Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

71)

71) یوم عاشوراء

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4094

۔ (۴۰۹۴) عَنْ ہَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَتْہُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْ أَیِّ الشُّہُوْرِ أَعْتَمِرُ؟ قَالَ: ((اِعْتَمِرِیْ فِیْ رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۴۳)
۔ سیدنا ہرم بن خنبش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس مہینہ میں عمرہ کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرو، کیونکہ ماہِ رمضان میں ادا کیا ہوا عمرہ حج کے برابر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4095

۔ (۴۰۹۴) عَنْ ہَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَتْہُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْ أَیِّ الشُّہُوْرِ أَعْتَمِرُ؟ قَالَ: ((اِعْتَمِرِیْ فِیْ رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۴۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4096

۔ (۴۰۹۶)عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۵۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4097

۔ (۴۰۹۷)عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ اسْتَأْذَنَہُ فِیْ الْعُمْرَۃِ، فَأَذِنَ لَہُ، فَقَالَ: ((یَا أَخِیْ! لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِکَ۔)) وَقَالَ بَعْدُ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ: ((أَشْرِکْنَا فِْی دُعَائِکَ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِہَا مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ لِقَوْلِہٖ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یاَأَخِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اجازت دی اوریہ بھی فرمایا: میرے بھائی! ہمیں اپنی دعائوں میں بھلا نہ دینا۔ راویٔ حدیث شعبہ نے بعد میں مدینہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے: ہمیں اپنی دعاؤںمیں شامل کیے رکھنا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو مجھے اپنا بھائی کہا تھا، یہ چیز مجھے اتنی پسند آئی کہ میں اس کے مقابلے میں پوری دنیا کو ترجیح نہیں دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4098

۔ (۴۰۹۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃُ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَہُمَا مِنَ الذُّنُوْبِ وَالْخَطَایَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ)) (مسند احمد: ۱۵۷۹۲)
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا، یہ عمل اِن دو کے درمیانی عرصے کے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بنتا ہے اور رہا مسئلہ حج مبرور کا تو اس کا بدلہ تو صرف جنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4099

۔ (۴۰۹۹)عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ الْعُمْرَۃِ قَبْلَ الْحَجِّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لاَ بَأْسَ عَلٰی أَحَدٍ یَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ۔ قَالَ عِکْرِمَۃُ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: اِعْتَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ۔ (مسند احمد: ۵۰۶۹)
۔ عکرمہ بن خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قبل از حج عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: حج سے پہلے عمرہ کرنے والے پر کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود حج سے پہلے عمرہ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4100

۔ (۴۱۰۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فِیْ نَفَرٍ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ، نُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ مِنْہَا، فَلَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَقُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ وَلَمْ نَحُجَّ قَطُّ، أَفَنَعْتَمِرُ مِنْہَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ ذٰلِکَ؟ فَقَدِ اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُمَرَہُ کُلَّہَا قَبْلَ حَجَّتِہِ وَاعْتَمَرْنَا۔ (مسند احمد: ۶۴۷۵)
۔ (دوسری سند) عکرمہ کہتے ہیں: میں اہل مکہ کے چند افراد کے ہمراہ مدینہ منورہ آیا، دراصل ہم وہاں سے عمرہ کے لئے جانا چاہتے تھے، میری ملاقات سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہو گئی، میں نے ان سے پوچھا: ہم مکہ کے رہنے والے لوگ ہیں، اب ہم مدینہ آئے ہوئے ہیں، ہم نے کبھی بھی حج نہیں کیا، تو کیا اب ہم یہاں سے عمرہ کر سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بھلا کون سی چیز تمہیں اس سے مانع ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو اپنے سارے عمرے حج سے پہلے کئے تھے اور ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہ عمرے کیے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4101

۔ (۴۱۰۱) عَنْ أَبِیْ عِمْرَانَ اَسْلَمَ، أَنَّہُ قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِیَّ فَدَخَلْتُ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ؟ قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ، اِعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ: مَنْ کَانَ صَرُوْرَۃً فَلَا یَصْلُحُ أَنْ یَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، قَالَ: فَسَأَلْتُ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ:، فَرَجَعْتُ إِلَیْہَا فَأَخْبَرْتُہَا بِقَوْلِہِنَّ، قَالَ: فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأَشْفِیْکَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَہِلُّوا یَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَۃٍ فِیْ حَجٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۸۳)
۔ ابو عمران اسلم کہتے ہیں: میں اپنے آقائوں کی معیت میں حج کے لئے گیا، میں سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: کیا میں حج سے قبل عمرہ کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی تمہاری مرضی ہے، اگر چاہو تو حج سے پہلے عمرہ کر لو اور چاہو تو بعد میں کر لو۔ میں نے کہا کہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے پہلے حج نہ کیا ہو وہ عمرہ نہیں کر سکتا۔ پھر میں نے دیگر امہات المومنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہی مسئلہ دریافت کیا تو ان سب نے وہی بات کہی جو سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہی تھی، میں نے واپس آ کر ان کو یہ بات بتائی، پھر انھوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، لیکن میںتمہاری مزید تشفی کر دیتی ہوں اور وہ اس طرح کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اے آلِ محمد! حج کے ساتھ عمرے کا تلبیہ بھی کہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4102

۔ (۴۱۰۲)عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، وَاعْتَمَرَ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَقَدْ عَلِمَ أَنَّہُ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ بِعُمْرَتِہِ الَّتِیْ حَجَّ فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۳۲)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عمرہ حج سے پہلے کیا اور ایک اور عمرہ حج سے پہلے کیا، لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: وہ جانتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کیے تھے اور ان میں سے ایک عمر ہ، حج کے ساتھ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4103

۔ (۴۱۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حَاضَتْ فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا غَیْرَ أَنَّہَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ، فَلَمَّا طَہُرَتْ طَافَتْ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَنْطَلِقُوْنَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَبِیْ بَکْرٍ أَنْ یَخْرُجَ مَعَہَا إِلَی التَّنْعِیْمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِیْ ذِیْ الْحِجَّۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۳۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا (حج کے موقع پر) حائضہ ہو گئیں، لیکن انھوں نے بیت اللہ کے طواف کے علاوہ سارے مناسکِ حج ادا کیے، پھر انھوں نے پاک ہونے کے بعد طواف کر لیا، جب لوگ واپس جانے لگے تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگ تو حج اور عمرہ ادا کرکے جا رہے ہیں اور میں صرف حج کرکے واپس جاؤں؟ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم کی طرف جائیں، (تاکہ یہ عمرہ کر سکیں)، پھر انھوں نے ذوالحجہ میں ہی حج کے بعد عمرہ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4104

۔ (۴۱۰۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ، فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ حَتّٰی حَاضَتْ، فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا وَقَدْ أَہَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَالنَّحْرِ: ((یَسَعُکِ طَوَافُکِ لِحَجِّکِ وَلِعُمْرَتِکِ۔)) فَأَبَتْ، فَبَعَثَ بِہَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ إِلَی التَّنْعِیْمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۴۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرے کا احرام باندھا، لیکن جب وہ مکہ پہنچیں تو ابھی تک انہوںنے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ وہ حائضہ ہو گئیں، پھر انہوں نے حج کا احرام باندھ لیا اور تمام مناسک ادا کئے، دس ذوالحجہ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تمہارا طواف تمہارے حج اور عمرے دونوں کے لیے کافی ہو گا۔ لیکن انھوں نے اس چیز کو تسلیم نہ کیا، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حج کے بعد ان کے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم بھیجا، اس طرح انھوں نے عمرہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4105

۔ (۴۱۰۵)عَنْ عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْبَجَلِیِّ السَّلَمِیِّ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ الْعُمْرَۃِ بَعْدَ الْحَجِّ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعِیَ أَخِی فَخَرَجْتُ مِنَ الْحَرَمِ فَاعْتَمَرْتُ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۳۶)
۔ عیسیٰ بن عبد الرحمن کی ماں بیان کرتی ہیں کہ انہوںنے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے حج کے بعد عمرہ کرنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے یوں جواب دیا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ہمراہ میرے بھائی کو بھیجا تھا، میں حرم سے باہر نکل گئی تھی اور پھر وہاں سے عمرہ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4106

