MUSNAD AHMED

Search Result (48)

78)

78) جہاد کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5130

۔ (۵۱۳۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ َرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: ((مَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۰۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا، وہ امن والا ہو گا اور جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو گا، اسے بھی امان حاصل ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5131

۔ (۵۱۳۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ، وَیَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ اَدْنَاھُمْ، وَھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاھُمْ، اَلَا لَا یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ وَلَا ذُوْ عَہْدٍ فِیْ عَہْدٍ۔)) (مسند أحمد: ۹۵۹)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب مومنوں کے خون برابر ہیں، ادنی مؤمن بھی امان دے سکے گا، وہ سب اپنے غیروں پر ایک ہاتھ کی مانند ہیں، خبردار! مومن کو کافر کے بدلے اور ذمی کو اس کے معاہدے کے زمانے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5132

۔ (۵۱۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌ یَسْعٰی بِھَا اَدْنَاھُمْ، فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا)) (مسند أحمد: ۹۱۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی امان ایک ہے، ادنی مسلمان بھی وہ امان دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کی امان کو توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوںکی لعنت ہو گی اور اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5133

۔ (۵۱۳۳)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَبَ لِبَنِیْ زُھَیْرِ بْنِ اُقَیْشٍ ((بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، ھٰذَا کِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ لِبَنِیْ زُھَیْرِ بْنِ اُقَیْشٍ اَنَّکُمْ اِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلَاۃَ، وَاَدَّیْتُمُ الزَّکَاۃَ، وَاَعْطَیْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمْسَ وَسَھْمَ النَّبِیِّ، وَالصَّفِیَّ فَاَنْتُمْ آمِنُوْنَ بِأَمَانِ اللّٰہِ وَأَمَانِ رَسُوْلِہِ)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۱۰۲۰)
۔ سیدنا یزید بن عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو زہیر بن اُقیش کی طرف یہ پیغام لکھا تھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، یہ خط محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کو لکھا گیا ہے، اگر تم لوگ نماز ادا کرتے رہے، زکوۃ دیتے رہے، غنیمتوں میں سے خمس، اپنے نبی کا حصہ اور منتخب حصہ دیتے رہے تو تم اللہ کی امان اور اس کے رسول کی امان کے ساتھ با امن رہو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5134

۔ (۵۱۳۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ، قَالَ: أَجَارَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ رَجُلًا، وَعَلَی الْجَیْشِ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: لَا نُجِیرُہُ، وَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: نُجِیرُہُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یُجِیرُ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ اَحَدُھُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان آدمی نے کسی شخص کو پناہ دے دی، اس لشکر کے امیر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: ہم اس کو پناہ نہیں دیں گے، لیکن سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اس کو پناہ دیں گے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کوئی ایک مسلمان تمام مسلمانوں پر پناہ دے سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5135

۔ (۵۱۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُجِیْرُ عَلٰی اُمَّتِیْ اَدْنَاھُمْ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۶۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ادنی مسلمان بھی میری امت پر پناہ دے سکتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5136

۔ (۵۱۳۶)۔ عَنْ أَبِی مُرَّۃَ، مَوْلٰی فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِئٍ، عَنْ فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ، قَالَتْ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ، أَجَرْتُ رَجُلَیْنِ مِنْ أَحْمَائِی، فَأَدْخَلْتُہُمَا بَیْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَیْہِمَا بَابًا، فَجَائَ ابْنُ أُمِّی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ، فَتَفَلَّتَ عَلَیْہِمَا بِالسَّیْفِ، قَالَتْ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ أَجِدْہُ، وَوَجَدْتُ فَاطِمَۃَ فَکَانَتْ أَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ زَوْجِہَا، قَالَتْ: فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْہِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((یَا أُمَّ ہَانِئٍ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۴۵)
۔ سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5137

۔ (۵۱۳۷)۔ عن حُذَیْفَۃ بْنِ الْیَمَانِ، قَالَ: مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّی خَرَجْتُ، أَنَا وَأَبِی حُسَیْلٌ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ، فَقَالُوْا: إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا، قُلْنَا: مَا نُرِیدُ إِلَّا الْمَدِینَۃَ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَہْدَ اللّٰہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَہُ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: ((انْصَرِفَا نَفِیْ بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ اللّٰہَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۷۴۶)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے غزوۂ بدر میں شرکت کرنے سے روکنے والی چیز یہ تھی کہ میں اور میرے باپ سیدنا حُسَیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکلے، لیکن کفار ِ قریش نے ہم کو پکڑ لیا اور انھوں نے کہا: بیشک تم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے پاس جانا چاہتے ہو، ہم نے کہا: ہم تو صرف مدینہ جا رہے ہیں، پھر انھوں نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا عہد اور پکا وعدہ لیا کہ ہم واقعی مدینہ جائیں گے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر قتال نہیں کریں گے، پس جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو واقعہ کی خبر دی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم چلے جاؤ، ہم ان سے کیے گئے تمہارے معاہدے کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5138

