Musnad Ahmad

Search Results(1)

45)

45) سفر میں سنن مؤکدہ کا حکم

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2440

۔ (۲۴۴۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ تَزِیْدُ عَلٰی صَلَاتِہِ فِی بَیْتِہِ وَصَلَاتِہِ فِی سُوقِہِ بِضْعًا وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً، وَذٰلِکَ أَنَّ أَحَدَکُمْ اِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ اِلَّا الصَّلَاۃَ، لَا یَنْہَزُہُ اِلَّا الصَّلَاۃُ لَمْ یَخْطُ خَطْوَۃً اِلَّا رُفِعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃٌ وَحُطَّ بِھَا عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ حَتّٰی یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَاِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِی صَلَاۃٍ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ ھِیَ تَحْبِسُہُ وَالْمَلَائِکَۃُ یُصَلُّوْنَ عَلٰی أَحَدِھِمْ مَادَامَ فِیْ مَجْلِسِہِ الَّذِی صَلّٰی فِیْہِ یَقُوْلُوْنَ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ، اَللّٰہُمَّ تُبْ عَلَیْہِ، مَالَمْ یُؤْذِ فِیْہِ، مَالَمْ یُحْدِثْ فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۷۴۲۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز اس کی گھر والی اور بازار والی نماز سے پچیس چھبیس گنا زیادہ ہوتی ہے اور وہ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر وہ مسجد میں آتا ہے، اس کا نماز کے علاوہ اور کوئی ارادہ نہ ہوتا، اس کو کھڑا کرنے والی نماز ہی ہوتی ہے، تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے، اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک غلطی کو مٹادیا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے۔ جب وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ نماز میں ہی رہتا ہے ، جب تک نماز اس کومسجد میں روکے رکھتی ہے اور جب تک آدمی اس جگہ میں رہتا ہے، جس میں اس نے نماز پڑھی ہوتی ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہوئے یوں کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول کر۔ (دعا کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) جب تک وہ شخص کسی تکلیف نہیں دیتا یا جب تک بے وضوء نہیں ہوجاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2441

۔ (۲۴۴۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْیُحَافِظْ عَلٰی ھٰؤُلَائِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ حَیْثُ یُنَادٰی بِہِنَّ فَاِنَّھُنَّ مِنْ سُنَنِ الْھُدَی وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِیِّکُمْ سُنَنَ الْھُدَی، وَمَا مِنْکُمْ اِلَّا وَلَہُ مَسْجِدٌ فِی بَیْتِہِ، وَلَوْ صَلَّیْتُمْ فِی بُیُوْتِکُمْ کَمَا یُصَلِّی ھٰذَا الْمُتْخَلِّفُ فِی بَیْتِہِ لَتَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ، وَلَوْ تَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ لَضَلَلْتُمْ وَلَقَدْ رَأَیْتُنِی وَمَا یَتَخَلَّفُ عَنْہَا اِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُوْمٌ نِفَاقُہُ وَلَقَدْ رَأَیْتُ الرَّجُلَ یُہَادٰی بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ حَتّٰی یُقَامَ فِی الصَّفِّ، وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوئَ ثُمَّ یَأْتِی مَسْجِدًا مِنَ الْمَسَاجِدِ، فَیَخْطُوْ خَطْوۃً اِلَّا رُفِعَ بِہَا دَرَجَۃٌ أَوْ حُطَّ بِہَا عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ وَکُتِبَتْ لَہُ بِھَا حَسَنَۃٌ، حَتّٰی أَنْ کُنَّا لَنُقَارِبُ بَیْنَ الْخُطَا وَاِنْ فَضْلَ صَلَاۃِ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلٰی صَلَاتِہِ وَحْدَہُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً۔)) (مسند احمد: ۳۶۲۳)
سیّدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحیثیت ِ مسلمان ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ فرض نمازوں کی حفاظت اس مقام پر کرے جہاں ان کے لیے بلایا جاتا ہے،کیونکہ یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اوربے شک اللہ نے اپنے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں۔تم میں سے ہر ایک کی اس کے گھر میں مسجد ہونی چاہیے اور اگر تم اپنے گھر وںمیں نماز پڑھنا شروع کر دو گے، جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا گھر میں نماز ادا کرتاہے تو تم اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دو گے اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو تم گمراہ ہوجاؤ گے۔ میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق واضح ہوتا تھا اور میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو دو آدمیوں کا سہارادے کر (مسجد کی طرف) لایا جاتا، یہاں تک کہ اس کو صف میںکھڑا کردیا جاتا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے تو وہ جو قدم اٹھاتاہے، اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتاہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ (ہماری صورتحال تو یہ تھی کہ ہم مسجد کی طرف آتے وقت) قریب قریب قدم رکھتے تھے(تاکہ کثرتِ قدم کی وجہ سے نیکیاں زیادہ ہوجائیں) اور بے شک آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلے پڑھی ہوئے نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2442