۔ (۴۱۰۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَا أَعْمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَائِشَۃَ لَیْلَۃَ الْحَصْبَۃِ إِلَّا قَطْعًا لِأَمْرِ أَہْلِ الشِّرْکِ، فَإِنَّہُمْ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَدَخَلَ صَفَرْ، فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَۃُ لِمَنِ اعْتَمَرْ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کے بعد وادیٔ محصّب والی رات کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو صرف اس لیے عمرہ کرایا تھا تا کہ مشرکین کے ایک نظریے کو ختم کر دیں، کیونکہ وہ یہ کہا کرتے تھے: جب (حج کے سفر کے بعد) اونٹوں سے سفر کی مشقت کے آثار زائل ہو جائیں، راستوں سے (حاجیوں کے قافلوں کے) نشانات مٹ جائیںاور ماہِ صفر آ جائے تو تب عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ کرنا حلال ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4107

۔ (۴۱۰۷) عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَہَ قَالَ: قَالَ عُرْوَۃُ لِإبْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَتّٰی مَتٰی تُضِلُّ النَّاسَ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا ذَاکَ یَا عُرْوَۃُ؟ قَالَ: تَأْمُرُنْاَ بِالْعُمْرَۃِ فِیْ أَشْہُرِ الْحَجِّ وَقَدْ نَہٰی أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ فَعَلَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عُرُوْۃُ: کَانَا ہُمَا أَتْبَعَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَعْلَمَ بِہِ مِنْکَ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۷)
۔ عروہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابن عباس! آپ کب تک لوگوں کو گمراہ کرتے رہیں گے؟ انہوں نے کہا: عروہ! کیا بات ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایسا کرنے سے منع کرتے تھے، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عمل تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کیا ہے۔ عروہ نے کہا: لیکن وہ دونوں آپ کی بہ نسبت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیادہ اتباع کرنے والے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4108

۔ (۴۱۰۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْعُمْرَۃِ أَوْاجِبَۃٌ ہِیَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَیْرٌ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ عمرہ کے بارے میں ذرا بتلائیں کہ کیایہ واجب ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، لیکن اگر تم عمرہ کرو گے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4109

۔ (۴۱۰۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ذَکَرُوْا الرَّجُلَ یُہِلُّ بِعُمْرَۃٍ فَیَحِلُّ، ہَلْ لَہُ أَنْ یَأْتِیَیَعْنِیْ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَنْ یَطُوْفَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ: لَا حَتّٰییَطُوْفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، وَسَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَقَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَطَافَبِالْبَیْتِ سَبْعًا فَصَلّٰی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ،ثُمَّ قَالَ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (مسند احمد: ۴۶۴۱)
۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ لوگوں نے یہ بات ذکر کی کہ ایک آدمی عمرے کا احرام باندھتا ہے، پھر وہ احرام کھول دیتا ہے توکیا صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے ہم بستری کر سکتا ہے، پھر ہم نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: نہیں، جب تک وہ صفا مروہ کی سعی نہ کر لے، اس وقت تک یہ کام نہیں کر سکتا، پھر ہم نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیںاور پھر صفا مروہ کی سعی کی۔ اس کے بعد سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت پڑھی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … یقینا تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (سورۂ احزاب: ۲۱)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4110

۔ (۴۱۱۰) عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَزَا تِسْعَ عَشْرَۃَ، وَأَنَّہُ حَجَّ بَعْدَ مَا ہَاجَرَ حَجَّۃً وَاحِدَۃً، حَجَّۃَ الْوَدَاعِ، قَالَ أَبُوْ إِسْحَاقَ: وَبِمَکَّۃَ أُخْرٰی۔ (مسند احمد: ۱۹۵۱۳)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انیس غزوے کیے اور ہجرت کے بعد صرف ایک حج کیا، جو کہ حجۃ الوداع تھا۔ ابو اسحاق نے کہا: ایک حج آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (قبل از ہجرت) مکہ میں کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4111

۔ (۴۱۱۱) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: کَمْ اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، عُمْرَتَہُ الَّتِی صَدَّہُ عَنْہَا الْمُشْرِکُوْنَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ أَیْضَاً فِیْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ حِیْنَ قَسَمَ غَنِیْمَۃَ حُنَیْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ مَعَ حَجَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۰۰)
۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے کہا: چار،پہلا وہ عمرہ جس سے مشرکوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روک دیا تھا، یہ ذی قعدہ میں تھا، دوسرا جو اگلے سال کیا تھا، یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، تیسرا جو غزوۂ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت جعرانہ سے کیا تھا اور یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، اور چوتھا جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4112

۔ (۴۱۱۱) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: کَمْ اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، عُمْرَتَہُ الَّتِی صَدَّہُ عَنْہَا الْمُشْرِکُوْنَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ أَیْضَاً فِیْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ حِیْنَ قَسَمَ غَنِیْمَۃَ حُنَیْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ مَعَ حَجَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کئے، ایک عمرۂ حدیبیہ ، دوسرا عمرۂ قضا، تیسرا جعرانہ مقام سے اور چوتھا حج کے ساتھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4113

۔ (۴۱۱۳) عَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ، کُلُّ ذٰلِکَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِیُلَبِّی حَتّٰییَسْتَلِمَ الْحَجَرَ۔ (مسند احمد: ۶۶۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین عمرے کئے تھے اور یہ سارے ذوالقعدہ میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلبیہ جاری رکھتے، یہاں تک حجرِ اسود کا استلام کر لیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4114

۔ (۴۱۱۴)عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ وَلَقَدْ اِعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۳۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذی قعدہ میں ہی عمرے کئے تھے اور کل تین عمرے کیے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4115

۔ (۴۱۱۵) عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سُئِلَ کَمِ اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: مَرَّتَیْنِ ، فَقَالَتْ: عاَئِشَۃُ: لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِ اعْتَمَرَ ثَلَاثَۃً، سِوَی الَّتِیْ قَرَغہَاَ بِحَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد:۵۳۸۳)
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: دو، لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو علم ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج والے عمرے کے علاوہ کل تین عمرے کئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4116

۔ (۴۱۱۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَحَالَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَنَحَر ہَدْیَہُ، وَحَلَقَ رَأْسَہُ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ، فَصَالَحَہُمْ عَلٰی أَنْ یَعْتَمِرُوْا الْعَامَ الْمُقْبِلَ، وَلَا یَحْمِلُ السِّلَاحَ عَلَیْہِمْ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَلَا یَحْمِلُ سِلَاحًا) إِلَّا سُیُوْفًا وَلَا یُقِیْمُ بِہَا إِلَّا مَا أَحَبُّوْا، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَدَخَلَہَا کَمَا کَانَ صَالَحَہُمْ، فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلَاثًا أَمْرُوْہُ أَنْ یَخْرُجَ فَخَرَجَ۔ (مسند احمد: ۶۰۶۷)
۔ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے، لیکن کفارِ قریش آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہی ہَدی کاجانور ذبح کر دیا اور اپنا سر منڈوا لیا، اور ان کے ساتھ یہ معاہدہ ہواکہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کے لئے آ سکیں گے اور ان میں سے کوئی مسلح نہ ہو گا، البتہ ان کے پاس صرف تلواریں ہوں گی اور وہ اس وقت تک ٹھہر سکیں گے، جب تک کفار چاہیں گے، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آئندہ سال آ کر عمرہ کیا، معاہدہ کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دن قیام کر لیا تو انہوںنے کہا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے جائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4117

۔ (۴۱۱۷) عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَا: قَلَّدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْہَدْیَ وَأَشْعَرَہُ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ وَأَحْرَمَ مِنْہَا بِالْعُمْرَۃِ، وَحَلَقَ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ فِی عُمْرَتِہِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ بِذَالِکَ، وَنَحَرَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ قَبْلَ أَنْ یَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۲۸)
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا مروان بن حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہَدی کے جانوروں کو قلادے ڈالے، ذوالحلیفہ کے مقام پر ان کے پہلوئوں پر علامتی چیرا دیا اور وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، لیکن حدیبیہ کے مقام پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرمنڈوا دیا اور اپنے صحابہ کو بھییہی کچھ کرنے کا حکم دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر منڈوانے سے پہلے ہدی کو نحر کیا تھا اور صحابہ کو بھییہی حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4118

