MUSNAD AHMED

Search Result (192)

70)

70) روزے دار کا وصال کرنا

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3902

۔ (۳۹۰۲) عَنْ اَبِی قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَوْمُ یَوْمِ عَرَفَۃَ کَفَّارَۃُ سَنَتَیْنِ، سَنَۃٍ مَاضِیَۃٍ وَسَنَۃٍ مُسْتَقْبِلَۃٍ، وَیَوْمُ عَاشُوْرَائَ کَفَّارَۃُ سَنَۃٍ)) (مسند احمد: ۲۲۹۵۸)
۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کا کفارہ ہے اور عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کا کفارہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3903

۔ (۳۹۰۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ لَہُ رَجُلٌ: اَرَاَیْتَ صِیَامَ عَرَفَۃَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَحْتَسِبُ عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الْمَاضِیَۃَ وَالْبَاقِیَۃَ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ صَوْمَ عَاشُوْرَائَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَحْتَسِبُ عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۹۷)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: عرفہ کے روزہ کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنائے گا۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! عاشوراء کے روزے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امیدہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ ایک سال کا کفارہ بنائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3904

۔ (۳۹۰۴) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاُنَاسٍ مِنَ الْیَہُوْدِ قَدْ صَامُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَقَالَ: ((مَا ہٰذَا مِنَ الصَّوْمِ؟)) قَالُوْا: ہٰذَا الْیَوْمُ الَّذِیْ نَجَّی اللّٰہُ مُوْسٰی وَبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ مِنَ الْغَرَقِ وَغَرَّقَ فِیْہِ فِرْعَوْنَ،وَہٰذَا یَوْمٌ اِسْتَوَتْ فِیْہِ السَّفِیْنَۃُ عَلَی الْجُودِیِّ فَصَامَہُ نُوْحٌ وَمُوْسٰی شُکْرًا لِلّٰہِ تَعَالٰی، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَناَ اَحَقُّ بِمُوْسٰی وَاَحَقُّ بِصَوْمِ ہٰذَا الْیَوْمِ۔)) فَاَمَرَ اَصْحَابَہٗبِالصَّوْمِ۔ (مسند احمد: ۸۷۰۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہودی لوگوں کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کیسا روزہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا اور فرعون کو غرق کر دیا اور اسی دن کو نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پر آ کر ٹھہری تھی، اس لیے نوح اور موسیٰm نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام اور اس دن کے روزے کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3905

۔ (۳۹۰۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ فَرَاَی الْیَہُوْدَیَصُوْمُوْنَیَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِیْ تَصُوْمُوْنَ؟)) قَالُوْا: ھٰذَا یَوْمٌ صَالِحٌ، ھٰذَا یَوْمٌ نَجَّی اللّٰہُ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ مِنْ عَدُوِّہِمْ، فَصَامَہُ مُوْسٰی علیہ السلام ۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا اَحَقُّ بِمُوْسٰی مِنْکُمْ۔)) قَالَ: فَصَامَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ اَمَرَ بِصَوْمِہِ۔ (مسند احمد: ۲۸۳۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور دیکھا کہ یہودی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: یہ دن کون سا ہے، جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ بڑا مبارک دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی اور موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی صادر فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3906

۔ (۳۹۰۶) عَنْ ثُوَیْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُوْلُ: ھٰذَا یَوْمُ عَاشُوْرَائَ فَصُوْمُوْہُ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللِّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَ بِصَوْمِہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۳۱)
۔ ثویر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا تھا: یہیومِ عاشوراء ہے، تم اس دن کا روزہ رکھو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3907

۔ (۳۹۰۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ بِیَوْمِ عَاشُوْرَائَ اَنْ نَصُوْمَہُ، وَقَالَ: ہُوَ یَوْمٌ کَانَتِ الْیَہُوْدُ تَصُوْمُہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۱۸)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دس محرم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا، اس دن کو یہودی روزہ رکھا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3908

۔ (۳۹۰۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی اَہْلِ قَرْیَۃٍ عَلٰی رَاْسِ اَرْبَعَۃِ فَرَاسِخَ، اَوْ قَالَ: فَرْسَخَیْنِیَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَاَمَرَ مَنْ اَکَلَ اَنْ لَایَاْکُلَ بَقِیَّۃَیَوْمِہِ، وَمَنْ لَمْ یَاْکُلْ اَنْ یُتِمَّ صَوْمَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۸)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس محرم کو چار چار یا دو دو فرسخ تک بستیوں میں پیغام بھیجا کہ جس آدمی نے کچھ کھا لیا ہو وہ بقیہ دن میں کچھ نہ کھائے اور جس نے تاحال کچھ نہیں کھایا وہ اپنا روزہ پورا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3909

۔ (۳۹۰۹) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم امَرَ رَجُلاً مِنْ اَسْلَمَ اَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِیَوْمَ عَاشُوْرَائَ: ((مَنْ کَانَ صَائِمًا فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ، وَمَنْ کَانَ اَکَلَ فَلَایَاْکُلْ شَیْئًا وَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۲۱)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عاشوراء کے دن بنو اسلم قبیلے کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کرے: جس نے آج روزہ رکھا ہوا ہے، وہ اسے پورا کرے اور جو کچھ کھا پی چکا ہے، وہ بھی اب کچھ نہ کھائے پئے اور اس طرح روزہ مکمل کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3910

۔ (۳۹۱۰) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَیْفِیِّ نِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِییَوْمِ عَاشُوْرَائَ ،فَقَالَ: ((اَصُمْتُمْ یَوْمَکُمْ ھٰذَا؟)) فَقَالَ: بَعْضُہُمْ: نَعَمْ، وَقَالَ: بَعْضُہُمْ: لاَ، قَالَ: ((فَاَتِمُّوْا بَقِیَّۃَیَوْمِکُمْ ھٰذَا۔)) وَاَمَرَہُمْ اَنْ یُؤْذِنُوْا اَہْلَ الْعَرُوْضِ اَنْ یُتِمُّوایَوْمَہُمْ ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۸۰)
۔ سیدنا محمد بن صیفی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یومِ عاشوراء کو ہمارے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: کیا تم لوگوں نے آج روزہ رکھا ہے؟ بعض نے کہا: جی ہاں، اور بعض نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہرحال بقیہ دن کا روزہ پورا کرو۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اہلِ عَروض کو بھی اطلاع کر دیں کہ وہ بھی اس دن کا روزہ مکمل کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3911

۔ (۳۹۱۱) عَنْ ہِنْدِ بْنِ اَسْمَائَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی قَوْمِی مِنْ اَسْلَمَ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَکَ فَلْیَصُوْمُوا ھٰذَا الْیَوْمَیَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَمَنْ وَجَدْتَّہُ مِنْہُمْ قَدْ اَکَلَ فِی اَوَّلِ یَوْمِہِ فَلْیَصُمْ آخِرَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۵۸)
۔ سیدنا ہند بن اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میرے قبیلہ بنو اسلم کی طرف بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج یومِ عاشوراء کا روزہ رکھیں، اگر ان میں سے کوئی آدمی کھا پی چکا ہو تو وہ بھی دن کے آخرییعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3912

۔ (۳۹۱۲) عَنْ یَحْیَی بْنِ ہِنْدٍ، عَنْ اَسْمَائَ بْنِ حَارِثَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَکَ بِصِیَامِ ہٰذَا الْیَوْمِ۔)) قَالَ: اَرَاَیْتَ إِنْ وَجَدْتُّہُمْ قَدْ طَعِمُوا، قَالَ: ((فَلْیُتِمُّوا آخِرَ یَوْمِہِمْ)) (مسند احمد:۱۶۰۵۹)
۔ سیدنا اسماء بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیتے ہوئے فرمایا: اپنی قوم کو آج کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دو۔ انھوںنے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو پھر آپ کی رائے کیا ہو گی؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر بھی وہ دن کے آخرییعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھ لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3913

۔ (۳۹۱۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ):عَنْ اَسْمَائَ بْنِ حَارِثَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَکَ فَلْیَصُوْمُوْا ہٰذَا الَیْوَمَ۔)) قَالَ: اَرَاَیْتَ إِنْ وَجَدْتُّہُمْ قَدْ طَعِمُوْا؟ قَالَ: ((فَلْیُتِمُّوْا بَقِیَّۃَیَوْمِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۳۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا اسماء بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج کے دن کا روزہ رکھیں۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3914

۔ (۳۹۱۴) عَنْ بَعْجَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ اَبَاہُ اَخْبَرَہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُمْ یَوْمًا: ((ھٰذَا یَوْمُ عَاشُوْرَائَ فَصُوْمُوا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی تَرَکْتُ قَوْمِی مِنْہُمْ صَائِمٌ، وَمِنْہُمْ مُفْطِرٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذْہَبْ إِلَیْہِمْ فَمَنْ کَانَ مِنْہُمْ مُفْطِرًا فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۹۸)
۔ بعجہ کے باپ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ان سے فرمایا: آج یومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ رکھو۔ بنو عمرو بن عوف کے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی طرف جاؤ اور ان کو کہو کہ جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3915

