Musnad Ahmad

Search Results(1)

52)

52) جماعت کے احکامات کے متعلق بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2826

۔ (۲۸۲۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ وَلَھُمْ یَوْمَانِ یَلْعَبُوْنَ فِیْھِمَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِہِمَا خَیْرًا مِنْھُمَا یَوْمَ الْفِطْرِ وَیَوْمَ الْنَّحْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۲۹)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے لیے دو دن تھے، وہ دورِ جاہلیت سے ان میں کھیلتے چلے آ رہے تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دو دنوں کے بدلے ان سے بہتر دن عطا کر دیئے ہیں، ایک عید الفطرکا دن ہے اور دوسرا عید الاضحی کا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2827

۔ (۲۸۲۷) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عُقْبَۃَ بْنِ الْفَاکِہِ عَنْ جَدِّہِ الْفَاکِہِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ لَہُ صُحْبَۃٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیَوْمَ عَرَفَۃَ وَیَوْمَ الْفِطْرِ وَیَوْمَ الْنَّحْرِ، قَالَ وَکَانَ الْفَاکِہُ ابْنُ سَعْدٍ یَأَمُرُ أَھْلَہُ بِالْغُسْلِ فِی ھٰذِہِ الْأَیَّامِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۴۰)
سیّدنا فاکہ بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،جو کہ صحابی تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ، عرفہ، عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں غسل کرتے تھے۔ اسی مناسبت سے سیّدنا فاکہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی اپنے گھر والوں کو ان دنوں میں غسل کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2828

۔ (۲۸۲۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عُمَرَ رَأَی حُلَّۃَ سِیَرَائَ أَوْ حَرِیْرٍ تُبَاعُ، فَقَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَوِ اشْتَرَیْتَ ھٰذِہِ تَلْبَسُہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ أَوْ لِلْوُفُودِ۔ قَالَ: ((اِنَّمَا یَلْبَسُ ھٰذِہِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۴۷۱۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک زرد رنگ کی دھاریوں والا، جس میں ریشم کی آمیز ش تھی یا ریشمی حُلّہ دیکھ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اگر آپ یہ خرید لیں اورجمعہ کے دن یامختلف وفود کی آمد پر پہنا کریں۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لباس وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2829

۔ (۲۸۲۹) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَخْرُجُ اِلَی الْعِیْدَیْنِ مِنْ طَرِیْقٍ وَیَرْجِعُ مِنْ طَرِیْقٍ أُخْرَی۔ (مسند احمد: ۵۸۷۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دونوں عیدوں کی نمازوں کے لیے ایک رستے سے جاتے تھے اور دوسرے رستے سے واپس لوٹتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2830

۔ (۲۸۳۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَرَجَ اِلَی الْعِیْدَیْنِ رَجَعَ فِی غَیْرِ الطَّرِیْقِ الَّذِی خَرَجَ فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۸۴۳۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب ایک راستے سے عِیْدَین کے لیے نکلتے تو دوسرے راستے سے لوٹتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2831

۔ (۲۸۳۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ فِی الْعِیْدَیْنِ وَیُخْرِجُ أَھْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۷۵)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہV خود بھی عیدین کے لیے جاتے اور اپنے گھروالوں کو بھی لے کر جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2832

۔ (۲۸۳۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُ بَنَاتِہِ وَنِسَائَہُ أَنْ یَخْرُجْنَ فِی الْعِیْدَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۴)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2833

۔ (۲۸۳۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَدْ کَانَتْ تَخْرُجُ الْکَعَابُ مِنْ خِدْرِھَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعِیْدَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۲۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ نوجوان لڑکی گھر کے کونے میں لٹکائے ہوئے پردے سے نکل کررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعوت پر عیدین کی طرف جایا کرتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2834

۔ (۲۸۳۴) عَنْ أُخْتِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((وَجَبَ الْخُرُوْجُ عَلٰی کُلِّ ذَاتِ نِطَاقٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۵۴)
سیّدنا عبد اللہ بن رواحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بہن بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر کمر میں پیٹی باندھنے والی عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ (عید کے لیے)نکلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2835

۔ (۲۸۳۵) عَنْ ھِشَامٍ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیْرِیْنَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَبِی وَأُمِّی أَنْ نُخْرِجَ الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُوْرِ وَالْحُیَّضَ یَوْمَ الْفِطْرِ وَیَوْمَ النَّحْرِ، فَأَمَّا الْحُیَّضُ فَیَعْتَزِلْنَ الْمُصَلّٰی وَیَشْہَدْنَ الْخَیْرَ وَدَعْوَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ: قِیْلَ: أَرَأَیْتَ اِحْدَاھُنَّ لَا یَکُوْنُ لَھَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ: ((فَلْتُلْبِسْہَا أُخْتُہَا مِنْ جِلْبَا بِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۷۴)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،میرے ماں باپ آپ قربان ہوں، نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم نوجوان لڑکیوں، پردے والیوں اور حیض والی خواتین کو عید الفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر (عید گاہ کی طرف) نکالیں۔ البتہ حیض والی عورتوں کو چاہیے کہ وہ نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں اور خیر والے اس کام اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی بہن کو چاہیے کہ وہ اسے چادر دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2836

