Musnad Ahmad

Search Results(1)

62)

62) نماز جنازہ کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3297

۔ (۳۲۹۷) عَنْ ہَانِیٍٔ مَوْلٰی عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) قَالَ: کَانَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌إِذَا وَقَفَ عَلٰی قَبْرٍ بَکٰی حَتّٰی یَبُلَّ لِحْیَتَہُ، فَقِیْلَ لَہُ: تَذْکُرُ الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ، فَـلَا تَبْکِی وَتَبْکِی مِنْ ہٰذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْقَبْرُ أَوَّلُ مَنَازِلِ الآخِرَۃِ فَإِنْ یَنْجُ مِنْہُ فَمَا بَعْدَہُ أَیْسَرُ مِنْہُ، وَإِنْ لَمْ یَنْجُ مِنْہُ فَمَا بَعْدَہٗ أَشَدُّ مِنْہُ۔)) قَالَ: وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! مَا رَأَیْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۴۵۴)
سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام ہانی کہتے ہیں کہ جب سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ان کی داڑھی تر ہو جاتی، کسی نے ان سے کہا: آپ جنت اور دوزخ کا ذکر بھی کرتے ہیں، لیکن اس وقت تو اتنا نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: قبر آخرت کی منازل میں سب سے پہلی منزل ہے، اگر کوئی آدمی اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بعد والے مراحل اس سے زیادہ آسان ہو جائیں گے، لیکن اگر کوئی شخص اس سے ہی نجات نہ پا سکا تو بعد والے مراحل اس سے مشکل ہوں گے۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے جب بھی (اللہ کے عذاب کے) مناظر دیکھے تو قبر کا منظر سب سے ہولناک پایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3298

۔ (۳۲۹۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ فَتَّانَ الْقُبُوْرِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتُرَدُّ عَلَیْنَا عُقُوْلُنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم !؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ کَہَیْئَتِکُمُ الْیَوْمَ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: بِفِیْہِ الْحَجَرُ۔ (مسند احمد: ۶۶۰۳)
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبر کے فَتَّان (فرشتوں) کا ذکر کیا، سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیا وہاں ہماری عقلیں لوٹا دی جائیں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل آج کی طرح۔ تو سیّدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس کے منہ میں پتھر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3299

۔ (۳۲۹۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْکُمْ أَحَدٌ إِلَّا یُعْرَضُ عَلَیْہِ مَقْعَدُہُ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ، إِنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَمِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، وَإِنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ النَّارِ فَمِنْ أَہْلِ النَّارِ، یُقَالُ ہٰذَا مَقْعَدُکَ حَتّٰی تُبْعَثَ إِلَیْہِ (زَادَفِی رِوَایَۃٍ) یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۴۶۵۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی پر (قبر میں) میں صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہو تو اہلِ جنت کا اور اگر وہ جہنمی ہے تو اہل جہنم کا، اور اس سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قیامت کے روز جب تجھے اٹھایا جائے گا تو یہ تیرا ٹھکانہ ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3300

۔ (۳۳۰۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَہِدْتُّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَنَازَۃً فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ ہٰذِہِ الأُمَّۃَ تُبْتَلٰی ِفی قُبُوْرِہَا، فَإِذَا الإِْنْسَانُ دُفِنَ فَتَفَّرَقَ عَنْہُ أَصْحَابُہُ، جَائَ ہُ مَلَکٌ، فِی یَدِہِ مِطْرَاقٌ فَأَقْعَدَہُ قَالَ: مَا تَقُوْلُ فِی ہٰذَا الرَّجُلِ؟ فَإِنْ کَانَ مُؤْمِنًا قَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، فَیَقُوْلُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ یُفْتَحُ لَہُ بَابٌ إِلٰی النَّارِ فَیَقُوْلُ: ہٰذَا کَانَ مَنْزِلُکَ لَوْ کَفَرْتَ بِرَبِّکَ، فَاَمَّا إِذْ آمَنْتَ فَہٰذَا مَنْزِلُکَ، فَیُفْتَحُ لَہُ بَابٌ إِلٰی الْجَنَّۃِ فَیُرِیْدُ أَنْ یَنْہَضَ إِلَیْہِ ، فَیَقُوْلُ لَہُ: اُسْکُنْ وَیُفْسَحُ لَہُ فِی قَبْرِہِ (وَإِنْ کَانَ کَافِرً أَوْ مُنَافِقًا) یَقُوْلُ لَہُ: مَا تَقُوْلُ فیِ ہٰذَا الرَّجُلِ؟ فَیَقُوْلُ: لَا أَدْرِی، سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْئًا فَیَقُوْلُ: لَا دَرَیْتَ وَلَا تَلَیْتَ وَلَا اہْتَدَیْتَ، ثُمَّ یُفْتَحُ بَابٌ إِلٰی جَنَّۃٍ فَیَقُوْلُ: ہٰذَا مَنْزِلُکَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّکَ، فَأَمَّا إِذَا کَفَرْتَ بِہِ فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَبْدَلَکَ بِہِ ہٰذَا وَیُفْتَحُ لَہُ بَابٌ إِلٰی النَّارِ ، ثُمَّ یَقْمَعُہُ قَمْعَۃً بِالْمِطْرَاقِ یَسْمَعُہَا خَلْقُ اللّٰہِ کُلُّہُمْ غَیْرَ الثَّقَلَیْنِ۔)) فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا أَحَدٌ یَقُوْمُ عَلَیْہِ مَلَکٌ فِی یَدِہِ مِطْرَاقٌ إِلَّاہُبِلَ عِنْدَ ذَالِکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ۔} (مسند احمد: ۱۱۰۱۳)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک جنازہ میں شریک تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! اس امت کو قبروں میں آزمایا جاتا ہے، جب انسان کو دفن کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے جدا ہوتے ہیں تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے، وہ اس میت کو بٹھا کر پوچھتا ہے: تم اس آدمی (یعنی محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مومن ہو تووہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ یہ سن کر فرشتہ اس سے کہتا ہے: تم نے سچ کہا۔ پھر اس میت کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور فرشتہ اسے کہتا ہے: اگر تم نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہوتا تو تمہارا یہ ٹھکانہ ہوتا، مگر اب تم مومن ہو، اس لیے تمہارا ٹھکانہ یہ ہے، اتنے میں اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دیاجاتا ہے اور جب وہ میت ادھر کو اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتہ اس سے کہتا ہے: (اِدھر ہی) سکون اختیار کرو، پھر اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر میت کافر یا منافق ہو تو فرشتہ اس سے پوچھتا ہے: تو اس ہستی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے:میں تو کچھ نہیں جانتا، البتہ لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا، فرشتہ کہتا ہے: تو نے نہ سمجھا، نہ پڑھا اور نہ ہی ہدایت پائی۔اس کے بعد اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور وہ فرشتہ اس سے کہتا ہے: اگر تو اپنے رب پر ایمان لاتاتو تیرا ٹھکانا یہ ہوتا، مگر تو نے چونکہ اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے اس کے متبادل ایک اور ٹھکانا تیار کیا ہے، اتنے میں اس کے لیے جہنم کی طرف سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اس کو گرز کی ایک زبردست ضرب لگاتا ہے، جس کی آواز کو جن و انس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے۔ یہ حدیث سن کر کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب فرشتہ ہاتھ میں گرز لے کر کسی آدمی کے ساتھ کھڑا ہو گا تو وہ تو حواس باختہ ہو جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوابا یہ آیت پڑھی: : {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو کلمۂ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3301