۔ (۵۱۳۸)۔ عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: کَانَ مُعَاوِیَۃُ یَسِیرُ بِأَرْضِ الرُّومِ، وَکَانَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَہُ أَمَدٌ، فَأَرَادَ أَنْ یَدْنُوَ مِنْہُمْ، فَإِذَا انْقَضَی الْأَمَدُ غَزَاہُمْ، فَإِذَا شَیْخٌ عَلٰی دَابَّۃٍ یَقُولُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، وَفَائٌ لَا غَدْرٌ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ قَوْمٍ عَہْدٌ فَلَا یَحُلَّنَّ عُقْدَۃً وَلَا یَشُدَّہَا حَتّٰی یَنْقَضِیَ أَمَدُہَا أَوْ یَنْبِذَ إِلَیْہِمْ عَلٰی سَوَائٍ۔)) فَبَلَغَ ذٰلِکَ مُعَاوِیَۃَ فَرَجَعَ وَإِذَا الشَّیْخُ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۴۰)
۔ سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روم کی سرزمین میں چل رہے تھے، جبکہ اُن کے اور اِن کے مابین معاہدہ تھا، سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ارادہ کیا کہ ان کے قریب ہو جائیں، تاکہ جب عہد کی مدت ختم ہو ان پر حملہ کر دیا جائے،لیکن ایک بزرگ، جو کسی چوپائے پر سوار تھا، نے کہا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، عہد پورا کیجیے، عہد شکنی مت کیجیے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کسی آدمی نے کسی قوم سے کوئی عہد کیا ہو تو وہ نہ عہد شکنی کرے اور نہ اس کو مضبوط کرے، یہاں تک کہ مدت ختم ہو جائے یا (ان سے دھوکے کے ڈر کی وجہ سے) انھیں معاہدہ توڑنے کی خبر دے (تاکہ مد مقابل بھی عہد توڑنے میں) اس کے برابر ہو جائے۔ جب سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ لوٹ گئے، یہ بزرگ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5139

۔ (۵۱۳۹)۔ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ: بَعَثَتْنِی قُرَیْشٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَلَمَّا رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَعَ فِی قَلْبِی الْإِسْلَامُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَا أَرْجِعُ إِلَیْہِمْ، قَالَ: ((إِنِّی لَا أَخِیسُ بِالْعَہْدِ، وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ، وَارْجِعْ إِلَیْہِمْ، فَإِنْ کَانَ فِی قَلْبِکَ الَّذِی فِیہِ الْآنَ فَارْجِعْ۔)) قَالَ بُکَیْرٌ: وَأَخْبَرَنِی الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ کَانَ قِبْطِیًّا۔(مسند أحمد: ۲۴۳۵۸)
۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قریشیوں نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا، جب میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام داخل ہو گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان کی طرف نہیں لوٹوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہ معاہدہ توڑتا ہوں اور نہ قاصدوں کو روکتا ہوں، تو اب ان کی طرف لوٹ جا، اگر تیرے دل میں وہ خیال رہا جو اب ہے تو لوٹ آنا۔ بکیر راوی کہتے ہیں: حسن نے مجھے بتلایا کہ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قبطی تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5140

۔ (۵۱۴۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا قَالَ: ((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۹۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بھی ہم سے خطاب کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کا کوئی ایمان نہیں، جو امانت پوری نہیں کرتا اور اس آدمی کا کوئی دین نہیں، جس میں معاہدے کی پاسداری نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5141

۔ (۵۱۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاھَدَۃً بِغَیْرِ حِلِّھَا، حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ اَن یَّجِدَ رِیْحَھَا۔)) (مسند أحمد: ۲۰۶۶۸)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر کسی حق کے ذمی کو قتل کر دیا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو اس طرح حرام کر دے گا کہ وہ اس کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5142

۔ (۵۱۴۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ خُطْبَتِہِ وَھُوَ مُسْنِدٌ ظَھْرَہٗ اِلَی الْکَعْبَۃِ: ((لَا یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ وَلَا ذُوْ عَھْدٍ فِیْ عَہْدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۹۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ایک خطاب میں فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے اورذمی کو اس کے عہد میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5143

۔ (۵۱۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ عِنْدَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ یَقُوْلُ: ((یُنْصَبُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا غَدْرَۃَ اَعْظَمُ مِنْ غَدْرَۃِ اِمَامِ عَامَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۵۳۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے پاس فرمایا تھا: روزِ قیامت ہر دھوکہ باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا اور عوام کے حکمران کے دھوکے سے بڑا دھوکہ کوئی نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5144

۔ (۵۱۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۱۳۷۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5145

۔ (۵۱۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُعْرَفُ بِہِ)) (مسند أحمد: ۱۲۴۷۰)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، اس کے ذریعے اس کو پہچانا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5146

۔ (۵۱۴۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ قَالَ: ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ وَیُقَالُ ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلَانٍ۔)) (مسند أحمد: ۳۹۵۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر دھوکے باز کا ایک جھنڈا ہو گا اور ساتھ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5147

