MUSNAD AHMED

Search Results(1)

73)

73) احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4316

۔ (۴۳۱۶) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما إِذَا دَخَلَ أَدْنَی الْحَرَمِ أَمْسَکَ عَنِ التَّلْبِیَۃِ، فَإِذَا انْتَہٰی إِلٰی ذِی طُوًی بَاتَ فِیْہِ حَتّٰییُصْبِحَ، ثُمَّ یُصَلِّی الْغَدَاۃَ وَیَغْتَسِلُ، وَیُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَیَفْعَلُہُ، ثُمَّ یَدْخُلُ مَکَّۃَ ضُحًی فَیَأْتِی الْبَیْتَ ضُحًی فَیَأْتِیْ الْبَیْتَ فَیَسْتَلِمُ الْحَجَرَ، وَیَقُوْلُ: بِاسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، ثُمَّ یَرْمُلُ ثَلَاثَۃَ أَشْوَاطٍ، یَمْشِی مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ، فَإِذَا أَتٰی عَلَی الْحَجَرِ اسْتَلَمَہُ وَکبَرَّ، أَرْبَعَۃَ أَطْوَافٍ مَشْیًا ثُمَّ یَأْتِی الْمَقَامَ فَیُصَلِّی رَکْعَتَیْن ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی الْحَجَرِ فَیَسْتَلِمُہُ، ثُمَّ یَخْرُجُ إِلَی الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الْأَعْظَمِ فَیَقُوْمُ عَلَیْہِ فَیُکَبِّرُ سَبْعَ مِرَارٍ، ثَلَاثًا یُکَبِّرُ ثُمَّ یَقُوْلُ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (مسند احمد: ۴۶۲۸)
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب حرم کے قریب پہنچتے تو تلبیہ پکار نا بند کردیتے اور جب ذی طوی میں پہنچتے تو رات وہاں بسر کرتے، جب صبح ہوجاتی تو نمازِ فجر کے بعد غسل کرتے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے، اس کے بعد چاشت کے وقت مکہ میں داخلہ ہوتے، بیت اللہ میں جاکر حجر اسود کو استلام کرتے اور کہتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، پھر طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتا ر سے چلتے، جب حجر اسود کے قریب آتے تو اس کا استلام کرتے اور اَاللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔ باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلتے، بعد ازاں مقامِ ابراہیم کے پاس آکر دو رکعت اداکرتے، اس کے بعد پھر حجر اسود کے پاس آکر اس کا استلام کرتے، پھر بڑے دروازے کے راستہ سے صفا کی طرف جاتے، اس کے اوپر کھڑے ہوکر سات دفعہ تکبیر کہتے، ان میں سے تین بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور یہ دعا پڑھتے: لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیرٌ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4317

۔ (۴۳۱۷) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَبِیْتُ بِذِی طُوًی فَإِذَا أَصْبَحَ اِغْتَسَلَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَہُ أَنْ یَغْتَسِلُوْا وَیَدْخُلُ مِنَ الْعُلْیَا، فَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ السُّفْلٰی، وَیَزْعُمُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۶۴۶۲)
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ذی طویٰ میں رات بسر کرتے، صبح ہوتی تو غسل کرتے اور جو لوگ ان کے ساتھ ہوتے انہیں بھی غسل کرنے کا حکم دیتے اور ثنیۂ علیا کی جانب سے مکہ میں داخل ہوتے، لیکن جب مکہ سے باہر جانا ہوتا تو ثنیۂ سفلٰی کے راستہ سے جاتے، پھر وہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4318

۔ (۴۳۱۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِیَّۃِ الْعُلْیَا وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ الثَّنِیَّۃِ السُّفْلٰی۔ (مسند احمد: ۴۶۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ میں ثنیٔہ علیا کے راستے سے داخل ہوتے تھے اور ثنیۂ سفلٰی کے راستہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4319

۔ (۴۳۱۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ کَدَائٍ مِنْ أَعْلٰی مَکَّۃَ، وَدَخَلَ فِی الْعُمْرَۃِ مِنْ کُدًی۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کی بالائی جہت کَدَائ کے راستے سے اس شہر میں داخل ہوئے اور عمرہ کے موقع پر کُدی کے راستے سے داخل ہوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4320

۔ (۴۳۱۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ کَدَائٍ مِنْ أَعْلٰی مَکَّۃَ، وَدَخَلَ فِی الْعُمْرَۃِ مِنْ کُدًی۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۵)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے موقع پر اذخر گھاس والی گھاٹی کی طرف سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4321

۔ (۴۳۲۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ مَکَّۃَ نَہَارًا۔ (مسند احمد: ۵۲۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4322

