Musnad Ahmad

Search Results(1)

65)

65) قبروں کی زیارت کے بارے میں ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3408

۔ (۳۴۰۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ وَالْعُیُوْنُ الْعُشْرُ، وَفِیْمَا سَقَتِ السَّانِیَۃُ نِصْفُ الْعُشْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۲۱)
۔ سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس (کھیتی کو) آسمان اور چشمے سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو اونٹ سیراب کریں، اس میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3409

۔ (۳۴۰۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ َرسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فِیْمَا سَقَتِ الْأَنْہَارُ وَالْغَیْمُ الْعُشُوْرُ وَفِیْمَا سَقَتِ الْسَانِیَۃُ نِصْفُ الْعُشُوْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۲۲)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس زمین کو نہریں اور بادل سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو اونٹ سیراب کریں، اس میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3410

۔ (۳۴۱۰) حدثنا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیْرُ بَنْ مَحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلِیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ فَفِیْہِ الْعُشْرُ، وَمَا سُقِیَ بِالْغَرْبِ وَالدَّالِیَۃِ فَفِیْہِ نِصْفُ الْعُشْرِ۔)) قَالَ أبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: ، فَحَدَّثْتُ أَبِی بحَدِیْثِ عُثْمَانَ عَنْ جَرِیْرٍ فَأَنْکَرہُ جِدًّا وَکَانَ أَبِی لاَ یُحَدَّثَنَا عَنْ مَحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ لِضَعْفِہِ عِنْدَہُ وَإِنْکَارِہِ لِحَدِیْثِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۰)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس (کھیتی) کو آسمان سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو ڈول اور اونٹ سے سیراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3411

۔ (۳۴۱۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ أوْسُقٍ صَدَقَۃٌ، وَلَا فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ اَوَاقٍ صَدَقَۃٌ، وَلَا دُوْنَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَۃٌ)) (مسند احمد: ۹۲۱۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر، پانچ اوقیوں سے کم (چاندی) پر اور پانچ اونٹوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3412

۔ (۳۴۱۲)عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ أوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۵۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم کھجور اور اناج پر زکوۃ نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3413

۔ (۳۴۱۳)وَعَنْہُ أیضًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک وسق میں (۶۰) صاع ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3414

۔ (۳۴۱۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَرْفَعُہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ أَوْسَاقٍ صَدَقَۃٌ وَاَلْوَسْقُ سِتُّوْنَ مَخْتُوْمًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۸۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر کوئی زکوۃ نہیں ہے اور ایک وسق ساٹھ مہرزدہ صاع کا ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3415

۔ (۳۴۱۵) عَنِ الْعَلَائِ بْنِ اَلْحَضْرَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہَ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْبَحْرَیْنِ أَوْ أَہْلِ ہَجَرَ شَکَّ أَبُوْ حَمْزَہَ قَالَ: کُنْتُ آتِی الحَائِطَ، یَکُوْنُ بَیْنَ الْإِخْوَۃ ِفَیُسْلِمُ أَحَدُہُمْ فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ، وَمِنَ الْآخَرِ الْخَرَاجَ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۰۱)
۔ سیدنا علاء بن حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بحرینیا ہجر کی طرف بھیجا تھا، میں جب ایسے باغ میں جاتا، جو مختلف بھائیوںکا ہوتا اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا تو مسلمان سے دسواں حصہ زکوۃ لیتا اور دوسروں سے خراج وصول کرتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3416

۔ (۳۴۱۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ کُلِّ جَادٍّ عَشَرَۃَ أَوْسُقٍ مِنْ تَمْرٍ بِقِنْوٍ، یُعَلَّقُ فِی الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاکِیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۲۸)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ جو شخص دس وسق کھجور کاٹ لے، وہ مسجد میں مساکین کے لیے ایک خوشہ لٹکا دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3417

۔ (۳۴۱۷) عَنْ مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ قَالَ: عِنْدَنَا کِتَابُ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَۃَ مِنَ الْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیْرِ وَالزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۳۸)
۔ موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنامعاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک تحریر ہے، اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صرف گندم، جو، منقیٰ اور کھجور سے زکوۃ وصول کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3418