۔ (۲۸۳۶) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَنْبَأَنَا عَطَائٌ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا یَغْدُوَ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰی یَطْعَمَ فَلْیَفْعَلْ، قَالَ: فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آکُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَا مُنْذُ سَمِعْتُ ذٰلِکَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَآکُلُ مِنْ طَرَفِ الصَّرِیْقَۃِ الْاُکْلَۃَ أَوْ أَشْرَبُ اللَّبَنَ أَوِ الْمَائَ، قُلْتُ: فَعَلَامَ یُؤَوَّلُ ھٰذَا؟ قَالَ: سَمِعَہُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانُوا لَا یَخْرُجُوْنَ حَتّٰی یَمْتَدَّ الضُّحٰی فَیَقُوْلُوْنَ نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا۔ (مسند احمد: ۲۸۶۶)
عطاء کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اگر تمہیں طاقت ہو کہ تم عید الفطر کے موقع پر کچھ کھا کر ہی جا ؤ تو ایسے ہی کیا کرو۔ جب سے میں نے یہ بات ان سے سنی، اس وقت سے صبح جانے سے پہلے کھانا کھانا ترک نہ کیا، وہ روٹی کا لقمہ ہو جاتا یا دودھ یا پانی پی لیتا۔ ابن جریج نے عطاء سے سوال کیا: سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اس قول کی کیا تاویل کی جائے گی؟ انھوں نے کہا: میرا تو یہی خیال ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہو گا۔وہ اس وقت تک نہیں نکلتے تھے، جب تک روشنی لمبی نہ ہو جاتی تھی، یعنی دن چڑھ نہ آتا تھا، اور وہ کہتے تھے کہ وہ اس لیے کھانا کھاتے ہیں، تاکہ نماز سے جلدی نہ کرنی پڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2837

۔ (۲۸۳۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُفْطِرُ یَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ یَخْرُجَ، وَکَانَ لَا یُصَلِّی قَبْلَ الصَّلَاۃِ، فَاِذَا قَضٰی صَلَاتَہُ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۴۴)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیدالفطر والے دن نکلنے سے پہلے ناشتہ کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عید سے قبل کوئی نفل نماز نہیں پڑھتے تھے، جب (عید کی) نماز پڑھ لیتے تو (گھر لوٹ کر) دو رکعت پڑھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2838

۔ (۲۸۳۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا کَانَ یَوْمُ الْفِطْرِ لَمْ یَخْرُجْ حَتّٰی یَأْکُلَ تَمَرَاتٍ یَأْکُلُھُنَّ اَفْرَادًا (وَفِی لَفْظٍ وِتْرًا) (مسند احمد: ۱۲۲۹۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر والے دن اس وقت تک نہیں نکلتے تھے، جب تک کھجوریں نہ کھا لیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طاق کھجوریں کھاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2839

۔ (۲۸۳۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ (بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: کَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفِطْرِ لَا یَخْرُجُ حَتّٰی یَطْعَمَ وَیَوْمَ النَّحْرِ لَا یَطْعَمُ حَتّٰی یَرْجِعَ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۷۱)
سیّدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر والے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے اور قربانی والے دن (عید سے) واپس آ کر کھاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2840

۔ (۲۸۴۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) وَلَا یَأْکُلُ یَوْمَ الْأَضْحٰی حَتّٰی یَرْجِعَ فَیَأْکُلَ مِنْ أُضْحِیَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۷۲)
(دوسری سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الاضحی والے دن کچھ نہیں کھاتے تھے، جب تک لوٹ نہ آتے تھے، پھر لوٹ کر اپنی قربانی کا گوشت کھاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2841

۔ (۲۸۴۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: مَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمِ فِطْرٍ قَطُّ حَتّٰی یَأْکُلَ تَمَرَاتٍ، قَالَ: وَکَانَ أَنْسٌ یَأْکُلُ قَبْلَ أَنْ یَخْرُج ثلاثًا، فَاِنْ أَرَادَ أَنْ یَزْدَادَ أَکَلَ خَمْسًا، فَاِنْ أَرَادَ أَنْ یَزْدَادَ أَکَلَ وِتْرًا۔ (مسند احمد: ۱۳۴۶۰)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر کے دن (عید گاہ کی طرف) نہیں جاتے تھے، مگر کھجوریں کھا کر۔ سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود نکلنے سے پہلے تین کھجوریں کھاتے تھے، اگر زیادہ کھانے کا ارادہ ہوتا تو پانچ کھاتے اور اگر اس سے بھی زیادہ کا ارادہ ہوتا تو طاق کھاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2842

۔ (۲۸۴۲) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَبْدَأُ یَوْمَ الْفِطْرِ وَیَوْمَ الْأَضْحٰی بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ یَخْطُبُ فَتَکُوْنُ خُطْبَتُہُ الْأَمْرَ بِالْبَعْثِ وَالسَّرِیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۶۰)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن خطبہ سے پہلے نماز سے ابتداء کرتے تھے، پھر خطبہ ارشاد فرماتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ بھی لشکروں اور دستوں کو بھیجنے ہی کے متعلق ہوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2843

۔ (۲۸۴۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَشْہَدُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ فِی الْعِیْدِ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأٰی أَنَّہُ لَمْ یُسْمِعِ النِّسَائِ فَأَتَاھُنَّ فَذَکَّرَھُنَّ وَوَعظَہُنَّ وَأَمَرَھُنَّ بِالصَّدَقَۃِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَۃُ تُلْقِی الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّیْئَ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر شہادت دیتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عیدمیں خطبہ سے پہلے نماز پڑھی ہے، پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خیال ہوا کہ عورتیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز نہیں سن سکیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس آئے، ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، پس عورتوں نے اپنی بالیاں، انگوٹھیاں اور دوسری چیزیں (سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی جھولی میں) ڈالنا شروع کر دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2844

۔ (۲۸۴۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِیْدَیْنِ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۷)
سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں، (بلکہ کئی بار) عیدین کی نماز پڑھی، وہ اذان و اقامت کے بغیر ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2845