۔ (۳۹۱۵) عَنْ مَزِیْدَۃَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتْ اُمِّیْ: کُنْتُ فِی مَسْجِدِ الْکُوفَۃِ فِی خِلَافَۃِ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَعَلَیْنَا اَبُوْ مَوْسَی الاَشْعَرِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَ بِصَوْمِ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ، فَصُوْمُوْا۔ (مسند احمد: ۱۹۹۵۹)
۔ مزیدہ بن جابر کہتے ہیں: میری والدہ نے بیان کیا ہے کہ وہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں کوفہ کی مسجد میں تھیں، سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں کے حاکم تھے، انھوں نے ایک دن کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یومِ عاشوراء کو روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس لیے تم اس دن کا روزہ رکھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3916

۔ (۳۹۱۶) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُیَوْمَ عَاشُوْرَائَ،وَ یَاْمُرُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۹)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یومِ عاشوراء کا خود بھی روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کا حکم بھی دیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3917

۔ (۳۹۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ: اَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِییَزِیْدَ مُنْذُ سَبْعِیْنَ سَنَۃً، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: مَا عَلِمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَامَ یَوْمًایَتَحَرّٰی فَضْلَہُ عَلَی الْاَیَّامِ غَیْرَیَوْمِ عَاشُوْرَائَ وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً اُخْرٰی: إِلَّا ھٰذَا الْیَوْمَیَعْنِی عَاشُوْرَائَ، وَہٰذَا الشَّہْرَ شَہْرَ رَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۸)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے دنوں کی بہ نسبت کسی مخصوص دن کی فضیلت کو تلاش کرتے ہوئے روزہ رکھا ہو، ما سوائے یومِ عاشوراء کے اور ماہِ رمضان کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3918

۔ (۳۹۱۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَائَ یَوْمًایَصُوْمُہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَصُوْمُہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ صَامَہُ وَاَمَرَ بِصِیَامِہِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ کَانَ رَمَضَانُ ہُوَ الْفَرِیْضَۃُ وَتُرِکَ عَاشُوْرَائُ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دورِ جاہلیت میںیومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اور قریش بھی دورِ جاہلیت میں اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس روزے کاحکم دیا، لیکن جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو وہی روزے فرض ٹھہرے اور یومِ عاشوراء کے روزے کو ترک کر دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3919

۔ (۳۹۱۹) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَلَمَّا نَزَلَتْ فَرِیْضَۃُ شَہْرِ رَمَضَانَ کَانَ رَمَضَانُ ہُوَ الَّذِییَصُوْمُہُ، وَتَرَکَ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَمَنْ شَائَ صَامَہُ وَمَنْ شَائَ اَفْطَرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۱۲)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: جب ماہِ رمضان کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی کے روزے رکھا کرتے تھے اور یومِ عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا تھا، اب جو چاہے اس دن کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے وہ نہ رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3920

۔ (۳۹۲۰) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: دَخَلَ الْاَشْعَتُ بْنُ قَیْسٍ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَہُوَ یَتَغَدّٰی، فَقَالَ: یَا اَبَا مُحَمَّدٍ! اُدْنُ لِلْغَدَائِ، قَالَ: اَوْ لَیْسَ الْیَوْمُ عَاشُوْرَائَ؟ قَالَ: وَتَدْرِی مَا یَوْمُ عَاشُوْرَائَ؟ إِنَّمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُہُ قَبْلَ اَنْ یَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا اُنْزِلَ رَمَضَانُ تُرِکَ۔ (مسند احمد: ۴۰۲۴)
۔ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں: اشعت بن قیس عاشوراء والے دن سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے کہا: ابومحمد! کھانا کھانے کے لیے قریب آ جاؤ۔ اشعث نے کہا: کیا آج یومِ عاشوراء نہیں ہے؟ انھوںنے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ عاشوراء ہے کیا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرضیت ِرمضان کے نزول سے قبل اس دن روزہ رکھا کرتے تھے، جب ماہِ رمضان کا حکم نازل ہوا تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3921

۔ (۳۹۲۱) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ فِی عَاشُوْرَائَ: صَامَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَمَرَ بِصَوْمِہِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَکَ، فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ لَا یَصُوْمُہُ إِلاَّ اَنْ یَاْتِی عَلٰی صَوْمِہِ۔ (مسند احمد: ۴۴۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یومِ عاشوراء کے بارے میں کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن کو خود بھی روزہ رکھا تھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا تھا، لیکن جب ماہِ رمضان فرض ہوا تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا۔ پس سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس دن کا روزہ نہیں رکھا کرتے تھے، الّایہ کہ ان کے معمول کا دن اس رو ز کو آجاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3922

۔ (۳۹۲۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَائَ یَوْمًایَصُوْمُہُ اَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانَ سُئِلَ عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہُوَ یَوْمٌ مِنْ اَیَّامِ اللّٰہِ تَعَالٰی مَنْ شَائَ صَامَہُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۲۰۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: دورِ جاہلیت والے لوگ یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن جب ماہِ رمضان کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس روزے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے، جو چاہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3923

۔ (۳۹۲۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمَرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَاْمُرُنَا بِصِیَامِ عَاشُوْرَائَ وَیَحُثُّنَا عَلَیْہِ وَیَتَعَاہَدُنَا عِنْدَہُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ یَاْمُرْنَا وَلَمْیَنْہَنَا عَنْہُ وَلَمْ یَتَعَاہَدْنَا عِنْدَہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۱۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیںیومِ عاشوراء کو روزہ رکھنے کا حکم فرماتے، اس کی ترغیب دلاتے اور جب یہ دن قریب ہوتا تو ہمیں اس کی توجہ بھی دلاتے، لیکن جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ ہمیں اس کا حکم دیا، نہ اس سے منع کیا اور نہ اس دن کی آمد پر توجہ دلائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3924

۔ (۳۹۲۴) عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَمَرَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نَصُوْمَ عَاشُوْرَائَ قَبْلَ اَنْ یَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ لَمْ یَاْمُرْنَا وَلَمْ یَنْہَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۶)
۔ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کی فرضیت سے قبل یومِ عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ تو اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا، البتہ ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3925

۔ (۳۹۲۵) عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ اَنَّہُ سَمِعَ مُعَاوِیَۃَ (بْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)
۔ حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیا اور کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ یہیومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ ہم پر فرض نہیں کیا گیا، اس لیے تم میں سے جو آدمی اس کا رکھنا چاہتا ہو، وہ رکھے، البتہ میں تو روزے سے ہوں۔ پھر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3926

۔ (۳۹۲۶) عَنِ الْحَکَمِ بْنِ الاَعْرَجِ قَالَ: اَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ مُتَّکِیٌٔ عِنْدَ زَمْزَمَ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ وَکَانَ نِعْمَ الْجَلِیْسُ، فَقُلْتُ: اَخْبِرْنِی عَنْ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ۔ قَالَ: عَنْ اَیِّ بَالِہِ تَسْاَلُ؟ قُلْتُ: عَنْ صَوْمِہِ، قَالَ: إِذَا رَاَیْتَ ہِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا اَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِہٖفَاَصْبِحْمِنْہَاصَائِمًا،قُلْتُ: اَکَذَاکَکَانَیَصُوْمُہُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّم؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۵)
۔ حکم بن اعرج کہتے ہیں: میں سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ زمزم کے کنویں کے قریب ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے۔ میں نے پوچھا: آپ مجھے یومِ عاشورہ کے بارے میں بتائیں۔ انھوں نے کہا: اس کی کون سی حالت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس دن کے روزے کے بارے میں، انھوں نے کہا: جب ماہ محرم کا چاند دیکھو، تو تاریخ کو شمار کرتے رہو، جب ۹ محرم کی صبح ہو جائے تو اس دن روزہ رکھو۔میں نے پوچھا:’کیا محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3927

۔ (۳۹۲۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) إِذْ اَنْتَ اَہْلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا ثُمَّ اَصْبِحْ یَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا۔ اَلْحَدِیْثَ کَمَا تَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۴)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: جب تم ماہِ محرم کا چاند دیکھو تو (۹) محرم تک شمار کرتے رہو اور نویں محرم کی صبح روزہ کی حالت میں کرو۔ باقی حدیث اوپر والی ہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3928

۔ (۳۹۲۸) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَئِنْ بَقِیْتُ إِلٰی قَابِلٍ لَاَصُوْمَنَّ الْیَوْمَ التَّاسِعَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۱)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو محرم کو ضرور روزہ رکھوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3929

۔ (۳۹۲۹) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( صُوْمُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَخَالِفُوْا فِیْہِ الْیَہُوْدَ وَصُوْمُوْا قَبْلَہُ یَوْمًا اَوْ بَعْدَہُ یَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یومِ عاشوراء کو روزہ رکھا کرو، البتہ اس کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کیا کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو یا اس کے بعد۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3930

