Musnad Ahmad

Search Results(1)

74)

74) مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4370

۔ (۴۳۷۰) عَنْ وَبَرَۃَ قَالَ: أَتٰی رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ: أَیَصْلُحُ أَنْ أَطُوْفَ بِالْبَیْتِ وَأَنَا مُحُرِمٌ؟ قَالَ: مَا یَمْنَعُکَ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: إِنَّ فُلَانًا یَنْہَانَا عَنْ ذٰلِکَ حََتّٰییَرْجِعَ النَّاسُ مِنَ الْمَوْقِفِ، وَرَأَیْتُہُ کَأَنَّہُ مَالَتْ بِہِ الدُّنْیَا وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَیْنَا مِنْہُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: حَجَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطَافَ بِالْبَیْتِ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، وَسُنَّۃُ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَرَسُوْلِہِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ مِنْ سُنَّۃِ ابْنِ فُلَانٍ إِنْ کُنْتَ صَادِقًا۔ (مسند احمد: ۵۱۹۴)
۔ وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خدمت میں آیا اور ان سے پو چھا: کیایہ جائز ہے کہ میں (حج افراد کے) احرام کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ انھوں نے کہا: تمہیں اس سے کونسی چیز مانع ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا:فلاں آدمی ہمیں اس سے اس وقت تک منع کررہا ہے، جب تک لوگ عرفات سے واپس نہ آ جائیں، نیز میں نے اسے دیکھا ہے کہ دنیا نے اس کو فتنے میں ڈال رکھا ہے، تاہم ہماری نظر میں آپ اس سے برتر ہیں۔سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کیا تھا تو آپ نے بیت اللہ کا طوا ف اور صفا مروہ کی سعی کی تھی، اگر تمہاری بات درست ہے کہ فلاں آدمی تمہیں احرام کی حالت میں طواف کرنے سے منع کرتا ہے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا طریقہ فلاں کے طریقے سے اولیٰ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4371

۔ (۴۳۷۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَطُوْفُ بِالْبَیْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ؟ قَالَ: وَمَا بَأْسُ ذَلِکَ؟ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَہٰی عَنْ ذَالِکَ، قَالَ: قَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَطَافَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۵۱۲)
۔ (دوسری سند)وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کہا: میں نے حج کا احرام باندھا ہوا ہے تو کیا میں اس حالت میں بیت اللہ کاطواف کرسکتا ہوں؟ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اس میں کیا حرج ہے؟اس نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس سے منع کیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: میں نے خود دیکھا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور آپ نے بیت اللہ کا طواف بھی کیااور صفا مروہ کی سعی بھی کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4372

۔ (۴۳۷۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بَدْرٍ أَنَّہُ خَرَجَ فِیْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ حُجَّاجًا حَتّٰی وَرَدُوْامَکَّۃَ فَدَخَلُوْا الْمَسْجِدَ فَاسْتَلَمُوْا الْحَجَرَ، ثُمَّ ظُفْنََا بِالْبَیْتِ أُسْبُوعًا، ثُمَّ صَلَّیْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ فَإِذَا رَجُلٌ ضَخْمٌ فِیْ إِزَارٍ وَرِدَائٍ یُصَوِّتُ بِنَا عِنْدَ الْحَوْضِ، فَقُمْنَا إِلَیْہِ وَسَأَلْتُ عَنْہُ، فَقَالُوْا: ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَلَمَّا أَتَیْنَاہُ قَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: أَھْلُ الْمَشْرِقِ وَثَمَّ أَھْلُ الْیَمَامَۃِ، قَالَ: فَحُجَّاجٌ أَمْ عُمَّارٌ؟ قُلْتُ: بَلٰی حُجَّاجٌ، قَالَ: فَإِنَّکُمْ قَدْ نَقَضْتُمْ حَجَّکُمْ، قُلْتُ: قَدْ حَجَجْتُ مِرَارًا فَکُنْتُ أَفْعَلُ کَذَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا مَکَانَنَا، حَتّٰییَأْتِیَ ابْنُ عُمَرَ، فَقُلْتُ: یَا ابْنَ عُمَرَ! إِنَّنَا قَدِمْنَا فَقَصَصْنَا عَلَیْہِ قِصَّتَنَا وَأَخْبَرْنَاہُ، قَالَ: إِنَّکُمْ نَقَضْتُمْ حَجَّکُمْ، قَالَ: أُذَکِّرُکُمْ بِاللّٰہِ أَخَرَجْتُمْ حُجَّاجًا؟ قُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ حَجَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ کُلُّہُمْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُمْ۔ (مسند احمد: ۵۹۳۹)
۔ عبداللہ بن بدر سے روایت ہے کہ وہ اپنے چند احباب کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، جب یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو مسجد حرام میں داخل ہوئے اور حجراسود کا استلام کیا، پھر ہم نے بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، اس کے بعد ہم نے مقام ابراہیم کے پیچھے دورکعت نماز ادا کی، اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک بھاری بھرکم آدمی، جس نے ایک چادر باندھی ہوئی تھی اور ایک چادر اوپر اوڑھ رکھی تھی، وہ حوض کے پاس بیٹھا ہمیں بلارہا تھا۔ ہم اس کی طرف چلے گئے، جب میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ یہ کون آدمی ہے تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہیں، ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: ہم اہل یمامہ ہیں، جو مشرق کی طرف سے آئے ہیں، انہوں نے پوچھا: حج کے لئے آئے ہو یا عمرہ کرنے کے لئے؟ میں نے کہا: جی حج کے لیے آئے ہیں، انھوں نے کہا: تم لوگوں نے تو اپنا حج فاسد کردیا ہے، میں نے عرض کیا: میں تو متعدد مرتبہ حج کرچکا ہوں اور ہر دفعہ ایسے ہی کرتا رہاہوں۔اس کے بعد ہم اپنی رہائش گاہ کی طرف چلے گئے، تاکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آئیں اور ہم ان سے یہ مسئلہ دریافت کریں۔ میں نے عرض کیا: اے عبد اللہ بن عمر! ہم حج کرنے کے لیے آئے ہیں، پھر ہم نے سارا ماجرا ان کے گوش گزار کیا اور کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے تو ہمیں کہا ہے کہ ہمارا حج فاسد ہو گیا ہے۔سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، بتائو کیا تم حج کرنے آئے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، ان سب نے حج کی اور سب نے اسی طرح کیا تھا جس طرح تم نے کیا ہے، یعنی تمہارا عمل درست ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4373

۔ (۴۳۷۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَنَ بَیْنَ حَجَّتِہِ وَعُمْرَتِہِ أَجْزَأَہُ لَھُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ۔)) (مسند احمد: ۵۳۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوشخص حج قران کرے، اس کے لئے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک طواف کافی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4374

۔ (۴۳۷۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمْ یَطُفِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَہُ الْأَوَّلَ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۶۷)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا مروہ کی ایک ہی سعی کی تھی، جو کہ شروع میں کر لی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4375

۔ (۴۳۷۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطُفْنَا بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ النَّحْرِ لَمْ نَقْرَبِ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۴۸)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے اور ہم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، قربانی والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو ہم صفامروہ کے قریب تک نہیں گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4376

۔ (۴۳۷۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِی حَدِیْثٍ لَھَا قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِیْنَ أَھَلُّوْا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ أَحَلُّوْا، ثُمَّ طَافُوْا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوْا مِنْ مِنًی لِحَجِّہِمْ، فَأَمَّا الَّذِیْنَ جَمَعُوْا الْحَجَّ، فَطَافُوْا طَوَافًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی طویل حدیث میں بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہوگئے، لیکن انھوں نے اس کے بعد منیٰ سے واپس آکر حج کے لئے الگ سے طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کوجمع کیایعنی حج قران کا احرام باندھا ہوا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیاتھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4377

۔ (۴۳۷۷) عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَیُصِیْبُ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَن یَطُوْفَ بالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ؟ قَالَ: أَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَدِمَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ تَلَا: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (مسند احمد: ۱۴۳۶۸)
۔ عمرو بن دینا رسے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا کہ کیا کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرسکتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، بعد ازاں دو رکعت نماز ادا کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْـوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ ہے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4378

۔ (۴۳۷۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِیْنَ أَھَلُّوْا بِالْعُمْرَۃِ طَافُوْا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ طَافُوْا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوْا مِنْ مِنًی لَحِجَّہِمْ، وَالَّذِیْنَ قَرَنُوْا طَافُوْا طَوَافًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جن صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا،انہوں نے بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیاتھا، اس کے بعد منیٰ سے واپسی پر انہوں نے حج کے لئے طواف کیاتھا اور جن لوگوں نے حج قران کا احرام باندھا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4379

۔ (۴۳۷۹) عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطَعَ الْأَوْدِیَۃَ وَجَائَ بِہَدْیٍ فَلَمْ یَکُنْ لَہُ بُدٌّ مِنْ أَنْ یَطُوْفَ بِالْبَیْتِ وَیَسْعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ قَبْلَ أَنْ یَقِفَ بِعَرَفَۃَ، فَأَمَّا أَنْتُمْ یَا أَھْلَ مَکَّۃَ! فَأَخِّرُوْا طَوَافَکُمْ حَتّٰی تَرْجِعُوْا۔ (مسند احمد:۲۴۵۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صورتحال تو یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادیاں تو طے کر کے آئے تھے، لیکن چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تو اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ آپ وقوفِ عرفہ سے پہلے طواف کریں اور صفا مروہ کی سعی کریں، مکہ والو! رہا مسئلہ تمہارا تو تم لوگ حج سے واپسی تک طواف کو موخر رکھا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4380

۔ (۴۳۸۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ وَھُوَ یَطُوْفُ بِالْکَعْبَۃِ بِإِنْسَانٍ یَقُوْدُ إِنْسَانًا بِِخِزَامَۃٍ فِیْ أَنْفِہِ، فَقَطَعَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ فَأَمَرَہُ أَنْ یَقُوْدَہُ بِیَدِہِ۔ (مسند احمد: ۳۴۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اس کو کھینچ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دست ِ مبارک سے اس رسی کو کاٹ دیا اور اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4381

۔ (۴۳۸۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ وَھُوَ یَطُوْفُ بِالْکَعْبَۃِ بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ یَدَہُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَیْرِ أَوْ بِخَیْطٍ أَوْ بِشَیْئٍ غَیْرِ ذَلِکَ، فَقَطَعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ ثُمَّ قَالَ: ((قُدْہُ بِیَدِہِ۔)) (مسند احمد: ۳۴۴۳)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ آپ کا ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزر ہوا، جس نے رسی وغیرہ کے ساتھ اپنا ہاتھ دوسرے آدمی کے ساتھ باندھا ہواتھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹ ڈالا اور فرمایا: اس کا ہاتھ پکڑ کر چلو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4382

۔ (۴۳۸۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ السَائِبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ بَیْنَ الرُّکْنِ الْیَمَانِیِّ وَالْحَجَرِ: {رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِیْ الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔} (مسند احمد: ۱۵۴۷۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سناکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکن یمانی اورحجراسود کے درمیانیہ دعا پڑھ رہے تھے: {رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِیْ الْآخِـرَۃِ حَسَنَـۃً وَقِـنَا عَذَابَ النَّارِ} (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطافرما اورآخرت میں بھی بھلائی نصیب فرمانا اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما)۔ (سورۂ بقرہ:۲۰۱)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4383

