Musnad Ahmad

Search Results(1)

5)

5) کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 322

۔ (۳۲۲)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ حَیَّانَ التَّیْمِیِّ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَیْنُ بْنُ سَبْرَۃَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ اِلَی زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ (ؓ) فَلَمَّا جَلَسْنَا اِلَیْہِ قَالَ لَہُ حُصَیْنٌ: لقَدْ لَقِیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا، رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وسَمِعْتَ حَدِیْثَہَ وَغَزَوْتَ مَعَہُ وَصَلَّیْتَ مَعَہُ، لقَدْ رَأَیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا، حَدِّثْنَا یَا زَیْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! فَقَالَ: یَا ابْنَ أَخِیْ! وَاللّٰہِ! لقَدْ کَبُرَتْ سِنِّیْ وَقَدُمَ عَہْدِیْ وَنَسِیْتُ بَعْضَ الَّذِیْ کُنْتُ أَعِیْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَا حَدَّثْتُکُمْ فَاقْبَلُوْا وَمَا لَا فَـلَا تُکَلِّفُوْنِیْہِ، ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا خَطِیْبًا فِیْنَا بِمَائٍ یُدْعٰی خُمًّا، یَعْنِیْ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَوَعَظَ وَذَکَّرَ،ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! أَ لَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، یُوْشِکُ أَنْ یَأْتِیَنِیْ رَسُوْلُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَأُجِیْبَ، وَاِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمْ ثَقَلَیْنِ، أَوَّلُہُمَا کِتَابُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، فِیْہِ الْہُدٰی وَالنُّوْرُ، فَخُذُوْا بِکِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاسْتَمْسِکُوْا بِہِ۔)) فَحَثَّ عَلَی کِتَابِ اللّٰہِ وَرَغَّبَ فِیْہِ، قَالَ: ((وَأَھْلُ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ۔)) فَقَالَ لَہُ حُصَیْنٌ: وَمَنْ أَھْلُ بَیْتِہِ یَا زَیْدُ؟ أَلَیْسَ نِسَائُ ہُ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہِ؟ قَالَ: اِنَّ نِسَائَ ہُ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہِ وَلَکِنَّ أَھْلَ بَیْتِہِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ بَعْدَہُ، قَالَ: وَمَنْ ہُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِیٍّ وَ آلُ جَعَفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَکُلُّ ہٰؤُلَائِ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۷۹)
یزید بن حیان تیمی کہتے ہیں: میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، سیدنا زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے، جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے کہا: اے زید! تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث سنی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ جہاد کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، زید! بس تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، زید! تم نے جو احادیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہیں، وہ ہمیں بھی بیان کرو، انھوں نے کہا: اے بھتیجے! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کو بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کی جو احادیث یاد کی تھیں، ان میں سے بعضوں کو بھول بھی گیا ہوں، اس لیے میں تم کو جو کچھ بیان کر دوں، اس کو قبول کر لو اور جو نہ کر سکوں، اس کی مجھے تکلیف نہ دو۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غدیر خم، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، کے مقام پر خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کی اور پھر یہ بھی فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! خبردار! اے لوگو! میں ایک بشر ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے ربّ کا قاصد میرے پاس آ جائے اور میں اس کی بات قبول کر لوں، بات یہ ہے کہ میں تم میں دو بیش قیمت اور نفیس چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ چمٹ جاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر آمادہ کیا اور اس کے بارے میں ترغیب دلائی، اور پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یاد دلاتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ یاد کرواتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے حق میں اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتا ہوں۔ حصین نے کہا: اے زید! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: بیشک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت وہ ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔ حصین نے کہا: وہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آلِ علی، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔ اس نے کہا: کیا اِن سب پر صدقہ حرام ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 323

۔ (۳۲۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ، أَحَدُہُمَا أَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، کِتَابُ اللّٰہِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِیْ أَھْلُ بَیْتِیْ وَإِنَّہُمَا لَنْ یَفْتَرِقَا حَتَّی یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ)) (مسند أحمد:۱۱۱۲۰)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم میں دو بیش قیمت چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک رسی ہے، جس کو آسمان سے زمین کی طرف لٹکایا گیا ہے اور میری نسل میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں چیزیں جدا نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ دونوں میرے حوض پر آ جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 324

