MUSNAD AHMED

Search Results(1)

59)

59) میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3110

۔ (۳۱۱۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ یَوْمًا فَذَکَرَ رَجُلاً قُبِضَ وَکُفِّنَ فِی کَفَنٍ غَیْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَیْلًا فَزَجَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ یُقْبَرَ بِاللَّیْلِ حَتّٰی یُصَلّٰی عَلَیْہِ إِلَّا أَنْ یُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلٰی ذَالِکَ ، وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا کَفَّنَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلْیُحَسِّنْ کَفَنَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۹۲)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن خطبہ دیا اورایسے آدمی کا ذکر کیا گیا، جو فوت ہوا اور اسے معمولی سا کفن دے کر رات کو ہی دفن کر دیا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھے بغیر رات کو دفن کرنے سے منع کر دیا، الّا یہ کہ بندہ مجبور ہو جائے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو وہ اچھا کفن دیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3111

۔ (۳۱۱۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَجَدَ سَعَۃً، فَلْیُکَفِّنْ فِی ثَوْبِ حِبَرَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۵۵)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی میں استطاعت ہو تو وہ (میت کو) یمن کے دھاری دار کپڑے میں کفن دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3112

۔ (۳۱۱۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْبَسُوْا مِنْ ثِیَابِکُمْ الْبِیَاضَ، فَإِنَّہَا مِنْ خَیْرِ ثِیَابِکُمْ وَکَفِّنُوْا فِیْہَا مَوْتَاکُمْ ، وَإِنَّ مِنْ خَیْرِ أَکْحَالِکُمُ الْإِثْمَدَ ، یَجْلُوْ الْبَصَرَ وَیُنْبِتُ الشَّعْرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفید لباس پہنا کرو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین لباسوں میں سے ہے اور اپنے مردوں کو اسی میں کفن دیا کرو۔اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے، یہ بینائی کو تیز کرتا اور پلکوں کو اگاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3113

۔ (۳۱۱۳) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْبَسُوْا مِنْ ثِیَابِکُمُ الْبِیِْضَ َوَکَفِّنُوْا فِیْہَا مَوْتَاکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۶۵)
سیّدناسمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفید لباس پہنا کرو اور مردوں کو اسی میں کفن دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3114

۔ (۳۱۱۴) عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَال لَہَا: یَا بُنَیَّۃُ! أَیُّ یَوْمٍ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: یَوْمَ اْلإِثْنَیْنِ، قَالَ: فِی کَمْ کَفَّنْتُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: یاَ أَبَتِ! کَفَّنَّاہُ فِی ثَـلَاثَۃِ أَثْوَابٍ بِیْضٍ سُحُوْلِیَّۃٍ جُدَدٍ یَمَانِیَۃٍ لَیْسَ فِیْہَا قَمِیْصٌ وَلَا عِمَامَۃٌ أُدْرِجَ فِیْہَا إِدْرَاجًا۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے پوچھا: بیٹی! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال کس روز کو ہوا تھا؟ میں نے کہا: سوموار کو۔ پوچھا: آپ لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے کہا: ابا جان! ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تین سفید نئے یمنی سحولی کپڑوں میں کفن دیا تھا، ان میں قمیص تھی نہ عمامہ ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان چادروں میں لپیٹ دیا گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3115

۔ (۳۱۱۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُفِّنَ فِی ثَـلَاثَۃِ أَثْوَابٍ: فِی قَمِیْصِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ، وَحُلَّۃٍ نَجْرَانِیَّۃٍ، اَلْحُلَّۃُ ثَوْبَانِ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا، ایک قمیص تھی، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہوئے تھے اور نجرانی حُلّہ (جوڑا) تھا، حلہ دو کپڑوں کا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3116

۔ (۳۱۱۶) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَیْضًا قَالَ: کُفِّنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بُرْدَیْنِ أَبْیَضَیْنِ وَبُرْدٍ أَحْمَرَ۔ (مسند احمد: ۲۸۶۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سفید رنگ کی دو اور سرخ رنگ کی ایک چادر میں کفن دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3117

