں سے تجاوز نہ کیا کرو، جب بنجر زمین میں سفر کرو توتیزی سے چلا کرو اوررات کے اندھیرے میں سفر کیا کرو، کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے، اور جب جادو گر جنّ (لوگوں کو راستے سے گمراہ کرنے کے لیے) مختلف رنگوں اور شکلوں میں ظاہر ہوں تو اذان کہا کرواور راستے کے درمیان میں نماز پڑھنے اور پڑاؤڈالنے سے بچو، کیونکہ یہ رات کو درندوں اور سانپوں وغیرہ کا ٹھکانہ ہوتے ہیں اور (راستے میں) پیشاب یا پاخانہ وغیرہ کرنے سے بھی بچو، کیونکہ یہ فعل لعنت کا سبب بنتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2291

۔ (۲۲۹۱) عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا عَرَّسَ بِلَیْلٍ اِضْطَجَعَ عَلٰی یَمِیْنِہِ، وَاِذَا عَرَّسَ قُبَیْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَیْہِ وَوَضَعَ رَأْسَہُ بَیْنَ کَفَّیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۰۹)
سیّدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے اور جب صبح سے کچھ دیر پہلے پڑاؤ کرتے تو اپنے بازو زمین پر کھڑے کر کے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سر رکھ کر لیٹ جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2292

۔ (۲۲۹۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلسَّفَرُ قِطْعَۃٌ مِنَ الْعَذَابِ، یَمْنَعُ أَحَدَکُمْ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ وَنَوْمَہُ فَاِذَا قَضٰی أَحَدُکُمْ نَہْمَتَہُ مِنْ سَفَرِہِ فَلْیُعَجِّلْ اِلٰی أَھْلِہِ)) (مسند احمد: ۷۲۲۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو تم کو کھانے، پینے اور سونے سے روک دیتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی سفر میں اپنا کام پورا کر ے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2293

۔ (۲۲۹۳) عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا أَرَادَ أَنْ یُسَافِرَ لَمْ یُسَافِرْ اِلَّا یَوْمَ الْخَمِیْسِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۲۰)
سیّدنا کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کسی اور دن سفر (کا آغاز) نہ کرتے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2294

۔ (۲۲۹۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: قَلَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ اِذَا أَرَادَ سَفَراً اِلَّا یَوْمَ الْخَمِیْسِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۷۳)
۔ (دوسری سند) سیّدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کم ہی نکلتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2295

۔ (۲۲۹۵) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرِیْدُ سَفَراً فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَوْصِنِی، قَالَ: ((أُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالتَّکْبِیرِ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ۔)) فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَّ ازْوِ لَہُ الْأَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْہِ السَّفَرَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۶۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، جو سفر کا ارادہ رکھتا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ کو کوئی وصیت فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرانے کی اور ہر اونچی جگہ پر چڑھتے وقت اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتاہوں۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس شخص کے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت مختصر کر دے) اور اس پر سفر کو آسان کردے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2296

۔ (۲۲۹۶) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَ أَبِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِذَا أَتَی الرَّجُلُ وَھُوَ یُرِیْدُ السَّفَرَ قَالَ لَہُ: اُدْنُ حَتّٰی أُوَدِّعَکَ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوَدِّعُنَا فَیَقُوْلُ: ((اَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ۔)) (مسند احمد: ۴۵۲۴)
سالم بن عبد اللہ سے کہتے ہیں کہ میرے باپ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ لے کر آتاتو وہ کہتے: میرے قریب ہو جا، تاکہ میں تجھے اس طرح الوادع کہوں، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں الوداع کہا کرتے تھے،پھر وہ کہتے: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2297

۔ (۲۲۹۷)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ قَزَعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَأَرْسَلَنِی فِی حَاجَۃٍ لَہُ: تَعَالَ حَتّٰی أُوَدِّعَکَ کَمَا وَدَّعَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَرْسَلَنِی فِی حَاجَۃٍ لَہُ فَأَخَذَ بِیَدِی فَقَالَ: اَسْتَوْدِعُُُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ۔ (مسند احمد: ۴۹۵۷)
(دوسری سند) قزعہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور کہا: ادھر آؤ تاکہ میں تم کو ایسے الوداع کہوںجیسے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کسی کام کو بھیجتے ہوئے الوداع کیا تھا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2298

۔ (۲۲۹۸) عَنْ مُوْسَی بْنِ وَرْدَانَ قَالَ: قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ لِرَجُلٍ: أُوَدِّعُکَ کَمَا وَدَّعَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ کَمَا وَدَّعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْتَوْدِعُکَ اللّٰہَ الَّذِی لَا تَضِیْعُ وَدَائِعُہُ۔ (مسند احمد: ۹۲۱۹)
موسیٰ بن وردان کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی سے کہا: میں تجھے اس طرح الوداع کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے الوداع کہا تھا (یا راوی نے کہا، جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے الوداع کہا)، میں تجھے اُس اللہ کے سپرد کرتا ہوں کہ جس کو سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2299

۔ (۲۲۹۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَیْبَرَ فَاتَّبَعَہُ رَجُلَانٍ وَآخَرُ یَتْلُوھُمَا یَقُوْلُ: اِرْبَعَا اِرْبَعَا حَتّٰی رَدَّھُمَا، ثُمَّ لَحِقَ الْأَوَّلَ، فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَانِ شَیْطَانَانِ وَاِنِّی لَمْ أَزَلْ بِہِمَا حَتّٰی رَدَدْتُّھُمَا، فَاِذَا أَتَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقْرِئْہُ السَّلَامَ وَأَخْبِرْہُ أَنَّا ھٰہُنَا فِی جَمْعِ صَدَقَاتِنَا وَلَوْ کَانَتْ تَصْلُحُ لَہُ لَبَعَثْنَا بِہَا اِلَیْہِ، قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ الْمَدِیْنَۃَ أَخْبَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَعِنْدَ ذٰلِکَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْخَلْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۱۹)
عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی خیبر سے نکلا، دو آدمی اس کے پیچھے چل پڑے اور ایک ان کے پیچھے، جو انھیں کہتا تھا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ۔ (یہاں تک کہ) انھیں لوٹا دیا، پھر وہ پہلے آدمی کو جا ملا اور اسے بتایا کہ یہ دو شیطان تھے، میں ان کے ساتھ لگا رہا، حتی کہ انھیں لوٹا دیا۔ جب تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کو میرا سلام عرض کرنا اور بتلا دینا کہ ہم یہاں صدقات جمع کر رہے ہیں، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لائق ہوں تو ہم بھیج دیں گے۔ وہ آدمی مدینہ میں پہنچا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا پیغام پہنچا دیا۔ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خلوت (تنہائی) سے منع کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2300

۔ (۲۳۰۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی الْوَحْدَۃِ مَا سَارَ أَحَدٌ وَحْدَہُ بِلَیْلٍ أَبَداً۔)) (مسند احمد: ۵۹۰۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ رات کواکیلا سفر کرنے میں کیا نقصان ہے تو کوئی بھی رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2301

۔ (۲۳۰۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنِ الْوَاحْدَۃِ أَنْ یَبِیْتَ الرَّجُلُ وَحْدَہُ أَوْ یُسَافِرَ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۵۶۵۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تنہائی سے منع کیا ہے کہ آدمی اکیلا رات گزارے یا اکیلا سفر کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2302

۔ (۲۳۰۲) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الرَّاکِبُ شَیْطَانٌ وَالرَّاکِبَانِ شَیْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَۃُ رَکْبٌ۔)) (مسند احمد: ۶۷۴۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اکیلا سفر کرنے والا سوار شیطان ہے اور دو سفر کرنے والے سوار بھی شیطان ہیں، البتہ تین کا قافلہ بن جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2303