۔ (۳۹۳۰) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیْمٍ قَالَ: سَاَلْتُ سَعِیْدَ بْنَ جُبَْیرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ کَیْفَ تَرٰی فِیْہِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِیْ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَصُوْمُ۔ (مسند احمد: ۳۰۰۹)
۔ عثمان بن حکیم کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے ماہِ رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا کہ اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟انہوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی وقت اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنے عرصے کے لیے روزے ترک کرنا شروع کر دیتے کہ ہم یہ سمجھتے اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی بھی روزہ نہیں رکھیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3931

۔ (۳۹۳۱) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَصُوْمُ، وَمَا صَامَ شَہْرًا تَامًّا (وَفِی لَفْظٍ مُتَتَابِعًا) مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃِ إِلَّا رَمَضَانَ ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بسا اوقات تو اس قدر کثرت سے روزے رکھتے کہ ہمیہ کہنے لگ جاتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنا طویل عرصہ روزہ نہ رکھتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں رکھیں گے اور جب سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3932

۔ (۳۹۳۲) عَنْ اَبِیْ السَّلِیْلِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِی مُجِیْبَۃُ، عَجُوْزٌ مِنْ بَاھِلَۃَ عَنْ اَبِیْہَا، اَوْ عَمِّہَا، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِحَاجَۃٍ مَرَّۃً، فَقَالَ: ((مَنْ اَنْتَ؟)) قَالَ: اَوَمَا تَعْرِفُنِی؟ قَالَ: ((وَمَنْ اَنْتََ)) قَالَ: اَنَا الْبَاہِلِیُّ الَّذِی اَتَیْتُکَ عَامَ اَوَّلٍ،قَالَ: ((فَإِنَّکَ اَتَیْتَنِی وَجِسْمُکَ وَلَوْنُکَ وَہَیْئَتُکَ حَسَنَۃٌ فَمَا بَلَغَ بِکَ مَا اَرٰی)) فَقَالَ: إِنِّی وَاللّٰہِ مَا اَفْطَرْتُ بَعْدَکَ إِلَّا لَیْلًا، قَالَ: ((مَنْ اَمَرَکَ اَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَکَ؟ مَنْ اَمَرَکَ اَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَکَ؟ مَنْ اَمَرَکَ اَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَکَ؟ ثلَاَثَ مَرَّاتٍ، صُمْ شَہْرَ الصَّبْرِ، رَمَضَانَ۔)) قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِیْ،فَقَالَ: ((فَصُمْ یَوْمًا مِنَ الشَّہْرِ۔)) قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِیْ، قَالَ: ((فَیَوْمَیْنِ مِنَ الشَّہْرِ۔)) قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِیْ، قَالَ: ((وَمَا تَبْتَغِی عَنْ شَہْرِ الصَّبْرِ وَیَوْمَیْنِ مِنَ الشَّہْرِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِی قَالَ: ((فَثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ۔)) قَالَ: وَاَلْحَمَ عِنْدَ الثَّالِثَۃِ فَمَا کَادَ، قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً، وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِی، قَالَ: ((فَمِنَ الْحُرُمِ وَاَفْطِرْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۸۹)
۔ مُجِیْبَہ کے باپ یا چچا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دفعہ کسی کام کی غرض سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے نہیں پہچانتے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تم ہو کون؟ اس نے کہا: میں باہلہ قبیلہ کا وہی آدمی ہوں، جو گزشتہ سال آپ کے پاس آیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اس وقت آئے تھے، توتمہارا جسم، رنگت اور ہیئت بہت اچھی تھی، اب تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے جانے کے بعد میں نے ایک دن بھی روزہ ترک نہیں کیا، وگرنہ مسلسل روزے رکھتا رہا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو تکلیف دو؟ تمہیں کس نے حکم دیا کہ تم اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرو؟ کس نے تمہیںیہ کہا کہ خود کو تکلیف دو؟ تم صرف ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا : میرے اندر طاقت ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم ایک مہینہ میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ رکھ سکتا ہوں، مجھ میں طاقت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مہینہ میں دو دن روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے مزید روزے رکھنے کی اجازت دے دیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ماہِ صبر یعنی رمضان اور اس کے علاوہ ہر مہینے میں دو روزوں کے علاوہ مزید کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنے آپ کو طاقت والا سمجھتا ہوں، لہٰذا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کیا جازت دے دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو ہر ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر رک گئے اور قریب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے زیادہ اجازت نہیں دیں گے، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، مزید کی اجازت دے دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر حرمت والے مہینوں میں روزے رکھ بھی لیا کرو اور ترک بھی کر دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3933

۔ (۳۹۳۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّم یَصُوْمُ حَتَّی نَقُوْلَ لَا یَفْطِرُ، وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَصُوْمُ، وَمَا اسْتَکْمَلَ شَہْرًا قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَاَیْتُہُ فِی شَہْرٍ قَطُّ اَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِی شَعْبَانَ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۱۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: بعض اوقات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر اس قدر طویل عرصہ تک روزہ چھوڑ دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نفلیروزے نہیں رکھیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہِ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے تھے اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شعبان کی بہ نسبت کسی دوسرے مہینے میں زیادہ روزے رکھے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3934

۔ (۳۹۳۴) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِہِ) وَزَادَتْ: کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ کَلَّہُ إِلَّا قَلِیْلًا بَلْ کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ کَلَّہُ ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۱۴)
۔ (دوسری سند) اس میں یہ اضافہ ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ شعبان میں شاذو نادر ہی کسی دن کا روزہ چھوڑتے تھے، بلکہ یوں کہہ دینا چاہیے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پورے ماہِ شعبان کے روزے رکھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3935

۔ (۳۹۳۵) وَعَنْہَا اَیْضًا قَالَتْ: مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ مِنَ السَّنَۃِ اَکْثَرَ مِنْ صِیَامِہِ فِی شَعْبَانَ، کَانَ یَصُوْمُہُ کُلَّہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۴۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سال کے کسی مہینہ میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گویا پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3936

۔ (۳۹۳۶) وَعَنْہَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّم یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ مَا یُرِیْدُ اَنْ یُفْطِرَ ، وَیُفْطِرُحَتّٰی نَقُوْلَ مَا یُرِیْدُ اَنْ یَصُوْمَ، وَکَانَ یَقْرَئُ کُلَّ لَیْلَۃٍ بَنِیإِسْرَائِیْلَ وَالزُّمَرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۲۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بعض اوقات تو اس قدرکثرت سے روزے رکھتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے نہ چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنے لمبے عرصے کے لیے روزے چھوڑ دیتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے نہیں رکھیں گے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر رات کو سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3937

۔ (۳۹۳۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِی قَیْسٍ اَنَّہُ سَمِعَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَقُوْلُ: کَانَ اَحَبَّ الشُّہُوْرِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَّصُوْمَہُ شَعْبَانُ، ثُمَّ یَصِلُہُ بِرَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۶۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نفلی روزے رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ شعبان کا مہینہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس ماہ میں روزے رکھ کر اسے ماہِ رمضان کے ساتھ ملا دیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3938

۔ (۳۹۳۸) عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ وَیَتَحَرَّی الإِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۱۳)
۔ خالد بن معدان کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا کیا گیا، انہوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ شعبان میں روزے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کے دنوں کے روزے کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3939

۔ (۳۹۳۹) عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۵۲)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شعبان اور رمضان کے مہینوں میں روزے رکھا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3940

۔ (۳۹۴۰) وَعَنْہَا اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَامَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ إِلَّا اَنَّہُ کَانَ یَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۹۷)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے ہوں، ماسوائے اس صورت کے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3941

۔ (۳۹۴۱) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ فَلَا یُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ: مَا فِی نَفْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُفْطِرَ الْعَامَ، ثُمَّ یُفْطِرُ فَلَا یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ: مَا فِی نَفْسِہِ اَنْ یَصُوْمَ الْعَامَ، وَکَانَ اَحَبُّ الصَّوْمِ إِلَیْہِ فِی شَعْبَانَ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۳۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بغیر ناغہ کیے اس انداز میں نفلی روزے رکھنا شروع کر دیتے، کہ ہم کہنے لگتے کہ اس سال تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ کوئی روزہ ترک نہ کرنے کا ہے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اس تسلسل کے ساتھ) روزے چھوڑنا شروع کر دیتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اس سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی روزہ نہیں رکھنا۔ ماہِ شعبان کے روزے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3942

۔ (۳۹۴۲) عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ اَرَکَ تَصُوْمُ مِنْ شَہْرِ مِنَ الشُّہُوْرِ مَا تَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ؟ قَالَ: ((ذَالِکَ شَہْرٌ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ، بَیْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ ،وَہُوَ شَہْرٌ یُرْفَعُ فِیْہِ الْاَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، فَاُحِبُّ اَنْ یُرْفَعُ عَمَلِیْ وَاَنَا صَائِمٌ)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۶)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا ہے کہ آپ ماہِ شعبان میں باقی مہینوں کی بہ نسبت زیادہ روزے رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ، جو رجب اور رمضان کے وسط میں ہے، اس سے لوگ غافل ہیں،یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں لوگوں کے اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیںاور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اوپر جائیں کہ میں روزہ سے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3943

