Musnad Ahmad

Search Results(1)

56)

56) نمازِ استسقاء کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2970

۔ (۲۹۷۰)عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَکْثِرُوْا ذِکْرَ ھَاذِمِ اللَّذَّاتِ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۱۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لذتوں کو چھڑا دینے والی کو کثرت سے یاد کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2971

۔ (۲۹۷۱) عَن الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بَصُرَ بِجَمَاعَۃٍ، فَقَالَ: ((عَلَامَ اجْتَمَعَ عَلَیْہِ ہٰؤُلَائِ؟)) قِیْلَ: عَلٰی قَبْرٍ یَحْفِرُوْنَہُ، قَالَ: فَفَزِعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَ بَیْنَ یَدَیْ أَصْحَابِہِ مُسْرِعًا حَتّٰی انْتَہٰی إِلَی الْقَبْرِ فَجَثَا عَلَیْہِ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُہُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ أَنْظُرُ مَا یَصْنَعُ فَبَکٰی حَتّٰی بَلَّ الثَّرٰی مِنْ دُمُوْعِہِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا قَالَ: ((أَیْ إِخْوَانِی لِمِثْلِ الْیَوْمِ فَأَعِدُّوْا۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۰۲)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک جگہ لوگوں کو جمع دیکھا اور پوچھا: یہ لوگ کیوں اور کسی چیز پر جمع ہیں؟ کسی نے کہا: یہ ایک قبر پر جمع ہیں، اسے کھود رہے ہیں۔ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پریشان ہو گئے اور اپنے صحابہ کے آگے آگے جلدی جلدی لپکے اور قبر کے پاس کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے، میں آپ کے سامنے آیا تاکہ دیکھ سکوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر روئے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آنسوئوں سے زمین تر ہو گئی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میرے بھائیو! اس دن کے لیے تیاری کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2972

۔ (۲۹۷۲) عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: کَانَ أَوَّلُ یَوْمٍ عَرَفْتُ فِیْہِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ ابْنَ أَبِی لَیْلٰی رَأَیْتُ شَیْخًا أَبْیَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ عَلٰی حِمَارٍ وَہُوَ یَتْبَعُ جَنَازَۃً فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ، حَدَّثَنِی فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہ لِقَائَ ہُ وَمَنْ کَرِہَ لِقَائَ اللّٰہُ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ۔)) قَالَ: فَأَکَبَّ الْقَوْمُ یَبْکُوْنَ، فَقَالَ: ((مَایُبْکِیْکُمْ؟)) فَقَالُوْا: اِنَّا نَکْرَہُ الْمَوْتَ، قَالَ: ((لَیْسَ ذَالِکَ وَلٰکِنَّہُ إِذَا حُضِرَ، {فَأَمَّا إِنْ کَانَ مِنَ الْمُقْرَّبَیْنِ، فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ وَّجَنَّۃُ نَعِیْمٍ۔} فَإِذَا بُشِّرَ بِذَالِکَ أَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ لِلِقَائِہٖ أَحَبُّ، {وَأَمَّا اِنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَ، فَنُزُلٌ مِنْ حَمِیْمٍ۔} قَالَ عَطَائَ (یَعْنِی ابْنَ السَّائِبِ) وَفِی قِرَائَ ۃِ ابْنِ مَسْعُودٍ: {ثُمَّ تَصْلِیَۃُ جَحِیْمٍ} فَإِذَا بُشِّرَ بِذَالِکَ یَکْرَہُ لِقَائَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ لِلقَائِہِ أَکْرَہُ۔(مسند احمد: ۱۸۴۷۲)
عطاء بن سائب کہتے ہیں: پہلا دن، جس میں عبدالرحمن بن ابی لیلی سے میری معرفت ہوئی، اس میں یوں ہوا کہ میں نے گدھے پر سوار ایک بزرگ دیکھا، اس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے اور وہ ایک جنازے کے پیچھے چل رہا تھا اور یہ بیان کر رہا تھا: مجھے فلاں بن فلاں صحابی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ یہ سن کر لوگ رونے لگ گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم روتے کیوں ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں (اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند نہیں کرتے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات اس طرح نہیں ہے، جب کسی کی موت قریب آجاتی ہے تو اگر وہ اللہ تعالیٰ کے مقرّب بندوں میں سے ہوتا ہے تو اس کے لیے راحت، خوشبو اور نعمتوں والا باغ ہوتا ہے، اس لیے جب اسے ان چیزوں کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو زیادہ چاہنے والا ہوتا ہے۔لیکن اگر وہ شخص جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوتا ہے تو اس کی میزبانی کھولتا ہوا پانی ہوتا ہے اور پھر بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہونا ہوتا ہے، اس لیے جب اسے ان چیزوں کی بشارت سنائی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو بہت ناپسند کرنے والا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2973

۔ (۲۹۷۳) عَنْ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ شُرَیْحُ بْنُ ہَانِیٍٔ: بَیْنَمَا أَنَا فِی مَسْجِدِ الْمَدِیْنَۃِ إِذْ قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یُحِبُّ رَجُلٌ لِقَائَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ إِلَّا أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَہُ وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَائَ اللّٰہِ إِلَّا أَبْغَضَ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ۔)) فَأَتَیْتُ عَائِشَۃَ، فَقُلْتُ: لَئِنْ کَانَ مَا ذَکَرَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَقَّا لَقَدْ ہَلَکْنَا۔ فَقَالَتْ: إِنَّمَا الْہَالِکُ مَنْ ہَلَکَ فِیْمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَمَا ذَالِکَ؟ قَالَ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یُحِبُّ رَجُلٌ لِقَائَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ إِلَّا أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَائَ اللّٰہِ إِلَّا أَبْغَضَ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ۔)) قَالَتْ: وَأنَا أَشْہَدُ أَنِّیْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ذَالِکَ، فَہَلْ تَدْرِی لِمَ ذَالِکَ؟ إِذَا حَشْرَجَ الصَّدْرُ وَطَمَحَ الْبَصَرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ، وَتَشَنَّجَتِ الأَصَابِعُ، فَعِنْدَ ذَالِکَ مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ، وَمَنْ أَبْغَضَ لِقَائَ اللّٰہُ أَبْغَضَ اللّٰہِ لِقَائَ ہُ۔ (مسند احمد: ۸۵۳۷)
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں مدینہ کی مسجد میں تھا، سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہاں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ میں یہ حدیث سن کر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس چلا گیا اور کہا: اگر بات اسی طرح ہو جیسے سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب ہلاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد کے مطابق جو ہلاک ہوا، وہ تو واقعی ہلاک ہونے والا ہے، بھلا بات ہے کون سی؟ میں نے کہا: سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا، اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔یہ سن کر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں بھی گواہی دیتی ہوں کہ میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے۔ بھلا کیا تم جانتے ہو ایسا کیوں ہو گا؟ جب سینے سے سانس کے گھٹنے کی آواز آنے لگے گی، نظر کھلی رہ جائے گی، رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور انگلیاں اکڑ جائیں گے، اس موقعہ پر جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات پسند کرتاہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند نہ کرتا، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2974

۔ (۲۹۷۴) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: إِذَا أَحَبَّ الْعَبْدُ لِقَائِیْ أَجْبَبْتُ لِقَائَ ُہ وَإِذَا کَرِہَ الْعَبْدُ لِقَائِی کَرِہْتُ لِقَائَ ُہ۔)) قَالَ: فَقِیْلَ لِأَبِیْ ہُرَیْرَۃَ: مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَہُوَ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَیَفْظَعُ بِہِ؟ قَالَ أَبُوْہُرَیْرَۃَ: أَنَّہُ إِذَا کَانَ ذَالِکَ کُشِفَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۹۸۲۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: جب بندہ میری ملاقات کو پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہوں، اور جب بندہ میری ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ۔کسی نے سیدہ ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے؟ انہوں نے کہا: جب موت کا وقت قریب آتا ہے تو سب کچھ سامنے آ جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2975

۔ (۲۹۷۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَہٗ، وَمَنْ کَرِہَ لِقَائَ اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَہُ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُلُّنَا نَکْرَہُ الْمَوْتَ۔ قَالَ: ((لَیْسَ ذَاکَ کََرَاہَۃُ الْمَوْتِ، وَلٰکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ جَائَ ہُ الْبَشِیْرُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِمَا صَائِرٌ إِلَیْہِ فَلَیْسَ شَیْئٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَکُوْنَ قَدْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَہُ وَإِنَّ الْفَاجِرَ أَوْالْکَافِرَ إِذَا حُضِرَ جَائَہُ بِمَا ہُوَ صَائِرٌ إِلَیْہِ مِنَ الشَّرِّ وَمَا یَلْقَاہُ مِنَ الشَّرِّ، فَکَرِہَ لقِاَء َاللّٰہِ وَکَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۷۰)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو چاہتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنے کو ناپسند کرتاہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (جو تم سمجھ رہے ہو) یہ موت کو ناپسند کرنا نہیں ہے۔ بات یہ ہے جب مومن کی وفات کا وقت قریب آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بشارت دینے والا فرشتہ آ کر اسے اس کے انجام سے مطلع کرتا ہے، اس وقت اسے اللہ تعالیٰ کی ملاقات سب سے زیادہ محبوب ہوتی ہے، تواللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرنے لگتا ہے، لیکن جب فاجر یا کافر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تواس کے پاس آنے والا اسے اس کے برے انجام پر مطلع کرتا ہے، سو وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2976

۔ (۲۹۷۶)عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا َنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ وَمَنْ کَرِہَ لِقَائَ اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۲۴)
سیّدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2977

۔ (۲۹۷۷) وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہُ وَزَادَتْ وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَائِ اللّٰہِ۔(مسند احمد: ۲۴۶۷۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُسی طرح کی حادیث مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: اور موت کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کی ملاقات والے مسئلہ سے پہلے کا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2978

۔ (۲۹۷۸) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُکُمْ مَا أَوَّلُ مَا یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَا أَوَّلُ مَا یَقُوْلُوْنَ لَہُ۔)) قُلْنَا: نَعَمْ یَا رَسُوْْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ہَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِی؟ فَیَقُوْلُوْنَ: نَعَمْ یَا رَبَّنَا، فَیَقُوْلُ لِمَ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: رَجَوْنَا عَفْوَکَ وَمَغْفِرَتَکَ فَیَقُوْلُ قَدْ وَجَبَتْ لَکُمْ مَغْفِرَتِیْ)) (مسند احمد: ۲۲۴۲۲)
سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں یہ بتلا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اہل ایمان سے سب سے پہلے کیا فرمائے گا اور وہ اس کو کیا کہیں گے؟ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول اللہ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومنوں سے کہے گا: کیا تم میری ملاقات پسند کرتے تھے؟ وہ کہے گے: جی ہاں، اے ہمارے ربّ! اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیوں؟ وہ کہیں گے: ہم تیری معافی اور بخشش کی امید رکھتے تھے۔ پس وہ کہے گا: تمہارے لیے میری بخشش واجب ہو چکی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2979

۔ (۲۹۷۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ قَبْلَ مَوْتِہِ بِثَلَاثٍ: ((اَ لَا،لَا یَمُوْتَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلَّا وَہُوَ یُحْسِنُ بِاللّٰہِ الظَّنَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۳۹)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات سے تین روز قبل یوں فرماتے ہوئے سنا: خبردار! تم میں سے جس کسی کو بھی موت آئے تو وہ اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسنِ ظن رکھتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2980

