MUSNAD AHMED

Search Results(1)

49)

49) امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2615

۔ (۲۶۱۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یُصَلِّی فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ فَجَذَبَنِی فَجَرَّنِی، فَأَقَامَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ فَصَلّٰی ثَـلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً قِیَامُہُ فِیْھِنَّ سَوَائٌ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگ گئے، میں بھی اٹھا، وضو کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کھینچا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قیام برابر برابر رہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2616

۔ (۲۶۱۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ فَصَلَّیْتُ خَلْفَہُ فَأَخَذَ بِیَدِی فَجَرَّنِی فَجَعَلَنِی حِذَائَ ہُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی صَلَاتِہِ خَنَسْتُ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِیْ: ((مَاشَأْنِیْ أَجْعَلُکَ حِذَائِی فَتَخْنِسُ؟)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَوَ یَنْبَغِی لِأَحَدٍ أَنْ یُصَلِّیَ حِذَائَ کَ وَأَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ الَّذِی أَعْطَاکَ اللّٰہُ، قَالَ: فَأَعْجَبْتُہٗ، فَدَعَا اللّٰہَ لِی أَنْ یَزِیْدَنِی عِلْمًا وَفَہْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَامَ حَتّٰی سَمِعْتُہٗ یَنْفُخُ ثُمَّ أَتَاہُ بِلَالٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الصَّلَاۃَ، فَقَامَ فَصَلّٰی، مَا أَعَادَ وُضُوئًا۔ (مسند احمد: ۳۰۶۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس رات کے آخری حصے میں آیا آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھینچ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز میں متوجہ ہوگئے تو میں تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی اور جب فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا: کیا بات ہے،میں تجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر رہا تھا اور تو پیچھے ہٹ رہا تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کسی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھے، حالانکہ آپ تو اللہ کے وہ رسول ہیں،جن کو اللہ تعالیٰ نے (بہت کچھ) عطا کیا۔ میں نے یہ بات کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تعجب میں ڈال دیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے دعا کی اللہ تعالیٰ مجھے علم وفہم میں زیادہ کر دے، پھر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ سو گئے ہیں، حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھرسیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اورکہا: اے اللہ کے رسول! نماز ، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2617

۔ (۲۶۱۷) عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَأَلْتُ اِبْرَاھِیْمَ عَنِ الرَّجُلِ یُصَلِّی مَعَ الْاِمَامِ، فَقَالَ: یَقُوْمُ عَنْ یَسَارِہِ، فَقُلْتُ حَدَّثَنِی سُمِیْعُ نِ الزَّیَّاتُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقَامَہُ عَنْ یَمِیْنِہِ، فَأَخَذَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۳۳۵۹)
اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو امام کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، انھوں نے کہا: وہ امام کی بائیں جانب کھڑا ہوگا۔ میں نے کہا: مجھے تو سُمیع زیات نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ پھر ابراہیم نے اس حدیث کو تسلیم کر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2618

۔ (۲۶۱۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ، خَالَفَ بَیْنَ طَرَفَیْہِ، فَقُمْتُ خَلْفَہُ فَأَخَذَ بِأُذُنِی فَجَعَلَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۴۹)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور وہ اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کیے ہوئے تھے۔ میں (نماز پڑھنے کے لیے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کان سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2619

۔ (۲۶۱۹) عَنْ جَبَّارِ بْنِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ یُصَلِّی، قَالَ: فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ فَأَخَذَی بِیَدِی فَحَوَّلَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ فَصَلَّیْنَا فَلَمْ یَلْبَثْ یَسِیْرًا أَنْ جَائَ النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۰)
سیّدنا جبار بن صخر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے پھیر کر اپنی دائیں جانب کردیا، اور ہم نماز پڑھنے لگے، ابھی تھوڑی دیر بھی نہیں گزری تھی کہ لوگ بھی آگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2620

۔ (۲۶۲۰) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی وَأَنَا بِاِزَائِہٖ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۳۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2621

۔ (۲۶۲۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ یُفْرَشُ لِی حِیَالَ مُصَلَّی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ یُصَلِّی وَأَنَا حِیَالَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۶۹)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جائے نماز کے سامنے میرے لیے کوئی چیز بچھائی جاتی ، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2622

۔ (۲۶۲۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الْمَغْرِبَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ اِلَی جَنْبِہِ عَنْ یَسَارِہِ فَنَھَانِی فَجَعَلَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ فَجَائَ صَاحِبٌ لِیْ فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَیْنَ طَرَفَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۵۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے، میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے روکا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا، پھر میرا ایک اور ساتھی آگیا، اس لیے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صف بنا لی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک کپڑے میں تھے، جس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کی مخالف سمت میں تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2623