۔ (۳۹۴۳) عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْقُوْبَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا کَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ، فَاَمْسکُوْا عَنِ الصَّوْمِ حَتّٰییَکُوْنَ رَمَضَانُ۔)) (مسند احمد: ۹۷۰۵)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شعبان کا مہینہ آدھا گزر جائے تو روزہ رکھنے سے رک جایا کرو، یہاں تک کہ ماہِ رمضان آ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3944

۔ (۳۹۴۴) عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ اَوْ لِغَیْرِہِ: ((ہَلْ صُمْتَ سَرَارَ ھٰذَا الشَّہْرِ (وَفِی لَفْظٍ: ہَلْ صُمْتَ مِنْ سَرَرِ ھٰذَا الشَّہْرِ شَیْئًا؟)) یَعْنِی شَعْبَانَ۔ قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَاِذَا اَفْطَرْتَ اَوْ اَفْطَرَ النَّاسُ، فَصُمْ یَوْمَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۲۳)
۔ سیدنا عمران بن حصین سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سےیا کسی اور سے پوچھا: کیا تم نے ماہِ شعبان کے وسط کے روزے رکھے تھے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ (رمضان کے روزوں سے) فارغ ہو جاؤ تو اس وقت دو دن کے روزے رکھ لینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3945

۔ (۳۹۴۵) عَنْ اَبِی عُثْمَانَ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ فِیْ سَفَرٍفَلَمَّا نَزَلُوْا اَرْسَلُوْا إِلَیْہِ، وَہُوَ یُصَلِّی، فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَلَمَّا وَضَعُوْا الطَّعَامَ وَکَادُوا اَنْ یَفْرُغُوْا جَائَ، فَقَالُوْا: ہَلُمَّ فَکُلْ فَاَکَلَ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلٰی الرَّسُوْلِ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُوْنَ؟ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ قَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَقَالَ اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: صَدَقَ، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صَوْمُ الدَّہْرِ کُلِّہِ۔)) فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ اَوَّلِ الشَّہْرِ فَاَنَا مُفْطِرٌ فِی تَخْفِیْفِ اللّٰہِ، صَائِمٌ فِی تَضْعِیْفِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۷۳)
۔ ابو عثمان سے روایت ہے کہ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک سفر میں تھے، جب وہ ایک مقام پر ٹھہرے تو لوگوں نے ان کی طرف کھانا کھانے کا پیغام بھیجا، جبکہ وہ نمازپڑھ رہے تھے، انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ لوگوں نے کھانا لگایا اور جب وہ فارغ ہونے کے قریب تھے تو سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں آ گئے، لوگوں نے دوبارہ کھانے کی دعوت دی، تو اس بار انھوں نے کھانا شروع کر دیا،یہ صورتحال دیکھ کر لوگوں نے پہلے والے قاصد کی طرف از راہِ تعجب دیکھنا شروع کر دیا، کیونکہ اسی نے روزے کا پیغام دیا تھا، لیکن اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟اللہ کی قسم! انہوں نے کہا تھا کہ وہ روزے سے ہیں۔ اس وقت سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: ماہِ رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔)) میں نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھ لیے تھے، اب میں اللہ تعالیٰ کی رعایت کی بنیاد پر روزہ افطار کر رہا ہوں، جبکہ میں نے اللہ سے کئی گنا اجر پانے کے لیے روزہ رکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3946

۔ (۳۹۴۶) عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ بَابِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَفِیْنَا اَبُوْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صَوْمُ الدَّہْرِ، وَیُذْہِبُ مَغَلَّۃَ الصَّدْرِ)) قَالَ: قُلْتُ: وَمَا مَغَلَّۃُ الصَّدْرِ؟ قَالَ: ((رِجْسُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۹۱)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں، ان سے سینہ کی کدورت زائل ہو جاتی ہے۔ میں نے پوچھا: سینے کی کدورت سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: شیطان کی پلیدی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3947

۔ (۳۹۴۷) عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّہَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صِیَامُ ثلَاَثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صِیَامُ الدَّہْرِ وَإِفْطَارُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۷۹)
۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا،یہ سال بھر کے روزے بھی ہیں اور سال بھر کا افطار بھی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3948

۔ (۳۹۴۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ الثَّقَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صِیَامٌ حَسَنٌ: صِیَامُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۸)
۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا بہترین روزے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3949

۔ (۳۹۴۹) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَامَ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرِ فَقَدْ صَامَ الدَّہْرَ کُلَّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۲۶)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہر ماہ میں تین روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزے رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3950

۔ (۳۹۵۰) وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۶۷۶۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3951

۔ (۳۹۵۱) عَنْ اَبِی نَوْفَلِ بْنِ اَبِی عَقْرَبٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَاَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ((صُمْ مِنَ الشَّہْرِ یَوْمًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی اَقْوٰی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنِّی اَقْوٰی، إِنِّی اَقْوٰی، صُمْ یَوْمَیْنِ کُلِّ شَہْرٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! زِدْنِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( زِدْنِی، زِدْنِی، ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۶۱)
۔ سیدنا ابو عقرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ ایک روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، چلو پھر ہر ماہ دو روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، تو پھر ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3952

۔ (۳۹۵۲) عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ اَیِّہِ کَانَ؟ فَقَالَتْ: لَمْ یَکُنْیُبَالِیْ مِنْ اَیِّہِ کَانَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۴۰)
۔ سیدہ معاذہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے، سیدہ معاذہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے پوچھا: وہ مہینے کے کون سے تین دن تھے؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس چیز کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے کہ کون سے دن ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3953

۔ (۳۹۵۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتٰی اَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاَرْنَبٍ قَدْ شَوَاہَا وَمَعَہَا صِنَابُہَا وَاُدَمْہَا، فَوَضَعَہَا بَیْنَیَدَیْہِ فَاَمْسَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَاْکُلَ، وَاَمَرَ اَصْحَابَہُ اَنْ یَاْکُلُوا فَاَمْسَکَ الْاَعْرَابِیُّ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَمْنَعُکَ اَنْ تَاْکُلَ؟)) قَالَ: إِنِّی اَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ، قَالَ: ((إِنْ کُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْاَیَّامَ الْغُرَّ۔)) (مسند احمد: ۸۴۱۵)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک خرگوش بھون کر لایا اور اس کے ساتھ رائی اور کشمش کی چٹنی اور سالن بھی تھا، اس نے لا کر آپ کے سامنے رکھ دیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود تو نہ کھایا، البتہ اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ کھائیں، بدّو نے کھانے سے ہاتھ روکے رکھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے کہا: میں ہر ماہ تین دن روزے رکھتا ہوں، (ایک روزہ آج رکھا ہوا ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے روزے رکھنے ہوں تو ایامِ بیض کے روزے رکھا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3954

۔ (۳۹۵۴) عَنِ ابْنِ الْحَوْتَکِیَّۃِ قَالَ: اُتِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِطَعَامٍ فَدَعاَ إِلَیْہِ رَجُلاً، فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: وَاَیُّ الصِّیَامِ تَصُوْمُ؟ لَوْلَا کَراہِیَۃُ اَنْ اَزِیْدَ اَوْ اَنْقُصَ لَحَدَّثْتُکُمْ بِحَدِیْثِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیْنَ جَائَ ہُ الْاَعْرَابِیُّ بِالأَرْنَبِ، وَلٰکِنْ اَرْسِلُوْا إِلٰی عَمَّارٍ، فَلَمَّا جَائَ ہُ عَمَّارٌ، قَالَ: اَشَاہِدٌ اَنْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ جَائَ ہُ الْاَعْرَابِیُّ بالْاَرْنَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنِّی رَاَیْتُ بِہَا دَمًا۔ فَقَالَ: ((کُلُوْہَا۔)) قَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، قَالَ: ((وَاَیُّ الصِّیَامِ تَصُوْمُ؟)) قَالَ: اَوَّلَ الشَّہْرِ وَآخِرَہُ، قَالَ: ((إِنْ کُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الثَّلَاثَ عَشْرَۃَ وَالْاَرْبَعَ عَشْرَۃَ وَالْخَمْسَ عَشْرَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰)
۔ ابن حو تکیہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، انھوں نے ایک آدمی کو کھانے کی دعوت دی، لیکن اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم کن دنوں میں روزے رکھتے ہو؟ اگر کمی بیشی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث سناتا،جس کے مطابق ایک بدّو آپ کی خدمت میں ایک خرگوش لے کر حاضر ہواتھا، البتہ تم سیدناعمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلاؤ۔ جب وہ آئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اس روز موجود تھے، جس دن ایک بدّو ایک خرگوش لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس بدّو نے کہا تھا: میں نے دیکھا کہ اسے خون آتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کو کھالو۔ اس بدّو نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تم مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: مہینے کے شروع اور آخر میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے روزے رکھنے ہوں تو چاند کی۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخوں کا رکھا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3955

۔ (۳۹۵۵) عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ الْمِنْہَالِ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاَیَّامِ الْبِیْضِ فَہُوَ صَوْمُ الشَّہْرِ۔ (مسند احمد:۱۷۶۵۴)
۔ سیدنا منہال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایامِ بِیض کے روزے رکھنے کا حکم دیا،یہ ایک ماہ کے روزوں کے برابر ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3956

