Musnad Ahmad

Search Results(1)

76)

76) حج کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4603

۔ (۴۶۰۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّھْرَ بِذِي الْحُلَیْفَۃِ ، ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِہِ، أَوْ أُتِيَ بِبَدَنَتِہِ ، فَأَشْعَرَ صَفْحَۃَ سَنَامِھَا الْأَیْمَنِ ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْھَا۔ وَ قَلَّدَھَا بِنَعْلَیْنِ ، ثُمَّ أُتِيَ برَاحِلَتِہِ، فَلَمَّا قَعَدَ عَلَیْھَا وَاسْتَوَتْ بِہِ عَلَی الْبَیْدَائِ أَھَلَّ بِالْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۶)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذوالحلیفہ مقام پر نمازِ ظہر ادا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اونٹ لائے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی کوہان کے دائیں پہلو پر علامت لگائی اور پھر اس سے خون صاف کر دیا اور دو دو جوتوں کے قلادے ڈالے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری لائی گئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر بیٹھ گئے اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سمیت بیداء مقام پر کھڑی ہو گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4604

۔ (۴۶۰۴)۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَھْدٰی فِي بُدْنِہِ جَمَلاً ، کَانَ لأَبِيْ جَھْلٍ بُرَتُہُ فِضَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۹)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قربانی کے اونٹوں میں ابو جہل کا اونٹ بھی تھا، اس کی نکیل کا کڑا چاندی کا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4605

۔ (۴۶۰۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : أَھْدَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّۃً غَنَمًا إِلَی الْبَیْتِ فَقَلَّدَھَا۔ (مسند احمد: ۲۴۶۵۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دفعہ بکریوں کو بطورِ ہدی بیت اللہ کی طرف بھیجا تھا اور ان کو قلادے بھی ڈالے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4606

۔ (۴۶۰۶)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ : أَھْدٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْبَیْتِ غَنَمًا۔ (مسند احمد: ۱۴۹۵۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بکریاں بھیجی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4607

۔ (۴۶۰۷)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنِ الرَّجُلِ یَبْعَثُ بِھَدْیِہِ ھَلْ یُمْسِکُ عَمَّا یُمْسِکُ عَنْہُ الْمُحْرِمُ؟ قَالَ: فَسَمِعْتُ صَوْتَ (وَفِيْ رِوَایَۃٍ تَصْفِیْقَ) یَدَیْھَا مِنْ وَرَائِ الْحِجَابِ ، ثُمَّ قَالَتْ : قَدْ کُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ ھَدْيِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ یُرْسِلُ بِھِنَّ، ثُمَّ لا یَحْرُمُ مِنْہُ شَيْئٌ۔ (زَادَ فِي رِوَایَۃٍ) فَمَا یَحْرُمُ عَلَیْہِ شَيْئٌ مِمَّا یَحْرُمُ عَلَی الرَّجُلِ مِنْ أَھْلِہِ ، حَتّٰی یَرْجِعَ النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۶۹)
۔ مسروق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو ہدی بھیجتا ہے، کیا وہ بھی ان امور سے اجتناب کرے گا، جن سے احرام والا آدمی بچتا ہے؟ میں نے جواباً پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی تالی کی آواز سنی، پھر انھوں نے کہا: میں خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہدیوں کے قلادے بٹتی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو بھیج دیتے اور کوئی چیز بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر حرام نہیں ہوتی تھی۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہوتی تھی جو احرام والے آدمی پر اپنی بیوی کے سلسلے میں حرام ہوتی ہے، یہاں تک کہ لوگ لوٹ آتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4608

۔ (۴۶۰۸)۔ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ ھَدْيِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ مَا یَدَعُ حَاجَۃً لَہُ إِلَی امْرَأَۃٍ حَتّٰی یَرْجِعَ الْحَاجُّ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۱۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہدیوں کے قلادے بٹتی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیوی سے اپنی حاجت پوری کرنے کو ترک نہیں کرتے تھے، یہاں تک حجاج کرام لوٹ آتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4609

۔ (۴۶۰۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ ھَدْيِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیَدَيَّ ثُمَّ لا یَعْتَزِلُ شَیْئًا وَ لا یَتْرُکُہُ، إِنَّا لا نَعْلَمُ الْحَرَامَ یُحِلُّہُ إِلاَّ الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۶۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہدی کے قلادے اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ کسی چیز سے الگ ہوتے اور نہ اس کو چھوڑتے تھے، ہم تو یہی جانتے تھے کہ محرم کو حلال کرنے والی چیز بیت اللہ کا طواف ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4610

۔ (۴۶۱۰)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبْعَثُ بِالْبُدْنِ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ إِلٰی مَکَّۃَ ، وَ أَفْتِلُ فَلَائِدَ الْبُدْنِ بِیَدَيَّ ، ثُمَّ یَأْتِي مَا یَأْتِي الْحَلالُ، قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ الْبُدْنُ مَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۶۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف قربانیاں بھیجتے تھے اور میں اپنے ہاتھوں سے ان کے قلادے بٹتی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان قربانیوں کے مکہ مکرمہ تک پہنچنے سے پہلے وہ امور کرتے تھے، جو حلال آدمی کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4611

۔ (۴۶۱۱)۔ عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ ھَدْيِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْغَنَمِ ، ثُمَّ لا یُمْسِکُ عَنْ شَيْئٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۷۸۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: گویا کہ میں اب بھی اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بکریوں کے قلادے بٹتی ہوئی دیکھ رہی ہوں، (پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو مکہ مکرمہ بھیجتے اور) کسی چیز سے نہیں رکتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4612

۔ (۴۶۱۲)۔ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ نَبِيَّ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَبْعَثُ بِالْھَدْيِ ، ثُمَّ لا یَصْنَعُ مَا یَصْنَعُ الْمُحْرِمُ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۸۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہدیاں بھیج دیتے، لیکن ان امور سے اجتناب نہ کرتے تھے، جن سے محرم رکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4613

۔ (۴۶۱۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا فَقُدَّ قَمِیْصُہُ مِنْ جَیْبِہِ حَتّٰی أَخْرَجَہُ مِنْ رِجْلَیْہِ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ : ((إِنِّي أَمَرْتُ بِبُدْنِي الَّتِي بَعَثْتُ بِھَا أَنْ تُقَلَّدَ الْیَوْمَ وَ تُشَعَرَ الْیَوْمَ عَلٰی مَائِ کَذَا وَ کَذَا، فَلَبِسْتُ قَمِیْصًا وَ نَسِیْتُ فَلَمْ أَکُنْ أُخْرِجُ قَمِیْصِیْ مِنْ رَأْسِي۔)) وَ کَانَ قَدْ بَعَثَ بِبُدْنِہِ وَ أَقَامَ بِالْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۷۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گریبان سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قمیص کو پھاڑا گیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اپنے پاؤں کی طرف سے اتار دیا، جب لوگوں نے تعجب کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دراصل میں نے حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں پانی پر آج کے دن میری ہدیوں کو قلادے ڈالے جائیں اور ان کو اشعار کیا جائے، جبکہ میں نے بھول کر قمیص پہنی ہوئی تھی، اب (جب یاد آیا تو) میں نے اس کو سر کی سمت سے تو نہیں اتارنا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود مدینہ منورہ میں مقیم تھے، لیکن ہدی کے جانور مکہ مکرمہ کی طرف بھیجے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4614

۔ (۴۶۱۴)۔ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِیْہِ ، قَالَ: أَھْدٰی عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ بُخْتِیَّۃً ، أُعْطِيَ بِھَا ثَلَاثَمِئَۃِ دِیْنَارٍ، فَأَتَی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، أَھْدَیْتُ بُخْتِیَّۃَ لِيْ، أُعْطِیتُ بِھَا ثَلاثَمئَۃِ دِیْنَارٍ، فَأَنْحَرُھَا، أَوْ أَشْتَرِي بِثَمَنِھَا بُدْنًا؟ قَالَ: ((لا، وَ لٰکِنِ انْحَرْھَا إِیَّاھَا۔)) (مسند احمد: ۶۳۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خراسانی اونٹ بطورِ ہدی بھیجا، لیکن جب ان کو تین سو دینار کی قیمت کی پیشکش کی گئی تو وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک خراسانی اونٹ بطورِ ہدی بھیجا ہے اور اب مجھے اس کی قیمت میں تین سو دینار دیئے جا رہے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا میں اسی کو نحر کروں یا اس کی قیمت کا کوئی اور اونٹ خرید لوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اسی کو نحر کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4615

۔ (۴۶۱۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَۃً ، وَ أَنَا مُوسِرٌ لَھَا، وَلا أَجِدُھَا، فَأَشْتَرِیَھَا؟ فَأَمَرَہُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَبْتَاعَ سَبْعَ شِیَاہٍ، فَیَذْبَحَھُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۸۳۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھ پر ایک اونٹ ہے اور اب میں مالی طور پر اس کی گنجائش بھی رکھتا ہوں، لیکن وہ مجھے مل نہیں رہا، کہ میں اسے خرید لوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا کہ سات بکریاں خرید کر ان کو ذبح کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4616

۔ (۴۶۱۶)۔ عَنْ جَابِرٍِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَحَرْنَا الْبَعِیرَ عَنْ سَبْعَۃٍ، وَ الْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۷۸)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کیا اور اونٹ کو بھی سات افراد کی طرف سے اور گائے کو بھی سات افراد کی طرف سے ذبح کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4617

۔ (۴۶۱۷)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَشْتَرِکَ فِي الإِبِلِ وَ الْبَقَرِ کُلُّ سَبْعَۃٍ مِنَّا فِي بَدَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۶۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے سات سات افراد اونٹ اور گائے میں شریک ہو سکتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4618

۔ (۴۶۱۸)۔ عَنْ أَبِيْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَاقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْحُدَیْبِیَّۃِ سَبْعِیْنَ بَدَنَۃً، قَالَ: فَنَحَرَ الْبَدَنَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۵۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حدیبیہ والے سال ستر اونٹ لے کر گئے تھے، نیز انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس موقع پر سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ ذبح کروایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4619

۔ (۴۶۱۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَحَرْنَا بِالْحُدَیْبِیَۃِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَدَنَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ، وَالْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۷۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں سات افراد کی طرف اونٹ نحر کیا اور سات افراد کی طرف سے ہی گائے ذبح کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4620