۔ (۳۴۱۸) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: وَہِیَ تَذْکُرُ شَأْنَ خَیْبَرَ، کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَۃَ إِلَی الْیَہُوْدِ فَیَخْرُصُ عَلَیْہِمُ النَّخْلَ، حِیْنَیَطِیْبُ (وَفِی رَوَایَۃٍ: أوَّلَ الثَّمَرِ) قَبْلَ أَنْ یُؤْکَلَ مِنْہُ، ثُمَّ یَخَیِّرُوْنَیَہُوْدَ أَیَأْ خُذُونْہٗبِذٰلِکَالْخَرْصِأَمْیَدْفَعُوْنَہُ إِلَیْہِمْ بِذٰلِکَ، وَإِنَّمَا کَانَ أَمْرُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِکَیْیُحْصِیَ الِّزَّکَاۃَ قَبْلَ أَنْ تُؤْکَلَ الثَّمَرَۃُ وَتُفَرَّقَ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۱۹)
۔ سید عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا خیبر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں: جب وہاں کی کھجوریں تیار ہو جاتیں، لیکن ابھی تک کھانے کے قابل نہ ہوتیں تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عبد اللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہودیوں کی طرف بھیجتے تاکہ وہ وہاں جا کرکھجوروں کی فصل کا اندازہ لگائیں، وہ اندازہ لگا کر ان کو اختیار دے دیتے کہ وہ یا تو اس لگائے ہوئے اندا زے کے مطابق کھجوریں لے لیں اور فصل چھوڑ دیںیا اس اندازہ کے حساب سے حصہ ادا کریں،نبی کریم کا یہ حکم اس وجہ سے تھا کہ کھجوروں کو کھانے اور تقسیم کرنے سے پہلے پہلے ہی ان کی مقدار کا اندازہ ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3419

۔ (۳۴۱۹) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما خَرَصَہَا ابْنُ رَوَاحَۃَ أرْبَعِیْنَ أَلْفَ وَسْقٍ، وَزَعَمَ أَنَّ الْیَہُوْدَ لَمَّا خَیَّرَہُمْ ابْنُ رَوَاحَۃَ أَخَذُوْا الثَّمَرَ وَعَلَیْہِمْ عِشْرُوْنَ اَلْفَ وَسْقٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۰۸)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدناابن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کھجوروں کا اندازہ چالیس ہزار وسق کی صورت میں لگایا، پھر جب انھوں نے یہودیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے پھل کو اپنے حق میں ترجیح دی اور بیس ہزار وسق کھجور ادا کرنا ان کے ذمیّ ٹھہرا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3420

۔ (۳۴۲۰) عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عُنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ ابْنَ رَوَاحَۃَ إِلَی خَیْبَرَیَخْرُصُ عَلَیْہِمْ، ثُمَّ خَیَّرَہُمْ أَنْ یَأْخُذُوْا أَوْ یَرُدُّوْا، فَقَالُوْا ہٰذَا الْحَقُّ، بِہٰذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ۔ (مسند احمد: ۴۷۶۸)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدناابن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خیبر کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ وہاں جا کر کھجور کی فصل کا اندازہ لگائیں، انہوں نے فصل کا اندازہ لگانے کے بعد انہیں اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو اسے قبول کر لیںیا چاہیں توردّ کر دیں، لیکن انھوں نے (یہ فیصلہ سن کر)کہا: یہی فیصلہ حق ہے اور اسی کی بدولت آسمان و زمین قائم ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3421

۔ (۳۴۲۱) عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِی حَثْمَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إذَا خَرَصْتُمْ فَجُذُّوْا، وَدَعُوْا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَجُذُّوْا أَوْتَدَعُوْا فَدَعُوْا الرُّبُعَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۴)
۔ سیدناسہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم فصل کا اندازہ کر لو تو اس کے کٹنے کے بعد (زکوۃ کییہ مقدار وصول کرو، لیکن) ایک تہائی چھوڑ دو، اگر تم اتنا نہ چھوڑو تو ایک چوتھائی چھوڑ دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3422

