Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

7)

7) نجاست کو پاک کرنے کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 405

۔ (۴۰۵)۔ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍؓ قَالَتْ: أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِمْرَأَۃٌ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الْمَرْأَۃُ یُصِیْبُہَا مِنْ دِمِ حَیْضِہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لِتَحُتُّہ ثُمَّ لِتَقْرِصْہُ بِمَائٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ فِیْہِ۔)) (مسند أحمد:۲۷۴۵۹)
سیدہ اسماء بنت ابو بکر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! عورت کو حیض کا خون لگ جاتا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ اس کو کھرچے، پھر پانی کے ساتھ ملے اور پھر اس میں نماز پڑھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 406

۔ (۴۰۶)۔عَنْ أُمِّ قَیْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍؓ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ عَنْ دَمِ الْحَیْضِ یُصِیْبُ الثَّوْبَ فَقَالَ: ((اغْسِلِیْہِ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَحُکِّیْہِ بِضِلَعٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۵۴۲)
سیدہ ام قیس بنت محصن ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کپڑے کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں سوا ل کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوںکے ساتھ دھو اور کسی ہڈی کے ساتھ کھرچ ڈال۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 407

۔ (۴۰۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ خَوْلَۃَ بِنْتَ یَسَارٍؓ أَتَتِ النَّبِیَّ فِیْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَۃٍ فقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَیْسَ لِیْ الِاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِیْضُ فِیْہِ، قَالَ: ((فَاِذَا طَہُرْتِ فَاغْسِلِیْ مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ صَلِّیْ فِیْہِ۔)) قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ لَمْ یَخْرُجْ أَثَرُہُ؟ قَالَ: ((یَکْفِیْکِ الْمَائُ وَلَا یَضُّرُکِ أَثَرُہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۵۲)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ خولہ بنت یسار ؓحج یا عمرہ کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے اور مجھے اسی میں حیض بھی آ جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو پاک ہو جائے تو خون والی جگہ دھو لے اور اسی میں نماز پڑھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اس کااثر ختم نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تجھے پانی کافی ہے اور اس کا (باقی رہ جانے والا) نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 408

۔ (۴۰۸)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِاِبْرَاہِیْمَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَتْ: کُنْتُ أَجُرُّ ذَیلِیْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کُنْتُ اِمْرَأَۃً لِیْ ذَیْلٌ طَوِیْلٌ) وَکُنْتُ آتِی الْمَسْجِدَ فَأَمُرُّ بِالْمَکَانِ الْقَذِِرِ وَالْمَکَانِ الْطَیِّبِ، فَدَخَلْتُ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ فَسَأَلْتُہَا عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُطْہِّرُہُ مَا بَعْدَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۲۱)
ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف کی ام ولد کہتی ہیں: میں اپنے کپڑے کو گھسیٹتی تھی، ایک روایت میں ہے: میں ایسی عورت تھی، جس کا کپڑے کانچلا حصہ لمبا تھا اور جب میں مسجد کی طرف آتی تھی تو ناپاک اور پاک دونوں جگہوں سے گزر کر آتی تھی، پس میں سیدہ ام سلمہ ؓ کے پاس گئی اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بعد والی (پاک) جگہ اس کو پاک کر دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 409

۔ (۴۰۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَیْسٰی عَنْ مُوْسَی بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: وَکَانَ رَجُلَ صِدْقٍ عَن امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِیْ عَبْدِالْأَشْھَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لَنَا طَرِیْقًا اِلَی الْمَسْجِدِ مُنْتِنَۃً، فَکَیْفَ نَصْنَعُ اِذَا مُطِرْنَا؟ قَالَ: ((أَلَیْسَ بَعْدَہَا طَرِیْقٌ ہِیَ أَطْیَبُ مِنْہَا؟۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: ((فَہٰذِہِ بِہٰذِہِ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ: ((اِنَّ ہٰذِہِ تَذْہَبُ بِذٰلِکِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۹۹۹)
موسی بن عبد اللہ ، جو کہ سچائی والا آدمی تھا، بنو عبد ِاشہل کی ایک صحابیہ خاتون سے روایت کرتا ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مسجد کی طرف آنے والا ہمارا راستہ بدبودار ہے، جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا اس کے بعد کوئی پاک راستہ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر یہ راستہ اس کے بدلے ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ پاک راستہ اُس (ناپاک راستے کے اثر) کو ختم کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 410