۔ (۴۳۸۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْتِی الْبَیْتَ فَیَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَیَقُوْلُ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ۔)) (مسند احمد: ۴۶۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بیت اللہ میں تشریف لاتے اور حجراسود کا استلام کرتے تو یہ الفاظ پڑھتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4384

۔ (۴۳۸۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَرَمْیُ الْجِمَارِ لِإِقَامَۃِ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ)) (مسند احمد: ۲۵۵۹۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور جمرات کی رمی،یہ سارے امور اللہ تعالی کا ذکر کرنے کی خاطر مشروع کئے گئے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4385

۔ (۴۳۸۵) عَنْ طَاؤُوْسٍ عَنْ رَجُلٍ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّمَا الطَّوَفُ صَلَاۃٌ، فَإِذَا طُفْتُمْ فَأَقِلُّوْا الْکَلَامَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۲۹)
۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طواف نماز ہی ہے، اس لیے جب تم طواف کرو تو کم باتیں کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4386

۔ (۴۳۸۶) عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَھْلَ الْجَاھِلِیَّۃِیَطُوْفُوْنَ وَھُمْ یَقُوْلُوْنَ: اَلْیَوْمُ قَرْنَا عَیْنَا نَقْرَعُ الْمَرْوَتَیْنَا۔ (مسند احمد: ۲۷۶۸۱)
۔ سباع بن ثابت کہتے ہیں: میں نے اہلِ جاہلیت کو سنا کہ وہ طواف کرتے ہوئے یوں کہتے تھے: آج ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک ملی ہے کہ ہم صفا مروہ کی سعی کررہے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4387

۔ (۴۳۸۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِسْتَلَمَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشٰی أَرْبَعَۃً، حَتّٰی إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلٰی مَقَامِ إِبْرَاھِیْمَ، فَصَلّٰی خَلْفَہُ رَکْعَتْیِن، ثُمَّ قَرَأَ: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی} فَقَرَأَ فِیْہِمَا بِالتَّوْحِیْدِ، وَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَخَرَجَ إِلَی الصَّفَا،… الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۹۳)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجراسود کا استلام کیا،اس کے بعد طواف کے ابتدائی تین چکروں میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمل کیا اور باقی چار چکروں میں عام رفتار سے چلے، طواف سے فراغت کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت پڑھی: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی} (اورتم مقام ابراہیم کے قریب نماز پڑھو) (سورۂ بقرہ: ۱۲۵) اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دورکعتوں میں سورۂ اخلاص اور سورۂ کافرون کی تلاوت کی تھی، نماز کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوبارہ حجراسود کے پاس آئے اور اس کا استلام کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے، …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4388

۔ (۴۳۸۸) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَلَ ثَلَاثَہَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَی الْحَجَرِ، ثُمَّ ذَہَبَ إِلٰی زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْہَا وَصَبَّ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الصَّفَا فَقَالَ: ((أَبْدَئُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۱۴)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کرکے ابتدائی تین چکروںمیں حجراسود سے حجر اسود تک رمل کیا، مکمل طواف کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دورکعت نماز ادا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجراسود کے پاس تشریف لائے، بعد ازاں زمزم کی طرف گئے اور وہاں جا کر یہ پانی پیا اور اپنے سر پر بھی ڈالا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر حجراسود کے پاس تشریف لائے اور اس کا استلام کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا کی تشریف لے گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالی نے ابتداکی ہے، میں بھی اسی سے ابتدا کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4388

۔ (۴۳۸۸م) وَفِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ حِیْنَ قَضٰی طَوَافَہُ بِالْبَیْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَی الصَّفَا، … الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۲۴۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی حدیث میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کے بعدمقام ابراہیم کے قریب دورکعت نماز پڑھی، پھر سلام پھیرا اور صفا کی طرف چلے گئے، …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4389

۔ (۴۳۸۹) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ السَّائِبِ کَانَ یَقُوْدُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَیُقِیْمُہُ عِنْدَ الشَّقَّۃِ الثَّالِثَۃِ مِمَّا یَلِی الْبَابَ مِمَّا یَلِیْ الْحِجْرَ، فَقُلْتُ، یَعْنِی الْقَائِلُ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ السَّائِبِ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْمُ ھَاھُنَا أَوْ یُصَلِّی ھَاھُنَا؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، فَیَقُوْمُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَیُصَلِّی۔ (مسند احمد: ۱۵۴۶۶)
۔ محمد بن عبداللہ بن سائب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سائب، سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ہاتھ تھام کر لے جاتے اور حطیم کی طرف بیت اللہ کے دروازہ کے قریب تیسرے روزن کے پاس لے جاکرکھڑا کردیتے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، عبداللہ بن سائب سے کہتے: آیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی مقام پر کھڑے ہوکر نماز ادا فرمایا کرتے تھے؟ وہ کہتے: جی ہاں، یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وہاں کھڑے ہوکر نماز ادا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4390

۔ (۴۳۹۰) عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَرَأَیْتِ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} فَوَاللّٰہِ مَا عَلٰی أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا، قَالَتْ: بِئْسَمَا قُلْتَ یَا ابْنَ أُخْتِی! إِنَّہَا لَوْ کَانَتْ کَمَا أَوَّلْتَہَا عَلَیْہِ کَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لَّا یَطَّوَّفَ بِہِمَا، إِنَّمَا نَزَلَتْ إِنَّ ھٰذَا الْحَیَّ مِنَ الْأَنْصَارِ کَانُوْا قَبْلَ أَنْ یُسْلِمُوْایُہِلُّوْا لِمَنَاۃَ الطَّاغِیَۃِ، الَّتِی کَانُوْایَعْبُدُوْنَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، وَکَانَ مَنْ أَھَلَّ لَھَا یَتَحَرَّجُ أَنْ یَطُوْفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَسَأَلُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} قَالَتْ: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الطَّوَافَ بِہِمَا فَلَیْسَیَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ أَنْ یَدَعَ الطَّوَافَ بِہِمَا۔ (مسند احمد: ۲۶۴۳۰)
۔ جنابِ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا کہ کیا آپ نے اس آیت پر غور نہیں کیا: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔) اللہ کی قسم! اس آیت سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: بھانجے!تم نے بڑی غلط بات کہی ہے، اگر بات اسی طرح ہوتی جیسے تم کہتے ہوتو اس آیت کی عبارت یوں ہوتی فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لَّا یَطَّوَّفَ بِہِمَا (اس پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف نہ کرنے)۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ آیت تو اس لئے نازل ہوئی تھی کہ انصار کا یہ قبیلہ اسلام سے قبل مناۃ نامی بت کے لئے احرام باندھا کرتا تھا اور یہ لوگ مشلل کے قریب اس کی پوجا کیاکرتے تھے،اس مناۃ کے لئے احرام باندھنے والے لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے کو گناہ سمجھتے تھے، جب ان لوگوں نے اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸) اب تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں کے درمیان کی سعی کو مشروع قرار دیا ہے، لہٰذا کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس سعی کو ترک کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4391

۔ (۴۳۹۱) عَنْ حَبِیْبَۃَ بِنْتِ أَبِی تَجْزِئَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلْنَا عَلٰی دَارِ أَبِیْ حُسَیْنٍ فِی نِسْوَۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَطُوْفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، قَالَ: ھُوَ یَسْعٰییَدُوْرُ بِہٖإِزَارُہُ مِنْ شِدَّۃِ السَّعْیِ وَھُوَ یَقُوْلُ لِأَصْحَابِہِ: ((اِسْعَوْا، إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ السَّعْیَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۱۱)
۔ سیدہ حبیبہ بنت ابو تجزء ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم کچھ قریشی خواتین دارِابی حسین میں گئیں اور دیکھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا مروہ کی سعی کررہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر دوڑ رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر اڑ رہی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ سے فرما رہے تھے: دوڑو، دوڑو، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو فرض کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4392

۔ (۴۳۹۲) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَطُوْفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَالنَّاسُ بَیْنَیَدَیْہِ وَھُوَ وَرَائَ ھُمْ وَھُوَ یَسْعٰی حَتّٰی أَرٰی رُکْبَتَیْہِ مِنْ شِدَّۃٍ السَّعْیِ،یَدُوْرُ بِہِ إِزَارُہُ وَھُوَیَقُوْلُ: ((اِسْعَوْا، فَإِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ السَّعْیَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۱۲)
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے دیکھا، لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے آگے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے پیچھے اس قدر دوڑ رہے تھے کہ تیز چلنے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادراڑ رہی تھی اور مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھٹنے دکھائی دے رہے تھے اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے یہ فرما رہے تھے: دوڑو، دوڑو، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کوفرض کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4393

۔ (۴۳۹۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَھُوَ یُرِیْدُ الصَّفَا وَھُوَ یَقُوْلُ: ((نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۳۷)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد حرام سے نکل کر یہ کہتے ہوئے صفا کی طرف جارہے تھے: ہم بھی سعی میں اسی مقام سے ابتدا کریں گے، جس سے اللہ تعالی نے اس کا ذکر کرتے ہوئے ابتداء کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4394

۔ (۴۳۹۴) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا مَشٰی حَتّٰی إِذَا نْصَبَّتْ قَدَماَہُ فِی بَطْنِ الْوَادِی سَعٰی حَتّٰییَخْرُجَ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۳۹)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب صفا سے نیچے اترکر وادی کے درمیان پہنچ جاتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوڑتے، یہاں تک کہ وادی کو عبور کر جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4395

۔ (۴۳۹۵) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فِی الْمَسعٰی کَاشِفًا عَنْ ثَوْبِہِ قَدْ بَلَغَ إِلٰی رُکْبَتَیْہِ۔ (مسند احمد: ۵۹۷)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے والی جگہ میںیوں سعی کرتے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی چادر کو گھٹنوں تک اوپر کیا ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4396

۔ (۴۳۹۶) عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ أُمِّ وَلَدِ شَیِبْۃَ (ابْنِ عُثْمَانَ) أَنَّہَا أَبْصَرَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَسْعَی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ،(وَفِی رِوَایَۃٍ: وَقَدِ انْکَشَفَ الثَّوْبُ عَنْ رُکْبَتَیْہِ) یَقُوْلُ: ((لاَ یُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا)) (مسند احمد: ۲۷۸۲۳)
۔ شیبہ بن عثمان کی ام ولد (سیدہ تملک عبدریہ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان اس طرح سعی کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کپڑا گھٹنوں سے ہٹ رہا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے: اس وادی کو دوڑ کر ہی عبور کیاجائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4397

۔ (۴۳۹۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْہُمْ، أَنَّہَارَأَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ خَوْخَۃٍ وَھُوَ یَسْعٰی فِی بَطْنِ الْمَسِیْلِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((لَا یُقْطَعُ الْوَادِیْ إِلاَّشَدًّا۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۲۴)
۔ (دوسری سند) ایک عورت (یعنی سیدہ تملک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک چھوٹے دروازے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ وادی میں دوڑرہے تھے اور فرما رہے تھے: اس وادی سے دوڑ کر ہی گزرا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4398

