Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

47)

47) نماز با جماعت کے بارے میں ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2525

۔ (۲۵۲۵) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْاِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ (وَفِی لَفْظٍ أَمِیْنٌ)، اَللَّہُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّۃَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِیْنَ)) (مسند احمد: ۷۱۶۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امین ہوتا ہے، اے اللہ! تو اماموں کو ہدایت دے (یعنی ان کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق دے) اور مؤذنوں (سے ہوجانے والی کمی بیشی) کو معاف فرمادے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2526

۔ (۲۵۲۶) عَنْ أَبِی عَلِیٍّ الْھَمَدَانِیِّ قَالَ: خَرَجْتُ فِی سَفَرٍ وَمَعَنَا عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقُلْنَا لَہُ: اِنَّکَ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُمَّنَا، فَقَالَ: لَا، اِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ وَأَتَمَّ الصَّلَاۃَ فَلَہُ وَلَھُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذٰلِکْ شَیْئًا فَعَلَیْہِ وَلَا عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۳۸)
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نکلا، ہمارے ساتھ سیّدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے کہا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے، آپ اصحاب ِ رسول میں سے ہیں، اس لیے آپ ہمیں امامت کرائیں، لیکن انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے لوگوں کی امامت کروائی اور صحیح وقت کا اہتمام کیا اور نماز کو مکمل طور پرادا کیا، تو اس کو بھی ثواب ملے گا ا ور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے ان امور میں کسی چیز کی کمی کی، تو اس کا گناہ اس امام پر ہوگا، نہ کہ مقتدیوں پر ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2527

۔ (۲۵۲۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُصَلُّوْنَ بِکُمْ، فَاِنْ أَصَابُوا فَلَکُمْ وَلَھُمْ وَاِنْ أَخْطَئُوْا فَلَکُمْ وَعَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۸۶۴۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تم کو نماز پڑھائیں گے، اگر انھوں نے درست انداز میں نماز پڑھی تو تمہیں بھی ثواب ملے گا اور ان کو بھی، اور اگر انھوں نے غلطی کی تو تمہیں تو ثواب ملے گا اور ان پر گناہ ہو گا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2528

۔ (۲۵۲۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَلَّکُمْ سَتُدْرِکُوْنَ أَقْوَامًا یُصَلُّوْنَ صَلَاۃً لِغَیْرِ وَقْتِہَا فَاِذَا أَدْرَکْتُمُوْھُمْ فَصَلُّوا فِی بُیُوْتِکُمْ فِی الْوَقْتِ الَّذِی تَعْرِفُوْنَ ثُمَّ صَلُّوا مَعَہُمْ وَاجْعَلُوْھَا سُبْحَۃً)) (مسند احمد: ۳۶۰۱)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید تم ایسے لوگوں کو پا لو جو نماز کو اس کے وقت سے ٹال کر پڑھیں گے، اگر واقعی ان کو پا لو تو گھروں میں ہی اپنی پہچان کے مطابق وقت پر نماز پڑھ لینا، پھر ان کے ساتھ بھی ادا کرلینا اور اِس کو نفل سمجھ لینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2529

۔ (۲۵۲۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ سَیَلِی أَمْرَکُمْ مِنْ بَعْدِی رِجَالٌ یُطْفِئُوْنَ السُّنَّۃَ وَیُحْدِثُوْنَ بِدْعَۃً وَیُؤَخِّرُوْنَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیْتِہَا۔)) قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ بِی اِذَا أَدْرَکْتُہُمْ؟ قَالَ: ((لَیْسَ یَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ! طَاعَۃٌ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ۔)) قَالَھَا ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسَمِعْتُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَاحِ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۳۷۹۰)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک قریب ہے کہ تمہارے امور کے والی ایسے لوگ بن جائیں ، جو سنت کو مٹائیں گے، بدعتوں کو زندہ کریں گے اور نماز کو اس کے وقت سے لیٹ کر دیں گے۔ عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں ان کو پالوں توکیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام عبد کے بیٹے! اللہ کی نافرمانی کرنے والے شخص کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2530

۔ (۲۵۳۰) عَنْ أَبِی مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ الْبَدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُھُمْ لِکِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَأَقْدَمُہُمْ قِرَائَ ۃً فَاِنْ کَانَتْ قِرَائَ تُہُمْ سَوَائً فَلْیَؤُمَّہُمْ أَقْدَمُہُمْ ھِجْرَۃً فَاِنْ کَانَتْ ھِجْرَتُھُمْ سَوَائً فَلْیَؤُمَّہُمْ أَکْبَرُھُمْ سِنًّا وَلَا یُؤَمَّ الرَّجُلُ فِی أَھْلِہِ وَلَا فِی سُلْطَانِہِ وَلَا یُجْلَسْ عَلٰی تَکْرِمَتِہِ فِی بَیْتِہِ اِلَّا بِاِذْنِہِ)) (مسند احمد: ۱۷۲۲۷)
ابومسعود انصاری بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قوم کی امامت وہ آدمی کروائے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب زیادہ پڑھا ہوا ہو، اگر وہ قراء ت میں برابر ہوں، تو وہ شخص امامت کروائے جو ہجرت میں مقدم ہو، اگر وہ ہجرت میں برابر ہو ں تو وہ امامت کرائے جو عمر میں بڑا ہو، اور آدمی کے گھر میں اور اس کے اقتدار میں اس کی امامت نہ کروائی جائے اور اس کے گھر میں اس کی عزت والی جگہ میں نہ بیٹھا جائے، مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2531

۔ (۲۵۳۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَاِنْ کَانُوا فِی الْقِرَآئَ ۃِ سَوَائً فَأَعْلَمُھُمْ بِالسُّنَّۃِ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۹۶)
(دوسری سند)اس میں یہ یہ زائد ہے: اگر وہ قراء ت میں برابر ہوں تو سنت کو زیادہ جاننے والا امام کروائے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2532

۔ (۲۵۳۲)(وَفِیْہِ أَیْضًا) وَلَا تَجْلِسْ عَلٰی تَکْرِمَتِہِ فِی بَیْتِہِ حَتّٰی یَأْذَنَ لَکَ ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۲۷)
( اور اس کے الفاظ یہ ہیں:) اور تو اس کے گھر میں اس کی عزت والی جگہ میں نہ بیٹھ، الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2533

۔ (۲۵۳۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانُوْا ثَـلَاثَۃً فَلْیَؤُمَّھُمْ أَحَدُھُمْ، وَأَحقُّہُمْ بِالْاِمَامَۃِ أَقْرَؤُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۷۴)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تین افراد ہوں تو ان میں سے ایک امامت
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2534

۔ (۲۵۳۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُھُمْ لِلْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۹۴)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قوم کی امامت وہ شخص کرائے گا، جو ان میں قرآن کو زیادہ پڑھنے والا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2535

۔ (۲۵۳۵) عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتْ تَأْتِیْنَا الرُّکْبَانُ مِنْ قِبْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَسْتَقْرِئُہُمْ فَیُحَدِّثُوْنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِیَؤُمَّکُمْ أَکْثَرُکُمْ قُرْآنًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۶۳)
سیّدنا عمرو بن سلمۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے ہمارے پاس قافلے آتے تھے، پس ہم ان سے پڑھتے تھے، انھوں نے ہمیں یہ بھی بیان کیا کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری امامت وہ کرائے تو تم میں قرآن مجید کو زیادہ پڑھنے والا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2536

۔ (۲۵۳۶) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا سُرَیْجٌ وَیُوْنُسُ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ زَیْدٍ عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ اللَّیْثِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ، قَالَ: فَأَقَمْنَا عِنْدَہُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً، فَقَالَ لَنَا: ((لَوْ رَجَعْتُمْ اِلَی بِلَادِکُمْ)) وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَحِیْمًا ((فَعَلَّمْتُمُوْھُمْ۔)) قَالَ سُرَیْجٌ وَأَمَرْتُمُوْھُمْ أَنْ یُصَلُّوْا صَلَاۃَ کَذَا حِیْنَ کَذَا قَالَ یُوْنُسُ وَمُرُوْھُمْ فَلْیُصَلُّوْا صَلَاۃَ کَذَا فِی حِیْنِ کَذَا وَصَلَاۃَ کَذَا فِی حِیْنِ کَذَا، فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۰۳)
سیّدنا مالک بن حویرث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نوجوان لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور تقریبا بیس راتیں قیام کیا، چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رحم دل تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: اگر تم اپنے شہروں کی طرف لوٹ جائو اور ان کو تعلیم دو اور انھیں حکم دو کہ وہ فلاں فلاں نماز فلاں فلاں وقت میں پڑھیں، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور وہ آدمی تمہاری امامت کرائے، جو تم میں بڑا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2537

