Musnad Ahmad

Search Results(1)

55)

55) نمازِکسوف کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2947

۔ (۲۹۴۷) عَنِ ابْنِ عَباَّسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاۃَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمُقِیْمِ أَرْبَعًا وَعَلَی الْمَسُافِرِ رَکَعَتَیْنِ وَعَلَی الْخَائِفِ رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۲۱۲۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان پر مقیم آدمی پر چار، مسافر پر دو اور خوف والے پر ایک رکعت فرض کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2948

۔ (۲۹۴۸) عَنْ أَبِیْ عَیَّاشٍ الزُّرَقِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِکُوْنَ عَلَیْہٖمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ وَہُمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فَقَالُوْا: قَدْ کَانُوْا عَلٰی حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَہُمْ، قَالُوْا: تَأْتِیْ عَلَیْہِمُ الْآنَ صَلَاۃٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ أَبْنَائِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ، ثُمَّ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بِہٰذِہِ الْآیَاتِ بَیْنَ الظَّہْرِ وَالْعَصْرِ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ …} قَالَ: فَحَضَرَتْ فَأَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأخَذُوْا السَّلَاحَ، قَالَ: فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ صَفَّیْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّفِّ الَّذِیْ یَلَیْہِ وَالآخَرُوْنَ قِیَامٌ یَحْرُسُوْنَھُمْ فَلَمَّا سَجَدُو وَقَامُوْا جَلَسَ اْلآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْا فِی مَکَانِھِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ ھٰؤُلَائِ إِلَی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ وَجَائَ ھٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعُوا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوْا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالصَّفُّ الَّذِی یَلِیْہِ، وَالآخَرُوْنََ قِیَامٌ یَحْرُسُوْنَھُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْ فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ: فَصَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ وَسَلَّمَ مَرَّتَیْنِ، مَرَّۃً بِعُسْفَانَ، وَمَرَّۃً بَأَرْضِ بَنِی سُلَیْمٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۹۶)
سیّدنا ابو عیاش زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے۔ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ …} (جب تو ان میں ہو، پس ان کے لیے نماز قائم کرے…۔) جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آ گئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2949

۔ (۲۹۴۹) عَنْ عَطَائِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ صَلَّی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ وَذَکَرَ أَنَّ الْعَدُوَّ کَانُوْا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ وَأِنَّا صَفَفْنَا خَلْفَہُ فَکَبَّرَ وَکَبَّرْنَا مَعَہُ جَمِیْعًا، ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعْنَا مَعَہُ جَمِیْعًا،فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَہُ الصَّفُّ الَّذِی یَلِیْہِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِی نَحْرِالْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَامَ وَقَامَ مَعَہُ الصَّفُّ الَّذِی یَلَیْہِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُوْدِ،ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، فَرَکَعَ وَرَکَعْنَا مَعَہُ جَمِیْعًا،ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَہُ الصَّفُّ الَّذِی یَلَیْہِ، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِی یَلَیْہِ وَجَلَسَ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسَّجُوْدِ،ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِیْعًا۔ قَالَ جَابِرٌ: کَمَا یَفْعَلُ حَرَسُکُمْ ہَؤُلَائِ بِأُمَرَائِہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۸۹)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2950

۔ (۲۹۵۰) عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَا کَانَتْ صَلَاۃُ الْخَوْفِ إِلاَّ کَصَلَاۃِ اَحْرَاسِکُمْ ہٰؤُلَائِ الْیَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِکُمْ، إِلَّا أَنَّہَا کَانَتْ عُقَبًا، قَامَتْ طَائِفَۃٌ وَہُمْ جَمِیْعٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَجَدَتْ مَعَہُ طَائِفَۃٌ، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَجَدَ الَّذِیْنَ کَانُوْا قِیَامًا لِأَنْفُسِہِمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَامُوْا مَعَہُ جَمِیْعًا، ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعُوْا مَعَہُ جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ الَّذِیْنَ کَانُوْا مَعَہُ قِیَامًا أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَقَامَ الْآخَرُوْنَ الَّذِیْنَ کَانُوْا سَجَدُوْا مَعَہُ أَوَّلَ مَرَّۃٍ ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالَّذِیْنَ سَجَدُوْا مَعَہُ فِی آخِرِ صَلَاتِہِمْ سَجَدَ الَّذِیْنَ کَاُنْوَ قِیَامًا لِأَنْفُسِہِمْ ثُمَّ جَلَسُوْا، فَجَمَعَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالسَّلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ نماز خوف اسی طرح ہوتی تھی جس طرح آج کل کے تمہارے پہرہ دار اماموں کے پیچھے ادا کرتے ہیں، البتہ ان کی نماز باری باری ہوتی تھی اور وہ سب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔ سب لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے کرتے تو پہلی صف والے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدے کرتے اور پچھلی صف والے کھڑے رہتے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدوں کے بعدکھڑے ہوتے تو پچھلی صف والے، جو کھڑے رہے تھے، وہ اپنا سجدے کرتے اور پھر سب (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو جاتے۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کرتے تو سب لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع کرتے اور جب آپ سجدے کرتے تو پہلی رکعت میں جو لوگ کھڑے رہے تھے وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدے کرتے اور جن لوگوں نے پہلی دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدے کئے تھے، وہ اب کی بار کھڑے رہتے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ایک صف والے سجدوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ جاتے تو کھڑے ہوئے لوگ اپنے سجدے کرکے بیٹھ جاتے ، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب لوگوں کو سلام میں جمع کر لیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2951