۔ (۴۳۹۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْمِقْدَامِ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَمْشِی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَقُلْتُ لَہُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! مَالَکَ، لَا تَرْمُلُ؟ فَقَالَ: قَدْ رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَتَرَکَ۔ (مسند احمد: ۴۹۹۳)
۔ عبداللہ بن مقدام کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ صفااورمروہ کی سعی کے دوران عام رفتار سے چل رہے تھے، اس لیے میں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! کیا بات ہے، آپ دورڑتے کیوں نہیں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دوران دوڑے بھی تھے اور اس کو ترک بھی کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4399

۔ (۴۳۹۹) عَنْ کَثِیْرِ بْنِ جُمْہَانَ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یَمْشِیْ فِی الْوَادِیْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَلَا یَسْعٰی، فَقُلْتُ لَہُ، فَقَالَ: إِنْ أَسْعَ فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْعٰی، وَإِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِی وَأَنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ۔ (مسند احمد: ۵۲۶۵)
۔ کثیر بن جمہان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو صفا مروہ کے درمیان دیکھا کہ وہ عام رفتار سے چل رہے تھے اور دوڑ نہیں رہے تھے جب میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہاں دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہاں عام رفتار سے چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے، جبکہ اب میں بوڑھا بھی ہوچکا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4400

۔ (۴۴۰۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: طَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَلٰی رَاحِلَتِہِ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِیَرَاہُ النَّاسُ وَلِیُشْرِفَ وَلِیَسْأَلُوْہُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوْہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۶۸)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی سواری پر سوار ہوکر کی تھی تاکہ لوگ اچھی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ سکیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی سب لوگوں کی اچھی طرح رہنمائی کر سکیں، اور تاکہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کریںاور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر چھائے ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4401

۔ (۴۴۰۱) عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: حَدِّثْنِی عَنِ الرُّکُوْبِ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَإِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُوْنَ أَنَّہُ سُنَّۃٌ، فَقَالَ: صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا، قُلْتُ: صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا مَاذَا؟ قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ فَخَرَجُوْا، حَتّٰی خَرَجَتِ الْعَوَاتِقُ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُضْرَبُ عِنْدَہٗاَحَدٌ،فَرَکِبَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطَافَ وَھُوَ رَاکِبٌ، وَلَوْ نَزَلَ لَکَانَ الْمَشْیُ أَحَبَّ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۳۴۹۲)
۔ ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ مجھے صفا مروہ کی سعی کے موقع پر سوار ہونے کے متعلق بتلائیں، کیونکہ آپ کی قوم تو اسے سنت سمجھتی ہے۔ انھوں نے کہا: ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہے اور کسی حد تک غلط بھی ہے۔ میں نے کہا: ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہے اور کسی حد تک غلط بھی ہے، اس کا کیا مفہوم ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے، سارے لوگ بھی آ گئے، حتی کہ نوجوان لڑکیاں بھی آگئیں، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کسی کو مارا نہیں جاتا تھا، (لیکن ہجوم بھی بہت زیادہ تھا) اس لئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف اور سعی سواری پر کی تھی، ورنہ آپ کو زیادہ پسند یہی تھا کہ آپ سواری سے نیچے اتر کر یہ عمل کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4402

۔ (۴۴۰۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَی الصَّفَا، یُکَبِّرُ ثَلَاثًا وَیَقُوْلُ:(( لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔)) یَصْنَعُ ذَالِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَیَدْعُوْ وَیَصْنَعُ عَلَی الْمَرْوَۃِ مِثْلَ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۳۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب صفا کے اوپر جاکر کھڑے ہوتے تو تین دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے،پھر تین مرتبہ یہ دعا پڑھتے: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، … وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین دفعہ کرتے تھے اور ہر دفعہ دعا بھی کرتے تھے، پھر مروہ پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہی عمل دوہراتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4403

۔ (۴۴۰۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکَانَ عُمَرُ یَأْمُرُ بِالْمَقَامِ عَلَیْہِمَا مِنْ حَیْثُیَرَاھَا۔ (مسند احمد: ۵۶۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا اور مروہ کے اوپر جاکر کھڑے ہوجاتے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان دونوں کے اوپر جاکر ایسی جگہ کھڑے ہونے کا حکم دیاکرتے تھے، جہاں سے بیت اللہ نظر آسکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4404

۔ (۴۴۰۴) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ إِلَی الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} ثُمَّ قَالَ: ((نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ بِہِ۔)) فَرَقِیَ عَلٰی الصَّفَا حَتّٰی إِذَا نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ کَبَّرَ قَالَ: ((لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ، وَصَدَقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔)) ثُمَّ دَعَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَی ھٰذَا الْکَلَامِ، ثُمَّ نَزَلَ حَتّٰی إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاہُ فِیْ الْوَادِیْ رَمَلَ، حَتّٰی إِذَا صَعِدَ مَشٰی حَتّٰی أَتَی الْمَرْوَۃَ، فَرَقِیَ عَلَیْہَا حَتّٰی نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ فَقَالَ عَلَیْہَا کَمَا قَالَ عَلَی الصَّفَا۔ (مسند احمد: ۱۴۴۹۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے اور آپ نے یہ آیت تلاوت کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْـمَـرْوَۃَ مِـنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} (صفااور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسیمقام سے ابتدا کریں گے کہ اللہ تعالی نے جس کا ذکر پہلے کیا ہے ۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا پر چڑھ گئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، اور یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، … وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں دعائیں کیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیچے اتر آئے، اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی کے درمیان میں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوڑنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ جب وادی کو عبور کرکے مروہ کے اوپر چڑھنے لگے تو عام رفتار سے چلنا شروع کر دیا اور جب مروہ کے اوپر پہنچ گئے اور بیت اللہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دکھائی دینے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں بھی وہی عمل کیا، جو صفا پر کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4405

۔ (۴۴۰۵) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَھَلَّ بِحَجٍّ وَمِنَّا مَنْ أَھَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَأَھْدٰی، فَقَالَ: ((مَنْ أَھَلَّ بِالْعُمْرَۃِ وَلَمْ یُہْدِ فَلْیحِلَّ، وَمَنْ أَھَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَأَھْدٰی فَلَا یَحِلَّ، وَمَنْ أَھَلَّ بِحَجٍّ فَلْیُتِمَّ حَجَّہُ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : وَکنُتْ ُمِمَّنْ أَھَلَّ بِعُمْرَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، ہم میں سے بعض افراد نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور بعض افراد نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا، لیکن ان کے پاس قربانی کے جانور تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور ان کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے تو وہ عمرہ کرکے احرام کھول دیں اور جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا ہے، لیکن قربانی کا جانور ان کے ساتھ ہے تو وہ احرام نہیں کھولیں گے اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا ہے، وہ اپنا حج پورا کریں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4406

۔ (۴۴۰۶) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((وَمَنْ أَھَلَّ بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَقَصَّرَ أَحَلَّ مِمَّا حَرُمَ مِنْہُ حَتّٰییَسْتَقْبِلَ حَجًّا۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۰۹)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور جس نے عمرے کا احرام باندھاہے اور اس نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا لئے ہیں، وہ احرام کی پابندی سے آزاد ہوگیا ہے اور وہ دوبارہ حج کے لیے نئے سرے سے احرام باندھے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4407

۔ (۴۴۰۷)عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ حَفْصَۃَ أَخْبَرَتْہُ قَالَتْ: أَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَحِلَّ فِی حَجَّتِہِ الَّتِی حَجَّ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کے موقع پر ان کو حلال ہو جانے کا حکم دیاتھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4408

۔ (۴۴۰۸) عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَ ہُ أَنْ یَحْلِلْنَ بِعُمْرَۃٍ، قُلْنَ: فَمَا یَمْنَعُکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنْ تَحِلَّ مَعَنَا؟ قَالَ: ((إِنِّی قَدْ أَھْدَیْتُ وَلَبَّدْتُّ، فَلَا أَحِلُّ حَتّٰی أَنْحَرَ ھَدْیِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۶۹)
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کو عمرہ کے بعد حلال ہونے کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو ہمارے ساتھ حلال ہو جانے سے کون سی چیز مانع ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے اورمیں نے اپنے بالوں کو لیپ کر رکھا ہے، اس لیے میں جب تک قربانی نہ کرلوں، حلال نہیں ہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4409

۔ (۴۴۰۹) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاشَأْنُ النَّاسِ حَلُّوْا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِکَ؟ قَالَ: ((إِنِّی قَدْ قَلَّدْتُّ ھَدْیِیْ وَلَبَّدْتُّ رَأْسِیْ فَلَا أَحِلُّ حَتّٰی أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۵۶)
۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا بات ہے کہ لوگ تو عمرہ کے بعد احرام کھول رہے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حلال نہیں ہو رہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میرے پاس قرآنی کا جانور ہے اور میں نے اسے قلادہ ڈالا ہوا ہے اور اپنے سر کو لیپ کیا ہوا ہے، لہٰذا حج سے فارغ ہونے تک حلال نہیں ہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4410

۔ (۴۴۱۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَبَّدَ رَأْسَہُ وَأَھْدٰی، فَلَمَّا قَدِمَ مَکَّۃَ أَمَرَ نِسَائَ ہُ أَنْ یَحْلِلْنَ، قُلْنَ: مَالَکَ أَنْتَ لَاتَحِلُّ؟ قَالَ: ((إِنِّی قَلَّدْتُّ ھَدْیِیْ وَلَبَّدْتُّ رَأْسِی، فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَحِلَّ مِنْ حَجَّتِی وَأَحْلِقَ رَأْسِی۔)) (مسند احمد: ۶۰۶۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سر کو لیپ دیا تھا اور قربانی کا جانور بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویں کو احرام کھولنے کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: کیا بات ہے کہ آپ خود تو احرام نہیں کھو ل رہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال چکا ہوں اور سر کو لیپ کر رکھا ہے، لہٰذا میں جب تک حج اور سر منڈوانے سے فارغ نہ ہو جاؤں، اس وقت تک حلال نہیں ہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4411