۔ (۵۱۴۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَی الْیَہُودَ وَالنَّصَارٰی مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا ظَہَرَ عَلٰی خَیْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْیَہُودِ مِنْہَا، وَکَانَتِ الْأَرْضُ حِینَ ظَہَرَ عَلَیْہَا لِلّٰہِ تَعَالٰی وَلِرَسُولِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِلْمُسْلِمِینَ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْیَہُودِ مِنْہَا، فَسَأَلَتِ الْیَہُودُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُقِرَّہُمْ بِہَا عَلٰی أَنْ یَکْفُوا عَمَلَہَا وَلَہُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نُقِرُّکُمْ بِہَا عَلٰی ذٰلِکَ مَا شِئْنَا۔)) فَقَرُّوا بِہَا حَتّٰی أَجْلَاہُمْ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی تَیْمَائَ وَأَرِیحَائَ۔ (مسند أحمد: ۶۳۶۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سرزمینِ حجاز سے یہود ونصاری کو جلاوطن کیا، اور جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر پر غالب آ گئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غالب آ گئے تھے تو وہ زمین اللہ تعالی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور مسلمانوں کی ہو گئی تھی، بہرحال جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو یہودیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ مطالبہ کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو یہیں برقرار رکھیں، وہ نصف پھل کے عوض اس علاقے کی کھیتیوں کا کام کریں گے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے، تم لوگوں کو یہاں برقرار رکھیں گے۔ پس وہ وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5148

۔ (۵۱۴۸)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ، یَقُولُ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَہْلَ الْحُدَیْبِیَۃِ، کَتَبَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کِتَابًا بَیْنَہُمْ، وَقَالَ: فَکَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ، فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ: لَا تَکْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ، وَلَوْ کُنْتَ رَسُولَ اللّٰہِ لَمْ نُقَاتِلْکَ، قَالَ: فَقَالَ لِعَلِیٍّ: ((امْحُہُ۔)) قَالَ: فَقَالَ: مَا أَنَا بِالَّذِی أَمْحَاہُ، فَمَحَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ، قَالَ: وَصَالَحَہُمْ عَلٰی أَنْ یَدْخُلَ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، وَلَا یَدْخُلُوہَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ، فَسَأَلْتُ: مَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ؟ قَالَ: الْقِرَابُ بِمَا فِیہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۷۶۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل حدیبیہ سے مصالحت کی تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے معاہدہ تحریر کیا، انھوں نے معاہدے میں محمد رسول اللہ کے الفاظ لکھے، لیکن مشرکوں نے کہا: محمد رسول اللہ کے الفاظ نہ لکھو، اگر آپ ہمارے نزدیک اللہ کے رسول ہوتے تو ہم آپ سے قتال ہی نہ کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: یہ الفاظ مٹا دو۔ انھوں نے کہا: میں ان الفاظ کو نہیں مٹاؤںگا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان الفاظ کو خود مٹا دیا ا ور ان مشرکوں سے جن امور پر مصالحت کی تھی، ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ تین دنوں تک مکہ میں رہیں گے اور اپنے ساتھ صرف بند ہتھیار لائیں گے، وہ بھی میان سمیت چمڑے کے تھیلوں میں ہوں گی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جُلُبَّانُ السِّلَاحِ سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: چمڑے کے تھیلے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے، اس سمیت اس تھیلے کو کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5149

۔ (۵۱۴۹)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: وَادَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ عَلٰی ثَلَاثٍ مَنْ أَتَاہُمْ مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَنْ یَرُدُّوہُ، وَمَنْ أَتٰی إِلَیْنَا مِنْہُمْ رَدُّوہُ إِلَیْہِمْ، وَعَلٰی أَنْ یَجِیئَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَأَصْحَابُہُ، فَیَدْخُلُونَ مَکَّۃَ مُعْتَمِرِینَ فَلَا یُقِیمُونَ إِلَّا ثَلَاثًا، وَلَا یُدْخِلُونَ إِلَّا جَلَبَ السِّلَاحِ السَّیْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۸۸۷)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ والے دن مشروکوں سے تین امور پر معاہدہ کیا: (۱) نبی کریم کے پاس سے جو آدمی مشرکوں کے پاس آ جائے گا، وہ اس کو ہر گز نہیں لوٹائیں گے، لیکن مشرکوں میں سے جو آدمی اہل مدینہ کے پاس آئے گا، وہ اس کو لوٹا دیں گے، (۲) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ اگلے سال عمرہ کے لیے آئیں گے اور مکہ میں صرف تین دن تک قیام کریں گے، اور (۳) وہ صرف اس طرح داخل ہوں گے کہ تلوار اور قوس وغیرہ تھیلوں میں ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5150