۔ (۴۱۱۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَہُ، وَصَلّٰی وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکُنَّا نَسْتُرُہْ ُمِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ لَا یُصِیْبُہُأَحَدٌ بِشَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ کیا تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ طواف کیا اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی تو ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی، ہم نے اس دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھیرے میں لئے رکھا تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مکہ والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی نقصان پہنچا دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4119

۔ (۴۱۱۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَہُ، وَصَلّٰی وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکُنَّا نَسْتُرُہْ ُمِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ لَا یُصِیْبُہُأَحَدٌ بِشَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۴۰)
۔ اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھاکہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4120

۔ (۴۱۲۰)عَنْ مُحَرِّشٍ الْکَعْبِیِّ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ لَیْلًا مِنَ الْجِعْرَانَۃِ، حِیْنَ أَمْسٰی مُعْتَمِرًا فَدَخَلَ مَکَّۃَ لَیْلًا فَقَضٰی عُمْرَتَہُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ لَیْلَتِہِ فَأَصْبَحَ بِالْجِعْرَانَۃِ کَبَائِتٍ حَتّٰی إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِیْ بَطْنِ سَرِفَ، حَتّٰی جَامَعَ الطَّرِیْقَ طَرِیْقَ الْمَدِیْنَۃِ بِسَرِفَ، قَالَ مُحَرِّشٌ: فَلِذٰلِکَ خَفِیَتْ عُمْرَتُہُ عَلٰی کَثِیْرٍ مِنَ النَّاسِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ:) فَنَظَرْتُ إِلٰی ظَھْرِہِ کَأَنَّہُ سَبِیْکَۃُ فِضَّۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۰۴)
۔ سیدنا محرش کعبی خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ کرنے کے لیے رات کو جعرانہ سے روانہ ہوئے اوررات کو مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا، پھر اسی رات کو وہاں سے نکل آئے اور صبح کے وقت جعرانہ میں تھے، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جعرانہ میں ہی رات گزاری ہے، پھر جب سورج ڈھل گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جعرانہ سے وادیٔ سرف کی طرف نکلے اور سرف سے نکلنے والے مدینہ منورہ والے راستے پر آ گئے۔ سیدنا محرش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس عمرہ کی اطلاع نہ ہو سکی، ایک روایت میں ہے: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت مبارک کی طرف دیکھا گویا وہ (صفائی ستھرائی میں) چاندی کی لڑی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4121

۔ (۴۱۲۱)عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَۃُ بْنُ الزَّبَیْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَجَالَسْنَاہُ قَالَ: فَإِذَا رِجَالٌ یُصَلُّوْنَ الضُّحٰی، فَقُلْنَا: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا ہٰذِہِ الصَّلَاۃُ؟ فَقَالَ: بِدْعَۃٌ، فَقُلْنَا لَہُ: کَمِ اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، إِحْدَاہُنَّ فِیْ رَجَبٍ، قَالَ: فَاسْتَحْیَیْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَسَمِعْنَا اسْتِنانَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَ لَہَا عُرْوَۃُ بْنُ الزَّبَیْرِ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَلاَ تَسْمَعِیْ مَا یَقُوْلُ أَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ؟ یَقُوْلُ: اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعًا إِحْدَاہُنَّ فِیْ رَجَبٍ، فَقَالَتْ: یَرْحَمُ اللّٰہُ أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ، أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَعْتَمِرْ عُمْرَۃً إلِاَّ وَہُوَ شَاہِدُہَا، وَمَا اعْتَمَرَ شَیْئًا فِی رَجَبٍ۔ (مسند احمد:۶۱۲۶)
۔ مجاہدکہتے ہیں: میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے، وہاں کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔ ہم نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ انھوں نے کہا: چار اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ یہ سن کر ہم اس سے شرما گئے کہ ان کی غلطی کی نشاندہی کر سکیں، اتنے میں ہم نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی، عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: ام المؤمنین! کیا آپ سن نہیں رہیں کہ ابو عبد الرحمن کیا کہہ رہے ہیں، وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ یہ سن کر سیدہ نے کہا: اللہ ابو عبد الرحمن پر رحم کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو بھی عمرہ کیا، وہ اس موقع پر حاضر ہو تے تھے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4122

۔ (۴۱۲۲) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَائً یَقُوْلُ: أَخْبِرْنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزَّبَیْرِ قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ، مُسْتَنِدَیْنِ إِلٰی حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا إِنَّا لَنَسْمَعُہَا، تَسْتَنُّ، قُلْتُ: أَمَّاہ! مَا تَسْمَعِیْنَ ماَ یَقُوْلُ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَتْ: مَا یَقُوْلُ؟ قُلْتُ: یَقُوْلُ اِعْتَمَر النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجَبٍ، قَالَتْ: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِأَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، نَسِیَ، مَا اعْتَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجَبٍ قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ یَسْمَعُ فَمَا قَالَ لاَ وَلَا نَعَمْ، سَکَتَ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۸۳)
۔ (دوسری سند) عروہ بن زبیر کہتے ہیں: میں اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حجرۂ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ہم ان کے مسواک کرنے کی آواز سن رہے تھے، میں نے کہا: اماں جان! کیا آپ نے ابو عبد الرحمن کی بات نہیں سنی؟ انھوں نے کہا: وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا: وہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجب میں عمرہ کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالی ابو عبد الرحمن کو بخشے، وہ بھول گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا تھا۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ ساری بات سن رہے تھے، لیکن انھوں نے نہ منفی میں کچھ کہا اور نہ اثبات میں، بلکہ خاموش رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4123