۔ (۲۹۵۱) عَنْ سُلَیْمٍ بْنِ عَبْدٍ السَّلُوْلِیِّ قَالَ: کُنَّا مَعَ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانِ وَمَعَہُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَیُّکُمْ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: أَنَا فَأْمُرْ أَصْحَابِکَ یَقُوْمُوْنَ طَائِفَتَیْنِ طَائِفَۃٌ خَلْفَکَ وَطَائِفَۃٌ بِإِزَائِ الْعَدُوِّ فَتُکَبِّرُ وَیُکَبِّرُوْنَ جَمِیْعًا، ثُمَّ تَرْکَعُ فَیَرْکَعُوْنَ جَمِیَعْاً، ثُمَّ تَرْفَعُ فَیَرْفَعُوْنَ جَمِیْعًا، ثُمَّ تَسْجُدُو وَیَسْجُدُ مَعَکَ الطَّائِفَۃُ الَّتِی تَلِیْکَ، وَالطَّائِفَۃُ الَّتِی بِإِزَائِ الْعَدُوِّ قِیَامٌ بِاِزَائِ اتعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَکَ مِنَ السُّجُوْدِ یَسْجُدُوْنَ، ثُمَّ یَتَأَخَّرُ ہٰؤُلَائِ وَیَتَقَدَّمُ الْآخَرُوْنَ فَقَامُوْا فِی مَصَافِّہِمْ فَتَرْکَعُ فَیَرْکَعُوْنَ جَمِیْعًا، ثُمَ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَۃُ التَّیِ تَلِیَْکَ وَالطَّائِفَۃُ اْلأُخْرٰی قَائِمَۃٌ بِإِزَائِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَکَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدُوْا ثُمَّ سَلَّمْتَ وَسَلَّمَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ، وَتَاْمُرُ أَصْحَابَکَ إِنْ ہَاجَہُمْ ہَیْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَقَدْ حَلَّ لَہُمْ الْقِتَالُ و
سلیم بن عبد سلولی کہتے ہیں:ہم سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان کے علاقہ میں تھے، ان کے ہمراہ کچھ صحابہ بھی تھے۔ انہوں نے پوچھا: آپ میں سے کس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میں نے پڑھی ہے۔ آپ اس طرح کریں کہ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ آپ کے پیچھے دو صفوں میں کھڑے ہو جائیں۔ ایک گروہ آپ کے پیچھے ہو گا اور دوسرا دشمن کے سامنے۔ آپ اللہ اکبر کہیں گے، سب لوگ بھی اللہ اکبر کہیں گے۔ آپ رکوع کریں گے،سب لوگ بھی آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، آپ رکوع سے سر اٹھائیں گے، سب لوگ بھی رکوع سے سر اٹھائیں گے۔ لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو آپ کے ساتھ والی صف سجدے کرے گی اور دوسری صف والے دشمن کے سامنے کھڑے رہیں گے۔ جب آپ سجدے کر لیں گے، تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، پھر پہلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آگے آ جائیں گے اور اسی طریقہ کے مطابق سب لوگ آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو پہلی صف والے لوگ آپ کے ساتھ سجدے کریں گے اور پچھلی صف والے کھڑے رہیں گے، جب آپ سجدے کر لیں گے تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، اس کے بعد جب آپ سلام پھیریں گے تو سب لوگ آپ کے ساتھ سلام پھیریں گے۔نیز آپ اپنے ساتھیوں کو بتلا دیں کہ اگر دشمن حملہ آور ہو جائے تو ان کے لیے (نماز کے دوران) قتال اور کلام جائز ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2952