۔ (۲۴۴۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَفْضُلُ الصَّلَاۃُ فِی الْجَمِیْعِ صَلَاۃَ الرَّجُلِ وَحْدَہُ خَمْسًا وَعِشْرِیْنَ وَیَجْتَمِعُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃُ النَّھَارِ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔)) ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وا اِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا}۔ (مسند احمد: ۷۱۸۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت میں پڑھی ہوئی نماز آدمی کے اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے اور دن رات کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا} یعنی: اور فجر کا قرآن، بے شک فجر کا قرآن حاضر کیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2443

۔ (۲۴۴۳) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ یَعْلَمُ أَنَّہُ اِذَا شَہِدَ الصَّلَاۃَ مَعِی کَانَتْ لَہُ أَعْظَمَ مِنْ شَاۃٍ سَمِیْنَۃٍ أَوْ شَاتَیْنِ لَفَعَلَ، فَمَا یُصِیْبُ مِنَ الْأَجْرِ أَفْضَلُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۱)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرتم میں سے کوئی جان لے کہ جب وہ میرے ساتھ نماز میں حاضر ہو گا تو یہ نماز اس کے حق میں ایک یا دو موٹی موٹی بکریوں سے بہتر ہو گی تو وہ ضرور حاضر ہو گا، (یاد رکھو کہ اِس نماز میں) اسے جو اجر ملے گا، وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2444

۔ (۲۴۴۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃٌ فِی الْجَمِیْعِ تَزِیْدُ عَلٰی صَلَاۃِ الرَّجُلِ وَحْدَہُ سَبْعًا وَعِشْرِیْنَ)) (مسند احمد: ۴۶۷۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی باجماعت نماز، اس کی اکیلی نماز سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2445

۔ (۲۴۴۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ أَحَدِکُمْ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً۔)) (مسند احمد: ۵۷۷۹)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے کسی ایک کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ فضیلت والی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2446

۔ (۲۴۴۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَفْضُلُ صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ عَلَی الْوَحْدَۃِ سَبْعًا وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً أَوْ خَمْسًا وَّ عِشْرِیْنَ)) (مسند احمد: ۹۸۶۰)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز، اکیلے کی نماز پر ستائیس یا پچیس درجہ زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2447

۔ (۲۴۴۷) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فُضِّلَتِ الْجَمَاعَۃُ عَلٰی صَلَاۃِ الْفَذِّ خَمْسًا وَّعِشْرِیْنَ)) (مسند احمد: ۲۴۷۲۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اکیلے کی نماز پر جماعت کو پچیس گنا زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2448

۔ (۲۴۴۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَضْلُ صَلَاۃِ الرَّجُلِ فِی الْجَمَاعَۃِ عَلٰی صَلَاتِہِ وَحْدَہُ بِضْعٌ وَّعِشْرُوْنَ دَرَجَۃً)) (مسند احمد: ۳۵۶۴)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت میں نماز اس کے اکیلے نماز سے پچیس چھبیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2449

۔ (۲۴۴۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ صَلَاۃُ الْجَمْعِ تَفْضُلُ عَلٰی صَلَاۃِ الرَّجُلِ وَحْدَہُ خَمْسَۃً وَعِشْرِیْنَ ضِعْفًا کُلُّہَا مِثْلُ صَلَاتِہِ ۔ (مسند احمد: ۳۵۶۷)
(دوسری سند)بے شک اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز، اکیلے کی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے، ان میں سے ہر ایک اس اکیلے کی نماز کی طرح ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2450