۔ (۲۹۸۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَمُوْتَنَّ أَحَدُ کُمْ إِلَّا وَہُوَ یُحْسِنُ بِاللّٰہِ الظَّنَّ، فَإِنَّ قَوْمًا قَدْ أَرْدَاہُمْ سُوئُ ظَنِّہِمْ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ {وَذَالِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِی ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ أَرْدَاکُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ۔})) (مسند احمد: ۱۵۲۶۷)
(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کسی کو بھی موت آئے تو اس حال میںآئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو، ایک قوم کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوئے ظن نے ہلاک کر دیا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: تمہاری اس بد گمانی نے جو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالآخر تم گھاٹا پانے والوں میں ہو گئے۔ (سورہ حم سجدۃ: ۲۳)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2981

۔ (۲۹۸۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِیْ، إِنْ ظَنَّ بِیْ خَیْرًا فَلَہُ وَإِنْ ظَنَّ شَرَّا فَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۹۰۶۵)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ میرے بارے جو گمان کرتا ہو، میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، اگر وہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو یہ بھی اسی کے لیے ہے اور اگر وہ برا گمان رکھتا ہے تو یہ بھی اسی کے لیے ہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2982

۔ (۲۹۸۲) عَنْ حَیَّانَ أَبِی النَّضْرِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ وَاثِلَۃَ بْنِ الأَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَلٰی أَبِی الأَسْوَدِ الْجُرَشِیِّ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ وَجَلَسَ، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُوْ الأَسْوَدِ یَمِیْنَ وَاثِلَۃَ فَمَسَحَ بِہَا عَلٰی عَیْنَیْہِ وَوَجْہِہِ لِبَیْعَتِہِ بِہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہُ وَاثلِۃَ: وَاحِدَۃٌ أَسْأَلُکَ عَنْہَا، قَالَ: وَمَا ہِیَ؟ قَالَ: کَیْفَ ظَنَّکُ بِرَبِّکَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُوْالأَسْوَدِ وَأَشَارَ بِرَأْسِہٖ حَسَنٌ، قَالَ وَاثِلَۃُ: أَبْشِرْ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی فَلْیَظُنَّ بِیْ مَا شَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۱۲)
ابو نضر حیان کہتے ہیں:میں سیّدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ ابو اسود جرشی کی عیادت کے لیے گیا، وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، جناب واثلہ نے جا کر ان کو سلام کہا اور وہاں بیٹھ گئے۔ ابو الاسود نے واثلہ کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں اور چہرے پر پھیرا، کیونکہ انھوں نے اپنے اس ہاتھ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی۔ سیّدنا واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا: وہ کیا؟ انھوں نے پوچھا: آپ اللہ کے بارے کیا گمان رکھتے ہیں؟ ابوالاسود نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اچھا گمان رکھتا ہوں۔ جناب واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: خوش ہوجائو، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ نے فرمایا : میرے بندے کا میرے بارے میں جو گمان ہوتا ہے، میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، پس وہ میرے بارے میں جو چاہے (اچھا یا برا) گمان رکھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2983

۔ (۲۹۸۳) عَنْ عُمَرَ الْجُمَعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بَعَبْدٍ خَیْرًا اِسْتَعْمَلَہُ قَبْلَ مَوْتِہِ)) فَسَأَلَہُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: مَا اسْتَعْمَلَہُ؟ قَالَ: ((یَہْدِیْہِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ إِلَی الْعَمَلِ الصَّالِحِ قَبْلَ مَوْتِہٖ ثُمَّ یَقْبِضُہُ عَلٰی ذَالِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۴۹)
عمر جمعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تووہ اسے استعمال کر لیتا ہے۔ قوم میںسے ایک آدمی نے پوچھا: اسے استعمال کرتا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے موت سے پہلے اچھے عمل کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسے اسی حالت میں موت دے دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2984

۔ (۲۹۸۴) عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ َعْنہُ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ((إِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بَعَبْدٍ خَیْرًا اِسْتَعْمَلَہُ۔)) قِیْلَ: وَمَا اِسْتَعْمَلَہُ؟ قَالَ: ((یُفْتَحُ لَہُ بَیْنَ یَدَیْ مَوْتِہِ حَتّٰی یَرْضٰی َعَنْہُ مَنْ حَوْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۹۵)
سیّدناعمرو بن حمق خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے استعمال کرتا ہے۔ کسی نے پوچھا: اسے استعمال کرتے ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے اس کی موت سے پہلے (اچھے اعمال) کھول دیئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ارد گرد والے لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2985

۔ (۲۹۸۵) عَنْ أَبِی عِنَبَۃً الْخَوْلَانِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا عَسَلَہُ۔)) قِیْلَ: وَمَا عَسَلَہُ؟ قَالَ: ((یَفْتَحُ اللّٰہُ لَہُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِہِ، ثُمَّ یَقْبِضُہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۳۷)
سیّدنا ابو عنبہ خولانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اسے لوگوں میں محبوب بنا دیتا ہے۔ کسی نے کہا کہ محبوب بنا دینے سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے مرنے سے پہلے نیک عمل کرنے کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسی حالت پر اس کو موت دے دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2986

۔ (۲۹۸۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ مَاتَ عَلٰی شَیْئٍ بَعَثَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ)) (مسند احمد: ۱۴۴۲۶)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی جس حالت میں فوت ہو گا، اللہ اسے اسی حالت میں اٹھائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2987

۔ (۲۹۸۷) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: أَسْنَدْتُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی صَدْرِی، فَقَالَ: ((مَنْ قَالَ لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ، خُتِمَ لَہُ بِہَا دَخَلَ الجْنَۃَّ َوَمَنْ صَامَ یَوْمًا ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ خُتِمَ لَہُ بِہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ خُتِمَ لَہُ بِہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۱۳)
سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے سینے سے لگا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آسرا دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے رضا کے لیے لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہااور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ جنت میں جائے گا،جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے ایک روزہ رکھا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے صدقہ کیا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2988

۔ (۲۹۸۸) عَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَتَمَنَّ أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَہُ، فَإِنْ کَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْیَقُلْ: اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۹۷)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا نہ کرے، اگر کسی کا اس کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہ ہو تو وہ یہ دعا کرے: اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ۔ (اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ، جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور اس وقت مجھے فوت کر دینا، جب میرے لیے فوت ہونا بہتر ہو۔)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2989

۔ (۲۹۸۹)عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَتَمَنَّ اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ وَلَا یَدْعُ بِہ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَہٗ، اِنَّہٗ اِذَا مَاتَ اَحَدُکُمْ اِنْقَطَعَ عَمَلُہٗ، وَاِنَّہٗ لَا یَزِیْدُ الْمُؤْمِنُ مِنْ عُمْرِہٖ اِلَّا خَیْرًا)) (مسند أحمد: ۸۱۷۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی موت کے آنے سے پہلے نہ اس کی تمنا کرے اور نہ اس کی دعا کرے، کیونکہ جب آدمی فوت ہوتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے اور مومن اپنی زندگی میں صرف نیکیوں میں ہی اضافہ کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2990

۔ (۲۹۹۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَتمَنّٰی أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ، إِمَّا مُسِیْئٌ فَیَسْتَعْفِرُ أَوْ مُحْسِنٌ فَیَزْدَادُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۷۹)
(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اگر وہ گنہگار ہے تو اللہ سے گناہوں کی معافی مانگ لے گا اور اگر نیک ہے تو نیکیوں میں اضافہ کر لے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2991

۔ (۲۹۹۱) عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَی الْعَبَّاسِ وَہُوَ یَشْتَکِی فَتَمَنّٰی الْمَوْتَ فَقَالَ: ((یَا عَبَّاسُ! یَا عَمَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ! لَاتَتَمَنَّ الْمَوْتَ إنْ کُنْتَ مَحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَی إِحْسَانِکَ خَیْرٌ لَکَ وَإِنْ کُنْتَ مُسِئْیًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَیْرٌ لَکَ فَـلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ۔ (وَفِی رِوَایَۃٍ) وَإِنْ کُنْتَ مُسِیْئًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَائَ تِکَ خَیْرٌ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۱۱)
سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے، جبکہ وہ مریض تھے اور موت کی تمنا کر رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! موت کی تمنا مت کرو، اگر تم نیک ہو تو زندہ رہ کر نیکیوں میں اضافہ کرنا تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر برے ہو تو زندہ رہنے کی صورت میں توبہ کر سکتے ہو، لہٰذا یہ بھی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ پس موت کی خواہش نہ کرو۔ ایک روایت میں ہے: اگر تم بدعمل ہو تو موت کی تاخیر کی صورت میں بدعملی سے توبہ کر نا تمہارے لیے بہترہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2992

۔ (۲۹۹۲) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌جَلَسْنَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا وَرَقَّقَنَا فَبَکٰی سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَأَکْثَرَ الْبُکَائَ فَقَالَ: یَالَیْتَنِیْ مِتُّ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا سَعْدُ! اَعِنْدِیْ تَتَمَنَّی الْمَوْتَ؟)) فَرَدَّدَ ذَالِکَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا سَعْدُ! إِنْ کُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّۃِ فَمَا طَالَ عُمُرُکَ أَوْ حَسُنَ مِنْ عَمَلِکَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۹)
سیّدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور اتنی رقت آمیز گفتگو فرمائی کہ سیّدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگے اور خوب روئے، بیچ میں انھوں نے یہ بھی کہا: کاش میں مر چکا ہوتا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سعد! کیا تم میرے پاس موت کی تمنا کر رہے ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی۔ پھر فرمایا: اے سعد! اگر تم جنت کے لیے پیدا کیے گئے ہو تو تمہاری عمر جس قدر طویل ہوگی یا اعمال جس قدر اچھے ہوں گے وہ اتنے ہی تمہارے حق میں بہتر ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2993

۔ (۲۹۹۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا تَمَنَّوُا الْمَوْتَ فَإِنَّ ہَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِیْدٌ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَۃِ أَنْ یَطُوْلَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَیَرْزُقَہُ اللّٰہُ الإِنَابَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۱۸)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم موت کی تمنا نہ کیا کرو،کیونکہ (موت کے بعد والے) امور کی گھبراہٹ بھی بڑی سخت ہے، خوش بختی یہ ہے کہ بندے کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے توبہ کرنے کی توفیق دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2994

۔ (۲۹۹۴) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ، قَالَ أَتَیْنَا خَبَّابًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَعُوْدُہُ فَقَالَ: لَوْ لَا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ)) لَتَمَنَّیْتُہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۶۸)
حارثہ کہتے ہیں: ہم سیّدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تیمارداری کرنے کے لیے گئے، انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز موت کی تمنا نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2995