۔ (۳۲۴)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَتَانِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّـلَامُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّ أُمَّتَکَ مُخْتَلِفَۃٌ بَعْدَکَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَأَیْنَ الْمَخْرَجُ یَا جِبْرِیْلُ! قَالَ: فَقَالَ: کِتَابُ اللّٰہِ تَعَالٰی، بِہِ یَقْصِمُ اللّٰہُ کُلَّ جَبَّارٍ، مَنِ اعْتَصَمَ بِہِ نَجَا، وَمَنْ تَرَکَہُ ہَلَکَ مَرَّتَیْنِ، قَوْلُہُ فَصْلٌ وَلَیْسَ بِالْہَزْلِ، لَا تَخْتَلِقُہُ الْأَلْسُنُ وَلَا تَفْنٰی أَعَاجِیْبُہُ، فِیْہِ نَبَأُ مَا کَانَ قَبْلَکُمْ وَفَصْلُ مَا بَیْنَکُمْ وَخَبْرُ مَا ہُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۴)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جبرائیلؑ میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد! آپ کی امت آپ کے بعد اختلاف کرنے والی ہے، میں نے کہا: اے جبریل! اس سے نکلنے کی راہ کیا ہو گی؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ہر سرکش کو تباہ کرے گا، جس نے اس کو تھام لیا وہ نجات پا گیا، جس نے اس کو چھوڑ دیا وہ ہلاک ہو گیا، یہ بات دو دفعہ کہی، اس کی بات صحیح اور قطعی ہے اور مذاق نہیں ہے، اس کو زبانیں نہیں گھڑ سکتیں، اس کے عجائب ختم نہیں ہو سکتے، اس میں تمہارے اندر (کے نزاعات کا) فیصلہ ہے اور جو کچھ تمہارے بعد ہونے والا ہے، اس کی اس میں خبریں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 325

۔ (۳۲۵)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍؓ قَالَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ وَسَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم السُّنَنَ، ثُمَّ قَالَ: اِتَّبِعُوْنَا فَوَاللّٰہِ! اِنْ لَمْ تَفْعَلُوْا تَضِلُّوْا۔ (مسند أحمد: ۲۰۲۴۰)
سیدنا عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قرآن مجید نازل ہوا اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مختلف طریقے جاری کیے، پھر انھوں نے کہا: پس تم ہم صحابہ کی پیروی کرو، اللہ کی قسم ہے کہ اگر تم اس طرح نہیں کرو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 326

۔ (۳۲۶)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَطَّ خَطًّا ہٰکَذَا أَمَامَہُ فَقَالَ: ((ھٰذَا سَبِیْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) وَخَطَّیْنِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَخَطَّیْنِ عَنْ شِمَالِہِ، قَالَ: ((ہٰذِہِ سَبِیْلُ الشَّیْطَانِ۔)) ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَأَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمَا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْاالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہِ، ذٰلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ}۔ (مسند أحمد: ۱۵۳۵۱)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے سامنے والی سمت میں ایک (سیدھا) خط لگایا اور فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دو لکیریں دائیں طرف اور دو لکیریں بائیں طرف لگائیں اور فرمایا: یہ شیطان کا راستہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے درمیان والے (سیدھے) خط پر ہاتھ رکھا اور یہ آیت تلاوت کی: اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ (الانعام: ۱۵۳)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 327

۔ (۳۲۷)۔عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ھٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقّّ لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰی یَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۴۶۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہمیشہ ایک جماعت اس دین پر حق کے ساتھ قائم رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والا ان کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ اسی حق پر برقرار ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 328

