Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

72)

72) عمرہ کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4138

۔ (۴۱۳۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ وَلِأَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ، وَلِأَہْلِ الْیَمَنِیَلَمْلَمَ وَلِأَھْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَقَالَ: ((وَہُنَّ وَقْتٌ لِاَہْلِہِنَّ، وَلِمَنْ مَرَّ بِہِنَّ مِنْ غَیْرِ أَہْلِہِنَّ، یُرِیْدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ، فَمَنْ کَانَ مَنْزِلُہُ مِنْ وَرَائِ الْمِیْقَاتِ، فَإِہْلَالُہُ مِنْ حَیْثُیُنْشِیئُ وَکَذٰلِکَ، حَتّٰی أَہْلُ مَکَّۃَ إِہْلَالُہُمْ مِنْ حَیْثُیُنْشِئُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لئے حجفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن المنازل کو بطورِ میقات مقرر کیا اور فرمایا: یہ مواقیت ان مقامات کے لوگوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے ہیںجو ان مواقیت سے گزر کر حج یا عمرہ کے لئے آئیں اور جس آدمی کی قیام گاہ ان حدود کے اندرہے، وہ جہاں سے روانہ ہو گا وہی اس کا میقات ہو گا، یہاں تک کہ مکہ والے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4139

۔ (۴۱۳۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((فَمَنْ کَانَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَمِنْ حَیْثُ أَنْشأَ، حَتّٰی أَہْلُ مَکَّۃَ مِنْ مَکَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۲)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: اور جو لوگ اس میقات کی حد کے اندررہتے ہیں، وہ جہاں سے سفر شروع کریں گے، وہیں سے احرام باندھیں گے، یہاں تک کہ مکہ والے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4140

۔ (۴۱۴۰) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَیْنَیُحْرِمُ؟ قَالَ: ((مُہَلُّ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ ذِیْ الْحُلَیْفَۃِ، وَمُہَلُّ أَہْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَۃِ، وَمُہَلُّ أَہْلِ الْیَمَنِ مِنْ یَلَمْلَمَ، وَمُہَلُّ أَہْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ۔)) وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَقَاسَ النَّاسُ ذَاتَ عِرْقٍ بِقَرْنٍ۔ (مسند احمد: ۴۴۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ وہ کہاں سے احرام باندھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن المنازل میقات ہے۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ لوگوں نے ذات عرق کو قرن المنازل پر قیاس کر لیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4141

۔ (۴۱۴۱) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ، وَلِأَہْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ، وَقَالَ: ہٰؤُلَائِ الثَّلَاثُ حَفِظْتُہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحُدِّثْتُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَلِأَہْلِ الْیَمَنِیَلَمْلَمَ۔)) فَقِیْلَ لَہُ: اَلْعِرَاقُ؟ قَالَ: لَمْ یَکُنْیَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ۔ (مسند احمد: ۵۱۱۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہلِ نجد کے لیے قرن اور اہلِ شام کے لیے جحفہ کو میقات مقرر کیا ہے، پھر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تین مقامات تو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یادکیے اور مجھے یہ بھی بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہلِ یمن کے لیےیلملم ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا:اور اہل عراق کا میقات؟ انھوں نے کہا: ان دنوں عراق کا وجود ہی نہــ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4142

۔ (۴۱۴۲) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرْنِی أَبُوْالزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یُسْأَلُ عَنِ الْمُہَلِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَہٰی، أُرَاہُ یُرِیْدُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مُہَلُّ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ وَالطَّرِیْقُ الْأُخْرٰی الْجُحْفَۃُ، وَمُہَلُّ أَہْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ،وَمُہَلُّ أَہْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُہَلُّ أَہْلِ الْیَمَنِ مِنْ یَلَمْلَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۲۶)
۔ ابوزبیر کہتے ہیں:سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان مقامات کے بارے میں پوچھا گیا، جہاں سے تلبیہ کہا جاتا ہے، انھوںنے کہا: میں نے سنا ہے، پھر وہ خاموش ہو گئے، میرا خیال ہے کہ ان کی مراد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کا میقات ایک راستے سے ذوالحلیفہ ہے اور دوسرے سے حجفہ،اہل عراق کا میقات ذات عرق، اہل نجد کا قرن المنازل اور اہل یمن کا میقاتیلملم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4143

۔ (۴۱۴۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ لَہِیْعَۃَ ثَنَا أَبُوْ الزَّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْمُہَلِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مُہَلُّ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ،)) فَذَکَرَہُ بِاللَّفْظِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۷۰)
۔ (دوسری سند) ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میقات کے بارے میں پوچھا تو انہوںنے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اہل مدینہ کا میقات ذوالحلیفہ ہے، …۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4144

۔ (۴۱۴۴) عَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَالْحُلَیْفَۃِ، وَلِاَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ، وَلِأَہْلِ الْیَمَنِ وَأَہْلِ تِہَامَۃَیَلَمْلَمَ، وَلِأَہْلِ الطَّائِفِ وَہِیَ نَجْدٌ قَرْنًا، وَلأَِہْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ۔ (مسند احمد: ۶۶۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے حجفہ، اہل یمن اور اہل تہامہ کے لئے یلملم اور اہل طائف یعنی نجد والوں کے لئے قرن اور اہل عراق کے لئے ذات عرق کو بطورِ میقات مقرر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4145

۔ (۴۱۴۵)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَہْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِیْقَ۔ (مسند احمد: ۳۲۰۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مشرق کے لئے عقیق کو میقات مقرر کیاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4146

۔ (۴۱۴۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَّتَ لِأَہْلِ نَجْدٍ قَرْنًا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل نجد کے لئے قرن المنازل کو میقات مقرر کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4147

۔ (۴۱۴۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ صَعْصَعَۃَ عَنْ أُمِّّ حَکِیْمٍ السُّلَمِیَّۃِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَحْرَمَ مِنْ بَیْتِ الْمَقْدِسِ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۹۲)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے احرام باندھا، اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4148

۔ (۴۱۴۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ یَحْیَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ الْأَخْنَسِیِّ عَنْ أُمِّہِ أُمِّ حَکِیْمِ اِبْنَۃِ أُمَیَّۃَ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَہَلَّ مِنَ الْمَسْجِدِ الْاَقَصیٰ بِعُمْرَۃٍ أَوْ بِحَجَّۃٍ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) قَالَ: فَرَکِبَتْ أُمُّ حَکِیْمٍ عِنْدَ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ حَتّٰی أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۹۳)
۔ (دوسری سند) سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے مسجد اقصیٰ سے عمرہ یا حج کا احرام باندھا، اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دے گا۔ یہ حدیث سن کر ام حکیم نے بیت المقدس کے لیے روانہ ہو گئیں اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4149

۔ (۴۱۴۹)عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِرْحَلْ ہٰذِہِ النَّاقَۃَ، ثُمَّ أَرْدِفْ أُخْتَکَ فَإِذَا ہَبَطْتُّمَا مِنْ أَکَمَۃِ التَّنْعِیْمِ فَاَھِلَّا وَاَقْبِلا۔)) وَذٰلِکَ لَیْلَۃَ الصَّدَرِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۹)
۔ سیدناعبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی پر سوار ہو جاؤ اوراپنی بہن عائشہ کو اپنے پیچھے بٹھا لو، پھر جب تم تنعیم کے ٹیلے سے اترو تو احرام باندھ لو اور (عمرہ کے لیے) آ جاؤ۔ یہ روانگی والی رات کی بات تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4150

۔ (۴۱۵۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)، بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: ((فَإِذَا ہَبَطْتَّ بِہَا مِنَ الْأَکَمَۃِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّہَا عُمْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۰)
۔ (دوسری سند) یہ حدیث بھی سابق حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے: جب تم تنعیم کے ٹیلے سے اترو تو عائشہ احرام باندھ لے، پس بیشکیہ عمرہ مقبول ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4151

۔ (۴۱۵۱) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : یَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَجَبًا لإِخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ إِہْلَالِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ أَوْ جَبَ، فَقَالَ: إِنِّی لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَالِکَ، إِنَّہَا إِنَّمَا کَانَتْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَجَّۃٌ وَاحِدَۃٌ فَمِنْ ہُنَالِکَ اخْتَلَفُوْا، خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَاجًّا، فَلَمَّا صَلّٰی فِیْ مَسْجِدِہِ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتَیْہِ أَوْجَبَ فِیْ مَجْلِسِہِ، فَأَہَلَّ بِالْحَجِّ حِیْنَ فَرَغَ مِنْ رَکْعَتَیْہِ، فَسَمِعَ ذَالِکَ مِنْہُ أَقْوَامٌ فَحَفِظُوْا عَنْہُ ثُمَّ رَکِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِہِ نَاقَتُہُ أَہَلَّ وَأَدْرَکَ ذَالِکَ مِنْہُ أَقْوَامٌ، وَذَالِکَ أَنَّ النَّاسُ إِنَّمَا کَانُوْنَ یَأْتُوْنَ أَرْسَالًا، فَسَمِعُوْہُ حِیْنَ اسْتَقَلَّتْ بِہِ نَاقَتُہُ یُہِلُّ، فَقَالُوْا: إِنَّمَا أَہَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ اسْتَقَلَّتْ بِہِ نَاقَتُہُ، ثُمَّ مَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا عَلَا عَلَی شَرَفِ الْبَیْدَائِ، أَہَلَّ وَأَدْرَکَ ذَالِکَ مِنْہُ أَقْوَامٌ، فَقَالُوْا: إِنَّمَا أَہْلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ عَلَا عَلٰی شَرَفِ الْبَیْدَائِ، وَأَیْمُاللّٰہِ لَقَدْ أَوْجَبَ فِیْ مُصَلَّاہُ، وَأَہَلَّ حِیْنَ اسْتَقَلَّتْ بِہِ نَاقَتُہُ، وَأَہَلَّ حِیْنَ عَلَا عَلٰی شَرَفِ الْبَیْدَائِ فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَہَلَّ فِیْ مُصَلَّاہُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَکْعَتَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۸)
۔ سعید بن جییرکہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:ابوالعباس! مجھے تعجب ہے کہ صحابہ کا اس جگہ کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلبیہ کہاں سے پڑھا تھا؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: اس کے بارے میں میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چونکہ ایک ہی حج کیا تھا، اس لئے یہ اختلاف ہوا ہے، تفصیلیہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج کے ارادہ سے روانہ ہوئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذوالحلیفہ میں اپنی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہیں سے تلبیہ پڑھا تھا اور حج کا احرام باندھا تھا، جن لوگوں نے یہ تلبیہ آپ سے سنا، انہوں نے اس کو یاد کر لیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر سوارے ہوئے اور اونٹنی سیدھی ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ تلبیہ پڑھا، کچھ لوگوں نے پہلی بار یہ تلبیہ سنا، بات یہ ہے کہ لوگ مختلف گروہوں اور قافلوں کی صورت میں آ رہے تھے، بہرحال جب اونٹنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو اس وقت کچھ لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تلبیہ سنا اورانہوں نے یہ کہہ دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹنی کے کھڑے ہونے کے بعد تلبیہ پڑھا۔اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے روانہ ہوئے اور جب بیداء کے ٹیلے پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر تلبیہ پڑھا، جن لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وہاں تلبیہ سنا انہوں نے کہہ دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیداء کے ٹیلہ پر جا کر تلبیہ پڑھا تھا، اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جہاں نماز پڑھی تھی وہیں سے تلبیہ شروع کیا تھا، اس کے بعد جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر تلبیہ پڑھا تھا اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیداء کے ٹیلہ پر پہنچے تب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلبیہ پڑھا تھا۔ پس جن لوگوں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قول کو اختیار کیا ہے وہ دو رکعت نماز سے فارغ ہو کر تلبیہ پڑھتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4152