۔ (۲۹۹۵) عَنْ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا وَجِعٌ وَأَنَا أَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنْ کَانَ أَجَلِیْ قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِیْ وَإِنْ کَانَ آجِلاً فَارْفَعْنِی، وَإِنْ کَانَ بَلَائً فَصَبِّرْنِی، قَالَ: ((مَا قُلْتَ؟)) فَأَعَدْتُّ عَلَیْہِ فَضَرَبَنِیْ بِرِجْلِہِ، فَقَالَ: ((مَا قُلْتَ؟)) قَالَ: فَأَعَدْتُّ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ عَافِہِ أَوْ اشْفِہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ، اَللّٰہُمَّ اشْفِہِ بِدُوْنِ شَکٍ)۔)) قَالَ: فَمَا اشْتَکَیْتُ ذَالِکَ الْوَجَعَ بَعْدُ۔(مسند احمد: ۶۳۷)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں بیمار تھا اور یہ کہہ رہا تھا: یا اللہ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو (موت دے کر) مجھے راحت عطا فرما،اگر موت آنے میں دیر ہے تو مجھے اٹھا لے اور اگر یہ میری آزمائش ہے تو مجھے صبر کی توفیق عطا فرما۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم نے کیا کہا ہے؟ جب میں نے اپنے الفاظ دہرائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پائوں مجھے مارا اور فرمایا: کیا کہا تم نے؟ میں نے پھر اپنے الفاظ دہرائے، اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو عافیت دے۔ یا فرمایا کہ اے اللہ! اس کو شفا دے۔ ایک روایت میں شک کے بغیر صرف یہ الفاظ ہیں: اے اللہ! اس کو شفا دے۔ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مجھے اس تکلیف کی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2996

۔ (۲۹۹۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ بِلَالٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَتْ فُلَانَۃُ وَاسْتَرَاحَتْ، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((إِنَّمَا یَسْتَرِیْحُ مَنْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَفِی رِوَایَۃٍ: مَنْ غُفِرَلَہُ)) (مسند احمد: ۲۴۹۰۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت فوت ہو گئی ہے اور راحت پا گئی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں آگے اور فرمایا: صرف اور صرف راحت تو وہ پاتا ہے جو جنت میں داخل ہوتا ہے، دوسری روایت میں ہے: جس کو بخش دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2997

۔ (۲۹۹۷) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ النَّاسٍ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہُ۔)) قَالَ: فَأَیُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ: ((مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَسَائَ عَمَلُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۸۶)
سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول ! لوگوں میں سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل اچھا ہو۔ اس نے پھر پوچھا: لوگوں میں سب سے برا آدمی کونسا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل برا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2998

۔ (۲۹۹۸) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرِکُمْ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خِیَارُکُمْ أَطْوَلُکُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُکُمْ أَعْمَالًا۔)) (مسند احمد: ۷۲۱۱)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتلا دوںکہ تم میں سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں طویل ہوں اور وہ اچھے عمل کرنے والے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2999

۔ (۲۹۹۹) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: إِذَا بَلَغَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً آمَنَہُ اللّٰہُ مِنْ أَنْوَاعِ الْبَلَایَا مِنَ الْجُنُوْنِ وَالْبَرَصِ وَالْجُذَامِ، وَإِذَا بَلَغَ الْخَمْسِیْنَ لَیَّنَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ حِسَابَہُ، وَإِذَا بَلَغَ السِّتِّیْنَ رَزَقَہُ اللّٰہُ إِنَابَۃً، یُحِبُّہُ عَلَیْہَا، وَإِذَا بَلَغَ السِّبْعِیِْنَ أَحَبَّہُ اللّٰہُ وَأَحَبَّہُ أَہْلُ السَّمَائِ وَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِیْنَ تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنْہُ حَسَنَاتِہِ وَمَحَا عَنْہُ سَیِّئَاتِہٖ، وَإِذَا بَلَغَ التِّسْعِیْنَ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَسُمِّیَ أَسِیْرَ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ وَشُفِّعَ فِی أَہْلِہِ۔ (مسند احمد: ۵۶۲۶)
امام ہیثمی نے کہا: بزار نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے، ان میں سے ایک کے راوی ثقہ ہیں۔ سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب مسلمان آدمی چالیس برس کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جنون، پھلبہری اور کوڑھ سے محفوظ کر دیتا ہے، جب وہ پچاس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کا حساب نرم کر دیتا ہے، جب وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اسے رجوع الی اللہ کی ایسی توفیق ملتی ہے کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے،جب وہ ستر سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے اور اہل آسمان بھی، جب اس کی عمر اسی سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول کرتا ہے اور اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور جب اس کی عمر نوے سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے اور زمین میں اللہ کا قیدی اس کا نام رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے اہل و عیال کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3000

۔ (۳۰۰۰) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَتَتْ عَلَیْہِ سِتُّوْنَ سَنَۃً، فَقَدْ أَعْذَرَ اللّٰہُ إِلَیْہِ فِی الْعُمُرِ۔)) (مسند احمد: ۸۲۴)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی عمر ساٹھ سال ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کا عمر کے بارے میں عذر ختم کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3001

۔ (۳۰۰۱)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ بِالْمَدِیْنَہِ فَصَلّٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَالَیْتَہٗ مَاتَ فِی غَیْرِ مَوْلِدِہِ)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا تُوُفِّیَ فِی غَیْرِ مَوْلِدِہِ قِیْسَ لَہُ مِنْ مَوْلِدِہِ، إِلٰی مُنْقَطَعِ أَثَرِہٖ فِیْ الْجَنَّۃِ)) (مسند احمد: ۶۶۵۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک شخص فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ یہ آدمی اپنے جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور فوت ہوتا۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی دوسرے شہر میں فوت ہوتا ہے تو اس کے شہر سے مقامِ وفات تک کے برابر جگہ اسے جنت میں عطا کی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3002

۔ (۳۰۰۲) عَنْ أَبِی سَعْیِدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ قَوْلَ لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ)) (مسند احمد: ۱۱۰۰۶)
سیّدنا ابو سعید خدر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے قریب الموت لوگوں کو لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3003

۔ (۳۰۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ لِطَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَالِی أَرَاکَ شَعِثْتَ وَاغْبَرَرْتُ مُنْذُ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لَعَلَّکَ سَائَکَ یَا طَلْحَۃُ! إِمَارَۃُ ابْنِ عَمِّکَ؟ قَالَ: مَعَاذَ اللّٰہُ، إِنِّی لَاَجْدَرُکُمْ أَنْ لَّا أَفْعَلَ ذَالِکَ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنِّیْ لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَا یَقُوْلُہَا أَحَدٌ عِنْدَ حَضْرَۃِ الْمَوْتِ إِلَّا وَجَدَ رُوْحُہُ لَہَا رَوْحًا، حَیْنَ یَخْرُجُ مِنْ جَسَدِہِ، وَکَانَتْ لَہُ نُوْرًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) فَلَمْ اَسَاَلْ َرَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَلَمْ یُخْبِرْنِیْ بِہَا، فذَاکَ الَّذِی دَخَلَنِی، قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَأَنَا أْعْلَمُہَا، قَالَ: فَلِلَّہِ الْحَمْدُ فَمَا ہِیَ؟ قَالَ: ہِیَ الْکَلِمَۃُ الَّتِی قَالَہَا لِعَمِّہِ (لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ)) قَالَ طَلْحَۃُ :صَدَقْتَ۔ (مسند احمد: ۱۸۷)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیّدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھ رہے تھے: کیا بات ہے کہ جس دن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا ہے آپ پراگندہ پراگندہ اور غبار آلود سے ہو کر رہتے ہیں۔ کہیں آپ کو اپنے چچیرے بھائی (ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کا امیر بننا ناگوار تو نہیں گزرا؟ سیّدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی پناہ!میں تو تم سے بھی زیادہ لائق ہوں کہ اس طرح نہ کروں، (مجھے یہ بات کیوں ناگوار گزرے)۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک کلمہ جانتا ہوں، جوشخص وفات کے وقت اسے پڑھ لیتا ہے تو اس کی روح جسم سے نکلتے ہی رحمت و راحت پا لیتی ہے، نیز وہ کلمہ اس کے لیے قیامت کے دن نور کا باعث ہو گا۔ مگر افسوس کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کلمہ کے متعلق نہ پوچھ سکا کہ وہ کونسا ہے اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کے بارے میں بیان کیا۔اس چیز نے مجھے غمزدہ کر رکھا ہے۔ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں وہ کلمہ جانتا ہوں۔ یہ سن کر سیّدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کا شکر، وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ وہ کلمہ ہے جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) پر پیش کیا تھا، یعنی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ انھوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3004

۔ (۳۰۰۴)( وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ : أَنَا أُخْبِرُکَ بِہَا، ہِیَ الْکَلِمَۃُ الَّتِی أَرَادَ بِہَا عَمَّہُ شَہَادَۃُ ( أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ)۔ قَالَ: فَکَأَنَّمَا کُشِفَ عَنِّی غِطَائٌ، قَالَ: صَدَقْتَ، لَوْ عَلِمَ کَلِمَۃً ہِیَ أَٔفْضَلُ مِنْہَا لَأَمَرَہُ بِہَا۔ (مسند احمد: ۲۵۲)
( دوسری سند) سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں آپ کو وہ کلمہ بتاتا ہوں، یہ وہ کلمہ ہے جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چچا سے بھی کہلوانا چاہا تھا، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ سن کر سیّدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: گویا مجھ سے پردہ چھٹ گیا۔ آپ درست کہہ رہے ہیں، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک کوئی اور کلمہ اس سے افضل ہوتا تو اس کے پڑھنے کا حکم فرماتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3005

۔ (۳۰۰۵)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ ابْنِ عُبیْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَآہُ (یَعْنِی رَأیٰ طَلْحَۃَ) کَئِیْبًا، فَقَالَ: یَا أَبَا مُحَمَّدٍ! لَعَلَّکَ سَائَ تْکَ إِمْرَۃُ ابْنِ عَمِّکَ یَعْنِی أَبَا بَکْرٍ؟ قَالَ: لَا، وَأَثْنٰی عَلٰی أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَلٰکِنِّیْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنِّی لأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَا یَقُوْلُہَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِہِ إِلَّا فَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَتَہُ وَأَشْرَقَ لَوْنَہُ۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۱۳۸۶)
(تیسری سند) سیّدنا طلحہ بن عبیداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے غمگین دیکھ کر پوچھا: ابو محمد! کیا بات ہے؟ کیا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی امارت ناگوار گزری ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر انھوں نے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تعریف کی اور کہا کہ میری پریشانی کا سبب یہ ہے کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی فوت ہوتے وقت وہ کلمہ پڑھ لیتا، اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف دور کر دیتا ہے اور اس کا رنگ نکھر آتا ہے، …۔ الحدیث۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3006

۔ (۳۰۰۶) عَنْ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لَنَا مُعَاذٌ فِی مَرَضِہِ: قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا کُنْتُ أَکْتُمُکُمُوْہُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ آخِرُ کَلَامِہِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ)) (مسند احمد: ۲۲۳۸۴)
کثیر بن مرہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مرض الموت کے دوران ہم سے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک بات سنی تھی، جسے میں اب تک تم سے چھپاتا رہا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس آدمی کا آخری کلام لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہوگا، اس کے لیے جنت و اجب ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3007