۔ (۲۶۲۳) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَۃُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ بِالْھَاجِرَۃِ فَلَمَّا مَالَتِ الشَّمْسُ أَقَامَ الصَّلَاۃَ وَقُمْنَا خَلْفَہُ، فَأَخَذَ بِیَدِیْ وَبِیَدِ صَاحِبِیْ فَجَعَلَنَا عَنْ نَاحِیَتَیْہِ وَقَامَ بَیْنَنَا، ثُمَّ قَالَ: ھٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ اِذَا کَانُوْا ثَـلَاثَۃً، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: اِنَّہَا سَتَکُوْنُ أَئِمَّۃٌ یُؤَخِّرُوْنَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیْتِہَا فَـلَا تَنْتَظِرُوْھُمْ بِہَا وَاجْعَلُوْا الصَّلَاۃَ مَعَہُمْ سُبْحَۃً۔ (مسند احمد: ۴۳۴۷)
اسود کہتے ہیں: میں اور علقمہ دوپہر کے وقت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، جب سورج ڈھلا تو انھوں نے نماز کھڑی کی اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے،لیکن انھوں نے میرا اور میرے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں اپنی دونوں طرف کھڑا کرلیا اور خود ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے، پھر کہا: جب تین لوگ ہوتے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور فارغ ہونے کے بعد کہا: عنقریب ایسے ائمہ ہوں گے جو نمازوں کوان کے اوقات سے مؤخر کردیں گے، پس تم ان کا انتظار نہ کرنا، (اور وقت پر نماز پڑھ لینا) ا ور اس کے بعد ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفلی بنا لینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2624

۔ (۲۶۲۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اِبْرَاھِیْمَ أَنَّ الْأَسْوَدَ وَعَلْقَمَۃَ کَانَا مَعَ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) فِی الدَّارِ فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: أَصَلّٰی ھٰؤُلَائِ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلّٰی بِہِمْ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ وَقَامَ وَسَطَہُمْ وَقَالَ: اِذَا کُنْتُمْ ثَـلَاثَۃً فَاصْنَعُوا ھٰکَذَا، فَاِذَا کُنْتُمْ أَکْثَرَ فَلْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَضَعْ أَحَدُکُمْ یَدَیْہِ بَیْنَ فَخِذَیْہِ اِذَا رَکَعَ فَلْیَحْنَأْ فَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ اِلٰی اخْتِلَافِ أَصَابِِعِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۲۷۲)
(دوسری سند) اسود اور علقمہ دونوں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں تھے، انھوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھائی اور وہ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: جب تم تین لوگ ہو تو اس طرح کیا کرو اور جب زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امامت کروائے (اور آگے کھڑا ہو)، جب کوئی رکوع کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں کے درمیان رکھے اور رکوع کے لیے جھکے، میں اب بھی گویا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے مختلف ہونے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2625

۔ (۲۶۲۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَائِشَۃُ خَلْفَنَا وَأَنَا اِلٰی جَنْبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُصَلِّیْ مَعَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۱)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہمارے پیچھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں کھڑا تھا اور آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2626

۔ (۲۶۲۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَیْتِ أُمِّ حَرَامٍ فَأَقَامَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا۔ (مسند احمد: ۱۳۱۴۹)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر میں نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا اور سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہمارے پیچھے کھڑی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2627

۔ (۲۶۲۷) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمٍ قَالَ: قَالَ أَبُوْ مَالِکٍ الْأَشْعَرَیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لِقَوْمِہِ: أَلَا أُصَلِّیْ لَکُمْ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَفَّ الْرِّجَالَ ثُمَّ صَفَّ الْوِلْدَانَ ثُمَّ صَفَّ النِّسَائَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۸۴)
سیّدنا ابومالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انھوں نے مردوں کی صف بنائی، اس کے بعد بچوں کی اور بچوں کے پیچھے عورتوںکی صف بنائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2628

۔ (۲۶۲۸) عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ عَمِّہٖ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّیْتُ أَنَا وَیَتِیْمٌ کَانَ عِنْدَنَا فِی الْبَیْتِ وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً فِی بَیْتِنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَتَاھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی دَارِھِمْ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَیْمٍ خَلْفَنَا۔ (مسند احمد: ۱۲۱۰۵)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں اور یتیم، جو ہمارے گھر میں رہتا تھا، نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے اور سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی، اس موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے گھر آئے ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2629

۔ (۲۶۲۹) عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ جَدَّتَہُ مُلَیْکَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا دَعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَتْہُ فَأَکَلَ مِنْہُ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُوْمُوْا فَلِأُصَلِّیَ لَکُمْ۔)) قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ اِلٰی حَصِیْرٍ لَّنَا، قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُوْلِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُہُ بِمَائٍ فَقَامَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُمْتُ أَنَا وَالْیَتِیْمُ وَرَائَ ہُ وَالْعَجُوْزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۳۵)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری دادی سیدہ ملیکہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے لیے گھر میں بلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانا کھانے کے بعد فرمایا: اٹھو، میں تم کو نماز پڑھا تا ہوں۔ میں ایک چٹائی لانے کے لیے اٹھا، جو لمبے عرصہ تک استعمال کیے جانے کی وجہ سے سیاہ ہو گئی تھی، اس لیے میں نے اس پر پانی کے چھینٹے مارے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں اور یتیم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس چلے گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2630

۔ (۲۶۳۰) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَطَوُّعًا، قَالَ: فَقَامَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا قَالَ ثَابِتٌ لَا أَعْلَمُہُ اِلَّا قَالَ وَأَقَامَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ فَصَلَّیْنَا عَلٰی بِسَاطٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۵۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نفلی نماز پڑھائی، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں اور مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، ہم نے ایک چٹائی پر نماز پڑھی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2631