۔ (۴۱۲۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِیْ حَدَّثَنَا یَحْیٰی حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ: أَتَیْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَہُوَ فِیْ بَنِی سَلِمَۃَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ حَجَّۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَثَ بِالْمَدِیْنَۃِ تِسْعَ سِنِیْنَ لَمْ یَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِیْ النَّاسِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجٌّ ہٰذَا الْعَامَ، قَالَ: فَنَزَلَ الْمَدِیْنَۃَبَشَرٌ کَثِیْرٌ کُلُّہُمْ یَلْتَمِسُ أَنْ یَحُجَّ وَیَأْتَمَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَفْعَلَ مِثْلَ مَا یَفْعَلُ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَشْرٍ بَقِیْنَ مِنْ ذِیْ الْقَعْدَۃِ وَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتّٰی أَتٰی ذَا الْحُلَیْفَۃِ نَفِسَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : کَیْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: ((اِغْتَسِلِیْ، ثُمَّ اسْتَذْفِرِی بِثَوْبٍ ثُمَّ أَہِلِّی۔)) فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا اسْتَوَتْ بِہِ نَاقَتُہُ عَلَی الْبَیْدَائِ أَہَلَّ بِالتَّوْحِیْدِ ((لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ)) وَلَبَّی النَّاسُ، وَالنَّاسُ یَزِیْدُوْنَ ذَا الْمَعَارِجِ، وَنَحْوَہُ مِنَ الْکَلَامِ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْمَعُ فَلَمْ یَقُلْ لَہُمْ شَیْئًا، فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِی، وَبَیْنَیَدَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ رَاکِبٍ وَمَاشٍ، وَمِنْ خَلْفِہِ مِثْلُ ذَالِکَ، وَعَنْ یَمِیْنِہِ مِثْلُ ذَالِکَ وَعَنْ شِمَالِہِ مِثْلُ ذَالِکَ، قَالَ جَابِرٌ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ أَظْہُرِنَا عَلَیْہِیَنْزِلُ الْقُرْاٰنُ وَہُوَ یَعْرِفُ تَأْوِیْلَہُ وَمَا عَمِلَ بِہِ مِنْ شَیْئٍ عَمِلْنَا بِہِ، فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِی إِلَّا الْحَجَّ حَتّٰی أَتَیْنَا الْکَعْبَۃَ فَاسْتَلَمَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَۃً وَمَشٰی أَرْبَعَۃً حَتّٰی إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلٰی مَقَامِ إِبْرَاہِیْمَ فَصَلّٰی خَلْفَہُ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَرَأَ {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی} قَالَ أَبِی: قَالَ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی جَعْفَرًا، فَقَرَأَ فِیْہِمَا بِالتَّوْحِیْدِ، وَ {قُلْ یَآ أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، وَخَرَجَ إِلَی الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ} ثُمَّ قَالَ: ((نَبَدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ بِہِ۔)) فَرَقِیَ عَلَی الصَّفَا حَتّٰی إِذَا نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ کَبَّرَ قَالَ: ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَصَدَّقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔)) ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی ہٰذَا الْکَلَامِ ، ثُمَّ نَزَلَ حَتّٰی إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاہُ فِی الْوَادِی رَمَلَ، حَتّٰی إِذَا صَعِدَ مَشٰی حَتّٰی أَتَی الْمَرْوَۃَ فَرَقِیَ عَلَیْہَا حَتّٰی نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ فَقََالَ عَلَیْہَا کَمَا قَالَ عَلَی الصَّفَا، فَلَمَّا کَانَ السَّابِعُ عِنْدَ الْمَرْوَۃِ، قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنِّی لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُہٗلَمْأَسُقِ الْہَدْیَ، وَلَجَعَلْتُہَا عُمْرَۃً فَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیَحْلِلْ، وَلْیَجْعَلْہَا عُمْرَۃً۔)) فَحَلَّ النَّاسُ کُلُّہُمْ، فَقَالَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ وَہُوَ فِیْ أَسْفَلِ الْمَرْوَۃِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلِعَامِنَا ہٰذَا أَمْ لِلْاَبَدِ؟ فَشَبَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَأَصَابِعَہُفَقَالَ: ((لِلْاَبَدِ۔)) ثَلَاثَمَرَّاتٍ،ثُمَّقَالَ: ((دَخَلَتِالْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: وَقَدِمَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ فَقَدِمَ بِہَدْیٍ، وَسَاقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ ہَدْیًا، فَإِذَا فَاطِمَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَدْ حَلَّتْ وَلَبِسَتْ ثِیَابَہَا صَبِیْغًا، وَاکْتَحَلَتْ فَأَنْکَرَ ذَالِکَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَیْہَا، فَقَالَتْ: أَمَرَنِی بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ بِالْکُوْفَۃِ، قَالَ جَعْفَرٌ قَالَ أَبِی ہَذَا الْحَرْفُ لَمْ یَذْکُرْہُ جَابِرٌ، فَذَہَبْتُ مُحَرِّشًا، أَسْتَفْتِی بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الَّذِیْ ذَکَرَتْ فَاطِمَۃُ، قُلْتُ إِنَّ فَاطِمَۃَ لَبِسَتْ ثِیَابَہَا صَبِیْغًا وَ اکْتَحَلَتْ وَقَالَتْ: أَمَرَنِی بِہِ أَبِی، قَالَ: ((صَدَقَتْ صَدَقَتْ أَنَا أَمَرَتُہَا بِہِ۔)) قَالَ جَابِرٌ: وَقَالَ لِعَلِیٍّ: ((بِمَ أَہْلَلْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّی اُھِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُوْلُکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَمَعِیَ الْہَدْیُ، قَالَ: ((فَلَا تَحِلَّ۔)) قَالَ: فَکَانَتْ جَمَاعَۃُ الْہَدْیِ الَّذِیْ أَتٰی بِہِ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنَ الْیَمِنْ ِوَالَّذِی أَتَی بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِائَۃً فَنَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِ ہِ ثَلَاثَۃً وَسِتِّیْنَ، ثُمَّ أَعْطٰی عَلِیًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ، وَأَشْرَکَہُ فِی ہَدْیِہِ، ثُمَّ اََمَرَ مِنْ کُلِّ بَدَنَۃٍ بِبَضْعَۃٍ، فَجُعِلَتْ فِیْ قِدْرٍ َأَکَلَا مِنْ لَحْمِھَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِہَا، ثُمَّ قَالَ نَبِیُّ اللّٰہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((قَدْ نَحَرْتُ ھٰھُنَا وَمِنًی کُلُّھَا مَنْحَرٌ۔)) وَوَقَفَ بِعَرَفَۃَ ‘ فَقَالَ: ((وَقَفْتُ ھٰھُنَا وَعَرَفَۃُ کُلُّہَا مَوْقِفٌ۔)) وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ، فَقَالَ: ((وَقَفْتُ ہٰہُنَا، وَالْمُزْدَلِفَۃُ کُلُّہَا مَوْقِفٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۳)
۔ جعفر کے والد کہتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کیا پاس گئے، جبکہ وہ ان دنوں بنو سلمہ محلے میں مقیم تھے، ہم نے ان سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں نو سال بسر کئے اور اس عرصہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج نہیں کیا،اس کے بعد لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ اس سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج کے لئے تشریف لے جا رہے ہیں،یہ اعلان سن کر بے شمار لوگ مدینہ منورہ میں جمع ہو گئے، ہر آدمی چاہتا تھا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا کرے اور وہی افعال کرے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سرانجام دیں، چنانچہ ذی قعدہ کے دس روز باقی تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر شروع کر دیا،ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں روانہ ہو گئے۔ جب ہم ذوالحلیفہ مقام پر پہنچے تو سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے محمد بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنم دیا، انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ اب وہ کیا کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غسل کرکے لنگوٹ کس لے اور احرام باندھ لے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے آگے بڑھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری بیدائ پر سیدھی ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ کلمہٗتوحید پڑھا: لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھا، لوگ اپنے تلبیہ میں ذَا الْمَعَارِجِ (اے بلندیوں والے) وغیرہ کے الفاظ بھی بڑھا رہے تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے یہ الفاظ سنے، مگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کچھ نہ کہا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، تاحدِّ نظر انسان ہی انسان تھے، کوئی سوار تھا اورکوئی پیدل۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن نازل ہوتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی اس کی بہترین تفسیر جانتے تھے، جیسے جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمل کئے، ہم بھی اسی کے مطابق کرتے گئے، ہم حج کی نیت سے روانہ ہوئے تھے، جب ہم کعبہ پہنچے تونبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر تین چکروں میں ذرا تیز اور چار چکروں میں ذرا آہستہ چال چل کر بیت اللہ کا طواف کیا، اس سے فارغ ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقام ابراہیم کے پاس آئے اور اس کے پیچھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی اور پھر یہ آیت تلاوت کی: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی} …( تم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کرو۔) ((سورۂ بقرہ : ۱۲۵)) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کی دو رکعتوں میں سورۂ اخلاص اور سورۂ کافرون کی تلاوت کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود کا بوسہ لیا اور صفاکی طرف چلے گئے اور یہ آیت تلاوت کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ} … (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس سے اللہ نے ابتدا کی، ہم بھی اسی سے آغاز کریں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا کے اوپر اس قدر چڑھ گئے کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَصَدَّقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلاہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے اور تعریف بھی اسی کی ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اس نے اپنے بندے یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سچا کر دکھایا اور وہ اکیلا تمام جماعتوں اور گروہوں پر غالب رہا)اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں دعائیں کیں۔ بعد ازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا سے نیچے تشریف لائے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی کے درمیان پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوڑے، جب بلندی شروع ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آہستہ آہستہ چلنے لگے تاآنکہ مروہ پر پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مروہ کے اوپر چلے گئے یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا،وہاں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح دعائیں کیں جیسے صفا پر کی تھیں۔ جب مروہ کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتواں چکر تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! جو بات مجھے اب پتہ چلی ہے، اگر یہ مجھے پہلے پتہ ہوتی تو میںقربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا اور اس عمل کو عمرہ بنا دیتا، اب جن لوگوں کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ اپنے اس عمل کو عمرہ بنا لیں اور احرام کھول دیں، چنانچہ سب لوگ (جن کے پاس قربانی نہیں تھی) حلال ہو گئے۔سیدنا سراقہ بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو اس وقت مروہ سے نیچے تھے، نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں میں عمرہ کییہ اجازت اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کیلئے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر تین مرتبہ فرمایا: ہمیشہ کے لئے ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ اُدھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے قربانی کے جانور ساتھ لے کر آئے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ سے یہ جانور لے کر آئے تھے۔سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے عمرہ کے بعد احرام کھول دیا تھا اور رنگین لباس پہن لیا تھا اور سرمہ بھی ڈال لیا تھا، لیکن ان کا یہ عمل سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اچھا نہ لگا، جب انہوںنے اس پر انکار کیا تو انہوں نے کہا: مجھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کوفہ میں یہ بات بیان کی تھی کہ وہ غصے کی حالت میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گیا اور کہا کہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رنگ دار کپڑے پہن لئے ہیں اور سرمہ بھی ڈال لیا ہے اور کہتی ہے کہ اس کو اس کے والد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ٹھیک کہتی ہے، (تین بار فرمایا) میں نے ہی اسے یہ حکم دیا تھا۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: تم نے تلبیہ پڑھتے وقت کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے کہا تھا کہ جس طرح کی نیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہے، میری بھی وہی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے پاس تو قربانی کا جانور ہے، لہٰذا تم بھی احرام کی حالت میں ہی ٹھہرو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ سے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے جو جانور لے کر آئے تھے، ان کی مجموعی تعداد (۱۰۰) تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (۶۳) اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے اور باقی اونٹ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نحر کئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں قربانی میں شریک کیا تھا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر اونٹ کا ایک ایک ٹکڑا لے کر پکانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ گوشت ایک ہنڈیا میں ڈال کر پکایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ نوش کیا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں جانور ذبح کئے ہیں،تاہم پورامنی قربان گاہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں ایک مقام پر قیام کیا اورفرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہے، تاہم پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں ایک مقام پر وقوف کیا اور فرمایا: میں نے تو یہاں ٹھہرا ہوا ہوں، تاہم پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4124