۔ (۲۵۳۷، ۲۵۳۸)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلَابَۃً عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ وَلِصَاحِبٍ لَہُ: ((اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَأَذِّنَا وَأَقِیْمَا وَقَالَ مَرَّۃً فَأَقِیْمَا ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُ کُمَا۔)) قَالَ خَالِدٌ: فَقُلْتَ لِأَبِی قِلَابَۃَ: فَأَیْنَ الْقِرَائَۃُ؟ قَالَ: اِنَّہُمَا کَانَا مُتَقَارِبَیْنِ۔ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ:) ((صَلُّوا کَمَا تَرَوْنِی أُصَلِّی)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۶)
(دوسری سند )سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اور اس کے ساتھی کو فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے، تو تم اذان دینا، پھراقامت کہنا اور جو تم میں بڑا ہے، وہ جماعت کروائے گا۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے کہا: قراء ت (کی بنا پر امام بنانے کا)مسئلہ کہاں گیاَ انہوں نے کہا: بیشک وہ دونوں (قراء ت اور باقی علم میں) قریب قریب تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نماز اس طرح پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2538

۔ (۲۵۳۷، ۲۵۳۸)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلَابَۃً عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ وَلِصَاحِبٍ لَہُ: ((اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَأَذِّنَا وَأَقِیْمَا وَقَالَ مَرَّۃً فَأَقِیْمَا ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُ کُمَا۔)) قَالَ خَالِدٌ: فَقُلْتَ لِأَبِی قِلَابَۃَ: فَأَیْنَ الْقِرَائَۃُ؟ قَالَ: اِنَّہُمَا کَانَا مُتَقَارِبَیْنِ۔ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ:) ((صَلُّوا کَمَا تَرَوْنِی أُصَلِّی)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۶)
(دوسری سند )سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اور اس کے ساتھی کو فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے، تو تم اذان دینا، پھراقامت کہنا اور جو تم میں بڑا ہے، وہ جماعت کروائے گا۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے کہا: قراء ت (کی بنا پر امام بنانے کا)مسئلہ کہاں گیاَ انہوں نے کہا: بیشک وہ دونوں (قراء ت اور باقی علم میں) قریب قریب تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نماز اس طرح پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2539

۔ (۲۵۳۹) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أَتٰی أَبَا مُوْسَی الْأَشْعَرِیَّ فِی مَنْزِلِہِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ، فَقَالَ أَبُوْ مُوْسَی: تَقَدَّمْ یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! فَاِنَّکَ أَقْدَمُ سِنًّا وَأَعْلَمُ، قَالَ: لَا، بَلْ تَقَدَّمْ أَنْتَ فَاِنَّمَا أَتَیْنَاکَ فِی مَنْزِلِکَ وَمَسْجِدِکَ فَأَنْتَ أَحَقُّ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ أَبُوْ مُوْسٰی فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: مَا أَرَدْتَّ اِلَی خَلْعِہِمَا؟ أَبِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ أَنْتَ؟ لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی فِی الْخُفَّیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔ (مسند احمد: ۴۳۹۷)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں سیّدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ان کے گھر گیا، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، انھوں نے مجھے کہا: ابوعبد الرحمن! آگے بڑھو(اور نماز پڑھاؤ)کیونکہ تم زیادہ عمر والے اور زیادہ علم والے ہو، لیکن میں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ خود آگے بڑھیں، کیونکہ ہم آپ کے پاس، آپ کے گھر اور آپ کی مسجد میں آئے ہیں، اس لیے آپ زیادہ حقدار ہیں، پس سیّدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگے بڑھے اور انھوں نے اپنے جوتے اتار دیئے، جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے کہا: آپ نے جوتے کیوں اتارے ہیں؟ کیا آپ وادیٔ مقدس میں ہیں،میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ موزے اور جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2540

۔ (۲۵۴۰) عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْہُمْ یُکْنَی أَبَا عَطِیَّۃَ قَالَ: کَانَ مَالِکُ بْنُ الْحُوَیْرِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَأْتِیْنَا فِی مُصَلَّانَا یَتَحَدَّثُ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ یَوْمًا فَقُلْنَا: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: لَا، لِیَتَقَدَّمْ بَعْضُکُمْ حَتّٰی أُحَدِّثَکُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَـلَا یَؤُمَّہُمْ، وَلْیَؤُمَّہُمْ رَجُلٌ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۰۶)
ابوعطیہ کہتے ہیں: سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس ہماری جائے نمازمیں آتے تھے اور باتیں کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے ان سے کہا: آگے بڑھو اور ( نماز پڑھاؤ)، لیکن انھوں نے کہا: نہیں، تمہارا اپنا کوئی آدمی آگے بڑھے، میں تم کو بیان کرتا ہوں کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھ رہا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا: جو آدمی دوسروں کی ملاقات اور زیارت کرنے کے لیے ان کے پاس آئے، وہ ان کو امامت نہ کرائے، بلکہ ان کا اپنا کوئی آدمی جماعت کرائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2541

۔ (۲۵۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَکْتُوْمٍ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ مَرَّتَیْنِ یُصَلِّی بِہِمْ وَھُوَ أَعْمٰی۔ (مسند احمد: ۱۳۰۳۱)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مدینے پر دو دفعہ اپنا نائب مقرر کیا،وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے، جبکہ وہ نابینا تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2542

۔ (۲۵۴۲) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ذَھَبَ بَصَرُہُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ جِئْتَ صَلَّیْتَ فِی دَارِیْ أَوْ قَالَ: فِی بَیْتِیْ لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاکَ مَسْجِدًا، فَجَائَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی فِی دَارِہِ أَوْ قَالَ فِی بَیْتِہِ ’’الحدیث‘‘ ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۱۹)
سیّدنا انس سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی نظر ختم ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں، تو میں اس جگہ کو مسجد بنالوں۔ پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور اس کے گھر میں نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2543