۔ (۳۴۲۲)عَنْ أَبِیْ سَیَّارَۃَ الْمُتَعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی نَخْلًا، قَالَ: ((أَدِّ الْعُشُورَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِحْمِہَا لِی، قَالَ: فَحَمَاہَا لِی، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: اِحْمِ لِی جَبَلَہَا، قَالَ: فَحَمٰی لِیْ جَبَلَہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۲۳۷)
۔ سیدناابو سیارہ متعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں، ( یعنی میرے پاس شہد ہوتاہے۔)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا دسواں حصہ (بطورِ زکوۃ) ادا کیا کر۔ اس نے کہا: تو پھر آپ وہ علاقہ تو میرے لیے مختص کر دیں۔ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ علاقہ اس کے لیے محفوظ کر دیا۔ عبد الرحمن راوی نے (حدیث کے الفاظ بیان کرتے ہوئے) کہا: آپ وہ پہاڑ میرے لیے خاص کر دیں، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پہاڑ اس کے لیے مختص کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3423

۔ (۳۴۲۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِمْرَأَتَانِ فِی أَیْدِیْہِمَا أَسَاوِرُ مِنْ ذَہَبٍ، فَقَالَ لَہُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتُحِبَّانِ أَنْ یُسَوِّرَکُمَا اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَسَاوِرَ مِنْ نَارٍ؟)) قَالَتَا: لَا، َقاَل: ((فَأَدِّیَا حَقَّ ہٰذَا الَّذِی فِی أیْدِیْکُمَا۔)) (مسند احمد: ۶۶۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتیں نبی کریم کی خدمت حاضر ہوئیں، ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے، رسول اللہ نے ان سے پوچھا: کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس زیور کا حق (زکوۃ) ادا کیا کرو جو تمہارے ہاتھوں میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3424

۔ (۳۴۲۴) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ قَالَتْ: دَخَلْتُ أَنَا وَخاَلَتِیْ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْنَا أَسْوِرَۃٌ مِنْ ذَہَبِ، فَقَالَ لَنَا: ((أتُعْطِیَانِ زَکَاتَہُ؟)) قَالَتْ: فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: ((أَماَ تَخَافَانِ أَنْ یُسَوِّرَ کُمَا اللّٰہُ أَسْوِرَۃً مِنْ نَارِ، أَدِّیَا زَکَاَتُہ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۶۶)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہے: میں اور میری خالہ ہم دونوں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، جبکہ ہم نے سونے کے کنگن بھی پہنے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے پوچھا: کیا تم اس زیور کی زکوٰۃ ادا کیا کرتی ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے عوض آگ کے کنگن پہنائے، اس کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3425

۔ (۳۴۲۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی خَیْبَرَ فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا إِلٰی خَرِبَۃٍ،یَقْضِی حَاجَتَہُ، فَتَنَاوَلَ لَبِنَۃً لِیَسْتَطِیَب بِہَا فَانْہَارَتْ عَلَیْہِ تِبْرًا، فأَخَذَہَا فَأَتٰی بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ بِذٰلِکَ، قَالَ: زِنْہَا فَوَزَنَھَا، فَإِذَا مِئَتَا دِرْہَمٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ہَذَا رِکَازٌ، وَفِیْہِ الْخُمْسُ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۲۳)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف گئے، ہمارا ایک ساتھی قضائے حاجت کے لئے ایک ویرانے کی طرف گیا، جب اس نے استنجاء کرنے کے لئے ایک اینٹ اٹھائی تو اسے وہاں سے سونے کی ایک ڈلی ملی،اس نے وہ اٹھا لی اور اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا اور ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلا دی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا وزن کرو۔ اس نے وزن کیا تو وہ دو سو درہم کی ہوئی۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ رکاز ہے اور اس میںخُمُسیعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3426

۔ (۳۴۲۶) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَألْتُ جَابِرًا أَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((فِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۵۷)
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ رِکاز میں خمس یعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3427

۔ (۳۴۲۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفِی الرِّکَازِ ِالْخُمْسُ۔ (مسند احمد: ۲۸۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رِکاز میں پانچواں حصہ زکوٰۃ کا فیصلہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3428

۔ (۳۴۲۸) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((اَلْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَائُ جُبَارٌ، وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواں رائیگاں ہے، کان ضائع ہے اور جانور بھی رائیگاں ہے اور رِکاز میں پانچواں حصہ زکوۃ ہے۔

آیت نمبر