۔ (۲۶۳۱) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ أَوَّلَ یَوْمٍ وُضِعَ فَکَبَّرَ وَھُوَ عَلَیْہِ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَہْقَرٰی فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَہُ، ثُمَّ عَادَ حَتّٰی فَرَغَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّمَا فَعَلْتُ ھٰذَا لِتَأْتَمُّوا بِیْ وَلِتَعَلَّمُوْا صَلَاتِی۔)) فَقِیْلَ لِسَہْلٍ: ھَلْ کَانَ مِنْ شَأْنِ الْجِذْعِ مَا یَقُوْلُ النَّاسُ؟ قَالَ: قَدْ کَانَ مِنْہُ الَّذِی کَانَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۵۹)
سیّدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جس دن منبر بنایا گیا تھا، اسی دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہا، پھر رکوع کیا، پھر الٹے پاؤں نیچے اتر آئے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لے گئے، پھر نیچے لوٹ آئے، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو گئے اور فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تا کہ تم میری اقتداء کرواور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو۔ کسی نے سیّدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: وہ تنے کا کیا معاملہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں بعض باتیں کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی، اس کے بارے میں جو بیان کیا جاتا، وہ واقعی ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2632

۔ (۲۶۳۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِیَلِیَنِّیْ مِنْکُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّھٰی، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ، وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ، وَاِیَّاکُمْ وَھَوْشَاتِ الْأَسْوَاقِ۔)) (مسند احمد: ۴۳۷۳)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں، اور( صفیں بنانے میں) ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے مخالف ہوجائیں گے، اوربازاروں کے اختلاط اور فتنوں سے بچا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2633

۔ (۲۶۳۳) عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَخْبَرَۃَ الْأَزْدِیِّ عَنْ أَبِی مَسْعُوْدِ نِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ مَنَاکِبَنَا فِی الصَّلَاۃِ وَیَقُوْلُ: ((اِسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ، لِیَلِیَنِّیْ مِنْکُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّھٰی، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ۔)) قَالَ أَبُوْ مَسْعُوْدٍ فَأَنْتُمْ الْیَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا۔ (مسند احمد: ۱۷۲۳۱)
سیّدنا ابومسعودانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے (صف بناتے وقت) ہمارے کندھوں کوچھوتے اور فرماتے: برابر ہو جاؤ اور مختلف ہو کر کھڑے نہ ہو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے سے مختلف ہوجائیں گے، تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں۔ سیّدنا ابومسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: (لوگو!) آج تم اسی وجہ سے بہت زیادہ اختلاف کا شکار ہوگئے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2634

۔ (۲۶۳۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحِبُّ أَنْ یَلِیَہُ الْمُہَاجِرُوْنَ وَالْأَنْصَارُ فِی الصَّلَاۃِ لِیَأْخُذُوا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۹۵)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ مہاجر اور انصار نماز میں آپ کے قریب کھڑے ہوں تاکہ وہ آپ سے (علم و عمل) حاصل کر سکیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2635

۔ (۲۶۳۵) عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: أَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ لِلِقَائِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَکُنْ فِیْہِمْ رَجُلٌ أَلْقَاہُ أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ أُبِیٍّ فَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَخَرَجَ عُمَرُ مَعَ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُمْتُ فِی الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَجَائَ رَجُلٌ فَنَظَرَ فِی وُجُوْہِ الْقَوْمِ فَعَرَفَہُمْ غَیْرِی فَنَحَّانِی وَقَامَ فِی مَکَانِی، فَمَا عَقَلْتُ صَلَاتِی، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: یَا بُنَیَّ! لَا یَسُوْؤُکَ اللّٰہَ، فَاِنِّی لَمْ آتِکَ الَّذِی أَتَیْتُکَ بِجَہَالَۃٍ وَلٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَنَا: ((کُونُوا فِی الصَّفِّ الَّذِی یَلِیْنِیْ۔)) وَاِنِّی نَظَرْتُ فِی وُجُوْہِ الْقَوْمِ فَعَرَفْتُہُمْ غَیْرَکَ، ثُمَّ حَدَّثَ فَمَا رَأَیْتُ الرِّجَالَ مَتَحَتْ أَعْنَاقُہَا اِلٰی شَیْئٍ مُتُوْحَہَا اِلَیْہِ، قَالَ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ھَلَکَ أَھْلُ الْعُقْدَۃِ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ! أَلَا لَا عَلَیْھِمْ آسٰی وَلٰکِنْ آسٰی عَلٰی مَنْ یَھْلِکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، وَاِذَا ھُوَ أُبِیٌّ، وَالْحَدِیْثُ عَلٰی لَفْظِ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۸۵)
قیس بن عباد کہتے ہیں: میں محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو ملنے کے لیے مدینہ آیا، میں جن آدمیوں کو ملنا چاہتا تھا، ان میں مجھے سب سے زیادہ محبوب سیّدنا اُبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دوسرے صحابہ کے ساتھ باہر تشریف لائے۔ میں پہلی صف میں کھڑا تھا، ایک آدمی آیا، اس نے لوگوںکے چہروں پر نگاہ ڈالی اور میرے علاوہ سب کو پہچان لیا، اس نے مجھے پیچھے ہٹا دیا اور خود میری جگہ پر کھڑا ہوگیا، میں(غصے کی وجہ سے) اپنی نماز کو نہ سمجھ سکا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس نے مجھے کہا: میرے پیارے بیٹے! اللہ تجھے برا نہ کرے۔ میں نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ جہالت کی وجہ سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: ا س صف میں کھڑے ہوا کرو جو میرے قریب ہے۔ میں نے لوگوں کے چہرے دیکھے، میں تیرے علاوہ ان سب کو پہچانتا تھا، ( اس لیے تجھے پیچھے کر دیا)۔ پھر وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے لگے، میں نے لوگوں کو جس انداز میں ان کی بات کی طرف گردنیں لمبی کرتے ہوئے دیکھا، پہلے یہ انداز نہیں دیکھا تھا، انھوں نے اپنے وعظ میں یہ بھی کہا تھا: ربّ ِ کعبہ کی قسم! بیعت لینے والے (امرائ) ہلاک ہو گئے ہیں،
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2636