۔ (۵۱۵۰)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قُرَیْشًا صَالَحُوا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فِیہِمْ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَلِیٍّ: ((اکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔)) فَقَالَ سُہَیْلٌ: أَمَّا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، فَلَا نَدْرِی مَا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ؟ وَلٰکِنْ اکْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، فَقَالَ: ((اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: لَوْ عَلِمْنَا أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ لَاتَّبَعْنَاکَ، وَلٰکِنْ اکْتُبْ اسْمَکَ وَاسْمَ أَبِیکَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ۔)) وَاشْتَرَطُوْا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ مَنْ جَائَ مِنْکُمْ لَمْ نَرُدَّہُ عَلَیْکُمْ، وَمَنْ جَائَ مِنَّا رَدَدْتُمُوہُ عَلَیْنَا، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتَکْتُبُ ہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، إِنَّہُ مَنْ ذَہَبَ مِنَّا إِلَیْہِمْ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۶۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ قریشیوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مصالحت کی، ان میں سہیل بن عمرو بھی موجود تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ لکھو۔ سہیل نے کہا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، ہم نہیںجانتے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کیا ہوتی ہے؟ وہ الفاظ لکھو، جو ہم جانتے ہیں، یعنی بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: لکھومحمد رسول اللہ کی جانب سے۔ لیکن (سہیل نے اس جملے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے) کہا: اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم نے آپ کی پیروی اختیار کر لینی تھی، آپ اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لکھو محمد بن عبد اللہ کی طرف سے۔ قریشیوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو آدمی ہمارے پاس آ جائے، ہم اس کو واپس نہیں لوٹائیں گے، لیکن ہم میں سے جو آدمی تمہارے پاس آئے گا، تم اس کو ہماری طرف لوٹا دو گے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ یہ شق لکھیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بیشک شان یہ ہے کہ ہم میں سے جو آدمی ان کی طرف چلا جائے گا، پس اللہ تعالیٰ اس کو دور کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5151

۔ (۵۱۵۱)۔ عَنْ ذِی مِخْمَرٍ، رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((سَیُصَالِحُکُمُ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُوہُمْ غَزْوًا فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتّٰی تَنْزِلُونَ بِمَرْجٍ ذِی تُلُولٍ، فَیَرْفَعُ رَجُلٌ مِنَ النَّصْرَانِیَّۃِ صَلِیبًا، فَیَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِیبُ، فَیَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَیَقُومُ إِلَیْہِ فَیَدُقُّہُ، فَعِنْدَ ذٰلِکَ یَغْدُرُ الرُّومُ، وَیَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَۃِ۔)) وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّۃً: ((وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتُقِیمُونَ ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۸۷۳)
۔ ایک صحابیٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب رومی لوگ تم سے امن والی صلح کریں گے، پھر تم اور وہ مل کر اپنے دشمنوں سے لڑو گے اور تم سلامت رہو گے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کرو گے، پھر تم واپس پلٹو گے اور ٹیلوں والی چراگاہ کے پاس پڑاؤ ڈالو گے، وہاں عیسائیوں میں ایک آدمی صلیب کو اٹھا کر کہے گا: صلیب غالب آ گئی ہے، اس سے ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر صلیب کو توڑ دے گا، اس وقت رومی دھوکہ کریں گے اور بڑی جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔ روح راوی کے الفاظ یہ ہیں: تم سالم رہو گے، مالِ غنیمت حاصل کرو گے، وہاں قیام کرو گے اور پھر وہاں سے واپس پلٹو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5152

۔ (۵۱۵۲)۔ عَنْ بَجَالَۃَ التَّمِیْمِیِّ قَالَ: لَمْ یَدْرِ عُمَرُ اَنْ یَاْخُذَ الْجِزْیَۃَ مِنَ الْمَجُوْسِ حَتّٰی شَھِدَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ اَخَذَھَا مِنْ مَجُوْسِ ھَجَرَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۵)
۔ بجالہ تمیمی سے مروی ہے، و ہ کہتے ہیں:سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مجوسیوں سے جزیہ لینے کے بارے میں علم نہیں تھا، یہاں تک کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ شہادت دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5153

۔ (۵۱۵۳)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ الْمَجُوْسِیُّ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ سَأَلْتُہٗ، فَأَخْبَرَنِیْ اَنَّ النَّبِیَّ خَیَّرَہٗ بَیْنَ الْجِزْیَۃِ وَالْقَتْلِ، فَاخْتَارَ الْجِزْیَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۷۲)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں؛ جب مجوسی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے نکلا تو میں نے اس سے سوال کیا، اس نے مجھے بتلایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو جزیہ اور قتل میں اختیار دیا اور اس نے جزیہ قبول کر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5154

۔ (۵۱۵۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَأَتَتْہُ قُرَیْشٌ وَأَتَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعُودُہُ، وَعِنْدَ رَأْسِہِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُو جَہْلٍ فَقَعَدَ فِیہِ، فَقَالُوْا: إِنَّ ابْنَ أَخِیکَ یَقَعُ فِی آلِہَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِکَ یَشْکُونَکَ؟، قَالَ: ((یَا عَمِّ أُرِیدُہُمْ عَلٰی کَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ، تَدِینُ لَہُمْ بِہَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّی الْعَجَمُ إِلَیْہِمُ الْجِزْیَۃَ۔)) قَالَ: مَا ہِیَ؟ قَالَ: ((لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) فَقَامُوْا فَقَالُوْا: أَجَعَلَ الْآلِہَۃَ إِلٰہًا وَاحِدًا، قَالَ: وَنَزَلَ {ص وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْرِ} فَقَرَأَ حَتّٰی بَلَغَ {إِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} (مسند أحمد: ۲۰۰۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ابو طالب بیمار ہو گیا، قریشی اس کے پاس آئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تیمار داری کرنے کے لیے تشریف لے آئے، اس کے سر کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کے بقدر جگہ تھی، ابو جہل اٹھ کر وہاں بیٹھ گیا، قریشیوں نے اس سے کہا: تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: آپ کی قوم، آپ کی شکایت کر رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے چچا جان! میں ان سے وہ کلمہ کہلوانے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ پورا عرب ان کے سامنے سرنگوںہو جائے گا اور عجمی لوگ ان کو جزیہ ادا کریں گے۔ اس نے کہا: وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ۔ یہ سن کر وہ لوگ یہ کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے کہ کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک معبود بنا لیا ہے، اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں: {صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ۔ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّ شِقَاقٍ۔ کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔ وَعَجِبُوْٓا اَنْ جَآئَھُمْ مُّنْذِر’‘ مِّنْھُمْ وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِر’‘ کَذَّابٌ۔ اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئ’‘ عُجَاب’‘} (ص: ۱ ۔ ۵) ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم! بلکہ کفار غرور و مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا۔ انھوں نے ہر چند چیخ وپکار کی، لیکن وہ وقت چھٹکارے کا نہ تھا، اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آگیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادو گر اور جھوٹا ہے۔ کیا اس نے اتنے سارے معبودں کا ایک معبود کر دیا، واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5155