۔ (۴۳۲۲) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَایَانَا بِہَا، حَتّٰی تُخْرِجَنَا مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۴۷۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَایَانَا بِہَا، حَتّٰی تُخْرِجَنَا مِنْہَا۔ (یااللہ! ہماری موتیں مکہ میں نہ بنا، یہاں تک کہ تو ہم کو یہاں سے باہر لے جا۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4323

۔ (۴۳۲۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ النُّفَسَائَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ وَتُحْرِمُ وَتَقْضِی الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا، غَیْرَ أَنْ لَا تَطُوْفَ بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْہُرَ۔)) (مسند احمد: ۳۴۳۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نفاس اور حیض والی خواتین غسل کرکے احرام باندھ لیں اور تمام مناسک ادا کریں، البتہ جب تک پاک نہ ہو جائیں، بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4324

۔ (۴۳۲۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحَائِضُ تَقْضِی الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۶۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حائضہ عورت بیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی تمام حج کے افعال ادا کرے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4325

۔ (۴۳۲۵) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ َعْن أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا، وَحَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَکَّۃَ: ((اِقْضِی مَا یَقْضِی الْحَاجُّ، غَیْرَ أَنْ لَا تَطُوْفِی بِالْبَیْتِ…۔)) الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۱۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے سرف مقام پر حائضہ ہو گئیں تھیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا تھا: تم وہ سارے امور ادا کرو،جو دوسرے حاجی لوگ ادا کریں گے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4326

۔ (۴۳۲۶) عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ بِبَرَائَ ۃٍ لِأَھْلِ مَکَّۃَ: ((لَا یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوْفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ وَلَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۴)
۔ سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں سورۂ براء ۃ والی آیات دے کر اہلِ مکہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ وہاں یہ اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک نہ حج کر سکے گا، نہ کوئی آدمی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کرے گا اور جنت میں صرف مسلمان ہی کو داخل ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4327

۔ (۴۳۲۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہٗ،وَقَدْوَھَنَتْہُمْحُمّٰییَثْرِبَ قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: إِنَّہُ یَقْدَمُ عَلَیْکُمْ قَوْمٌ قَدْ وَھَنَتْہُمُ الْحُمّٰی، قَالَ: فَأَطْلَعَ اللّٰہُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ذَلِکَ، فَأَمَرَ أَصْحَابَہٗأَنْیَرْمُلُوْا، وَقَعَدَ الْمُشْرِکُوْنَ نَاحِیَۃَ الْحِجْرِ، یَنْظُرُوْنَ إِلَیْہِمْ فَرَمَلُوْا وَمَشَوْا مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ، قَالَ: فََقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ تَزْعُمُوْنَ أَنَّ الْحُمّٰی وَھَنَتْہُمُ، ھٰؤُلَائِ أَقْوٰی مِنْ کَذَا وَکَذَا، ذَکَرُوْا قَوْلَہُمْ، قَالَ ابْنُ عَباَّسٍ: فَلَمْ یَمْنَعْہُ أَنْ یَأْمُرَھُمْ أَنْ یَرْمُلُوْا الْأَشْوَاطَ کُلَّہَا إِلَّا إِبْقَائٌ عَلَیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام مکہ مکرمہ تشریف لائے، یثرب کے بخار کی وجہ سے یہ لوگ کمزور ہوچکے تھے، مشرکین آپس میں یہ باتیں کرنے لگے کہ ان کے پاس ایسے لوگ آرہے ہیں جن کو بخار نے لاغر اور کمزور کردیا ہے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی اس بات سے آگاہ کردیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ طواف میں رمل کریں، مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے ان کو دیکھ رہے تھے، پس مسلمانوں نے طواف میں رمل کیا، البتہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلے، ان کو دیکھ کر مشرک لوگ کہنے لگے: یہ ہیں وہ لوگ جن کے متعلق تم کہتے تھے کہ انہیں بخار نے لاغر کردیا ہے، یہ تو بڑے طاقت ور ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ پر شفقت کرتے ہوئے تمام چکروں میں رمل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4328

۔ (۴۳۲۸) عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃَ أَشْوَاطٍ بِالْبَیْتِ إِذَا انْتَہٰی إِلَی الرُّکْنِ الْیَمَانِیِّ مَشٰی حَتّٰییَأْتِیَ الْحَجَرَ ثُمَّ یَرْمُلُ، وَمَشٰی أَرْبَعَۃَ أَشْوَاطٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَکَانَتْ سُنَّۃً، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ أَبُوْ الْطُّفَیْلِ: وَأَخْبَرْنِی ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ذَالِکَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۰)
۔ ابوطفیل سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا، جب آپ رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو حجر اسود تک عام رفتار سے چلتے، اس کے بعد پھر رمل کرتے اور باقی چار چکروں میں آپ عام رفتار سے چلے۔پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اس طرح یہ رمل سنت ہے اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4329