۔ (۳۱۱۷) عَنِ ابْنَۃِ أُہْبَانَ أَنَّ أَبَاھَا أَمَرَ أَہْلَہُ حِیْنَ ثَقُلَ أَنْ یَکَفِّنُوْہُ وَلَا یُلْبِسُوْہُ قَمِیْصًا، قَالَتْ: فَأَلْبَسْنَاہُ قَمِیصًا، فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِیْصُ عَلَی الْمِشْجَبِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۴۷)
بنت اہبان سے روایت ہے کہ جب ان کے والد مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اپنے اہل و عیال کو وصیت کی کہ وہ ان کو کفن دیں اورقمیص نہ پہنائیں۔ وہ کہتی ہیں: مگر ہم نے ان کو قمیص پہنا دیا، لیکن جب صبح ہوئی تو (کیا دیکھتے ہیں کہ) قمیص کھونٹی پرموجود تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3118

۔ (۳۱۱۸) عَنْ لَیْلٰی ابْنَۃِ قَانِفٍ الثَّقَفِیَّۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کُنْتُ فِیْمَنْ غَسَّلَ أُٔمَّ کُلْثُوْمٍ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عِنْدَ وَفَاتِہَا وَکَانَ أَوَّلَ مَا أَعْطَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ الْحِقَائُ’ ثُمَّ الدِّرْعُ، ثُمَّ الْخِمَارُ،ثُمَّ الْمِلْحَفَۃُ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِی الثَّوْبِ الآخِرِ، قَالَتْ: وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَابِ مَعَہُ کَفَنُہَا یُنَاوِلُنَاہُ ثَوْبًا ثَوْبًا۔ (مسند احمد: ۲۷۶۷۶)
سیدہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:میں ان عورتوں میں شامل تھی، جنہوں نے سیدہ ام کلثوم بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ان کی وفات کے موقع پر غسل دیا تھا۔ ان کے کفن کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے ہمیں اپنے تہبند کی چادر دی،اس کے بعد بالترتیب قمیص، دوپٹہ اور ایک بڑی چادر دی، پھر ان کو ایک اور کپڑے میں لپیٹ دیا گیا۔سیدہ لیلیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ان کا کفن تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ایک کر کے یہ کپڑے ہمیں پکڑا رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3119

۔ (۳۱۱۹) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ عَنْ أَبِیْہِ (عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: کُفِّنَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَبْعَۃِ أَثْوَابٍ ۔ (مسند احمد: ۷۲۸)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3120

۔ (۳۱۲۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی حَمْزَہَ فَوَقَفَ عَلَیْہِ فَرَآہُ قَدْ مُثِّلَ بِہِ، فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِیَّۃُ فِی نَفْسِہَا لَتَرَکْتُہُ حَتّٰی تَأَکْلَہُ الْعَافِیَۃُ، وَقَالَ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ: تَأْکُلُہُ الْعَاہَۃُ حَتّٰی یُحْشَرَ مِنْ بُطْوْنِہَا۔)) قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَۃٍ، فَکَفَّنَہُ فِیْہَا، قَالَ: وَکَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلٰی رَأْسِہِ بَدَتْ قَدَمَاہُ، وَإِذَا مُدَّتْ عَلٰی قَدَمَیْہِ بَدَا رَأْسُہُ قَالَ: وَکَثُرَ الْقَتْلٰی وَقَلَّتِ الثِّیَابُ، قَالَ: وَکَانَ یُکَفَّنُ أَوْ یُکَفِّنَ الرَّجُلَیْنِ شَکَّ صَفْوَانُ،وَالثَّلَاثَۃَ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، قَالَ: وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُ عَنْ أَکْثَرِہِمْ قُرْآنًا فَیُقَدِّمُہُ إِلٰی الْقِبْلَۃِ، قَالَ: فَدَفَنَہُمْ رَسُوْلُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِمْ، وَقَالَ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ، فَکَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَۃُ یُکَفَّنُوْنَ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۲۵)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اوردیکھا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر صفیہ محسوس نہ کرتی تو میں ان کو ایسے ہی رہنے دیتا، یہاں تک درندے اور (گوشت خور) پرندے ان کو کھا جاتے اور ان ان کے پیٹوں سے ان کا حشر ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دھاری دار چادر منگوا کر ان کو اس میں کفن دیا، وہ چادر اس قدر چھوٹی تھی کہ اگر سر کو ڈھانپا جاتا تو پائوں ننگے ہو جاتے اور اگر اسے پائوں پرڈالا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو تین تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیتے پھر پوچھتے کہ ان میں سے زیادہ قرآن مجید کس کو یاد ہے، پس اسے (لحد میں) قبلہ کی طرف مقدم کرتے۔ اس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہداء کو دفن کر دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔زید بن حباب راوی نے کہا: ایک ایک، دو دو اور تین تین آدمیوں کو ایک ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3121