۔ (۵۱۵۵)۔ عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ أَخْبَرَہُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ، وَہُوَ حَلِیفُ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، وَکَانَ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْبَرَہُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَی الْبَحْرَیْنِ یَأْتِی بِجِزْیَتِہَا، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہُوَ صَالَحَ أَہْلَ الْبَحْرَیْنِ، وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ الْعَلَائَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَیْنِ، فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِہِ، فَوَافَتْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْفَجْرِ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَہُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ رَآہُمْ، فَقَالَ: ((أَظُنُّکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ قَدْ جَائَ، وَجَاء َ بِشَیْئٍ؟)) قَالُوْا أَجَلْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((فَأَبْشِرُوْا وَأَمِّلُوْا مَا یَسُرُّکُمْ، فَوَاللّٰہِ! مَا الْفَقْرَ أَخْشٰی عَلَیْکُمْ، وَلٰکِنِّی أَخْشٰی أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْیَا عَلَیْکُمْ، کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، فَتَنَافَسُوْہَا کَمَا تَنَافَسُوہَا، وَتُلْہِیکُمْ کَمَا أَلْہَتْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۶۶)
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ بنو عامر بن لؤی کے حلیف تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بحرین کی طرف ان سے جزیہ لینے کے لیے بھیجا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں سے مصالحت کی تھی اور سیدنا علاء بن حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کا امیر بنایا تھا، جب سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بحرین کا مال لے کر آئے اور انصار کو ان کی آمدکا پتہ چلا تو انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر ادا کر لی اور صحابہ کی طرف پھرے تو انصاری لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آ گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن لیا کہ ابو عبیدہ مال لے کر آ گئے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ اور ایسی چیز کی امید رکھو جو تم کو خوش کرنے والی ہے، اللہ کی قسم ہے، مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا ڈر نہیں ہے، بلکہ یہ ڈر ہے کہ دنیا تمہارے لیے فراخ کر دی جائے گی، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں کے لیے کی گئی تھی اور تم اس میں اس طرح رغبت کرو گے، جیسے انھوں نے رغبت کی تھی اور اس طرح یہ دنیا تم کو اس طرح غافل کر دے گی، جیسے اس نے ان کو غافل کر دیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5156

۔ (۵۱۵۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَصْلَحُ قِبْلَتَانِ فِی اَرْضٍ، وَلَیْسَ عَلٰی مُسْلِمٍ جِزْیَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک علاقے میں دو قبلے صحیح نہیں ہیں اور مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5157

۔ (۵۱۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَیَّۃَ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ تَغْلَبَ، اَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ یَقُوْلُ: ((لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ عُشُوْرٌ اِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلَی الْیَھُوْدِ وَالنَّصَارٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۹۲)
۔ بنو تغلب قبیلے کے ایک فرد سیدنا ابو امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں پر ٹیکس نہیں ہے، البتہ یہودیوں اور عیسائیوں پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5158

۔ (۵۱۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا سَبَقَ اِلَّا فِیْ خُفٍّ اَوْ حَافِرٍ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۷۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مقابلہ بازی نہیں ہے، مگر اونٹ دوڑ میں یا گھوڑ دوڑ میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5159

۔ (۵۱۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَبَّقَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْخَیْلِ فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْہَا مِنَ الْحَفْیَاء ِ أَوْ الحَیْفَائِ إِلٰی ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ وَأَرْسَلَ مَا لَمْ یُضَمَّرْ مِنْہَا مِنْ ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ إِلٰی مَسْجِدِ بَنِی زُرَیْقٍ۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَکُنْتُ فَارِسًا یَوْمَئِذٍ فَسَبَقْتُ النَّاسَ طَفَّفَ بِیَ الْفَرَسُ مَسْجِدَ بَنِیْ زُرَیْقٍ۔ (مسند أحمد: ۴۴۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑدوڑی میں مقابلہ کرایا، تضمیر شدہ گھوڑوں کا مقابلہ حفیا سے ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع تک تھا اور جن گھوڑوں کی تضمیر نہیں کی گئی تھی، ان کا مقابلہ ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع سے مسجد بنی زریق تک تھا، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس مقابلے میں ایک گھوڑ سوار میں تھا، میں لوگوں سے بازی لے گیا اور میرا گھوڑا مسجد بنی زریق کی دیوار کو بھی پھلانگ گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5160