۔ (۲۳۰۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَائِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَعَانِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ أَرَادَ أَنْ یَبْعَثَنِی بِمَالٍ اِلٰی أَبِی سُفْیَان یَقْسِمُہُ فِی قُرَیْشٍ بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ، قَالَ: فَقَالَ: ((الْتَمِسْ صَاحِبًا)) قَالَ: فَجَائَ نِی عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ قَالَ: بَلَغَنِی اَنَّکَ تُرِیْدُ الْخُرُوْجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا؟ قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَنَا لَکَ صَاحِبٌ، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: قَدْ وَجَدْتُ صَاحِباً، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وَجَدْتَّ صَاحِباً فَآذِنِّی۔)) قَالَ: فَقَالَ: ((مَنْ؟)) قُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِذَا ھَبَطْتَ بِلَادَ قَوْمِہِ فَاحْذَرْہُ فَاِنَّہُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ ’’أَخُوکَ الْبِکْرِیُّ وَلَا تَأْمَنْہُ‘‘۔)) قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتّٰی اِذَا جِئْتُ الْأَبْوَائَ، فَقَالَ لِی: اِنِّی أُرِیْدُ حَاجَۃً اِلٰی قَوْمِی بِوَدَّانَ فَتَلَبَّثْ لِی، قَالَ: قُلْتُ: رَاشِداً، فَلَمَّا وَلّٰی ذَکَرْتُ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسِرْتُ عَلٰی بَعِیْرِی ثُمَّ خَرَجْتُ أُوضِعُہُ حَتّٰی اِذَا کُنْتُ بِالْأَصَافِرِ اِذَا ھُوَ یُعَارِضُنِی فِی رَھْطِہِ، قَالَ: وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُہُ، فَلَمَّا رَآنِی قَدْ فُتُّہُ اِنْصَرَفُوْا وَجَائَ نِی، قَالَ: کَانَتْ لِی اِلٰی قَوْمِی حَاجَۃٌ، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، فَمَضَیْنَا حَتّٰی قَدِمْنَا مَکَّۃَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ اِلٰی أَبِی سُفْیَانَ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۵۹)
عبد اللہ بن عمرو بن فغواء اپنے باپ سیّدنا عمرو بن فغوائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا، کیونکہ آپ مجھے کچھ مال دے کر سیّدنا ابو سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجنا چاہتے تھے، تاکہ وہ یہ مال قریشیوں میں تقسیم کر سکے، یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنا کوئی ساتھی تلاش کر لو۔ میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئے اورکہنے لگے: مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (سفر پر)جاناچاہتا ہے اور کوئی ساتھی تلاش کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا:میں تیرا ساتھی ہوں۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اطلاع دی کہ مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ جب تو کسی ساتھی کو پالے تو مجھے اطلاع دینا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: (تیرا ساتھی) ہے کون؟ میں نے کہا:عمر و بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اس کی قوم کے علاقے میں اترے تو ذرا اس سے بچ کر رہنا،بے شک کسی کہنے والے نے کہا تھا: تیرا بھائی تجھ سے طاقتور ہے اس سے بے خوف نہ ہوجانا۔ پس ہم نکل پڑے اور ابوائ پہنچ گئے۔ اس ساتھی نے مجھے کہا: میری قوم کا مسکن ودان علاقہ ہے، مجھے ان سے کوئی کام ہے، اس لیے تم میرا انتظار کرو۔ میں نے اسے کہا: ٹھیک ہے (میں انتظار کروں گا)۔ جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نصیحت یاد آگئی، اس لیے میں اپنے اونٹ پر سوار ہوا، وہاں سے نکلا اوراس کو تیزی سے دوڑا نے لگا، یہاں تک کہ میں اصافر مقام پر پہنچ گیا۔ (لیکن میں نے دیکھا کہ) وہ اپنی قوم کے ایک گروہ کے ہمراہ (میرا راستہ ) کاٹنے کے لیے میرے سامنے آ گیا۔ لیکن میں نے اپنے اونٹ کو تیز دوڑایا اور اس سے آگے نکل گیا۔ پھرجب اس نے دیکھا کہ میں اس کے قابو نہیں آ سکتا تو وہ لوگ واپس چلے گئے اور وہ عمرو بن امیہ میرے پاس آکر کہنے لگا: مجھے اپنی قوم سے کوئی کام تھا۔ میں نے (بات چھپا لی اور) کہا: ٹھیک ہے، پھر ہم چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور میںنے وہ مال ابوسفیان کے حوالے کردیا۔ طرف بھیجنا چاہتے تھے، تاکہ وہ یہ مال قریشیوں میں تقسیم کر سکے، یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنا کوئی ساتھی تلاش کر لو۔ میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئے اورکہنے لگے: مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (سفر پر)جاناچاہتا ہے اور کوئی ساتھی تلاش کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا:میں تیرا ساتھی ہوں۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اطلاع دی کہ مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ جب تو کسی ساتھی کو پالے تو مجھے اطلاع دینا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: (تیرا ساتھی) ہے کون؟ میں نے کہا:عمر و بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اس کی قوم کے علاقے میں اترے تو ذرا اس سے بچ کر رہنا،بے شک کسی کہنے والے نے کہا تھا: تیرا بھائی تجھ سے طاقتور ہے اس سے بے خوف نہ ہوجانا۔ پس ہم نکل پڑے اور ابوائ پہنچ گئے۔ اس ساتھی نے مجھے کہا: میری قوم کا مسکن ودان علاقہ ہے، مجھے ان سے کوئی کام ہے، اس لیے تم میرا انتظار کرو۔ میں نے اسے کہا: ٹھیک ہے (میں انتظار کروں گا)۔ جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نصیحت یاد آگئی، اس لیے میں اپنے اونٹ پر سوار ہوا، وہاں سے نکلا اوراس کو تیزی سے دوڑا نے لگا، یہاں تک کہ میں اصافر مقام پر پہنچ گیا۔ (لیکن میں نے دیکھا کہ) وہ اپنی قوم کے ایک گروہ کے ہمراہ (میرا راستہ ) کاٹنے کے لیے میرے سامنے آ گیا۔ لیکن میں نے اپنے اونٹ کو تیز دوڑایا اور اس سے آگے نکل گیا۔ پھرجب اس نے دیکھا کہ میں اس کے قابو نہیں آ سکتا تو وہ لوگ واپس چلے گئے اور وہ عمرو بن امیہ میرے پاس آکر کہنے لگا: مجھے اپنی قوم سے کوئی کام تھا۔ میں نے (بات چھپا لی اور) کہا: ٹھیک ہے، پھر ہم چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور میںنے وہ مال ابوسفیان کے حوالے کردیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2304

۔ (۲۳۰۴) عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیْعَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أُتِیَ بِدَابَّۃٍ لِیَرْکَبَھَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی الرِّکَابِ قَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ، فَلَمَّا اسْتَوٰی عَلَیْہَا قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، {سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ} ثُمَّ حَمِدَ اللّٰہَ ثَـلَاثاً وَکَبَّرَ ثَـلَاثاً، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْلِی ثُمَّ ضَحِکَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِکْتَ بِاأَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ؟ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، ثُمَّ ضَحِکَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِکْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((یَعْجَبُ الرَّبُّ مِنْ عَبْدِہِ اِذَا قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِی، وَیَقُوْلُ: عَلِمَ عَبْدِی أَنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ غَیْرِی۔)) (مسند احمد: ۷۵۳)
علی بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، ان کے پاس ایک سواری لائی گئی تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، جب انہوں نے رکاب میں اپنا پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر سوار ہو گئے تو کہا: ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ ذات پاک ہے، جس نے اس سواری کو ہمارے تابع کر دیا، جبکہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں، پھر تین دفعہ اللہ کی حمد اور تین دفعہ اس کی بڑائی بیان کی، پھر کہا: تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تحقیق میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، مجھ کو معاف کردے، پھر وہ ہنسے۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی کیا ، جیسے میں نے کیا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنسے، میں نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے، جب بندہ کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے معاف کردے، تو اللہ کہتا ہے: میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2305

۔ (۲۳۰۵) عَنْ عَلِّی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْدَفَہُ عَلٰی دَابَّتِہِ فَلَمَّا اسْتَوٰی عَلَیْہِ کَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَـلَاثاًً، وَحَمِدَ اللّٰہَ ثَـلَاثاً، وَسَبَّحَ اللّٰہَ ثَـلَاثاً، وَھَلَّلَ اللّٰہَ وَاحِدَۃً، ثُمَّ اسْتَلْقٰی عَلَیْہِ فَضَحِکَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ فَقَالَ: ((مَا مِنَ امْرِیئٍ یَرْکَبُ دَابَّتَہُ فَیَصْنَعُ کَمَا صَنَعْتُ اِلَّا أَقْبَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَضَحِکَ اِلَیْہِ کَمَا ضَحِکْتُ اِلَیْکَ۔)) (مسند احمد: ۳۰۵۷)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی سواری پر بٹھایا ہوا تھا، پس جب آپ سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ الحمد للّٰہ اور ایک دفعہ لا الہ الا اللّٰہ کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور مسکرائے۔ اس کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جوآدمی بھی اپنی سواری پر سوار ہو اور اس طرح کرے، جس طرح میں نے کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی طرف دیکھ کر ہنس پڑتے ہیں، جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنس پڑا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2306

۔ (۲۳۰۶) عَنْ أَبِی تَمِیْمَۃَ الْھُجَیْمِیِّ عَمَّنْ کَانَ رَدِیْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ کُنْتُ رَدِیْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ فَعَثَرَ الْحِمَارُ فَقُلْتُ: تَعَسَ الشَّیْطَانُ، فَقَالَ لِیَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُلْ تَعَسَ الشَّیْطَانُ، فَاِنَّکَ اِذَا قُلْتَ تَعَسَ الشَّیْطَانُ تَعَاظَمَ الشَّیْطَانُ فِی نَفْسِہِ وَقَالَ صَرَعْتُہُ بِقُوَّتِی فَاِذَا قُلْتُ بِسْمِ اللّٰہِ تَصَاغَرَتْ اِلَیْہِ نَفْسُہُ حَتّٰی یَکُوْنَ أَصْغَرَ مِنْ ذُبَابٍ (وَفِی لَفْظٍ) تَصَاغَرَ حَتّٰی یَصِیْرَ مِثْلَ الذُّبَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۷)
ابوتمیمہ ہجیمی ایسے صحابی سے روایت کرتے ہیں جونبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ردیف تھے، وہ کہتے ہیں: میں گدھے پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سوار تھا، گدھے کو ٹھوکر لگ گئی، جس پر میں نے کہا: شیطان ہلاک ہو جائے۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اس طرح نہ کہو کہ شیطان ہلاک ہو جائے، کیونکہ جب تم یہ کہتے ہو کہ شیطان ہلاک ہو جائے تو شیطان دل میں اپنے آپ کو بڑا جاننے لگتا ہے اور کہتا ہے: میں نے اپنی طاقت سے اس کو گرا دیا ہے، لیکن (جب ایسی صورت میں) تم بسم اللہ کہو گے تو شیطان کا نفس ذلیل ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ مکھی سے بھی زیادہ چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اتنا ذلیل ہوجاتا ہے کہ وہ مکھی کی طرح چھوٹا بن جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2307