۔ (۳۲۸)۔عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْروٍ السُّلَمِیُّ وَحُجْرُبْنُ حُجْرٍ الْکَلَاعِیُّ قَالَ: أَتَیْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَۃَ (ؓ) وَھُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِیْہِ: {وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ} فَسَلَّمْنَا وَقُلْنَا: أَتَیْنَاکَ زَائِرِیْنَ وَ عَائِدِیْنَ وَمُقْتَبِسِیْنَ، فَقَالَ عِرْبَاضٌ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ ذَاتَ یَوْمٍ، ثُمَّ أقَبْلَ عَلَیْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَۃً بَلِیْغَۃً ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوْبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کأَنَّ ہٰذِہِ مَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْہَدُ اِلَیْنَا؟ فَقَالَ: ((أُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَاِنْ کَانَ حَبَشِیًّا، فَاِنَّہُ مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرٰی اخْتِلَافًا کَثِیْرًا، فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ، فَتَمَسَّکُوْا بِہَا وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ وَاِیَّاکُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ، فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۷۵)
عبد الرحمن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کلاعی کہتے ہے: ہم سیدنا عرباض بن ساریہ ؓ کے پاس گئے، یہ ان لوگوں میں سے تھے، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لیے کچھ بھی نہیں پاتا۔ (سورۂ توبہ: ۹۲) ہم نے ان کو سلام کیا اور کہا: ہم آپ کی زیارت اور تیماری داری کرنے کے لیے اور آپ سے علمی استفادہ کرنے کے لیے آئے ہیں، سیدنا عرباض ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک دن ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور ہمیں اتنا مؤثر و بلیغ وعظ کیا کہ آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے، ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت لگتی ہے، پس آپ ہمیں کون سی نصیحت کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم کو اللہ کے ڈر اور (امراء کی باتیں) سننے اور ان کی اطاعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ وہ حبشی ہو، پس بیشک تم میں سے جو آدمی میرے بعد زندہ رہے گا،وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اِس پر کابند رہو اور سختی کے ساتھ اس پر قائم رہو اور نئے نئے امور سے بچو، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 329

۔ (۳۲۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وفِیْہِ قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ہٰذِہِ لَمَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْہَدُ اِلَیْنَا، قَالَ: ((قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَائِ، لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا لَا یَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْ اِلَّا ہَالِکٌ وَمَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ (فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِیْہِ) فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِیْ، (وَفِیْہِ أَیْضًا) عَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ فَاِنَّمَا الْمُؤْمِنُ کَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَیْثُمَا انْقِیْدَ انْقَادَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۷۲)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی و عظ ونصیحت ہے، پس آپ ہمیںکیا نصیحت کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تحقیق میں تم کو ایسی روشن شریعت پر چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کی رات بھی دن کی طرح ہے، اب اس سے وہی گمراہ ہو گا، جو ہلاک ہونے والا ہو گا، اور جو تم میں سے زندہ رہے گا، (سابقہ حدیث کی طرح روایت کو بیان کیا)، پس تم میری جس سنت کو پہچانتے ہو گے، اس کو لازم پکڑنا، (اور اس میں یہ بھی ہے:) پس تم اس پر سختی سے قائم رہنا، پس مؤمن تو اس نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو جدھر کھینچا جاتا ہے، وہ اُدھر ہی پیچھے پیچھے چل پڑتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 330

۔ (۳۳۰)۔عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((مَامِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ أُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلَّا کَانَ لَہُ مِنْ أُمَّتِہِ حَوَارِیُّوْنَ وَ أَصْحَابٌ یَأْخُذُوْنَ بِِسُنَّتِہِ وَیَقْتَدُوْنَ بِأَمْرِہِ، ثُمَّ اِنَّہَا تَخَلَّفَ مِنْ بَعْدِہِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۴۳۷۹)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی کسی امت میں مبعوث فرمایا، اس کی امت میں سے اس کے حواری ہوتے تھے، جو اس کی سنت پر عمل کرتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے، پھر ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بنے، جو کہتے وہ تھے جو کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 331

۔ (۳۳۱)۔عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ (ؓ) فِیْ سَفَرٍ فَمَرَّ بِمَکَانٍ فَحَادَ عَنْہُ، فَسُئِلَ لِمَ فَعَلْتَ؟ فَقَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ھٰذَا فَفَعَلْتُ۔ (مسند أحمد: ۴۸۷۰)
مجاہد کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پس جب وہ ایک جگہ سے گزرے تو اس سے ایک طرف ہو گئے، پس ان سے سوال کیا گیا کہ انھوں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا، سو میں نے بھی کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 332