۔ (۵۱۶۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَبَّقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْخَیْلِ وَاَعْطَی السَّابِقَ۔ (مسند أحمد: ۵۶۵۶)
۔ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور آگے نکل جانے والے کو انعام دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5161

۔ (۵۱۶۱)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّقَ بِالْخَیْلِ وَرَاھَنَ۔ (مسند أحمد: ۵۳۴۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھڑدوڑ میں مقابلہ کروایا اور انعام دینے کی شرط لگائی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5162

۔ (۵۱۶۲)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّقَ بَیْنَ الْخَیْلِ وَفَضَّلَ الْقُرَّحَ فِی الْغَایَۃِ۔ (مسند أحمد: ۶۴۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور ان گھوڑوں کو برتری والا قرار دیا، جو اپنی عمر کے پانچویں سال میں داخل ہو چکے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5163

۔ (۵۱۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ لَبِیْدٍ لِمَازَۃَ بْنِ زَبَّارٍ قَالَ: أُرْسِلَتِ الْخَیْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، فَقُلْنَا: لَوْ أَتَیْنَا الرِّہَانَ، قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ أَتَیْنَا إِلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَسَأَلْنَاہُ ہَلْ کُنْتُمْ تُرَاہِنُونَ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ فَسَأَلْنَاہُ، فَقَالَ: نَعَمْ، لَقَدْ رَاہَنَ عَلٰی فَرَسٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ: سَبْحَۃُ فَسَبَقَ النَّاسَ فَہَشَّ لِذٰلِکَ وَأَعْجَبَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۵۴)
۔ ابو لبید لمازہ بن زبار کہتے ہیں: حجاج کے زمانے میں گھوڑوںمیں مقابلہ کیا گیا، ہم نے کہا: اگر ہم مقابلے والی جگہ پر پہنچ جائیں تو بہتر ہو گا، جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے سوچا کہ اگر سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلے جائیں اور یہ سوال کر لیں کہ کیا وہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں انعام دینے کی شرط لگاتے تھے، پس ہم ان کے پاس گئے اور ان سے یہ سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود سَبْحَہ نامی گھوڑے پر مقابلہ کیا تھا اور جب میں لوگوں سے سبقت لے گیا تو میں خوش ہوا اور اس چیز نے مجھے تعجب میں ڈالا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5164

۔ (۵۱۶۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ الْعَضْبَائَ کَانَتْ لَا تُسْبَقُ، فَجَائَ أَعْرَابِیٌّ عَلٰی قَعُودٍ لَہُ فَسَابَقَہَا فَسَبَقَہَا الْأَعْرَابِیُّ، فَکَأَنَّ ذٰلِکَ اشْتَدَّ عَلٰی أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ أَنْ لَا یَرْفَعَ شَیْئًا مِنْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا إِلَّا وَضَعَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۹۴)
۔ سیدنا بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عضباء اونٹنی سے آگے نہیں نکل سکتا تھا، لیکن ایک دن ایک بدو اپنے اونٹ پر آیا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی سے آگے گزر گیا، جب یہ چیز صحابۂ کرام پر گراں گزری تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس دنیا کی جس چیز کو بلندی عطا کرتا ہے، پھر اس کی حیثیت کو گراتا بھی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5165

۔ (۵۱۶۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَیْنَ فَرَسَیْنِ وَہُوَ لَا یَأْمَنُ أَنْ یَسْبِقَ فَلَا بَأْسَ بِہِ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَیْنَ فَرَسَیْنِ قَدْ أَمِنَ أَنْ یَسْبِقَ فَہُوَ قِمَارٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کر دیا، جبکہ اس کو بازی لے جانے کا یقین نہ ہو تو ایسے کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن جس نے دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا ڈال دیا، جبکہ اسے آگے نکل جانے کا یقین ہو تو یہ جوا ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5166

۔ (۵۱۶۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِی الْاِسْلَامِ۔)) (مسند أحمد: ۵۶۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ جلب ہے اور نہ جنب اور اسلام میں شغار نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5167

۔ (۵۱۶۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۰۹۵)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ جلب ہے، نہ جنب ہے اور نہ شغار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5168

۔ (۵۱۶۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُفُّ عَبْدَ اللّٰہِ وَعُبَیْدَ اللّٰہِ وَکَثِیرًا مِنْ بَنِی الْعَبَّاسِ، ثُمَّ یَقُولُ: ((مَنْ سَبَقَ إِلَیَّ فَلَہُ کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ: فَیَسْتَبِقُونَ إِلَیْہِ فَیَقَعُونَ عَلٰی ظَہْرِہِ وَصَدْرِہِ فَیُقَبِّلُہُمْ وَیَلْزَمُہُمْ۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عبد اللہ، سیدنا عبیداللہ اور بنو عباس کے کئی بچوں کو ایک لائن میں کھڑا کرتے اور پھر ان سے فرماتے: جو میری طرف سب سے پہلے پہنچے گا، اس کو اتنا اتنا انعام ملے گا۔ پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف دوڑتے اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کمر اور سینۂ مبارک پر چڑھ جاتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کا بوسہ لیتے اور ان کو گلے لگا لیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5169