۔ (۳۳۰۱) عَنْ أَنَس بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِی قَبْرِہِ وَتَوَلّٰی عَنْہُ أَصْحَابُہٗ حَتّٰی إِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ أَتَاہُ مَلَکَانِ فَیُقْعِدَانِہِ فَیَقُوْلَانِ لَہُ: مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِی ہٰذَا الرَّجُلِ، لِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَقُوْلُ: أَشْہَدُ أَنَّہُ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ، فَیُقَالُ: اُنْظُرْ إِلٰی مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَکَ اللّٰہُ بِہِ مَقْعَدًا فِی الْجَنَّۃِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فَیَرَاہُمَا جَمِیْعًا قَالَ رَوْحٌ فِی حَدِیْثِہِ: قَالَ قَتَادَۃُ: فَذَکَرَ لَنَا أَنَّہُ یُفْسَحُ لَہُ فِی قَبْرِہِ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا، وَیُمْلَأُ عَلَیْہِ خَضِرًا إِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی حَدِیْثِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: قَالَ: وَأَمَّا االْکَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ فَیَقُالُ لَہُ: مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِی ہٰذَا الرَّجُلِ؟ فَیَقُوْلُ: لَا أَدْرِی، کُنْتُ أَقُوْلُ مَا یَقُوْلُ النَّاسُ، فَیُقَالُ لَہُ: لَا دَرَیْتَ وَلَا تَلَیْتَ، ثُمَّ یُضْرَبُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِیْدٍ ضَرْبَۃً بَیْنَ أُذُنَیْہِ فَیَصِیْحُ صَیْحَۃً فَیَسْمَعُہَا مَنْ یَلِیْہِ غَیْرَ الثَّقَلَیْنِ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: یُضَیَّقُ عَلَیْہِ قَبْرُہُ حَتّٰی تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۹۶)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب انسان کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ (اس کی تدفین کے بعد) واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آجاتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بارے میں پوچھتے ہیں: تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہے گا؟ مومن میت کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اس سے کہا جاتا ہے: تو جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ، اللہ نے تمہارے لیے اس کے عوض جنت میں ٹھکانا تیار کر دیا ہے، وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کی طرف دیکھتا ہے اور قیامت کے دن تک اس کی قبرستر ہاتھ تک فراخ کر دی جاتی ہے اور اس کو تروتازہ نعمتوں سے بھر دیا جاتا ہے۔ رہا مسئلہ کافر یا منافق کہا تو اس سے بھی یہی سوال کیا جاتا ہے کہ تو اس ہستی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے بارے میں کیا کہے گا؟ وہ کہتا ہے: میں تو نہیں جانتا، لوگ جو کچھ کہتے تھے، میں بھی کہہ دیتا تھا، (لیکن اب میرے علم کوئی چیز نہیں ہے)۔ اس سے کہا جاتا ہے: تو نے نہ سمجھا اور نہ پڑھا، پھر اس کے کانوں کے درمیان لوہے کے گرز کی ایک ایسی ضرب لگائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ ایسا چلّاتا ہے کہ جن وانس کے علاوہ قریب والی مخلوق اس کی چیخ و پکار کو سنتی ہے اوراس قبر کو اس قدر تنگ کر دیا جاتا ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3302

۔ (۳۳۰۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ ْت یَہُوِدَّیۃٌ فَاسْتَطْعَمَتْ عَلٰی بَاَبیِ، فَقَالَتْ: أَطْعِمُوْنِیْ أَعَاذَکُمْ اللّٰہُ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَالِ وَمِنْ فِتْنَۃِ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَلَمْ أَزَلْ أَحْبِسُہَا حَتّٰی جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا تَقُوْلُ ہٰذِہِ الْیَہُوْدِیَّۃُ؟ قَالَ: ((وَمَا تَقُوْلُ؟)) قُلْتُ: تَقُوْلُ: أَعَاذَکُمُ اللّٰہُ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَۃِ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ قَالَتْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَفَعَ یَدَیْہِ مَدًّا یَسْتَعِیْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ عَذَابِ النَّارِ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا فِتْنَۃُ الدَّجَّالِ فَإِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَہُ وَسَأُحَذِّرُکُمُوْہُ تَحْذِیْرًا لَمْ یُحَذِّرْہُ نَبِیٌّ أُمَّتَہٗ إِنَّہُ أَعْوَرُ وَاللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَیْسَ بِأَعْوَرَ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ یَقْرَؤُہُ کُلُّ مُؤْمِنٍ۔ فَأَمَّا فِتْنَۃُ الْقَبْرِ فَبِیْ تُفْتَنُوْنَ وَعَنِِّیْ تُسْأَلُوْنَ، فَإِذَا کَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ أُجْلِسَ فِی قَبْرِہِ غَیْرَ فَزِعٍ وَلَامَشْعُوْفٍ، ثُمَّ یُقَالُ لَہٗ: فِیْمَ کُنْتَ؟ فَیَقُوْلُ: فِی الإِسْلَامِ، فَیُقَالُ: مَا ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ کَانَ فِیْکُمْ؟ فَیَقُوْلُ: مَحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَصَدَّقْنَاہُ، فَیُفْرَجُ لَہُ فُرْجَۃٌ قِبَلَ النَّارِ فَیَنَظُرُ إِلَیْہَا یَحْطِمُ بَعْضُہَا بَعْضًا، فَیُقَالُ لَہُ: اُنْظُرْ إِلٰی مَا وَقَاکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ یُفْرَجُ لَہُ فُرْجَۃٌ إِلٰی الْجَنَّۃِ، فَیَنْظُرُ إِلٰی زَہْرَتِہَا وَمَا فِیْہَا فَیُقَالُ لَہُ: ہٰذَا مَقْعَدُکَ مِنْہَا، وَیُقَالُ: عَلیَ الْیَقِیْنِ کُنْتَ وَعَلَیْہِ مِتَّ وَعَلَیْہِ تُبْعَثُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔ وَإِنْ کَانَ الرَّجُلُ سَوْئً اُجْلِسَ فِی قَبْرِہِ فَزِعًا مَشْعُوْفًا، فَیُقَالَ لَہُ: فِیْمَ کُنْتَ؟ فَیَقُوْلُ: لَا أَدْرِی، فَیُقَالُ: مَا ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِی کَانَ فِیْکُمْ؟ فَیَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ قَوْلًا فَقُلْتُ کَمَا قَالُوْا، فَیُفْرَجُ لَہُ فُرْجَۃٌ قِبَلَ الْجَنَّۃِ فَیَنْظُرُ إِلٰی زَہْرَتِہَا وَمَا فِیْہَا، فَیُقَالُ لَہُ: اُنْظُرْ إِلٰی مَاصَرَفَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَنْکَ، ثُمَّ یُفْرَجُ لَہُ فُرْجَۃٌ قِبَلَ النَّارِ فَیَنْظُرُ إِلَیْہَا یَحْطِمُ بَعْضُہَا بَعْضًا وَیُقَالُ: ھٰذَا مَقْعَدُکَ مِنْہَا، کُنْتَ عَلَی الشَّکِّ وَعَلَیْہِ مِتَّ، وَعَلَیْہِ تُبْعَثُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ ثُمَّ یُعَذَّبُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۰۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میرے دروازے پر ایک یہودی عورت کھانا مانگنے کے لیے آئی اور اس نے کہا: اللہ تمہیں فتنۂ دجال اور عذابِ قبر سے محفوظ رکھے، مجھے کھانا دو۔ میں نے اسے کافی دیر تک روکے رکھا، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے،میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ یہودی عورت کیا کہتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا کہتی ہے؟ میں نے کہا: یہ کہتی ہے کہ اللہ تمہیں دجال کے فتنہ سے اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے، اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور اللہ سے دجال کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگنے لگے۔ پھر فرمایا: دجال کا فتنہ تو ایسا فتنہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے خبردار کیا ۔ میں بھی تمہیں اس سے ایسا خبردار کرتا ہوں کہ کسی نبی نے اپنی امت کو ویسا خبردار نہیں کیا، (سنو کہ) وہ کانا ہوگا، جبکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر کا لفظ لکھا ہواگا، ہر مومن اسے پڑھ لے گا۔رہا مسئلہ فتنۂ قبر کا تو اس میں تو میرے بارے میں بھی تمہیں آزمایا جائے گا اور میرے متعلق تم سے سوال کیا جائے گا۔ جب مرنے والا آدمی نیک ہوتا ہے تو اسے قبر میں اس حال میں بٹھایا جاتا ہے کہ اس پر گھبراہٹ اور پریشانی کے کوئی آثار نہیں ہوتے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے: تم کس دین پر تھے؟ وہ کہتا ہے: اسلام پر تھا۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے: تمہارے درمیان جس ہستی کو مبعوث کیا گیا، وہ کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، وہ اللہ کی طرف سے ہمارے پاس واضح دلائل لے کر تشریف لائے تھے اور ہم نے ان کی تصدیق کی۔ اس کے بعد اس کے لیے جہنم کی طرف ایک سوراخ کھول دیا جاتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ جہنم کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے: اس چیز کی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے جس سے تمہیں بچا لیا ہے، اُدھر دیکھو، پھر اس کے لیے جنت کی طرف ایک سوراخ کھول دیا جاتا ہے، وہ جنت کی رونق و بہار اور اس میں موجود دوسری نعمتوں کو دیکھتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: اس جنت میں یہ ٹھکانہ تیرا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ تم دنیا میں یقین پر جیئے، اسی پر فوت ہوئے اور اسی پر ان شاء اللہ اٹھائے جاؤ گے۔اور اگر وہ میت براہو تو اسے جب قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو وہ گھبرایا ہوا اور بہت زیادہ خوفزدہ ہوتا ہے۔اس سے پوچھا جاتا ہے: تو دنیا میں کس دین پر تھا؟ وہ جواب دیتا ہے: میں کچھ نہیں جانتا۔اس سے کہا جاتا ہے: جس ہستی کو تمہارے درمیان مبعوث کیا گیا، وہ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میں نے لوگوں کو جو کہتے ہوئے سنا، میں نے بھی وہی کچھ کہہ دیا تھا، (اب تو مجھے کسی چیز کا علم نہیں ہے)۔ اس کے بعد اس کے لیے جنت کی طرف ایک شگاف کھول دیا جاتا ہے، وہ اس کی رونقوں اور اس کی نعمتوں کو دیکھتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: اس چیز کی طرف دیکھ جو اللہ تعالیٰ نے تجھ سے پھیر لی ہے، اتنے میں جہنم کی طرف سے ایک سوراخ کھول دیا جاتا ہے، وہ اس کی طرف دیکھتا ہے کہ اس کا بعض بعض کو کھا رہا ہوتا ہے، پھر اسے کہا جاتا ہے: جہنم میں تیرا ٹھکانہ یہ ہے، دراصل بات یہ ہے کہ تو شک پر تھا، اسی پر مرا اور اسی پر تجھے ان شاء اللہ اٹھایا جائے گا، پھر اسے عذاب دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3303

