MUSNAD AHMED

Search Result (22)

54)

54) عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2925

۔ (۲۹۲۵) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: لَوْ أَنَّ عِبَادِی أَطَاعُوْنِی لَأَسْقَیْتُہُمُ الْمَطَرَ بِاللَّیْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَیْہِمُ الشَّمْسَ بِالنَّہَارِ، وَلَمَا أَسْمَعْتُہُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللّٰہِ مِنْ حُسْنِ عِبَادَۃِ اللّٰہِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَدِّدُوْا اِیْمَانَکُمْ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہَ! وَکَیْفَ نُجَدِّدُ اِیْمَانَنَا؟ قَالَ: ((أَکْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا رب کہتا ہے: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا، ان کے لیے دن کو سورج طلوع کروں گا اوران کو گرج کی آواز نہیں سناؤں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا اس کی اچھی عبادت میں سے ہے۔ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہا کرو ۔کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2926

۔ (۲۹۲۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا یَسْتَسْقِی وَصَلّٰی بِنَا رَکْعَتَیْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللّٰہَ وَحَوَّلَ وَجْہَہُ نَحْوَ الْقِبْلَۃِ رَافِعًا یَدَہُ، ثُمَّ قَلَّبَ رِدَائَ ہُ فَجَعَلَ الْأَیْمَنَ عَلَی الْأَیْسَرِ وَالْأَیْسَرَ عَلَی الْأَیْمَنِ۔ (مسند احمد: ۸۳۱۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن بارش مانگنے کے لیے نکلے اور اذان و اقامت کے بغیر ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اپنا چہرہ قبلہ کی طرف متوجہ کیا، اس حال میں کہ آپ ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر اپنی چادر کو الٹا کیا اور دائیں (طرف والے حصے کو) بائیں پر اور بائیں کو دائیں پر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2927

۔ (۲۹۲۷) عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ زَیْدٍ الْمَازِنِیَّ یَقُوْلُ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمُصَلّٰی وَاسْتَسْقٰی وَحَوَّلَ رِدَائَ ہُ حِیْنَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ، قَالَ اِسْحٰقُ فِی حَدِیْثِہِ: وَبَدَأَ بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَدَعَا۔ (مسند احمد: ۱۶۵۸۰)
سیّدنا عبد اللہ بن زید مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، بارش طلب کی اور جب قبلہ رخ ہوئے تو چادر کوالٹا کیا۔ اسحاق نے اپنی حدیث میں کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ سے قبل نماز سے ابتدا کی، پھر قبلے کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2928

۔ (۲۹۲۸،۲۹۲۹) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنْ عَمِّہِ قَالَ: شَہِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ یَسْتَسْقِیْ فَوَلّٰی ظَھْرَہُ النَّاسَ واسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَحَوَّلَ رِدَائَ ہُ وَجَعَلَ یَدْعُوا وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَجَہَرَ بِالْقَِرائَ ۃِ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَمِّہِ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمُصَلّٰی فَاسْتَسْقٰی وَحَوَّلَ رِدَائَ ہُ حِیْنَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۴۹، ۱۶۵۵۳)
ان کے چچے (سیّدنا عبد اللہ بن زید مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بارش مانگنے کے لیے نکلے اور اپنی پشت لوگوں کی طرف پھیرلی اورقبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پلٹا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعا کرنے لگے، پھر دو رکعت نماز پڑھائی اور اس میں جہری قراء ت کی، (دوسری سند سے مروی ہے) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارش کے لیے دعا کی اور جب قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر کو پلٹا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2929

۔ (۲۹۲۸،۲۹۲۹) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنْ عَمِّہِ قَالَ: شَہِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ یَسْتَسْقِیْ فَوَلّٰی ظَھْرَہُ النَّاسَ واسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَحَوَّلَ رِدَائَ ہُ وَجَعَلَ یَدْعُوا وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَجَہَرَ بِالْقَِرائَ ۃِ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَمِّہِ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمُصَلّٰی فَاسْتَسْقٰی وَحَوَّلَ رِدَائَ ہُ حِیْنَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۴۹، ۱۶۵۵۳)
ان کے چچے (سیّدنا عبد اللہ بن زید مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بارش مانگنے کے لیے نکلے اور اپنی پشت لوگوں کی طرف پھیرلی اورقبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پلٹا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعا کرنے لگے، پھر دو رکعت نماز پڑھائی اور اس میں جہری قراء ت کی، (دوسری سند سے مروی ہے) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارش کے لیے دعا کی اور جب قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر کو پلٹا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2930