۔ (۴۱۵۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَلَمَّا عَلَا جَبَلَ الْبَیْدَائِ أَہَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۸۵)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار ہوئے اور جب بیداء کے ٹیلے پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلبیہ پکارا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4153

۔ (۴۱۵۳) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُوْلُ: ہٰذِہِ الْبَیْدَائُ الَّتِییَکْذِبُوْنَ فِیْہَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَاللّٰہِ! مَا أَحْرَمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ:) یَعْنِی مَسْجِدَ ذِی الْحُلَیْفَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۵۷۰)
۔ سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ کہا کرتے تھے: یہ ہے وہ مقامِ بیدائ، جس کے متعلق لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہیں، اللہ کی قسم! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو اس مقام سے احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا تھا، جہاں اس وقت مسجد ذوالحلیفہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4154

۔ (۴۱۵۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ذُکِرَ عِنْدَہُ الْبَیْدَائُیَسُبُّہَا، وَیَقُوْلُ إِنَّمَا أَحْرَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ذِیْ الْحُلَیْفَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۹۰۷)
۔ (دوسری سند) جب سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سامنے بیداء کا ذکر کیا جاتا تو وہ اسے برا بھلا کہتے اورپھر بیان کرتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو ذوالحلیفہ سے احرام باندھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4155

۔ (۴۱۵۵) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَہُ فِیْ الْغَرْزِ، وَاسْتَوَتْ بِہِ نَاقَتُہُ قَائِمَۃً أَہَلَّ مِنْ مَسْجِدِ ذِیْ الْحُلَیْفَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۸۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکاب میں پائوں رکھتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذوالحلیفہ مسجد کے مقام سے تلبیہ کہتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4156

۔ (۴۱۵۶)عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنَّ یُحْرِمَ غَسَلَ رَأْسَہُ بِخَطْمِیٍّ وَأُشْنَانٍ وَدَہَنَہُ بِشَیْئٍ مِنْ زَیْتٍ غَیْرِ کَثِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو خطمی بوٹی اور اُشنان گھاس سے اپنا سر دھوتے اور سر پر کچھ زیتون کا تیل بھی لگاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4157

۔ (۴۱۵۷) وَعَنْہَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: طَیَّبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدَیَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: بِیَدَیَّ ہَاتَیْنِ) بِذَرِیْرَۃٍ لِحَجَّۃِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ حِیْنَ أَحْرَمَ وَحِیْنَ رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِیَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ یَطُوْفَ بِالْبَیِّتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: قَبْلَ أَنْ یُفِیْضَ)۔ (مسند احمد: ۲۶۶۰۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: حجۃ الوداوع کے موقع پر میں نے اپنے ان ہاتھوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت مختلف اشیاء سے بنی ہوئی خو شبو لگائی تھی،یعنی جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام باندھنے لگے تو اس وقت لگائی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ سے پہلے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں تو اس وقت خوشبو لگائی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4158

۔ (۴۱۵۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَہَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُوْلُ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بِأَیِّ شَیْئٍ طَیَّبْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: بِأَطْیَبِ الطِّیْبِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۰۶)
۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کونسی خوشبو لگائی تھی؟ انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو (یعنی کستوری)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4159

۔ (۴۱۵۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی وَبِیْصِ الْمِسْکِ فِیْ رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ مُحْرِمٌ۔ (مسند احمد:۲۴۶۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: گویا میں اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر لگی ہو کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں ہوتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4160

۔ (۴۱۶۰) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیْصِ الطِّیْبِ فِیْ مَفْرِقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْ مَفَارِقِہِ) وَہُوَ یُلَبِّی۔ (مسند احمد: ۲۶۹۲۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلبیہ پڑھ رہے ہوتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4161

۔ (۴۱۶۱) وَعَنْھَا أَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنْہُنَّ کُنَّ یَخْرُجْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَیْہِنَّ الضِّمَادُ، قَدْ أَضْمَدْنَ قَبْلَ أَنْ یُحْرِمْنَ ثُمَّ یَغْتَسِلْنَ، وَہُوَ عَلَیْہِنَّ،یَعْرَقْنَ وَیَغْتَسِلْنَ لاَ یَنْہَاہُنَّ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۰۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج و عمرہ کے لئے روانہ ہوتیں تو ان پر خوشبو ملی ہوئی ہوتی تھی، وہ احرام سے پہلے خوشبو ملتی تھیں، پھر غسل کرتی تھیں اور وہ ان پر ہوتی تھی، ان کو پسینہ آتا تھا اور وہ غسل کرتی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو منع نہیں کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4162

۔ (۴۱۶۲) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَجَدَ رِیْحَ طِیْبٍ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ، فَقَالَ: مِمَّنْ ہٰذِہِ الرِّیْحُ؟ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: مِنِّیْیَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! فَقَالَ: مِنْکَ لَعَمْرِی، فَقَالَ: طَیِّبَتْنِیأُمُّ حَبِیْبَۃَ، وَزَعَمَتْ أَنْہَا طَیَّبَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ إِحْرَامِہِ، فَقَالَ: أِذْہَبْ فَأَقْسِمْ عَلَیْہَا لَمَا غَسَلَتْہُ فَرَجَعَ إِلَیْہَا فَغَسَلَتْہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۹۵)
۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ذوالحلیفہ میں خوشبو کی مہک محسوس کی اور پوچھا: یہ خوشبو کس سے آ رہی ہے؟ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: امیر المومنین! مجھ سے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میری زندگی کی قسم! تم سے آ رہی ہے،انھوں نے کہا: مجھے تو ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ خوشبو لگائی ہے اور ان کا خیال ہے کہ انہوں نے احرام باندھتے وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی خوشبو لگائی تھی، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جائو اور اس کو قسم دوکہ وہ اس کو ہر صورت میں دھو ڈالے، پھر وہ سیدہ کی طرف گئے اور انھوں نے اس کو دھو ڈالا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4163

۔ (۴۱۶۳) عَنْ إِبْرَاہِیْمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ یَتَطَیَّبُ عِنْدَ إِحْرَامِہِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِیَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَہُ، قَالَ: فَسَأَلَ أَبِی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَأَخْبَرَہَا بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَتْ: یَرْحَمُ اللّٰہُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، کُنْتُ أُطَیِّبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ یَطُوْفُ عَلٰی نِسَائِہِ ثُمَّ یُصْبِحُ مُحْرِمًا یَنْتَضِحُ طِیْبًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۳۵)
۔ محمد بن منتشر نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے احرام کے وقت خوشبو لگانے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اگر میںگندھک مل لوں، تو یہ مجھے خوشبو لگانے سے زیادہ پسندیدہ ہو گا، پھر انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات بھی ان کو بتائی، تو سیدہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کے پاس جاتے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کو احرام باندھتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خوشبو آ رہی ہوتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4164

۔ (۴۱۶۴)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النُّفَسَائَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ، وَتُحْرِمُ، وَتَقْضِی الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا، غَیْرَ أَنَّہَالاَ تَطُوْفُ بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْہُرَ۔ (مسند احمد: ۳۴۳۵)
۔ حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4165

۔ (۴۱۶۵) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِیْ بَکْرٍ بِالْبَیْدَائِ فَذَکَرَ ذٰلِکَ أَبُوْ بَکْرٍ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مُرْہَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُہِلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۲۴)
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) بیداء کے مقام پر محمد بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنم دیا، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب اس بات کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو حکم دو کہ وہ غسل کرکے احرام باندھ لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4166

۔ (۴۱۶۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَتْ عَائِشَۃُ تَقُوْلُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا نَذْکُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ، طَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أَبْکِیْ، فَقَالَ: ((مَا یُبْکِیْکِ؟)) قُلْتُ: وَدِدْتُّ أَنِّی لَمْ أَخْرُجِ الْعَامَ، قَالَ: ((لَعَلَّکِ نَفِسْتِ، یَعْنِی حِضْتِ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا شَیْئٌ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلٰی بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِی مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لَّا تَطُوْفِی بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْہُرِیْ…۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۷۵)
۔ قاسم بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہا کرتی تھیں کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا، جب ہم سرف مقام پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: کاش کہ میں اس سال حج کے لئے نہ آئی ہوتی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے، اب تم وہ تمام امور سر انجام دو جو دوسرے حجا ج کریں گے، البتہ بیت اللہ کا طواف اس وقت تک نہ کرو، جب تک پاک نہ ہو جاؤ، …۔ الحدیث
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4167

۔ (۴۱۶۷) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَکَّۃَ فَأَدْرَکَنِییَوْمُ عَرَفَۃَ وَأََنا حَائِضٌ فَشَکَوْتُ ذٰلِکَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((دَعِیْ عُمْرَتَکِ، وَانْقُضِی رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَاغْتَسِلِیْ وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ۔)) فَفَعَلْتُ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے مجھے حیض آ گیا اور وہ جاری رہا، حتی کہ عرفہ والا دن آنے والا ہو گیا،میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا شکوہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمرہ کو رہنے دو اور سر کھول کر کنگھی کر لو اور غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا…۔ الحدیث۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4168

۔ (۴۱۶۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی عَائِشَۃَ وَہِیَ تَبْکِی، فَقَالَ لَہَا: مَالَکِ تَبْکِیْنَ؟)) قَالَتْ: أَبْکِیْ أَنَّ النَّاسَ أَحَلُّوْا وَلَمْ أَحْلِلْ، وَطَافُوْا بِالْبَیْتِ وَلَمْ أَطُفْ، وَہٰذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ، قَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا أَمْرٌ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلٰی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِی، وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ وَحُجِّی۔)) قَالَتْ: فَفَعَلْتُ ذَالِکَ، فَلَمَّا طَہَرْتُ قَالَ: ((طُوْفِی بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ قَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَمِنْ عُمْرَتِکِ۔)) قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی أَجِدُ فِی نَفْسِی مِنْ عُمْرَتِی أَنِّی لَمْ أَکُنْ طُفْتُ حَتّٰی حَجَجْتُ، قَالَ: ((فَاذْہَبْ یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ! فَأَعْمِرْ أُخْتَکَ مِنَ التَّنْعِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۳)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ رو رہی تھیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا بات ہے، رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا: لوگ حلال ہو گئے ہیں، لیکن میں حلال نہ ہو سکی اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا ہے ، لیکن میں طواف نہ کر سکی اور اب حج کے دن بھی آ گئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے،اب تم غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو اور حج ادا کرو۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: میں نے اسی طرح کیا، پھر جب میں حیض سے پاک ہو گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لو، اس طرح تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو جائو گی۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ کھٹکا سا ہے کہ میں عمرہ کا احرام باندھنے کے باوجود بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی،یہاں تک کہ میں حج سے فارغ ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عبد الرحمن! جائو اور اپنی بہن کو تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4169