۔ (۳۹۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَاْمُرُنَا بِصِیَامِ اللَّیْاَلِی الْبِیْضِ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ وَاَرْبَعَ عَشْرَۃَ وَخَمْسَ عَشْرَۃَ وَقَالَ: ((ہِیَ کَصَوْمِ الدَّہْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۸۲)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سفیدی والی راتوں یعنی چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: یہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3957

۔ (۳۹۵۷) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ صَائِمًا مِنَ الشَّہْرِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ فَلْیَصُمِ الثَّلَاثَ الْبِیضَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۷۷)
۔ سیدناابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی ایک مہینہ میں تین روزے رکھنا چاہے تو وہ ایامِ بِیض کے تین دنوں کے روزے رکھا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3958

۔ (۳۹۵۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، الْخَمِیْسَ مِنْ اَوَّلِ الشَّہْرِ وَالإِثْنَیْنِ الَّذِییَلِیْہِ وَالإِثْنَیْنِ الَّذِییَلِیْہِ۔ (مسند احمد: ۵۶۴۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ کو ان تین دنوں کے روزے رکھا کرتے تھے: مہینے کی پہلی جمعرات، اس کے بعد والا سوموار اور پھر اس کے بعد والا سوموار۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3959

۔ (۳۹۵۹) عَنْ حَفْصَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ وَیَوْمَ الإِثْنَیْنِ مِنَ الْجُمُعَۃِ الاُخْرٰی۔ (مسند احمد: ۲۶۹۹۵)
۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے: (پہلے ہفتے میں) سوموار اور جمعرات کو اور دوسرے ہفتے میں سوموار کو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3960

۔ (۳۹۶۰) عَنْ ھُنَیْدَۃَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَاَتِہِ عَنْ بَعْضِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ تِسْعَ ذِی الْحِجَّۃِ وَیَوْمَ عَاشُوْرَائَ ، وَثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ اَوَّلَ اثْنَیْنِ مِنْ الشَّہْرِ وَخَمِیْسَیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۰۱)
۔ ایک زوجۂ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (۹) ذوالحجہ اور یومِ عاشوراء کو اور ہر ماہ میں تین دنوں کا روزہ رکھتے تھے، (ان تین دنوں کی تفصیلیہ ہے:) ہر ماہ کا پہلا سوموار اور دو جمعراتیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3961

۔ (۳۹۶۱) وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ اُمِّہِ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَسَاَلْتُہَا عَنِ الصِّیَامِ، فَقَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَاْمُرُنِیْ اَنْ اَصُوْمَ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، اَوَّلُہَا الإِثْنَیْنِ وَالْجُمُعَۃُ وَالْخَمِیْسُ۔ (مسند احمد:۲۷۰۱۳)
۔ ہُنیدہ اپنی والدہ سے بیان کرتے ہیں، کہ وہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئیں اور ان سے روزوں کے بارے میں دریافت کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں ہر ماہ کے پہلے سوموار، جمعہ اور جمعرات کو روزہ رکھا کروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3962

۔ (۳۹۶۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ غُرَّۃِ کُلِّ ہِلَالٍ، وَقَلَّمَا کَانَ یُفْطِرُیَوْمَ الْجُمَعَۃِ۔ (مسند احمد: ۳۸۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے روز تو کم ہی افطار کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3963

۔ (۳۹۶۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَکَاَنَّمَا صَامَ السَّنَۃَ کُلَّہَا)) (مسند احمد: ۱۴۵۳۱)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ماہِ رمضان کے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزے رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3964

۔ (۳۹۶۴) عَنْ اَبِی اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَقَدْ صَامَ الدَّہْرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۵۲)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ماہِ رمضان کے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے، اس نے گویا پورے سال کے روزے رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3965

۔ (۳۹۶۵) عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَامَ َرَمَضَانَ، فَشَہْرٌ بِعَشَرَۃِ اَشْہُرٍ، وَصِیَامُ سِتَّۃِ اَیَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، فَذَالِکَ تَمَامُ صِیَامِ السَّنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۷۶)
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، تویہ ایک مہینہ ثواب میں دس مہینوں کے برابر ہو جائے گا اور پھر افطارییعنی عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھ لیے تو یہ ثواب کے لحاظ سے پورے سال کے روزے ہو جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3966

۔ (۳۹۶۶) عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِی عَرِیْفٌ مِنْ عُرَفَائِ قُرَیْشٍ حَدَّثَنِی اَبِیْ اَنَّہُ سَمِعَ مِنْ فَلْقِ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَشَوَّالاً وَالْاَرْبِعَائَ وَالْخَمِیْسَ وَالْجُمُعَۃَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۳)
۔ ایک قریشی سردار کے باپ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے یہ کلمات سنے تھے: جس نے رمضان اور شوال کے مہینوں اور پھر بدھ، جمعرات اور جمعہ کے ر وزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3967

۔ (۳۹۶۶) عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِی عَرِیْفٌ مِنْ عُرَفَائِ قُرَیْشٍ حَدَّثَنِی اَبِیْ اَنَّہُ سَمِعَ مِنْ فَلْقِ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَشَوَّالاً وَالْاَرْبِعَائَ وَالْخَمِیْسَ وَالْجُمُعَۃَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۳)
۔ (دوسری سند) ایک قریشی سردار کے باپ نے بیان کیا ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دہن مبارک سے یہ حدیث سنی : جس نے ماہِ رمضان اور ماہِ شوال اور پھر بدھ اورجمعرات کے روزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3968

۔ (۳۹۶۸) عَنْ کُرَیْبٍ اَنَّہُ سَمِعَ اُمَّ سَلَمَۃَ (زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُیَوْمَ السَّبْتِ وَیَوْمَ اْلاَحْدِ اَکْثَرَ مِمَّا یَصُوْمُ مِنَ الْاَیَّامِ وَیَقُوْلُ: ((إِنَّہُمَا عِیْدَا الْمُشْرِکِیْنَ، فَاَنَا اُحِبُّ اَنْ اُخَالِفَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۸۶)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے روزے والے دوسرے دنوں کی بہ نسبت ہفتہ اور اتوار کا بکثرت روزہ رکھتے تھے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ مشرکوںیعنییہود و نصاریٰ کی عیدوں کے دن ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کی مخالفت کروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3969

۔ (۳۹۶۹) عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ الْاَیَّامَیَسْرُدُ، حَتّٰییُقَالَ: لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ الْاَیَّامَ حَتّٰی لَا یَکَادَ اَنْ یَصُوْمَ إِلَّا یَوْمَیْنِ مِنَ الْجُمُعَۃِ إِنْ کَانَا فِی صِیَامِہِ، وَإلِاَّ صَامَہُمَا، وَلَمْ یَکُنْیَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ مِنَ الشُّہُوْرِ مَا یَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّکَ تَصُوْمُ لَا تَکَادُ اَنْ تُفْطِرَ وَتُفْطِرُ حَتّٰی لَاتکَادَ اََنْ تَصُوْمَ إِلَّا یَوْمَیْنِ ، إِنْ دَخَلَا فِی صِیَامِکَ وَإلاَّ صُمْتَہُمَا، قَالَ: ((اَیُّیَوْمَیْنِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، قَالَ: ((ذَانِکَ یَوْمَانِ تُعْرَضُ فِیْہِمَا الْاَعْمَالُ عَلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَاُحِبُّ اَنْ یُعْرَضَ عَمَلِی وَاَنَا صَائِمٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَلَمْ اَرَکَ تَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ مِنْ الشُّہُوْرِ مَا تَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ، قَالَ: ((ذَاکَ شَہْرٌ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ بَیْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَہُوَ شَہْرٌ یُرْفَعُ فِیْہِ الْاَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ فَاُحِبُّ اَنْ یُرْفَعَ عَمَلِی وَاَنَا صَائِمٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۶)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت اور تسلسل کے ساتھ اس قدر روزے رکھتے کہ کہا جاتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی روزے کا ناغہ نہیں کریں گے، لیکن پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناغے شروع کرتے تو اس قدر کثرت سے کرتے کہ ایسے لگتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں رکھیں گے، ما سوائے ہفتہ کے دو دنوں کے کہ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسلسل روزوں میں ان کے روزے رکھ چکے ہوتے تو ٹھیک، وگرنہ افطاری والے دنوں میں ان کا روزہ رکھ لیتے تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باقی مہینوں کی بہ نسبت شعبان کے زیادہ روزے رکھتے تھے۔ ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات آپ اس انداز میں لگاتار روزے شروع کر دیتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب آپ ناغہ نہیں کریں گے، لیکن پھر آپ یوں روزے ترک کرنا شروع کر تے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے، ما سوائے دو دنوں کے کہ اگر وہ آپ کے روزے میں داخل ہو چکے ہوں تو ٹھیک، وگرنہ صرف ان کے روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: کونسے دو دن؟ میں نے کہا: سوموار اور جمعرات کے دن، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دنوں میں لوگوں کے اعمال جہاں کے پروردگار کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں روزہ کی حالت میں ہوں۔ میں نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باقی مہینوں کی بہ نسبت شعبان میں زیادہ روزے رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ، جو رجب اور رمضان کے درمیان آتا ہے، لوگ اس سے غافل ہیں، حالانکہ اس میں لوگوں کے اعمال ربّ العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ کے سامنے اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں اس وقت روزے کی حالت میں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3970