۔ (۲۴۵۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاۃِ أَحَدِکُمْ وَحْدَہُ بِخَمْسَۃٍ وَعِشْرِیْنَ جَزْئً ا۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۱۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے اکیلے کی نماز سے پچیس حصے زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2451

۔ (۲۴۵۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوئَ ہُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاہُ اللّٰہُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاھَا أَوْ حَضَرَھَا لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ أُجُوْرِھِمْ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۸۹۳۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح مکمل وضو کیا، پھر وہ مسجد گیا، لیکن اس نے دیکھا کہ لوگ تو نماز پڑھ چکے ہیں، اللہ اس کو اتنا اجر عطا کرے گا، جتنا کہ ان لوگوں کو دیا جو اس نماز میں حاضر ہوئے ، جبکہ ان کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2452

۔ (۲۴۵۲) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلَّی الْعِشَائَ فِی جَمَاعَۃٍ فَہُوَ کَمَنْ قَامَ نِصْفَ اللَّیْلِ، وَمَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِی جَمَاعَۃٍ فَہُوَ کَمَنْ قَامَ اللَّیْلَ کُلَّہُ۔)) (مسند احمد: ۴۰۹)
سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی، پس وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے، جس نے ساری رات قیام کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2453

۔ (۲۴۵۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ یَعْلَمُوْنَ مَا فِی صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ وَصَلَاۃِ الصُّبْحِ لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۱۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں کتنا (اجر و ثواب) ہے، تو وہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2454

۔ (۲۴۵۴) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((اِنَّ ھَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَالصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلٰی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِکَۃِ وَلَوْ تَعْلَمُوْنَ فَضِیْلَتَہُ لَابْتَدَرْتُمُوْہُ وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَیْنِ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِہِ مَعَ رَجُلٍ، وَمَا کَانَ أَکْثَرَ فَہُوَ أَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۷)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوںنے کہا: نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: فلاں آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک یہ دو (عشا اور فجر کی) نمازیں منافقین پر بڑی بوجھل ہیں، اگر وہ جان لیں ان دونوں کا اجر کیاہے تو وہ ان کی ادائیگی کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تم اس کی فضیلت کو جان لو تو تم ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو اور آدمی کی دو افراد کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ (یعنی زیادہ ثواب والی) ہے، اسی طرح جتنے آدمی زیادہ ہوں گے، وہ نماز اتنی زیادہ اللہ کو محبوب ہو گی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2455

۔ (۲۴۵۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْفَجْرَ فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ، قَالُوا نَعَمْ، وَلَمْ یَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاۃِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ صَلَاۃُ الْعِشَائِ وَالْفَجْرِ (فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِیْہِ) اِنَّ صَلَاتَکَ مَعَ رَجُلَیْنِ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِکَ مَعَ رَجُلٍ، وَصَلَاتُکَ مَعَ رَجُلٍ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِکَ وَحْدَکَ، وَمَا کَثُرَ فَہُوَ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۸)
(دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: فلاں شخص موجود ہے؟ لوگ خاموش رہے ، پھر بعض نے کہا: جی ہاں، وہ حاضر نہیں ہے۔پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر فجر اور عشاء سب سے بھاری نمازیں ہیں، ( پھر سابقہ روایت کی طرح باتیں ذکر کیں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک تیری دو آدمیوں کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ ادا کی ہوئی نمازسے زیادہ پاکیزہ ہے اور تیری ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور جتنے لوگ زیادہ ہوں گے، تو وہ اتنا ہی اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2456

۔ (۲۴۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ رَأَی مِنْ أَھْلِ الْمَسْجِدِ قِلَّۃً، فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، حَتّٰی عَدَّ ثَـلَاثَۃَ نَفَرٍ، فَقَالَ: ((اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ صَلَاۃٍ أَثْقَلَ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ مِنْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ وَمِنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔)) وَذَکَرَ الْحَدِیْثَ بِطُوْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۹۵)
(تیسری سند)انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ نمازیوں میں کچھ کمی ہے، پھر پوچھا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، حتیٰ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین آدمیوں کے متعلق پوچھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر عشاء اور فجر کی نماز سے کوئی نماز زیادہ بھاری نہیں ہے۔ (پھر اوپر والی پوری حدیث ذکر کی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2457