۔ (۴۱۶۹)عَنِ ابْنِ عَبَّا سٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ قَالَ: جَائَ تْ ضُبَاعَۃُ بِنْتُ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنِّیْ امْرَأَۃٌ ثَقِیْلَۃٌ، وَإِنِّی أُرِیْدُ الْحَجَّ فَکَیْفَ تَأْمُرُنِی کَیْفَ أُہِلُّ؟ قَالَ: ((أَہِلِّیْ وَاشْتَرِطِیْ أَنَّ مَحِلِّیْ حَیْثُ حَبَسْتَنِیْ۔)) قَالَ: فَأَدْرَکَتْ۔ (مسند احمد: ۳۱۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئیں اور کہا: میں بھاری جسم والی خاتون ہوں اور میں حج کے لئے جانے کا ارادہ رکھتی ہوں، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں کیسے احرام باندھوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: احرام باندھ لو اور اللہ سے یہ شرط لگا لوکہ اے اللہ! تو نے مجھے جہاں روک دیا، میں وہیں حلال ہو جائوں گی۔ پھر اس نے حج کر لیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4170

۔ (۴۱۷۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّہَا قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إنِیِّ أُرِیْدُ أَنَّ أَحُجَّ فَأَشْتَرِطَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَتْ: فَکَیْفَ أَقُوْلُ؟ قَالَ: ((قُوْلِی لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ مَحِلِّیْ مِنَ الْأَرْضِ حَیْثُ تَحْبِسُنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۷۰)
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حج کی ادائیگی کا ارادہ رکھتی ہوں، تو میں کوئی شرط لگا سکتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھرمیں کیسے کہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس طرح کہہ: لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ مَحِلِّیْ مِنَ الْأَرْضِ حَیْثُ تَحْبِسُنِیْ (میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہو گی، جہاں تو مجھے روک لے گا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4171

۔ (۴۱۷۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضُبَاعَۃَ بِنْتَ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَہِیَ شَاکِیَۃٌ، فَقَالَ: ((أَلَا تَخْرُجِیْنَ مَعَنَا فِیْ سَفَرِنَا ہٰذَا؟)) وَہُوَ یُرِیْدُ حَجَّۃَ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی شَاکِیَۃٌ، وَأَخْشٰی أَنْ تَحْبِسَنِی شَکْوَایَ، قَالَ: ((فَأَہِلِّی بِالْحَجِّ وَقُوْلِی اَللّٰہُمَّ مَحِلِّی حَیْثُ تَحْبِسُنِی۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۲۵)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیمار تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا،سیدہ ضباعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تو بیماری ہوں اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ میری بیماری مجھے روک دے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حج کا احرام باندھ لو اور یوں کہو: اے اللہ! تو مجھے جہاں روک دے گا، وہی میرے حلال ہونے کی جگہ ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4172

۔ (۴۱۷۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ: إِنِّی أُرِیْدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاکِیَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُجِّی وَاشْتَرِطِی أَنَّ مَحِلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِی۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۲۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے کہا: میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، لیکن میں بیماری بھی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حج کے لئے روانہ ہو جائو اور یہ شرط لگالو کہ اے اللہ تو مجھے جہاں روکے گا، میں وہیں حلال ہو جائوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4173

۔ (۴۱۷۳)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ لَہَا: أَرَدْتِّ الْحَجَّ؟ قَالَتْ: وَاللّٰہِ! مَا أَجِدُنِی إِلَّا وَجِعَۃً، فَقَالَ لَہَا: ((حُجِّی وَاشْتَرِطِی۔)) فَقَالَ: ((قُوْلِی اَللّٰہُمَّ مَحِلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِی۔)) وَکَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۷۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اوران سے فرمایا: کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار سمجھتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم حج کے لئے نکلواور یہ شرط لگا لو کہ اے اللہ! تو مجھے جہاں روک لے گا، میں اسی مقام پر حلال ہو جاؤں گی۔ یہ خاتون ان دنوں سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4174

۔ (۴۱۷۴) عَنْ سَالِمِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الْاِشْتِرَاطَ فِیْ الْحَجِّ وَیَقُوْلُ: أَمَا حَسْبُکُمْ بسُنَّۃِ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ لَمْ یَشْتَرِطْ۔ (مسند احمد: ۴۸۸۱)
۔ سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج میں شرط لگانے کو پسند نہیں کرتے تھے اوروہ کہا کرتے تھے: کیا تمہارے لئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کافی نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی شرط نہیں لگائی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4175

۔ (۴۱۷۵) عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَعَثَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَرْضِ قَوْمِی، فَلَمَّا حَضَرَ الْحَجُّ حَجَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحَجَجْتُ فَقَدِمْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ نَازِلٌ بِالأَبْطَحِ، فَقَالَ لِی: ((بِمَ أَہْلَلْتَ یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ؟)) قَالَ: قُلْتُ: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ کَحَجِّ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((أَحْسَنْتَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((ہَلْ سُقْتَ ہَدْیًا؟)) فَقُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ لِی: ((اِذْہَبْ فَطُفْ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ثُمَّ احْلِلْ۔)) فَانْطَلَقْتُ فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِی، وَأَتَیْتُ امْرَاۃً مِنْ قَوْمِی، فَغَسَلَتْ رَأْسِی بِالْخِطْمِیِّ وَفَلَتْہُ ثُمَّ أَہْلَلْتُ بِالْحَجِّ یَوْمَ الرَّوِیَۃِ، فَمَا زِلْتُ أُفْتِی النَّاسَ بِالَّذِیْ أَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ حَتّٰی تُوُفِّیَ، ثُمَّ زَمَنَ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، ثُمَّ زَمَنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَبَیْنَا أَنَا قَائِمٌ عِنْدَ الْحَجَرِ اْلأَسْوَدِ أَوِ الْمَقَامِ ، أُفْتِی النَّاسَ بِالَّذِی أَمَرَنِی بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ أَتَانِی رَجُلٌ فَسَارَّنِی فَقَالَ: لَا تَعْجَلْ بِفُتْیَاکَ، فَإِنَّ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ قَدْ أَحْدَثَ فِیْ الْمَنَاسِکِ شَیْئًا، فَقُلْتُ: أَیُّہَا النَّاسَ! مَنْ کُنَّا أَفْتَیْنَاہُ فِیْ الْمَنَاسِکِ شَیْئًا، فَلْیتََّئِدْ، فَإِنَّ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ قَادِمٌ فِیْہِ فَأْتَمُّوْا، قَالَ: فَقَدِمِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْتُ: یاَ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! ہَلْ أَحْدَثْتَ فِیْ الْمَنَاسِکِ شَیْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ نَأْخُذْ بِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَإِنَّہُ یَأْمُرُ بِالتَّمَامِ (وَفِیْ لَفْظٍ فَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَالَ: {وَأَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ}) وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّۃِ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِنَّہُ لَمْ یَحْلِلْ حَتّٰی نَحَرَ الْہَدْیَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۳۴)
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میری قوم کی طرف (یمن کے علاقہ میں) عامل بنا کر روانہ کیا، جب حج کا موسم آیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج کے لئے روانہ ہوئے تو میں بھی حج کا ارادہ کرکے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری ملاقات ابطح وادی میں ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے عبد اللہ بن قیس!تم نے کیسے احرام باندھا ہے؟ یعنی کن الفاظ کے ساتھ نیت کی ہے؟میں نے کہا: میں نے کہا تھاکہ میں اس حج کے لیے حاضر ہوں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حج ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم قربانی کا جانور ہمراہ لائے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر جاؤ اوربیت اللہ کا طواف کرکے صفا مروہ کی سعی کرو اور احرام کھول دو۔ پس میں گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کے مطابق عمل کیا، اس کے بعد میں اپنی قوم کی ایک خاتون کے پاس گیا، انہوں خطمی بوٹی کے ساتھ میرا سر دھویا اور اس سے جووئیں تلاش کیں ، اس کے بعد آٹھ ذوالحجہ کو میں نے حج کا احرام باندھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے جو کچھ فرمایا تھا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک اسی طرح لوگوں کو فتوے دیتا رہا، بعد ازاںعہد صدیقی اور عہدفاروقی میں بھییہ سلسلہ جاری رہا، اچانک ایک دن میں حجر اسود یا مقام ابراہیم کے پاس کھڑا یہی بات بیان کر رہا تھا کہ ایک آدمی میرے قریب آیا اور اس نے آہستہ سے مجھے کہا: تم فتویٰ دینے میں جلدی نہ کرو، امیر المومنین سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مناسک ِ حج کے متعلق ایک نیا حکم جاری کیا ہے، میں نے بآواز بلند کہا: لوگو! ہم نے مناسک کے بارے میں جس کسی کو فتویٰ دیا ہے وہ ذرا رک جائے، امیر المومنین تشریف لانے والے ہیں، تم ان کی اقتدا کرنا، وہ جیسے کہیں گے، ویسے کرنا، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے تو میں نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے مناسک ِ حج کے متعلق کوئی نیا حکم جاری کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، بات یہ ہے کہ اگر ہم کتاب اللہ پر عمل کریں تو وہ ہمیں حج و عمرہ کو مکمل کرنے کا حکم دیتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَأَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ}( تم حج و عمرہ کو اللہ تعالی کے لئے پورا کرو) (سورۂ بقرۃ:۱۹۶) اوراگر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت پر عمل کریں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی جانور ذبح کرنے کے بعد احرام کھولا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4176

۔ (۴۱۷۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِعَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((بِمَ أَہْلَلْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أُہِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُوْلُکَ، قَالَ: ((وَمَعِی الْہَدْیُ۔)) قَالَ: ((فَلَا تَحِلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۳)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: تم نے تلبیہ کس طرح پڑھا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا تھا: اے اللہ! میں وہی احرام باندھ رہا ہوں، جو تیرے رسول نے باندھا ہے۔ پھر انھوں نے کہا: میرے پاس ہَدِی کا جانور بھی ہے، آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم حلال نہیں ہو سکتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4177

