Musnad Ahmad

Search Results(1)

67)

67) کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3639

۔ (۳۶۳۹) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہُ إِلَّا الصِّیَامَ فَإِنَّہُ لِی وَاَنَا اَجْزِی بِہِ، وَالصِّیَامُ جُنَّۃٌ وَإِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ اَحَدِکُمْ فَلَا یَرْفُثْیَوْمَئِذٍ وَلَا یَصْخَبْ (وَفِیرِوَایَۃٍ وَلَایَجْہَلْ بَدَلَ وَلَایَصْخَبْ) فَإِنْ شَاتَمَہُ اَحَدٌ، اَوْقَاتَلَہُ فَلْیَقُلْ إِنِّی امْرُؤٌ صَائِمٌ مَرَّتَیْنِ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لِخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ یَفْرَحُہُمَا، إِذَا اَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِہِ وَإِذَا لَقِیَ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ فَرِحَ بِصِیَامِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۷۹)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے، ما سوائے روزہ کے، وہ تو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، روزہ (جہنم سے بچانیوالی) ڈھال ہے، جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو وہ نہ فحش کلامی کرے،نہ شور مچائے اور نہ جاہلانہ کلام کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ کہے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ محبوب اور پاکیزہ ہو گی، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، وہ ان کی وجہ سے خوش ہوتا ہے، جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو افطاری کی وجہ سے خوش ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو روزہ کی وجہ سے خوش ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3640

۔ (۳۶۴۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ َوَجَّل: کُلُّ عَمَلِ بْنِ آدَمَ لَہُ إِلَّا الصَّیَامَ فَہُوَ لِیْ وَاَنَا اَجْزِی بِہِ، إِنَّمَا یَتْرُکُ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ مِنْ اَجْلِی، فَصِیَامُہُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِی بِہِ، کُلُّ حَسَنَۃٍ بِعَشْرِ اَمْثَالِہَا إِلٰی سَبْعِمائَۃِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّیَامَ فَہُوَ لِی وَاَنَا اَجْزِی بِہِ)) (مسند احمد: ۱۰۵۴۷)
۔ (دوسری سند) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے، سوائے روزہ کے، وہ تو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، کیونکہ وہ میری وجہ سے کھانا پینا چھوڑتا ہے،اس لیے اس کا روزہ بھی میرے لئے ہوتا ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا، ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہوتا ہے، لیکن روزہ ایسی عبادت ہے، جو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3641

۔ (۳۶۴۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ حَسَنَۃَ ابْنِ آدَمَ بِعَشْرِ اَمْثَالِہَا إِلٰی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ إِلَّا الصَّوْمَ، وَالصَّوْمُ لِی وَأَنَا اَجْزِی بِہِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ، فَرْحَۃٌ عِنْدَ إِفْطَارِہِ وَفَرْحَۃٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۵۶)
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم کی ہر نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک مقرر کر رکھا ہے، ما سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی روزہ افطار کرنے کے وقت ہوتی ہے اور دوسری قیامت کے دن ہو گی، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3642

۔ (۳۶۴۲) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ وَاَبِی سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ، وَفِیْہِ: ((إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَیْنِ، إِذَا اَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِیَ اللّٰہَ فَجَزَاہُ فَرِحَ۔ (مسند احمد: ۷۱۷۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اور وہ اِس کو بدلہ دے گا تو یہ خوش ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3643

۔ (۳۶۴۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ)) (مسند احمد: ۲۶۵۶۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3644

۔ (۳۶۴۴) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی ہِنْدٍ اَنَّ مُطَرِّفًا رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ حَدَّثَہُ اَنَّ عُثْمَانَ بْنَ اَبِی الْعَاصِ الثَّقَفِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ دَعَا لَہُ بِلَبَنٍ لِیَسْقِیَہُ، قَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّی صَائِمٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَیَقُوْلُ: ((اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّۃِ اَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۷)
۔ سعید بن ابی ہند کہتے ہیں: بنو عامر کے ایک آدمی مطرف نے بیان کیا کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی نے اسے پلانے کے لیے دودھ منگوایا، لیکن مطرف نے کہا کہ وہ تو روزے دار ہے تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جہنم سے بچنے کے لیے روزہ ایسی ہی ڈھال ہے، جیسے لڑائی میں آدمی ڈھال استعمال کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3645

۔ (۳۶۴۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((قَالَ رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ: اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌیَسْتَجِنُّ بِہَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ وَہُوَ لِیْ وَاَنَا اَجْزِی بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۳۷)
۔ سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے رب کا ارشاد ہے: روزہ ایک ڈھال ہے، جس کے ذریعہ بندہ جہنم سے بچتا ہے اور یہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3646

۔ (۳۶۴۶) وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ لِلْجَنَّۃِ بَابًا یُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ، قَالَ: یُقَالُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اَیْنَ الصَّائِمُوْنَ، ہَلُمُّوا إِلَی الرَّیَّانِ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُہُمْ، اُغْلِقَ ذٰلِکَ الْبَابُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۰۶)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے ایک دروازے کا نام رَیَّان ہے، قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ اِدھر بابِ ریان کی طرف آ جائو، جب ان کا آخری بندہ گزر جائے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3647

۔ (۳۶۴۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) فَإِذَا دَخَلُوْہُ اُغْلِقَ فَلَمْ یَدْخُلْ مِنْہُ غَیْرُہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۰۷)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جب روزے دار اس دروازے سے داخل ہو جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی اس سے اندر داخل نہیں ہو سکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3648

۔ (۳۶۴۸) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لِکُلِّ اَہْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِیُدْعَوْنَ بِذَالِکَ الْعَمَلِ، وَلِاَہْلِ الصِّیَامِ بَابٌ یُدْعَوْنَ مِنْہُ یُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلْ اَحَدٌ یُدْعٰی مِنْ تِلْکَ الْاَبْوَابِ کُلِّہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَاَنَا اَرْجُو اَنْ تَکُوْنَ مِنْہُمْ یَا اَبَا بَکْرٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۹۹)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر عمل کرنے والوں کے لئے جنت میں داخل ہونے کے لئے ایک مخصوص دروازہ ہو گا، کہ ان کو جس سے داخل ہونے کی آواز دی جائے گا، روزے داروں کے لئے بھی ایک رَیَّان نامی مستقل دروازہ ہو گا، اس سے ان کو بلایا جائے گا۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا،جسے جنت کے تمام دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دی جائے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور اے ابوبکر! مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3649

۔ (۳۶۴۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَصُوْمُ عَبْدٌ یَوْمًا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ إِلَّا بَاعَدَ اللّٰہُ بِذَالِکَ الْیَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْہِہِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۲۸)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ اللہ کی راہ میںایک روزہ رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کے سبب سے اسے جہنم سے ستر برس کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3650