۔ (۲۳۰۷) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((عَلٰی ظَہْرِ کُلِّ بَعِیْرٍ شَیْطَانٌ فَاِذَا رَکِبْتُمُوْھَا فَسَمُّوا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَلَا تُقَصِّرُوا عَنْ حَاجَاتِکُمْ)) (مسند احمد: ۱۶۱۳۵)
سیّدنا حمزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی کمر پر شیطان ہے، اس لیے جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ تعالیٰ کا نام لے لیا کرو، پھراپنی حاجات (کو پورا کرنے میں) سستی نہ برتو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2308

۔ (۲۳۰۸) عَنْ عَلِیٍّ الْأَزْدِیِّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَّمَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا اسْتَوٰی عَلٰی بَعِیْرِہِ خَارِجًا اِلٰی سَفَرٍ کَبَّرَ ثَـلَاثاً، ثُمَّ قَالَ: (({سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۔} اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْأَلُکَ فِی سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰہُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہُ، اَللّٰھُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّی أَعُوْذُبِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: اَللّٰہُمَّ اصْحَبْنَا فِی سَفَرِنَا، وَاخْلُفْنَا فِی أَھْلِنَا)۔)) وَاِذَا رَجَعَ قَالَھُنَّ وَزَادَ فِیْہِنَّ: ((آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۶۳۷۴)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے علی ازدی کو یہ تعلیم دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کو نکلتے ہوئے اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے،پھر پڑھتے: پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس سواری کو تابع کیا ہے ، جبکہ ہم اس کو تابع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اوربے شک ہم سب نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اے اللہ بے شک ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور تقوٰی کا سوال کرتے ہیں اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جو تجھے پسند ہو، اے اللہ! اس سفر کو ہمارے لیے آسان کردے اور اس کی دوری کو ہم سے لپیٹ دے، اے اللہ! سفر میں بھی تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں بھی تو ہی ہمارا خلیفہ ہے، اے اللہ! میں تجھ سے پنا ہ مانگتا ہوں سفر کی مشکلات سے، ناکام و غمگین واپس لوٹنے سے اور اپنے گھر اورمال میں برے منظر کو دیکھنے سے ۔ اور ایک روایت میں ہے: اے اللہ! سفر میں ہمارا ساتھی بن جا اور ہمارے اہل میں ہمارا خلیفہ بن جا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس لوٹتے تویہی کلمات کہتے اور ان میں یہ الفاظ زائد کرتے: واپس لوٹنے والے ہیں، تو بہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2309

۔ (۲۳۰۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا خَرَجَ سَفَراً فَرَکِبَ رَاحِلَتَہُ قَالَ: ((اَللَّھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ، وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ…۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہُ ۔ (مسند احمد: ۹۱۹۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو سواری پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! تو سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں ہمارا خلیفہ ہے، …۔ پھر انھوں نے سابقہ روایت کے الفاظ کی طرح الفاظ ذکر کیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2310

۔ (۲۳۱۰) عَنْ أَبِی لَاسِ نِ الْخُرَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَمَلَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی اِبِلٍ مِنْ اِبِلِ الصَّدَقَۃِ ضِعَافٍ اِلَی الْحَجِّ، قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ ھٰذِہِ الْاِبِلَ ضِعَافٌ، نَخْشٰی أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ بَعِیْرٍ اِلَّا فِی ذِرْوَتِہِ شَیْطَانٌ فَارْکَبُوھُنَّ، وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِنَّ کَمَا أُمِرْتُمْ ثُمَّ امْتَہِنُوھُنَّ لِأَنْفُسِکُمْ فَاِنَّمَا یَحْمِلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۰۴)
سیّدنا ابو لاس خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حج کے لیے صدقہ کے کمزور اونٹوں پر سوار کیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول: یہ اونٹ تو کمزور ہیں، ہمیں تو یہ اندیشہ ہے کہ یہ ہمیں نہ اٹھا سکیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی کوہان پر شیطان ہوتا ہے، اس لیے جب تم ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو، جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، پھر ان کو اپنی خدمت کے لیے استعمال کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی اٹھاتا ہے (یعنی ان اونٹوں میں بوجھ اٹھانے پر قوت اور صبر پیدا کر دیتا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2311

۔ (۲۳۱۱) عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أُمَیَّۃَ أَنَّ حَبِیْبَ بْنَ مَسْلَمَۃَ أَتٰی قَیْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ فِی الْفِتْنَۃِ الْأُوْلٰی وَھُوَ عَلٰی فَرَسٍ فَتَأَخَّرَ عَنِ السَّرْجِ وَقَالَ: اِرْکَبْ فَأَبٰی، فَقَالَ لَہُ قَیْسُ بْنُ سَعْدٍ اِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: صَاحِبُ الدَّابَّۃِ أَوْلٰی بِصَدْرِھَا۔)) فَقَالَ لَہُ حَبِیْبٌ اِنِّی لَسْتُ أَجْہَلُ مَا قَالَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلٰکِنِّی أَخْشٰی عَلَیْکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۷)
عبد الرحمن بن امیہ کہتے ہیں کہ سیّدناحبیب بن مسلمۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیّدنا قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، یہ پہلے فتنے کے وقت کی بات ہے، وہ گھوڑے پر سوار تھے، وہ گھوڑے کی زین سے پیچھے ہٹ گئے اور ان سے کہا:سوار ہوجاؤ ، لیکن سیّدنا قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے (اس مقام پر) سوار ہونے سے انکار کردیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا: سواری کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق دار ہے۔ آگے سے سیّدنا حبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس ارشادسے جاہل نہیں ہوں، لیکن میں تجھ پر( کسی دشمن سے) ڈرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2312

۔ (۲۳۱۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی یَقُوْلُ: بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِی اِذْ جَائَہُ رَجُلٌ مَعَہُ حِمَارٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِرْکَبْ، فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِکَ مِنِّی اِلَّا أَنْ تَجْعَلَہُ لِیْ۔)) قَالَ: فَاِنِّی قَدْ جَعَلْتُہ لَکَ، قَالَ: فَرَکِبَ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۸۰)
سیّدنا بریدہ اسلمی کہتے ہیں: ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل رہے تھے، اچانک ایک آدمی، جس کے پاس گدھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سوار جائیں، جبکہ وہ خود پیچھے ہٹنے لگا،اس پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، (میں اس کے اگلے حصے پر سوار نہیں ہوں گا، کیونکہ) تو اپنی سواری کے اگلے حصے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے، ہاں اگر تو مجھے اجازت دے دے تو ٹھیک ہے۔ اس نے کہا: میں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اس اگلے حصے پر) سوار ہوگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2313

۔ (۲۳۱۳) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَضَی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ صَاحِبَ الدَّابَّۃِ أَحَقُّ بِصَدْرِھَا۔ (مسند احمد: ۱۱۹)
سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ کیاکہ سواری کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق رکھتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2314

۔ (۲۳۱۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَاِنِّی أَخَافُ أَنْ یَنَالَہُ الْعَدُوُّ۔ (مسند احمد: ۴۵۷۶)
سیّدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کو لے کر (دشمن کے علاقے کی طرف) سفر نہ کرو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ دشمن کے ہتھے چڑھ جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2315

۔ (۲۳۱۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْھٰی أَنْ یُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ اِلٰی أَرْضِ الْعَدُوِّ۔ (مسند احمد: ۵۴۶۵)
۔ (دوسری سند)میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مصحف (قرآن) لے کر دشمن کے علاقے میں سفر کرنے سے منع فرما رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2316

۔ (۲۳۱۶) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ یُرِیْدُ سَفَرًا أَوْ غَیْرَہُ فَقَالَ حِیْنَ یَخْرُجُ: آمَنْتُ بِاللّٰہِ، اِعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، اِلَّا رُزِقَ خَیْرَ ذٰلِکَ الْمَخْرَجِ، وَصُرِفَ عَنْہُ شَرُّ ذٰلِکَ الْمَخْرَجِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۱)
سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی سفر یا کسی اور کام کے ارادے سے گھر سے نکلتا ہے اور یہ دعا پڑھتا ہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ، اِعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ … میں اللہ پرایمان لایا،اس (کی رسی) کو مضبوطی سے تھاما اور میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، گناہوں سے بچنے کی قدرت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ کے ساتھ۔ تو اس کو اس راستے کی خیر و برکت دی جائے گی اور اس راستے کو اس کی برائی سے بچالیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2317