۔ (۴۱۷۷) عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ: أَخْبَرَتَنِیْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُوَافِیْنَ لِہِلَالِ ذِی الْحِجَّۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یُہِلَّ بِعُمْرَۃٍ فَلْیُہِلَّ،وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُہِلَّ بِحَجَّۃٍ فَلْیُہِلَّ فَلَوْلَا أَنِّی أَہْدَیْتُ لَاَہَلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ۔)) قَالَتْ: فَمِنْہُمْ مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ وَمِنْہُمْ مِنْ أَہَلَّ بِحَجَّۃٍ، وَکُنْتُ مِمَّنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَکَّۃَ فَأَدْرَکَنِییَوْمُ عَرَفَۃَ وَأَنَا حَائِضٌ فَشَکَوْتُ ذَالِکَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((دَعِیْ عُمْرَ تَکِ وَانْقُضِیَ رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ۔)) فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا کَانَتْ لَیْلَۃُ الْحَصْبَۃِ، أَرْسَلَ مَعِی عَبْدَ الرَّحْمٰنِ إِلَی التَّنْعِیْمِ، فَأَرْدَفَہَا فَأَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ مَکَانَ عُمْرَتِہَا، فَقَضَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ حَجَّہَا وَعُمْرَتَہَا وَلَمْ یَکُنْ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ذَالِکَ ہَدْیٌ وَلَا صَوْمٌ، وَلَا صَدَقَۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۰۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے والا تھا کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج کے لئے روانہ ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ عمرہ کا احرام باندھ لے اور جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے، رہا مسئلہ میرا تو اگر میں قربانی کا جانور ہمراہ نہ لایا ہوتا تو میں بھی صرف عمرہ کا احرام باندھتا۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: چنانچہ بعض صحابہ نے عمرے کا اور بعض نے حج کا احرام باندھا،میں نے بھی عمرے کا احرام باندھا تھا، لیکن ہوا یوں کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مجھے حیض آ گیا اور اسی حالت میں عرفہ کا دن آنے والا ہو گیا، میں نے اس بات کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکوہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عمرے کو چھوڑ دو، اپنا سر کھول کر کنگھی کرو اورحج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا،جب وادیٔ محصب والی رات تھی، توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بھائی عبد الرحمن کو میرے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا، انہوں نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، میں نے عمرے کا احرام باندھا، یہ عمرہ دراصل پہلے والے عمرے کے عوض میں تھا، اس طرح اللہ تعالی نے میرا حج اور عمرہ دونوں کرا دیئے، جبکہ اس صورت میںنہ تو ہدی تھی، نہ روزہ اور نہ صدقہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4178

۔ (۴۱۷۸) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِذِیْ الْحُلَیْفَۃِ، قَالَ: ((مَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ یُّہِلَّ بِالْحَجِّ فَلْیُہِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ یُّہِلَ بِعُمْرَۃٍ فَلْیُہِلَّ۔)) قَالَتْ أَسْمَائٌ: وَکُنْتُ أَنَا وَعَائِشَۃُ وَالْمِقْدَادُ وَالزُّبَیْرُ مِمَّنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۰۲)
۔ سیدہ اسما بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج کو روانہ ہوئے، جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے اور تم میں سے جو فرد عمرے کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ عمرے کا احرام باندھ لے۔ سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں، سیدہ عائشہ، سیدنا مقداد اور سیدنا زبیر نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4179

۔ (۴۱۷۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃَ أَنْوَاعٍ، فَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ، وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَمَنْ کَانَ أَہَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا، لَمْیَحِلَّ مِنْ شَیْئٍ مِمَّا حَرَّمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ حَتّٰییَقْضِیَ حَجَّہُ، وَمَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ وَسَعٰی بَیْنَ ا لصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَقَصَرَ، أَحَلَّ مِمَّا حَرُمَ مِنْہُ، حَتّٰییَسْتَقْبِلَ حَجًّا۔ (مسند احمد: ۲۵۶۰۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:ہم تین قسم کے لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے،بعض لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا، بعض نے حج اِفراد کا اور بعض نے صرف عمرے کا احرام باندھا، جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے اکٹھااحرام باندھا تھا، وہ حج مکمل کرنے تک ان چیزوں سے حلال نہیں ہوا، جو اللہ تعالی نے اس پر احرام کی وجہ سے حرام کی تھیں اور جن حضرات نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا کر حلال ہو گئے اور احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی چیزیں ان کے لیے اس وقت تک حلال ہو گئیں، جب تک وہ از سرِ نو حج کے احرام نہ باندھ لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4180

۔ (۴۱۸۰) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَأَہْدٰی، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((مَنْ أَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ وَلَمْ یُہْدِ، فَلْیَحِلَّ، وَمَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَأَہْدٰی فَلَا یَحِلُّ، وَمَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ فَلْیُتِمَّ حَجَّہُ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : وَکُنْتُ مِمَّنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہم میں سے بعض نے صرف حج کا اور بعض نے صرف عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور عمرے کا احرام باندھنے والے بعض لوگ قربانی کا جانور بھی ہمراہ لائے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا اور قربانی کا جانور ان کے ہمراہ نہیں ہے، وہ عمرہ کے بعد احرام کی پابندی سے آزاد ہو جائیں اور جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، لیکن قربانی کا جانور ان کے ہمراہ ہے تو وہ احرام نہیں کھولیں گے اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا وہ اپنا حج پورا کریں گے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4181

۔ (۴۱۸۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ قَالَ: أَہَلَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَلَمْ یُقَصِّرْ وَلَمْ یَحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْہَدْیِ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ یَکُنْ سَاقَ الْہَدْیَ أَنْ یَطُوْفَ وَأَنْ یَسْعٰی وَیُقَصِّرَ أَوْ یَحْلِقَ ثُمَّ یَحِلَّ۔ (مسند احمد: ۳۱۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کا احرام باندھا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں آئے تو بیت اللہ کا طواف کیا، صفا مروہ کی سعی کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بال نہ کٹوائے اور قربانی کا جانور ہمراہ ہونے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حلال نہ ہوئے اور جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ طواف اور سعی کے بعد بال منڈا کر یا کٹوا کر حلال ہو جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4182

۔ (۴۱۸۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ((مَنْ أَحَبَّ أَنِْ یَبْدَئَ مِنْکُمْ بِعُمْرَۃٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْیَفْعَلْ وَأَفْرَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْحَجَّ وَلَمْ یَعْتَمِرْ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۲۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیا اور فرمایا: تم میں سے جو آدمی حج سے قبل عمرہ کرنا پسند کرتا ہو وہ عمرہ کر سکتا ہے، خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، عمرہ نہیں کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4183

۔ (۴۱۸۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَہْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحَجِّ خَالِصًا لَیْسَ مَعَہُ غَیْرُہُ، خَالِصًا وَحَدَہُ، فَقَدِمْنَا مَکَّۃَ صُبْحَ رَابِعَۃٍ مَضَتْ مِنْ ذِیْ الْحِجَّۃِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حِلُّوْا وَجْعَلُوْاہَا عُمْرَۃً)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۶۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ہم صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صرف اور صرف حج کا احرام باندھا تھا، اس کے ساتھ کوئی دوسری چیز نہیں تھی، لیکن جب ہم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حلال ہو جائو اور اس کو عمرہ بنا دو، …۔ الحدیث
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4184

۔ (۴۱۸۴) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: أَہَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّتِہِ بِالْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۳۳)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کا احرام باندھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4185

۔ (۴۱۸۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَہْلَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَبِالْحَجِّمُفْرَدًا۔ (مسنداحمد: ۵۷۱۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4186

۔ (۴۱۸۶) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِیْ الْجَعْدِ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَتَیْنَا ذَالْحُلَیْفَۃِ فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أَجْمَعَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَمَنْ أَرَادَ ذٰلِکَ فَلْیَقُلْ کَمَا أَقُوْلُ، ثُمَّ لَبّٰی قَالَ: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا، قَالَ: وَقَالَ سَالِمٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: وَاللّٰہِ إِنَّ رِجْلِیْ لَتَمَسُّ رِجْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنَّہُ لَیُہِلُّ بِہِمَا جَمِیْعًا۔ (مسند احمد: ۱۴۰۲۹)
۔ سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں: ہم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیّت میں حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تو حج اور عمرہ کو اکٹھا ادا کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا جو آدمی اس طرح کرنا چاہتا ہو، وہ اسی طرح کہے جیسے میں کہوں، پھر انہوں نے یوں تلبیہ پڑھا: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا (میں حاضر ہوں، حج اور عمرے دونوں کے ساتھ)۔ سالم کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے یہ بات بتلائی: اللہ کی قسم! دورانِ سفر میری ٹانگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ٹانگ کو لگ رہی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4187

۔ (۴۱۸۷) عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا قَالَ: قَالَ لِیْ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنِّی أُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا عَسَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یَنْفَعَکَ بِہِ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ جَمَعَ بَیْنَ حَجٍّ وَعُمْرَۃٍ ثُمَّ لَمْ یَنْہَ عَنْہُ حَتّٰی مَاتَ وَلَمْ یَنْزِلْ قُرْآنٌ فِیْہِیُحَرِّمُہُ، وَإِنَّہُ کَانَ یُسَلَّمُ عَلَیَّ فَلَمَّا اکْتَوَیْتُ أُمْسِکَ عَنِّی، فَلَمَّا تَرَکْتُہُ عَادَ إِلَیَّ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۷۱)
۔ مطرف کہتے ہیں:سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے نفع پہنچائے گا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کر کے ادا کیا تھا،پھر نہ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع فرمایا اور نہ کوئی قرآن مجید کا ایسا حصہ نازل ہوا، جس نے اسے حرام کر دیا ہو۔ نیز میں عمران کہتا ہوں: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، لیکن جب میں نے (بواسیر کے زخم کا علاج کرنے کے لیے اس کو) داغا تو انھوں نے سلام کہنا بند کر دیا، پھر جب میں نے داغنے کا یہ عمل ترک کر دیا تو وہ مجھے دوبارہ سلام کہنے لگ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4188

۔ (۴۱۸۸) عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ عَنِ الْہِرْمَاسِ بْنِ زِیَادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ رِدْفَ أَبِیْ فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَعِیْرٍ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ مَعًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۶۷)
۔ ہر ماس بن زیاد کہتے ہیں: میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا، میں نے اس حال میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اونٹ پر سوار تھے اور یوں تلبیہ پکار رہے تھے: لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ مَعًا۔ ( میں حج اور عمرہ دونوں کے لئے حاضر ہوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4189

۔ (۴۱۸۹) عَنِ الْحَکَمِ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ أَنَّ الصُّبَیَّ بْنَ مَعْبَدٍ کَانَ نَصْرَانِیًّا تَغْلِبِیًّا أَعْرَابِیًّا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَنَّ رَجُلًا کَانَ نَصْرَانِیًّایُقَالَ لَہُ الصُّبَیُّ بْنُ مَعْبَدٍ) فَأَسْلَمَ فَسَأَلَ: أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقِیْلَ لَہُ: الْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَأَرَادَ أَنْ یُجَاہِدَ، فَقِیْلَ لَہُ: حَجَجْتَ؟ فَقَالَ: لَا، فَقِیْلَ: حُجَّ وَاعْتَمِرْ ثُمَّ جَاہِدْ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِالْحَوَابِطِ، أَہَلَّ بِہِمَا جَمِیْعًا، فَرَآہُ زَیْدُ بْنُ صُوْحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِیْعَۃَ فَقَالَا: لَہُوَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِہِ أَوْ مَا ہُوَ بِأَہْدٰی مِنْ نَاقَتِہِ، فَانْطَلَقَ إِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَخْبَرَہُ بِقَوْلِہِمَا فَقَالَ: ہُدِیْتَ لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ الْحَکَمُ: فَقُلْتُ لِأَبِی وَائِلٍ: حَدَّثَکَ الصُّبَیُّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۸۳)
۔ سیدنا ابو وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: صبی بن معبد بنو تغلب کا ایک بدّو آدمی تھا، وہ مذہباً عیسائی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کر لیا، اس کے بعد اس نے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ اسے بتلایا گیا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، جب اس نے جہاد کا ارادہ کیا تو اس سے پوچھا گیا: کیا تم نے حج کیا ہے؟ اس نے بتلایا: جی نہیں۔ اس سے کہا گیا: تم پہلے حج اور عمرہ کر لو، پھر جہاد کرنا، پس وہ اس مقصد کے لیے روانہ ہوگیا اور جب وہ حوابط مقام پر پہنچا تو اس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا،،زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے اسے اس طرح دیکھ کر کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، یایہ تو اپنی اونٹنی سے زیادہ ہدایت والا نہیں،یہ سن کر وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں کی بات کا ان سے ذکر کیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تمہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے۔حکم کہتے ہیں: میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا صبی نے تم کو یہ حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4190