۔ (۲۹۵۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: غَزَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وآلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّم سِتَّ مِرَارٍ قَبْلَ صَلَاۃِ الْخَوْفِ وَکَانَتْ صَلَاۃُ الْخَوْفِ فِی السَّنَۃِ السَّابِعَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۱۰)
’سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف سے پہلے چھ غزوے کئے تھے اور نماز خوف ہجرت کے ساتویں سال مشروع ہوئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2953

۔ (۲۹۵۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ فَقَامُوْا صَفَّیْنِ، فَقَامَ صَفٌّ خَلْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلُ الْعَدُوِّ، فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّفِّ الذَّیِ یَلَوْنَہُ رَکْعَۃً، ثُمَّ قَامُوْا فَذَہَبُوْا فَقَامُوْا مَقَامَ أَوْلٰئِکَ مُسْتَقْبِلِیْ الْعَدُوِّ،وَجَائَ أُوْلٰئِکَ فَقَامُوْا مَقَامَہُمْ، فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامُوْا فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِہِمْ رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمُوْا، ثُمَّ ذَہَبُوْا فَقَامُوْا مَقَامَ أَوْلٰئِکَ مُسْتَقْبِلِیْ الْعَدُوِّ وَرَجَعَ أُوْلٰئِکَ إِلٰی مَقَامِہِمْ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِہِمْ رَکْعَۃً، ثُمَّ سَلَّمُوْا۔ (مسند احمد:۳۵۶۱)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، لوگ دو صفیں بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ایک صف رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئی اور دوسری دشمن کے مدمقابل رہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ساتھ والی صف کو ایک رکعت پڑھائی۔ اس کے بعد یہ لوگ دشمن کے سامنے چلے گئے اور دوسری صف والے ان کے مقام پر (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے) آ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو اِن لوگوں نے اٹھ کر ایک ایک رکعت پڑھی اور پھر سلام پھیر کر میدان میں دشمن کے سامنے چلے گئے،وہ لوگ (جائے نماز کی طرف) لوٹے اور آ کر ایک ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2954

۔ (۲۹۵۴)عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ بِإِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ وَالطَّائِفَۃُ الْاُخْرٰی مُوَاجِہَۃُ الْعَدُوِّ، ثُمَ انْصَرَفُوْا وَقَامُوْا فِی مَقَامِ أَصْحَابِہِمْ مُقْبِلِیْنَ عَلَی الْعَدُوِّ، وَجَائَ أَوْلٰئِکَ فَصَلّٰی بِہِمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَضٰی ہٰؤُلَائِ رَکْعَۃً وَہٰؤُلَائِ رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۶۳۵۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گروہ کو نماز خوف ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل رہا، پہلا گروہ ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلا گیا اور دوسرے گروہ نے آ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک رکعت پڑھی۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو اِن لوگوں نے اور اُن لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کر لی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2955

۔ (۲۹۵۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّہُ صَلَّاہَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَکَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَفَّ وَرَائَ ہُ طَائِفَۃٌ مِنَّا، وَاَقْبَلَتْ طَائِفَۃٌ عَلَی الْعَدُوِّ، فَرَکَعَ بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ، سَجَدَ مِثْلَ نِصْفِ صَلَاۃِ الصُّبْحِ ثُمَّ انْصَرَفُوْا فَاَقْبَلُوْا عَلَی الْعَدُوِّ فَجَائَ تِ الْطَائِفَۃُ الْأُخْرٰی فَصَفُّوا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَفَعَلَ مِثْلَ ذَالِکَ، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَیْنِ فَصَلّٰی لِنَفْسِہِ رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۶۳۷۷)
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی۔ (اس کی تفصیل یہ تھی:) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا، ہم میں سے ایک گروہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صف بنا کر (نماز شروع کر دی) اور ایک گروہ دشمن پر متوجہ ہوا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکوع اور دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، یہ رکعت نمازِ فجر کے نصف کے برابر تھی، پھر یہ لوگ پھر گئے اور دشمن کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے، پھر دوسرا گروہ آیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صف بنائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے کی طرح ایک رکعت پڑھائی، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو دو گروہوں میں سے ہر بندہ کھڑا ہوا اور علیحدہ علیحدہ دوسجدوں سمیت ایک ایک رکعت ادا کر لی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2956

۔ (۲۹۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: غَزَوْتَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَیْنَا الْعَدُوَّ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۳۷۸)
(تیسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نجد کی جانب ایک غزوہ میں شرکت کی، پس ہم دشمن کے سامنے آگئے …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2957

