Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

58)

58) جنازہ کے احکام و مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3096

۔ (۳۰۹۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَأَدّٰی فِیْہِ الْأَماَنَۃَ، وَلَمْ یُفْشِ عَلَیْہِ مَا یَکُوْنُ مِنْہُ عِنْدَ ذَالِکَ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہٗ۔)) وَقَالَ: ((لِیَلِہِ أَقْرَبُکُمْ مِنْہُ، إِنْ کَانَ یَعْلَمُ، فَإِنْ کَانَ لَا یَعْلَمُ فَمَنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَہُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ وَأَمَانَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۹۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کو غسل دے، (اس سلسلہ کے تمام امور کی) ادائیگی میں امانت کا خیال رکھے اور میت کی (پردہ والی اور ناپسندیدہ چیزوں کا) افشا نہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میت کا قریبی رشتہ دار اس کے امور کا ذمہ دار بنے، بشرطیکہ اسے (ان امور کا) علم ہو، وگرنہ جس کو تم تقوے اور امانت والا سمجھو (اس کو یہ ذمہ داری سونپ دو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3097

۔ (۳۰۹۷) عَنْ صَالِحٍ أَبِی حُجَیْرٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ خُدَیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا وَکَفَّنَہُ وَتَبِعَہُ وَوَلِیَ جُثَّتَہُ، رَجَعَ مَغْفُوْرًا لَہُ۔ قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ أَبِی: لَیْسَ بِمَرْفُوْعٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۰۰)
صحابی ٔ رسول سیّدنا معاویہ بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جو شخص میت کو غسل اور کفن دے، پھر اس کے ساتھ جائے اور اس کے دفن کا اہتمام کرے تو بخشا بخشایا واپس آئے گا۔ امام احمدk نے کہا: یہ مرفوع نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3098

۔ (۳۰۹۸) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَبْضَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ وَغَسَّلُوْا وَکَفَّنُوْہُ وَحَنَّطُوْہُ وَحَفَرُوْا لَہُ وَأَلْحَدُوْا لَہُ وَصَلَّوْا عَلَیْہِ ، ثُمَّ دَخَلُوْا قَبْرَہُ فَوَضَعُوْہُ عَلَیْہِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوْا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَیْہِ التُّرَابَ، ثُمَّ قَالُوْا: یَا بَنِیْ آدَمَ! ہٰذِہٖ سُنَّتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۶۰)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کیا، پھر ان کو غسل دے کر کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، بعد ازاں ان کی قبر کھودی اور لحد تیار کی۔ پھران کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کی قبر میں داخل ہوئے اور ان کو قبر میں اتار دیا، پھر اس پر اینٹیں رکھ کرقبر سے باہر آئے اور اس پر مٹی ڈال کر کہا: اے بنی آدم! تمہارے لیے مردوں کو دفن کرنے کا یہ طریقہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3099

۔ (۳۰۹۹) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَا یَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا إِلاَّ سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۷)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں دوسرے آدمی پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3100

۔ (۳۱۰۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْیَوْمِ الَّذِی بُدِیَٔ فِیْہِ ،فَقُلْتُ: وَا رَأْسَاہُ، فَقَالَ: ((وَدِدْتُّ أَنَّ ذَالِکَ کَانَ وَأَنَا حَیٌّ فَہَیَّأْتُکِ وَدَفَنْتُکِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۲۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: جس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (کی مرض الموت) کا آغاز ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے اورمیں نے کہا: ہائے میرا سر۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو چاہتا ہوں کہ ایسا ہوتا کہ(تم بیمار ہو جانے کے بعد فوت ہو جاتیں) پھر تم کو تیار کر کے دفن کر دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3101

۔ (۳۱۰۱)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ: ((مَا ضَرَّکِ لَوْ مُتِّ قَبْلِی فَغَسَّلْتُکِ وَکَفَّنْتُکِ، ثُمَّ صَلَّیْتُ عَلَیْکِ وَدَفَنْتُکِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۴۳۳)
(دوسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ اگر تم مجھ سے قبل فوت جاؤ تو میں تم کو غسل دے کر کفن پہناؤں گا اور پھر تمہاری نمازِ جنازہ پڑھ کر تجھے دفن کروں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3102

۔ (۳۱۰۲) عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا کَانَتْ تَقُوْلُ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إلِاَّ نِسَائُ ہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۳۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی تھیں: جس چیز کا مجھے بعد میں پتہ چلا، اگر اس کا پہلے پتہ ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3103

۔ (۳۱۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ أَشْرَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الشَّہُدَائِ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا یَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ((زَمِّلُوْھُمْ بِدِمَائِہِمْ فَإِنِّی قَدْ شَہِدْتُّ عَلَیْہِمْ)) فَکَانَ یُدْفَنُ الرَّجُلَانِ وَثَـلَاثَۃٌ فِی الْقَبْرِ الْوَاحِدِ،وَیُسْأَلُ أَیُّہُمْ کَانَ أَقْرَأَ لِلْقُرْآنِ فَیُقَدِّمُوْنَہُ، قَالَ: فَدُفِنَ أَبِی وَعَمِّی یَوْمَئِذٍ فِی قَبْرٍ وَاحِدٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۵۹)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:احد کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہداء پرمتوجہ ہوئے اور فرمایا: ان کو خون سمیت ڈھانپ دو، میں ان کے حق میں گواہی دوں گا۔)) پھر دو دو، تین تین آدمیوں کو ایک ایک قبر میں دفن کیا گیا اور دفن کے وقت یہ پوچھا جاتا ہے کہ ان میں سے کون زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہے، پھر اسے قبر میں مقدم کرتے تھے۔ سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس روز میرے والد اور چچا کو ایک قبر میں دفن کیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3104