۔ (۳۶۵۰) عَنْ أَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: مُرْنِیْ بِعَمَلٍ بُدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ((عَلَیْکَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہُ لَاعِدْلَ لَہُ۔)) ثُمَّ اَتَیْتُہُ الثَّانِیَۃَ، فَقَالَ: ((عَلَیْکَ بِالصِّیَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۰۱)
۔ سیدناابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے کوئی ایسا عمل کرنے کا حکم دیں کہ جو مجھے جنت میں پہنچا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو، کیونکہ کوئی دوسرا عمل اس کے مثل نہیں ہے۔ جب میں دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور (یہی مطالبہ رکھا تو) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3651

۔ (۳۶۵۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصِّیَامُ وَالْقُرْآَنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِیَقُوْلُ الصِّیَامُ: اَیْ رَبِّ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّہَوَاتِ بِالنَّہَارِ فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ، وَیَقُوْلُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بِاللَّیْلِ فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ، قَالَ: فَیُشَفَّعَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۲۶)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے حق میں سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے اوقات میں کھانے پینے اور شہوات سے روکے رکھا تھا، لہٰذا تو اب اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اور قرآن کہے گا: میں نے رات کے وقت اس کو سونے سے روکے رکھا تھا، لہٰذا اب تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، نتیجتاً دونوںکی سفارش قبول کی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3652

۔ (۳۶۵۲) عَنْ اَمِّ عُمَارَۃَ بِنْتِ کَعْبٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہَا فَدَعَتْ لَہُ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَہَا: ((کُلِیْ۔)) فَقَالَتْ: إِنِّی صَائِمَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا اُکِلَ عِنْدَہُ صَلَّتْ عَلَیْہِالْمَلَائِکَۃُ حَتّٰییََفْرٰغُوا رُبَّمَا قَالَ: حَتّٰییَقْضُوْا اَکْلَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۰۱)
۔ سیدہ ام عمارہ بنت کعب انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اورانہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے کھانا منگوا کر پیش کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم بھی کھائو۔ لیکن انھوں نے کہا: جی میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب روزے دار کے پاس کھانا کھایا جاتا ہے تو جب تک کھانا کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں، اس وقت تک فرشتے اس کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3653

۔ (۳۶۵۳) عَنْ حَبِیْبِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ مَوْلَاتِہٖلَیْلٰی عَنْ عَمَّتِہِ اُمِّ عُمَارَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہَا، قَالَ: وَثَابَ إِلَیْہَا رِجَالٌ مِنْ قَوْمِہَا، قَالَ: فَقَدَّمَتْ إِلَیْہِمْ تَمْرًا فَاَکَلُوْا فَتَنَحّٰی رَجُلٌ مِنْہُمْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا شَاْنُہُ؟)) فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((اَمَا إِنَّہُ مَا مِنْ صَائِمٍ یَاْکُلُ عِنْدَہُ فَوَاطِرُ إِلَّا صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰییَقُوْمُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۹۹)
۔ سیدہ ام عمارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور ان کی قوم کے بہت سے لوگ ان کے ہاں جمع ہو گئے، انھوں نے ان کی خدمت میں کھجوریں پیش کیں، جب وہ کھانے لگے تو ایک آدمی ایک طرف کو ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: جی میں روزے سے ہوں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی روزہ دار کے پاس دوسرے لوگ کھانا کھاتے ہیں تو ان کے کھانے سے فارغ ہونے تک فرشتے اس کے حق میں رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3654

۔ (۳۶۵۴) عَنْ عَامِر بْنِ مَسْعُوْدٍ الْجُمَحِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلصَّوْمُ فِی الشِّتَائِ الغَنِیْمَۃُ الْبَارِدَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۶۷)
۔ سیدناعامر بن مسعود جمحی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سردیوں کے روزے تو بلا مشقت حاصل ہونے والی غنیمت ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3655

۔ (۳۶۵۵) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ َ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: وَمَا تَاْخَّرَ)۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۴۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کے حصول کے لئے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3656

۔ (۳۶۵۶) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرَغِّبُ فِی قِیَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَاْمُرَہُمْ بِعَزِیْمَۃٍ، فَیَقُوْلُ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۷۷۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو رمضان کے قیام کی رغبت ضرور دلاتے تھے، البتہ حتمی حکم نہیں دیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: جو شخص ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کی خاطر رمضان کا قیام کرے گا، اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3657

۔ (۳۶۵۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) وَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ النَّاسَ عَلَی القِیَامِ۔ (مسند احمد: ۷۸۶۸)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود لوگوں کو قیام کے لیے جمع نہیں کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3658

۔ (۳۶۵۸) عَنْ اَبِی سَلْمَۃَ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَخْبَرَہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ ، وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۲۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اور اجرو ثواب کے حصول کی نیت رمضان کا قیام کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے، اسی طرح جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کی خاطر شب ِ قدر کا قیام کیا تو اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3659

۔ (۳۶۵۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَعَرَفَ حُدُوْدَہُ، وَتَحَفَّظَ مِمَّا کَانَ یَنْبَغِی بِہِ اَنْ یَتَحَفَّظَ فِیْہِ، کَفَّرَ مَا کَانَ قَبْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۴۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کا خیال رکھا اورجن امور سے بچنا چاہئے، ان سے بچ کر رہا، تو اس کا یہ عمل اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3660

۔ (۳۶۶۰) عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَہْرٌ بِعَشَرَۃِ اَشْہُرٍ، وَصِیَامُ سِتَّۃِ اَیَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، فَذٰلِکَ تَمَامُ صِیَامِ السَّنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۷۶)
۔ مولائے رسول سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ماہِ رمضان کے روزے رکھے گا تو یہ ایک ماہ کے روزے (اجر میں) دس مہینوں کے روزوں کے برابر جائیں گے، پھر جس نے عبد الفطر کے بعد (شوال کے) چھ روزے رکھے تو یہ سارا عمل سال بھر کے روزوں کے برابر ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3661

۔ (۳۶۶۱) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا،یُصَلِّی الْخَمْسَ وَیَصُوْمُ رَمَضَانَ غُفِرَ لَہُ۔)) قُلْتُ: اَفَلَا اُبَشِّرُہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((دَعْہُمْ یَعْمَلُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۷۸)
۔ سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایاہوتا اور پانچ نمازوں کا پابند ہوتا ہے اور اور ماہِ رمضان کے روزے بھی رکھتا ہے تواس کو بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ بیان کر کے خوشخبری نہ دے دوں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھوڑدو ان کو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3662