۔ (۴۶۲۰)۔ عَنْ عَطَائٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَذْبَحُ الْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ نَشْتَرِکُ فِیْھَا۔ (مسند احمد: ۱۴۴۷۵)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کے ساتھ عمرہ بھی کیا اور ایک ایک گائے سات سات افراد کی طرف سے ذبح کی، یعنی سات افراد ایک گائے میں شریک ہوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4621

۔ (۴۶۲۱)۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ حَذْفٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: شَرَّکَ (وَفِي لَفْظٍ أَشْرَکَ) رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِي حَجَّتِہِ بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِي الْبَقَرَۃِ عَنْ سَبْعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۴۶)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلمانوں کے ما بین سات افراد کو ایک گائے میں شریک کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4622

۔ (۴۶۲۲)۔ عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ : الْجَزُورُ وَالْبَقَرَۃُ تُجْزِیُٔ عَنْ سَبْعَۃٍ؟ قَالَ : قَالَ : یَا شَعْبِيُّ ! وَلَھَا سَبْعَۃُ أَنْفُسٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ یَزْعُمُوْنَ ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَنَّ الْجَزُورَ وَ الْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِرَجُلٍ: أَکَذَاکَ یَا فُلانُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا شَعَرْتُ بِھٰذَا۔ (مسند احمد: ۲۳۸۷۴)
۔ مجالد بن سعید کہتے ہیں: شعبی نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے سوال کیا اور کہا: کیا اونٹ اور گائے سات افراد کی طرف سے کفایت کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اے شعبی! کیا اونٹ اور گائے کے سات سات نفس ہیں کہ وہ سات افراد سے کفایت کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی صحابۂ کرام f یہی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ طریقہ مقرر کیا ہے کہ اونٹ اور گائے میں سات افراد شریک ہوں گے، یہ سن کر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہاـ: اے فلاں آدمی! کیا معاملہ اسی طرح ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: مجھے تو اس کا پتہ نہ چل سکا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4623

۔ (۴۶۲۳)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُھَیْلٍ عَنْ حُجَیَّۃَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ (عَلَیًّا) عَنِ الْبَقَرَۃِ۔ فَقَالَ: عَنْ سَبْعَۃٍ فَقَالَ: مَکْسُوْرَۃُ الْقَرْنِ ، فَقَالَ: لا یَضُرُّکَ۔ قَالَ: الْعَرْجَائُ، قَالَ: إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسَکَ فَاذْبَحْ، أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَسْتَثْرِفَ الْعَیْنَ وَ الأذُنَ۔ (مسند احمد: ۷۳۴)
۔ حجیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے گائے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سات افراد کی طرف سے، اس نے کہا: اگر سینگ ٹوٹا ہوا ہو؟ انھوں نے کہا: یہ چیز تجھے نقصان نہیں دے گی، اس نے کہا: اگر لنگڑا جانور ہو تو؟ انھوں نے کہا: جب وہ قربان گاہ تک پہنچ جائے تو اس کو ذبح کر دے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم آنکھ اور کان کو غور سے دیکھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4624

۔ (۴۶۲۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحَرَ عَنْ أَزْوَاجِہِ بَقَرَۃً فِي حَجَّۃِ الوَدَاعِ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۳۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4625

۔ (۴۶۲۵)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَحَرَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ عَائِشَۃَ بَقَرَۃً فِيْ حَجَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۱۰)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے حج کے موقع پر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف سے گائے ذبح کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4626

۔ (۴۶۲۶)۔ عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، زَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسَمَ غَنَمًا یَوْمَ النَّحْرِ فِي أَصْحَابِہِ ، وَ قَالَ: اذْبَحُوھَا لِعُمْرَتِکُمْ، فَإِنَّھَا تُجْزِیُٔ عَنْکُمْ، فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِيْ وَقَّاصٍ تَیْسٌ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نحر والے دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم کیں اور فرمایا: ان کو اپنے عمرے کے لیے ذبح کرو، یہ تم سے کفایت کریں گی۔ اس دن سیدنا سعد بن ابو وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایک سال کا بکرا ملا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4627

۔ (۴۶۲۷)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَمِّہِ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ وَ سُئِل : یَرْکَبُ الرَّجُلُ ھَدْیَہُ؟ فَقَالَ : لا بَأْسَ بِہِ، قَدْ کَانَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمُرُّ بِالرِّجَالِ یَمْشُوْنَ فَیَأْمُرُھُمْ یَرْکَبُوْنَ ھَدْیَہُ ، وَ ھَدْيَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : وَ لا تَتَّبِعُوْنَ شَیْئًا أَفْضَلَ مِنْ سُنَّۃِ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۹۷۹)
۔ عبید اللہ اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا آدمی اپنی ہدی پر سوار ہو سکتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیدل چلنے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے اور ان کو حکم دیتے کہ وہ میری ہدی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہدی پر سوار ہو جائیں، پھر انھوں نے کہا: تمہارے نبی کی سنت سے زیادہ فضیلت والی کوئی چیز نہیں ہے کہ جس کی تم پیروی کر سکو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4628

۔ (۴۶۲۸)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأٰی رَجُلاً یَسُوْقُ بَدَنَۃً ، قَالَ : ((اِرْکَبْھَا وَ یْحَکَ۔)) قَالَ: إِنَّھَا بَدَنَۃٌ، قَالَ: ((اِرْکَبْھَا وَ یْحَکَ)) (مسند احمد: ۷۴۴۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ ہدی والے اونٹ کو ہانک رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، اس پر سوار ہو جا۔ اس نے کہا: یہ تو ہدی کا جانور ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: او تو ہلاک ہو جائے، اس پر سوار ہو جا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4629

۔ (۴۶۲۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بنحوہ وزَادَ قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ : فَلَقَدْ رَأَیْتُہُ یُسَایِرُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ فِيْ عُنُقِھَا نَعْلٌ۔ (مسند احمد: ۷۷۲۳)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پھر میں نے اس بندے کو دیکھا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور اس کی سواری کی گردن میں جوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4630

۔ (۴۶۳۰)۔ وَ عَنْ أَنَسٍ بِنْ مَالِکٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ بِدُوْنِ الزِّیَادَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۸۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں دوسرے طریق والی زیادتی نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4631

۔ (۴۶۳۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ وَ قَدْ سُئل عَنْ رُکُوبِ الْھَدْيِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِرْکَبْھَا بِالْمَعْرُوْفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَیْھَا حَتّٰی تَجِدَ ظَھْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۲۷)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: اگر تو مجبور ہو جائے تو معروف طریقے کے ساتھ اس پر سوار ہو جا، یہاں تک کہ تو کوئی اور سوار پا لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4632

۔ (۴۶۳۲)۔ عَنْ مُوسَی بْنِ سَلَمَۃَ ، قَالَ: حَجَجْتُ أَنَا وَ سِنَانُ بْنُ سَلَمَۃَ، وَ مَعَ سِنَانٍ بَدَنَۃٌ، فَأَزْحَفَتْ عَلَیْہِ، فَعَيَّ بِشَأْنِھَا، فَقُلْتُ : لَئِنْ قَدِمْتُ مَکَّۃَ لَاَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ ھٰذَا ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ ، قُلْتُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ، وَ عِنْدَہُ جَارِیَۃٌ، وَ کَانَ لِيْ حَاجَتَانِ، وَ لِصَاحِبِيْ حَاجَۃٌ، فَقَالَ: أَلا أُخْلِیکَ! قُلْتُ : لا، فَقُلْتُ: کَانَتْ مَعِيَ بَدَنَۃٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَیْنَا، فَقُلْتُ: لَئِنْ قَدِمْتُ مَکَّۃَ، لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ ھٰذَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبُدْنِ مَعَ فُلَانٍ ، وَ أَمَّرَہُ فِیْھَا بَأَمْرِہِ، فَلَمَّا قَفَّا، رَجَعَ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، مَا أَصْنَعُ بِمَا أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْھَا! قَالَ: ((اِنْحَرْھَا وَاصْبُغْ نَعْلَھَا فِيْ دَمِھَا، وَاضْرِبْہُ عَلٰی صَفْحَتِھَا، وَ لا تَأْکُلْ مِنْھَا أَنْتَ، وَ لا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۸)
۔ موسی بن سلمہ کہتے ہیں؛ میں نے اور سنان بن سلمہ نے حج کیا، سنان کے پاس ہدی کا اونٹ تھا، ہوا یوں کہ وہ اونٹ تھک کر کھڑا ہو گیا اور چلنے سے عاجز آ گیا، میں نے کہا: جب میں مکہ مکرمہ پہنچوں گا تو اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، پس جب ہم مکہ میں آئے تو میں نے اس سے کہا: تم ہم کو سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس لے کر چلو، پس ہم ان کے پاس گئے، جبکہ ان کے پاس ایک لونڈی تھی، میری دو ضرورتیں تھیں اور میرے ساتھی کی ایک ضرورت تھی، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھ سے کہا: کیا میں تجھے علیحدگی میں لے جاؤں؟ میں نے کہا: جی نہیں، بس ایک سوال کرنا ہے کہ میرے پاس ایک اونٹ تھا اور وہ تھک کر کھڑا ہو گیا، میں نے کہا: میں مکہ پہنچ کر اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فلاں آدمی کے ساتھ ہدی کے اونٹ بھیجے تھے اور اس کو ان کا امیر بنایا تھا، جب وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو واپس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ تھک کر کھڑا ہو جائے (اور چلنے سے عاجز آ جائے)، میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے کھانا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4633

۔ (۴۶۳۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ بِثَمَانِيْ عَشْرَۃَ بَدَنَۃَ مَعَ رَجُلٍ، فَأَمَّرَہُ فِیْھَا بِأَمْرِہِ، فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَیْہِ فَقَالَ: أَرَأَیْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَیْنَا مِنْھَا شَيْئٌ؟ فَقَالَ: ((اِنْحَرْھَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَھَا فِيْ دَمِھَا، ثُمَّ اجْعَلْھَا عَلٰی صَفْحَتِھَا وَ لا تَأْکُلْ مِنْھَا أَنْتَ وَ لا أَحَدٌ مِنْ أَھْلِ رُفْقَتِکَ۔)) قَالَ عَبْدَ اللّٰہ: قَالَ أَبِيْ: وَلَمْ یَسْمَعْ إِسْمَاعِیْلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ مِنْ أَبِي التَّیَّاحِ إِلاَّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہدی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ بھیجے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو اس معاملے کا امیر بنایا، پس جب وہ چل پڑا تو پھر لوٹ آیا اور اس نے کہا: جو اونٹ تھک کر کھڑا ہو جائے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ و نے فرمایا: اس کو ذبح کر دینا اور اس کا جوتااس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا، اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔ امام احمد نے کہا: اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے صرف یہ حدیث سنی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4634