۔ (۴۳۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْیًا، وَإِنَّمَا سَعٰی أَحَبَّ أَنْ یُرِیَ النَّاسَ قُوَّتَہُ۔ (مسند احمد: ۲۸۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے اور (پہلے تین چکر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوڑ کر پورے کیے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو اپنی قوت دکھائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4330

۔ (۴۳۳۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَجَّتِہِ وَفِی عُمَرِہِ کُلِّہَا وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَالْخُلَفَائُ۔ (مسند احمد:۱۹۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے حج اور تمام عمروں کے طواف میں اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان اور باقی خلفاء نے رمل کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4331

۔ (۴۳۳۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا طَافَ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثًا وَمَشٰی أَرْبَعًا وَکَانَ یَسْعٰی بِبَطْنِ الْمَسِیْلِ إِذَا طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۷۳۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب پہلا طواف (یعنی طواف قدوم) کرتے تو ابتدائی تین چکروں میں رمل کرتے اور باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلتے اور صفا ومروہ کی سعی کرتے وقت وادی کے درمیان میں دوڑتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4332

۔ (۴۳۳۲) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ کَانَ یَرْمُلُ ثَلَاثًا وَیَمْشِی أَرْبَعًا وَیَزْعُمُ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُہُ وَکَانَ یَمْشِی مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ، قَالَ: إِنَّمَا کَانَ یَمْشِی مَا بَیْنَہُمَا لَیَکُوْنَ أَیْسَرَ لِاسْتِلَامِہِ۔ (مسند احمد: ۴۶۱۸)
۔ نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے اور باقی چکروں میں عام رفتار چلتے اور یہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ایسے ہی کیاکرتے تھے۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رکن یمانی اور حجر اسود کے مابین عام رفتا ر سے چلا کرتے تھے، جناب نافع نے کہا: وہ ان دو کے درمیان اس لیے چلتے تھے، تاکہ حجر اسود کا استلام کرنے میں آسانی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4333

۔ (۴۳۳۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ إِلَی الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ۔ (مسند احمد: ۶۰۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجراسود سے حجراسود تک رمل کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4334

۔ (۴۳۳۴) عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَیْتِ وَھُوَمُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَہُ حَضْرَمِیٍّ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۲۰)
۔ سیدنایعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حضرمی چادر سے اضطباع کیا ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4335

۔ (۴۳۳۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہُ اعْتَمَرُوْا مِنْ جِعْرَانَۃَ فَاضْطَبَعُوْا أَرْدِیَتَہُمْ تَحْتَ آَبَاطِہِمْ (وَفِیْ لَفْظٍ) جَعَلُوْا أَرْدِیَتَہُمْ وَقَذَفُوْہَا عَلٰی عَوَاتِقِہِمُ الْیُسْرٰی۔ (مسند احمد: ۲۷۹۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا تو انہوں نے اس طرح اضطباع کیا ہوا تھا کہ انھوں نے (دائیں کندھوں کی) بغلوں سے چادروں کو گزار کر بائیں کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4336

۔ (۴۳۳۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہٗاِعْتَمَرُوْامِنْجِعْرَانَۃَ فَرَمَلُوْا بِالْبَیْتِ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا اورانہوں نے بیت اللہ کے گرد طواف کرتے وقت پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4337

۔ (۴۳۳۷) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: فِیْمَا الرَّمَلَانُ الْآنَ وَالْکَشْفُ عَنِ الْمَنَاکِبِ وَقَدْ أَطَّأَ اللّٰہُ الإِسْلَامَ وَنَفَی الْکُفْرَ وَأَھْلَہُ، وَمَعَ ذَالِکَ لَا نَدَعُ شَیْئًا کُنَّا نَفْعَلُہُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۱۷)
۔ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اب دورانِ طواف رمل اور کندھوں کو ننگا کرنے کا کیا مقصد ہے؟ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ دے دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کو ختم کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اس عمل کو ترک نہیں کریں گے جو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4338

۔ (۴۳۳۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ مَسْحَ الرُّکْنِ الْیَمَانِیِّ وَالرُّکْنِ الْأَسْوَدِ یَحُطُّ الْخَطَایَا حَطًّا۔)) (مسند احمد: ۵۶۲۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رکن یمانی اور حجر اسود کو چھونا غلطیوں کو مٹا دینا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4339