۔ (۴۱۲۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ، إِلٰی قَوْلِہِ: ((لَوِ اسْتَقبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْہَدْیَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْہَدْیَ لَأَحْلَلْتُ، أَلَا فَخُذُوْا مَنَاسِکَکُمْ۔)) قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّہِمْ، حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ، وَأَرَادُوْ التَّوَجُّہَ إِلٰی مِنًی، أَہَلُّوْا بِالْحَجِّ، قَالَ: فَکَانَ الْہَدْیُ عَلٰی مَنْ وَجَدَ، وَالصِّیَامُ عَلَی مَنْ لَمْ یَجِدْ، وَأَشْرَکَ بَیْنَہُمْ فِی ہَدْیِہِمْ، الْجَزُوْرُ بَیْنَ سَبْعَۃٍ، وَالْبَقْرَۃُ بَیْنَ سَبْعَۃٍ، وَکَانَ طَوَافُہُمْ بِالْبَیْتِ وَسَعْیُہُمْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ لِحَجِّہِمْ وَعُمْرَتِہِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْیًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۱۵۰۰۶)
۔ (دوسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان تک تو یہ حدیث اسی طرح مروی ہے: جو بات مجھے اب پتہ چلی ہے، اگر یہ مجھے پہلے پتہ ہوتی تو میںقربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں قربانی کا جانور ہمراہ نہ لایا ہوتا تو میں بھی اب حلال ہو جاتا، خبردار! تم احکام حج سیکھ لو۔ یہ سن کر لوگ حلال ہو گئے، جب ترویہ کا دن یعنی ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ ہوئی اور لوگ منیٰ کی طرف جانے لگے تو انہوں نے حج کا تلبیہ پڑھا، استطاعت رکھنے والوں پر قربانی تھی اور قدرت نہ رکھنے والوں پر روزے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گائے اور اونٹ کی قربانی میں سات سات آدمیوں کو شریک کیا اور جو لوگ حج (قران) کر رہے تھے، ان کا حج اور عمرے دونوں کے لیے ایک ایک طواف اور ایک ایک سعی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4125

۔ (۴۱۲۵) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ بِعَرَفَۃَ وَہُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ فَقَالَ: ((ہٰذَا الْمَوْقِفُ وَکُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ۔)) ثُمَّ دَفَعَ یَسِیْرُ الْعَنَقَ، وَجَعَلَ النَّاسُ یَضْرِبُوْنَیَمِیْنًا وَشِمَالًا وَہُوَ یَلْتَفِتُ وَیَقُوْلُ: ((اَلسَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ! السَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ!)) حَتّٰی جَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ، وَجَمَعَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ فَوَقَفَ عَلَی قُزَحَ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ، وَقَالَ: ((ہٰذَا الْمَوْقِفُ، وَکُلُّ الْمُزْدَلِفَۃِ مَوْقِفٌ۔)) ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ یَسِیْرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ یَضْرِبُوْنَیَمِیْنًا وَشِمَالًا وَہُوَ یَلْتَفِتُ وَیَقُوْلُ: ((اَلسَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ!)) حَتّٰی جَائَ مُحْسِّرًا فَقَرَعَ رَاحِلَتَہُ، فَخَبَّبَ حَتّٰی خَرَجَ، ثُمَّ عَادَ لِسَیْرِہِ الْأَوَّلِ حَتّٰی رَمَی الْجَمْرَۃَ، ثُمَّ جَائَ الْمَنْحَرَ فَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَنْحَرُ وَکُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ۔)) ثُمَّ جَائَتْہُ امْرَأَۃٌ شَابَّۃٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِی شَیْخٌ کَبِیْرٌ وَقَدْ أَفْنَدَ، وَأَدْرَکَتْہُ فَرِیْضَۃُ اللّٰہِ فِیْ الْحَجِّ وَلَا یَسْتَطِیْعُ أَدَائَہَا فَیُجْزِیئُ عَنْہُ أَنْ أُؤَدِّیَہَا عَنْہُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ۔)) وَجَعَلَ یَصْرِفُ وَجْہَ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسٍ عَنْہَا، ثُمَّ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّی رَمَیْتُ الْجَمْرَۃَ وَأَفَضْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَحْلِقَ، قَالَ: ((فَلَا حَرَجَ، فَاحْلِقْ۔)) ثُمَّ أَتَاہُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: إِنِّی رَمَیْتُ وَحَلَقْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ، فَقَالَ: ((لَا حَرَجَ فَانْحَرْ۔)) ثُمَّ أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَدَعَابِسَجْلٍمِنْمَائِزَمْزَمَفَشَرِبَ مِنْہُ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنْزِعُوْا یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! فَلَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوْا عَلَیْہَا لَنَزَعْتُ۔)) قَالَ الْعَبَّاسُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی رَأَیْتُکَ تَصْرِفُ وَجْہَ ابْنِ أَخِیْکَ، قَالَ: ((إِنِّی رَأَیْتُ غُلَامًا شَابًّا وَجَارِیَۃً شَابَّۃً فَخَشِیْتُ عَلَیْہِمَا الشَّیْطَانَ۔)) (مسند احمد: ۵۶۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سواری پر اپنے پیچھے سوار کر رکھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے یہاں وقوف کیا ہے، تاہم سارا عرفہ جائے وقوف ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذرا تیز چلے اور لوگ بھی دائیں بائیں پھیل گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: لوگو! سکون سے، لوگو! آرام سے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے چلتے مرذلفہ میں پہنچ گئے، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو نمازیں (مغرب اور عشائ) جمع کر کے ادا کیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ ہی میں ٹھہر گئے اور قُزَح نامی بلند جگہ پر وقوف کیا ، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے یہاں وقوف کیا ہے، تاہم سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے آگے روانہ ہوئے، تیز چلے، لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دائیں بائیں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے جا رہے تھے: لوگو! سکون سے، آرام سے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادیٔ محسر تک جا پہنچے، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری کو کوڑا مارا اور دوڑایایہاں تک کہ وادیٔ محسر پار کر گئے، پھر پہلی رفتار سے چلنا شروع کر دیا،یہاںتک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منیٰ میں جا کر جمرہ (عقبہ) کی رمی کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قربان گاہ میں گئے اور فرمایا: یہ قربان گاہ ہے، تاہم پورا منیٰ قربان گاہ ہے۔ بنو خشعم کی ایک نوجوان خاتون آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے پوچھا : میرا والد کافی بوڑھا ہو چکا ہے، جبکہ اس پر اللہ تعالی کا فریضہ حج لازم ہو چکا ہے، لیکن وہ خود ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چہرے کو اس عورت سے دوسری طرف کو پھیر دیا، پھر ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی اور طواف افاضہ کرنے کے بعد احرام کھول کر لباس پہن لیا ہے، مگر ابھی تک سر نہیں منڈوا سکا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، اب سر منڈا لو۔ ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی اور طواف افاضہ کرکے لباس پہن لیا ہے، لیکن ابھی تک قربانی نہیں کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، تم اب قربانی کر لو۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف افاضہ کیا اور مائے زمزم کا ایک ڈول منگوا کر اس سے پانی پیا اور وضو بھی کیا۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی کنوئیں سے پانی نکالتا، اب تم پانی نکال نکال کر حاجیوں کو پلائو۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بھتیجے (فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کا رخ دوسری طرف پھیر دیا تھا، اس کی وجہ کیا تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ایک نوجوان لڑکے اور نوجوان لڑکی کو دیکھا اور مجھے ان پر شیطان کے حملے کا اندیشہ ہونے لگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4126