۔ (۲۳۱۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا أَرَادَ سَفَراً قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصُوْلُ وَبِکَ أَحُوْلُ وَبِکَ أَسِیْرُ)) (مسند احمد: ۱۲۹۶)
سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو فرماتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصُوْلُ وَبِکَ أَحُوْلُ وَبِکَ أَسِیْرُ۔ … اے اللہ! میں تیرے ساتھ ہی (دشمن پر) حملہ کرتا ہوں، تیرے ساتھ ہی میں حرکت کرتا ہوں اور تیرے ساتھ ہی میں چلتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2318

۔ (۲۳۱۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ اِلٰی سَفَرٍ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی الْسَّفَرِ، وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ، اَللّٰہُمَّ اِنِّی أعُوْذُبِکَ مِنَ الضُّبْنَۃِ فِی السَّفَرِ وَالْکَآبَۃِ فِی الْمُنْقَلَبِ، اَللّٰھُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ۔)) وَاِذَا أَرَادَ الرُّجُوْعَ قَالَ: ((آئِبُونَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔)) وَاِذَا دَخَلَ أَھْلَہُ قَالَ: ((تَوْباً تَوْباً لِرَبِّنَا أَوْباً لَایُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْباً۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۱)
سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی سفر میں نکلنے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی الْسَّفَرِ، وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ، اَللّٰہُمَّ اِنِّی أعُوْذُبِکَ مِنَ الضُّبْنَۃِ فِی السَّفَرِ وَالْکَآبَۃِ فِی الْمُنْقَلَبِ، اَللّٰھُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ۔ … اے اللہ! تو سفر میں ساتھی ہے اور ہمارے گھر میں خلیفہ ہے،اے اللہ! میں تجھ سے سفر میں کثرتِ عیال سے اور سفر سے ناکام واپسی سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت کو کم کر دے) اور ہمارے لے یہ سفرآسان کردے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: آئِبُونَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔ … واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔ اورجب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو فرماتے: تَوْباً تَوْباً لِرَبِّنَا أَوْباً لَایُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْباً۔ ہم توبہ کرتے ہیں، ہم توبہ کرتے ہیں اور اپنے اس رب کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو ہمارا کوئی گناہ نہیں چھوڑتا، (بلکہ سب کو معاف فرما دیتا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2319

۔ (۲۳۱۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَرْجِسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (قَالَ عَاصِمٌ: وَقَدْ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ): کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَرَجَ فِیْ سَفَرٍ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَدَعْوَۃِ الْمُظْلُوْمِ، وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَالْأَھْلِ۔)) وَاِذَا رَجَعَ قَالَ مِثْلَہَا اِلَّا أَنَّہُ یَقُوْلُ: ((وَسُوْئِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ۔)) فَیَبْدَأُء بِالْأَھْلِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۵۷)
سیّدنا عبد اللہ بن سرجس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَدَعْوَۃِ الْمُظْلُوْمِ، وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَالْأَھْلِ۔( اے اللہ ! میں سفر کی مشقتوں سے، واپس لوٹنے کے غم سے سے، زیادہ ہو جانے کے بعد نقصان سے، مظلوم کی بددعا سے اور مال اور گھر میں برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔) اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹتے تو یہی کلمات دوہراتے ۔ البتہ آخری جملے کو اس طرح کہتے تھے: وَسُوْئِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ۔(اور اپنے اہل اور مال میں برے منظر۔) یعنی اس میں الْأَہْل کا لفظ پہلے آیا، (اور المَال کا بعد میں)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2320

۔ (۲۳۲۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ وَسُئِلَ عَاصِمٌ عَنِ الْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ قَالَ حَارَ بَعْدَ مَا کَانَ ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۲)
(دوسری سند) عاصم سے الْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ کے (معنی کے) بارے میں پوچھاگیا تو انھوں نے کہا: (کسی نعمت کے) زیادہ ہو جانے کے بعد اس میں کمی آجانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2321

۔ (۲۳۲۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَکَہُ اللَّیْلُ قَالَ: ((یَاأَرْضُ! رَبِّی وَرَبُّکِ اللّٰہُ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِیْکِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ کُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَیَّۃٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ۔)) (مسند احمد: ۶۱۶۱)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب غزوہ یا کسی اور سفر کے لیے نکلتے اور راستے میں رات ہو جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا پڑھتے: یَاأَرْضُ! رَبِّی وَرَبُّکِ اللّٰہُ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِیْکِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ کُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَیَّۃٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ۔(اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شرّ سے، تیرے اندر کے شرّ سے، تیرے اندر پیدا کی ہوئی چیزوں کے شرّ سے اور تیرے اوپر رینگنے والی چیزوں کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، ہر قسم کے شیر، شخص، سانپ اور بچھو کے شرّ سے اور اس علاقے میں رہنے والے کے شرّ سے ، (غرضیکہ) ہر جنم دینے والے اور ہر جنم لینے والے کے شرّ سے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2322

۔ (۲۳۲۲) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَۃَ بِنْتَ حَکِیْمٍ السُّلَمِیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا، ثُمَّ قَالَ: أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ کُلِّہَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ یَضُرَّہُ شَیْئٌ حَتَّی یَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِہِ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۶۳)
سیّدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ خولہ بنت حکیم سلمیۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کہیں پڑاؤ ڈالے اور یہ دعا پڑھے: أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ کُلِّہَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ ( میں اللہ کے تمام اور مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جواس نے پیداکی۔)تو کوئی چیز اسے وہاں سے روانہ ہونے تک نقصان نہیں دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2323

۔ (۲۳۲۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا صَعِدْنَا کَبَّرْنَا وَاِذَا ھَبَطْنَا سَبَّحْنَا۔ (مسند احمد: ۱۴۶۲۲)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے، جب (بلند جگہ پر)چڑھ رہے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب (بلند جگہ سے) اتر رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2324

۔ (۲۳۲۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا صَعِدَ أَکَمَۃً أَوْ نَشَزًا قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ الشَّرَفُ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَمْدٍ (وَفِی لَفْظٍ) وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۰۶)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی ٹیلے یا اونچی جگہ پر چڑھتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الشَّرَفُ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَمْدٍ (ایک روایت کے الفاظ کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ کہتے) وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔ … اے اللہ! ہر بلند جگہ پر عزت و حیثیت تیرے لیے ہی ہے اور ہر قسم کی تعریف پر (اصل) تعریف لیے ہی ہے۔ اور (ایک روایت کے مطابق) ہر حال میں تعریف تیرے لیے ہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2325

۔ (۲۳۲۵) عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یَقْدَمُ مِنْ سَفرٍ اِلَّا نَہَاراً فِی الضُّحٰی، فَاِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلّٰی فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِیْہِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) فَیَأْتِیْہِ النَّاسُ فَیُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۶۷)
’سیّدناکعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دن کو چاشت کے وقت میں واپس آتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنچ جاتے تو مسجد سے شروع ہوتے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر وہاںبیٹھ جاتے اور لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آکر آپ کو سلام کہتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2326

۔ (۲۳۲۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَا یَطْرُقُ أَھْلَہُ لَیْلًا، کَانَ یَدْخُلُ عَلَیْہِمْ غُدْوَۃً أَوْ عَشِیَّۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۲۸۸)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (سفر سے واپسی پر) رات کو گھر نہیں آتے تھے، بلکہ صبح یا شام کے وقت آتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2327

۔ (۲۳۲۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((اِذَا دَخَلْتَ لَیْلاً فَـلَا تَدْخُلْ عَلٰی أَھْلِکَ حَتّٰی تَسْتَحِدَّ الْمُغِیْبَۃُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَۃُ۔)) قَالَ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَخَلْتَ فَعَلَیْکَ الْکَیْسَ الْکَیْسَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۳۳)
سیّدنا جابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو رات کو سفر سے واپس لوٹے تو اپنے گھر والوں کے پاس نہ جا، حتیٰ کہ غائب خاوند کی بیوی استرا استعمال کر لے (زیر ناف بال مونڈ لے) اور پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا جابر سے فرمایا: جب تو سفر سے واپس گھر میں آئے تو عقلمندی کو لازم پکڑنا، عقلمندی کو (یعنی حق زوجیت ادا کرنے کا اہتمام کرنا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2328

۔ (۲۳۲۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ الْعَقِیْقَ فَنَھٰی عَنْ طُرُوقِ النِّسَائِ اللَّیْلَۃَ الَّتِی یَأْتِیْ فِیْہَا فَعَصَاہُ فَتَیَانِ فَکِلَاھُمَا رَآی مَا یُکْرَہُ۔ (مسند احمد: ۵۸۱۴)
عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عقیق نامی جگہ پراترے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو بیویوں پر داخل ہونے سے منع فرما دیا۔ دو نوجوانوں نے اس حکم کی نافرمانی کی، پس ان دونوں نے( اپنے گھروں میں) ایسی چیزیں دیکھیں جس کو ناپسند کیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2329