۔ (۲۹۵۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ بِذِی قَرَدٍ، أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بَنِی سُلَیْمٍ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَہُ صَفَّیْنِ صَفٌّ مُوَازِی الْعَدُوِّ، فَصَلّٰی بِالصَّفِّ الَّذِی یَلِیِْہِ رَکْعَۃً ثُمَّ نَکَصَ ہٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ہٰؤُلَائِ ، وَہٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ہٰؤُلَائِ، فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَۃً أُخْرٰی (زَاد فی روَایۃ) فَکَانَتْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکَعَتَیْنِ وَلِکُلِّ طَائِفَۃٍ رَکَعَۃً۔ (مسند احمد: ۲۱۹۲۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقہ ذی قرد،، میں نمازِ خوف ادا کی، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتداء میں دو صفیں بنا ئیں، ایک صف دشمن کے سامنے رہی اور ایک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی، جو صف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسروں کی جگہ پر چلے گئے اور وہ اِن کی جگہ پر آ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (بقیہ) ایک رکعت ان کو پڑھائی۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2958

۔ (۲۹۵۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ صَلَاۃَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَیْنَ یَدَیْہِ وَصَفٌّ خَلْفَہُ، فَصَلّٰی بِالَّذِی خَلْفَہُ رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ ہٰؤُلَائِ حَتّٰی قَامُوْا فِی مَقَامِ أَصْحَابِہِمْ وَجَائَ أُوْلٰئِکَ حَتّٰی قَامُوْا مَقَامَ ہٰؤُلَائِ، فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَکَانَتْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَانِ وَلَہُمْ رَکْعَۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۲۹)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں نمازِ خوف پڑھائی، (اس کی کیفیت یہ تھی کہ) ایک صف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے کھڑی ہوگئی اور ایک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیچھے والوں کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ آگے بڑھے اور دوسرے گروہ کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور وہ آئے اور اِن کی جگہ پر (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے) کھڑے ہو گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو رکعتیں تھیں اور ان کی ایک ایک۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2959

۔ (۲۹۵۹) عَنْ أَبِی ہُرَْیرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ بَیْنَ ضَجْنَانَِ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: إِنَّ لَہُمْ صَلَاۃً ہِیَ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ آبَائِہِمْ وَاَبْنَائِہِمْ وَہِیَ الْعََصْرُ، فَأَجْمِعُوْا أَمْرَکُمْ فَمِیْلُوْا عَلَیْہِمْ مَیْلَۃً وَاحِدَۃً، وَأِنَّ جِبْرِیْلَ علیہ السلام أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَہُ أَنْ یَقْسِمَ أَصْحَابَہٗ شَطْرَیْنِ فَیُصَلِّیَ بِبَعْضِہِمْ، وَتَقُوْمُ الطَّائِفَۃُ اْلأُخْرٰی وَرَائَ ہُمْ، وَلْیَأْخُذُوا حِذْرَہُمْ وَأَسْلِحَتَہُمْ، ثُمَّ تَأْتِیْ الأُخْرَی فَیُصَلُّوْنَ مَعَہُ وَیَأْخُذُ ہٰؤُلَائِ حِذْرَہُمْ وَأَسْلِحَتَہُمْ لِتَکُوْنَ لَہُمْ رَکْعَۃٌ رَکْعَۃٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۵)
ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کر دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2960

۔ (۲۹۶۰) عَنْ مُخْمِلِ بْنِ دَمَاثٍ قَالَ: غَزَوْتَ مَعَ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَأَلَ النَّاسَ: مَنْ شَہِدَ مِنْکُمْ صَلَاۃَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ (ابْنُ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌): أَنَا، صَلّٰی بِطَائِفَۃٍ مِنَ الْقَوْمِ رَکْعَۃً وَطَائِفَۃٌ مُوَاجِہَۃُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ ذَہَبَ ہٰؤُلَائِ فَقَامُوْا مَقَامَ أَصْحَابِہِمْ مُوَاجِہُوْا الْعَدُوِّ وَجَائَ ْتِ الطَّائِفَۃُ الْأُخْرٰی فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمَ، فَکَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَانِ وَلِکُلِّ طَائِفِۃٍ رَکْعَۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۴۲)
مخمل بن دماث کہتے ہیں: میں سعید بن عاص کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھا، انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا۔ یہ لوگ (ایک رکعت پڑھ کر) دشمن کے بالمقابل اپنے ساتھیوں کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی ایک ایک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2961