۔ (۴۳۳۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍأَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُوْلُ لِابْنِ عُمَرَ مَالِی لَا أَرَاکَ تَسْتَلِمُ إِلَّا ھٰذَیْنِ الرُّکْنَیْنِ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَالرُّکْنَ الْیَمَانِیَّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ أَفْعَلْ ذَالِکَ، فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ اسْتِلَامَہُمَا یَحُطُّ الْخَطَایَا۔)) قَالَ: وَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ طَافَ أُسْبُوْعًا یُحْصِیْہِ وَصَلّٰی رَکْعَتْیِنِ، کَانَ لَہُ کَعِدْلِ رَقَبَۃٍ۔)) قَالَ: وَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَا رَفَعَ رَجُلٌ قَدَمًا وَلَا وَضَعَہَا إِلَّا کُتِبَ لَہُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَحُطَّ عَنْہُ عَشْرُ سَیِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَہُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ۔)) (مسند احمد: ۴۴۶۲)
۔ عبید بن عمیر نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجراسود والے دو کونوں کا ہی استلام کرتے ہیں؟ انھوں نے جواباًکہا: اگر میں اس طرح کر رہا ہوں تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ان دونوں رکنو ں کا استلام کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ نیز سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی طواف کے سات چکر لگائے اور پھر دورکعت ادا کرے اسے ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ مزید انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ طواف میں آدمی کو ایک ایک قدم اٹھانے اور رکھنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں، دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس درجے بلند کئے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4340

۔ (۴۳۴۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَأْتِی ھٰذَا الْحَجَرُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، لَہُ عَیْنَانِیُبْصِرُ بِہِمَا وَلِسَانٌ یَنْطِقُ بِہِ یَشْہَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَہُ بِحَقٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۵)
۔ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن یہ پتھر (حجر اسود) ضرور اس حال میں حاضر ہوگا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا۔ اور زبان ہوگی جس سے وہ بولے گا جس نے اسے حق کے ساتھ چوما ہوگا اس کے حق میں گواہی دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4341

۔ (۴۳۴۱) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَکَانَ أَشَدَّ بَیَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، حَتَّی سَوَّدَتْہُ خَطَایَا أَھْلِ الشِّرْکِ۔)) (مسند احمد: ۳۵۳۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حجر اسود جنت سے ہے، (جب اس کو جنت سے اتارا گیا تھا تو) اس وقت یہ برف سے زیادہ سفید تھا، لیکن اب مشرکین کے گناہوں نے سیاہ کردیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4342

۔ (۴۳۴۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَلْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّۃِ۔(مسنداحمد:۱۳۹۸۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: حجر اسود جنت سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4343

۔ (۴۳۴۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَأْتِی الرُّکْنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْظَمَ مِنْ أَبِی قُبَیْسٍ، لَہُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ)) (مسند احمد:۶۹۷۸)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمروبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حجراسود قیامت کے دن ابوقبیس پہاڑ سے بھی بڑا ہوکر آئے گا اور اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4344

۔ (۴۳۴۴) عَنْ مُسَافِعِ بْنِ شَیْبَہَ سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو (یَعْنِی ابْنَ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: فَأَنْشُدُ بِاللّٰہِ ثَلَاثًا وَ وَضَعَ إِصْبَعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ، لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ: ((إِنَّ الرُّکْنَ وَالْمَقَامَ (وَفِی لَفْظٍ إِنَّ الْحَجَرَ وَالْمَقَامَ) یَاقُوْتَتَانِ مِنْ یَاقُوْتِ الْجَنَّۃِ، طَمَسَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ نُوْرَھُمَا، وَلَوْ لَا أَنَّ اللّٰہَ طَمَسَ نُوْرَھُمَا لَأَضَائَ تَا مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ (وَفِی لَفْظٍ: مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ)۔)) (مسند احمد: ۷۰۰۰)
۔ مُسافع بن شیبہ کہتے ہیں: سیدناعبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تین بار اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں، پھر انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال دیں اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے : حجراسود اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوتہیں، اللہ تعالی نے ان کانور ختم کردیا ہے، اگر اللہ نے ان کا نور ختم نہ کیا ہوتا تو ان کی چمک سے شرق ومغرب کے درمیان والا حصہ منور ہوجاتا،ایک روایت میں ہے: زمین وآسمان کے درمیان والا خلا منور ہوجاتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4345