۔ (۴۶۳۴)۔ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ نَاجِیَۃَ الْخُزَاعِيِّ (قَالَ: وَ کَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ: قُلْتُ (وَفِيْ لَفْظٍ: یَا رَسُولَ اللّٰہ!): کَیْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟ قَالَ: ((اِنْحَرْہُ وَ اغْمِسْ نَعْلَہُ فِيْ دَمِہِ وَاضْرِبْ صَفْحَتَہُ وَخَلِّ بَیْنَ النَّاسِ وَ بَیْنَہُ فَلْیَأْکُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۵۱)
۔ سیدنا ناجیہ خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہدی کے اونٹوں کے منتظم تھے، سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ چلنے سے عاجز آجا ئے، میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور پھر لوگوں اور اس کے درمیان سے ہٹ جانا، تاکہ وہ اس کو کھا لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4635

۔ (۴۶۳۵)۔ عَنْ شَھْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيْ الأَنْصَارِيُّ، صَاحِبُ بُدْنِ النَّبِيّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (فَذَکَرَ نَحْوَ الحَدیث الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْہِ) أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَعَثَہُ قَالَ: رَجَعْتُ، فَقُلْتُ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہ! مَا تَأْمُرُنِيْ بِمَا عَطِبَ مِنْھَا؟ قَالَ: ((اِنْحَرْھَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَھَا فِيْ دَمِھَا ثُمَّ ضَعْھَا عَلٰی صَفْحَتِھَا، أَوْ عَلٰی جَنْبِھَا، وَ لا تَأْکُلْ مِنْھَا أَنْتَ وَ لا أَحَدٌ مِنْ أَھْلِ رُفْقَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۲۶)
۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہدی کے اونٹوں کے منتظم انصاری صحابی بیان کرتے ہیں…، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی روایت بیان کی …، البتہ اس میں ہے: وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا تو میں لوٹا اور کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! جو اونٹ چلنے سے عاجز آ جائے، اس کے بارے میں آپ مجھے کیا حکم فرمائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی آدمی نے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4636

۔ (۴۶۳۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ذُؤَیْبًا أَبَاقَبِیْصَۃَ حَدَّثَہُ: أَنَّ نَبِيَّ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَبْعَثُ بِالْبُدْنِ (وَفِيْ لَفْظٍ بَعَثَ مَعَہُ بِبَدَنَتَیْن) فَیَقُوْلُ: ((إِنْ عَطِبَ مِنْھَا شَيْئٌ فَخَشِیتَ عَلَیْہِ فَانْحَرْھَا وَاغْمِسْ نَعْلَھَا فِيْ دَمِھَا وَاضْرِبْ صَفْحَتَھَا وَ لا تَأْکُلْ مِنْھَا أَنْتَ وَ لا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۳۷)
۔ سیدنا ابو قبیصہ ذؤیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے ساتھ ہدی کے دو اونٹ بھیجے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ان میں سے کوئی جانور تھک کر چلنے سے عاجز آ جائے اور تو اس کے بارے میں ڈرنے لگے تو اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے خود اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4637

۔ (۴۶۳۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَۃَ الثُّمَالِيِّ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْھَدْيِ یَعْطَبُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْحَرْ وَاصْبُغْ نَعْلَہُ فِيْ دَمِہِ وَاضْرِبْ بِہِ عَلٰی صَفْحَتِہِ، أَوْ قَالَ: عَلٰی جَنْبِہِ، وَ لا تَأْکُلَنَّ مِنْہُ شَیْئًا أَنْتَ وَ لَا أَھْلُ رُفْقَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۱۸)
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ ثمالی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چلنے سے عاجز آ جانے والی ہدی کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور ہرگز نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4638

۔ (۴۶۳۸)۔ عَنْ زِیَادِبْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمِنٰی فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَھُوَ یَنْحَرُ بَدَنَۃً، وَ ھِيَ بَارِکَۃٌ، فَقَالَ: ابْعَثْھَا قِیَامًا مُقَیَّدَۃً ، سُنَّۃَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۴۵۹)
۔ زیاد بن جبیر کہتے ہیں: میں مِنٰی میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھا، جب وہ ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو ہدی کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا تو انھوں نے کہا: اس کو اٹھا اور (اس وقت ذبح کر) جب یہ کھڑی اور باندھی ہوئی ہو اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کی پیروی کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4639

۔ (۴۶۳۹)۔ عَنْ جَابرِ بنِ عَبدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِيْ صفَۃِ حَجِّ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : فَکَانَتْ جَمَاعَۃُ الْھَدْيِ الَّذِيْ أَتٰی بِہِ عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنَ الْیَمَنِ، وَ الَّذِيْ أَتٰی بِہِ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِئَۃً، فَنَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ ثَلَاثَۃً وَ سِتِّیْنَ ثُمَّ أَعْطٰی عَلِیًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ ، وَ أَشْرَکَہُ فِيْ ھَدْیہِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ کُلِ بَدَنَۃٍ بِبَضْعَۃٍ، فَجُعِلَتْ فِيْ قِدْرٍ، فَأَکَلَا مِنْ لَحْمِھَا وَ شَرِبَا مِنْ مَرَقِھَا۔ (مسند احمد: ۱۴۴۴۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہدی کے جانوروں کی کل تعداد سو (۱۰۰) تھی، بعض جانور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے لائے تھے اور کچھ جانور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود لے کر گئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے تریسٹھ جانور ذبح کیے، پھر باقی سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیئے اور انھوں نے ان کو ذبح کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی اپنے ہدیوں میں شریک کیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ ہر اونٹ سے ایک ٹکڑا لیا جائے اور ان کو ہنڈیاں میں پکایا جائے، پھر ان دونوں نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربا پیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4640

۔ (۴۶۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ لَھَا۔ وَ حَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَکَّۃَ ، قَالَ لَھَا : ((اِقْضِي مَا یَقْضِي الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَیْتِ۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا کُنَّا بِمِنًی أُتِیتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، قُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ قَالُوا: ضَحّٰی النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَزْوَاجِہِ بِالْبَقَرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۱۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ حج کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچنے سے پہلے سرف مقام پر حائضہ ہو گئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تو باقی حاجیوں کی طرح مناسک ِ حج ادا کرتی رہ، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کر۔ وہ کہتی ہیں: جب میں مِنٰی میں تھی تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف گائے قربان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4641

۔ (۴۶۴۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِيْ لَیْلٰی، عَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مَعَہُ بِھَدْیِہِ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِلُحُومِھَا وَجُلُوْدِھَا وَ أَجِلَّتِھَا۔ (مسند احمد: ۸۹۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ اپنی ہدیاں بھیجیں اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ ان کے گوشت، چمڑوں اور پالانوں وغیرہ کو صدقہ کر دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4642

۔ (۴۶۴۲)۔ عَنْ عَلِيّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا نَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بُدْنَہُ نَحَرَ بِیَدِہِ ثَلاثِیْنَ، وَ أَمَرَنِيْ فَنَحَرْتُ سَائِرَھَا، وَقَالَ: ((اِقْسِمْ لُحُوْمَھَا بَیْنَ النَّاسِ وَ جُلُودَھَا وَ جِلَالَھَا، وَ لا تُعْطِیَنَّ جَازِرًا مِنْھَا شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۴)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیس جانوروں کو خود نحر کیا اور پھر مجھے حکم دیا اور میں نے باقی اونٹ نحر کیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان کے گوشت، چمڑوں اور جُلّوں وغیرہ کو لوگوں میں تقسیم کر دے اور ان میں سے کوئی چیز قصاب کو ہر گز نہ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4643

۔ (۴۶۴۳)۔ عَنْ عَلِيّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: أَمَرنِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَقُوْمَ عَلَی بُدْنِہِ: وَ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِلُحُوْمِھَا وَ جُلُودِھَا وَ أَجِلَّتِھَا، وَأَنْ لا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْھَا، قَالَ: نَحْنُ نُعْطِیْہِ مِنْ عِنْدِنَا۔ (مسند احمد: ۱۳۲۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہدی کے جانوروں کی نگرانی کروں اور ان کے گوشت، چمڑوں اور پالانوں کو صدقہ کر دوں اور ان میں سے کوئی چیز قصاب کو نہ دوں۔ ہم لوگ اپنے پاس سے قصاب کی اجرت دیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4644

۔ (۴۶۴۴)۔ عَنْ قَتَادَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ (وَفِيْ لَفْظٍ فِيْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ) فَقَالَ: ((إِنِّي کُنْتُ أَمَرْتُکُمْ أَنْ لا تَأْکُلُوا الأضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ لِتَسَعَکُمْ، وَ إِنِّيْ أُحِلُّہُ لَکُمْ فَکُلُوْا مِنْہُ مَا شِئْتُمْ، وَ لا تَبِیعُوا لُحُومَ الْھَدْيِ وَالاَضَاحِيِّ، فَکُلُوْا وَ تَصَدَّقُوْا وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُوْدِھَا، وَ لا تَبِیعُوھَا، وَ إِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لَحْمِھَا فَکُلُوْا إِنْ شِئْتُمْ)) وَقَالَ فِيْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ: عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَالآنَ فَکُلُوْا وَ اتَّجِرُوا وَادَّخِرُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۱۲)
۔ سیدنا قتادہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: میں نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا تھا کہ تم دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہیں کھا سکتے، تاکہ وہ گوشت تم سب کو کفایت کرے، اب میں تمہارے لیے اس چیز کو حلال کرتا ہوں، اب جب تک چاہو تو اس گوشت کو کھا سکتے ہو، البتہ ہدی اور قربانی کا گوشت بیچنا نہیں ہے، خود کھاؤ، صدقہ کرو اور ان کے چمڑوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو، ان کو بھی بیچ نہیں سکتے اور اگر تم کو ایسا گوشت کھلایا جائے تو کھا لیا کرو، اگر چاہو تو۔ جو روایت سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اب کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4645

۔ (۴۶۴۵)۔ عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: إِنَّا کُنَّا نَتَزَوَّدُ مِنْ وَ شِیْقِ الْحَجِّ، حَتَّی یَکَادَ یَحُوْلُ عَلَیْہِ الْحُوْلُ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۲۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ حج کی ہدی کے جانوروں کے گوشت کے پارچے بنا کر یا گوشت کو کچھ ابال کر سفروں میں زادِ راہ کے طور پر لے جاتے تھے اور قریب ہوتا تھا کہ ان پر پورا سال گزر جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4646