۔ (۳۰۰۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَادَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ (وَفِی رِوَایَۃٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ) فَقَالَ: ((یَا خَالُ! قُلْ لَا إلٰہ إِلَّا اللّٰہُ۔)) فَقَالَ: أَخَالٌ أَمْ عَمٌّ؟ فَقَالَ: ((لَا بَلْ خَالٌ۔)) قَالَ: فَخَیْرٌ لِیْ أَنْ أَقُوْلَ لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ؟)) فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۹۱)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک انصار یا بنو نجار کے ایک آدمی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ماموں جان! کہو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ اس نے کہا: ماموں یا چچا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چچا نہیں، بلکہ ماموں۔ اس نے پوچھا: کیا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھنا میرے حق میں بہتر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3008

۔ (۳۰۰۸) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ غُلَامًا یَہُوْدِیًا کَانَ یَضَعُ لِلنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَضُوْئَ ہُ وَیُنَاوِلُہُ نَعْلَیْہِ؟ فَمَرِضَ فَأتَاَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ عَلَیْہِ وَأَبُوْہُ قَاعِدٌ عِنْدَ رَأْسِہِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا فُلَانُ! قُلْ لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) فَنَظَرَ إِلٰی أَبِیْہِ، فَسَکَتَ أبُوْہُ، فَأَعَاَد عَلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَظَرَ إلٰی أبِیْہِ، فَقَالَ أبُوْہُ: أَطِعْ أَبَا قَاسِمٍ، فَقَالَ الْغُلَامُ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ فَخَرَجَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُوْلُ: ((اَلْحَمْدُ اللّٰہِ الَّذِی أَخْرَجَہُ بِی مِنَ النَّارِ)) (مسند احمد: ۱۲۸۲۳)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا کرتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جوتے اٹھا کر لا دیتا تھا، وہ بیمار پڑ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے جبکہ اس کاوالد اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے سے فرمایا: اے فلاں! کہو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا اور اس کا والد خاموش رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات دوہرائی۔اس نے پھر اپنے والد کی طرف دیکھا، اس دفعہ اس کے والد نے کہا: ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات مان لو۔ یہ سن کر بچے نے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔) جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے نکلے تو فرما رہے تھے: اللہ کا شکر ہے، جس نے اسے میرے سبب سے جہنم سے بچا لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3009

۔ (۳۰۰۹) عَنْ زَاذَانَ أَبِی عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۹)
ابو عمر زاذان کہتے ہیں: مجھ سے ایک ایسے آدمی نے بیان کیا جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا: جس آدمی کو اس کی وفات کے وقت لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کر دی گئی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3010

۔ (۳۰۱۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْضَ بَنَاتِہِ وَہِیَ تَجُوْدُ بِنَفْسِہَا، فَوَقَعَ عَلَیْہَا فَلَمْ یَرْفَعْ رَأْسَہُ حَتَّیٰ قُبِضَتْ، قَالَ: فَرْفَعَ رَأْسَہُ وَقَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، الْمُؤْمِنُ بِخَیْرٍ، تُنْزَعُ نَفْسُہُ مِنْ بَیْنَ جَنْبَیْہِ وَہُوَ یَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک (نواسی) بیٹی کے پاس تشریف لے گئے، اس کی روح نکل رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے اوپر جھک گئے اور اس کی روح قبض ہونے تک اپنا سر اوپر نہ اٹھایا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اوپر اٹھایا اور فرمایا: ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، مومن بھلائی میں ہی ہوتا ہے۔ اس کے پہلوئوں سے اس کی روح قبض کی جا رہی ہوتی ہے، جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3011

۔ (۳۰۱۱) عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ (الأَسْلَمِی) عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ کَانَ بَخُرَاسَانَ فَعَادَ اَخًا لَہُ وَہُوَ مَرِیْضٌ فَوَجَدَہُ بِالْمَوْتِ ، وَإِذَا ہُوَ یَعْرَقُ جَبِیْنُہُ، فَقَالَ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بِعَرَقِ الْجَبِیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۱۰)
سیّدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خراسان میں تھے، وہاں وہ اپنے ایک بیمار بھائی کی عیادت کے لیے گئے، جبکہ وہ فوت ہونے والا تھا اور اس کی پیشانی پسینہ آلود تھی، یہ دیکھ کر انھوں نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: مومن کی موت اس کی پیشانی کے پسینے کے ساتھ ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3012

۔ (۳۰۱۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّ الْمُؤْمِنَ یَمُوْتُ بِعَرَقِ الْجَبِیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۵۲)
(دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن پیشانی کے پسینہ کے ساتھ فوت ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3013

۔ (۳۰۱۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُنَّا نُؤْذِنُہُ لِمَنْ حُضِرَ مِنْ مَوْتَانَا فَیَأْتِیْہِ قَبْلَ أَنْ یَمُوْتَ، فَیَحْضُرُہُ وَیَسْتَغْفِرُ لَہُ وَیَنْتَظِرُ مَوْتَہُ، قَالَ فَکَانَ ذٰلِکَ رُبَّمَا حَبَسَہُ الْحَبْسَ الطَّوِیْلَ فَشَقَّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ لَا نُؤْذِنَہُ بِالْمَیِّتِ حَتّٰی یَمُوْتَ، قَالَ: فَکُنَّا إِذَا مَاتَ مِنَّا الْمَیْتُ، آذَنَّاہُ بِہِ فَجَائَ فِی أَہْلِہِ فَاسْتَغْفَرَ لَہُ وَصَلّٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ إنْ بَدَا لَہُ أَن یَشْہَدَہُ، اِنْتَظَرَ شُہُوْدَہُ وَإِنْ بَدَا لَہُ أَنْ یَنْصَرِفَ اِنْصَرَفَ، قَالَ: فَکُنَّا عَلٰی ذَالِکَ طَبَقَۃً أُخْرٰی، قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَی بَیْتِہُ وَلَا نُشْخِصَہُ وَلَا نُعَنِّیَہِ، قَالَ: فَقُلْنَا ذَالِکَ فَکَانَ الْاَمْرُ۔(مسند احمد: ۱۱۶۵۱)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو ہم میں سے جب کسی آدمی کی وفات کا وقت قریب آتا تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی وفات سے پہلے ہی تشریف لے آتے اور اس کے پاس ٹھہرے رہتے، اس کے حق میں مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے اور اس کی وفات کا انتظار کرتے، بسا اوقات اس سلسلہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کافی دیر ہو جاتی اور یہ معاملہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر شاق گزرتا۔ اس کے بعد ہم نے سوچا کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات سے پہلے اطلاع نہ کیا کریں۔ پس بعد ازاں ایسے ہوتا کہ جب ہم میں سے کوئی فوت ہو جاتا تو پھر ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی اطلاع دیتے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے اہل و عیال کے ہاں تشریف لا کر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے اور نماز جنازہ پڑھاتے، اس کے بعد اگر مناسب سمجھتے تو دفن تک ٹھہر جاتے اور مناسب سمجھتے تو پہلے ہی تشریف لے جاتے۔ سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ایک عرصہ تک یہی طریقہ جاری رہی، اس کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے آسانی اس میں ہے کہ ہم میت کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر اٹھا کر لے جایا کریں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھر سے نہ نکالا کریں اور (اہل میت کے گھر آنے کی) تکلیف نہ دیا کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3014

۔ (۳۰۱۴) عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا أَبُوْالْمُغِیْرَہِ ثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِی الْمَشِیْخَۃُ، أَنَّہُمْ حَضَرُوْا غُضَیْفَ بْنَ الْحَارِثِ الثُمَالِیَّ حِیْنَ اشْتََّد سَوْقُہُ، فَقَالَ: ہَلْ مِنْکُمْ أَحَدٌ یَقْرَأُ یٰس؟ قَالَ: فَقَرَأَہَا صَالِحُ بْنُ شُرَیْحٍ السَّکُوْنِیُّ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِیْنَ مِنْہَا قُبِضَ، قَالَ: فَکَانَ الْمَشِیْخَۃُ یَقُوْلُوْنَ إِذَا قُرِئَتْ عِنْدَ الْمَیِّتِ خُفِّفَ عَنْہُ بِہَا، قَالَ صُفْوَانُ وَقَرَأَہاَ عِیْسَی بْنُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ ابْنِ مَعْبَدٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۹۴)
صفوان کہتے ہیں:مجھے بزرگوں نے بیان کیا کہ وہ غضیف بن حارث ثمالی کے ہاں گئے، جبکہ (وہ عالَم نزع میں تھے اور) روح کے نکلنے میں شدت تھی، ایک بندے نے کہا: کیا تم میں سے کوئی سورۂ یٰسین پڑھ سکتا ہے؟ جواباً صالح بن شریح سکونی نے سورۂ یس کی تلاوت کی اور ابھی تک وہ چالیسویں آیت تک پہنچے تھے کہ ان کی روح قبض ہو گئی۔ اسی لیے اہل علم کہا کرتے تھے کہ جب یہ سورت کسی قریب الموت پر پڑھی جاتی ہے تو اس پر اس کی وجہ سے تخفیف کر دی جاتی ہے۔ صفوان کہتے ہیں کہ عیسی بن معتمر نے ابن معبد پر پڑھی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3015

۔ (۳۰۱۵)عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یٓس قَلْبُ الْقُرَآنِ، لَا یَقْرَؤُہَا رَجُلٌ یُرِیْدُ اللّٰہَ تَعَالٰی وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ غُفِرَلَہُ،وَاقْرَئُ وْہَا عَلٰی مَوْتَاکُمْ)) (مسند احمد: ۲۰۵۶۶)
سیّدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورۂ یٰس قرآن مجید کا دل ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کے لیے اس کی تلاوت کرتا ہے، اس کو بخش دیا جاتا ہے اور تم فوت ہونے والے کے قریب اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3016

۔ (۳۰۱۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَئُ وَہَا عَلٰی مَوْتَاکُمْ)) یَعْنِی یٓس۔ (مسند احمد: ۲۰۵۶۷)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم قریب الموت پر سورۂ یٰسین کی تلاوت کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3017

۔ (۳۰۱۷) عَنِ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَیِّتَ أَوْ الْمَرِیْضَ فَقُوْلُوْا خَیْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ یُؤَمِّنُوْنَ عَلٰی مَا تَقُوْلُوْنَ۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُوْ سَلَمَۃَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَا سَلَمَۃَ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ: ((قُوْلِی اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبٰی حَسَنَۃً۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَاَعْقَبَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ لِی مِنْہُ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۳۰)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مریض یا قریب الموت کے پاس جائو تو خیر والی بات کیا کرو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ جب میرے شوہر سیّدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول!ابو سلمہ فوت ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبًی حَسَنَۃَ (یا اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس کا بہتر بدلہ عطا فرما۔) پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بدلے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عطا کیے جو میرے حق میں اس سے بہتر تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3018

۔ (۳۰۱۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ یَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَیْئًا قَطُّ خَلَقَہُ اللّٰہُ أَشَدَّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَہْوَنُ مِمَّا بَعْدَھُ)) (مسند احمد: ۱۲۵۹۴)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بھی پیدا کی ہیں، ان میں سے آدم کے بیٹے کے لیے سب سے سخت چیز موت ہے اور پھر موت اپنے سے بعد والے مراحل کی بنسبت بہت آسان بھی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3019