۔ (۲۵۴۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا عَلٰی حَاضِرٍ فَکَانَ الرُّکْبَانُ (وَفِی رِوَایَۃٍ فَکَانَ النَّاسُ) یَمُرُّوْنَ بِنَا رَاجِعِیْنَ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَدْنُوْ مِنْہُمْ فَأَسْمَعُ حَتّٰی حَفِظْتُ قُرْآنًا، وَکَانَ النَّاسُ یَنْتَظِرُوْنَ بِاِسْلَامِہِمْ فَتْحَ مَکَّۃَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ جَعَلَ الرَّجُلُ یَأْتِیْہِ فَیَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا وَافِدُ بَنِیْ فُلَانٍ، وَجِئْتُکَ بِاِسْلَامِھِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِی بِاِسْلَامِ قَوْمِہِ، فَرَجَعَ اِلَیْہِمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدِّمُوْا أَکْثَرَکُمْ قُرْآنًا۔)) قَالَ: فَنَظَرُوْا، وَاِنَّا لَعَلٰی حِوَائٍ عَظِیْمٍ، فَمَا وَجَدُوا فِیْھِمْ أَحَدًا أَکْثَرَ قُرْآنًا مِنِّی، فَقَدَّمُوْنِی وَأَنَا غُلَامُ فَصَلَّیْتُ بِہِمْ وَعَلَیَّ بُرْدَۃٌ وَکُنْتُ اِذَا رَکَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ قَلَصَتْ فَتَبْدُوا عَوْرَتِی، فَلَمَّا صَلَّیْنَا، تَقُوْلُ عَجُوْزٌ لَنَا دُھْرِیَّۃٌ: غَطُّوا عَنَّا اِسْتَ قَارِئِکُمْ، قَالَ: فَقَطَعُوْا لِی قَمِیصًا، فَذَکَرَ أَنَّہُ فَرِحَ بِہِ فَرَحًا شَدِیْدًا۔ (مسند احمد: ۲۰۵۹۹)
سیّدنا عمرو بن سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم ایسی جگہ پر سکونت پذیر تھے،جہاں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے لوٹنے والے لوگ گزرتے تھے، میں ان کے قریب ہوتا اوران سے سنتا تھا، حتیٰ کہ قرآن کا کافی حصہ مجھے یاد ہو گیا، اُدھر لوگ اسلام لانے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے ۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنے شروع ہو گئے، ایک آدمی آتا اور کہتا: میں بنو فلاں کا نمائندہ ہوں اور ان کے اسلام کی اطلاع دینے کے لیے آیا ہوں۔ میرے باپ بھی اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر گئے، جب وہ اُن کی طرف لوٹے تو کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم میں قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو اس کو امامت کے لیے آگے کرنا۔ پس انھوں نے دیکھا (کہ کس کو امام بنانا چاہیے) جبکہ وہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن وہ ایسا آدمی نہ پا سکے، جو مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہوتا، اس لیے انہوں نے مجھے امامت کے لیے آگے کردیا اور میں ابھی لڑکا تھا۔ میں نے ان کو نماز پڑھائی اور مجھ پر ایک چادر تھی، جب میں رکوع یا سجدہ کرتا تو کپڑا اوپر اٹھ جاتا تو میری شرمگاہ ننگی ہونے لگتی، جب ہم نے نماز پڑھ لی تو بہت زیادہ عمر والی ایک بوڑھی عورت کہتی ہے: اپنے قاری کا سرین تو ہم سے ڈھانپ لو۔ پھر انہوں نے ایک کپڑاکاٹ کر میرے لیے قمیص بنائی، جس کی وجہ سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2544

۔ (۲۵۴۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُمْ وَفَدُوا اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا أَرادُوا أَنْ یَنْصَرِفُوْا، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ یَؤُمُّنَا؟ قَالَ: ((أَکْثَرُکُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ۔)) قَالَ: فَلَمْ یَکُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا جَمَعْتُ، قَالَ: فَقَدَّمُوْنِی وَأَنَا غُلَامٌ، فَکُنْتُ أَؤُمُّہُمْ وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ لِی، قَالَ: فَمَا شَہِدْتُّ مَجْمَعًا مِنْ جِرْمٍ اِلَّا کُنْتُ اِمَامَہُمْ وَأُصَلِّی عَلٰی جَنَائِزِھِمْ اِلٰی یَوْمِی ھٰذَا۔ (مسند احمد: ۲۰۵۹۸)
(دوسری سند)ان کے باپ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، جب ہم نے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری امامت کون کرائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم میں زیادہ قرآن یاد کرنے والا ہے۔ سیّدنا عمرو بن سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہماری قوم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کو اتنا قرآن یاد ہوتا، جتنا مجھے تھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے آگے کر دیا ، جبکہ میں ابھی لڑکا تھا، میں ان کی امامت کرواتا اور مجھ پر ایک چھوٹی سی چادر ہوتی تھی۔ میں جرم (ایک علاقہ کا نام) میں جس مجمع میں حاضر ہوتا تھا، تو ان کا امام ہوتا اور آج تک میں ہی ان کے جنازے پڑھاتا رہا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2545

۔ (۲۵۴۵) عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ قَالَ حَدَّثَتْنِی جَدَّتِی عَنْ أُمِّ وَرَقَۃَ بِنْتِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِیِّ وَکَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ وَکَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَھَا أَنْ تَؤُمَّ أَھْلَ دَارِھَا وَکَانَ لَھَا مُؤَذِّنٌ وَکَانَتْ تَؤُمُّ أَھْلَ دَارِھَا۔ (مسند احمد: ۲۷۸۲۶)
سیدہ ام ورقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس نے قرآن مجید یاد کیا ہو ا تھا ، اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کروایا کرے، پس اس کا ایک مؤذن تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرواتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2546

۔ (۲۵۴۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ لِلنَّاسِ فَلْیُخَفِّفْ فَاِنَّ فِیْہِمُ الضَّعِیْفَ وَالسَّقِیْمَ وَالْکَبِیْرَ (وَفِی رِوَایَۃٍ وَالصَّغِیْرَ بَدَلَ السَّقِیْمِ) وَاِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ لِنَفْسِہِ فَلْیُطَوِّلْ مَا شَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۱۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، ہاں جب کوئی آدمی اپنی علیحدہ نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے۔ ایک روایت میں کمزور کی بجائے چھوٹے کا لفظ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2547

۔ (۲۵۴۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَاِنَّ فِیْھِمُ الضَّعِیْفَ وَالشَّیْخَ الْکَبِیْرَ وَذَا الْحَاجَۃِ ۔ (مسند احمد: ۷۶۵۴)
(دوسری سند) یہ بھی اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس بے شک ان میں کمزور، بڑی عمر والے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2548

۔ (۲۵۴۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عُثْمَانُ! أُمَّ قَوْمَکَ، وَمَنْ أَمَّ الْقَوْمَ فَلْیُخَفِّفْ، فَاِنَّ فِیْہِمُ الضَّعِیْفَ وَالْکَبِیْرَ وَذَا الْحَاجَۃِ، فَاِذَا صَلَّیْتَ لِنَفْسِکَ فَصَلِّ کَیْفَ شِئْتَ)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۵)
سیّدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے عثمان! اپنی قوم کی امامت کرواؤ، (لیکن یاد رکھو کہ) جو کسی قوم کی امامت کروائے اسے چاہیے کہ وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند ہوتے ہیں، ہاں جب تو علیحدہ اپنی نماز پڑھے تو جیسے چاہے نماز پڑھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2549

۔ (۲۵۴۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ آخِرُ شَیْئٍ عَھِدَہُ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیَّ أَنْ قَالَ: ((تَجَوَّزْ فِی صَلَاتِکَ وَاقْدُرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِہِمْ، فَاِنَّ مِنْہُمُ الصَّغِیْرَ وَالْکَبِیْرَ وَالضَّعِیْفَ وَذَا الْحَاجَۃِ)) (مسند احمد: ۱۸۰۷۱)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: آخری چیز، جس کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پابند کیا، یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: (امامت کے دوران) نماز میں تخفیف کر اور لوگوں میں اس بندے کا خیال رکھ جو سب سے زیادہ کمزور ہے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑی عمر والے، کمزور اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2550

۔ (۲۵۵۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ آخِرَ کَلَامٍ کَلَّمَنِی بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اسْتَعْمَلَنِی عَلَی الطَّائِفِ فَقَالَ: ((خَفِّفِ الصَّلَاۃَ عَلَی النَّاسِ حَتّٰی وَقَّتَ لِی {اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ} وَأَشْبَاھَہَا مِنَ الْقُرْآنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۷۹)
(تیسری سند )وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ کو طائف کا عامل بنایا تو سب سے آخر میں مجھے یہ بات ارشاد فرمائی: نماز کے معاملے میں لوگوں پر تخفیف کرنا، حتیٰ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے سورۂ علق اور اس جیسی سورتوں کا تقرر کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2551

۔ (۲۵۵۱) عَنْ أَبِی مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی لَأَتَأَخَّرُ فِی صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ مَخَافَۃَ فُلَانٍ یَعْنِی اِمَامَہُمْ قَالَ: فَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَشَدَّ غَضَبًا فِی مَوْعِظَۃٍ مِنْہُ یَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّریْنَ فَأَیُّکُمْ مَا صَلّٰی بِالنَّاسِ فَلْیُخَفِّفْ فَاِنَّ فِیْہِمُ الضَّعِیْفَ وَالْکَبِیْرَ وَذَا الْحَاجَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۹۲)
سیّدنا ابومسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں اپنے فلاں امام (کی لمبی قراء ت کے) ڈر سے نماز فجر سے لیٹ ہوتا ہوں۔ میں نے اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سخت غصے کی حالت میں دیکھا، آپ نے فرمایا: لوگو! تم میں سے بعض لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں، تم میں سے جو بھی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2552