۔ (۳۳۲)۔عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِیْکَرِبَ (ؓ) یَقُوْلُ: حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَوْمَ خَیْبَرَ أَشْیَائَ، ثُمَّ قَالَ: ((یُوْشِکُ أَحَدُکُمْ أَنْ یُّکَذِّبَنِیْ وَھُوَ مُتَّکِیئٌ عَلَی أَرِیْکَتِہِ یُحَدِّثُ بِحَدِیْثِیْ فیَقُوْلُ: بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ، فَمَا وَجَدْنَا فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاہُ وَمَا وَجَدْنَا فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاہُ، أَلَا! وَاِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۲۶)
حسن بن جابر سے مروی ہے کہ سیدنا مقدام بن معدیکربؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے خیبر والے دن کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا اور پھر فرمایا: قریب ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی مجھے جھٹلا دے، جبکہ اس نے اپنے تخت پر ٹیک لگائی ہوئی ہو اور میری حدیث بیان کرنے کے بعد کہے: ہمارے اور تمہارے مابین اللہ کی کتاب کافی ہے، پس جس چیز کو ہم اس میں حلال پائیں، اس کو حلال سمجھیں گے اور جس چیز کو اس میں حرام پائیں، اس کو حرام سمجھیں گے، خبردار! اور بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی طرح ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 333

۔ (۳۳۳)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَ لَا! اِنِّیْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ، أَ لَا! یُوْشِکُ رَجُلٌ یَنْثَنِیْ شَبْعَانَ عَلٰی أَرِیْکَتِہِ یَقُوْلُ: عَلَیْکُمْ بِالْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوْہُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ، أَلَا! لَا یَحِلُّ لَکُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَہْلِیْ وَلَا کُلُّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، أَلَا! وَلَا لُقْطَۃٌ مِنْ مَالِ مُعَاہِدٍ اِلَّا أَنْ یَسْتَغْنِیَ صَاحِبُہَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَیْہِمْ أَنْ یَقْرُوْہُمْ، فَاِنْ لَمْ یَقْرُوْہُمْ فَعَلَیْہِمْ أَنْ یُعْقِبُوْہُمْ بِمِثْلِ قِرَاہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۰۶)
سیدنا مقدام بن معدیکرب ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خبردار! مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک چیز بھی دی گئی ہے، خبردار! قریب ہے کہ ایک آدمی سیر و سیراب ہو کر اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے: تم صرف قرآن کو لازم پکڑو، پس جس چیز کو اس میں حلال پاؤ، اس کو حلال سمجھو اور جس چیز کو حرام پاؤ، اس کو حرام سمجھو، خبردار! تمہارے لیے گھریلو گدھا اور کچلی والے درندے حلال نہیں ہیں اور نہ ذمی کے مال میں سے گری پڑی چیز حلال ہے، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے مستغنی ہو جائے اور جولوگ کسی قوم کے پاس اتریں تو اس قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی ضیافت کرے، اگر وہ ان کی ضیافت نہیں کرتی تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے مالوں میں سے اپنی میزبانی کے بقدر لے لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 334

۔ (۳۳۴)۔عن أَبِیْ رَافِعٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَأَعْرِفَنَّ مَا یَبْلُغُ أَحَدَکُمْ مِنْ حَدِیْثِیْ شَیْئٌ وَھُوَ مُتَّکِیئٌ عَلَی أَرِیْکَتِہِ فَیَقُوْلُ: مَاأَجِدُ ھٰذَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۶۲)
سیدنا ابو رافع ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں ضرور ضرور جانتا ہوں کہ تم میں سے کسی ایک کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: یہ حکم تو مجھے اللہ کی کتاب میں نہیں ملا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 335

۔ (۳۳۵)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ أَتَاہُ عَنِّیْ حَدِیْثٌ وَھُوَ مُتَّکِیئٌ فِیْ أَرِیْکَتِہِ فَیَقُوْلُ: اتْلُوْا عَلَیَّ بِہِ قُرْآنًا، مَا جَائَ کُمْ عَنِّیْ مِنْ خَیْرٍ قُلْتُہُ أَوْ لَمْ أَقُلْہُ فَاَنَا أَقُوْلُہُ وَمَا أَتَاکُمْ مِنْ شَرٍّ فَاَنَا لَا أَقُوْلُ الشَّرَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۷۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم میں سے اس شخص کو جانتا ہوں کہ اس کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: مجھ پر اس کے ساتھ قرآن پڑھو۔ میری حوالے سے تمہیں خیر والی جو بات پہنچے، میں نے وہ کہی ہو یا نہ کہی ہو، پس میں اس کو کہوں گا اور اگر کوئی شرّ والی بات پہنچے تو میں شرّ کہنے والا نہیں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 336