۔ (۳۶۶۲) عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِی عَرِیْفٌ مِنْ عُرَفَائِ قُرَیْشٍ حَدَّثَنِیْ اَبِی اَنَّہُ سَمِعَ مِنْ فَلْقِ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَامَ رَمَضَانُ وَشَوَّالًا وَالْاَرْبِعَائَ وَالْخَمِیْسَ وَالْجُمُعَۃَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۳)
۔ ایک قریشی سردار کے باپ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے یہ کلمات سنے تھے: جس نے رمضان اور شوال کے مہینوں اور پھر بدھ، جمعرات اور جمعہ کے ر وزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3663

۔ (۳۶۶۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ عَنِ الْاَعْرَابِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ یُذْہِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۵۸)
۔ ایک بدّو بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صبر والے مہینے کے روزے اور ہر ماہ کے تین روزے سینے کے کینے اور وسوسے کو ختم کر دیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3664

۔ (۳۶۶۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: لَمَا حَضَرَ رَمَضَانَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( قَدْ جَائَ کُمْ رَمَضَانُ، شَہْرٌ مُبَارَکٌ، افْتَرضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہُ، تُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ، وَتُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَحِیْمِ، وَتُغَلْقُ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ، فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ شَہْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَہَا فَقَدْ حُرِمَ۔)) (مسند احمد: ۹۴۹۳)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان شروع ہو چکا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس ماہ کے روزے فرض کئے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزارمہینوں سے بھی افضل ہے، جو اس رات کی برکت سے محروم رہا، وہ محروم قرار پائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3665

۔ (۳۶۶۵) عَنْ عَرْفَجَۃَ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ عُتْبَۃَ بْنِ فَرْقَدٍ، وَہُوَ یُحَدِّثُ عَنْ رَمَضَانَ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَآہُ عُتْبَۃُ ہَابَہُ فَسَکَتَ، قَالَ: فَحَدِّثْ عَنْ رَمَضَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فِی رَمَضَانَ تُغْلَقُ اَبْوَابُ النَّارِ وَتُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ، وَتُصَفَّدُ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ قَالَ: وَیُنَادِی فِیْہِ مَلَکٌ: یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ! اَبْشِرْ، وَیَا بَاغِیَ الشَّرِّ! اَقْصِرْ، حَتّٰییَنْقَضِیَ رَمَضَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۰۲)
۔ عرفجہ کہتے ہیں: میں عتبہ بن فرقد کی مجلس میں موجود تھا، وہ ماہِ رمضان کے حوالے سے بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لے آئے، جب عتبہ نے انہیں دیکھا تو وہ مرعوب ہو کر خاموش ہو گئے اور کہا: آپ ماہِ رمضان کے بارے میں بیان کریں، اس صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ماہِ رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو مقید کر دیا جاتا ہے اور اس ماہ ایک فرشتہ یہ آواز دیتا رہتا ہے: اے نیکی کے متلاشی! خوش ہو جا اور اے برائی کو چاہنے والے! اب تو باز آ جا، یہاں تک رمضان گزر جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3666

۔ (۳۶۶۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَجْوَدَ النَّاسِ، وَکَانَ اَجْوَدَ مَا یَکُوْنُ فِی رَمَضَانَ حِیْنَیَلْقٰی جِبْرِیْلَ، وَکَانَ جِبْرِیْلُیَلْقَاہُ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ فَیُدَارِسُہُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَلَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَاَجْوَدُبِاْلخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ویسے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ہی سہی، لیکن جب ماہِ رمضان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ملاقات جبریل علیہ السلام سے ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ماہِ رمضان کی ہر رات کو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھیجی ہوئی ہوا سے بھی بڑھ کر مال کی سخاوت کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3667

۔ (۳۶۶۷) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((اُعْطِیَتْ اُمَّتِی خَمْسَ خِصَالٍ فِی رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَہَا اَمَّۃٌ قَبْلَہُمْ، خُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَتَسْتَغْفِرُ لَہُمْ الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰییُفْطِرُوْا وَیُزَیِّنُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ کُلَّ یَوْمٍ جَنَّۃً، ثُمَّ یَقُوْلُ: یَوشِکُ عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ اَنْ یُلْقُوْا عَنْہُمْ الْمَئُوْنَۃَ وَالْاَذٰی وَیَصِیْرُوا إِلَیْکِ، وَیُصَفَّدُ فِیْہِ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ، فَلَا یَخْلُصُوا إِلَی مَا کَانُوْا یَخْلُصُوْنَ فِی غَیْرِہِ، وَیَغْفِرُلہَمُ ْفیِ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَہِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا یُوَفّٰی اَجْرَہُ إِذَا قَضٰی عَمَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کو ماہِ رمضان میں پانچ ایسی خوبیاںدی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں تھیں، ان کی تفصیلیہ ہے: (۱)روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے، (۲)روزہ افطار کرنے تک فرشتے ان کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں، (۳) اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزین کرتا ہے اور اس سے فرماتا ہے:قریب ہے کہ میرے نیک بندے اپنی مشقتوں اور تکلیفوں سے دست بردار ہو کر تیری طرف آ جائیں، (۴) اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور جس طرح وہ عام دنوں میں کارروائیاںکرتے ہیں، اس مہینے میں نہیں کر سکتے، اور (۵) اللہ تعالیٰ اس مہینے کی آخری رات میں میری امت کو بخش دیتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب ِ قدر ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، بات یہ ہے کہ مزدور کو اس وقت مزدوری دی جاتی ہے، جو وہ اپنا کام پورا کر لیتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3668

۔ (۳۶۶۸) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَیْہِ رَمَضَانُ فَانْسَلَحَ قَبْلَ اَنْ یُغْفَرَ لَہُ)) (مسند احمد: ۷۴۴۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جائے، جس نے ماہِ رمضان کو پایا، لیکنیہ مہینہ اس کی بخشش سے پہلے گزر گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3669

۔ (۳۶۶۹) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِکْ لَنَا فِی رَمَضَانَ۔)) وَکَانَ یَقُوْلُ: ((لَیْلَۃُ الْجُمُعَۃِ غَرَّائُ وَیَوْمُہَا اَزْہَرُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۶)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ماہِ رجب شروع ہوتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت فرما اور ہمارے لیے رمضان کو مبارک بنا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے: جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمک دار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3670