۔ (۲۶۳۶) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی مَا یُکَفِّرُ اللّٰہُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَزِیْدُ بِہِ فِی الْحَسَنَاتِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ عَلَی الْمَکَارِہِ وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلٰی ھٰذِہِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ، مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ مُتَطَہِّرًا فَیُصَلِّیْ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فِی الْمَجْلِسِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ الْأُخْرٰی اِلَّا الْمَلَائِکَۃُ تَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ، فَاِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَاعْدِلُوْا صُفُوْفَکُمْ وَأَقِیْمُوْھَا وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَاِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی، فَاِذَا قَالَ اِمَامُکُمُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، فَقُوْلُوْا اَللّٰہُ أَکْبَرُ، وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا، وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ، وَاِنَّ خَیْرَ صُفُوْفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرَّھَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَیْرَ صُفُوْفِ النِّسَائِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرَّھَا الْمُقَدَّمُ، یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ! اِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَکُنَّ لَا تَرَیْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِیْقِ الْأُزُرِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۰۷)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے امور کی طرف نہ کروں کہ اللہ جن کے ذریعے خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ناپسندیدگیوں کے باوجود مکمل وضو کرنا، اِن مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر آنا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو آدمی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلتا ہے اورمسلمانوں کے ساتھ ایک نماز ادا کر کے اُسی جائے نماز میںدوسری نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہے، تو فرشتے اس کے لیے یہ دعا کرتے ہیں: اے اللہ!اس کو معاف کر دے، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو برابر اور سیدھا کیا کرو اور شگافوں کو پر کر دیا کرو، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو،جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اورجب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔بے شک مرودں کی بہترین صف اگلی صف ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بہترین صف پچھلی ہے اور ان کی بری صف اگلی صف ہے، اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظریں نیچی رکھا کرو ، تاکہ ان کے ازار چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2637

۔ (۲۶۳۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّھَا الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّ صُفُوْفِ النِّسَائِ الْمُقَدَّمُ وَخَیْرُھَا الْمُؤَخَّرُ۔)) (مسند احمد: ۸۴۰۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوں کی بہترین صف اگلی ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بری ترین صف اگلی ہے اور ان کی بہترین صف پچھلی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2638

۔ (۲۶۳۸) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَزَادَ: ثُمَّ قَالَ: ((یَامَعْشَرَ النِّسَائِ اِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَکُنَّ لَا تَرَیْنَ عَوْ َراتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِیْقِ الْأُزُرِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۶۹)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظروں کو نیچا رکھا کرو، تاکہ مردوں کے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2639

۔ (۲۶۳۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا الصَّفَّ فِی الصَّلَاۃِ فَاِنَّ اِقَامَۃَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۴۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز میں صف کو سیدھا اور برابر کرو، پس بے شک صف کا سیدھا اور برابر کرنا نماز کی خوبصورتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2640

۔ (۲۶۴۰) عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ جَائَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَقُلْنَا لَہُ: مَا أَنْکَرْتَ مِنْ عَھْدِ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: مَا أَنْکَرْتُ مِنْکُمْ شَیْئًا غَیْرَ أَنَّکُمْ لَا تُقِیْمُوْنَ صُفُوْفَکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۴۸)
بشیر بن یسار کہتے ہیں: سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (بصرہ سے) مدینہ منورہ تشریف لائے، ہم نے ان سے کہا: آپ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے کی بہ نسبت کون سی چیز عجیب اور نئی لگ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میں تمہارے اندر کسی چیز کو عجیب محسوس نہیں کر رہا، البتہ یہ چیز ہے کہ تم اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر نہیں کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2641

۔ (۲۶۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْبِلُ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ فَیَقُوْلُ: ((تَرَاصُّوْا (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ وَتَرَاصُّوا) وَاعْتَدِلُوْا فَاِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی)) (مسند احمد: ۱۳۴۲۹)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتے اورفرماتے: آپس میں مضبوطی سے مل جاؤ، (اور ایک روایت میں ہے: اپنی صفوں کو سیدھا کرلو، اور آپس میں مل جاؤ) اور برابر ہو جاؤ ، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2642