۔ (۳۳۶)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاُثْنٰی عَلَیْہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَاِنَّ أَفْضَلَ الْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۳۸۶)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان اس کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اَمَّا بَعْدُ! پس بیشک سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر سیرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت ہے اور بدترین امور وہ ہیں جو نئے نئے ہوں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 337

۔ (۳۳۷)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ سَنَّ سُنَّۃَ ضَلَالٍ فَاتُّبِعِ عَلَیْہَا کَانَ عَلَیْہِ مِثْلُ أَوْزَارِہِمْ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّۃَ ہُدًی فَاتُّبِعِ عَلَیْہَا کَانَ لَہُ مِثْلُ أُجْوْرِہِمْ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُوْرِہِمْ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۶۳)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے گمراہی والا کوئی راستہ وضع کیااور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنیوالوں کے گناہ کے برابر گناہ ہو گا، جبکہ ان کے گناہوں میںکوئی کمی واقع نہ ہو گی، اسی طرح جس نے ہدایت والا کوئی راستہ جاری کیا اور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ہو گا، جبکہ ان کے اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 338

۔ (۳۳۸)۔عَنْ حَبِیْبِ بْنِ عُبَیْدٍ الرَّحَبِیِّ عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحٰرِثِ الشُّمَالِیِّؓ قَالَ: بَعَثَ اِلَیَّ عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ فَقَالَ: یَا أَبَا أَسْمَائَ! اِنَّا قَدْ أَجْمَعْنَا النَّاسَ عَلَی أَمْرَیْنِ، قَالَ: وَمَا ہُمَا؟ قَالَ: رَفْعُ الْأَیْدِیْ عَلَی الْمَنَابِرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْقَصَصُ بَعْدَ الصُّبْحِِ وَالْعَصْرِ، فَقَالَ: أَمَا اِنَّہُمَا أَمْثَلُ بِدْعَتِکُمْ عِنْدِیْ وَلَسْتُ مُجِیْبَکَ اِلٰی شَیْئٍ مِنْہُمَا، قَالَ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَۃً اِلَّا رُفِعَ مِثْلُہَا مِنَ السُّنْۃِ، فَتَمَسُّکٌ بِسُنَّۃٍ خَیْرٌ مِنْ اِحْدَاثِ بِدْعَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۹۵)
غضیف بن حارث شمالی کہتے ہیں: عبد الملک بن مروان نے مجھے بلا بھیجا، جب میں گیا تو اس نے کہا: اے ابو اسماء! ہم نے لوگوں کو دو چیزوں پر جمع کر لیا ہے۔ میں نے کہا: وہ کون سی؟ اس نے کہا: جمعہ کے روز منبروں پر ہاتھ اٹھانا اور نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے بعد قصہ گوئی کرنا۔ میں نے کہا: میرے نزدیک یہ تمہاری بدعتوں کی دو بہترین مثالیں ہیں اور میں ان میں سے کوئی بھی نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: کیوں؟ میں نے کہا: کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو قوم بدعت کو ایجاد کرے گا، اس سے اس بدعت کے بقدر سنت اٹھا لی جائے گی، پس سنت کو تھام لینا بدعت کو ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 339