۔ (۲۸۴۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاسِ یَوْمَ فِطْرٍ رَکْعَتَیْنِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِ بِلَالٍ فَانْطَلَقَ اِلَی النِّسَائِ فَخَطَبَہُنَّ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفّٰی مِنْ عِنْدِھِنَّ أَنْ یَأْتِیَہُنَّ فَیَأْمُرَھُنَّ أَنْ یَتَصَدَّقْنَ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو اذان و اقامت کے بغیر عید الفطر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر نماز کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ پکڑا اور عورتوں کی طرف چل گئے اور ان کو خطاب کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے چلے گئے اور سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس جائے اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2846

۔ (۲۸۴۶) عَنْ وَھْبِ بْنِ کَیْسَانَ مَوْلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ فِی یَوْمِ الْعِیْدِ یَقُوْلُ حِیْْنَ صَلّٰی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! کُلٌّ سُنَّۃُ اللّٰہِ وَسُنَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۰۷)
مولائے ابن زبیر وہب بن کیسان کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو عید والے دن (خطبہ میں) یہ کہتے ہوئے سنا، جبکہ انھوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھ لی تھی، :اے لوگو! یہ سب کچھ اللہ کی سنت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2847

۔ (۲۸۴۷) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَشَہِدْتَّ الْعِیْدَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْ لَا مَکَانِی مِنْہُ مَا شَہِدْتُّہُ لِصِغَرِیْ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی عِنْدَ دَارِ کَثِیْرِ بْنِ الصَّلْتِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ خَطَبَ لَمْ یَذْکُرْ أَذَانًا وَلَا اِقَامَۃً۔ (مسند احمد: ۲۰۶۲)
عبد الرحمن بن عابس کہتے ہیں:میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ عید میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اور اگر میرا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک مقام و مرتبہ نہ ہوتا تو میں کم سنی کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکتا، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلے اور کثیر بن صلت کے گھر کے پاس دو رکعتیں ادا کیں اور پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ انھوں نے اذان و اقامت کا ذکر نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2848

۔ (۲۸۴۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَہِدْتُّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِیْدَ وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکُلُّہُمْ صَلّٰی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اور سیّدناابوبکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا ، سب نے اذان و اقامت کے بغیر خطبہ سے پہلے نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2849

۔ (۲۸۴۹) عَنْ أَبِی یَعْقُوْبَ الْخَیَّاطِ قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْفِطْرَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَأَرْسَلَ اِلٰی أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلَہُ کَیْفَ کَانَ یَصْنَعُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ أَبُو سَعِیْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی قَبْلَ أَنْ یَخْطُبَ فَصَلّٰی یَوْمَئِذٍ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۷۴)
ابویعقوب خیاط کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں عید الفطر کی نماز کے موقع پر مصعب بن زبیر کے ساتھ حاضر تھا، انھوں نے یہ پوچھنے کے لیے سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (یہ نماز) کیسے ادا کیا کرتے تھے، انھوں نے بتلایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے، پس اس نے بھی اس دن خطبہ سے قبل نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2850

۔ (۲۸۵۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعِیْدَیْنِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ ثُمَّ خَطَبَنَا ثُمَّ نَزَلَ فَمَشٰی اِلَی النِّسَائِ وَمَعَہُ بِلَالٌ لَیْسَ مَعَہُ غَیْرُہُ، فَأَمَرَھُنَّ بِالصَّدَقَۃِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَۃُ تُلْقِی تُومَتَہَا وَخَاتَمَھَا اِلٰی بِلَالٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر ہمیں عیدین کی نماز پڑھائی، پھر ہمیں خطبہ دیا، اس کے بعد نیچے آ گئے اور عورتوں کی طرف چلے گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صرف سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، سو عورتوں نے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2851

۔ (۲۸۵۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا خَرَجَ یَوْمَ الْعِیْدِ یَأْمُرُ بِالْحَرْبَۃِ فَتُوضَعُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَیُصَلِّی اِلَیْہَا وَالنَّاسُ وَرَائَہُ، وَکَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ فِی السَّفَرِ ثُمَّ اتَّخَذَھَا الْأُمَرَائُ۔ (مسند احمد: ۶۲۸۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب عید کے روز عید گاہ کی طرف جاتے تو حکم دیتے کہ برچھی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے گاڑھا جائے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف نماز پڑھتے، جبکہ لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں اس چیز کا اہتمام کرتے تھے، پھر امراء نے بھی اس سنت کا اہتمام کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2852

۔ (۲۸۵۲) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَبَّرَ فِی عِیْدٍ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ تَکْبِیْرَۃً، سَبْعًا فِی الْأُوْلٰی، وَخَمْسًا فِی الْآخِرَۃِ وَلَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَھَا، قَالَ أَبِی وَأَنَا أَذْھَبُ اِلٰی ھٰذَا۔ (مسند احمد: ۶۶۸۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید کی نماز میں بارہ تکبیرات کہیں، پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ اور عید سے پہلے اور بعد میں کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں: میرے باپ امام احمد نے کہاـ: اور میرا مسلک بھی یہی ہے (کہ بارہ تکبیرات کہی جائیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2853

۔ (۲۸۵۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((التَّکْبِیْرُ فِی الْعِیْدَیْنِ سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَائَۃِ وَخَمْسًا بَعْدَ الْقِرَائَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۶۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عیدین میں سات تکبیریں قراء ت سے پہلے ہیں اور پانچ قراء ت کے بعد۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2854

۔ (۲۸۵۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُکَبِّرُ فِی الْعِیْدَیْنِ سَبْعًا فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی، وَخَمْسًا فِی الْآخِرَۃِ سِوَی تَکْبِیْرَتَیِ الرُّکُوْعِ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۱۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے، یہ رکوع والی تکبیرات کے علاوہ ہوتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2855