۔ (۲۹۳۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا مُتَواضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَرَسِّلًا فَصَلّٰی بِالنَّاسِ رَکْعَتَیْنِ کَمَا یُصَلِّی فِی الْعِیْدِ لَمْ یَخْطُبْ کَخُطْبَتِکُمْ ھٰذِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ڈرتے ہوئے، گڑ گڑاتے ہوئے، عاجزی کرتے ہوئے، پرانے سے کپڑے پہنے ہوئے اور ٹھہر ٹھہر کر چلتے ہوئے نکلے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید کی طرح لوگوں کو دو رکعت نمازپڑھائی اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2931

۔ (۲۹۳۱) عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ھَلْ کَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْفَعُ یَدَیْہِ؟ فَقَالَ: قِیْلَ لَہُ یَوْمَ جُمُعَۃٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَحِطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ، وَھَلَکَ الْمَالُ، قَالَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی رَأَیْتُ بَیَاضَ اِبْطَیْہِ فَاسْتَسْقٰی، وَلَقَدْ رَفَعَ یَدَیْہِ وَمَا نَرٰی فِی السَّمَائِ سَحَابَۃً، فَمَا قَضَیْنَا الصَّلَاۃَ حَتَّی اِنَّ قَرِیْبَ الدَّارِ الشَّابَّ لَیُہِمُّہُ الرُّجُوعُ اِلٰی أَھْلِہِ، قَالَ: فَلَمَّا کَانَتِ الْجُمُعَۃُ الَّتِی تَلِیْہَا، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَہَدَّمَتِ الْبُیُوْتُ وَاحْتَبَسَتِ الرُّکْبَانُ، فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ سُرْعَۃِ مَلَالَۃِ ابْنِ آدَمَ، وَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔)) فَتَکَشَّطَتْ (وَفِی لفظٍ فَتَکَشَّفَتْ) عَنِ الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (دعا کے لیے) اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے؟ انھوں نے کہا: کسی نے جمعہ کے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول ! بارش کا قحط پڑ گیا ہے،زمین خشک ہو گئی ہے اور مال مویشی ہلاک ہو رہے ہیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارش کے لیے دعا مانگی۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے تھے تو آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا، لیکن ابھی تک ہم نے نماز پوری نہیں کی تھی کہ (اتنی زیادہ بارش ہوئی کہ) قریب گھر والے نوجوان کے لیے بھی اپنے گھر کو لوٹنا مشکل ہوگیا۔ جب اس کے بعد والا جمعہ آیا تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھر گرنے لگ گئے ہیں اورقافلے رک گئے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آدم کے بیٹے کے جلدی اُکتا جانے پر مسکرانے لگے اور کہا: اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔ یعنی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا ، نہ کہ ہمارے اوپر۔ پس مدینہ منورہ سے بادل ہٹ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2932

۔ (۲۹۳۲)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: اِنِّی لَقَاعِدٌ عِنْدَ الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ اِذْ قَالَ بَعْضُ أَھْلِ الْمَسْجِدِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حُبِسَ الْمَطَرُ فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۷)
(دوسری سند)ثابت کہتے ہیں: سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جمعہ کے دن منبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، مسجد والوں میں سے کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بارش روک دی گئی ہے، … …۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2933