۔ (۴۱۰)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فَخَلَعَ نعْلَیْہِ فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَہُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَکُمْ؟۔)) فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَأَیْنَاکَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، قَالَ: ((اِنَّ جِبْرِیْلَ أَتَانِیْ فَأَخْبَرَنِیْ أَنَّ بِہِمَا خَبَثًا، فَاِذَا جَائَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیُقَلِّبْ نَعْلَیْہِ فَلْیَنْظُرْ فِیْہِمَا، فَاِنْ رَأَی بِہِمَا خَبَثًا فَلْیَمْسَحْہُ بِالْاََرْضِ ثُمَّ لِیُصَلِّ فِیْہِمَا۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۷۰)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی اور (نماز کے اندر) جوتے اتار دیئے، پس لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہوئے تو پوچھا: تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار دیئے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا، سو ہم نے بھی اتار دیئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جبریلؑ نے میرے پاس آکر مجھے بتلایا کہ ان میرے جوتوں پر نجاست لگی ہوئی ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ لیا کرے، اگر ان میں کوئی نجاست نظر آئے تو اس کو زمین سے صاف کر لے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 411

۔ (۴۱۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِیٌّ الْمَسْجِدَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَالَ: اَللّٰہُمَّ ارْحَمْنِیْ وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَقَدْ تحَجَّرْتَ وَاسِعًا۔))، ثُمَّ لَمْ یَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِی الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ اِلَیْہِ،فقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِیْنَ، أَہْرِیْقُوْا عَلَیْہِ دَلْوًا مِنْ مَائٍ۔)) أَوْ ((سَجْلًا مِنْ مَائٍ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۵۴)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز ادا کر کے یہ دعا کی: اے اللہ! مجھ پر اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تو نے تو وسعت والی چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ پھر جلد ہی اُس بدّو نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا، پس لوگ اس کی طرف لپکے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اُن سے ارشاد فرمایا: صرف اور صرف تم لوگوں کو آسانیاں پیدا کرنے والے بنا کر بھیجا گیا ہے اور تنگیاں پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجا گیا، اس پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 412

۔ (۴۱۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ دَخَلَ أَعْرَابِیٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِمُحَمَّدٍ وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا۔)) ثُمَّ وَلّٰی حَتّٰی اِذَا کَانَ فِیْ نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِفَشَجَ یَبُوْلُ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّمَا بُنِیَ ھٰذَا الْبَیْتُ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃِ وَاِنَّہُ لَا یُبَالُ فِیْہِ۔))، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَائٍ فَأَفْرَغَہُ عَلَیْہِ، قَالَ: یَقُوْلُ الْأَعْرَابِیُّ بَعْدَ أَنْ فَقِہَ: فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیَّ، بأَبِیْ ھُوَ وَأُمِّیْ فَلَمْ یَسُبَّ وَلَمْ یُؤَنِّبْ وَلَمْ یَضْرِبْ۔ (مسند أحمد: ۱۰۵۴۰)
۔ (دوسری سند)ایک بدّو مسجد میں داخل ہوا، جبکہ وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف فرما تھے، اس نے دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! مجھے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بخش دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کو نہ بخش، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسکرا پڑے اور فرمایا: تو نے تو وسیع چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ پھر وہ چل پڑا اور جب مسجد کے ایک کونے میں پہنچا تو ٹانگیں کھلی کر کے پیشاب کرنے لگ گیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور فرمایا: صرف اور صرف اس گھر کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز کے لیے بنایا گیا ہے، اس میں پیشاب نہیں کیا جاتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہا دیا، وہ بدو دین کی سمجھ آنے کے بعد کہتا تھا: پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میری طرف کھڑے ہوئے، میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قربان ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نہ مجھے برا بھلا کہا، نہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کی اور نہ مجھے مارا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 413

۔ (۴۱۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ فَبَالَ فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَہْرِیْقُوْا عَلَیْہِ ذَنُوْبًا أَوْ سَجْـلًا مِنْ مَائٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۰۶)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدّو آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانی کا ایک ڈول اس پر بہاد و۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 414