۔ (۴۶۴۶)۔ عَنْ جَابِرٍ: کُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُوْمَ الْھَدْيِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۷۰)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم عہد ِ نبوی میں ہدیوں کا گوشت مدینہ منورہ تک زادِ راہ میں رکھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4647

۔ (۴۶۴۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَکَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقَدِیدَ بِالْمَدِیْنَۃِ مِنْ قَدِیْدِ الأضْحٰی۔ (مسند احمد: ۱۴۵۶۳)
۔ (دوسری سند) ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (مکہ مکرمہ میں کی گئی قربانیوں) کے پارچے مدینہ منورہ میں کھاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4648

۔ (۴۶۴۸)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قُلْتُ:۔ أَوْ قَالُوْا۔ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ مَا ھٰذِہِ الأضَاحِيُّ؟ قَالَ: ((سُنَّۃُ أَبِیْکُمْ إِبْرَاھِیْمَ۔)) قَالُوْا: مَا لَنَا مِنْھَا؟ قَالَ: ((بِکلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ فَالصُّوفُ؟ قَالَ: ((بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۹۸)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ انھوں نے کہا: ان میں سے ہمیں کیا ملے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر بال کے عوض ایک نیکی۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اون کیا مسئلہ ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں سے بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی ملے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4649

۔ (۴۶۴۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِيْ أَبِيْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِيْ عَدِيِّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَبِيْ رَمْلَۃ حَدَّثَنَاہُ مِخْنَفُ بْنُ سُلَیْمٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ وَ نَحْنُ مَعَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ وَاقفٌ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ: ((یَا أَیُّھا النَّاسُ إِنَّ عَلٰی کُلِّ اَھْلِ بَیْتٍ فِیْ کُلِّ عَامٍ أَضْحَاۃٌ وَعَتِیرَۃٌ۔)) قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَا الْعَتِیْرَۃُ؟)) قَالَ ابن عون: فَلا أَدْرِي مَا رَدُّوا، قَالَ: ((ھٰذِہِ الَّتِيْ یَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبیَّۃُ:۲۱۰۱۱)
۔ سیدنا مخنف بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول للہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفات میںوقوف کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! ہر سال میں ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے؟ ابن عون راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگوں نے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4650

۔ (۴۶۵۰)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ وَجَدَ سَعَۃً فَلَمْ یُضَحِّ، فَلَا یَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا۔)) (مسند احمد: ۸۲۵۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے وسعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4651

۔ (۴۶۵۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ، وَ لَمْ یُکْتَبْ عَلَیْکُمْ، وَ أُمِرْتُ بِرَکْعَتَيِ الضُّحٰی، وَ لَمْ تُؤْمَرُوْا بِھَا۔)) (مسند احمد: ۲۹۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر قربانی فرض کی گئی ہے اور تم پر فرض نہیں کی گئی، اسی طرح مجھے دو رکعت نمازِ چاشت کا حکم دیا گیا ہے اور تم کو ان کا حکم نہیں دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4652

۔ (۴۶۵۲)۔ عَنْ أَبِيْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا ضَحّٰی، اشْتَرٰی کَبْشَیْنِ سَمِینَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ (وَفِيْ لَفْظٍ مَوْجِیَّیْنِ خَصِیَّیْنِ)، فَإِذَا صَلّٰی وَ خَطَبَ النَّاسَ أُتِيَ بِأَحَدِھِمَا وَ ھُوَ قَائِمٌ فِيْ مُصَلَاّہُ، فَذَبَحَہُ بِنَفْسِہِ بِالْمُدْیَۃِ، ثُمَّ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنَّ ھٰذَا عَنْ أُمَّتِيْ جَمِیْعًا، مِمَّنْ شَھِدَ لَکَ بِالتّوْحِیْدِ، وَ شَھِدَ لِيْ بِالْبَلَاغِ۔)) ثُمَّ یُؤْتٰی بِالآخَرِ فَیَذْبَحُہُ بِنَفْسِہِ وَ یَقُوْلُ: ((ھٰذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ۔)) وَ یُطْعِمُھُمَا جَمِیْعًا الْمَسَاکِیْنَ، وَ یَأْکُلُ ھُوَ وَ أَھْلُہُ مِنْھُمَا، فَمَکَثْنَا سِنِیْنَ لَیْسَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ھَاشِمٍ یُضَحِّي، قَدْ کَفَاہُ اللّٰہُ الْمُؤْنَۃَ بِرَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ الْغُرْمَ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۳۲)
۔ مولائے رسول سیدنا ابورافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب قربانی کرتے تو دو موٹے تازے، سینگوں والے، چتکبرے اور خصی دنبے خریدتے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ عید ادا کرتے اور لوگوں کو خطبہ دیتے تو ایک دنبے کو لایا جاتے جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی تک عید گاہ میں ہی کھڑے ہوتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود چھری کے ساتھ اس کو ذبح کرتے اور فرماتے: اے اللہ! یہ میری ساری امت کی طرف سے ہے، جنہوں نے تیری لیے توحید کی اور میرے لیے تبلیغ کی شہادت دی ہے۔ پھر دوسرا دنبہ لایا جاتا، اس کو بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ذبح کرتے اور فرماتے: یہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور آلِ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف سے ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دونوں دنبے مسکینوں کو کھلا دیتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت بھی ان سے کھاتے تھے۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر ہم نے کئی برسوں تک دیکھا کہ بنو ہاشم کا کوئی بندہ قربانی نہیں کرتا تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس عمل کی وجہ سے ان کو قربانی کے بوجھ اور خرچ سے کفایت کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4653

۔ (۴۶۵۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَبَحَ یَومَ الْعِیْدِ کَبْشَیْنِ، ثُمَّ قَالَ حِیْنَ وَجَّھَھُمَا: ((إِنِّي وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَ الأَرْضَ حَنِیْفًا مُسْلِمًا وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ، لا شَرِیْکَ لَہُ وَ بِذٰلِکَ أُمِرْتُ، وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، بِسْمِ اللّٰہِ واللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَ لَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَ أُمَّتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۸۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید کے دن دو دنبے ذبح کیے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قبلہ رخ لٹایا تو یہ دعا پڑھی: إِنِّي وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ ……بِسْمِ اللّٰہِ واللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَ لَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَ أُمَّتِہِ۔ (بیشک میں نے اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف متوجہ کیا ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میں یک سو اور مسلمان ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، اس اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی چیز کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے پہلا ہوں، اللہ کے نام ساتھ اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ جانور تیری طرف سے تھا اور تیرے لیے ہے محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور ان کی امت کی طرف سے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4654

۔ (۴۶۵۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُضَحِّي بِکَبْشَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ، وَ کَانَ یُسَمِّي وَ یُکَبِّرُ، وَ لَقَدْ رَأَیْتُہُ یَذْبَحُھُمَا بِیَدِہِ، وَاضِعًا عَلٰی صِفَاحِھِمَا قَدَمَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۸۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سینگوں والے اور چتکبرے دو دنبوں کی قربانی کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کا نام لے کر اور تکبیر کہہ کر ذبح کرتے تھے اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا ہوا ہوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4655

۔ (۴۶۵۵)۔ عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحّٰی بِکَبْشٍ أَقْرَنَ وَ قَالَ: ((ھٰذَا عَنِّيْ وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۶۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگوں والے ایک دنبے کی قربانی کی اور فرمایا: ھَذَا عَنِّيْ وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي (یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے ہے، جنھوں نے قربانی نہیں کی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4656

۔ (۴۶۵۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِیْدَ الأضْحٰی، فَلَمَّا انْصَرَفَ اُتِیَ بِکَبْشٍ فَذَبَحَہُ، فَقَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُمَّ إِنَّ ھٰذَا عَنَّي وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۹۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عید الاضحی ادا کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ذبح کرنے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُمَّ إِنَّ ھٰذَا عَنَّي وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ (اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! بیشک یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے، جنھوں نے قربانی نہیں کی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4657

۔ (۴۶۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّنِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِکَبْشٍ أَقْرَنَ یَطَأُ فِيْ سَوَادٍ، وَ یَنْظُرُ فِيْ سَوَادٍ، وَ یَبْرُکُ فِيْ سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِہِ لِیُضَحِّيَ بِہِ ثُمَّ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ ھَلُمُّي الْمُدْیَۃَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اِسْتَحِدِّیْھَا بِحَجَرٍ۔)) فَفَعَلَتْ، ثُمَّ أَخَذَھَا وَ أَخَذَ الْکَبْشَ، فَأَضْجَعَہُ، ثُمَّ ذَبَحَہُ، وَقَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہ، اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ۔)) ثُمَّ ضَحّٰی بِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے دنبے کا حکم دیا جو سینگوں والا ہو، اس کے پاؤں کالے ہوں، آنکھوں کے ارد گرد والی جگہ بھی کالی ہو اور پیٹ بھی کالا ہو، پس اس کو لایا گیا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی قربانی کریں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! چھری لاؤ۔ پھر فرمایا: اس کو پتھر کے ساتھ تیز کرو۔ پس سیدہ نے ایسے ہی کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری لی اور دنبے کو پکڑا، اس کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا اور فرمایا: (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! تو محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )، آلِ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور امت ِ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف سے قبول فرما)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4658

۔ (۴۶۵۸)۔ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ یَذْبَحُ أُضْحِیَتَہُ بِالْمُصَلّٰی یَوْمَ النَّحْرِ، وَ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُہُ۔ (مسند احمد: ۵۸۷۶)7
۔ امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قربانی والے دن عیدگاہ میں اپنی قربانی کو ذبح کرتے تھے اور بتلاتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے ہی کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4659

۔ (۴۶۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْحَرُ یَوْمَ الَأَضْحٰی بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: وَکَانَ إِذَا لَمْ یَنْحَرْ ذَبَحَ۔ (مسند احمد: ۶۴۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں عید الاضحی والے دن نحر کرتے تھے، اگر نحر نہ کرتے تو ذبح کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4660

۔ (۴۶۶۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: أَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ یُضَحِّي۔ (مسند احمد: ۴۹۵۵)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور اس عرصے میں ہر سال قربانی کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4661