۔ (۲۴۵۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ یَعْلَمُ الْمُتَخَلِّفُوْنَ عَنْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ وَصَلَاۃِ الْغَدَاۃِ مَا لَھُمْ فِیْھِمَا لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا)) (مسند احمد: ۱۲۵۶۱)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر فجر اور عشاء کی نمازوں سے پیچھے رہنے والے جان لیں کہ ان کے لیے ان دونوں میں کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ مسجد میں ضرور آئیں اگر چہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2458

۔ (۲۴۵۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَی ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْزِلِی شَاسِعٌ وَأَنَا مَکْفُوْفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ، قَالَ: ((فَاِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۱)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا:اے اللہ کے رسول! میرا گھر مسجد سے دور ہے، جبکہ میں نابینا بھی ہوں اور اذان بھی سنتاہوں (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اذان سنتا ہے تو اس کا جواب دیا کر، اگرچہ تجھے سرین کے بل گھسٹ کر یا کولہوں کے بل سرک کر آنا پڑے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2459

۔ (۲۴۵۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جِئْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتُ ضَرِیْرًا شَاسِعَ الدَّارِ وَلِی قَائِدٌ لَا یُلَائِمُنِیْ فَہَلْ تَجِدُ لِی رُخْصَۃً أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِی؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ النِّدَائَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((مَا أَجِدُلَکَ رُخْصَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۷۱)
سیّدنا عمرو بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نابینا ہوں اور میرا گھر بھی مسجد سے دور ہے اور میرا ایک قائد تو ہے لیکن وہ میری موافقت نہیں کرتا تو کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تب میں تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2460

۔ (۲۴۶۰) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ فَسُئِلَ سُفْیَانُ عَمَّنْ؟ قَالَ: ھُوَ مَحْمُوْدٌ اِنْ شَائَ اللّٰہُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ رَجُلًا مَحْجُوبَ الْبَصَرِ وَاِنَّہُ ذَکَرَ لِلنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَلتَّخَلُّفَ عَنِ الصَّلَاۃِ، قَالَ: ((ھَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمْ یُرَخِّصْ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۹۴)
محمود بن ربیع کہتے ہیں: سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یک نابینا آدمی تھا، اس لیے اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اذان کی آواز سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رخصت نہیں دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2461

۔ (۲۴۶۱) عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ، وَاِذَا قَرَأَ الْاِمَامُ فَأَنْصِتُوا)) (مسند احمد: ۱۹۹۶۱)
سیّدناابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں (بعض امور کی)تعلیم دی ، بیچ میں یہ بھی فرمایا تھا: جب تم نماز کے لیے اٹھو تو تم میں سے ایک آدمی امامت کروایا کرے اور جب امام قراء ت کرے تو تم خاموش رہا کرو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2462

۔ (۲۴۶۲) عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمَرِیِّ قَالَ: قَالَ لِی أَبُو الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَیْنَ مَسْکَنُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فِی قَرْیَۃٍ دُوْنَ حِمْصَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ ثَـلَاثَۃٍ فی قَرْیَۃٍ لَا یُؤَذَّنَ وَلَا تُقَامُ فِیْہِمُ الصَّلَاۃُ اِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطَانُ، فَعَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ فَاِنَّ الذَّئْبَ یَأْکُلُ الْقَاصِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۵۳)
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں: سیّدناابوالدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے پوچھا:تیرا گھر کہاں ہے ؟ میں نے کہا: حمص سے پیچھے ایک بستی میں۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:یعنی: جس بستی میں تین آدمی ہوں اور اس میں نہ اذان دی جاتی ہو اور نہ نماز قائم کی جاتی ہو تو وہاں شیطان غالب آ جاتا ہے، اس لیے تم جماعت کا التزام کرو، (وگرنہ ذہن نشین کر لو کہ) بھیڑیا (ریوڑ سے) دور چلی جانے والی بکری کو کھا جاتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2463