۔ (۲۳۲۹) عَنْ نُبَیْحٍ الْعَنَزِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَخَلْتُمْ لَیْلًا فَـلَا یَأْتِیَنَّ أَحَدُکُمْ أَھْلَہُ طُرُوقًا۔)) فَقَالَ جَابِرٌ: فَوَاللّٰہِ لَقَدْ طَرَقْنَاھُنَّ بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۴۳)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو (سفر سے) واپس آ جاؤ تو کوئی بھی رات کو اپنے اہل کے پاس نہ جائے، (بلکہ صبح کا انتظار کرے)۔ سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے بعد میں ان کے پاس رات کو آنا شروع کردیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2330

۔ (۲۳۳۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَطْرُقَ الرَّجُلُ أَھْلَہُ لَیْلًا، أَنْ یَخَوِّنَہُمْ أَوْ یَلْتَمِسَ عَثَرَاتِھِمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۸۱)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی رات کے وقت (سفر سے ) اپنے اہل کے پاس آئے، کہ وہ ان کی خیانت کو ڈھونڈے یا ان کی غلطی کا موقع تلاش کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2331

۔ (۲۳۳۱) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ لَیْلاً فَتَعَجَّلَ اِلٰی امْرَأَتِہِ فَاِذَا فِی بَیْتِہِ مِصْبَاحٌ، وَاِذَا مَعَ امْرَأَتِہِ شَیْئٌ، فَأَخَذَ السَّیْفَ، فَقَالَتِ أَمْرَأَتُہُ: اِلَیْکَ عَنِّی، فُلَانَۃُ تُمَشِّطُنِیْ، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَنَھٰی أَنْ یَطْرُقَ الرَّجُلُ أَھْلَہُ لَیْلًا۔ (مسند احمد: ۱۵۸۲۸)
سیّدنا عبد اللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک دفعہ رات کو سفر سے واپس آئے اور جلدی جلدی اپنی بیوی کے پاس پہنچے، وہ کیا دیکھتے ہیں کہ گھر میں چراغ تھا اور اس کی بیوی کے پاس کوئی فرد تھا۔ پس اس نے تلوار پکڑی، لیکن اتنے میں اس کی بیوی نے کہ: پیچھے ہٹ جا، یہ فلاں عورت ہے، میری کنگھی کر رہی تھی۔ پھر وہ نبی کریم کے پاس آیا اور ساری بات بتلائی، (یہ سن کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرما دیا کہ آدمی رات کو اپنے اہل کے پاس آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2332

۔ (۲۳۳۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَفَراً مِنْ بَنِیْ ھَاشِمٍ دَخَلُوا عَلٰی أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ فَدَخَلَ أَبُوبَکْرٍ وَھِیَ تَحْتَہُ یَوْمَئِذٍ فَرَآھُمْ فَکَرِہَ ذٰلِکَ، فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: لَمْ أَرَ اِلَّاخَیْراً۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَرَّأَھَا مِنْ ذٰلِکَ۔)) ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((لَا یَدَخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ یَوْمِی ھَذَا عَلٰی مُغِیْبَۃٍ اِلَّا وَمَعَہُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۹۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سیدہ اسما بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں، کے پاس آئے، اتنے میں سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آ گئے، ان کو یہ بات ناگوار گزری، پس انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیااور یہ بھی کہہ دیا کہ مجھے اس میں خیر ہی نظر آ رہی ہے، (یعنی کسی قسم کا سوئے ظن نہیں ہے)۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے اسماء کو ا س سے بری کردیا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کے بعد کوئی آدمی اس عورت کے پاس نہ جائے،جس کا خاوند موجود نہ ہو، مگر اس صورت میں اس کے ساتھ ایک دو افراد ہونے چاہئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2333

۔ (۲۳۳۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلِجُوا عَلَی الْمُغِیْبَاتِ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِی مِنْ أَحَدِکُمْ مَجْرَی الدَّمِ۔)) قُلْنَا: وَمِنْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((وَمِنِّی، وَلٰکِنَّ اللّٰہَ أَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَأَسْلَمَ۔))(مسند احمد: ۱۴۳۷۵)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: جن عورتوں کے خاوند گھر پر نہ ہوں، ان کے پاس نہ جایا کرو، کیونکہ شیطان تم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سے بھی(شیطان کا معاملہ ایسے ہی ہے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ سے بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی، اس لیے وہ مسلمان ہوگیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2334

۔ (۲۳۳۴) عَنْ أَبِی صَالِحٍ قَالَ: اِسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلٰی فَاطِمَۃَ فَأَذِنَتْ لَہُ، قَالَ: ثَمَّ عَلِیٌّ؟ قَالُوْا: لَا، قَالَ: فَرَجَعَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَیْھَا مَرَّۃً أُخْرٰی، فَقَالَ: ثَمَّ عَلِیٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَدَخَلَ عَلَیْہَا، فَقَاَلَ لَہُ عَلِیٌّ: مَا مَنَعَکَ أَنَّ تَدْخُلَ حِیْنَ لَمْ تَجِدْنِی ھٰہُنَا؟ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَی الْمُغِیْبَاتِ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۷۷)
ابوصالح کہتے ہیں کہ سیّدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے (گھر میںآنے کی ) اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت دے دی، انھوں نے اندر آ کر پوچھا: یہاں سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا:نہیں۔ پس وہ واپس چلے گئے۔ وہ بعد میں پھر ایک دفعہ آئے اور اجازت طلب کی اور پوچھا کہ کیا سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہاں پر موجود ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اندر آ گئے۔ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے پوچھا: تم کو (پچھلی دفعہ) میری عدم موجودگی میں کس چیز نے گھر میں آکر (یہاں بیٹھنے سے) منع کیا تھا؟سیّدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ان عورتوں پر داخل ہونے سے منع فرمایا،جن کے خاوند گھر پر موجود نہ ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2335

۔ (۲۳۳۵) عَنِ ابْنِ أَبِی قَتَادَۃً عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَعَدَ عَلٰی فِرَاشِ مُغِیْبَۃٍ قَیَّضَ اللّٰہُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُعْبَانًا۔ (مسند احمد: ۲۲۹۲۴)
سیّدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اس عورت کے بستر پر بیٹھے جس کا خاوند گھر پر موجود نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس پر ایک سانپ مسلط کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2336

۔ (۲۳۳۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُسَافِرُ اِمْرَأَۃٌ اِلَّا وَمَعَہَا ذُومَحْرَمٍ۔)) وجَائَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: اِنِّیْ اُکْتُتِبْتُ فِی غَزْوَۃِ کَذَا وَکَذَا وَامْرَأَتِی حَاجَّۃٌ۔ قَالَ: ((فَارْجِعْ فَحُجَّ مَعَھَا۔)) (مسند احمد: ۳۲۳۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت سفر نہ کرے، مگر محرم رشتہ دار کے ساتھ۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی آیااور اس نے کہا: فلاں فلاںغزوے میں میرا نام لکھا جا چکا ہے ، جبکہ میری بیوی حج کے لیے جارہی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم واپس چلے جاؤ اور اس کے ساتھ حج کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2337

۔ (۲۳۳۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ سَفَرَ ثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ فَصَاعِداً اِلَّا مَعَ أَبِیْہَا أَوْ أَخِیْہَا أَوِ ابْنِھَا أَوْ زَوْجِہَا أَوْ مَعَ ذِی مَحْرَمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۳۵)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین یا اس سے زیادہ دنوں کا سفر نہ کرے، مگر اس صورت میں کہ اس کے ساتھ اس کا باپ یابھائی یا بیٹایا خاوند یا کوئی اور محرم رشتہ دار ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2338

۔ (۲۳۳۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ ثَـلَاثاً اِلَّا وَمَعَہَا ذُو مَحْرَمٍ۔)) (مسند احمد: ۴۶۱۵)
سیّدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین دنوں کاسفر نہ کرے، مگر محرم رشتہ دار کے ساتھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2339

۔ (۲۳۳۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ یَوْمًا وَلَیْلَۃً اِلَّا مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ مِنْ أَھْلِہَا۔(وَفِی لَفْظٍ) اِلَّا مَعَ ذِی رَحِمٍ۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ ایک دن اور رات کا سفر کرے، مگر ذی محرم کے ساتھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2340

۔ (۲۳۴۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ تُسَافِرُ لَیْلَۃً اِلَّا وَمَعَہَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَۃٍ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۸۴۷۰)
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ ایک رات کا سفر کرے، مگر اس کے ساتھ ذو محرم مرد ہونا چاہیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2341

۔ (۲۳۴۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا تُسَافِرُ اُمْرَأَۃٌ مَسِیْرَۃَ یَوْمٍ تَامٍّ اِلَّا مَعَ ذِی مَحْرَمٍ ۔ (مسند احمد: ۹۷۳۹)
۔ (تیسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت ایک پورے دن کی مسافت کا سفر نہ کرے، مگر ذو محرم کے ساتھ۔ v
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2342

۔ (۲۳۴۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَیْنَ نِسَائِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۴۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرع اندازی کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2343

۔ (۲۳۴۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسِیْرُ وَحَادٍ یَحْدُو بِنِسَائِہِ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا ھُوَ قَدْ تَنَحّٰی بِہِنَّ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ: ((یَا أَنْجَشَۃُ! وَیْحَکَ اُرْفُقْ بِالْقَوَارِیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۹۱)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل رہے تھے اور ایک حدی خواں، حدی کرتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں والے اونٹ چلا رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے، تو وہ تیزی کے ساتھ چلا کر ان کو دُور لے گیا، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو فرمایا: انجشہ! تجھ پر افسوس ہے، شیشوں کے ساتھ نرمی کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2344