۔ (۴۳۴۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَسْتَلِمُ الرُّکْنَ الْیَمَانِیَّ وَالْأَسْوَدَ کُلَّ طَوْفَۃٍ وَلَا یَسْتَلِمُ الرُّکْنَیْنِ اْلآخَرَیْنِ اللَّذَیْنِیَلِیَانِ الْحِجْرَ۔ (مسند احمد: ۵۹۶۵)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ہر چکر میں رکن یمانی اور حجراسود کا استلام کیا کرتے تھے اور حطیم کی جانب والے دونوں کونوں کا استلام نہیں کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4346

۔ (۴۳۴۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَا یَدَعُ أَنْ یَسْتَلِمَ الْحَجَرَ وَالرُّکْنَ الْیَمَانِی فِی کُلِّ طَوَافٍ۔ (مسند احمد: ۴۶۸۶)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر طواف کے ہرچکر میں حجراسود اور رکن یمانی کا استلام نہ چھوڑتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4347

۔ (۴۳۴۷) عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِِیْہِ أَنَّہُ قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ مِنَ الْبَیْتِ إِلَّا الرُّکْنَیْنِ الْیَمَانِیَّیْنِ۔ (مسند احمد: ۶۰۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کے صرف دو یمنی کونوں (یعنی رکن یمانی اور حجراسود) کا استلام کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4348

۔ (۴۳۴۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یَسْتَلِمُ إِلَّا ھٰذَیْنِ الرُّکْنَیْنِ الْیَمَانِیَّ وَالْأَسْوَدَ۔ (مسند احمد: ۳۵۳۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف دو کونوں یعنی رکن یمانی اور حجراسود کا استلام کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4349

۔ (۴۳۴۹) عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَلَمَّا کُنْتُ عِنْدَ الرُّکْنِ الَّذِیْیَلِی الْبَابَ مِمَّا یَلِی الْحَجَرَ، أَخَذْتُ بِیَدِہِ لِیَسْتَلِمَ، فَقَالَ: أَمَا طُفْتَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: فَہَلْ رَأَیْتَہُیَسْتَلِمُہُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَانْفُذْ عِنْدَکَ، فَإِنَّ لَکَ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُسْوَۃً حَسَنَۃً۔ (مسند احمد: ۲۵۳)
۔ سیدنایعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ طواف کیا،جب میں بیت اللہ کے دروازے سے حطیم والے کونے کے پاس پہنچا تو میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ تھام لیا تاکہ وہ اس کو نے کا بھی استلام کرلیں، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، کیا ہے۔ انھوں نے کہا: توکیا تم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کونوں کا استلام کیا ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں۔تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر اس کو چھوڑو اور آگے بڑھو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں ہی بہترین نمونہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4350

۔ (۴۳۵۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ، قَالَ یَعْلٰی فَکُنْتُ مِمَّا یَلِیْ الْبَیْتَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ الرُّکْنَ الْغَرْبِیَّ الَّذِیْیَلِیْ الْأَسْوَدَ جَرَرْتُ بِیَدِہِ لِیَسْتَلِمَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُکَ؟ فَقُلْتُ: اَلَا تَسْتَلِمُ؟ قَالَ: أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: بَلٰی، فَقَالَ: أَفْرَأَیْتَہُیَسْتَلِمُ ھٰذَیْنِ الرُّکْنَیْنِ الْغَرْبِیَّیْنِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: أَفَلَیْسَ لَکَ فِیْہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: فَانْفُذْ عَنْکَ۔ (مسند احمد: ۳۱۳)
۔ (دوسری سند)سیدنایعلیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ طواف کیا،انھوں نے حجراسود کا استلام کیا، میں بیت اللہ کے قریب تھا، جب میں حجراسود سے اگلے مغربی کونے کے پاس پہنچا تو میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ اس کونے کا بھی استلام کرلیں لیکن انھوں نے آگے سے کہا: کیابات ہے؟ میں نے کہا: کیا آپ اس کونے کا استلام نہیں کریں گے؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ طواف نہیں کیا؟ میں نے عرض کیا:جی کیا ہے۔انھوں نے کہا: تو کیا تم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان مغربی کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ میںنے عرض کیا: جی نہیں،سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر کیا تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا: جی کیوں نہیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو اس کو چھوڑو اور آگے کو بڑھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4351

۔ (۴۳۵۱) عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَرَبِیٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلاً، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ الْحَجَرِ، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَلِمُہُ وَیُقَبِّلُہُ، فَقَالَ: رَجُلٌ: أَرَأَیْتَ إِنْ زُحِمْتُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اِجْعَلْ أَرَأَیْتَ بِالْیَمَنِ، رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَلِمُہُ وَیُقَبِّلُہُ۔ (مسند احمد: ۶۳۹۶)
۔ زبیر بن عربی کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے حجراسود کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے حجراسود کا بوسہ لے کر اس کا استلام کیا، اس آدمی نے کہا: اگر ہجوم ہوتو؟ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اس اگر مگر کو یمن میں رکھو، میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کااستلام کرتے ہوئے اور بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4352