۔ (۲۴۶۳) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَ ذِئْبُ الْاِنْسَانِ کَذِئْبِ الْغَنَمِ یَأْخُذُ الشَّاۃَ الْقَاصِیَۃَ وَالنَّاحِیَۃَ فَاِیَّاکُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَالْعَامَّۃِ وَالْمَسْجِدِ)) (مسند احمد: ۲۲۳۷۹)
سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرو ی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک شیطان انسان کے لیے اسی طرح کا بھیڑیا ہے، جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے، جو دور جانے والی اور علیحدہ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے، پس تم گھاٹیوں سے بچو اور جماعت، عام مسلمانوں اور مسجد کو لازم پکڑو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2464

۔ (۲۴۶۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَنْتَہِیَنَّ رِجَالٌ مِمَّنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ لَا یَشْہُدُوْنَ الْعِشَائَ الْآخِرَۃِ فِی الْجَمِیْعِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُیُوْتِہِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد کے ارد گرد والے لوگ ضرور ضرور اس چیز سے باز آ جائیں کہ نمازِ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہوں، وگرنہ میں ان کے گھروں کو جلانے کی لکڑیوں کی گٹھڑیوں کے ساتھ ضرور ضرور جلا دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2465

۔ (۲۴۶۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا مَا فِی الْبُیُوْتِ مِنَ النِّسَائِ وَالذُّرِّیَّۃِ لَأَقَمْتُ صَلَاۃَ الْعِشَائِ وَأَمَرْتُ فِتْیَانِیْ یُحَرِّقُوْنَ مَا فِی الْبُیَوْتِ بِالنَّارِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۸۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نمازِ عشاء کھڑی کرتا اور اپنے نوجوانوں کو حکم دیتا کہ وہ گھروں میں جو کچھ ہے، اسے جلا دیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2466

۔ (۲۴۶۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَثْقَلُ الصَّلَاۃِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ صَلَاۃُ الْعِشَائِ وَصَلَاۃُ الْفَجْرِ، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَلَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَیُؤَذِّنَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا یُصَلِّی بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِی بِرِجَالٍ مَعَہُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ اِلَی قَوْمٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَھُمْ بِالنَّارِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۲)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہیکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عشاء اور فجر کی نمازیں منافقوں پر سب سے بھاری ہیں اور اگر یہ لوگ جان لیں کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو یہ ضرور آئیں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ مؤذن کو حکم دوں کہ وہ اذان کہے، پھر کسی آدمی کا حکم دوںکہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی طرف ایسے افرادکو لے کر چلوں، جنھوں نے جلنے والی لکڑیوں کی گٹھڑیاں اٹھا رکھی ہوں، اور پھر ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2467

۔ (۲۴۶۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْھَادِ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَی الْمَسْجِدَ فَرَأَی فِی الْقَوْمِ رِقَّۃً، فَقَالَ: ((اِنِّی لَأَھُمَّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجَ فَـلَا أَقْدِرُ عَلٰی اِنْسَانٍ یَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی بَیْتِہِ اِلَّا أَحْرَقْتُہُ عَلَیْہِ۔)) فَقَالَ ابْنُ أُمَّ مَکْتُوْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلٰی قَائِدٍ کُلَّ سَاعَۃٍ، أَیَسَعُنِی أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِی؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ الْاِقَامَۃَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأْتِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۷۲)
سیّدناعبد اللہ بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں آئے اور دیکھا کہ نماز یوں میں قلت ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میرا ارادہ یہ ہے کہ میں لوگوں کے لیے ایک امام مقرر کروں، پھر میں خود نکل جاؤں اور نماز سے پیچھے رہ جانے والے جس جس انسان پر قدرت پاؤں، اس کو اس کے گھرسمیت جلا دوں۔ سیّدنا عبد اللہ بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے اور مسجد کے درمیان کھجوریں اور درخت ہیں اور میں ہر وقت قائد بھی نہیں ہوتا(جو مسجد میں لے آئے) ، توکیا مجھے گھر میں نماز پڑھ لینے کی رخصت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تو اذان سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو نماز کے لیے آنا پڑے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2468