۔ (۲۸۵۵) عَنْ مَکْحُوْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو عَائِشَۃَ وَکَانَ جَلِیْسًا لِأَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاصِ دَعَا أَبَا مُوْسَی الْأَشْعَرِیَّ وَحُذَیْفَۃَ ابْنَ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ: کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَبِّرُ فِی الْفِطْرِ وَالْأَضْحٰی؟ فَقَالَ أَبُو مُوْسَی: کَانَ یُکَبِّرُ أَرْبَعَ تَکْبِیْرَاتٍ، تَکْبِیْرَہُ عَلَی الْجَنَائِزِ وَصَدَّقَہُ حُذَیْفَۃُ، فَقَالَ أَبُو عَائِشَۃَ فَمَا نَسِیْتُ بَعْدُ قَوْلَہُ تَکْبِیْرَہُ عَلَی الْجَنَائِزِ وَأَبُو عَائِشَۃَ حَاضِرٌ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاصِ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۷۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہم نشین ابو عائشہ کہتے ہیں: سیّدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیّدنا ابو موسی اشعری اور سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بلایا اور پوچھا: رسول اللہ عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازوں میں تکبیرات کیسے کہتے تھے؟ سیّدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: (ہر رکعت میں) چار تکبیرات کہتے تھے، جیسے جنازے کی تکبیریں ہوتی ہیں۔ سیّدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی تصدیق کی۔ ابو عائشہ کہتے ہیں: میں اس کے بعد ان کی بات جیسے جنازے کی تکبیریں ہوتی ہیں کو نہیں بھول پایا۔ مکحول کہتے ہیں: ابو عائشہ سیّدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مجلس میں حاضر تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2856

۔ (۲۸۵۶)عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الْعِیْدَ فَکَبَّرَ سَبْعًا وَخَمْسًا۔ (مسند احمد: ۵۴۲)
عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے عید کی نماز پڑھی، انہوں نے (پہلی رکعت میں) سات اور (دوسری رکعت میں) پانچ تکبیریں کہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2857

۔ (۲۸۵۷) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقْرَأُ فِی الْعِیْدَیْنِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} وَ {ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ۔} (مسند احمد: ۲۰۳۴۰)
سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیدین کی نمازوں میں سورۂ اعلی اور سورۂ غاشیہ کی تلاوت کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2858

۔ (۲۸۵۸) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّیْثِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِمَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِی الْعِیْدِ؟ (وَفِی رِوَایَۃٍ فِی الْعِیْدَیْنِ) قَالَ: کَانَ یَقْرَأُبِـ {قٓ} وَ {اِقْتَرَبَتْ}۔ (مسند احمد: ۲۲۲۴۱)
عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیّدنا ابوواقد لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید کی نماز میں کون سی قراء ت کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورۂ ق اور سورۂ قمر کی تلاوت کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2859

۔ (۲۸۵۹) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأَ فِی الْعِیْدَیْنِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} وَ {ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ۔} وَاِنْ وَافَقَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَرَأَ بِہِمَا جَمِیْعًا (وَفِی رِوَایَۃٍ) فَرُبَّمَا اجْتَمَعَ الْعِیْدُ وَالْجُمُعَۃُ فَقَرَأَ بِہَا تَیْنِ السُّوْرَتَیْنِ ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۷۳)
سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں عیدوں کی نمازوں میں سورۂ اعلی اور سورۂ غاشیہ کی تلاوت کی اور اگر اس دن جمعہ کا دن آ جاتا تو دونوں نمازوں میں ان ہی کی تلاوت کرتے۔ ایک روایت میں ہے: اگر عید اور جمعہ جمع ہو جاتے تو پھر بھی ان ہی سورتوں کی تلاوت کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2860

۔ (۲۸۶۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِیْدَ رَکْعَتَیْنِ لَا یَقْرَأُ فِیْہِمَا اِلَّا بِأُمِّ الْکِتَابِ لَمْ یَزِدْ عَلَیْہَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۲۱۷۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید کی دو رکعت نماز پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھا، یعنی سورۂ فاتحہ سے زائد کوئی (آیت یا سورت) نہ پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2861

۔ (۲۸۶۱) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: شَہِدْتُ الصَّلَاۃَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمِ عِیْدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَامَ مُتَوَکِّئًا عَلٰی بِلَالٍ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَھُمْ وَحَثَّہُمْ عَلٰی طَاعَتِہِ، ثُمَّ مَضٰی اِلَی النِّسَائِ وَمَعَہُ بِلَالٌ فَأَمَرَ ھُنَّ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَوَعَظَہُنَّ وَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَحَثَّہُنَّ عَلٰی طَاعَتِہِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقْنَ فَاِنَّ أَکْثَرَکُنَّ حَطَبُ جَہَنَّمَ۔)) فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ سَفِلَۃِ النِّسَائِ سَفْعَائُ الْخَدَّیْنِ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الشَّکَاۃَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ۔)) فَجَعَلْنَ یَنْزِعْنَ حُلِیَّہُنَّ وَقَلَائِدَھُنَّ وَقِرَطَتَہُنَّ وَخَوَاتِیْمَہُنَّ یَقْذِفْنَ بِہِ فِی ثَوْبِ بِلَالٍ یَتَصَدَّقْنَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۷۳)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں عید کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز میں موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر خطبہ سے پہلے نمازسے آغاز کیا، تکمیلِ نماز کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو اپنی اطاعت کرنے پر رغبت دلائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں کی طرف چلے گئے، جبکہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا اور مزید وعظ و نصیحت کی، وہاں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی اطاعت پر آمادہ کیا اور پھر فرمایا: صدقہ کیا کرو،پس بے شک تم میں سے اکثر خواتین جہنم کا ایندھن ہیں۔ نچلے درجے کی عورتوں میں سے ایک سیاہ رخساروں والی عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم شکوہ بہت کرتی ہو، اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔ اس کے بعد عورتیں شروع ہوئیں اور صدقہ کرنے کے لیے اپنے زیورات، ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کپڑے میں پھینکنے لگیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2862