۔ (۴۴۱۱)عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صُبْحَ أَرْبَعٍ مَضَیْنَ مِنْ ذِی الْحِجَّۃِ مُہَلِّیْنَ بِالْحَجِّ کُلُّنا، فَأَمَرَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطُفْنَا بِالْبَیْتِ وَصَلَّیْنَا الرَّکْعَتَیْنِ وَسَعَیْنَا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا ثُمَّ قَالَ: ((أَحِلُّوْا۔)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: ((حِلُّ مَا یَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنَ النِّسَائِ وَالطِّیْبِ۔)) قَالَ: فَغُشِیَتِ النِّسَائُ وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ، قَالَ خَلَفٌ: وَبَلَغَہُ أَنَّ بَعْضَہُمْ یَقُوْلُ: یَنْطَلِقُ اَحَدُنَا اِلٰی مِنًی وَذَکَرُہٗیَقْطُرُ مَنِیًّا، قَالَ: فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ: فَقَدْ بَلَغَنِی الَّذِیْ قُلْتُمْ وَإِنِّی لَأَتْقَاکُمْ وَأَبَرُّکُمْ)۔)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّی لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْہَدْیَ، وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْھَدْیَ لَأَحْلَلْتُ۔)) قَالَ: ((فَخُذُوْا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ۔)) قَالَ: فَاَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّہِمْ حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ، وَأَرَادُوْا التَّوَجُّہَ إِلٰی مِنًی أَھَلُّوْا بِالْحَجِّ، قَالَ: فَکَانَ الْھَدْیُ عَلٰی مَنْ وَجَدَ، وَالصِّیَامُ عَلٰی مَنْ لَمْ یَجِدْ وَأَشْرَکَ بَیْنَہُمْ فِیْ ھَدْیِہِمْ، اَلْجَزُوْرُ بَیْنَ سَبْعَۃٍ، وَالْبَقْرَۃُ بَیْنَ سَبْعَۃٍ وَکَانَ طَوَافُہُمْ بِالْبَیْتِ وَسَعْیُہُمْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِحَجِّہِمْ وَعُمْرَتِہِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْیًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۱۵۰۰۶)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم سارے کے سارے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے، ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد دودورکعت نماز پڑھی، پھر ہم نے صفا مروہ کی سعی کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بال کٹوانے کاحکم دیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حلال ہوجائو یعنی احرام کھول دو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز کے لیے حلال ہونا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز حلال سمجھو جو احرام کے بغیر حلال ہوتی ہے، مثلاً خوشبو اور بیوی وغیرہ۔ پس عورتوں سے مجامعت کی گئی اور خوشبوئیں مہک اٹھیں۔خلف کہتے ہیں:جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات موصول ہوئی کہ بعض لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس حکم کے بارے میں کہا: اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہم منیٰ کی طرف جارہے ہوں گے تو ہماری شرم گاہیں منی ٹپکا رہی ہوں گی، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں خطبہ دیا اور اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: تمہاری باتیں مجھ تک پہنچ چکی ہیں، میں تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ نیک ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس بات کا مجھے بعد میں پتہ چلا، اگر پہلے معلوم ہو جاتی تو میں سرے سے قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور اگر میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لایاہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے حج کے احکام ومسائل سیکھ لو۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پس لوگ حلال ہوگئے اور اسی حالت پر برقرار رہے، یہاں تک کہ جب آٹھ ذوالحجہ کا دن آ گیا اور وہ منیٰ کو جانے لگے تو انہوں نے حج کا احرام باندھا، جو لوگ صاحبِ استطاعت تھے انہوں نے قربانیکی اور جو لوگ صاحب استطاعت نہ تھے انہوں نے قربانی کے عوض دس روزے رکھے اور آپ نے صحابہ کو اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات سات آدمیوں کو شریک کیا اور حج قران والوں کے لئے بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4412

۔ (۴۴۱۲) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہٗقَالَ: فَأَحْرَمْنَابِالْحَجِّ،فَلَمَّاقَدِمْنَامَکَّۃَ، قَالَ: ((اِجْعَلُوْا حَجَّکُمْ عُمْرَۃً۔)) قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَکَیْفَ نَجْعَلُہَا عُمْرَۃً؟ قَالَ: ((اُنْظُرُوْا مَا آمُرُکُمْ بِہِ، فَافْعَلُوْا، فَرَدُّوْا عَلَیْہِ الْقَوْلَ فَغَضِبَ، ثُمَّ انْطَلَقَ، حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ غَضْبَانَ فَرَاَتِ الْغَضَبَ فِیْ وََجْھِہٖفَقَالَتْ: مَنْاَغْضَبَکَأَغْضَبَہُ اللّٰہُ؟ قَالَ: ((وَمَا لِی لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ فَلَا أُتْبَعُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۲۲)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ حج کیلئے روانہ ہوئے، ہم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام قرار دو۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو حج کا احرام باندھا تھا، اب ہم اسے عمرہ کا احرام کیسے قراردیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جو حکم دے رہاہوں، اس پر غور کرو اور اسے سر انجام دو۔ لیکن لوگوں نے پھر وہی بات دوہرائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غضب ناک ہوگئے اور غصہ کی حالت میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جب انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرہ پر غضب کے آثاردیکھے تو کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کس نے ناراض کر دیا،اللہ اس پر ناراض ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ناراض کیوں نہ ہوں، بات یہ ہے کہ میں کوئی حکم دیتا ہوںاور میری پیروی نہیں کی جاتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4413

۔ (۴۴۱۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَرْبَعٍ مَضَیْنَ مِنْ ذِی الْحِجَّۃِ، فَدَخَلَ عَلَیَّ وَھُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ أَدْخَلَہُ اللّٰہُ النَّاَر۔ فَقَالَ: ((وَمَا شَعَرْتِ أَنِّی أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا ھُمْ یَتَرَدَّدُوْنَ۔)) (قَالَ الْحَکَمُ: کَأَنَّہُمْ، أَحْسِبُ) وَلَوْ أَنِّی اِسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْھَدْیَ مَعِیَ حَتّٰی أَشْتَرِیَہُ ثُمَّ أَحِلُّ کَمَا أَحَلُّوْا۔)) قَالَ رَوْحٌ: یَتَرَدَّدُوْنَ فِیْہِ، (قَالَ الْحَکَمُ: کَأَنَّہُمْ ھَابُوْا أَحْسِبُ)۔ (مسند احمد: ۲۵۹۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصہ کی حالت میں تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کس نے آپ کو غصہ دلایا، اللہ اسے جہنم رسید کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیاہے، لیکن وہ اس پر عمل کرنے میں متردد ہیں، جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا، بلکہ یہیں سے خریدلیتا اور میں بھی ان لوگوں کی طرح احرام کھول دیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4414

۔ (۴۴۱۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانُوْا یَرَوْنَ الْعُمْرَۃَ فِی أَشْہُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُوْرِ فِی الْأَرْضِ وَیَجْعَلُوْنَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا، وَیَقُوْلُوْنَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَۃُ لِمَنِ اعْتَمَرْ۔ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہٗلِصَبِِیْحَۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِصُبْحِ) رَابِعَۃٍ مُہِلِّیْنَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً، فَتَعَاظَمَ ذَالِکَ عِنْدَھُمْ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: ((اَلْحِلُّ کُلُّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو روئے زمین پر سب سے بڑا گناہ سمجھتے تھے، اس لئے وہ لوگ مہینوں میں تقدیم وتاخیر کرتے اور محرم کو صفرقراردیتے اور وہ کہا کرتے تھے:جب سفر کی وجہ سے اونٹوں کو آئے ہوئے زخم درست ہوجائیں، راستوں سے قافلوں کی آمدورفت کے نشانات مٹ جائیں اور صفر کامہینہ گزر جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو گا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ چارذوالحجہ کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے پہنچے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ اسے حج کی بجائے عمرہ کا احرام قراردیں اور عمرہ کرکے احرام کھول دیں۔ لیکن انھوں نے تو اس بات کو بہت بڑا خیال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا حلال ہونا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مکمل طور پرحلال ہونا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4415

۔ (۴۴۱۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصُبْحِ رَابِعَۃٍ مُہِلِّیْنَ بِالْحِجِّ فَأَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہُ الْھَدْیُ، قَالَ: فَلُبِسَتِ الْقُمُصُ وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ وَنُکِحَتِ النِّسَائُ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چارذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے، لوگ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ قراردیں اور جن لوگوں کے پاس قربانی کے جانور ہیں، وہ اپنے احرام ہی میں رہیں۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: چنانچہ قمیصیں پہن لی گئیں، خوشبوئیں مہک اٹھیں اور بیویوں سے مجامعت کی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4416

۔ (۴۴۱۶) عَنْ مُجَاھِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھٰذِہِ عُمْرَۃٌ اِسْتَمْتَعْنَا بِہَا، فَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ھَدْیٌ فَلْیَحِلَّ الْحِلَّ کُلَّہُ، فَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم اس عمرہ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ مکمل طور پر حلال ہوجائیں، قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے، (یعنی قیامت تک حج کے مہینوں میں عمرہ کیاجاسکتا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4417

۔ (۴۴۱۷) عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَنْ قَدِمَ حَاجًّا وَطَافَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَقَدِ انْقَضَتْ حَجَّتُہُ، وَصَارَتْ عُمْرَۃً کَذٰلِکَ سُنَّۃُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَسُنَّۃُ رَسُوْلِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ جو لوگ حج کے ارادہ سے آئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرچکے ہیں، ان کا حج پورا ہوگیا اور ان کا یہ عمل عمرہ بن گیا ہے، یہی اللہ تعالی اور رسول اللہ کی سنت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4418

۔ (۴۴۱۸) عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قُلْتُ لَہٗ: یَا أَبَا الْعَبَّاسِ! أَرَأَیْتَ قَوْلَکَ مَاحَجَّ رَجُلٌ لَمْ یَسُقِ الْھَدْیَ مَعَہُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَۃٍ، وَمَا طَافَ بِہَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَہُ الْھَدْیَ إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَہُ عُمْرَۃٌ وَحَجَّۃٌ، وَالنَّاسُ لَا یَقُوْلُوْنَ ھٰذَا؟ فَقَالَ: وَیْحَکَ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ أَصْحَابِہِ لَا یَذْکُرُوْنَ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ الْھَدْیُ أَنْ یَطُوْفَ بِالْبَیْتِ وَیَحِلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ یَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّمَا ھُوَ الْحَجُّ، فَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ لَیْسَ بِالْحَجِّ وَلٰکِنَّھَا عُمْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۰)
۔ مولائے ابن عباس جناب کریب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو العباس!آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جو آدمی حج کی نیت سے آئے اور قربانی کا جانور اس کے ہمراہ نہ ہو، تو وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ مکمل کر کے حلال ہوجائے اور جس کے ہمراہ قربانی کا جانور ہو اس کا حج اور عمرہ جمع ہوجائے گا، جبکہ دوسرے لوگوں کی رائے اس طرح نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: تجھ پر افسوس! بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ تشریف لائے اورصحابہ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ جن لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں،بعض لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول!ہم نے تو حج کا ارادہ کیاتھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حج نہیں ہے، بلکہ یہ تو عمرہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4419

۔ (۴۴۱۹) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی حَسَّانَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ الْھُجَیْمِ: یَا أَبَا عَبَّاسٍ! مَا ھٰذَا الْفُتْیَا الَّتِی تَفَشَّتْ بِالنَّاسِ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَیْتِ، فَقَدْ حَلَّ؟ فَقَالَ: سُنَّۃُ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنْ رَغِمْتُمْ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ بَعْدَ قَوْلِہِ: وَإِنْ رَغِمْتُمْ) قَالَ: ھَمَّامٌ: یَعْنِی مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ھَدْیٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۳)
۔ بنوہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کہا: ابوالعباس! یہ آپ کا کیسا فتویٰ لوگوں میں مشہورہوا ہے کہ جو آدمی بیت اللہ کاطواف کرتا ہے، وہ حلال ہوجاتا ہے؟ انھوں نے کہا: تمہارے نبی کییہی سنت ہے، خواہ تم لوگ اسے پسند نہ کرو۔ہمام نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ جس کے ہمراہ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ (عمرہ کر کے) حلال ہوجائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4420