۔ (۲۴۶۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْیَانِیَ فَیَجْمَعُوْا حَطَبًا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا یَؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوتَہُمْ وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُھُمْ أَنَّ لَہُ بِشُہُوْدِھَا عَرْقًا سَمِیْنًا أَوْ مِرْمَاتَیْنِ لَشَہِدَھَا وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہَا لَأَتَوْھَا وَلَوْ حَبْوًا۔)) (مسند احمد: ۸۸۷۷)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا یہ ارادہ ہے کہ میں جوانوں کو جلنے والی لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پیچھے چلا جاؤں اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ اسے نماز میں حاضر ہونے پر گوشت والی اچھی سی ہڈی یا دو کھر ملیں گے تو وہ ضرور آئے گی، اور اگر ان کو پتہ چل جائے کہ اس نماز میں کتنا اجر وثواب ہے تو یہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2469

۔ (۲۴۶۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَسْجِدِ، وَفِی رِوَایَۃٍ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ صَلَاۃَ الْعِشَائِ، فَرَآھُمْ عِزِیْنَ مُتَفَرِّقِیْنَ، قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِیدًا مَا رَأَیْنَاہُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْہُ، قَالَ: ((وَاللّٰہِ! لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا یَؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَتَتَبَّعَ ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَتَخَلِّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی دُوْرِھِمْ فَأُحَرِّقَہَا عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۸۸۹۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عشاء کے وقت مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو علیحدہ علیحدہ گروہوں میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سخت غصے میں آگئے، ہم نے کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اتنی سخت ناراضگی میں نہیں دیکھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اوران سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2470

۔ (۲۴۷۰) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخَّرَ الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتّٰی کَادَ یَذْھَبُ ثُلُثُ اللَّیْلِ أَوْ قُرابُہُ، قَالَ: ثُمَّ جَائَ وَفِی النَّاسِ رِقَّۃٌ وَھُمْ عِزُونَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِیْدًا، ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ رَجُلًا بَدَا النَّاسَ اِلٰی عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَیْنِ لَاَجَابُوا لَہُ، وَھُمْ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنْ ھٰذِہِ الصَّلَاۃِ، لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَیَتَخَلَّفَ عَلٰی أَھْلِ ھٰذِہِ الدُّوْرِ الَّذِیْنَ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنْ ھَذِہِ الصَّلَاۃِ فَأْحَرِّقَہَا عَلَیْھِمْ بِالنِّیْرَانِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۷۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشاء کی نماز کو مؤخر کیا، حتیٰ کہ رات کا تیسرا حصہ یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو لوگوں میں قلت تھی اوروہ ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدید غصے میں آگئے اور پھر فرمایا: اگر کوئی آدمی اِن لوگوں کو گوشت والی ہڈی یا دو کھروں کی طرف اپنی بستی میں بلائے تو وہ اس کی بات کو ضرور قبول کریں گے۔ یہ لوگ اِس نماز سے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، البتہ تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ پیچھے رہ (نماز پڑھائے) اور میں ان گھر والوں کی طرف جاؤں جو اس نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان سمیت ان کے گھروں کو آگ کے ساتھ جلا دوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2471

۔ (۲۴۷۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَیُصَلِّیَ بِالنَّاسٍ، ثُمَّ آمُرَ بِالنَّاسٍ لَا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا فَتُحَرَّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوْتُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۷۴۳)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر ان لوگوں سمیت ان کے گھر جلا دینے کا حکم دوں، جو ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2472

۔ (۲۴۷۲) عَنْ سَہْلٍ عَنْ أَبِیْہِ (یَعْنِی مُعَاذَ بْنَ أَنَسٍ الْجُہَنِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اَلْجَفَائُ کُلُّ الْجَفَائِ وَالْکُفْرُ وَالْنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِیَ اللّٰہِ ُنَادِی بِالصَّلَاۃِ یَدْعُوا اِلَی الْفَـلَاحِ وَلَا یُجِیْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۲)
سیّدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اللہ کی رحمت سے) دوری ہے، بہت دوری ہے، کفر ہے اور نفاق ہے، اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ کے مُنَادی کو نماز کے اذان دیتے ہوئے اور کامیابی کی طرف دعوت دیتے ہوئے سنتا ہے، لیکن اس کی بات قبول نہیں کرتا (اور نماز باجماعت کے لیے نہیں آتا) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2473