۔ (۳۳۹)۔عَنْ سَعْدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ أَنَّ رَجُلًا أَوْصٰی فِیْ مَسَاکِنَ لَہُ بِثُلُثِ کُلِّ مَسْکَنٍ لِاِنْسَانٍ، فَسَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ: اجْمَعْ ثَلَاثَۃً فِیْ مَکَانٍ وَاحِدٍ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ (ؓ) تَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ عَمِلَ عَمْلًا لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَأَمْرُہُ رَدٌّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَہُوَ رَدٌّ)) (مسند أحمد:۲۶۷۲۱)
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں: ایک آدمی نے اپنے تین گھروں کے بارے میں وصیت کی کہ ہر گھر کا تیسرا حصہ ایک انسان کو ملے گا، میں نے اس کے بارے میں قاسم بن محمد سے سوال کیا، انھوں نے کہا:ایک مکان تین افراد کے لیے (اور باقی دو گھر وارثوں کیلئے) کر دو، پس بیشک میں نے سیدہ عائشہؓ سے سنا، انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے ایسا عمل کیا، جس پر ہمارا حکم نہ ہو تو اس کا وہ عمل مردود ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 340

۔ (۳۴۰)۔عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَؓ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِیْ وَرَآنِیْ حَتَّی اِذَا رُفِعُوْا اِلَیَّ وَرَأَیْتُہُمْ اُخْتُلِجُوْا دُوْنِیْ فَلَأَقُوْلَنَّ: رَبِّ أَصْحَابِیْ! فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَکَ)) (مسند أحمد: ۲۰۷۶۸)
سیدنا ابو بکرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری صحبت اختیار کرنے والوں اور مجھے دیکھنے والوں میں سے بعض لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے، لیکن جب ان کو میری طرف لایا جائے گا تو ان کو مجھ سے پرے ہی کھینچ لیا جائے گا، پس میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میرے ساتھی، پس مجھ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کون کون سی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 341

۔ (۳۴۱)۔ عَنْ یَعْقُوْبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَہْلًا (یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِیَّؓ) یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ یَظْمَأْ بَعْدَہُ أَبَدًا، وَلَیَرِدَنَّ عَلَیَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُہُمْ وَیَعْرِفُوْنَنِیْ ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ،(قَالَ أبُوْحَازِمٍ: فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِیْ عَیَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُہُمْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فَقَالَ: ہٰکَذَا سَمِعْتَ سَہْلًا یَقُوْلُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْہَدُ عَلَی أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ لَسَمِعْتُہُ یَزِیْدُ فَیَقُوْلُ: ((اِنَّہُمْ مِنِّیْ۔ فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا عَمِلُوْا بَعْدَکَ، فَأَقُوْلُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۲۱۰)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا، جو وہاں آئے گا، وہ پی لے گا اور جو وہاں سے پی لے گا، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اور حوض پر میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ میں ان کو پہنچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ ابو حازم نے کہا: پس نعمان بن ابو عیاش نے سنا، جبکہ میں ان کو یہ حدیث بیان کر رہا تھا، پس اس نے کہا: کیاتم نے سیدنا سہل ؓ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا؟ میں نے کہا: جی ہاں اس نے کہا! اور میں سیدنا ابو سعید خدری ؓپر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ان کو یہ الفاظ زیادہ کرتے ہوئے سنا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں کہوں گا: یہ لوگ تو مجھ سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوںنے آپ کے بعد کیا کیا عمل کیے تھے، پس میں کہوں گا: بربادی ہو،بربادی ہو، اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد (دین کو) تبدیل کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 342

۔ (۳۴۲)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۷۹)
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 343

۔ (۳۴۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔
سیدہ عائشہ ؓ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 344