۔ (۴۱۲۶) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: تَمَتَّعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ وَأَہْدٰی فَسَاقَ مَعَہُ الْہَدْیَ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ، وَبَدَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ، ثُمَّ أَہَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ، فَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَہْدٰی فَسَاقَ الْہَدْیَ وَمِنْہُمْ مَنْ لَمْ یُہْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِلنَّاسِ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ أَہْدٰی فَإِنَّہُ لَا یَحِلُّ مِنْ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ حَتّٰییَقْضِیَ حَجَّہ، وَمَنْ لَمْ یَکُنْ مِنْکُمْ أَہْدٰی فَلْیَطُفْ بِالْبَیْتِ وَبالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَلْیُقَصِّرْ وَلْیَحْلِلْ، ثُمَّ لِیُہِلَّ بِالْحَجِّ وَلْیُہْدِ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ ہَدْیًا فَلْیَصُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فِیْ الْحَجِّ وَسَبَعَۃً إِذَا رَجَعَ إِلٰی أَہْلِہِ۔)) وَطَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ قَدِمَ مَکَّۃَ اسْتَلَمَ الرُّکْنَ أَوَّلَ شَیْئٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَۃَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشٰی أَرْبَعَۃَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَکَعَ حِیْنَ قَضٰی طَوَافَہُ بِالْبَیْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ، فَأَتَی الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ لَمْ یَحْلِلْ مِنْ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ حَتّٰی قَضٰی حَجَّہُ وَنَحَرَ ہَدْیَہُیَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ أَہْدٰی وَسَاقَ الْہَدْیَ مِنَ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۶۲۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذوالحلیفہ سے قربانی کا جانور ہمراہ لے گئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام کے دوران پہلے عمرہ اور پھر حج کا تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج کے ساتھ عمرہ بھی کیا، کچھ لوگ تو قربانی کا جانور ہمراہ لے گئے تھے، لیکن کچھ لوگوں کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جن کے ساتھ قربانی کا جانور ہے، ان پر احرام کی وجہ سے جو حلال چیز حرام ہو چکی ہے، وہ حج پورا ہونے تک حلال نہیں ہو گی، لیکن جن کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا کر احرام کھول دیں، پھر وہ حج کے لیے علیحدہ احرام باندھیں گے اور قربانی کریں گے، جو آدمی قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین روزے حج کے ایام میںاور سات روزے گھر جا کر رکھے گا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا، اس کے بعد بیت اللہ کے گرد سات چکروں میں سے پہلے تین میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمل کیا اور باقی چار میں عام رفتار سے چلے، طواف مکمل کرنے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مقام ابراہیم کے قریب دو رکعتیں ادا کی اور جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو صفا پر تشریف لے گئے، اور صفا مروہ کی سعی کی اور حج سے فارغ ہونے تک احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی کوئی چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر حلال نہ ہوئی، دس ذوالحجہ کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کی اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی ہر چیز حلال ہو گئی،جو لوگ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے، انھوں نے بھی اسی طرح کے اعمال سرانجام دیئے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ادا کیے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4127

۔ (۴۱۲۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ بِالْمَدِیْنَۃِ أَرْبَعًا، وَصَلَّی الْعَصْرَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتْیِن، وَبَاتَ بِہَا حَتّٰی أَصْبَحَ، فَلَمَّا صَلَّی الصُّبْحَ رَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَلَمَّا انْبَعَثَتْ بِہِ سَبَّحَ وَکَبَّرَ حَتَّی اسْتَوَتْ بِہِ الْبَیْدَائَ، ثُمَّ جَمَعَ بَیْنَہُمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ أَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَحِلُّوْا فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ أَہَلُّوْا بِالْحَجِّ وَنَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعَ بَدَنَاتٍ، بِیَدِہِ قِیَامًا وَضَحّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَبِالْمَدِیْنَۃِ بِکَبْشَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۳۸۶۷)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں نمازِ ظہر کی چار اور ذوالحلیفہ میں پہنچ کر نمازِ عصر کی دو رکعتیں ادا کیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہیں رات بسر کی اورنمازِ فجر کے بعد سواری پر سوار ہو گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی تسبیح و تکبیر بیان کی، پھر جب سواری بیداء پر بلند ہوئی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا۔ پھر جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حلال ہونے کا یعنی احرام کھول دینے کا حکم دیا۔ جب ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ ہوئی تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا، اس موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات اونٹوں کو نحر کیا، جبکہ وہ کھڑے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ میں دو سینگ دار سفید مینڈھے بطور قربانی ذبح کئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4128

۔ (۴۱۲۸) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ: صَدَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ یَوْمَ الصَّدَرِ، فَمَرَّتْ بِنَا رُفْقَۃٌیَمَانِیَّۃٌ وَرِحَالُہُمُ الْاُدُمُ وَخُطُمُ إِبِلِہِمْ الْجُرُرُ، فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَنْظُرَ إِلٰی أَشْبَہِ رُفْقَۃٍ وَرَدَتِ الْحَجَّ الْعَامَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابِہِ إِذَا قَدِمُوْا فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَلْیَنْظُرْ إِلٰی ہٰذِہِ الرُّفْقَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۰۱۶)
۔ سعید کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ حج سے واپس آ رہا تھے، ہمارے قریب سے ایکیمنی قافلہ گزرا، ان کے اونٹوں کے پالان چمڑے کے اور مہاریں بالوں کی تھیں، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو شخص اس سال کے حاجیوں میں ایسے لوگوں کو دیکھنا چاہتا ہو جو حجۃ الوداع میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہوں، وہ اس جماعت کو دیکھ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4129

۔ (۴۱۲۹) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ: قَرَأْتُ عَلٰی أَبِی قُرَّۃَ مَوْسَی بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قَالَ مَوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ وَقَالَ نَافِعٌ، کَانَ عَبْدُاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَۃِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَائِ الَّتِی بِذِی الْحُلَیْفَۃِ (وَأَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ) حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُعَرِّسُ بِہَا حَتّٰییُصَلِّیَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۴)
۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب حج یا عمرہ کے بعد واپس لوٹتے تو ذوالحلیفہ کے قریب بطحاء میں ضرور ٹھہرتے اور کہتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہاں رات بسر کیا کرتے تھے، اور اسی مقام پر نماز فجر ادا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4130

۔ (۴۱۳۰) قَالَ مُوْسٰی (وَأَخْبَرَنِیْ سَالِمٌ) أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ فِیْ مُعَرَّسِہِ فَقِیْلَ لَہُ إِنَّکَ فِی بَطْحَائَ مُبَارَکَۃٍ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بطحاء میں رات بسر کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں بتلایا گیا کہ آپ بابرکت وادیٔ بطحاء میں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4131