۔ (۴۳۵۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَلِمُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ فَلَا أَدَعُ اسْتِلَامَہُ فِی شِدَّۃٍ وَلَا رَخَائٍ۔ (مسند احمد: ۴۴۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجراسود کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے، اب ہجوم ہویا نہ ہو، میں اس کا استلام نہیں چھوڑوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4353

۔ (۴۳۵۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَکَبَّ عَلَی الرُّکْنِ، فَقَالَ: إِنِّی لَأَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ وَلَوْ لَمْ أَرَ حَبِیْبِی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبَّلَکَ وَاسْتَلَمَکَ، مَا اسْتَلَمْتُکَ وَلَا قَبَّلْتُکَ، {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (مسند احمد: ۱۳۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حجراسود کے اوپرجھکے اور کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے اپنے حبیب ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تجھے بوسہ دیتے اور تیرا استلام کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی نہ تیرا استلام کرتا اور نہ تجھے بوسہ دیتا۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4354

۔ (۴۳۵۴) عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِیْعَہَ قَالَ: رَأَیْتُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَظَرَ إِلَی الْحَجَرِ فَقَالَ: أَمَا! وَاللّٰہِ! لَوْلَا أَنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلْتُکَ، ثُمَّ قَبَّلَہُ۔ (مسند احمد: ۹۹)
۔ عابس بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حجراسود کی طرف دیکھا اور اس سے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا، پھر انہوں نے اس کو بوسہ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4355

۔ (۴۳۵۵) عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا عُمَرُ! إِنَّکَ رَجُلٌ قَوِیٌّ لَا تُزَاحِمْ عَلَی الْحَجْرِ فَتُؤْذِیَ الضَّعِیْفَ، إِنْ وَجَدْتَّ خَلْوَۃً فَاسْتَلِمْہُ وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْہُ فَہَلِّلْ وَکَبِّرْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: عمر! تم قوی آدمی ہو، اس لیے تم حجراسود پر ہجوم کرکے کمزوروں کو تکلیف نہ پہنچانا،اگر جگہ مل جائے تو استلام کرلینا، وگرنہ اس کی طرف رخ کرکے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ لینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4356

۔ (۴۳۵۶) عَنْ مُجَاھِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ طَافَ مَعَ مُعَاوِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِالْبَیْتِ، فَجَعَلَ مُعَاوِیَۃُیَسْتَلِمُ الْأَرْکَانَ کُلَّہَا، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: لِمَ تَسْتَلِمُ ھٰذَیْنِ الرُّکْنَیْنِ، وَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَلِمُہُمَا؟ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: لَیْسَ شَیْئٌ مِنَ الْبَیْتِ مَہْجُوْرًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: صَدَقْتَ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا، ہوا یوں کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کیا،یہ دیکھ کر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے ان سے کہا: آپ بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کیوں کرتے ہیں، جبکہ اللہ کے رسول نے تو ان سب کا استلام نہیں کیا؟ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیت اللہ کے کسی حصے کو بھی نہیں چھوڑا جا سکتا، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (البتہ تحقیق تمہارے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بہترین نمونہ ہے)۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4357

۔ (۴۳۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِی شُعْبَۃُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَۃَیُحَدِّثُ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ حَجَّاجٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَیْلِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِیَۃُ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَطَافَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَاسْتَلَمَ الْأَرْکَانَ کُلَّہَا، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ: إِنَّمَا اسْتَلَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الرُّکْنَیْنِ الْیَمَانِیَّیْنِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَیْسَ مِنْ أَرْکَانِہِ شَیْئٌ مَہْجُوْرٌ، قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَۃُ: اَلنَّاسُ یَخْتَلِفُوْنَ فِی ھٰذَا الْحَدِیْثِ،یَقُوْلُوْنَ: مُعَاوِیَۃُ ھُوَ الَّذِیْ قَالَ: لَیْسَ مِنَ الْبَیْتِ شَیْئٌ مَہْجُوْرٌ وَلٰکِنَّہُ حَفِظَہُ مِنْ قَتَادَۃَ ھٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۳)
۔ ابوطفیل کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما دونوں مکہ مکرمہ آئے، سیدنا ا بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے طواف کیا اور انہوں نے بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کیا، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صرف یمنی کونوں کا استلام کیا ہے، لیکن سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: بیت اللہ کا کوئی بھی حصہ چھوڑا ہوا نہیں ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: راویوں نے اس حدیث کو مختلف اندازوں میں بیان کیا ہے،وہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ بات کہی تھی کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی چھوڑا نہیں جا سکتا، لیکن انھوں نے قتادہ سے یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4358