۔ (۳۹۷۰) عَنْ مَوْلٰی اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ اَنَّہُ انْطَلَقَ مَعَ اُسَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی وَادِی الْقُرٰی،یَطْلُبُ مَالاً لَہُ وَکَانَ یَصُوْمُیَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، فَقَالَ لَہٗمَوْلَاہُ: لِمَتَصُوْمُیَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، وَاَنْتَ شَیْخٌ کَبِیْرٌ، قَدْ رَقَقْتَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُیَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، فَسُئِلَ عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ: ((إِنَّ اَعْمَالَ النَّاسِ تُعْرَضُ یَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ ))۔ (مسند احمد: ۲۲۰۸۷)
۔ مولائے اسامہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ وادیٔ قریٰ کی طرف اپنے مال کی تلاش کے لیے جا رہے تھے، وہ سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ غلام نے ان سے کہا: آپ سوموار اور جمعرات کے روزے کیوں رکھتے ہیں، جبکہ اب آپ عمر رسیدہ اور کمزور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوموار اور جمعرات کو لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ پر پیش کیے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3971

۔ (۳۹۷۱) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اَکْثَرَ مَا یَصُوْمُ الإِثْنَیْنِ وَالْخَمْیِسَ، قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ، قَالَ: فَقَالَ: ((إِنَّ الْاَعْمَالَ تُعْرَضُ کُلَّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ اَوْ کُلَّ یَوْمِ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ فَیَغْفِرُ اللّٰہُ لِکُلِّ مُسْلِمٍ اَوْ لِکُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا الْمُتَہَاجِرَیْنِ، فَیَقُوْلُ: اَخِّرْہُمَا۔)) (مسند احمد: ۸۳۴۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوموار اور جمعرات کو کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انسانوں کے اعمال سوموار اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ پر پیش کیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان یا ہر مومن کو بخش دیتا ہے، ما سوائے ان دو آدمیوں کے کہ جن کے درمیان قطع تعلقی ہوتی ہے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ان کے معاملے کو مؤخر کر دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3972

۔ (۳۹۷۲) عَنْ عاَئِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ وَیَتَحَرَّی الإِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۱۳)
۔ جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ شعبان کے اور خصوصی اہتمام کے ساتھ سوموار اورجمعرات کے روزے رکھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3973

۔ (۳۹۷۳) عَنْ صَدَقَۃَ الدِّمَشْقِیِّ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَسْاَلُہُ عَنِ الصِّیَامِ، فَقَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ مِنْ اَفْضَلِ الصِّیَامِ صِیَامَ اَخِی دَاوُدَ، کَانَ یَصُوْمُیَوْمًا وَیُفْطِرُیَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۲۸۷۶)
۔ صدقہ دمشقی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور روزوں کے بارے میں سوال کیا۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کہ : سب سے زیادہ فضیلت والے روزے میرے بھائی دائود علیہ السلام کے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3974

۔ (۳۹۷۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَحَبُّ الصِّیَامِ إِلَی اللّٰہِ صِیَامُ دَاوُدَ وَاَحَبُّ الصَّلَاۃِ إِلَی اللّٰہِ صَلَاۃُ دَاوُدَ، کَانَ یَنَامُ نِصْفَہُ، وَیَقُوْمُ ثُلُثَہُ وَیَنَامُ سُدُسَہُ، وَکَانَیَصُوْمُیَوْمًا وَیُفْطِرُیَوْمًا۔ (مسند احمد: ۶۴۹۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام کے روزے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اسی طرح ان کی رات کی نماز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ نصف رات سونے کے بعد ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر رات کا چھٹا حصہ سو جاتے، رہا مسئلہ روزوں کا تو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3975

۔ (۳۹۷۵) عَنْ اَبِی سَلْمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ اُخْبِرْتُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اللَّیْلَ وَتَصُوْمُ النَّہَارَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نَعَمْ، قَالَ: ((فَصُمْ وَاَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِکَ اَنْ تَصُوْمَ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) قَالَ: فَشَدَّدْتُّ فَشَدَّدَ عَلَیَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً، قَالَ: ((فَصُمْ مِنْ کُلِّ جُمُعَۃٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَیَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً، قَالَ: ((صُمْ صَوْمَ نَبِیِّ اللّٰہِ دَاوُدَ وَلَا تَزِدْ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا کَانَ صِیَامُ دَاوُدَ (عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ) قَالَ: ((کَانَ یَصُوْمُیَوْمًا وَیُفْطِرُیَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۶۸۶۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم ساری رات قیام کرتے ہو اور ہر روز روزہ رکھتے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزہ رکھا کروا ور ناغہ بھی کیا کرو اوررات کو قیام بھی کیا کر اور سویا بھی کر، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری اہلیہ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کر،اتنے ہی تیرے لیے کافی ہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ میں نے سختی کی،اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھ پر سختی فرمائی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ہر ہفتہ میں تین دن روزے رکھ لیا کر۔ لیکن میں نے سختی کی اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ روزے رکھنے کی قوت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اللہ کے نبی دائود علیہ السلام کی طرح روزے رکھ لیا کر اور ان پر اضافہ نہ کر۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! دائود علیہ السلام کیسے روزے رکھتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3976

۔ (۳۹۷۶) عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مُرْنِی بِصِیَامٍ، قَالَ: ((صُمْ یَوْمًا وَلَکَ اَجْرُ تِسْعَۃٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً فَزِدْنِی، قَالَ: ((صُمْ یَوْمَیْنِ وَلَکَ اَجْرُ ثَمَانِیَۃِ اَیَّامٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً فَزِدْنِی، قَالَ: ((فَصُمْ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَلَکَ اَجْرُ سَبْعَۃِ اَیَّامٍ۔)) قَالَ: فَمَا زَالَیَحُطُّ لِیْ، حَتَّی قَالَ: ((إِنَّ اَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِی دَاوُدَ اَوْ نَبِیِّ اللّٰہِ دَاوُدَ شَکَّ الْجُرَیْرِیُّ، صُمْ یَوْمًا وَاَفْطِرْ یَوْمًا۔)) فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ لَمَّا ضَعُفَ: لَیْتَنِیْ کُنْتُ قَنَعْتُ بِمَا اَمَرَنِی بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۶۸۷۷)
۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے روزوں کے متعلق حکم دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید نو دنوں کا اجر بھی مل جائے گا، (کیونکہ ہر نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے) ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، اس لیے آپ مجھے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : دو دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید آٹھ دنوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ میں اس سے زیادہ کی قوت ہے، لہٰذا آپ مجھے مزید روزوں کی اجازت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دن روزے رکھ لیا کرو، تمہیں مزید سات دنوں کے روزوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میری بار بار گزارش سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزید عمل کی مزید گنجائش پیدا کرتے گئے (اور اجر میں کمی کرتے گئے)، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے افضل روزے میرے بھائی دائود علیہ السلام کے ہیں، اور وہ اس طرح کہ تم ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو۔ جب سیدنا عبداللہ بوڑھے ہو گئے تو کہا کرتے تھے: کاش کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلے حکم پر اکتفا کر لیا ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3977

۔ (۳۹۷۷) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ اَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ: فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یَصُوْمُ ذَالِکَ الصِّیَامَ حَتّٰی اَدْرَکَہُ السِّنُّ وَالضَّعْفُ، کَانَ یَقُوْلُ: لَاَنْ اَکُوْنَ قََبِلْتُ رُخْصَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ اَہْلِی وَمَالِی۔ (مسند احمد: ۶۸۷۸)
۔ (دوسری سند) سیدناعبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، …سابقہ حدیث کی طرح ہی بیان کیا…،مزید اس میں ہے: سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسی طرح روزے رکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ عمر رسیدہ اور کمزور ہو گئے، اس وقت وہ کہا کرتے تھے: اگر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دی ہو ئی رخصت کو قبول کر لیتا تو یہ مجھے میرے اہل وعیال اور مال و دولت سے زیادہ پسند ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3978

۔ (۳۹۷۸) عَنْ ھُنَیْدَہَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَاَتِہِ عَنْ بَعْضِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ تِسْعَ ذِی الْحَجَّۃِ وَیَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَثَلَاثَۃَ اَیَّاٍم مِنْ کُلِّ شَہْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۹۰)
۔ ایک زوجۂ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذوالحجہ کے نو دن اور یومِ عاشوراء کو اور ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3979

۔ (۳۹۷۹) عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَوْمُ یَوْمِ عَرَفَۃَیُکَفِّرُ سَنَتَیْنِ مَاضِیَۃً وَمُسْتَقْبَلَۃً، وَصَوْمُ عَاشُوْرَائَ یُکَفِّرُ سَنَۃً مَاضِیَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۰۳)
۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یوم عرفہ یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اور یومِ عاشوراء کا روزہ ایک گزشتہ سال کے گناہوں کا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3980