۔ (۳۳۰۳) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنْ فَتَّانِیْ الْقَبْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ تُبْتَلٰی فِی قُبُوْرِہَا، فَإِذَا أُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبْرَہُ وَتَوَلّٰی عَنْہُ أَصْحَابُہٗ جَائَ مَلَکٌ شَدِیْدُ الْاِنْتِہَارِ فَیَقُوْلُ لَہُ: مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِی ہٰذَا الرَّجُلِ؟ فَیَقُوْلُ الْمُؤْمِنُ: إِنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَعَبْدُہُ، فَیَقُوْلُ لَہُ الْمَلَکُ: اُنْظُرْ إِلٰی مَقْعَدِکَ الَّذِیْ کَانَ فِی النَّارِ، قَدْ أَنْجَاکَ اللّٰہُ مِنْہُ وَأَبْدَلَکَ بِمَقْعَدِکَ الَّذِی تَرٰی مِنَ النَّارِ مَقْعَدَکَ الَّذِیْ تَرٰی مِنَ الْجَنَّۃِ، فَیَرَاہُمَا کِلَاہُمَا، فَیَقُوْلُ الْمُؤْمِنُ: دَعُوْنِی، أُبَشِّرُ أَہْلِیْ، فَیُقَالُ لَہُ: اُسْکُنْ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ فَیُقْعَدُ إِذَا تَوَلّٰی عَنْہُ أَہْلُہٗ، فَیُقَالُ لَہُ: مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِی ہٰذَا الرَّجُلُ؟ فَیُقْوُلُ: لَا أَدْرِی، أَقُوْلُ مَا یَقُوْلُ النَّاسُ، فَیُقَالُ لَہُ: لَا دَرَیْتَ، ہٰذَا مَقْعَدُکَ الَّذِی کَانَ لَکَ مِنَ الْجَنَّۃِ، قَدْ أُبْدِلْتَ مَکَانَہُ مَقْعَدَکَ مِنَ النَّارِ۔)) قَالَ جَابِرٌ: فَسَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ فِی الْقَبْرِ عَلٰی مَا مَاتَ، الْمُؤْمِنُ عَلٰی إِیْمَانِہِ، وَالْمُنَافِقُ عَلٰی نِفَاقِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۷۹)
ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیّدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قبر میں فتنے میں ڈالنے والے فرشتوں کے متعلق دریافت کیا،انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگوں کو ان کی قبروں میں آزمایا جاتا ہے، جب مومن کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے اور لوگ اسے دفنا کر واپس آتے ہیں تو ایک انتہائی بارعب فرشتہ اس کے پاس آجاتا ہے اور کہتا ہے: تم اس شخصیت (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ مومن جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول اور بندے ہیں۔ فرشتہ اس سے کہتا ہے: تم جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کو دیکھو کہ جس سے اللہ نے تمہیں نجات دلائی ہے اور اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ، جو اللہ تعالیٰ نے جہنم والی اس منزل کے متبادل تجھے عطا کیا ہے، پھر وہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے: مجھے چھوڑو ذرا، میں اپنے اہل خانہ کو خوشخبری سناتا ہوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے: ٹھہر جا۔ رہا مسئلہ منافق کا تو جب لوگ اسے دفنا کر واپس ہوتے ہیں تو اسے بٹھا کر اس سے پوچھا جاتا ہے: تم اس ہستی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے:میں نہیں جانتا،بس میں بھی وہی کہہ دیتا تھا، جو دوسرے لوگ کہا کرتے تھے، پس اس سے کہا جاتا ہے: تو نے سمجھا نہیں، تیرا جنت میں یہ مقام تھا، لیکن اب اس کے عوض تیرے لیے جہنم میں یہ ٹھکانا ہے۔ سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ ہر آدمی جس عقیدے پر فوت ہوتا ہے، اس کو اسی عقیدے پر اٹھایا جاتا ہے، یعنی مومن کو ایمان پر اور منافق کو نفاق پر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3304