۔ (۳۰۱۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَمُوْتُ، وَعِنْدَہُ قَدَحٌ، فِیْہِ مَائٌ فَیُدْخِلُ یَدَہُ فِی الْقَدَحِ، ثُمَّ یَمْسَحُ وَجْہَہُ بِالْمَائِ، ثُمَّ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ أَعِنِّی عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۶۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پیالہ پڑا ہوا تھا، اس میں پانی تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنا ہاتھ پیالے میں داخل کرتے، پھر اسے اپنے چہرے پر پھیرتے اور یہ دعا کرتے: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّی عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ ۔ (یا اللہ! موت کی شدتوں میں میری مدد فرما)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3020

۔ (۳۰۲۰)وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ وَہُوَ بَیْنَ حَاقِنَتِی وَذَاقِنَتِیْ، فَـلَا أَکْرَہُ شِدَّۃَ الْمَوْتِ لأَحَدٍ بَعْدَ الَّذِی رَأَیْتُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۸۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے سینہ اور ٹھوڑی کے درمیان تھے۔ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موت کا منظر دیکھنے کے بعد اب کسی کے لیے موت کی شدت کو ناپسند نہیں کرتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3021

۔ (۳۰۲۱) عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَۃُ ذَالِکَ یَعْنِی لَمَّا وَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ کَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ قَالَتْ فَاطِمَۃُ: وَا کَرْبَاہُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بُنَیَّۃُ! إِنَّہُ قَدْ حَضَرَ ِأَبِیْکِ مَا لَیْسَ اللّٰہُ بِتَارِکٍ مِنْہُ أَحَدًا لِمُوَافَاۃِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۲۴۶۱)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے موت کی سختی کو محسوس کیا تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ہائے مصیبت! یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیٹی! روز قیامت کو پانے کے لیے تیرے باپ کے پاس وہ چیز پہنچ چکی ہے کہ جس کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کسی کو نہیں چھوڑنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3022

۔ (۳۰۲۲) عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا حَضَرَتُمْ مَوْتَاکُمْ فَأَغْمِضُوْا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ یَتْبَعُ الرُّوْحَ، وَقُوْلُوْا خَیْرًا، فَإِنَّہُ یُؤَمَّنُ عَلٰی مَا قَالَ أَہْلُ الْبَیْتِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۶۶)
سیّدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے موت شدہ افراد کے پاس آئو تو ان کی آنکھیں بند کر دیا کرو، کیونکہ نظر روح کا پیچھا کرتی ہے اور خیر والی بات کیا کرو کیونکہ گھر والے اس وقت جو کچھ کہتے ہیں، اس پر آمین کہی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3023

۔ (۳۰۲۳) عَنْ مَطَرِ بْنِ عُکَامِسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَضَی اللّٰہُ مِیْتَۃَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَہُ إِلَیْہَا حَاَجَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۳۲)
سیّدنا مطر بن عکامس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی علاقے میں موت دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس علاقے کی طرف کوئی حاجت بنا دیتا ہے (اور وہ اس کے بہانے وہاں پہنچ جاتا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3024

۔ (۳۰۲۴)( وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُقَدَّرُ لِأَحَدٍ یَمُوْتُ بِأَرْضِ إِلَّا حُبِّبَتْ إِلَیْہِ وَجُعِلَ لَہُ إِلَیْہَا حَاجَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۳۳)
(دوسری سند)اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کے لیے کسی علاقے میں وفات کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو اس کو اس آدمی کا پسندیدہ علاقہ بنا دیا جاتا ہے اور اسے اس کی طرف کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3025

۔ (۳۰۲۵) عَنْ أَبِی عَزَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِذَا أَرَادَ قَبْضَ رُوْحِ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَہُ فِیْہَا أَوْقاَل بِہَا حَاجَۃً)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۴)
سیّدنا ابوعزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس علاقے میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3026

۔ (۳۰۲۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَۃِ، فَقَالَ: ((رَاحَۃٌ لِلْمُؤْمِنِیْنَ،وَأَخْذَۃُ أَسَفٍ لِلْفَاجِرِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۵۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اچانک موت کے بارے میں پوچھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مومن کے لیے تو راحت ہے، لیکن گنہگار کے لیے غضب کی پکڑ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3027

۔ (۳۰۲۷) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْمَیِّتَ تَحْضُرُہُ الْمَلَائِکَۃُ، فَإِذَا کَانَ الَّرُجُلُ الصَّالِحُ، قَالُوْا: اُخْرُجِی أَیَّتُہَا النَّفْسُ الطَّیِّبَۃُ، کَانَتْ فِی الْجَسْدِ الطَّیِّبِ، أُخْرُجِی حَمِیْدَۃً وأَبْشِرِی بِرَوْحٍ وَرَیْحَانٍ، وَرَبٍّ غَیْرِ غَضْبَانَ، قَالَ فَـلَا یَزَالُ یُقَالُ ذَالِکَ حَتّٰی تَخْرُجَ ثُمَّ یُعْرَجُ بِھَا إِلَی السَّمَائِ، فَیُسْتَفْتَحُ لَہَا فَیُقَالُ مَنْ ہٰذَا؟ فَیُقَالُ: فُلَانٌ،فَیَقُوْلُوْنَ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّیِّبَۃِ کَانَتْ فِی الْجَسَدِ الطَّیِّبِ، اُدْخُلِی حَمِیدَۃً بِرَوْحٍ وَرَیْحَانٍ وَرَبٍّ غَیْرِ غَضْبَانَ، قَالَ فَـلَا یَزَالُ یُقَالُ لَہَا، حَتّٰی یُنْتَہٰی بِہَا إِلَی السَّمَائِ الَّتِی فِیْہَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ وَإِذَا کَانَ الرَّجَلُ السُّوْئُ قَالُوْا: اُخْرُجِیْ أَیَّتُہا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ، کَانَتْ فِی الْجَسَدِ الْخَبِیْثِ، اُخْرُجِی ذَمِیْمَۃً وَأَبْشِرِی بِحَمِیْمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرُ مِنْ شَکْلِہِ أَزْوَاجٌ، فَـلَا یَزَالُ حَتّٰی تَخْرُجَ ثُمَّ یُعْرَجُ بِہَا إِلَی السَّمَائِ فَیُسْتَفْتَحُ لَہَا، فَیُقَالُ مَنْ ہٰذَا؟ فَیُقَالُ: فُلَانٌ، فَیُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِیْثَۃِ کَانَتْ فِی الْجَسْدِ الْخَبِیْثِ، اِرْجِعِی ذَمِیْمَۃً فَإِنَّہُ لَا یُفْتَحُ لَکِ أَبْوَابُ السَّمَائِ فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَائِ ثُمَّ تَصِیْرُ إِلَی الْقَبْرِ۔ فَیُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَیُقَالُ لَہُ مِثْلُ مَا قِیْلَ فِی الْحَدِیْثِ الأَوَّلِ وَیُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوئُ، فَیُقَالُ لَہُ مِثْلُ مَا فِی الْحَدِیْثِ الأَوَّلِ۔(مسند احمد: ۸۷۵۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی کی وفات کا وقت قریب آتا ہے تو فرشتے اس کے پاس آ جاتے ہیں، اگر وہ نیک آدمی ہو تو وہ کہتے ہیں: اے پاکیزہ روح! جو پاکیزہ جسم میں تھی، باہرآ جا، آ جا، تو قابل تعریف ہے، تجھے راحت اور خوشبووں کی بشارت ہو، تیرا ربّ تجھ پر ناراض نہیں ہے۔وہ یہ باتیں بار بار کہتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ روح باہر آ جاتی ہے۔ پھر اسے آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھلوایا جاتا ہے، آگے سے پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں:یہ فلاں ہے، آسمان کے فرشتے کہتے ہیں: پاکیزہ روح کو مرحبا، جو ایک پاکیزہ جسم میں تھی، (اے روح!) تو قابل تعریف ہے، آ جا اور تجھے راحتوں اور خوشبوئوں اور ایسے ربّ کی بشارت ہو جو ناراض نہیں ہے۔ اسے ہر آسمان پر اسی طرح کہا جاتا ہے، حتی کہ اسے اس آسمان تک لے جاتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ ہے اور اگر مرنے والا آدمی برا (گنہگار) ہو تا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: باہر نکل اے خبیث روح! جو ایک خبیث جسم میں تھی، نکل،تو قابل مذمت ہے، تجھے کھولتے ہوئے پانی، پیپ اور اس جیسی دوسری چیزوں کی بشارت ہو، بار بار یہ باتیں کہی جاتی ہیںیہاں تک کہ وہ باہر آ جاتی ہے۔ فرشتے اسے آسمان کی طرف لے کر جاتے ہیں اور اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھلوایا جاتا ہے ،پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں:یہ فلاں ہے۔ آسمان کے فرشتے کہتے ہیں: خبیث روح، جو خبیث جسم میں تھی، اسے کوئی مرحبا نہیں ہے، (اے روح!) تو قابل مذمت ہے، واپس لوٹ جا، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ اسے آسمان سے نیچے گرا دیا جاتا ہے اور وہ قبر میں جا پہنچتی ہے۔ نیک آدمی کو بٹھا کر اس سے وہ باتیں کی جاتی ہیں جو پہلی حدیث میں بیان ہو چکی ہیں اور گنہگار کو بٹھا کر اس سے بھی وہ باتیں کی جاتی ہیں جو پہلی حدیث میں بیان ہو چکی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3028