۔ (۴۱۹۰)عَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِیْ الْحَجِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: وَقَرَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد: ۱۷۷۲۶)
۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیاہے۔ نیز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود حجۃ الوداع کے موقع پر ان دونوں کو ایک احرام میں جمع کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4191

۔ (۴۱۹۱) عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ بِالْعَقِیْقِ،یَقُوْلُ: ((أَتَانِیَ اللَّیْلَۃَ آتٍ مِنْ رَبِّیْ، فَقَالَ: صَلِّ فِیْ ہٰذَا الْوَادِیْ الْمُبَارَکِ وَقُلْ عُمْرَۃٌ فِیْ حَجَّۃٍ۔)) قَالَ الْوَلِیْدُ،یَعْنِی ذَا الْحُلَیْفَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۱)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے وادیٔ عقیق میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آج رات میرے ربّ کی طرف سے ایک آنے والے (فرشتے یعنی جبریل علیہ السلام ) نے آ کر کہا: آپ اس مبارک وادی میں نماز ادا کریں اور یوں کہیں کہ یہ عمرہ حج کے ساتھ ہی ہے۔ ‘ ولید راوی کہتے ہیں: وادی سے مراد ذوالحلیفہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4192

۔ (۴۱۹۲)عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَ: شَہِدْتُّ عَلِیًّا وَعُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ، وَعُثْمَانُ یَنْہَی عَنِ الْمُتْعَۃِ، وَأَنْ یُجْمَعَ بَیْنَہُمَا، فَلَمَّا رَأَی ذٰلِکَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَہَلَّ بِہِمَا فَقَالَ: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ مَعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تَرَانِی أَنْہٰی النَّاسَ عَنْہُ وَأَنْتَ تَفْعَلُہُ؟ قَالَ: لَمْ أَکُنْ أَدَعُ سُنَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِقَوْلِ أَحَدٍ مِّنَ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۹)
۔ مروان بن حکم کہتے ہیں: میں سیدنا علی اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حاضرہوا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج تمتع سے اور حج اور عمرے کو ایک احرام میں جمع کرنے سے منع کر رہے تھے۔ لیکن جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے ان دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا اور یوں کہا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ مَعًا (میں حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھتا ہوں)، یہ سن کر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم دیکھ رہے ہو کہ میں لوگوں کو ایسا کرنے سے روک رہا ہوںاور تم پھر وہی کام کر رہے ہو؟سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: میں کسی آدمی کے قول کی بنیاد پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت چھوڑنے والا نہیں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4193

۔ (۴۱۹۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا نَسِیْرُ مَعَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَإِذَا رَجُلٌ یُلَبِّیْ بِہِمَا جَمِیْعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَنْ ھٰذَا؟ فَقَالُوْا عَلِیٌّ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّیْ نَہَیْتُ عَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: بَلٰی، وَلٰکِنْ لَمْ أَکُنْ لِأَدَعَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِقَوْلِکَ۔ (مسند احمد: ۷۳۳)
۔ (دوسری سند) مروان کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک آدمی حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہا تھا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، تو انھوں نے کہا: کیا تم جانتے نہیں کہ میں نے اس عمل سے روکا ہوا ہے؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی بالکل جانتا ہوں، لیکن میں تمہارے قول کی بنیاد پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد کو نہیں چھوڑ سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4194

۔ (۴۱۹۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا نَسِیْرُ مَعَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَإِذَا رَجُلٌ یُلَبِّیْ بِہِمَا جَمِیْعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَنْ ھٰذَا؟ فَقَالُوْا عَلِیٌّ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّیْ نَہَیْتُ عَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: بَلٰی، وَلٰکِنْ لَمْ أَکُنْ لِأَدَعَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِقَوْلِکَ۔ (مسند احمد: ۷۳۳)
۔ سیدناعبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حجفہ کے مقام پر تھے، آپ کے ساتھ اہل شام کا ایک قافلہ بھی تھا، اس میں حبیب بن مسلمہ فہری بھی تھے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سامنے حج تمتع کا ذکر کیا گیا،پس انھوں نے کہا: یہ دونوں عمل حج کے مہینوں میں نہیں ہونے چاہئیں، ان کا خیال تھا کہ تم لوگ اس عمرہ کو مؤخر کر دو اور تم دو بار بیت اللہ کی زیارت کرو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اب مال و دولت میں وسعت دے دی ہے۔ اس وقت سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وادی میں اپنے اونٹ کو چرا رہے تھے۔ جب ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: کیا آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں بندوں کو دی ہوئی سہولت اور رخصت کو ختم کرکے ان پر تنگی کرنا چاہتے ہیں اور ثابت شدہ عمل سے انہیں روکنا چاہتے ہیں؟یہ رخصت حاجت مندوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کے لئے ہے۔ بعد ازاں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا میں نے ان دونوں کو جمع کرنے سے منع کیا ہے؟ میں نے تو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا،یہ تو میری ایک رائے تھی، جس کا میں نے اظہار کیا، اب جو چاہتا ہے، وہ اسے اختیار کر لے اور جو چاہتا ہے، وہ اسے ترک کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4195

۔ (۴۱۹۵) عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ بَکْرٍ قَالَ: قُلْتُ ِلاِبْنِ عُمَرَ إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَقَالَ: ((لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ۔)) قَالَ: وَہِلَ أَنَسٌ، خَرَجَ فَلَبّٰی بِالْحَجِّ وَلَبَّیْنَا مَعَہُ، فَلَمَّا قَدِمَ أَمَرَ مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ الْھَدْیُ أَنْ یَجْعَلَھَا عُمْرَۃً‘ قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِأَنَسٍ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَا إِلَّا صِبْیَانًا۔ (مسند احمد: ۵۱۴۷)
۔ بکر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں بتلایا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں تلبیہ پڑھا تھا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ (میں عمرہ اور حج دونوں کے لئے حاضر ہوں)یہ سن کر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھول گئے ہیں، بات یہ تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب روانہ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور ہم نے بھی حج کا تلبیہ پڑھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد احرام کھول دیں۔ بکر کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتائی تو وہ کہتے لگے: اصل میں تم ہمیں بچے سمجھتے ہو، (اس لیے ہماری باتوں پر اعتماد نہیں کرتے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4196

۔ (۴۱۹۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَنَ بَیْنَ حَجَّتِہِ وَعُمْرَتِہِ أَجْزَأَہُ لَہُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ۔)) (مسند احمد: ۵۳۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ کو ایک احرام میں جمع کیا، اس کو ان دونوں کے لئے ایک طواف کافی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4197

۔ (۴۱۹۷) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّمَا قَرَنَ خَشْیَۃَ أَنْ یُصَدَّ عَنِ الْبَیْتِ، وَقَالَ: ((إِنْ لَمْ یَکُنْ حَجَّۃً فَعُمْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۷۰۱۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک احرام میں اس اندیشہ کی وجہ سے جمع کیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو بیت اللہ تک جانے سے روک دیا جائے، پھر انھوں نے کہا: اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ خیال تھا کہ اگر حج نہ ہو سکا تو عمرہ تو کر لیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4198

۔ (۴۱۹۸) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَزَلَتْ آیَۃُ الْمُتْعَۃِ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ وَعَمِلْنَا بِہا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَنْزِلْ آیَۃٌ تَنْسَخُہَا، وَلَمْ یَنْہَ عَنْہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۴۹)
۔ سیدنا عمران بن حنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع کی آیت قرآن کریم میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا، اب اس کے بعد تو کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا ہو اور نہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4199

۔ (۴۱۹۹) عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَۃَ، الضُّبَعِیَّ قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَہَانِی نَاسٌ عَنْ ذَالِکَ فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَالِکَ فَأَمَرَنِیْ بِہَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَی الْبَیْتِ فَنِمْتُ فَأَتَانِی آتٍ فِیْ مَنَامِی فَقَالَ عُمْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ وَحَجٌّ مَبْرُوْرٌ، قَالَ: فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِیْ رَأَیْتُ فَقَالَ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ ، سُنَّۃُ أَبِیْ الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ فِیْ الْہَدْیِ: جَزُوْرٌ أَوْ بَقَرَۃٌ أَوْ شَاۃٌ أَوْ شِرْکٌ فِیْ دَمٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۸)
۔ ابو جمرہ ضبعی کہتے تھے: میں نے حج تمتع کرنا چاہا لیکن لوگوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کردیا، پس میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، انہوں نے مجھے حج تمتع کرنے کا حکم دیا، سو میں بیت اللہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں جا کر سو گیا،میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: یہ تو عمرۂ مقبولہ اور حج مبرور ہے۔ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنا خواب بیان کیا، تو انہوںنے تعجب کرتے ہوئے بار بار کہا: اللّٰہُ أَکْبَرُ،اللّٰہُ أَکْبَرُ یہ عمل تو ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہدی کے بارے میں کہاکہ وہ ایک اونٹ یا ایک گائے یا ایک بکرییا بھیڑ ہو سکتی ہے یا ایک جانور میں حصہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4200

۔ (۴۲۰۰)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی مَاتَ وَأَبُوْ بَکْرٍ حَتّٰی مَاتَ، وَعُمَرُ حَتّٰی مَاتَ، وَعُثْمَانُ حَتّٰی مَاتَ وَکَانَ أَوَّلَ مَنْ نَہٰی عَنْہَا مُعَاوِیَۃُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَعَجِبْتُ مِنْہُ، وَقَدْ حَدَّثَنِی أَنَّہُ قَصَّرَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَبِمِشْقَصٍ۔ (مسنداحمد: ۲۶۶۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے، سیدنا ابوبکر نے، سیدنا عمر نے اور سیدنا عثمان نے دنیا سے رخصت ہونے تک تمتع کی اجازت دیئے رکھی۔سب سے پہلے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے منع کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے ان کے حج تمتع سے منع کرنے پر تعجب ہوا، کیونکہ انہوں نے خود مجھے بیان کیا تھا کہ انہوں نے تیر کے چوڑے پھل کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال تراشے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4201

۔ (۴۲۰۱) عَنْ غُنَیْمٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ الْمُتْعَۃِ قَالَ: فَعَلْنَاہَا وَہٰذَا کَافِرٌ بِالْعُرُشِ، یَعْنِی مُعَاوِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۸)
۔ غنیم کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے تمتع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: ہم نے (رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ) اُس وقت تمتع کیا تھا، جب یہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مکہ مکرمہ کے گھروں میں ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4202