۔ (۳۳۰۴) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنَکَدِرِ قَالَ: کَانَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: قَالَ: ((إِذَا دَخَلَ الإِنْسَانُ قَبْرَہُ، فَإِنْ کَانَ مُؤْمِنًا أَحَفَّ بِہِ عَمَلُہُ، الصَّلَاۃُ وَالصِّیَامُ، قَالَ فَیَأْتِیْہِ الْمَلَکُ مِنْ نَحْوِ الصَّلَاۃِ فَتُرُّدُہ وَمِنْ نَحْوِ الصِّیَامِ فَیَرُدُّہُ، قَالَ فَیُنَادِیْہِ اِجْلِسْ، قَالَ فَیَجْلِسُ فَیَقُوْلُ لَہُ: مَا ذَا تَقُوْلُ فِی ہٰذَا الرَّجُلِ یَعْنِی النَّبِیَّ؟ قَالَ: مَنْ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَنَا أَشْہَدُ أَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یَقُوْلُ: وَمَا یُدْرِیْکَ؟ أَدْرَکْتَہُ؟ قَالَ: أَشْہَدُ أَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ: یَقُوْلُ: عَلٰی ذَالِکَ عِشْتَ وَعَلَیْہِ مِتَّ وَعَلَیْہِ تُبْعَثُ، قَالَ وَإِنْ کَانَ فَاجِرًا أَوْ کَافِرًا قَالَ جَائَ الْمَلَکَ وَلَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ شَیْئٌ یَرُدُّہُ، قَالَ: فَأَجْلَسَہُ، قَالَ: یَقُوْلُ: اِجْلِسْ، مَا ذَا تَقُوْلُ فِی ہٰذَا الرَّجُلِ؟ قَالَ: اَیُّ رَجُلٍ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،قَالَ: یَقُوْلُ: وَاللّٰہِ! مَاأَدْرِی سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْئًا فَقُلْتُہُ، قَالَ: فَیَقُوْلُ لَہُ الْمَلَکُ: عَلٰی ذَالِکَ عِشْتَ وَعَلَیْہِ مِتَّ وَعَلَیْہِ تُبْعَثُ، قَالَ وَتُسَلَّطُ عَلَیْہِ دَابَّۃٌ فِی قَبْرِہِ مَعَہَا سَوْطٌ ثَمَرَتُہُ جَمْرَۃٌ مِثْلَ غَرْبِ الْبَعِیْرِ، تَضْرِبُہُ مَاشَائَ اللّٰہُ، صَمَّائُ لَا تَسْمَعُ صَوْتَہُ فَتَرْحَمَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۱۶)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب انسان قبر میں داخل ہوتا ہے، تو اگر وہ مومن ہو تو اس کے نیک اعمال نماز اور روزہ وغیرہ اسے گھیر لیتے ہیں، جب فرشتہ اس کی طرف نماز والی جانب سے آتا ہے تو نماز اسے روک لیتی ہے اور جب روزہ والی جانب سے آتا ہے تو روزہ اسے روک دیتا ہے، اس لیے فرشتہ دور سے ہی آواز دے دیتا ہے: بیٹھ جا، وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے،فرشتہ پوچھتا ہے: تم اس آدمی یعنی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟وہ آگے سے پوچھتا ہے: وہ کون سا آدمی؟ فرشتہ کہتا ہے: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے: تمہیں اس کا علم کیسے ہوا؟ کیا تم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا؟ وہ کہتا ہے:میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے: تم نے اسی عقیدہ پر زندگی گزاری، اسی پر تمہیں موت آئی اور تمہیں اسی پراٹھایا جائے گا۔ اگر فوت شدہ آدمی کافر یا فاجر ہو تو اس کے پاس فرشتہ آتا ہے اور (عمل کی صورت میں) اس کے پاس فرشتے کو روکنے والی کوئی چیز نہیں ہوتی، سو وہ اسے بٹھا کر پوچھتا ہے: تو اس آدمی کے بارے کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے: کونسا آدمی؟ فرشتہ کہتا ہے: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ وہ کہتا ہے: اللہ کی قسم! میں تو کچھ نہیں جانتا، ہاں میں لوگوں کو جو بات کہتے ہوئے سنتا تھا، میں بھی وہی کہہ دیتا تھا۔ فرشتہ اس سے کہتا ہے: اسی پر تیری زندگی گزری، اسی پر تجھے موت آئی اور اسی پر تجھے اٹھایا جائے گا۔اس کے بعد اس کی قبر میں اس پر ایک جاندار مسلط کر دیا جاتا ہے، اس کے پاس ایک کوڑا ہوتا ہے، جس کی (ضرب) کا نتیجہ اونٹ کے بڑے ڈول کی طرح کا انگارہ ہوتا ہے،جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ اسے مارتا رہے گا، وہ جاندار بہرا ہوگا،تاکہ اس کی آواز سن کر اس پر رحم نہ کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3305

۔ (۳۳۰۵) عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَتْ عََلَیْھَا یَہُوْدِیَّۃٌ اسْتَوْہَبَتْہَا طِیْبًا، فَوَہَبَتْ لَہَا عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَتْ: أَجَارَکِ اللّٰہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ’ قَالَتْ: فَوَقَعَ فِی نَفْسِیْ مِنْ ذَالِکَ، حَتّٰی جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: قَذَکَرْتُ ذَالِکَ لَہُ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِلْقَبْرِ عَذَابًا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، إِنَّہُمْ لَیُعَذَّبُوْنَ فِی قُبُوْرِہِمْ عَذَابًا تَسْمَعُہُ الْبَہَائِمُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۸۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور خوشبو مانگی، سو جب میں نے اسے خوشبو دے دی تو اس نے کہا: اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔اس دعا سے میرے دل میں تردّد ہونے لگا، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں،مردوں کو قبر میں ایسا عذاب ہوتا ہے کہ چوپائے اس کی آواز کو سنتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3306

۔ (۳۳۰۶) عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ یَہُوْدِیَّۃً کَانَتْ تَخْدِمُہَا، فَـلَا تَصْنَعُ إِلَیْہَا عَائِشَۃُ شَیْئًا مِنَ الْمُعْرُوْفِ إِلَّا قَالَتْ لَہَا الْیَہُوْدِیَّۃُ وَقََاکِ اللّٰہُ عَذَابَ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَیَّ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: ((لَا، وَعَمَّ ذَالِکَ؟)) قَالَتْ: ہٰذِہِ الْیَہُوْدِیَّۃُ لَا نَصْنَعُ إِلَیْہَا مِنْ الْمُعْرُوْفِ شَیْئاً إِلَّا قَالَتْ وَقَاکِ اللّٰہُ عَذَابَ الْقَبْرِ۔ قَالَ: ((کَذَبَتْ یَہُوْدُ وَہُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَکَذَبُ، لَا عَذَابَ دُوْنَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ مَکَثَ بَعْدَ ذَالِکَ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ یَمْکُثَ، فَخَرَجَ ذَاتَ یَوْمٍ نِصْفَ النَّہَارِ مُشْتَمِلاً بِثَوْبِہِ مُحْمَرَّۃً عَیْنَاہُ، وَہُوَیُنَادِی بِاَعْلٰی صَوْتِہِ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! أَظَلَّتْکُمُ الْفِتَنُ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، أَیُّہَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا، أَیُّہَا النَّاسُ! اِسْتَعِیْذُوا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ)) (مسند احمد: ۲۵۰۲۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میری خدمت کیا کرتی تھی،میں جب بھی اسے کوئی چیز دیتی تو وہ کہتی: اللہ تم کو عذاب ِ قبر سے محفوظ رکھے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا قیامت سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بھلا تم یہ سوال کیوں پوچھ رہی ہو؟ میں نے کہا: فلاں یہودی عورت ، جب بھی ہم اسے کوئی چیز دیتے ہیں تو وہ کہتی ہے: اللہ تم کو عذاب ِ قبر سے محفوظ رکھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہودی جھوٹ بولتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں، قیامت کے روز سے پہلے کوئی عذاب نہیں ہو گا۔ اس کے بعد کچھ ایام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہرے رہے، جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ایک روز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عین دوپہر کے وقت نکلے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اوپر ایک کپڑا اوڑھا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بلند آواز سے فرماتے جا رہے تھے: لوگو! اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح تم پر فتنے چھا رہے ہیں، لوگو! جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لیتے تو تم بہت زیادہ روتے اور کم ہنستے، لوگو! عذاب ِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، بے شک قبر کا عذاب حق ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3307