۔ (۲۴۷۳) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَادٰی بِالصَّلَاۃِ فِی لَیْلَۃٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِیْحٍ، ثُمَّ قَالَ فِی آخِرِ نِدَائِہِ: أَلَا صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ أَلَا صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، أَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ اِذَا کَانَتْ لَیْلَۃٌ بَارِدَۃٌ أَوْ ذَاتُ رِیْحٍ فِی السَّفَرِ أَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ۔ (مسند احمد: ۵۸۰۰)
جناب ِنافع کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سردی اور ہوا والی ایک رات کو نماز کے لیے اذان کہی، اور انہوں نے اذان کے آخر میں کہا: خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو، خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو،خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ جب سفر میں رات ٹھنڈی یا ہوا والی ہوتی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ یہ بھی کہا کرے: خبردار! اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2474

۔ (۲۴۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَادَی ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلَاۃِ بِضَجْنَانَ ثُمَّ نَادٰی أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُ الْمُنَادِیَ فَیُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ، ثُمَّ یُنَادِی أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ فِی اللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ وَفِی اللَّیْلَۃِ الْمَطِیْرَۃِ فِی السَّفَرِ ۔ (مسند احمد: ۴۴۷۸)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ضجنان (نامی مقام یا پہاڑ) پر نماز کے لیے اذان کہی، پھر یہ آواز دی: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ جب سفر میں سردی یا بارش والی رات ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ اذان دے اور پھر یہ آواز دے: اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2475

۔ (۲۴۷۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَمُطِرْنَا، قَالَ: ((لِیُصَلِّ مَنْ شَائَ مِنْکُمْ فِی رَحْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۹۹)
سیّدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، (راستے میں) بارش برسنے لگی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے ، اپنے خیمے میں نماز پڑھ لے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2476

۔ (۲۴۷۶) عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَہُ مُؤَذِّنُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَادٰی مُنَادِیْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمٍ مَطِیْرٍ: أَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۵۰)
ایک مؤذنِ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے بارش والے دن یہ آواز بھی دی: خبر دار! اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2477

۔ (۲۴۷۷) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ النَّحَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نُودِیَ بِا لصُّبْحِ فِی یَوْمٍ بَارِدٍ وَأَنَا فِی مِرْطِ امْرَأَتِی، فَقُلْتُ: لَیْتَ الْمُنَادِیَ قَالَ: مَنْ قَعَدَ فَـلَا حَرَجَ عَلَیْہِ، فَنَادٰی مُنَادِیْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی آخِرٍ أَذَانِہِ: وَمَنْ قَعَدَ فَـلَا حَرَجَ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۹۹)
سیّدنا نعیم بن نحام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سردی والا دن تھا اور میں اپنی بیوی کی چادر میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں فجر کی اذان ہونے لگی، میں نے کہا: کاش اذان کہنے والا یہ بھی کہہ دے: جو (نماز کے لیے) نہ آئے اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ایسے ہی ہوا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے اذان کے آخر میں کہا: جو نہ آئے، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2478

۔ (۲۴۷۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ مُؤَذِّنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ وَأَنَا فِی لِحَافِی فَتَمَنَّیْتُ أَنْ یَقُوْلَ: صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، فَلَمَّا بَلَغَ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قَالَ: صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْھَا فَاِذَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَہٗ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۹۸)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ایک ٹھنڈی رات تھی اور میں اپنے لحاف میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں میںنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا، مجھ میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش مؤذن یہ کہہ دے: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ (ایسے ہی ہوا اور جب) حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ تک پہنچا تو اس نے کہا: اپنی رہائش گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو، پھر جب میں نے ان (زائد) الفاظ کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2479