۔ (۴۱۳۱) قَالَ: وَقَالَ: (حَدَّثَنَا نَافِعٌ) أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَنْدَ الْمَسْجِدِ الصَّغِیْرِ الَّذِیْ دُوْنَ الْمَسْجِدِ الَّذِیْیُشْرِفُ عَلَی الرَّوْحَائِ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۶)
۔ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روحاء سے اوپر والی مسجد سے ہٹ کر چھوٹی مسجد کی جگہ پر نماز ادا کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4132

۔ (۴۱۳۲) قَالَ: (وَقَالَ: نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْزِلُ تَحْتَ سَرْحَۃٍ ضَخْمَۃٍ دُوْنَ الرُّوَیْثَۃِ عَنْ یَمِیْنِ الطَّرِیْقِ فِیْ مَکَانٍ بَطْحٍ سَہْلٍ حَیْثُیُفْضٰی مِنَ الْأَکَمَۃِ دُوْنَ بَرِیْدِ الرُّوَیْثَۃِ بِمِیْلَیْنِ، وَقَدِ انْکَسَرَ أَعْلاَہَا وَہِیَ قَائِمَۃٌ عَلٰی سَاقٍ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم راستہ کی دائیں جانب رویثہ سے دو میل ہٹ کر کنکروں والی کشادہ اور نرم وادییا میدان میں اس بڑ ے درخت کے نیچے تشریف رکھا کرتے تھے، جس کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے اور اب صرف تنا باقی رہ گیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4133

۔ (۴۱۳۳) (وَقَالَ نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی مِنْ وَرَائِ الْعَرْجِ، وَأَنْتَ ذَاہِبٌ عَلٰی رَأْسِ خَمْسَۃِ أَمْیَالٍ مِنَ الْعَرْجِ فِیْ مَسْجِدٍ إِلٰی ہَضْبَۃٍ، عِنْدَ ذَالِکَ الْمَسْجِدِ قَبْرَانِ أَوْ ثَلَاثَۃٌ، عَلَی الْقُبُوْرِ رَضْمٌ مِنْ حِجَارَۃٍ عَلَییَمِیْنِ الطَّرِیْقِ عِنْدَ سَلِمَاتِ الطَّرِیْقِ، بَیْنَ أُوْلٰئِکَ السَّلِمَاتِ کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یَرُوْحُ مِنَ الْعَرْجِ بَعْدَ أَنْ تَمِیْلَ الشَّمْسُ بِالْہَاجِرَۃِ، فَیُصَلِّی الظُّہْرَ فِی ذَالِکَ الْمَسْجِد۔ (مسند احمد: ۵۵۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرج سے آگے نماز پڑھی تھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب تم عرج سے پانچ میل چلوتو ٹیلہ والی مسجد آئے گی، اس مسجد کے پاس دو تین قبریں بھی ہیں، ان قبروں پر بڑے بڑے پتھر پڑے ہیں، وہاں راستہ کی دائیں جانب کچھ چٹانیںہیں، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان چٹانوں کے بیچ میں سے عرج سے سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے، اور اس مسجد کی جگہ پر نمازِ ظہر ادا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4134

۔ (۴۱۳۴) (وَقَالَ نَافِعٌ): إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ تَحْتَ سَرْحَۃٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: سَرَحَاتٍ) عَنْ یَسَارِ الطَّرِیْقِ فِیْ مَسِیْلٍ دُوْنَ ہَرْشٰی، ذَالِکَ الْمَسِیْلُ لَاصِقٌ عَلٰی ہَرْشٰی، (وَفِیْ لَفْظٍ: لَاصِقٌ بِکُرَاعِ ہَرْشَا) بَیْنَہُ وَبَیْنَ الطَّرِیْقِ قَرِیْبٌ مِنْ غَلْوَۃِ سَہْمٍ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے راستہ کی داہنی جانب ھرشا سے ہٹ کر پانی کی گزر گاہ میں ایک بڑے درخت کے پاس قیام فرمایا، پانی کییہ گزر گاہ ھرشا سے متصل ہے۔ (ایک روایت کے مطابق ہرشا کے کنارے کے ساتھ مل گئی ہے) اس کے اور راستہ کے درمیانایک تیر کی پھینک کے برابر مسافت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4135

۔ (۴۱۳۵) (وَقَالَ نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْزِلُ بِذِی طُوًی،یَبِیْتُ بِہِ حَتّٰییُصَلِّیَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ حِیْنَ قَدِمَ إِلٰی مَکَّۃَ، وَمُصَلّٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَالِکَ عَلَی أَکَمَۃٍ غَلِیْظَۃٍ لَیْسَ فِیْ الْمَسْجِدِ الَّذِیْ بُنِیَ ثَمَّ وَلٰکِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَالِکَ عَلَی أَکَمَۃٍ خَشِنَۃٍ غَلِیْظَۃٍ۔ (مسند احمد: ۵۶۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو ذی طوی میں رات بسر کرتے اور وہیں نمازِ فجر ادا کرتے، جس مقام پراس وقت مسجد تعمیر کی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہاں نہیں، بلکہ اس سے ذرا ہٹ کر نیچے کی طرف پکے ٹیلہ پر نماز ادا کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4136

۔ (۴۱۳۶) (قَالَ وَأَخْبَرَنِی) أَنْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَقْبَلَ فُرْضَتَیِ الْجَبْلِ الطَّوِیْلِ الَّذِیْ قِبَلَ الْکَعْبَۃِ فَجَعَلَ الْمَسْجِدَ الَّذِیْ بُنِیَیَسَارَ الْمَسْجِدِ بِطَرَفِ الْأَکَمَۃِ وَمُصَلّٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْفَلَ مِنْہُ عَلَی الْأَکَمَۃِ السْوْدَائِ یَدَعُ مِنَ الْأَکَمَۃِ عَشْرَۃَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَہَا ، ثُمَّ یُصَلِّی مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَیْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِیْلِ الَّذِیْ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۶۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ کی جانب دو پہاڑی راستوں کو سامنے رکھا اور ٹیلے کی ایک جانب پر جو مسجد ہے، اس سے ذرا بائیں جانب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تقریباً دس ہاتھ چھوڑ کر سیاہ ٹیلے کے اوپر نماز ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4137