۔ (۲۵۵۲) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ (الطَّائِیِّ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَنْ أَمَّنَا فَلْیُتِمَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَاِنَّ مِنَّا الضَّعِیْفَ وَالْکَبِیْرَ وَالْمَرِیْضَ وَالْعَابِرَ سَبِیْلٍ وَذَا الْحَاجَۃِ، ھٰکَذَا کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۴۵۰)
سیّدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جو شخص ہمیں امامت کرائے تو وہ رکوع و سجود کو مکمل کیا کرے، کیونکہ ہم میں کمزور،
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2553

۔ (۲۵۵۳) عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَؤُمُّ قَوْمَہُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَھُوَ یُرِیْدُ أَنْ یَسْقِیَ نَخْلَہُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِیُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأٰی مُعَاذًا طَوَّلَ تَجَوَّزَ فِی صَلَاتِہِ وَلَحِقَ بِنَخْلِہِ یَسْقِیْہِ، فَلَمَّا قَضٰی مُعَاذُ الصَّلَاۃَ قِیْلَ لَہُ: اِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَآکَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِی صَلَاتِہِ وَلَحِقَ بِنَخْلِہِ یَسْقِیْہِ، قَالَ: اِنَّہُ لَمُنَافِقٌ أَیَعْجَلُ عَنِ الصَّلَاۃِ مِنْ أَجْلِ سَقْیِ نَخْلِہِ؟ قَالَ: فَجَائَ حَرَامٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمُعَاذٌ عِنْدَہُ، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنِّی أَرَدْتُّ أَنْ أَسْقِیَ نَخْلًا لِیْ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِاُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا طَوَّلَ تَجَوَّزْتُ فِی صَلَاتِی وَلَحِقْتُ بِنَخْلِیْ أَسْقِیْہِ فَزَعَمَ أَنِّی مُنَافِقٌ فَأَقْبَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی مُعَاذٍ فَقَالَ: ((أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، لَا تُطَوِّلْ بِہِمْ، اِقْرَأْ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی، وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} وَنَحْوِھِمَا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۷۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے، ایک دن حرام (بن ملحان) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے، جبکہ وہ اپنی کھجوروں کو سیراب کرنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے، وہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں داخل ہوئے، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نماز کو لمبا کر رہے ہیں تو انھوں نے مختصر سی نماز پڑھی اور اپنی کھجوروں میں جا کر ان کو پانی دینے لگ گئے۔ جب سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز پوری کی تو ان کو بتلایا گیاکہ حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے تھے، لیکن جب انہوں نے آپ کی طویل نماز دیکھی تو انہوں نے اختصار کے ساتھ اپنی نماز پڑھ لی اور کھجوروں کو پانی دینے کے لیے وہاں چلے گئے ہیں۔ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک وہ منافق ہے، کیا وہ کھجوروں کو پانی دینے کی خاطر نماز سے جلدی کرتا ہے! سیّدنا حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے جبکہ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرا ارادہ کھجوروں کو پانی دینے کا تھا، لیکن میں پہلے مسجد میں آگیا تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لوں۔لیکن جب میں نے اِن کو دیکھا کہ یہ تو طویل نماز پڑھا رہے ہیں تو میں نے اختصار کے ساتھ نماز پڑھی اور اپنی کھجوروں کو پانی دینے کے لیے وہاں چلا گیا، تو سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا ہے کہ میں منافق ہوں۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تو فتنہ باز ہے! کیا تو فتنہ باز ہے، ان کو لمبی نماز نہ پڑھایا کر اور سورۂ اعلی، سورۂ شمس اور ان جیسی سورتیں پڑھ لیا کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2554

۔ (۲۵۵۴) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَہُ مِنْ جَابِرٍ کَانَ مُعَاذٌ یُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ یَرْجِعُ فَیَؤُمُّنَا وَقَالَ مَرَّۃً ثُمَّ یَرْجِعُ فَیُصَلِّی بِقَوْمِہٖ فَأَخَّرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً الصَّلَاۃَ وَقَالَ مَرَّۃً الْعِشَائَ، فَصَلّٰی مُعَاذٌ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ جَائَ قَوْمَہُ، فَقَرأَ الْبَقَرَۃَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلّٰی، فَقِیْلَ: نَا فَقْتَ یَا فُلَانُ، قَالَ: مَا نَافَقْتُ، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ مُعَاذًا یُصَلِّیْ مَعَکَ ثُمَّ یَرْجِعُ فَیَؤُمُّنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَیْدِیْنَا، وَاِنَّہُ جَائَ یَؤُمُّنَا فَقَرَأَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فَسَأَلَ: ((یَا مُعَاذُ! أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اِقْرَأْ بِکَذَ وَکَذَا قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی۔ وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی} فَذَکَرْنَا لِعَمْرٍو فَقَالَ أُرَاہُ قَدْ ذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۵۸)
سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر وہاں سے لوٹتے اور ہمیں نماز پڑھاتے تھے،ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے اور اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ عشاء کو مؤخر کر دیا۔ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (عام عادت کے مطابق) نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کی طرف گئے اور نماز میں سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی، (اِس طویل قیام کی وجہ سے) ایک آدمی نے علیحدہ ہو کر نماز پڑھ لی۔ اس کہا گیا: او فلاں! تو تو منافق ہو گیا ہے، لیکن اس نے کہا: میں منافق نہیں ہوا۔ پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ٓپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر وہ یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرواتے ہیں، ہم اونٹوں والے لوگ ہیں اوراپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں، لیکن جب سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں نماز پڑھانے لگے تو انھوں نے سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ کیا تو لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہتا ہے؟ فلاں فلاں سورت پڑھ لیا کر۔ ابوزبیر ((حدیث بیان کرتے ہوئے)) کہتے ہیں: تو سورۂ اعلی اور سورۂ لیل پڑھا کر۔ پھر ہم نے یہ بات عمرو بن دینار کے لیے ذکر کی، تو انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو ذکر کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2555

۔ (۲۵۵۵)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجُ قَالَا ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیَّ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَہُ نَاضِحَانِ لَہُ وَقَدْ جَنَحَتِ الشَّمْسُ وَمُعَاذٌ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ فَدَخَلَ مَعَہُ الصَّلَاۃَ فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذُ الْبَقَرَۃَ أَوِ النِّسَائَ، مُحَارِبٌ الَّذِی یَشُکُّ، فَلَمَّا رَأَی الرَّجُلُ ذٰلِکَ صَلّٰی ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ: فَبَلَغَہُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْہُ، قَالَ حَجَّاجٌ یَنَالُ مِنْہُ، قَالَ: فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَا مُعَاذُ؟ أَوْ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ!؟)) وَقَالَ حَجَّاجٌ: ((أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ، فَلَوْلَا قَرَأْتَ {سَبِّحٍ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی، وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} فَصَلّٰی وَرَائَ کَ الْکَبِیْرُ وَذُوا لْحَاجَۃِ وَالضَّعِیْفُ، أَحْسِبُ مُحَارِبًا الَّذِی یَشُکُّ فِی الضَّعِیْفِ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۳۹)
(دوسری سند)سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک انصاری آدمی آیا، اس کے ساتھ دو اونٹنیاں بھی تھیں، اُدھر سورج غروب ہوچکا تھا اور سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، اس لیے وہ بھی نماز میں شامل ہو گیا، سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سورۂ بقرہ یا سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب اس آدمی نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے علیحدہ نماز پڑھ لی اور چلا گیا۔جب اسے پتہ چلا کہ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو اس کی عیب جوئی کی (کہ وہ منافق ہے) تو اس نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ معاذ! کیاتو فتنہ باز ہے؟ تو نے {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} اور {وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} جیسی سورتیں کیوں نہیں پڑھیں، وجہ یہ ہے کہ تیرے پیچھے بوڑھے، حاجت مند اور کمزور لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2556

