MUSNAD AHMED

Search Result (13)

63)

63) دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3343

۔ (۳۳۴۳) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ وَعَنِ الْأَوْعِیَۃِ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُوْمُ الْأَضَاحِیْ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّی کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبْوِر فَزُوْرُوْہَا، فَإِنَّہَا تُذَکِّرُکُمُ الْآخِرَۃَ، وَنَھَیْتُکُمْ عَنِ الأَوْعِیَۃِ فَاشْرَبُوْا فِیْھَا، وَاجْتَنِبُوْا کُلَّ مَا أَسْکَرَ، وَنَھَیْتُکُمْ عَنْ لُحُوْمِ الْأَضَاحِیْ أَنْ تَحْبِسُوْہَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوْا مَا بَدَا لَکُمْ)) (مسند احمد: ۱۲۳۶)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبروں کی زیارت ، (چند مخصوص) برتنوں اور تین دنوں کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ لیکن بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت یاد دلائے گی، نیز میں نے تمہیں کچھ برتنوں سے منع کیاتھا، اب تم ان میں بھی پی سکتے ہو، لیکن ہر نشہ دینے والی چیز سے بچو اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم جب تک چاہو اسے رکھ سکتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3344

۔ (۳۳۴۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ (بُرَیْدَۃَ الأَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۴۶)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3345

۔ (۳۳۴۵) وَعَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَفِیْہِ: ((وَنَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، فَإِنْ زُرْتُمُوْہَا فَلَا تَقُوْلُوْا ہُجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۵۰)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، لیکن اب اگر تم قبرستان کی زیارت کرو توکوئی فحش بات نہ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3346

۔ (۳۳۴۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، ثُمَّ بَدَا لِیْ أَنَّہَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَیْنَ وَتُذَکِّرُ الْآخِرَۃَ فَزُوْرُوْہَا وَلَا تَقُوْلُوْا ہُجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۲۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تو تھا، لیکن پھرمجھے خیال آیا ان کی زیارت سے دلوں میں رقت پیدا ہوتی ہے، آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور آخرت یاد آتی ہے، لہٰذاتم قبروں کی زیارت کیا کرو، لیکن کوئی فحش کام نہ کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3347

۔ (۳۳۴۷) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: زَارَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْرَ أُمِّہِ فَبَکٰی وَأَبْکٰی مَنْ حَوْلَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِسْتَأْذَنْتُ رَبِّی فِی أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَہَا فَلَمْ یُؤْذَنْ لِی وَاسْتَأْذَنْتُہُ فِی أَنْ أَزُوْرَقَبْرَہَا فَأَذِنَ لِی، فَزُوْرُوْا الْقُبُوْرَ فَإِنَّہَا تُذَکِّرُ الْمَوْتَ۔)) (مسند احمد: ۹۶۸۶)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اور خود بھی روئے اور اپنے ساتھ والوں کو بھی رلایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے یہ اجازت طلب کی کہ میں اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کروں؟ لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی۔پھر جب میں نے اس کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دے دی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3348

۔ (۳۳۴۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَائِرَاتِ الْقُبُوْرِ وَالْمُتَّخِذِیْنَ عَلَیْہَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ۔ (مسند احمد: ۲۹۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور قبروں پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3349

۔ (۳۳۴۹) عَنْ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَوَّارَاتِ الْقُبُوْرِ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۴۲)
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کثرت سے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3350

۔ (۳۳۵۰) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ رَسُوْلَ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُوْرِ۔ (مسند احمد: ۸۴۳۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کثرت سے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3351

۔ (۳۳۵۱) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہ ِ(بُرْیَدَۃَ الأَسْلَمِیِّ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُہُمْ إِذَا خَرَجُوْا إِلَی الْمَقَابِرِ، فَکَانَ قَائِلُہُمْ یَقُوْلُ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ مُعَاوِیَۃُ فِی حَدِیْثِہِ: إِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، أَنْتُمْ فَرَطُنَا وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ، وَنَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۷۳)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ لوگ قبرستان کی طرف جاتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، إِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، أَنْتُمْ فَرَطُنَا وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ، وَنَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ (اے ان گھروں والو مومنو اور مسلمانو!تم پر سلامتی ہو،ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، تم ہم سے آگے ہو اور ہم تمہارے پیچھے پیچھے آرہے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3352

۔ (۳۳۵۲) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ أَتَی الْمَقْبَرَۃَ فَسَلَّمَ عَلٰی أَہْلِ الْمَقْبَرَۃِ فَقَالَ: ((سَلَامٌ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ! وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ…)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۷۹۸۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قبرستان میں تشریف لے گئے اور ان کو سلام کہتے ہوئے یہ دعا پڑھی: سَلَامٌ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ! وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ۔(اس گھر کے صاحب ِ ایمان لوگو! تم پر سلامتی ہو، ان شاء اللہ ہم بھی تمہیں ملنے والے ہیں۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3353