۔ (۴۴۲۰) عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ: أَفْرِدُوْا الْحَجَّ وَدَعُوْا قَوْلَ ھٰذَا، یَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا تَسْأَلُ أُمَّکَ عَنْ ھٰذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا فَقَالَتْ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُجَّاجًا فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَاھَا عُمْرَۃً فَحَلَّ لَنَا الْحَلَالُ حَتّٰی سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَیْنَ النِّسَائِ وَالرِّجَالِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۵۶)
۔ مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! حج افراد کیاکرو اور سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی بات کو چھوڑ دو۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے جواباً کہا: آپ اس بارے میں اپنی والدہ سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ پس انھوں نے ان کی خدمت میں ایک آدمی کو بھیج کر مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی بات صحیح ہے، کیونکہ جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ حج کے ارادہ سے چلے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ میں تبدیل کرلیاتھا، اس کے بعد ہمارے لئے (احرام کی وجہ سے ممنوع ہو جانے والی) ہر حلال چیز حلال ہوگئی،یہاں تک کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان سے خوشبوئیں مہک اٹھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4421

۔ (۴۴۲۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَجْعَلَہَا عُمْرَۃً وَقَالَ: ((لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ لَجَعَلْتُہَا عُمْرَۃً وَلٰکِنِّی سُقْتُ الْھُدْیَ وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۴۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے،لیکن جب مکہ مکرمہ پہنچے تورسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ قراردیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر پہلے آ جاتا تو میں بھی اس کو عمرہ بنا دیتا، لیکن میں اپنے ہمراہ قربانی کا جانور لایا ہوں اور میں نے حج و عمرہ کو جمع کر رکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4422

۔ (۴۴۲۲) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا حَتّٰی إِذَا طُفْنَا بِالْبَیْتِ، قَالَ: ((اِجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہُ الْھَدْیُ۔)) قَالَ: فَجَعَلْنَاھَا عُمْرَۃً فَحَلَلْنَا، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ صَرَخْنَا بِالْحَجِّ، وَانْطَلَقْنَاإِلٰی مِنًی۔ (مسند احمد: ۱۱۰۲۷)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے، لیکن جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے عمرہ قرار دو، البتہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں،وہ احرام نہیںکھول سکتے۔ چنانچہ ہم نے اسے عمرہ بنالیا اور ہم حلال ہوگئے، جب آٹھ ذوالحجہ ہوئی تو ہم نے (از سرِ نو) حج کا تلبیہ پکارا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4423

۔ (۴۴۲۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُجَّاجًا فَأَمَرَھُمْ، فَجَعَلُوْھَا عُمْرَۃً، ثُمَّ قَالَ: ((لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ لَفَعَلْتُ کَمَا فَعَلُوْا، وَلٰکِنْ دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِیْ الْحَجِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) ثُمَّ أَنْشَبَ أَصَابِعَہُ بَعْضَہَا فِی بَعْضٍ، فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہُ ھَدْیٌ، وَقَدِمَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِمَ أَھْلَلْتَ؟)) قَالَ: أَھْلَلْتُ بِمَا أَھْلَلْتَ بِہِ، قَالَ: فَہَلْ مَعَکَ ھَدْیٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَقِمْ کَمَا أَنْتَ، وَلَکَ ثُلُثُ ھَدْیِیْ،قَالَ: وَکَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِائَۃُ بَدَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کے ارادہ سے آئے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انھوں نے اسے عمرہ بنالیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسے ان لوگوں نے کیا ہے، لیکن اب بات یہ ہے کہ قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا، (یعنی اب حج کے دنوں میں عمرہ کیا جاسکتا ہے)، چنانچہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ حلال ہوگئے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے آئے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے تلبیہ کیسے پکارا؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے، جو آپ نے باندھا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتمہارے ساتھ قربانی کا جانور ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم احرام کی حالت میں ہی رہو اور میرے قربانیوں کا ایک تہائی حصہ تمہارے لیے ہے۔ اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک سواونٹ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4424

۔ (۴۴۲۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا نَحْسِبُ إِلَّا أَنَّنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ نُوْدِیَ فِیْنَا: مَنْ کَانَ مِنْکُمْ لَیْسَ مَعَہُ ھَدْیٌ فَلْیَحْلِلْ، وَمَنْ کَانَ مَعَہُ ھَدْیٌ فَلْیُقِمْ عَلٰی إِحْرَامِہِ، قَالَ: فَأَحَلَّ النَّاسُ بِعُمْرَۃٍ إِلَّا مَنْ کَانَ سَاقَ الْھَدْیَ، قَالَ: وَبَقِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَمَعَہُ مِائَۃُ بَدَنَۃٍ، وَقَدِمَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ، …۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۰۷)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمارا خیال صرف یہ تھا کہ ہم حج کرنے کے لیے جا رہے ہیں، لیکن جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو یہ اعلان کیاگیا: تم میں سے جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں اور جن کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں، وہ احرام کی حالت میں رہیں۔ پس جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ عمرہ کرکے حلال ہوگئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سو اونٹ تھے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے آئے تھے، …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4425

۔ (۴۴۲۵) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ۔ (مسند احمد: ۴۸۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4426

۔ (۴۴۲۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَھَلَّ وَأَصْحَابُہٗبِالْحَجِّوَلَیْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْہُمْ یَوْمَئِذٍ ھَدْیٌ إِلَّا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَطَلْحَۃَ، وَکَانَ عَلِیٌّ قَدِمَ مِنَ الْیَمَنِ وَمَعَہُ الْھَدْیُ، فَقَالَ: أَھْلَلْتُ بِمَا أَھَلَّ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَصْحَابَہُ أَنْ یَجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً وَیَطُوْفُوْا ثُمَّ یُقَصِّرُوْا وَیَحِلُّوْا إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہُ الْھَدْیُ۔ فَقَالُوْا: نَنْطَلِقُ إِلٰی مِنًی وَذَکَرُ أَحْدِنَا یَقْطُرُ، فَبَلَغَ ذَالِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَوْ أَنِّی أَسْتَقْبِلُ مِنْ أَمْرِی مَا أَسْتَدْبِرُ مَا أَھْدَیْتُ، وَلَوْ َلا أَنَّ مَعِیَ الْھَدْیَ لأَحْلَلْتُ۔)) وَأَنَّ عَائِشَۃَ حَاضَتْ فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا غَیْرَ أَنَّہَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ، فَلَمَّا طَافَتْ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَتَنْطَلِقُوْنَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ أَنْ یَخْرُجَ مَعَہَا إِلَی التَّنْعِیْمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِیْ ذِیْ الْحِجَّۃِ، وَأَنَّ سُرَاقَۃَ بْنَ مَالِکِ بْنِ جُعْشَمٍ لَقِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَۃِ، وَھُوَ یَرْمِیْہَا، فَقَالَ: أَلَکُمْ ھٰذِہِ خَاصَّۃًیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۳۰)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا اور اس کا تلبیہ پکارا،صرف نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے آئے تھے، ان کے ہمراہ بھی قربانی کا جانور تھا۔ انہوں نے (احرام باندھتے وقت یوں) کہا تھا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا احرام باندھتا ہوں۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے تلبیہیا احرام کو عمرہ میں تبدیل کردیں اور بیت اللہ کا طواف اور سعی کے بعد بال کٹوا کر حلال ہوجائیں، البتہ جن کے پاس قربانی کے جانور ہیں، وہ حلال نہیں ہوسکتے۔ لیکن لوگ کہنے لگے: کیا ہم منیٰ کی طرف اس حال میں جائیں گے کہ ہماری شرم گاہوں سے منی کے قطرات ٹپکتے ہوں گے؟ جب ان کییہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے اب آیا ہے، اگر یہ پہلے آ یا ہوتا تو میں قربانی کا جانورساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ اسی سفر میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حیض شروع ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے تمام مناسک ادا کئے تھے، صرف بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا اور جب وہ حیض سے پاک ہو گئی تھیں تب طواف کیا تھا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگ، حج اور عمرہ دوعبادتیں کرکے جارہے ہیں اور میں صرف حج کرکے؟ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم تک جائیں (اور ان کو عمرہ کروا کر لائیں) چنانچہ سیدہ نے حج کے بعد ذوالحجہ میں ہی عمرہ کیا تھا۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جمرۃ عقبہ کے قریب ملاقات ہوئی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت رمی کررہے تھے، انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! (کیا حج کے دنوں میں عمرہ کرنا) صرف آپ کے ساتھ اسی سال کیلئے مخصوص ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بلکہ یہ حکم ہمیشہ کیلئے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4427

۔ (۴۴۲۷) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَتْ عَائِشَۃُ تَقُوْلُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا نَذْکُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ، طَمِثْتُ، فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أَبْکِیْ، فَقَالَ: ((مَا یُبْکِیْکِ؟)) قُلْتُ: وَدِدْتُّ أَنِّیْ لَمْ أَخْرُجِِ الْعَامَ، قَالَ: ((لَعَلَّکِ نَفِسْتِ؟)) یَعْنِی حِضْتِ۔ قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنَّ ھٰذَا شَیْئٌ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلٰی بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِی مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لَّا تَطُوْفِی بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْہُرِی۔)) فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہٖ: ((اِجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً، فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہٗھَدْیٌ۔)) وَکَانَ الْہَدْیُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَذَوِی الْیَسَّارَۃِ، قَالَتْ: ثُمَّ رَاحُوْا مُہِلِّیْنَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ النَّحْرِ طَہَرْتُ، فَأَرْسَلَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَفَضْتُ یَعْنِی طُفْتُ، قَالَتْ: فَأُتِیْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ قَالُوْا: ھٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَبَحَ عَنْ نِسَائِہِ الْبَقَرَ، قَالَتْ: فَلَمَّا کَانَتْ لَیْلَۃُ الْحَصْبَۃِ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! یَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّۃٍ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَبِی بَکْرٍفَأَرْدَفَنِی عَلٰی جَمَلِہِ، قَالَتْ: فَإِنِّی لَأَذْکُرُ وَأَنَا جَارِیَۃٌ حَدِیْثَۃُ السِّنِّ أَنِّیْ أَنْعُسُ فَتَضْرِبُ وَجْہِیْ مُؤْخِرَۃُ الرَّحْلِ، حَتّٰی جَائَ بِیَ التَّنْعِیْمَ، فَاَھْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ جَزَائً لِعُمْرَۃِ النَّاسِ الَّتِیْ اِعْتَمَرُوْا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۷۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہم صرف حج کا تذکرہ کر رہے تھے، جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں رورہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیوں رورہی ہو؟ میں نے عرض کیا: کاش! میں اس سال حج کے لئے نہ آتی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لگتا ہے کہ تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر یہ چیز لکھ دی ہے، تم وہ تمام مناسک اداکرو جو حاجی لوگ ادا کریں، البتہ تم اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہ کروجب تک حیض سے پاک نہ ہوجائو۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے فرمایا: تم ان مناسک کوعمرہ بنالو، جن لوگوں کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، وہ سب حلال ہو گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،اور دیگر صاحب ِاستطاعت لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: یہ لوگ بعد میں حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے۔ میں دس ذوالحجہ کو حیض سے پاک ہوئی، اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں طواف افاضہ کرآئوں۔ پھر ہمارے پاس گائے کا گوشت لایاگیا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو بتانے والوں نے بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی ہے۔ پھر جب حصبہ کی رات تھی (اور لوگ مدینہ منورہ کی طرف واپسی کے موقع پر وادیٔ حصبہ میں ٹھہرے) تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!لوگ حج اور عمرہ کرکے جارہے ہیں اور میں صرف حج کر کے واپس ہو رہی ہوں، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا تو وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بٹھا کر (عمرہ کرا کر لائے)، مجھے خوب یا دہے میں نو عمر تھی اور جب مجھے اونگھ آ جاتی تو میرا چہرہ پالان کی پچھلی لکڑی کو جالگتا تھا، بہرحال میرے بھائی مجھے تنعیم لے گئے، اور میں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا،یہ اس عمرہ کے عوض تھاجو لوگ کرچکے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4428