۔ (۲۶۴۲) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَوِّیْنَا فِی الصُّفُوْفِ کَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ حَتّٰی اِذَا ظَنَّ أَنَّا أَخَذْنَا ذٰلِکَ عَنْہُ وَفَہِمْنَاہُ أَقْبَلَ ذَاتَ یَوْمٍ بِوَجْہِہِ فَاِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِہِ، فَقَالَ: ((لَتُسَوُّنَّ صُفُوْفَکُمْ أَوْ لَیُخَالِفَنَّ اللّٰہُ بَیْنَ وُجُوْھِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۱۸)
سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں صفوں میں ایسے سیدھا کرتے، جیسے تیروں کی لکڑیوں کو سیدھا کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ گمان کر لیا کہ ہم نے آپ سے یہ تعلیم حاصل کر لی ہے اور ہم اس طریقے کو سمجھ گئے ہیں، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ آگے کو نکلا ہوا تھا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے، یا پھراللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے مخالفت ڈال دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2643

۔ (۲۶۴۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَصْحَابِہِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ: تَقَدَّمُوْا فَأْتَمُّوا بِیْ، وَلْیَأْتَمَّ بِکُمْ مَنْ بَعْدَکُمْ، لَا یَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُوْنَ حَتّٰی یُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۱۲)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ میں (خواہ مخوہ کی) تاخیر دیکھی اورفرمایا: آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری اقتداء کریں۔ (متنبہ رہو کہ) لوگ پیچھے ہٹتے رہتے ہیں، حتی کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت والے دن پیچھے کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2644

۔ (۲۶۴۴) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِیْنَا اِذَا قُمْنَا اِلَی الصَّلَاۃِ فَیَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا أَوْ صُدُورَنَا وَکَانَ یَقُوْلُ: ((لَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ۔)) وَکَانَ یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوِ الصُّفُوْفِ الْأُوَلِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۲۴)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس آتے اور ہمارے کندھوں یا سینوں کو چھوتے اور فرماتے: (اس معاملے میں) اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے لیے مخالف ہو جائیں گے۔ اور یہ فرماتے تھے: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2645

۔ (۲۶۴۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ: ((مَا لِی أَرَاکُمْ رَافِعِی أَیْدِیْکُمْ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ، اُسْکُنُوا فِی الصَّلَاۃِ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَرَآنَا حِلَقًا فَقَالَ: ((مَا لِی أَرَاکُمْ عِزِیْنَ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((أَلا تَصُفُّوْنَ کَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِکَۃُ عِنْدَ رَبِّہَا؟)) قَالَ: قَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِکَۃُ عِنْدَ رَبِّھَا؟ قَالَ: ((یُتِمُّوْنَ الصُّفُوْفَ الْأُوْلٰی وَیَتَرَاصُّوْنَ فِی الصَّفِّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۳۷)
سیّدنا جابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے ہاتھوں کو اس طرح اٹھاتے ہو، جیسے یہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون اختیار کرو۔ پھر ایک دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں گروہوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم مختلف گروہوں کی صورت میں ہو؟ پھر ایک دفعہ آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناتے، جیسے فرشتے اپنے رب کے پاس بناتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صفیں بناتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں آپس میں مضبوطی کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2646

۔ (۲۵۴۶) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَتُسَوُّنَّ الصُّفُوْفَ أَوْ لَتُطْمَسَنَّ وُجُوْھُکُمْ وَلَتُغْمِضُنَّ أَبْصَارَکُمْ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُکُمْ)) (مسند احمد: ۲۲۵۷۸)
سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے یا پھر تمہارے چہروں کی صورتیں تبدیل کر دی جائیں گی اور تم ضرور اپنی آنکھوں کو بند کر و یا تمہاری آنکھوں کو ضرور اچک لیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2647

۔ (۲۶۴۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَقِیْمُوا الصُّفُوْفَ فَاِنَّمَا تَصُفُّوْنَ بِصُفُوْفِ الْمَلَائِکَۃِ وَحَاذُوا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِینُوا فِی أَیْدِی اِخْوَانِکُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّیْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۵۷۲۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، (خیال تو کرو کہ) تم نے فرشتوں کی صفوں کی طرح صفیں بنانی ہیں، اپنے کندھوں کو برابر رکھو، خالی جگہوں کو پر کردو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو او رشیطان کے لیے کوئی خالی جگہ نہ چھوڑو۔ (یاد رکھو کہ) جس نے صف کو ملایا اللہ اس کو (اپنے فضل اور رحمت سے) ملائے گا، اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اس کو (اپنی رحمت سے)کاٹ دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2648

۔ (۲۶۴۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رُصُّوا صُفُوْفَکُمْ وَقَارِبُوْا بَیْنَہَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! اِنِّی لَأَرَی الشَّیَاطِیْنَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصُّفُوْفِ کَأَنَّہَا الْحَذَفُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۷۱)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو ملاؤ ، ان کو قریب قریب کرو اور گرد نوں کو (ایک سیدھ میں) برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے! بے شک میں شیطانوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے درمیان خالی جگہوں میں یوں گھستے ہیں، جیسے وہ بغیر بالوں کے کالی بھیڑیں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2649