۔ (۴۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ وَہْلَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: اِنَّا نَغْزُوْ فَنُؤْتٰی بِالْاِہَابِ وَالْأَسْقِیَۃِ، قَالَ: مَا أَدْرِیْ مَا أَقُوْلُ لَکَ اِلَّا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَیُّمَا اِہَابٍ دُبِغَ فقَدْ طَہُرَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۵)
عبد الرحمن بن وہلہ نے سیدنا ابن عباس ؓ سے کہا: بیشک جب ہم جہاد کرتے ہیں تو ہمارے پاس چمڑے اور مشکیزے لائے جاتے ہیں، انھوںنے آگے سے کہا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تجھ سے کیا کہوں، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو چمڑا بھی رنگا جائے، پس تحقیق وہ پاک ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 415

۔ (۴۱۵)۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَنْ یُنْتَفَعَ بِجُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ اِذَا دُبِغَتْ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۵۱)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مردار جانوروں کے چمڑوں سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا، بشرطیکہ اس کو رنگ دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 416

۔ (۴۱۶)۔وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ جُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ فَقَالَ: ((دِبَاغُہَا طَہُوْرُہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۵۷۲۹)
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی روایت ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے مردار کے چمڑوںکے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ان کا رنگنا ان کو پاک کرنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 417

۔ (۴۱۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ سَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: مَاتَتْ شَاۃٌ لَنَا فَدَبَغْنَا مَسْکَہَا فَمَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِیْہِ حَتَّی صَارَ شَنًّا۔ (مسند أحمد: ۲۷۹۶۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجہ ٔ رسول سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓ نے کہا: ہمارے ایک بکری مر گئی تھی، پس ہم نے اس کے چمڑے کو رنگ لیا اور اس میں نبیذ بناتے رہے، یہاں تک کہ وہ بوسیدہ ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 418

۔ (۴۱۸)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِبَیْتٍ بِفِنَائِہِ قِرْبَۃٌ مُعَلَّقَۃٌ فَاسْتَسْقٰی فَقِیْلَ اِنَّہَا مَیْتَۃٌ فَقَالَ: ((ذَکَاۃُ الْأَدِیْمِ دِبَاغُہُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((دِبَاغُہَا طَہُوْرُہَا أَوْ ذَکَاتُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۰۳)
سیدنا سلمہ بن محبقؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک گھر کے پاس سے گزرے، اس گھر کے صحن میں لٹکاہوا ایک مشکیزہ تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی طلب کیا، لیکن کہا گیا کہ یہ تو مردار کا چمڑا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: چمڑے کو پاک کرنا اس کو رنگنا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اس کو رنگنا اس کو پاک کرنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 419

۔ (۴۱۹)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلیِّ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَائٍ فَأَتَیْتُ خِبَائً فَاِذَا فِیْہِ امْرَأَۃٌ أَعْرَابِیَّۃٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: اِنَّ ہَذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُرِیْدُ مَائً یَتَوَضَّأُ، فَھَلْ عِنْدَکِ مِنْ مَائٍ؟ قَالَتْ: بِأَبِیْ وَأُمِّیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَوَاللّٰہِ! مَا تُظِلُّ السَّمَائُ وَلَا تُقِلُّ الْاََرْضُ رُوْحًا أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ رُوْحِہِ وَلَا أَعَزَّ، وَلَکِنَّ ہٰذِہِ الْقِرْبَۃَ مَسْکُ مَیْتَۃٍ وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِہِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَرَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((ارْجِعْ اِلَیْہَا، فَاِنْ کَانَتْ دَبَغَتْہَا فَہِیَ طَہُوْرُہَا۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ اِلَیْہَا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہَا فقَالَتْ: اَیْ وَاللّٰہِ! لَقَدْ دَبَغْتُہَا، فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ مِنْہَا وَعَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ وَعَلَیْہِ خُفَّانِ وَ خِمَارٌ، قَالَ: فَأَدْخَلَ یَدَہُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ، قَالَ: مِنْ ضِیْقِ کُمِّہَا، قَالَ: فتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَی الْخِمَارِ وَالْخُفَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴۱۲)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے پانی کے ساتھ طلب کیا، پس میں ایک خیمہ میں گیا، اس میں ایک بدّو خاتون تھی، میں نے اس سے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہیں اور آپ وضو کرنے کے لیے پانی چاہ رہے ہیں، تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ اس نے کہا:میرے ماں باپ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قربان ہوں، پس اللہ کی قسم! نہ آسمان نے ایسی روح پر سایہ کیا اور نہ زمین نے ایسی روح کو اٹھایا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی روح کی بہ نسبت مجھے محبوب اور معزَّز ہو، لیکن بات یہ ہے کہ یہ مشکیزہ تو مردار کے چمڑے کا ہے اور میں یہ پسند نہیں کروں گی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس کے ذریعے ناپاک کر دوں، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا اور یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اس کی طرف واپس جاؤ، اگر تو اس نے اس کو رنگا تھا تو یہی اس کو پاک کرنا ہے۔ پس میں اس کی طرف لوٹا اور اس کو یہ فرمان بتایا، اس نے کہا: جی اللہ کی قسم! میں نے اس کو رنگا تھا، پس میں پانی لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، اس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شامی جُبّہ زین تن کیا ہوا تھا اور دو موزے بھی پہنے ہوئے اور پگڑی بھی باندھی ہوئی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے جُبّہ کے نیچے سے ہاتھ نکال لیے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 420