۔ (۴۳۵۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: جَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ قَدِ اشْتَکٰی، فَطَافَ بِالْبَیْتِ عَلٰی بَعِیْرٍ وَمَعَہُ مِحْجَنٌ، کُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ اسْتَلَمَہُ بِہِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہِ أَنَاخَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے، ان دنوں آپ کچھ بیمار تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ پر سوارہوکر طواف کیاتھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک لاٹھی تھی،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجراسود کے پاس سے گزرتے تو اس کے ساتھ حجراسود کا استلام کرتے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو آپ نے اونٹ کو بٹھادیا اور دورکعت نماز ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4359

۔ (۴۳۵۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ:) وَأَتَی السِّقَایَۃَ فَقَالَ: ((اسْقُوْنِیْ۔)) فَقَالُوْا: إِنَّ ھٰذَا یَخُوْضُہُ النَّاسُ وَلٰکِنَّا نَأْتِیْکَ بِہِ مِنَ الْبَیْتِ، فَقَالَ: ((لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْہِ، اِسْقُوْنِیْ مِمَّا یَشْرَبُ مِنْہُ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۱)
۔ (دوسری سند) یہ حدیث دوسری سندسے بھی اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طواف کے بعد وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلائو۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیںہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4360

۔ (۴۳۶۰) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَدِمَتْ، وَھِیَ مَرِیْضَۃٌ فَذَکَرَتْ ذَالِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((طُوْفِی مِنْ وَرَائِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاکِبَۃٌ۔)) قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عِنْدَ الْکَعْبَۃِیَقْرَأُ بِالطُّوْرِ۔ قَالَ أَبِیْ: وَقَرَأْتُہُ عَلٰی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَئِذٍیُصَلِّی بِجَنْبِ الْبَیْتِ، وَھُوَ یَقْرَأْ بِالطُّوْرِ وَکِتَابٍ مَسْطُوْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۵۰)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ آئیں تو وہ ان دنوں بیمار تھیں، انہوں نے اس بات کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم سوار ہوکر لوگوں سے پرے ہٹ کر طواف کرلو۔ وہ کہتی ہیں :رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے پاس تھے اور سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔امام احمد کہتے ہیں: میں نے عبد الرحمن پر یہ روایت پڑھی: سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: پس میں نے طواف کیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا کر رہے تھے اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4361

۔ (۴۳۶۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ طَافَ بِالْبَیْتِ عَلٰی نَاقَۃٍ، (وَفِی لَفْظٍ عَلٰی رَاحِلَتِہِ) یَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِہِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی لاٹھی کے ساتھ حجراسود کا استلام کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفاومروہ کی سعی بھی سواری پر کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4362

۔ (۴۳۶۲) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: طَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَعِیْرٍ فَکُلَّمَا أَتٰی عَلٰی الرُّکْنِ أَشَارَ إِلَیْہِ وَکَبَّرَ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجر اسود کے سامنے آتے تو اس کی طرف اشارہ کرکے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4363

۔ (۴۳۶۳) عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ یَطُوْفُ بِالْبَیْتِ عَلٰی رَاحِلَتِہٖیَسْتِلُمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۲۰۸)
۔ سیدناابوطفیل عامر بن واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کررہے تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کااستلام کررہے تھے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4364

۔ (۴۳۶۴) عَنْ قُدَامَۃَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی نَاقَۃٍیَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۹۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ جب تمہاری قوم قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کی تووہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر اس کی تعمیر کرنے سے عاجز رہ گئے تھے؟ میں نے عرض کیا: تو کیا آپ اسے ابراہیمی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر نہیں کردیتے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو ایسا کردینا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات سنی ہے تو میر اخیال ہے کہ چونکہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام کیبنیادوں پر تعمیر نہیں ہوا تھا، اس لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حطیم کی جانب والے بیت اللہ کے دو کونوں کا استلام نہیں کیا، اس سلسلے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ ہو گا کہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے وقت ابراھیمی بنیادوں والے مکمل بیت اللہ کا چکر پورا کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4365