۔ (۳۳۰۷) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعِنْدِی امْرَأَۃٌ مِنَ الْیَہُوْدِ وَہِیَ تَقُوْلُ: أَشَعَرْتِ أَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ؟ فَارْتَاعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((إِنَّمَا تُفْتَنُ الْیَہُوْدُ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : فَلَبِثْنَا لَیَالِیَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ: ((ہَلْ شَعَرْتِ أَنَّہُ أُوْحِیَ إِلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ؟)) قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا :سَمِعْتُ رَسَوُلَ َاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدُ یَسْتَعِیْذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۳۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، جبکہ اس وقت ایک یہودی عورت میرے پاس بیٹھی کہہ رہی تھی: کیا تم جانتی ہو کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا؟ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کانپ اٹھے اور فرمایا: صرف یہودی لوگ قبروں میں آزمائے جائیں گے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: چند ہی راتیں گزری تھیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تم جانتی ہو میری طرف وحی کی گئی ہے کہ واقعی تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا؟ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3308

۔ (۳۳۰۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِی جَارَۃٌ لِلنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّھَا کَانَتْ تَسْمَعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ عِنْدَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۸۴)
عبداللہ بن قاسم کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک پڑوسن نے مجھے بیان کیا کہ وہ طلوع فجر کے وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا کرتے سنا کرتی تھی: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے قبرکے عذاب اور فتنے سے پناہ طلب کرتا ہوں۔)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3309

۔ (۳۳۰۹) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: ((إِحْدٰی عَیْنَیْہِ کَأَنَّہَا زُجَاجَۃٌ خَضْرَائُ (وَفِی رِوَایَۃٍ عَیْنُہُ خَضْرَائُ کَأَ نَّہَاالزُّجَاجَۃُ)) وَتَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۶۳)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی ایک آنکھ سبز شیشے کی طرح ہو گی اور تم عذابِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3310

۔ (۳۳۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَنْیَۃَ سَمِعَ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدِ (بْنِ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَیْرَہَا، سَمِعْتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۹۸)
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سنا اور ان کے علاوہ کسی سے نہیں کہ وہ یہ کہتا ہو کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے، انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3311

۔ (۳۳۱۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَتْ أُٔمُّ حَبِیْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ابْنَۃُ أَبِی سُفْیَانَ: اَللّٰہُمَّ أَمْتِعْنِیْ بِزَوْجِی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِأَبِیْ أَبِیْ سُفْیَانَ وَبِأَخِیْ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکِ سَأَلْتِ اللّٰہِ لِآجَالٍ مَضْرُوْبَۃٍ وَأَیَّامٍ مَعْدُوْدَۃٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُوْمَۃٍ، لَنْ یُعَجَّلَ شَیْئٌ قَبْلَ حِلِّہٖ أَوْ یُؤَخَّرَ شَیْئٌ عَنْ حِلِّہِ، وَلَوْ کُنْتِ سَأَلْتِ اللّٰہِ أَنْ یُعِیْذَکِ مِنْ عَذَابٍ فِی النَّارِ وَعَذَابٍ فِی الْقَبْرِ کَانَ أَخْیَرَ وَأَفْضَلَ۔ (مسند احمد: ۳۷۰۰)
سیّدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ دعا کی: یا اللہ! مجھے میرے شوہر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، باپ ابوسفیان اور بھائی معاویہ سے فائدہ اٹھانے کاموقع عطا فرما، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی باتوں کا سوال کیا ہے جن کے اوقات اور ایام مقرر کیے جا چکے ہیں اور ان کے رزق بھی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ کوئی چیز اپنے مقرر وقت سے مقدم یا موخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں آگ اور قبر کے عذاب سے پناہ میں رکھے تو یہ تیرے لیے بہتر اور افضل ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3312

۔ (۳۳۱۲) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُسَلَّطُ عَلَی الْکَافِرِ فِی قَبْرِہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ تِنِّیْنًا، تَلْدَغُۃُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ، فَلَوْ أَنَّ تِنِّیْنًا مِنْہَا نَفَخَ فِی الأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضْرَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۵۴)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسولV نے فرمایا: قبر میں کافر پر ننانوے ازدہا مسلط کر دیئے جاتے ہیں، جو قیامت کے قائم ہونے تک اسے ڈستے رہتے ہیں، (وہ اس قدر زہریلے ہیں کہ) اگر ان میں سے ایک ازدہا زمین پر پھونک مار دے تووہ سبزہ نہ اگا سکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3313

۔ (۳۳۱۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَال: ((یُرْسَلُ عَلَی الْکَافِرِ حَیَّتَانِ، وَاحِدَۃٌ مِنْ قِبَلِ رَأْسِہٖ وَأُخْرٰی مِنْ قِبَلِ رِجْلَیْہِ تَقْرُضَانِہِ قَرْضًا، کُلَّمَا فَرَغَتَا عَادَتَا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۰۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرم ایا: کافر پر دو سانپ چھوڑے جاتے ہیں، ایک سر کی طرف سے اور دوسرا پائوں کی طرف سے، دونوں اسے بار بار کاٹتے رہتے ہیں، جب وہ ایک دفعہ فارغ ہو جاتے ہیں تو دوبارہ لوٹ آتے ہیں، قیامت کے دن تک ایسے ہوتا رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3314

۔ (۳۳۱۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَیْنَمَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَخْلٍ لَنَا لِأَبِیْ طَلْحَۃَ یَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِہِ قَالَ: وَبِلَالٌ یَمْشِیْ وَرَائَ ہُ یُکَرِّمُ نَبِیَّ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَمْشِیَ إِلٰی جَنْبِہِ، فَمَرَّ نَبِیُّ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَبْرٍ، فَقَاَم حَتّٰی تَمَّ إِلَیْہِ بِلَالٌ، فَقَالَ: وَیْحَکَ یَا بِلَالُ! ہَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ؟ فَقَالَ: مَا أَسْمَعُ شَیْئاً، قَالَ: ((صَاحِبُ الْقَبْرِ یُعَذَّبُ۔)) قَالَ: فَسُئِلَ عَنْہُ فَوُجِدَ یَہُوْدِیًّا۔ (مسند احمد: ۱۲۵۵۸)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدناابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کھجوروں کے باغ میں قضائے حاجت کے لیے گئے، سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اکرام میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، نہ کہ پہلو بہ پہلو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور وہاں ٹھہر گئے، یہاں تک سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! تم ہلاک ہو جاؤ، جو کچھ میں سن رہا ہوں، تم بھی سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں تو کچھ نہیں سن رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس قبر والے کو عذاب دیا جارہا ہے۔ پھر اس کے بارے میں جب پوچھا گیاتو وہ یہودی نکلا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3315

۔ (۳۳۱۵) عَنْ أَبِی أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبَیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: ((یَہُوْدُ تُعَذَّبُ فِی قُبُوْرِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۳۶)
سیّدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غروبِ آفتاب کے بعد باہر تشریف لے گئے اور کوئی آواز سن کر فرمایا: یہودیوں کو قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3316