۔ (۴۲۰)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ جُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ قَالَ: ((اِنَّ دِبَاغَہُ قَدْ أَذْہَبَ نَجَسَہُ أَوْ رِجْسَہُ أَوْ خَبَثَہُ))(مسند أحمد:۲۸۷۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مردار کے چمڑے کے بارے میں فرمایا: بیشک اس کا رنگنا اس کی نجاست کو ختم کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 421

۔ (۴۲۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ دَاجِنَۃً لِمَیْمُوْنَۃَ (ؓ) مَاتَتْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَلَا اِنْتَفَعْتُمْ بِاِہَابِہَا، اَ لَا دَبَغْتُمُوْہُ فِاِنَّہُ ذَکَاتُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۰۳)
سیدنا ابن عباس ؓ سے ہی مروی ہے کہ سیدہ میمونہ ؓکی پالتو بکری مر گئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا، تم نے اس کو رنگ کیوں نہیں لیا، پس یہی اس کو پاک کرنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 422

۔ (۴۲۲)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ (زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم): أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِشَاۃٍ لِمَوْلَاۃٍ لِمَیْمُوْنَۃَ مَیْتَۃٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا حَرُمَ أَکْلُہَا۔)) قَالَ سُفْیَانُ: ہٰذِہِ الْکَلِمَۃُ لَمْ أَسْمَعْہَا اِلَّا مِنَ الزُّہْرِیِّ ((حَرُمَ أَکْلُہَا۔)) قَالَ أَبِیْ: قَالَ سُفْیَانُ مَرَّتَیْنِ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ۔ (مسند أحمد: ۳۰۱۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کی لونڈی کی مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ امام سفیان نے کہا: میں نے صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ کے الفاظ صرف امام زہری سے سنے ہیں۔ میرے باپ (امام احمد) نے کہا: سفیان نے دو مرتبہ میمونہ کے واسطہ سے حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 423

۔ (۴۲۳)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِشَاۃٍ مَیْتَۃٍ فَقَالَ: ((ہَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِاِہَابِہَا۔)) فقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہا مَیْتَۃٌ، فَقَالَ: ((اِنَّمَا حَرُمَ أَکْلُہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک یہ تو مردار ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 424

۔ (۴۲۴)۔عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرِجَالٍ مِنْ قُرَیْشٍ یَجُرُّوْنَ شَاۃً لَہُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَوْ أَخَذْتُمْ اِہَابَہَا)) قَالُوْا: اِنَّہَا مَیْتَۃٌ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یُطَہِّرُہَا الْمَائُ وَالْقَرَظُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۷۰)
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ کہتی ہے کہ قریش کے چند مردوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا گزر ہوا، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: کاش تم اس کا چمڑا اتار لیتے۔ انھوں نے کہا: یہ تو مردار ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانی اور قرظ اس کو پاک کر دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 425