۔ (۲۴۷۹) عَنْ سَمْرَۃَ بْنِ جُنْدُبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ حُنَیْنٍ فِی یَوْمٍ مَطِیْرٍ: ((الصَّلَاۃُ فِی الرِّجَالِ)) (مسند احمد: ۲۰۳۵۲)
’سیّدناسمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حنین والے روز، بارش والے دن فرمایا: خیموں میں ہی نماز پڑھ لو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2480

۔ (۲۴۸۰) عَنْ أَبِی الْمَلِیْحِ بْنِ أُسَامَۃَ قَالَ: خَرَجْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ فِی لَیْلَۃٍ مَطِیْرَۃٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اِسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِی: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: أَبُو الْمَلِیْحِ، قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَأَصَابَتْنَا سَمَائٌ لَمْ تَبُلَّ أَسافِلُ نِعَالِنَا، فَنَادَی مُنَادِی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۸۳)
ابوملیح بن اسامہ کہتے ہیں:بارش والی رات کو میں مسجد کی طرف گیا، (نمازِ عشاء پڑھ کر) واپس آیا اور دروازہ کھولنے کو کہا۔ میرے ابو جان نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابو ملیح ہے۔ انھوں نے کہا: ہم حدیبیہ کے موقع رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے دیکھا کہ (ہلکی سی) بارش ہوئی، اس سے ہمارے جوتوں کے نچلے والے حصے بھی نہیں بھیگے تھے۔ لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے کہا: اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2481

۔ (۲۴۸۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ کَانَ مَطِیْرًا، قَالَ: فَأَمَرَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُنَادِیَہُ اَنِِ الصَّلَاۃُ فِی الرِّحَالِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۷۶)
(دوسری سند) وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں: کہ حنین کے دن بارش تھی، اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے مؤذن کوحکم دیا کہ وہ یہ کہے کہ خیموں میں ہی نماز ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2482

۔ (۲۴۸۲) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ أَظُنُّہُ رَفَعَہُ قَالَ: أَمَرَ مُنَادِیًا فَنَادٰی فِی یَوْمٍ مَطِیْرٍ أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارش والے دن مؤذن کو حکم دیاکہ وہ کہے: اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2483

۔ (۲۴۸۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا وُضِعَ الْعَشَائُ وَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَابْدَؤُا بِالْعَشَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۲۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا پیش کر دیا جائے اور اُدھر نماز کی اقامت بھی کہہ دی جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2484

۔ (۲۴۸۴) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا حَضَرَا الْعَشَائُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَابْدَئُوْا بِالْعَشَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۳۲)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت بھی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2485

۔ (۲۴۸۵) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وُضِعَ الْعَشَائُ وَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَابْدَئُوْا بِالْعَشَائِ۔)) قَالَ: وَلَقَدْ تَعَشَّی ابْنُ عُمَرَ مَرَّۃً وَھُوَ یَسْمَعُ قِرَائَ ۃَ الْاِمَامِ۔ (مسند احمد: ۵۸۰۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا رکھ دیا جائے اور اُدھر نماز بھی کھڑی کردی جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔ نافع کہتے ہیں: ایک دفعہ سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام کا کھانا کھا رہے تھے او روہ امام کی قراء ت سن رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2486

۔ (۲۴۸۶) عَنْ مَوْھُوبِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْھَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ یُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: مَا یَحْمِلُکَ عَلٰی ھٰذَا؟ فَقَالَ: اِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی صَلَاۃً مَتٰی تُوَافِقُہَا أُصَلِّیْ مَعَکَ وَمَتٰی تُخَالِفُہَا أُصَلِّی وَأَنْقَلِبُ اِلَی أَھْلِی۔ (مسند احمد: ۱۲۵۱۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، عمر بن عبد العزیز k (کی نماز سے) پیچھے رہتے تھے، (یعنی وہ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے، ایک دن) عمر بن عبد العزیز نے ان سے پوچھا: تجھے کون سی چیز ایسا کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب تم اس نماز کی موافقت کرتے ہو تو میں تمہارے ساتھ پڑھ لیتا ہوں، لیکن جب تم اس کی مخالفت کرتے ہو تو میں (وقت پر) نماز ادا کر کے اپنے گھر چلا جاتا ہوں۔

آیت نمبر