۔ (۲۳۴۴) عَنْ أُمِّ سُلَیْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّھَا کَانَتْ مَعَ نِسَائِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُنَّ یَسُوْقُ بِہِنَّ سَوَّاقٌ، فَقَالَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیْ أَنْجَشَۃُ! رُوَیْدَکَ سَوْقًا بِالْقَوَارِیْرِ)) (مسند احمد: ۲۷۶۵۷)
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ وہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عورتوں کے ساتھ تھیںاور ان کی سواریوں کو ایک حدی خوان چلا رہا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اے انجشہ! آرام سے، شیشوں کے ساتھ نرمی کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2345

۔ (۲۳۴۵) عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَضِیَ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ أَوَّلَ مَا افْتُرِضَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃُ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ اِلَّا الْمَغْرِبَ فَاِنَّہَا کَانَتْ ثَـلَاثًا ثُمَّ أَتَمَّ اللّٰہُ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَائَ الْآخِرَۃَ أَرْبَعًا فِی الْحَضَرِ، وَأَقَرَّ الصَّلَاۃَ عَلٰی فَرْضِہَا الْأَوَّلِ فِی السَّفَرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۶۹)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جو نماز شروع میں فرض کی گئی، وہ مغرب کے علاوہ دو دو رکعتیں تھیں، مغرب کی تین رکعتیں تھیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ظہر، عصر، اور عشاء کی نمازوں کی حضر میں چار چار رکعتیں پوری کر دیں اور پہلے فرض ہونے والی ( دو دو رکعتوں) کو سفر میں مقرر کردیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2346

۔ (۲۳۴۶)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ بِمَکَّۃَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ زَادَ مَعَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ اِلَّا الْمَغْرِبَ فَاِنَّہَا وِتْرُ النَّہَارِ، وَصَلَاۃَ الْفَجْرِ لِطُوْلِ قِرَائَ تِہَا، قَالَتْ: وَکَانَ اِذَا سَافَرَ صَلَّی الصَّلَاۃَ الْأُوْلَی۔ (مسند احمد: ۲۶۵۷۰)
(دوسری سند)وہ کہتی ہیں: مکہ میں نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ آئے تو دو دو رکعتوں کا مزید اضافہ کر دیا گیا، سوائے نمازِ مغرب کے، کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں،اور سوائے نمازِفجرکے، کیونکہ اس میں قراء ت لمبی ہوتی ہے۔سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا مزید کہتی ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر پر ہوتے تو پہلے والی نماز پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2347

۔ (۲۳۴۷) عَنْ مُجَاھِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَرَضَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ صَلَاۃَ الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِی السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ، وَالْخَوْفِ رَکْعَۃً عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۳۳۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر حضر کی نماز چار رکعتیں، سفر کی نماز دو رکعتیں اور خوف کی نماز ایک رکعت فرض کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2348

۔ (۲۳۴۸) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زَحْرٍ أَنَّ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ اللّٰہَ فَرَضَ لَکُمْ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَلَّاۃَ فِی الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِی السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۱۸۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان پر حضر کی نماز چار اور سفر کی نماز دو رکعتیں فرض کی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2349

۔ (۲۳۴۹) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَاۃُ السَّفَرِ رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْأَضْحٰی رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْفِطْرِ رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْجُمُعَۃِ رَکْعَتَانِ تَمَامٌ غَیْرُ قَصْرٍ عَلٰی لِسَانٍ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۷)
سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سفری نماز کی دو رکعتیں، نمازِ عیدالاضحی کی دو رکعتیں، نماز عید الفطر کی دو اور نمازِ جمعہ کی دو رکعتیں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان پر پوری نمازیں ہیں،ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2350

۔ (۲۳۵۰) عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قُلْتُ: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاۃِ اِنْ خِفْتُمْ أَنْ یَفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ لِی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْہُ، فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِھَا عَلَیْکُمْ فَاقْبَلُوْا صَدَقَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴)
یعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا ہے کہ اگر تمہیں ڈر ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کی یہ رخصت قبول کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2351

۔ (۲۳۵۱) عَنْ أَبِی حَنْظَلَۃَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی السَّفَرِ، قَالَ: اَلصَّلَاۃُ فِی السَّفَرِ رَکْعَتَانِ، قُلْتُ اِنَّا آمِنُونَ، قَالَ: سُنَّۃُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۸۶۱)
ابوحنظلہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سفر کی نماز کے بار ے سوال کیا تو انہوں نے کہا: سفر کی نماز دو رکعتیں ہے۔ میں نے کہا: ہم تو اب امن میں ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2352

۔ (۲۳۵۲) عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِیْدٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: اِنَّا نَجِدُ صَلَاۃَ الْخَوْفِ فِی الْقُرْآنِ وَصَلَاۃَ الْحَضَرِ وَلَا نَجِدُ صَلَاۃَ السَّفَرِ؟ فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی بَعَثَ مُحَمَّداً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا نَعْلَمُ شَیْئًا، فَاِنَّمَا نَفْعَلُ کَمَا رَأَیْنَا مُحَمَّداً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ۔ (مسند احمد: ۵۳۳۳)
خالد بن اسید کی آل میں سے ایک آدمی کہتا ہے: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ ہمیں قرآن مجید میں خوف اور حضر کی نماز کا تذکرہ تو ملتا ہے، لیکن ہم سفر کی نماز کا کوئی ذکر نہیں پاتے؟ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھیجا اور ہم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اب ہم وہی کچھ کریں گے، جو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2353

۔ (۲۳۵۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أُمَیَّۃَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اِنَّہُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: نَجِدُ صَلَاۃَ الْخَوْفِ وَصَلَاۃَ الْحَضَرِ فِی الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاۃَ الْمُسَافِرِ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: بَعَثَ اللّٰہُ نَبِیَّہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ أَجْفَی النَّاسِ فَنَصْنَعُ کَمَا صَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۵۶۸۳)
(دوسری سند)امیہ بن عبد اللہ کہتے ہیں : ہم نے سیّدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہاکہ ہم خوف اور حضر کی نمازیں تو قرآن میں پاتے ہیں ، لیکن ہم مسافر کی نماز کا کوئی تذکرہ نہیں پاتے؟ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا، جبکہ ہم سب لوگوں سے سب سے زیادہ سخت مزاج تھے، پس ہم تو اب اسی طرح کریں گے، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2354

۔ (۲۳۵۴) عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ سَافَرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ وَحِیْنَ قَامَ أَرْبَعًا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَنْ صَلّٰی فِی الْسَّفَرِ أَرْبَعًا کَمَنْ صَلّٰی فِی الْحَضَرِ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاۃُ اِلَّا مَرَّۃً حَیْثُ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ وَصَلَّی النَّاسُ رَکْعَۃً رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۳۲۶۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر پر ہوتے تو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور جب مقیم ہوتے تو چار رکعتیں پڑھتے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جس نے سفر میں چار رکعتیں پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضر میں دو رکعتیں پڑھتا ہے۔سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مزید کہا: صرف ایک دفعہ نماز کو (ایک رکعت پر) قصر کر کے پڑھا گیا، (اور وہ بھی اس طرح تھا کہ) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں اور لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2355

۔ (۲۳۵۵) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ شُفَیٍّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَعَلَ النَّاسُ یَسْأَلُوْنَہُ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی السَّفَرِ، فَقَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَِذا خَرَجَ مِنْ أَھْلِہِ لَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلٰی أَھْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ ان سے سفری نماز کے بارے میں پوچھتے تھے،وہ کہتے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گھر سے نکلتے تو واپس لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2356

۔ (۲۳۵۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَ عُمَرَ فَکَانَا لَا یَزِیْدَانِ عَلٰی رَکْعَتَیْنِ وَکُنَّا ضُلَّالًا فَہَدَانَا اللّٰہُ بِہِ فَبِہٖ نَقْتَدِی۔ (مسند احمد: ۵۷۵۷)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیّدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ سفر کیے، میں نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے دو رکعتوں سے زیادہ نماز پڑھی ہو اور ہم تو گمراہ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے ذریعے ہمیں ہدایت دی،سو ہم تو ان ہی کی پیروی کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2357

۔ (۲۳۵۷) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِی السِّمْطِ اَنَّہُ أَتٰی أَرْضًا یُقَالُ لَھَا دَوْمِیْنُ، مِنْ حِمْصَ عَلٰی رَأْسِ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ مِیلًا فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَقُلْتُ لَہُ: أَتُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ؟ فَقَالَ: رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ، فَسَأَلْتُہُ، فَقَالَ: اِنَّمَا أَفْعَلُ کَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قَالَ: کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۸)
جبیر بن نفیر کہتے ہیں: جناب ابو سمط دو مین نامی جگہ پر آئے، جو حمص سے اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے کہا: کیا تو دو رکعت نماز پڑھ رہا ہے؟اس نے کہا: میں نے تو سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ذی الحلیفہ دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر جب میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: میں تو اسی طرح کروں گا جیسے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2358