۔ (۵۱۶۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: سَابَقَنِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَبَقْتُہُ فَلَبِثْنَا حَتّٰی إِذَا رَہِقَنِی اللَّحْمُ سَابَقَنِی فَسَبَقَنِی فَقَالَ: ((ہٰذِہِ بِتِیکِ۔))(مسند أحمد: ۲۴۶۱۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، سو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آگے نکل گئی، پھر ہم ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ جب مجھ پر گوشت آ گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر مجھ سے مقابلہ کیا اور اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ سے سبقت لے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جیت اُس سابق مقابلے کا بدلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5170

۔ (۵۱۷۰)۔ عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ قِصَّۃِ رُجُوْعِھِمْ مِنْ غَزْوَۃِ ذِیْ قَرَدٍ إِلَی الْمَدِینَۃِ، فَلَمَّا کَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہَا قَرِیبًا مِنْ ضَحْوَۃٍ، وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَ لَا یُسْبَقُ، جَعَلَ یُنَادِی: ہَلْ مِنْ مُسَابِقٍ أَلَا رَجُلٌ یُسَابِقُ إِلَی الْمَدِینَۃِ، فَأَعَادَ ذٰلِکَ مِرَارًا، وَأَنَا وَرَائَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُرْدِفِی، قُلْتُ لَہُ: أَمَا تُکْرِمُ کَرِیمًا وَلَا تَہَابُ شَرِیفًا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی خَلِّنِی فَلَأُسَابِقُ الرَّجُلَ، قَالَ: ((إِنْ شِئْتَ۔)) قُلْتُ: أَذْہَبُ إِلَیْکَ فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِہِ وَثَنَیْتُ رِجْلَیَّ فَطَفَرْتُ عَنْ النَّاقَۃِ ثُمَّ إِنِّی رَبَطْتُ عَلَیْہَا شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ یَعْنِی اسْتَبْقَیْتُ نَفْسِی، ثُمَّ إِنِّی عَدَوْتُ حَتّٰی أَلْحَقَہُ فَأَصُکَّ بَیْنَ کَتِفَیْہِ بِیَدَیَّ، قُلْتُ: سَبَقْتُکَ وَاللّٰہِ! أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا، قَالَ: فَضَحِکَ وَقَالَ: إِنْ أَظُنُّ حَتّٰی قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۵۴)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، جبکہ وہ غزوۂ ذی قرد سے مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا قصہ بیان کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہمارے اور مدینہ کے درمیان نصف النہار کے قریب تک فاصلہ تھا، اس لشکر میں ایک انصاری آدمی تھا، دوڑ میں کوئی اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں تھا، وہ اس سفر میں یہ آواز دینے لگ گیا: ہے کوئی مقابلہ کرنے والا، کوئی آدمی ہے جو مدینہ تک دوڑ میں مقابلہ کرے، اس نے کئی بار یہ بات دوہرائی ، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے تھا، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنا ردیف بنایا ہوا تھا، میں نے اس آدمی سے کہا: کیا تو کسی کریم کی عزت نہیں کرتا، کیاتجھ پر کسی شرف والے کی کوئی ہیبت نہیں؟ اس نے کہا: نہیں، ما سوائے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے جانے دیں، میں اس کا مقابلہ کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو کر لے۔ پھر میں نے اس سے کہا: میں آ رہا ہے، اب نیچے اتر اپنی سواری سے، وہ کود کر اپنی سواری سے نیچے آ گیا، میں نے بھی پاؤںموڑا اور اونٹ سے نیچے کود آیا، دوڑ شروع ہو گئی، میں نے ایک دو ٹیلوں تک تو تیز دوڑنے سے گریز کیا، تاکہ سانس کا سلسلہ منقطع نہ ہو جائے، پھر میں تیز دوڑا، یہاں تک اس کو جا ملا اور اس کے کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا اور کہا: اللہ کی قسم میں تجھ سے آگے نکل گیا ہوں، وہ جواباً ہنسا اور اس نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے حتیٰ کہ ہم مدینہ آگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5171

۔ (۵۱۷۱)۔ عَنْ سَلَمَۃ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ، وَہُمْ یَتَنَاضَلُونَ فِی السُّوقِ، فَقَالَ: ((ارْمُوا یَا بَنِی إِسْمَاعِیلَ، فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا ارْمُوْا، وَأَنَا مَعَ بَنِی فُلَانٍ۔)) لِأَحَدِ الْفَرِیقَیْنِ فَأَمْسَکُوا أَیْدِیَہُمْ، فَقَالَ: ((اِرْمُوا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ نَرْمِی وَأَنْتَ مَعَ بَنِی فُلَانٍ، قَالَ: ((ارْمُوا وَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۶۴۳)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو اسلم کے لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بازار میں تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا، کرو تیر اندازی اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک فریق کا نام لیا تو وہ رک گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: پھینکو تیر (کیوں رک گئے ہو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے پھینکیں، جبکہ آپ تو بنو فلاں کے ساتھ ہو گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کرو تیز اندازی، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5172