۔ (۴۶۶۱)۔ عَنْ أَبِي الْخَیْرِ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ حَدَّثَہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّہُ أَضْجَعَ أُضْحِیَتَہُ لِیَذْبَحَھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلرَجُلٍ: ((أَعِنِّي عَلٰی ضَحِیَّتِي۔)) فَأَعَانَہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۵۵)
۔ ابو الخیر کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی قربانی کو ذبح کرنے کے لیے لٹانا چاہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: اس قربانی کے معاملے میںذرا میری مدد کرنا۔ پس اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4662

۔ (۴۶۶۲)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ، فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ یُضَحِّيَ، فَلا یَمَسَّ مِنْ شَعْرِہِ وَ لا مِنْ بَشَرِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۰۷)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ذوالحجہ کے پہلے دس دن شروع ہو جائیں تو قربانی کرنے کا ارادہ رکھنے والا آدمی نہ اپنے بالوں کو چھوئے اور نہ اپنے جسم کو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4663

۔ (۴۶۶۳)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَرَادَ أَنْ یُضَحِّيَ فَلا یُقَلِّمْ ((أَظْفَارَہُ))، وَلا یَحْلِقْ شَیْئًا مِنْ شَعْرِہِ فِي الْعَشْرِ الأوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۰۶)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں نہ اپنے ناخن تراشے اور نہ اپنے بال مونڈے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4664

۔ (۴۶۶۴)۔ (وَعَنْھا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ أَرَادَ أَنْ یَنْحَرَ فِي ھِلَالِ ذِي الْحِجَّۃِ، فَلا یَأْخُذْ مِنْ شَعْرِہِ وَ أَظْفَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۹۰)
۔ (تیسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ذوالحجہ کے مہینے میں قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4665

۔ (۴۶۶۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرَجُلٍ: ((أُمِرْتُ بِیَوْمِ الأضْحٰی، جَعَلَہُ اللّٰہُ عِیدًا لِھٰذِہِ الأمْۃِ۔)) فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَیْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلاَّ مَنِیحَۃَ ابْنِي أَفَأُضَحِّي بِھَا؟ قَالَ: ((لا، وَ لٰکِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِک وَ تُقَلِّمُ أَظْفَارَکَ، وَتَقُصُّ شَارِبَکَ، وَ تَحْلِقُ عَانَتَکَ، فَذٰلِکَ تَمَامُ أُضْحِیَّتِکَ عِنْدَ اللّٰہِ)) (مسند احمد: ۶۵۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: مجھے یومِ اضحی کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ اس دن کو اس امت کے لیے عید بنایا ہے۔ اس آدمی نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میرے پاس صرف اپنے بیٹے کی ایک بکری ہو تو اس کی قربانی کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (قربانی والے دن) اپنے بالوں کو کاٹو، ناخنوں کو تراشو، مونچھوں کو کاٹو اور زیر ناف بال مونڈو، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری پوری قربانی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4666

۔ (۴۶۶۶)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا تَذْبَحُوا إِلاَّ مُسِنَّۃً إِلاَّ أَنْ تَعْسُرَ عَلَیْکُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَۃً مِنَ الضَّأْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵۶)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم صرف دو دانتا جانور ہی ذبح کرو، ہاں اگر یہ جانور تم پر مشکل ہو جائے تو بھیڑ نسل کا جذعہ ذبح کر سکتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4667

۔ (۴۶۶۷)۔ عَنْ أَبِيْ کِبَاشٍ قَالَ: جَلَبْتُ غَنَمًا ((جُذْعَانًا)) إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَکَسَدَتْ عَلَيَّ، فَلَقِیْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ فَسَأَلْتُُہُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((نِعْمَ، أَوْ نِعْمَتِ الأُضْحِیَّۃُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ۔)) قَالَ: فَانْتَھَبَھَا النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۹۷۳۷)
۔ ابو کباش کہتے ہیں: میں بھیڑ نسل کے جذعہ جانور مدینہ میں لایا، لیکن میرا معاملہ تو مندا پڑ گیا،سو میں سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کا جذعہ بہترین قربانی ہے۔ پھر تو لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور ان کو خریدنا شروع کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4668

۔ (۴۶۶۸)۔ عَنْ بَعْجَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسَمَ ضَحَایَا بَیْنَ أَصْحَابِہِ، فَأَصَابَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ جَذَعَۃً، فَسَأَلَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْھَا؟ فَقَالَ: ((ضَحِّ بِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۳۷)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کے ما بین قربانی کے جانور تقسیم کیے، سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جذعہ جانور ملا، جب انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4669

۔ (۴۶۶۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي الْخَیْرِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْطَاہُ غَنَمًا فَقَسَمَھَا عَلَی أَصْحَابِہِ ضَحَایَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ مِنْھَا، فَذَکَرَہُ لِرَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ضَحِّ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۷۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بکریاں دیں تاکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں ان کو بطورِ قربانی تقسیم کریں، پس بکری کا ایک سال کا بچہ بچ گیا (جو دو دانتا نہیں تھا)، جب انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4670

۔ (۴۶۷۰)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُھَنِيِّ، قَالَ: قَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِيْ أَصْحَابِہِ غَنَمَا لِلضَّحَایَا، فَأَعْطَانِي عَتُودًا جَذَعًا مِنَ الْمَعْزِ، قَالَ: فَجِئْتُہُ بِہِ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ، إِنَّہُ جَذَعٌ، قَالَ: ((ضَحِّ بِہِ۔)) فَضَحَّیْتُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۳۲)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کے لیے اپنے صحابہ کے درمیان بکریاں تقسیم کیں اور مجھے جذعہ بکری دی،میں اس کو لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو جذعہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر لو۔ پس میں نے اس کی قربانی کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4671

۔ (۴۶۷۱)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ، أَوْ جُھَیْنَۃَ، قَالَ: کَانَ أَصْحابُ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا کَانَ قَبْلَ الأَضْحَی بِیَوْمٍ، أَوْ بِیَوْمَیْنِ أَعْطَوْا جَذَعَیْنِ وَ أَخَذُوا ثَنِیًّا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْجَذَعَۃَ تُجْزِیُٔ مِمَّا تُجْزِیُٔ مِنْہُ الثَّنِیَّۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۱۱)
۔ مزینہ یا جہینہ قبیلے کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ عید الاضحی سے ایک دو دن پہلے دو دو جذعے دے کر ایک ایک دوندا جانور لے رہے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جذعہ بھی اس چیز سے کفایت کرتا ہے، جس سے دو دانتا کفایت کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4672

۔ (۴۶۷۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِيْ یَحْیٰی، قَالَ: حَدَّثَتْنِيْ أُمِّي، عَنْ أُمِّ بِلَالٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ضَحُّوا بِالْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ فَإِنَّہُ جَائِزٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۱۲)
۔ سیدہ ام بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کے جذعہ کی قربانی کرو، اس کی قربانی کرنا درست ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4673

۔ (۴۶۷۳)۔ عَنْ أُمِّ بِلالٍ ابْنَۃِ ھِلَالٍ، عَنْ أَبِیْھَا، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَجُوْزُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ أُضْحِیَّۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۱۳)
۔ سیدام بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے باپ سیدنا ہلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کے جذعہ کی قربانی درست ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4674

۔ (۴۶۷۴)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا ھَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِيْ سَدُوسٍ یُقَالُ لَہُ: جُرَيُّ ابْنُ کُلَیْبٍ، عَنْ عَلِّيِّ بْنِ أَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنْ عَضْبَائِ الأُذُنِ وَالْقُرْنِ، قَالَ: فَسَأَلْتُ سَعِیْدَ بْنَ الْمُسَیِّبِ فَقَالَ: النَّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۷۹۱)
۔ سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کان کٹے ہوئے اور سینگ ٹوٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ قتادہ راوی کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے (عَضْبَاء کی مقدار کے بارے میں) سوال کیا، انھوں نے کہا: نصف یا اس سے ٹوٹا ہوا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4675

۔ (۴۶۷۵)۔ عَنْ عَلِيٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَیْنَ وَ الأذُنَ، وَ أَنْ لا نُضَحِّيَ بِعَوْرَائَ، وَلا مُقَابَلَۃٍ، وَلا مُدَابَرَۃٍ وَلا شَرْقَائَ، وَلا خَرْقَائَ (زَادَ فِي رِوَایَۃٍ وَلا جَدْعَائ)، قَالَ زُھَیْرٌ: قُلْتُ لأبِيْ إِسْحَاقَ: أَذَکَرَ عَضْبَائَ؟ قَالَ: لا، قُلْتُ: مَا الْمُقَابَلَۃُ؟ قَالَ: یُقْطَعُ طَرَفُ الأَذُنِ۔ قُلْتُ: مَا الْمُدَابَرَۃُ؟ قَالَ: یُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الأذُنِ، قَالَ: تُخْرَقُ أُذُنُھَا لِلسِّمَۃِ۔ (مسند احمد: ۸۵۱)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم آنکھ اور کان کو غور سے دیکھیں اور ان جانوروں کی قربانی نہ کریں: بھینگا، سامنے سے کٹے ہوئے کان والا، پیچھے سے کٹے ہوئے کان والا، لمبائی میں پھٹے ہوئے کان والا، جس کے کان میں گول سوراخ ہو اور جس کا ناک کٹا ہوا ہو۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے ابو اسحاق سے کہا: کیا انھوں نے عَضْبَائ کاذکر کیاتھا؟ انھوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: مُقَابَلۃ کون سا جانور ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، میں نے کہا: مُدَابَرۃ کون سا جانور ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جس کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو، پھر انھوں نے کہا: علامت کے طور پر جانور کا کان کاٹا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4676