۔ (۲۹۶۱) عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَیْرِ عَمَّنْ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاۃَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَۃً صَفَّتْ مَعَہُ وَطَائِفَۃً وِجَاہَ الْعَدُوِّ فَصَلّٰی بِالَّتِی مَعَہُ رَکْعَۃً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوالِأَنْفُسِہِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوْا فَصَفُّوْا وِجَاہَ الْعَدُوِّ وَجَائَ تِ الطَّائِفَۃُ اْلأُخْرٰی فَصَلّٰی بِہِمْ الرَّکْعَۃَ الَّتِی بَقِیَتْ مِنْ صَلَاتِہِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَاَتَمَّوْا لِأَنْفُسِہِمْ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ مَالِکٌ وَہٰذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَیَّ فِی صَلَاۃِ الْخَوْفِ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۲۴)
صالح بن خوات ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جس نے ذات الرقاع والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی تھی، اس نے بیان کیا کہ ایک گروہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صف بنالی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ جو لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر کھڑے رہے کہ ان لوگوں نے خود دوسری رکعت ادا کر لی اور پھر چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے، دوسرا گروہ آیا اور انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی باقی ماندہ رکعت پڑھی، پھر آپ اتنی دیر بیٹھے رہے، کہ یہ لوگ دوسری رکعت ادا کرکے (تشہد میں بیٹھ گئے) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا۔ امام مالکk کہتے ہیں:نماز خوف کے بارے جو کچھ میں نے سنا ہے اس میں سے صورت مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2962

۔ (۲۹۶۲) عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِی حَثْمَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یَقُوْمُ الْإِمَامُ وَصَفٌّ خَلْفَہُ، وَصَفٌّ بَیْنَ یَدَیْہِ فَیُصَلِّی خَلْفَہُ رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ یَقُوْمُ قَائِمًا حَتّٰی یُصَلُّوْا رَکْعَۃً أُخْرٰی (وَفِی رِوَایَۃٍ) ثُمَّ یَقْعُدُ مَکَانَہُ حَتّٰی یَقْضُوا رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ، بَدَلَ قَوْلِہٖ ثُمَّ یَقُوْمُ قَائِمًا) ثُمَّ یَتَقَدَّمُوْنَ إِلٰی مَکَانِ أَصْحَابِہِمْ، ثُمَّ یَجِیْئُ أُوْلٰئِکَ فَیَقُوْمُوْنَ مَقَامَ ہٰؤُلَائِ فَیُصَلِّی بِہِمْ رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ ثُمَّ یَقْعُدُ حَتَّی یَقْضُوْا رَکْعَۃً أُخْرٰی،ثُمَّ یُسَلِّمُ عَلَیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۱)
سیّدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: امام نماز کے لیے کھڑا ہو جائے گا اور ایک صف اس کے پیچھے اور ایک صف اس کے آگے (یعنی دشمن کے سامنے) کھڑی ہو جائے گی۔ امام اپنے پیچھے والے لوگوں کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائے گا، اس کے بعد وہ کھڑا رہے گا، یہاں تک کہ یہ لوگ از خود دوسری رکعت پڑھ لیں۔ ایک روایت میں ہے: پھر امام اپنی جگہ پر بیٹھ جائے یہاں تک کہ وہ دوسری رکعت اور دوسجدے پورے کر کے اپنے ساتھیوں کے مقام پر چلے جائیں اور وہ آ کر (امام کے پیچھے) پہلے والوں کی جگہ پر کھڑے ہو جائیں، پس وہ ان کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائے اور پھر بیٹھ جائے گا، یہاں تک کہ وہ دوسری رکعت از خود ادا کر لیں، پھر امام ان پر سلام پھیر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2963

۔ (۲۹۶۳) عَنْ أَبِی بَکْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّہُ قَالَ: صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ فَصَلّٰی بِبَعْضِ أَصْحَابِہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَتَأَخَّرُوْا، وَجَائَ آخَرُوْنَ فَکَانُوْا فِی مَکَانِہِمْ فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَصَارَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَبَعُ رَکَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۷۱)
سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، یہ لوگ چلے گئے اور دوسرے آ کر ان کے مقام پر کھڑے ہو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2964