۔ (۳۱۲۱) عَنِ الزُّبَیْرِ ( بْنِ الْعوَّامِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّہُ لَمَّا کَانَ یَوْمُ أَحُدٍ أَقْبَلَتِ امْرَأَۃٌ تَسْعٰی حَتّٰی إِذَا کاَدَتْ أَنْ تُشْرِفَ عَلَی الْقَتْلٰی، قَالَ: فَکَرِہَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَراہُمْ، فَقَالَ: ((الْمَرْأَۃَ الْمَرْأَۃَ۔)) قَالَ الزُّبَیْرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَتَوَسَّمْتُ أَنَّہَا أُمِّیْ صَفِیَّۃُ، قَالَ: فَخَرَجْتُ أَسْعٰی إِلَیْہَا فَأَدْرَکْتُہَا قَبْلَ أَنْ تَنْتَہِیَ إِلَی الْقَتْلٰی، قَالَ: فَلَدَمَتْ فِی صَدْرِی وَکَانَتِ امْرَأَۃً جَلْدَۃً قَالَتْ: إِلَیْکَ، لَا أَرْضَ لَکَ، قَالَ: فَقُلْتُ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَزَمَ عَلَیْکِ، قَالَ: فَوَقَفَتْ وَأَخْرَجَتْ ثَوْبَیْنِ مَعَہَا فَقَالَتْ: ہٰذَانِ ثَوْبَانِ جِئْتُ بِہِمَا لأَخِی حَمْزَۃَ فَقَدْ بَلَغَنِی مَقْتلُہُ فَکَفِّنُوْہُ فِیْہِمَا، قَالَ: فَجِئْنَا بِالثَّوْبَیْنِ لِنُکَفِّنَ فِیْہِمَا حَمْزَۃَ فَإِذَا إِلٰی جَنْبِہِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَتِیْلٌ قَدْ فُعِلَ بِہِ کَمَا فُعِلَ بِحَمْزَۃَ، قَالَ: فَوَجَدْنَا غَضَاضَۃً وَحَیَائً أَنْ نُکَفِّنَ حَمْزَۃَ فِی ثَوْبَیْنِ والْأَنْصَارِیُّ لَا کَفَنَ لَہُ، فَقُلْنَا: لِحَمْزَۃَ ثَوْبٌ وَلِلْأَنْصَارِیِّ ثَوْبٌ، فَقَدَرْنَاہُمَا، فَکَانَ أَحَدُہُمَا أَکْبَرَ مِنَ الآخَرِ فَأَقْرَعْنَا بَیْنَہُمَا، فَکَفَنَّا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا فِیْ الثَّوْبِ الَّذِیْ طَارَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۸)
سیّدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: احد کے روز ایک خاتون دوڑتی ہوئی آ رہی تھی اور قریب تھا کہ وہ آکر شہداء کو دیکھ لے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس بات کو ناپسند کر رہے تھے کہ وہ شہداء کو (ان کی اس حالت میں) دیکھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت، عورت، (اس کو شہدا ء کے پاس آنے سے بچاؤ) سیّدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے پہچان لیا کہ وہ میری والدہ سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، پس میں جلدی سے ادھر گیا اور قبل اس کے کہ وہ شہداء تک جا پہنچتیں، میں ان تک جا پہنچا، لیکن چونکہ وہ مضبوط خاتون تھیں، اس لیے انہوں نے میرے سینے پر ضرب لگائی اور کہا: پرے ہٹ جا،تیرا کوئی ٹھکانہ نہ ہو۔ لیکن جب میں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں روکنے کا حکم دیا ہے، یہ سن کر وہ رک گئیں، ان کے پاس دو کپڑے تھے، انہوں نے وہ نکالے اور کہا: یہ دو کپڑے ہیں، میں اپنے بھائی حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے لائی ہوں، کیونکہ مجھے اس کی شہادت کی اطلاع ملی ہے، ان کو ان کپڑوں میں کفن دینا، سو ہم سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کفن دینے کے لیے وہ دو کپڑے لے آئے، لیکن اچانک ان کے پہلو میں ایک شہید انصاری بھی پڑا ہے، اس کے ساتھ بھی مثلہ کیا گیا ہے، تو ہمیں اس میں بے مروتی اور ناانصافی محسوسی ہوئی کہ سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیں اور انصاری کے لیے ایک کپڑا بھی نہ ہو۔ پھر ہم نے دونوں کپڑے ماپے، چونکہ ان میں سے ایک بڑا نکلا تھا، اس لیے ہم نے ان دونوں شہداء کے درمیان قرعہ ڈالا، جس کے حصے میں جو کپڑا آیا، ہم نے اسے اس میں کفن دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3122