۔ (۲۵۵۶) عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَۃَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ یُقَالُ لَہُ سُلَیْمٌ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ یَأْتِیْنَا بَعْدَ مَا نَنَامُ وَنَکُوْنُ فِی أَعْمَالِنَا بِالنَّہَارِ فَیُنَادِی بِالصَّلَاۃِ فَنَخْرُجُ اِلَیْہِ فَیُطَوِّلُ عَلَیْنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا مُعَاذُ بْنَ جَبلٍ! لَا تَکُنْ فَتَّانًا، اِمَّا أَنْ تُصَلِّیْ مَعِیَ وَاِمَّا أَنْ تُخَفِّفَ عَلٰی قَوْمِکَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا سُلَیْمُ! مَاذَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ؟)) قَالَ: اِنِّی أَسْألُ اللّٰہَ الْجَنَّۃ وَأَعُوْذُ بِہِ مِنَ النَّارِ، وَاللّٰہِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنتَک وَلَا دَنْدَنۃَ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَھَلْ تَصِیْرُ دَنْدَنَتِیْ وَدَنْدَنَۃُ مُعَاذٍ اِلَّا أَنْ نَسْأَلَ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ وَنَعُوْذَ بِہِ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ قَالَ سُلَیْمٌ: سَتَرَوْنَ غَدًا اِذَا التَقَی الْقَوْمُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ، قَالَ: وَالنَّاسُ یَتَجَہَّزُوْنَ اِلٰی أُحُدٍ فَخَرَجَ وَکَانَ فِی الشُّہَدَائِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَرِضْوَانُہُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۷۵)
معاذ بن رفاعہ انصاری ، بنو سلمہ کے ایک سُلَیم نامی آدمی سے بیان کرتا ہے، وہ کہتا ہے: اے اللہ کے رسول! سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس (نمازِ عشاء پڑھانے کے لیے) اس وقت آتے ہیں، جب ہم سو چکے ہوتے ہیں، جبکہ دن میں ہم کاموں میں مصروف رہتے ہیں، پھر وہ اذان دیتے ہیں اور جب ہم نماز پڑھنے کے لیے جاتے ہیں تو وہ لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ ! تو فتنہ پیدا کرنے والا نہ بن، یا تو میرے ساتھ نماز پڑھ ((اور واپس جا کر لوگوں کو نماز نہ پڑھا)) اوریا پھر اپنی قوم پر تخفیف کر۔ پھر فرمایا: اے سلیم! تجھے کتنا قرآن یاد ہے؟ اس نے کہا: میں اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے اس کی پناہ مانگتا ہوں، اللہ کی قسم! میں آپ اور معاذ کے گنگنانے کی طرح نہیں گنگنا سکتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا اور معاذ کی گنگناہٹ بھی یہی ہوتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور آگ سے اس کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ پھر سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم کل دیکھ لوگے جب ان شاء اللہ قوم دشمن سے ملے گی۔ اس وقت لوگ جنگ ِ احد کی تیاری کر رہے تھے۔ پھر وہ نکلا اور (اس دن کے)شہداء میں ہو گیا، اس پر اللہ کی رحمت اور اس کی رضا مندی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2557

۔ (۲۵۵۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: اِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ صَلّٰی بِأَصْحَابِہِ صَلَاۃَ الْعِشَائِ فَقَرَأَ فِیْہَا {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ} فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَفْرُغَ فَصَلّٰی وَذَھَبَ، فَقَالَ لَہُ مُعَاذٌ قَوْلًا شَدِیْدًا، فَأَتَی الرَّجُلُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْتَذَرَ اِلَیْہِ، فَقَالَ: اِنِّی کُنْتُ أَعْمَلُ عَلَی الْمَائِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلِّ بِالشَّمْسِ وَضُحَاھَا وَنَحْوِھَا مِنَ السُّوَرِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۹۶)
سیّدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بیشک سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی، اوراس میں {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ} سورت کی تلاوت کی، ایک آدمی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی کھڑا ہو گیا اور علیحدہ نماز پڑھ کر چلا گیا، سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے متعلق بڑی سخت بات کی۔ وہ آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ سے معذرت کرتے ہوئے کہا: میں نے پانی ڈھونے کا کام کیا، (اس لیے تھکا ہوا تھااور اس طرح نماز پڑھ لی)۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو) فرمایا: تم سورۂ شمس جیسی سورتوں کے ساتھ امامت کروایا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2558

۔ (۲۵۵۸) عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَتَمِّ النَّاسِ صَلَاۃً وَأَوْجَزِہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۸۹)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں میں نماز کو سب سے زیادہ مکمل کرنے والے بھی تھے اور اس میں تخفیف کرنے والے بھی تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2559

۔ (۲۵۵۹)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاۃً فِی تَمَامٍ ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۵۷)
(دوسری سند )سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں لوگوں میں سب سے زیادہ تخفیف کرنے والے تھے، لیکن آپ کی نماز مکمل بھی ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2560

۔ (۲۵۶۰) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا صَلَّیْتُ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃً أَخَفَّ مِنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی تِمَامِ رُکُوْعٍ وَسُجُوْدٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۸۳)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد (کسی ایسے شخص کے پیچھے) نماز نہیں پڑھی جو رکوع و سجود کی تکمیل کے ساتھ ساتھ زیادہ تخفیف کرنے والا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2561

۔ (۲۵۶۱) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنِّی لَأَدْخُلُ الصَّلَاۃَ وَأَنَا أُرِیْدُ أَنْ أُطِیْلَہَا فَأَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِیِّ فَأَتجَاوَزُ فِی صَلَاتِی مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّۃِ وَجْدِ أُمِّہِ مِنْ بُکَائِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۹۰)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میں نماز میں داخل ہوتا ہوں اور میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ میں اس کو لمبا کروں گا، لیکن جب میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تواس میں تخفیف کردیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی ماں اس کے رونے سے بہت زیادہ تکلیف محسوس کرے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2562

۔ (۲۵۶۲) وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۷۴)
سیّدنا ابی قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قسم کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2563

۔ (۲۵۶۳) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ أَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ وَحُمَیْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَوَّزَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ جَوَّزْتَ؟ قَالَ: ((سَمِعْتُ بُکَائَ صَبِیٍّ فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّہُ مَعَنَا تُصَلِّی، فَأَرَدْتُّ أَنْ أُفْرِغَ لَہُ أُمَّہُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَیْضًا فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّہُ تُصَلِّی مَعَنَا فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَہُ أُمَّہُ)) (مسند احمد: ۱۳۷۳۶)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن نمازِ فجر کو مختصر کر کے پڑھا، (جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہو ئے تو) کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز میں اتنی تخفیف کیوں کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے بچے کے رونے کی آوازسنی، جبکہ مجھے یہ گمان بھی تھا کہ اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو گی، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بچے کے لیے اس کو جلدی فارغ کر دوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2564

۔ (۲۵۶۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَوْتَ صَبِیٍّ فِی الصَّلَاۃِ فَخَفَّفَ الصَّلَاۃَ۔ (مسند احمد: ۹۵۷۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں بچے (کے رونے) کی آواز سنی، اس وجہ سے نماز کو مختصر کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2565

۔ (۲۵۶۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَارَأَیْتُ اِمَامًا أَشْبَہَ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِمَامِکُمْ ھٰذَا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ، وَھُوَ بِالْمَدِیْنَۃِ یَوْمَئِذٍ، وَکَانَ عُمَرُ لَا یُطِیْلُ الْقِرَائَ ۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۹۲)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے تمہارے اس امام کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے سب سے زیادہ مشابہ پایا ہے، انھوں نے یہ بات عمر بن عبد العزیز کے حق میں کہی تھی، وہ اس وقت مدینہ منورہ میں تھے اور وہ لمبی قراء ت نہیں کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2566

۔ (۲۵۶۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی بِنَا الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَلَا یُطِیْلُ فِیْہَا وَلَا یُخَفِّفُ، وَسَطًا مِنْ ذٰلِکَ، وَکَانَ یُؤَخِّرُ الْعَتَمَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۱۱)
سیّدنا جابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں فرض نماز پڑھاتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ تو اس کو لمبا کرتے تھے اور نہ بالکل تخفیف کرتے تھے۔ بلکہ اس کے درمیان درمیان (پڑھاتے تھے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ عشاء کو تاخیر سے ادا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2567