۔ (۴۴۲۸) عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ عَنْ أَبِیْہِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّۃً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّۃً؟ قَالَ: ((بَلْ لَنَا خَاصَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۴۷)
۔ سیدنا بلال بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا، کیایہ حکم صرف ہمارے لئے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ صرف ہمارے لیے خاص ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4429

۔ (۴۴۲۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مُتْعَۃَ الْحَجِّ، لَنَا خَاصَّۃً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّۃً؟ فَقَالَ: ((لَا، بَلْ لَنَا خَاصَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۴۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا بلال بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول!حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کرکے حج تمتع کر لینے کی اجازت ہمارے لیے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں،یہ صرف ہمارے لیے خاص ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4430

۔ (۴۴۳۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا فَخُذُوْا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ)) قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّہِمْ حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ وَأَرَادُوْا التَّوَجُّہَ إِلٰی مِنًی أَھَلُّوْا بِالْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۰۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! مجھ سے مناسک کی تعلیم حاصل کرو۔ پس لوگ حلال ہو گئے، یہاں تک کہ جب ترویہ والا دن آ گیا اور انھوں نے منی کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو حج کا تلبیہ کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4431

۔ (۴۴۳۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًییَوْمَ التَّرْوِیَۃِ الظَّہْرَ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ترویہ والے دن منی میں نمازِ ظہر ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4432

۔ (۴۴۳۲) عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ کَانَ یُحِبُّ إِذَا اسْتَطَاعَ أَنْ یُصَلِّیَ الظُّہْرَ بِمِنًی مِنْ یَوْمِ التَّرْوِیَۃِ، وَذَالِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ بِمِنًی۔ (مسند احمد: ۶۱۳۱)
۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بات پسند تھی کہ اگر ان کے لیے ممکن ہو تو وہ ترویہ والے دن ظہرکی نماز منیٰ میں جاکر ادا کریں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی نماز منیٰ میں اداکی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4433

۔ (۴۴۳۳) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قُلْتُ: أَخْبِرْنِیْ بِشَیْئٍ عَقَلْتَہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیْنَ صَلَّی الظُّہْرَ یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ؟ قَالَ: بِمِنًی، وَأَیْنَ صَلَّی الْعَصْرَ یَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: اِفْعَلْ کَمَا یَفْعَلُ أُمَرَاؤُکَ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۹۸)
۔ عبدالعزیزبن رفیع کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر آپ کو یاد ہے تو مجھے بتلائیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آ ٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ میں نے پھر کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کے بعد واپس جاتے ہوئے عصر کی نماز کہاں اداکی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح وادی میں۔اس کے بعد سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا ؛تم اسی طرح کیا کرو، جیسے تمہارے حکمران کرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4434

۔ (۴۴۳۴)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًی خَمْسَ صَلَوَاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منیٰ میں پانچ نمازیں ادا کی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4435

۔ (۴۴۳۵)وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ بِمنًی وَصَلَّی الْغَدَاۃَیَوْمَ عَرَفَۃَ بِہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آٹھ ذوالحجہ کی نمازِ ظہر اور عرفہ والے دن (یعنی نو ذوالحجہ) کو نمازِ فجر منی میں ادا کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4436

۔ (۴۴۳۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: غَدَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مِنًی حِیْنَ صَلَّی الصُّبْحَ فِی صَبِیْحَۃِیَوْمِ عَرَفَۃَ حَتّٰی أَتٰی عَرَفَۃَ فَنَزَلَ بِنَمِرَۃَ وَھِیَ مَنْزِلُ الْإِمَامِ الَّذِیْ کَانَ یَنْزِلُ بِہٖ بِعَرَفَۃَ حَتّٰی إِذَ کَانَ عِنْدَ صَلَاۃِ الظُّہْرِ، رَاحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُہَجِّرًا فَجَمَعَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَی الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَۃَ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ کے دن یعنی نوذوالحجہ کو صبح کی نماز منیٰ میں ادا کی،اس کے بعد آپ عرفہ کو تشریف لے گئے اور وہاں جاکر وادیٔ نمرہ میں ٹھہرے،یہی وہ جگہ ہے جہاں عرفہ میں آکر امام ٹھہرتے ہیں، جب ظہرکا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوپہر کے وقت آئے اورظہر اور عصرکی نمازیں جمع کرکے ادا کیں،اس کے بعد لوگوں کوخطبہ دیا، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کی جگہ پر وقوف کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4437

۔ (۴۴۳۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْزِلُ بِعَرَفَۃَ وَادِی نَمِرَۃَ، فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَیْرِ، أَرْسَلَ إِِلَی ابْنِ عُمَرَ أَیَّۃُ سَاعَۃٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَرُوْحُ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ؟ قَالَ: إِذَا کَانَ ذَاکَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا یَنْظُرُ أَیَّ سَاعَۃٍیَرُوْحُ، فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ یَرُوْحَ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوْا: لَمْ تَزِغِ الشَّمْسُ، قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوْا: لَمْ تَزِغْ، فَلَمَّا قَالُوْا: قَدْ زَاغَتْ، اِرْتَحَلَ۔ (مسند احمد: ۴۷۸۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ میں وادیٔ نمرہ میں ٹھہراکرتے تھے، جب حجاج نے سیدنا عبدا للہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا تو اس نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دن کس وقت یہاں سے روانہ ہوتے تھے؟ انھوں نے کہا :جب وہ وقت ہوگا تو ہم چل پڑیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا تاکہ وہ خیال رکھے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں، پس جب انھوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو پوچھا :آیا سورج ڈھل چکاہے؟لوگوں نے بتلایا: جی نہیں، ابھی تک نہیں ڈھلا، پھر کچھ دیر بعد انھوں نے پوچھا: کیا سورج ڈھل چکا ہے، لوگوں نے کہا: جی نہیں ڈھلا، جب لوگوں نے یہ بتلایاکہ سورج ڈھل گیاہے تو وہ چل پڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4438

۔ (۴۴۳۸) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الثَّقَفِیِّ أَنَّہُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُمَا غَادِیَانِ إِلٰی عَرَفَۃَ: کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِیَعْنِییَوْمَ عَرَفَۃَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: کُنَّا یُہِلُّ الْمُہِلُّ مِنَّا، فَلَا یُنْکَرُ عَلَیْہِ وَیُکَبِّرُ ْالْمُکَبِّرُ مِنَّا وَلَا یُنْکَرُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۵۵)
۔ محمد بن ابی بکر ثقفی نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس وقت یہ سوال کیا، جب وہ دونوں عرفہ کی طرف جا رہے تھے: تم لوگ عرفہ والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس دن کو کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا اور کوئی تکبیر پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4439

۔ (۴۴۳۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدْ غَدَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُکَبِّرُ وَمِنَّا الْمُلَبِّیْ۔ (مسند احمد: ۴۴۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عرفات کو روانہ ہوئے تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہنے والا ہوتا تھا اور کوئی تلبیہ پکارنے والا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4440

۔ (۴۴۴۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ ا للّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَبِیْحَۃَ عَرَفَۃَ، مِنَّا الْمُکَبِّرُ وَمِنَّا الْمُہِلُّ، أَمَّا نَحْنُ نُکَبِّرُ، قَالَ: قُلْتُ: الْعَجَبُ لَکُمْ، کَیْفَ لَمْ تَسْأَلُوْہ کَیْفَ صَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۸۵۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرفہ کی صبح کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جارہے تھے،ہم میں کوئی تکبیر کہنے والا تھا اور کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا،تاہم ہم تو تکبیریں کہہ رہے تھے۔عبداللہ بن ابی سلمہ نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر سے کہا: تم پر بڑا تعجب ہے، تم نے (سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے یہ کیوں نہیں پوچھا تھا کہ خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا کچھ کیا تھا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4441

۔ (۴۴۴۱) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْمَرَ الدِّیْلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَہِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَۃَ وَأَتَاہُ نَاسٌ مِنْ أَھْلِ نَجْدٍ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ الْحَجُّ؟ فَقَالَ: ((اَلْحَجُّ عَرَفَۃُ، فَمَنْ جَائَ قَبْلَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ مِنْ لَیْلَۃِ جَمْعٍ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ، وَأَیَّامُ مِنًی ثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ، {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِییَوْمَیْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ} ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَہُ فَصَارَ یُنَادِی بِہِنَّ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۸۱)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن یعمردیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے، میں بھی وہاں موجود تھا، اسی دوران نجد کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ٍانہوں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول!حج کیسے ہوتا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:حج عرفہ کا نام ہے، جو آدمی مزدلفہ والی رات کو نمازِ فجر سے پہلے پہلے عرفہ پہنچ جائے، اس کا حج مکمل ہے اور حج کے بعد منیٰ میں تین دن گزارنے ہوتے ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے: {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِییَوْمَیْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ} (جو آدمیجلدی کرتے ہوئے دو دنوں کے بعد چلاجائے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو کوئی ٹھہرارہے (اور تین دن پورے کرے) اس پربھی کوئی حرج نہیں)۔ اس کے بعد آپ نے ایک آدمی کو سواری پر اپنے پیچھے سوار کیا، وہ ان مسائل کو پکار پکار کر بیان کرتا جارہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4442

۔ (۴۴۴۲) عَنْ عُرْوَہَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ لَامٍٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ حَجَّ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یُدْرِکِ النَّاسَ إِلَّا لَیْلًا وَھُوَ بِجَمْعٍ،فَانْطَلَقَ إِلٰی عَرَفَاتٍ فَأَفَاضَ مِنْہَا، ثُمَّ رَجَعَ فَأَتٰی جَمْعًا، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتْعَبْتُ نَفْسِی وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِی، فَہَلْ لِیْ مِنْ حَجِّ؟ فَقَالَ: ((مَنْ صَلّٰی مَعَنَا صَلَاۃَ الْغَدَاۃِ بِجَمْعٍ،ووَقَفَ مَعَنَا حَتّٰی نُفِیْضَ وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذٰلِکَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَیْلًا أَوْ نَہَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ، وَقَضٰی تَفَثَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۱۰)
۔ سیدنا عروہ بن مضرس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں حج کیا، وہ رات کو پہنچا تھا، اس وقت لوگ مزدلفہ میں تھے، وہ عرفات چلا گیا، پھروہاں سے واپس مزدلفہ آگیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نے اپنے آپ کو اور اپنی سواری کو خوب مشقت میں ڈالا ہے، کیا میرا حج ہوگیا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ مزدلفہ میں نماز فجر پڑھی اور پھر ہماری روانگی تک یہیں وقوف کیااور اس سے قبل وہ دن یا رات کے کسی حصہ میںعرفات سے ہوآیا ہو تو اس کا حج مکمل ہے اور اس نے اپنی میل کچیل دور کر لی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4443