۔ (۳۹۸۰) عَنْ عَطَائِ نِ الْخُرَاسَانِیِّ اَنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ اَبِیْ بَکْرٍ دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یَوْمَ عَرَفَۃَ وَہِیَ صَائِمَۃٌ وَالْمَائُ یُرَشُّ عَلَیْہَا، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: اَفْطِرِیْ، فَقَالَتْ: اُفْطِرُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ صَوْمَ یَوْمِ عَرَفَۃَیُکَفِّرُ الْعَامَ الَّذِیْ قَبْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۴۸۳)
۔ سیدناعبدالرحمن بن ابی بکر،سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس عرفہ کے دن گئے جبکہ انھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور (گرمی کی شدت کی وجہ سے) ان پر پانی ڈالا جا رہا تھا، سیدنا عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ روزہ توڑ دیں، لیکن انھوں نے کہا: میں روزہ کیسے توڑ دوں، جبکہ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: عرفہ کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3981

۔ (۳۹۸۱) عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی بَیْتِہِ فَسَاَلْتُہُ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ صَوْمِ عَرَفَۃَ بِعَرَفَاتٍ۔ (مسند احمد: ۹۷۵۹)
۔ مولائے ابن عباس جنابِ عکرمہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں ان کے گھر پر حاضر ہوا اور ان سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3982

۔ (۳۹۸۲) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُہُ بِعَرَفَۃَ فَوَجَدْتُّہُ یَاْکُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: ادْنُ فَکُلْ، لَعَلَّکَ صَائِمٌ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَایَصُوْمُہُ، وَقَالَ مَرَّۃً: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَصُمْ ھٰذَا الْیَوْمَ۔ (مسند احمد: ۳۲۶۶)
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ مقام میں سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ انار کھا رہے تھے، انھوں نے مجھے کہا: قریب آ جاؤ اور کھاؤ، لیکن لگتا ہے کہ تم نے روزہ رکھا ہوا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اس دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔ اور ایک دفعہ انھوں نے یوں کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3983

۔ (۳۹۸۳) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ فَقَالَ: لَمْ یَصُمْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا اَبُوْ بَکْرٍ وَلَا عُمَرُ وَلَا عُثْمَانُ یَوْمَ عَرَفَۃَ۔ (مسند احمد: ۵۴۱۱م)
۔ نافع کا بیان ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے (دورانِ حج) عرفہ کے دن کا روزہ نہیں رکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3984

۔ (۳۹۸۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہُ سَاَلَہُ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَصُمْہُ وَمَعَ اَبِی بَکْرٍ فَلَمْ یَصُمْہُ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ یَصُمْہُ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ یَصُمْہُ وَاَنَا لَا اَصُوْمُہُ، وَلَا آمُرُکَ وَلَا اَنْہَاکَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْہُ، وَإِنَّ شِئْتَ فَلَا تَصُمْہُ۔ (مسند احمد: ۵۴۲۰)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یومِ عرفہ کے روزے کے متعلق پوچھا،انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا،پھر ہم سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں آئے، انہوں نے بھی روزہ نہیں رکھا،پھر ہم سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ آئے، انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھا، پھر ہم سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ آئے، انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھا، لہذا میں بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھتا، لیکن میں تجھے اس روزے کا حکم دیتا ہوں نہ اس سے منع کرتا ہوں، تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3985

۔ (۳۹۸۵) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا صُمْتُ عَرَفَۃَ قَطُّ وَلَا صَامَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا اَبُوْ بَکْرٍ وَلَا عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۵۹۴۸)
۔ (تیسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی بھی عرفہ کے دن کا روزہ نہیں رکھا اور نہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے، نہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اور نہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس دن کا روزہ رکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3986

۔ (۳۹۸۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَائِمًا فِی الْعَشْرِ قَطُّ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۴۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ذوالحجہ کے) پہلے دس دنوں میں روزہ رکھا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3987

۔ (۳۹۸۷) عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلٰی اُمِّ الْفَضْلِ اُمِّ بَنِی الْعَبَّاسِ، عَنْ اُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: شَکُّوْا (وَفِی لَفْظٍ تَمَارَوْا) فِی صَوْمِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ، فَقَالَتْ اُمُّ الْفَضْلِ: اَنَا اَعْلَمُ لَکُمْ ذَالِکَ فَبَعَثَتْ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۱۹)
۔ سیدہ ام الفضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: لوگوں کو عرفہ کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزے کے بارے میں یہ شک ہونے لگا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے یا نہیں؟ میں نے کہا: میں تمہیں پتہ کرا دیتی ہوں، پھر انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرما لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3988

۔ (۳۹۸۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، عَنْ اُمِّ الْفَضْلِ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ): فَاَرْسَلَتْ إِلَیْہِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، وَہُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ بَعَرَفَۃَ عَلٰی بَعِیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۱۹)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پی لیا، جبکہ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے اونٹ پر سوار ہو کر عرفہ میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3989

۔ (۳۹۸۹) عَنْ عَطَائٍ اَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما دَعَا الْفَضْلَ یَوْمَ عَرَفَۃ إِلٰی طَعَامٍ، فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَاتَصُمْ، فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُرِّبَ إِلَیْہِ حِلَابٌ، فَشَرِبَ مِنْہُ ھٰذَا الْیَوْمَ وَإِنَّ النَّاسَ یَسْتَنُّوْنَ بِکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۹۴۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرفہ کے دن سیدنا فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کھانے کے لیے بلایا، لیکن انھوں نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: اس دن کو روزہ نہ رکھا کرو، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں اسی دن کو دودھ پیش کیا گیا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرمایا لیا تھااور لوگ بھی تمہاری اقتداء کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3990

۔ (۳۹۹۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنِ ابْنِ عَبَّاسَ دَعَا اَخَاہُ عُبَیْدَ اللّٰہِ یَوْمَ عَرَفَۃَ إِلٰی طَعَامٍ، قَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، قَالَ: إِنَّکُمْ اَئِمَّۃٌ، (وَفِی لَفْظٍ: اَہْلُ بَیْتٍ) یُقْتَدٰی بِکُمْ قَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا بحِلِاَبٍ فِی ہٰذَا الْیَوْمِ فَشَرِبَ۔ (مسند احمد: ۳۲۳۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرفہ کے دن اپنے بھائی عبید اللہ کو کھانے کے لیے بلایا، لیکن انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں، یہ سن کر انھوں نے کہا: : تم لوگ تو دوسروں کے پیشوا اور اہل بیت ہو، اس وجہ سے تمہاری اقتدا کی جاتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن کو دودھ منگوا کر پیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3991

۔ (۳۹۹۱) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ اَوْتَادًا، اَلْمَلَائِکَۃُ جُلَسَاؤُہُمْ، إِنْ غَابُوْا یَفْتَقِدُوْہُمْ، وَإِنْ مَرِضُوْا عَادُوْہُمْ، وَإِنْ کَانُوْا فِی حَاجَۃٍ اَعَانُوْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بعض لوگ مسجد نشیں ہوتے ہیں کہ فرشتے ان کے ہم نشیں ہوتے ہیں‘ اگر وہ غائب ہو جائیں تو وہ انھیں تلاش کرتے ہیں‘ اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو وہ ان کی تیمار داری کرتے ہیں اور اگر انھیں کوئی ضرورت ہو تو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3992

۔ (۳۹۹۲) عَنِ ابْنِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِعْتَکَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَاتُّخِذَ لَہُ بَیْتٌ مِنْ سَعَفٍ، قَالَ: فَاَخْرَجَ رَاْسَہُ ذَاتَ یَوْمٍ، فَقَالَ: ((إِنَّ الْمُصَلِّیَیُنَاجِیْ رَبَّہُ، فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ بِمَایُنَاجِی رَبَّہُ، وَلَا یَجْھَرْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ بِالْقِرَائَ ۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھجور کی شاخوں کا ایک حجرہ بنایا گیا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجرے سے سر نکالا اور فرمایا: بے شک نمازی اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، تم میں سے ہر ایک کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے رب سے کس قسم کی مناجات کر رہا ہے اور کوئی آدمی دوسرے کے پاس بلند آواز میں قراء ت نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3993

۔ (۳۹۹۳) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِی لَیْلٰی عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِعْتَکَفَ فِی قُبَّۃٍ مِنْ خُوْصٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۷۲)
۔ سیدنا ابو لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھجور کے پتوں سے بنے ہوئے ایک خیمے میں معتکف تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3994

۔ (۳۹۹۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ اْلاَوَخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ ۔ (مسند احمد: ۷۷۷۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3995

۔ (۳۹۹۵) عَنْ عَائِشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْتَکِفُ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ وَیَقُوْلُ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ۔)) یَعْنِیْ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے، نیز آپ فرمایا کرتے تھے کہ تم شب ِ قدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3996