۔ (۲۶۴۹) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ لَا یَتَخَلَّلُکُمْ کَأَوْلَادِ الْحَذَفِ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا أَوْلَادُ الْحَذَفِ؟ قَالَ: ((سُودٌ جُرْدٌ تَکُوْنُ بِأَرْضِ الْیَمَنِ)) (مسند احمد: ۱۸۸۲۱)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کیا کرو، شیطان حَذَف کی اولاد کی طرح تمہارے اندر نہ گھسنے پائے ۔کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! حَذَف کی اولاد سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سیاہ رنگ کی بھیڑیں ہوتی ہیں، ان کے بال نہیں ہوتے اوریہ یمن کے علاقے میں پائی جاتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2650

۔ (۲۶۵۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اِنِّی أَنْظُرُ أَوْ اِنِّی لَأَنْظُرُ مَا وَرَائِی کَمَا أَنْظُرُ اِلٰی مَا بَیْنَ یَدَیَّ، فَسَوُّوا صُفُوْفَکُمْ وَأَحْسِنُوا رُکُوْعَکُمْ وَسُجُوْدَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۷۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میں اپنے پیچھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں، جیسے اپنے آگے دیکھتا ہوں، اس لیے اپنی صفوں کو سیدھا رکھا کرو اوررکوع و سجود کو اچھے انداز میں ادا کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2651

۔ (۲۶۵۱) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَحْسِنُوا اِقَامَۃَ الصُّفُوْفِ فِی الصَّلَاۃِ، خَیْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ فِی الصَّلَاۃِ أَوَّلُھَا، وَشَرُّھَا آخِرُھَا، وَخَیْرُ صُفُوْفِ النِّسَائِ فِی الصَّلَاۃِ آخِرُھَا، وَشَرُّھَا أَوَّلُھَا)) (مسند احمد: ۱۰۲۹۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا: نماز میں صفوں کو اچھی طرح سیدھا رکھا کرو، نماز میں مردوں کی بہترین صف پہلی ہے او ران کی بدترین صف آخری ہے اور عورتوں کی نماز میں بہترین صف آخری ہے اور ان کی بد ترین صف پہلی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2652

۔ (۲۶۵۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَوُّوا (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَتِمُّوا) صُفُوفَکُمْ فَاِنَّ تَسْوِیَۃَ الصُّفُوْفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۴۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو برابر کرواور ((ایک روایت کے مطابق)) مکمل کرو،پس بے شک صفوں کو برابر کرنا نماز کی تکمیل میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2653

۔ (۲۶۵۳) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ فَاِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاۃِ اِقَامَۃَ الصَّفِّ)) (مسند احمد: ۱۳۹۳۹)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، بے شک صف کو سیدھا رکھنا نماز کی خوبصورتی میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2654

۔ (۲۶۵۴) عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: طَلَبْنَا عِلْمَ الْعُوْدِ الَّذِی فِی مَقَامِ الْاِمَامِ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلٰی أَحَدٍ یَذْکُرُ لَنَا فِیْہِ شَیْئًا، قَالَ مُصْعَبٌ: فَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ صَاحِبُ الْمَقْصُوْرَۃِ، فَقَالَ: جَلَسَ اِلَیَّ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَوْمًا فَقَالَ: ھَلْ تَدْرِی لِمَ صُنِعَ ھٰذَا؟ وَلَمْ أَسْأَلْہُ عَنْہُ، فَقُلْتُ: لَا وَاللّٰہِ لَا أَدْرِی لِمَ صُنِعَ۔ فَقَالَ أَنَسٌ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضَعُ عَلَیْہِ یَمِیْنَہُ ثُمَّ یَلْتَفِتُ اِلَیْنَا فَیَقُوْلُ: ((اِسْتَوُوْا وَاعْدِلُوا صُفُوفَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۰۴)
مصعب بن ثابت کہتے ہیں: امام کے مقام کے پاس ایک لکڑی تھی، ہم نے اس کی حقیقت کے بارے میں معلوم کرنا چاہا، لیکن ہمیں کوئی ایسا آدمی نہ ملا جو اس کے بارے میں کچھ بتلا سکے۔ پھر مقصورہ والے محمد بن مسلم نے مجھے بتلاتے ہوئے کہا: ایک دن سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس بیٹھے اور کہا: کیا تو جانتا ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی؟ حالانکہ میں اس کے بارے ان سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اس کو کیوں بنایا گیا۔ پھر سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِس پر اپنا ہاتھ رکھتے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2655

۔ (۲۶۵۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ ثُمَّ الَّذِی یَلِیْہِ، فَاِنْ کَانَ نَقْصٌ فَلْیَکُنْ فِی الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ)) (مسند احمد: ۱۳۴۷۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلی صف کو پہلے مکمل کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اگر کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2656

۔ (۲۶۵۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَمَلَائِکَتَہُ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ یَصِلُونَ الصُّفُوفَ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَۃً رَفَعَہُ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَۃً)) (مسند احمد: ۲۵۰۹۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں، جو صفوں کو ملاتے ہیں اور جو شخص صف کے خلا کو پر کرتا ہے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2657