۔ (۳۳۱۶) عَنْ أَمِّ مُبَشِّرٍ (امْرَأَۃِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا فِی حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِی النَّجَّارِ، فِیْہِ قُبُوْرٌ مِنْہُمْ، قَدْ مَاتُوا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَسَمِعَہُمْ وَہُمْ یُعَذَّبُوْنَ، فَخَرَجَ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((اِسْتَعِیْذُوا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَإِنَّہُمْ لَیُعَذَّبُوْنَ فِی قُبُوْرِہِمْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ عَذَابًا تَسْمَعُہُ الْبَہَائِمُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۸۴)
سیدہ ام مبشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں بنو نجار کے باغات میں سے ایک باغ میں تھی،اس باغ میں کچھ قبریں بھی تھیں، ان قبروں والے (قبل از اسلام یعنی) دورِ جاہلیت میں مرے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو عذاب دیئے جانے کی آوازیں سنیں، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرماتے ہوئے نکل گئے: تم عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ان لوگوں کو قبروں میں عذاب ہورہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان کو ایسا عذاب دیا جاتا ہے کہ جو جانوروں کو سنائی دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3317

۔ (۳۳۱۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَائِطًا مِنْ حِیْطَانِ الْمَدِیْنَۃِ لِبَنِی النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ، فَسَأَلَ عَنْہُ: ((مَتٰی دُفِنَ ہٰذَا؟)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! دُفِنَ ھٰذَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَأَعْجَبَہُ ذَالِکَ وَقَالَ: ((لَوْ لَا أَنْ لَا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یُسْمِعَکُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۳۰)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں بنو نجار کے ایک باغ میں تشریف لے گئے، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک قبر سے آواز سنی اور پوچھا کہ یہ آدمی کب دفن کیا گیا تھا؟ صحابہ نے بتایا:اے اللہ کے رسول! یہ آدمی قبل از اسلام دور جاہلیت میں دفن ہوا تھا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قدرے اطمینان ہوا اور فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3318

۔ (۳۳۱۸)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرِبًا لِبَنِیْ النَّجَّارِ، وَکَانَ یَقْضِی فِیْہَا حَاجَۃً، فَخَرَجَ إِلَیْنَا مَذْعُوْرًا أَوْ فَزِعًا، وَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوْا لَسَأَلْتُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ یُسْمِعَکُمْ مِنْ عَذَابِ أَہْلِ الْقُبُوْرِ مَا أَسْمَعَنِی)) (مسند احمد: ۱۲۱۲۰)
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو نجار کی ایک ویران سی جگہ میں داخل ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں قضائے حاجت کرتے تھے، ایک دن وہاں سے گھبرا کر نکلے اور فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ قبروں والوں کے عذاب کی جو آوازیں میں سنتا ہوں، وہ تمہیں بھی سنا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3319

۔ (۳۳۱۹) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ فِیْ حَائِطٍ مِنْ حِیْطَانِ الْمَدِیْنَۃِ فِیْ أَقْبُرٍ وَہُوَ عَلٰی بَغْلَتِہٖ فَحَادَتْ بِہٖ، وَکَادَتْ أَنْ تُلْقِیَہٗ، فَقَالَ: ((مَنْ یَّعْرِفُ ہٰذِہِ الْأَقْبُرَ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَوْمٌ ہَلَکُوْا فِیْ الْجَاہِلِیَّۃِ؟ فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ لَّا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یُّسْمِعَکُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ۔)) ثُمَّ قَالَ لَنَا: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ۔)) قُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔)) فَقُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔)) فَقُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔)) فَقُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۷)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم مدینہ کے ایک باغ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے،وہاں کچھ قبریں بھی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس خچر پر سوار تھے، وہ اچانک بدکنے لگا اورقریب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نیچے گرا دیتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر کی آوازیں سنا دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایاـ: تم عذابِ جہنم سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم جہنم کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عذاب ِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم عذابِ قبر سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم زندگی اور موت کے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم زندگی اور موت کے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3320

۔ (۳۳۲۰) عَنْ طَاؤُوْسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَبَرَیْنِ فَقَالَ: ((اِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ، وَمَا یُعَذَّبَانِِ فِیْ کَبِیْرٍ، أَمَّا أَحَدُہُمَا فَکَانَ لَا یَسْتَنْزِہُ مِنَ الْبَوْلِ، (قَالَ وَکِیْعٌ مِنْ بَوْلِہٖ) وَأَمَّا الْأٰخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ)) ثُمَّ أَخَذَ جَرِیْدَۃً فَشَقَّہَا بِنِصْفَیْنِ، فَغَرَزَ فِیْ کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَۃً، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ صَنَعْتَ ہٰذَا؟ قَالَ: ((لَعَلَّہُمَا أَنْ یُّخَفَّفَ عَنْہُمَا مَا لَمْ یَیْبَسَا [قَالَ وَکِیْعٌ تَیْبَسَا])) (مسند احمد: ۱۹۸۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو قبروں کے پاس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔ ان دو قبر والوں کو عذاب ہو رہا ہے اور وہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چھڑی لی، اس کو چیر کر اس کے دو حصے بنا لیے اور ہر حصہ ایک ایک قبر پر گاڑھ دیا، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ کام کیوں کیا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید ان سے عذاب میں اس وقت تک تخفیف کر دی جائے، جب تک یہ خشک نہ ہو جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3321

۔ (۳۳۲۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحَائِطٍ مِنْ حِیْطَانِ الْمَدِیْنَۃِ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَیْنِ یُعَذَّبَانِ فِیْ قَبْرِہِمَا فَذَکَرَہٗ وَقَالَ حَتّٰی یَیْبَسَا أَوْ مَالَمْ یَیْبَسَا۔ (مسند احمد: ۱۹۸۱)
(دوسری سند) سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے اور قبر میں عذاب دیئے جانے والے دو انسانوں کی آوازیں سنیں، ……۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3322

۔ (۳۳۲۲) وَعَنْ یَعْلَی بْنِ سَیَابَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ۔ (مسند احمد: ۱۷۷۰۳)
سیّدنا یعلی بن سیابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3323

۔ (۳۳۲۳) عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ (نُفَیْعِ بْنِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: بَیْنَا أَنَا أُمَا شِیْ رَسُوْلَ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ آخِذٌ بِیَدِیْ وَرَجُلٌ عَنْ یَسَارِہِ فَإِذَا نَحْنُ بِقَبْرَیْنِ أَمَامَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ وَمَا یُعَذَّبَانِ فِی کَبِیْرٍ وَبَلٰی ، فَأَیُّکُمْ یَأْتِیْنِیْ بِجَرْیِدَۃٍ۔)) فَاسْتَبَقْنَا، فَسَبَقْتُہُ فَأَتَیْتُہُ بِجَرِیْدَۃٍ فَکَسَرَہَا نِصْفَیْنِ فَأَلْقٰی عَلٰی ذَا الْقَبْرِ قِطْعَۃً وَعَلٰی ذَا الْقَبْرِ قِطْعَۃً وَقَالَ: ((إِنَّہُ یُہَوَّنُ عَلَیْہِمَا مَا کَانَتَا رَطْبَتَیْنِ، وَمَا یُعَذَّبَانِ إِلاَّ فِی الْبَوْلِ وَالْغِیْبَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۴۴)
سیّدناابوبکرہ نفیع بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہا تھا،جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب چل رہا تھا، اچانک دو قبریں ہمارے سامنے آ گئیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور انہیں یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا، البتہ (یہ گناہ ہیں کبیرہ)، تم میں سے کون آدمی چھڑی لائے گا۔)) یہ سن کر ہم دونوں لپکے، لیکن میں سبقت لے گیا اورچھڑی لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دو حصوںمیں تقسیم کر کے ایک حصہ ایک قبر پر اور دوسرا دوسری قبر پر رکھ دیا اورفرمایا: جب تک یہ تر رہیں گی، تب تک ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور ان کو عذاب پیشاب اور چغلی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3324