۔ (۲۹۳۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا نَادٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَمْحَلَتِ الْأَرْضُ وَقَحَطَ النَّاسُ، فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّکَ، فَنَظَرَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی السَّمَائِ وَمَا نَرٰی کَثِیْرَ سَحَابٍ فَاسْتَسْقٰی فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُہُ اِلٰی بَعْضِ، ثُمَّ مُطِرُوا حَتّٰی سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِیْنَۃِ، وَاطَّرَدَتْ طُرُقُہَا أَنْہَارًا، فَمَا زَالَتْ کَذٰلِکَ اِلٰی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ الْمُقْبِلَۃِ مَا تُقْلِعُ، ثُمَّ قَامَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ أَوْ غَیْرُہُ، وَنَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اُدْعَ اللّٰہَ أَنْ یَحْبِسَہَا عَنَّا، فَضَحِکَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔)) فَدَعَا رَبَّہُ فَجَعَلَ السَّحَابُ یَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِیْنَۃِ یَمِیْنًا وَشِمَا لًا یُمْطِرُ مَا حَوْلَھَا وَلَا یُمْطِرُ فِیْہَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۳۷۷۹)
(تیسری سند)سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جمعہ کے دن ایک آدمی نے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آواز دی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اور کہا: اے اللہ کے رسول! بارش رک گئی ہے،زمین نباتات سے خالی ہوگئی ہے اور لوگ قحط زدہ ہو گئے ہیں، اس لیے آپ ہمارے لیے اپنے رب سے بارش کی دعا کریں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا، ہم کوئی زیادہ بادل نہیں دیکھ رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی اوربادل منشتر اور زیادہ ہونے لگے، پھر بارش برسنا شروع ہوئی،مدینہ کے ندی نالے بہنے لگے اور اس کے راستے نہروں کی طرح چلنے لگے، اگلے جمعہ تک بارش اسی طرح ہوتی رہی اور نہ رکی ۔ (اگلے جمعہ میں) وہی یا کوئی اور آدمی کھڑا ہوا، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بارش کو روک دے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد (بارش برسا)، نہ کہ ہم پر ۔جونہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب سے دعا کی، بادل پھٹ کر مدینے سے دائیں اور بائیں ہونے لگ گئے اور مدینے کے ارد گرد بارش برسانے لگ گئے اور جبکہ مدینہ میں کوئی بارش نہیں ہو رہی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2934

۔ (۲۹۳۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ سَنَۃٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَبَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَامَ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلَکَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِیَالُ فَادْعُ اللّٰہُ أَنْ یَسْقِیَنَا، فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَیْہِ وَمَا تُرٰی فِی السَّمَائِ قَزَعَۃٌ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ یَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِہِ حَتّٰی رَأَیْنَا الْمَطَرَ یَتَحَادَرُ عَلٰی لِحْیَتِہِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۲۸)
(چوتھی سند)سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، جمعہ کے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اتنے میں ایک خانہ بدوش آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!مویشی ہلاک ہو گئے ہیںاور اہل و عیال بھوکے ہیں، اس لیے آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں پانی پلائے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے (اور دعا کی)، جبکہ آسمان میں بادل کا ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا، پھر تو پہاڑوں کی طرح بادل جمع ہو گئے اور ابھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے نہیں اترے تھے کہ ہم نے بارش کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک پر گرتے ہوئے دیکھا۔ (پھر بقیہ حدیث بیان کی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2935

۔ (۲۹۳۵) عَنْ شُرَحْبِیْلِ بْنِ السِّمْطِ أَنَّہُ قَالَ لِکَعْبِ بْنِ مُرَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَا کَعْبُ بْنَ مُرَّۃَ! حَدِّثْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاحْذَرْ۔ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ وَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ: اِسْتَسْقِ اللّٰہَ لِمُضَرَ، فَقَالَ: ((اِنَّکَ لَجَرِیئٌ، أَلِمُضَرَ؟)) قَالَ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! اِسْتَنْصَرْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَنَصَرَکَ وَدَعَوْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَأَجَابَکَ۔ قَالَ: فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَیْہِ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ اسْقِنَا غَیْثَا مُغِیْثًا مُرِیْعًا مَرِیْئًا طَبَقًا غَدَقًا عَاجِلًا غَیْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ۔)) قَالَ: فَأُجِیْبُوا، قَالَ: فَمَا لَبِثُو أَنْ أَتوْہُ فَشَکَوْا اِلَیْہِ کَثْرَۃَ الْمَطَرِ، فَقَالُوا: قَدْ تَہَدَّمَتِ الْبُیُوْتُ، قَالَ: فَرَفَعَ یَدِیْہِ وَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔)) قَالَ: فَجَعَلَ السَّحَابُ یَتَقَطَّعُ یَمِیْنًا وَشِمَالًا۔ (مسند احمد: ۱۸۲۳۴)
شرجیل بن سمط نے سیّدنا کعب بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے کعب بن مرۃ! ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو اور احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: مضر قبیلے کے لیے اللہ سے بارش کی دعا کیجیے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو تو بڑا جرأت مند ہے، کیا مضر کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ نے اللہ سے مدد مانگی تو اس نے آپ کی مدد کی اور آپ نے اللہ سے دعا کی تو اس نے قبول کی، (لہٰذا اب کی بار بھی دعا کر دیں)۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہم پر ایسی بارش برسا، جو سختی و پریشانی کو دور کرنے والی ،زمین کو سر سبز کرنے والی اور اچھے انجام والی ہو اور وہ عام بارش ہو اور زیادہ پانی والی ہو، وہ جلدی آنے والی ہو، دیر کرنے والی نہ ہو، نفع دینے والی ہو، نقصان دینے والی نہ ہو۔ پس لوگوں کا مطالبہ پورا ہو گیا اور وہ جلدی ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس (دوبارہ) پہنچے اور بارش کی کثرت کی شکایت کرتے ہوئے کہنے لگے: گھر گرنے لگ گئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد برسا، نہ کہ ہم پر۔ بادل پھٹ کر دائیں بائیں ہونا شروع ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2936