۔ (۲۶۵۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی النِّدَائِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ یَجِدُوا اِلَّا أَنْ یَسْتَھِمُوا عَلَیْہِ لَااسْتَہَمُوا عَلَیْہِ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی التَّھْجِیْرِ لَاسْتَبَقُوا اِلَیْہِ، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِی الْعِشَائِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا۔)) (مسند احمد: ۷۲۲۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور پہلی صف کا ثواب کیا ہے تو پھر اگر وہ کوئی چارۂ کار نہ پائیں، سوائے قرعہ اندازی کے تو وہ قرعہ اندازی بھی کر دیں، اور اگر وہ جان لیں کہ ظہر کی نماز میں کتنا ثواب ہے تو وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ عشاء اور فجر کی نمازوں کا ثواب کیا ہے تو وہ ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2658

۔ (۲۶۵۸) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوِ الصُّفُوْفِ الْأُوْلَی)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۴)
سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صفوں (والوں) پر رحمت بھیجتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2659

۔ (۲۶۵۹) وَعَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْوُہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ عَلَی الصُّفُوفِ الْأُوَلِ (وَفِی لَفْظٍ) عَلَی الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۴۳)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ ان کی ایک روایت میں عَلَی الصُّفُوفِ الْأُوَلِ کے الفاظ اور دوسری روایت میں عَلَی الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ کے الفاظ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2660

۔ (۲۶۶۰) عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَـلَاثًا وَلِلثَّانِی مَرَّۃً۔ (مسند احمد: ۱۷۲۷۱)
سیّدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلی صف والوں کے لیے تین مرتبہ بخشش کی دعا کرتے اور دوسری صف والوں کے لیے ایک مرتبہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2661

۔ (۲۶۶۱) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلٰی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِکَۃِ وَلَوْ تَعْلَمُوْنَ فَضِیْلَتَہُ لَابْتَدَرْتُمُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۸)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلی صف فرشتوں کی صف جیسی ہے اورا گر تم کو اس کی فضیلت کا پتہ چل جائے تو تم اس کی طرف جلدی کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2662

۔ (۲۶۶۲) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ۔)) قَالُوا: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! وَعَلَی الثَّانِی۔ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ۔)) قَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَعَلَی الثَّانِی۔ قَالَ: ((وَعَلَی الثَّانِی۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَوُّا صُفُوفَکُمْ وَحَاذُوا بَیْنَ مَنَاکِبِکُمْ وَلِیْنُوْا فِی أَیْدِی اِخْوَانِکُمْ وَسُدُّوا الْخَلَلَ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ بَیْنَکُمْ بِمَنْزِلَۃِ الْحَذَفِ۔)) یَعْنِی أَوْلَادَ الضَّأْنِ الصِّغَارِ۔ (مسند احمد: )))
سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور دوسری صف والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں ۔ صحابہ نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! اور دوسری صف والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوسری صف والوں پر بھی۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، کندھوں کو برابر رکھو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو اور صف کے خلا کو پر کرو، پس بے شک شیطان بھیڑ کے چھوٹے بچوں کی طرح تمہارے درمیان گھس جاتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2663

۔ (۲۶۶۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَدْ رَأَیْتُنَا وَمَا تُقَامُ الصَّلَاۃُ حَتّٰی تَکَامَلَ بِنَا الصُّفُوفُ، فَمَنْ سَرَّہُ أَنْ یَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْیُحَافِظْ عَلٰی ھٰؤُلَائِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ حَیْثُ یُنَادٰی بِہِنَّ فَاِنَّھُنَّ مِنْ سُنَنِ الْھُدٰی وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ شَرَعَ لِنَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُنَنَ الْھُدٰی۔ (مسند احمد: ۳۹۷۹)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ نماز اس وقت تک کھڑی نہ کی جاتی تھی جب تک ہم صفوں کو مکمل نہ کر لیتے تھے، جس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحیثیت ِ مسلمان ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ فرض نمازوں کی حفاظت اس مقام پر کرے جہاں ان کے لیے بلایا جاتا ہے،کیونکہ یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اوربے شک اللہ نے اپنے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2664

۔ (۲۶۶۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ اِذَا نُودِیَ لِلصَّلَاۃِ‘‘ فَـلَا تَقُومُوا حَتّٰی تَرَوْنِیْ وَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۲۶)
سیّدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو تم اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے نہ دیکھ لو اور سکون کو لازم پکڑو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2665

۔ (۲۶۶۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجِیٌّ لِرَجُلٍ فِی الْمَسْجِدِ فَمَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ حَتّٰی نَامَ الْقَوْمُ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۱۰)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں ایک آدمی سے سرگوشی کرتے اور نماز کی طرف نہ آئے، حتیٰ کہ لوگوں سونا شروع ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2666

۔ (۲۶۶۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجِیٌّ لِرَجُلٍ حَتّٰی نَعَسَ أَوْ کَادَ یَنْعُسُ بَعضُ الْقَوْمِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۵۲)
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی سے سرگوشی کرتے رہے، (اور نماز کے لیے نہ آئے) حتیٰ کہ لوگ اونگھنے لگ گئے یا قریب تھا کہ وہ اونگھنے لگ جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2667