۔ (۲۵۶۷) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا صَلَّی الْفَجْرَ قَعَدَ فِی مُصَلَّاہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَکَانَ یَقْرَأُ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ بِـ{قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ} وَکَانَتْ صَلَاتُہُ بَعْدُ تَخْفِیْفًا۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۴)
سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نمازِ فجر پڑھاتے تو طلوع آفتاب تک اپنی جائے نماز میں بیٹھے رہتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر کی نماز میں سورۂ ق کی تلاوت کرتے تھے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز مختصر ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2568

۔ (۲۵۶۸) حدثنا عَبْدُالرَّزَّاقِ وَابنُ بَکْرٍ أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُا للّٰہِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَکْرِیَّ وَقَالَ ابْنُ بَکْرٍ الْبَدْرِیَّ، وَفِی رِوَایَۃِ اللَّیْثِیِّ وَفِی أُخْرَی الْکِنْدِیَّ، فِی وَجَعِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ، فَسَمِعَہُ یَقُوْلُ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاۃً عَلَی النَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاۃً لِنَفْسِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۴۴)
نافع بن سرجس کہتے ہیں: ہم نے سیّدنا ابو واقد بکری یا بدری یا کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مرض الموت میں ان کی عیادت کی، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں لوگوں پر سب سے زیادہ تخفیف کرنے والے تھے، لیکن اپنی اکیلی نماز کو سب سے لمبا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2569

۔ (۲۵۶۹) عَنْ مَالِکِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ أُصَلِّ خَلْفَ اِمَامٍ کَانَ أَوْجَزَ مِنْہُ صَلَاۃً فِی تَمَامِ الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۰۷)
سیّدنا مالک بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوے میں شریک ہوا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بہ نسبت کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو نماز میں زیادہ تخفیف کرنے والا ہو، جبکہ اس کے رکوع و سجود بھی پورے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2570

۔ (۲۵۷۰) عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیْہِ یَعْنِی عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِیْفِ وَاِنْ کَانَ لَیَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ۔ (مسند احمد: ۶۴۷۱)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں نماز میں تخفیف کرنے کا حکم دیتے تھے اور آپ خود سورۂ صافات کی قراء ت کر کے ہماری امامت کراتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2571

۔ (۲۵۷۱) عَنِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: رَأَیْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ تَجَوَّزَ فِیْہَا، فَقُلْتُ لَہُ: ھٰکَذَا کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزَ۔ (مسند احمد: ۱۰۰۹۹)
ابو خالد کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھائی اور اس میں کافی تخفیف کی، میں نے ان کو کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز بھی اسی طرح ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، بلکہ اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2572

۔ (۲۵۷۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِی ھُرَیْرَۃَ: أَھَکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی لَکُمْ؟ قَالَ: وَمَا أَنْکَرْتَ مِنْ صَلَاتِی؟ قَالَ: قُلْتُ: أَرَدْتُّ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ ذٰلِکَ، قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزَ، قَالَ: وَکَانَ قِیَامُہُ قَدْرَ مَا یَنْزِلُ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْمَنَارَۃِ وَیَصِلُ اِلَی الصَّفِّ۔ (مسند احمد: ۸۴۱۰)
(دوسری سند) ان کا باپ کہتا ہے: میں نے سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم لوگوں کو اس طرح نماز پڑھاتے تھے۔ انھوں نے پوچھا: تو میری نماز میں سے کس چیز کا انکار کیا ہے؟ میں نے کہا:میں آپ سے اِس (تخفیف) کے بارے میں پوچھنا چاہ رہا ہوں، انھوں نے کہا: جی ہاں اور اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی تھی، (یوں سمجھیں کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام کی مقدار اتنی ہوتی تھی کہ جتنا مؤذن کو مینار سے اتر کر صف میں ملنے کا وقت لگتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2573

۔ (۲۵۷۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِیْہِ أَنْ أَبَا ھُرَیْرَۃَ کَانَ یُصَلِّی بِہِمْ بِالْمَدِیْنَۃِ نَحْوًا مِنْ صَلَاۃِ قَیْسٍ وَکَانَ قَیْسٌ لَا یُطَوِّلُ، قَالَ: قُلْتُ: ھٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزُ۔ (مسند احمد: ۹۶۳۵)
(تیسری سند )اس کا باپ ابو خالد کہتا ہے: بے شک سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ میں ان کو اس طرح نماز پڑھاتے، جیسے قیس پڑھاتا تھا، جبکہ یہ قیس نماز کو لمبا نہیں کرتا تھا، تو میں پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے؟ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، بلکہ آپ کی نماز اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2574

۔ (۲۵۷۴) عَنْ حَیَّانَ (یَعْنِی الْبَارِقِیَّ) قَالَ: قِیْلَ لِاِبْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : اِنَّ اِمَامَنَا یُطِیْلُ الصَّلَاۃَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَکْعَتَانِ مِنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَفُّ أَوْ مِثْلُ رَکْعَۃٍ مِنْ صَلَاۃِ ھٰذَا۔ (مسند احمد: ۵۰۴۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی نے کہا: ہمارا امام تو لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی دو رکعتیں اس امام کی ایک رکعت کے برابر یا اِس سے بھی ہلکی ہوتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2575

۔ (۲۵۷۵) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُصَلِّی اِذِ انْصَرَفَ وَنَحْنُ قِیَامٌ ثُمَّ أَقْبَلَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ فَصَلّٰی لَنَا الصَّلَاۃَ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنِّی ذَکَرْتُ أَنِّیْ کُنْتُ جُنُبًا حِیْنَ قُمْتُ اِلَی الصَّلَاۃِ لَمْ أَغْتَسِلْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْکُمْ فِی بَطْنِہِ رِزًّا أَوْ کَانَ مِثْلَ مَا کُنْتُ عَلَیْہِ فَلْیَنْصَرِفْ حَتَّی یَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِہِ أَوْ غُسْلِہِ ثُمَّ یَعُوْدُ اِلٰی صَلَاتِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۸)
سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے گئے، جبکہ ہم قیام کی حالت میں تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور (فراغت کے بعد) فرمایا: جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوا تو مجھے یاد آیا کہ میں جنبی ہوںاور غسل نہیں کیا ،(آئندہ تم یاد رکھو کہ) تم میںجو شخص اپنے پیٹ میں آواز وغیرہ محسوس کرے یا اس کے ساتھ میرا والا یہ معاملہ ہو جائے تو وہ چلا جائے اور اپنی حاجت سے یا غسل سے فارغ ہوکر اپنی نماز کی طرف لوٹے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2576

۔ (۲۵۷۶) عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَ فَکَبَّرَ ثُمَّ أَوْمَأَ اِلَیْہِمْ أَنْ مَکَانَکُمْ ثُمَّ دَخَلَ فَخَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ فَصَلّٰی بِہِمْ فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَالَ: ((اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَاِنِّی کُنْتُ جُنُبًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۱)
سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز شروع کی، اللہ اکبر کہا، لیکن اچانک نمازیوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں داخل ہو گئے، پھر جب آپ باہر آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطر ٹپک رہے تھے، پس آپ نے ان کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: بیشک میں بشر ہی ہوں، در اصل میں جنبی تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2577

۔ (۲۵۷۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۹۷)
(دوسری سند)بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر کی نماز میںداخل ہوئے اور پھر مذکورہ پوری حدیث بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2578

۔ (۲۵۷۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا کَبَّرَ اِنْصَرَفَ وَأَوْمَأَ اِلَیْہِمْ أَیْ کَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ خَرَجَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَائَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ فَصَلّٰی بِہِمْ فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((اِنِّی کُنْتُ جُنُبًا فَنَسِیْتُ أَنْ أَغْتَسِلَ۔)) (مسند احمد: ۹۷۸۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے آئے اور جب اللہ اکبر کہا تو (گھر کی طرف) چل دیئے اور لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی حالت پرقائم رہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر چلے گئے اور غسل کر کے تشریف لائے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور جب نماز پڑھ لی تو فرمایا: میں جنبی تھا اور غسل کرنا یاد نہیں رہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2579