۔ (۴۱۳۷) عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُرَیْجٌ وَیُوْنُسُ قَالَا ثَنَا حَمَّاٌد یَعْنِی ابْنَ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ الْغَنَوِیِّ عَنْ أَبِی طُفَیْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِأبْنِ عَبَّاسٍ: یَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَلَ بِالْبَیْتِ، وَأَنَّ ذَالِکَ سُنَّۃٌ، قَالَ: صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا؟ قَالَ: صَدَقُوْا، رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَیْتِ، وَکَذَبُوْا ، لَیْسَ بِسُنَّۃٍ، إِنَّ قُرَیْشَاً قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَیْبَیِۃ: دَعُوْا مُحَمَّدً وَأَصْحَابَہُ حَتّٰییَمُوْتُوْا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوہُ عَلٰی أَنْ یَقْدَمُوْا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَیُقِیْمُوْا بِمَکَّۃَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُشْرِکُوْنَ مِنْ قِبَلِ قُعَیْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: اُرْمُلُوْا بِالْبَیْتِ ثَلَاثًا۔)) وَلَیْسَ بِسُنَّۃٍ۔ قُلْتُ: وَیَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّہُ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ عَلٰی بَعِیْرٍ وَأَنَّ ذَالِکَ سُنَّۃٌ، فَقَالَ: صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا، فَقُلْتُ: وَمَا صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا؟ فَقَالَ: صَدَقُوْا قَدْ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ عَلٰی بَعِیْرٍ، وَکَذَبُوْا لَیْسَتْ بِسُنَّۃٍ، کَانَ النَّاسُ لَا یُدْفَعُوْنَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا یُصْرَفُوْنَ عَنْہُ، فَطَافَ عَلَی بَعِیْرٍ لِیَسْمَعُوْا کَلَامَہُ وَلَا تَنَالُہُ أَیْدِیْہِمْ، قُلْتُ: وَیَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃ َوَأَنَّ ذَالِکَ سُنَّۃٌ، قَالَ: صَدَقُوْا، إِنَّ إِبْرَہِیْمَ لَمَا أُمِرَ بِالْمَنَاسِکِ عَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ عِنْدَ المَسْعٰی فَسَابَقَہُ فَسَبَقَہُ إِبْرَاہِیْمُ، ثُمَّ ذَہَبَ بِہِ جِبْرِیْلُ إِلٰی جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ فَعَرَضَ لَہُ شَیْطَانٌ (وَفِی لَفْظٍ الشَّیْطَانُ) فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی ذَہَبَ، ثُمَّ عَرَضَ لَہُ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ الْوَسْطٰی فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ، قَالَ: قَدْ تَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ(وَفِیْ لَفْظٍ وَثَمَّ تَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ) وَعَلٰی إِسْمَاعِیْلَ قَمِیْصٌ أَبْیَضُ، وَقَالَ: یَا أَبَتِ إِنَّہُ لَیْسَ لِی ثََوْبٌ تُکَفِّنُنِی فِیْہِ غَیْرَہُ فَاخْلَعْہُ حَتّٰی تُکَفِّنَنِیْ فِیْہِ، فَعَالَجَہُ لِیَخْلَعَہُ فَنُوْدِیَ مِنْ خَلْفِہِ أَنْ یَا إِبْرَاہِیْمْ! قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا فَالْتَفَتَ إِبْرَاہِیْمُ فَإِذَا ہُوَ بِکَبْشٍ أَبْیَضَ أَقْرَنَ أَعْیَنَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ رَأَیْتُنَا نَتَّبَّعُ ہٰذَا الضَّرْبَ مِنَ الْکِبَاشِ، (قَالَ) ثُمَّ ذَہَبَ بِہِ جِبْرِیْلُ إِلَی الْجَمْرَۃِ الْقُصْوٰی، فَعَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتّٰی ذَہَبَ، ثُمَّ ذَہَبَ بِہِ جِبْرِیْلُ إِلٰی مِنًی قَالَ: ہٰذَا مِنًی (وَفِیْ لَفْظٍ: ہَذَا مُنَاخُ النَّاسِ) ثُمَّ أَتٰی بِہِ جَمْعًا، فَقَالَ: ہٰذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ ذَہَبَ بِہِ إِلٰی عَرَفَۃَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ہَلْ تَدْرِی لِمَ سُمِّیَتْ عَرَفَۃُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنَّ جِبْرِیْلَ قَالَ لإِبْرَاہِیْمَ: عَرَفْتَ، (وَفِیْ لَفْظٍ: ہَلْ عَرَفْتَ)؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّیَتْ عَرَفَۃَ، ثُمَّ قَالَ: ہَلْ تَدْرِیْ کَیْفَ کَانَتِ التَّلْبِیَۃُ؟ قُلْتُ: وَکَیْفَ کَانَتْ؟ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاہِیْمَ لَمَا أُمِرَ أَنْ یُؤَذِّنَ فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَہُ الْجِبَالُ رُئُ ْوسَہَا وَرُفِعَتْ لَہُ الْقُرٰی فَأَذَّنَ فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۷)
۔ ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ٓپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے وقت رمل کیا تھا، لہٰذا یہ عمل سنت ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ان کییہ بات کسی حد تک درست بھی اور کسی حد تک غلط بھی، میں نے کہا: اس کا کیا مطلب کہ درست بھی ہے اور غلط بھی؟ انھوں نے کہا:ان کییہ بات تو درست ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے وقت رمل کیا تھا، البتہ اس عمل کو سنت کہنا درست نہیں،یہ عمل سنت نہیں ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ قریشیوں نے (توہین کرتے ہوئے) حدیبیہ کے دنوں میں کہا تھا: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )اور ان کے دوستوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہیہ لوگ اپنی موت آپ مر جائیں، جب قریش کا آپ سے اس بات پر معاہدہ ہو گیا کہ مسلمان آئندہ سال آ کر مکہ میں تین دن قیام کر سکیں گے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، مشرکینِ مکہ قعیقان پہاڑ کی جانب تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے تین چکروں میں رمل کرو۔ لہٰذا یہ عمل سنت نہیں ہے۔ ابو طفیل کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر کی تھی اور یہ عمل سنت ہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ان کییہ بات بھی کچھ صحیح اور کچھ غلط ہے۔ ان کا یہ کہنا تو درست ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا و مروہ کی سعی اونٹ پر کی تھی، لیکن ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ یہ عمل سنت ہے، اصل بات یہ ہے کہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے پیچھے سے ہٹائے نہیں جاتے تھے، (اور وہ خود بھی آپ سے الگ اور دور نہیں ہوتے تھے) اس لئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ پر سعی کی تھی، تاکہ لوگوں کے ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک نہ پہنچ سکیں اور وہ آسانی سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات بھی سن لیں۔ ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا و مروہ کے مابین دوڑے تھے اور یہ عمل سنت ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ان کییہ بات درست ہے، جب ابراہیم علیہ السلام کو مناسک حج ادا کرنے کا حکم ہوا تو سعی کے موقعہ پر شیطان ان کے سامنے آ گیا اور آگے نکل گیا، لیکن پھر ابراہیم علیہ السلام دوڑ کر اس سے آگے نکل گئے، اس کے بعد جبریل علیہ السلام ، ابراہیم علیہ السلام کو جمرۂ عقبہ کے پاس لے گیا،وہاں شیطان ان کے سامنے آیاتو انھوںنے اسے سات کنکر مارے، سو وہ چلا گیا، پھرجب جمرۂ وسطیٰ کے قریب ان کے سامنے آیا تو انہوں نے دوبارہ اسے سات کنکر مارے، اس موقعہ پر ابراہیم علیہ السلام نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ان کے پہلو کے بل لٹایا، وہ سفید قمیض پہنے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: ابا جان! اس قمیض کے علاوہ میرا کوئیکپڑا ایسا نہیں جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں گے، اس لیے اس قمیض کو اتار لیجئے تاکہ آپ مجھے اس میں کفن دے سکیں، جب ابراہیم، اسمٰعیلm کی قمیض اتارنے لگے تو ان کے پیچھے سے یہ آواز آئی: ابراہیم! آپ نے خواب سچا کر دکھایا ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے مڑ کر ادھر دیکھا تو وہاں ایک سفید سینگ دار خوبصورت فراخ چشم مینڈھا موجود تھا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:ہم قربانی کے لئے اسی قسم کے مینڈھے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بعد جبریل، ابراہیمm کو جمرۂ قصویٰ کی طرف لے گئے، وہاں شیطان ایک مرتبہ پھر سامنے آیا، ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکر مارے، سووہ بھاگ گیا، اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام کو جبریل علیہ السلام منیٰ کی طرف لے گئے اور بتلایا کہ یہ منیٰ ہے، دوسری روایت میں ہے: انہوں نے بتلایاکہیہ لوگوں کی قیام گاہ ہے، اس کے بعد جبریل، ابراہیمm کو مزدلفہ میں لے گئے اور بتلایا کہ یہ مشعرِ حرام ہے، اس کے بعد وہ انہیں عرفہ میں لے گئے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے پوچھا: جانتے ہو کہ عرفہ کی وجۂ تسمیہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ انھوں نے کہا: جب جبریل، ابراہیمm کو یہاں لے آئے تو ان سے پوچھا: کیا آپ یہ سب امور جان گئے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس وجہ سے اس وادی کا نام عرفہ رکھا گیا۔اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: تم جانتے ہو کہ تلبیہ کی ابتدا کیسے ہوئی؟ میں نے کہا: جی کیسے ہوئی؟ انھوں نے کہا: جب ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ وہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں تو ان کی آواز پر پہاڑوں نے سر جھکا دیئے اور تمام آبادیاں بلند کر دی گئیں تب انہوںنے لوگوں میں حج کا اعلان کیا۔

آیت نمبر