۔ (۳۶۷۰) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِمَحْلُوْف رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا اَتٰی عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ شَہْرٌ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَا اَتٰی عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ شَہْرٌ شَرٌّ لَہُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَذٰلِکَ لِمَا یُعِدُّ الْمُؤْمِنُوْنَ فِیْہِ مِنَ الْقُوَّۃِ لِلْعِبَادَۃِ، وَمَا یُعِدُّ فِیْہِ الْمُنَافِقُوْنَ مِنْ غَفَلَاتِ النَّاسِ وَعَوْرَاتِہِمْ، ہُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ یَغْتَنِمُہُ الْفَاجِرُ۔)) (مسند احمد: ۸۳۵۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس چیز کی قسم اٹھائی، اسی کی قسم! مسلمانوں کے لئے ماہِ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور منافقین کے لئے اس سے زیادہ برا مہینہ کوئی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل ایمان اس مہینے میں عبادت کے لئے قوت تیار کرتے ہیں، جبکہ منافق اس ماہ میں لوگوں کے عیوب اور کوتاہیاں ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتے ہیں،یہ مہینہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لئے بھی فرصت کا موقع ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3671

۔ (۳۶۷۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( اَظَلَّکُمْ شَہْرُ کُمْ ھٰذَا بِمَحْلُوْفِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا مَرَّ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شَہْرٌ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْہُ وَلَا بِالْمُنَافِقِیْنَ شَہْرٌ شَرٌ لَہُمْ مِنْہُ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَکْتُبُ اَجْرَہُ وَنَوَافِلَہُ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُدْخِلَہُ، وَیَکْتُبُ إِصْرَہُ وَشَقَائَ ُہ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُدْخِلَہُ وَذَاکَ اَنَّ الْمُؤْمِنَ یُعِدُّ فِیْہِ الْقُوَّۃَ لِلْعِبَادَۃِ مِنَ النَّفَقَۃِ، وَیُعِدُّ الْمُنَافِقُ اِبْتِغَائَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَعَوْرَاتِہِمْ، فَہُوَغُنْمٌ لِلْمُؤْمِنُ، یَغْتَنِمُہُ الْفَاجِرُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۹۳)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رسول اللہ کی قسم اٹھائی ہوئی چیز کی قسم! تمہارے اوپر یہ مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے، اہل ایمان کے لئے اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور اہل نفاق کے لئے اس سے زیادہ برا کوئی مہینہ نہیں، اللہ تعالیٰ اس مہینہ کی آمد سے پہلے ہی اس کا اور اس کے نوافل کا ثواب بھی لکھ دیتا ہے اور اس کے گناہ، سزا اور بدبختی بھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن اس میں عبادت کرنے کے لیے نفقہ کی قوت تیار کرتا ہے اور منافق لوگوں کی غفلت اور عیوب تلاش کرتا رہتاہے، اس طرح یہ ماہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لیے بھی غنیمت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3672

۔ (۳۶۷۲) عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ الْخَضْرَمِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ فَرَضَہُنَّ اللّٰہُ فِی الإِسْلَامِ، فَمَنْ جَائَ بِثَلَاثٍ لَمْ یُغْنِیْنَ عَنْہُ شَیْئًا ،حَتّٰییَاْتِیَ بِہِنَّ جَمِیْعًا، اَلصَّلَاۃُ وَالزَّکَاۃُ، وَصِیَامُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَیْتِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۴۲)
۔ سیدنا زیاد بن نعیم خضرمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسلام میں چار امور فرض کیے ہیں، جو آدمی ان میں سے تین پر عمل کرتا ہے، تووہ اسے اس وقت تک کفایت نہیں کریں گے، جب تک وہ ان سب پر عمل نہیں کرے گا، (وہ چار امور یہ ہیں:) نماز، زکوٰۃ، ماہِ رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3673

۔ (۳۶۷۳) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: اُحِیْلَتِ الصَّلَاۃُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ وَاُحِیْلَ الصِّیَامُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ، فَاَمَّا اَحْوَالُ الصَّلَاۃِ فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ وَہُوَ یُصَلِّیْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ (الْحَدِیْثَ) قَالَ: وَاَمَا اَحْوَالُ الصِّیَامِ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ فَجَعَل یَصُوْمُ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، وَقَالَیَزِیْدُ: فَصَامَ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا مِنْ رَبِیْعِ الْاَوَّلِ إِلَی رَمَضَانَ، مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، وَصَامَ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ عَلَیْہِ الصِّیَامَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (إِلٰی ھٰذِہِ الآیَۃِ) وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} قَالَ: فَکَانَ مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ اَطْعَمَ مِسْکِیْنًا فَاَجْزَأَ ذَالِکَ عَنْہُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَنْزَلَ اْلآیَۃَ الْاُخْرٰی: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ (إِلٰی قَوْلِہِ) فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} فَاَثْبَتَ اللّٰہُ صِیَامَہُ عَلَی الْمُقِیْمِ الصَّحِیْحِ، وَرَخَّصَ فِیْہِ لِلْمَرِیْضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الإِطْعَامَ لِلْکَبِیْرِ الَّذِی لَایَسْتَطِیْعُ الصِّیَامَ فَھٰذَانِ حَالَانِ، قَالَ: وَکَانُوْا یَاْکُلُوْنَ وَیَشْرَبُوْنَ، وَیَاْتُوْنَ النِّسَائَ مَالَمْ یَنَامُوْا فَإِذَا نَامُوْا اِمْتَنَعُوْا، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ صِرْمَۃُ، ظَلَّ یَعْمَلُ صَائِمًا حَتّٰی اَمْسٰی فَجَائَ إِلٰی اَہْلِہِ فَصَلَّی الْعِشَائَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ یَاْکُلْ، وَلَمْ یَشْرَبْ حَتّٰی اَصْبَحَ فَاَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: فَرَآہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ جَہِدَ جَہْدًا شَدِیْدًا، قَالَ: ((مَالِیْ اَرَاکَ قَدْ جَہِدْتَّ جَہْدًا شَدِیْدًا؟)) قَالَ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی عَمِلْتُ اَمْسِ فَجِئْتُ حِیْنَ جِئْتُ فَاَلْقَیْتُ نَفْسِی فَنِمْتُ وَاَصْبَحْتُ حِیْنَ اَصْبَحْتُ صَائِمًا، قَالَ: وَکَانَ عُمَرُ قَدْ اَصَابَ مِنَ النِّسَائِ مِنْ جَارِیَۃٍ اَوْ مِنْ حُرْۃٍ بَعْدَ مَانَامَ، وَاَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَذَکَرَذَالِکَلَہُفَاَنْزَلَاللّٰہُعَزَّوَجَّلَ: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلَی نِسَائِکُمْ (إِلٰی قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ) ثُمَّاَتِمُّوْاالصِّیامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (مسند احمد: ۲۲۴۷۵)
۔ سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین مراحل میں نماز کی فرضیت اور تین مراحل میں ہی روزے کی فرضیت ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سترہ ماہ تک بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے، …… (کتاب الصلاۃ میں مکمل حدیث گزر چکی ہے) روزے کے مراحل یہ ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے، یزید راوی کہتا ہے: ربیع الاول سے لے کر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت تک کل سترہ ماہ کے دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے رہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس محرم کا روزہ بھی رکھا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَآمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جائو۔ )نیز فرمایا: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزہ کا یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے، یہ دو حالتیں ہو گئیں، تیسری حالت یہ تھی کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے تک کھا پی سکتے تھے اور بیویوں سے ہم بستری کر سکتے تھے تھے، لیکن جب نیند آ جاتی تو اس کے بعد یہ سب کچھ ان کے لئے ممنوع قرار پاتا تھا، ایک دن یوں ہوا کہ ایک صرمہ نامی انصاری صحابی روزے کی حالت میں سارا دن کام کرتا رہا، جب شام ہوئی تو اپنے گھر پہنچا اور عشاء کی نماز پڑھ کر کچھ کھائے پئے بغیر سو گیا،یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور اس طرح اس کا روزہ بھی شروع ہو چکا تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ کافی نڈھال ہوچکا ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا کہ: بہت نڈھال دکھائی دے رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل سارا دن کام کرتا رہا، جب گھر آیا تو ابھی لیٹا ہی تھا کہ سو گیا( اور اس طرح میرے حق میں کھانا پینا حرام ہو گیا اور) جب صبح ہوئی تو میں نے تو روزے کی حالت میں ہی ہونا تھا۔ اُدھر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بھی ایک معاملہ تھا کہ انھوں نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوییا لونڈی سے ہم بستری کر لی تھی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر ساری بات بتلا دی تھی، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ …… ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (روزے کی راتوںمیں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3674