۔ (۳۴۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَافِعٍٍ الْمَخْزُوْمِیِّ قَالَ: کَانَتْ أُمُّ سَلَمَۃَؓ تُحَدِّثُ، أَنَّہَا سَمِعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ عَلَی الْمِنْبَرِ وَہِیَ تَمْتَشِطُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ!۔)) فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِہَا: لُفِّیْ رَأْسِیْ، قَالَتْ: فَقَالَتْ: فَدَیْتُکِ، اِنَّمَا یَقُوْلُ: أَیُّہَا النَّاسُ! قُلْتُ: وَیْحَکِ، أَوَ لَسْنَا مِنَ النَّاسِ؟ فَلَفَّتْ رَأْسَہَا وَقَامَتْ فِیْ حُجْرَتِہَا فَسَمِعَتْہُ یَقُوْلُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! بَیْنَمَا أَنَا عَلَی الْحَوْضِ جِیْئَ بِکُمْ زُمَرًا فَتَفَرَّقَتْ بِکُمُ الطُّرُقَ، فَنَادَیْتُکُمْ، أَلَا! ہَلُمُّوْا اِلَی الطَّرِیْقِ، فَنَادٰنِیْ مُنَادٍ مِنْ بَعْدِیْ فَقَالَ: اِنَّہُمْ قَدْ بَدَّلُوْا بَعْدَکَ، فَقُلْتُ: أَ لَا! سُحْقًا، أَ لَا! سُحْقًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۸۱)
عبد اللہ بن رافع مخزومی کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر فرمایا: اے لوگو! جب کہ میں کنگھی کر رہی تھی، میں نے کنگھی کرنے والی خاتون سے کہا: میرا سر ڈھانپ دے، اس نے کہا: میں تجھ پر قربان جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو فرما رہے ہیں: اے لوگو! میں نے کہا: تیرا ناس ہو، کیا ہم لوگ نہیں ہیں، پس اس نے اس کا سر ڈھانپ دیا اور وہ اپنے حجرے میں کھڑی ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! میں حوض پر ہوں گا، تم لوگوں کو گروہوں کی شکل میں لایا جائے گا، پس تمہارے راستے جدا جدا ہو جائیں، (کوئی حوض کے راستے پر چل پڑے گا اور کوئی کسی اور راستے پر) اس لیے میں آ واز دوں گا: خبردار! اس راستے کی طرف آؤ، لیکن میرے پیچھے سے ایک آواز دینے والا مجھے آواز دے گا: بیشک ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا، پس میں کہوں گا: خبردار! بربادی ہو، خبردار! بربادی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 345

۔ (۳۴۵)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّی لَوْ دَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوْہُمْ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! آلْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ: ((فَمَنْ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۸۲۲)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوںکی اس طرح پیروی کرو گے، جیسے بالشت کے برابر بالشت اور ہاتھ کے برابر ہاتھ ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گو کے بِل میں گھسے تو تم بھی اس میں ان کے پیچھے چلو گے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہودی اور عیسائی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اور کون۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 346

۔ (۳۴۶)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہِ: وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ قَالَ: ((وَبَاعًا فَبَاعًا حَتّٰی لَوْ دَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوْہُ۔)) قَالُوْا: وَمَنْ ہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَھْلُ الْکِتَابِ؟ قَالَ: ((فَمَنْ؟۔)) (مسند أحمد: ۱۰۶۴۹)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ کے بعد یہ الفاظ ہیں: اور بَاع کے برابر باع ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گو کے بِل میں گھسے تو تم بھی ضرور اس میں گھسو گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں، کیا اہل کتاب ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اور کون ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 347

۔ (۳۴۷)۔ عَنْ سَھْلٍ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِیِّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَتَرْکَبُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ مِثلًا بِمِثْلٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۲۶۶)
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اپنے سے پہلے والے لوگوںکے طریقوں کو ہو بہو اپناؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 348

۔ (۳۴۸)۔عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَحْمِلَنَّ شِرَارُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ عَلٰی سُنَنِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْ أَھْلِ الْکِتَابِ حَذْوَ القُذَّۃِ بِالْقُذَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۶۵)
سیدنا شداد بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس امت کے برے لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کے مطابق ایسے ہی چلیں گے، جیسے تیار کیا ہوا تیر دوسرے تیر کے مطابق ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 349

۔ (۳۴۹)۔عن أَبِیْ واقَدٍ اللَّیْثِیِّؓ أَنَّہُمْ خَرَجُوْا عَنْ مَکَّۃَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی حُنَیْنٍ قَالَ: وَکَانَ لِلْکُفَّارِ سِدْرَۃٌ یَعْکِفُوْنَ عِنْدَہَا وَیُعَلِّقُوْنَ بِہَا أَسْلِحَتَہُمْ یُقَالُ لَہَا ذَاتُ أَنْوَاطٍ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَۃٍ خَضْرَائَ عَظِیْمَۃٍ قَالَ: فَقُلْنَا: (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقُلْتُ) یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اِجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَمَا لِلْکُفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: (( قُلْتُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ کَمَا قَالَ قَوْمُ مُوْسٰی: {اِجْعَلْ لَنَا اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ آلِہَۃٌ، قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوْنَ} اِنَّہَا لَسُنَنٌ، لَتَرْکَبُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ سُنَّۃً سُنَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۲۲۴۲)
سیدنا ابو واقد لیثیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ حنین کے لیے مکہ مکرمہ سے نکلے، کافروں کی ایک بیری تھی، وہ اس کے پاس قیام کرتے تھے اور اس کے ساتھ اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے (اور مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھتے تھے)، اس بیری کو ذات ِ انواط کہتے تھے، پس ہم سبز رنگ کی ایک بڑی بیری کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات ِ انواط بنائیں، جیسا کہ کافروں کی ذات ِ انواط ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کہی، جو موسیٰؑ کی قوم نے کہی تھی، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اے موسی! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں، آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: ۱۳۸) یہ مختلف طریقے ہیں، البتہ تم ضرور ضرور اور ایک ایک کر کے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 350