۔ (۲۸۶۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَصَدَّقْنَ یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ! وَلَوْ مِنْ حُلیِّکُنَّ فَاِنَّکُنَّ أَکْثَرُ أَھْلِ النَّارِ۔)) فَقَامَتِ أَمْرَأَۃٌ لَیْسَتْ مِنْ عِلْیَۃِ النِّسَائِ فَقَالَتْ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الْلَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ۔)) (مسند احمد: ۳۵۶۹)
سیّدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ اپنے زیورات میں سے ہو، کیونکہ تم میں سے اکثر آگ والیاں ہیں۔ ایک عورت، جو اشراف عورتوں میں سے نہیں تھی، کھڑی ہوئی اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن (اور گالی گلوچ) بہت کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2863

۔ (۲۸۶۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَہِدْتُ الصَّلَاۃَ یَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکُلُّھُمْ کَانَ یُصَلِّیْھَا قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ یَخْطُبُ بَعْدُ، قَالَ: فَنَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنِّی أَنْظُرُ اِلَیْہِ حِیْنَ یُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِیَدِہِ ثُمَّ أَقْبَلَ یَشُقُّہُمْ حَتّٰی جَائَ النِّسَائَ وَمَعَہُ بِلَالٌ فَقَالَ: {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰیٓ أَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا…} فَتَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ حَتّٰی فَرَغَ مِنْہَا، ثُمَّ قَالَ حِیْنَ فَرَغَ مِنْہَا: ((أَنْتُنَّ عَلٰی ذٰلِکَ؟)) فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ وَاحِدَۃٌ لَمْ یُجِبْہُ غَیْرُھَا مِنْہُنَّ: نَعَمْ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لَایَدْرِی حَسَنٌ مَنْ ھِیَ، قَالَ: ((فَتَصَدَّقْنَ۔)) قَالَ: فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَہُ ثُمَّ قَالَ: ھَلُمَّ لَکُنَّ فِدَاکُنَّ أَبِی وَأُمِّی، فَجَعَلْنَ یُلْقِیْنَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِی ثَوْبِ بِلَالٍ، قَالَ ابْنُ بَکْرٍ: اَلْخَوَاتِیْمَ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَجَمَعَہُ فِی ثَوْبٍ حَتّٰی أَمْضَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۰۶۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اور سیّدنا ابوبکر، سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عید الفطر کے دن نماز میں حاضر ہوا ہوں، یہ سب لوگ خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (خطبۂ عید سے فارغ ہو کر) نیچے اترے اور گویا کہ میں اب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ اپنے ہاتھ سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس پہنچ گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَائَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰیٓ أَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا…} (اے نبی! جب تیرے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی …) پوری آیت کی تلاوت کی، جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم اسی (بیعت) پر پابند ہو؟ ایک عورت نے جواب دیا: جی ہاں، اے اللہ کے نبی، کوئی اور عورت نہیں بولی، حسن راوی نہیں جانتا کہ وہ کون تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ پس سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کپڑا بچھایا اور کہا: لاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، سو وہ بڑی انگوٹھیاں اور چھوٹی انگوٹھیاں سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا، انھوں نے سب کچھ کپڑے میں اکٹھا کر لیا، پھر وہ چلے گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2864

۔ (۲۸۶۴) عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ یَوْمَ الْفِطْرِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتٰی النِّسَائَ فَذَکَّرَھُنَّ وَھُوَ یَتَوَکَّأُ عَلٰی یَدِ بِلَالِ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَہُ یُلْقِیْنَ فِیْہِ النِّسَائُ صَدَقَۃً، قَالَ: تُلْقِی الْمَرْأَۃُ فَتَخَہَا وَیُلْقِیْنَ قَالَ ابْنُ بَکْرٍ فَتَخَتَہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۲۱۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیدالفطر کے دن کھڑے ہوئے اور خطبہ سے پہلے نماز سے ابتدا کی، پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، جب اس سے فارغ ہوئے تو اترے اور عورتوں کے پاس آکر ان کو وعظ و نصیحت کی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور وہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے اور عورتیں اس میں اپنا صدقہ ڈال رہی تھیں، اور بڑی بڑی انگوٹھیاں اور دوسرے زیورات صدقہ کر رہی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2865

۔ (۲۸۶۵) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ یَوْمَ الْعِیْدِ فِی الْفِطْرِ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ وَالْأَضْحٰی‘‘ فَیُصَلِّی بِالنَّاسِ تَیْنِکَ الرَّکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَتَقَدَّمُ فَیَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَھُمْ جُلُوْسٌ فَیَقُوْلُ: ((تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا۔)) ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَکَانَ أَکْثَرَ مَا یَتَصَدَّقُ مِنَ النَّاسِ النِّسَائُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمَ وَالشَّیْئِ، فَاِنْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃٌ فِی الْبَعْثِ ذَکَرَہُ وَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ انْصَرَفَ (وَفِی رِوَایَۃٍ) وَاِنْ کَانَ یُرِیْدُ أَنْ یَضْرِبَ عَلَی النَّاسِ بَعْثًا ذَکَرَہُ وَاِلَّا انْصَرَفَ ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۳۵)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن نکلتے،لوگوں کو عید کی دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھتے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، جبکہ لوگ بیٹھے ہوتے، پھر فرماتے: صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو۔ لوگوں میں سب سے زیادہ عورتیں اپنی بالیوں، انگوٹھیوں اور دوسری چیزوں کی صورت میں صدقہ کرتیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اگر کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا ذکر کرتے، اور اگر ایسی کوئی صورت نہ ہوتی تو واپس پلٹ جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2866