۔ (۳۱۰۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ صُعَیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَتْلٰی أُحُدٍ قَالَ: ((أَشْہَدُ عَلٰی ہٰؤُلَائِ، مَا مِنْ مَجْرُوْحٍ جُرِحَ فِی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ إِلَّا بَعَثَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَجُرْحُہُ یَدْمٰی، اَللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّیْحُ رِیْحُ الْمِسْکِ، اُنْظُرُوْا أَکْثَرَہُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، فَقَدِّمُوْہُ أَمَامَہُمْ فِی الْقَبْرِ)) (مسند احمد: ۲۴۰۵۸)
سیّدنا عبد اللہ بن صعیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہدائے احد پر متوجہ ہوئے تو فرمایا: میں ان پر گواہ ہوں، جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہو گا، اس کا رنگ تو خون جیسا ہی ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی سی ہو گی۔ اب دیکھو! ان میں سے جس کو قرآن مجید زیادہ یاد ہو، اسے قبر میں آگے کی طرف رکھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3105

۔ (۳۱۰۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ فِی قَتْلٰی أُحُدٍ: ((لَا تُغَسِّلُوْہُمْ فَإِنَّ کُلَّ جُرْحٍ أَوْ کُلَّ دَمٍ یَفُوْحُ مِسْکًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِمْ (مسند احمد: ۱۴۲۳۸)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہدائے احد کے متعلق فرمایا: انہیں غسل نہ دو، کیونکہ قیامت کے دن ہر زخم یا ہر خون سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3106

۔ (۳۱۰۶) عَنْ إِبْرَاہِیِْمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: شَہِدْتُّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ دُفِنَ فِی ثِیَابِہِ بِدِمَائِہِ وَلَمْ یُغَسَّلْ۔ (مسند احمد: ۵۳۱)
عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں:میں موجود تھا، سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خون سمیت ان کے کپڑوں میں دفن کیا گیا اور ان کو غسل نہیں دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3107

۔ (۳۱۰۷) حَدَّثَنَا، عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَنَا أَیُّوْبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِیَّہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَاَلتْ: أَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَہُ عَلَیْہَا السَّلَامُ، فَقَالَ: ((اِغْسِلْنَہَا ثَـلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَالِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّ ذَالِکَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِی الْآخِرَۃِ کَافُوْرًا أَوْ شَیْئًا مِنْ کَاُفْوٍر، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآدِنَّنِی)) قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاہُ، فَأَلْقٰی إِلَیْنَا حِقْوَہُ وَقَالَ: ((أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ)) قَالَ: وَقَالَتْ حَفْصَۃُ قَالَ: ((اِغْسِلْنَہَا وِتْرًا ثَـلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا۔)) قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِیَّۃَ: مََشَطْنَاہَا ثَـلَاثًا قُرُوْنٍ (زَادَتْ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَأَلْقَیْنَا خَلْفَہَا قَرْنَیْہَا وَنَاصِیَتَہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۰۷۱)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ تین یا پانچ دفعہ غسل دو یا اگر ضرورت محسوس کرو تو اس سے زیادہ مرتبہ نہلا دو، البتہ آخری دفعہ میں کچھ کافور ملا لینا، پھر جب غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔ پس جب ہم غسل سے فارغ ہوئیں تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ازار کا کپڑا ہمیں دیا اور فرمایا: سب سے پہلے اس کو اس چادر میں لپیٹو۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے طاق یعنی تین یا پانچ یا سات دفعہ غسل دو۔ سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم نے کنگھی کرکے ان کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک روایت میں ہیں: ہم نے ان کے سامنے والے اور جانبین کے بالوں کو پیچھے کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3108

۔ (۳۱۰۸) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ أَخَذَ ابْنُ سِیْرِیْنَ غُسْلَہُ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ: غَسَّلْنَا ابْنَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَنَا أَنْ نَغْسِلَہَا بِالسِّدْرِ ثَـلَاثًا فَإِنْ أَنْجَتْ، وَإِلَّا فَخَمْسًا ، فَإِنْ أَنْجَتْ وَاِلَّا فَأَکْثَرَ مِنْ ذَالِکَ قَالَتْ: فَرَأَیْنَا أَنَّ أَکْثَرَ مِنْ ذَالِکَ سَبْعٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۸۱)
قتادہ کہتے ہیں: ابن سیرینkنے غسل کا طریقہ سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سیکھا تھا وہ کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صاحبزادی کو غسل دینے کا ارادہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے بیری کے پتے ملے ہوئے پانی سے تین بار غسل دیں، اگر اچھی طرح صفائی ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ پانچ مرتبہ غسل دیں۔ اگر اس سے صفائی ہو جائے تو ٹھیک، وگرنہ اس سے زیادہ مرتبہ غسل دیں۔سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہمارا خیال ہے کہ پانچ سے زیادہ مرتبہ سے مراد سات مرتبہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3109

۔ (۳۱۰۹) عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُمْ فِی غُسْلِ ابْنَتِہِ: ((اِبْدَأْنَ بِمَیَامِنْہَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوْئِ مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۴۵)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی صاحب زادی کے غسل کے موقعہ پر انہیں فرمایا: اس کی دائیں جانب سے اور اعضائے وضو سے غسل شروع کرو۔

آیت نمبر