۔ (۳۰۲۸) عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی جَنَازَۃِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَہَیْنَا إِلی الْقَبْرِ، وَلَمَّا یُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجَلَسْنَا حَوْلَہُ وَکَاَنَّ عَلٰی رُؤُوْسِنَا الطَّیْرَ، وَفِی یَدِہِ عُوْدٌ یَنْکُتُ فِی الْأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((اِسْتَعْیْذُوا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔)) مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَـلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ، نَزَلَ إِلَیْہِ مَلَائِکَۃٌ مِنَ السَّمَائِ بِیْضُ الْوُجُوْہِ کَأَنَّ وَجُوْہَہُمْ الشَّمْسُ مَعَہُمْ کَفَنٌ مِنْ أَکْفَانِ الْجَنَّۃِ وَحَنُوْطٌ مِنْ حَنُوْطِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی یَجْلِسُوْا مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ یَجِیْئُ مَلَکُ الْمَوْتِ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہٖ، فَیَقُوْلُ: أَیَّتُہَا النَّفْسُ الطَّیِّبَۃُ اُخْرُجِی إِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ، قَالَ: فَتَخَرُجُ تَسِیْلُ کَمَا تَسِیْلُ الْقَطْرَۃُ مِنْ فِی السِّقَائِ، فَیَأْخُذُہَا، فَإِذَا أَخَذَہَا لَمْ یَدَعُوْہَا فِی یَدِہِ طَرْفَۃَ عَیْنٍ حَتَّی یَأْخُذُوْہَا فَیَجْعَلُوْہَا فِی ذَالِکَ الْکَفَنِ وَفِی ذَالِکَ الْحَنُوْطِ، وَیَخْرُجُ مِنْہَا کَأَطْیَبِ نَفْحَۃِ مِسْکٍ، وُجِدَتْ عَلٰی وَجْہِ الأَرْضِ، قَالَ: فَیَصْعَدُوْنَ بِہَا فَـلَا یَمُرُّوْنَ یَعْنِی بِہَا عَلٰی مَلَاٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ إِلَّا قَالُوْا: مَا ہٰذَا الرُّوْحُ الطَّیِّبُ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِہِ الَّتِی کَانُوْا یُسَمُّوْنَہُ بِہَا فِی الدُّنْیَا حَتّٰی یَنْتَہُوا بِہَا إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا فَیَسْتَفِتُحْوَن لَہُ فَیُفْتَحُ لَہُمْ، فَیُشَیِّعُہُ مِنْ کُلِّ سَمَائٍ مُقَرَّبُوْہَا إِلَی السَّمَائِ الَّتِی تَلِیْہَا حَتّٰی یُنْتَہٰی بِہِ إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُکْتُبُوْا کِتَابَ عَبْدِی فِی عِلِّیِّیْنَ، وَأَعِیْدُوْہُ إِلَی الأَرْضِ فَإِنِّی مِنْہَا خَلَقْتُہُمْ وَفِیْہَا أُعِیْدُہُمْ وَمِنْھَا أُخْرِجُہُمْ تَارَۃً أُخْرَی، قَالَ: فَتُعَادُ رُوْحُہُ فِی جَسَدِہِ فَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہِ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: مَنْ رَبَّکَ؟ فَیَقُوْلُ: رَبِّیَ اللّٰہُ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: مَا دِیْنُکَ؟ فَیَقُوْلُ: دِیْنِیَ الْاِسْلَامُ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: مَا ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِی بُعِثَ فِیْکُمْ؟ فَیَقُوْلُ: ہُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: وَمَا عِلْمُکَ؟ فَیَقُوْلُ: قَرَأْتُ کِتَابَ اللّٰہِ فَآمَنْتُ بِہِ وَصَدَّقْتُ، فَیُنَادِیْ مُنَادٍ فِی السَّمَائِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِیْ فَأَفْرِشُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَأَلْبِسُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَافْتَحُوْا لَہُ بَابًا إِلَی الْجَنَّۃِ، قَالَ: فَیأْتِیْہِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْہِ حَسَنُ الثِّیَابِ طَیِّبُ الرِّیْحِ، فَیَقُوْلُ: أَبْشِرْ بِالَّذِی یَسُرُّکَ، ہٰذَا یَوْمُکَ الَّذِی کُنْتَ تُوْعَدُ، فَیَقُوْلُ لَہُ: مَنْ أَنْتَ، فَوَجْہُکَ الْوَجْہُ یَجِیْئُ بِالْخَیْرِ، فَیَقُوْلُ: أَنَا عَمَلُکَ الصَّالِحُ، فَیَقُوْلُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَۃَ حَتّٰی أَرْجِعَ إِلٰی أَہْلِی وَمَالِی، وَقَالَ: وَإِنَّ الْعَبْدَ الْکَافِرَ، إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ نَزَلَ إِلَیْہِ ِمَن السَّمَائِ مَلَائِکَۃٌ سُوْدُ الْوُجُوْہِ مَعَہُمْ الْمُسُوْحُ، فَیَجِْلُسْوَن مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرَ، ثُمَّ یَجِیْئُ ْمَلَکُ الْمَوْتِ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَیَقُوْلُ: أَیُّتُہَا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ! اُخْرُجِی إِلٰی سَخَطٍ مِنَ اللّٰہِ وَغَضَبٍ ، قَالَ: فَتَفَرَّقَ فِی جَسَدِہِ، فَیَنْتَزِعُہَا کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ فَیَأْخُذُہَ، فَإِذَا أَخَذَہَا لَمْ یَدَعُوْہَا فِی یَدِہٖ طَرْفَۃَ عَیْنٍ حَتّٰی یَجْعَلُوْہَا فِی تِلْکَ الْمُسُوْحِ وَیَخْرُجُ مِنْہَا کَأَنْتَنِ رِیْحٍ وُجِدَتْ عَلٰی وَجْہِ ِالأَرْضِ فَیَصْعَدُوْنَ بِہَا، فَـلَا یَمُرُّوْنَ بِہَا عَلٰی مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ إِلَّا قَالُوْا: مَا ہٰذَا الرُّوْحُ الْخَبِیْثُ، فَیَقُوْلُوْنَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَقْبِحِ أَسْمَائِہِ الَّتِی کَانَ یُسَمّٰی بِہَا فِی الدُّنْیَا حَتّٰی یُنْتَھٰی بِہِ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیُسْتَفْتَحُ لَہُ، فَـلَا یُفْتَحُ لَہُ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَائِ ، وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُکْتُبُوْا کِتَابَہُ فِی سِجِّیْنٍ فِی الْأَرْضِ السُّفْلٰی فَتُطْرَحُ رُوْحُہُ طَرْحًا، ثُمَّ قَرَئَ: {وَمَنْ یُشْرِکَ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ، فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرَّیْحُ فِی مَکَانٍ سَحِیْقٍ۔} فَتُعَادُ رُوْحُہُ فِی جَسَدِہِ وَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہِ فَیَقُوْلَانِ لَہُ: مَنْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: ہَاہْ ہَاہْ، لَا أَدْرِی، فَیَقُوْلَانِ: مَا دِیْنُکَ؟ فَیَقُوْلُ: ہَاہْ ہَاہْ لَا أَدْرِی، فَیَقُوْلَانِ لَہُ: مَا ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِی بُعِثَ فِیْکُمْ؟ فَیَقُوْلُ: ہَاہْ ہَاہْ لَا أَدْرِی، فَیُنَادِی مُنَادٍ مِنَ السَّمَائِ أَنْ کَذَبَ فَأَفْرِشُوْا لَہُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوْا لَہُ بَابًا إِلَی النَّارِ، فَیأْتِیْہِ مِنْ حَرِّہَا وَسُمُوْمِہَا، وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِ قَبْرُہُ حَتّٰی یَخْتَلِفَ فِیْہِ أَضْلَاعُہُ، وَیأْتِیْہِ رَجُلٌ قَبِیْحُ الْوَجْہِ قَبِیْحُ الثِّیَابِ مُنْتِنُ الرِّیْحِ، فَیَقُوْلُ: أَبْشِرْ بِالَّذِی یَسُوْئُ کَ، ہٰذَا یَوْمُکَ الَّذِی کُنْتَ تُوْعَدُ، فَیَقُوْلُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْہُکَ الْوَجْہُ یَجِیْئُ بِالشَرِّ، فَیَقُوْلُ: أَنَا عَمَلُکَ الْخَبِیْثُ، فَیَقُوْلُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۳۳)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازہ میں گئے، جب قبر پر پہنچے تو دیکھا کہ ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے، ایسے لگتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی،اس کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زمین کو کریدنے لگ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور دو تین بار فرمایا: عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن آدمی جب اس دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے مراحل میں ہوتاہے توآسمان سے سورج کی طرح کے انتہائی سفید چہروں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، ان کے پاس جنت کا کفن اورخوشبو ہوتی ہے، وہ آ کر اس آدمی کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے پاکیزہ روح! اللہ کی بخشش اور رضامندی کی طرف نکل۔ اس کی روح آرام سے بہتی ہوئی یوں نکل آتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکل آتا ہے۔ جنت کے فرشتے اس روح کو موت کے فرشتے کے ہاتھوں میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ فوراًاسے وصول کر کے جنت والے کفن اور خوشبو میں لپیٹ دیتے ہیں، اس سے روئے زمین پر کستوری کی عمدہ ترین خوشبو جیسی مہک آتی ہے، فرشتے اسے لے کر اوپر جاتے ہیں اور وہ فرشتوں کی جس جماعت اور گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں،وہ پوچھتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ اسے دنیا میں جن بہترین ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ فرشتے ان میں سے سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک وہ اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور اس کے لیے دروازہ کھلواتے ہیں، ان کے کہنے پر دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ پھر ہر آسمان کے مقرَّب فرشتے اس روح کو اوپر والے آسمان تک چھوڑ کر آتے ہیں، اس طرح اسے ساتویں آسمان تک لے جایاجاتا ہے۔ اللہ تعالٰ فرماتا ہے: میرے بندے کے (نامۂ اعمال والی) کتاب عِلِّیِّیْنَ میں لکھ دو اور اسے زمین کی طرف واپس لے جائو، کیونکہ میں نے اس کو اسی سے پیدا کیا ہے، اس لیے میں اس کو اسی میں لوٹائوں گا اور پھر اس کو دوسری مرتبہ اسی سے نکالوں گا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:پھر اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے:میرا رب اللہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوت کیا گیا تھا ، وہ کون ہے؟وہ جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں: یہ باتیں تمہیں کیسے معلوم ہوئیں؟وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور میں نے اس کی تصدیق کی، اس کے بعد آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دواور اس کے لیے جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اس کی طرف جنت کی ہوائیں اورخوشبوئیں آنے لگتی ہیں اور تاحدِّ نظر اس کے لیے قبر کو فراخ کر دیا جاتا ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے پاس ایک انتہائی حسین و جمیل، خوش پوش اور عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور کہتا ہے: تمہیں ہر اس چیز کی بشارت ہو جوتمہیں اچھی لگے، یہی وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ تھا۔وہ قبر والا پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ لگتا ہے، جو خیر کے ساتھ آتا ہے۔ وہ جواباً کہتا ہے: میں تیرا نیک عمل ہوں۔ وہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ سکوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر آدمی جب اس دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتاہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں، وہ آ کر اس کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے خبیث روح! اللہ کے غصے اور ناراضگی کی طرف نکل آ، وہ اس کے جسم میں بکھر جاتی ہے۔پھر فرشتہ اسے یوں کھینچتا ہے جیسے کانٹے دار سلاخ کو تر اون میں سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ جب فرشتہ اسے نکال لیتا ہے تو دوسرے فرشتے اس روح کو اس کے ہاتھ میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ اسے فوراً ٹاٹوں میں لپیٹ لیتے ہیں، روئے زمین پر پائے جانے والی سب سے گندی بدبو اس سے آتی ہے، فرشتے اسے لے کر اوپر کو جاتے ہیں۔ وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ اس آدمی کو دنیا میں جن برے ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ ان میں سے سب سے برا اور گندا نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک کہ فرشتے اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلوانے کا کہتے ہیں، لیکن اس کے لیے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَائِ ، وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔} (سورۂ اعراف:۴۰) یعنی: اوپر جانے کی خاطر ان کی روحوں کے لیے آسمان کے درواز ے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں اس وقت تک نہ جا سکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے سے نہ گزر جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس کے (نامۂ اعمال) کی کتاب زمین کی زیریں تہ سِجِّیْنٍ میں لکھ دو۔ پھر اس کی روح کو زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے۔اس موقعہ پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَمَنْ یُشْرِکَ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ، فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرَّیْحُ فِی مَکَانٍ سَحِیْقٍ۔}(سورۂ حج:۳۱) یعنی: اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، وہ گویا آسمان سے گر پڑا اور اسے پرندوں نے اچک لیا یا ہوا اسے اڑا کر دور دراز لے گئی۔ اس کے بعد اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے اور دو فرشتے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں:تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تونہیں جانتا۔وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تو نہیں جانتا۔وہ پوچھتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوث کیا گیا تھا، وہ کون ہے؟وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا۔ آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: یہ جھوٹا ہے، اس کے لیے جہنم کا بستر بچھا دو اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، پس وہاں سے اس کی طرف جہنم کی حرار ت اور بدبو آنے لگتی ہے۔ اس کی قبر اس پر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں۔ایک انتہائی بدشکل، بدصورت، گندے لباس والا بدبودار آدمی اس کے پاس آ کر کہتا ہے: تجھے ہر اس چیز کی بشارت ہو جو تجھے بری لگتی ہے، یہ وہی دن ہے کہ جس کا تجھ سے وعدہ کا جاتا تھا۔وہ پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ ہے جو شرّ کے ساتھ آتا ہے؟ وہ کہتا ہے: میں تیرا برا عمل ہوں۔ وہ قبر والا کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم نہ کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3029