۔ (۲۹۶۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَاتَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحَارِبَ خَصَفَۃَ بِنَخْلٍ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ غِرَّۃً، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتّٰی قَامَ عَلٰی رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالسَّیْفِ، فَقَالَ: مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی، قَالَ: ((اَللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) فَسَقَطَ السَّیْفُ مِنْ یَدِہِ فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ یَمْنَعُکَ مِِنِّیْ؟)) قَالَ: کُنْ کَخَیْرِ آخِذٍ، قَالَ: ((أَتَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ؟)) قَالَ: لَا، وَلٰکِنِّی أُعَاہِدُکَ أَنْ لَا أُقَاتِلَکَ وَلَا أَکُوْنَ مَعَ قَوْمٍ یُقَاتِلُوْنَکَ، فَخَلّٰی سَبِیْلَہُ، قَالَ: فَذَہَبَ إِلٰی أَصْحَابِہِ، قَالَ: قَدْ جِئْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ خَیْرِ النَّاسِ، فَلَمَّا کَانَ الظَّہْرُ أَوْ الْعَصْرُ صَلّٰی بِہِمْ صَلَاۃَ الْخَوْفِ فَکَانَ النَّاسُ طَائِفَیَتْنِ، طَائِفَۃٌ بِإِزَائِ عَدُوِّہِمْ وَطَائِفَۃٌ صَلَّوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّی بِالطَّائِفَۃِ الَّذِیْنَ کَانُوْا مَعَہُ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوْا فکَانُوْا مَکَانَ اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ کَانُوْا بِإِزَائِ عَدُوِّہُمْ وَجَائَ أُوْلٰئِکَ فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ، فَکَانَ لِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ، وَلِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعُ رَکْعَاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۹۱)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی نخل میں محارب خصفہ کے لوگوں سے لڑائی کے لیے تشریف لے گئے۔ جب ان لوگوں نے مسلمانوں میں غفلت کا مشاہدہ کیا تو ایک دشمن غورث بن حارث موقعہ پا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر تلوار لیے آ پہنچا اور بولا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ۔ اتنے میںتلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، اب کی بار رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلوار اٹھا لی اور فرمایا: اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ وہ بولا: آپ اس تلوار کو پکڑنے والے بہترین آدمی بن جائیں (یعنی مجھ پر احسان کریں)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ البتہ میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ نہ میں آپ کے مقابلے میں آئوں گا اور نہ آپ کے ساتھ لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا اور جا کر کہا: میں بہترین آدمی کے پاس سے آیا ہوں۔ پھر جب ظہر یا عصر کا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو نمازِ خوف پڑھائی۔ لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ دشمن کے مقابلے میں رہا اور دوسرا گروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کی جگہ پر یعنی دشمن کے بالمقابل کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ نماز کے لیے آ گئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس طرح لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2965

۔ (۲۹۶۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ کُنَّا إِذَا أَتَیْنَا عَلٰی شَجَرَۃٍ ظَلِیْلَۃٍ تَرَکْنَاہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ رََجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکُوْنَ، وَسَیْفُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُعَلَّقٌ بَشَجَرَۃٍ فَأَخَذَ سَیْفَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاخْتَرَطَہُ، ثُمَّ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَتَخَافُنِی؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: فَمَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَمْنَعُنِی مِنْکَ)) فَتَہَدَّدَہُ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَغْمَدَ السَّیْفَ وَعَلَّقَہُ، فَنُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ، فَصَلّٰی بِطَائِفَۃٍ رَکْعَتَیْنِ وَتَأَخَّرُوْا وَصَلّٰی بِالطَّائِفَۃِ الْأُخْرٰی رَکْعَتَیْنِ فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۹۰)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ ذات الرقاع مقام تک پہنچ گئے، جب ہم کسی سایہ دار درخت کے پاس آتے تو اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے چھوڑ دیتے۔ تو ایک مشرک آیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی،اس نے یہ تلوار پکڑی اور اسے سونت کر کہا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ وہ بولا: تو پھر اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ صحابۂ کرام اس کو جھڑکنے لگے، پس اس نے تلوار میان میں ڈالی اور اسے لٹکا دیا، اتنے میں نماز کے لیے اذان دے دی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ لوگ چلے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2966