۔ (۲۸۶۶) عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِی یَوْمِ عِیْدٍ وَلَمْ یَکُنْ یُخْرَجُ بِہِ، وَبَدَأَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْلَ الصَّلَاۃِ وَلَمْ یَکُنْ یُبْدَأُ بِہَا، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَامَرْوَانُ! خَالَفْتَ السُّنَّۃَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ یَوْمَ عِیْدٍ وَلَمْ یَکُ یُخْرَجُ بِہِ فِی یَوْمِ عِیْدٍ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْلَ الصَّلَاۃِ وَلَمْ یَکُ یُبْدَأُ بِہَا۔ قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ۔ قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِیْدٍ: أَمَّا ھٰذَا فَقَدْ قَضٰی مَا عَلَیْہِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا، فَاِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِیَدِہِ فَلْیَفْعَلْ، وَقَالَ مَرَّۃً فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ بِیَدِہِ فَبِلِسَانِہِ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ بِلِسَانِہِ فَبِقَلْبِہِ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۸۹)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے عید والے دن (عید گاہ میں) منبر رکھوایا، جبکہ یہ اس سے پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبے سے ابتدا کی، جبکہ اس سے نہیں، بلکہ نماز سے ابتدا کی جاتی تھی۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے، تونے آج عید کے دن منبر نکالا ہے، جبکہ اسے نہیں نکالا جاتا تھا اور تو نے نماز سے پہلے خطبہ سے ابتدا کی ہے، حالانکہ خطبہ سے تو ابتدا نہیں کی جاتی تھی۔ سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلان بن فلان ہے۔ پھر انھوں نے کہا؛ اس شخص نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے اور اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت ہو تو وہ اس کو روکے، اگر ہاتھ سے ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھے تو زبان سے روکے، اگر زبان سے بھی قدرت نہ ہو تو دل سے (برا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2867

۔ (۲۸۶۷) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا فِی الْمُصَلّٰی یَوْمَ أَضْحٰی فَأَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمَ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ أَوَّلَ نُسُکِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا الصَّلَاۃُ۔)) قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْہِہِ وَأُعْطِیَ قَوْسًا أَوْ عَصًا فَاتَّکَأَ عَلَیْہِ، فَحَمِدَ للّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَأَمَرَھُمْ وَنَہَاھُمْ وَقَالَ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ عَجَّلَ ذَبْحًا فَاِنَّمَا ھِیَ جَزْرَۃٌ أَطْعَمَہُ أَھْلَہُ، اِنَّمَا الذَّبْحُ بَعْدَ الصَّلَاۃِ۔)) فَقَامَ اِلَیْہِ خَالِی أَبُو بُرْدَۃَ بْنُ نِیَارٍ فَقَالَ: أَنَا عَجَّلْتُ ذَبْحَ شَاتِی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِیُصْنَعَ لَنَا طَعَامٌ نجْتمِعُ عَلَیْہِ اِذَا رَجَعْنَا، وَعِنْدِی جَذَعَۃٌ مِنْ مَعْزٍ ھِیَ أَوْفٰی مِنَ الَّذِی ذَبَحْتُ أَفَتُغْنِی عَنِّی یَارَسُوْلَ اللّٰہَ ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَلَنْ تُغْنِیَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ: {یَا بِلَالُ!} قَالَ: فَمَشٰی وَاتَّبَعَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَتَی النِّسَائَ فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ النِّسْوَانِ! تَصَدَّقْنَ، اَلصَّدَقَۃُ خَیْرٌ لَکُنَّ۔)) قَالَ: فَمَا رَأَیْتُ یَوْمًا قَطُّ أَکْثَرَ خَدَمۃً مَقْطُوْعَۃً وَقِلَادَۃً وَقُرْطًا مِنْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۸۲)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم عید الاضحی والے دن عید گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، لوگوں کو سلام کہا اورفرمایا: تمہار ے اس دن کی پہلی عبادت نماز ہے ۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے، دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کمان یا لاٹھی دی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر ٹیک لگائی اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنابیان کرنے کے بعد لوگوں کو بعض امور کا حکم دیا اور بعض سے منع کیا اور پھر فرمایا: تم میں سے جس شخص نے جلدی کی اور قربانی (نماز سے پہلے) ذبح کر دی تو وہ تو محض گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو کھلایا ہے، قربانی نماز عید کے بعد ہوتی ہے۔ یہ سن کر میرے ماموں سیّدنا ابوبریدہ بن نیار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی بکری کی قربانی جلدی کر بیٹھا ہوں، میرا مقصد تو یہ تھا کہ اتنے میں کھانا تیار ہو جائے گا اور ہم واپس آ کر اکٹھا کھانا کھائیں گے، اب میرے پاس بکر ی کا ایک سال کا (کھیرا) بچہ ہے، لیکن یہ میرے ذبح کیے ہوئے جانور سے موٹا ہے، کیا وہ مجھے کفایت کر سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں،لیکن تیرے بعد کسی سے کفایت نہیں کرے گا ۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بلال! پس سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چل پڑے اور رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے پیچھے ہو لیے، یہاں تک کہ عورتوں کے پاس پہنچ گئے اور (ان کو خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، صدقہ کرنا تمہار ے لیے بہتر ہے۔ (پھر عورتوں نے اتنا صدقہ کیا کہ) میں نے اس دن کی بہ نسبت کبھی بھی اتنے پازیب، ہار اور بالیاں نہیں دیکھی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2868