۔ (۴۴۴۳) (مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ جِئْتُکَ مِنْ جَبَلَیْ طَیِّیئٍ أَتْعَبْتُ نَفْسِی،…۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۰۹)
۔ (دوسری سند)سیدنا عروہ بن مضرس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں تھے، اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طی کے دو پہاڑوں سے سفر کرکے آپ کی خدمت میں پہنچا ہوںاور میں نے اپنے آپ کو تھکا دیا ہے …
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4444

۔ (۴۴۴۴) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ بِعَرْفَۃَ وَھُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ فَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَوْقِفُ، وَکُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ)) (مسند احمد: ۶۱۳)
۔ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا اوراس وقت سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جائے وقوف ہے اور سارا عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4445

۔ (۴۴۴۵) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوْا عَنْ بَطْنِ عُرَنَۃَ، وَکُلُّ مُزْدَلِفَۃَ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوْا عَنْ مُحَسِّرٍ، وَکُلُّ فِجَاجِ مِنًی مَنْحَرٌ، وَکُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذَبْحٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۷۲)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارا میدانِ عرفات وقوف کی جگہ ہے، البتہ تم وادیٔ عرنہ سے ہٹ کر رہو، اسی طرح سارامزدلفہ جائے وقوف ہے اور تم وادیٔ محسر سے دور رہو اورمنیٰ کے تمام راستے قربانی کی جگہ ہیں اور تشریق کے تمام ایام قربانی کے دن ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4446

۔ (۴۴۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو، (یَعْنِی ابْنَ دِیْنَارٍ)عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ شَیْبَانَ قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَنَحْنُ فِی مَکَانٍ مِنَ الْمَوْقِفِ بَعِیْدٍ، فَقَالَ: إِنِّی رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ،یَقُوْلُ: ((کُوْنُوْا عَلٰی مَشَاعِرِکُمْ ھٰذِہِ، فَإِنَّکُمْ عَلٰی إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاھِیْمَ۔)) لِمِکَانٍ تَبَاعَدَہُ عَمْرٌو۔ (مسند احمد: ۱۷۳۶۵)
۔ یزید بن شیبان کہتے ہیں: سیدنا ابن مربع انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم موقف سے دور ایک مقام میں تھے، اور انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمہاری طرف قاصد بن کر آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے ہیں کہ تم اپنی اسی جگہ پر ٹھہرے رہو، تم ابراہیم علیہ السلام کی میراث پر ہی ہو۔ یہ فرمان اس جگہ کے بارے میں تھا، جس کو عمرو دور سمجھ رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4447

۔ (۴۴۴۷) عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِیْرًا لِی بِعَرَفَۃَ فَذَھَبْتُ أَطْلُبُہُ، فَإِذَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاقِفٌ، قُلْتُ: ھٰذَا مِنَ الْحُمْسِ، مَاشَأْنُہُ ھَاھُنَا۔ (مسند احمد: ۱۶۸۵۷)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عرفہ میں میرا اونٹ گم ہوگیاتھا، میں اسے تلاش کررہا تھا کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ میں وقوف کیے ہوئے دیکھا اور کہا: یہ تو قریشی ہیں، ان کا یہاں کیا کام ہے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4448

۔ (۴۴۴۸) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یُنْزَلَ عَلَیْہِ، وَإِنَّہُ لَوَاقِفٌ عَلٰی بَعِیْرٍ لَہُ بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ حَتَّییَدْفَعَ مَعَہُمْ مِنْہَا تَوْفِیْقًا مِنَ اللّٰہِ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۷۹)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قبل از بعثت لوگوںکے ساتھ عرفات میں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں وقوف کر رہے تھے،یہاں تک کہ آپ اللہ تعالی کی توفیق سے لوگوں کے ساتھ ہی واپس ہوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4449

۔ (۴۴۴۹) عَنِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَشْہَدُ لَوَقَفْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَاتٍ، قَالَ: فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاہُ الْأَرْضَ حَتّٰی أَتٰی جَمْعًا۔ (مسند احمد: ۱۹۶۹۴)
۔ سیدنا شرید بن سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عرفات میں وقوف کیا، مزدلفہ آنے تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم مبارک زمین کو نہ لگے تھے،( یعنی آپ سواری پر سوار تھے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4450

۔ (۴۴۵۰) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ قَدْ حَجَّ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: رَأَیْتُہُیَخْطُبُیَوْمَ عَرَفَۃَ عَلٰی بَعِیْرِہِ (وَفِی لَفْظٍ:) رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ عَلٰی جَمَلٍ أَحْمَرَ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۲۸)
۔ سیدنا نبیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج ادا کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن اونٹ پر خطبہ ارشاد فرماتے دیکھاتھا، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن بعد از زوال ایک سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4451

۔ (۴۴۵۱) عَنْ أَبِی مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ حَدَّثَنِی نُبَیْطُ بْنُ شُرَیْطٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنِّی لَرَدِیْفُ أَبِی فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، إِذْ تَکَلَّمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُمْتُ عَلٰی عَجُزِ الرَّاحِلَۃِ، فَوَضَعْتُ یَدِی عَلٰی عَاتِقِ أَبِی فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((أَیُّیَوْمٍ أَحْرَمُ؟)) قَالُوْا: ھٰذَا الْیَوْمُ؟ قَالَ: ((فَاَیُّ بَلَدٍ اَحْرَمُ؟)) قَالُوْا: ھٰذَا الْبَلَدُ، قَالَ: ((فَاَیُّ شَھْرٍ اَحْرَمُ؟)) قَالُوْا:ھٰذَا الشَّہْرُ، قَالَ: ((فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِ کُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا، ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ، اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۲۹)
۔ سیدنا نبیط بن شریط کہتے ہیں: میں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے والد کے ہمراہ سواری پر سوار تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ شروع فرما دیا،میں سواری کے پچھلے حصہ پر کھڑا ہوگیا، میں نے اپنا ہاتھ اپنے والد کے کندھے پر رکھ لیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کون سادن زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا: آج کا دن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگو ں نے کہا: یہ شہر۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مہینہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور مال ایک دوسرے پر اسی طرح احترام اور حرمت ہیں، جیسے آج کے دن کی،اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے،لوگو !کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے کہا:جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ، اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4452

۔ (۴۴۵۲) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ الْأَشْجَعِیِّ أَنَّ أَبَاہُ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ رِدْفًا خَلْفَ أَبِیْہِ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا أَبَتِ! أَرِنِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُمْ فَخُذْ بِوَاسِطَۃِ الرَّحْلِ، قَالَ: فَقُمْتُ، فَأَخَذْتُ بِوَاسِطَۃِ الرَّحْلِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلٰی صَاحِبِ الْأَحْمَرِ الَّذِیْیُؤْمِیئُ بِیَدِہِ، فِییَدِہِ الْقَضِیْبُ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۳۱)
۔ سلمہ بن نبیط اشجعی کہتے ہیں: میرے باپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایاتھا، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے باپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، وہ کہتے ہیں: میںنے کہا: ابا جان! آپ مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو دکھا دیں، انہوں نے کہا: پالان کا آسرالے کر کھڑے ہو جائو۔ جب میں پالان کا سہارا لے کر کھڑا ہوگیا، تو میرے والد نے کہا: وہ سرخ اونٹ پر ہاتھ میں چھڑی لئے جو شخصیت اشارہ کر رہی ہے (اور لوگوں سے ہم کلام ہے)، اس کو دیکھو، وہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4453

۔ (۴۴۵۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَۃَ فَجَعَل یَدْعُوْا ھٰکَذَا،وَجَعَلَ ظَہْرَ کَفَّیْہِ مِمَّا یَلِیْ وَجْہَہُ، وَرَفَعَہُمَا فَوْقَ ثُنْدُوَتِہِ، وَأَسْفَلَ مِنْ مَنْکِبَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۲۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعاکی کہ آپ کی ہتھیلیوں کی پشت چہرے کی طرف تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھوں کو یوں بلند کیا ہوا تھا کہ وہ پستان والی جگہ سے ذرا اوپر اور کندھوں سے ذرا نیچے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4454

۔ (۴۴۵۴) عَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کَانَ أَکْثَرُ دُعَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ: ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)) (مسند احمد: ۶۹۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زیادہ تریہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4455

۔ (۴۴۵۵) عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کُنْتُ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ، قَالَ: فَلَمَّا وَقَعَتِ الشَّمْسُ، دَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَۃَ النَّاسِ خَلْفَہُ، قَالَ: ((رُوَیْدًا أَیُّہَا النَّاسُ! عَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃَ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ بِالْإِیْضَاعِ۔)) قَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا الْتَحَمَ عَلَیْہِ النَّاسُ أَعْنَقَ، وَإِذَا وَجَدَ فُرْجَۃً، نَصَّ، (وَفِیْ لَفْظٍ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ حَتّٰی مَرَّ بِالشِّعْبِ الَّذِیْیَزْعُمُ کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّہُ صَلّٰی فِیْہِ)، (وَفِیْ لَفْظٍ: فَأَتَی النَّقْبَ الَّذِیْیَنْزِلُ الْأَمَرَائُ وَالْخُلَفَائُ) فَنَزَلَ بِہِ فَبَالَ، مَا یَقُوْلُ: أَھَرَاقَ الْمَائَ کَمَا یَقُوْلُوْنَہُ، ثُمَّ جِئْتُہُ بِالإِدَاوَۃِ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاۃَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ أَمَامَکَ)) قَالَ: فَرَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَا صَلّٰی حَتَّی أَتٰی الْمُزْدَلِفَۃَ فَنَزَلَ بِہَا، فَجَمَعَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ الْآخِرَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۰۳)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں عرفہ کے دن پچھلے پہر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھا، جب سورج غروب ہو اتو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کا رش دیکھا اور شور سنا تو فرمایا: لوگو! آرام سے چلو، سکون کو لازم پکڑو، تیز چلنا اور مشقت اٹھانا کوئی نیکی نہیں۔ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب لوگوں کا ہجوم ہو جاتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آہستہ چلتے اور جب راستہ خالی ہوتا تو ذرا تیز چلتے، ( عَنَق کی بہ نسبت نَصّ میں زیادہ تیزی ہوتی ہے،) یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی سے گزرے جس کے متعلق اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں نماز اداکی تھی، دوسری روایت میں ہے: جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں امرا ء اور خلفاء اترتے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اتر کر پیشاب کیا، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیخدمت میں پانی کا برتن لے کر آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا۔ پھر میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر ادا کریں گے۔ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پھر رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وقت نماز نہ پڑھی،یہا ں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ جاکر اترے اور آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4456