۔ (۲۹۶۶) عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ہَلْ صَلَّیْتَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: نَعَمْ، فَقَالَ: مَتَی؟ قَالَ: عَامَ غَزْوَۃِ نَجْدٍ، قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقَامَتْ مَعَہُ طَائِفَۃٌ وَطَائِفَۃٌ أُخْرَی مُقَابِلَۃَ الْعَدُوِّ ظُہُوْرُہُمْ إِلَی الْقِبْلَۃِ، فَکَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَبَّرُوْا جَمِیْعًا، اَلَّذِیْنَ مَعَہُ وَالَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ الْعَدُوَّ، ثُمَّ رَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ رَکَعَتْ مَعَہُ الطَّائِفَۃُ الَّتِی تَلِیْہِ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِی تَلِیْہِ والآخَرُوْنَ قِیَامٌ مُقَابِلَۃَ الْعَدُوِّ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَامَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِی مَعَہُ إِلَی الْعَدُوِّ فَذَہَبُوْا إِلَی الْعَدُوِّ فَقَابَلُوْہُمْ، وَأَقَبْلَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِی کَانَتْ مُقَابِلَۃَ الْعَدُوِّ فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوْا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمٌ کَمَا ہُوَ، ثُمَّ قَامُوْا فَرَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکَعَۃً أُخْرَی رَکَعُوْا مَعَہُ وَسَجَدُوْا مَعَہُ، ثُمَّ أَقْبْلَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِی کَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوْا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعِدٌ وَمَنْ تَبِعَہُ، ثُمَّ کَانَ التَّسْلِیْمُ، فَسَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَلَّمُوْا جَمِیْعًا کَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَانِ وَلِکُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَیْنِ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۸۲۴۳)
مروان بن حکم نے سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیاکہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس نے پوچھا: کب؟ انھوں نے کہا: غزوہ نجد کے موقع پر، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ایک گروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے، اِس گروہ کی پشت قبلہ کی جانب تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکبیر کہی تو سب لوگوں نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی۔ لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ والی صف نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدے کئے تو انہی لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدے کئے۔ اس دوران دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدوں کے بعد (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے تو یہ لوگ سجدوں سے اٹھ کر دشمن کے سامنے چلے گے اور وہ گروہ اِ س گروہ کی جگہ پر (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے) آ گیا، اِن لوگوں نے آ کر (پہلی رکعت کے) رکوع اور سجدے کیے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے رہے، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت ادا کی اور ان لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع اور سجدے کیے، پھر دشمن کے سامنے کھڑے ہونے والا گروہ آیا اور (دوسری رکعت) کے رکوع و سجود ادا کیے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے ساتھ والے نمازی بیٹھے رہے، پھر سلام تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا اور ان سب لوگوں نے بھی سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بھی دو رکعتیں تھیں اور دونوں گروہوں میں سے ہر آدمی کی بھی دو دو رکعتیں تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2967

۔ (۲۹۶۷) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزَّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ، قَالَتْ: فَصَدَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّاسَ صِدْعَیْنِ، فَصَفَّتْ طَائِفَۃٌ وَرَائَ ہُ وَقَامَتْ طَائِفَۃٌ تِجَاہَ الْعَدُوِّ،قَالَتْ: فَکَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَبَّرَتِ الطَّائِفَۃُ الَّذِیْنَ صَفُّوا خَلْفَہُ، ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعُوْا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوْا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْسَہُ فَرَفَعُوْا مَعَہُ ثُمَّ مَکَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا وَسَجَدُوْا لِأَنْفُسِہِمْ السَّجْدَۃَ الثَّانِیَۃَ، ثُمَّ قَامُوْا فَنَکَصُوْا عَلٰی أَعْقَابِہِمْ یَمْشُوْنَ الْقَہْقَرٰی، حَتّٰی قَامُوْا مِنْ وَرَائِہِمْ، قَالَتْ: فَاقْبَلَتِ الطَّائِفَۃُ الْأُخْرٰی فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَبَّرُوْا، ثُمَّ رَکَعُوْا الِأَنْفُسِہِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجْدَتَہُ الثَّانِیَۃَ، فَسَجَدُوْا مَعَہُ، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَکْعَتِہٖ وَسَجَدُوا ھُمْ لِأَنْفُسِھِمْ السَّجْدَۃَ الثَّانِیَۃَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَائِفَتَانِ جَمِیْعًا فَصَفُّوْا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَکَعَ بِھِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَکَعُوْا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوْا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَرَفَعُوْا مَعَہُ، کُلُّ ذَالِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیْعًا جِدَّا، لَا یَألُوْا أَنْ یُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمُوْا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ شَرِکَہُ النَّاسُ فِی الصَّلَاۃِ کُلِّہَا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۸۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وادیٔ نخل میں ذات الرقاع کے مقام پر نمازِ خوف پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک گروہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صف بنائی اور ایک گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا ہو گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑے ہونے والوں نے بھی اللہ اکبر کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور اِن نمازیوں نے مل کر رکوع اور ایک سجدہ کیا۔پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا، لوگوں نے بھی سر اٹھائے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے اور انھوں نے دوسرا سجدہ از خود کیا، پھر کھڑے ہو گئے اور پچھلے پاؤں پیچھے ہٹنا شروع ہو گئے، یہاں تک ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ اب دوسرا گروہ آ گیا، انہوں نے آ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صف بنائی، اللہ اکبر کہا اور ازخود رکوع کر لیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرا سجدہ کیا، اِن لوگوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، سجدہ کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی دوسری رکعت کے لیے اٹھے اور ان لوگوں نے دوسرا سجدہ خود کر لیا۔ اس کے بعد دونوں گروہ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدے کئے تو سب لوگوں نے سجدے کئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدوں سے اٹھے تو سب لوگ سجدوں سے اٹھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سارے اعمال بہت جلدی سے سر انجام دیئے۔ جس قدر تخفیف ممکن تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنی تخفیف کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو سب لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سلام پھیرا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سب لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز میں شرکت کی سعادت حاصل کر چکے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2968