۔ (۴۶۷۶)۔ عَنْ یَزِیْدَ ذي مِصْرٍ، قَالَ: أَتَیْتُ عُتْبَۃَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا الْوَلِیْدِ إِنِّيْ خَرَجْتُ أَلْتَمِسُ الضُّحَایَا فَلَمْ أَجِدْ شَیْئًا یُعْجِبْنُي غَیْرَ ثَرْمَائَ، فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَلا جِئْتَنِيْ بِھَا، قُلْتُ: سُبْحَانَ اللّٰہ، تَجُوزُ عَنْکَ وَلا تَجُوزُ عَنِّي؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّکَ تَشُکُّ وَلا أَشُکُّ إِنَّمَا نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ المُصْفَرْۃِ وَالْمُسْتَأْصَلَۃِ قَرْنُھَا مِنْ أَصْلِھَا وَالْبَخْقَائِ وَالْمُشَیَّعَۃِ، والکَسْرَائ۔ فَالمُصْفَرَۃُ الَّتِي تُسْتَأْصَلُ أُذُنُھَا حَتّٰی یَبْدُوَ صِمَاخُھَا، وَالْمُسْتَأْصَلَۃُ الَّتي استُؤْصِلَ قَرْنُھَا مِنْ أَصْلِہِ، وَ الْبَخْقَائُ الَّتِي تُبْخَقُ عَیْنُھَا، وَ الْمُشَیَّعَۃُ الَّتِيْ لا تَتْبَعُ الْغَنَمَ عَجَفًا وَ ضَعْفًا وَ عَجْزًا، وَالْکَسْرَائُ الَّتِي لا تُنْقِي۔ (مسند احمد: ۱۷۸۰۲)
۔ یزید ذی مصر کہتے ہیں: میں سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابو الولید! میں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے نکلا تھا، لیکن کوئی ایسا نہیں جو مجھے پسند آیا ہو، البتہ سامنے والے دانت ٹوٹا ہوا ایک جانور تھا، اس کے بارے میں تم کیا کہو گے؟ انھوں نے کہا: تو اس کو میرے پاس لے کر کیوں نہیں آیا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ، تمہاری طرف سے جائز ہے اور میرے طرف سے جائز نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، کیونکہ تو شک کرتا ہے اور میں شک نہیں کرتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان جانوروں سے منع کیا ہے:جس کا کان اتنا کاٹ دیا جائے کہ اس کا سوراخ ظاہر ہو جائے، جس کا سارا کان کاٹ دیا جائے،بھینگی آنکھ والا، جس کی آنکھ کانی ہو گئی ہو، وہ جو کمزوری اور عجز کی وجہ سے بکریوں کے پیچھے نہ چل سکتی ہو اور وہ کہ جس کی ہڈیوں میں گودا ہی نہ ہو۔ (آگے ان الفاظ کے معانی بیان کیے گئے ہیں، جو ترجمہ میں واضح کر دیئے گئے ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4677

۔ (۴۶۷۷)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ فَیْرُوزٍ مَوْلٰی بَنِيْ شَیْبَانَ: أَنَّہُ سَأَلَ الْبَرَائَ عَنِ الأضَاحِيِّ مَا نَھٰی عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ مَا کَرِہَ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (أوْ قَامَ فِینَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ یَدِي أَقْصَرُ مِنْ یَدِہِ فَقَالَ): ((أَرْبَعٌ لا تُجْزِیُٔ: الْعَوْرَائُ الْبَیِّنُ عَوَرُھَا، وَالْمَرِیْضَۃُ الْبَیِّنُ مَرَضُھَا، وَ الْعَرْجَائُ الْبَیِّنُ ظَلْعُھَا، وَالْکَسِیْرُ الَّتِيْ لا تُنْقِیْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أَکْرَہُ أَنْ یَکُوْنَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ۔أوْ قَالَ فِي الأذُنِ نَقْصٌ۔ أَوْ فِي السِّنِّ نَقْصٌ؟ قَالَ: مَا کَرِھْتَ فَدَعْہُ وَلا تُحَرِّمْہُ عَلٰی أَحَدٍ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۰۴)
۔ عبید بن فیروز نے سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قربانیوںکے بارے میں سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس قسم کے جانوروں سے منع فرمایا اور ان کو ناپسند کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، جبکہ میرا ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار قسم کے جانور قربانی میں کفایت نہیں کرتے: (۱) بھینگا، جس کا بھینگا پن واضح ہو۔ (۲) بیماری، جس کی بیماری واضح ہو۔ (۳) لنگڑا، جس کا لنگڑا پن واضح ہو اور (۴) ایسا لاغر جانور کہ جس کی ہڈی میں گودانہ ہو۔ میں نے کہا: میں سینگ یا کان یا دانت میںبھی نقص کو ناپسند کرتا ہوں، انھوں نے کہا: جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، اس کو چھوڑ دے، لیکن اس کو دوسروں کے لیے حرام نہ قرار دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4678

۔ (۴۶۷۸)۔ عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: اشْتَرَیْتُ کَبْشًا أُضَحِّي بِہِ، فَعَدَا الذَّئْبُ فَأَخَذَ الألْیَۃَ، قَالَ: فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ضَحِّ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۹۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے قربانی کرنے کے لیے ایک دنبہ خریدا، لیکن بھیڑئیے نے اس پر حملہ کیا اور اس کا سرین کاٹ کر لے گیا،پھر جب میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر سکتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4679

۔ (۴۶۷۹)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ، خَیْرٌ مِنَ السَّیِّدِ مِنَ الْمَعْزِ۔)) قَالَ دَاوُدُ: السَّیِّدُ الْجَلِیْلُ۔ (مسند احمد: ۹۲۱۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کا جذعہ بکری نسل کے سید سے بہتر ہے۔ داود نے کہا: سید سے مراد جلیل (اچھا بھلا جانور) ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4680

۔ (۴۶۸۰)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : دَمُ عَفْرَائَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ دَمِ سَوْدَاوَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۹۳۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہلکا خاکستری رنگ کا جانور کالے رنگ کے دو جانوروں سے زیادہ پسندیدہ اور افضل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4681

۔ (۴۶۸۱)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ، أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا ضَحّٰی اشْتَرٰی کَبْشَیْنِ عَظِیْمَیْنِ سَمِیْنَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ مَوْجُو ؤَیْنِ، قَالَ: فَیَذْبَحُ أَحَدَھُمَا عَنْ أُمَّتِہِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِیْدِ وَ شَھِدَ لَہُ بِالْبَلَاغِ، وَ یَذْبَحُ الآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ۔ (مسند أحمد: ۲۶۳۶۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو موٹے تازے، سینگوں والے،چتکبرے اور خصی دنبوں کی قربانی کرتے، ایک دنبہ اپنی امت میں سے توحید کا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حق میں پیغام پہنچا دینے کی گواہی دینے والوں کی طرف سے اور ایک اپنی اور اپنی آل کی طرف سے کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4682

۔ (۴۶۸۲)۔ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ)، عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ: ضَحّٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِکَبْشْیْنِ، جَذَعَیْنِ، خَصِیَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۵۷)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو دنبوں کی قربانی کی، وہ دونوں جذعے اور خصی تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4683

۔ (۴۶۸۳)۔ عَنْ أَبِيْ رَافِعٍ، قَالَ: ضَحّٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِکَبْشَیْنِ أَمْلَحَیْنِ ((مَوْجِیَّیْنِ)) خَصِیَّیْنِ فَقَالَ: أَحَدُھُمَا عَمَّنْ شَھِدَ بِاالتَّوْحِیْدِ وَ لَہُ بِالْبَلَاغِ، وَ الآخَرُ عَنْہُ وَ عَنْ أَھْلِ بَیْتِہِ، قَالَ: فَکَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ کَفَانَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۶۱)
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو چتکبرے اور خصی دنبوں کی قربانی کی، ایک دنبہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حق میں پیغام پہنچا دینے والوں کی طرف سے تھے اور ایک دنبہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کی طرف سے تھا۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: گویا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کفایت کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4684

۔ (۴۶۸۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ النَّحْرُ، فَذَبَحْنَا الْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ، وَ الْبَعِیْرَ عَنْ عَشَرَۃٍ۔ (مسند أحمد: ۲۴۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ عید الاضحی کا موقع آگیا، پس ہم نے سات افراد کی طرف سے گائے اور دس افراد کی طرف اونٹ ذبح کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4685

۔ (۴۶۸۵)۔ عَنْ أَبِيْ عَقِیْلٍ زُھْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ التَّّیْمِيِّ، عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ ھِشَامٍ۔ وَ کَانَ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ذَھَبَتْ بِِہٖ أُمُّہُ زَیْنَبُ ابْنَۃُ حُمَیْدٍ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! بَایِعْہُ۔ فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُوَ صَغِیْرٌ۔)) فَمَسَحَ رَأْسَہُ وَ دَعَا لَہُ، وَ کَانَ یُضَحِّي بِالشَّاۃِ الْوَاحِدَۃِ عَنْ جَمِیْعِ أَھْلِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۱۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن ہشام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جنھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایا تھا اور وہ اس طرح کہ ان کی ماں سیدہ زینب بنت حمید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس سے بیعت لو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو چھوٹا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے حق میں دعا کی، یہ صحابی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے تمام اہل کی طرف سے ایک بکری قربان کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4686

۔ (۴۶۸۶)۔ عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَیْمٍ، قَالَ: وَ نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ھُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: یَا أَیُّھَا النَّاسُ إِنَّ عَلٰی کُلِّ أَھْلِ بَیْتٍ (أَوْ عَلٰی کُلِّ أَھْلِ بَیْتٍ) فِي کُلِّ عَامٍ أَضْحَاۃً وَ عَتِیْرَۃً، قَالَ: تَدْرُوْنَ مَا الْعَتِیْرَۃُ؟۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَلا أَدْرِيْ مَا رَدُّوا۔ قَالَ: ھٰذِہِ الَّتِيْ یَقُوْلُ النَّاسُ: الرَّجَبِیَّۃُ۔ (مسند أحمد: ۱۸۰۴۸)
۔ سیدنا مخنف بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول للہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفات میںوقوف کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! ہر سال میں ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے؟ ابن عون راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگوں نے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4687

۔ (۴۶۸۷)۔ عَنْ أَبِيْ رَافِعٍ، قَالَ: ضَحّٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِکَبْشَیْنِ أَمْلَحَیْنِ ((مَوْجِیَّیْنِ)) خَصِیَّیْنِ فَقَالَ: أَحَدُھُمَا عَمَّنْ شَھِدَ بِالتَّوْحِیْدِ وَ لَہُ بِالْبَلَاغِ، وَ الآخَرُ عَنْہُ وَ عَنْ أَھْلِ بَیْتِہِ، قَالَ: فَکَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ کَفَانَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۶۱)
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو چتکبرے اور خصی دنبوں کی قربانی کی، ایک دنبہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حق میں پیغام پہنچا دینے والوں کی طرف سے تھے اور ایک دنبہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کی طرف سے تھا۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: گویا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کفایت کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4688