۔ (۳۰۲۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) حَتّٰی إِذَا خَرَجَ رُوْحُہُ صَلّٰی عَلَیْہِ کُلُّ مَلَکٍ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ وَکُلُّ مَلَکٍ فِی السَّمَائِ وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَائِ وَلَیْسَ مِنْ أَہْلِ بَابٍ إِلَّا وَہُمْ یَدْعُوْنَ اللّٰہَ أَنْ یُعْرَجَ بِرُوْحِہِ مِنْ قِبَلِہِمْ، فَإِذَا عُرِجَ بِرُوْحِہِ قَالُوْا: رَبِّ عَبْدُکَ فُلَانٌ، فَیَقُوْلُ: اِرْجِعُوْہُ، فَإِنِّی عَہِدْتُّ إِلَیِہِمْ أَنِّی مِنْہَا خَلَقْتُہُمْ وَفِیْہَا اُعِیْدُہُمْ، وَمِنْہَا أُخْرِجُہُمْ تَارَۃً أُخْرٰی، قَالَ: فَإِنَّہُ یَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِہِ إِذَا وَلَّوْا عَنْہُ فَیَأْتِیْہِ آتٍ، فَیَقُوْلُ: مَنْ رَبُّکَ، مَا دِیْنُکَ،مَنْ نَبِیُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: رَبِّیَ اللّٰہُ، وَدِیْنِیَ اْلإِسْلَامُ، وَنَبِیِّیْ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَیَنْتَہِرُہُ، فَیَقُوْلُ: مَنْ رَبُّکَ، مَا دِیْنُکَ، مَنْ نَبِیُّکَ؟ وَہِیَ آخِرُ فِتْنَۃٍ تُعْرَضُ عَلَی الْمُؤْمِنِ فَذَالِکِ حِیْنَ یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمُنْوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ۔} فَیَقُوْلُ: رَبِّیَ اللّٰہُ وَدِیْنِیَ الإِسْلَامُ وَنَبِیِّی مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَیَقُوْلُ لَہُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ یَأْتِیْہِ آتٍ حَسَنُ الْوَجْہِ طَیِّبُ الرِّیْحِ حَسَنُ الثِّیَابِ، فَیَقُوْلُ: أَبْشِرْ بِکَرَامَۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَنَعِیْمٍ مُقِیْمٍ، فَیَقُوْلُ: وَأَنْتَ فَبَشَّرَکَ اللّٰہُ بِخَیْرٍ، مَنْ أَنْتَ؟ فَیَقُوْلُ: اَنَا عَمَلُکَ الصَّالِحُ، کُنْتَ وَاللّٰہِ سَرِیْعًا فِی طَاعَۃِ اللّٰہِ بَطِیِْئًا عَنْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ فَجَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا، ثُمَّ یُفْتَحُ لَہُ بَابٌ مِنَ الْجَنَّۃِ وَبَابٌ مِنَ النَّارِ، فَیُقَالُ: ہٰذَا کَانَ مَنْزِلُکَ لَوْ عَصَیْتَ اللّٰہَ، أَبْدَلَکَ اللّٰہُ بِہِ ہٰذَا، فَإِذَا رَأیٰ مَا فِی الْجَنَّۃِ قَالَ: رَبِّ عَجِّلْ قِیَامَ السَّاعَۃِ کَیْمَا أَرْجِعَ إِلٰی أَہْلِی وَمَالِی، فَیُقَالُ لَہُ: اُسْکُنْ وَإِنَّ الْکَافِرَ أِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَۃِ نَزَلَتْ عَلَیْہِ مَلَائِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ فَانْتَزَعُوْا رُوْحَہُ کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّوْدُ الْکَثِیْرُ الشَّعْبِ مِنَ الصُّوْفِ الْمُبْتَلِّ، وَتُنْزَعُ نَفْسُہُ مَعَ الْعُرُوْقِ فَیَلْعَنُہُ کُلُّ مَلَکٍ مِنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ وَکُلُّ مَلَکٍ فِی السَّمَائِ وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَائِ لَیْسَ مِنْ أَہْلِ بَابٍ إِلَّا وَہُمْ یَدْعُوْنَ اللّٰہُ أَنْ لَّاتَعْرُجَ رُوْحُہُ مِنْ قَبَلِھِمْ فَاِذَا عُرِجَ بِرُوْحِہٖ قَالُوْا: رَبِّ! فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ عَبْدُکَ، قَالَ: اِرْجِعُوْہُ، فَإِنِّی عَہِدْتُّ إِلَیْہِمْ أَنِّیْ مِنْہَا خَلَقْتُہُمْ وَفِیْہَا أُعْیِدُہُمْ وَمِنْہَا أُخْرِجُہُمْ تاَرَۃً أُخْرٰی، قَالَ: فَإِنَّہُ لَیْسْمَعُ خفَقْ نِعَالِ أَصْحَابِہِ إِذَا وَلَّوْا عَنْہُ، قَالَ: فَیَأْتِیْہِ آتٍ فَیَقُوْلُ: مَنْ رَبُّکَ؟ مَا دِیْنُکَ؟ مَنْ نَبِیُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: لَا أَدْرِی، فَیَقُوْلُ: لَا دَرَیْتَ وَلَا تَلَوْتَ،وَیَأْتِیْہِ آتٍ قَبِیْحُ الْوَجْہِ قَبِیْحُ الثِّیَابِ مُنْتِنُ الرِّیْحِ، فَیَقُوْلُ أَبْشِرْ بِہَوَانٍ مِنَ اللّٰہِ وَعَذَابٍ مُقِیْمٍ، فَیَقُوْلُ: وَأَنْتَ فَبَشَّرَکَ اللّٰہُ بِالشَرِّ مَنْ أَنْتَ؟ فَیَقُوْلُ: أَنَا عَمَلُکَ الْخَبِیْثُ، کُنْتَ بَطِیْئًا عَنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ سَرِیْعًا فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، فَجَزَاکَ اللّٰہُ شَرًّا،ثُمَّ یُقَیَّضُ لَہُ أَعْمٰی أَصَمُّ أَبْکَمُ فِی یَدِہِ مِرْزَبَۃٌ،لَوْ ضُرِبَ بِہَا جَبَلٌ کَانَ تُرَابًا، فَیَضْرِبُہُ ضَرْبَۃً حَتّٰی یَصِیْرَ تُرَابًا، ثُمَّ یُعِیْدُہُ اللّٰہُ کَمَا کَانَ فَیَضْرِبُہُ ضَرْبَۃً أُخْرٰی فَیَصِیْحُ صَیْحَۃً یَسْمَعُہُ کُلُّ شَیْئٍ إِلَّا الثَّقَلَیْنِ۔)) قَالَ الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، ثُمَّ یُفْتَحُ لَہُ بَابٌ مِنَ النَّارِ وَیُمَہَّدُ مِنْ فُرُشِ النَّارِ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۱۵)
(دوسری سند)اس میں ہے:جب نیک آدمی کی روح نکلتی ہے تو زمین و آسمان کے درمیان والا اور آسمان کا ہر فرشتہ اس کے لیے رحمت کی دعاء کرتا ہے اور آسمان کے ہر دروازے والے فرشتے یہ دعا کرتے ہیں کہ اس نیک بندے کی روح ان کے دروازے کے راستے سے اوپر کو جائے۔ جب اس کی روح کو اوپر لے جایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں، اے رب! یہ تیرا فلاں بندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اسے واپس لے جائو، میرا ان سے وعدہ ہے کہ میں نے انہیں زمین سے پیدا کیا، اسی میں ان کو لوٹائوں گا اور دوسری مرتبہ ان کو اسی سے نکالوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ (میت) واپس جانیوالے لوگوں کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے، اتنے میں فرشتہ اس کے پاس آ جاتا ہے اور پوچھتا ہے: تیرا رب کون ہے؟تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ نیک آدمی جواب دیتا ہے:میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ یہ جواب سن کر فرشتہ اسے جھڑکتا ہے اور پھر پوچھتا ہے: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ (حقیقت میں) یہ مومن کی آزمائش اور امتحان کا آخری موقعہ ہوتاہے۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمُنْوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں صحیح بات پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ چنانچہ وہ (دوبارہ) جواب میں کہتا ہے:میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، اس دفعہ فرشتہ کہتا ہے کہ تمہارے جواب درست ہیں۔ پھر اس کے پاس ایک حسین و جمیل، عمدہ خوشبو والا اور خوش لباس آدمی آ کر کہتا ہے: تم کو اللہ کی طرف سے اکرام اور ہمیشہ کی نعمتوں کی بشارت ہو۔ یہ کہتا ہے: تجھے بھی اللہ اچھی بشارتیں دے، تم کون ہو؟ وہ کہتا ہے: میں تیرا ہی نیک عمل ہوں، اللہ کی قسم! تو اللہ کی اطاعت کرنے میں تیز اور گناہ کرنے میں سست ہوتا تھا، اللہ تجھے اچھا بدلہ دے۔پھر اس کے لیے جنت اور جہنم دونوں طرف سے ایک ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے: اگر تم اللہ کی نافرمانی کرتے تو تمہارا (جہنم والا) یہ ٹھکانہ ہوتا۔ اب اللہ نے تیرے لیے ا س کے عوض یہ (جنت والی) جگہ تیار کی ہے۔ پھر جب وہ جنت کے مناظر اور نعمتیں دیکھتا ہے تو کہتا ہے:اے میرے رب! قیامت جلدی بپا کر تاکہ میں اپنے اہل اور مال میں لوٹ سکوں۔ لیکن اسے کہا جائے گا: تم یہاں سکون کرو۔ رہا مسئلہ کافر کا تو جب وہ دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس تند مزاج اور سخت طبیعت فرشتے آ کر اس کی روح کو یوں کھینچتے ہیں جیسے زیادہ شاخوں والی سلاخ کو گیلی اون میں سے کھینچا جاتا ہے اور اس کی روح رگوں سمیت نکال لی جاتی ہے۔زمین و آسمان کے درمیان والا اور آسمان کا ہر فرشتہ اس پر لعنت کرتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور ہر دروازے کے فرشتے یہ دعا کرتے ہیں کہ اس کی روح ان کے دروازے سے نہ گزرنے پائے۔ جب اس کی روح کو اوپر لے جایا جاتا ہے تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے رب! یہ تیرا فلاں بن فلاں بندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اسے واپس لے جائو۔ میرا ان سے وعدہ ہے کہ میں نے انہیں زمین سے پیدا کیا، اسی میں ان کو لوٹائوں گا اور دوبارہ میں انہیں وہیں سے نکا لوں گا، وہ واپس جانے والے لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سن رہا ہوتا ہے، اتنے میں فرشتہ اس کے پاس آ جاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ وہ جواباً کہتا ہے: میں نہیں جانتا۔ فرشتہ کہتا ہے: تونے نہ سمجھا اور نہ اللہ کی کتاب کو پڑھا۔ اس کے بعد اس کے پاس ایک انتہائی بدصورت اور گندے لباس ولا بدبودار آدمی آتا ہے اور کہتا ہے: تجھے اللہ کی طرف سے ذلت و رسوائی اور دائمی عذاب کی بشارت ہو۔ وہ کہتا ہے:تجھے بھی برائی کی بشارت ہو، تو کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میں تیرا برا عمل ہوں، تو اللہ کی اطاعت کرنے میں سست اور گناہ کرنے میں تیز تھا۔ اللہ تجھے برا بدلہ دے۔ پھر اس پر ایک اندھا، بہرا اور گونگا فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ہاتھ میں لوہے کا ایسا گرز ہوتا ہے کہ اگر وہ پہاڑ پر مارا جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے۔فرشتہ زور سے اسے یہ گرز مارتا ہے، وہ آدمی مٹی ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ ٹھیک کر دیتا ہے۔ وہ پھر اسے مارتا ہے، جس کی وجہ سے وہ چیختا چلاتا ہے، اور اس کی چیخ و پکار کو جن و انس کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے۔ سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس کے لیے جہنم کا بستر بچھا دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3030