۔ (۳۶۷۴) عَنْ النَّضْرِ بْنِ شَیْبَانَ قَالَ: لَقِیْتُ اَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ (یَعْنِی ابْنَ عَوْفٍ) قُلْتُ: حَدِّثْنِیْ عَنْ شَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ اَبِیْکَ سَمِعَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی شَہْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: نَعَمْ حَدَّثَنِیْ اَبِی عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ صِیَامَ رَمَضَانَ وَسَنَنْتُ قِیَامَہُ، فَمَنْ صَامَہُ وَقَامَہُ اِحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ الذُّنُوْبِ کَیَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۰)
۔ نضر بن شیبان کہتے ہیں:میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے ملا اور ان سے کہا: مجھے ماہِ رمضان کے بارے کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو تم نے اپنے والد سے سنی ہو اور انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہو، انھوں نے کہا: جی ہاں، میرے باپ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ماہِ رمضان کے روزے فرض کئے ہیں اور میں رمضان کے قیام کو مسنون قرار دیتاہوں، جو کوئی اجر و ثواب کے حصول کی خاطر اس مہینے کے روزے رکھے گا اور اس کا قیام کرے گا تو وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو جائے گا، جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3675

۔ (۳۶۷۵) عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الصَّوْمُ؟ قَالَ: ((قَرْضٌ مَجْزِیٌّ)) (مسند احمد: ۲۱۶۹۲)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! روزہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ قرض ہے، جس کا بدلہ دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3676

۔ (۳۶۷۶) عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ ھٰذِہِ الْاَہِلَّۃَ مَوَاقِیْتَ لِلنَّاسِ، صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَتِمُّوا الْعِدَّۃَ)) (مسند احمد: ۱۶۴۰۳)
۔ سیدناطلق بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اس چاند کو لوگوں کے اوقات کی علامت بنایا ہے، لہٰذا چاند دیکھ کر روزے شروع کیا کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے چھوڑا کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس کی گنتی پوری کرلو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3677

۔ (۳۶۷۷) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمُ الشَّہْرُ، فَاَکْمِلُوْا العِدَّۃَ ثَلَاثِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۹۴۵۳)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے ترک کیا کرو، ہاں اگر بادل کی وجہ سے چاند دکھائی نہ دے تو تیس کی گنتی پوری کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3678

۔ (۳۶۷۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۸۰)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3679

۔ (۳۶۷۹) عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ: اَہْلَلْنَا ہِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، قَالَ: فَاَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْاَلُہُ فََسَاَلَہُ قَالَ ہَاشِمٌ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ قَدْ مَدَّ رُؤْیَتَہُ قَالَ: ہَاشِمٌ لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ اُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَاَکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۳۰۲۱)
۔ ابو بختری کہتے ہیں: ہم نے ذات ِ عرق کے مقام پر رمضان کا چاند دیکھا، پھر ہم نے ایک آدمی کو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اس کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، جب اس نے سوال کیا: ہاشم کہتے ہیں تو سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰنے اس کی رؤیت کو لمبا کر دیا ہے، اگر بادل ہوں تو (شعبان) کی گنتی پوری کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3680

۔ (۳۶۸۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : عَجِبْتُ مِمَّنْ یَتَقَدَّمُ الشَّہْرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ، اَوْ قَالَ: صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۱)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع کر دیتا ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ: اس وقت تک روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3681

۔ (۳۶۸۱) عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا َتقَدَّمُوْا الشَّہْرَ حَتّٰی تُکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ اَوْ تَرَوُا الْہِلَالَ وَصُوْمُوْا ولَا تُفْطِرُوْا حَتّٰی تُکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ اَوْ تَرَوُا الْہِلَالَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۳۱)
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزے رکھنا شروع نہ کرو، بلکہ اس وقت روزہ رکھو جب سابقہ مہینے کی گنتی پوری ہو جائے یا چاند نظر آ جائے، پھر روزے جاری رکھو، یہاں تک کہ رمضان کی گنتی پوری کر لو یا چاند دیکھ لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3682

۔ (۳۶۸۲) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنَّمَا الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ، فَلَا تَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ وَلَا تُفْطِرُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوْا لَہُ۔)) قَالَ نَافِعٌ: فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ(یَعْنِی ابْنَ عَمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) إِذَا مَضٰی مِنْ شَعْبَانَ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ یَبْعَثُ مَنْ یَنْظُرُ، فَإِنْ رُئِ یَ فَذَاکَ، وَإِنْ لَمْ یُرَ وَلَمْ یَحُلْ دُوْنَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ اَوْقَتَرٌ، أَصْبَحَ مُفْطِرًا وَإِنْ حَالَ دُوْنَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ اَوْ قَتَرٌ اَصْبَحَ صَائِمًا۔ (مسند احمد: ۴۴۸۸)
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہینہ تو (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے،لیکن تم اس وقت تک ماہِ رمضان کا روزہ نہ رکھو، جب تک چاند کو نہ دیکھ لو، پھر اس وقت تک روزہ ترک نہ کرو، جب تک (شوال کا) چاند نظر نہ آ جائے، اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا معمول یہ تھا کہ جب شعبان کی (۲۹) تاریخ ہوتی تو وہ چاند دیکھنے کے لیے بعض افراد کو بھیجتے،اگر چاند نظر آ جاتا تو بہتر، اور اگر چاند نظر نہ آتا اور کوئی بادل اور غبار وغیرہ بھی نہ ہوتا تو وہ اگلے دن کا روزہ نہ رکھتے، لیکن اگر مطلع غبار آلود یا بادل والا ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3683