۔ (۳۳۲۴) عَنْ جَسْرَۃَ قَالَتْ: حَدَّثَنِی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَیَّ امْرَأَۃٌ مِنَ الْیَہُوْدِ، فَقَالَتْ: إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ، فَقُلْتُ: کَذَبْتِ، فَقَالَتْ: بَلٰی إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْہُ الثَّوْبَ وَالْجِلْدَ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصَّلَاۃِ وَقَدِ ارْتَفَعَتْ اَصْوَاتُنَا، فَقَالَ: ((مَا ہٰذِہِ؟)) فَأَخْبَرْتُہُ بِمَا قَالَتْ، فَقَالَ: ((صَدَقَتْ۔)) قَالَتْ: فَمَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ یَوْمِئِذٍ إِلَّا قَالَ فِی دُبُرِ الصَّلَاۃِ: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ (أَعِذْنِیْ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۲۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہا:پیشاب کی وجہ سے قبر کا عذاب ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتی ہو، اس نے کہا: بات ایسے ہی ہے، بلکہ ہم تو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3325

۔ (۳۳۲۵) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَکْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِی الْبَوْلِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۱۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ تر پیشاب کی وجہ سے عذابِ قبر ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3326

۔ (۳۳۲۶) عَنْ أَبِی أُماَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَرَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمٍ شَدِیْدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَکَانَ النَّاسُ یَمْشُوْنَ خَلْفَہُ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَالِکَ فِی نَفْسِہِ، فَجَلَسَ حَتّٰی قَدَّمَہُمْ أَمَامَہُ لِئَلاَّ یَقَعَ فِیْ نَفْسِہِ مِنَ الْکِبْرِ فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِیْعِ الْغَرْقَدِ، إِذَا بِقَبْرِیْنَ قَدْ دَفَنُوْا فِیْہِمَا رَجُلَیْنِ، قَالَ: فَوَقَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ دَفَنْتُمْ ہَاہُنَا الْیَوْمَ؟)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فُلَانٌ وَ فُلَانٌ، قَالَ: ((إِنَّہُمَا لَیَعُذَبَّاَنِ الْآنَ وَیُفْتَنَانِ فِی قَبْرَیْہِمَا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَ ذَالکَ؟ قَالَ: ((أَمَّا أَحَدُہُمَا فَکَانَ لَایَسْتَنْزِہُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ۔)) وَأَخَذَ جَرِیْدَۃً رَطْبَۃً، فَشَقَّہا ثُمَّ جَعَلَہَا عَلَی الْقَبْرَیْنِ، قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! وَلِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: ((لَیُخَفَّفَنَّ عَنْہُمَا۔)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہُ! وَحَتَّی مَتٰی یُعَذِّبُہُمَا اللّٰہُ؟ قَالَ: ((غَیْبٌ لَا یَعْلَمُہُ إِلَّا اللّٰہُ وَلَولَا تََمْرِیْغُ قُلُوْبِکُمْ أَوْ تَزَیُّدُکُمْ فِی الْحَدِیْثِ لَسَمِعْتُمْ مَا اَسْمَعُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۸)
سیّدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سخت گرمی والے ایک دن میں بقیع الغرقد کی جانب سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنی تو یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گراں گزرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہیں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آگے گزر گئے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل میں تکبر پیدا نہ ہو۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع الغرقد کے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو قبریں دیکھیں، لوگوں نے ان میں دو آدمیوں کو دفن کیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں رک گئے اور پوچھا: آج تم نے یہاں کن لوگوں کو دفن کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا : اے اللہ کے نبی ! یہ فلاں دو آدمی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو اس وقت قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! انہیں عذاب دیئے جانے کی کیا وجہ ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک تر چھڑی لے کر اسے چیرا اور دونوں قبروں پر ان کو رکھ دیا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ نے یہ کام کس لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ ان کو کب تک عذاب دے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ غیب کی بات ہے، جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے دلوں کی بدلتی کیفیات یا بہت زیادہ گفتگو نہ ہوتی تو تم بھی وہ کچھ سنتے جو میں سنتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3327

۔ (۳۳۲۷) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَبْرٍ فَقَالَ: ((اِئْتُونِیْ بِجَرِیْدَتَیْنِ۔)) فَجَعَلَ إِحْدَاہُمَا عِنْدَ رَأْسِہٖ وَالْأُخْرٰی عِنْدَ رِجْلَیْہِ۔ فَقِیْلَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَیَنْفَعُہُ ذَالِکَ؟ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ أَنْ یُخَفَّفَ عَنْہُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا کَانَ فِیْہِمَا نُدُوٌّ۔)) (مسند احمد: ۹۶۸۴)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور فرمایا: میرے پاس دو چھڑیاں لائو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کو اس کے سرہانے اور دوسری کو پائنتی کی طرف رکھ دیا، کسی نے کہا:اے اللہ کے نبی! کیا اس سے میت کو فائدہ پہنچے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت تک عذابِ قبر میں کچھ تخفیف رہے گی، جب تک ان میں تری رہے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3328

۔ (۳۳۲۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ وَ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: فَذَکَرُوْا رَجُلًا مَاتَ مِنْ بَطْنِہِ، قَالَ: فَکَأَنَّمَا اِشْتَہَیَا أَنْ یُصَلِّیَا عَلَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِلْآخَرِ: أَلَمْ یَقُلِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَہُ بَطْنُہُ فَإِنَّہُ لَنْ یُعَذَّبَ فِی قَبْرِہِ؟)) قَالَ الْآخَرُ: بَلٰی۔ (مسند احمد: ۲۲۸۶۷)
‘عبد اللہ بن یسار کہتے ہیں: میں سیّدناسلیمان بن صرد اور سیّدناخالد بن عرفطہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، لوگوں نے بتایا کہ فلاں آدمی پیٹ کی بیماری کی وجہ سے فوت ہو گیا ہے،انہوں نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہی اور ایک نے دوسرے سے کہا: کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے فرمایا تھا کہ جو آدمی پیٹ کی بیماری کی وجہ فوت ہو جائے اس کو ہرگز قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ ؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3329

۔ (۳۳۲۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا إِلٰی سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، حِیْنَ تُوُفِّیَ قَالَ فَلَمَّا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَوُضِعَ فِی قَبْرِہِ وَسُُوِّیَ عَلَیْہِ سَبَّحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فسَبَحَّنْاَ طَوِیْلًا، ثُمَّ کَبَّرَ فَکَبَّرْنَا، فَقِیْلَ یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ لَمْ سَبَّحْتَ، ثُمَّ کَبَّرْتَ؟ قَالَ لَقَدْ تَضَایَقَ عَلٰی ہٰذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُہُ حَتّٰی فَرَّجَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۳۴)
سیّدنا جابر بن عبداللہؓ کا بیان ہے، جب سعد بن معاذؓ کا انتقال ہوا، ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، بعد ازاں جب انہیں قبر میں رکھ کر مٹی برابر کر دی گئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کافی دیر تک سُبحان اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر پڑھتے رہے۔ ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سبحان اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر کہتے رہے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اس موقع پر سبحان اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر کہنے کی کیا وجہ تھی؟ فرمایا: اس صالح بندے پر اس کی قبر تنگ ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فراخ کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3330