۔ (۴۲۵)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: مَاتَتْ شَاۃٌ لِسَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَتْ فُلَانَۃٌ تَعْنِیْ شَاۃً، فَقَالَ: ((فَلَوْ لَا أَخَذْتُمْ مَسْکَہَا۔)) فقَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْکَ شَاۃٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِیْمَا أُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ مِیْتَۃً أَوْ دَمًّا مَسْفُوْحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ} فَاِنَّکُمْ لَا تَطْعَمُوْنَہُ، اِنْ تَدْبُغُوْہُ فَتَنْتَفِعُوْا بِہِ۔))،فَأَرْسَلَتْ اِلَیْہَا فَسَلَخَتْ مَسْکَہَا فَدَبَغَتْہُ فَأَخَذَتْ مِنْہُ قِرْبَۃً حَتّٰی تَخَرَّقَتْ عِنْدَہَا۔ (مسند أحمد: ۳۰۲۷)
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓکی بکری مر گئی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں بکری مر گئی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم نے اس کا چمڑا کیوں نہیںاتار لیا۔ انھوں نے کہا: ہم مر جانے والی بکری کا چمڑا کیسے اتار لیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے اس میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لیے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو۔ (سورۂ انعام: ۱۴۵) پس بیشک تم نے اس کے چمڑے کو کھانا تو نہیں ہے، اگر تم اس کو رنگ لو تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ پس انھوں نے کسی بندے کو بھیج کر (اس بکری کو منگوا لیا) اور اس کی کھال اتار لی اور اس کو رنگ کر اس کا مشکیزہ بنا لیا، (پھر وہ اس کو استعمال کرتی رہیں) یہاں تک کہ وہ ان کے پاس ہی پھٹ گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 426

۔ (۴۲۶)۔ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی فِی الْمَسْجِدِ فَأَتٰی رَجُلٌ ضَخْمٌ فَقَالَ: یَا أَبَا عِیْسٰی! قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِی الْفِرَائِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَی رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أُصَلِّی فِی الْفِرَائِ؟ قَالَ: فَأَیْنَ الدِّبَاغُ؟ فَلَمَّا وَلّٰی قُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا سُوَیْدُ بْنُ غَفَلَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۹۲۷۰)
ثابت بن اسلم بنانی کہتے ہیں: میں عبدالرحمن بن ابولیلی کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، پس ایک موٹا سا آدمی آیا اور اس نے کہا: اے ابوعیسی (عبدالرحمن)! انھوں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: تم نے فِرَاء کے بارے جو کچھ سنا ہے، وہ بیان کرو، پس انھوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیامیں فِرَاء میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر رنگنے کا کیا فائدہ ہوا؟ جب وہ چلا گیا تو میں (ثابت) نے کہا: یہ آدمی کون تھا؟ عبد الرحمن نے کہا: یہ سوید بن غفلہ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 427

۔ (۴۲۷)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُکَیْمٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ: أَتَانَا کِتَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَرْضِ جُہَیْنَۃَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ ((أَنْ لَا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ)) (مسند أحمد: ۱۸۹۸۷)
سیدنا عبد اللہ بن عُکَیم جہنی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، (اس خط میں لکھا ہوا تھا:) تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 428

۔ (۴۲۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: کَتَبَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ وفَاتِہِ بِشَہْرٍ ((أَنْ لَا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ)) (مسند أحمد: ۱۸۹۸۹)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ہماری طرف یہ حکم لکھا کہ تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 429

۔ (۴۲۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ قَالَ: اَتَانَا کِتَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَرْضِ جُہَیْنَۃَ قَالَ: وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ قَبْلَ وَفَاتِہٖ بِشَہْرٍ أَوْ شَہْرَیْنِ ((أَنْ لَاتَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۹۰)
۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ایک خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی وفات سے ایک یا دو ماہ پہلے کی بات تھی، اس میں لکھا تھا: تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ حاصل نہ کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 430

۔ (۴۳۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رابع)۔قَالَ: جَائَ نا، أَوْ قَالَ: کَتَبَ اِلَیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَنْ لَّا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۹۱)
۔ (چوتھی سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہماری طرف یہ خط لکھا کہ تم مردار کے چمڑے سے استفادہ نہ کرو اور نہ اس کے پٹھے سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 431

۔ (۴۳۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ)۔ أَنَّہُ قَالَ: قُرِیئَ عَلَیْنَا کِتَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۹۲)
۔ (پانچویں سند) وہ کہتے ہیں: ہم پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا یہ خط پڑھا گیا کہ تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 432