۔ (۵۱۷۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَفَرٍ یَرْمُوْنَ قَالَ: ((رَمْیًا بَنِیْ اِسْمَاعِیْلَ فَاِنَّ اَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا۔)) (مسند أحمد: ۳۴۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیر اندازی کرنے والے ایک گروہ کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5173

۔ (۵۱۷۳)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ: ((سَتُفْتَحُ عَلَیْکُمْ اَرْضُوْنَ وَیَکْفِیْکُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا یَعْجِزُ اَحَدُکُمْ اَنْ یَلْھُوَ بِسَھْمِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۶۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب کئی علاقے فتح ہوں گے اور اللہ تعالیٰ تم سے کفایت کرے گا، لیکن کوئی آدمی اتنا عاجز نہ آ جائے کہ وہ تیر اندازی سے غفلت برتنا شروع کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5174

۔ (۵۱۷۴)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ: {اَعِدُّوْا لَھُمْ مَاسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} اَلَا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ، اَلَا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ، اَلَا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۶۸)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر یہ آیت پڑھی: اپنی استطاعت کے مطابق دشمنوں کے لیے اپنی قوت تیار رکھو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے، خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے، خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5175

۔ (۵۱۷۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُدْخِلُ الثَّلَاثَۃَ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّۃَ: صَانِعَہُ یَحْتَسِبُ فِی صَنْعَتِہِ الْخَیْرَ، وَالْمُمِدَّ بِہِ، وَالرَّامِیَ بِہِ۔)) وَقَالَ: ((ارْمُوا وَارْکَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ تَرْکَبُوا، وَإِنَّ کُلَّ شَیْئٍ یَلْہُو بِہِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْیَۃَ الرَّجُلِ بِقَوْسِہِ، وَتَأْدِیبَہُ فَرَسَہُ، وَمُلَاعَبَتَہُ امْرَأَتَہُ، فَإِنَّہُنَّ مِنْ الْحَقِّ، وَمَنْ نَسِیَ الرَّمْیَ بَعْدَمَا عُلِّمَہُ فَقَدْ کَفَرَ الَّذِی عُلِّمَہُ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ: فَتُوُفِّیَ عُقْبَۃُ وَلَہٗ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ اَوْ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْن قَوْسًا مَعَ کُلِّ قَوْسٍ قَرْنٌ وَنَبَلٌ وَ اَوْصٰی بِھِنَّ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔) (مسند أحمد: ۱۷۴۳۳)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا: (۱) اس کو بنانے والا، جو خیر کے ارادے سے اس کو بناتا ہے، (۲) اس کوآگے مجاہد کو پکڑانے والا اور (۳) اس کو پھینکنے والا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیر اندازی بھی کرو اور گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی مشق بھی کرو، لیکن مجھے سواری کی بہ نسبت تیر اندازی زیادہ پسند ہے اور جس جس چیز کے ساتھ بندہ کھیلتا ہے، وہ سب باطل اور بے مقصد ہیں، ما سوائے ان امور کے: آدمی کا اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا، اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امور حق ہیں اور جس نے تیراندازی کا فن حاصل کرنے کے بعد اس کو بھلا دیا، اس نے اس چیز کا کفر کیا، جس کی اس کو تعلیم دی گئی تھی۔ ایک روایت میں ہے: جب سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو ان کے پاس چونسٹھ پینسٹھ یا چوہتر پچھتّر کمانیں تھیں، ہر کمان کے ساتھ تھیلا اور عربی تیرے تھے، اور انھوں نے ان کے بارے میں وصیت کی تھی کہ یہ اللہ کے راستہ میں وقف ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5176

۔ (۵۱۷۶)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: کَانَ عُقْبَۃُ یَأْتِینِی فَیَقُولُ: اخْرُجْ بِنَا نَرْمِی، فَأَبْطَأْتُ عَلَیْہِ ذَاتَ یَوْمٍ أَوْ تَثَاقَلْتُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُدْخِلُ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَۃً الْجَنَّۃَ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْ آخِرِہِ: ((وَمَنْ عَلَّمَہُ اللّٰہُ الرَّمْیَ فَتَرَکَہُ رَغْبَۃً عَنْہُ فَنِعْمَۃٌ کَفَّرَھَا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۵۴)
۔ سیدنا خالد بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آتے اور کہتے: باہر آؤ، تیر اندازی کریں، ایک دن میں نے باہر آنے میں تاخیر کی یا سستی کا مظاہرہ کیا، تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا، پھر انھوں نے سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس کے آخری الفاظ اس طرح ہیں: اور اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو تیراندازی کی تعلیم دی، لیکن اس نے بے رغبتی کی وجہ سے اس کو ترک کر دیاتو دراصل اس نے ایک نعمت کا کفر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5177

۔ (۵۱۷۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: بَیْنَا الْحَبَشَۃُ یَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحِرَابِہِمْ، دَخَلَ عُمَرُ فَأَہْوٰی إِلَی الْحَصْبَائِ یَحْصِبُہُمْ بِہَا، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْہُمْ یَا عُمَرُ)) (مسند أحمد: ۸۰۶۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ حبشی لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں (مسجد نبوی میں) لڑائی کے آلات کے ساتھ کھیل رہے تھے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو وہ ان کو مارنے کے لیے کنکریاں اٹھانے کے جھکے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! ان کو کھیلنے دو۔

آیت نمبر