۔ (۳۳۵۳) ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللّٰہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، أَنَّہُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَیْسِ بْنِ مَخَرَمَۃَ بْنِ الْمُطَلَّبَ أَنَّہُ قَالَ یَوْمًا: أَلَا أَحَدِّثُکُمْ عَنِّیْ وَعَنْ أَمُیِّ ؟ فَظَنَنَّا أَنَّہٗ یُرِیْدُ أُمَّہُ الَّتِیْ وَلَدَتْہُ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَلَا اُحَدِّثُکُمْ عَنِّی وَعَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: بَلٰی۔ قَالَ: قَالَتْ: لَمَّا کَانَتْ لَیْلَتِیَ الَّتِیْ کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہَا عِنْدِی، اِنْقَلَبَ، فَوَضَعَ رِدَائَہُ وَخَلَعَ نَعْلَیْہِ فَوَضَعَہُمَا عِنْدَ رِجْلَیْہِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِہِ عَلٰی فِرَاشِہِ فَاضْطَجَعَ، فَلَمْ یَلْبَثْ إِلَّا رَیْثَمَا ظَنَّ أَنِّیْ قَدْ رَقَدْتُّ فَأَخَذَ رِدَائَہُ رُوَیْدًا، وَانْتَعَل رُوَیْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَہُ رُوَیْدًا، فَجَعَلْتُ دِرْعِیْ فِیْ رَأْسِی وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِی ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلٰی اَثَرِہِ حَتّٰی جَائَ الْبَقِیْعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ ثَلَاثََ مَرَّاتٍ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَاَسْرَعْتُ فَہَرْوَلَ فَہَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ، فَسَبَقْتُہُ، فَدَخَلْتُ فَلَیْسَ إِلَّا أَنِِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَل فَقَالَ: ((مَالَکِ یَا عَائِشَۃُ! حَشْیَا رَابِیَۃً؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: لَا شَیْئَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((لَتُخْبِرِیْنِیْ أَوْ لَیُخْبِرَنِّیَ اللَّطِیْفُ الْخَبْیِرُ۔)) قَالَتْ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! بِاَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی، فَأَخْبَرْتُہُ، قَالَ: ((فَأَنْتِ السَوَادُ الَّذِیْ رَأَیْتُ أَمَامِی؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَلَہَزَنِی فِیْ ظَہْرِیْ لَہْزَۃً أَوْجَعَتْنِیْ وَقَالَ: ((أَظَنَنْتِ أَنْ یَحِیْفَ عَلَیْکِ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ؟)) قَالَتْ: مَہْمَا یَکْتُمِ النَّاسُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ، قَالَ: ((نَعَمْ فَإِنَِّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَتَانِیْ حِیْنَ رَأَیْتِ فَنَادَانِیْ فَأَخْفَاہُ مِنْکِ فَأَجَبْتُہُ فَأخْفَیْتُہُ مِنْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لِیَدْخُلَ عَلَیْکِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِیَابَکِ وَظَنَنْتُ أَنَّکِ قَدْ رَقَدْتِّ فَکَرِہْتُ أَنْ أُوْقِظَکِ وَخَشِیْتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِیْ، فَقَالَ: إِنَّ رَبَّکَ جَلَّ وَعَزَّ یَأْ مُرُکَ أَنْ تَأْتِیَ أَہْلَ الْبَقِیْعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَہُمْ۔)) قَالَتْ: فَکَیْفَ أَقُوْلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ فَقَالَ: ((قُوْلِیْ: اَلسَّلَامُ عَلٰی أَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ لَلَاحِقُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۸۰)
ایک دن محمد بن قیس نے کہا: کیا میں تمہیں اپنی اور اپنی والدہ سے ایک حدیث بیان نہ کر دوں؟ ہم نے سمجھا کہ اس کی مراد اس کی حقیقی والدہ ہے، پھر انہوں نے کہا: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: کیا میں تمہیں اپنا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک واقعہ بیان کروں؟ میں نے عرض کیا: جی کیوں نہیں، پھر انھوں نے کہا: جب میری رات تھی جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (عشاء کے بعد) واپس تشریف لائے، چادر رکھی، جوتے اتار کر پائنتی کی طرف رکھ دیئے اور چادر کا ایک حصہ بستر پر بچھا کر لیٹ گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ دیر لیٹے رہے، (میرے خیال کے مطابق) جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سمجھا کہ میں سو گئی ہوں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی، آرام سے جوتے پہنے اور دروازہ کھول کر باہر تشریف لے گئے اور آہستگی سے اسے بند کر دیا۔ اُدھر میں نے بھی اپنا دوپٹہ سنبھالا، سر پر رکھا، چادر اوڑھی، شلوار پہنی اور آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع قبرستان میں جا پہنچے، وہاں کافی دیر کھڑے رہے اور تین مرتبہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹے اور میں بھی لوٹنے لگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز تیز چلے تو میں نے بھی رفتار تیز کر دی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ دوڑے تو میں بھی دوڑنے لگی۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزید تیز ہو گئے تو میں بھی مزید تیز ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آگے نکل گئی اور گھر پہنچ کر ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمایا: عائشہ! کیا بات ہے، سانس پھولا ہوا ہے، پیٹ اٹھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی بات نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خود ہی مجھے بتا دو، ورنہ باریک بیں اور باخبر ربّ مجھے بتلا دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والدین آپ پر قربان ہوں، پھرمیں نے سارا واقعہ آپ کو بیان کر دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مجھے اپنے سامنے کالا سا وجود نظر آ رہا تھا، یہ تم تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری کمر میں مکا مارا، جس سے مجھے تکلیف ہوئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کریں گے؟ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا:لوگ جیسے مرضی چھپا لیں، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے جانتا ہی ہوتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں،بات یہ تھی کہ جب تم نے مجھے دیکھا تھا اس وقت جبریل علیہ السلام نے آکر مجھے آواز دی اور آواز کو تم سے پوشیدہ رکھا، میں نے بھی اپنی آواز کو تم سے مخفی رکھتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا، وہ اس وقت تمہارے پاس تو آ نہیں سکتا تھا، کیونکہ تم نے کپڑے وغیرہ ایک طرف رکھے ہوئے تھے، جبکہ میں نے سمجھا تھا تم سو چکی ہو اورتمہیں جگانا بھی مناسب نہ سمجھا، تاکہ تم اکیلی پریشان نہ ہو جائو، جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: آپ کا ربّ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع والوں کے پاس جا کر ان کے لیے بخشش کی دعا کریں، (اس لیے میں چلا گیا تھا)۔ پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول! میں کیسے دعا پڑھا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یوں کہا کرو: اَلسَّلَامُ عَلٰی أَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ لَلَاحِقُوْنَ۔ (سلامتی ہو ان گھروں والے مومنوں اور مسلمانوں پر اور اللہ تعالیٰ ہم سے پہلے والوں اور بعد والوں پر رحم کرے اور ہم بھی ان شاء اللہ ملنے والے ہیں۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3354