۔ (۳۶۸۳) عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : قَالَ رَسُوْلُ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ)) وَصَفَّقَ بِیَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ، ثُمَّ صَفَّقَ الثَّالِثَۃَ وَقَبَضَ إِبْہَامَہُ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِعَائِشَۃَ) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا غَفَرَ اللّٰہُ لِاَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: إِنَّہُ وَہِلَ، إِنَّمَا ہَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَ ہُ شَہْرًا، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِیْنَ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّکَ نَزَلْتَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِیْنَ، فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّہْرَ یَکُوْنُ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۸۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہینہ (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سمجھانے کے لئے دو دفعہ ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا اور تیسری دفعہ انگوٹھا بند کر لیا۔ایک روایت میں ہے: جب لوگوں نے یہ بات سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بیان کی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو معاف فرمائے، ان کو مغالطہ لر گیا ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ماہ کے لئے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کی تھی، آپ (۲۹)ویں دن (بالا خانے سے) نیچے تشریف لے، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو انیتسیویں دن نیچے تشریف لے آئے ہیں، (حالانکہ آپ نے تو ایک ماہ کے لیے علیحدگی اختیار کی تھی)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشکیہ مہینہ (۲۹) دنوں کا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3684

۔ (۳۶۸۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّا اُمَّۃٌ اُمِّیَّۃٌ لَانَکْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّہْرُ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) وَعَقَدَ الإِبْہَامَ فِی الثَّالِثَۃِ، ((وَالشَّہْرُ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) یَعْنِی تَمَامَ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۵۰۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایک اُمِّیْ امت ہیں،ہم لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا جانتے ہیں، مہینہ اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور اتنوں کا اور اتنوں کا۔ تیسری مرتبہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا، (یعنی۲۹ دنوں کا)۔ پھر فرمایا: مہینہ اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور اتنوں کا اور اتنوں کا۔ یعنی پورے (۳۰) دنوں کا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3685

۔ (۳۶۸۵) عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صُومُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَاَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُ سَحَابٌ فَکَمِّلُوْا الْعِدَّۃَ ثَلَاثِیْنَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوْا الشَّہْرَ اسْتِقْبَالاً۔)) قَالَ حَاتِمٌ: یَعْنِی عِدَّۃَ شُعْبَانَ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے چھوڑا کرو، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو سابقہ ماہ کی (تیس کی) گنتی پوری کر لیا کرو، اور (ماہِ رمضان کی آمد سے) بالکل پہلے روزے نہ رکھا کرو۔ حاتم راوی کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ شعبان کی گنتی پوری کی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3686

۔ (۳۶۸۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، مِثْلُہُ وَفِیْہِ:)فَإِنْ حَالَ دُوْنَہُ غَیَابَۃٌ، فَاَکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ، وَالشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ۔)) یَعْنِی اَنَّہُ نَاقِصٌ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۵)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: اگر تمہارے اور چاند کے درمیان کوئی بدلی حائل ہو جائے تو گنتی پوری کر لیا کرو اور مہینہ (۲۹) دن کا بھی ہوتا ہے۔ یعنی تیس (۳۰) سے ایک دن کم کا بھی ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3687

۔ (۳۶۸۷) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَحَفَّظُ مِنْ ہِلَالِ شَعْبَانَ مَالَا یَتَحَفَّظُ مِنْ غَیْرِہِ، ثُمَّ یَصُوْمُ بِرُؤْیَۃِ رَمَضَانَ، فَإِنَّ غُمَّ عَلَیْہِ عَدَّ ثَلَاثَیْنَیَوْمًا ثُمَّ صَامَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۷۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شعبان کے چاند کا جس قدر خیال رکھتے تھے، اتنا کسی دوسرے مہینہ کے چاند کا نہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کا چاند نظر آ جاتا تو روزہ رکھنا شروع کر دیتے اور اگر مطلع ابر آلود ہوتا تو (شعبان) کی تیس دنوں کی گنتی پوری کر لیتے، اور پھر روزہ شروع کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3688

۔ (۳۶۸۸) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَارَاَیْتُمْ الْہِلَالَ فَصُوْمُوْا، وَإِذَا رَاَیْتُمُوْہُ فَاَفْطِرُوْا فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ، فَصُوْمُوْا ثَلَاثِیْنَیَوْمًا)) (مسند احمد: ۷۵۰۷)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا چھوڑا کرو اور اگر چاند دکھائی نہ دے تو تیس روزے پورے کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3689

۔ (۳۶۸۹) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ إِلَّا اَنَّہُ قَالَ: ((فَعُدُّوْا ثَلَاثِیْنَیَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۸۰)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سابق حدیث کی طرح ایک حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ: اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن شمار کر لیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3690

۔ (۳۶۹۰) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لَاتَقَدَّمُوْا الشَّہْرَ بِیَوْمٍ وَلَا یَوْمَیْنِ، إِلَّا اَنْ یُوَافِقَ اَحَدُکُمْ صَوْمًا کَانَ یَصُوْمُہُ صَوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَاَفْطِرُوْا الِرُؤْیَتِہِ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَتِمُّوْا ثَلَاثِیْنَیَوْمًا، ثُمَّ اَفْطِرُوْا)) (مسند احمد: ۱۰۴۵۵)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو روزے مت رکھو، ہاں اگر کوئی ایسا دن آ جائے جس میں تم میں سے کوئی آدمی روزہ رکھا کرتا ہو تو وہ روزہ رکھ لے، چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو، اگر فضا ابر آلود ہو تو تیس دن پورے کر کے روزہ ترک کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3691

۔ (۳۶۹۱) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقَدَّمُوْا بَیْنَیَدَیْ رَمَضَانَ بِیَوْمٍ وَلَایَوْمَیْنِ إِلَّارَجُلًا کَانَ یَصُوْمُ صَوْمًا فَلْیَصُمْہُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۹۹)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رمضان سے پہلے ایک دو دنوں کے روزے نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی کسی متعین دن کا روزہ رکھتا ہو تو وہ روزہ رکھ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3692