۔ (۲۳۵۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَافَرَ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ (وَفِی رِوَایَۃٍ سِرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ) لَا یَخَافُ اِلَّا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا (اور ایک روایت میں ہے: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت میں مکہ اور مدینہ کے درمیان کا سفر کیا) اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر تھا، لیکن پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آنے تک دو دو رکعت نماز ادا کرتے رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2359

۔ (۲۳۵۹) عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ وَھْبِ نِ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّھْرَ وَالْعَصْرَ بِمِنًی أَکْثَرَ مَا کَانَ النَّاسُ وَآمَنَہُ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۳۴)
سیّدناحارثہ بن وہب خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ منیٰ میں ظہر وعصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، حالانکہ اس وقت لوگوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ تھی اور امن بھی بہت تھا۔ ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ قصر کا تعلق دشمن کے خوف یا صرف جہادی سفر سے نہیں ہے، بلکہ ہر سفر میں قصر نماز پڑھی جائے گی، اس میں امن ہو یا خوف۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2360

۔ (۲۳۶۰) عَنْ مُوْسَی بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: کُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَکَّۃَ، فَقُلْتُ: اِذَا کُنَّا مَعَکُمْ صَلَّیْنَا أَرْبَعًا، وَاِذَا رَجَعْنَا اِلٰی رِحَالِنَا صَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: سُنَّۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۲)
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں:ہم مکہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، میں نے کہا: جب ہم تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور جب اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعت(قصر نماز) پڑھتے ہیں، سیّدنا عبد اللہ نے کہا: یہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2361

۔ (۲۳۶۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ اِذَا لَمْ تُدْرِکِ الصَّلَاۃَ فِی الْمَسْجِدِ کَمْ تُصَلِّی فِی الْبَطْحَائِ قَالَ رَکْعَتَیْنِ سُنَّۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۶)
(دوسری سند) میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کہا: جب تم مسجد میں نماز (باجماعت) نہیں پاتے توبطحاء میں کتنی رکعتیں پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھتا ہوں اور یہی ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2362

۔ (۲۳۶۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: اِنِّی أَکُوْنُ بِمَکَّۃَ فَکَیْفَ أُصَلِّی؟ فَقَالَ: رَکْعَتَیْنِ سُنَّۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۲)
(تیسری سند)میں نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہا:جب میں مکہ میں ہوتا ہوں تو وہاں کیسے نماز پڑھوں؟ انھوں نے جواب دیا: دو رکعتیں اور یہی ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2363

۔ (۲۳۶۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ سِتَّ سِنِیْنَ بِمِنًی فَصَلَّوْا صَلَاۃَ الْمُسَافِرِ۔ (مسند احمد: ۴۸۵۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اور سیّدناعثمان کے ساتھ چھ سال تک منی میں نماز پڑھی، وہ مسافر والی نماز پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2364

۔ (۲۳۶۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکِ نِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فِی مَسْجِدِہِ بِالْمَدِیْنَۃِ أَرْبَعَ رَکْعَاتٍ، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْعَصْرَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتَیْنِ آمِنًا لَا یَخَافُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۲۲)
سیّدنا انس بن مالک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مدینہ میں مسجد نبوی میںظہر کی نماز کی چار رکعت پڑھائی، اور ذو الحلیفہ کے مقام پر عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی، یہ حجۃ الوداع کا (سفر تھا) ،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم امن کی حالت میں تھے اور کسی سے نہیں ڈر رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2365

۔ (۲۳۶۵) عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَزِیْدَ الْھُنَائِیِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاۃِ، قَالَ کُنْتُ أَخْرُجُ اِلَی الْکُوْفَۃِ فَأُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی أَرْجِعَ، وَقَالَ أَنَسُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَرَجَ مَسِیْرَۃَ ثَـلَاثَۃِ أَمْیَالٍ أَوْ ثَـلَاثَۃِ فَرَاسِخَ شُعْبَۃُ الشَّاکُّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۳۸)
یحی بن یزید ہنائی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قصر نماز کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ میں کوفہ کی طرف جاتا ہوں اور واپس لوٹنے تک دو دو رکعت نماز پڑھتا ہوں۔ سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت تک نکلتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے، امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2366

۔ (۲۳۶۶) عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: اُنْطُلِقَ بِنَا اِلَی الشَّامِ اِلٰی عَبْدِالْمٰلِکِ وَنَحْنُ أَرْبَعُوْنَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لِیَفْرِضَ لَنَا، فَلَمَّا رَجَعَ وَکُنَّا بِفَجِّ النَّاقَۃِ صَلّٰی بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ فُسْطَاطَہُ وَقَامَ الْقَوْمُ یُضِیْفُوْنَ اِلَی رَکْعَتَیْہِ رَکْعَتَیْنِ أُخْرَیَیْنِ، قَالَ: فَقَالَ: قَبَّحَ اللّٰہُ الْوُجُوہَ، فَوَاللّٰہِ مَا أَصَابَتِ السُّنَّۃَ وَلَا قَبِلَتِ الرُّخْصَۃَ، فَأَشْہَدُ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلَ: ((اِنَّ أَقْوَامًا یَتَعَمَّقُوْنَ فِی الدِّیْنِ یَمْرُقُوْنَ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۴۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم چالیس انصاری لوگوں کو شام میں عبد الملک کے پاس بھیجا گیا، تاکہ وہ ہمارے لیے کچھ مقرر کرے۔ جب وہ (انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) لوٹے اور ہم فَجُّ النَّاقَۃِ مقام تک پہنچے ، تو انھوں نے ہمیں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیرکر اپنے خیمے میں چلے گئے۔لیکن ہوا یوں کہ وہ (مقتدی) کھڑے ہو گئے اور ان دو رکعتوں کے ساتھ مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے، اس پر سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ ان چہروں کا برا کرے، اللہ کی قسم! انہوں نے سنت کو نہیں پایا اور نہ رخصت کو قبول کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک کچھ قومیں دین میں مبالغہ اور تشدد کی حد تک گھسیں گی، لیکن پھر دین سے یوں نکل جائیںگی، جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2367

۔ (۲۳۶۷) عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی اِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلٰی مَکَّۃَ فَصَلّٰی بِنَا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعْنَا، فَسَأَلْتُہُ: ھَلْ أَقَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَقَامَ بِمَکَّۃَ عَشْرًا۔ (مسند احمد: ۱۳۰۰۶)
یحی بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قصر نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوںنے کہا: ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف سفر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹنے تک ہمیں دو دو رکعت نماز پڑھاتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں قیام بھی کیا تھا؟انھوںنے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ میں دس دن قیام کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2368

۔ (۲۳۶۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًی رَکْعَتَیْنِ، وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْراً مِنْ اَمَارَتِہِ ثُمَّ أَتَمَّ۔ (مسند احمد: ۵۱۷۸)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے منی میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ اور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی دور میں دو دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہاں سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پوری پڑھا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2369

۔ (۲۳۶۹) عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْأَبْطَحِ الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ (وَفِی لَفْظٍ) الظُّھْرَ وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) ثُمَّ لَمْ یَزَلْ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی أَتَی الْمَدِیْنَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۵۴)
سیّدنا ابوجحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ابطح مقام پر عصر کی یا ظہر وعصر دونوں کی دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2370

۔ (۲۳۷۰) عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیْہِ عَبَّادٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ یَعْنِی (بْنَ أَبِی سُفْیَانَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَاجًّا قَدِمْنَا مَعَہُ مَکَّۃَ، قَالَ فَصَلّٰی بِنَا الظُّھْرَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی دَارِ النَّدْوَۃِ، قَالَ: وَکَانَ عُثْمَانُ حِیْنَ أَتَمَّ الصَّلَاۃَ اِذَا قَدِمَ مَکَّۃَ صَلّٰی بِہَا الْظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَائَ الْآخِرَۃَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا، فَاِذَا خَرَجَ اِلٰی مِنًی وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاۃَ، فَاِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَجِّ وَأَقَامَ بِمِنًی أَتَمَّ الصَّلَاۃَ حَتّٰی یَخْرُجَ مِنْ مَکَّۃَ، فَلَمَّا صَلّٰی بِنَا الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ (یَعْنِی مُعَاوِیَۃَ) نَھَضَ اِلَیْہِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَہُ: مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّکَ بِأَقْبَحِ مَا عِبْتَہُ بِہِ، فَقَالَ لَھُمَا: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: فَقَالَا لَہُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّہُ أَتَمَّ الصَّلَاۃَ بِمَکَّۃَ؟ قَالَ: فَقَاَلَ لَھُمَا: وَیْحَکُمَا، وَھَلْ کَانَ غَیْرَ مَا صَنَعْتُ؟ قَدْ صَلَّیْتُہَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ وَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ قَالَا: فَاِنَّ ابْنَ عَمِّکَ قَدْ کَانَ أَتَمَّہَا، وَاِنَّ خِلَافَکَ اِیَّاہُ لَہُ عَیْبٌ، قَالَ فَخَرَجَ مَعَاوِیَۃُ اِلَی الْعَصْرِ فَصَلَّاھَا بِنَا أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۲)
عباد کہتے ہیں: سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج کرنے کے لیے آئے تو ہم بھی ان کے ساتھ مکہ میں آئے، انھوں نے ہمیں نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر دار الندوہ میں چلے گئے۔ جب سیّدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مکہ میں آتے تو ظہر، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں پڑھاتے تھے، لیکن جب وہ منی اور عرفات میں جاتے تو قصر نماز پڑھتے، پھر جب حج سے فارغ ہو جاتے اور منی میں اقامت اختیار کرتے تو پوری نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے چلے جاتے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں دو رکعت نماز ظہر پڑھائی تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان ان کے پاس گئے اور کہا: تو نے اپنے چچازاد (سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) پر قبیح ترین عیب لگایا ہے۔ انھوں نے پوچھا: وہ کیا؟ ان دونوں نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ وہ مکہ میں پوری نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: تم ہلاک ہو جائے، جو عمل میں نے کیا ہے، کیا اس کی کوئی اور صورت بھی ہے؟ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ یہی نماز پڑھی ہے۔ لیکن ان دونوں نے پھر کہا: تیرے چچازاد نے تو پوری پڑھی ہے اور یہ ان پر عیب ہے کہ تو ان کی مخالفت کرے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عصر کے لیے آئے تو چار رکعتیں پڑھائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2371