۔ (۲۵۷۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوْفَہُمْ وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ مَقَامَہُ ثُمَّ أَوْمَأَ اِلَیْہِمْ بِیَدِہِ أَنْ مَکَانَکُمْ فَخَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ وَرَأْسُہُ یَنْطُفُ فَصَلّٰی بِہِمْ۔ (مسند احمد: ۷۲۳۷)
(دوسری سند)راوی کہتا ہے: نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور لوگوں نے صفیں بنالیں، لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوئے تو اپنے ہاتھ سے اُن کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی اپنی جگہ پرٹھہرے رہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے گئے،غسل کیا اور جب دوبارہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2580

۔ (۲۵۸۰) عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ قِتَالٌ بَیْنَ بَنِی عَمْرِو ابْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَاھُمْ بَعْدَ الظُّہْرِ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ وَقَالَ: ((یَا بِلَالُ! اِنْ حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ أَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ أَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ) ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ فَتَقَدَّمَ بِہِمْ وَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ مَا دَخَلَ أَبُوْبَکْرٍ فِی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا رَأَوْہُ صَفَّحُوا وَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَشُقُّ النَّاسَ حَتّٰی قَامَ خَلْفَ أَبِی بَکْرٍ، قَالَ: وَکَانَ أَبُوْبَکْرٍ اِذَا دَخَلَ الصَّلَاۃَ لَمْ یَلْتَفِتْ فَلَمَّا رَأَی التَّصْفِیْحَ لَا یُمْسَکُ عَنْہُ، اِلْتَفَتَ فَرَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلْفَہُ فَأَوْمَأَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ أَنِ امْضِہْ فَقَامَ أَبُوْبَکْرٍ ھُنَیَّۃً، فَحَمِدَ لِلّٰہِ عَلٰی ذَلِکَ ثُمَّ مَشَی الْقَہْقرٰی، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاتَہُ قَالَ: ((یَا أَبَا بَکْرٍ! مَا مَنَعَکَ اِذْ أَوْمَأْتُ اِلَیْکَ أَنْ لَاتَکُوْنَ مَضَیْتَ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ أَنْ تَمْضِیَ‘‘ فِی صَلَاتِکَ؟)) قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: لَمْ یَکُنْ لِاِبْنِ أَبِی قُحَافَۃَ أَنْ یَؤُمَّ رَسُوْلَ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ فَقَالَ لِلنَّاسِ: ((اِذَا نَابَکُمْ فِی صَلَاتِکُمْ شَیْئٌ فَلْیُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْیُصَفِّحِ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ وَلْیُصَفِّقِ‘‘ النِّسَائُ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَأَنْتُمْ لِمَ صَفَّحْتُمْ؟)) قَالُوْا: لِنُعْلِمَ أَبَابَکْرٍ، قَالَ: ((اِنَّ التَّصْفِیْحَ لِلنِّسَائِ وَالتَّسْبِیْحَ لِلرِّجَالِ)) (مسند احمد: ۲۳۲۰۵)
سیّدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بنی عمرو بن عوف قبیلے کے ما بین کوئی لڑائی ہوگئی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کے بعد ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے ان کے پاس گئے اور فرمایا: بلال، اگر نماز کا وقت ہوجائے اور میں نہ پہنچ سکوں تو ابوبکر کو حکم دینا کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ جب عصر کا وقت ہوا تو سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اذان دی ،پھر اقامت کہی اور سیّدنا ابوبکر کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں۔ پس وہ آگے بڑھے (اور نماز شروع کی)، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف لے آئے، جب لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو تالیاں بجانا شروع کردیں، اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو چیرتے ہوئے آئے اور سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب نماز میں داخل ہوتے تو کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس دفعہ جب انھوں نے سوچا کہ تالیاں رک نہیں رہیں تو وہ پیچھے متوجہ ہوئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ نماز جاری رکھیں، سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھوڑی دیر تو ٹھہرے رہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہوئے الٹے پاؤں پیچھے ا ٓ گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے اورلوگوں کو نماز پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کی تو فرمایا: اے ابوبکر! جب میں نے تم کو اشارہ کر دیا تھا توتم کو نماز جاری رکھنے سے کس چیز نے روک دیا تھا؟ سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابن ابی قحافہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امامت کروائے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جب تم کو نماز میں کوئی امر لاحق ہو جائے تو مرودں کو سبحان اللہ کہنا چاہئے اورعورتوں کو تالی بجانا چاہئے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم نے تالیاں کیوں بجائی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہم ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو (آپ کی آمد کا) بتانا چاہتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2581

۔ (۲۵۸۱) عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطْلِبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی مَرَضِہٖ: ((مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ۔)) فَخَرَجَ أَبُوْبَکْرٍ فَکَبَّرَ، وَوَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاحَۃً فَخَرَجَ یُہَادٰی بَیْنَ رَجُلَیْنٍ، فَلَمَّا رَآہُ أَبُوْبَکْرٍ تَأَخَّرَ، فَأَشَارَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَانَکَ، ثُمَّ جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی جَنْبِ أَبِی بَکْرٍ فَاقْتَرَأَ مِنَ الْمَکَانِ الَّذِی بَلَغَ أَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنَ السُّوْرَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۵)
سیّدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پس سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکلے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کی، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ راحت محسوس ہوئی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی نکلے اور دو آدمیوں کے سہارے تشریف لے آئے، جب سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ کر ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے (بائیں)پہلو میں بیٹھ گئے اور سورت کے اس مقام سے قراء ت شروع کر دی، جہاں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2582

۔ (۲۵۸۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ وَجَدَ خِفَّۃً فَخَرَجَ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِہِ أَبُوْبَکْرٍ أَرَادَ أَنْ یَنْکُصَ فَأَوْمَأَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ اِلَی جَنْبِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ یَسَارِہِ وَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْآیَۃِ الَّتِی انْتَھٰی اِلَیْھَا أَبُوْبَکْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کریں، پھر ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے راحت محسوس کی، اس لیے (مسجد میں) تشریف لے آئے، جب سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو انھوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا (کہ وہ اپنے مقام پر ہی رہیں)۔ پھر آپ آئے اور سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے اور اس آیت سے تلاوت شروع کر دی، جہاں سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2583

۔ (۲۵۸۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی جَلَسَ، قَالَ وَقَامَ أَبُوْبَکْرٍ عَنْ یَمِیْنِہِ وَکَانَ أَبُوْبَکْرٍ یَأْتَمُّ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالنَّاسُ یَأْتَمُّوْنَ بِأَبِی بَکْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْقِرَائَۃِ مِنْ حَیْثُ بَلَغَ أَبُوْبَکْرٍ، وَمَاتَ فِی مَرَضِہِ ذَاکَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ۔ (مسند احمد: ۳۳۵۵)
(دوسری سند)پھرنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دائیں جانب کھڑے رہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اور لوگ اُن کی اقتدا کر نے لگے۔ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں سے قراء ت شروع کی، جہاں سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی بیماری میں فوت ہو گئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2584

۔ (۲۵۸۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ یَدَیْ أَبِی بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَأَبُوْبَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ وَالنَّاسُ خَلْفَہُ (وَفِی لَفْظٍ) کَانَ أَبُوْبَکْرٍ یَأْتَمُّ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالنَّاسُ یَأْ تَمُّوْنَ بِأَبِی بَکْرٍ۔ (مسند احمد: انظر: ۲۶۶۴۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرض
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2585