۔ (۳۰۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیْسَ (یَعْنِی الشَّافِعِیَّ) عَنْ مَالِکَ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَاہُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّمَا نَسَمَۃُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ یَعْلُقُ فِی شَجَرِ الْجَنَۃِ حَتّٰی یَرْجِعَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلٰی جَسَدِہِ یَوْمَ یَبْعَثُہُ)) (مسند احمد: ۱۵۸۷۰)
سیّدناکعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کی روح ایک پرندہ ہوتی ہے، جو جنت کے درختوں سے کھاتی رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جس دن اسے اٹھانا ہو گا، اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3031

۔ (۳۰۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیْسَ (یَعْنِی الشَّافِعِیَّ) عَنْ مَالِکَ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَاہُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّمَا نَسَمَۃُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ یَعْلُقُ فِی شَجَرِ الْجَنَۃِ حَتّٰی یَرْجِعَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلٰی جَسَدِہِ یَوْمَ یَبْعَثُہُ)) (مسند احمد: ۱۵۸۷۰)
سیدہ ام مبشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیّدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، سے کہا: میرے بیٹے مبشر کو میرا سلام پہنچا دینا۔ سیّدناکعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ام مبشر! اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے، کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: مسلمان کی روح ایک پرندہ ہوتی ہے، جنت کے درختوں سے کھاتی رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس کے جسم میں لوٹا دے گا۔ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، پس میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتی ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3032

۔ (۳۰۳۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ أَرْوَاحَ الْمَؤْمِنِیْنَ تَلْتَقِی عَلٰی مَسِیْرَۃِ یَوْمٍ مَا رَأَی أَحْدُہُمْ صَاحِبَہُ قَطُّ)) (مسند احمد: ۶۶۳۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول الہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومنوں کی روحیں ایک دن کے فاصلہ پر جا کر دوسری روح سے ملتی ہیں، اگرچہ دنیا میں انہوں نے ایک دوسرے کو کبھی بھی نہ دیکھا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3033

۔ (۳۰۳۳)(وَعَنْہُ مِن طَرِیْقٍ ثَانٍ) ((إِنَّ أَٔرْوَاحَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَتَلْقِیَانِ عَلٰی مَسِیْرَۃِ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ وَمَا رَأیٰ وَاحِدٌ مِنْہُمَا صَاحِبَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۰۴۸)
(دوسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومنوں کی روحیں ایک دن، رات کے فاصلہ پر ایک دوسری کو جا کر ملتی ہیں، جبکہ انہوں نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3034

۔ (۳۰۳۴) عَنْ مُحَمَّدِ یْنِ الْمُنْکَدِرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَہُوَ یَمُوْتُ فَقُلْتُ: أَقْرِیْٔ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنِّیَ السَّلَامَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۱۱)
محمد بن منکدر کہتے ہیں: میں سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا،جبکہ ان کی وفات کا وقت قریب تھا، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کر دینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3035

۔ (۳۰۳۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَعْمَالَکُمْ تُعْرَضُ عَلٰی أَقَارِبِکُمْ وَعَشَائِرِکُمْ مِنَ الْأَمْوَاتِ، فَإِنْ کَانَ خَیْرًا اِسْتَبْشَرُوْا بِہِ وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَالِکَ قَالُوْا: اَللّٰہُمَّ لَا تُمِتْہُمْ حَتّٰی تَہْدِیَہُمْ کَمَا ہَدَیْتَنَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۱۳)
سیّدنا انس بن مال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اعمال، تمہارے فوت شدہ رشتہ داروں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، اگر اعمال اچھے ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر اچھے نہ ہوں تو وہ کہتے ہیں: اے اللہ! ان لوگوں کو اس قت تک موت نہ دینا، جب تو ان کو اس طرح ہدایت نہ دے دے، جس طرح تو نے ہم کو ہدایت دی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3036

۔ (۳۰۳۶) عَنْ أُمِّ ہَانِیٍٔ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَٔنَّہَا سَأَلْتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَتَزَاوَرُ إِذَا مُتْنَا وَیَرٰی بَعْضُنا بَعْضًا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَکُوْنُ النَّسَمُ طَیْرًا تَعْلُقُ بِالشَّجَرِ حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ دَخَلَتْ کُلُّ نَفْسٍ فِی جَسَدِہَا)) (مسند احمد: ۲۷۹۳۱)
سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ جب ہم مرجائیں گے تو کیا ہم ایک دوسرے کو ملیں گے اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام روحوں کو پرندوں کی شکل دے دی جاتی ہے، پھر وہ درختوں سے کھاتی رہتی ہیں، جب قیامت کا دن ہو گا تو ہر روح اپنے جسم میں داخل ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3037

۔ (۳۰۳۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ الْمَیِّتَ یَعْرِفُ مَنْ یَحْمِلُہُ وَمَنْ یُغَسِّلُہُ وَمَنْ یُدْلِیْہِ فِی قَبْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۱۰)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ میت کو اٹھاتے ہیں، اسے غسل دیتے ہیں اور اسے قبر میں اتارتے ہیں، میت ان سب کو پہچانتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3038

۔ (۳۰۳۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَـلَاثَہٌ یَا عَلِیُّ! لَا تُؤَخِّرْہُنَّ: اَلصَّلَاۃُ إِذَا اَتَتْ، وَالْجَنَازَۃُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَیِّمُ إِذَا وَجَدَتَ کُفُوًا۔)) (مسند احمد: ۸۲۸)
سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرنا: نماز کہ جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کہ جب وہ حاضر ہو جائے اور غیر شادی شدہ کی شادی کرنا کہ جب تو اس کے ہم پلہ رشتہ پا لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3039

۔ (۳۰۳۹) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ فَقَالَ: ((مَا ہُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِیْ فُلَانِ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنَّ صَاحِبَکُمْ مُحْتَبَسٌ عَلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ فِی دَیْنٍ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۸۵)
سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی پھر پوچھا: یہاں بنو فلاں کا کوئی آدمی موجود ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی کو قرضے کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک دیا گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3040

۔ (۳۰۴۰) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَۃٌ مَا کَانَ عَلَیْہِ دَیْنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۵۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کا نفس اس وقت تک روک کر رکھا جاتا ہے، جب تک اس پر قرضہ باقی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3041

۔ (۳۰۴۱) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَخَاہُ مَاتَ وَتَرَکَ ثَلٰثَمِائَۃِ دِرْہَمٍ، وَتَرَکَ عِیَالًا فَأَرَدْتُّ أَنْ أُنْفِقَہَا عَلٰی عِیَالِہٖ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَخَاکَ مَحْبُوْسٌ بَدَیْنِہِ فَاقْضِ عَنْہُ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَدْ أَدَّیْتُ إِلَّا دِیْنَارَیْنِ، اِدَّعَتَہْمُاَ امْرَأَۃٌ وَلَیْسَ لَہَا بَیِّنَۃٌ، قَالَ: ((فَأَعْطِہَا فَإِنَّہَا مُحِقَّۃٌ)) (مسند احمد: ۲۰۳۳۶)
سیّدنا سعد بن اطول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا، وہ تین سو درہم چھوڑ کر فوت ہوا تھا،اس کے اہل و عیال بھی تھے۔ میں نے چاہا کہ یہ رقم ان پر صرف کر دوں۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے بھائی کو قرضے کی وجہ سے روک لیا گیا ہے، اس لیے تم اس کی طرف سے قرضہ ادا کر دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا تمام قرض ادا کر دیا ہے، لیکن دو دینار رہتے ہیں، ایک عورت نے ان کے بارے میں دعویٰ کر دیا ہے،لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے بھی دے دو، کیونکہ وہ حق بات کر رہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3042

۔ (۳۰۴۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ تُوُفِّیَ سُجِّیَ بِثَوْبِ حِبَرَۃٍ۔(مسند احمد: ۲۵۰۸۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3043

۔ (۳۰۴۳) وَعَنْہَا أَیْضًا أَنْ أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ دَخَلَ عَلَیْہَا فَتَیَمَّمَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ مُسَجًّی بِبُرْدِ حِبَرَۃٍ فَکَشَفَ عَنْ وَجْہِہِ ثُمَّ أَکَبَّ عَلَیْہِ فَقَبَّلَہُ وَبَکٰی، ثُمَّ قَالَ: أَبِیْ وَ أُمِّی! وَاللّٰہِ لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْکَ مَوْتَتَیْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمَوْتَۃُ الَّتِی قَدْ کُتِبَتْ عَلَیْکَ فَقَدْ مِتَّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۷۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور سیدھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دھاری دار یمنی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھکے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دیا اور رو پڑے۔ پھر کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی بھی دوموتیں جمع نہیں کرے گا،جو موت آپ پر لکھی گئی تھی وہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3044

۔ (۳۰۴۴) عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَبَّلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُوْنٍ، وَہُوَ مَیِّتٌ، حَتّٰی رَأَیْتُ الدُّمُوْعَ تَسِیْلُ عَلٰی وَجْہِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۶۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بوسہ دیا، جبکہ وہ میت تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آنسو ان کے چہرے پر بہنے لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3045

۔ (۳۰۴۵)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُْقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُوْنٍ وَہُوَ مَیِّتٌ قَالَتْ: فَرَأَیْتُ دُمُوْعَہُ تَسِیْلُ عَلٰی خَدَّیْہِ یَعْنِی عُثْمَانَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَعَیْنَاہُ تُہْرَاقَانِ أَوْ قَالَ وَہُوَ یَبْکِی۔ (مسند احمد: ۲۶۲۳۱)
(دوسری سند)میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بوسہ دیا، جب کہ وہ میت تھے، میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آنسو عثمان کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ عبد الرحمن نے کہا: اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھیں بہہ رہی تھیں، یا کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رو رہے تھے۔

آیت نمبر