۔ (۳۳۳۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَۃً، وَلَوْ کَانَ أَحَدٌ نَاجِیًا مِنْہَا نَجَا مِنْہَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۸۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک قبر کا دبوچنا ہوتا ہے اور اگر کوئی اس سے نجات پا سکتا ہوتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3331

۔ (۳۳۳۱) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی جَنَازَۃٍ، فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَی الْقَبْرِ قَعَدَ عَلٰی شَفَتِہِ فَجَعَلَ یَرُدُّ بَصَرَہُ فِیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((یُضْغَطُ الْمُؤْمِنُ فِیْہِ ضَغْطَۃً تَزُوْلُ مِنْہَا حَمَائِلُہُ وَیُمْلَأُ عَلَی الْکَافِرِ نَارًا۔)) ثُمَّ قَالَ:(( أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِشَرِّ عِبَادِ اللّٰہِ؟ اَلْفَظُّ الْمُسْتَکْبِرُ، الَٔاَ أَخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ عِبَادِ اللّٰہِ؟ الضَّعِیْفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذُوْالطِّمْرَیْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّ اللّٰہُ قَسَمَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۵۰)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے، جب ہم قبر کے قریب آئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور قبر کے اندر دیکھنے لگے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کو قبر میں اس قدر دبایا جاتا ہے کہ اس کے کندھے اور سینے کی ہڈیاں اپنی جگہ سے زائل ہو جاتی ہیں اور کافر کی قبر کو تو آگ سے بھر دیا جاتا ہے۔ کیا میں تمہیں یہ نہ بتلا دوں کہ اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ کون ہیں؟ وہ ہیں جو بدمزاج اور متکبر ہوتے ہیں۔ اور کیا میں تمہیں یہ بھی نہ بتلا دوں کہ سب سے بہترین بندگانِ خدا کون سے ہیں؟ وہ ہیں جو دو بوسیدہ کپڑے والے ضعیف اور فقیر ہوتے ہیں اور جن کو لوگ بھی کمزور سمجھتے ہیں، لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دیں تو وہ بھی ان کی قسم پوری کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3332

۔ (۳۳۳۲)عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیٍّ أَتٰی ابْنُہُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّکَ إِنْ لَمْ تَأْتِہِ لَمْ نَزَلْ نُعَیَِّرُ بِہٰذَا، فَأَتَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَہُ قَدْ أُدْخِلَ فِی حُفْرَتِہِ، فَقَالَ: ((أَفَلَا قَبْلَ أَنْ تُدْخِلُوْہُ؟)) فَأُخْرِجَ مِنْ حُفْرَتِہِ فَتَفَلَ عَلَیْہِ مِنْ قَرْنِہِ إِلٰی قَدَمِہِ وَأَلْبَسَہُ قَمِیْصَہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۴۹)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب عبداللہ بن ابی (منافق) مرا تو اس کا بیٹا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس نہ آئے تو ہمیں ہمیشہ عار دلائی جاتی رہے گی، پس جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ اس کو قبر میں رکھا جا چکا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے قبر میں داخل کرنے سے پہلے مجھے کیوں نہیں بلوا لیا تھا؟ پھر اسے قبر سے نکالا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اس کے سر سے قدم تک اپنا لعاب لگایا اور اسے اپنی قمیص پہنا دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3333

۔ (۳۳۳۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اُسْتُشْہِدَ أَبِی بِأُحُدٍ فَأَرْسَلْنَنِی أَخَوَاتِیْ إِلَیْہِ بِنَاضِحٍ لَہُنَّ، فَقُلْنَ: اِذْہَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاکَ عَلٰی ہٰذاَ الْجَمَلِ فَأَدْفِنْہُ فِی مَقْبَرَۃِ بَنِی سَلِمَۃَ، قَالَ: فَجِئْتُہُ وَأَعْوَانٌ لِی، فَبَلَغَ ذَالِکَ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ جَالِسٌ بِِأُحُدٍ فَدَعَانِی وَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ! لَایُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِہِ۔)) فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِہِ بِأُحُدٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۳۱)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: غزوہ احد میں میرے ابو جان شہید ہو گئے، میری بہنوں نے مجھے ایک اونٹ دے کر بھیجا اور کہا: جاؤ اور اپنے اباجان کی میت کو اس اونٹ پر لاد کر بنوسلمہ کے قبرستان میں دفن کرو۔ پس میں اور میرے مدد گار آ گئے، لیکن جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کویہ بات معلوم ہوئی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احد میں بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلاکر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان کو اپنے (شہید) بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا۔ پس انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3334

۔ (۳۳۳۴) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قَاتَلَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی، اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۲۷)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ کو ہلاک کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3335

۔ (۳۳۳۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَاتَلَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ، اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۷۸۱۳)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3336

۔ (۳۳۳۶) عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَعَنَ (وَفِی لَفْظٍ قَاتَلَ) اللّٰہُ الْیَہُوْدَ، اِتخَّذَوُا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۴۰)
سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں پرلعنت کرے یا ان کو ہلاک کرے، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3337

۔ (۳۳۳۷) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَدْخِلْ عَلَیَّ أَصْحَابِی، فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَکَشَفَ القِنَاعَ، ثُمَّ قَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی، اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ)) (مسند احمد: ۲۲۱۱۷)
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے صحابہ کو میرے پاس بلاؤ۔ پس وہ آگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر والا کپڑا ہٹایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3338

۔ (۳۳۳۸)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) إلِاَّ إِنَّہُ قَالَ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ وَہُوَ مُتَقَنِّعٌ بِبُرْدٍ لَہُ مَعَافِرِیٍّ وَلَمْ یَقُلْ وَالنَّصَارٰی۔ (مسند احمد: ۲۲۱۱۸)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: جب صحابہ آئے تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یمن کی بنی ہوئی معافری چادر لپیٹی ہوئی تھی، اس روایت میں نصاری کا لفظ نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3339

۔ (۳۳۳۹) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِی وَثَنًا، لَعَنَ اللّٰہُ قَوْمًا، اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۷۳۵۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا، اللہ ایسے لوگوں پر لعنت کرے، جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3340

۔ (۳۳۴۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَتَّخِذُوْا قَبْرِیْ عِیْدًا وَلاَ تَجْعَلُوْا بُیُوتَکُمْ قُبُوْرًا، وَحَیْثُمَا کُنْتُمْ فَصَلُّوْا عَلَیَّ فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِیْ۔)) (مسند احمد: ۸۷۹۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری قبر کو عید نہ بنا لینا اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا لینا، تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود بھیج دیا کرو، بے شک تمہارا درود مجھ تک پہنچ جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3341

۔ (۳۳۴۱) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَرَضِہِ الَّذِی لَمْ یَقُمْ مِنْہُ: ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی فَإِنَّہُمُ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) قَالَتْ: وَلَوْلَا ذَالِکَ أُبْرِزَ قَبْرُہُ، غَیْرَ أَنَّہُ خُشِیَ أَنْ یُتَّخَذَ مَسْجِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۰۱۸)
اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا لینا اس کا مفہوم یہ ہے کہ گھروں میں نفلی عبادت کا اہتمام کیا جائے اور اسے قبر نہ بنا دیا جائے کہ اس میں کوئی عبادت نہ ہوتی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3342

۔ (۳۳۴۲) عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: آخِرُ مَا تَکَلَّمَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَخْرِجُوْا یَہُوْدَ أَہْلِ الْحِجَازِ وَأَہْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ)) (مسند احمد: ۱۶۹۱)
سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے آخری بات یہ فرمائی تھی: حجاز کے یہودیوں اور نجران والوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو اور یاد رکھو کہ سب سے برے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔

آیت نمبر