۔ (۲۶۶۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوْفُ قِیَامًا (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَبْلَ أَنْ یَخْرُجَ اِلَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَخَرَجَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا قَامَ فِی مُصَلَّاہُ ذَکَرَ أَنَّہُ جُنُبٌ فَقَالَ لَنَا مَکَانَکُمْ، ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ اِلَیْنَا وَرَأْسَہُ یَقْطُرُ فَکَبَّرَ فَصَلَّیْنَا مَعَہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۳۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آنے سے پہلے صفیں برابر ہو گئیں،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد آیا کہ آپ جنبی تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا کہ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو، پھر آپ واپس لوٹ گئے ۔ جب غسل کر کے تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2668

۔ (۲۶۶۸) عَنْ عَبْدِ الْحَمِیْدِ بْنِ مَحْمُوْدٍ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَدُفِعْنَا اِلَی السَّوَارِی فَتَقَدَّمْنَا أَوْ تَأَخَّرْنَا، فَقَالَ أَنَسٌ: کُنَّا نَتَّقِیْ ھٰذَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۶۴)
عبد الحمید بن محمودکہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جمعہ والے دن نماز پڑھی، پس ہمیں ستونوںکی طرف دھکیل دیا گیا، لیکن ہم پیچھے کو ہو گئے تھے یا آگے کو، پھر سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں ستونوں سے بچ کر کھڑے ہوتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2669

۔ (۲۶۶۹) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ ھِلَالِ بْنِ یَسَافٍ قَالَ: أَرَانِی زِیَادُ بْنُ أَبِی الْجَعْدِ شَیْخًا بِالْجَزِیْرَۃِ یُقَالُ لَہُ وَابِصَۃُ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ: فَأَقَامَنِی عَلَیْہِ وَقَالَ ھٰذَا حَدَّثَنِی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلًا صَلّٰی فِی الصَّفِّ وَحْدَہُ فَأَمَرَہُ فَأَعَادَ الصَّلَاۃَ، قَالَ: وَکَانَ أَبِی یَقُوْلُ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۷۰)
ہلال بن یساف کہتے ہیں: ایک جزیرے میں زیاد بن ابی الجعد نے مجھے ایک بوڑھا آدمی دکھایا ، اس کو وابصۃ بن معبد کہتے تھے، انہوں نے مجھے اس بزرگ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: اس شخص نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو صف میں اکیلا نماز پڑھتے دیکھا اور اس کو نمازلوٹانے کا حکم دیا، پس اس نے نماز دوبارہ پڑھی۔ عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ (امام احمد بن حنبل) بھی اسی حدیث (میںمذکورمسئلہ) کے قائل تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2670

۔ (۲۶۷۰) عَنْ وَابِصَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ رَجُلٍ صَلّٰی خَلْفَ الصُّفُوْفِ وَحْدَہُ، فَقَالَ: ((یُعِیْدُ الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۶۷)
سیّدنا وابصۃ بن معبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو صفوں کے پیچھے اکیلا نماز پڑھتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ نماز کو لوٹائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2671

۔ (۲۶۷۱) عَنْ عَلِیِّ بْنِ شَیْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلًا یُصَلِّی خَلْفَ الصَّفِّ فَوَقَفَ حَتَّی انْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِسْتَقْبِلْ صَلَاتَکَ، فَـلَا صَلَاۃَ لِرَجُلٍ فَرْدٍ خَلْفَ الصَّفِّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۹۳)
سیّدنا علی بن شیبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہر گئے، حتیٰ کہ وہ شخص نماز سے فارغ ہوگیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی نماز دوبارہ پڑھ، کیونکہ صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2672

۔ (۲۶۷۲) عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ جَائَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاکِعٌ فَرَکَعَ دُوْنَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشٰی اِلَی الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ ھٰذَا الَّذِی رَکَعَ ثُمَّ مَشٰی اِلَی الصَّفِّ؟)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرَۃَ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۳۱)
جب سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کی حالت میں تھے، انہوں نے صف کے پیچھے سے ہی (نماز شروع کر کے) رکوع کر لیا اور پھر چل کر صف میں شامل ہو گئے۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کون آدمی تھا، جس نے پہلے رکوع شروع کیا اور پھرچل کر صف میں شامل ہوا؟ ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2673

۔ (۲۶۷۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ أَنَّ أَبَا بَکْرَۃَ جَائَ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاکِعٌ فَسَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَوْتَ نَعْلِ أَبِی بَکْرَۃَ وَھُوَ یَحْضُرُ یُرِیْدُ أَنْ یُدْرِکَ الرَّکْعَۃَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ السَّاعِی؟)) قَالَ أَبُوْبَکْرَۃَ: أَنَا، قَالَ: ((زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ)) (مسند احمد: ۲۰۷۰۷)
(دوسری سند) جب سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میںپہنچے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کی حالت میں تھے۔ وہ رکوع کو پانے کے لیے دوڑے یا تیز چلے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے جوتے کی آواز سن لی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: یہ دوڑنے والا کون تھا؟ سیّدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔

آیت نمبر