۔ (۴۲۰۲) عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِیْ وَقَاصٍ وَالضَّحَّاکَ بْنَ قَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَامَ حَجَّ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِیْ سُفْیَانَ، وَہُمَا یَذْکُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِِّ فَقَالَ الضَّحَّاکُ: لاَیَصْنَعُ ذٰلِکَ إِلَّا مَنْ جَہِلَ أَمْرَ اللّٰہُ، فَقَالَ سَعْدٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: بِئْسَمَا قُلْتَ یَا ابْنَ أَخِی، فَقَالَ الضَّحَّاکُ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدَ نَہٰی عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ قَدْ صَنَعَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَنَعْنَاہَا مَعَہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۳)
۔ محمد بن عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ضحاک بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس سال سنا، جس سال سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج کیا تھا، یہ دونوں حج تمتع کا ذکر کر رہے تھے، ضحاک نے کہا: وہی آدمییہ حج کرے گا، جو اللہ تعالی کے حکم سے جاہل ہو گا۔یہ سن کر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بھتیجے! تم نے بڑی غلط بات کہی ہے، آگے سے سیدنا ضحاک نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اس سے منع کیا ہے، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباًکہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور ہم نے آپ کی معیت میں حج تمتع کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4203

۔ (۴۲۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ مُتْعَتَانِ کَانَتَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَہَانَا عَنْہُمَا عُمَرُ فَانْتَہْیَنَا۔ (مسند احمد: ۱۴۸۹۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نکاح متعہ اور حج تمتع دونوں کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں اجازت تھی، لیکن جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں ان سے منع کیا تو ہم رک گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4204

۔ (۴۲۰۴) عَنْ إِبْرَاہِیْمَ بْنِ أَبِی مُوْسَی عَنْ أَبِی مُوْسَی (الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّہُ کَانَ یُفْتِی بِالْمُتْعَۃِ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: رُوَیْدَکَ بِبَعْضِ فُتْیَاکَ، فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِیْ مَا أَحْدَثَ أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی النُّسُکِ بَعْدَکَ حَتّٰی لَقِیَہُ بَعْدُ فَسَأَلَہُ، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ فَعَلَہُ وَأَصْحَابَہُ, وَلٰکِنِّی کَرِہْتُ أَنْ یَظَلُّوا بِہِنَّ مُعْرِسِیْنَ فِی الْأَرَاکِ ثُمَّ یَرُوْحُوْ بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رَؤُوْسُہُمْ۔ (مسند احمد: ۳۵۱)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے، ایک آدمی نے ان سے کہا: ذرا اپنے بعض فتووں سے رک جاؤ،کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد امیر المومنین نے مناسک ِ حج کے بارے میں کیا حکم جاری کیا ہے۔ بعد میں سیدناابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور صحابہ کرام نے حج تمتع کیا ہے، مگر میں یہ پسند نہیں کرتا کہ یہ لوگ رات کو اَرَاک درختوں کے نیچے اپنی بیویوں کے ساتھ ہم بستری کریں اور پھر جب حج کے لئے روانہ ہوں تو ان کے سروں سے غسل کے پانی کے قطرے گر رہے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4205

۔ (۴۲۰۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوْسیٰ (الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: ہِیَ سُنَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِی الْمُتْعَۃَ، وَلٰکِنِّی أَخْشٰی أَنْ یُعْرِسُوْا بِہِنَّ تَحْتَ الْأَرَاکِ ثُمَّ یَرُوْحُوْا بِہِنَّ حُجَّاجًا۔ (مسند احمد: ۳۴۲)
۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: حج تمتع رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے، مگر اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ لوگ اَرَاک کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں سے ہم بستری کریں گے اور پھر حج کا احرام باندھ کر چل پڑیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4206

۔ (۴۲۰۶) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یُفْتِی بِالَّذِیْ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَۃِ بِالتَّمَتُّعِ، وَسَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ، فَیَقُوْلُ نَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ: کَیْفَ تُخَالِفُ أَبَاکَ وَقَدْ نَہٰی عَنْ ذٰلِکَ؟ فَیَقُوْلُ لَہُمْ عَبْدُ اللّٰہِ: وَیْلَکُمْ! أَلَا تَتَّقُوْنَ اللّٰہَ، إِنْ کَانَ عُمَرُ نَہٰی عَنْ ذَالِکَ فَیَبْتَغِیْ فِیْہِ الْخَیْرَیَلْتَمِسُ بِہِ تَمَامَ الْعُمْرَۃِ، فَلِمَ تُحَرِّمُوْنَ ذٰلِکَ وَقَدْ أَحَلَّہُ اللّٰہُ وَعَمِلَ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَفَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوْا أَمْ سُنَّۃُ عُمَرَ؟ إِنَّ عُمَرَ لَمْ یَقُلْ لَکُمْ إِنَّ الْعُمْرَۃَ فِیْ أَشْہُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ، وَلٰکِنَّہُ قَالَ: اِنَّ أَتَمَّ الْعُمْرَۃِ أَنْ تُفْرِدُوْہَا مِنْ أَشْہُرِ الْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۵۷۰۰)
۔ سالم بن عبد اللہ بن عمرسے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قرآن مجید اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کے مطابق حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے ۔ جب لوگ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہتے کہ آپ کے والد تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، تو پھر آپ ان کے حکم کی مخالفت کیوں کرتے ہو تو وہ ان کو یوں جواب دیتے تھے: تم پر افسوس ہے، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟اگر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے منع کیاہے تو ان کا ارادہ بھی خیر کاہی ہو گا کہ تم مستقل طور پر عمرہ کرو، اب تم اسے حرام کیوں سمجھتے ہو؟ جبکہ اللہ نے اسے حلال کیا ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر عمل کیا ہے۔ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتباع کے زیادہحقدار ہیںیا سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا فعل؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تم سے یہ تو نہیں کہا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا حرام ہے، ان کا کہنا تو یہ تھا کہ مکمل عمرہ یہ ہے کہ تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ مستقل طور پر ادا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4207

۔ (۴۲۰۷) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَنْہٰی عَنِ الْمُتْعَۃِ وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَأْمُرُ بِہَا، قَالَ: فَقَالَ لِی: عَلٰییَدِیْ جَرَی الْحَدِیْثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ عَفَّانُ: وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ، فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ ہُوَ الْقُرْآنُ وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہُوَ الرَّسُوْلُ، وَإِنَّہُمَا کَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِحْدَاہُمَا مُتْعَۃُ الْحَجِّ وَالْأُخْرٰی مُتْعَۃُ النِّسَائِ۔ (مسند احمد: ۳۶۹)
۔ ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہاکہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج تمتع سے منع کرتے ہیںاور سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: حج سے متعلقہ یہ حدیث میرے ہاتھ پر گھومتی ہے، ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور پھر سیدنا ابو بکر کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوںنے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں متعہ کی دو قسمیں رائج تھیں، ایک حج والا متعہ اور دوسرا عورتوں والا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4208

۔ (۴۲۰۸) عَنْ یُوْنُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَرَادَ أَنْ یَنْہٰی عَنْ مُتْعَۃِ الْحَجِّ فَقَالَ لَہُ أُبَیُّ (بْنُ کَعْبٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَیْسَ ذٰلِکَ لَکَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَنْہَنَا، فَأَضْرَبَ عَنْ ذَالِکَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَأَرَادَ أَنْ یَنْہٰی عَنْ حُلَلِ الْحِبْرَۃِ، لِأَنَّہَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَہُ أُبَیٌّ: لَیْسَ ذَالِکَ لَکَ، قَدْ لَبِسَہُنَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَبِسْنَاہُنَّ فِیْ عَہْدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۰۷)
۔ حسن سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج تمتع سے منع کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ حج تمتع سے منع نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں یہ حج کیاہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس سے نہیں روکا، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یمنی چادروں سے منع کرنا چاہا کیونکہ ان کو پیشاب کے ساتھ رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے بھی نہیں روک سکتے، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھییہ پہنی تھیں اور آپ کے زمانہ میں ہم نے ان کو زیب ِ تن کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4209

۔ (۴۲۰۹) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: اِجْتَمَعَ عَلِیٌّ وَعُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بِعُسْفَانَ فَکَانَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَنْہٰی عَنِ الْمُتْعَۃِ وَالْعُمْرَۃِ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تُرِیْدُ إِلٰی أَمْرٍ فَعَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَنْہٰی عَنْہَا، فَقَالَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: دَعْنَا مِنْکَ۔ (مسند احمد: ۱۱۴۶)
۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وادیٔ عسفان میںاکٹھے ہو گئے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج تمتع اور عمرہ سے منع کرتے تھے، لیکن سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ اس عمل سے روکنا چاہتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کیا تھا، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: آپ اپنی باتوں سے ہمیں معاف ہی رکھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4210

۔ (۴۲۱۰) عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: إِنَّا لَبِمَکَّۃَ إِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَنَھٰی عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ وَأَنْکَرَ أَنْ یَکُوْنَ النَّاسُ صَنَعُوْا ذٰلِکَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَلَغَ ذَالِکَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَقَالَ: وَمَا عَلِمَ ابْنُ الزُّبَیْرِ بِہٰذَا؟ فَلْیَرْجِعْ إِلٰی أُمِّہِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَلْیَسْأَلْہَا فَإِنْ لَمْ یَکُنِ الزُّبَیْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَیْہَا حَلَالًا، وَحَلَّتْ، فَبَلَغَ ذَالِکَ أَسْمَائَ فَقَالَتْ: یَغْفِرُ اللّٰہِ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ أَفْحَشَ، قَدْ وَاللّٰہِ! صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا وَأَصَابُوْا النِّسَائَ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۰۲)
۔ اسحاق بن یسار کہتے ہیں: ہم مکہ مکرمہ میں تھے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور حج تمتع کرنے سے منع کیا اور انہوں نے اس بات کا بھی انکار کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایسا حج کیا ہو، جب یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس کا کیا علم؟ اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے جا کر پوچھ لے، اگر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے احرام نہ کھولا ہو اور ان کی ماں نے کھول دیا ہو۔ جب یہ بات سیدہ اسماء نے سنی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو معاف فرمائے، انھوں نے نامناسب بات کی ہے، بہرحال اللہ کی قسم ہے کہ انھوں نے سچی بات کی ہے، لوگوں نے واقعی احرام کھول دیئے تھے اور ہم نے بھی احرام کھول دیتے تھے اور لوگوں نے اپنی بیویوں سے ہم بستری بھی کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4211

۔ (۴۲۱۱)عَنْ مُسْلِمِ نِ الْقُرِّیِّ قَالَ: سَـأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مُتْعَۃِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِیْہَا وَکَانَ ابْنُ الزُّبَیْرِیَنْہٰی عَنْہَا، فَقَالَ: ہٰذِہِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَیْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَخَّصَ فِیْہَا فَادْخُلُوْا عَلَیْہَا فَاسْأَلُوْہَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَیْہَا فَإِذَا أَمْرَأَۃٌ ضَخْمَۃٌ عَمْیَائُ فَقَالَتْ: قَدْ رَخَّصَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۴۸۵)
۔ مسلم قری کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے حج تمتع کی بابت پوچھا، انہوںنے اس میں رخصت دے دی، لیکن سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے منع کر دیا،یہ دیکھ کر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، جبکہ ان کی والدہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی اجازت دی ہے، تم جا کر ان سے پوچھ لو۔ مسلم قری کہتے ہیں: چنانچہ ہم ان کے ہاں گئے، وہ ایک بھاری بھر کم خاتون تھیں اور نابینا ہو چکی تھیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واقعی اس کی اجازت دی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4212