۔ (۳۵۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ، ھٰذَا کَمَا قَالَتْ بَنُوْاِسْرَائِیْلُ لِمُوْسٰی: {اِجْعَلْ لَنَا اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ آلِہَۃٌ، قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوْنَ} اِنَّکُمْ تَرْکَبُوْنَ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۲۴۵)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے ، البتہ اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جواباً فرمایا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ ، یہ تو وہی بات ہے جو بنو اسرائیل نے موسیٰؑ سے سے کہی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسی! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں، آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: ۱۳۸) بیشک تم لوگ اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 351

۔ (۳۵۱)۔عَنْ أَبِیْ عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍؓ یَقُوْلُ: ((مَا أَعْرِفُ شَیْئًا الْیَوْمَ مِمَّا کُنَّا عَلَیْہِ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْنَا: فَأَیْنَ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَصْنَعُوْ فِی الصَّلَاۃِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۰۰)
ابو عمران جونی کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک ؓ نے کہا: ہم عہد ِ نبوی میں جن امور پر کاربند تھے، آج تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ ہم نے کہا: پس نماز کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے نماز میں وہ کچھ نہیں کیا جن کو تم خود جانتے ہو؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 352

۔ (۳۵۲)۔عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍؓ: مَا أَعْرِفُ فِیْکُمُ الْیَوْمَ شَیْئًا کُنْتُ أَعْہَدُہُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَیْسَ قَوْلَکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَاأَبَاحَمْزَۃَ! الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّیْتَ حِیْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، أَفَکَانَتْ تِلْکَ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: فَقَالَ: عَلٰی اَنِّیْ لَمْ أَرَ زَمَانًا خَیْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِکُمْ ھٰذَا اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ زَمَانًا مَعَ نَبِیٍّ۔ (مسند أحمد: ۱۳۸۹۷)
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ سیدنا سیدنا انس بن مالک ؓ نے کہا: میں جن امور کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں دیکھتا ہے، آج تم میں تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی، البتہ تمہارا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا وہی ہے۔ میں نے کہا: اے ابو حمزہ! نماز (بھی تو وہی ہے)؟ انھوں نے کہا: تو نے تو (عصر کی) نماز غروبِ آفتاب کے وقت پڑھی ہے، کیا یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نماز تھی؟ پھر انھوں نے کہا: اس کے باوجود یہ بات تو ہے کہ میں نے کوئی ایسا زمانہ نہیں دیکھا، جوعامل کے لیے تمہارے اس زمانے سے بہتر ہو، الّا یہ کہ وہ زمانہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت والا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 353

۔ (۳۵۳)۔عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ أَبُو الدَّرْدَائِ(ؓ) وَھُوَ مُغْضَبٌ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَکَ؟ قَالَ: وَاللّٰہِ! َلا أَعْرِفُ فِیْھِمْ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا اِلَّا أَنَّہُمْ یُصَلُّوْنَ جَمِیْعًا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِلَّا الصَّلَاۃَ)۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۴۸)
سیدہ ام درداء ؓ کہتی ہیں: سیدنا ابودرداء ؓمیرے پاس غصے کی حالت میں آئے، میں نے کہا: کس نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اِن لوگوں میں تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حکم پر مشتمل کوئی چیز نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ یہ نماز اکٹھی پڑھتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: سوائے نماز کے۔

آیت نمبر