۔ (۴۶۸۸)۔ عَنْ أَبِي الأشَدِّ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ۔ قَالَ: کُنْتُ سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَأَمَرَنَا فَجَمَعَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْھَمًا فَاشْتَرَیْنَا أُضْحِیَّۃً بِسَبْعِ الدَّرَاھِمِ فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ، لَقَدْ أَغْلَیْنَا بِھَا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَفْضَلَ الضِّحَایَا أَغْلاھَا وَ أَسْمَنُھَا۔)) وَ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ وَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ وَ رَجُلٌ بِیَدٍ وَ رَجُلٌ بِیَدٍ وَ رَجُلٌ بِقَرْنٍ وَ رَجُلٌ بِقَرْنٍ وَ ذَبَحَھَا السَّابِعُ وَ کَبَّرْنَا عَلَیْھَا جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۷۵)
۔ ابو اشد سلمی اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (سیدنا ابو المعلی یا سیدنا عمرو بن عبسہ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم کل سات افراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم میں سے ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کیا اور ہم نے سات درہموں کے عوض قربانی کا ایک جانور خرید تو لیا لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو بہت مہنگا جانور لیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والی قربانی وہ ہے، جس کی قیمت سب سے زیادہ ہو اور جو سب سے زیادہ موٹی تازی ہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور ایک آدمی نے پچھلی ٹانگ کو، دوسرے نے بھی دوسری پچھلی ٹانگ کو، ایک نے اگلی ٹانگ کو، دوسرے نے دوسری اگلی ٹانگ کو، ایک نے ایک سینگ کو اور دوسرے نے دوسرے سینگ کو پکڑا اور ساتویں آدمی نے اس کو ذبح کیا اور ہم سب نے تکبیر کہی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4689

۔ (۴۶۸۹)۔ عَنْ زُبَیْدٍ أَخْبَرَنِيْ، [وَ] مَنْصُورٍ وَ دَاوُدَ وَابْنِ عَوْنِ وَ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ (وَھٰذَا حَدِیْثُ زُبَیْدٍ) قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ یُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَائِ (وَ حَدَّثَنَا عِنْدَ سَارِیَۃٍ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ: وَ لَوْ کُنْتُ ثَمَّ لَأَخْبَرْتُکُمْ بِمَوْضِعِھَا)، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِہِ فِي یَوْمِنَا ھٰذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذٰلِکَ فَإِنَّمَا ھُوَ لَحْمٌ قَدَّمَہُ لِأَھْلِہِ، لَیْسَ مِنَ النُّسُکِ فِي شَيْئٍ۔)) قَالَ: وَ ذَبَحَ خَالِي أَبُوْبُرْدَۃَ بْنُ نِیَارٍ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ذَبَحْتُ وَ عِنْدِي جَذَعَۃٌ خَیْرٌ مِنْ مُسِنَّۃٍ؟ قَالَ: ((اِجْعَلْھَا مَکَانَھَا وَ لَمْ تُجْزِیْٔ أَوْ تُوفِ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۶۷۳)
۔ امام شعبی کہتے ہیں: سیدنا برائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہم کو مسجد کے ستون کے پاس بیان کیا، اگر میں وہاں ہوتا تو تم کو اس جگہ کے بارے میں بتلاتا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: پہلا کام جو آج ہم اس دن کو کریں گے، وہ یہ ہے کہ پہلے ہم نمازِ عید پڑھیں گے، پھر گھروں کو لوٹ کر قربانی کریں گے، جس نے ایسے ہی کیا، اس نے ہماری سنت پر عمل کیا اور جس نے نماز سے پہلے ہی جانور کو ذبح کر دیا تو وہ گوشت ہی ہے، جو اس نے اپنی بیوی بچوں کو کھلایا ہے، اس کا قربانی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ چونکہ میرے ماموں سیدنا ابو بردہ بن نیار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وقت سے پہلے ذبح کر آئے تھے، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو ذبح کر آیا ہوں،اب میرے پاس ایک جذعہ ہے، لیکن وہ دو دانتے جانور سے بہتر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کی قربانی کر لے، لیکن تیرے بعد وہ کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4690

۔ (۴۶۹۰)۔ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا یُحَدِّثُ: أَنَّہُ شَھِدَ الْعِیْدَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: ((مَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنَّ یُصَلِّيَ فَلْیُعِدْ مَکَانَھَا أُخْرٰی (قَالَ مَرَّۃً أُخْرٰی: فَلْیَذْبَحْ) وَ مَنْ کَانَ لَمْ یَذْبَحْ فَلْیَذْبَحْ بِاسْمِ اللّٰہ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۰۰۵)
۔ اسود بن قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ عید کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حاضر ہوئے اور بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے نمازِ عید ادا کی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: جس نے ادائیگیٔ نماز سے پہلے جانور ذبح کر دیا ہے، وہ اس کی جگہ پر کوئی اور قربانی کرے، اور جس نے ابھی تک ذبح نہیں کیا، وہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ذبح کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4691

۔ (۴۶۹۱)۔ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ۔ مَوْلٰی بَنِيْ حَارِثَۃَ۔ عَنْ أَبِيْ بُرْدَۃَ ابْنِ نِیَارٍ۔ قَالَ: شَھِدْتُ الْعِیْدَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَخَالَفْتِ امْرَأَتِي حَیْثُ غَدَوْتُ إِلَی الصَّلاۃِ إِلٰی أُضْحِیَّتِي فَذَبَحَتْھَا وَ صَنَعَتْ مِنْھَا طَعَامًا، قَالَ: فَلَمَّا صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَانْصَرَفْتُ إِلَیْھَا، جَائَ تْنِي بِطَعَامٍ قَدْ فُرِغَ مِنْہُ، فَقُلْتُ: أَنّٰی ھٰذَا؟ قَالَتْ: أُضْحِیَّتُکَ ذَبَحْنَاھَا وَ صَنَعْنَا لَکَ مِنْھَا طَعَامًا لِتَغَدّٰی إِذَا جِئْتَ قَالَ: فَقُلْتُ لَھَا: وَ اللّٰہ لَقَدْ خَشِیْتُ أَنْ یَکُوْنَ ھٰذَا لا یَنْبَغِيْ، قَالَ: فَجِئْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ؟ فَقَالَ: ((لَیْسَتْ بِشَيْئٍ، مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نَفْرُغَ مِنْ نُسُکِنَا فَلَیْسَ بِشَيْئٍ، فَضَحِّ)) قَالَ: فَالْتَمَسْتُ مُسِنَّۃً فَلَمْ أَجِدْھَا، قَالَ: فَجِئْتُہُ فَقُلْتُ: وَاللّٰہ! یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! لَقَدِ الْتَمَسْتُ مُسِنَّۃً فَمَا وَجَدْتُھَا؟ قَالَ: ((فَالْتَمِسْ جَذَعًا مِنَ الضَّأْنِ فَضَحِّ بِہِ۔))قَالَ: فَرَخَّصَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِي الْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ فَضَحّٰی بِہِ حِیْنَ لَمْ یَجِدِ الْمُسِنَّۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۰۴)
۔ سیدنا ابو بردہ بن نیار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ عید ادا کرنے کے لیے گیا، جب میں نماز کے لیے نکلا تو میرے بعد میری بیوی نے میری قربانی کو ذبح کر دیا اور کھانا تیار کیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی اور میں فارغ ہو کر گھر پہنچا تو میری بیوی کھانا لے کر آ گئی، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: تیری قربانی ہے، ہم نے اس کو ذبح کر دیا تھا اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تاکہ جب آپ گھر آئیں تو کھانا تناول کریں، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ ڈر لگ رہا ہے کہ یہ عمل جائز نہیں ہو گا، بہرحال میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کچھ بھی نہیں ہے، جس نے ہماری اس نماز سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی کر دی تو اس کی کوئی حقیقت نہیں ہو گی،تم دوبارہ قربانی کرو۔ پس میں نے دو دانتا جانور تلاش کیا، لیکن وہ مجھے نہ مل سکا، میں پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا اور کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں نے دوندا جانور تلاش کیا ہے، لیکن وہ مجھے ملا نہیں ہے، اب میں کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کر جذعہ تلاش کر کے اس کی قربانی کر لے۔ راوی کہتا ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس صحابی کو اس وقت بھیڑ نسل کے جذعے کی قربانی کرنے کی رخصت دی تھی، جب اسے دو دانتا نہیں ملا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4692

۔ (۴۶۹۲)۔ عَنِ الْبَرَائِ، عَنْ خَالِہِ أَبِيْ بُرْدَۃَ، أَنَّہُ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ، إِنَّا عَجَّلْنَا شَاۃَ لَحْمٍ لَنَا؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقَبْلَ الصَّلاۃِ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((تِلْکَ شَاۃُ لَحْمٍ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ، إِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا جَذَعَۃً، ھِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّۃٍ؟ قَالَ: ((تُجْزِیُٔ عَنْہُ، وَلا تُجْزِیُٔ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۹۹)
۔ سیدنا براء اپنے ماموں سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے گوشت والی بکری جلدی ذبح کر دی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا نماز سے پہلے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو صرف گوشت کی بکری ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکری کا بچہ ہے، لیکن وہ مجھے دو دانتے جانور سے زیادہ پسند ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تجھ سے کفایت کرے گا، لیکن تیرے بعد اس قسم کا جانور کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4693

۔ (۴۶۹۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: صَلَّی النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَا یَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِیْنَۃِ، فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا، وَ ظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَحَرَ، فَأَمَرَ مَنْ کَانَ قَدْ نَحَرَ قَبْلَہُ أَنْ یُعِیْدَ بِنَحْرٍ آخَرَ، وَلا یَنْحَرُوا حَتّٰی یَنْحَرَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۴۱۷۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو مدینہ منورہ میں قربانی والے دن نماز پڑھائی، اُدھر کچھ لوگوں نے جلدی کی اور قربانی کر دی، ان کا خیال یہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قربانی کر چکے ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ جس آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے قربانی کی ہے، وہ دوبارہ قربانی کرے اور لوگ اس وقت تک قربانی نہ کیا کریں، جب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ کر لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4694

۔ (۴۶۹۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّ رَجُلاً ذَبَحَ قَبْلَ أَنَّ یُصَلِّيَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَتُودًا جَذَعًا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا تُجْزِیُٔ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ۔)) وَ نَھٰی أَنَّ یَذْبَحُوا حَتّٰی یُصَلُّوا۔ (مسند أحمد: ۱۴۹۸۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے سے پہلے بکری کا کھیرا بچہ ذبح کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: تیرے بعد اس طرح کا عمل کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو نماز ادا کرنے سے پہلے قربانی کرنے سے منع کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4695