۔ (۳۶۹۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِی مُوْسٰی قَالَ: سَاَلْتُ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ الْیَوْمِ الَّذِییُخْتَلَفُ فِیْہِ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَتْ: لَاَنْ اَصُوْمَ یَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ اَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ اَنْ اُفْطِرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَسَاَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا قَالَ: اَزْوَاجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْلَمُ بِذَاکَ مِنَّا۔ (مسند احمد: ۲۵۴۵۸)
۔ عبد اللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ماہِ رمضان کے مشکوک دن میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا ؟انہوں نے کہا: شعبان کا ایک روزہ رکھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں رمضان کا ایک روزہ ترک کر دوں۔ میں یہ سن کر وہاں سے نکل پڑا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا ابوہریرہ سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں ان امور کو زیادہ جانتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3693

۔ (۳۶۹۳) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّہُ خَطَبَ فِی الْیَوْمِ الَّذِییُشَکُّ فِیْہِ، فَقَالَ: اَلَا إِنِّی قَدْ جَالَسْتُ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَأَلْتُہُمْ، اَلَا وَإِنَّہُمْ حَدَّثُوْنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَانْسُکُوْا لَہَا، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَتِمُّوْا ثَلَاثِیْنَ، وَاِنْ شَھِدَ شَاہِدَانِ مُسْلِمَانِ، فَصُوْمُوا وَاَفْطِرُوْا)) (مسند احمد: ۱۹۱۰۱)
۔ عبد الرحمن بن زید بن خطاب کہتے ہیں: میں نے ایسے دن میں خطبہ دیا کہ جس کے بارے میں یہ شک کیا جا رہا تھا کہ (وہ شعبان کا ہے یا رمضان کا)، میں نے کہا: میں صحابۂ کرام کے ساتھ بیٹھا ہوں اور ان سے سوالات کیے ہیں، انہوںنے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو اور اسی کے حساب سے دوسری عبادات ادا کرو، اگر کسی وجہ سے چاند چھپ جائے، تو تیس دن پورے کر لو اور اگر دو مسلمان چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کی گواہی دے دیں تو اس بنیاد پر روزہ رکھنا شروع کر دو اور ترک کردو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3694

۔ (۳۶۹۴) عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَصْبَحَ النَّاسُ لِتَمَامِ ثَلَاثِیْنَیَوْمًا، فَجَائَ اَعْرَابِیَّانِ فَشَہِدَا اَنَّہُمَا اَہَلاَّہُ بِالاَمْسِ عَشِیَّۃً، فَاَمَر رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّاسَ اَنْ یُفْطِرُوْا۔ (مسند احمد: ۱۹۰۲۹)
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ لوگوں نے رمضان کی تیس تاریخ کو روزے کی حالت میں صبح کی، اتنے میں دو بدّو آئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، اس بنا پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو اسی وقت روزہ افطار کرنے کا حکم دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3695

۔ (۳۶۹۵) عَنْ اَبِی عُمَیْرِ بْنِ اَنَسَ حَدَّثَنِی عُمُوْمَۃٌ لِیْ مِنَ الْاَنْصَارِ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: غُمَّ عَلَیْنَا ہِلَالُ شَوَّالٍ فَاَصْبَحْنَا صِیَامًا، فَجَائَ رَکْبٌ مِنْ آخِرِ النَّہَارِ فَشَہِدُوْا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُمْ رَاَوُ الْہِلَالَ بِالْاَمْسِ، فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُفْطِرُوْا مِنْ یَوْمِہِمْ وَاَنْ یَخْرُجُوْا لِعِیْدِہِمْ مِنَ الْغَدِ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۶۰)
۔ ابو عمیر بن انس کہتے ہیں: مجھے میرے انصاری چچوں، جو کہ صحابہ میں سے تھے، نے بیان کیاکہ (۲۹ رمضان کو) ان کو شوال کا چاند نظر نہ آیا، اس لیے لوگوں نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر دن کے پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور اگلے دن عید کے لیے نکلیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3696

۔ (۲۶۹۶) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ عُمُوْمَہً لَہُ شَہِدُوا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی رُؤْیَۃِ الْہِلَالِ، فَاَمَرَ النَّاسَ اَنْ یُفْطِرُوْا وَاَنْ یَخْرُجُوْا لِعِیْدِہِمْ مِنَ الْغَدِ۔ (مسند احمد:۱۴۰۱۹)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کے چچوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چاند نظر آ جانے کی گواہی دی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور کل کو عید کے لیے نکلیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3697

۔ (۳۶۹۷) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِی لَیْلٰی قَالَ: کُنْتُ مَعَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّی رَاَیْتُ الْہِلَالَ ہِلَالَ شَوَّالٍ۔ فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَااَیُّہَا النَّاسُ اَفْطِرُوْا۔ (مسند احمد: ۱۹۳)
۔ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے کل شوال کا چاند دیکھ لیا تھا، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! روزہ توڑ دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3698

۔ (۳۶۹۸) عَنْ کُرَیْبٍ اَنَّ اُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْہُ إِلٰی مُعَاوِیَۃَ بِالشَّامِ قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَیْتُ حَاجَتَہَا وَاسْتُہِلَّ عَلَیَّ رَمَضَانُ وَاَنَا بِالشَّامِ فَرَاَیْنَا الْہِلَالَ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فِی آخِرِ الشَّہْرِ، فَسَاَلَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ثُمَّ ذَکَرَ الْہِلاَلَ فَقَالَ: مَتٰی رَاَیْتُمُوْہُ؟ فَقُلْتُ: رَاَیْنَا لَیْلَۃَ الْجُمْعَۃِ، فَقَالَ: اَنْتَ رَاَیْتَہُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآہُ النَّاسُ وَصَامُوْا وَصَامَ مُعَاوِیَۃُ، فَقَالَ: لٰکِنَّا رَاَیْنَاہُ لَیْلَۃَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُوْمُ حَتّٰی نُکْمِلَ ثَلَاثِیْنَ اَوْ نَرَاہُ فَقُلْتُ: اَوَلَاتَکْتَفِیْ بِرُؤْیَۃِ مُعَاوِیَۃِ وَصِیَامِہِ؟ فَقَالَ: لَا، ہٰکَذَا اَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۹)
۔ کریب کہتے ہیں: سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف شام میں بھیجا، میں وہیں تھا کہ ماہِ رمضان کا چاند نظرآ گیا، ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا تھا، میں اسی مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ واپس آ گیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کچھ امور کے بارے میں پوچھا اور پھر چاند کا ذکر ہونے لگا، انھوں نے مجھ سے کہا: تم نے کب چاند دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انھوں نے کہا: تو نے خود بھی دیکھا تھا، میں نے کہا: جی ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا تھا، پھر سب لوگوں نے اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روزہ رکھا تھا۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: لیکن ہم نے ہفتہ کی شام کو دیکھا تھا، اس لیےہم تو روزہ رکھتے رہیں گے، یہاں تک تیس دن پورے ہو جائیںیا چاند نظر آ جائے، میں نے کہا: کیا آپ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رؤیت اور روزے کو معتبر نہیںسمجھیں گے؟ انھوں نے کہا: یہ بات نہیں ہے، اصل میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3699