۔ (۳۳۵۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَظَنَنْتُ أَنَّہُ یَأْتِی بَعْضَ نِسَائِہِ فَاتَّبْعُتُہ فَأَتَی الْمَقَابِرَ، ثُمَّ قَالَ: ((اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ) وَإِنَّا بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، اللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَہُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہُمْ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ الْتَفَتَ فَرَآنِیْ، فَقَالَ: ((وَیْحَہَا، لَوِاسْتَطَاعَتْ مَا فَعَلَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۷۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھ کر چل پڑے، میں نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی اور بیوی کے پاس جا رہے ہیں، اس لیے میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑی، لیکن دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبرستان تشریف لے گئے اور (یہ دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، اَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَہُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہُمْ۔(اس گھر والے مومنو! تم پر سلامتی ہو، تم ہم سے آگے ہو اور ہم بھی تم کو ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجرسے محروم نہ کرنا اور ان کے بعد ہمیں کسی فتنے میں نہ ڈالنا۔) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے طرف متوجہ ہوئے اور مجھے دیکھ کر کہا: یہ ہلاک ہو جائے، اگر اس کو یہ طاقت ہوتی تو یہ کام نہ کرتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3355

۔ (۳۳۵۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْقَلِیْبِ یَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! یَا فُلَانُ! ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ أَمَا وَاللّٰہِ! إِنَّہُمُ الْآنَ لَیَسْمَعُوْنَ کَلاَمِیْ۔)) قَالَ یَحْیٰی: فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: غَفَرَاللّٰہُ لِأَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اِنَّہُ وَہِلَ۔ إِنَّمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! إِنَّہُمْ لَیَعْلَمُوْنَ الْآنَ أَنَّ الَّذِی کُنْتُ أَقُوْلُ لَہُمْ حَقًّا، وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: {إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی} {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ۔} (مسند احمد: ۴۸۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بدر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنویں (جس میں کفار کے مقتولوں کو پھینک دیا گیا تھا) کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: او فلاں! اوفلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ اس وقت میرا کلام سن رہے ہیں۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا، وہ حق تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ نیز فرمایا: جو لوگ قبروں میں ہیں، توان کو نہیں سنا سکتا۔

آیت نمبر