۔ (۲۵۸۵) عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِکٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِی رَمَضَانَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَہُ، قَالَ: وَجَائَ رَجُلٌ فَقَامَ اِلٰی جَنْبِی، ثُمَّ جَائَ آخَرُ حَتّٰی کُنَّا رَھْطًا، فَلَمَّا أَحَسَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّا خَلْفَہُ تَجَوَّزَ فِیْ الصَّلَاۃِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ فَصَلّٰی صَلَاۃً لَمْ یُصَلِّہَا عِنْدَنَا، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفَطِنْتَ بِنَا اللَّیْلَۃَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَذَاکَ الَّذِی حَمَلَنِی عَلَی الَّذِی صَنَعْتُ،…۔)) الحدیث۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے، میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا،پھر ایک اور آدمی آیا اور وہ میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا، اتنے میں ایک اور آدمی آ گیا حتیٰ کہ ہم ایک جماعت بن گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا کہ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہیں تو آپ نے نماز کو مختصر کر دیااور جب فارغ ہوئے تو گھر چلے گئے اور اس طرح کی اچھی نماز تو پڑھی، کہ وہ ہمارے پاس نہ پڑھی۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا رات کو آپ کو ہمارے بارے میں پتہ چل گیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اور اسی امر نے مجھے اس چیز پر آمادہ کیا ، جو میں نے کی، …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2586

۔ (۲۵۸۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ الْوَلِیْدَ بْنَ عُقْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلَاۃَ مَرَّۃً فَقَامَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاۃِ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ فَأَرْسَلَ اِلَیْہِ الْوَلِیْدُ: مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ أَجَائَ کَ مِنْ أَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ أَمْرٌ فِیْمَا فَعَلْتَ أَمِ ابْتَدَعْتَ؟ قَالَ: لَمْ یَاتِنِی أَمْرٌ مِنْ أَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَلَمْ أَبْتَدِعْ، وَلٰکِنْ أَبَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہُ أَنْ نَنْتَظِرَکَ بِصَلَاتِنَا وَأَنْتَ فِی حَاجَتِکَ۔ (مسند احمد: ۴۲۹۸)
ایک دفعہ ولید بن عقبہ نے نماز کو مؤخر کیا، سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے، نماز کے لیے اقامت کہی اور لوگوں کو نماز پڑھا دی، ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا: کس چیز نے تم کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا، کیا امیر المؤمنین (سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کی طرف سے کوئی حکم ملا ہے یا تم نے خود یہ نیا کام شروع کر دیا ہے؟ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہ مجھے امیر المؤمنین کا کوئی حکم موصول ہوا ہے اور نہ میں نے کوئی نیا کام شروع کیا ہے، بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس چیز کا انکار کرتے ہیں کہ ہم تیری نماز کا انتظار کرتے رہیں اور تو اپنے کام میں لگا رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2587

۔ (۲۵۸۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْمُ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی مِنْ صَلَاۃِ الظُّھْرِ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ وَقْعَ قَدَمٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۵۹)
سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ ظہر میں پہلی رکعت (کا قیام لمبا کر کے اس) میں کھڑے رہتے حتیٰ کہ کسی کے قدموں کی آواز نہ سنتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2588

۔ (۲۵۸۸) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتْ صَلَاۃُ الظُّہْرِ تُقَامُ فَیَنْطَلِقُ أَحدُنَا اِلَی الْبَقِیْعِ فَیَقْضِیْ حَاجَتَہُ ثُمَّ یَأْتِی فَیَتَوَضَّأُ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی۔ (مسند احمد: ۱۱۳۲۷)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ظہر کی نماز کھڑی ہو جاتی اور ہم میں سے ایک آدمی بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، پھر (گھر آ کر) وضو کرتا، پھر جب وہ مسجد کی طرف آتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی تک پہلی رکعت میں ہی ہوتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2589

۔ (۲۵۸۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَؤُمُّنَا یَقْرأُ بِنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ مِنْ صَلَاۃِ الظُّھْرِ وَیُسْمِعُنَا الْآیَۃَ أَحْیَانًا وَیُطَوِّلُ فِی الْأُوْلٰی وَیُقَصِّرَ فِی الثَّانِیَۃِ، وَکَانَ یَفْعَلُ ذَالِکَ فِی صَلَاۃِ الصُّبْحِ، یُطَوِّلُ الْأُوْلٰی وَیُقَصِّرُ الثَّانِیَۃَ، وَکَانَ یَقْرَأُ بِنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۸۷)
سیّدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں امامت کرواتے، ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قراء ت کرتے اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت بھی سنا دیتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلی رکعت کو لمبا اور دوسری رکعت کو مختصر کرتے، نماز فجر میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہی عادت تھی کہ پہلی رکعت کو طویل اور دوسری کو مختصر کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قراء ت کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2590

۔ (۲۵۹۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اِشْتَکٰی أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوْ غَابَ فَصَلّٰی بِنَا أَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَجَہَرَ بِالتَّکْبِیْرِ حِیْنَ افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَحِیْنَ رَکَعَ وَحِیْنَ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَحِیْنَ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ وَحِیْنَ سَجَدَ وَحِیْنَ قَامَ بَیْنَ الرَّکْعَتَیْنِ حَتّٰی قَضٰی صَلَاتَہُ عَلٰی ذٰلِکَ، فَلَمَّاصَلّٰی قِیْلَ لَہُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلٰی صَلَاتِکَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَیُّھَا النَّاسُ! وَاللّٰہِ! مَا أُبَالِی اخْتَلَفَتْ صَلَاتُکُمْ أَوْلَمْ تَخْتَلِفْ، ھٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۵۷)
سعید بن الحارث کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار ہوگئے یا ویسے غائب تھے، اس لیے سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدوں سے سر اٹھاتے وقت، سجدے کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا۔ جب انھوں نے اس طریقے پر نماز مکمل کی تو کسی نے کہا: لوگ تمہاری نماز سے اختلاف کر رہے ہیں، (یہ سن کر) وہ تشریف لائے اور منبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا: لوگو! اللہ کی قسم! مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیںہے کہ تمہاری نماز اس سے مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2591

۔ (۲۵۹۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِشْتَکٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّیْنَا وَرَائَ ہُ وَھُوَ قَاعِدٌ وَأَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُکَبِّرُ یُسْمِعُ النَّاسَ تَکْبِیْرَہُ، …۔ الحدیث۔ (مسند احمد: ۱۴۶۴۴)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوگئے تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تکبیر کہتے اور لوگوں کو اپنی تکبیر کی آواز سناتے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2592

۔ (۲۵۹۲) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلًا یُصَلِّیْ فَقَالَ: ((أَلَا رَجُلٌ یَتَصَدَّقُ عَلٰی ھٰذَا فَیُصَلِّی مَعَہُ۔)) فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلّٰی مَعَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَانِ جَمَاعَۃٌ)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۲)
سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو اکیلا نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کیاکوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔پس ایک آدمی اٹھا اور اس کے ساتھ نماز پڑھی، پھر
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2593

۔ (۲۵۹۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بِتُّ لَیْلَۃً عِنْدَ خَالَتِی مَیْمُوْنَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَھَا فِیْ لَیْلَتِھَا، فَقَامَ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ، فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ لِأُصَلِّیَ بِصَلَاتِہِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِذُؤَابَۃٍ کَانَتْ لِیْ أَوْ بِرَأْسِیْ حَتّٰی جَعَلَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۴۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس رات گزاری،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس رات ان ہی کے پاس تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تاکہ آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر کے بالوں کو یا میرے سرکو پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2594

۔ (۲۵۹۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلّٰی وَأَیْقَظَ امْرَأَتَہُ فَصَلَّتْ، فَاِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِی وَجْہِہَا الْمَائَ، وَرَحِمَ اللّٰہَ امْرَأَۃً قَامَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّتْ وَأَیْقَظَتْ زَوْجَہَا فَصَلّٰی، فَاِنْ أَبٰی نَضَحَتْ فِی وَجْہِہِ الْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۷۴۰۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو رات کو کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتاہے اور وہ بھی نماز پڑھتی ہے۔ اگر وہ اٹھنے سے انکار کرتی ہے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے جو رات کو اٹھتی ہے اور نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بھی جگاتی ہے اور وہ بھی نماز پڑھتا ہے، اگر وہ اٹھنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس کے منہ پر چھینٹے مارتی ہے ۔

آیت نمبر