۔ (۳۱۲۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَفَّنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمْزَۃَ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ، قَالَ جَابِرٌ ذٰلِکَ الثَّوْبُ نَمِرَۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۷۵)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا تھا اور وہ کپڑا دھاری دار تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3123

۔ (۳۱۲۳) عَنْ خَبَّابِ (بْنِ الْأَرَتِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: ہَاجَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَبَتَغِی وَجْہَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَمِنَّا مَنْ مَضٰی لَمْ یَأَکُلْ مِنْ أَجْرِہِ شَیْئًا، مِنْہُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَیْئًا نُکَفِّنُہُ فِیْہِ إِلَّا نَمِرَۃً کُنَّا إِذَا غَطَّیْنَا بِہَا رَأْسَہُ خَرَجَتْ رِجْلَاہُ، وَإِذَا غَطَّیْنَا رِجْلَیْہِ خَرَجَ رَأْسُہُ، فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نُغَطِّیَ بِہَا رَأْسَہُ وَنَجْعَلَ عَلٰی رِجْلَیْہِ إِذْخِرًا وَمِنَّا مَنْ أَیْنَعَتْ لَہُ ثَمَرَتُہُ فَہُوَ یَہْدِ بُہَا یَعْنِی یَجْتَنِیْہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۳۷۲)
سیّدناخباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہجرت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ پر ہمارا ثواب ثابت ہو گیا( جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے)۔ پھر ہم میں بعض لوگ ایسے تھے، جو اپنے عمل کا اجر کھائے بغیر اللہ کے پاس چلے گئے، ان میں سے ایک سیّدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، جو احد کے دن شہید ہو گئے، ہمیں ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر مل سکی اور وہ بھی اس قدر مختصر تھی کہ جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو پائوں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پائوں کو ڈھانپا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔ بالآخر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پائوں پر اذخر (گھاس) ڈال دیں، جبکہ ہم میں بعض ایسے بھی ہیں جن کا پھل تیار ہو چکا اور اب وہ اسے چن رہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3124

۔ (۳۱۲۴) وَعَنْہُ أَیْضاً أَنَّ حَمْزَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌لَمْ یُوْجَدْ لَہُ کَفَنٌ إِلَّا بُرْدَۃٌ مَلْحَائُ، إِذَا جُعِلَتْ عَلٰی رَأْسِہِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَیْہِ، وَإِذَا جُعِلَتْ عَلٰی قَدَمَیْہِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسَہُ حَتَّی مُدَّتْ عَلٰی رَأْسِہٖ وَجُعِلَ عَلٰی قَدَمَیْہِ الإِذْخِرُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۶۱)
سیّدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کفن کے لیے صرف ایک دھاری دار چادر میسر آ سکی اور وہ (بھی اس قدر مختصر تھی) کہ اگر ان کے سر پر ڈالی جاتی تو پائوں سے ہٹ جاتی تھی اور اگر پائوں پر ڈالی جاتی تو سر سے ہٹ جاتی۔ آخر کار چادر ان کے سر پر رکھی گئی اور پائوں پر اذخر (گھاس) ڈال دی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3125