۔ (۲۹۶۸) عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْیَانَ بْنِ نُبَیْحٍ یَجَْمُع لِیَ النَّاسَ لِیَغْزُوْنِی وَہُوَ بِعُرَنَۃَ، فَأْتِہِ فَاقْتُلْہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْعَتْہُ لِی حَتّٰی أَعْرِفَہُ، قَالَ: ((إِذَا رَأَیْتَہُ وَجَدْتَّ لَہُ قُشَعْرِیْرَۃً۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَیْفِی حَتّٰی وَقَعْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ بِعُرَنَۃَ مَعَ ظُعُنٍ یَرْتَادُ لَہُنَّ مَنْزِلاً، وَحِیْنَ کَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَیْتُہُ وَجَدْتُّ مَا وَصَفَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْقُشْعْرِیْرَۃِ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَہُ وَخَشِیْتُ أَنْ یَکُوْنَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ مُحَاوَلَۃٌ تَشْغَلُنِیِ عَنِ الصَّلَاۃِ ، فَصَلَّیْتُ وَأَنا أَمْشِی نَحْوَہُ أُوْمِیُٔ بِرَأْسِی الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَلَمَّا انْتَہَیْتُ إِلَیْہِ قَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِکَ وَبِجَمْعِکَ لِہَذَا الرَّجُلِ، فَجَائَ کَ لِہَذَا، قَالَ: أَجَلَ أَناَ فِی ذَالِکَ، قَالَ: فَمَشَیِتُ مَعَہُ شَیْئًا، حَتّٰی إِذَا أَمْکَنَنِیِ، حَمَلْتُ عَلَیْہِ السَّیْفَ، حَتّٰی قَتَلْتُہُ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَکْتُ ظَعَائِنَہُ مُکِبَّاتٍ عَلَیْہِ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَآنِی فَقَالَ: ((أَفْلَحَ الْوَجْہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: قَتَلْتُہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((صَدَقْتَ۔)) الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۴۳)
سیّدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح میرے مقابلہ کے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے اور وہ اس وقت عُرَنَہ مقام میں ہے، تم جا ؤ اور اسے قتل کر دو ۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کی کوئی علامت بیان فرمائیں ،تاکہ میں پہچان لوں کہ یہ وہی شخص ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اسے دیکھو گے تو اس کی وجہ سے ایک دفعہ تم پر جھرجھری طاری ہو گی۔ پس میں نے تلوار لی اور اس کے پاس جا پہنچا۔ وہ واقعی عرنہ مقام میں اپنی عورتوں کے ساتھ تھا اور وہ ان کے لیے جگہ بنا رہا تھا۔ اُدھر نمازِ عصر کا وقت بھی ہو چکا تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد کے مطابق مجھ پر جھرجھری طاری ہو گئی، میں اس کی طرف بڑھا۔ مجھے یہ خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی ایسا جھگڑا ہو جائے جو نماز سے غافل کر دے۔ اس لیے میں نے اس کی طرف چلتے چلتے ہی نماز پڑھنا شروع کر دی، اشارے سے رکوع و سجود کرتا گیا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا: کون ہو؟ میں کہا : ایک عربی ہوں، آپ کے بارے سنا ہے کہ آپ اس آدمی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )کے مقابلے کے لیے لوگوں کو جمع کر رہے ہو، اسی لیے میں بھی حاضر ہوا ہوں، اس نے کہا: جی ہاں، میں اسی کوشش میں ہوں۔ پس میں اس کے ساتھ چلتا رہا، جب اس نے مجھے موقع دیا تو میں نے تلوار کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر ڈالا اور اس حال میں وہاں سے نکل آیا کہ اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: کامیاب رہے ہو۔ میں عرض کیا: اے رسول اللہ! میں اسے قتل کر آیا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک کہتے ہو۔ الحدیث۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2969

۔ (۲۹۶۹) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ لِسَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: وَتَأْمُرُ أَصْحَابَکَ إِنَّ ہَاجَہُمْ ہَیْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَقَدْ حَلَّ لَہُمْ الْقِتَالُ وَالْکَلَامُ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۴۷)
سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیّدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا تھا: آپ اپنے ساتھیوں سے کہہ دیں اگر (دوران نماز) دشمن حملہ آور ہوجائے تو ان کے لیے قتال اور کلام دونوں جائز ہیں۔

آیت نمبر