۔ (۲۹۳۶) حدّثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِیْمٍ عَنْ عَمِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ اِلَی الْمُصَلّٰی وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَقَلَبَ رِدَائَ ہُ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، قَالَ سُفْیَانُ: قَلْبُ الرِّدَائِ جَعْلُ الْیَمِیْنِ الشِّمَالَ، وَالشِّمَالِ الْیَمِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۶۵)
ان کا چچا (سیّدنا عبداللہ بن زید مازنی) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، قبلہ رخ ہوئے ، اپنی چادر کو پلٹا اور دو رکعت نماز پڑھی۔سفیان کہتے ہیں: چادر کو پلٹنا یہ ہے دائیں کنارے کو بائیں طرف اور بائیں کنارے کو دائیں طرف کیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2937

۔ (۲۹۳۷)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ: قَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ اسْتَسْقٰی لَنَا أَطَالَ الدُّعَائَ وَأَکْثَرَ الْمَسْأَلَۃَ، قَالَ: ثُمَّ تَحَوَّلَ اِلَی الْقِبْلَۃِ، وَحَوَّلَ رِدَائَ ہُ فَقَلَبَہُ ظَھْرًا لِبَطْنٍ وَتَحَوَّلَ النَّاسُ مَعَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۷۹)
(دوسری سند)عبد اللہ بن زید کہتے ہیں: تحقیق میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے بارش مانگی تو لمبی دعا کی، اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ سوال کیا، پھر قبلے کی طرف پھرے اور اپنی چادر کو الٹا کیا اور اس کے ظاہر کو باطن کی طرف پلٹ دیا، لوگوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چادر کو پلٹا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2938

۔ (۲۹۳۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَسْقٰی وَعَلَیْہِ خَمِیْصَۃٌ لَہُ سَوْدَائُ فَأَرَادَ أَنْ یَأْخُذَ بِأَسْفَلِہَا فَیَجْعَلَہُ أَعْلَاھَا فَثَقُلَتْ عَلَیْہِ فَقَلَبَہَا عَلَیْہِ، اَلْأَیْمَنُ عَلَی الْأَیْسَرِ وَالْأَیْسَرُ عَلَی الْأَیْمَنِ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۷۶)
سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارش کے لیے دعا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سیاہ رنگ کی چادر تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاہا کہ اس کے نچلے حصے کو پکڑ کر اس کو اوپر کردیں، لیکن جب یہ کام مشکل ہوگیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (اس کے اوپر والے حصے کوہی) پلٹ دیا، یعنی دایاں بائیں پر اور بایاں دائیں پر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2939

۔ (۲۹۳۹) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسْتَسْقٰی فَأَشَارَ بِظَہْرِ کَفَّیْہِ اِلَی السَّمَائِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۸۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارش کے لیے دعا کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کی پشتوں کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2940

۔ (۲۹۴۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: لَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی شَیْئٍ مِنْ دُعَائِہِ (وَفِی لَفْظٍ مِنَ الدُّعَائِ) اِلَّا فِی الْاِسْتِسْقَائِ فَاِنَّہُ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَتّٰی یُرٰی بَیَاضُ اِبْطَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۵۱)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے،وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی دعا میں اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، سوائے بارش کی دعا کے، اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہاتھوں کو اتنا بلندکرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2941