۔ (۲۸۶۸) عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ مَوْلٰی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْھَرَ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا وَعُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُصَلِّیَانِ یَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحٰی ثُمَّ یَنْصَرِفَانِ یُذَکِّرانِ النَّاسَ، قَالَ: وَسَمِعْتُھُمَا یَقُوْلَانِ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنْ صِیَامِ ھٰذَیْنِ الْیَوْمَیْنِ قَالَ: وَسَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَبْقٰی مِنْ نُسُکِکُمْ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ بَعْدَ ثَـلَاثٍ۔ (مسند احمد: ۴۳۵)
مولائے عبدالرحمن بن ازہر ابو عبید کہتے ہیں: میں نے سیّدنا علی اور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ پہلے عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازیں پڑھاتے، ان سے فارغ ہو کرلوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے،وہ یہ بھی کہتے تھے کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دو دنوں کے روزے سے منع فرمایاہے۔ خود میں نے سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تم میں سے کسی کے پاس قربانی کا گوشت تین دنوں سے زیادہ باقی رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2869

۔ (۲۸۶۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: ثُمَّ شَہِدْتُّہُ مَعَ عَلِیٍّ فَصَلّٰی قَبْلَ أَنْ یَخْطُبَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَھٰی أَنْ تَأْکُلُوا نُسُکَکُمْ بَعْدَ ثَـلَاثِ لَیَالٍ فَـلَا تَأْکُلُوْھَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۳)
(دوسری سند) ابو عبید کہتے ہیں: پھر میں سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حاضر ہوا، انھوں نے اذان و اقامت کے بغیرخطبہ سے پہلے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور کہا: لوگو! بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تم قربانی کا گوشت تین دنوں کے بعد کھاؤ، لہٰذا اس مقدار کے بعد نہ کھایا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2870

۔ (۲۸۷۰) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّیْمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمًا فِی السُّوقِ یَوْمَ الْعِیْدِ یَنْظُرُ وَالْنَّاسُ یَمُرُّوْنَ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۶۵)
سیّدنا عبد الرحمن بن عثمان تیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ عید کے روز بازار میں کھڑے تھے اور لوگوں کو گزرتا ہوا دیکھ رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2871

۔ (۲۸۷۱) عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ خَرَجَ یَوْمَ عِیْدٍ فَلَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَھَا فَذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَہُ۔ (مسند احمد: ۵۲۱۲)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2872

۔ (۲۸۷۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی فِطْرٍ لَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَھَا، ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ وَمَعَہُ بِلَالٌ فَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((تَصَدَّقْنَ)) فَجَعَلَت الْمَرْأَۃُ تُلْقِی خُرْصَھَا وَسِخَابَھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۳۳)
سیّدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیدالفطر کے دن نکلے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہ پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں کے پاس آئے، جبکہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یہ فرمانے لگ گئے: صدقہ کرو۔ پس عورت نے اپنا چھلا اور ہار (سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کپڑے میں) ڈالنا شروع کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2873

۔ (۲۸۷۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُفْطِرُ یَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ یَخْرُجَ، وَکَانَ لَا یُصَلِّی قَبْلَ الصَّلَاۃِ، فَاِذَا قَضٰی صَلَاتَہُ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۴۴)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر کے دن عید گاہ کی طرف نکلنے سے قبل ناشتہ کرتے تھے اور عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے،لیکن جب نماز عید پڑھ لیتے تو (گھر لوٹ کر) دو رکعت ادا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2874

۔ (۲۸۷۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ الْحَبَشَۃَ کَانُوا یَلْعَبُوْنَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمِ عِیْدٍ قَالَتْ: فَاطَّلَعْتُ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِہِ فَطَأْطَأَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْکِبَیْہِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ اِلَیْہِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِۃِ حَتّٰی شَبِعْتُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: حبشی لوگ عید کے دن (مسجد میں) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کھیلا کرتے تھے، ایک دن میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھنے لگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے اپنے کندھے جھکا دیئے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھتی رہی، حتی کہ میں سیر ہو گئی اور چلی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2875

۔ (۲۸۷۵) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ دَخَلَ عَلَیْھَا وَعِنْدَھَا جَارِیَتَانِ فِی أَیَّامِ مِنًی تَضْرِبَانِ بِدُفَّیْنِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسَجًّی عَلَیْہِ بِثَوْبِہِ فَانْتَہَرَھُمَا فَکَشَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجْہَہُ فَقَالَ: ((دَعْہُمَا یَا أَبَا بَکْرٍ! فَاِنَّہَا أَیَّامُ عِیْدٍ۔)) وَقَالَتْ عَائِشَۃُ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتُرُنِی بِرِدَائِہِ وَأَنَا أَنْظُرُ اِلَی الْحَبَشَۃِ یَلْعَبُوْنَ فِی الْمَسْجِدِ حَتّٰی أَکُوْنَ أَنَا أَسْأَمُ فَأَقْعُدُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِیَۃِ الْحَدِیْثَۃِ السِّنِّ الْحَرِیْصَۃِ عَلَی اللَّہْوِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۴۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے، جبکہ دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، یہ مِنٰی والے دن تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کپڑا لپیٹا ہوا تھا، سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو ڈانٹا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چہرے سے چادر کو ہٹایا اور فرمایا: ابو بکر! ان کو چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی چادر کے ذریعے میرا پردہ کرتے اور میں مسجد میں کھیلنے والے حبشیوں کو دیکھتی رہتی، حتی کہ میں ہی اکتا کر بیٹھ جاتی۔ تم لوگوں کو کم سن اور حریص لڑکی کی قدرت ومنزلت کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2876

۔ (۲۸۷۶) عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ دَخَلَ عَلَیْہَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَھَا یَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحٰی وَعِنْدَھَا جَارِیَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّیْنِ فَانْتَہَرَھُمَا أَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْنَا یَا أَبَا بَکْرٍ! اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا، وَاِنَّ عِیْدَنَا ھٰذَا الْیَوْمُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۸۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی میرے پاس تھے اور دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، یہ عید الفطر یا عید الاضحی کا دن تھا، پس انھوں نے ان کو ڈانٹا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! ہمیں چھوڑ دو، بے شک ہر قوم کے لیے عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2877