۔ (۳۹۹۶) عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا اَرَادَ اَنْ یَعْتَکِفَ صَلَّی الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِی الْمَکَانِ الَّذِیْیُرِیْدُ اَنْ یَعْتَکِفَ فِیْہِ، فَاَرَدَا اَنْ یَعْتََکِفَ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَاَمَرَ فَضُرِبَ لَہُ خِبَائٌ، وَاَمَرَتْ عَائِشَۃُ فَضُرِبَ لَہَا خِبَائٌ، وَاَمَرَتْ حَفْصَۃُ فَضُرِبَ لَہَا خِبَائٌ، فَلَمَّا رَاَتْ زَیْنَبُ خِبَائَہُمَا اَمَرَتْ فَضُرِبَ لَہَاخِبَائٌ، فَلَمَّا رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَالِکَ قَالَ: ((آلْبِرَّ تُرِدْنَ؟)) فَلَمْ یَعْتَکِفْ فِی رَمَضَانَ وَاعْتَکَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۲۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو نمازِ فجر پڑھنے کے بعد جائے اعتکاف میں داخل ہوتے ، ایک دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کا ارادہ کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم پر ایک خیمہ نصب کر دیا گیا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا،پھر سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ نصب کر دیا گیا، جب سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی اپنے لیے خیمہ لگانے کا حکم دیا، پس ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حال دیکھا تو فرمایا: کیا تم نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رمضان میں اعتکاف نہ کیا اور (اس کی قضائی دیتے ہوئے) شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3997

۔ (۳۹۹۷) عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَعْتَکِفُ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَسَافَرَ سَنَۃً فَلَمْ یَعْتَکِفْ، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اِعْتَکَفَ عِشْرِیْنَیَوْمًا۔ (مسند احمد: ۲۱۶۰۰)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک سفر کرنا پڑ گیا، جس کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف نہ کر سکے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اگلے سال کو بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3998

۔ (۳۹۹۸) عَنْ اَنَسِ (بْنِ مَالِکٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا کَانَ مُقِیْمًا اِعتْکَفَ َالْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَإِذَا سَافَرَ اِعْتَکَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴۰)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقیم ہوتے تو ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے، لیکن اگر اس دوران سفر پر چلے جاتے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3999

۔ (۳۹۹۹) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَالْعَشْرَ الْاَوْسَطَ، فَمَاتَ حِیْنَ مَاتَ یَعْتَکِفُ عِشْرِیْنَیَوْمًا۔ (مسند احمد: ۹۲۰۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ رمضان کے آخری اور درمیانی دو عشروں کا اعتکاف کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیس دنوں کا اعتکاف کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4000

۔ (۴۰۰۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُجَاوِرُ فِی الْمَسْجِدِ فَیُصْغِی إِلَیَّ رَاْسَہُ فَاُرَجِّلُہُ وَاَنَا حَائِضٌ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۴۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مسجد میں اعتکاف کرتے تواپنا سر مبارک میری طرف جھکاتے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کنگھی کرتی، جبکہ میں ان دنوں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4001

۔ (۴۰۰۱) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْتَکَفَ فَیُخْرِجُ إِلَیَّ رَاْسَہُ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاَغْسِلُہُ وَاَنَا حَائِضٌ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۴۲)
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف میں ہوتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد سے میری طرف اپنا سر مبارک نکالتے، پھر میں اس کو دھوتی، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4002

۔ (۴۰۰۲) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُعْتَکِفًا وَکَانَ لَا یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلَّا لِحَاجَۃِ الإِنْسَانِ، قُلْتُ: فََغَسلْتُ رَاْسَہُ وَإِنَّ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ عَتَبَۃَ الْبَابِ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۱۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انسانی ضرورت کے علاوہ گھر میں نہیں آتے تھے، اور جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک دھوتی تو میرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان دروازے کی دہلیز ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4003

۔ (۴۰۰۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ:) اَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: وَإِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُدْخِلُ عَلَیَّ رَاْسَہُ وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ فَاُرَجِّلُہُ وَکَانَ لَا یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلَّا لِحَاجَۃِ الإِنْسَانِ إِلَّا إِذَا اَرَادَ الْوُضُوئَ وَہُوَ مُعْتَکِفٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۳۱)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف اپنا سر کرتے، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کنگھی کرتی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہوتے اور انسانی ضرورت (یعنی بول و براز)کے علاوہ گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے، الّا یہ کہ وضو کرنے کا ارادہ ہوتا تو آ جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4004

۔ (۴۰۰۴) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزَّبِیْرِ وَعَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: وَإِنْ کُنْتُ لَاَدْخُلُ الْبَیْتَ لِلْحَاجَۃِ، وَالْمَرِیْضُ فِیْہِ فَمَا اَسْاَلُ عَنْہُ إِلَّا وَاَنَا مَارَّۃٌ، وَإِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُدْخِلُ عَلَیَّ رَاْسَہُ فَاُرَجِّلُہُ، وَکَانَ لَا یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلَّا لِحَاجَۃٍ قَالَ: یُوْنُسُ، إِذَا کَانَ مُعْتَکِفًا۔ (مسند احمد: ۲۵۰۲۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب میں اعتکاف کے دوران بوجۂ ضرورت گھر جاتی اور وہاں کوئی مریض ہوتا تو میں چلتے چلتے ہی اس کا حال دریافت کر لیتی، اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر میری طرف کرتے اور میں کنگھی کر دیا کرتی اور ایسی حالت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف انسانی ضرورت کی خاطر گھر تشریف لاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4005

۔ (۴۰۰۵) عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیٍّ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتْعَکِفًا فَاَتَیْتُہُ اَزُوْرُہُ لَیْلًا فَحَدَّثْتُہُ ثُمَّ قُمْتُ فَاَنْقَلَبْتُ، فَقَامَ مَعِیَیَقْلِبُنِیْ وَکَانَ مَسْکَنُہاَ فِی دَارِ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْاَنْصَارِ، فَلَمَّا رَاَیَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی رِسْلِکُمَا، إِنَّہَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ۔)) فَقَالَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّیْطَانَ بَجْرِی مِنْ الإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَإِنِّی خَشِیْتُ اَنْ یَقْذِفَ فِی قُلُوْبکِمُاَ شَرَّا، اَوْ، قَالَ: شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۰۰)
۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف میں تھے، میں رات کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ملاقات کے لیے آئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے باتیں کیں، پھر جب میں اٹھ کر واپس جانے لگی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے واپس پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے،ان کی رہائش گاہ اس مقام میں تھی، جو بعد میں سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گھر بن گیا تھا، اتنے میں دو انصاری آدمیوں کا وہاں سے گزر ہوا، جب انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی سے گزرنے لگے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جائو (اور پہلے والی چال ہی چلو)،یہ خاتون میری اہلیہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہے۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، (بڑا تعجب ہے) اے اللہ کے رسول! (اس وضاحت کی کیا ضرورت ہے؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان انسانی جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے، اس لیے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی برا خیال ڈال دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4006

۔ (۴۰۰۶) عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ اَنْ یَعْتَکِفَ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاسْتَأْذَنَتْہُ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَاَذِنَ لَہَا، فَاَمَرَتْ بِبِنَائِہَا فَضُرِبَ وَسَاَلَتْ حَفْصَۃُ عَائِشَۃَ اَنْ تَسْتَأْذِنَ لَہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَفَعَلََتْ، فَاَمَرَتْ بِبِنَائِہَا، فَضُرِبَ، فَلَمَّا رَاَتْ ذَالِکَ زَیْنَبُ اَمَرَتْ بِبِنَائِہَا فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلّٰی اِنْصَرَفَ، فَبَصُرَ بِالْاَبْنِیَۃِ، فَقَالَ: ((ھٰذِہِ؟)) قَالُوْا: بِنَائُ عَائِشَۃَ، وَحَفْصَۃَ، وَزَیْنَبَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((آلبِرَّ اَرَدتُّنَّ بِھٰذَا؟ مَا اَناَ بِمُعْتَکِفٍ۔)) فَرَجَعَ فَلَمَّا اَفْطَرَ اِعْتَکَفَ عَشْرَ شَوَّالٍ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۵۱)
۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کا ذکر کیا،یہ سن کر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اعتکاف کی اجازت لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اجازت دے دی،پھر انہوں نے اپنے لیے ایک خیمے کا حکم دیا،جو نصب کر دیا گیا، اس کے بعد سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا کہ وہ اس کے لیے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اعتکاف کی اجازت طلب کریں۔ انہوں نے اجازت لی لے، چنانچہ انہوں نے بھی اپنے لیے خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا، جو نصب کر دیا گیا۔ جب سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ کچھ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنا خیمہ لگوا لیا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہو کر پھرے تو یہ خیمے دیکھ کر پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدہ عائشہ، سیدہ حفصہ اور سیدہ زینب کے اعتکاف کیلئے خیمے لگائے گئے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس سے تمہارا مقصود نیکی کا ہے؟ میں نے اب اعتکاف نہیں کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آگئے اور جب ماہِ رمضان سے فارغ ہوئے تو شوال کے دس دنوں کا اعتکاف کیا۔