۔ (۴۴۵۶) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ بْنِ عُقْبَۃَ أَخْبَرَنِیْ کُرَیْبٌ أَنَّہُ سَأَلَ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِی کَیْفَ صَنَعْتُمْ عَشِیَّۃَ رَدِفْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِیْیُنِیْخُ فِیْہِ النَّاسُ لِلْمَغْرِبِ فَأَنَاخَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَاقَتَہُ ثُمَّ بَالَ مَائً، وَمَا قَالَ: أَھْرَاقَ الْمَائَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوْئِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوْئً لَیْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلصَّلَاۃَ، قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ أَمَامَکَ۔)) قَالَ: فَرَکِبَ حَتّٰی قَدِمَ الْمُزْدَلِفَۃَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِیْ مَنَازِلِہِمْ وَلَمْ یَحُلُّوْا حَتّٰی أَقَامَ الْعِشَائَ فَصَلّٰی ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ، قَالَ: فَقُلْتُ: کَیْفَ فَعَلْتُمْ حِیْنَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِی سُبَّاقِ قُرَیْشٍ عَلٰی رِجْلَیَّ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۸۵)
۔ کریب نے سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ جس شام یعنی عرفہ کے دن شام کو جب تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سوار تھے تو تم نے کیا کیا تھا؟ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اس گھاٹی پر پہنچے جہاں لوگ اتر کر مغرب کی نماز کے لئے ٹھہرتے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہا ں اپنی اونٹنی کو بٹھا کر پیشاب کیا ، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، ا اس کے بعد وضو کا پانی منگواکر مختصر سا وضو کیا۔ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر پڑھیں گے۔ اس کے بعد آپ سوار ہوکر روانہ ہوئے اور مزدلفہ جاپہنچے۔ آپ نے وہاں مغرب کی نماز ادا کی، بعد ازاں لوگوں نے اپنی اپنی جگہ اونٹوں کو بٹھایا، لیکن ابھی تک انہوںنے سواریوںسے سامان نہیں کھولے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشاء کی نماز کھڑی کر دی،یہ نماز ادا کر کے لوگوںنے سواریوں سے سامان اتارے، کریب نے پوچھا: آپ لوگوں نے صبح کیا کچھ کیا تھا؟ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس مرحلے میں آپ کے ساتھ سوار ہوئے تھے اور میں پہلے جانے والے قریشیوںکے ساتھ پیدل چلا گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4457

۔ (۴۴۵۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِعَرَفَاتٍ فَلَمَّا کَانَ حِیْنَ رَاحَ رُحْتُ مَعَہُ، أَتَی الإِمَامُ فَصَلَّی مَعَہُ الْأُوْلٰی وَالْعَصْرَ، ثُمَّ وَقَفَ مَعَہُ وَأَنَا وَأَصْحَابٌ لِیْ حَتّٰی أَفَاضَ الإِمَامُ فَأَفْضََنا مَعَہُ حَتّٰی انْتَہَیْنَا إِلَی الْمَضِیْقِ دُوْنَ الْمَأْ زِمَیْنِ فَأَنَاخَ وَأَنَخْنَا وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّہُ یُرِیْدُ أَنْ یُصَلِّیَ، فَقَالَ غُلَامُہُ الَّذِیْیُمْسِکُ رَاحِلَتَہُ: إِنَّہُ لَیْسَیُرِیْدُ الصَّلَاۃَ، وَلٰکِنَّہُ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا انْتَہٰی إِلٰی ھٰذَا الْمَکَانِ قَضٰی حَاجَتَہُ، فَہُوَ یُحِبُّ أَنْ یَقْضِیَ حَاجَتَہُ۔ (مسند احمد: ۶۱۵۱)
۔ انس بن سیرین کہتے ہیں: میں عرفات میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ہمراہ تھا، جب روانگی کا وقت ہوا تو میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا، جب امام آیا تو سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں، پھر انہوں نے امام کے ساتھ وقوف کیا، میں اور میرے دوسرے احباب بھی ساتھ تھے، جب امام غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہوا تو ہم بھی ان کے ہمراہ چل پڑے، حتیٰ کہ جب ہم مَأْزِم نامی دو پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ راستے میں پہنچ گئے تو سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اپنی سواری کو بٹھا دیا،یہ دیکھ کر ہم نے بھی سواریاں بٹھادیں، ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ نماز ادا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے جس غلام نے ان کی سواری کی رسی پکڑی ہوئی تھی، اس نے بتلایا کہ وہ یہاں نماز ادا نہیں کرنا چاہتے،ان کے اترنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو یہ بات یاد آئی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس مقام پر پہنچے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قضائے حاجت کی تھی، اب سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھییہاں قضائے حاجت کرنا چاہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4458

۔ (۴۴۵۸) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ خِلَافَۃِ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَۃَ، قَالَ: فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: لَوْ أَنَّ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَفَاضَ الْآنَ کَانَ قَدْ أَصَابَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِی أَکَلِمَۃُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ کَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَۃُ عُثْمَانَ، قَالَ: فَاَوْضَعَ النَّاسُ، وَلَمْ یَزِدِ ابْنُ مَسْعُوْدٍ عَلَی الْعَنَقٍ، حَتّٰی أَتَیْنَا جَمْعًا فَصَلّٰی بِنَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِۃِ ثُمَّ تَعَشّٰی، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ الآخِرَۃَ، ثُمَّ رَقَدَ حَتّٰی إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ، قَامَ فَصَلَّی الْغَدَاۃَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: مَا کُنْتَ تُصَلِّی الصَّلَاۃَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ،قَالَ: وَکَانَ یُسْفِرُ بِالصَّلَاۃِ، قَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ وَھٰذَا الْمَکَانِ یُصَلِّی ھٰذِہِ السَّاعَۃَ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۳)
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عہد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حج ادا کیا، جب ہم نے عرفہ میں وقوف کیا اور سورج غروب ہو گیا تو سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر امیر المومنین ابھی روانہ ہوجائیں تو یہ روانگی سنت کے مطابق ہو گی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات پہلے ہوئییا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روانگی پہلے شروع ہوئی، لوگوں نے تو بہت تیز چلنا شروع کر دیا، لیکن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رفتار ہلکی تیز رہی،یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، بعد ازاں انہوںنے کھانا منگوا کر کھایا، اس کے بعد عشاء کی اقامت ہوئی اور انہوں نے یہ نماز پڑھائی، پھر وہ سو گئے، جب صبح صاوق ہوئی تو اٹھ کر نمازِ فجر ادا کی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : آپ تو صبح کی نماز اس وقت یعنی اس قدر سویرے ادا نہیں کیا کرتے؟ وہ صبح کی نماز روشنی ہونے پر اداکیا کرتے تھے، انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس دن اس مقام پر اسی وقت میں نماز فجر ادا کرتے دیکھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4459

۔ (۴۴۵۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَدْلَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْبَطْحَائِ لَیْلَۃَ النَّفْرِ إِدْلَاجًا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روانگی والی رات بطحاء سے کافی اندھیرا کیا (پھر سفر شروع کیا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4460

۔ (۴۴۶۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمْ یَنْزِلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِیُہْرِیْقَ الْمَائَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۴)
۔ حدیث سے مقصود عرفہ سے مزدلفہ کے لیے کوچ کرنے کی بات اگرچہ صاحب بلوغ الامانی نے بھی لکھی ہے اور اس کو سامنے رکھ کر انہوں نے زیر مطالعہ باب کے تحت اسے ذکر کیا ہے۔ لیکنیہ بات محل نظر ہے تفصیل ابن ماجہ کی شرح انجاز الحاجہ اور بخاری ومسلم کی مفصل روایات میں دیکھیں۔ (عبداللہ رفیق)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4461

۔ (۴۴۶۱) وَعَنْہُ اَیْضًا أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ کَانَ رِدْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَنَزَلَ فَأَھْرَاقَ الْمَائَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَرَکِبَ وَلَمْ یُصَلِّ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف پیشاب کرنے کے لئے اترے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4462

۔ (۴۴۶۲) عَنِ الْفََضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمَّا أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ، فَبَلَغْنَا الشِّعْبَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَکِبْنَا حَتّٰی جِئْنَا الْمُزْدَلِفَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سواری پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سوار تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھاٹی میں داخل ہوئے تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، اس کے بعد وضو کرکے دوبارہ سوار ہوکر چل پڑے اور وہاں نماز ادا نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4463

۔ (۴۴۶۳) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَفَعَ یَسِیْرُ الْعَنَقَ وَجَعَلَ النَّاسُ یَضْرِبُوْنَیَمِیْنًا وَشِمَالاً وَھُوَ یَلْتَفِتُ وَیَقُوْلُ: ((اَلسَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ!)) حَتّٰی جَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ وَجَمَعَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ فَوَقَفَ عَلٰی قُزَحَ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ، وَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَوْقِفُ وَکُلُّ الْمُزْدَلِفَۃِ مَوْقِفٌ۔)) (مسند احمد: ۶۱۳)
۔ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو میں آپ کے ہمراہ تھا، جب ہم گھاٹی میں پہنچے تو آپ نے وہاں اتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا اس کے بعد ہم پھر سوار ہو کر چل پڑے اور مزدلفہ پہنچ گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4464

۔ (۴۴۶۴) عَنْ مِقْسِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما لَمَّا أَفَاضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عَرَفَۃَ تَسَارَعَ قَوْمٌ، فَقَالَ: ’’اِمْتَدُّوْا، وَسَدُّوْا لَیْسَ الْبِرُّ بِإِیْضَاعِ الْخَیْلِ، وَلَا الرِّکَابِ۔)) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا رَأَیْتُ رَافِعَۃًیَدَھَا تَعْدُوْ حَتَّی أَتَیْنَا جَمْعًا۔ (مسند احمد: ۲۰۹۹)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو کچھ تیز رفتاری سے چلے، لوگ دائیں بائیں نکلے جارہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کو فرما رہے تھے: لوگو! آرام سے چلو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں پہنچ گئے، وہاں آکر دونوں نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو جمع کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں ٹھہرے رہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قُزَح پہاڑ پر وقوف کیا اور روانہ ہوتے وقت سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہوا ہے، لیکن سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4465

۔ (۴۴۶۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عَرَفَۃَ وَرِدْفُہُ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، فَجَالَتْ بِہِ النَّاقَۃُ، وَھُوَ رَافِعٌ یَدَیْہِ، لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَہُ، فَسَارَ عَلٰی ھَیْئَتِہِ، حَتّٰی أَتٰی جَمْعًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْغَدَ، وَرِدْفُہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَا زالَ یُلَبِّی حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھل کھل کر چلو اور سیدھے سیدھے چلو، گھوڑوں اور سواریوں کو بھگانا نیکی نہیں ہے۔ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے مزدلفہ پہنچنے تک کسی سواری کو نہیں دیکھا کہ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی اگلی ٹانگوں کو اٹھایا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4466

۔ (۴۴۶۶) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ الْفَضْلِ (بْنِ عَبَّاسٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ فَجَالَتْ بِہِ النَّاقَۃُ وَھُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ أَنْ یُفِیْضَ وَھُوَ رَافِعٌ یَدَیْہِ لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَہُ (وَفِیْہِ:) ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رِدْفُہُ، قَالَ الْفَضْلُ: مَا زَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یُلَبِّیْ حَتّٰی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب عرفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، اونٹنی دوڑ پڑی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وقت ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، تا ہم ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر سے بلند نہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ پہنچنے تک آرام سے چلتے رہے، پھر اگلے دن جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4467

۔ (۴۴۶۷) عَنْ أَبِی أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْمُزْدَلِفَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۴۵)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا تھا۔