۔ (۲۳۷۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَافَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقَامَ تِسْعَ عَشْرَۃَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَحْنُ اِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَ عَشْرَۃَ صَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، فَاِذَا أَقَمْنَا أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ صَلَّیْنَا أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۱۹۵۸)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک سفر کیا اور (اس کے دوران مکہ میں) انیس دن قیام کیا، اور دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی سفر میں انیس دن ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، لیکن جب اس سے زیادہ دنوں تک ٹھہرتے ہیں تو چار چار رکعتیں ادا کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2372

۔ (۲۳۷۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَمَّا فَتَحَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ أَقَامَ فِیْہَا سَبْعَ عَشْرَۃَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۸)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ فتح کیا تو وہاں سترہ دن قیام کیا اور دو دو رکعت نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2373

۔ (۲۳۷۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِتَبُوْکَ عِشْرِیْنَ یَوْمًا یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۸۶)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام کیا اور اس دوران قصر نماز پڑھتے رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2374

۔ (۲۳۷۴) عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ شَرَاحِیْلَ قَالَ: خَرَجْتُ اِلَی ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: مَا صَلَاۃُ الْمُسَافِرِ؟ فَقَالَ: رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ اِلَّا صَلَاۃَ الْمَغْرِبِ ثَـلَاثًا، قُلْتُ: أَرَأَیْتَ اِنْ کُنَّا بِذِی الْمَجَازِ؟ قَالَ: وَمَا ذُوالْمَجَازِ؟ قُلْتُ: مَکَانٌ نَجْتَمِعُ فِیْہِ وَنَبِیْعُ فِیْہِ وَنَمْکُثُ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً أَوْ خَمْسَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً، قَالَ: یَا أَیُّھَا الرَّجُلُ کُنْتُ بِأَذْرَبِیْجَانَ، لَا أَدْرِی قَالَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ أَوْ شَہْرَیْنِ، فَرَأَیْتُہُمْ یُصَلُّونَہَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، وَرَأَیْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُصْبَ عَیْنَیَّ یُصَلِّیْھِمَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ نَزَعَ ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۵۵۲)
ثمامہ بن شراحیل کہتے ہیں:میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا:مسافر کی نماز کا کیا مسئلہ ہے؟ انھوں نے کہا: دو دو رکعتیں ہے، سوائے نماز مغرب کے، وہ تین رکعت ہے۔ میں نے کہا:آپ کا کیا خیال ہے، اگر ہم ذی المجاز میں ہوںتو؟ انھوںنے کہا: ذوالمجاز کیا ہے؟ میں نے کہا:وہ ایک جگہ کا نام ہے، ہم اس میں جمع ہوتے ہیں اورخرید و فروخت کرتے ہیں اور وہاںپندرہ یا بیس راتیں ٹھہرتے ہیں۔ انہوں نے کہا:ارے!، میں آذربیجان میں چار یا دو ماہ تک ٹھہرا رہا، میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ وہاں دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ پھر سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} تلاوت کی یعنی: یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے۔ حتیٰ کہ آیت سے فارغ ہوگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2375

۔ (۲۳۷۵) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ فَجَلَسْنَا فَقَامَ اِلَیْہِ فَتًی مِنَ الْقَوْمِ فَسَأَلَہُ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَجَائَ فَوَقَفَ عَلَیْنَا، فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا سَأَلَنِی عَنْ أَمْرٍ فَأَرَدْتُّ أَنْ تَسْمَعُوْہُ أَوْ کَمَا قَالَ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَحَجَجْتُ مَعَہُ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَشَہِدْتُ مَعَہُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَکَّۃَ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَا یُصَلِّی اِلَّا رَکْعَتَیْنِ، وَیَقُوْلُ لِأَھْلِ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَاِنَّا سَفْرٌ، وَاعْتَمْرَتُ مَعَہُ ثَـلَاثَ عُمَرٍ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَجَّاتٍ فَلَمْ یُصَلِّیَا اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۱۲)
ابونضرۃ کہتے ہیں: سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گزر رہے تھے، پس ہم بیٹھ گئے اور جماعت سے ایک نوجوان ان کے پاس گیا اور ان سے غزوے، حج اور عمرے کے سفروں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا:اس نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم سارے اس کا جواب سن لو۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج بھی کیا، (اس سفر میں بھی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا اور دو رکعتیں ہی پڑھیں، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہر والوں کو کہتے تھے: تم لوگ چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تین عمرے کیے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، اس کے بعد میں نے سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ساتھ کئی حج کئے، وہ دونوں مدینہ لوٹنے تک دو رکعت ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2376

۔ (۲۳۷۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہٍ وَفِیْہِ) مَا سَافَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَفَراً اِلَّا صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی یَرْجِعَ، وَاِنَّہُ أَقَامَ بِمَکَّۃَ زَمَانَ الْفَتْحِ ثَمَانِیَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً یُصَلِّی بِالنَّاسِ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ أَبِی وَحَدَّثَنَاہُ یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِھٰذَا الْاِسْنَادِ وَزَادَ فِیْہِ اِلَّا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ یَقُوْلُ: ((یَا أَھْلَ مَکَّۃَ قُوْمُوْا فَصَلُّوا رَکْعَتَیْنِ أُخْرَیَیْنِ فَاِنَّا سَفْرٌ۔)) ثُمَّ غَزَا حُنَیْنًا وَالطَّائِفَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی جِعْرَانَۃَ فَاعْتَمَرَ مِنْہَا فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، ثُمَّ غَزَوْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَحَجَجْتُ وَاعْتَمَرْتُ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، وَمَعَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ یُوْنُسُ اِلَّا الْمَغْرِبَ، وَمَعَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَدْرَ اِمَارَتِہٖ، قَالَ یُوْنُسُ: رَکْعَتَیْنِ اِلَّا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ اِنَّ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۲۰۱۰۵)
(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوسفر بھی کیا، اس میں واپس آنے تک دو دو رکعت ہی نماز ادا کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں اٹھارہ راتیں قیام کیا اور لوگوں کو دو دو رکعت ہی پڑھائیں ، ما سوائے مغرب کے۔ پھر آپ (مقیم لوگوں کو) فرماتے تھے: اے اہل مکہ! کھڑے ہو جاؤ اور مزید دو رکعتیں بھی پڑھو، کیونکہ ہم مسافر ہیں ۔پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف میں دو دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جعرانہ کی طرف لوٹے، وہاں سے ذو القعدہ کے مہینے میں عمرہ بھی کیا، (ان سفروں میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قصر نماز ہی پڑھتے رہے) پھر میں نے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جہاد، حج اور عمرہ ادا کیا، وہ بھی نماز مغرب کے علاوہ دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، (اس کے بعد میں یہی کام) سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ بھی کیے، وہ بھی دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، پھر سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی خلافت کے شروع میں تو اسی طرح (قصر نماز) پڑھتے تھے، لیکن پھر انہوں نے اس کے بعد چار رکعتیں پڑھنا شروع کر دی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2377

۔ (۲۳۷۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ عُثْمَانَ ابْنَ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی بِمِنًی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فَأَنْکَرَہُ النَّاسُ عَلَیْہِ، فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ اِنِّی تَأَھَّلْتُ بِمَکَّۃَ مُنْذُ قَدِمْتُ وَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَأَھَّلَ فِی بَلَدٍ فَلْیُصَلِّ صَلَاۃَ الْمُقِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۳)
عبد الرحمن بن ابی ذباب کہتے ہیں کہ سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، جب لوگوں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا تو انھوں نے کہا: لوگوں میں نے مکہ آتے ہی شادی کر لی تھی اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو کسی شہر میں شادی کرلے تو وہ وہاں مقیم والی نماز پڑھے۔

آیت نمبر