۔ (۴۶۹۵)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ النَّحْرِ: ((مَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَلْیُعِدْ۔)) فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا یَوْمٌ یُشْتَھٰی فِیْہِ اللَّحْمُ، وَ ذَکَرَ ھَنَۃً مِنْ جِیْرَانِہِ، فَکَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَّقَہُ قَالَ: وَ عِنْدِي جَذَعَۃٌ ھِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ: فَرَخَّصَ لَہُ، فَلَا أدْرِيْ أَبَلَغَتْ رُخْصَتُہُ مَنْ سِوَاہُ أَمْ لَا؟ قَالَ: ثُمَّ انْکَفَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلامُ إِلٰی کَبْشَیْنِ فَذَبَحَھُمَا، وَ قَامَ النَّاسُ إِلَی غُنَیْمَۃٍ فَتَوَزَّعُوھَاأَوْ قَالَ: فَتَجَزَّعُوھَا۔ ھٰکَذَا قَالَ أَیُّوبُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۱۴۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی والے دن فرمایا: جس نے نمازِ عید سے پہلے قربانی کر دی ہے، وہ دوبارہ قربانی کرے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ جس میں گوشت کی خواہش کی جاتی ہے، پھر اس نے اپنے ہمسائیوں کی حاجت کا ذکر کیا، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی تصدیق کر رہے تھے، پھر اس نے کہا: اب میرے پاس ایک جذعہ جانور ہے، لیکن وہ مجھے گوشت کی دو بکریوں سے زیادہ پسند ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رخصت دے دی۔ راوی کہتا ہے: اب مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ کیا یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دو دنبوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو ذبح کیا، اُدھر لوگ بھی بکریوں کی طرف گئے، ان کو تقسیم کیا اور ان کی قربانی کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4696

۔ (۴۶۹۶)۔ عَنْ أَبِيْ زَیْدٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ أَظْھُرِ دِیَارِنَا، فَوَجَدَنا قُتَارًا، فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا الَّذِيْ ذَبَحَ؟)) قَالَ: فَخَرَجَ إِلَیْہِ رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ، کَانَ ھٰذَا یَوْمًا الطَّعَامُ فِیْہِ کَرِیہٌ، فَذَبَحْتُ لآکُلَ وَ أُطْعِمَ جِیرَانِي، قَالَ: ((فَأَعِدْ۔)) قَالَ: لا وَالَّذِي لَا اِلٰہَ إِلاَّ ھُوَ، مَا عِنْدِيْ إِلاَّ جَذَعٌ مِنَ الضَّأْنِ، أَوْ حَمَلٌ، قَالَھَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: ((فَاذْبَحْھَا وَ لا تُجْزِیُٔ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۰۱۴)
۔ سیدنا ابو زید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے گھروں کے پاس سے گزرے اور ہمارے ہاں ہنڈیوں کی ایسی بو محسوس کی، جیسے گوشت بھونا جا رہا ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کس نے ذبح کر دیا ہے؟ ہمارا ایک آدمی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے، جس میں عام کھانا پسند نہیں کیا جاتا، اس لیے میں نے قربانی کا جانور ذبح کر دیا ہے، تاکہ خود بھی کھاؤں اورہمسائیوں کو بھی کھلاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوبارہ قربانی کر۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، اب تو میرے پاس صرف بھیڑ نسل کا جذعہ ہے یا اس کا ایک سال سے کم عمر کا جانور ہے، اس نے تین دفعہ یہ بات دوہرائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو اس کو ہی ذبح کر دے، لیکن تیرے بعد اس قسم کا جانور کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4697

۔ (۴۶۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ أَبِيْ ذَبَحَ ضَحِیَّتَہُ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّيَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُلْ لأبِیْکَ یُصَلِّي ثُمَّ یَذْبَحُ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۹۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: بیشک میرے باپ نے نمازِ عید کی ادائیگی سے پہلے قربانی ذبح کر دی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ سے کہہ کہ وہ نماز پڑھنے کے بعد دوبارہ قربانی کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4698

۔ (۴۶۹۸)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذَبْحٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۷۳)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارے ایام تشریق ذبح کے دن ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4699

۔ (۴۶۹۹)۔ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَبْقٰی مِنْ نُسُکِکُمْ عِنْدَکُمْ شَيْئٌ بَعْدَ ثَلاثٍ۔ (مسند أحمد: ۵۱۰)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تین دنوں کے بعد تک تمہاری قربانیوں میں سے کوئی چیز باقی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4700

۔ (۴۷۰۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَطَائِ بْنِ إِبْرَاھِیْمَ مَوْلَی (الزُّبَیْرِ)، عَنْ أُمِّہِ وَ جَدِّتِہِ اُمِّ عَطَائٍ، قَالَتَا: وَاللّٰہِ لَکَأَنَّنَا نَنْظُرُ إِلَی (الزُّبَیْرِ) ابْنِ الْعَوَّامِ، حِیْنَ أَتَانَا عَلٰی بَغْلَۃٍ لَہُ بَیْضَائَ، فَقَالَ: یَا أُمَّ عَطَائٍ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَھَی الْمُسْلِمِیْنَ أَنْ یَأْکُلُوْا مِنْ لُحُوْمِ نُسُکِھِمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ، ((قَالَتْ)): فَقُلْتُ: بِأَبِيْ أَنْتَ، فَکَیْفَ نَصْنَعُ بِمَا أُھْدِيَ لَنَا! فَقَالَ: أَمَّا مَا أُھْدِيَ لَکُنَّ فَشَأْنَکُنَّ بِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۲)
۔ عبد اللہ بن عطاء اپنے ماں اور دادی ام عطاء سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: گویا کہ اب بھی ہم سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھ رہی ہیں، جب وہ سفید خچر پر ہمارے پاس آئے اور کہا: اے ام عطائ! بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلمانوں کو اس چیز سے منع فرمایا کہ وہ تین دنوں کے بعد تک اپنی قربانیوں کا گوشت کھائیں، انھوں نے کہا: میرا باپ تجھ پر قربان ہو، جو گوشت ہم کو بطورِ ہدیہ دیا جاتا ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ انھوں نے کہا: جو تم لوگوں کو بطورِ تحفہ دیا جائے اس کو تم جیسے چاہو استعمال کر سکتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4701

۔ (۴۷۰۱)۔ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا یَأْکُلْ أَحَدُکُمْ مِنْ أُضْحِیَّتِہِ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّام۔))وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْیَوْمِ الثَّالِثِ، لا یَأْکُلُ مِنْ لَحْمِ ھَدْیِہِ۔ (مسند أحمد: ۴۶۴۳)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی تین ایام سے زائد تک اپنی قربانی کا گوشت نہ کھائے۔ امام نافع کہتے ہیں: جب تیسرے دن کاسورج غروب ہو جاتا تو سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4702

۔ (۴۷۰۲)۔ عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، وَ عَنِ الأَوْعِیَۃِ، وَ أَنْ تُحْبَسَ لُحُوْمُ الأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّيْ کُنْتُ نَھَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ فَزُورُوھَا، فَإِنَّھَا تُذَکِّرُکُمُ الآخِرَۃَ، وَ نَھَیْتُکُمْ عَنِ الأوْعِیَۃِ فَاشْرَبُوا فِیْھَا، وَاجْتَنِبُوْا کُلَّ مَا أَسْکَرَ، وَ نَھَیْتُکُمْ عَنْ لُحُومِ الأضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوْھَا بَعْدَ ثَلاثٍ، فَاحْبِسُوْا مَا بَدَا لَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبروں کی زیارت سے، کچھ مخصوص برتنوں سے اور تین دنوں سے زیادہ عرصہ تک قربانیوں کا گوشت روکنے سے منع کیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، پس اب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ وہ تم کو آخرت یاد لاتی ہیں، اور میں نے تم کو کچھ برتنوں سے روکا تھا، پس اب تم ان میں پی سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرو، اور میں نے تم کو تین ایام سے زائد تک قربانیوں کے گوشت سے منع کیا تھا، پس اب جب تک مناسب سمجھو یہ گوشت روک سکتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4703

۔ (۴۷۰۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((نَھَیْتُکُمْ عَنْ لُحُومِ الأضَاحِيِّ أَنْ تَأْکُلُوْھَا فَوْقَ ثَلَاثِ لَیَالٍ، ثُمَّ بَدَا لِي: أَنَّ النَّاسَ یُتْحِفُوْنَ ضَیْفَھُمْ، وَ یُخَبِّئُونَ لِغَائِبھِمْ، فَأَمْسِکُوا مَا شِئْتُم۔)) (مسند أحمد: ۱۳۵۲۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو تین سے زیادہ دنوںتک قربانیوں کا گوشت روکنے سے منع کیا تھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ لوگوں نے مہمانوں کی ضیافت کرنی ہوتی ہے اور غیر موجود لوگوں کے کچھ گوشت محفوظ کر کے رکھنا ہوتا ہے، سو جب تک چاہو، اس گوشت کو روک سکتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4704

۔ (۴۷۰۴)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا ضَحّٰی أَحَدُکُمْ فَلْیَأْکُلْ مِنْ أُضْحِیَّتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۹۰۶۷)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی قربانی کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قربانی میں سے کچھ گوشت کھائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4705

۔ (۴۷۰۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَ: دَقَّتْ دَافَّۃٌ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ حَضْرَۃَ الأضْحٰی فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُوْا وَ ادَّخِرُوا لِثَلَاثٍ۔)) فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ۔ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! کَانَ النَّاسُ یَنْتَفِعُوْنَ مِنْ أَضَاحِیِّھِمْ یَحْمِلُوْنَ مِنْھَا الْوَدَکَ، وَ یَتَّخِذُوْنَ مِنْھَا الأسْقِیَۃَ؟ قَالَ: ((وَ مَا ذَاکَ؟)) قَالُوْا: الَّذِيْ نَھَیْتَ عَنْہُ مِنْ إِمْسَاکِ لُحُومِ الأضَاحِيِّ، قَالَ: ((إِنَّمَا نَھَیْتُ عَنْہُ لِلدَّافَّۃِ الَّتِيْ دَفَّتْ، فَکُلُوْا وَ تَصَدَّقُوْا وَادَّخِرُوْا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۷۵۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ بدّو لوگوں کی ایک جماعت عید الاضحی کے موقع پر آئی، ان کی وجہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور تین دنوں تک ذخیرہ کر سکتے ہو۔ جب اس کے بعد اگلا سال آیا تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانیوں سے اس طرح فائدہ اٹھا لیتے تھے کہ چربی محفوظ کر لیتے اور مشکیزے بنا لیتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیا بات کرنا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: آپ نے جو پچھلے سال قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے روک دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تو بدّو لوگوں کے آ جانے کی وجہ سے منع کیا تھا، اب تم کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو۔