۔ (۲۸۷۷) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیْنَا أَبُوْبَکْرٍ فِی یَوْمِ عِیْدٍ وَعِنْدَنَا جَارِیَتَانِ تَذْکُرَانِ یَوْمَ بُعَاثَ، یَوْمٌ قُتِلَ فِیْہِ صَنَادِیْدُ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ: عِبَادَاللّٰہِ أَمُزْمُوْرُ الشَّیْطَانِ؟ عِبَادَ اللّٰہِ أَمُزْمُوْرُ الشَّیْطَانِ؟ عِبَادَ اللّٰہِ أَمُزْمُوْرُ الشَّیْطَانِ؟ قَالَھَا ثَـلَاثًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا بَکْرٍ اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا، وَاِنَّ الْیَوْمَ عِیْدُنَا)) (مسند احمد: ۲۵۵۴۲)
(دوسری سند) وہ کہتی ہیں: سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عید والے دن ہمارے پاس آئے، جبکہ ہمارے پاس دو بچیاں یومِ بُعَاث کاذکر کر رہی تھیں، اوس اور خزرج کے سردار اس دن قتل کیے گئے تھے۔ پس سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: اللہ کے بندو! کیا شیطان کی بانسری؟اللہ کے بندو!کیا شیطان کی بانسری؟ اللہ کے بندو! کیا (یہاں پر) شیطان کی بانسری۔تین مرتبہ یہ بات کہی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! بے شک ہر قوم کے لیے ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2878

۔ (۲۸۷۸) عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی حُسَیْنٍ قَالَ: کَانَ یَوْمٌ لِأَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ یَلْعَبُوْنَ فَدَخَلْتُ عَلَی الرُّبَیِِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْن عَفْرَائَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَعَدَ عَلٰی مَوْضِعِ فِرَاشِیْ ھٰذَا وَعِنْدِی جَارِیَتَانِ تَنْدُبَانِ آبَائِیَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا یَوْمَ بَدْرٍ تَضْرِبَانِ بِالدُّفُوْفِ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: بِالدُّفِّ فَقَالَتَا فِیْمَا تَقُوْلَانِ: وَفِیْنَا نَبِیٌّ یَعْلَمُ مَا یَکُوْنُ فِیْ غَدٍ۔ فَقَالَ: ((أَمَّا ھٰذَا فَـلَا تَقُوْلَاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۶۷)
ابوحسین کہتے ہیں: مدینے والوں کے لیے ایک دن ہوتا تھا، اس میں وہ کھیلتے تھے، میںسیدہ ربیع بنت معوذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ پر داخل ہوئے اور میرے اس بستر پر بیٹھ گئے، جبکہ میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو دف بجا کر بدر میں شہید ہونے والے ہمارے آباء کے اوصاف بیان کر رہی تھیں۔ اتنے میں وہ یہ بھی کہنے لگیں: اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بات نہ کہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2879

۔ (۲۸۷۹) عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ أَنَّ قَیْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا مِنْ شَیْئٍ کَانَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا وَقَدْ رَأَیْتُہُ اِلَّا شَیْئًا وَاحِدًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُقَلَّسُ لَہُ یَوْمَ الْفِطْرِ، قَالَ جَابِرٌ ھُوَ اللَّعِبُ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۸)
سیّدنا قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں جو چیز بھی تھی، وہ میں نے دیکھ لی ہے، سوائے ایک چیزکے اور وہ یہ ہے کہ عید الفطر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے دف بجا کر گایا جاتا تھا۔ جابر کہتے ہیں: اس سے مراد کھیلنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2880

۔ (۲۸۸۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ أَیَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِیْھَا أَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ ھٰذِہِ الْأَیَّامِ یَعْنِی أَیَّامَ الْعَشْرِ،)) قَالَ: قَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَا الْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((وَلَا الْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ اِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ، ثُمَّ لَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذٰلِکَ بِشَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ذوالحجہ کے پہلے) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسے نہیں، جن میںنیک عمل اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ پسند ہو۔ صحابہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: اے اللہ کے رسول! (دوسرے دنوں میں) اللہ کے راستے میں کیا ہوا جہاد بھی نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (جی ہاں)اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں، مگر وہ آدمی جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلے، پھر ان میں سے کسی چیز کو بھی لے کر نہ لوٹے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2881

۔ (۲۸۸۱) وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۶۵۰۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2882

۔ (۲۸۸۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ أَیَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ وَلَا أَحَبُّ اِلَیْہِ مِنَ الْعَمَلِ فِیْہِنَّ مِنْ ھٰذِہِ الْأَیَّامِ الْعَشْرِ، فَأَکْثِرُوْا فِیْہِنَّ مِنَ التَّہْلِیْلِ وَالتَّکْبِیْرِ وَالتَّحْمِیْدِ)) (مسند احمد: ۵۴۴۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی دن نہیں، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ عظمت والے ہوں اور جن میں نیک عمل اس کو سب سے زیادہ پسند ہو، بہ نسبت ان دس دنوں کے، پس ان میں بہت زیادہ تہلیل، تکبیر اور تحمید بیان کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2883

۔ (۲۸۸۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیَّامُ التَّشْرِیْقِ أَیَّامُ طُعْمٍ وَذِکْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَقَالَ مَرَّۃً أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ۔)) (مسند احمد: ۷۱۳۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایامِ تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2884

۔ (۲۸۸۴) عَنْ نُبَیْشَۃَ الْھُذَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیَّامُ التَّشْرِیْقِ أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ وَذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۹۷)
سیّدنا نبیشہ ہذلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایامِ تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔

آیت نمبر