۔ (۳۶۹۹) عَنْ ابْنِ عَبَّاسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ جِبْرِیْلَ علیہ السلام اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((تَمَّ الشَّہْرُ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۵)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور فرمایا: یہ مہینہ (۲۹) دن کا پورا ہوچکا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3700

۔ (۳۷۰۰) عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قِیْلَ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ رُؤِیَ ھٰذَا الشَّہْرُ لِتِسْعٍ وَّعِشْرِیْنَ، قَالَتْ: وَمَا یُعْجِبُکُمْ مِنْ ذَاکَ؟ لَمَا صُمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ اَکْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۲۳)
۔ سعید کہتے ہیں: کسی نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: اے ام المومنین! اس ماہ کا چاند تو (۲۹) تاریخ کو نظر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: تمہیں اس پر تعجب کیوں ہو رہا ہے؟ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جو روزے رکھے، ان میں (۳۰) ایام کی بہ نسبت (۲۹) دن والے رمضان کے مہینے زیادہ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3701

۔ (۳۷۰۱) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَا صُمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ اَکْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَہُ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۳۷۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جو روزے رکھے، ان میں (۳۰) دنوں کی بہ نسبت (۲۹) ایام والے رمضان کے مہینے زیادہ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3702

۔ (۳۷۰۲) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِی بَکْرَۃٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((شَہْرَانِ لَایَنْقُصَانِ، فِی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عِیْدٌ، رَمَضَانُ وَذُوْالحْجِۃَّ)) (مسند احمد: ۲۰۷۵۹)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو مہینے ناقص نہیں ہوتے، ان میں سے ہر ایک میں عید ہوتی ہے، وہ رمضان اور ذوالحجہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3703

۔ (۳۷۰۳) عَنْ حَفْصَۃَ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ لَمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ مَعَ الْفَجْرِ فَلَا صِیَامَ لہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۸۹)
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے فجر کے ساتھ روزے کی نیت نہیں کی، اس کا کوئی روزہ نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3704

۔ (۳۷۰۴) عَنْ عَائِشَہَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عنَ ْعاَئِشَہَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَاْتِیَہَا وَہُوَ صَائِمٌ، فَیَقُوْلُ: ((اَصْبَحَ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ تُطْعِمُوْنِیْہِ؟)) فَتَقُوْلُ: لاَ، مَا اَصْبَحَ عِنْدَنَا شَیْئٌ کَذَاکَ، فَیَقُوْلُ: ((إِنِّی صَائْمٌ۔)) ثُمَّ جَاَء َہَا بَعْدَ ذَلِکَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ جاَئَ یَوْمًا آخَرَ) فَقَالَتْ: اُہْدِیَتْ لَنَا ہَدِیَّۃٌ فَخَبَأْ نَاہَا لَکَ، قَالَ: ((مَا ہِیَ؟)) قَالَتْ: حَیْسٌ، قَالَ: ((قَدْ اَصْبَحْتُ صَائِمًا۔)) فَاَکَلَ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۲۴)
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں میرے ہاں تشریف لاتے اور پوچھتے: تمہارے ہاں کوئی ایسی چیز ہے جو مجھے کھلا سکو؟ میں کہتی: جی نہیں، ہمارے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: تو پھر میں روزے دار ہوں۔ پھر ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے اور میں نے کہا: ہمیں ایک ہدیہ دیا گیا تھا، ہم نے آپ کے لیے چھپا رکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: حَیْس ہے، (یعنی کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج تو میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھا لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3705

۔ (۳۷۰۵) عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَکْوَانِ قَالَ: سَاَلْتُ الرُّبَیِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَوْمِ عَاشُوْرَائَ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَاشُوْرَائَ: ((مَنْ اَصْبَحَ مِنْکُمْ صَائِمًا؟)) قَالَ: قَالُوْا: مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، قَالَ: ((فَاَتِمُّوا بَقِیَّۃَیَوْمِکُمْ وَاَرْسِلُوْا إِلٰی مَنْ حَوْلَ الْمَدِیْنَۃِ فَلْیُتِمُّوْا بَقِیَّۃَیَوْمِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۶۶)
۔ خالد بن ذکوان کہتے ہیں: میں نے سیدہ ربیع بنت معوذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یومِ عاشورکے روزے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عاشوراء کے دن پوچھا تھا: تم میں سے کس کس نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بقیہ دن کا روزہ پورا کرو اور مدینہ منورہ کے گرد و نواح میں بھی اعلان کرا دو کہ وہ بھی بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3706

۔ (۳۷۰۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ رُبَیِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: بعَثَ َرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ قُرَی الْاَنْصَارِ قَالَ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ صَائِمًا فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ وَمَنْ کَانَ اَکَلَ فَلْیَصُمْ بَقِیَّۃَ عَشِیَّۃِیَوْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۶۵)
۔ (دوسری سند) سیدہ ربیع بنت معوذ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کی بستیوں میں یہ اعلان کرنے کے لیے ایک بندے کو بھیجا: جس نے روزہ رکھاہوا ہو، وہ تو اپنا روزہ پورا کرے اور جس نے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ بھی دن کے پچھلے پہر یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3707

۔ (۳۷۰۷) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۸۷۰۱)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گزشتہ حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3708

۔ (۳۷۰۸) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَبِی الْمِنْہَالِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْخُزَاعِیِّ عَنْ عَمِّہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِاَسْلَمَ: ((صُوْمُوا الْیَوْمَ۔)) قَالُوْا: إِنَّا قَدْ اَکَلْنَا قَالَ: ((صُوْمُوْا بَقِیَّۃَیَوْمِکُمْ۔)) یَعْنِییَوْمَ عَاشُوْرَائَ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۹۵)
۔ ا بو منہال عبد الرحمن اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یومِ عاشورا کو بنو اسلم کے قبیلہ کے لوگوں سے فرمایا: آج روزہ رکھو۔ انہوں نے کہا: ہم نے تو کھا پی لیا ہے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بقیہ دن کا روزہ رکھ لو۔

آیت نمبر