۔ (۴۳۶۵) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَمْ تَرَیْ إِلٰی قَوْمِکِ حِیْنَ بَنَوُا الْکَعْبَۃَ، اِقْتَصَرُوْا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاھِیْمَ علیہ السلام ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفَلَا تَرُدُّھَا عَلٰی قَوَاعِدِ إِبْرَاھِیْمَ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ لَاحِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ۔)) قَالَ: عَبْدُاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ: فَوَاللّٰہِ! لَئِنْ کَانَتْ عَائِشَۃُ سَمِعَتْ ذٰلِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا أُرٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَرَکَ الرُّکْنَیْنِ اللَّذَیْنِیَلِیَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَیْتَ لَمْ یُتَمَّمْ عَلٰی قَوَاعِدِ إِبْرَاھِیْمَ علیہ السلام إِرَادَاۃَ أَنْ تَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ کُلِّہِ مِنْ وَرَائِ قَوَاعِدِ إِبْرَاھِیْمَ علیہ السلام ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۳۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ کے اندر داخل ہوکر نماز پڑھوں، لیکن ہوا یوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اورمجھے حطیم کے اندر داخل کر کے مجھ سے فرمایا: اگر تم بیت اللہ کے اندر جانا چاہتی ہو تو یہاں نماز پڑھ لو، کیونکہیہبھی بیت اللہ کا حصہ ہے، لیکن چونکہ تمہاری قوم قریش کعبہ کی تعمیر کے وقت ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر کرنے سے قاصر رہی، اس لیے انہوں نے اتنا حصہ بیت اللہ سے نکال دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4366

۔ (۴۳۶۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَیْتَ فَاُصَلِّیَ فِیْہِ، فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدِیْ فَأَدْخَلَنِیْ فِی الْحِجْرِ، فَقَالَ لِیْ: ((صَلِّیْ فِی الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِّ دَخُوْلَ الْبَیْتِ فَإِنَّمَا ھُوَ قِطْعَۃٌ مِنَ الْبَیْتِ وَلٰکِنَّ قَوْمَکِ اسْتَقْصَرُوْا حِیْنَ بَنَوُ الْکَعْبَۃَ، فَأَخْرَجُوْہُ مِنَ الْبَیْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۲۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم تازہ تازہ شرک یا جاہلیت کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کرکے اسے زمین کے ساتھ ملادیتا اور اس کے دودروازے بنا دیتا، ایک مشرق کی طرف سے اور دوسرا مغرب کی جانب سے اور میں حطیم میں سے چھ ہاتھ کے بقدر جگہ بیت اللہ میں شامل کر دیتا، بات یہ ہے کہ جب قریش نے اس کی تعمیر کی تھی تو (مصارف کی قلت کی وجہ سے) وہ اس کی پوری تعمیر نہ کرسکے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4367

۔ (۴۳۶۷) وَعَنْہَا اَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیْثُ عَہْدٍ بِشِرْکٍ أَوْ بِجَاھِلِیَّۃٍ لَھَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ، فَأَلْزَقْتُہَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَہَا بَابَیْنَ، بَابًا شَرْقِیًّا، وَبَابًا غَرْبِیًّاوَزِدْتُّ فِیْہَا مِنَ الْحِجْرِ سِتَّۃَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرَیْشًا اقْتْصَرَتْہَا حِیْنَ بَنَتِ الْکَعْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۷۷)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنی عبدمناف! اگر کوئی آدمی دن اور رات کے کسی حصے میں بیت اللہ کا طواف کرنا چاہے یانماز پڑھنا چاہے تو تم نے کسی کو کسی صورت میں نہیں روکنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4368

۔ (۴۳۶۸) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ! لَا تَمْنَعُنَّ أَحَدًا طَافَ بِہٰذَا الْبَیْتِ أَوْ صَلّٰی أَیَّ سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ)) (مسند احمد: ۱۶۸۵۶)
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کعبہ کے طواف کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا:ہم طواف کرتے تھے اور رکنِ یمانی اور حجر اسود کو چھوتے تھے اور ہم نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک طواف نہیں کیاکرتے تھے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ: سورج شیطان کے دو سینگوں پر طلوع ہوتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4369

۔ (۴۳۶۹) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِقَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ الطَّوَافِ بِالْکَعْبَۃِ فَقَالَ: کُنَّا نَطُوْفُ فَنَمْسَحُ الرُّکْنَ الْفَاتِحَۃَ وَالْخَاتِمَۃَ، وَلَمْ نَکُنْ نَطُوْفُ بَعْدَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَطْلُعُ الشَّمْسُ عَلٰی قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۰۲)
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کعبہ کے طواف کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا:ہم طواف کرتے تھے اور رکنِ یمانی اور حجر اسود کو چھوتے تھے اور ہم نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک طواف نہیں کیاکرتے تھے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ: سورج شیطان کے دو سینگوں پر طلوع ہوتاہے۔

آیت نمبر