۔ (۴۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا أَھْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی وَالْمَجُوْسِ وَلَا نَجِدُ غَیْرَ آنِیَتِہِمْ، قَالَ: ((فَاِنْ لَمْ تَجِدُوْا غَیْرَہَا فَاغْسِلُوْہَا بِالْمَائِ ثُمَّ کُلُوْا فِیْھَا وَاشْرَبُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۸۵)
سیدنا ابو ثعلبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں اور یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے پاس سے ہمارا گزر ہوتا رہتا ہے اور ہمیں صرف اِن کے ہی برتن مل سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس اگر تمہیں دوسرے برتن نہ مل سکیں تو اِن کو پانی کے ساتھ دھو کر اِن میں کھا پی لیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 433

۔ (۴۳۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ أَرَضَنَا أَرْضُ أَھْلِ کِتَابٍ وَاِنَّہُمْ یَأْکُلُوْنَ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ وَیَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِآنِیَتِہِمْ وَ قُدُوْرِہِمْ؟ قَالَ: ((اِنْ لَمْ تَجِدُوْا غَیْرَہَا فَارْحَضُوْہَا وَاطْبَخُوْا فِیْھَا وَاشْرَبُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۸۹)
۔ (دوسری سند) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارا علاقہ، اہل کتاب کا علاقہ ہے اور وہ خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب بھی پیتے ہیں، اب میں ان کے برتنوں اور ہنڈیوں کے ساتھ کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر تم کو اور برتن نہ ملیں تو اُن کو دھو کر ان میں پکا لیا کرو اور اُن میں پی لیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 434

۔ (۴۳۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کُنَّا نُصِیْبُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ الْأَسْقِیَۃَ وَالْأَوْعِیَۃَ فَنَقْتَسِمُہَا وَکُلُّہَا مَیْتَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۱۴۵۵۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ہوتے اور مشرکوں سے حاصل شدہ غنیمتوں میںمشکیزے اور برتن بھی ہمیں مل جاتے تھے لیکن ہم ان کو تقسیم کر لیتے تھے، جبکہ وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 435

۔ (۴۳۵)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ یَہُوْدِیًّا دَعَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی خُبْزِ شَعِیْرٍ وَاِہَالَۃٍ سَنِخَۃٍ فَأَجَابَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۳۲۳۳)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جَو کی روٹی اور بو بدلی ہوئی چربی والے سالن کی دعوت دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ قبول کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 436

۔ (۴۳۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ فَأْرَۃٍ وَقَعَتْ فِیْ سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَقَالَ: ((اِنْ کَانَ جَامِدًا فَخُذُوْہَا وَمَا حَوْلَہَا ثُمَّ کُلُوْا مَا بَقِیَ وَاِنْ کَانَ مَائِعًا فَلَا تَأْکُلُوْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۳۶۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس چوہے کے بارے میں سوال کیا گیا، جو گھی میں گر کر مر جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر گھی جامد ہو تو اس چوہے کو اور اس کے ارد گرد والے گھی کونکال دو اور اگر وہ مائع ہو تو اس کو کھانے کے لیے استعمال نہ کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 437

۔ (۴۳۷)۔ عَنْ أَبِیْ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًاؓ عَنِ الْفَأْرَۃِ تَمُوْتُ فِی الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ أَطْعَمُہُ؟ قَالَ: لَا، زَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، کُنَّا نَضَعُ السَّمْنَ فِی الْجِرَارِ، فَقَالَ: ((اِذَا مَاتَتِ الْفَأْرَۃُ فِیْہِ فَلَا تَطْعَمُوْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۳۹)
ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ؓ سے سوال کیا کہ جس کھانے یا پینے میں چوہا گر جاتا ہے کیا میں اس کو کھا سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرمایا ہے، ہم لوگ گھڑوں میں گھی رکھا کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ایسے برتن میں چوہا مر جائے تو اس کو نہ کھایا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 438

۔ (۴۳۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ (زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) أَنَّ فَأْرَۃً وَقَعَتْ فِیْ سَمْنٍ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: جَامِدٍ) فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذُوْہَا وَمَا حَوْلَہَا فَأَلْقُوْہُ وَکُلُوْہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک چوہیا جمے ہوئے گھی میں گر کر مر گئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو اور اس کے ارد گرد والے گھی کو نکال کر پھینک دو اور باقی کو کھا لو۔

آیت نمبر