۔ (۳۱۲۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: رُمِیَ رَجُلٌ بِسَہْمٍ فِی صَدْرِہِ أَوْ قَالَ فِی جَوْفِہِ، فَأُدْرِجَ فِی ثِیَابِہِ کَمَا ہُوَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۱۵)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کواس کے سینے یا پیٹ میں تیر لگا تو اس کو اس کے انہی کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا، جبکہ ہم (ایسا کرتے وقت) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3126

۔ (۳۱۲۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ أُحُدٍ بِالشُّہَدَائِ أَنْ یُنْزَعَ عَنْہُمُ الْحَدِیْدُ وَالْجُلُوْدُ، وَقَالَ: ((اِدْفِنُوْہُمْ بِدِمَائِہِمْ وَثِیَابِہِمْ)) (مسند احمد: ۲۲۱۷)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر شہداء کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے لوہے اور ہتھیاروں کو اتار دیا جائے اور فرمایا: ان کو ان کے خونوں اور کپڑوں سمیت دفن کر دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3127

۔ (۳۱۲۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ صُعَیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ أُحُدٍ: ((زَمِّلُوْہُمْ فِی ثِیَابِہِمْ۔)) وَجَعَلَ یَدْفِنُ فِی الْقَبْرِ الرَّہْطَ، وَقَالَ: ((قَدِّمُوْا أَکْثَرَہُمْ قُرْآنًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۵۶)
سیّدنا عبد اللہ بن ثعلبہ بن صعیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ احد والے دن فرمایا: ان شہداء کو ان کے کپڑوں میں ہی ڈھانپ دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ایک قبر میں متعدد شہداء کو دفن کرنے لگے اور فرمایا: جسے قرآن زیادہ یاد ہے، اسے قبر میں مقدم کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3128

۔ (۳۱۲۸) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((إِذَا أَجْمَرْتُمْ الْمَیِّتَ، فَأَجْمِرُوْہُ ثَـلَاثًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۹۴)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جب میت کو عود سے دھونی دو تو تین دفعہ دھونی دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3129

۔ (۳۱۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَجُلًا کَانَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوْقَصَتْہُ نَاقَتُۃُ وَہُوَ مُحَرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِغْسِلُوْہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَکَفِّنُوْہُ فِی ثَوْبَیْہِ، وَلَا تُمِسُّوْہُ بِطِیْبٍ وَلَا تُخَمِّرُوْا رَأْسَہُ فَإِنَّہُ یُبَعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّیًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سفر میںتھا، اس کی اونٹنی نے اس کو اس طرح گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا، جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کی پتوں کے ساتھ غسل دے کر اس کے ان ہی دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ اور اس کے سر کو بھی نہ دھانپو، کیونکہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3130

۔ (۳۱۳۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَقُوْلُ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِیْرِہِ فَوُقِصَ فَمَاتَ (الْحَدِیْثَ کَمَا تَقَدَّمَ وَ فِیْہِ) فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْعَثُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُہِلاًّ وَقَالَ مَرَّۃً یُہِلُّ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۴)
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی اونٹ سے گر گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: …کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے روز اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3131

۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3132

۔ (۳۱۳۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ فَأَمَرَ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُغَسَّلَ بِمَائٍ وَ سِدْرٍ، وَأَنْ یُکَفَّنَ فِی ثَوْبَیْنِ، وَقَالَ: ((لَا تُمِسُّوْہُ بِطِیْبٍ خَارِجَ رَأْسِہٖ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ، ثُمَّ إِنَّہُ حَدَّثَنِی بِہِ بَعْدَ ذَالِکَ،فَقَالَ: خَارِجَ رَأْسِہٖ أَوْ وَجْہِہٖ فَإِنَّہُ یُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّدًا۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۰)
(تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دے کر دو کپڑوں میں کفن دے دو، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر بھی ننگا ہونا چاہیے۔ اس کے بعد امام شعبہ نے اس حدیث کو یوں بیان کیا: اس کا سر یا چہرہ ننگاہونا چاہیے، کیونکہ اس کو قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کا سر چپکایا ہوا ہو گا۔

آیت نمبر