۔ (۴۲۱۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَرِیْکٍ العَامِرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَاللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ سُئِلُوْا عَنِ الْعُمْرَۃِ قَبْلَ الْحَجِّ فِی الْمُتْعَۃِ، فَقَالُوْا: نَعَمْ سُنَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَقَدَّمُ فَتَطُوْفُ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ تَحِلُّ، وَإِنْ کَانَ ذَالِکَ قَبْلَ یَوْمِ عَرَفَۃَ بِیَوْمٍ، ثُمَّ تُہِلُّ بِالْحَجِّ فَتَکُوْنُ قَدْ جَمَعْتَ عُمْرَۃً وَحَجَّۃً أَوْ جَمَعَ اللّٰہُ لَکَ عُمْرَۃً وَحَجَّۃً۔ (مسند احمد: ۶۲۴۰)
۔ عبد اللہ بن شریک عامری کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر سے حج سے قبل عمرہ کر لینے کے متعلق پوچھا گیا تو ان سب نے کہا: جی ہاں، یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے، جب تو مکہ مکرمہ پہنچے تو بیت اللہ کا طواف اور صفاو مروہ کی سعی کرکے حلال ہو جا (اس طرح یہ عمرہ ہو جائے گا)، خواہ یہ عمل عرفہ سے ایک دن پہلے ہو، اس کے بعد تم حج کا احرام باندھ لو، اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں حج اور عمرہ دونوں کو ادا کرنے کا موقع دے دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4213

۔ (۴۲۱۳)عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِیْنَ، فَقَالَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُتِمَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَلْیَقُمْ عَلٰی إِحْرَامِہِ) وَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیَحْلِلْ۔)) قَالَتْ: فَلَمْ یَکُنْ مَعِی ہَدْیٌ فَحَلَلْتُ وَکَانَ مَعَ الزُّبَیْرِ زَوْجِہَا ہَدْیٌ فَلَمْ یَحِلَّ، قَالَتْ: فَلَبِسْتُ ثِیَابِیْ وَحَلَلْتُ، فَجِئْتُ إِلٰی الزُّبَیْرِ، فَقَالَ: قُوْمِی عَنِّی، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَتَخْشٰی أَنْ أَثِبَ عَلَیْکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۰۵)
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم احرام باندھ کر سفر پر روانہ ہوئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے ،وہ احرام کی حالت میںرہیں گے اور جن کے ساتھ یہ جانور نہیں ہے، وہ عمرہ کرکے حلال ہو جائیں۔ اب میرے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اس لیے میں حلال ہو گئییعنی احرام کھول دیا، لیکن میرے شوہر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، سو وہ حلال نہ ہوئے۔ میں نے احرام کھول کر عام کپڑے پہن لیے اور اپنے شوہر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قریب چلی گئی، لیکن انھوں نے کہا: مجھ سے دور ہٹ جائو۔ میں نے کہا: کیا آپ اس سے ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4214

۔ (۴۲۱۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ((مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَبْدَأَ مِنْکُمْ بِعُمْرَۃٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْیَفْعَلْ۔)) وَأَفْرَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْحَجَّ وَلَمْ یَعْتَمِرْ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۲۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تم میں سے جو کوئی حج سے قبل عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ کر سکتا ہے، بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج افراد کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ نہیں کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4215

۔ (۴۲۱۵) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْنَا بِعُمْرَۃٍِ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَۃِ ثُمَّ لَا یَحِلُّ حَتّٰییَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیْعًا۔)) قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَکَّۃَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلَا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَشَکُوْتُ ذَالِکَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اُنْقُضِی رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ وَدَعِیْ الْعُمْرَۃَ۔)) قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَیْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ اِلَی التَّنْعِمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: ((ہٰذِہِ مَکَانُ عُمْرَتِکِ۔)) قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِیْنَ أَہَلُّوْا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ أَحَلُّوْا، ثُمَّ طَافُوْا طَوْافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوْا مِنْ مِنًی لِحَجِّہِمْ، فَأَمَّا الَّذِیْنَ جَمَعُوْا الْحَجَّ فَطَافُوْا طَوَافًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، بعد ازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پکاریں، وہ ان دونوں سے اکٹھے حلال ہوں گے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حیض آ گیا، لہٰذا میں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہ کر سکی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سر کھول دو اورکنگھی کرکے حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کو ترک کر دو۔ پس میں نے اسی طرح کیا، جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میرے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، تاکہ میں عمرہ کر آئوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہو گئے،اس کے بعد انہوں نے منیٰ سے آ کر حج کا طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا یعنی حج قران کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4216

۔ (۴۲۱۶) عَـنْ عُـرْوَۃَ عَنْ عَـائـِشـَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ وَلَمْ أَکُنْ سُقْتُ الْہَدْیَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ الْہَدْیُ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِہِ، ثُمَّ لَا یَحِلُّ حَتَّییَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیْعًا۔)) فَحِضْتُ، فَلَمَّا دَخَلَتْ لَیْلَۃُ عَرَفَۃَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی کُنْتُ أَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِی؟ قَالَ: ((اُنْقُضِیْ رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَمْسِکِی عَنِ الْعُمْرَۃِ، وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ۔)) فَلَمَّا قَضَیْتُ حَجَّیِ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ فَأَعْمَرَنِیْ مِنَ التَّعْنِیْمِ مَکَانَ عُمْرَتِی الَّتِی نَسَکْتُ عَنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۵۸۲۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا اور میرے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے، وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھیں اور وہ ان دونوںکے بعد احرام کھولیں گے۔ اُدھر مجھے حیض آ گیا،جب عرفہ کی رات تھی تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا کہ میں نے تو عمرے کا احرام باندھا تھا، اب میرے حج کا کیا بنے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سر کھول کر کنگھی کرو اور عمرہ کو ترک کر دو اور حج کا احرام باندھ لو۔ جب میں نے حج کر لیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا، پس انہوں نے مجھے تنعیم سے عمرہ کروایا،یہ عمرہ اس عمرے کا متبادل تھا، جس کا میں نے پہلے احرام باندھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4217

۔ (۴۲۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیٰی عَن عُبَیْدِ اللّٰہِ أَخْبَرْنِی نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ کَلَّمَا عَبْدَ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) حِیْنَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَیْرِ، فَقَالَا: لَا یَضُرُّکَ أَنْ لَا تَحُجَّ ھٰذَا الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشٰی أَنْ یَکُوْنَ بَیْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، وَأَنْ یُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ، قَالَ: إِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ حِیْنَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ، اُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَۃً فَإِنْ خُلِّیَ سَبِیْلِیْ قَضَیْتُ عُمْرَتِی، وَإِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی أَتٰی ذَا الْحُلَیْفَۃِ فَلَبّٰی بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ تَلَا {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ثُمَّ سَارَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِظَہْرِ الْبَیْدَائِ، قَالَ: مَا أَمْرُہُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْعُمْرَۃِ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْحَجِّ، اُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّۃً مَعَ عُمْرَتِیْ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی ابْتَاعَ بِقُدَیْدٍ ہَدْیًا ثُمَّ طَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْکَذَالِکَ إِلٰییَوْمِ النَّحْرِ۔ (مسند احمد: ۵۱۶۵)
۔ نافع کرتے ہیں کہ جس سال حجاج ،سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے لڑائی کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آیا ہوا تھا، اس سال سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیٹوں عبد اللہ اور سالم نے اپنے باپ سے کہا: اس سال جنگ کا خطرہ ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ حج کے لئے نہ جائیں ، کیونکہیہ اندیشہ ہے کہ لڑائی کی وجہ سے آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے، انہوں نے کہا: اگر بیت اللہ تک جانے میں کوئی رکاوٹ آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس موقع پر کیا تھا، جب کفارِ قریش نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا تھا۔ اب میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کا ارادہ کر چکا ہوں، اگر مجھے نہ روکا گیا تو عمرہ ادا کر لوں گا اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے میں مجھے رکاوٹ پیش آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا، جبکہ اُس موقع پر میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا،اس کے بعد سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سفر شروع کر دیا، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا۔ اور یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (سورۂ احزاب: ۲۱) تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بہتریننمونہ ہے۔ اس کے بعد آگے کو روانہ ہوئے اور جب بیداء کے اوپر پہنچے تو کہا: حج اور عمرے کے احکام تو ایک جیسے ہی ہیں، اگر میرے عمرے کے سامنے کوئی رکاوٹ آ گئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میرے حج کے سامنے بھی رکاوٹ آ جائے گی، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ رہا ہوں، اس کے بعد وہ آگے کو روانہ ہوئے اور قدید کے مقام پر جا کر قربانی کا جانور خریدا۔ پھر مکہ پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کے لئے بیت اللہ کا ایک طواف اور صفا مروہ کی ایک سعی کی، اس کے بعد یوم النحریعنی دس ذوالحجہ تک اسی طرح رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4218

۔ (۴۲۱۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ نَافِعٍ خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ یُرَیْدُ الْعُمْرَۃَ فَأَخْبَرُوْہُ أَنَّ بِمَکَّۃَ أَمَرًا، فَقَالَ: أُہِلُّ بِالْعُمْرَۃِ فَإِنْ حُبِسْتُ صَنَعْتُ کَمَا صَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ، فَلَمَّا سَارَ قَلِیْلًا وَہُوَ بِالْبَیْدَائِ قَالَ: مَا سَبِیْلُ الْعُمْرَۃِ إِلَّا سَبِیْلُ الْحَجِّ اُوْجِبُ حَجًّا أَوْ قَالَ: اُشْہِدُکُمْ أَنِّیْ قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا، فَإِنَّ سَبِیْلَ الْحَجِّ سَبِیْلُ الْعُمْرَۃِ، فَقَدِمَ مَکَّۃَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ سَبْعًا وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ سَبْعًا، وَقَالَ: ہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَعَلَ،أَتٰی قُدَیْدًا فَاشْتَرَی ہَدْیًا فَسَاقَہُ۔ (مسند احمد: ۴۵۹۵)
۔ (دوسری سند) نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے، جب انہیں بتایا گیا کہ اس دفعہ مکہ میں لڑائی کا خطرہ ہے تو انہوں نے کہا: میں عمرے کا احرام باندھ لیتا ہوں، اگر مجھے آگے جانے سے روک دیا گیا تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے عمرے کا احرام باندھ لیا اور ذوالحلیفہ سے تھوڑا آگے جا کر جب بیداء کے ٹیلہ پر پہنچے تو کہنے لگے: حج اور عمرہ کے احکام تو ایک جیسے ہیں، لہٰذا میں حج کا ارادہ کرتاہوں، یایوں کہا: میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، کیونکہ حج اور عمرہ کے احکام و مسائل ایک جیسے ہیں، پس جب وہ مکہ پہنچے تو بیت اللہ کے گرد سات چکر اور صفا مروہ کی سعی کے بھی سات چکر لگائے اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس سفر میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قدید کے مقام سے قربانی کا جانور خرید کر اسے اپنے ساتھ مکہ مکرمہ لے گئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4219