۔ (۲۹۴۱) عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی آبِی اللَّحْمِ أَنَّہُ رَأٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَسْقِی عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّیْتِ قَرِیْبًا مِنَ الزَّوْرَائِ قَائِمًا یَدْعُوا یَسْتَسْقِی رَافِعًا کَفَّیْہِ لَا یُجَاوِزُ بِہِمَا رَأْسَہُ مُقْبِلٌ بِبَاطِنِ کَفَّیْہِ اِلٰی وَجْہِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۹۰)
آبی اللحم کے غلام سیّدنا عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو زوراء مقام کے قریب احجاز الزیت کے پاس بارش کے لیے دعا کرتے ہوئے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر دعا کر رہے تھے، اپنے ہتھیلیاں بلند کررکھی تھیں، البتہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر سے تجاوز نہیں کررہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہتھیلیوں کے باطنی حصے کو اپنے چہرے کی طرف متوجہ کررکھاتھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2942

۔ (۲۹۴۲) عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رُبَّمَا ذَکَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ اِلٰی وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ یَسْتَسْقِی فَمَا یَنْزِلُ حَتّٰی یَجِیْشَ کُلُّ مِیْزَابٍ، وَأَذْکُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ: وَأَبْیَضُ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْہِہِ ثِمَاَلُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلأَرَامِلِ وَھُوَ قَوْلُ أَبِی طَالِبٍ ۔ (مسند احمد: ۵۶۷۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے کبھی کبھی شاعر کا یہ قول یاد آجاتا ہے، جبکہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہوںاور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر بارش کے لیے دعا کررہے ہوتے ہیں اور ابھی اس سے اترتے نہیں کہ ہر پرنالہ پانی کی کثرت سے بہہ پڑتا ہے۔مجھے شاعر کا یہ قول یاد آتا ہے: وہ سفید رنگ والا کہ جس کے چہرے کے ذریعے بادلوں سے بارش مانگی جاتی ہے وہ یتیموں کا ملجأ و مأوی ہے اور بیوہ عورتوں کے لیے ڈھال ہے۔ یہ ابو طالب کا قول ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2943

۔ (۲۹۴۳) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ بِالْحُدَیْبِیَۃِ عَلٰی اَثَرِ سَمَائٍ کَانَتْ مِنَ اللَّیْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ، قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِیْ مُؤْمِنٌ بِی کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ وَمُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ کَافِرٌبِی، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰہِ وَرَحْمَتِہِ فَذَالِکَ مُؤْمِنٌ بِی کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا فَذَلِکَ کَافِرٌ بِیْ مُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۸۷)
سیّدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، یہ رات کو بارش ہونے کے بعد کا موقع تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میرے بعض بندوں نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں اور بعض ستاروں پر ایمان رکھنے والے اور میرے ساتھ کفر کرنے والے ہیں۔ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ)جس نے کہا: ہم پر اللہ کے فضل و رحمت سے بارش ہوئی ہے، وہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والا اور ستاروں کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے یہ کہا: ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش برسی ہے، تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستاروں پر ایمان رکھنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2944

۔ (۲۹۴۴) عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مُطِرْنَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَہُ حَتّٰی أَصَابَہُ الْمَطَرُ، قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ صَنَعْتَ ھٰذَا؟ قَالَ:لِأَنَّہُ حَدِیْثُ عَہْدٍ بِرَبِّہِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۹۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں ہم پر بارش کا نزول ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا، یہاں تک اسے بارش کا پانی پہنچا، آپ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسے کیوں کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2945

۔ (۲۹۴۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: مُطِرْنَا بَرَدًا وَأَبُو طَلْحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌صَائِمٌ فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُ، قِیْلَ لَہُ: أَتَأْکُلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟ فَقَالَ: اِنَّمَا ھٰذَا بَرَکَۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۱۶)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے اوپر اولے برسائے گئے اور سیّدنا ابوطلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ روزے دار تھے، نے یہ اولے کھانا شروع کر دیئے۔ کسی نے ان سے کہا: کیا تم یہ کھا رہے ہو، حالانکہ تم روزے دار ہو؟ انہوں نے کہا: بے شک یہ برکت ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2946

۔ (۲۹۴۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا رَأَی الْمَطَرَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۴۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بارش کو دیکھتے تو فرماتے: اَللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔ (اے اللہ! اس کو نفع مند بارش بنا دے)۔

آیت نمبر