۔ (۴۲۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْقُرِّیَّ، قَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّیِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: أَہَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعُمْرَۃِ وَأَہَلَّ أَصْحَابُہُ بِالْحَجِّ، قَالَ رَوْحٌ أَہْلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ بِالْحَجِّ فَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ أَحَلَّ وَکَانَ مِمَّنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ طَلْحَۃُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا۔ (مسند احمد: ۲۱۴۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ کا اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا ، روح کی روایت کے مطابق سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں تھے، وہ عمرہ کرنے کے بعد حلال ہو گئے تھے یعنی انہوںنے احرام کھول دیا تھا، سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک اور آدمی ان لوگوں میں سے تھے، جن کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، اس لیے وہ بھی عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلال ہو گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4220

۔ (۴۲۲۰)عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کَانَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لاَ شَرِیْکَ لَکَ۔)) قَالَ نَافِعٌ: وَکَانَ ابْنُ عَمَرَ یَقُوْلُ: وَزِدْتُ أَنَا لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، وَالْخَیْرُ فِیْیَدَیْکَ، لَبَّیْکَ واَلرَّغْبَائُ إِلَیْکَ وَالْعَمَلُ۔ (مسند احمد: ۵۰۷۱)
۔ نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان الفاظ کے ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ…)) (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس تلبیہ میں میں ان الفاظ کا اضافہ بھی کرتا ہوں: ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ)) (میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں اور میں حاضر ہوں، اور بھلائیتیرے ہاتھوںمیں ہے اور رغبت اور عمل بھی تیری طرف ہے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4221

۔ (۴۲۲۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُہِلُّ مُلَبِّدًا، یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔)) لَا یَزِیْدُ عَلٰی ہٰؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ۔ (مسند احمد: ۶۰۲۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام کی حالت میں بالوں کو بکھرنے سے بچانے کے لیے کوئی چیز لگائی ہوئی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان الفاظ کے ساتھ تلبیہ کہہ رہے تھے: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، …)) (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4222

۔ (۴۲۲۲)عَنِ الضَّحَّاکِ (بْنِ مُزَاحِمٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَتْ تَلْبِیَۃُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے: ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4223

۔ (۴۲۲۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَالَبَّیٰیَقُوْلُ لَبَّیْکَ الَلّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، (فَذَکَرَ مِثْلَ الطَّرِیْقِ الْأُوْلٰی ثُمَّ قاَل)َ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ انْتَہِ إِلَیْہَا، فَإِنَّہَا تَلْبِیَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب تلبیہ پکارتے تو یوں کہتے: لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ… ـــ (پہلی سند والا تلبیہ ذکر کیا)، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ان ہی الفاظ پر رک جائو، کیونکہیہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تلبیہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4224

۔ (۴۲۲۴)عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : إِنِّی لأَعْلَمُ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُلَبِّیْ، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُہَا تُلَبِّیْ تَقُوْلُ: لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۴۱)
۔ ابوعطیہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں خوب جانتی ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلبیہ کیسے پکارتے تھے۔ ابوعطیہ نے کہا: پھر میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو یوں تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ۔ ))
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4225

۔ (۴۲۲۵) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ مِنْ تَلْبِیَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَبَّیْکَ إِلٰہَ الْحَقِّ۔)) (مسند احمد: ۸۶۱۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تلبیہ میں یہ الفاظ بھی تھے: ((لَبَّیْکَ إِلٰہَ الْحَقِّ))
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4226

۔ (۴۲۲۶) عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُلَبِّیْ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ جَمِیْعًا، فَحَدَّثْتُ ابْنَ عُمَرَ بِذٰلِکَ فَقَالَ: لَبیّٰ بِالْحَجِّ وَحْدَہُ، فَلَقِیْتُأَنَسًا فَحَدَّثْتُہُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَنَا إِلَّا صِبْیَانًا، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۸۳)
۔ بکر بن عبد اللہ مزنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ پکارا تھا، پھر جب میں نے یہ بات سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بات بتلائی تو انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، بعد میں جب سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات کا ذکر کیا، انھوں نے کہا: دراصل تم لوگ ہمیں صرف بچے ہی سمجھتے ہو، جب کہ حقیقتیہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خود اس طرح تلبیہ کہتے ہوئے سنا تھا: ((لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا))(میں حاضر ہوں عمرہ کے لیے اور حج کے لیے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4227

۔ (۴۲۲۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ سَلْمَۃَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سَمِعَ رَجُلاً یَقُوْلُ: لَبَّیْکَ ذَا الْمَعَارِجِ، فَقَالَ: إِنَّہُ لَذُوْ الْمَعَارِجِ وَلٰکِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا نَقُوْلُ ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۵)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی کو یوں تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ ذَا الْمَعَارِجِ‘ ‘(اے بلندیوں والے! میں حاضر ہوں)،یہ سن کر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: واقعی اللہ تعالیٰ بلندیوں والا ہے، لیکن بات یہ ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس قسم کے الفاظ نہیں کہتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4228

۔ (۴۲۲۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ أَضْحٰییَوْمًا مُحْرِمًا مُلَبِّیًا حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ غَرَبَتْ بِذُنُوْبِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۷۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک دن احرام کی حالت میں تلبیہ پکارتا رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو گا جیسے وہ اس دن تھا، جس دن کو اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4229

۔ (۴۲۲۹) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَا آلَ مُحَمَّدٍ! مَنْ حَجَّ مِنْکُمْ فَلْیُہِلَّ فِی حَجِّہِ أَوْ حَجَّتِہِ۔)) شَکَّ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۸)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے آل محمد! تم میں سے جو کوئی حج کرے تو اسے چاہیے کہ وہ تلبیہ کہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4230

۔ (۴۲۳۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: أَتَیْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بِعَرَفَۃَ وَہُوَ یَأْکُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: أَفْطَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَۃَ وَقَدْ بَعَثَتْ إِلَیْہِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَہُ، وَقَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ فُلَانًا، عَمَدُوْا إِلٰی أَعْظَمِ أَیَّامِ الْحَجِّ، فَمَحَوْا زِیْنَتَہُ، وَإِنَّمَا زِیْنَۃُ الْحَجِّ التَّلْبِیَۃُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۰)
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ انار کھا رہے تھے، انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا تھا ، جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرما لیا تھا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالی فلاں آدمی پر لعنت کرے،انہوں نے ایام حج میں سے سب سے زیادہ عظمت والے دن کی طرف قصد کیا اور اس کی زینت کو مٹا ڈالا، حج کی زینت تلبیہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4231

۔ (۴۲۳۱)عَنْ خَلَاَّدِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَاَّدٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَتَانِی جِبْرِیْلُ علیہ السلام فَقَالَ: مُرْ أَصْحَابَکَ فَلْیَرْفَعُوْا أَصْوَاتَہُمْ بِالْإِہْلَالِ)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۲)
۔ سیدنا سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور انہوںنے کہا: آپ انپے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ تلبیہ پکارتے وقت آواز بلند رکھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4232

۔ (۴۲۳۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: أَتَانِی جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ: أَنْ آمُرَ أَصْحَابِی أَوْ مَنْ مَعِیَ أَنْ یَرْفَعُوْا أَصْوَاتَہُمْ بِألتَّلْبِیَۃِ، أَوْ لْإِہْلَالِ یُرِیْدُ أَحْدَہُمَا۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ میں اپنے صحابہ یا ساتھیوں کو یہ حکم دوں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4233

۔ (۴۲۳۳)عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنْ عَجَّابًا ثَجَّاجًا، وَالْعَجُّ التَّلْبِیَۃُ، وَالثَّجُّ نَحْرُ الْبُدْنِ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۲)
۔ سیدنا سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ بہت زیادہ تلبیہ کہنے والے اور بہت زیادہ جانوروں کے خون بہانے والے ہو جائیں۔ عَجّ کے معانی تلبیہ کے اور ثَجّ کے معانی اونٹوں کو نحر کرنے کے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4234

۔ (۴۲۳۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَائَ نِی جِبْرِیْلُ علیہ السلام فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! مُرْ أَصْحَابَکَ فَلْیَرْفَعُوْا أَصْوَاتَہُمْ بِالتَّلْبِیَۃِ، فَإِنَّہَا مِنْ شَعَائِرِ الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۱۸)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ اپنے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں، کیونکہیہدین کے شعائر اورعلامات میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4235

۔ (۴۲۳۵)عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَرَنِیْ جِبْرِیْلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِیْ الْإِہْلَالِ فَإِنَّہُ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۹۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیا ہے، کیونکہیہ حج کے شعائر اور علامات میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4236

۔ (۴۲۳۵)عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَرَنِیْ جِبْرِیْلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِیْ الْإِہْلَالِ فَإِنَّہُ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ میں بلند آواز سے تلبیہ پکاروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4237

۔ (۴۲۳۷)وَعَنْہُ أَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَبّٰی دُبُرَ الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پکارا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4238

۔ (۴۲۳۸) عَنِ ابْنِ سَخْبَرَۃَ قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌مِنْ مِنًی إِلٰی عَرَفَاتٍ، فَکَانَ یُلَبِّی، قَالَ: وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ رَجُلًا آدَمَ، لَہُ ضَفْرَانِ عَلَیْہِ مَسْحَۃُ أَہْلِ الْبَادِیَۃ، فَاجْتَمَعَ عَلَیْہِ غَوْغَائُ مِنْ غَوْغَائِ النَّاسِ، قَالُوْا: یَا أَعْرَابِیُّ! إِنَّ ھٰذَا الْیَوْمَ لَیْسَیَوْمَ تَلْبِیَۃٍ إِنَّمَا ہُوَ یَوْمُ تَکْبِیْرٍ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَالِکَ اِلتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ: أَجَہِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوْا؟ وَالَّذِیْ بَعَثَ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا تَرَکَ التَّلْبِیَۃَ حَتّٰی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ إِلَّا أَنْ یُخْلِطَہاَ بِتَکْبِیْرٍ أَوْ تَہْلِیْلٍ۔ (مسند احمد: ۳۹۶۱)
۔ ابن سنجرہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کو گئے، وہ تلبیہ پکارتے جارہے تھے، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا رنگ گندمی تھا،ان کے سر پر دو لٹیں تھیں اور ان کا حلیہ دیہاتیوں کا سا تھا، ان کے تلبیہ کی آواز سن کر عام سادہ سے لوگوں نے شور مچا دیا اور کہنے لگے: ارے دیہاتی! آج تلبیہ کا دن نہیںہے، تکبیرات کا دن ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میری طرف دیکھا اور کہا: لوگوں کو سرے سے علم نہیں تھا یایہ بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم، جس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں خود رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جا رہا تھا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ ترک نہیں کیا تھا، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دوران اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ بھی کہہ لیتے۔